To Download or Open PDF Click the link Below

 

جمہوریت کی اکیڈمی کا جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کالے انگریز۔کالا نظام ، کالا سسٹم
عنایت اللہ
جمہو ر ی طرز حکومت، مغرب کے دانش وروں، قانون دانوں، معیشت دانوں، ماہرین سماجیات اور عدل و انصاف کے مفکرین نے اپنے اپنے ممالک میں ایسا نظام وضع کیا جس میں انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ، معاشی اور معاشرتی اعلیٰ اقدار کو قوانین و ضوابط کی شکل میں ڈھالا۔ بہترین عدل و انصاف کے اصول وضع کئے ۔ انسانیت کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے اصولوں کو اپنایا۔ اعتدال اور مساوات کے الفاظ کی حرمت کی پاسداری کا خیال رکھا۔ قوم کو محنت اور تجسس کا شعور عطا کیا۔ملکی قوانین و ضوابط کی روشنی میں انتظامیہ اور عدلیہ نے اپنا اپنا منصفانہ کردار ادا کیا۔ ٹیکسوں کا نظام قائم کیا۔ ان کا اطلاق اس طرح منظم طور پر نافذ کیا۔ کہ کوئی شخص بھی اس توازن کو نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی اس سے غفلت برت سکتا ہے۔ اس طرح عوام سے اکٹھی کی ہوئی دولت کا تصرف اجتماعی، فلاحی استعمال میں ایمان داری سے لانے کا بندوبست کیا۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں تنخواہوں اور سہولتوں کو اعتدال میں رکھا۔ ہر قسم کے تفاوتی نظام کو مساوات کے عمل سے گزار دیا ۔ بیروزگاری کی صورت میں گزارا الاؤنس جاری کیا۔یتیم بچوں، بوڑھوں، ناداروں، اپاہج افراد کو تمام بنیادی حقوق اور ضروریات زندگی فراہم کیں۔ ان اقدار کی روشنی میں انہوں نے اپنے معاشرے کو امن و آشتی کا گہوارا اور آماجگاہ بنا دیا ہے۔ تعلیم کا یکساں نصاب قائم کیا اور اس کے حصول کے لئے سب پر یکساں دروازے کھول دیئے۔ طبقاتی اور استحصالی نظام کا معاشرے سے نام و نشان تک مٹا دیا۔ ہر شعبۂ زندگی میں کفالت حاصل کرکے اپنی معاشی، اور معاشرتی حالت مضبوط اور بہتر بنائی۔ دنیا میں غریب اقوام کی مدو و معاونت کا نصب العین اپنایا۔ زندگی کے ہر شعبے کو سا ئنسی بنیادوں پر چلایا۔ ایماندار، دیانت دار،اور محنتی عوام پیدا کےئے۔او ر دنیا میں نئی نئی ایجادات اور صنعتی ترقی میں انقلاب پیدا کیا۔عملاً ایسے ایسے کام کر دکھائے جن سے دنیائے عالم کو حیرت میں ڈال دیا۔ فطرت کے اصولوں کی پاسداری کرکے انسان کو انسانیت کی خدمت کے آداب سکھا دئیے۔ دنیا میں جدید ترقی کی کامیابی کا پرچم ان کے ہاتھ میںچلاگیا۔
دوسری طرف اے مسلمانو! اے سیاست دانو ! اے جاگیر دارو ! اے سرمایہ دارو ! اے جمہوریت کے پروانو ! اے غاصب رہنماؤ! اے دھوکہ باز رہبرو! اے معاشی قاتلو ! اے معاشرتی دہشت گردو ! اے خون خوار بھیڑیو ! اے وحشت ناک درندو ! اے عدل و انصاف کی لاش کو نوچنے والی گدھو ! اے سیاسی جماعتوں کے رہبرو ! اے ہجوم کرگساں کے شاہی ٹولے ! اے بدنصیب ظا لم،غاصب سسٹم اور نظام کے وارثو اور پیروکارو، تم تو اپنے گھناؤنے جرائم کی تکمیل کیلئیعدل کش، ناانصافی، ظلم ، بدکرداری ، لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت، کے ظالمانہ ، غاصبانہ کا لے قانون ملک میں مروج کرتے چلے آرہے ہو۔ تم نے ایسا نظام اور سسٹم ترتیب دیا۔جس کے ذریعے ملک کا اقتدار، خزانہ ، وسائل اور ہر قسم کا نظم و نسق تم نے اپنی گرفت میں لے کر چودہ کروڑ عوام الناس سے انکا تمام مال و متاع چھین لیا۔ انکے حقوق سلب کرلئے۔ انکے ساتھ باغیوں اور غداروں جیسا سلوک روا رکھا۔ ملک انکے لئے معاشی قتل گاہ بنا کر رکھ دیا۔ دین کے منکروں اور منافقوں نے اس نظام اور سسٹم کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی طبقاتی تعلیم رائج کی اور اپنی نسلوں اور اولادوں کیلئے اعلیٰ معیار کے انگلش میڈیم ادارے مخصوص کر لئے ۔ ان میں اپنی اولا دوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کی۔ جن کے ذریعے ملک کا نظم و نسق اور عدل و انصاف کو اپنی گرفت میں لیا۔
۱۔ جمہوریت کی اکیڈمی میں صرف اور صرف جاگیردار ، سرمائے دار طبقے کی سپر نیچرل مخلوق الیکشن کا امتحان پاس کر کے ممبر صوبائی ، وفاقی اسمبلیاں ، سینیٹر ، وزیر، مشیر، وزیر اعلیٰ،وزیر اعظم ، گورنر، صدر پاکستان ملک کا اقتداراعلیٰ اورحکمرانی کے مکمل اختیارات سنبھال لیتے ہیں۔ ۔
۲۔ اعلیٰ انگلش میڈیم اور دوسرے مخصوص اعلیٰ تعلیمی ادارے جن میں شاہی اخراجات کی بنا پر ان دونوں طبقوں کی اولادیں اعلیٰ تفاوتی تعلیم حاصل کر کے ملک میں افسر شاہی ، منصف شاہی کے ذریعہ ملک کا نظم و نسق اور عدل و انصاف کے تمام اداروں پر قابض ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح ملک کا عملی کنٹرول اور حکومت سنبھال لیتے ہیں۔
۳۔ اردو میڈیم ادارے جو عوام الناس کیلئے قائم ہیں جہاں سے کلرک، ہیڈ کلرک ، سپرنٹنڈنٹ، دفتروں میں سرکاری فرائض ادا کرنے والے اہلکار تیار کئے جاتے ہیں ۔ جو افسر شاہی کے ذاتی ملازموں کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ اس نظام کی بنیاد ہیں۔
۴۔ دیہاتی ۷۰ فیصد کسانوں‘ ۳۰ فیصد مزدوروں‘ محنت کشوں اور عوام الناس پر مشتمل اردو میڈیم ادارے جو سکولوں کی عمارتوں اور اساتذہ سے محروم۔ صرف ایک ٹیچر اور چھ جماعتیں۔ ان اداروں سے ، کسان، محنت کش، چپڑاسی ، چوکیدار، گن مین، باڈی گارڈ، مالی ، باورچی ، ڈرائیور، پولیس کے سپاہی اور فوج کے سپاہی تیار ہوتے ہیں۔ کارخانے، ملیں ، فیکٹریاں ، سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر، پولیس اور فوج میں اپنی بے پناہ خدمات پیش کر کے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور ملکی ڈیفنس و دفاع کی تمام ذمہ داری کے فرائض ادا کرتے ہیں۔ یہ محنت و مشقت کے خو گر۔ یہ محب وطن جاں با ز ۔ جن کو استحصالی اجرت کا پھندہ گلے میں ڈال کر ٹیکسوں، بلوں اور مہنگائی کی جان لیوا اذیت ناک ٹکٹکی پر ان غا صبوں نے اس طرح لٹکا اور کس رکھا ہے کہ وہ سسک سسک کر مرتے جاتے ہیںاوروہ مظلوم آہ تک بھی نہیںکر پاتے۔قومیںایسی ناانصافیوںاورظلم سے کبھی پروان نہیںچڑھاکرتیں۔ تنخواہوںمیںاتنابڑا تفاوت، سرکاری سہو لتوں میں بے پناہ فرق، رشوت،کمیشن اور ہر قسم کی کرپشن اس کے علاوہ۔اب ان مظلو موں کا ہا تھ ان کی گردنو ں تک پہنچ چکا ہے ۔یہ نظام اور سسٹم اور اس کے متولی فطرت کی خوفناک گرفت میں آ چکے ہیں۔
۵۔ دینی درسگاہیں جو ذکوٰۃ، صدقات ، عید کی کھالوں اور چندوں سے چلائی جاتی ہیں ۔ جو دین کے ارکان کو زندہ رکھنے اور انسانیت کو خدا اور رسول کی کتاب مقدس کی تعلیمات کے فرائض ادا کرتی ہیں ۔جن کے لئے ملک میں ہر قسم کی سرکاری ملازمتیں بند ہوتی ہیں کیونکہ انکے پاس اس باطل ، غاصب ، کرپٹ ، نونہال پیدا کرنے والے سرکاری اداروں کی نہ تو سندیں ہوتیں ہیں نہ وہ تعلیم و تربیت۔ دین پڑھنے ، سیکھنے والوں کیلئے اس مروجہ ناپاک ،منافق ، باطل ، غاصب سرکاری نظام میں انکے لئے کوئی روزگار کا ذریعہ اور موقعہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ نظام اور سسٹم ہے جس کے ذریعے ملک کے اقتدار پر چند لوگوںاور انکی اولادوں نے غاصبانہ قبضہ اپنے ہاتھوں میںلے رکھا ہے۔ ملک کا تمام سرمایہ ، وسائل، خزانہ ، ملکی ، غیر ملکی قرضوں کو لوٹتے چلے آرہے ہیں۔ ملک کی تمام ملیں ، کارخانے، فیکٹریاں ، کاروبار ، محل ، کوٹھیاں، جائیدادیں ، جاگیریں، بنکوں میں ڈالر، لینڈ کروزر، پجارو، بڑی بڑی کاریں، ہر قسم کے ٹیلیفون، بے پناہ شاہی سرکاری اخراجات یعنی ملک انکی لونڈ ی اور عوام انکے غلام بن چکے ہیں ۔ یہ ہر قسم کی بد عنوانیوں کے مرتکب اورمجرم۔ غیر اسلامی طرز حیات کے مجرم۔ ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ اقوام عالم کے سامنے پاکستانی مسلمانوں کا اس قسم کا چہرہ پیش کرنا کتنا ظلم اور زیادتی ہے۔ تم نے اسلام کے نام کو رسوائے زمانہ کر دیا ہے۔ تمھارے کردار، تمہارے اعمال، استحصالی، منافقی، غاصبی، اور جابری ، نظام پر مشتمل ہیں۔ اے طبقاتی سیاسی ٹولے ! جمہوریت کو تم نے اپنی لونڈی بنا لیا۔ طبقاتی نظام رائج کیا۔ طبقاتی افسر شاہی اور طبقاتی منصف شاہی کا نظام اپنے ان جا ں نشینوں کے سپرد کیا۔ انتظامیہ اور عدلیہ سے مل کر ملک کے تمام وسائل ،خزانہ ہر قسم کے بلوں اور ٹیکسوں سے اکٹھی کی ہوئی دولت، منی بجٹوں کے اضافے سے ۱۴ کروڑ عوام کا چوسا ہوا معاشی خون، سب کا سب یہ مال و متاع، اپنے قبضۂ قدرت میں لیتے چلے آ رہے ہیں۔ اقتدار کی نوک پر حاصل کئے ہوئے اختیارات کے تحت، وہ اس تمام ملکی دولت کو رشوت یا کمیشن سے لوٹتے چلے آ رہے ہیں ۔ تفاوتی تنخواہوں اور سرکاری ان گنت سہولتوں کے ذریعے تمام وسائل، غاصبانہ، طریقوں سے چھین لیتے ہیں ۔ وہ محنت اور اجرت کے نظام عدل کو بری طرح روندتے چلے آ رہے ہیں۔ جمہو ریت کی اکیڈمی جاگیر دار اور سرمائے دار طبقوں کے لئے وقف ہو چکی ہے۔اعلیٰ انگلش میڈیم ادارے اور دو سری تمام شاہی اخراجات والی اکیڈ میاں ان کی اولادوں کی ملکیت بن چکی ہیں۔ وہ اس خزانہ سے ملیں، کارخانے، فیکٹریاں، لگا لیں یا کاروبار کر لیں۔ یہ سب کچھ ان کے رحم و کرم پر ہے ۔ یہ اسی غاصبانہ ، ظالمانہ، استحصا لی مذہب کے پجاری ہیں ۔ وہ ۹۹ فی صد کسان ، مزدور، ہنر مند اور عوام کے منہ سے لقمہ چھین چکے ہیں۔ جب تک ان سے لوٹ مار اور کرپشن سے اکٹھے کئے ہوئے تما م کے تمام وسائل اور دولت، ان سے ضبط کرکے سرکاری خزانہ میں جمع نہیں کروائے جاتے۔ اس وقت تک ان سے یہ اقتدار واپس لیا جا سکتا ہی نہیں۔ یہی وسائل اور ذرائع ان کی اجارہ داری کی اصل بنیاداور ان کے اس باطل اور غاصب نظام کو چلانے کی چابی ہے۔ ان کے اس رائج الوقت نظام اور سسٹم کو ختم کرکے ملک میں دستور مقدس کا نفاذ عمل میں لانا ہزاروں سال کی عبادت و ریاضت سے کہیں بہتر اور افضل ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ لہٰذا ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے کہ وہ اس باطل ،غاصب اور ظا لم طرز حیات سے نجات حاصل کرے ۔
