To Download or Open PDF Click the link Below

   آئینہ وقت دکھلاؤں تجھے؟
عنایت اللہ
۱۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ ء کو قرار دا د پاکستان منظور ہوئی۔ ۲۳ مارچ کا دن پاکستان کے مقدر سے وابستہ ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے اسی دن ایک ملک پاکستان کا تصور پیش کیا۔ جس کی بنیاد ی وجہ یہ تھی۔ کہ مسلمانوں کاطرز حیات ہندوؤں کے طرز حیات سے مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد ہے۔ ہندوؤں کا مذہب ان کے پیرو کاروں کو اپنا طرز حیات سکھاتا ہے۔ اور مسلمانوں کا مذہب جس میںتوحید، رسالت، نماز، حج، اور زکوۃ شامل ہیں۔ ایک مختلف طرز حیات کی تربیت کرتا ہے۔ دین اسلام مسلمانوں کو اپنے مخصوص قوانین اور ضوابط کی روشنی میں انفرادی زندگی سے لے کراجتماعی زندگی گزارنے تک کے تمام تر آداب سکھاتا ہے۔ دونوں مذاہب کے بنیادی اصولوں کا اختصاری موازنہ درج ذیل ہے :۔
اسلام
ہندومت
مسلمان ایک خدا اور اس کے رسول  پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کو عبادت کے لائق نہیں سمجھتے۔
ہندومختلف دیوتاؤں کے بت تراش کر مندروں میں رکھتے اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ اور ان کو حاجت روا تسلیم کرتے ہیں۔
مسلمانوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں۔ اور آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔
ہندومت کا نظام چار قومیتوں پر مبنی ہے۔ برہمن، کھشتری، کھتری، اور شودر
مسلمانوں میں اگر کسی کی بیوی کا خاوند فوت ہو جائے تو اسے دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے۔
ہندومت کے مطابق اگر کسی بیوی کا خاوند مر جائے۔ تو اسے چتا میں چھلانگ لگا کر رسم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ دوسری شادی نہیں کر سکتی۔
مسلمان گائے کو ذبح کرتے اور کھاتے ہیں۔
ہندوؤں کے لئے گائے ایک مقدس جانور ہے۔ اور وہ ان کی پوجا پاٹ کرتے ہیں۔
مسلمان مسجد میں اپنے مخصوص طریقہ سے نماز ادا کرتے ہیں۔
ہندو مندر میں اپنے خاص طریقے سے عبادت کرتے ہیں ۔ اور بھجن گاتے ہیں۔
۲۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذاہب اور طرز عبادت میں بھی بہت بنیادی فرق ہے۔ اس لئے دو مختلف نظریات کی بنا پر مسلمانوں نے ایک الگ ریاست (پاکستان) کا نظریہ پیش کیا۔ جہاں مسلمان اپنی دینی کتاب قران پاک کی روشنی میں مسلمانوں کی تربیت اور طرز حیات کو سنوار کر اقوام عالم کے سامنے ایک نمونہ پیش کر سکیں۔ اور ہندو اپنے دھرم اور عقیدے کی روشنی میں اپنا نظام حیات قائم کر سکیں۔ اس طرح دو قومی نظریات کی بنیاد پر مسلمانوں نے ایک الگ ملک پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ اور بالآخر ۱۹۴۷ ء کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔
۳۔ ہندوستان کے مسلمان اس نظریاتی ریاست (پاکستان) کے لئے ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ ء کی قرار داد کی روشنی میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے۔ بالآخر ۱۹۴۷ ء کو مسلمانوں نے ایک الگ اسلامی ریاست یعنی پاکستان حاصل کر لیا۔ جس کے لئے مسلمانان ہند ایک ایسے دردناک، اذیت ناک المیہ سے گذرے۔ جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہندوستان سے مسلمانوں کو ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا۔ انہوں نے اپنے گھر، اپنے کاروبار، اپنے مال و جان، اپنی زمینیں اور کھیت، حتی کہ اپنے وطن کو بھی خیر باد کہا۔ اور اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں اور عصمتوں کی قربانی دی۔ اور قافلوں کی شکل میں لاتعداد قتل ہوئے۔ وہ دکھ، اذیتیں، بھوک، سفر کی طویل صعوبتیں اور طرح طرح کی جانی اور مالی تکلیفیں برداشت کرکے پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے اور سجد ہ ریز ہو جاتے۔
۴۔ یہ دنیا ایک سرائے فانی ہے۔ جس میں مختلف اقوام اور نسلوں کے لوگ بستے ہیں۔ دنیا میں تقریبا ۱۸۷ ممالک موجود ہیں۔ ان میں مختلف عقیدوں اور مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ ہر ملک اپنے مخصوص انداز فکر کی روشنی میں ملک کا نظم و نسق چلاتا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اور ہر عقیدے کے لوگوں کی یہ تمنا اور خواہش ہوتی ہے۔ کہ وہ اپنے عوام کواقوام عالم کے مقابلے میں اعلیٰ ، بہترین اور پرکشش معاشی اور معاشرتی نظام مہیا کریں۔ انتظامیہ اور عدلیہ ایسی ہو جو انتظامی امور اور انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ اور اس کا کوئی ثانی نہ ہو۔ تاکہ اس کے عوام پر سکون زندگی گذار سکیں۔ اور اقوام عالم میں عدل و انصاف کی اچھی شہرت اور اعلیٰ وقار پیش کرسکیں۔ بڑے بڑے نظام جو اس وقت دنیا میں رائج ہیں۔ ان میں کیمونزم، سوشلزم ، جمہوریت اور اسلامی دستور مقدس کاازلی اور ابدی نظام شامل ہیں۔ ہرنظام اپنے اپنے ملک میں عوام کی ضرورت اور خواہش کے مطابق مرتب کرکے حکومتیں معرض وجود میںآ تی ہیں۔ ماحول، واقعات اور عوامی رائے کے تحت، وقت کے ساتھ ساتھ ردوبدل یا کمی بیشی کرکے ضروری قانون سازی کی جاتی ہے۔ اور پھر آئین کے سانچے میں ڈھال کر ان کو نافذ العمل بنا دیا جاتا ہے۔ مغرب میں جمہوریت، چین میں سوشلزم، روس میں کیمونزم اور اسلامی ممالک میں اسلامی نظام اپنے اپنے دستور کی رشنی میں معاشرتی اور معاشی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ کہیں ماں کے نام سے اولاد کی پہچان ہے ۔اور باپ کی نشاندہی ضروری نہیں۔کسی ملک میں نوجوان اور بوڑھے جوڑے بغیر شادی کے دوستی کی زندگی گذارتے اور بچے پیدا کرتے ہیں۔ کہیں ہم جنس سے جنسی فعل کی آزادی ہے۔ اسی طرح معاشرتی اور معاشی عدل و انصاف کے تقاضے حسب ضرورت قانونی حیثیت دے کر اپنے اپنے ملک کو چلا رہے ہیں۔ اسلام بھی ایک مکمل، معاشرتی اور معاشی دستور مقدس کے مطابق اپنے پیروکاروں کو مہیا کرتا ہے۔
 

