To Download or Open PDF Click the link Below

 

  سرزمین وطن کسان، محنت کش، ہنر مند، اور مظلوم عوام
عنایت اللہ
سرزمین پاکستان ، فطرت کاانمول عطیہ، اس خطہ میں پہاڑ، میدان، صحرا، سمندر کا حسین سنگم،جہاں چاروں موسموں کا دلکش منظر۔ جہاں نہریں، دریا، کنوئیں، ٹیوب ویل، ڈیم جہاں بارشوں کی شکل میں آسمان سے ابر رحمت کا نزول، جہاں زمین کے اندر ٹھنڈے میٹھے پانی کے بے پناہ ذخائر، جہاں پہاڑوں میں اگلتے چشموں کے پانی، جہاں ندی نالوں کا شور، جہاں موسموں کے گلے ملنے اور سرد گرم ہواؤں کے دلکش سماں، جہاں یہ فیاض دھرتی انسانوں، حیوانوں کے لئے بہترین ، عمدہ، لذیز ، تروتازہ خوراک اگلتی رہتی ہے ۔ جہاں جنت کے پھلوں اور میوہ جات کے تحفے میسر رہتے ہیں۔جہاں گائے، بھینسیں، اونٹ، بکریاں، دودھ کی نہریں جاری رکھتی ہیں۔ جہاں بادلوں کی سیاہ گھنگور گھٹائیں چھائے رہتی ہیں۔ جہاں ان کے گرجنے ، برسنے، چمکنے اور ہوا کے کندھوںپر اڑنے، جھولا جھولنے کے دلربا اور دلکش منظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ جہاں میٹھی پون کے جام چلیں، جہاں فضائیں معطر و مشفق ہوں، جہاں کیف و سرور میں مست فصلیں لہرائیں۔ جہاں سرسبز درختوں کی شاخیں جھومیں۔ جہاں چرند، پرند، صبح و شام حمد و ثناء کے میٹھے، سہانے راگ الاپیں۔جہاں بلبلیں دیپک کا راگ، جہاں کوئل ملہار ، جہاں خمرے اللہ ھو کی تانیں، اور چڑیاں چیں چیں کا ساز، چھیڑیں ۔ جہاں یہ توحید و رسالت کے پر کیف گیت الاپیں ۔ جہاں یہ اپنی اپنی تسبیح بارگاہ الٰہی میں پیش کریں۔ جہاں پتے وجد میں رقص کریں۔ جہاں ستارے نیلگوں آسمان پر چمکتے دمکتے نوری جلوے مہیا کریں۔ جہاں سناٹے ھو کا ذکر چھیڑے رکھیں۔ جہاں رات شب بیداروں کے لئے دلہن بن کر اپنی آغوش میں روح اور روحانیت کا ملاپ کرائے۔ جہاں مرد صحرائی اور مرد کوہستانی کے روحانی سوتے پھوٹیں۔ جہاں ہدی خواں ، بھولی بھٹکی انسانیت کی رہنمائی کریں۔ جہاں شر ، بارگاہ خیر میں جھک جائے۔ جہاں شبنم کے شفاف اور پاکیزہ قطرے درود و صلوۃ میں محو ہوں، جہاں باد شمیم اور باد نسیم اس پاکیزگی کو فضاؤں میں بکھیرتی پھریں۔اے دھرتی ! تجھے رب دو جہاںنے بڑی اور بے شمار خوبیاں اور صلاحیتیں بخشی ہیں۔ وہاں فطرت نے حشرات الارض، درند، چرند، پرند اور انسانوں کے لئے بے بہا ہر قسم کی خوراک، طرح طرح کی سبزیاں ، اعلیٰ پھل، لذیذ میوہ جات، دودھ، شہد، اس خطۂ ارض کو بڑی فیاضی سے عطا کیا ہے۔ تو نے اپنی جنتا کو کسی غیر ممالک کامحتاج نہیں چھوڑا۔ ضروریات حیات کا مخفی خزانہ اس دھرتی نے اپنے سینے کے پردوں میں مختلف اقسام کے بڑے وافر اور وسیع ذخائر چھپائے رکھے ہیں ۔ مخلوق خدا اپنی خوراک و لباس کی امانتیں اس سے حسب ضرورت وصو ل کرتی رہتی ہے۔ ملک کے عوام ، مزدور، ہنر مندِ کسانوں کو اعلیٰ صلاحیتیں ۔لا جواب اہلیت ، بے پناہ ہمت، لا متناہی صبر، تحمل، بردباری، استقامت، برداشت اور ان تھک محنت کی دولت سے مالامال کیا۔ یہ دھرتی عاشقوں اور محبوبوں کی بستی ہے۔ یہ فقیروں، درویشوں، اور دیدہ وروں کی آماجگاہ ہے۔ اے رب رحیم ! تیرا شکر ہے۔ کہ تو نے ہمیں اس دھرتی میں پیدا کیا ۔اور ہم کواپنے محبوب و مقبول پیغمبر آخر الزمان کا کلمہ بھی عطا کیا ۔ حضور ﷺ کو اس خطہ سے خوشبو آئی تھی۔ اور آج پاکستان دنیا میں ایک ایسا اسلامی ملک کرہ ء ارض پر نمودار ہوا بیٹھا ہے ۔ جو صرف آنحضور ﷺ کے دین کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اے اللہ ! تیرے ان انعامات کا جتنا بھی شکر ادا کیاجائے وہ کم ہے۔