اسلام ایک دین فطرت ہے اور پوری انسانیت کے لئے ہے ۔ جس نے اس کے قانون ، ضوابط، اقدار کی قندیلوں اور رشد و ہدائت کے چراغوں کو زندگی میں جلایا ۔ انہوں نے ہی فلاح و بہبود کا راستہ ڈھونڈھ پایا۔ اسلام ایک ایسا دین ہے ۔ جو پوری انسانیت کی وراثت ہے ۔ یہ صرف مشرق و مغرب کی میراث نہیں جو بھی اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلے گا۔ فلاح اسی کا مقدر ہو گا۔ پچھلے ۵۳ سالوں سے یہ بات اس استحصالی طبقہ کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ اب ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا ہے ۔ اور ان کے کڑے احتساب اور عذاب کا وقت شروع ہواہے۔مکافاتِ عمل کاآغازجاری ہوچکا ہے۔ انگریزوں کا مفتوحہ اور غلام قوم کو شکنجوں میں جکڑنے والا ۱۴۳ سالہ پرانا نظام اور اذیتوں میں مبتلا کرنے والا سسٹم ۔انکے پالتو حکمرانوں ،افسر شاہی ،نوکر شاہی اور منصف شاہی کے ظلم کا یوم حساب اب وقت کی گرفت میں ہے۔
ملک کے اس غاصب ، جمہوریت کے داعی ‘ قلیل چند نفوس پر مشتمل جاگیر داروں وڈیروں، سرمایہ داروں، آمروں، جابروں، حاکموں اور فیوڈل لارڈز کے ا س منظم ٹولہ نے ،۷ ۱۹۴ سے ملکی پیداوار ، ملکی سرمایہ، ملکی خزانہ، ملکی سیا ست ، اور تمام ملکی وسائل پر بڑی حکمت عملی اور سوجھ بوجھ کے ذریعہ جمہوریت کے نام پر غا صبا نہ، جا برانہ،کافرانہ، ملحدانہ، غیر اسلامی ،باطل، انسانیت سوز اور غا صب طریقے نافذکر کے سیا ست کے ناٹک کے کھیل کو اس طرح مروج کیا کہ جس میں ان کے علاوہ کوئی اور اہل وطن ، اہل دل، اہل علم ، اہل دانش ، اہل حکمت،اور کفائت شعار اور درمیانے طبقے کے لوگ اس سیاست کے گھناؤنے کھیل میں حصہ نہ لے سکیں ۔ ان کالے انگریزوں کی اس اجارہ داری اور تسلط کو کوئی شخص بھی ملک میں نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے۔ ان کے اس یک طرفہ ، خود ساختہ، غاصبانہ سسٹم اور طریقہ کار نے ان کے اقتدار حاصل کرنے اور حکومت پر قابض ہونے کا ایک بھیانک راستہ استوار کر لیا ہے۔ حکومت اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد یہ لوگ اپنے من پسند کی پالیسیاں مرتب کرکے ملک کی پوری معیشت اور وسائل کا رخ اپنی ذاتی بہبود اور منفعتوں کی طرف منتقل اور مبذول کر لیتے ہیں ۔ بینکوں پر قابض، ملکی غیر ملکی تجارت پر قابض ، ملک کے خزانہ پر قابض، ملک کے وسائل پر قابض، ملک کی فیکٹریوں، ملوں اور کارخانوں پر قابض، ملک کی زمینوں پر قابض، ملک کی انتظامیہ پر قابض، ملک کی عدلیہ پر قابض، ملک کی فوج پر قابض، ملک کے ڈیفنس پر قابض، اس ظالم بے رحم غاصب قبضہ گروپ یعنی جاگیر داروں ،سرمائے داروں، افسر شاہی اور منصف شاہی نے ملک کے تمام وسائل ، قومی خزانہ اور عوام کو پچھلے ۵۳ سال سے یرغمال بنا رکھا ہے ۔یہ سیا ستدان ،یہ حکمران،یہ افسر شاہی،یہ منصف شاہی، یہ طبقاتی تعلیمی ادارے،یہ باطل نظام ، یہ غاصب سسٹم اور اس کے یہ بے رحم پجا ری اپنے گھناوٗنے اعمال، اپنے دہشت ناک،وحشتناک کردار کی عبرت ناک صلیب پر از خود اپنے اعمال کے ہا تھوں لٹک چکے ہیں۔انکے ایوانوں میں ان کے احتساب کے شکنجے کسے جا چکے ہیں۔ ان کے محلوں کو ہو لناک زلزلے کی تھرتھراہٹ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔تقدیر کے منکر اپنی تدبیروں کو لٹتے ، ذلیل ہو تے، د م توڑتے،بھسم ہوتے،اپنی،آنکھوں کے سامنے دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔حکمرانوں کے تمام کے تمام پیش رو عبرت کدے کی بد نصیبی کی زینت بنتے چلے آ رہے ہیں۔پھربھی ان عقل کے اندھوں کواپنی تد بیروں ا ور من مانیوں پر ناز ہے ۔خوف اور خطرے کی تلوار انکے سروں پرلٹکی اپنا بھیانک عمل جاری کر نے کے لئے بڑی شدت سے منتظر کھڑی ہے ۔فطرت کے عمل سے نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ کوئی بھا گ سکتا ہے۔اس عبر ت کدے کو بیناآنکھ سے دیکھو۔اس فانی جہان میں اس فنا کے دیس میں۔اس مسافر خانہ میں۔تم کیا کچھ اکٹھا کر لو گے اور کس کے لئے۔ اس سرائے فانی میں کتنی دیر کا پڑاؤ ہے۔اس ماتم کدہ میں کب تک شہنائیاں بجاتے رہو گے۔ بے سو جھت مورکھو تم خواہشات کے پتھروں کو کب تک چنواتے رہو گے۔ کیا تمہاری آنکھ اس وقت کھلے گی جب یہ بند ہو گی۔خوف خدا کرو۔ اللہ تعالیٰ اور محبوب خدا کے خلاف بغاوت اور جنگ بند کرو۔ان کے احکام کی پابندی کرو۔ فناہ کا راستہ ترک کرو۔ بقا تمہارا ازلی اور ابدی نصیب ہو گا۔


ملک میں ہر ایک دو سال کے بعد ان بدکردار، بد بخت ، بد نصیب ، سیاست دانوں ، کے ملی اتحاد کے وجود ملک میں قائم ہو تے چلے آ رہے ہیں ۔ یہ ذا تی اقتدار کی جنگ اور ملک میں نفرت کی آگ ، سرکاری املاک کو نقصان ، اپنی اپنی سیاسی جماعتوںکے ورکروں کو سڑکوں پر لانے کے پرو گرام۔ جلسے جلوسوں، میں عوام النا س کو الجھانے اور ملک کو نقصان پہنچانے اور وزارتوں کے لالچ ، اقتدار کی شراکت حسب طریقہ اب بھی طے پا چکی تھیں۔ اور دوسری طرف حکومت وقت ان سیاست دانوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے ان کے خلاف ہرقسم کے کیس ختم کرنے۔ وزارتوں میں شمولیت ، چھوٹی جماعتوں کو زیا دہ سے زیادہ سرکاری بھتوں کی رشوتو ں کی پیشکش لگانے کا کام شروع ہوچکا تھا۔ سرکاری خزانے کا منہ ان سیا سی لٹیروں کے لئے کھل چکا تھا ۔ یہ گھناؤنا کھیل ان سیاست دانوں ، کی عملی سیاست کا حصہ بن چکا تھا۔ملکی سلامتی کا خطرہ لاحق ہو چکاتھا۔
یہ کیساکرپٹ نظام حکو مت ہے کہ جس میں وزیراعظم اور اسکے سیاسی وزیروں،مشیروں کی ٹیم کو اپوزیشن اور دوسری تمام چھوٹی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو ا پنے خلاف ختم کرنے یا اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے دوسری سیاسی جماعتوں کو رشوتیں ، وزارتیں، اور خاص رشوتوں والی وزارتیں، کثیر رقم کے بھتے، ہر قسم کے جرائم اور احتسا ب میں پڑے ہو ئے کیسو ں کی معافیاں اور ہر قسم کی مراعات اور سہولتوں کی رشوتیں پیش کرنا اور وارے کا مک مکا کرنا ان کے سیاسی کردار کا حصہ بن چکا تھا اور دوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے بھی اقتدار حاصل کرنے کی صورت میں اتحادی جماعتوں میں وزارتوں کی نسبت تناسب کی خاص تقسیم ، اور اقتدار میں خو شگوار واقعات کی سہولتوں کے وعدے وعید کئے جا چکے تھے۔ اس حکومت سے قبل ملک میں حسب طریقہ تمام اپوزیشن جماعتوں کا ا یک نیا اتحاد تشکیل پا چکا تھا ۔ اس متحدہ اتحاد کے رہنماؤں نے حکومتِ وقت کے خلاف پراپیگنڈہ ، احتجاج ، جلسے جلوسوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور حکومت وقت کو ہٹانے کا پروگرام مرتب کر لیا تھااور یہ سیاسی کھیل شروع ہونے کو تھا ۔ اس سیاسی شطرنج کو کھیلنے کے ماہرین ملک میں سیاسی بھونچال کا گجربجا چکے تھے ۔ حکومت وقت اور اپوزیشن اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھیں ۔ وزارتوں کی تعداد پھر بڑھنے والی تھی ۔ باقاعدہ اس کا اعلان ہو چکا تھا ۔ ان تمام بدنصیب ، بد کردار سیاست دانوں کو کون بتا تا اور سمجھا تا اور وقت کے اس نازک موڑ پر جب ہندوستان ، پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے فوجوں کا بہت بڑا حصہ سرحدوں پر پہنچا چکا تھا ۔ کشمیر کا مسئلہ دنیا میں اپنی خاص اہمیت، نوعیت ، کی توجہ کا مرکز بن چکا تھا ۔ عین ممکن تھا کہ ان کی آپس کی چپقلش اس پر بری طرح اثر انداز ہوتی ۔ اہل وطن اور عزیز طالب علم خیال کریں ۔غور و فکر اور تدبر سے کام لیں کہ اہل اقتدار اور اپوزیشن جماعیتں کیا چاہتی تھیں ۔کیا یہ مشرقی پاکستان کی تاریخ کو دھرانا چاہتی تھیں ۔ ملک کو مزید تباہی سے دوچار کرنا چاہتی تھیں ۔ ملک کا یہ عظیم سیاہ کاریوں اور بد کاریوں کے علوم کا یہ بدبخت دانش ور ، خود غر ض، حکومت اور اقتدار کی نعش کو نو چنے والا بد کر دار طبقہ ، کب تک اہل وطن، اہل دل ، اہل درد ، اہل حکمت ، اہل بصیرت ، اہل قلم اور بے بس ، مزدوروں ، محنت کشوں ، کسانوں کو درندوں کی طرح ہانکتا رہے گا ۔
اے طالب علمو! اے سیاسی جماعتوں کے ورکرو ! خدا کے لئے آپ غورکریں ، فکر کریں، ان بدبختوں ، دھوکا بازوں کے آلہ کار نہ بنیں ۔ ۔ اور ان تمام جماعتوں کو الوداع کہیں ۔ یہ تمام جماعتیں ایک ہی قبیلہ اور ایک ہی طبقہ پر مشتمل ہیں ۔ یہ لوگ ملکی سلامتی سے بالکل بے نیاز ہیں ۔ وہ تو ایک دوسرے سے اقتدار چھیننے ، ملکی وسائل پر قبضہ کرنے کے عمل اور علم سے آشنا ہیں ۔ عوام کو جماعتوں میں تقسیم کرکے یہ اقتدار اور زوال کا سیاسی گھناؤنا کھیل کھیلتے چلے آ رہے ہیں ۔ معاشی ، انتظامی ، معاشرتی ، عدالتی ، اداروں پر قبضہ کرکے اپنی من مانی پالیسوںکے مطابق حکمرانی کرنے اور لوٹ مار کرنے کے مزے لوٹنے میں مصروف رہتے ہیں ۔