دو بنیادی نظریات
۵۔ مسلمانوں کو اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات عطا کرتا ہے۔ جس میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ دستور مقدس کسی انسان کی اختراع نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک ا یسا جامع الہامی نظام حکومت ہے۔ جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس دستور کے مطابق ریاست کاحاکم اعلیٰ اللہ تبارک تعالیٰ ہیں۔ اس نظام کی روشنی میں ایک مجلس شوری چنی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ مجلس شوری اپنا ایک امیر نامزد کرتی یا چن لیتی ہے۔ جس کو امیر المومنین کہتے ہیں۔ امیر ہو یا مجلس شوری کا کوئی رکن وہ خود بھی اس دستور مقدس کی من و عن اطاعت کرتا ہے۔ اور اسی طرح عوام یارعایا سے بھی اسلام کے اصولوں کی اطاعت کروانے کا پابند ہوتا ہے۔ اس دستور کی روشنی میں حکومتی نظام چلایا جاتا ہے۔ مجلس شوری کے ممبر کی بنیادی خوبیاں اہلیت اس کا دیندار اور پرہیزگار ، متقی ، صالح، منصف مزاج، ایثار و نثار، اور احسان کے جذبہ سے سرشار ہونا ہیں۔ وہ دنیاوی غرض اور لالچ سے پاک، سادہ زندگی اور ضروریات قلیل رکھتاہے۔ یعنی جتنا کوئی شخص حضور نبی کریم  کی عملی زندگی کے قریب ہو گا۔ وہ اتنا ہی دین کے قریب ہو گا۔ وہ اپنا نام سیلیکشن یا الیکشن کے لئے خود پیش نہیں کر سکتا۔ بلکہ لوگ اس کی ذاتی اہلیت، شرافت اور دینداری کو مدنظر رکھ کر اس کا نا م تجویز کرتے ہیں۔ اور رائے عامہ کی منظوری سے منتخب یا چن لیتے ہیں۔ ہر ممکن ان نمائندوں کا چناؤ صرف اور صرف انہی بنیاد دں پر کرنا ہوتا ہے۔ مجلس شوری کے نمائندے ہوں یا امیر المومنین جب ان کے چناؤ کے بعد ملکی ذمہ داریاں ان کو سونپی جاتی ہیں۔ تو ان کے عمل کو ملک کا ہر فرد پرکھنے کا دستور مقدس کے احکام کے تحت مکمل اختیار رکھتا ہے۔ وہ خلیفہ وقت سے پوچھ سکتے ہیں۔ کہ یہ کرتہ ایک چادر سے تو بن نہیں سکتا۔ آپ نے کیسے بنایا ہے۔ اور خلیفہ وقت اس کا جواب وہ ہوتا ہے۔ جہاں معاشی نظام عدل پر قائم ہوتا ہے۔ وہاں معاشرتی نظام بھی انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ اگر خلیفہ وقت کا بیٹا حدود کا مرتکب ہوتا ہے۔ تو اس کو بھی اسی دستور کی روشنی میں دروں کی سزا دی جا رہی ہے۔ غرض یہ کہ وہ عدل و انصاف قائم رکھنے سے پابند ہوتے ہیں۔
۶۔ دستور مقدس ایک ایسا ضابطہ حیات ہے۔ جس میں معاشی ، معاشرتی ، اخلاقی ، قدروں کے پنپنے کے لئے پوری انسانیت کو ایک جیسا ماحول ایک جیسے واقعات اعلیٰ ترین فطرتی صفات ادنی اعلیٰ کے لئے یکساں مواقع مہیا کرتا ہے۔ اور معاشرے کی تشکیل اس انداز سے کرتا ہے۔ جہاں انسانوں کے حقوق اور فرائض کاپوراتحفظ میسر ہوتا ہے۔ اخلاقی اور روحانی رویوں میں اخوت اور ایثار، درگذر ، عفو، صبر، تحمل، برداشت، عدل و انصاف ، انسانیت کے لئے بے ضرراور پھر منفعت بخش کرداروں کی تشکیل اس انداز سے کرتے ہیں۔ کہ کوئی دوسرا نظام اس جیسا کارکن یانمائندہ تیار کر ہی نہیں سکتا۔ صرف یہی منازل طے کرواتا اور جلا بخشتا ہے۔ اور معاشرہ عدل و انصاف اور حسن اخلاق کی درس گاہ بن جاتا ہے۔ معاشی اور معاشرتی اقدار کو پنپنے کے لئے مکمل یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک دستور مقدس کو پاکستان میں رائج نہ ہونے دیا گیا ۔ وہ نصب العین، وہ تصور جس کی خاطر یہ سب قربانیاں دی گئیں۔ او ر الگ ملک حاصل کیاگیا۔ عملی طور پر ملت کو اس سے الگ کر دیا گیا۔ اور اسلام کو صرف پڑھنے اور سننے تک محدود کر دیا گیا۔ عمل سے خارج ہو کر صرف کتابی چیز بن کر رہ گیا ہے۔
۷۔ جن دو قومی نظریات کی بنا پر الگ ملک پاکستان حاصل کیا گیا۔اس نظریہ کے منافی اور متضاد مغربی جمہوری نظام کے طریقہ کار کے تحت حکومتیں قائم اور ختم ہوتی رہیں۔صاحبان اقتدار جمہوریت کی آڑ میں ملکی خزانے اور وسائل پر شب خون مارتے رہے۔ انتظامیہ اور عدلیہ کو ذاتی اقتدار اور وسائل پر قبضہ قائم رکھنے کے لئے بری طرح استعمال کرتے رہے۔ اور ان کو اصل فریضہ سے الگ تھلگ کر دیا گیا۔ ملک میں غاصبانہ نظام قائم کر دیا گیا ۔ عوام الناس اخلاقی طور پر نہایت پست اور عملی طور پر بد ترین کرپٹ ماحول میں پرورش پاتے رہے۔ ان گنتی کے چند بدقماشوں اور بدمعاشوںنے ملک کے چودہ پندرہ کروڑ انسانوں کو ان کے بنیادی عقیدے تصور اور دین کی تعلیمات سے متضاد اور متصادم تعلیمی،انتظامی، عدالتی ، معاشی، معاشرتی نظام کو عملی طور پر ملکی سطح پر قانونی تحفظ دے کر نافذ اور رائج کر دیا۔ ملک کے یہ تمام ادارے ۵۲ سال تک اپنی شب و روز کی بھرپور محنت سے، انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک، ملی کریکٹرکو ان سانچوںمیں ڈھالتے رہے۔ اور نشر و اشاعت کے تمام ادارے اخبارات، رسائل، ریڈیو، ٹی وی،جمہوریت کی افادیت کے گیت گاتے چلے آ رہے ہیں۔ ملک کے یہ تمام ادارے مغربی تہذیب کی تربیت گاہ بن چکے ہیں۔ سودی نظام یہودی کا اپنا لیا گیا۔ چار قومیتی نظام یعنی برہمن، دیش، کھشتری، شودر کا انسانیت سوز دھرم ہندو ازم سے حاصل کرکے سرکاری نظام میں رائج کیا گیا۔یعنی ہندو ازم کے ان چار درجات کو قانونی تحفظ دے کر اسلام کی روح کے برعکس پاکستان کو برہمن نگر بنا دیا گیا۔ انتظامیہ اور عدلیہ ان دس بارہ ہزار جاگیرداروں، اور سرمایہ داروں کے تحفظ اور ان کے قائم کردہ فاسقانہ، فاجرانہ، ظالمانہ، نظام کو قائم رکھنے اور بروئے کار لانے کے لئے سرکاری مشینری کو استعمال کرتی رہی۔ بڑی بد نصیبی کی با ت یہ ہوئی۔ کہ پاکستان میں کسی ایک سیاسی یا دینی جماعت نے بھی جمہوریت ، یہودیت، اور ہندو ازم کو مسترد نہ کیا اور اس کے تحت چلنے والی حکومتوں یا انتخابات کا بائیکاٹ تک نہ کیا۔ لوگوں کو ہمیشہ یہ تصور پیش کیا گیا۔ کہ جمہوری نظام اسلام کے قریب ترین ہے۔ لیکن یہ بدنصیب بھول گئے۔ کہ اسلام اور کفر کی حدیں بھی بالکل اسی طرح قریب ترین ہیں۔لیکن کفر کفرہے۔ اور اسلام اسلام ہے۔ ملک میں تمام دینی مدارس، مسجدیں، اور عوام صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پڑھنے اور سننے کی حد تک محدود ہو چکے ہیں۔ اور دوسری طرف جمہوریت کے زیر قیادت غیر اسلامی ، انتظامی اور عدالتی، معاشی، معاشرتی ، تعلیمی،فاجرانہ، فاسقانہ، باطل قوانین اور ضوابط کو ملکی سطح پررائج رکھنے کے بعد مسلمان کہلانا کہاں تک جائز ہے؟۔ یہ صریحا اسلام کے ساتھ زیادتی ، ظلم ، دغابازی، دھوکا اور فریب ہے۔ مسلمانوں سے تباہ کن سازش کا کھیل کھیلا گیا۔ سیاسی جماعتوں کے جاگیردار، خان بہادر، وڈیرے، سرمایہ دار، رہبر و راہنماؤں کے لئے اقتدار کی جنگ جیتنے کے اصول و ضوابط وہی ہیں۔ جن پر یہ چل رہے ہیں۔ اور دین کو ملکی سطح پر رائج کرنے کا طریقہ بالکل جدا ہے۔ ضرورتوں، خواہشوں، اقتدار، اور حکومتوں کے طالب اس منزل کے راہی نہیں ہو سکتے۔ سومنات کی پوجا کرنے والے کلمہ حق کی ضرب کے وارث نہیں ہو سکتے۔ اصحاب صفہ جو انسانیت کا محور ہیں۔ وہ ان اسمبلیوں میں نہیں پلتے۔ حق اور سچ کا پہرہ سفلی انسانوں کامقدر نہیں ہوتا۔ یہ طیب فریضہ عالم دین ، درویش، فقیر اور بوریا نشین ہی ادا کر سکتے ہیں۔
۸۔ آزادی کے بعد جلد ہی ملک ایک المیئے میں مبتلا ہو گیا۔ اور پوری ملت کو دردناک واقعات، اذیت ناک مصائب، اندوہناک اور خوفناک حالات، بد عملی اور بدعہدی ، اخلاق سوزی، ظلم و تشدد، لوٹ کھسوٹ، نا انصافی ، حق تلفی کی درس گاہ بنا دیا گیا۔ انتظامیہ اور عدلیہ کا غیر اسلامی اور فرسودہ نظام، رشوت، سفارش، دہشت گردی، برسراقتدار طبقہ کے گھناؤنے جرائم سے واسطہ پڑ گیا۔ جس کا پاکستان بناتے وقت اور ہندوستان سے ہجرت کرتے وقت کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ سو سال کی غلامی کے بعد مسلمانان ہند کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات اور آزادی نصیب ہوئی۔ تو ملک کا نظام ان ہاتھوں میں چلا گیا۔ جو اسلامی دستور ملک میں نافذ العمل کرنے کے حق میں نہ تھے۔ ان کو تو صرف معاشی وسائل اور اقتدار حاصل کرنا ہی مقصود تھا۔ وہ تو پہلے ہی اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ظلم ،زیادتی اور انگریزوں سے معاونت کر کے ایک ایسے جرم کے مرتکب ہو چکے تھے۔ جس کا حساب اب تک ان کے ذمہ واجب الادا ہے۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ تعاون کیا۔ اور ان کی حکومت قائم کرنے میں پوری پوری معاونت کی۔ اس عظیم تعاون کے عوض ان لوگوں کو سر، خان بہادر، نواب، سردار اور دیگر خطابات سے نوازا گیا۔ اور انہی کارناموں کی وجہ سے ان کو جاگیریں، اور وظیفے عطا کئے گئے۔ اور عیش و عشرت سے بھرپور آسائشیں اور سہولتیں انہیں میسر ہوئیں۔ ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مغلیہ خاندان کی حکومت ہندوستان سے مکمل ختم کی۔ ہندو تو پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف تھے۔ انہوں نے اس وقت انگریزوں کا پورا پورا ساتھ دیا۔ اس کے عوض انہوں نے معاشی فوائید، اور سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔ ہندوستان سے مسلمانوں کے اچھے گھرانوں کا چن چن کر خاتمہ کیا گیا۔ یہاں تک مغلیہ خاندان کے افراد اور ایسے تمام مسلمان جنہوں نے انگریزوں کا ساتھ نہ دیا۔ ان کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیاتھا۔ اور باقی جو بچے وہ شہروں سے دور دراز کے دیہاتوں کی طرف جان بچانے کے لئے بھاگ گئے۔ گمنامی اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گذارنے لگے۔ بہادر شاہ ظفر مغلیہ خاندان کی آخری نشانی تھا۔ انگریزوں نے اسے رنگون کی جیل میںقید کیا۔ اس کے بیٹوں کے سر کھانے کی میز پر چنے گئے۔ ان تکلیفوں اور اذیتوں نے اس کی زندگی کا چراغ گل کیا۔ وہ حالت قید میں دم توڑ گیا۔ اس نیک دل درویش بادشاہ کی قبر رنگون میں ہے۔ خود اسی نے کبھی کہا تھا۔
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
۹۔ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ہندوؤں کے تعاون سے انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے قدم جما ئے۔ اور مسلمانوں کی حکومت کو ختم کیا۔ اور ایک پوری صدی تک ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ انہوں نے اس ملک پر قبضہ قائم رکھنے کیلئے انتظامیہ اور عدلیہ کا جابرانہ اور ظالمانہ نظام رائج کیا۔ مسلمانوں کو سخت اذیتیں اور سزائیں دیں۔ تاکہ اتنے بڑے ممالک میں ان کے خلاف کوئی بھی چوں چراں نہ کر سکے۔ انگریز ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہتا۔ اور یہاں سے مال و دولت سمیٹ کر انگلستان لے جاتا۔ لوگ غربت افلاس، بے بسی، بے کسی کی عبرت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ ۱۹۴۷ ء میں ہندوستان کو طویل کوششوں اور قربانیوں کے بعد آزادی ملی۔ اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی نظریاتی ریاست بنی۔ جو پاکستان کے نام پر قائم ہوئی۔ لیکن بد قسمتی سے ان سیاستدانوں نے ملک کو اسلامی ضابطہ حیات میسر نہ ہونے دیا۔ اور ملک و ملت ناگہانی آفات میں بری طرح پھنس گئی۔
۱۰۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور اعلیٰ صلاحیتوں کی انتھک کاوشوں سے یہ ملک قائم تو ہو گیا۔ لیکن ان کی صحت گرتی گئی۔ آخر ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ ء میں اس سرائے فانی کو الوداع کہہ گئے۔ ان کی وفات کے بعد ملک و ملت یتیم ہو گئے۔ اور وارثوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے۔ اس سے جاگیردار اور سرمائے دار طبقہ نے کیا۔ اور ملک پر قابض ہو گئے۔ ان کے پاس نہ کوئی بصیرت نام کی چیز تھی۔ نہ ملک و ملت کی رہنمائی کے لئے اہلیت۔ انہوں نے اپناقبضہ مستحکم رکھنے کے لئے ملک پرکوئی آئینی ڈھانچہ نافذ نہ کیا ۔ اور اسلامی دستور کو دیدہ دانستہ نافذ العمل نہ ہونے دیا۔ انگریزوں کے مروجہ نظام کو جو انہوں نے ایک محکوم قوم کو بری طرح کچلنے کے لئے قائم کررکھا تھا۔ اس کو ہی اپنایا۔ ملک میں جمہوری نظام قائم کیا۔ اس کو اس طرح ترتیب اور ترکیب دیا تاکہ اس استحصالی طبقہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص حکومتی مشینری میں شمولیت کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ جاگیرداروں اور سرمائے داروں نے اپنے اپنے علاقوں کی نشاندہی کر لی۔ اسی علاقے میں یہ لوگ الیکشن میں کھڑے ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ ایم پی اے اور ایم این اے کا الیکشن لڑتے ہیں۔ اور انہی میں سے کامیاب ہو کر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی اسمبلی میں پہنچتے ہیں۔ جو ،ان الیکشنز میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ان کو یہی ممبران سینیٹر چن کر ایوان اعلیٰ کارکن منتخب کر لیتے ہیں۔ جمہوریت کی سیاست میں صرف اور صرف یہی دس بارہ ہزار نفوس پر مشتمل استحصالی طبقہ ملک کی سیاست کے سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ اپنے اپنے علاقوں میں استحصالی طبقہ کا پورا کنٹرول ہوتا ہے۔ تھانے، بدمعاش، عدالتیں، ان کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔ اور ان کے یہ ورکر الیکشنوں میں ہرقسم کی بداعمالی اور ہر طرح کی معاونت کا کردار ادا کرتے ہیں۔جس کے صلہ میں تھانوں، عدالتوں اور تمام دوسرے محکموں سے ہرقسم کا جائز اور ناجائز کام ان کی وساطت سے لیتے رہتے ہیں۔ اس کے دوسرے ضروری لوازمات اور کثیر اخراجات یہی لوگ برداشت کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے معاشی اور معاشرتی وسائل اور اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر ، ایم پی اے، ایم این اے کے الیکشن کے ذریعہ منتخب ہو کر چاروں صوبائی اسمبلییوں اور وفاقی اسمبلی تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اور جو لوگ ان الیکشنوں میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ان میںسے ان کو یہی لوگ سینٹ کے اعلیٰ ایوان کے نمائندے منتخب کر لیتے ہیں۔ دراصل جمہوریت کے نظام کے صرف یہی لوگ علمبردار ہوتے ہیں۔ اور یہی کردار ان تمام ایوانوں پر کامیاب ہو کر براجمان ہو جاتے ہیں۔ باقی چودہ پندرہ کروڑ عوام ان کے ووٹر ہوتے ہیں۔ وہ زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں کے عذاب میں مبتلا کردیئے جاتے ہیں۔ جمہوریت کی اکیڈمی میں ۱۹۴۷ء سے لے کر ۱۹۹۹ ء تک یعنی ۵۲ سال سے یہی نصاب رائج ہے۔ جاگیردار، وڈیرے، سرمائے دار اس ادارے کے ارکان ہیں۔ اور یہی لوگ تمام ایوانوں کے ممبران منتخب ہوتے ہیں۔ اور ان پرقابض ہو کر حکومتی مشینری کے مشیر، وزیر، وزیر اعلیٰ۔ گورنر ، وزیر اعظم ، چیئرمین سینیٹ اور صدر کے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بقیہ منظور نظر افراد کو بیرونی ممالک میں بطور سفیر بھیج دیا جاتا ہے۔ ملک سے لے کر بین الاقوامی سطح تک ان کے شکنجے کی گرفت نہائت مضبوط ہوتی ہے۔ ملک کے تمام وسائل اور سرکاری خزانے ان کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔یہ سیاہ و سفید کے کلی مالک ہوتے ہیں۔ انتظامیہ اور عدلیہ کے ذریعے چودہ پندرہ کروڑ انسانوں کو قیدیوں جیسا نہیں باغیوں جیسے دردناک ، اذیت ناک سلوک سے دوچار کرکے ان کو اپاہج اور معذور بنا دیا جاتا ہے۔ ملک میں اتنی بڑی معاشی ناہمواری اور تفاوت کے جرم کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے۔ جس کے تحت اس ظلم اور زیادتی کے خلاف انتظامیہ اور عدالتیں کوئی کاروائی عمل میں لا سکیں۔ ملک کے تمام محکمے یا ادارے ان کے حکم کے پابند ہوتے ہیں۔ ظلم، زیادتی، حق تلفی، دہشت گردی، ڈاکہ زنی، لوٹ کھسوٹ، اور قتل و غارت کے کام جمہوریت کے ان اعلی نمائندوں کے زیر قیادت پنپتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے ہی عوام الناس کو ملک میں بے روزگاری، بھوک، افلاس، غربت کی بھٹی کا ایندھن بنایا ہوا ہے۔ سب سے پہلے ان سے روزگار کے ذرائع چھین کر معاشی قتل کی بھیانک چتا میں جھونک دیا جاتا ہے۔ وہ سسک سسک کر زیست کے دن کسمپرسی کی حالت میں بے یارومددگار گذارنے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں۔ ان کی اولادوں پر سالہا سال ادنی اور اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔انکی ذاتی فیکٹریوں اور کارخانوں اور زمینوں میں مزدوروں، ہنرمندوں اور کارکنوں سے جانوروں سے زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ اور معاوضہ اتنا قلیل کہ زندہ رہنا ممکن نہ ہو۔یہ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں۔ تاکہ عوام الناس روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہیں۔ اور ان خرکاروں کے خلاف کسی قسم کی آواز نہ اٹھا سکیں۔
۱۱۔ اس کے علاوہ بجلی، سوئی گیس، پانی، ٹیلی فون کے بل مکان کا ٹیکس ، سیلز ٹیکس، پرچیز ٹیکس، انکم ٹیکس، پل ٹیکس، اور روڈ ٹیکس، موٹر وے ٹیکس، چونگی ٹیکس، ضلع ٹیکس، پیدائش ٹیکس، موت ٹیکس، ان ٹیکسوں کی سرنجوں سے عوام الناس کے بدن سے معاشی خون اس طرح کھینچ لیتے ہیں۔ کہ وہ سسک سسک کر اس معاشی لاعلاج کینسر میں دم توڑ دیتے ہیں۔ اور یہ اس ملکی دولت اور وسائل سے گل چھڑے اڑاتے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ان صاحب اقتدار بدنصیبوں ، بد کرداروں، اور بد اعمالوں نے ٹیکسوں کالامتناہی عذاب مغربی ملکوں کے طرز نظام سے اخذ کرکے پاکستان میں بھی نافذ العمل کر دیا ہے۔ یہ دردناک ، اذیت ناک، سنگدلی اور ستم ظریفی کی انتہا ہے۔ کہ کسی فرد یا کنبہ کا کوئی کاروبار، کفالت کا سبب، محنت مزدوری ، یا ملازمت ہو نہ ہو۔ یہ بل اور یہ ہر قسم کے مروجہ ٹیکس کی رقوم کی ادائیگی ان کے زندہ رہنے کی بدترین سزا ہے۔ کسی بیوہ، کسی یتیم، بوڑھے، نادار، بیمار، بے کس، ناتواں، پنشنر کو ان بلوں، یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں کسی قسم کی گنجائش، رعائت یا معافی نہیں ہے۔ ان کے تمام سرکاری محکمے خرکاروں، اور دہشت گردوں اور جلادوں کا رول ان بلوں، اور ٹیکسوں کو وصول کرنے کے لئے بروئے کار لاتے ہیں۔
۱۲۔ ان عشرت کدوں میں پلنے والے فرعونوں ، بد اعمالوں کو اتنی بات کون سمجھائے ۔ کہ مغربی ممالک تو پہلے فرد اور کنبہ کو ذرائع معاش مہیا کرتے ہیں۔ ہر کس و ناکس کی آمدنی کا منصفانہ تناسب مقرر اور مروج کرتے ہیں۔ اس کے مطابق ایک جیسے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت وقت اپنے لوگوں کو روزگار مہیا نہیں کرتی۔ تو عوام کو باعزت زندہ رہنے کے لئے معقول الاونس اس وقت تک ادا کرتی ہے۔ جب تک ان کو روزگار مہیا نہیں ہوجاتا۔ یہ سارا نظام اور طریقہ کار صرف اور صرف چودہ پندرہ کروڑ عوام الناس پرمسلط ہے۔ ان کے عشرت کدے بہت بڑے اور شان وشوکت میں انتہائی عظیم اور ان کے روز مرہ کے اخراجات بے پناہ ہوتے ہیں۔ یہ کھیل صرف جمہوریت میں ہی کھیلا جا سکتا ہے۔ اسلام ایسے تفاوت کو کسی حالت میں بھی قبول نہیں کرتا۔
۱۳۔ ملک کی چودہ پندرہ کروڑ آبادی میں سے ۸۰ فی صد آبادی دیہاتوں میںکھیتی باڑی بڑی محنت اور جانفشانی سے کرتی ہے۔ ملکی پیداوار حاصل کرنے والا یہی طبقہ ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔ وہ پورے ملک کو خوراک اور لباس مہیا کرنے کی بنیادی ضرورت پوری کرتا اور ملک کو معاشی طاقت مہیا کرتا ہے۔ یہی طبقہ گندم، مکئی ، باجرہ، جو ، چنے، دالیں، چاول، گڑ، شکر، چینی اور ہر قسم کے پھل آم، انار، سیب ، کیلے، ناشپاتی ، مسمی ، مالٹا ، فروٹر، لیموں، انگور، لوکاٹ ، خوبانی وغیرہ وغیرہ۔ علاوہ ازیں ہر قسم کی سبزیاں، پیاز، لہسن، مرچ، ہلدی، کدو، ٹینڈے، بھنڈی ، کالی توری، گھیا، پیٹھا، کریلا، مٹر، ٹماٹر، آلو، گوبھی، دھنیا، شلغم، مولی وغیرہ ۔کھانے کے لئے دودہ، گھی ،دہی، مرغی، انڈہ، پھر خوراک میں بکری، گائے، بھینس کا گوشت، اور پہننے کے لئے روئی ، اون، کپڑا مہیا کرتا چلا آ رہا ہے۔ ملک کے تمام کارخانوں اور ملوں کاخام مال ( Raw Material ) یہی ۸۰ فی صد آبادی مہیا کرتی چلی آ رہی ہے۔ملک نے ان عظیم، ایماندار، محنتی، جفاکش، محب وطن، انسانوں کو جنہوں نے ہر قسم کی ضرورت کا ذمہ ملک کے چودہ کروڑ انسانوں کے لئے ایمانداری اور دیانت داری سے اٹھا رکھا ہے۔ اب تک کیا سلوک کیا ہے ؟ ان محسنوں کے ساتھ ان کا معاشی اور معاشرتی رویہ نہائت بھیانک اور تذلیل آمیز رہا ہے۔ یعنی ان کو ہندو ازم کے آخری درجے کی گوت یعنی شودر بنا رکھا ہے۔ معاشرے میں ان کو دیہاتی اور بے وقوف کہہ کر تذلیل کرتے ہیں۔ ان کی محنت و کاوش
سے تیار شدہ فصلیں ، مصنوعی کھاد، ادویات، بجلی کے بلوں اور دوسرے ٹیکسوںکے ذریعہ ان سے چھین لیتے ہیں۔ ان کو جاہل اور ان پڑھ تصور کرتے ہیں۔ پاؤں سے ننگا، جسم سے ننگا، تعلیم سے محروم، دیہاتی، پسماندہ زندگی گذارنے والا فطرت کا شاہکار ، جس کی مسجد اس کے کھیت، جس کا رزق طیب ،جو کھیتی باڑی کے نظام کا عارف، جو فصلوں کے موسم سے آشنا، جو بیجوں کی اقسام، اور خوبیوں سے واقف، جو فصلوں ، بیماریوں اور علاج کا محرم، جو باغوں، پھلوں اور جانوروں کی آفرینش کا ذمہ دار اور محافظ ، جو زمین کی تیاری، بیج کی مقدار اور وقت پر پانی دینے، جڑی بوٹیاں، تلف کرنے اور گوڈی کرنے کے فن کا فنکار ،درخت ، پودے باغ لگانے اور ان سے لکڑی ، پھل، اور پھول حاصل کرنے کا رازداں ، یہ ربوبیت کا آشناء اپنے شعبے کا بہترین انجینئر، اور ڈاکٹر مگر یہ فصلوں ، درختوں، جانوروں، پھلوں سے نہ رشوت لیتاہے۔ نہ فیس، اس لئے نہ اس کے پاس رشوت کے تعفن سے تیار کئے ہوئے محل ایئر کنڈیشنڈ کا ریں، ٹیلی فون ، نہ دفاتر ، نہ وہ ان جیسی تعلیم اور ڈگری رکھتا ہے۔ وہ کوٹھیوں، محلوں، دفترو ں کی بلڈنگوں سے بے نیاز وہ گرمی ، سردی میں کھلے آسمان تلے اللہ میاں کے ایئر کنڈیشنوں سے قدرتی گرم و سرد فضاؤں میں محنت یوں کرتا ہے، کہ جیسے اس دنیا میں سب کچھ اس کا ہے۔ اور زندگی یوں سادہ بسر کرتا ہے۔ جیسے اگلا لمحہ موت کا ہو۔ جب یہ محنت کش مزارع، نوابوں، سرداروں، جاگیرداروں کی اذیتوں،بجلی کے بلوں، کھادوں، اور ادویات کی ادائیگیوں، مفلسی، تنگ دستی کے عذاب سے بغاوت کرکے شہروں کیطرف رجوع کرتا ہے۔ تو یہاں فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں میں مزدوری کے لئے سرمایہ داروں، بے رحم مالکوں، اور خرکاروں کے شکنجے میں پھنس جاتا ہے۔ وہ فیکٹریوں ، ملوں میں سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل مشقت کا کام سرانجام دیتا ہے۔ یہ تمام ملیں ، فیکٹریاں، اس کے دم سے آباد ہیں۔ چودہ کروڑ انسانوں کو جہاں خوراک ، لباس، اور دیگر ضروریات مہیا کرتاہے۔ وہاں یہی طبقہ ملک کا زر مبادلہ کمانے اور حاصل کرنے کا بنیادی عنصر اور وسیلہ بھی ہے۔ اس کے برعکس اس کی محنت کا ہرجانہ یعنی تنخواہ اتنی قلیل کہ نہ وہ زندہ رہ سکے۔ اور نہ وہ مر سکے۔ وہ سسک سسک کر اس جابر و ظالم نظام میں دم توڑ جاتا ہے۔ دیہاتوں میں جاگیرداروں، سرداروں، نوابوں، اور شہروں میں سرمائے داروں کے معاشی قتل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس نظام میں سیاسی وڈیرے جمہوریت کی ڈگڈگی بجا کر ملکی وسائل اور سرکاری خزانہ پر قابض ہو جاتے ہیں۔ اور کروڑوں انسانوں کو معاشی ، معاشرتی، انتظامی اور عدالتی بھٹیوں کا ایندھن بناتے چلے آ رہے ہیں۔ اس طرح ملت کو جمہوریت کی سیاست میں تقسیم کرکے الیکشن میں صرف ان سے ووٹ ڈالنے تک کا کام لیا جاتا ہے۔انہیں ایک دوسرے کے خلاف زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگوانے تک محدود اور محور رکھا جاتا ہے۔

۱۴۔ جمہوری طرز سیاست جب تک اس ملک میں نافذ العمل اور قائم رہے گا۔ تب تک یہی جاگیردار اور سرمایہ دار نسل در نسل صوبائی اسمبلی اور وفاقی اسمبلی ۱ور سینیٹ پر قابض رہیں گے۔ مشیر، وزیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم ، چیئرمین سینیٹ، صدر، اور سفیر ملک کے اندر اور ملک کے باہر، یہی سب دندناتے پھریں گے۔ ملک کے تمام وسائل اور سرکاری خزانے دیمک کیطرح چاٹتے رہیں گے۔ اور عوام معاشرتی اور معاشی وبال میں پھنسے رہیں گے۔ یہ مراعات یافتہ طبقہ ، کسی شرعی نظام ملک میں نافذ کرنے کے حق میں نہیں ہو سکتا۔ ان کو یہ سیاست دان اپنے اس عمل میں یوں گرفتار کر لیتے ہیں۔ کہ ان کے پاس ان سے بچنے کا کوئی متبادل راستہ اور شعور نہیں ہوتا۔ وہ جماعتوں کی عقیدتوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ یہ سبھی جماعتیں ایک دوسرے کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے ان کو گمراہ کرتے ہیں۔ اور اشتعال دلا کران
سے جلوس نکالنے اور ملک میں سرکاری املاک کو توڑنے پھوڑنے ، پولیس کی گولیاں اور ڈنڈے کھانے، مقدموں میں ملوث اور سزائیں دلوانے تک کے کام لیتے ہیں۔ جب حکومت اور اقتدار حاصل کر لیتے ہیں۔ تو ان ورکروں اور عوام کاوہی حشر، وہی داستان کہ پہلی حکومت خزانہ خالی کر گئی۔ پھر ان کو حکومت چلانے کے لئے ٹیکسوں کے بوجھ مزید بڑھانے پڑتے ہیں۔ باری باری ہر آنے والی حکومت اسی ورد اور وظیفہ کو الاپنا شروع کر دیتی ہے۔ عوام سے ٹیکس اور آئی ایم ایف سے قرضے، اور ان کی عیاشیاں، شاہ خرچیاں، کہ ملت کے خزانے کومال غنیمت سمجھ کر بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ اور لوٹنے کے عمل کو جاری رکھنے میں اب تک کامیاب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے کر دار بھیانک تعفن سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ سیاسی گدھیں ملک و ملت کی بے جان، بے حس لاش کو جھوٹی آس، امید، امنگوں، طفل تسلیوں، اور تشفیوں کی آکسیجن کے مصنوعی سانس سے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں وہ ملک میں اسلام کیوں نافذ کریں۔ کیونکہ اس میں اس قسم کی کسی بھی انسان کے لئے ایسی مراعات اور ناانصافی کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ سارا نظام ،یہ محفلیں، یہ سرکارے عہدے ،یہ بیوی بچے ، عزیز و اقارب، اس جہان فانی سے ہی تمام رشتے میسر آ ئے تھے۔ اور یہیں ان کو الواداع کہہ کر رخصت ہونا لازم ہو گا۔ انسان کے ساتھ اس کے اچھے اور برے اعمال قیامت تک اس کا ساتھ دیں گے۔ شائید یہ بات اتنے بڑے قافلے میں سے کسی کی سمجھ میں آ جائے ۔اور اس کے نصیب اس کی یاوری کر جائیں۔ ایسے انسان کی دنیا اور آخرت روشن، منور ، قائم اور دائم رہے گی۔
۱۵۔ ملک میں سیاسی لیڈر ان اقتدار کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ملت کو جماعتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اسمبلیوں کے اندر اور باہر جوڑ توڑ کا عمل جاری رکھتی ہیں۔ ہر قسم کی مراعات، لاکھوں کروڑوں کی بولیاں لگتی رہتی ہیں۔ اقتدار میں شمولیت اور وزارتیں پیش کی جاتی ہیں۔ اور پھر اچھی اور زیادہ منفعت بخش وزارتوں کے جھگڑے علحدہ حل کئے جاتے ہیں۔ جب بھی کسی حکومت کو اقتدار کے چھن جانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ تو حکومت قائم رکھنے کیلئے وزیروں کی تعداد بڑھا کر موثر بلیک میلروں کو حکومت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ تاکہ اقتدار قائم رہے۔ جتنے وزیروں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ ملکی معیشت پر اتنا ہی بوجھ بڑھتا چلا جائے گا۔ جتنے زیادہ یہ لوگ حکومت میں شامل ہوتے جائیں گے۔ اتنی ہی کرپشن، رشوت، کمیشن، ہر قسم کی لوٹ کھسوٹ کے دروازے کھلتے جائیں گے۔ اور چودہ پندرہ کروڑ انسان اس گھناؤنے کھیل کو بے کسی کے عالم میں دیکھ تو سکتے ہیں۔ مگر مداخلت کرنے کی جرات نہیں کر سکتے ۔ وہ بے بس اور بے اختیار ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی حیثیت ایک تماشائی کی ہوتی ہے۔ ایک وزیر کے سرکاری عملے کی تعداد جو ایک وزارت کوچلانے کے لئے درکار ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل مختصرا مندرجہ ذیل ہے :۔