اہل پاکستان کو جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا حسین ، دلکش، صاف، شفاف، پاک، طیب، پہاڑوں، میدانوں، صحراؤں ، دریاؤں ،اور سمندروں، کے دلربا امتزاج پر مبنی خطہ ء ارض عطا کیا ہے۔ وہاں اس دھرتی کے خمیر اور ضمیر کی معطر و مشفق اعلیٰ اہلیتوں، صلاحیتوں کی آمیزش، سے بھر پور اپنے شاہکار انسانوں کو بھی پیدا کیا اور ان کو اعلیٰ کردار ، اولیٰ خیال، ہمت و شجاعت سے مالامال ، جواں مردوں کو بھی جنم دیا۔ فراخ دلی اور سخاوت کا حوصلہ بھی بخشا۔عقل سلیم بھی عطا کی اور نور بصیرت بھی۔
ملک کی ستر، اسی فی صدی آبادی پر مشتمل لوگ دیہاتوں، میں کھیتی باڑی کا کام سرانجام دیتے ہیں ۔ جو کسان کہلاتے ہیں۔ دوسرے بیس ، تیس فی صد آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہے۔ اس طرح ننانوے فی صد لوگ معاشرے میں زندگی کے تمام شعبوں یعنی کھیتی باڑی، فیکٹریاں، ملیں، کارخانے، سڑکیں، ڈیم ، تعمیرات، اور بڑی بڑی بلڈنگیں، اور ملک کے تمام بڑے بڑے منصوبوں کو محنت ، ہمت، کرکے بناتے اور پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں ۔ اس طرح ملک کو ترقی کی منازل سے مرحلہ وار گزارنے کا عمل جاری رکھتے ہیں ۔ اور بقایا لوگ حجام، بڑھئی، ترکھان، لوھار، دکاندار، اور زندگی کے دوسرے تمام شعبوں کوچلاتے ہیں ۔
ایک فی صد جاگیردار ، سرمائے دار، سیاست دان، حکمران، اور ان کے دور جدید کے پڑھے لکھے ، دانش ور، ماہر تعلیم ، قانون دان ، عقل و فراست کے شاہکار، مغرب کی تہذیب کے نہائت مہذب، علمبردار، انتظامیہ اور عدلیہ کے رہبر و رہنما، یعنی افسر شاہی، نوکر شاہی اور منصف شاہی، جوملک میں حفاظتی ، معاشی ، معاشرتی ، عدالتی، انتظامی ، حکومتی امور کو چلاتی ہے ۔جو ملک میں انصاف، عدل کو اعتدال پر رکھنے کے فرائض ادا کرنے کی پابندی کرتی ہے۔ ہر دور حکومت کی پالیسیوں کو مرتب کرتی چلی آ رہی ہے،اور اس کی روشنی میں عدل و انصاف اور مساوات کو معاشرے میں اعتدال کے ساتھ قائم رکھتی ہے ۔ ملک کے کسان، مزدور، اور تمام پیشوں کے لوگ ملکی وسائل پیدا کرتے اور بڑھاتے رہتے ہیں۔ اور اس طرح ملکی خزانہ میں اضا فہ کر نا انکی ذمہ داری ہے۔ اس ملک کی پیداوار کا تمام نظم و نسق بڑ ی محنت اور لگن سے ادا کرتے ہیں۔ ملکی ترقی کے تمام منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے شب و روز کی محنت سے زیادہ سے زیادہ خام مال ،وسائل، اور خزانے کو اکھٹا کرتے رہتے ہیں۔ یہی ملک کے ننانوے فی صد عوام ملک کے وارث ، ملک کے امین اور ملک کے تمام پیدا کردہ وسائل ، دولت،خوراک اور ملکی خزانہ ان کی امانت اور ملکیت ہیں۔
ملک کی تمام سرکاری بلڈنگیں، دفاتر، سرکاری رہائش گاہیں، اسمبلی ہال، کنونشن ہال، وزیر اعظم ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس ، گورنر ہاؤس، ایم پی اے ہاسٹل، ایم این اے ہاسٹل، کنوینشن ہال، ملک کے تمام ریسٹ ہاؤس، کشمیر ہاؤس، پنجاب ہاؤس، سندھ ہاؤس، سرحد ہاؤس، بلوچستان ہاؤس، سرکاری مرسیڈیز، پجارو، لینڈ کروزرز، بڑی بڑی بلٹ پروف گاڑیاں، اور تمام افسر شاہی، منصف شاہی، کے پاس پورے ملک میں پھیلی سرکا ری رہائش گائیں، اعلےٰ دفاتر ،انگنت سرکاری گاڑیاں انہی کسانوں اور مزدوروں کی ملکیت ہیں۔ صدر اور وزیر اعظم کے سرکاری جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی انہی کی ملکیت ہیں ۔ دفتروں اور رہائشوں میں تمام قیمتی فرنیچر، قالین، ٹیلیفون، یعنی ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی سرکاری املاک یا وسائل، یا خزانہ، اسی ننانوے فی صد عوام کی خون جگر کی کمائی ہیں ۔