عوام ایک مرکز پر اکٹھے ہوںاورمتفقہ فیصلہ کریں کہ انگریز کے اس مروجہ نظام اور سسٹم کو جو ملک ، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تباہی، بربادی اور ملکی سلامتی کیلے خطرہ ہی نہیں۔ بلکہ نیست ونابود کر نے پر تلا ہو ا ہے ۔ ملک،ملت اور مسلما نوں کے زوال کا متواتر و مسلسل سبب بنتا چلا آ ر ہا ہے ۔ یہ نظام قائم رکھنا ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہے۔ اپنے اور عوام کے درمیان جمہوریت کے اس ریمورٹ کنٹرول سے ملک کی پوری معیشت اور وسائل کے تقسیم کا خوفناک تفاوتی طریقہ کاراور عدل کشی کی بھیانک پالیسیوں کا غاصب اور باطل نظام اپنے اور اپنے مخصوص طبقہ کی عیش و عشرت کیلئے رواں د واں اورجا ری کر رکھا ہے۔ جس کی پوری دنیا میں کوئی معاشرتی، عدالتی ، اخلا قی، مذہبی روحانی مثال موجود نہیںاور نہ ہی ایسے نظام کا کوئی اصولی جواز بنتاہے۔ وہ عوام الناس کو بے حساب،لاتعداد ،ان گنت ٹیکسوں، بلوںاور مہنگا ئی کے اذیت ناک شکنجوںمیںجکڑ کرافلاس غربت ،بیروز گاری، بے بسی ،بے کسی،ناداری کی زندگی کی اذیتوں میں مبتلا کر کے ا ن کومفلوج کر رکھا ہے۔مخلوق خدا انکے تیار کردہ معاشی شکنجوں میں گھٹ گھٹ کراور سسک سسک کر دم تو ڑے جائے او ر اسکے بر عکس ان وحشی حکمرانوں نے غریب عوام سے اقتدار کی نوک پر ظلم اور زیادتی کے طریقہ کار کے تحت بے شمار غاصبانہ ٹیکسوں، ا ضافی ٹیکسوں، مہنگائی،منی بجٹوں، سے اکٹھا کیا ہوا سرکاری خزانہ سے بڑٰی بڑ ی تنخو ا ہیں ، مشیرو ں ،وزیرو ں کی اعلیٰ کوٹھیوں سے لے کر وزیر اعلیٰ ، گورنر و ں، وزیر اعظم اور صدر پاکستان کے محلو ں تک، اسکے علاوہ انکی نوکر شاہی ، افسر شاہی اور منصف شاہی کی پورے ملک میں پھیلی ہوئی شاہی رہائش گاہیں ۔ ہیلی کاپٹروں، سپیشل جہازوں، انکی بلٹ پروف قیمتی سرکاری گاڑیوں سے لیکر لینڈ کروزروں،پجارو ں،جیپوں اور بیشمار حسب خواہش دو سری گاڑ یا ں جو انکے خا ندانوں ،انکے بچوں کو سکول لے جانے،لے آنے تک کے استعما ل تک ہی نہیں بلکہ سمگلنگ تک کے گھنا وٗ نے جرائم کے لئے استعمال ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ایک نا سور کی طرح پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ انکا چالا ن تو کجا وہ تو سمگلنگ بھی کریں تو انکی طرف کو ئی آنکھ ا ٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ ملک کا کثیر بجٹ اس غیر ضروری سسٹم اور انکے شا ہا نہ نظام کی نظرہوتا چلا آ رہا ہے۔اس غاصب سسٹم اور با طل نظام کو ختم کر کے اربوں روپوں کے پٹرول،گاڑیوںا ور انکے اخراجا ت سے زر مبادلہ کو بھی بچا یا جا سکتا ہے۔ اور کافی حد تک ملکی پیداوار سے کفالت بھی ہوسکتی ہے۔عدل وانصاف جو کسی معاشرے کی اعلیٰ اقدار،اخلاقیات،مساوات،اعتدال کو قائم رکھنے کی روح ہوتا ہے۔اس کو انہوں نے اپنی ذاتی منفعتوںکی نظرکر رکھا ہے۔حکمرانو ں کیلئے دعوت فکر ہے کہ وہ تمام محکمہ سے تمام سرکاری گاڑیوں کی لسٹیں منگوائیں، پٹرول کے اور گاڑیو ں کے اخراجات طلب کریںتاکہ حکومت وقت اور عوام الناس کو پتہ چل سکے کہ ملک میں کتنے لاکھ سرکاری گاڑ یوںکی کل تعداد موجود ہے اور کتنا پٹرول روزانہ خرچ ہوتا ہے۔ اور ہر آنیوالی حکو مت کو یہ بجٹ خور مروجہ نظا م جوں کا تو ں وراثت میں ملتا چلا آ رہا ہے۔ اب تک ملک کے کئی بجٹ ان کی اس لو ٹ مار کی نظر ہو چکے ہیں۔ ملک میں ٹیکسوں کا عذاب بد حال عوام پر نازل ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ان غاصبوں، عیاشوں، کی ان سرکاری سہولتوں اور سب سے بڑی کرپشن کو روکنا ممکن نہیں ہو سکا۔ اس طرح انہوں نے عدل و انصاف کو ملکی سطح پر مسخر اور مسخ کرکے ہر قسم کے اخلاقی، معاشی، معاشرتی ، انتظامی، عدالتی، تمام ڈھانچوں کوپورے معاشرہ کے لئے بے کار ، ناکارہ، اور فرسودہ بنا دیا ۔ ان غاصبوں ، بد ترین ، بددیانت ، اور بد کردار حکمرانوں کو قدرت نے عقل سے اندھا ، شعور سے فارغ اور احساس سے محروم کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا غیر منصفانہ ، ظالمانہ طرز حیات ، اور طریقہ کار عوام الناس کو اس نہج پر لے آ یا کہ لوگ بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشی اور خود سوزیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ لوٹ مار ، ڈاکے، قتل و غارت، دہشت گردی ، ر شو ت ان حالات کے نتیجے میں آئے روز کا معمول بن گئے۔ ملک کا امن و امان تباہ ہو گیا ۔ عزتین لوٹنے کا وہشت ناک ، لرزہ خیزی کا خوفناک کھیل، پورے ملک میں مقام عروج پر پہنچ گیا۔ ان سیاست دانوں کے گھناؤنے اعمال اور کردار کا سیلاب ملک میں انارکی، بے چینی، اور تباہی کی مسافتیں بڑی تیزی سے طے کر تا رہا ۔اس وقت ملکی سطح پر سیاست دانوں ، وحشی اقتدار کے دہشت گرووں کی سیاسی کا میا بی اور اقتدار کی جنگ حسب طریقہ شروع ہو چکی تھی۔ تمام سیاسی بابے میدان میں اتر چکے تھے ۔ جن کی حیثیت اب اس قوم کے لئے استعمال شدہ بے کار کار توس سے زیادہ نہیں رہی۔ نئے اتحاد قائم ہونے اور قومی حکومت تشکیل دینے کی پرانی آوازیں نئے سرے سے بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ نئے اتحاد کے تحت صدر، وزیر اعظم ، گورنروں، وزیروں، مشیروں، کے عہدوں کی تقسیم پوری حکمت عملی کی روشنی میں اتحادیوں میں طے پاچکی تھی۔ ادھر حکومت نے بھی وزارتوں کی تعداد بڑھانے کی نوید اور مسرت سنا دی تھی ۔ ملکی خزانے کے دروازے ان سیاسی غاصبوں معاشی اور معاشرتی دہشت گردوں،لٹیروں اور بلیک میلروں کے لئے کھل چکے تھے۔ اس نظام ا ورسسٹم کی مجبوریوں نے حکومت اور اتحادی جماعتوں کو ان خوفناک ملی جرائم کا کریکٹر بنا رکھا تھا ۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ورکروں یعنی دہشت گردوں کی افواج ہڑتالوں، توڑ پھوڑ جلسے جلوسوں کے حملوں کی پورے ملک میں تیاری کر چکی تھیں ۔ ادھر حکومت پولیس اور تمام دوسرے انتظامی اداروں اور اہل کاروں اور عہدے داروں کو ان حملوں کو پسپا کرنے کی منصوبہ بندی ترتیب د ے چکی تھیں ۔ ملک میں چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کا ریہرسل شروع ہو چکا تھا۔ بڑے محاذ کھلنے والے تھے۔ صوبوں میں نفرت کی آگ بھڑکائی جا چکی تھی۔ مشرقی پاکستان والے حالات پیدا ہو چکے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی پھرتیلی چالوں کے مقابلے میںاپنی تدبیر سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔اسکی تدبیر سے بہتر تدبیر کس کی ہو ئی ہے یا ہو گی۔ان کا وقت اب ختم ہو چکا تھا۔ لوگ ان کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے۔ یاد رکھو ۔ کسی صوبے کے عوام کی کسی صوبے کے عوام کے ساتھ نہ کوئی ناراضگی ہے نہ رنجش ۔ اور نہ کوئی جھگڑا ۔ یہ سب ان بدنصیب ، بدکردار، جمہوریت کے پیرؤکاروں کی اقتدار، حکومت، ملکی وسائل، اور سرکاری خزانہ لو ٹنے اور اس پر قبضہ کی ذاتی جنگیں تھیں۔ ان کی ان ذاتی چپقلشوں نے پہلے مشرقی پاکستان کو نگل لیا ۔ اور اب وہ اس ملک کے لئے خطرہ جان بن چکے تھے۔ ان میں کچھ غیر ملکی ایجنٹ بھی گھسے ہوئے تھے اور بقایا ۱۸۵۷ ء کی آزادی کے خلاف جاگیریں اوروظیفے حاصل کرکے غداری کے مرتکبوں کی اولادیں تھیں۔ جو اس ملک کو اپنی ان بدکرداریوں کی سرپرستی میں تباہی و بربادی، اور ملکی سلامتی کو خطرے کی آخری دہلیز تک پہنچا چکی تھیں ۔ عوام ملک میں معاشی اور معاشرتی ،انتظامی اور عدالتی انصاف بحال کرنا چاہتے تھے ۔ ان کے گھناؤنے عزائم کھل کر سامنے آ چکے تھے ۔ اہل دل ،اہل درد اس ہو لناک المیہ پر تڑپے اور یہ تمام لوگ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر انکی بجائے بارگاہ الہی میں ملتجی ہوئے انہوں نے اپنے کمزور اور بے بس ہا تھ اٹھائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے دعائے نجات کے لئے گڑگڑائے، اور اس طرح خیال کی یک جہتی ، صداقت کے دروازے کی چابی کا کام دے گئی ۔ اور ان سے مکمل نجات کا سبب بنی۔ ان سیاست دانوں کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا ، کہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹۔ کا دن انکے لئے پیا م موت بن کر آن وارد ہو ا۔ اقتدار کی چھڑی کا اور سیاست کے ناٹک کا تماشہ ختم ہو ا۔ اب کے بچھڑے سیاست سے کب اور کن حالات میں گلے ملیں گے ۔ فطرت ان کے ساتھ کیسا عمل کرنا چاہتی تھی۔جہاں پیپلز پارٹی کے سابقہ حکمران اور انکے دور کی افسر شاہی کے چند لوگ اقتدار کے محلوں سے نکل کر مجرموں کے ساتھ جیل کی کوٹھریوں میں زندگی گذار رہے تھے اور احتساب کا عمل مسلم لیگ حکومت جان بو جھ کر پس پشت ڈال کر انکے گھناؤنے جرائم پر پردہ ڈال رہی تھی اور ان کو وائنڈاپ کر رہی تھی ۔ اور انکی بداعمالیاں انتہا کو پہنچ چکی تھیں۔ مکافات عمل انکے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو چکا تھا۔ اور انکی بداعمالیوں کا حساب لینے کے لئے آن پہنچا ۔ پھر ایک روز وہ بھی اپنے بے شمار جرائم کی سزا کے تحت اقتدار کے محلوں سے نکل کر عذاب اور اذیت کی بند کوٹھریوں میں مقید ہو گئے۔