وزیر، پارلیمانی سیکرٹری، مشیر، ان کے پرائیویٹ سیکرٹریز
عملہ کی تفصیل

۱ سیکرٹری
۲۲ گریڈ
ُپرائیویٹ سیکرٹری
۱۸ گریڈ

۲ایڈیشنل سیکرٹری
۲۱ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۷ گریڈ


۳جوائنٹ سیکرٹری
۲۰ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۶ گریڈ


۴ڈپٹی سیکرٹری
۱۹ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۵ گریڈ


۵سیکشن آفیسر
۱۸ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۴ گریڈ


۶اکاؤنٹس آفیسر
۱۸ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۲ گریڈ



۱۶۔ علاوہ ازیں لیگل ایڈوائزر، سپرنٹنڈٹ ، ہیڈ کلرک، اسسٹنٹ، سینئر کلرک، جونیئر کلرک، نائب قاصد، چوکیدار ، ڈرائیور، گن مین، جمعدار، مالی یعنی عملہ کی سرکاری فوج ظفر موج کے اخراجات، ان کے لئے اور ان کے عملہ کے لئے دفاتر ،فرنیچر، ٹیلی فون، ایئرکنڈیشنڈ، پردے، قالین، بجلی، پانی، سوئی گیس، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ محل نما رہائش،ٹیلی فون، لاتعداد گاڑیاں، بے شمار مراعات اور سہولتیں ان کو سرکاری خزانہ سے مہیا کی جاتی ہیں۔ پھر کئی خفیہ خزانے بھی ان کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک وزیر اور اس کے سرکاری عملہ کا بجٹ اور تمام اخراجات لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں گورنمنٹ کے خزانہ سے ادا ہوتے ہیں۔ ایک وزارت میں کئی ونگ ہوتے ہیں۔ ہرونگ کا انچارج ایڈیشنل سیکرٹری ہوتا ہے۔ جمہوریت کا یہ نظام ملت اسلامیہ کے لئے ایک بہت بڑا ناسور ہے۔ جس کا مداوا صرف اور صرف شریعت محمدی  میں ہی ہے۔
۱۷۔ پہلے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان ملک کے دو صوبے تھے۔ ہر صوبے میں دس پندرہ وزیراور ایک گورنر ہوتا تھا۔ دونوں صوبوں کا وزیر اعظم اور صدر ایک ہوتا تھا ۔ سیاست دان اقتدار کی جنگ میں ایک صوبے کے عوام کو دوسرے صوبے کے عوام کے خلاف استعمال
کرتے رہے۔ حالانکہ کسی بنگالی نے کسی مغربی پاکستانی بھائی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی یا حق تلفی نہ کی۔ اسی طرح کسی مغربی پاکستانی نے کبھی کسی مشرقی پاکستانی سے کوئی ظلم اور زیادتی نہ کی۔ ان سیاستدانوں کی ذاتی اقتدار کی جنگ اور چپقلش نے ملک کو دو لخت کر دیا ۔ مغربی پاکستان کا نام پاکستان اور مشرقی پاکستان کا نام بنگلہ دیش رکھ دیاگیا۔ اس علحدگی پر ملت خون کے آنسو روئی۔ اور دردناک صدمہ سے گذر گئی۔سیاست دانوں کی تقسیم کا کمال یہ ہے۔ کہ انہوں نے مغربی پاکستان کے چار مشرقی پاکستان بنا دیئے۔ اور کسی کو احساس تک نہ ہونے دیا۔ کہ اس طریقہ کار سے ملک کی معیشت پر کتنا بوجھ پڑے گا۔ اور اس کے دور رس نتائج کیا ہوں گے۔ وہ تو صرف اقتدار حکمرانی اور ملکی وسائل اور خزانے پر ہر جائز و ناجائز حربہ سے گرفت مضبوط رکھ کر اسے لوٹنا چاہتے تھے۔ اب لوٹ مار میں برابر کا حصہ نہ ملنے پر صوبوں کی علیحدگی کے بگل دوبارہ بجائے جا رہے ہیں۔ سرحد میں نیپ کے بعد اب پونم کی شکل میں علحدگی پسندوں نے اپنے مورچے سنبھال لئے ہیں۔ سندھی، بلوچی، بھی اس کارخیر میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ ہر صوبہ میں مشرقی پاکستان والی فضاء تیزی سے پھیل رہی ہے۔ تمام صوبوں میں ممبروں، وزیروں، مشیروں، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم ، سینیٹ کے ممبران کی تعداد تقریبا ہزار بارہ سو کے قریب ہے۔ ان کی رہائشیں، دفاتر کی بلڈنگیں، گاڑیاں، ٹیلی فون، ہیلی کاپٹر، جہاز، اور ہر قسم کی سرکاری سہولتیں ان کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ان کے محل اور عشرت کدے ملک کے اندر اور بیرونی ممالک میں قائم و دائم ہیں۔ ان کے ایم این اے ہاؤس، اسمبلی ہاؤس، کنونشن سنٹر، سپریم کورٹ ہاؤس، پریذیڈنسی اور وزیر اعظم ہاؤس ، اسلامی تہذیب و تمدن اور تعلیم کے منافی ہی نہیں بلکہ نمرود، شداد اور فرعون کو شرمندہ کرتے ہیں۔ اور و ہ ان کی عظمت کو جھک کر سلام کرتے ہیں۔ یہ بلڈنگیں، یہ عالی شان محل، یہ گھوڑ دوڑ میدان ان بدنصیب سیاستدانوں بدکردار، بدمعاش، بدقماش، حکمرانوں پر دن رات لعنت بھیجتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں مسلمانی کا دعوی قائم رکھنا اسلام کی روح کے ساتھ زیادتی ہی نہیں بلکہ اسلامی مملکت کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔
۱۸۔ ملک کو ہر قسم کے جرائم کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔ کروڑوں عوام الناس کو ایک طرف تو بجلی، گیس، پانی کے بل، مکان کے ٹیکس، بینکوں کے قرضوں کی اقساط ، وقت پر نہ جمع نہ کروانے کی سزائیں اتنی سخت کہ محکمے فوری کاروائی عمل میں لے آتے ہیں۔ کنکشن ( Connection ) منقطع کر دیئے جاتے ہیں۔ اور جائیدادیں ضبط کرکے رقوم سرکاری خزانوں میں جمع کرادی جاتی ہیں۔ دوسری طرف ان اعلیٰ برسراقتدار ممبروں، نمائندوں اور بڑے بڑے کارخانوں کے مالکوں، فیکٹریوں ، ملوں، ٹیوب ویلوں، اور گھروں کے لاکھوں روپوں کے بل، انہیں محکموں کے تعاون سے بجلی، گیس اور ٹیکس چوری کرکے ہر ماہ ہضم کر لئے جاتے ہیں۔ ان چوروں کی چوری کے ثبوت اور گواہی کی جائیدادیں چیخ چیخ کر دیتی ہیں ۔ اور ان کے جرائم کی واضح نشان دہی کر رہی ہیں۔ چور اور چوکیدار مل کر چوری کرتے ہیں۔ اور اس کے تمام نشانات جرم کے ساتھ ہی مٹا دیتے ہیں۔ اور ان کے عملے کے ساتھ اگر کوئی سرکاری ملازم ان کی اس بدعملی کے تعاون میں رکاوٹ بنے۔تو ان کو ملازمتی پریشانیوں اور اذیتوں میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف غریب عوام میں سے اگر کوئی بجلی چوری کے جرم کا مرتکب پایا گیا۔ تو اس کے خلاف فور ی طور پر مقدمہ درج ہو جاتا ہے۔ اور اس کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔اور اس کے علاوہ اخباروں میں بھی ان لوگوں کو مشتہر کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ عوام الناس ان ادائیگیوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کر سکیں۔ لیکن اس کے برعکس بڑے
بڑوں کے لئے ان جرائم میں ملوث پائے جانے کے بعد بھی کیمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ تاکہ وہ ان کے خلاف انکوائری کرکے اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کریں۔ اور اس کے بعد ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ عدل و انصاف میں اتنا بڑا تضاد ، نا انصافی کی ایک بدترین مثال میں اضافہ ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ایسی کیمیٹیاں اور احتساب کمیشن اور عدالتیں ان کو ثبوت نہ ہونے کی بنا پران جرائم سے بری قرار دیتی چلی آ رہی ہیں۔ اصل میں یہ تمام کاروائی عوام الناس سے واجبات اکھٹے کرنے اور اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو نشانہ بنانے کے لئے کی جاتی ہے۔ پچھلے ۵۲ سال سے یہ دوہری پالیسی ملک میں رائج ہے ۔ انتظامیہ اور عدلیہ بے بس اور مجبور ہے۔ یہ جمہوری نظام ان سیاست دانوں کو مکمل تحفظ مہیا کرتا ہے۔ اصل میں یہ نظام انہی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اپنے تحفظ اور اقتدار قائم رکھنے کے لئے ملک میں قائم کر رکھا ہے۔ اور سیاسی جماعتوں کی سربراہی سے لے کرممبران تک کا حکومت پرپورا قبضہ اور کنٹرول ہوتا ہے۔ کوئی آدمی چوں چراں تک نہیں کر سکتا۔