ایک فی صد ملک کے اقتدار کے سیاسی رہنماؤں اور ان کی افسرشاہی ، اور منصف شاہی، اعلیٰ ایوانوں یعنی ملک کی تمام اسمبلیوں، صدر پاکستان، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر، مشیر، اے سی، اے ڈی سی جی،ڈی سی ، کمشنر، ڈی ایس پی، ایس پی، ایس ایس پی، ڈی آئی جی،آئی جی، سیکشن آفیسرز، ڈپٹی سیکرٹری، جائنٹ سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری ، سیکرٹری اور ان کا تمام عملہ اور ملک میں پھیلے ہوئے تمام محکموں کے نچلے طبقے کے افسران سے لے کر اعلیٰ افسر شاہی اور منصف شاہی تک کے تمام لوگ اس ننانوے فی صد کسانوں ، مزدوروں پر مشتمل عوام کے سرکاری ملازم اور خادم ہیں۔ اسی طرح ملک کی بری، بحری، فضائی، افواج کے سپاہی سے لے کر سی این سی تک ملک کے خزا نہ سے تنخواہیں لیتے ہیں اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اگر کوئی دشمن ملک پر حملہ کر دے تو وہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں نہ تو کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی کوتاہی۔ وہ اپنے فن حرب میں مہارت پیدا کرتے ہیںاور اس کے حصول میں کسی قسم کی غفلت نہیں کرتے۔وہ ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ اقدار اور ذمہ داریوں سے سرخرو ہوتے چلے آ ر ہے ہیں ۔ آئندہ بھی ان کو اللہ تعالیٰ توفیق کامل عطا فرمائیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی کا حق پوری طرح ادا کریں (آمین) ان تمام افواج کی تمام ضروریات اور تنخواہیں بھی یہی ۹۹ فی صد کسان اور عوام مہیا کرتے ہیں ۔
دیہاتوں کی ستر ، اسی فی صد کسانوں پر مشتمل آبادی ملک کی تمام پیداوار اور چودہ کروڑ عوام کی خوراک، پھل، سبزیاں، میوہ جات، ہر قسم کا گوشت، دودھ ، گھی، ہر قسم کا لباس، ملک کے تمام کے تمام وسائل، خام مال اور روزمرہ کی تمام ضروریات اسی دھرتی کے سینہ کو چیر کر ، بڑی محنت، بڑی مشقت، بڑی جانفشانی بڑی ہمت، اور اپنی جانوں کو جوکھوں میں ڈال کر یہ اہم اور بنیادی فریضہ بڑی لگن، دل جمی، ہنر مندی، سلیقہ شعاری مہارت، خاموشی، اور بڑے ذوق و شوق کے ساتھ سرانجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ جہاں انسانوں، اور حیوانوں کے لئے خوراک وغیرہ مہیا کرتے ہیں ، وہاں ملک کی تمام فیکٹریاں، ملیں، کارخانے، چھوٹے چھوٹے دوکانداروں سے لے کر بڑے بڑے تاجروں تک ان کی ضروریات کو مہیا کرنا، ان کے کاروباروں کوجلا بخشنا، اور ان کے تواتر کو قائم رکھنا انہی کی محنت کا ثمر ہے ۔ اور یہ سب لوگ فردا فردا انہی کی محنت کا پھل کھاتے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر انہی کی کاوشوں سے بڑھتے اور ملکی استحکام کا سبب بنتے چلے آ رہے ہیں۔ حکومت کے خزانے اور حکومتی نظم و نسق کے تمام اداروں کے اخراجات انہی کی بدولت مہیا ہوتے ہیں۔ شہروںمیںہر قسم کے سکول، کالج، ٹیکنیکل ادارے، سرکاری اکیڈمیاں، بڑے بڑے ٹریننگ سنٹر، بڑی بڑی یونیورسٹیاں، بڑے بڑے محل اور دفاتر اور یہ تمام سرکاری املاک ، انہی کے دم سے پنپتے، پھلتے ، پھولتے اور آباد نظر آ رہے ہیں۔ بڑے بڑے پلان، بڑے بڑے منصوبے انہی کی محنت کے ذریعہ پروان چڑھتے ہیں ۔ ملک کی تمام افواج کے اخراجات، ہتھیار، حرب، جنگی جہاز، بحری جہاز، آبدوزیں، ٹینک ، توپخانے ، بکتر بند گاڑیاں، ہر قسم کے میزائیل، ایٹم بم ، اور ملکی ڈیفنس کا ہر قسم کا سامان انہی کے خون جگر سے تیار ہوتا چلا آ رہا ہے۔ بڑے بڑے دفاتر، بڑے بڑے بنگلے، کوٹھیاں، محل، اسمبلی ہال، کنونشن ہال، وزیر اعظم ہاؤس، پریزیڈنسی، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ بلڈنگز، ایم این اے ، ایم پی اے، سینیٹرز ہوسٹلز ۔ اسلام آباد ۔ لاہور، کراچی اور بڑے بڑے شہروں میں ملک کے اندر اور بیرون ممالک لا تعداد ، ان گنت رائے ونڈ ھاؤس اورسرے محل انہی غا صب محدود طبقہ یعنی سیاست دانوں، حکمرانوں اور ان کی افسر شاہی اورمنصف شاہی کے انصاف کش سسٹم، کرپشن ، رشوت کے ناجائز سرمائے اور ملکی خزانہ کی خیانتو ں سے تیار ہوئے، خاموشی تانے بیٹھے ہیں ۔ جو ملک و ملت کے لئے سراپا سوال بنے کھڑے ہیں۔ وہ سب انہی کے خون جگر کی نمو د ہیں۔ ان کے محلوں تک ملک کی تمام اعلیٰ سڑکیں اور موٹر وے، تفریح گاہیں، کلبیں، ہیلی کاپٹر، ہوائی جہاز، ہوائی اڈے، پچارو، مرسیڈیز، لینڈ کروزرز، ان گنت سرکاری اور غیر سرکاری کاریں، ٹرک، ٹرالے، ٹیلی فون، انہی کی ان تھک جدو جہد کا ثمر ہیں۔ یعنی ملک کے چودہ کروڑ عوام کی خوراک ، لباس، رہائش، اور تمام بنیادی اہم ضروری ضروریات سے لے کر بری، بحری، فضائی، افواج ، ان کے علاوہ صدر پاکستان، وزیر اعظم، گورنروں، وزیر اعلیٰ، وزیروں، مشیروں، ایم پی اے، ایم این اے، سینٹروں کی سویلین ا فواج، ان کے متعلقہ، تمام سرکاری محکموں ، نیم سرکاری اداروں، کے نچلے درجے کے سرکاری ملازمین سے لے کر اعلیٰ افسر شاہی اور منصف شاہی تک کی بڑی بڑی اقتدار کی نوک پر حاصل کی ہوئی غاصبانہ اور غیر منصفانہ تنخواہیں اور اعلیٰ سہولتیں اور بے شمار مراعات انہیں کے پیدا کردہ وسائل اور جمع کئے ہوئے سرکاری خزانوں سے ادا کی جاتی ہیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسانہیں اور چھوٹے گھروندے سے لے کر محلوںتک کوئی گھر ایسا نہیں جس کا چراغ یا بلب ان کی محنت و مشقت کے لہو سے روشن نہ ہو ۔
اس ضمن میں درج ذیل حقائق کی روشنی میں ان کی زندگی کو دیکھنا اور پرکھنا نہائت ضروری ہے تاکہ اہل وطن، تعمیر وطن کے اصل معماروں کے کردار کو پرکھیں اور سمجھیں اور افسر شاہی، منصف شاہی، جاگیرداروں، سرمائے داروں، سیاست دانوں، حکمرانوںکے بزدلانہ، غیر منصفانہ ، ظالمانہ، بے رحمانہ، معاشی قاتلانہ، معاشرتی جابرانہ، اور ان کے استحصالانہ انتظامی اور عدلی شکنجوں کو دیکھیں کہ یہ وحشی بھیڑیئے اور خوں خوار درندے کس طر ح اپنے محسنوں، اپنے کلمہ گو بھا ئیو ں ، تن من دہن قربان کرنے والے اہل وطنوں کے ساتھ اقتدار کی نوک پر ظلم، زیادتی، نا انصافی اور بے رحمی کے عمل کو کس طرح اپنائے بیٹھے ہیں۔اختیارات کی چھڑی اور چھری سے انکا معاشی اور معا شرتی قتل کتنی بے دردی ،بے رحمی سے کرتے چلے آ رہے ہیں ۔
۱۔ کیا کسان ملک میں محنت، جفاکشی، شرا فت کی علامت نہیں ؟
۲۔ کیا کسان سادگی ، قلیل ضروریات اور عظیم و اعلیٰ ربوبیت کے فرائض دن را ت ادا کرنے کا علمبردار نہیں ؟
۳۔ کیا کسان کھیتی با ڑ ی پر مشتمل تمام فرائض فطرت کے گرم و سرد موسموں کی شدت کو بجلی کی تمام سہولتوں کے بغیر برداشت کرنے ،د ن رات،محنت و مشقت کرنے ، صبر و تحمل، بردباری جیسی اقدار کا محور نہیں ؟
۴۔ کیا یہ دھرتی کا سینہ چیر کر خون پسینہ ایک کرکے خوراک ۔ لباس، پھل، میوہ جات، سبزیاں، گوشت ، دودھ، شہد اور دنیا کی ہر نعمت پیدا کرنے اور اپنے اہل وطن کو مہیا کرنے میں اس کا کوئی ثانی ہے ؟