جب بھی کوئی سیاسی جماعت اقتدار یا حکومت حاصل کر لیتی ہے تو وہ آئین، دستور، قانون، انتظامیہ، عدلیہ، اور دوسرے تمام سرکاری اداروں کے احترام ، عزت ، اور تقدس کو روندنا اور پامال کرنا شروع کر دیتی ہے ۔عوام کو ا نارکی کی چتا میں دھکیل دیتی ہے۔وہ ملک میں غیر معمولی حالات پیدا کرنے کا شغل جاری رکھتی ہے ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں عدل و انصاف، اعتدال، مساوات، کو وحشیوں، درندوں کی طرح روندتی ہے۔ان گنت ٹیکسوں کے اضافی بجٹ کا عذاب عوام پر ناز ل کر تی ہے۔ پھر ایک دوسرے کے خلاف رشوتوں، کمیشنوں، سرکاری خزانہ اور غیر ملکی قرضوں کو لوٹنے اور ان سب کا احتساب کرنے اور پائی پائی واپس لینے کی نوید ، اور نعرے عوام کو سناتی ہے۔ یہ احتساب کیسے ہو اور کیوں ہو ۔ ان تمام جاگیر داروں، سرمایہ داروں یعنی سیاست دانوں کی سیاسی جماعتیں، الگ الگ، لیکن ان کی رشتے داریاں، آپس میں اس طرح مضبوط کہ ان کے خونی رشتے یعنی بیٹیاں، بہنیں، مائیں ایک دوسرے کے ساتھ ازلی رشتوں میں منسلک ۔ پچھلے ۵۳ سالوں سے یہ مشیر، وزیر، وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم، گورنر، صدر پاکستان، یہی لوگ اور ان کی اولادیں، بھتیجے، بھانچے ، بیٹے ، افسر شاہی اور منصف شاہی کی اعلیٰ سرکاری اسامیوں پر متعین ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ ان حالات میں نہ ان سے ملی خزانہ اور بیرونی قرضے لوٹنے والے سیاست دانوں کا احتساب ہو نا ممکن ہے۔ اور نہ ان کے کرپٹ کمیشن خور، رشوت خور، افسر شاہی اور نہ ہی بیرونی کرنسی میں ، ڈالروں سے بھرے ہوئے بریف کیس، وصول کرنے والے بد دیانت ، ضمیر فروش،بے حیا منصفوں کا احتسا ب کرنا ممکن ہے ۔ کوئی وزیر کا بھائی، سیکرٹری، کسی وزیر کا بھانجا ڈپٹی کمشنر، کسی کا داماد ایس ۔پی، کسی کا سسر وزیر اعظم، کسی کا ماموں پریذیڈنٹ پاکستان، اس طرح ان کا کنٹرول اور گرفت ملکی اداروں پر اس طرح مضبوط کہ اگر سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ان کے آڑے آئے تو اس کی نوکری ختم۔ اگر کسی فوج کا کمانڈر انچیف نگاہ میں کھٹکتا ہو تو اس کو بھی فارغ کرکے اپنا راستہ ہموار کرنا ان کی روزمرہ زندگی بن چکی تھی۔ ان اندھے ، بہرے ،گونگے ، ما ؤ ف ذہن، ماموں بھانجوں کو سمجھا دو کہ ان کی تمام فیکٹریاں، ملیں، کارخانے ، زمینیں، جاگیریں، اندرون بیرون ممالک ، تمام تجارت، چینی کی ہندوستان تک سپلائی تک تو ان کی تھی ۔ ان کی کوٹھیاںِ محل، اندرون ملک اور بیرون ممالک ، چیخ چیخ کر ان کی کرپشن کی دہائی دے رہی ہیں۔ بینکوں میں ملک کے اندر اور بیرون ممالک اکھٹے کئے ہوئے ڈالر کسی ثبوت کے محتاج نہیں ۔ان کی بڑی بڑی پجارو، مرسیڈیز، لینڈ کروزریں، ہیلی کاپٹر، ان کے دوڑتے بھاگتے جرائموں کا ہارن بجاتے جا رہے ہیں۔ آنکھوں کے اندھو، کان سے بہرو، محتسبو! تم بھی تو ملک کی بڑی بڑی تنخواہوں ، ہر قسم کی سرکاری سہولتوں کے لوٹنے کے مجرم ہی تو ہو ۔تم سب اثر و رسوخ اورآپس کے تعلقات کی پیداوار ہو۔ لٹیروں اور ڈاکوؤں سے خود تو حصہ لے لیتے ہو مگر ملکی خزانے میں کبھی ایک پائی تک جمع نہیں کرواتے۔کیسے منصف ہو۔ کیسے عادل ہو اور کیسے محتسب ہو۔ فوجی حکمرانوں کو جا گیرداروں،سرمائے داروں کے تیار کردہ طبقاتی نظام اور سسٹم پر فوری نظر ثانی کر نی ہو گی۔ کسان،مزدور ، ہنر مند یعنی عوام ا لناس کے معاشی قتل کے نظام اور حکمرانوں،افسر شاہی،نوکر شاہی،منصف شاہی کے استحصا لی معاشی غاصب نظام کو دستور مقدس کے نظام میں سے گزار دو۔ انشا اللہ عدل و انصاف کا سورج طلوع ہو گا۔حکمرانوں،افسر شاہی،منصف شاہی کی شاہی تنخواہیں،شاہی رہائشیں،شاہی اخراجات،کی قانو نی کرپشن جس سے یہ تمام ملکی وسائل اورغریب عوام سے ظالمانہ ٹیکسوں سے اکٹھا کیا ہوا خزانہ سب مادر شیر سمجھ کر ملک کا تمام بجٹ پی جاتے ہیں۔اس کرپشن میں ملوث سرکاری شاہی ٹولہ اس کرپٹ سسٹم کو کیسے ختم کر سکتا ہے۔
جرنیل صاحب کی ایک آواز پر تیرہ ارب کی کثیر رقم ان ڈاکوؤں ، رہزنوں، دہشت گردوں ، غاصبوں لٹیروں، اور معاشی قاتلوںنے ایک ماہ کے اندر اگل دی ۔ لیکن طویل عرصہ تک تو یہ لوگ ان کیسوں کی ترتیب ہی درست کر تے رہتے ہیں ۔ یہ فوج تمہاری منصوبہ بندی سے نہیں آئی اور نہ یہ الیکشن جیت کر آئی ہے ۔ یہ فطرت کا عمل ہے ۔ آئی ایم ایف کے قرضے ،ملکی لوٹ کھسوٹ کی واپسی ، کرپٹ سسٹم، کرپشن، رشوت، کمیشن، مافیا کے خاتمے کے خلاف ایک بہت بڑے جہاد کی جنگ میں یہ ملت اور اس کی فوج مبتلا ہے ۔ اگر جمہوریت کی بنیاد عوام کی رائے پر منحصر ہے تو پورے ملک نے پاک فوج کو ان ریاستی دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کا پورا اختیار دے دیا ہے ۔ اگر پاک فوج اب بھی ان کرپٹ افسر شاہی ، منصف شاہی، اور محتسبوں کی گرفت سے نہ نکل سکی تو ملک میں یہ لوگ انار کی پیدا کر یں گے۔ عوام اور فوج کے درمیان ٹیکسوںاورمہنگائی کی جنگ چھیڑیںگے۔ نفرت کی خلیج پیدا کر یں گے ۔ جرنیل صاحب ! آپ اپنے آپ کو اور اپنے کور کمانڈروں کو غفلت اور کو تاہی کا شکار نہ ہونے دیں ۔ وقت کے تقاضے کے مطابق ان ملی مجرموں کو جلد از جلد بلا تمیز اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں۔ اس عمل میں دیر اور کوتاہی اللہ تعالیٰ اور عوام کے نزدیک قابل معافی نہیں ہو گی اور آقائے دو جہاں، حضور نبی کریم ﷺ کے دستور مقدس کو ملک میں رائج الوقت کرکے انصاف کی ازلی قدروں کو بحال کریں۔ عدل قائم کریں۔ تاکہ ملت اپنا کھویا ہوا مقام اقوام عالم کی قو مو ں میں پا سکے ۔ یہ موقع اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا وجہ نہیں دیا،نہ یہ دوبارہ دیا جائیگا۔ خدا را اسے ضائع نہ کیجئے۔جو آپ نے وعدے کئے وہ پورے کیجئے ۔ اسی میں اس ملک کی سلامتی اور استحکام پوشیدہ ہے۔ اور اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی خوشنود ی بھی آپ کو حا صل ہو گی اور اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہ بات بڑی غور طلب ہے۔ اس ملک اور ملت کو اتنا خطرہ کسی بیرونی طاقت یا ملک کا نہیں جتنا ان ملکی دہشت گردوں ،غاصبوں اور غداروں کے مر و جہ سسٹم اوراستحصالی نظا م کا ہے۔ اس ملت سے کردار کی طاقت ، عمل اور وسائل ان درندوں نے جمہور یت کی دہشت گردی کی طاقت سے چھین رکھے ہیں۔ ملک کی جملہ برائیوں ،ظلم ، زیادتیوں ، نا انصافیوں،معاشی قاتلوں،معاشرتی دہشت گردوں کا دار ا لحکومت مو جو دہ نظام اور سسٹم ہے۔ورنہ یہ ملت اور اس کے فرزندان ذرا فطرتی نم کے منتظر کھڑے ہیں۔ جس ملت کے فرزندان ، چھ سو ٹینکوں کو ابابیلیں بن کر نیست و نابود کر سکتے ہیں۔ اور آج بھی کشمیر میں فوج نہیں ‘مجا ہدین دشمن کے بنکروں میں گھس کر ضرب کاری لگا رہے ہیں۔ دشمن کی چھ سات لاکھ فوج کو بری طرح انہوں نے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ اگر فوج پر جنگ کی آزمائش آئی تو انشاء اللہ کامیاب و کامران ہو گی ۔ اور عوام ان کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر لڑے گی ۔ ان بدنصیب سیاست دانوں نے ، اسی اقتدار اور لوٹ مار کی جنگ میں مشرقی پاکستان نگل لیا ۔پہلے فوج اورمشرقی پاکستا ن کی عوام کو ایک دوسرے کہ خلاف لڑا یا ۔اور آپس کی چپقلش نے نوے ہزار فوج کو ہندوستان ، اور مکتی باہنی کے سامنے بڑ ے ذلیل طریقہ سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا ۔ یو۔این۔او میں قرار داد کو پھاڑ دیا گیا۔ ادھر تم ادھر ہم کے نعرے سے ملک دو لخت کر دیا ۔ اے ملت کے رکھوالو ! یہ بات مسلمہ ہے ۔ کہ کوئی زانی، کوئی شرابی، بدکردار، غاصب، وحشی، درندہ، چاہے کتنی ہی انگریزی یا چرب زبانی سے کام لے ‘ وہ ملت اور اسلام کا ہیرو نہیں بن سکتا ۔بلکہ ایسے لو گ اسکی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
چاہے کوئی نمازی ، پرہیزگاراس غاصب اس باطل، جمہوری نظام کا وزیر اعظم یا پریزیڈنٹ بن جائے تو اسکی شمولیت بھی انہی گِدہوں اور کرگسوں کے گروہ میں ہو گی ۔ اس مرو جہ سسٹم اور نظا م کا فیض جاری ہے۔ جس سے کوئی پاکدامن بچکر نہیں جا سکتا۔ کو ئی بھی حکمران اور اس کی سرکاری مشینری، ویسے ہی تمام سرکاری سہولتیں، محل، گاڑیاں، ٹیلیفون اور ہر قسم کی غیر عادلانہ ز ند گی گزارنے میں ملوث ہوں ، تو ان کا حشر ان غاصبوں سے الگ نہیں ہو سکتا ۔اب یہ عوام کے غیض و غضب سے بچ نہیں سکتے۔
اہل اقتدار غور وفکر سے کا م لیں کہ وہ اس سسٹم اور نظام کی موت مرنا چاہتے ہیں یا خیر کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اسلام اپنی ذات پر نافذ کر لو ۔ خلیفہ ء وقت کی طرح سادہ ، پاکیزہ،زندگی بسر کرو ، حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپناؤ ۔ اللہ تعالیٰ کی معاونت اور حضورﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی ۔ مسلمان کی موت مرنا تمام زندگی کی اس گھٹیا بادشاہی سے کہیں بہتر ہے۔ یہ سرائے فانی ٹھہرنے کی جگہ نہیں۔ عمل کی لا متناہی قندیلیں روشن کرنے کی جگہ ہے ۔ باطل نظام کو دین کا غسل دے دو۔ بد بختی کی سڑاند ختم ہو جائے گی ۔ اندھیرے اجالوں میں بدل جائیں گے۔ زمانے میں نکھار پیدا ہو گا ۔اس مالک کو بھی پہچانو ۔ جس نے جمہوریت کے الیکشن لڑنے اور بیسوں سال سیاست کی سیاہ کاریوں سے گزارے بغیر آ پکو اور آپکے کور کما نڈ روں کو مملکت پاکستان کی بھاگ ڈور ہاتھ میں دے دی ہے۔ آپ کا اور آ پکے رفقاء کا فرض بھی اور حق بھی بنتا ہے کہ آپ اس کی کرشمہ سازی کا حق تو ادا کر یں ۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی سے لے کر ۱۹۴۷ تک اور ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک ، کے شہدائے ملت، معصوم بچے، بچیوں، سے لے کر بزرگوں تک ۔بہن بیٹیوں سے لے کر ماؤں تک، نوجوانوں سے لے کر بوڑھوں تک سب کی بے قرار مضطرب ، روحوں کو زندگی میں سلام تو پیش کر جاؤ۔ مقام برزخ میں ان کے آنسوؤں، آہوں اور ہچکیوں کو اس چند روزہ زندگی کی قندیلیں روشن کرنے کے بعد ملاقات پر ان کے من پسند کا تحفہ تو پیش کر سکو ۔ وہ تو صرف اور صرف اسلام کے نفاذ کا ہی تو ہے ۔ جس کی خاطر ا نہوں نے اپنی ، جانی، مالی ، روحانی اور ہر قسم کی قربانیاں دیں اور حضور ﷺ کی ہجرت کی عظیم سنت ادا کی ۔