۹ ۱۔ چودہ پندرہ کروڑ کی آبادی میں صرف یہی دس بارہ ہزار جاگیردار اور سرمایہ دار اس ۵۲ سالہ سیاسی یونیورسٹی کے مخصوص سیلیبس کی ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں یعنی ایم پی اے، ایم این اے، اور سینیٹر کے الیکشن اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں لڑتے ہیں۔ جو ان میں زیادہ طاقت ور مضبوط، موثر اور اثر ورسوخ کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ان ہزار بارہ سو صاحب اقتدار اور اپوزیشن کے ممبران کی حیثیت سے کامیاب ہو کر اقتدار اعلیٰ کی ان سیٹوں پر قابض اور فائز ہو جاتے ہیں۔ اس سیاسی یونیورسٹی کے زیر تربیت یہ ممبران ، جہالت، ظلم، تشدد، بے رحمی، بد کرداری، بد قماشی، بے حیائی، لوٹ کھسوٹ ، حق تلفی، سنگدلی، درندگی، ناانصافی، عدل کشی، ہارس ٹریڈنگ، کمیشن، رشوت، سمگلنگ، غرضیکہ ہر قسم کے سیکنڈل رائج الوقت نصاب سے خوب فائدہ حاصل کرتے۔ اور لیکشن اور سیلیکشن کے مخصوص طریقہ کار سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہر قسم کی اجارہ داری کی وجہ سے تمام انتظامیہ اور عدلیہ ان کے مکمل زیر اثر ہوتی ہے۔ وہ اس کو بینکوں سے کم ریٹ پر لون جاری کرنے ، ملوں، کارخانوں، فیکٹریوں کے اجازت نامے، ان کے حسب خواہش احکام یا منظوری دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کر سکتے۔ ملک کے اندر اور باہر ہر قسم کے ٹھیکوں اور سپلائی پر پورا پورا کنٹرول اور مناسب ریٹوں پر حسب منشاء کام لینا اور دینا ان کے روزمرہ جرائم کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ جب اور جس وقت ان کا جی چاہے۔ یہ لون ایک دوسرے کو لاکھوں اور کروڑوں میں معاف کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر ۱۹۹۹ ء تک جتنی لوٹ مار ملکی وسائل ، سرکاری خزانہ، سرکاری خرید و فروخت میں کمیشنز، رشوتیں، جائیدادیں، ملیں، فیکٹریاں، کارخانے، بوگس کمپنیاں، بینکوں سے لون اور رقمیں ہضم، بینکوںکے نام و نشان ختم، تاج کمپنی کا فراڈ، کواپریٹو کے قرضے، بلیک منی کا غسل، یہ سب بداعمالیاں ان کی سیاسی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ قانون ساز اسمبلیاں ان کی ،قانون ان کے، عدالتیں ان کی، انتظامیہ ان کی ،عدلیہ ان کی ، کسی کی کیا مجال کہ ان کے کسی کام میں کوئی عنصر رکاوٹ بن سکے۔ یہ ہر قسم کے جرم سے پاک اور معصوم لوگ ہیں۔ یہ برہمن زادے ، جمہوریت کی لاڈلی اولاد ہیں۔ ان کے خلاف کوئی ادارہ میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ کوئی با ضمیر خدا خوف منصف اگر چاہے بھی تو ان کے خلاف کاروائی کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ جب بھی انہوں نے کسی کو باعزت ، باوقار معاشرے میں پاک دامنی، پرہیز گاری، متقی، اور ایماندار ہونے کی سند جاری کرنی ہو۔ تو ان کے
خلاف کیس احتساب کمیشن، کمیٹیوں، اور عدالتوں میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔ جہاں سے کیس التوا اور شواہد نہ ہونے کی بنا پر بری الذمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ اصل حقائق اور ہر قسم کے ثبوت اپنے اپنے دور حکومت میں ایک دوسرے کے خلاف تحریر اور زبانی مہیا کرتے ہیں۔ اور کیس پراسیکیوٹنگ ( Prosecuting ) کی منظوری کے بعد دائر کرتے ہیں۔یعنی کیس ختم کرتے ہیں۔ ان جرائم پیشہ سیاست دانوں کی زمین دوز دنیا ہر قانون سے بالااور محفوظ ہوتی ہے۔ یہ جب چاہیں ان کی فیملیاں اور خود بیمار ہو جائیں۔ ڈاکٹروں کے مشورے اور ہدایات جب چاہیں۔ اور جن ڈاکٹروں سے چاہیں۔ ضروری سرٹیفیکیٹ حاصل کرکے بیرون ملک علاج معالجے یعنی سیرو تفریح ، خرید و فروخت اور کاروبار کے لئے سرکاری اخراجات پر لنڈن، پیرس، امریکہ اور دوسرے ممالک میں چیک اپ ( Check up ) کروائے۔ اور علاج کروانے کے بہانے لوٹا ہوا مال بینکوں میں جمع کروائے۔ اور محل نما ریزیڈنس خریدنے چلے جائیں۔ اس طریقہ کار سے کروڑوں روپے حکومت کے خزانے سے لوٹ کر اس طرح ہضم کریں جیسے شیر مادر۔
۲۰۔ یہ کون سی مخلوق ہے جس پر غریبوں ،بے کسوں، یتیموں، محتاجوں، ناداروں، اور زکوۃ کی رقمیں واجب الاستعمال ہیں۔حکومت کو ان سب حکمرانوں اور دوسرے لوگوں کو جنہوں نے گورنمنٹ کے فنڈ سے علاج معالجے کروائے۔ مع تفصیل ملت کو مطلع کیا جانا چایہئے۔ اور ان کے اخراجات کی تفصیلی رپورٹ شائع بھی کرنی چاہیئے۔ تاکہ ان ناداروں اور محتاجوں کا پتہ چل سکے۔ جب کہ ملک میں گورنمنٹ کے نچلے درجے کے ملازمین اور مستحق ملکی عوام کو تو ہسپتالوں میں ضروری ادویات تک میسر نہ ہوں۔ اور دوسر ی طرف ان کروڑ پتیوں کو بیرون ملک عیاشیوں کے لئے غیر اخلاقی سہولتیں میسر ہوں۔ یہ کیا بات ہے کہ ملک کے چودہ پندرہ کروڑ عوام تو کسمپرسی کی حالت میں سسک سسک کر زندگی گذاریں۔ او ر یہ اندرون ملک اور بیرون ملک بینکوں میں بے حساب ڈالر جمع کروائیں۔ کارخانے، ملیں، فیکٹریاں، کوٹھیاں، محل، کاریں، اور کاروبار پھیلاتے جائیں۔ انہوں نے ملت کو جماعتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ان کو زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں میں پھنسا رکھا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں پر یہی جاگیردار، سرمایہ دار، اور وڈیرے قابض ہیں۔ اب ورکروںاور سیاست میں دلچسپی رکھنے والے نیک دل ، پاک طینت، نیک فطرت، پرہیزگاروں اور صاحب شعور لوگوں کو غور کر لینا چاہیئے۔ کہ ملک میں اتنی بڑی تفاوت کا یہ گھناؤنا کھیل ملک میں رائج رکھنا ہے یا اس دل سوز ، دردناک، غیر اسلامی طریقہ کار کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہنا ہے۔
۲۱۔ یہ رئیس زادوں، نواب ذادوں، اور خان بہادروں کی بگڑی ہوئی اولادیں فضول خرچیوں ، شاہ خرچیوں، بے پناہ سہولتوں اور عشرت کدوں کی ٹھاٹھ اور بادشاہی نظام میں پلنے اور ابھرنے والی نسلیں جب حکومت کے پینل میں شامل ہوتی ہیں۔ ان کے پاس غریب عوام یا غرب کاتصور ہی نہیں ہوتا۔ وہ ملکی خزانہ اور وسائل کو بیدردی اور بے رحمی سے روزمرہ کے غیر ضروری اور نامناسب وافر اور فضول اخراجات کے ذریعے مقروض ملک کی معیشت کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ ان کے فنکشن ( Function ) اور ان کے پروٹوکول یعنی با ادب با ملاحظہ ہوشیار کے اخراجات ان کے ان ناجائز فنکشنوں پر مدعوئین کی فوج اور انتظامیہ کی حاضری ۔ یہ تمام عمل وقت اور دولت کے ناقابل تلافی نقصان کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ آتش بازیاں، یہ ناچ گانے، یہ محفلیں، یہ سیاسی اداکاریاں، یہ شہرت اور عزت حاصل کرنے کے طریقے ، یہ یوم تکبیر منانے کی تشہیر پر بے پناہ اخراجات، ملک میں آئے دن ایسے فنکشنوں کی بھرمار ، ہر حکومت وقت کا دستور بن چکا
ہے۔ اور وزیروں، مشیروں کی غیر ضروری مصروفیات وقت اور دولت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کلچر پر سالانہ کیا اخراجات آتے ہیں۔ اور اس کا تمام بوجھ ملک اور چودہ کروڑعوام کے کندھوں پر ہے۔ یا ان حکمرانوں پر۔ حکومت وقت کو ایسے تمام فضول اخراجات کا فوری طور پر خاتمہ کرنا چاہیئے۔ وزیروں، مشیروں، کو یہ یاد رکھنا چاییئے۔ کہ یہ ملکی خزانہ یتیموں، مسکینوں، محتاجوں، ناداروں، اور چودہ کروڑ غریب اور مفلوک الحال عوام کی امانت ہے۔ ناکہ ان کی خاندانی وراثت۔ اس بے دردی سے اس کو مت ضائع کریں۔
۲۲۔ آئی ایم ایف کے قرضے اب اس لئے حاصل کئے جارہے ہیں۔کہ پہلے قرضوں کی قسطیں ادا کی جا سکیں۔ اور ملک ڈیفالٹر ( Defaulter ) نہ ہو، کیا یہ تمام قرضے ملک و ملت کے لئے سود در سود کا بے پناہ اضافہ اور عذاب نہیں ہیں۔ اور عوام الناس پر بلوں اور ٹیکسوں کے اضافی بوجھ کے شکنجے کی گرفت خطرناک حد تک جان لیوا عذاب ہے یا ریلیف ( Relief ) ہے۔ اس قسم کے حالات میں ایسی عیاشیوں، شاہ خرچیوں، فضول خرچیوں کا کون ذمہ دار ہے۔ مہنگائی کا خوف ناک اژدھا دن بدن بڑھتا ہوا، طاقت ور، جان لیوا، معاشی ہڈیاں، پسلیاں چبائے، عوام ، ملت اور ملک کو نگلنے کے قریب ترین پہنچ چکا ہے۔ عقل کے اندھوں سے ملک و ملت کو نجات دلائے ۔اور ان کی گرفت سے چھڑانے کا صرف ایک اورا یک ہی راستہ ہے۔ وہ دین اسلام کا راستہ ہے۔ جس میں نہ امیرالمومنین نہ مجلس شوری کا کوئی رکن ایسی بے ضابطگیوں، اور بد قماشیوں کا تصور بھی کر سکتا ہے۔ یہ سب قرضے ملک کو نہیں سیاست اور حکومت کو مضبوط بنانے اور عیش و عشرت کے نظام کو قائم رکھنے کے لئے حاصل کئے جا رہے ہیں۔ جب یہ حکومت چلی جائے گی۔ تو آنے والی حکومت ان کی طرح یہی کہے گی۔ کہ ملک کی معاشی حالت بڑی نازک اور خراب ہے۔ ملک قرضوں میں جکڑا پڑا ہے۔ وہ بھی پہلی حکومتوں کی طرح ملکی حالات کو سنوارتی ہوئی اور اپنی اپنی نجی زندگی کو سرکار ی خزانے اور آئی ایم ایف کے قرضوں کو لوٹ کھسوٹ کرکے آگے چلتی جائے گی۔ اور عوام الناس کو مہنگائی ، بلوں اور ٹیکسوں کے جان لیوا ناسور میں مبتلا کرتی چلی جائے گی۔ اہل دل، اہل قلم، اہل درد، لکھاریو! اور اخبار نویسو! تم ملک و ملت کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہو۔ جو ملک میں حکومت ختم کرنے اور قائم کرنے کا رول ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ آپ خود تو اقتدار حاصل کرنے کے لئے کوشاں نہیں ہوتے۔ لیکن آپ ان بدمعاش ، بدقماش، سیاست دانوں کے زوال اور اقتدار کا سبب ضرور بنتے چلے آ رہے ہیں۔ آپ نے آج تک ملکی سیاستدانوں کے لئے بڑی بڑی جنگیں لڑیں۔ میرے خیال میں اب آپ لوگ اس حقیقت سے پوری طرح واقف اور آشنا ہو چکے ہیں۔ کہ یہ جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ ملک میں صرف دس بار ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ جنہوں نے اس ملک ، اس دھرتی ، اس ملت کو عبرت ناک حالات و واقعات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ا ب اگر آپ لوگ اس بیماری کا علاج کرنا چاہیں۔ توحکومت نہ بدلوائیں۔ بلکہ ان سے نظام بدلوائیں۔ عوام کی رہنمائی فرمائیں۔ اور ان کوان کی حرکات و سکنات سے آگاہ رکھیں۔آپ جماعتوں میں تقسیم نہ ہوں، یہ تمام سیاست دان ایک ہی کڑوے، بدمزہ، اور مہلک درخت کے پھل ہیں۔ آ پ کی سوچ اور عمل اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا رول بڑے احسن طریقے سے ادا کر سکتا ہے۔ ان حکمرانوں پر بھی احسان اور شفقت کریں۔ اور ان کا ظلم والاہاتھ روک لیں۔ انہیں اس سسٹم اور جمہوریت کے عذاب سے نجات دلوائیں۔ ان کو بھی خیرالامت کے سائے تلے لانے کی سعی کریں۔ ان بھٹکتے ہوئے رہنماؤں کو صراط مستقیم دکھانا آپ کے شعبہ اور پیشہ کی اہم ذمہ داری ہے۔
۲۳۔ یہ استحصالی طبقہ ملک میں اس قدر منظم اور موثر ہے۔ کہ پولیس کا سربراہ ہو، یا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ، یا فوج کا چیف آف سٹاف ،جو ان کے حسب منشا ء نہ ہو۔ ان کو فارغ کر دینا یا کھڑے لائن لگادینا یا کسی کسیس میں ملوث کر دینا کسی بھی جمہوری حکومت کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ ان سرکاری سربراہوں کا یہ حال ہے تو چھوٹے سرکاری ملازمین کی کیا مجال، چاہے وہ انتظامیہ میں ہوں یا عدلیہ میں اور ان کے کسی کام میں رکاوٹ بن سکیں۔ ان مجبوریوں کی بنا پر انتظامیہ اور عدلیہ تو ان کے اشارے پر ناچتی ہیں۔ اور ان کے تحفظ کے فرائض سر انجام دینے پر مجبور ہوتی ہیں۔ ہر قسم کے کاروبار پر ان کی اجارہ داری اندرون ملک تمام پالیسیاں اور قانون ان کے حقوق اور تحفظ کے ضامن، بیرونی ممالک کی تجارت پر ان کی گرفت، ان کی ہر بدعملی اور بداعمالی اور بدقماشی جرائم کی دنیا کا شاہکار، ان کا ہرعمل اور ہر کام حکم خداوندی کے خلاف ،لیکن ان تمام قباحتوں کو ملکی قوانین کا تحفظ موجود۔ اسمبلی کے دروازے پر کلمہ شریف اور اسمبلی ہال میں اسلام کے باغیوں، جابروں، ظالموں، فاسقوں، فاجروں ، ڈاکوؤں ، لٹیروں ،دہشتگردوں، نوابوں، سرداروں، جاگیرداروں، خان بہادروں، اور سرمائے داروں پر مشتمل جماعتوں کے سربراہان کا ہجوم جن کا ماٹو اقتدار کو حاصل کرنے اور قائم رکھنے کے لئے حکومت وقت اور اپوزیشن ممبران کو توڑنے جوڑنے کا عمل جاری رکھنا ہوتا ہے۔ یوں ہر قسم کی مراعات اور وزارتوں کی پیشکش اور لاکھوں کروڑوں کی بولیاں ان کا روز مرہ کاعمل بن چکا ہے۔ ملکی خزانہ اور وسائل ان کے اقتدار کی جنگ میں آپس میں تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔آئی ایم ایف کے تمام قرضے بھی انہوں نے اسی طرح چاٹ لئے ہیں۔ چودہ پندرہ کروڑ عوام کو بلوں اور ٹیکسوں میں جکڑ لیا۔اور ان کو نیم جان بنا کر مفلوج کر رکھا ہے ۔ ان سربراہان کے اخراجات اس قدر وافر اور ناجائز و شاہانہ ہیں۔کہ جن کی مثال اسلامی تاریخ میں نایاب ہے۔ ان کے ہر قسم کے سیکنڈل ایک دوسرے کو مات دیتے ہیں۔ جمہوریت کے اس کرپٹ نظام کے داعی اور خالق ہر قسم کی بدقماشی ، بدکرداری کے ولن ہوتے ہیں۔ اسلام کا نفاذ ان کے لئے صرف ناقابل عمل ہی نہیں۔ بلکہ زہر قاتل ہے۔وہ کیسے اس کو قبول کریں۔
سربراہ سیکنڈل ۔ رضی فارم کا سیکنڈل ۔ ہیلی کاپٹر کا سیکنڈل ۔ پرہیزگار کا سیکنڈل ۔ سرے محل کا سیکنڈل ۔ سٹیل ملیں سیکنڈل ۔ مردانہ سیکنڈل ۔ نسوانی سیکنڈل ۔ وزیروں کے سیکنڈل ۔ مشیروں کے سیکنڈل ۔ کمیشنوں کے سیکنڈل ۔بے حساب سیکنڈل ۔ باہر ملک سیکنڈل ۔ ملک اندر سیکنڈل ۔ رشوتوں کے سیکنڈل ۔ ہر کام سیکنڈل ۔ سونے کے سیکنڈل ۔ ہیروئن کے سیکنڈل ۔سمگلنگ کے سیکنڈل ۔ ڈالروں کے سیکنڈل ۔ قتل لیاقت سیکنڈل ۔ قتل ضیاء سیکنڈل ۔ قتل مرتضی سیکنڈل ۔ زرداری سیکنڈل ۔ ان کے محل کے سیکنڈل ۔ ان کی زمینوں کے سیکنڈل ۔ ملیں سیکنڈل ۔ کارخانے سیکنڈل ۔ عدالتوں کے سیکنڈل ۔ نظاموں کے سیکنڈل ۔ جاگیرداروں کے سیکنڈل ۔ بی بی سیکنڈل ۔میاں سیکنڈل ۔ گرو سیکنڈل ۔چیلے سیکنڈل ۔ احتساب سیکنڈل ۔ طوالت سیکنڈل ۔ سزا سیکنڈل ۔ جیل سیکنڈل ۔
۲۴۔ اے جمہوریت کے پجاریو! یہ دہشت گردی اور یہ سیاسی جنگ بند کرو۔ تمہاری صوبائی اسمبلیاں، وفاقی حکومت، سینیٹ کا ایوان صرف بارہ چودہ سو ممبران پر مشتمل ہے۔ جمہوریت کے عبرت کدے کے کل پجاریوں کی تعداد ملک میں صرف دس بارہ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ صرف یہی لوگ اور یہی طبقہ ان اخراجات اور واقعات کے باطل اور عبرت ناک نظام کے علمبردار ہیں۔ اور وہی اس کے بھیانک کردار ہیں۔ یہ تمام الزامات ، یہ تمام جرائم، ہ تمام حقائق و واقعات، یہ تمام بد ترین القابات حکومت اور اپوزیشن کے کارندے اور نمائندے ایک دوسرے کے خلاف مختلف جرائم کے مواد و رسائل، اخبارات ، ریڈیو، ٹی وی، اسمبلی ہال، سینیٹ کے ریگزار میدانوں میں شعلہ بیانیوں سے پیش کرتے ہیں۔ تقریروں اور خبروں میں تفصیلا مع تحریری ثبوتوں کے ایک دوسرے کے خلاف ملت کو آگاہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ احتساب بینچوں میں اس سے پہلے بھی اور اب بھی ایک دوسرے کے خلاف کیس زیر سماعت چلے آ رہے ہیں۔ ملکی خزانہ اور وسائل ہی نہیں۔ انہوں نے تو آئی ایم ایف اور دوسرے دوست ممالک کو بھی کنگال کر دیا ۔ مگر ان کے پیٹ ہوس کی آگ سے پھر بھی نہیں بھرے۔ جس ملک کی دولت اور وسائل اور غیر ملکی قرضے چند گنتی کے جمہوریت کے باطل بطن سے پیدا ہونے والے امیر زادے، پیر زادے، خان زادے، نواب زادے، لوٹ کھسوٹ، رشوت، سمگلنگ ، ہارس ٹریڈنگ جیسے بھیانک جرائم کو جائز اور حق سمجھ کر اور اقتدار کو حاصل کرنے اور قائم رکھنے کے لئے یہ بدمست ہاتھی کی طرح ملک کے ہر قانون اور عدل کو روندتے پھریں۔ اور فرعونی قوتوں کا حصار اپنے گرد جمع کرتے پھریں۔ یاد رکھو ۔ یہ لوگ اتنے ہی ڈرپوک ، بزدل، اور اتنے ہی غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ اس دولت اور اقتدار کے چھن جانے کا خوف خطرہ ایک جان لیوا کینسر کی صورت ان کی زندگیوں میں ہر وقت موجود رہتا ہے۔انہوں نے مجبوروں، بے کسوں، بے بسوں، غریبوں، بیواؤں، مظلوموں ، معصوم بچوں اور بچیوں کی آہوں، نیک اور پاک دامن بہنوں، بیٹیوں، اور ماؤں کی عزتوں اور عصمتوں کی بے حرمتی کے زخم جو ۱۹۴۷ ء میں ہندوؤں اور سکھوں نے لگائے تھے۔ مندمل کرنے تھے۔ لیکن انہوں نے تو غیروں سے بڑھ کر بد عملی ، بدکرداری، بد قماشی، ظلم، زیادتی، قتل و غارت ، نا انصافی ، بدمعاشی ، عصمت دری، عدل کشی کے گھناؤنے اور بھیانک کھیل اپنے اپنے دور حکومت میں جاری اور ساری رکھے۔ انہوں نے ملک کو لاقانونیت اور عدل کشی کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ اس نظام کو جناب وزیر اعظم صاحب کی تقریروں ، اور جلسوں میں واشگاف الفاظ میں پیش کیا گیا ۔ انہوں نے ایسے ظالموں کے خلاف لواحقین کے پاس جا کر ان کے ہمدردی کے لئے آنسوؤں اور سسکیوں کو تو ان کے روبرو پیش کیا۔ لیکن ان ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں اپنی مکمل بے بسی اور بے کسی کی داستان بڑے اندوہناک لہجے میں پیش کی۔ کہ وہ اس باطل نظام میں مکمل بے بس اور بے اختیار ہیں۔ اور اس انتظامی عدل و انصاف کے ڈھانچے کو اسلام کے ڈھانچے میں بدلنا اورڈھالنا نہائت اہم اور ضروری ہے۔ اور انہوں نے جوعوام کے ساتھ اسلامی دستور نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ وہ بل قومی اسمبلی نے تو پاس کر دیا ہے۔ اور ابھی سینیٹ سے اس کی ضروری منظوری نہایت اہم ہے۔ اس کے بعد ملک کا ڈھانچہ اسلامی قدروں میں ڈھالاجائے گا۔کی نوید ٹی وی پر پوری ملت کو دیتے رہتے ہیں۔ اور یہ نوید ایک دھندلے سے خواب کی شکل اختیار کرتی چلی جارہی ہے۔ وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے۔ مزید وقت ضائع نہ کریں۔ اپنے وعدہ کو پوراکریں۔ اللہ تعالیٰحاکم وقت کو اس عہد کو پور اکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 

