To Download or Open PDF Click the link Below

  مجال نہ تھی ! مگر ۔۔۔۔۔۔
میں ان تمام دوستوں ، بھائیوں اور بزرگوں کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں۔ جنہوں نے میری اس پہلی کاوش ، (۔۔۔۔۔۔(’’ آئینۂ وقت ‘‘ ) پر اپنے اپنے خیالات، جذبات، اور شریعت محمدی کے نفاذ کے لئے قلم اٹھایا۔ انہوں نے اپنے اپنے ذہنوں، دلوں اور روحوں میں اسلام کی محبت سے سرشار ، مخمور اور دیئے ہوئے جذبوں کو خوبصورت اور دلکش الفاظ کا پیرہن پہنا کر اس کتابچے کے حسن کو دوبالا کیا۔ ان کے یہ رنگا رنگ خیالوں کے پرندے بارگاہ رسالت  کے گلستان میں محو ترنم نظر آ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ ان تمام محبوب انسانوں کو جن کی تحریر تو اس کتابچے میں موجود نہیں۔ لیکن ان کی صدائیں اور ندائیں اس دستور مقدس کے نفاذ کے لئے بیداری و بے قراری کے چراغ روشن کئے بیٹھے ہیں۔ جن کے دم سے یہ فضائیں معطر و مشفق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو رحمت اللعلمین  کی حضوری عطا فرمائیں۔ ان کو محبت اور اخوت کے لامتناہی رشتہ میں منسلک فرمائیں۔ علاوہ ازیں ان طیب ہستیوں کا بھی شکر گذار ہوں۔ جن کی نظر عنائیت نے (’’آئینہ وقت‘‘) تحریر کرنے کی کاوش اور توفیق بخشی۔ یا اللہ اس کاوش کو قبولیت کا شرف عطا فرما۔آمین۔
((عنائیت اللہ))