تمام اہل وطن ان تمام سیاسی جماعتوں کے ورکر ملک کے تمام طالب علم ان تمام سیاسی جماعتوں کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ دیں ۔ اور ان کو ایسا ٹھکرائیں کہ یہ اپنی موت آپ مر جائیں ۔ اس طریقہ سے ملک بچ سکتا ہے ۔ یاد رکھو ۔ ہماری سوچ کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سے وسائل اور ذرائع موجود ہیں ۔ جو کسی وقت بھی مالک کل ہونے کی حیثیت سے استعمال میں لا سکتا ہے ۔ ہوا کا رخ عوام الناس کو مزید ٹیکسو ں میں مبتلا کرنے کی بجائے ان غیر ملکی ایجنٹوں، سرمایہ داروں ، جاگیر داروں، ان تمام غاصبوں، بد کردار، معاشی اور سیاسی معاشرتی دہشت گردوں کا احتساب عمل میںلانے کا مناسب و موزوں طریقہ تلاش کریں ۔اس معاشی ،انتظامی عدالتی نظا م اور اسکے نواب شاہی اخراجات سے ملت کو نجات دلا ئیں۔ یہ تمام سیاسی جماعتیں ملک میں ایسے حالات ، واقعات پیدا کرنے کی ماہر ہیں،جس سے انارکی پھیلے اور سیاسی جنگیں ، عوام الناس کو بے وقوف بنانے اور سیاسی عمل میں مصروف رکھنے اور سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لئے لڑتی چلی آ ر ہی ہیں ۔ وہ ہر قسم کے جائز اور ناجائز عمل کر گزر نے سے گریز نہیں کرتے ۔ ان کی بداعمالیوں کا سورج اب ڈھل چکا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہو چکا ہے ۔ یہ اپنے کردار کی گرفت میں بری طرح جکڑے جا چکے ہیں۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر آ ج تک تمام حکومتیں اور یہی سیاست دان ، افسر شاہی اور منصف شاہی ملکی خزانہ لوٹتے رہے ۔ اسی طرح احتساب بنچ تشکیل پاتے رہے ۔ عوامی خزانے سے بڑی بڑی تنخواہوں اور بے شمار سرکا ر ی مرا عات کے ڈاکے اس سسٹم اور نظا م کا حصہ بن چکے ہیں ۔منصف ہو ں یا محتسب وہ ان جرائم کے مجرم ہیں ۔ملک کے ۵۳ سال کی تاریخ میں ان محتسبوں سے ایک سیاست دان کا احتساب بھی نہ ہوسکا ۔ اے سیاست دانو! تمہیں پہلا اور آخری سلام اور تمہارے با طل اور غا صب نظام کو دوسرا سلام۔تم وقت کے عبرت کدے میں دفن ہو چکے ہو ۔۱۹۴۷ کو جب پاکستان وجودمیں آیا تو اسی وقت انگریزوں کی ترتیب دی ہوئی انتظا میہ اور عدلیہ کے طریقہ کار اور سسٹم کو ختم کر کے اسلامی منشور ملک میں نافذ کر دیا جاتا تو آج پاکستانی قوم دنیا کی اخلاقی،روحا نی اور سماجی اقدار کی علمبردار ہوتی۔اب وقت کی پکار، ملت کی آواز اور تمام بیماریوں کا علاج اس انتظامیہ اور عدلیہ کے مو رو ثی نظام کو الوداع کہنے میں مضمر ہے۔ہم کب تک اس طبقاتی تعلیمی نظام اس کے تیار کرد ہ حکمران، افسر شاہی،منصف شاہی اور نوکر شاہی کے باطل ، غاصب نظام کی پیروی اور ملک و ملت کی تباہی کا راستہ اختیار کئے جائینگے۔ہمیں ملت کو سیدھے راستہ پر چلانا اور انسانیت کو سیدھا راستہ دکھانا اس اسلامی مملکت کی ذمہ داری ہے۔خدا ہمارے حکمرانوں کو ملک میںدستور مقدس کے نفاذ کی توفیق عطا فرماویں۔ آمین
ان سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور انکے ذاتی دہشت گرد ، ورکر، اس اقتدار کی چپقلش میں قتل و .غارت کے کئی باب رقم کر چکے ہیں ۔ لیاقت علی خان صاحب کا قتل، احمد رضا قصوری کے والد صاحب کا قتل، بھٹو صاحب کا پھانسی چڑھنے کا واقعہ ، بھٹو صاحب کے دو بیٹوں کا قتل، چودھری ظہور الٰہی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا قتل، ضیاء صاحب کا بمعہ عملہ جہاز تباہ ہو کر فضاء میں بکھرنے کی داستان، مجیب الرحمن صاحب کا قتل ،مولانا فرید احمد صاحب کا قتل، مشرقی پاکستان میں نامور لاتعداد سیاست دانوں کا قتل، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی علےٰحدگی کا سانحہ ، ۹۰ ہزار فوج کا ہتھیار ڈالنے کا المیہ، یہ کھیل اب دوبارہ شروع ہونے کو تھا ۔ موجودہ سیاست دانوںکے باڈی گارڈوں ، دہشت گردوں، ورکروں، کی ذاتی افواج ہر ایک کے پاس موجود تھی ۔ اور ان کے پاس دور جدید کا اسلحہ بھی موجود تھا ۔ اب ان کے ورکر تربیت یافتہ بھی تھے ۔ یہ جمہوری نظام کن کن کو نگل گیا ۔ پاکستان کی سیاسی فضا ان تمام سیاست دانوں کو قتل گاہ تک پہنچا چکی تھی ۔
اسلامی ضوابط کی روشنی میں جو لوگ حکومتی مشینری کے فرائض ادا کرتے ہیں ۔ وہ قلیل سے قلیل ضروریات ، مال غنیمت یا سرکاری خزانے سے وصول کر کے بمشکل اپنی گزر اوقات پوری کرنے کے پابند ہوتے ہیں ۔ کسی حکمران کے گھر میں حلوہ تیار ہو جائے ۔ تو وہ اپنے اہل خانہ سے پوچھ لیتا ۔ کہ یہ حلوہ آپ نے کیسے تیار کیا۔ اہل خانہ مستورات نے اپنی وضاحت پیش کی ۔ کہ تھوڑا تھوڑا آٹا،گڑ اور گھی ایک طویل عرصہ تک بچایا گیا ۔ اور اس سے یہ حلوہ تیار کیا گیا ۔ تو صاحب اقتدار نے لنگر خانے کے منتظمین کو حکم دے دیا کہ وہ اتنا سٹاک روزانہ کم جاری کیا کریں ۔ یہ ہے کالی کملی والے ﷺ کے پیرؤ کاروں کی زندگی کا ایک مختصر عکس جو حکمرانوں کو درس حکمرانی کے آ داب سکھاتا ہے ۔ اس دور میں لوگ خوش حال کیوں نہ ہوں ۔ عوام الناس کے گھروں میں اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا تیار ہوتا ۔ لیکن نہ خلیفہ وقت اور نہ ہی اس کے کارندے، عدل و انصاف کا دامن چھوڑتے ۔ اب ان لٹیروں، ڈاکووں، غاصبوں ، دہشت گردوں، اور نبی کریم ﷺکے کلمہ پڑھنے والے عمل کے منافقوں سے پوچھ لینا بہتر ہو گا کہ تم جس طرح ملک کا بجٹ ‘ وسائل ، زکوٰۃ اور عشر ،ملکی اور غیر ملکی قرضے ہضم کرکے اپنی ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں، کو پھیلاتے جا رہے ہو ۔ تمہارا مذہب کیا ہے ۔ تمہارا دین کیا ہے ۔ تمہارا کریکٹر کیا ہے۔ تم کون ہو۔ ملت کو اس کا جواب دو! اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ عیاش ٹو لہ شرعی نظام کو ملک میں رائج کرنے سے گریز کرتا ہے اور اس عظیم بنیادی سچائی اور صداقت کو جھٹلاتا چلا آ رہاہے۔اللہ تعالیٰ کے خلاف نافرمانی کی جنگ میں مبتلا ہیں ۔
یہ کیسے حکمران ہیں کہ ملکی خزانے کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹتے رہتے ہیں ۔ یہ حکومت کے فرائض ادا کرنے کے لئے سیاست میں نہیں آتے ۔ بلکہ اپنی تجارت ، اپنے کاروبار، اپنی جائیدادیں ، اپنے محل ، اپنی پجارو، لینڈ کروزر، ہیلی کاپٹر ، جہاز۔، بڑی بڑی شوگر ملیں، لوہے کی ملیں، بڑی بڑی فیکٹریاں، بڑے بڑے کارخانے، اور اپنے ذاتی معاشی نظام کو بہتر سے بہتر کرنے کے لئے قو می خدمت گار بن کر ملک کے اقتدار پر براجمان ہو جاتے ہیں ۔ ملک کا ستانو ے فی صد بجٹ یہ اور انکے سسٹم کے پرزے مختلف مرا عا ت اور تنخواہوں کے ذریعہ چاٹ جاتے ہیں۔ اے سیاست دانو ! تمہارے لئے نیک مشور ہ ہے کہ تم اقتدار کی جنگ اور اس گھناؤنے سسٹم کو ختم کرو اور راہ نجات کا راستہ اختیار کرو۔اے حکمرا نو ں اپنی ذمہ داری اور فرض کو دین کی روشنی میں پورا کرو۔عمل کی خوشبو سے ملت کے دلوں کو مسخر کرو۔فوری طور پر شریعت محمدیﷺ کا نفاذ ملک میں رائج کرو۔ملک و ملت جمہو ریت کے کسی اور بے دین دانش کدہ کے طریقہ یا نصا ب کی متحمل نہیںہو سکتی ۔اور نہ ہی مزید برداشت کر سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے نظام کے خلاف جنگ بند کرو،ورنہ تباہی ،گمراہی،عذاب الٰہی اور نیست و نابود ہو نے والی گھنٹی کا انتظار کر لو۔اب حکمران یہ جواز پیش نہیں کر سکتے کہ انکو وقت سے پہلے فطرت نے آگاہ نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ ہمارے مجاہدوں، غازیوں کی رہنما ئی فر مائے اور اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کی تو فیق بھی تا کہ وہ اپنے اس طیب مشن کی تکمیل کر سکیں ۔آمین
تم نے جو فرعون اور قارون کے خود غرضی،نفس پرستی ،عیاشی ،حق تلفی،انصاف کشی اور استحصالی نظام کے جام نوش کئے ہیں ۔ یہ صرف تمہیں جمہوریت کے مروجہ با طل ، غاصب مغرب کے مئے خانے سے ہی میسر آ سکتے ہیں ۔ وہ کالی کملی ﷺ والے کی سادگی، شرافت، عدل، انصاف، قلیل ضروریات، صبرو تحمل،برداشت، طہارت، پاکیزگی، رحم دلی، کریمی، محبت، بخشش، سخاوت، فاقہ مستی اور عجز و انکساری اورانسا نی حقو ق کی ادائیگی کی مقدس مسند پر بیٹھنے کی کیسے جرا ت کر سکتے ہیں ۔ شرعی نظام واقعی ان کے لئے زہر قاتل ہے ۔ انہوں نے عیش و عشرت کی چار روزہ زندگی گزارنے کے لئے کیسے اذیت ناک ، لرزہ خیز، معاشی ، معاشرتی، غاصبانہ، ظالمانہ، چھینا جھپٹی کا عمل زندگی کا حصہ بنا رکھا ہے ۔ اعتدال کو ختم کرکے شاہ خرچیوں کی چتا کا دوزخ ملک میں سلگا رکھا ہے ۔ عزت، دولت، شہرت، اور اقتدار کے لئے ناجائز ذرائع کے مجرموں کی محنت کا انجام تکمیل جرائم ہی تو ہے ۔ انہوں نے تو زندگی اسی مقصد کے لئے وقف کر رکھی ہے ۔ ان کی داستانیں اور ریکارڈ ، اس جہان فانی کے عبرت کد ے میں دستیاب اور محفوظ ہے ۔ا ور ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی سے لے کر آج تک ان تمام شہرت یافتہ فیوڈل لارڈز کا ریکارڈ عبرت کدے کی زیینت بنا پڑا ہے ۔ اس تمام بنیادی معاشی ،معاشرتی، ظالمانہ، پالیسیوں، اور طور طریقوں کا معمولی سا تجزیہ ، موازنہ ، مختصر سا تنقیدی جائزہ اور سادہ سی روئیداد پیش کی جاتی ہے ۔ شا ید کوئی بات ، کوئی واقعہ ، کوئی حقیقت، کوئی صداقت، کوئی دلخراش نوحہ، ان کے قویٰ کی کسی کھڑکی کے راستے ان کی روح تک رسائی حاصل کر سکے ۔ ان کو ندامت اور توبہ کا غسل میسر آ سکے اور فوجی قیادت ملک میں دستور مقد س کا نفاذ عمل میں لاکر ملت کے نقصا ن کی تلافی کر سکے ۔اسلام ایک آسمانی اور ر وحانی ، ابدی، ازلی، فطرتی، عدلی، مساواتی، انتظامی، اور ہر زاویہ فکر پر محیط، انسان، اور انسانیت پر مبنی ضابطہ حیات عطا کرتا ہے ۔ جو پوری انسانیت کی فلاح و بہبود اور تحفظ کا ضامن ہے۔ یہ کسی فلسفی، منطقی، ریاضی دان، ماہر اقتصادیات، سوشلزم، کیمونزم، جمہوریت، یا کسی ماہرین کے نظریات یا کسی سیاست دان یا بین الاقوامی طا قتو ں کا پاس شدہ، مرتب شدہ، ترمیم شدہ، قوانین و ضوابط کی اختراع نہیں۔ جو کبھی انسانیت کے دل میں کانٹا بن کر چبھنے لگے اور کبھی نفرت کی آگ لگا نے کا عمل جاری کر رکھے۔ نظریات ، مذاہب، رنگ ، نسل، اقوام، پر مشتمل انسانوں کا قتا ل کیا جائے۔ ان کی بستیاں، فنا کی جائیں۔ جہاں ان کی جائیدادیں ، گھر، گھروندے، کاروبار، نیست و نابود کئے جائیں۔ وہاں معصوم ، بے گناہ ، مرد و زن، بچوں، معصوموں، بوڑھوں، جوانوں کو بڑی بربریت سے کچل دیا جائے۔ جہاں جدید اسلحہ کی طاقت سے کمزور، ضعیف کو اس طرح راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے ۔ ان کے فطرتی حقوق کو اسطرح صلب کر لیا جائے۔ اور دنیا میں ان کو کوئی پرسان حال اور پوچھنے والا نہ ہو ۔ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے اس وقت بھی اقوام متحدہ کے نام پر ایک بین الاقوامی تنظیم بنا رکھی ہے ۔ جس کا بنیادی فرض ایسے ظلم و ستم کو روکنا، کمزور و ضعیف قوموں یا انسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ وہ کس حد تک یہ فرض ادا کر رہی ہے ۔ اور کس حد تک انہوں نے بین الاقوامی مسائل کو حل کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیا ہے۔ اس کی چند واضح مثالیں درج ذیل ہیں ۔:
(۱) اسرائیل کا مصر ، شام ، اردن، فلسطین، یعنی عرب سٹیٹ پر حملہ، جدید ہتھیاروں سے ، قتل و غارت، اور وسیع علاقے پر قبضہ، دنیا میں بربریت کی زندہ مثال ہے اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔
(۲ ) کشمیر پر ۵۳ سالوں سے ہندوستان کا غاصبانہ قبضہ اور قتل و غارت جاری ہے۔ ہندوستان ابتدائی ایام میں یہ کیس خود بین الاقوامی عدالت کے پاس استصواب رائے کے لئے لے کر گیا ۔ جو ابھی تک التوا میں پڑا ہے ۔ اس کے بعد چھ سات لاکھ ٖ فوج کی نفری مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں اور حریت پسندوں کو قتل کرتی چلی آ رہی ہے۔ تقریبا اسی نوے ہزار انسانوں کو اس بربریت کا شکار بنایا جا چکا ہے اور ابھی حریت پسند عوام ہندوستان کے ظالمانہ ، قاتلانہ، غاصبانہ، ظلم کا نشانہ بنتے چلے آ رہے ہیں۔ یہا ں کا قانون نرالا جو ا س بربریت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھا ئے اور مقابلہ کرے وہ دہشت گرد ۔یہ کیس ابھی تک ان بین الاقوامی اقوام کی عدالت میں زیر سماعت ہے اور آج تک پو نے لاکھ کے قریب کشمیری قتل ہو چکے ہیں اور ہندوستان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔
(۳) اس کے برعکس انڈونیشیا میں استصواب رائے کے ذریعہ ایک صوبہ کو آزادی دلوا دی گئی ہے۔ جہاں عیسائیوں کی اکثریت تھی ۔ ان کا کیس نہ تو یو ۔این ۔او کے پاس زیر سماعت تھا ۔اور نہ ہی دنیا کی کسی اور عدالت میں۔ یہ بین الاقوامی سطح کی عدالتو ں کا انصاف کس قدر غیر منصفانہ ہے ۔ کہ ان بڑے عالمی ممالک کے منصفوں نے کمال ہنر مندی سے مسلمانوں کے ملک سے ایک صوبہ کو استصواب رائے کی روشنی میں جن میں عیسائیوں کی اکثریت تھی ان کو ایک الگ ریاست مہیا کر دی ۔
(۴) کوسووا اور بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا۔ جانیں بچانے کے لئے انہوں نے اپنے گھر بار ، کاروبار زندگی کی ہر آسائش کو الوداع کہا اور جانیں بچانے کی خاطر ملک سے ہجر ت کرکے پیدل دوسرے پڑوسی ممالک کی طرف چل پڑے اور طاقت ور قوم ان کو روندتی ،قتل کرتی رہی ۔ ان کی اجتماعی قبروں کے نشانات ڈھونڈھے گئے اور ایک ایک قبر میں دو دو سو آدمیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد ہوا اور انہیں بعد میں قتل کیا گیا ۔ جب وہ ملک اور قوم پوری طرح تباہ و برباد ہو گئی تو بڑی طاقتوں نے ان کے آنسوؤں کو پونچھنے کے لئے کاروائی عمل میں لائی۔ لیکن بین الاقوامی عدالت نے حملہ آوروں، غاصبوں، کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کی ۔ جب کہ بیشتر لوگ قتل کر دیئے گئے ۔ بیشتر سفر کی اذیتوں ، بھوک اور بیماری کا شکار ہوئے ۔ دو سری طرف عراق کی طرف دیکھو اس پر بات بات پر پابند یاں عائد ہو تی چلی آ رہی ہیں۔ا نصا ف اپنی زبان کھولے کھڑا ہے۔
(۵) ایران عراق کی جنگ کرائی گئی۔ اور دونوں اطراف سے مسلمانوں کی لاتعداد جانوں کا نقصا ن ہوا ۔ اور ان کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو ختم کیا گیا۔ اس طرح دونوں مسلمان طاقتوں کو کمزور کر کے اسرائیل کے خلاف عربوں کی مدد کرنے کے قابل نہ چھوڑا ۔ اور یہ دونوں ملک اپنی کمزوری اور ناتوانی کی طبعی موت مر گئے ۔
(۶) عراق سے عربوں پر حملہ کروایا گیا۔ عربوں کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے تیل کے ذخائر پر کمال ہنر مندی سے قابض ہوبیٹھے ۔ بیکار اسلحہ عراق کے خلاف استعمال کرکے عربوں کے اربوں ڈالر قرضے سے نجات حاصل کی اور اس کے برعکس عربوں کو کروڑوں ڈالروں کا مقروض کردیا ۔عربوں کو حا لا ت و واقعا ت کی تلخی میں ڈال اور پھنسا کر انکے ملک اور وسا ئل پر کنٹرول حاصل کر لیا ،تیل کے ذخا ئر پر قابض ہو بیٹھا۔
(۷) عراق کو دنیا سے الگ تھلگ کروا کر مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان ملک کو ذلیل و خوار کیا ۔ اور بین الاقوامی سطح پر اس کو الگ تھلک کر کے اسکی طا قت اور اہمیت کو بری طرح اپاہج کر دیا ۔ اسطرح مسلمانو ں کو آپس میں الجھا دیا۔
(۸) افغانستان کو روس کے خلاف استعمال کیا ۔ جب مقصد حاصل ہو گیا۔ اور روس کو افغا نوں کے ہا تھو ں ٹکڑے ٹکڑے کروا کر اس کی تمام ریاستیں آزاد کرا دیں تو اس بڑی طاقت نے افغانستان سے اپنی آنکھیں موڑ لیں اور اس ملک کو بعد میں دہشت گرد قرار دلوا کر تمام دنیا میں اپنی باطل غاصب اورمکروہ سیاست کا کرداری ثبوت مہیا کیا۔حالانکہ دنیا بہتر جانتی ہے کہ افغانوںکو روس کے خلاف ہر قسم کی ٹریننگ کس ملک نے دی ۔
(۹) چیچنیا کے مسلمانوں کو روس کے ہاتھوں مکمل تباہ ہوتے اقوام عالم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہیں ۔جدید اسلحہ سے ان کے شہروں کو خس و خاشاک کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے ۔ چیچنیا کو فتح کرنے کے بعد مسلمان بچوں ، بوڑھوں، جوانوں ، عورتوں کا قتل عام کیا گیا ۔ عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ اور ابھی یہ ظلم جاری و ساری ہے ۔ دنیا کی کوئی قوم ان کی مدد ان کی معاونت کو نہیں پہنچی۔ اور نہ ہی کسی عالمی طاقت نے ان کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ جب وہ لوگ اپنی آزادی اور بقا کی گوریلا جنگ لڑیں گے تو پھر یہی ممالک ان کو دہشت گرد قرار دیں گے۔
(۱۰) یہ تمام مظالم، جمہوریت، کیمونسٹ ممالک کے دانش وروں ،ان کے مفکروں، ان کے سکالروں، ان کے داناؤں ، ان کے رہنماؤں،ان کے سیا ست دانوں، یعنی انسانی فکر و دانش، عقل و ذہن، کے مجموعی ا سا س اور احساس سے تشکیل کئے ہوئے فرد سے افراد تک، حقوق و فرائض نظم و ضبط سے تشکیل کئے ہوئے اقوام عالم کے یہ رائج الوقت عدل و انصاف کے پیما نے اور طور طریقے ہیں۔ جن کو یہ عالمی امن قائم رکھنے کے لئے بروئے کار لاتے چلے آ رہے ہیں اور کوئی انکو پو چھنے والا ہی نہیں۔
یہ تمام قتل و غارت، یہ تمام بربریت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس دور کی بڑی بڑی طاقتیں امریکہ اور روس دنیا کے کمزور ممالک سے جس طرح کا ،جی چاہے ،سلوک کر لیں ان کا حق بن چکا ہے ۔ ویسے تو اقوام متحدہ کا منشور یعنی انسانیت کی بہبود کے فرائض ادا کرنے کی پابندی کرنا ہے ۔ کسی قسم کی آفا ت، زلزلہ ،طوفان، سیلاب، بیماری، دنیا کے کسی کونے کھدرے یا اسکے علاوہ کسی قوم ،کسی ملک پر بلائے نا گہا نی بن کر نازل ہو گئی ہو۔ یا اگر کو ئی طاقتور ملک کسی کمزور ملک پر جا ر حیت کرے تو ان کی فوری امداد اور تلافی کرنا‘ ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ،ان کے منشور اور فریضہ کا حصہ ہے۔ لیکن شا ئد اس منشور سے امریکہ ، روس، بین ا لاقوامی دنیا کی دونو ں بڑی طا قتیں مستثنیٰ قرار پا چکی ہیں ۔ان کو مکمل اختیار ہے کہ وہ خود یا ان کے اشارے پر ناچنے والے ممالک یا ان کے دوست ممالک ، جو جی چاہیں کر لیں ۔ ان پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہے ۔ یہ تہذیب ، یہ تمدن، جس کی بنیاد ناانصا فی، ظلم، سفاکی ، درندگی، قتل و غارت پر ہو۔ ان کی حاکمیت اس جہان رنگ و بو میں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی ۔ زوال ، تباہی، ،بربادی اور رسوائی ان اقوام کے نصیب کا حصہ ہیں ۔ دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ۔ اقوام عالم ، عالم اسلام اور خاص کر پاکستا نی مسلما نو ں کے لئے یہ تمام حقائق سراپا سوال بنے ہوئے ہیں۔