قرضوں کا اجراء اور معافی
۲۵۔ اب مخلوق خدا اور رسول عربی ﷺ کی امت کو مزید ذلت اور رسوائی کی داستان بنا کر انسانیت کے سامنے پیش کرنے سے باز آئیں۔ ان وحشی رہبر و رہنماؤں کا دور اب ختم ہونے کو ہے۔ جو قرض جن سیاستدانوں، جاگیرداروں، سرمائے داروں کو جاری کئے ۔اور جن کو معاف کئے۔ان جاری کرنے والوں، معاف کروانے والوں اور معاف کرنے والوں، معاشی دہشت گردوں، عدل و انصاف کے قانون شکن غنڈوں، ملت کی اقتصادی لاش کو نوچنے والی گدھوں کو بے نقاب کیا جائے۔ حقیقت سے آگاہ ہونا ملت کے ہر فرد کاحق ہے۔ ملک کاخزانہ اور وسائل ملت کی ملکیت ہیں۔ ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں یا کسی اور غرض کے لئے بڑے بڑے سرمائے داروں، جاگیرداروں، وڈیروں کو جو انڈیسٹریاں لگانے کے لئے بطور رشوت لون ( Loan ) جاری کئے۔ وہ سب کے سب ملک و ملت کی وراثت ہیں۔ مزدوروں کو ان کی محنت کا پورا صلہ یا عوضانہ نہ دیا گیا۔ دوسری طرف ملت نے سرمایہ مہیا کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے دو نمبر کھاتے تیار کرکے ٹیکسوں کی بچت اور غبن کیا۔ بجلی، پانی، گیس، ٹیلی فون کی چوری کرکے ملکی خزانے کو مفلوج کیا۔ یہ تمام کوٹھیاں اور محل اسی طریقہ کار کی پیداوار ہیں۔ یہ جب چاہیں، اپنے اکاؤنٹس کے ماہرین کو عوام کی عدالت کے روبرو پیش کر لیں۔ منصف بھی اپنی مرضی کے ڈھونڈھ لیں۔ انہی کے مروجہ ملکی قانون کی روشنی میں اپنی سزائیں تجویزکروالیں۔ یہ ملک و ملت سے غداری کے مرتکب ہیں۔ انہوں نے سرکاری خزانہ اور ملکی وسائل کی امانت کو بری طرح لوٹا۔ اور ملک میں معاشی بحران اسقدر پیدا کیا۔ کہ ملک دیوالیہ ہونے کو ہے۔ ان کا عبرت نامہ ان کے ہاتھوں میں دے دو۔ فیصلہ ہر قسم کے شک و شبہ سے مبرا اور مستند ہے۔ ان کے جرائم کی سزا اس حد تک خوفناک ہے ۔ کہ یہ نہ تو خود بچتے ہیں اور نہ ان کی جائیدادیں۔ یہ تمام احتساب کمیشن یہ تمام کیمیٹیاں، یہ تمام محتسب کے دفاتر، یہ تمام عدالتیں، یہ تمام منصف ان کی اعلیٰ ڈگریاں ان کو مبارک، جو واضع ثبوتوں کے باوجود ان گھناونے کیسوں کو نمٹانے، الجھانے اور التوا ء میں ڈالنے کے لئے پچھلی حکومتوں کی مدد اور معاونت کرتے رہے۔ ان کے یہ تمام شعبے ان کے جر ائم کو تحفظ فراہم کرتے رہے۔ اور انہی کے تعاون سے ملک کو مجرموں کا گہوارہ بنا کر رکھ دیا۔ ایسے تمام بد دیانت ، منصف عدالتوں کے چہروں پر چیچک اورنحوست کے بدترین اور بدنما داغ ہیں۔ ان سب برائیوں کا تدارک بزرگان دین اور حضور اکرم ﷺ کی محبت اور ادب سے طاقت او ر توفیق کامخفی خزانہ میدان عمل میں عطا بن کر مدد اور معاونت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکومت وقت ا ور اپوزیشن کے نیک دل، پاکیزہ فطرت افراد کو ایسا کرنے، اور بدکردار ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اوران سے لوٹا ہوا خزانہ، ملکی سرمایہ اور بیرونی ممالک کے بینکوں میں پڑے ہوئے ڈالر، پاکستان میں واپس لانے کی توفیق عطافرمائے ۔اور ان تمام مجرموں کی لسٹ شائع کی جائے۔ تاکہ عوام ان لٹیروں اور رہزنوں سے بچ سکیں۔ آمین۔۔
۲۶۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے رشوتیں لیں۔ کمیشن کھائے، اور بینک اندرون ملک اور بیرون ملک ڈالروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے یہ تمام مخفی اور ظاہری خزانے، جائیدادیں، بیرون ممالک کا روبار، کارخانے، محل ، بنگلے ضبط کر کے ملک کے خزانے میں جمع کرائیں۔ حکومت کے نمائندے ہوں یا اپوزیشن لیڈر ۔ یا پھر ملک میں انہی دس بارہ ہزار ڈاکہ زنوں، دہشت گردوں کے پاس لوٹی ہوئی ملکی اورآئی ایم ایف کے قرضے کی تمام رقمیں جو موجود ہیں۔ ان سے واپس لیں۔ اور تمام قرضہ جات اس لوٹی ہوئی رقم سے ادا کریں۔ اگر حکومت حقائق کو چھپاتی۔ اور پردہ پوشی کرتی ہے۔ تو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ کہ مجرم اب بھی ہمارے حکمران ٹولہ میں موجود ہیں۔ اگر عوام کے ساتھ کوئی نیکی کرنی ہے۔ تو وزیروں، مشیروں، ممبروں کی تعداد فوری طور پر کم کریں۔ اور سکیڑیں۔ خوف خدا کو اپنی زندگی میں داخل کریں۔ ملکی وسائل اور خزانے کو محفوظ کریں۔ نہ کہ عوام الناس کو ٹیکسوں کے شکنجوں میں جکڑ کر اور مہنگائی کے اژدھے کے منہ میں ڈال کر ان کے عشرت کدے اور عیش و عشرت کی زندگی کو پھلنے پھولنے دیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا۔تو لامتناہی عذاب منطقی اور فطرتی تقاضا ہو گا۔ اور اس کے لئے تیار رہناہو گا۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔ عقل و سٹیٹ کے وسائل کبھی بھی کسی کوفطرت کے عذاب سے بچا نہیں سکے۔ حق و سچ کی غیبی طاقت سچائی کی پیروی سے میسر آتی ہے۔ فطرت مکمل قدرت رکھتی ہے ۔ اور وہ کسی قسم یا ملک پریا حکمرانوں پرعذاب نازل کرنے سے پہلے ضروری وارننگ کسی سے بھی اور کسی شکل میں بھی دلوانے کا فرض پوراکروالیتی ہے۔ یہ وارننگ خدا اور رسولﷺ کے باغیوں کو اب دی جا چکی ہے۔ اگر حکومت وقت قرضے معاف کروانے والوں کے نام اور واجب الادا رقوم کی لسٹ مہیا نہیں کرتی۔ رشوتوں اور کمیشنوں سے کھولے ہوئے ڈالروں کے اکا ؤنٹ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں کارخانوں یا جائیداوں یا لوٹے ہوئے خزانہ کے بارے میں جلد از جلد ملت کوتفصیلی طور پر آگاہ نہیں کرتی۔ اور ان لٹریروں سے واپس نہیں لیتی۔ تو یہ بات واضح طور پر ثبوت ہو گی ۔ کہ یہ تمام بد روحیں ملی مجرم ہیں۔ اور اس بہت بڑے عوامی مینڈیٹ میں بھی شامل ہیں۔ اور حکومت کے مزے اور نشے لوٹ رہے ہیں۔ یہ اسلام نافذ نہیںکریں گے۔ بلکہ اپنے جرموں پر پردے ڈالنے کی پالیسی پر یوں ہی گامزن رہیں گے۔ ملک کے دانشوروں اور دیدہ وروں کی اب یہ ذ مہ داری ہے ۔ کہ وہ ملت کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔ اور حاکم وقت کو ان کی غیر اخلاقی اور بداعمالیوں کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔ اور اس کار خیر میں ہر قسم کی قربانی پیش کریں۔ اور اپنے منصب کی ذمہ داری ایمان داری اور خوف خدا کی روشنی میں پوری کریں۔تاکہ ملت اسلامیہ آپ کی عظمتوں کو جھک کر سلام کرے۔ اور حاکم وقت ان برائیوں کاخاتمہ کرے۔
۲۷۔ یہ استحصالی طبقہ کتنا منہ زور، منظم اور طاقت ور ہے۔ کہ انہوں نے جب چاہا ایک اسمبلی سے پانچ اسمبلیاں ملک میں قائم کر لیں۔ سینیٹروں کی اعلیٰ فوج ملک میں جتنی چاہیں اور جیسی چاہیں بھرتی کر لیں۔ اقتدار اور ملکی وسائل پر گرفت مضبوط سے مضبوط کرتے چلیں۔ ہوس زر اور اقتدار کی جنگ میں ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے بھی باز نہ آئیں۔ انتظامیہ اور عدلیہ کی موجودگی میں کمیٹیاں اور احتساب کمیشن مقرر کرے ۔اپنے عیبوں پر پردہ ڈالیں۔ ملک کو جماعتوں میں تقسیم کر دیں۔ ملی وحدت اور مرکزیت کو پارہ پارہ کریں۔ عوام کو زندہ باد اور مردہ باد کا شعور دے کر اقتدار کی جنگیں لڑیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر خزانہ خالی اور آئی ایم ایف کے قرضے ہضم کرنے کے جرائم کے انکشافات اخباروں اور ٹی وی پر معہ دستاویزات کے پیش کریں۔ ایک دوسرے کے خلاف ثبوت اور حقائق عوام الناس کو بتائیں۔ایک طرف توممبران کی تعداد دن بدن بڑھا کر یہ طبقہ ملک میں ہر قسم کی سہولت اور حکمرانی کے مزے لوٹے، دوسری طرف ملک میں بیروزگاری اتنی پھیل چکی ہو۔ کہ پڑھا لکھا طبقہ خود کشیوں، قتل و غارت اور ڈاکہ زنی پر اترآ ئے۔ عدل و انصاف سے محروم لوگ خود سوزی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ ملک میں انارکی مہلک وباء کیطرح پھیل جائے۔ ملک تباہی کے د ہانے تک پہنچ جائے۔ تو ان ملکی حالات کو سنبھالنے کے لئے ان میں سے کچھ ابن الوقت سیاست دان گہری چال چل کرفوج کو اقتدار سنبھالنے کے لئے اکساتے پھریں۔ اس سے قبل ملک میں دو دفعہ مارشل لاء نافذ ہواہے۔ یہ لوگ بھی اپناطرز حکومت جمہوریت کی بنیادوں پرقائم کرکے اپنی حکومت کو طول دینے کے لئے کوشاں رہے۔ یہ حکمران شرعی نظام ملک میں نافذ نہ کرسکے۔ اور وہ اسی نظام اور سسٹم ( System ) میں ملت کی بہتری کے لئے کوشاں رہ کر اپنا دور ختم کر گئے۔ شرعی نظام لاناان کے نصیب کا حصہ نہ تھا۔ اس جموریت کے طریقہ کاراور ملکی سسٹم نے ملک کے تمام اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کسی نے بھی کنوئیں سے کتا نکالنے کی کوشش نہیں کی۔ پانی کے ڈول نکالتے رہے۔کنواں ناپاک کا ناپاک رہا۔ اب بعض سیاستدان تیسرے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے کے فر ائض اور اقتدارحاصل کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کس غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ بار بار یہ تاکید کی جا رہی ہے۔ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اپنے آپ پر رحم کریں۔ اور اپنے عمل کی معافی مانگیں۔ قوم سے تمہاری طلب اور درخواست تھی کہ ووٹ دو۔ اسلامی دستور ہم تمہیں دیں گے۔ یہ وعدہ آپ نے ملت اسلامیہ کے چودہ کروڑ افراد سے کیا۔ اپناوعدہ پورا کرو۔ ورنہ اپنی عاقبت اپنے عمل کی روشنی میں پڑھ لو۔ اللہ نہ کرے دین اور دنیا اپنی آنکھوں کے سامنے لٹتے دیکھو۔ غور کا وقت ہے۔ اپنے ضمیر کے دروازے پر دستک دو۔ شائید وہ تمہاری رہنمائی کر جائے۔ یہترین لکھنے والے تمہارے لکھاری اور ملک کے تمام وسائل ،مشیر، وزیر اور یہ سبھی اقسام کے دستگیر ہر حکومت وقت کے پاس موجود رہے۔ لیکن فطرت کے عمل کونہ روک سکے۔ اپنے وعدے کا پاس کرو۔ شریعت محمدیﷺ کا نفاذ کرو۔ اور اپنی آخرت کو شاداب کرو۔ ہر ظالم کا احتساب کرو۔ تاکہ کوئی جھوٹا یا سچا بعد میں کسی قسم کااعتراض نہ کرے۔ مزید انتظار مت کرو۔حکمرانو! آپ اس بستی کے سوار لگتے ہو۔ جب وہ بھنور میں پھنسی ہوتی ہے۔ تو دعا کرتے ہو۔ یا اللہ ہمیں اس بھنور سے نکال۔ اور ہماری زندگی محفوظ کر۔ ہم اس کے عوض تمام مال و متاع تیری راہ میں تقسیم کردیںگے۔ تھوڑے سے طوفان سے باہرنکلے تو پھر سوچ آئی ۔کہ سب کچھ راہ خدا میں لٹا دیا گیا ۔ تو زندگی کیسے گزاریں گے۔ وعدہ کیا کہ آدھا ما ل ومتاع تقسیم کر دیں گے۔ جب خیرو عافیت سے کشتی کنارے لگ جاتی ہے۔ تو پھر سوچ آتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کون سی کمی ہے۔ جیسے جیسے وقت ملا۔ اپنی کمائی میں سے کچھ مال غریبوں، مسکینوں میں بانٹتے رہیں گے۔ اس کے بعد وہ جہان و رنگ و بو میں محو ہو جاتے ہیں۔ اور اس مصروفیت میں وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ اس کے بعد جو اس قبیلہ پر بیت گئی۔ وہ ضروری نہیں کہ اس کا انکشاف وقت سے پہلے کیا جائے۔ یہ آگاہ کرنا نہائت ضروری ہے۔ کہ آپ اللہ اور اس کی مخلوق کے ساتھ کیاہوا وعدہ پورا کریں۔ ملک میںدستور مقدس نافذ کریں۔ اس بدبخت ملاح جیسارول ادا نہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ اس جیسی عاقبت کاخوف ناک بھیانک عبرت ناک چہرہ آپ کو نہ دکھائے۔ آمین۔
۲۸۔ رائج الوقت جمہوریت ایک ایسا طرزحکومت ہے۔ جس میں ایمانداری اور دیانت داری سے نظام حکومت چلانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ جہاں حکومت بنانے کے لئے اتحادی جماعتوں کو وزارتوں کی رشوتیں دینی پڑیں۔ اور اپنی جماعت کے ممبروں کو بھی خوش رکھنے کے لئے وزارتیں دینے کا ضروری عمل ہو۔ چھوٹی سیاسی جماعتوں کو بھی تعاون او ر معاونت کے عوض سرکاری بھتہ دینا لازمی ہو۔ تو یہ نظام معاشرے کو فوزو فلاح کیسے مہیا کر سکتا ہے۔ اس طرح یہ طریقہ کار بنیادی سطح پر نچلے درجے کے سیاسی ورکروں تک پورے ملک میںپھیلا ہوا ہے۔ جہاں اپوزیشن کے ممبر ہر وقت اس آڑ میں بیٹھے ہوں۔ کہ کیسے اور کب کسی جماعت کو ساتھ ملا کر حکومت ختم کرکے اقتدار حاصل کیا جائے۔ ہر قسم کے جرائم میں ملوث اور دہشت گرد لٹیرے پھر ان جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھتے ہیں۔ جن کی حکومت پہلے مختلف الزامات اور جرائم قتل و غارت کی وجہ سے بدنام ہو چکی ہے۔ اور جعلی پولیس مقابلوں میں اپنے بے شمار سیاسی ورکروں یعنی دہشت گردوں کی قربانی دے چکی ہو۔ تو ان حالات میں سوائے اس نظام کی روشنی اور پیروی میں ہرقسم کے جائزاور ناجائزطریقہ کار سے جوڑ توڑ کرکے حکومت کو قائم رکھنا ہر گھناؤنے کھیل کو کھیلنا، ہر ایک بداعمالی کو در گذر کرنا صاحب اقتدار کی مجبوری ہوتی ہے۔ لوٹ کھسوٹ ، سفارش، حق تلفی، رشوت، کمیشن، چور بازاری، سمگلنگ، ڈاکہ زنی، دہشت گردی، قتل و غٓارت کے شعبے ان کی نگرانی میں خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ غرضیکہ ہرقسم کی برائیاں اس نظام میں عدل و انصاف کے اعتدال، توازن کو بگاڑنے کا باعث و موجب بنتی ہیں۔ خاص کر اس وقت جب کسی حکومت ختم ہونے کا خطرہ یا خدشہ لاحق ہو چکا ہو۔ پھر بڑی بڑی جماعتیں اپنے سیاسی اقتدار کے ممبروں کو زبردستی اٹھا کر کسی محفوظ جگہ پر پہنچا دیتی ہیں۔ اور ہوٹلوں میں ہر قسم کی عیاشی کی سہولتیں بہم پہنچائی جاتی ہیں۔ ملکی خزانے اوروسائل کی بندر بانٹ کی جاتی ہے ۔ ممبروں کی خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف کیس ختم کرنے کے وچن لئے جاتے ہیں۔ پھر جب کوئی لین دین کا اختلاف پیدا ہو تو یہی سیاستدان پہلے رشوت میں دی ہوئی کروڑوں روپے کی رقموں کا انکشاف کرتے ہیں۔ اس رازداری کے انکشاف سے وہ ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ اور ملکی استحکام کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ملک کا کوئی نظام، کوئی عدالت، کوئی نیک او ر صالح جماعت ان کے آپس کے اس گھناؤنے عمل کو روکنے کی نہ تو کوشش کرتی ہے۔ اور نہ مداخلت۔
۲۹۔ ان سیاست دانوں کی اقتدار کی جنگ نے مشرقی اور مغربی پاکستان کو ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ عوام میں سے کسی ایک کا دوسرے صوبے کے عوام کے ساتھ نہ تو کسی قسم کا جھگڑا تھا۔ او رنہ کوئی رنجش۔ اتنا گھناؤنا کھیل کھیلنے والی جماعتیں اب بھی ملک میں اسی طرح دندناتی پھر رہی ہیں۔ اس کے بعد ان ہی رہبر و رہنماؤں نے چپکے سے ملک کے مزید چار ٹکڑے کردیئے۔ یعنی صوبہ پناب، سرحد، سندھ، اور بلوچستان۔ ان کی اسمبلیاں قائم کر دی گئیں۔ اور حسب خواہش ایم پی اے کی تعداد ہر صوبے میں مقرر کر دی گئی۔وہاں تمام ایم پی اے، منسٹر، ڈپٹی منسٹر، مشیر، اور احتساب کمیشن کمیٹیوں ، اور دوسری اہم پوسٹوں پر متعین کر دیئے جاتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ان کی ذاتی پسندیدہ سر کاری فوج کو بھرتی کرکے ان کیساتھ ان کے جرائم کی معاونت کے لئے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف صوبوں کا تمام بجٹ وزیروں، مشیروں کی یہ فوج چاٹ جاتی ہے۔ خود تو یہ صرف سیاست کی یونیورسٹی سے ضروری سند حاصل کرکے ایوان اقتدار میں پہنچ جاتے ہیں۔اور ان مخصوص لوگوں کے تعاون سے ہر قسم کا جائز و ناجائز کاروبار اپنی منسٹریوں اور دوسرے اداروں سے لیتے دیتے رہتے ہیں۔ اور ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ اس طرح یہ نظام ہر صوبے میں رائج الوقت ہے۔ ان کی وہی ہوس اقتدار اور ہوس زر کی جنگ اب صوبوں میں جاری ہو چکی ہے۔ اب یہ مشرقی پاکستان والا عمل پھر سے دہرانے کی کوشش اور کاوش میں مصروف ہیں۔ ان بدبختوں اور بدنصیبوں کو روکنا ازحد ضروری ہو چکا ہے۔ یہ کام صر ف اور صرف شریعت محمدی ﷺ کو ہی نافذ کرکے پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہ اسی کا کما ل ہے کہ وہ مرکزیت عطا کرتی ہے۔ خلیفہ وقت سے لے کر شوری کے ممبروں تک عوام الناس کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا احتساب فور ی اور اسی وقت ہو جاتاہے۔ سب کے لئے ایک ساقانون اور ایک ساعدالتی نظام ہوتا ہے۔ نہ خلیفہ وقت کی جرائت ہوتی ہے۔ کہ وہ اس قسم کی بداعمالی کا مرتکب ہو ۔ اور نہ ہی کسی اور فرد کی۔ کہ وہ کسی قسم کا غلط عمل کرسکے۔ اگر کوئی منصف عدل کا دامن چھوڑے۔ تو وہ بھی کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔
۳۰۔ ملک کے نشرواشاعت کے تمام ادارے، ٹی وی، ریڈیو، رسائل ، اخبارات میں ان تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات ایک دوسرے کے خلاف۔ ایک دوسرے کی بدکرداری کی تشہیر، کروڑوں کے غبنوں، اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں ایک دوسرے کے خلاف حقائق پر مبنی جرموں کی بوچھاڑ ، ممبران کی آپس میں ہاتھا پائی، اسمبلیوں میں ایک دوسرے کو قتل کی دھمکیاں نت نئے سیاست دانوں کے بیرون ملک ڈالروں کے اکاؤنٹس کے انکشافات، جگے ٹیکسوں کی ڈیمانڈیں پوری نہ کرنے پرقتل و غارت کی وارداتیں، پولیس مقابلے، ملک میں انارکی کی فضا، پٹرول اور گندم کی قیمتوں میں اضافوں کی خبریں، ہر روز منی بجٹوں کی بھرمار ، عوام کے پیٹ بھرنے اور تن ڈھانپنے کے اپنے ( Problems ) اور مسائل، لامتناہی گھناؤنے حالات و واقعات کی عبرت ناک وارداتیں اور داستانیں۔ حکومت وقت کو بدلنے کے لئے سیاسی جماعتوں کے اتحاد۔ وزارتوں میں شمولیت کے خواب، سیاست دانوں نے ملک میں ( Hurly Burly Affairs) پیدا کرکے چودہ کروڑ عوام کو ہیپٹنائز کررکھا ہے۔ ان سیاہ کاریوں کے کالے جادو نے ملت کو مفلوج اور ناکارہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اور ان کے پاس ان سے بچنے کے لئے نہ کوئی غوروفکر کا وقت ہے۔ اور نہ ہی کوئی اس سے فرار کا راستہ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے اس طلسم کو توڑنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان سیاہ کاریوں کے اس کالے جادو نے اب ان کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔ ان کے لئے اب کوئی نہ بھاگنے کاراستہ ہے۔ اور نہ بچ نکلنے کا۔ اس جمہوری نظام اور سسٹم کے خلاف ملت کے دلوں میں نفرت، حقارت، اور بیزاری کی آندھی اور طوفان اٹھ کھڑاہوا ہے۔ اسلامائیزیشن کاجذبہ اور ولولہ ملت میں بیدار ہو چکا ہے۔ اور شدت کے ساتھ پروان چڑھنے کے لئے اپنی منزل کیطرف رواں دواں ہے۔ حکمران وقت کے فیصلے کو پڑھ لیں۔ اور جلد از جلد دستور مقدس کو ملک میں رائج کرکے اپنے وعدہ کی پاسداری کریں۔ ورنہ چودہ کروڑ عوام کے ساتھ ان کی بدعہدی، بدکرداری تاریخ کے سیاہ اوراق کا حصہ بن جائے گی۔ حکمران زندگی اور موت کے جھمیلوں میں الجھ کر فارغ ہو جائیں گے۔
۳۱۔ حکمران کن کن دشواریوں اور مسائل سے دوچار ہیں۔ وہ تو وہی جانتے ہیں۔ کیونکہ جو جال دیکھتا ہے وہ مچھیرانہیں دیکھ سکتا۔ ایٹمی دھماکہ کرنا ملک کیلئے ایک مشکل کام بن گیا تھا۔ ہندوستان کے ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد پاکستان کادھماکہ نہ کرنے کاکوئی جواز نہیں تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کا ہرفرد، تمام افواج کے سربراہان ملک کے تقریبا تمام اہل قلم، اخبار نویس، کالم نویس، اہل شعور، اہل دل، ا ہل درد، عالم دین، یعنی ہر طبقہ خیال میں حکومت وقت کو مجبور ہی نہیں کیا۔بلکہ اسکادائرہ اس قدر تنگ کردیا۔کہ اس کے پاس ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ حکومت کے پاس صرف دو راستے تھے ۔یا تو یہ حکومت سے فارغ ہو جاتے۔ یادھماکہ کرتے ۔ یہی فیصلے کا مقام تھا۔ جہاں عروج اور زوال کے نقطہ نے آغاز اور انجام کی منزل کارخ اختیار کر ناتھا۔ یہ سہرا قدرت نے موجودہ قیادت کو عطا کر نا تھا کردیا۔ یہ حقائق آنکھوں سے کبھی اوجھل نہیں ہونے چاہیئں۔ کہ اس ایٹمی دھماکہ کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے کیا۔ضیاء لحق صاحب نے اپنے گیارہ سالہ دور حکومت میںملک کو ایٹمی طاقت بنا دیا تھا۔ اور نواز شریف صاحب نے اس ایٹمی دھماکہ کو ۲۸ مئی ۱۹۹۸ ء کو دکھایا۔ اہل وطن ان تمام حکمرانوں کو جنہوں نے ملک کے ڈیفنس میں قابل قدر فرائض سرانجام دیئے۔ اور اس عمل کی طرف بھرپور توجہ دی۔ مبارک باد، صد بار، مبارک باد، کہتے ہیں۔


