To Download or Open PDF Click the link Below 

 

دین کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی کردار سازی کا آغاز
عنایت اللہ
ملت اسلامیہ اس دور کے ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ جہاں مصائب اور آلام کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیر ا ہے۔ حالات و واقعات کی گھناونی بجلیاں اس پر گرجتی، گرتیں اور ہر وقت اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہیں۔ ان عبرت ناک اذیتوں نے پوری ملت کا انحطاط کر رکھا ہے۔ کبھی بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام ، کبھی چیچنیا میں جدید ترین اسلحہ سے انسانی زندگیوں ، بستیوں کی مکمل تباہی ، کبھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملے، کبھی امریکہ کی عراق پر بمباری، کبھی ہندوستان کی سات لاکھ فوج کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور مسلمانوں کا قتل عام ، کبھی افغانستان پر امریکہ کے راکٹوں کے حملے ، کبھی لیبیا دہشت گرد، کبھی ایران دہشت گرد، کبھی افغانستان دہشت گرد، کبھی کشمیر دہشت گرد اور کبھی پاکستان دہشت گرد۔کبھی مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش ، کبھی انڈونیشیا کا حصہ عیسائیوں کی ملکیت، کبھی قبلہ اوّل پر یہودیوں کا قبضہ ، کبھی خانہ کعبہ پر مرحلہ وائز امریکہ کا قبضہ، اس وقت ملت اسلامیہ کمزوری ، ضعیفی ، مجبوری ، بے بسی اور بے کسی کی ذلالت کا زہر بڑی اذیتوں سے نگلنے پر مجبور ہے۔
اس وقت بھی پندرہ کروڑ مسلمان ہندوستان میں کسمپرسی کی حالت میں موجود ہیں۔ یعنی ایک اورپاکستان ہندوستان کے اندر موجود ہے۔ لیکن وہ ان کو کرش کرتا چلاآرہاہے۔ ظلم وبربریت کا عمل ان پر جاری ہے۔ کشمیر میں ہندوستان کی سات لاکھ فوج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے۔ لیکن وہ آزادی کی آگ کو بجھا نہیں سکی۔ اسرائیل پچھلے ۵۰ سال سے فلسطینیوں کا قتل عام اور ہر قسم کا ظلم و تشدد کررہا ہے۔ لیکن ان کی تحریک کو کچل نہیں سکا۔ یو۔این۔او اور دنیا کی بڑی طاقتیں ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ قتل و غارت اور ظلم کا یہ گھناو نا عمل مسلمانوں پر جاری ہے۔ قبلہ اول ۵۶ مسلم ممالک اور کروڑوں مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کے حل نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ سوائے اس کے کہ مسلمان مجموعی طور پر نفاق، نفرت ، گمراہی اوربد کرداری کا شکار ہیں۔ دین سے دُور ہوچکے ہیں۔ مل بیٹھ کر ان کو جہالت کا راستہ ترک کرنا ہوگا۔ دین کی روشنی میں ملت کی کردار سازی کا فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ اتحاد بین المسلمین قائم کرنا ہوگا۔حرم کی پاسبانی کے لئے ایک مرکز پر اکٹھا ہونا ، ان کی مجبوری بن چکا ہے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کی نگاہیں پاکستان کی طرف لگی ہوئی ہیں ۔ پاکستان کی حالت یہ کہ چند افراد ہر مشتمل جاگیر دار، سرمائے دار، افسر شاہی ، منصف شاہی،نوکر شاہی کا یک فیصد سے بھی کم غاصب ٹولہ جو ملک و ملت کے اقتدار پر قابض ہو کر دین کی نظریاتی سرحدوں کو تہس نہس کر چکا ہے۔ ملت کے کردار پر کرپشن ، رشوت، کمیشن، اور ہر قسم کے تباہ کن معاشرتی ضوابط اور دلسوز معاشی تفاوتی طرز حیات کو مروج کر کے مسلمانوں کی کردار ی قوت کو ریت کی دیوار بنا چکا ہے۔ اقتدار اور اختیارات کا جھولا جھولنے والے ملک کے تمام قومی اداروں پر بالا دستی قائم کرچکے ہیں۔ جمہوریت کے نظام کی بے حرمتی اور اس کو ظالمانہ طرزحیات میں ڈھال رکھا ہے۔ استصواب رائے کا ووٹ اسلام نافذ کرنے کے لئے حاصل کرتے ہیں اور حکومت غیراسلامی ، عیاشی اور فحاشی کی بنیادوں اور انسانیت کش قانونوں اور اصولوں سے چلاتے ہیں۔

 

 یہ دھوکہ باز سیاستدان عوام الناس کی عدالت میں قومی مجرم ہیں۔ ان کے خود ساختہ باطل نظام اور غاصب سسٹم کے شکنجے ۱۴ کروڑ عوام کو زندہ رہنے کے لئے معاشی اور معاشرتی سانس تک نہیں لینے دیتے۔ کسان گندم، چاول، گنا، کپاس وغیرہ پیدا کرلیں تو مارکیٹ ڈا۔ون ۔ خریدار ناپید، اور غائب، کسان بھوکا، ننگا، پیاسا اور بد حال۔ یہ اجناس کے سونا اور چاندی کو ماٹی میں بدلنے والے کیمیا گر اپنے بھیانک فن کا مظاہرہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ اگر اگلے سال وہ فصل پیدا نہیں کرتا، تو کروڑوں ڈالرز کی بنیادی اجناس بیرونِ ممالک سے خرید کر نے پر قومی نقصان، پھر بھی محنت کش ، کسان ، ہنر مند اور مظلوم عوام الناس کے لئے ٹیکسوں اور مہنگائی کی نائٹروجن تیار۔ رشوت ، کمیشن ، کرپشن اور بد کرداری میں ملوث انتظامیہ ، عدلیہ اور وڈیرے ۵۳ سالوں سے ملک میں انارکی ، لوٹ مار، قتل و غارت اور ملک کو معاشی قتل گاہ بناتے اور ہر قسم کا مانگ اور سپلائی کا تفاوت کا یہ کھیل کھیلتے چلے آرہے ہیں۔
اقتدار کی نوک پر ملک کے وسائل ، خزانہ، ملکی غیر ملکی امداد، ہرقسم کے قر ضے، آئی ایم ایف کے قرضے، اس کے علاوہ عشر ، زکوٰۃ ، انگنت ٹیکسوں سے چھینی ہوئی دولت اور پٹرول، گیس، بجلی، ٹیلیفون اور بے شمار اشیاء پر اضافوں سے اکٹھا کیا ہوا مال غنیمت کو ہضم کر نے والا یہ سرکاری دہشت گرد ٹولہ اپنے بے پناہ جرائم کی زد میں آچکا ہے۔ یہ استحصالی طبقہ اپنے اپنے ذاتی پاکستان کی خوشحالی کے کلچر کو اپنائے بیٹھا ہے۔ چودہ کروڑ عوام ان چند وڈیروں اور لاتعداد غیر ضروری سرکاری رہزنوں اور ان کے سٹم سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان چند عیاشوں کی عیاشی کے لئے بے پناہ ٹیکسوں، مہنگائی اور ان کی لوٹ مار کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔ عوام الناس نے اس ظالم غیر منصفانہ ، غیر عادلانہ کلچر یعنی ٹیکسوں اور مہنگائی اور ان خونخوار معاشی درندوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہرا ہل وطن کا ان سے نجات حاصل کرنا فرض بھی ہے اور مجبوری بھی ہے۔
کوئی صالح اور دین دار حکمران بھی اس رائج الوقت نظام اور سسٹم کے پھندوں اور اس کی کرپٹ ، رشوت خور اور افسر شاہی ، بریف کیس مافیہ میں ملوث منصف شاہی اور ان کی گمراہ کن مرتب کردہ عوام دشمن پالیسیوں کی پھانسیوں سے سسک سسک کر ذلیل موت تو مر سکتا ہے۔ ان کی ملک میں پھیلی ہوئی لاتعداد غیر ضروری فوج اور ان کی شاہی تنخواہوں ، شاہانہ سہو لتوں کے معاشی قتل سے انہی کے ہاتھوں اور انہی کے مرتب کردہ نظام اور سسٹم کے تحت ملت کو تحفظ کبھی فراہم نہیں کرسکتا، نہ اپنی عاقبت ان سے بچا سکتا ہے اور نہ ملت کو نجات دلا سکتا ہے۔ وہ حکمرانوں اور عوام کو آپس میں الجھا کر ان کو اقتدار سے الگ کروا دینا ان کی اپنی اور اپنے نظام اور سسٹم کی بقا کے لئے ضرروی ہے۔ اس وقت احتساب سے بچنے کے لئے ان کی پوری ہمدردیاں سیاستدانوں یعنی ماموں جانوں سے وابستہ ہیں ۔ وہ اپنی سرکاری حیثیت اورپاور کو اپنے مفاد کے لئے تو استعمال کر سکتے ہیں اپنے خلاف کبھی نہیں۔ بڑی بد قسمتی کی بات ہے انہوں نے لوٹے ہو ئے ملکی وسائل اور قرضے سیاستدانوں اور کرپشن ، کمیشن ، رشوت سے اکٹھا کیا ہوا مال افسر شاہی کے اپنے ساتھی لٹیروں اور رہزنوں سے واپس لینے کی بجائے حکمرانوں کا رخ قرضے اتارنے کے لئے ٹیکسوں اور بلوں میںاضافوں کی طرف موڑ کر فوجی حکمرانوں اور عوام کے دلوں میں نفرت کی جنگ شروع کرانے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ابھی وقت ے کہ فوجی حکمران حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اس کا فوری تدارک کریں۔ ورنہ حالات ان کے قابو سے باہر ہوجائیں گے ۔ ورثہ میں ملے ہوئے اس نظام اور سسٹم کو اسلامائزیشن کا غسل دے دو۔ گھوڑا بھی بچ جائے گا اور سوار بھی۔ لوٹا ہوا ملی خزانہ بھی واپس ہوگا اور ان کا خاتمہ بھی۔ پوری ملت احکام الٰہی کی پابند اور دین کی روشنی میں سادہ، سلیس ، مختصر، قلیل ضروریات والی زندگی اپنانے والے باطل کش رہنما اور قلیل ایماندار سرکاری اہلکار وں کو نظام حکومت سونپنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ جن کی ضروریات زندگی ایک کسان ، محنت کش، ہنر مند اور عوام الناس کے قریب ترین ہوں۔ عوام ۹۷ فیصد ملکی خزانہ اور قرضے چاٹنے والی کرپٹ انتظامیہ اور ظالم عدلیہ اور بے رحم سیاستدانوںسے مکمل نجات چاہتے ہیں۔ اور ملت حضور کے میخانے سے مستئی جام پینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ملکی نظام چلانے کے لئے چندپاکبازوں کی ضرورت ہے۔ اسلامائزیشن سے متعلقہ ہم خیال لوگوں کو جمع کرو۔ اللہ کی نصرت کو پکارو اور عوامی طاقت کو اکٹھا کرو۔ شریعت محمدی کا نفاذ کرو، انشاء اللہ کامیابی قدم چومے گی۔
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے اس سے قبل میں نے ایک کتاب۔ ۔"آئینہ وقت "تحریر کی۔ اس میں اکیس نقاط درج ہیں۔ جو ملت اور حکمرانوں کے لئے سراپا سوال بنے کھڑے ہیں ۔ اس کتاب سے خاطرخواہ استفادہ کیا گیا۔ یہ کتاب (صدائے وقت) اسی کتاب کی کڑی ہے۔ یہ قاری پر منحصر ہے کہ اب وہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ مسلمانانِ عالم کوایک پلیٹ فارم پرمجتمع ہو کر یہ سوچنا ہوگا۔ کہ وہ کس طرف جارہے ہیں۔ اور کیا مسلمان اس جمہوری اور غیر دینی نظام اور سسٹم کی وجہ سے اخلاقی طور پر تباہ و برباد اور پسماندہ نہیں ہورہے۔ آؤ ، مل کر سوچیں اور دیکھیں کہ یہ تحر یر بعنواں (صدائے وقت) مظلوموں کی ڈھال اور ظالموں پر گرفت قائم کرنے کے لئے اہل وطن اور عزیز طالب علموں کو بیداری کا پیغام دینے میں کس حد تک کامیاب ہو رہی ہے۔ اٹھو، جاگو اور کروٹ لو، ملت اسلامیہ کوا سلامی اخلاق اور کردار کے سائے تلے جمع کرو۔ دین کی روشنی میں تعلیم کا ایک جدید اور جامع نصاب مرتب کرو۔ تاکہ تمام مسلمان ممالک اپنی اپنی قومی زبان میں اسے اپنے اپنے ملک میں مروج کریں۔ مسلمانوں کے ۵۶ ممالک کی مجلس شوریٰ ترتیب دیں۔ مسلمانوں کے وسائل کو پول کریں اورایک مرکز پر اکٹھا کریں۔ تمام ممالک کو صوبوں کا درجہ دیں، سب کو حسب ضرورت انفرادی قوت اور جدید ہتھیار مہیا کریں۔ حق اور سچ کی بات کریں ۔ ظلم کے خلاف جہاد کریں ۔ انسانیت کے نام پر آئی ایم ایف کے عہدے داروں کو ایک یاداشت پیش کریں یا تو وہ تمام قرضے لینے والے رہزنوں اور ان کی جائیدادوں ، ان کے بینکوں میں پڑے ہوئے ڈالروں اور اثاثوں کو جو ان کے ملکوں میں موجود ہیں، ضبط کرکے اپنی رقوم پوری کریں یا انہیں معاف کریں۔ اس میں پاکستانی عوام کا کوئی قصور نہیں ، دوسرے ملک میں رائج عدل کش نظام اور غاصب سسٹم اور اس کو چلانے والی کرپٹ اور رشوت خور لاتعداد فوج کے کینسر کو فوری طور پر ختم کرکے ان سے نجات دلائیں۔
پاکستانی ملت کو اس کے کان، زبان اور کھویا ہوا شعور واپس کرو۔ انگریزی زبان کی بجائے قومی زبان اُردو کا نفاذ فوری طور پر نافذالعمل کرو۔ انگریزی ، انگریز دانوں اور انگریزی طرز حکومت کے تمام کل پرزوں ایم پی اے، ایم این اے، سینٹروں ، وزیروں ، مشیروں ، وزیراعلیٰ ، گورنروں ، افسر شاہی ، نوکر شاہی ، منصف شاہی کے پھیلے ہوئے کینسر کو ختم کرو۔ ملکی وسائل اور خزانہ محفوظ کرو۔ رشوت، کمیشن، کرپشن، شاہی تفاوتی تنخواہوں ، شاہی رہائشوں، شاہی سہولتوں ، شاہی لاتعداد سرکاری گاڑیوں ، ٹیلیفونوں اور بے شمار رائج الوقت قانونی ڈاکوؤں سے ملت کا ۹۷ فیصد خزانہ محفوظ کرنا کسانوں ‘ محنت کشوں ‘ ہنرمندوں اور طالب علموں کا فرض ہے۔ اس ملک کو آئی ایم ایف کے قرضے نہ حاصل کرنے کی ضرورت اور نہ ان وڈیروں کو پالنے پوسنے کا فکر۔ سرکاری رہزنوں اور ان کے نظام اور سسٹم سے ملک و ملت کو تباہ ہو نے سے بچاؤ۔ انتظامیہ اور عدلیہ کو مسجد شریف کے صحن تک پہنچادو۔ نہ جھوٹے مقدمے تیار ہونگے اور نہ عدل کش مغربی عادل فرعونی انداز میں بے بنیاد فیصلے سنا سکیں گے۔ ملت کی کھوئی ہوئی اصل دولت یعنی شریعت محمدی کو ملک میں رائج کرو۔عدل اور مساوات قائم کرو۔ نہ ان کی ضرورت رہے گی ، نہ ان کے ظالم نظام اور عدل کش سسٹم کی۔ ملک کے تمام وسائل اور خزانہ محفوظ ہو گا۔ پاکستان اقوامِعالم کا یو۔این۔ او ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے فطرتی حقوق کے تحفظ کا مرکز اور محور بھی بننا انشاء اللہ اسکے نصیب کا حصہ ہے۔
یااللہ تُو اپنے ارض و سموات اور اس میں تمام مخلوق کے واسطے اس ملت پر رحم فرما۔ یا اللہ ان الفاظ کو تاثیر عطا فرما۔ یا اللہ اس ناممکن اور دشوار کام کو آسانی کا دلکش لباس پہنا۔ یا اللہ اس پاک اور طیب خیال کو انسانیت کے دلوں میں اترنے کی توفیق بخش ۔ یااللہ ان آنسوؤں کو شرفِ قبولیت بھی بخش جو اس خیا ل اور ان الفاظ کو وضو کرواتے رہے۔ یااللہ ان تمام لطیف اور برگزیدہ ہستیوں اور احباب جن کے توسط سے زندگی کا رُخ حضور  کے نقش پا اور غارِحرا کی طرف راغب رہا ان سب کو درجہ بدرجہ سلام۔ یااللہ ان کی نگاہ کا فیض تمام جہانوں میں جار ی و ساری رکھ۔ یااللہ اپنے محبوب کی محبوب امت پر اپنی محبوبیت کا دروازہ وا کر۔ یااللہ اس پیاری امت کو رحمت عالم ہونے کا شرف اور عمل بخش۔ یااللہ اس دعا کو دلوں کے ساز کا مضراب اور سوز بنا۔ آمین!


عنائت اللہ