ان بڑی طاقتوں کے اخلاق ، کردار، بے حسی، ظلم، زیادتی، ناانصافی ،عدل کشی، بربریت، جدید اسلحہ کے ساتھ بستیوں، گاؤں، شہروں، انسانوں اور حیوانوں اور ہر قسم کی مخلوق خدا کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنے والوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔ فطرت مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر جگا رہی ہے اور پکار رہی ہے کہ انسانیت کے رکھوالو! جاگو ! کافرانہ ، منافقانہ ، غاصبانہ طرز حیات سے استغفار پڑھ لو ۔ زندگی کو دستور مقدس کے نظام کے سانچے میں ڈھال لو۔ خاص کر یہ سوال پاکستانی مسلمانوں اور حکمرانوں کے لئے تنبیہ ہے ۔ کہ تم نے تو یہ ملک اسی طرز حیات اور دستو ر مقدس کے نفاذ کے لئے حاصل کیا تھا ۔ تا کہ تم مخلو ق خدا اور پوری انسانیت کے فطرتی حقو ق کے فرائض کوبرہا ن الٰہی کی روشنی میں ادا کر سکو۔ لیکن بدقسمتی سے اس غاصب طبقہ نے ایسے کالے قانون اور باطل راستے ا ختیار کر رکھے ہیں ۔ جس سے انکی گر فت ملکی وسائل اور خزانہ پر مضبوط ہو چکی ہے اور اقتدار کے تمام دروازے انہی غاصب، بے رحم ، جاگیرداروں ،سرمایہ داروں کے محلوں میں جا کھلتے ہیں ۔ملک میں ان تمام اعلیٰ سیاسی جماعتوں کے سربراہ انہی خاندانوں سے چنے جاتے ہیں ۔ ملت اسلامیہ کو اپنی اپنی جماعتوں میں تقسیم کرکے ملی وحدت کو پارہ پارہ کر تے چلے آ ر ہے ہیں ۔ ہر چھوٹی جماعت اورتمام دینی جما عتو ں کو ان کے قد کے مطابق ان کے منہ میں اقتدار، وسائل، کی ہڈی ڈال دی جاتی ہے ۔ اس سیا ست کی دنیا میں سب چور،ڈاکو،رہزن اور لٹیرے اکٹھے ہو کر ملکی خزانہ اور وسا ئل حسب استطاعت لوٹتے چلے آ رہے ہیں۔


بدقسمتی سے قائد اعظم ؒ کے بعد اس ملت کو آج تک کوئی بھی لیڈر میسر نہیں آ سکا جو ملک و ملت کی خاطر اپنا تن ،من، دھن اور اپنی تمام جائداد وقف کر سکتا اور اس ملت کی کشتی کو جمہوریت کے ان غاصب بھیڑیوں اور عدل کش درندوں سے چھڑا کر ملک میں دستور مقدس، کا نفاذ کر دیتا ۔ ہر کسی نے دولت، کارخانے، فیکٹریاں، ملیں، کاروبار، زمینیں، محل، کوٹھیاں، گاڑیاں، حکومت کے ذریعے ملک کے اقتدار وسائل، خزانہ، اندرون بیرون ممالک تمام معاشی ذرائع، کنٹرول میں لے کر اور آئی ایم ایف کے قرضے اپنی اپنی حیثیتوں کے مطابق لوٹے ۔ طبقاتی تعلیمی نظام اور پبلک سروس کمیشن کا ایک ایسا نظام دیا کہ جس میں ان طبقوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص انتظامیہ ، عدلیہ اور ملک کے تمام اداروں میں افسر شاہی اور منصف شاہی کی اعلیٰ اسامیوں پر ان کی او لادوں کے سوا اور کوئی نہ آ سکے ۔اسطرح ملکی خزانہ ،وسائل اور تمام قرضے، عدل و انصاف کے تمام تقا ضوں کوپس پشت ڈال کر تفاوتی تنخواہوںبے شمار سر کاری سہولتوںاسکے علاوہ رشوت،کمیشن،کرپشن کے ذریعہ آپس میں تقسیم کر تے چلے آ رہے ہیں ۔
اے جمہوریت کے دانش کدے کے عظیم اعلیٰ تعلیم یافتہ،نامور قانون سازو، قانون دانوں،انتظا میہ اور عدلیہ کے ماہرو۔اسکے تعلیمی نصاب اور اسکی بہترین درسگاہوں کی تربیت کے شا ہکا رو،اے مغرب کی تہذیب و تمدن کے پیرو کارو ،جاگیردارو ، سرمایہ دارو،سیاستدانوں،اے افسر شاہی،اے منصف شاہی، اے ملک و ملت کے حاکموں، آپکو ملت نے ۱۹۴۷سے لیکر آج تک یعنی ۵۳ سا لو ں سے زیادہ عرصہ جمہوریت کے تحت حکومت۔اقتدار۔ملکی وسا ئل۔ملکی، غیر ملکی قرضے سرکاری خزانہ اور ۱۴ کروڑانسا نو ںکی محنت کا ثمرسب کچھ تمہارے ہاتھ میںدئے رکھا۔تم سب نے ملکر ملک میں طبقا تی تعلیم، طبقاتی انتظا میہ ، طبقا تی افسر شاہی ، طبقا تی منصف شاہی ، طبقاتی معاشی نظا م،طبقاتی معاشرتی نظام،اسطرح منظم اور مروج کر لیا کہ جس میںصرف ایک آدھ فیصد مخصوص حکمرا نو ں کے ہاتھو ں میں ملک کی تمام معیثت سمٹ کر پہنچ گئی۔اسکے علاوہ ہرقسم کی تفاوتی درسگاہو ں اور اداروں پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی۔ ملک کی تمام انتظامیہ اور عدلیہ کی تمام اہم پوسٹوںپر اپنے بیٹے‘ بیٹیوں، بھانجے، بھانجیوں، بھتیجے،بھتیجیوں کے لئے مختص کر لیں۔ آپس میں ملکر ملکی خزانہ ، وسائل ، عوام الناس کی چھوٹی چھوٹی جمع شدہ بینکوں میں رقوم کے قرضے اور غیر ملکی قرضے ازخود استعمال میں لاتے ر ہے اور خود ہی استفادہ کرتے رہے۔ ایک لاکھ روپے کی بنجر، دلدل اور نا کارہ زمین پر کروڑوں روپے قر ضہ حاصل کرتے ۔پھر محل،گاڑیاں ۔ ملیں، کارخانے، فیکٹریاں ، تیار کرتے ، انہی قرضوں سے اندرون اور بیرون ممالک ، ہر قسم کے کاروبار چلاتے اور پھیلاتے رہے ۔ اسکے علاوہ اقتدار کی نوک پر سمگلنگ کو اپنا ذریعہ آمدن بنا تے اور انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنی لونڈی بنا کر رکھا۔ کسی کی کیا مجال کہ انکی طرف نظر اٹھا کر دیکھ سکے۔ جسطرح انکی خواندگی کی شرح بڑھتی رہی اسی لحاظ سے پورے ملک میں انکی یہ ملازمتیں بھی برابر بڑھتی رہیں اور اسی مخصوص طریقہ کار کے تحت انکی اولادیں ، افسر شاہی ، منصف شاہی کینسر کی طرح پورے ملک میں پھیلتی گئیں اور یہ طبقے اپنی گرفت مضبوط کرتے گئے۔
عوام الناس انکی سرکاری تنخواہوں‘بے شمار سہولتوں‘ گاڑیوں‘ پٹرول‘ شاہی محلوں‘ عظیم دفاتروں کا ایندھن بنتے رہے۔ یہ قبضہ گروپ کبھی جمہوریت کے تحت صدارتی نظام ، کبھی پارلیمانی نظام ، کبھی بنیادی جمہوریت ، کبھی سبز باغ، کبھی سفید باغ، کبھی سیاہ باغ، کوئی بھی طرز حکومت ہو ، انکی اجارہ داری ، ہر طریقہ، ہر سسٹم، ہر نظام میں قائم ہوتی رہتی ہے۔ جب تک یہ عدل کش نظام ، یہ طریقے، یہ سسٹم، جن سے انکی اجارہ داری قائم ہوتی ہے اس درخت کی جڑوں کو معاشرے کے ڈھانچے سے نکال کر باہر نہیں پھینک دیتے ملک میں عدل و انصاف ، اعتدال، مساوات، نہ قائم کرسکتے ہیں اور نہ ہی چودہ کروڑ انسانوں کا استحصال اس وقت تک ختم کیا جا سکتا ہے، جب تک ان سے انکی تمام جا ئیدادیں اور مروجہ سسٹم اور نظا م ختم نہ کر دیں۔ اسکے علاوہ ایسا کرنا ممکن ہی نہیں ۔ عوام ٹیکسوں کی پھانسی پر لٹکتے رہیں گے اور یہ ان ٹیکسوں سے جہازوں اور لینڈ کروزروں پر داد عیش دیتے رہیں گئے۔ ملک گروی پڑ چکا ہے۔ ملکی معیشت اور عوام الناس کی معاشی زندگی انکی جموریت کی آغوش میں سسک سسک اورتڑپ تڑپ کر عدل کشی ، ناانصافی ، ظلم ، بربریت، لوٹ کھسوٹ، دہشت گردی اور اجارہ داری کے کالے قانون اور سسٹم میں جکڑے جاتی ہے اور معصوم عوام ان بے شمار ٹیکسو ں اور مہنگا ئی کے شکنجوں میں دم توڑے جاتے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر کون سا ظلم ہے جو انھوں نے نہیں کیا۔ ۱۹۴۷ سے جمہوریت کے تحت آئین بناتے رہے۔ ۱۹۷۳ میں آےئن مرتب کیا۔ ملک کا ملی مذہب اسلام قرار پایا۔ پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا اور اسلامی سوشلزم سے اپنے کردار کا آغاز کیا۔ ادھر تم ادھر ہم کا سلوگن یعنی نعرہ بلند کیا۔ ملک دو ٹکرے ہوا۔مارشل لا ء حکو مت آ ئی،اوقا ف کا محکمہ بنایا، مسجدیں تعمیر کر دیں۔ باطل نظام اور غاصب سسٹم کی نماز جاری رکھی ۔اسلام کے نفاذ کا نام نہ لیا۔ دو بارہ پیپلز پارٹی اپنے والہانہ اور فا تحانہ انداز میں آ ئی،اور نیا زور دار منشور قوم کو پیش کیا اور وزیر اعظم ہاؤس کو اصطبل میں بدل دیا۔ ریس کے گھو ڑے اور انکے مالشیوں کا مرکز بن گیا ۔سر ے محل بنائے ، اقتدار کی نوک پر انہوں نے اور انکی پارٹی کے ممبران نے ملک کے خزانہ اوروسا ئل اور غیر ملکی قرضو ں کو خوب لوٹا۔ مسلم لیگ کی حکومت آئی ،اسلامائزیشن، کاسہ گدائی توڑنے، اور پیپلز پار ٹی کے احتساب کا قوم سے کیا ہوا وعدہ پورا کرتی رہی۔ انھوں نے اور انکے رفقاء نے اپنے کاروباروں، ملکی اور غیر ملکی تجارت ، ملوں ، فیکٹریوں، کارخانوں کی ملک کے اندر اور ملک کے باہر اپنے مینڈیٹ کی طاقت سے ا پنی سکہ شا ہی خوب قائم کی، پھلے پھو لے اور ترقی کی ۔ رائے ونڈ ہاؤس تعمیر کئے ۔ یہ عدل کش با طل اور غا صب کھیل ۱۹۴۷ سے شرو ع ہے۔ اور انکی تمام جائدادیں ملک کے اندر اور بیرون ممالک اسی اقتدار کی ظالما نہ نو ک پر کرپشن ، رشوت ، سمگلنگ اور ہر قسم کے غاصبا نہ، ناجائز ذرائع سے تیار ہو تی چلی آ رہی ہیں ۔ انکی یہ تمام جائدادیں پاکستان کے عوا م الناس اور حکومت پاکستان کی ملکیت ہیں اور اس تمام دولت کو واپس لینا اور حکومت پاکستان کے نام ضبط کرنا لازم ہو چکاہے ۔کیونکہ ملک میں تیار کردہ انکے تمام غاصب قانون اور جابرسسٹم جن کے ذریعہ انھوں نے عوام کے ساتھ دھوکہ ، فریب ، ناانصافی ظلم،جبر کر کے یہ تمام جائدادیں بنائیں ‘ اور انکے یہ عشرت کدے اور عیا شی کے سارے سازو سا مان ،چودہ کروڑ عوام کی ہی اصل ملکیت ہیں۔ انکی یہ تما م جائدادیں انکے اقتدار کے جرائم کی پیداوار ہیں ۔ وہ عوام سے دھوکہ سے اقتدار حاصل کرتے رہے۔ قانون اور سسٹم انکے چور دروازو ں کے راستہ بنے، انتظامیہ کی افسر شاہی اور عدلیہ کی منصف شاہی اور ان تمام حکمرانوں یعنی ما مو ں ، بھا نجوں نے ملکر ملک میں راہزنی، ڈاکے، دہشت گردی، قتل و غارت کا استحصالی نظام مروج کر کے ملک میں دہشت گردوں کا رول ادا کیا۔ ملک و ملت کے خو ن سے خوب ہولی کھیلی۔ ان میں سے ہر ایک کو 1/14 کروڑ حصہ دے کربقایا تمام دولت ، ملوں، فیکٹریوں، محلوں، گاڑیو ں اور ہر قسم کی ملکیت بحق حکومت پاکستان ضبط کر کے انکو اقتدار سے الگ کرنا ضروری ہے۔ عوام الناس سے ریفرنڈم کروا کر جمہوریت کے قانون اور سسٹم سے ہی انکو انصاف تو مہیا کردو۔کسی محتسب سے انکوائری کروانے کی ضرورت نہیں ۔اسکے بعد ملک ہر قسم کے عذاب سے بچ جائے گا۔اسکے ساتھ انکو قا نون کے مطا بق ایسی سزائیں دی جائیںکہ آیندہ اس قسم کی کو ئی کونپل ملک میں نہ پنپ سکے ،انکو اور انکے محتسبوں کو کم از کم احتساب کے معنی تو آ جائیں۔