۳۲۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے۔ کہ جب ملت خواب غفلت میں سو رہی تھی۔ پاکستان کی ایٹمی طاقت کا یہ خالق اور عظیم سپوت ریگزار حیات میں تن تنہاء چپکے چپکے ایٹمی صلاحیتوں کے علم کو مغرب کی لیبارٹریوں اور تجربہ گاہوں میں اس علم کے بنیادی اصولوں کے حصول کے لئے کوشاں رہا۔ تمام کلئے اپنے ذہن کے کمپیوٹر میں اکھٹے کئے ۔ اور اس علم سے آراستہ ہوا۔ یہاں تک اس عظیم جوہری صلاحیت پر مکمل عبور اور یقین حاصل کر لیا۔ تو پھر اس نے ملک کے رہنماء کے نام ایک موثر اور مدلل چھٹی تحریر کی۔ جس میں اس نے اس شاہکار ایٹمی طاقت کی تکمیل کے لئے حکومت وقت سے معاونت کی اپیل کی ۔ اور اس کی اہمیت اور طاقت سے پوری طرح روشناس کرایا۔ اور مغرب کی طرف سے ہر قسم کی مادی سہولت کو ٹھکرایا۔ اور اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اپنے ملک میں واپس لوٹا۔ یہ ایک درویش منش فقیر، اہل دل، اہل درد، اور پاکستان کے عظیم فرزند کی یہ ایک دعا، ندا، اور صدا تھی۔ یہ ایک خاموش، دل سوز سے حامل، باعمل مسلمان کی آہ اور تڑپ تھی۔ جوآسمان کی طرف اٹھی اور چیرتی ہوئی بارگاہ الہیٰ میں ایسی ملتجی ہوئی۔ جہاں سے اسباب و وسائل کی ہمت، کوشش، کاوش، شجاعت اور استقامت کے خزانوں کی منظوری لے آئی۔ یہ تھے جنا ب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب جن کو رب العزت نے ان کے نام کی تمام صفات اور قدرتیں عطا کر دیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عطا کردہ توفیق میں اضافہ مرحمت فرمائے۔ آمین۔ مسلمانوں میں اس سائنسی فن کے امام نے اپنی ذمہ داری ، ایمانداری، نیک نیتی، محبت، ادب، اور عبادت سمجھ کر بڑے ذوق و شوق سے سرانجام دی ۔ مسلمانان پاکستان اور ملت اسلامیہ کو اقوام عالم کی ایٹمی طاقتوں کی لسٹ میں لا کھڑا کیا۔ اللہ تعالیٰ اس وطن اور اس کے اس سپوت پراپنی عنایات میں اضافہ فرمائے۔ آمین۔
۳۳۔ اب اس کارخیر میں ملک کے نامور دوسرے سائنسدانوں کا ایک ہجوم اور بے بہا قیمتی اثاثہ ہماری دفاعی پوزیشن کو نئی نئی ایجادات سے روشناس کروا کر ملک کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی لسٹ میں شمولیت کا اعزاز دلوادیا ہے۔ جو غوری اور شاہین جیسے میزائل تیار کرے۔ ملک کی دفاعی پوزیشن کو بہتر سے بہتر بناتے چلے آ رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں کا پاس ہونا ایک ملک کی بنیادی اور اہم ضرورت ہے۔ ملک کی سائنسی اکیڈمی سے جتنے بھی عظیم سپوت اب ابھریں گے۔ ان کا کریڈٹ جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو ہی جائے گا۔ االلہ تعالیٰ اس ادارے کے ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ سائنسدانوںاور ورکروں کو ہر آزمائش پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
۳۴۔ یا د رکھو! مسلمان جنگ میں پہل نہیں کرتا۔ وہ مخلوق خدا یعنی فطرت کے شاہکار (انسان) کی عزت واحترام، ادب اور محبت سے ہی صرف پیش نہیں آتا۔ بلکہ ہر ذی جان کی تکلیف ، دکھ، درد، پریشانی، بیماری، اذیت اور ناگہانی آفت یامصیبت میں مبتلا کی تیمارداری اور مرہم کے فر ائض سرانجام دیتا ہے۔ وہ ر نگ و نسل اور عقیدوں سے بے نیاز ہو کر اور ابر رحمت بن کر رحمتہ العلمین ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں بڑے احسن طریقہ سے اپنے فرائض عبادت کا حصہ سمجھ کرسرانجام دیتا ہے۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں۔ جب تک مسلمانوں کو اسلامی ماحول ،واقعات، دینی تعلیم، اس کی تربیت، اس کی اخلاق سازی، اس کے آداب، اور خدوخال شریعت محمدی کی تعلیمات کی روشنی کے سانچے میں نہیں ڈھالے جاتے۔ مخلوق خدا اس جمہوریت کے باطل بدن سے اٹھنے والی بد کرداری کی آندھی، ظلم و ستم ، تشدد، دہشت گردی، قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ، عدل کشی کے خوف ناک طوفان سے بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ اور خوفناک حد تک اس سے تنگ اور عاجز آ چکی ہے۔ حکمرانوں پراللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے محبت اور اس کے نام پر کئے ہوئے وعدہ کی آزمائش کاخطرناک دور شروع ہو چکا ہے۔ سربراہ حکومت کو تینوں افواج کے سربراہان، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران اس کے علاوہ دوسرے رفقاء اہل قلم، اہل دل، اہل محبت، اور اہل درد لکھاریوں، دانش مندوں کی اجتماعی میٹنگ کال کریں۔ اور چودہ کروڑعوام سے کیاہوا وعدہ ان سب کو یاد کرائیں۔ اور اس وعدہ کو پورا کرکے ملت کی اس ادھیر نگری سے جان چھڑائیں۔ ذمہ داری سے فرار کاراستہ تلاش نہ کریں۔ مزید وقت ضائع نہ کریں۔اپنی قسمت کے سنہری الفاظ لکھنے میں دیر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ حکومت وقت کو فیصلے کا یہ مبارک لمحہ عطا فرمائے ۔آمین۔ اگر کوئی ایسی مشکل سیاست دان پیدا کریں۔ تو یہ مسئلہ پاکستان کی عوام کے سپرد کر دیں۔ اس اسلامائزیشن کے مسئلہ پر ریفیرنڈم کروالیں۔ اور اس وعدہ اور کارخیر کو ایک سچے مسلمان کی طرح نبھائیں۔ وعدہ جلد از جلد پورا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ اقتدار یا زندگی کا سانس اکھڑ جائے۔ چودہ کروڑعوام اورحضور نبی کریم ﷺ کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑے۔ اور یہ تمام فتوحات اور کامیابیاں دھری کی دھری رہ جائیں۔ اپنے حال کو کلمہ شریف پڑھا لیں۔ ماضی خود بخود مومن ہو جائے گا اور مستقبل روشن و درخشان۔
۳۵۔ اہل ہند کے عوام اور سیاست دانوں کو بڑے ادب، محبت اور خلوص سے آگاہ کرنا نہائت ضروری ہے۔ کہ ان کے مذہب یا عقیدے ہندو ازم کا بنیادی تصور چار قومیتوں پر مبنی ہے۔ یہ تصور ان کو برابری کا شعور نہیں دیتا۔ طبقاتی طریقہ کار، ذات پات، اونچ نیچ، اور درجہ بندی ان کے مذہب کا بنیادی مقدس ستون اورحصہ ہے۔ اگر وہ اس درجہ بندی یا نظام کو ختم کریں۔ تو ان کامذہب یا عقیدہ باقی نہیں بچتا۔ ان کی تربیت صدیوں سے ان اصولوں کے تحت ہوتی چلی آ رہی ہے۔ جس سے وہ الگ نہیں ہو سکتے۔ ان کے پاس وحدت و مرکزیت قائم کرنے کی کوئی گنجائش یا مستند طریقہ نہیں۔ ہندوستان تو کئی اقوام، کئی مذاہب، کئی عقیدوں، اور کئی صوبوں میں منقسم عوام کا مجموعہ ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی آئیڈیالوجی یعنی نظریئے پر مبنی سرشت کا مالک ہے۔ ہندو ازم تو اپنے ہی مذہب کے لوگوں سے برابری پر مشتمل انصاف نہیں کر سکتا۔ وہ دوسرے اتنے کثیر التعداد مذاہب، عقیدوں اور صوبوں کو کس بنیاد پراکٹھا رکھ سکتا ہے۔ وہ خود چار طبقوں میں منقسم ہیں۔ ذات پات کے پجاری ہیں۔ برہمن اور شودر جب تک ان میں قائم ہیں۔اس وقت تک اعلیٰ ، ادنیٰ، پاک، پلید، اچھے ،بے ادب، نفرت، عزت، تذلیل کاطبقاتی جہنم سلگتا رہے گا۔ جب یہ چار قومیتوں کی چتا ان کے مذہب کا حصہ ہے ۔ تو وہ کیسے دوسرے عقیدے کے عوام یا انسانوں کو مساوی انصاف یا برابری کے حقوق دے سکتے ہیں۔ یہی بنیادی وجہ تھی کہ مسلمانوں نے دو قومی نظریئے کی بنا پر ہی ۱۹۴۷ ء میں ایک الگ ملک حاصل کیا۔ اسوقت بھی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا بیس پچیس کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے۔ یعنی اس پاکستان سے ڈبل پاکستان ہندوستان کی سرزمین میں معرض وجود میں عملی طور پر آ چکا ہے۔ سکھ علحدہ ملک اور حکومت کامطالبہ کر رہے ہیں۔ صوبے خود مختار ی کی طرف سفر کر چکے ہیں۔ اسوقت ہندوستان کا ظاہری الحاق غیرفطرتی بنیادوں پر قائم ہے۔ جو کسی وقت بھی ریت کی دیوار ثابت ہو سکتاہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے عوام ایک خون ،ایک رنگ، ایک نسل اور ایک دھرتی کے باشندے ہیں۔ ہندو ازم یہاں کا صدیوں پرانا مذہب ہے۔ چالیس پینتالیس کروڑ عوام انہی میںسے حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ان کو کسی نے ظلم یا جبر کے ساتھ اسلام قبول نہیں کرایا۔ ذہن ہندی دنیاتسلیم کرتی ہے۔ گیت سنگیت اور بھجن ان کی عبادت کا حصہ اور روح کی غذا ہیں۔دل و دماغ کے لاثانی شاہکار ہیں۔ ان میں سے جو اسلام کے قریب آیا۔ اس کا دل، دماغ اور روح اسی کا ہو گیا۔ مقناطیسی طاقت اسلام کی تعلیمات اور کردار میں انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ محمود جتنے جی چاہے۔ ہندوستان پر حملے کرتا رہے۔ جب تک کوئی ندا اسلام کے نفاذ کے لئے نہیں آتی۔ اس وقت تک اسلام قبول کرنے والے میسر اور پیدا نہیں ہوتے۔ اسلام کی تعلیم پھیلنے کے لئے جناب ابوالفضلؒ رحمتہ اللہ علیہ نے داتا گنج بخش ر حمتہ اللہ علیہ کو ہندوستان کی سرز مین میں اسلام کا سفیر اور مبلغ مقرر کیا ۔اور انہوں نے یہاں آ کر اسلام کی تبلیغ کی۔اور مسلمانوں کی خاصی تعدا وجود میں آئی۔اور یہ تعداد دن بدن بڑھتی گئی۔ ان کے بعد خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے مزارسے استفادہ حاصل کیا۔ اور ہندوؤں کے گڑھ اجمیر شریف میں جا کر ڈیرہ لگایا۔لاکھوں کی تعداد میں ان ہندوؤں کو کلمہ شریف پڑھایا۔ اس کے بعد تمام بزرگان دین پورے ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ کے لئے پھیل گئے۔ اسلام تلوار سے نہیں پیار، ادب، محبت، شفقت سے پورے ہندوستان میں پھیلا۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اور یہ اس کی بنیادی خوبی ہے۔ کہ وہ ہر انسان اور دوسرے عقیدے کے فرد کو ادب، محبت ،خدمت ،درگزر، برداشت، صبر ، تحمل بردباری، اور احترام ،عزت اور حسن سلوک، اخلاق سے پیش آنا دین کا صرف حصہ ہی نہیں ۔بلکہ ایسے عمل نہ کرنا اور حسن سلوک سے پیش نہ آنا۔ حکم خداوندی کی خلاف ورزی اور گناہ عظیم کاتصور اپنے پیروکاروں کو دیتا ہے۔انسان تو کجا، مسلمان تو درند، چرند، پرند، اور ہر ذی جان کے حقوق تک کی نگہداشت اور خدمت بجا لانے کی کوشش اور کاوش میں مصروف رہتا ہے۔ اگر وہ ان فرائض سے چشم پوشی کرتا ہے۔ تو اس کی تمام عبادت، ریاضت، بندگی اور ہر نیک عمل، برباد اور ناکارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ مسلمان رحمتہ اللعلمین کے درس و تدریس کاوارث اور سفیر ہوتا ہے۔ آقائے دو جہاں کی تعلیمات کی روشنی میں ہر کس و ناکس ، اعلیٰ ادنیٰ، آقا، غلام ،مسلم یا غیر مسلم کی تفریق یا تشخیص کے بغیر برابر کے حقوق، کا حسن سلوک، در گذر، بہترین ادب، محبت، خدمت ، احترام ، اعلیٰ اخلاقیات، لاجواب عدل و انصاف اور فطرتی تقاضوں میں یکسانیت کی جامع تفسیر اور تاثیر ہوتا ہے۔ مسلمان مخلوق خدا کو متاثر اور موثر کردار کی خوشبو پیش کرتا ہے۔ انسانیت کی معراج کاحسین اور دلکش امتزاج انسانوں کے دلوں کو سکون، راحت، لطف و قرار کی مقناطیسی قوتیں، اسلام کے دائرے میں آنے کی پر کشش صدائیں اور ندائیں ابر رحمت بن کر روح انسانی کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں۔ کاش پاکستان میں دستور مقدس کا نفاذ ۱۹۴۷ ء میں ہی ہو جاتا۔ تو آج دنیا کا نقشہ اور سے اور ہوتا۔ مسلمانوں کو ان کی دینی تعلیم اور عمل کی وراثت سے محروم کر دیا گیا۔ اوراب بھی صاحب اقتدار سیاست دانوں میں سے صاحب دل، اور حضور اکرم ﷺ سے محبت کرنے والے،درویشوں، فقیروں کے ماننے والوں اور بزرگان دین کا کلام سننے والوں کے دلوں پر دستک دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ کہ اسلامائزیشن کا وعدہ پورا کریں۔ وقت ضائع نہ کریں۔اس کے انعامات کا روان عمل کے ہدی خوان کو دوران سفر ہی میسر آ سکتے ہیں۔ اسلامی ماحول انسانیت کو میسراور مہیا کرو۔ دینی تعلیم اور قانون رائج کرو۔شریعت محمدیﷺ کانفاذ کرو۔زندگی کا ہر عمل اس کے زیر اثر کرو۔ ذہنی اور روحانی تربیت کرو۔ پاکستان ملت اسلامیہ کی درس گاہ بن جائے گا۔ یہ عبرت کدہ خیر کدے میں بدلے گا۔ اسلام کی چودہ سو سالہ پرانی تاریخ پھر سے زندہ و پائندہ ہو گی۔ سرائے فانی سے گذرا کرتے ہیں۔ خواہشات کا بوجھ یا وزن نہیں اٹھایا کرتے۔ سفر، سہولت، آرام اور سکون سے گزر جاتا ہے۔ بظاہر خوشیاںبھاگ جاتی ہیں۔ غم بھاگ آتے ہیں۔ کھیل لطف و کرم کاشروع ہوجاتاہے۔ حضور اکرم ﷺ کے عمل میں شمولیت کر لو۔ بندے اور خدا کے درمیا ن حا ئل خلیج پر ہی غم پل بنا دیتے ہیں۔ اسلام کو ملک میں نافذ کرنے والو آپ کی خیر ہو۔
۳۶۔ دنیا کی بڑی طاقتوںکا بنایا ہوابین الاقوامی ادارہ جو یو این او یعنی اقوام متحدہ کے نام سے منسوب ہے۔ جس کا بین الاقوامی سطح پر جو تاثر دیا جاتا ہے۔ وہ یہ ہے۔ کہ یہ ادارہ قوموں، ملکوںکے جھگڑوں کو ایمانداری ، دیانت داری اور انصاف پر مبنی اصولوں کے تحت فیصلے کرتاہے۔ وہ کسی قوم کو کسی دوسری قوم پر ظلم ، زیادتی، یاغنڈہ گردی نہیں کرنے دیتا۔ کسی ملک کو کسی دوسرے ملک پرحملہ یا قبضہ بھی نہیں کرنے دیتا۔ اس ادارے کا بنیادی اصول اور منشور یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے ظلم، زیادتی، ناانصافی، حق تلفی کافوری تدارک کرتا ہے۔ کمزوروغریب ،آفت زدہ ،غیر ترقی یافتہ ممالک، یا کسی بھی قسم کی ناگہانی آفات میںمبتلا قوموں اور ملکوں کی فوری مدد اور معاونت اس کا فریضہ سمجھا یا تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی قوم یا ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ یا قبضہ کرنے کی جسارت کرے۔ تو اس کو سبق سکھانے کے لئے ہر قسم کی فوجی طاقت کے استتعمال سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس ملک کے ساتھ ہر قسم کی قطع تعلقی، تجارت، لین دین اور ہر قسم کی مدد و معاونت ختم کردی جاتی ہے۔ اس ادارے کی کارکردگی کی مختصر رپورٹ جو انہوں ے پچھلے پچاس سالوں میں سرانجام دیں۔ وہ روز روشن کی طرح واضح اوررات کی تاریکی کی طرح عیاں اور نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان ہی بین الاقوامی وڈیروں نے عربوں کے سینے پر اسرائیل کا وجود قائم کیا۔ مغرب کی پالیسی کے مطابق اسرائیل اور عرب ممالک کی جنگ ہوئی۔ اسرائیل کو جدید اسلحہ مہیا کیا گیا۔ عربوں کی خوب پٹائی ہوئی۔اور پوری قوت پامال ہوئی۔ ان کے علاقوں پر اسرائیل قابض ہوا۔ نیپام بموں سے انسانیت کو نیست و نابود کیا گیا ۔ عرب آج تک یہ زخم چاٹ رہے ہیں۔ ایران اور عراق کی جنگ کرائی گئی۔ مسلمانوں کی دونوں بڑی طاقتوں کو بری طرح الجھایا۔ ملت اسلامیہ کی طاقت کو کمزوراور اپاہج کیا۔اور یہ منظر دنیا دیکھتی رہی۔ عراق سے عربوں پر حملہ کروایا۔ عربوں کی معاونت کی۔ کروڑوں ڈالروں کا ناکارہ ( ٹائم بارڈ) اسلحہ عراق کے خلاف استعما ل کیا۔دونوں کی معیشت تباہ کر دی ۔جو دولت عربوں کی ان کے بینکوں میںتھی۔ وہ اس اسلحہ کی ادائیگی میں وصول کر لی۔ عرب ممالک میں ان کی فوجیں اتریں۔ تیل کی دولت قبضے میں کرلی۔ اسی آڑ میں آج وہ سعودی عرب کے سیا ہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ بوسنیا اور کوسوا میں مسلمانوں پر کیا گذری ۔ قتل عام ہوتا رہا۔ بچے، بوڑھے جوان بیدردی سے قتل ہوتے رہے۔ بچیوں اور عورتوں کی عصمتیں اور عزتیں لٹتی رہیں۔ظلم کے تمام طور طریقوں سے انہیں روندا گیا۔ جب ظلم کی انتہا ہو گئی ۔تو لوگ گھر بار چھوڑ کر ملک سے جان بچانے کے لئے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ دس بیس ہزار نہیں لاکھوں کی تعداد میں لوگوںں نے ملک چھوڑا۔ ان کی مکمل تباہی تک یو این او کے یہ سب مہذب نمائندے اس ظلم و بربریت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ کیاکر رہے ہیں۔ دیکھتے چلیں۔امریکہ نے اپنے بین الاقوامی مفادات کے لئے افغانستا ن کو روس کے خلاف استعمال کیا۔ افغانیوں نے دنیا کی ایک عظیم طاقت کو ریزہ ریزہ کردیا۔ یہ جنگ کئی سال تک جاری رہی۔ اس میں افغانستان کے عوام نے بے شمار جانی اور مالی قربانیاں دیں۔جب امریکہ کا مشن پورا ہو گیا۔ تو اس نے حسب عادت اپنے رویئے میں فوری تبدیلی کی ۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ امریکہ افغانستان کے جنگی نقصانات کی تلافی کرتا۔ ہر قسم کی معاونت کرتا۔ لیکن اس نے افغانستان میں دو گروپوں کو آمنے سامنے کر دیا۔ اور اس خانہ جنگی کو جاری رکھنے کے لئے اس نے ہر قسم کے حربے استعمال کئے۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ پاکستان کے ساتھ کیا بیت گئی۔ مت بھولئے۔ امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ مشرقی پاکستان کوبچانے کے لئے روانہ ہوا۔ وہ ابھی تک نہیں پہنچا۔ انہیں کی شہ اور خواہش کے مطابق مشرقی پاکستان ہندوستان کی فوجوں کی سنگینوں کی نوک پر الگ کیا گیا۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے میں بھی یہی طاقتیں بر ی طرح حائل ہوتی رہیں۔ جب کہ ایسا کرنے کا ان کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ ایف ۱۶ کی سپلائی رقم وصول کرنے کے باوجود نہ کی گئی۔ حکومت وقت کو ان حالات کی روشنی میں اپنے
دوست دشمن کی پہچان کر لینی چایہئے۔ کشمیر کا کیس ۱۹۴۸ ء سے اسی یو این او کے ادارے میں التوا میں پڑا ہے۔ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے رائے شماری اور دوسر ی قراردادوں کی منظوری یو این او کے نمائندوں نے ہی منظور کی تھی۔ کشمیر کا مسئلہ نپٹانے یا حل کرنے کی بجائے اتنی دیرپا اندھیر اانہی کی منشاء کا حصہ ہے۔ ہندوستان نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ مضبوط اور قائم رکھنے کے لئے اور استصواب رائے کوکچلنے کے لئے سات لاکھ فوج اس مشن کی تکمیل کے لئے جھونک رکھی ہے۔ جو پچھلے پچاس سال سے ہر قسم کا ظلم ، زیادتی اور بھیانک وارداتوں کی مرتکب ہوتی چلی آٓ رہی ہے۔ کشمیری بچوں، بوڑھوں، طالب علموں، جوانوں کا قتل عام، بچوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتی اور ظلم کی خوفناک وارداتیں، گھروں کو مع اہل و عیال جلانے کے واقعات، گھروں، جیلوں،تھانوں،عقوبت خانوں میں کشمیریوں کو اذیتیں تکلیفیں دے کر بے پناہ تشدد سے گذار کر قتل کرتی چلی آ رہی ہیں۔ اگر کوئی کشمیری مجاہد ان غاصبوں کی فوج کو نقصان پہنچائے تویہ شوروغل و اویلا مچاناشروع کر دیتے ہیں ۔ اور اسی آڑ میں ہندوستانی فوج کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کشی کرتی چلی آ رہی ہے۔ دنیا کی یہ مہذب قومیں چپ سادہ کر بیٹھ گئیں۔ ان کا یہ غیر قانونی ، غیر اخلاقی، غیر فطرتی جواز اور پروپیگنڈا دنیا کی کوئی مہذب قوم ماننے کے لئے تیار نہیں۔ حق استصواب رائے کشمیریوں کا قانونی اور فطرتی حق ہے۔ اور یو این او کی قراردادیں موجود ہیں۔ دنیا کی کوئی مہذب قوم ان کے غیر منطقی موقف کو ماننے کو تیار نہیں۔ ہندوستان کسی فورم، کورٹ اور ٹیبل پر بیٹھ کر اس جھوٹے ، غلط باطل اور بے بنیاد موقف کا سامنانہیں کر سکتا۔کشمیر کشمیری مسلمانوں کا ملک ہے۔ اور پاکستان کی جان ہے۔ ہندوستان کے سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیئے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اس سلسلہ میں دو جنگیں لڑیں۔ کشمیری مجاہدین آج بھی آزادی کی جنگ بڑی جرات ،حوصلہ، اور دین کی روشنی میں لڑ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم اور مژدہ سنا کر شان جلالی اور جمالی میں عملی طورپر گزرنے کی سعادت فرما رکھی ہے۔ ہندوستان کی فوج اس علاقے سے بچ کر نکل ہی نہیں سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے۔ کہ حکومت آزاد کشمیر پوری ملت اسلامیہ کو کشمیر میں جہاد کی اجازت دے ۔خاص کر اپنے افغانی بھائیوں کو آپس میں لڑائی بند کرکے کشمیر میں جہاد کی دعوت دیں۔اور کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ مل کر جہاد کا فریضہ ادا کریں۔ ہندوستان کا ٹکڑ ے ٹکڑے ہونا اس کا مقدر بن چکا ہے۔ وہ کشمیریوں کے جذبۂ حریت سے اچھی طرح واقف اور آگاہ ہیں۔ ہندو سیاست دانوں، فوج، اور رعوام کے قواء مضمحل ہو چکے ہیں۔ وہ بہتر جانتے ہیں۔ کہ پاکستان سے دو گنا بڑا پاکستان ہندوستان کے اندر موجود ہے۔ اس کے علاوہ سکھ، عیسائی، پارسی، بدھ مت وغیرہ اور ان کے تمام صوبے اور تمام اقوام ہندوؤں کی تنگ نظری ، ذات پات کی تقسیم، خود غرضی ، نا انصافی ، نفرت، حقارت کے فرق جیسی اذیت ناک زیادتیوں سے پہلے ہی تنگ آ چکے ہیں۔ کشمیر ان کاعبرت کدہ بننے والا ہے۔ ان کے متواتر اور مسلسل ظلم، زیادتی،نا انصافی ، قتل و غارت، دہشت گردی نے ان کی بدبختی ، رسوائی، اور ندامت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ ذی شعور اہل ہند بھی اپنے سیاست دانوں کی اس ہٹ دھرمی سے نالاں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر نہ تو ان کا کوئی موقف ہے نہ کوئی جواز۔ پچھلے پچاس سالوں کے طویل عرصہ میں نہ وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کی آگ کو بجھا سکے۔ اور نہ ہی دبا سکے۔ ان کی بدنصیبی کے بدنصیب آنسو اب گرنے کو ہیں۔ہندوستان کے سیاست دان اپنے انجام سے واصل ہونیوالے ہیں۔ ہندوستانی حکومت کشمیری مسلمانوں کو اس پچاس سالہ جنگ کا تاوان دینے کی پابند ہے۔ پاکستان کو کشمیری مجاہدین کے عمل میں دخل نہیں دینا چاہیئے ۔ اور کسی بڑی
طاقت کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیئے ۔ ہندوستان ، پاکستان پر اسی الزام کی بنا پر دو جنگیں مسلط کر چکا ہے۔کہ پاکستا ن کی فو ج کشمیر میں جنگ لڑ رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر دنیا کے تمام نمائندے بلائیں۔ ان کو دعوت دیں۔ اور انہیں دکھائیں۔ کہ کشمیر میں صرف کشمیری مجاہدین ہی لڑ رہے ہیں۔ دنیا کو حقائق اور حالات سے آگاہ کرنا ضرور ی ہے ۔ اگر پھر بھی ہندوستان پاکستان کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہوتا ہے۔ تو خدا پر بھروسہ کرو۔ اور اپنی عوام کو متحد کرو۔ اپنے دوست اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کرو۔ رندانہ جرات سے کام لو۔ کسی بڑی طاقت کی بلیگ میلنگ میں مت آؤ۔ ٘ اہل قلم ، لکھاری، اور نشرواشاعت کے تمام اداروں کے چھٹے بڑے ورکروں یعنی سبھی مجاہدین سے مودبانہ التماس کرتا ہوں۔ کہ آپ نشرو اشاعت کے محاذ پر پوری دنیا کو موثر انداز میںکشمیر اور مجاہدین کے اصل حقائق سے یعنی آزادی کی جنگ سے روشناس کرائیں۔ ہندوستان کے پچاس سالہ ظلم و ستم ، تشدد اور غاصبانہ قبضہ، اور سات لاکھ فوج کی گھناؤنی کاروائیوں سے دنیا کو آگاہ کریں۔ بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو ہموار کریں۔ خاص کر پاکستان کے ہمسایہ ممالک کو اصل حقائق اور پوزیشن سے آگاہ رکھیں۔ یعنی ایران، افغانستان، روس سے آزادہونے والی تمام ریاستیں،روس، ترک ، عرب ممالک اور چین، تمہارے حق میں یہی لوگ حق سچ کی بات کر سکتے ہیں۔ اور ہندوستان کے خلاف ہماری بھر پور مدد اور معاونت کرنے کے قابل ہیں۔ انڈیا بین الاقوامی طور پر اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ امریکہ کی دوغلی پالیسی سے آگاہ ہو کر بین الاقوامی حالات کی روشنی میں اپنی فارن پالیسی کا جائزہ لیں۔ اور ضروری ترمیم کریں۔ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈریں۔ یہ ٹھیک ہے کہ امریکہ کے پاس بہت سے ایٹم بم ہیں۔ اور یہ دنیا کی سر فہرست ایٹمی طاقت ہے۔ یہ تمام انسانیت کے لئے ( curse ) ہیں۔یہ دوزخ کا ایندھن ان کے پاس موجود ہے۔ ان کو آگ لگنے کی دیر ہے۔ ان کااور اس کائنات کا نقشہ بد ل جائے گا۔ انہوں نے یہ بم اپنے تحفظ کے لئے بنا ئے ۔اور اقوام عالم کو سرنگوں کرنے کے لئے یہ سب کچھ کیا۔ مگر ان بموں کا تحفظ ان کی ذمہ داری بن چکا ہے۔ کوئی بھی فطرت کاعمل ان کے ذخائر کو کسی وقت بھی ماچس کی تیلی دکھاسکتاہے۔ انسانی عقل بہت کچھ سوچتی اور بہت کچھ کرتی ہے۔ لیکن وہ قدرت کی سیکرٹ کاروائی سے واقف نہیں ہوتی۔ امریکہ کے سیاست دانوں اور حکمرانوں سے نہائت ادب سے گذارش ہے۔ کہ جو قومیں انصاف اور عدل کو چھوڑ جاتی ہیں۔ قدرت ان کا کبھی ساتھ نہیں دیتی۔ قادر مطلق جو چاہیں۔ سو وہ کرتے ہیں۔دنیا کی تاریخ عبرت ناموں سے بھری پڑی ہے۔ یہ اپنی مذہبی تعلیم سے بھی روگردانی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اپنی عقل کو نہیں نوشتہ دیوار کو پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی راہ راست پرچلنے کی توفیق عطا کرے۔ ّآمین۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ ا ب وقت کروٹ لے چکا ہے۔ اگر یورپی اقوام اپنے ماضی کو بھول کر پرانی دشمنیوں کو ختم کرکے جنگوں کے زخم چاٹ کر ایک مرکز پر جمع ہو سکتی ہیں۔ اور پورے یورپ کی ایک کرنسی اور تمام یورپی ممالک کے لوگ ایک دوسرے ممالک میں آ جا سکتے ہیں۔ان پر کسی قسم کی اس ضمن میں کوئی پابندی نہیں۔ وہ آپس میں ایسے تعلق پیدا کر سکتے ہیں۔ تو کیا دنیائے اسلام کے تمام ملک ایک مرکز پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ تمام اسلامی ممالک کے نمائندوں کو ایک اسلامی وحدت کے جھنڈے کی روشنی میں بلا کر اسلامی دنیا کی ایک مجلس شوری اور اس کا امیر المومنین چن کر بین الاقوامی سطح پر ایک مرکزقائم نہیں کرسکتے۔ دین کی تعلیم، تربیت، اور عمل تمام ممالک میں رائج کریں۔ اسلامی بینک قائم کریں۔ آپس مین تجار ت تک فروغ دیں۔ ایک دوسرے ملک میں آنے جانے کی پابندی ختم کریں۔ ہرشعبہ میں ہر کسی کی مدد معاونت کریں۔ آپ سب
لوگ مل کراپنے آپ کو اس قابل بنائیں۔ کہ اقوام عالم میں مسلمانوں کا ایک ملکی تشخص پیش ہو۔ آپس میں جنگیں بند کریں۔ محبت، اخوت، درگذر، عفو، مدد و معاونت ، بھائی چارہ، حسن اخلاق، اور ایثار و نثار کی فضاء قائم کریں۔ ترقی پذیر ملکوں کی معاونت کریں۔ مسلمانوں کا ایک ایسا مضبوط بلاک بنائیں۔ کہ آپس کے فیصلے آپس میں بیٹھ کرکریں۔ اس کارخیر میں بھی پاکستان کو ہی پہل کرنی چاہیئے۔ اس ارفع اور اعلیٰ مشن کی تکمیل کے لئے اہل دل، اہل درد، اہل شعور، اہل بصیرت، اہل دانش شخصیتوں کو جمع کریں۔ اور ہنگامی بنیادوں پر مسلمانوں کو اکٹھا کریں۔ اور ملت اسلامیہ کا ایک بہت بڑا فریضہ ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عطا کردہ توفیق میں اضافہ فرمائے۔ آمین۔
۳۷۔ حکومت اور اقتدار کا نشہ انسان کو بے حس، ظالم، سفاک ، بے رحم ، جورو ستم کرنے والا حیوان ناطق ہی بنا کر رکھ دیتا ہے۔ ہر دور حکومت میں اقتدار اعلیٰ کی یہ ممبر اسمبلیاں ، مشیر، وزیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیراعظم اور صدر پاکستان ، قتل و غارت ، ڈاکے، دہشت گردی، عصمت دری، رشوت خوری، سفارش، عدل و انصاف مفلوج کرنے اور بے روزگاری ، انصاف کے حصول کی ناکامی کی صورت میں خود سوزی جیسے الم ناک، دردناک، اور عبرتناک واقعات پر مشتمل اخباری بلٹن روزانہ پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں۔ شائید ان کے سینے میں دل نہیں پتھر ہیں۔ شائید ان کی احساس والی بینائی اور سماعت والی حس مفلوج ہو چکی ہے۔ اتنے گھناؤنے اور اندوہناک واقعات جہاں انسانیت سسک اور تڑپ رہی ہو۔ وہاں یہ حاکم وقت ہر دور میں ہزاروں میں سے ایک آدھ واقعہ پر پہنچ کر فاتحہ اور افسوس سے مظلوموں کے اہل خانہ سے رسمی افسوس کرنے پر اکتفا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ قانون کے ہاتھوں مجبوری بے بسی کے راگ الاپ کر یا مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی نوید دے کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ جس سسٹم سے یہ حکمرانی کرتے ہیں۔ اس میں انصاف کے حصول کی گنجائش ہی نہیں ۔ دوسرا طریقہ کار اتنا مشکل ،طویل اور مہنگا ہے۔ کہ عام آدمی کے بس کا روگ نہیں۔ اچھی فیس، اچھا وکیل عدالتوں میں سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح انصاف عدالتوں میں ہی دم توڑجاتا ہے۔ ملک کے ہر ایم پی اے ، ایم این اے، اور سینیٹ کے ممبران ان سادہ لوح عوام سے ووٹ حاصل کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے رہے۔ اور پھر اسی عوام کو گندے انڈے کی طرح ناکارہ اور حقیر سمجھ کر اپنے تعلق سے الگ کرکے پھینک دیتے رہے۔ ایوان اقتدار میں بیٹھ کر اپنے اور اپنے خاندان اور ابن الوقت لوگوں کی خوشحالی کے لئے ملکی خزانہ اور وسائل لوٹتے رہے۔ ہر دوست ممالک سے ملک کی معاشی زبوں حالی کارونا رو کر مالی اعانت حاصل کرتے رہے ۔ بے شمار حقائق عوام کے سامنے نہ آ سکے۔ انہوں نے یہ سب کچھ کھایا۔اور پیا، اور ڈکار تک نہ لیا۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف سے بڑے بڑے قرضے حاصل کئے۔ کلی اختیار رکھنے والے یہ حکمران لوٹ کھسوٹ کرتے رہے۔ اسمیبلیوں میں بیٹھ کر اس کے حصے بخرے کرتے رہے۔ اور پاکستان میںاپنی اپنی ریاستں، ملیں،اور کوٹھیاں، محل ، کارخانے، کاروبار، تجارتی منڈیاں، کاریں، اور ذاتی ملازمین بڑی خوش اسلوبی سے ترتیب دیتے ۔اور اپنی اپنی ریاستوں کی حکمرانی کوخوب قائم و دائم رکھتے چلے آرہے ہیں۔ انہی سرکاری حیثیتوں کی بنا پر انہوں نے بیرون ملک بھی ہرقسم کے کارخانے، اور کاروبار قائم کر رکھے ہیں۔عوام ان کے ہر گھناؤنے ،معاشی اور معاشرتی ظلم کی آگاہی تک سے آشناء نہیں ہو پاتے۔ ان کو ٹیکسوں، بلوں اور مہنگائی کے خوفناک پھندوں میں کستے جکڑتے اور مشکیں کستے رہے ہیں۔ ان کامعاشی استحصال بڑی بے رحمی سے کرتے رہے۔ ان معاشی قاتلوں ظالموں، ناانصافوں ، اور لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کے ایام اب
پورے ہو چکے ہیں۔ ان دس بارہ ہزار خاندانوں سے حساب چکانے کاوقت اب آ گیا ہے۔ آپ ان کا احتساب امانت داری، اور دیانت داری سے کریں۔ ان کے حاصل کئے ہوئے یہ سب قرضے ملک و ملت کی امانت ہیں۔ ان سے انہوں نے یہ سب کچھ بنایا۔ مزدوروں کا معاشی قتل کیا۔ اور ان کی محنت نہ ہونے کے برابر ادا کی۔ دو نمبر کھاتے تیار کرکے ٹیکسوں کی ادائیگی نہ کی۔ بجلی، گیس کی چوری کے مرتکب ہوتے رہے۔ اس بدعملی کی آبیاری سے یہ خوب پھلتے پھولتے رہے۔ ان کے پاس جو کچھ ہے۔ وہ سب کچھ ملت کی امانت ہے۔ ان سے یہ خزانہ لوٹا ہوا واپس لینا صاحب اقتدار کی ڈیوٹی کاحصہ ہے۔ آپ ان کا نیک نیتی سے احتساب کریں۔ اور لوٹاہوا خزانہ ہر ظالم اور جابر سے واپس لیں۔ان کی ملوں،فیکٹریوں اور جاگیروں میں مزدوروں، محنت کشوں کامعقول حصہ مقرر کریں۔ اسی فی صدی کسانوں پر مشتمل دیہاتیوں کی طرف پوری توجہ دیں۔ انہیں تمام ضروری سہولتیں مہیا کریں۔ تاکہ وہ محنتی، جفاکش ،نیک دل لوگ اس ملک کی قسمت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ آپ کے اس عمل کے صدقے کم از کم نوے فی صد عوامی مینڈینٹ آپ کی زندگی میں آپ کاہو گا۔ اور سو فی صدی جبتک دنیا قائم رہے گہ۔ آپ کانصیب بن چکاہو گا۔ ایسے عمل کی تکمیل کے لئے مخلوق خدااور بزرگان دین کیطرف سے پیشگی مبارک باد قبول کیجئے۔