۵۔ کیا افواج پاکستان میں انہی دیہاتیوں کے تمام کے تمام سپوت ملکی افواج کی ریڑھ کی ہڈی یعنی سپا ہی سے لیکر تمام نان گز یٹڈ پو سٹو ں پر متعین نہیں ۔ کیا یہ سپاہیانہ صلاحیت ،اقدار، خوبیوں ، جراتوںاور جانثاری کے پیکر نہیں ؟۔
۶۔ کیا انہوں نے چونڈہ کے محاذ پر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے بم باندھ کر ان کو نیست و نابود کرکے دنیا کی انوکھی تاریخ مرتب نہیں کی ۔ کیا وہ دشمن کی آگ بر سا نے والی توپوں کو تباہ نہیں کرتے آ رہے ۔
۷۔ کیا جہاد میں شہادت کے جام نوش کرنے اور جانیں قربان کرنے میں پوری دنیا میں ان کا کوئی مد مقابل ہے۔ ؟
۸۔ وہ گلے شکوے سے بے نیاز ، وہ نان جویں کا وارث ،خدمت خلق میں محو، جس کے شب و روز .کار جہاں میں مصروف، فطرت کا خاموش مبلغ، اور انمو ل ور کر اپنے فرائض دلجمعی سے ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ یا نہیں ؟
۹۔ وہ ربوبیت کے عمل کا آشنا، وہ انسانوں اور حیوانوں کے لئے روزی کے آسمانی تحائف زمین کے بطن سے نکالنے والا، وہ مٹی اور پانی کے ملاپ سے سرسبز فصلیں، رنگا رنگ کے پھول، ہرے بھرے بو ٹے اور پودے ، پھل دار طرح طرح کے درخت اور پھول ا گا کر کھیتوں کو حسین و جمیل رنگا رنگ کے مختلف رنگوں کے طرح طرح کے دلکش زیور پہنا کر انسانی قلب و ذہن کو خوشگوار اور لطیف منظر پیش کرتا ہے۔ یا نہیں؟
۱۰۔ کیا ان کسانوں میں اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ فضل ۔ نبی کریم ﷺکے تمام بنیادی خصائل ، مثلا پرہیز گاری، فراخ دلی، سخاوت، رحم دلی، شفقت، رزق حلال پیدا کرنے اور تمام اہل وطن کو مہیا کرنے کی اعلیٰ اور عمدہ خوبیاں، اور ان کی یہ تمام عظمتیں ، ایک سچے مسلمان کے کردار کے حسن کی پرنور چمک پیش کرتی ہیں یا نہیں ؟
۱۱۔ کیا وہ حضور نبی کریم ﷺ کے فرمان یعنی دنیا میں ’’محنت یوں کرو کہ جیسے ہمیشہ زندہ رہنا ہو اور زندگی یوں بسر کرو کہ جیسے اگلا لمحہ موت کا ہو ‘‘۔ پر پورا اترتا ہے یا نہیں ؟
۱۲۔ وہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعلیم و تربیت سے بے نیاز، وہ قدرت کی فطرتی لا جوا ب اور انمو ل ایجنسیوں یعنی آنکھ۔ناک ۔ کان ۔ دل ۔ دما غ کی سچائی پر مبنی آ گاہی کے علم سے گزر اوقات اور کا رو بار حیات چلا تا آ رہا ہے یا نہیں ۔ جسم کا سردار دل ہے ۔اس کے حکم کو تسلیم کر لیتا ہے۔ دماغ اس کا وزیر ہے۔ اس سے روزمرہ کی زندگی کے فیصلے سن لیتا ہے ۔ آنکھ کے سامنے جب کوئی چہرہ یا منظر آتا ہے ۔وہ فورا دماغ دل سے ہی فیصلہ لے کر ان کو خوبصورت اور بد صورت چہرے، اچھے ا ور برے منظر ، خیر اور شر کی اطلاع وصول کر لیتا ہے ۔ اسی طرح کان اچھی اوربری آوازکی اطلاع دماغ سے لے کرسچ کا پیغام اس کو پہنچا دیتا ہے۔جسم گرمی سردی سے مطلع کر دیتا ہے ۔ وہ ان حقائق اور سچائیوں کو تسلیم کرتا ہے ۔ اور ان کی اطاعت میں پاکیزہ زندگی گذار دیتا ہے۔ وہ جمہو ریت کی طبقاتی ، بد دیا نت ، بے حیا، بے شرم ،استحصالی تعلیمی ادارو ں سے الگ تھلگ ،پا ک ، طیب زندگی گز ارتا ہے۔ وہ نہ تو ملکی خزانہ سے تنخواہوں ،گاڑیوں، پٹرول کے ڈاکے ڈالتا ہے ۔اور نہ کسی قسم کی مراعات حا صل کرتا ہے، نہ رشوت لیتا ہے ،نہ کمیشن،نہ قومی خزانہ لو ٹتا ہے ۔اور نہ ہی آئی۔ایم۔ایف کے قرضے ہضم کرتا ہے۔نہ ملک کا کثیر زر مبا دلہ سرکا ر ی گا ڑیو ں کی خر ید پر خرچ کرتاہے ۔ اورنہ ہی پٹرول پر۔نہ وہ ملک گروی رکھتا ہے اور نہ وہ ملک تو ڑتا ہے ۔ نہ وہ کسی کی حق تلفی کر تا ہے اور نہ ہی کسی کا معاشی قتل۔ وہ خیر سگا لی کا پیامبر ہے یانہیں ۔