دنیا کے کسی ترقی پذیر ملک میں سرکاری شاہی محل ، سرکاری گاڑیاں، سرکاری ٹیلیفون، تفاوتی تنخواہیں، شاہی سہولتیں، پروٹو کول اخراجات، شاہی محلوں پر مشتمل رہائشیں ، شاہی مزین دفاتر، سرکاری بے شمار خدمت گار وں کی فوج مہیا کرنے یا لا تعداد غیر ضروری سرکاری خزانے کے اخراجات کا عدل کش نظام مروج نہیں۔ تمام مغربی ممالک اور چائنا جیسے ملک کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر دیکھ لو، صرف چار پانچ مرلے پر مشتمل سادہ کوارٹر نما گھر سیاستدانوں اور افسروں کو مہیا کیے جاتے ہیں۔ تمام سیاسی حکمران اور سرکاری ملازمین پیدل ، سائیکلوں ، بسو ں پر دفتروں میں آتے جاتے ہیں۔ بہت ہی کم سرکاری گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ان حکمرانوں ، افسر شاہی ،نوکرشاہی اور منصف شاہی نے ملک کا نظا م اور سسٹم ،عدل و انصاف اور اعتدال کے متضاد نافذ کر رکھا ہے ۔ملک میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد گن لو۔حکمرانوں کے سرکاری محلوں کی گنتی کر لو۔ ٹیلیفو نو ں کی دفتروں اور شاہی رہائش گا ہوں پر نظر ڈال لو۔ اسی طرح افسر شاہی ،نوکر شاہی، منصف شاہی کی سرکاری رہائش گاہوں ، شاہی دفتروں ، وال ٹو وال قیمتی قا لینوں ، ائیر کنڈیشن نظاموں ، اردلیوں ، ڈرایؤ ر وں ، مالیوں ، گن مینوں،چوکیداروںاور بے شمار سرکاری سہو لتوں اور گھناؤنے لوٹ مار کے سسٹم کی طرف دیکھ لو۔ان کے شاہی دستر خوانوں اور شاہی اخراجات کی طرف دھیان دے لو۔ان کے بچوں کے سکولوں ،کالجوں کی فیسوں اور اخراجات کا اندازہ لگا لو ۔ان کے یہ اخراجات ان کی تنخواہوں سے زیادہ ۔ان شاہ خرچیوں نے انہیں ہر قسم کی کرپشن کا عا دی بنا رکھا ہے۔رشوت، کمیشن،بریف کیس ما فیا، ان کی زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ سمگلنگ، باڑہ مارکیٹیں، نار کاٹکس جیسے گھناؤنے جرائم ان کے زیر نگرانی چلتے اور پرورش پاتے چلے آرہے ہیں۔حکمرانو ں نے ملکی سیا ست پر قبضہ کر لیا اور افسر شاہی اور منصف شاہی نے ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ پر قبضہ کر لیا۔ انصاف کا ترازو ،اقتدار کی نوک سے ایسا مرتب کیا کہ جس سے ملک کا خزانہ،وسائل،ملکی، غیر ملکی قرضے درندوںکی طرح نگلتے رہے۔چودہ کروڑ کسانوں مزدوروں ، ہنر مندوں،محنت کشوں کی محنت و مشقت اور خون پسینے سے اکٹھے کےئے وسائل کر گسوںکی طرح نو چتے رہے۔ انکی کلبوں میں شباب اور شراب کے دور چلتے رہے۔حکمران،انتظامیہ اور عدلیہ ملک میں ۵۳ سا لوں تک عدل کشی کی ہولی کھیلتے رہے۔ ریگستانوں ، صحراؤں میں انسانوں اور حیوا نوں کو بھوک اور پیاس کی اذیتوں کے سپرد کرتے رہے۔ان کو معاف کرنا اور ان کے نظام اور سسٹم کو جاری رکھنا ظلم ہی نہیں،بلکہ انسانیت کے قتال کو جاری رکھنے کے مترادف ہے ۔ ان تمام معاشی قاتلوں اور سماجی بیماریوں کا ایک علاج۔دستور مقدس کا فوری نفاذ،وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ان کے مروجہ باطل سسٹم اور نظام کو دستور مقدس کا غسل دے کر ملت اسلامیہ کو نجات دلانا نہایت ضروری ہو چکا ہے ۔وقت کی تلوار،عوام کی آواز ، طالبعلموں کی پکار، ان غاصبوں کاصحیح معنوں میں احتساب چاہتی ہے ۔عدل و انصاف کا نفاذاور اسی کا راج چاہتی ہے۔اچھے حکمران اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہیں اور عوام سے عزت پاتے ہیں۔
عدل و انصاف جو ملت کا بنیادی اور فطرتی حق ہے جب تک وہ اس سے محروم رہے گی اور ملک تباہی کی منزل کی طرف گا مزن رہے گا۔معتوب افسر شاہی، منصف شاہی،سابقہ سیا ست دانوں،حکمرانوں نے احتساب کے عمل سے بچنے کے لئے ، ملک دشمن عناصر سے مل کر اندرون خا نہ خوفناک،بھیانک ،عوام اور فوج کے درمیان نفرت پھیلانے کی گہری سازش شروع کر رکھی ہے۔وہ احتساب کے عمل سے بچ نکلنے ، عوام اور فوج کو آپس میں الجھانے میں پوری طرح مصروف ہیں۔ وہ فوج کی بندوق ان کے کندھوں پر رکھ کر ملک میں رائج الوقت، ۵۳ سالوں کے فرسودہ،عدل کش، جابر،غاصب نظام کے تحت بلوں میں، منی بجٹوںمیں، ٹیکسوں میں، مہنگائی میں،متواتر و مسلسل اضافے کی پالیسی کو اپنا کر تاجروں ، مزدوروں ،کسانوں،چھو ٹے سرکاری غیر سرکاری اہلکاروں کے گلے میں معاشی پھندے کس کر ملک میں انارکی،افرا تفری،بے چینی،دہشت گردی،قتل و غارت ، خانہ جنگی،کی طرف رخ موڑنے کے عمل میںمصروف اور اپنی عافیت کا راستہ ڈھونڈنے میں بری طرح کو شاں ہیں۔شائد ان کو یہ معلوم نہیں کہ فطرت کے مکافات کے عمل کا دور شروع ہو چکا ہے۔فوج تو اس کے عمل کا اوزارہے۔احتساب کدھر کا رخ موڑتا ہے۔ یہ مخفی راز بھی ہے اور عیاں بھی۔ وقت نے تو ملت اسلامیہ کے کریکٹر اور کردار کی تشکیل کرنے کا فر یضہ ادا کرنا ہے۔جبکہ حکمران خود بھی اس نظام اور سسٹم کا حصہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سوچ اور حا لات کا رخ کیسے مو ڑتے ہیں۔ اس کا بیان کرنا جرم ہے اور ا ن کا رونما ہونا حق ہے۔
وقت کی کتاب کا صفحہ پڑھ دیتا ہوں۔ انصاف اپنی ذات سے شروع کرو، منصف کہلاؤ گے ۔ عدل قائم کرو ، عادل کہلاؤ گے۔ تفا وتی شاہی تنخواہوں اور با د شاہی سرکاری سہولتوں کے سسٹم کو ختم کرو۔ ملک میں اعتدال قائم ہو گا۔ ملکی خزانہ کی امانت میں لوٹ مار اور ڈاکہ نہ ڈالو ، امین کہلاؤ گئے۔ ملت کے اعتماد کو دھوکہ نہ دو ، قابل اعتماد شخصیت کہلاؤ گے۔ انتظامی امور کی اعلیٰ اقدار کو بحال کرو ، تو اعلیٰ منتظمین کہلاؤ گے۔ کا نٹوں سے دامن بچا کر سفر جاری رکھو منزل پر پہنچ جاؤ گے ورنہ الجھ کر رہ جاؤ گے ۔ ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ معاشی مقتو لہ عوام پر مز ید نہ ڈالو۔عوام کی بات بھی سن لو ۔ان تمام غا صبوں سے لوٹا ہوا خزانہ پہلے فوری طور پر واپس لو۔ افسر شاہی، منصف شاہی کو لگام دو۔انگریز کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ان کی ضرورت بھی ختم ہو چکی ہے۔ان سے اور ان کے سسٹم سے ملی خزانہ اور وسا ئل کو بچا لو۔ خدا آپ کا بھلا کرے گا۔ انکی تباہ کاریوں سے خود بھی بچو اور عوام کو بھی محفوظ کرو۔ عوام ہر قیمت پر ساتھ دینگے۔کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
ملت کو اس وقت ایک اعلیٰ منصف، اعلیٰ عادل ، اعلیٰ امین ، اعلیٰ قابل اعتماد شخصیت اور اعلیٰ ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے۔ جو افسر شاہی، منصف شاہی، سیاست دانوں اور حکمت مغرب کی چالوں سے آشنا ہو، اور امت محمدیﷺ کے ام الامراض کی مرض سے بھی آگاہ ہو۔ اور سرمایہ نجف کی بینائی کا طلب گارہو۔ حضورﷺ کے احوال اور کردار کو پیار کرنے والا ہو۔ ملت کی آنکھیں ، غیر اللہ اور غفلت سے بیدارکرنے والا ہو۔ ملت کے جماعتوں میں بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو وحدت خیال بخشنے والا ہو۔ عشق کے چراغ سے ملت کا ایمان روشن کرنے والا ہو۔ حرم کی پاسبانی کی طلب کا طلب گار ہو۔ ملت اسلامیہ کے ربط و ضبط کے رشتہ کو عملی لباس پہنانے کی سوچ کا حدی خواں ہو۔ مسلمانوں کو حصار دین کے عمل کے انعامات کا جلوہ پیش کرنے والا ہو۔ سیاسی جماعتوں کے رہبروں اور انکے منشوروں کے عذاب سے نجات دلا کردستور مقدس کے انعامات کا فیض بانٹنے اور عطا کرنے والا ہو۔ وہ ملک و ملت کے بیت المال یا خزانہ سے مختصر ضروریات حاصل کر کے زندگی گزارنے والا ہو۔ وہ سپاہ سالار بھی ہو اور خلیفہ وقت بھی ہو۔ نہ وہ خود وقت کے باغ سے سیب توڑے نہ باغ ویران ہو۔ اگر وہ فاقہ میں ہو تو پوری ملت فاقہ مستی میں رقص کرے۔ وہ جانتا ہو کہ دین سے بے راہ روی اچھی نہیں ۔ یہ ملت کا جان لیوا روگ ہے۔ اس روگ اور اسکے اثرات سے ملت اسلامیہ کو نجات دلا نا ہے ۔ وقت کی تلخیوں نے انسا نی ضمیراور اس کے شعور کو حق و صدا قت کیلئے بیدار تو کرنا ہی ہے، یاد رکھو مزید اس باطل ، غاصب نظام کا دور ختم ہو چکا ہے۔ جو بھی اس نظام کو چلانے اور ملت پر مسلط کرنے کی مزید کوشش کرے گا ، اسکی تمام تدبیریں رسوائے زمانہ ہونگی۔ مکافات عمل ، تقدیر کی گھناؤنی ، بے رحم شکلوں میں ان لوگوں کی زندگی اور نظام میں داخل ہو کرانکی دنیا اور آخرت کی تباہی اور بربادی کا باعث بنے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پاس انگنت و سا ئل ا ور طاقتیں موجود ہیں۔ یقین نہیں آتا تو اپنا ورثے میں ملا ہوا سسٹم جاری رکھو۔ اپنے سے قبل تما م حکمرانوں کے ا ختتام کا دل سوز منظر دیکھ لو۔ اپنی باری کا تھوڑا سا انتظار کر لو۔ خدا نہ کرے کہ آپ ایسا کریں۔ فوج ہماری آخری پونجی ہے۔ اگر وہ بھی ناکام ہوئی تو ملک کے لئے بہتر نہ ہو گا۔ اللہ تعا لیٰ آپ کو اس راز سے آگاہی فرمائے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔آپ اور آپ کے سپہ سا لاروں کا قافلہ ملت کا یہ بگڑا ہوا کام کر جائے۔ قرآن و سنت کا نفاذ عمل میں لائیں۔ آخرت کا یہ چراغ اپنی زندگی میں جلا کر جائیں۔اس جہان سے رخصت ہونے سے پہلے استغفار پڑھ جائیں۔ دنیا اور آخرت سنور جائیگی۔ خدا اور رسول کریم ﷺ کے خلاف تمام باطل قوتیں اپنی جنگ ہار چکی ہیں۔ ا حیائے اسلام کا دور اپناآغا ز کر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپکو اور اپکے ساتھیوں کو اس کار خیر میں ا ہم رول ادا کرنے کی ہمت اورتوفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