۳۸۔ سب اہل اقتدار اور حکمران اپنے دور میںایسی بے حسی، بیرحمی، غفلت ، کوتاہی، اور غیر ذمہ داری کا کھیل کھیلنے میں مصروف رہے ہیں۔ اپنی تعمیرات، اپنے محل، اپنی ملوں، کارخانوں، کاروبار، اور ذاتی مفادات کے لئے اپنی سرکاری حیثیتوں کا فیض حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ عدلیہ اور انتظامیہ کو اپنے تحفظ اور فوائید کے لئے استعمال کرتے رہے۔ غربت،افلاس، ظلم، ستم، قتل و غارت ، دہشت گردی کا کلچر، ان کے زیر نگرانی پھلتا پھولتاچلا آ رہا ہے۔ اور وہ اس کے تدارک سے بے نیازرہے۔ وہ ضروریات اور خواہشات کی تکمیل کے عذاب میں دندناتے ، ناچتے اورکودتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تمام کردار صف ہستی سے مٹتے اور ابھرتے رہے ہیں۔اور اپنے اعمال کی عبرت سے بچ نہ سکے۔ وہ اقتدارحاصل کرنے کے لئے درویشوں، فقیروں کے در پر سائل بن کرآتے جاتے رہے۔ اورکبھی دعا دینے والے سائل بن کران کے دروازوں پر دستک دیتے رہے۔ کہ خوف خداکرو۔ اور مخلوق خدا کی عافیت او ر خیریت کے فرائض دین کی روشنی میں ادا کرو۔ حضور اکرم ﷺ کے ویسلے اور واسطے سے دعاکرو۔ شریعت محمدی ﷺ کانفاذ کرو۔ اپنی کوہتاہیوں پرندامت کے آنسو بہاؤ ۔ فریاد، آہ ، تڑپ ۔ بیداری یہ سب روح کے سوز کے ساز ہیں۔ ذرا ان کو چھیڑو ۔ زندگی میں انقلاب برپا ہو گا۔ تنہائی میں بات کرو۔ قدر ت جواب دے گی۔ اور رہنمائی کرے گی۔یہ دنیاماتم کدہ ہے۔ اس ماتم کدے میں صاحب بصیرت شنہنائیاں نہیں بجاتے۔ بلکہ عجز و انکساری سے اپنی ذمہ داری خوف خدا کی روشنی میں ایمان داری اور دیانتداری سے نباہتے اور ادا کرتے ہیں۔ صاحب اقتدار چاہے وہ امیر ہوں یا جاگیردار۔ ان میں بھی خوف خداکے وارث اورپاک طینت لو گ موجود ہوتے ہیں۔ اوران کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اس نظام اور سسٹم سے ان کے دل بھی بیزار اور نفرت کرتے ہیں۔ یہ پیغام ان نیک دل انسانوں تک پہچانا بھی واجب اور ضروری ہے۔ سچائی ایسے لوگوں کو اپنا ہم سفر اور اپنا ذاکر بنا لیتی ہے۔ حق کا متلاشی جب اس مقدس سفر پر نکلتا ہے۔ توفطرت کے حسین روپ اور دلکش نظارے اس کی روح اور احسا س پر فدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ لذت آشنائی کا ذائقہ اور خوشبوئے محمدﷺ اس کی روح کو معطر اور مقدس
کرتی چلی جاتی ہے۔ وہ کائنات میں خیر کاداعی ، اور انسانیت کی بہبود کا ضامن بنادیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حاکم وقت اور ایسے نیک دل صاحب اقتدار لوگوں اور ملت اسلامیہ کو ا س درس گاہ کا حقیقی طالب علم بنا کر شریعت محمد ی ﷺ کے اعلیٰ و ارفع نظام کو قائم اور دائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
۳۹اہل دانش، اہل حکمت، دید ہ وروں، اہل قلم، عزیزوں، دوستوں، بھائیوں سے ملتجی ہوں۔ کہ وہ درج ذیل سوالات کو پڑھیں۔پرکھیں اور اپنے فیصلوں سے ملت کی رہنمائی کریں۔
۱۔ کیا یہ جمہوری نظام اسلامی نظام کا نعم البدل ہے؟
۲۔ کیا جاگیرداروں ، وڈیروں، اور سرمائے داروں پر مشتمل جمہوریت کے جاہل پادری ہی دین اسلام کے وارث یارہبر بن سکتے ہیں۔؟
۳۔ جمہوری نظام کے تحت نمائندہ چننا او ر مجلس شوری کا نمائندہ چننے کا طریقہ کار ایک دوسرے کے قریب ترین ہے۔ مگر کیااسلام اور کفر کی حدیں ایک دوسرے کے قریب ترین نہیں؟ لیکن پھر بھی اسلام، اسلام ہے ۔اور کفر کفر ہے۔ اس کی وضاحت عالم دین ، درویش، یا کسی فقیر کے ماننے والے بہتر جانتے ہیں۔ یہ سب مل کر اس نکتہ کی وضاحت کریں ۔کہ جمہوریت اور اسلام میں کیا تعلق ہے اور کیا دوری ہے؟
۴۔ یہاں یہودیوں کا معاشی نظام ، عیسائیوں کا جمہوری، ہندو ازم کا برہمنی نظام اسلام کے جھنڈے تلے پاکستان کے مسلمانوں پر اجتماعی طور پر ملکی قوانین اور ضوابط کو سرکاری حیثیت دے کررائج الوقت کرنے سے ملت کا تشخص کون سا تیار ہو گا۔ یہودی ہو گا۔ عیسائی ہو گا، یا ہندو ہو گا ، یا ملت کا کریکٹر ان تینوں کا مکسچر ہو گا؟
۵۔ کیا پاکستان صرف اسلامی تعلیمات پ٘ڑھنے پڑھانے سننے اور سنانے کے لئے معرض وجود میں لایا گیا تھا؟
۶۔ کیااسلام ایک مکمل ضابطہ حیات نہیں رکھتا؟ انسانوں کا اسمبلیوں کے اندر قوانین و ضوابط تیار کرکے ملک چلانا اللہ تعالیٰ کے خلاف کھلم کھلابغاوت ہے یا نہیں؟
۷۔کیا ملک کا یہ اسمبلی ہال جس کے دروازہ پر کلمہ شریف درج ہے۔ اور اس کے اندر یہودیت، عیسائیت ، اور ہندو ازم کے زیراثر عملی زندگی نافذالعمل کرنے کے قوانین و ضوابط تیار کئے جائیں۔ اور پاکستان کے مسلمانوں پر ان کو لاگو کیا جائے۔ عمل تمام غیر اسلامی اورنام مسلمان، تمام اہل وطن کے لئے یہ لمحہ فکریہ۔ کہ اس طرز حیات کو اپنانے کے بعد و ہ مسلمان کہلا بھی سکتے ہیں۔ یا نہیں ؟
۸۔ کیا جمہوریت کے باطل بطن سے پیدا ہونے والے نمائندے اور ان نمائندوں پر مشتمل یہ تمام اسمبلیاں جو یہودیت، عیسائیت، اور ہندو ازم کے طریقہ کار اور ان کی روشنی مین ملکی نظم و نسق کا ڈھانچہ تیار کرنے اورملت اسلامیہ کو اس ڈھانچے میں ڈھالنے کا باطل نظام مسلمانوں پر قانونی طور پر رائج کریں۔ اوریہ چودہ پندرہ کروڑ مسلمانوں کو یہودیت، عیسائیت اور ہندو ازم کی تعلیم اور عملی زندگی کو ملکی قانون اور آئین کاتحفظ دے کرمعاشی، معاشرتی اورانتظامی امور کے تحت حکمرانی کریں۔ کیا ان میں ملت اسلامیہ کااپناتشخص تیار ہوسکتا ہے۔ کیا مسلمانوں پر اس نظام کی پیروی کرناجائزاور واجب ہے؟

۹۔ مسلمان ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان کی سرزمین میں سجدہ ریز ہوئے۔ انہوں نے اپنے گھر، زمینیں، جائیدادیں، کاروبار، مال و جان، وطن ، ماں باپ، بزرگوں کی قبریں، اپنی ماں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں، عصمتوں کی قربانیاں، قافلوں پر حملے اور قتل عام۔ لاکھوں، شہادتیں، سفر کی طویل صعوبتیں، اذیتیں، بھوک ، نوجوان، ماؤں، بہنوں بیٹیوں کے چھن جانے اور ہندوؤں اور سکھوں کے یرغمال بنا لینے کے گھناؤنے زخم کھائے ۔ کیا ان جاگیرداروں ، سرمایہ داروں کی بدقماشی ،بدمعاشی اور اس باطل جمہوریت نظام حکومت کو قائم اور اس کی پیروی کرنے کے لئے یہ سب قربانیاں دی تھیں۔یا اسلام کے نفاذ کے لئے؟
۱۰۔ کیا یہ مسلمانوں کے ساتھ سازش اور دین کے خلاف عملی بغاوت نہیں، کیاان ہزار بارہ سو ممبران کو چودہ پندرہ کروڑ کی عملی اور دینی زندگی کو ختم اور مفلوج کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔کیا یہ ملکی نظام اور انتظامی مشینری،ادارے اور عدلیہ کے تمام منصف ان کے تیار کردہ اور رائج کردہ قانونی شکنجوں کی اطاعت میں جکڑے ہوئے بے بس، مجبور اور مظلوم نہیں ۔ کیاان کی روحیں اسلام کی معطر فضا میںسانس لینے کے لئے بے تاب نہیں۔ کیا یہ عدل و انصاف اور اس کافریضہ شریعت محمدی ﷺ کی روشنی میں بجا نہیں لا سکتے؟
۱۱۔ ملک میں جمہوریت کے سودائیوں، فدائیوں کی لوٹ کھسوٹ ، ظلم، زیادتی ، ناانصافی، ملکی وسائل پرغاصبانہ قبضہ، عوام الناس کا معاشی قتل، کوٹھیاں ، محل ، عشرت کدے، جاگیریں، ملیں، کارخانے، ہیبت ناک بلڈنگوںپر مشتمل دفاتر، بڑی بڑی گاڑیاں، ہیلی کاپٹر، جہاز، ٹیلیفون، کیمشنیں، رشوتیں، سمگلنگ، اندرون ملک بیرون ملک بینکوں میں بے حساب ڈالر، ہارس ٹریڈنگ، سنگدلی،درندگی، حق تلفی، عدل کشی، بینکوں سے قرضوں کاحصول اور ان کی معافیاں، اقتدار کے جوڑ توڑ میں ملکی خزانہ کی لوٹ سیل، ملک کو توڑنے کے مجرم اور ان کی ہر قسم کی بدعنوانیوں، بدقماشیوں اور بدمعاشیوں سے بھرے ہوئے نظام کو مزید قائم رکھنا صوبوں میں اقتدار اور نفرت کی جنگ جاری رکھنا، اور ملک کے مزید ٹکڑے کرنے کے عمل کو جاری رکھنا مناسب ہو گا یا نہیں۔ کیاسپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب ان بد اعمال، بدکردار، خود غرض، اور ملکی سلامتی کے خلاف گھناؤنا کھیل کھیلنے والے سیاست دانوں کے خلاف از خود کوئی کاروائی عمل میں لانے کے پابند ہیں یا نہیں؟
۱۲۔ یہ ہوشیار، مکار، اور شاطر سیاستدان عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اس کی خواہش اور طلب کی دھڑکن کو چیک کرتے ہیں۔ عوام الناس کی کمزوری اور رحجان کو اپنا سیاسی نعرہ یا ماٹو ( Moto ) بناتے ہیں۔ کبھی روٹی کپڑے کانعرہ، کبھی سوشلزم کا، اور کبھی اسلامائزیشن کانعرہ الیکشن جیتنے کے لئے معرض وجود میں آتے رہے۔ جتنا بڑامینڈیٹ موجودہ حکمرانوں کو اسلام کے نفاذ کی خاطر ملا ۔ اس کی مثال پاکستان کی ہسٹری میں موجود نہیں۔ وقت تیزی سے گذر رہا ہے۔ وعدہ ابھی تک پس پشت پڑا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے۔کہ حکمرانوں نے اسلامائزیشن کا صر ف وعدہ کیا تھا ۔ ابھی وعدہ پورا کرنے کا وعدہ شائید نہیں کیاتھا۔ ان کو وقت کے عبرت کدے میں اتنی من مانی اور وعدہ خلافی کرنا مناسب نہیں ۔ یہ لوگ قابل معافی تو نہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان پررحم کرے۔ اور انہیں توفیق عطا کرے۔ ویسے بھی اتنا بڑا مینڈیٹ جو عوام نے اسلامائزیشن کے لئے حکومت وقت کو دیا ۔ اس عہد کا پورا کرناان کا فرض ہے کہ نہیں؟
۱۳۔ملک میں اسلامی نظام رائج الوقت کرکے اسلامی تشخص کو دنیائے عالم میں روشناس کرانا، رحمت اللعلمین ﷺ کا درس، تعلیم، تربیت
ہی بنی نوع انسان کو محبت، اخوت، پیار ، ادب ، خدمت، صبر، تحمل، بردباری، درگزر، عفو، عدل و انصاف اور خوف خدا سے تیار ، خوب صورت لطافتوں اور دل کش نفاستوں سے سینچا ہوا اعتدال پر مبنی معاشرہ اور انسانی فطرت کے مطابق رحمتوں اور برکتوں سے بھرپر فضا اور ماحول پوری انسانیت کوسورج کی کرنوں کیطرح اپنی روشنی میں سمیٹ لینے کے لئے طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیا مسلمانوں کو اور پوری انسانیت کو اس الہامی فیض سے محروم رکھنا مناسب ہے۔٘ فیصلہ عوام اور حاکم وقت کریں کہ انہوں نے اپنی عاقبت کو کسطرح کا انجام دینا ہے؟
۱۴۔ ہمیں کسی مذہب، ، کسی عقیدے، کسی ملک کے طریقہ کار سے کوئی اختلاف نہیں۔ وہ اپنے اپنے ملکوں میں اپنے طریقہ کار کو بڑی خوشی سے اپنائیں۔ ہمیں اعتراض کرنے کاکوئی حق نہیں۔ ہمیں تو اپنے مذہب کے دستور کے مطابق زندگی گذارنے اور اسلامی تشخص تیار کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔معاشرے کی تشکیل حکم خداوندی کے ابدی اصولوں کے تحت ہونی چایہئے۔ تاکہ ہر کس و ناکس کو دین کے ثمرات سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔ کیا ایسا کرنا بہتر ہو گا یا نہیں ؟
۱۵۔ کیا دین حنفی، مالکی، حنبلی ، اہل حدیث، اہل قران ، سنی یا شیعہ ہے۔ جس دن یہ حکم آیا۔ کہ ( آج دین مکمل ہو گیا ہے) دین کی اطاعت وہاں سے شروع کر یں اور نافذ کریں۔ یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ کہ ان تمام بزرگوں میں سے کسی بھی فرقہ بند ہونے کی اجازت نہیں دی۔ یہ ہماری ناقص العقلی اور ان طیب ہستیوں کی تعلیمات کے متضاد ضدوں کے تصادم ہماری جہالت کا سبب بنا ہے۔ اور ان نیک ہستیوں کو بت بنا لیا ہے۔ اس خود ساختہ جہالت سے بالا کر ہو کر اسلام نافذ کریں۔ ان تمام پاک اور طیب ہستیوں کو درجہ بدرجہ بڑے ادب کے ساتھ سلام پیش کریں۔ کیاایسا کرنے سے ملک میں کسی قسم کاانتشار باقی رہ سکتا ہے؟
۱۶۔ کیا اسلام میں چور، ڈاکو، دہشت گرد، ظالم ، بدکردار، غاصب، جاہل ، کرپٹ، کمیشن خوروں کو مسلمانوں یا نیک ، صالح ، پرہیزگار ، متقی اور رزق حلال کے متلاشی لوگوں کا حکمران چنا جا سکتا ہے۔ کیاایسے حکمرانوں کی اطاعت کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
۱۷۔ کیا اس یتیم اور مسکین ملک (پاکستان) کو چچاؤں اور تاؤں کے ظلم سے نجات دلانا ان کے آہنی شکن جو کو توڑنا چودہ پندرہ کروڑ کلمہ گوؤں کو ان بھیڑیوںسے چھڑانا ۔اور ان کی وراثت اور ان کا حق واپس دلانا۔ اور ان خونی درندوں اور خرکاروں کے سسٹم سے ملت اسلامیہ کو نجات دلانا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ نہیں۔
۱۸۔ کیا یہ ٹھیک ہے کہ دولت کا نقصان کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ صحت کانقصان ایک چھوٹا اور ہلکا نقصان ہے۔ اور کریکٹر و کردار کانقصان ایسا نقصان ہے۔ کہ جس کی کوئی تلافی نہیں۔کیا ملک کا غیراسلامی نظم و نسق چلانیکاطریقہ کارانفرادی زندگی سے لے کراجتماعی زندگی تک کریکٹر و کردار تشکیل و تکمیل نہیں کرتا۔ کیا اس سسٹم نے ملت کو کینسر کی جان لیوابیماری میں مبتلانہیںکررکھا۔ کیا اس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟
۱۹۔ ملک میں دو مارشل لا حکومتیں وجود میںآئیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آ سکی۔ کہ اس نظام اورسسٹم میں ہرقسم کی برائی کی گنجائش اورآفرینش ہوتی رہتی ہے۔ شرعی نظام سے انہوں نے بھی پرہیز کیا۔ اور کیاوہ بھی اقتدار سے لے کرزوال تک سفر کرکے فارغ نہیں ہو
گئے؟
۲۰۔ کیا ملت ان سیاستدانوں کی اقتدار کی جنگ میںملک میں مزیدانارکی اور قتل و غارت، کادائرہ وسیع کرنا چاہتی ہے۔ یا ملک میں تیسرا مارشل لانافذ کرانا چاہتی ہے۔ اب ان سیاست دانوں نے اگر ملت کے د کھوں کا مداو ا نہ کیا تو تیسرامارشل لاء ملک میں غیض و غضب کا مارشل لا ہو گا۔وقت سے پہلے وعدہ ایفا کر دیں۔ تاکہ ناگہانی آفات سے ملک و ملت محفوظ رہیں۔ کیا ایسا کرنا ملک وملت اور صاحب اقتدار کے لئے بہتر ہو گا یا نہیں؟
۲۱۔ ان حکمرانوں نے ملت اسلامیہ کو جماعتوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اسکا شیرازہ بکھرتا جا رہا ہے۔ صوبائیت کی سرد جنگ صوبوں میں جاری ہو چکی ہے۔ مشرقی پاکستان جیسی فضاء پیدا کی جارہی ہے۔یاد رکھو۔ صرف مسلمانوں کو کلمہ شریف ہی مرکزیت عطا کر سکتا ہے۔ ملت کا یہ بگڑا ہوا کام سنوارنا دنیا اور آخرت کے لئے بہتر ہو گا یا نہیں؟ حضور داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے ہندوستان مین تبلیغ کی۔اور یہاں مسلمان پیدا کئے۔ علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے لئے الگ ملک کا تصور (پاکستان) دیا۔اور قائم کیا۔ تبلیغ اسلام کرنے والی ہستیاں اور کلمہ پڑھانے والے تو مستند فقیر ہوئے۔ ان مسلمانوں کے لئے جو گھر بنائے۔ یعنی پاکستان۔ وہ کون ہوں گے۔ یقیناوہ بھی فقیروں کو ماننے والے یعنی فقیر،اور جو اس ملک میں اسلام نافذ کرے گا وہ کون ہو گا۔ یقینا وہ بھی فقیر ۔فقیروں کا ماننے والا غلام ہی ہو گا۔ اور جو اس کارخیر میں حصہ لیں گے۔ یقینا وہ بھی اسی گروہ کے رکن ہوںگے۔زندگی کے بعد نام روشن کرنے والاچراغ ہمیشہ زندگی میں ہی جلایا جاتا ہے۔ کیا آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟
۴۰۔ ان سوالات کی روشنی میں ہرمحب وطن انسان کا فرض بنتا ہے۔ کہ وہ حقائق کو پرکھے، سمجھے اور احسن طریقہ سے اس گھتی کو سلجھانے کی عملی کوشش کرے۔ تاکہ ان بدبخت بدقماش، بدمعاش سیاستدانوں سے نجات پا سکیں۔ ان سب کا احتساب کرنا نہائت ضرور ی ہو چکا ہے۔ ہر آدمی کی یہ سوچ ہے۔ کہ اس ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سائنسدان ، انجینر ڈاکٹر، حکیم، طبیب، زراعت کے ماہرین، یعنی ہرشعبہ کے نامور ذہین اور فطین لوگ غلاموں جیسی اذیت ناک زندگی سے دوچار ہیں۔ ملک کا پڑھا لکھا طبقہ ان جاہل بدنصیب حکمرانوں کی گرفت میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ جبتک ملک سے یہ سسٹم ختم نہیں کیا جاتا۔ اس وقت تک ہرقسم کی ناانصافی اور ظلم کادور جاری وساری رہے گا۔ اور ملک کے چودہ پندرہ کروڑعوام اسی طرح محکوم مفلوج اور بے بس رہیں گے۔ اس سسٹم میں نہ کوئی ان کوروک سکتا ہے۔ اور نہ ان کی من مانی پالیسیوں میں مداخلت کرسکتا ہے۔ وہ ان کے باون (۵۲) سالہ غیر فطرتی سیاسی کھیل کا المناک شکار بنتے آ رہے ہیں۔
۴۱ملک میں اسلامائزیشن رائج نہ کرکے ملت کا کریکٹر ، کردار، اور روپ جو اقوام عالم کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ و ہ ہرگزہرگز ایک مسلمان کا کریکٹر نہیں ہے۔اگر مسلمانوں کا کریکٹر ۱۹۴۷ ء سے لے کر اب تک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پنپتا اور جوان ہوتا ۔ تو آج اقوام عالم کے لاتعداد انسان دائرہ اسلام میں از خود داخل ہو جاتے۔ پاکستان انسانیت کا گہوارہ بن گیا ہوتا۔ وہ پوری دنیا میں انسانیت کا علمبردار ہوتا۔ انسانی قدروں کی ان گنت خوبیوں ، اخوت، مہر و محبت، ادب و اخلاص، بھائی چارہ، درگذر، عفو، خدمت، سچائی ، عزت و احترام کے جذبوں کا بہترین شاہکار پیش کرتا ۔ دنیا میں حق سچ کی پاسداری قائم ہو چکی ہوتی۔ مسلمانوں کی زبوں حالی کاتصور بھی نہ کیا
جاتا۔ کردار اور اخلاق کا حسین امتزاج پیدا کرکے پاکستان انسانیت کی امامت کا رول ادا کر رہا ہوتا۔
۴۲۔ بدقسمتی سے پاکستان کی عوام بالخصوص اور ملت اسلامیہ سے بالعموم ایک بہت بڑا فراڈ اور دھوکہ ہو گیا۔ ملکی اقتدار جمہوریت کے بدکردار وحشیوں کے ہاتھ لگ گیا۔ انہوں نے پورے ۵۲ سال میں اپنے دور اقتدار میں لوٹ مار کے تمام حربے استعمال کئے۔ ہر قسم کی معاشی اور معاشرتی برائی رائج کی۔ ملک کے تمام سرکاری ادارے، انتظامیہ، عدلیہ، اور معاشرے کے ہر شعبہ کو کرپٹ اور بدکرداری کی بنیادوں پر کھڑا کیا۔ معاشی اور معاشرتی عدل کشی کو ماحول اور معاشرے میں عام کیا۔ کوئی ایک عمل بھی قابل تقلید پیدانہیں ہونے دیا۔ بیرون ممالک تجارت میںدھوکہ دہی سے کام لیا۔ دو نمبر کا کھاتہ کھول دیا۔ سیمپل اور نمونہ اچھا پیش کرنا۔ اور سٹاک غیر معیاری بھج دینا ان کا معمول بن گیا۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کے عوام کو بری نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ ان بد عملیوں کی وجہ سے پاکستان کو دنیا کی بد ترین، بدکردار اقوام کا ہیرو بنا دیا گیا۔ ان دس بارہ ہزار خود غرضوں ، غاصبوں، ڈاکہ زنوں، لٹیروں، اور نااہلوں نے اسلام کی روح کو مسخ کر دیا۔