۱۳۔ وہ غیر ملکی ، اعلیٰ تعلیم سے محروم، وہ ملک کے بڑے بڑے انگلش میڈیم اداروں سے نابلد، وہ شہروں کے اردو میڈیم کی تعلیم سے بے نیاز، وہ دیہات کی سادہ سی مسجد اور پانچ چھ کلاسوں پر مشتمل ایک ٹیچر کے درخت تلے دیہاتی تعلیمی ادارے کا فارغ التحصیل شاہکار، جو کھیتی باڑی کرکے طیب رز ق پیدا کرنے اور رزق حلال کھانے کا خوگر، وہ محنت کی کسوٹی کا پاس شدہ پاسے کا سونا، وہ کریکٹر کے لحاظ سے انسانیت کا مثالی روپ، ، وہ سادہ ، سلیس اور مختصر ضروریات کا وارث، وہ جسم ، آنکھ ، کان ، دماغ، اور دل کے فطرتی احساسات اور محسوسات کے فیصلوں کے علم کا سچا پیرؤ کار۔ وہ علم جو انسانیت کو حق تلفی ، لالچ، خود غرضی، عیاری، مکاری، دھوکہ ، فریب، جھوٹ، لوٹ مار۔ رشوت ۔ کمیشن کے سسٹم سے آشنائی کرواتا ہے۔ وہ اس علم سے بالکل بے نیاز ، وہ طیب فطرت اور پاکیزہ کردار کا شاہکار ا پنے ماحول اور اپنی مصروفیات میں محو رہتا ہے۔وہ ملک کے لئے سرا پا بے ضر ر اور ملت کے لئے مکمل منفعت بخش ہے یا نہیں ۔


۱۴۔ ملک کے کسانوں، مزدوروں کو جو دشوار گزار پہاڑوں، میدانوں اور صحراؤں پر مشتمل دیہاتوں میں رہتے ہیں ۔ جو ہمارے وسائل ۔ خزانہ کی دولت، زر مبادلہ اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔ ان کے ساتھ، ہمارے ملک و ملت کے بد کردار حکمرانوں اور کرپٹ افسر شاہی اور منصف شاہی نے انتظامی ، معاشی اور معاشرتی قوانین و ضوابط ، ایسی بد د یانتی ، بے انصافی ، بے رحمی کی بنیادوں سے ترتیب اور ترغیب دیئے کہ ان کے جسموں سے خون کا آخری قطرہ بھی بلوں، ٹیکسوں، اور مہنگائی سے کھینچے چلے آ رہے ہیں۔ ان کو معاشی، معاشرتی طور پر اس قدر کمزور ، ضعیف ، بے بس ، بے کس ، اپاہج اور مجبور کرکے رکھ دیا۔ کہ ان کو عام زندگی کی بنیادی جدید دور کی سہولتیں تو کجا ، ان کے بدن سے کپڑے اتار لئے ۔ ان سے اور ان کی اولادوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا ہے ۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملک کے دوسرے شہروں جیسے نہ ان کے پاس اعلیٰ مغرب کی طرز کے انگلش میڈیم ادارے ،سکول، کالج، اکیڈمیاں ، نہ ٹیکنیکل ادارے ، نہ طرح طرح کی یونیورسٹیاں ، نہ ان جیسی اعلیٰ تعلیمی بلڈنگیں، نہ سائنس لیبارٹریاں، نہ لائبریریاں نہ ان جیسے تعلیمی یا ٹیکنیکل ماہرین نہ ان شہروں جیسی عظیم سڑکیں ۔ نہ موٹر وے، نہ بسیں۔ کروڑوں ،اربوں روپے پر مشتمل دیو قامت، مغرب کی طرز کے وزیر اعظم ہاؤس ،نہ اسمبلی ہال اور نہ ان کے پاس پریذیڈنسی جیسے نادر عجوبے، نہ ان کے پاس عدل و انصاف کو نگلنے والے مغربی طرز کے خوفناک، دھشتناک ، سپریم کورٹ ہاؤس، نہ ایم این اے ، ایم پی اے، سینیٹرز کے ا علی ترین بلڈ نگو ں پر مشتمل ہا سٹلز اور نہ ہی مزین ہاؤسز، نہ ملک میں پھیلے ہوئے ا ن حکمرانوں ، افسر شاہی ، اور منصف شاہی ۔ جیسے ریسٹ ہاؤسز، نہ سرکاری خزانوں سے بڑی بڑی تنخواہیں، نہ کوئی ٹی اے ، نہ کوئی ڈی اے، نہ فایؤ سٹار ہوٹلوں میں ٹھہرنے کی سرکاری سہولتیں، نہ انکے پاس بڑی بڑی سرکاری مرسیڈیز، پیجارو، لینڈ کروزرز، نہ ان کے پاس سرکاری ڈرائیور ۔ نہ سرکاری پٹرول، نہ روزانہ پروٹوکول کے لئے افسران اور پولیس کی اسلحہ سے لیس فوج، نہ ان کے پاس ان گنت اخراجات ، نہ بیرون ممالک دو تین سو ، من پسند کے داد دینے والے جھولی چک، صحافیوں کو دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں سرکاری خزانے سے عیش و عشرت لٹوانے کے اخراجات ، نہ سرکاری جہاز، نہ پائلٹ اور نہ اس کا ایندھن،نہ وہ قو می خزانہ ،نہ وہ زر مبادلہ اور نہ ہی وہ آ ی ایم۔ ایف کے بے پناہ قرضو ں کو ان عیا شیو ں اور فحاشیو ں پر خر چ کرنے کی کبھی سو چ سکتے ہیں۔ا ن ستر فی صد کسانوں اور انتیس فی صد مزدوروں ، ہنر مندوں غریبوں کی اولادوں میں سے نہ کسی نے ان استحصالی اداروں کا رخ کیا۔ اور نہ ڈگریاں حاصل کیں۔ نہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور نہ افسر بنے نہ حکمران۔ نہ عدل و انصاف کو مسخ کیا اور نہ ہی دین سے منافقت۔ نہ انسانیت کی حق تلفی کی اور نہ اس کو اذیتوں میں مبتلا کیا ۔
اے سیاست دانو! اے حکمرانو، اے افسر شاہی اور منصف شاہی کے ٹولے ذرا غور تو کرو۔ ان حقائق بالا کی روشنی میں را ئج الوقت انصاف کے شیشہ میں ا پنا چہرہ تو دیکھو ۔ یقینا جو شکل نظر آئے گی ۔ اس کا نام قرآن پاک میں زبان پر لانا منع فرما رکھا ہے کیونکہ اس کے نام لینے سے زبان اور وجود ناپاک ہو جاتا ہے ۔ ان انسانیت کش اعمال سے پناہ مانگو! اس جمہوریت کی غا صب طرز زندگی کو ختم کر و۔ اس سے نجات حاصل کرو ۔ تم کیسے حکمران ہو۔ کہ ۵۳ سالوں میں انسانوں حیوانوں کو پینے کے لئے چولستان جیسے ملک میں پھیلے ہوئے کسی ایک صحرا ئی اور میدانی علاقوں میں پانی کی پائپ لائن تک نہیں بچھا سکے ۔ ان کے جانور پیاس اور بھوک سے مرتے رہتے ہیں ۔ جب بارشیں نہیں ہوتیں۔ تو وہاں کے رہنے والے ایسے قحط زدہ علاقوں سے اپنے جا نوروں کے ساتھ ہجرت کرکے ملک کے دوسرے علاقوں میں جانیں بچانے کے لئے قافلوں کی شکل میں چل پڑتے ہیں ۔ یہ بھوکے، ننگے ، یہ پیاسے انسان اور حیوان بھی اسی ملک کے باشندے ہیں ۔ وہ بھوک اور پیاس کی طویل مسافرتوں، کی عملی اذیتوںسے گزر تے ہیں ۔ اور وہ زندگی اور مو ت کی کشمکش سے دو چار ہوتے رہتے ہیں ۔ اور تم عیش و عشرت میں مبتلا سرکاری خزانے کو آ گ لگاتے رہتے ہو ۔تم مسا وات کے قاتل اور عدل و انصاف کے کینسر ہو۔پھر تم کہتے ہو کہ تمہارے اقتدار پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔انصاف کا آ ئینہ کبھی کبھی دیکھ لیا کرو ، شائد تمہارے ضمیر کا چراغ جل پڑے ۔ا ور ندامت کے آنسو اس چراغ کو روشن کر سکیں اور تمہاری مغفرت اور معافی کا سبب بن سکیں۔ خوف خدا کا دروازہ تمہارے دلوں میں کھل سکے ۔ تم اس ظالمانہ ، غیرفطرتی تفاوت کے عدل کش سسٹم کو دستور مقدس کا غسل دے سکو۔ خدا کے کنبہ کو عزت، ادب اور عدل و انصاف مہیا کر سکو۔
اسکے علاوہ ملک کے حکمران ، افسر شاہی ، نوکر شاہی اور منصف شاہی کے ایک فی صد ٹولہ نے دیہا ت میں کسانوں سے مختلف ادویات، کیڑے مار سپرے، جڑی بوٹیاں تلف کرنے والی دوائیوں، مختلف اقسام کی کھادوں، بجلی، تیل کے ٹیوب ویلوں کے اخراجات کے بلوں اور مختلف زرعی ٹیکسوں اور ملک میں رائج کردہ حیرت ناک ، عبرت ناک، ٹیکس کلچر سے پیدا کردہ مہنگائی کے شکنجوں سے ان کی تمام فصلیں چھین لیتے ہیں ۔اسی طرح شہروں میں مزدوروں کو فیکٹریوں ، ملوں، کارخانوں،میں اتنی کم تنخواہیں کہ اگر وہ منہ میں نوالہ ڈ ا ل لیں ، تو جسم سے ننگے ،اور اگر جسم ڈ ھا نک لیں، تو پیٹ کی چتا خو را ک کے ایندھن سے محروم اورظلم کی حد تک محنت و مشقت لیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ملک میں نافذ کردہ تمام ٹیکس اور ان ٹیکسوں کی بدولت مہنگائی کا معاشی اژدھا ان کا خو ن بری طرح چو ستا رہتا ہے۔ وہ سسک سسک کر زندگی گذار نے پر مجبور اور بے بس ہو تے ہیں ۔ دوسری طرف ننانوے فیصد عوام کا خون پینے والا یہ عیاش،غاصب سپر نیچرل طبقہ جسکو آج تک کسی فرد نے چیک نہیںکیا،وہ بد مست ہا تھی کی طرح ملک میں شاہی محلوں میں عیاشیاں لوٹتااور شاہی گاڑیوں میں دندناتا پھر رہا ہے۔ وہ ٹیکسوں، مہنگائی کے کلچر سے کسانوں ، مزدوروں، غریبوں کی محنت و مشقت سے اکھٹی کی ہوئی ملکی دولت ، خزانہ اور وسائل کو عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر درندوں کی طرح نوچتے چلے آ رہے ہیں۔ کوئی انکا ظلم والا ہاتھ روکنے کا نام نہیں لیتا ۔ کسی قسم کے نئے ٹیکسوں کا اطلاق قوم کے ساتھ ظلم کے مترادف ہو گا۔ملت کو شاہی طبقہ کی عیاشیوں کا ایندھن بنانا بند کریں۔
میرے آقا ﷺ کالی کملی والے نے آج سے چودہ سو سال پہلے معاشرے میں عدل قائم کرنے کے لئے اور معاشی ناہمواری ختم کرنے کے لئے زکوۃ اور عشر کا نظام اللہ تعالی نے دین مقدس کے ذریعہ انسانیت کو عطا کر دیا ۔ مغربی دنیا کے دانش وروں نے اس زکوۃ اور عشر کا نام بدل کر اس کا نام ٹیکس سسٹم مقرر کیا۔ اور اس ٹیکس سسٹم کو قانونی حیثیت دے کر اپنے ملک میں رائکج کرکے اپنے معاشرے میں معاشی عدل قائم کیا ۔ اور اس سے استفادہ حاصل کیا ۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے ، ملک میں زکوۃ اور عشر کا نظام بھی نافذ کیا ۔ اس کے علاوہ ٹیکسوں کے ذریعہ بھی عوام سے دولت چھیننے کا راستہ اختیار کیا۔ اس ٹیکس کلچر کے نظام کو قائم کرکے ملک میں عدل و انصاف کو کچل دیا ۔عوام سے اس ظالمانہ خود ساختہ سسٹم کے تحت ملکی خزانہ اقتدار کی نوک پر اکٹھا کرتے رہے ۔ غیر منصفانہ طریقہ کار سے اس دولت کو لوٹتے اور اپنے تصرف میں لاتے رہے۔ اس نظام سے ملک کی تمام دولت گنتی کے ان چند ہاتھوں میں چلی گئی۔ ملکی خزانہ اور وسائل ان کے شاہی تصرف میں چلے گئے۔ ۹۹ فی صدی عوام کسمپرسی اور بے کسی کی اذیتوں اور زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے ۔ اور یہ ظالم حکمران ہر روز نئے سے نئے ٹیکسوں اور منی بجٹوں کا عذاب نازل کرتے چلے گئے۔ یاد رکھو ! کوئی ٹیکس یا کوئی منی بجٹ ہو اس کا تمام کا تمام بوجھ اور اثر عوام الناس پر پڑتا ہے۔
ا۔ اقوام مغرب کا تو اصول ہے جہا ں عوا م ا تنے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں،وہا ں انکو بیروزگاری کے دوران زندہ رہنے کیلئے حکومتیں معقول گزارہ الاؤنس بھی ادا کرتی ہیں۔ جس سے وہ زندہ رہ سکیں۔ان کو میڈیکل سہو لتیںبلا معاوضہ میسر ہو تی ہیں ۔ کہ وہ بیماری کی حا لت میں علاج بھی کروا سکیں۔ غریب، یتیم، بیوہ، اپائج، بے کس ، بوڑھے ، نادار، انسانوں کی ہر قسم کی ذمہ داری ان حکومتوں پر ہوتی ہے ۔ لیکن یہا ں کا نظام عدل و انصاف ایسا ہے کہ ان سب مفلوک الحال انسانوں کو زکوۃ ، عشر، اور ہر قسم کے ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں۔ زکوٰۃ اور عشر کا مال اور یہ تمام کے تمام ٹیکس ، ملکی وسا ئل اور خزانہ ان محتاج ، نادار یتیموں ، بیوہ کی غاصب اولادوں ، یعنی حکمرانوں، سیاست دانوں، افسر شاہی ، نوکر شاہی اور منصف شاہی کی اضا فی تنخو ا ہوں،بڑی بڑ ی گاڑیوں ،پٹرول اور بے شمار ناجائز مراعات اور انکی ،رشو ت،کمیشن کی نظر ہو جاتا ہے۔ اسلا م کو تو تم نعو ذ با اللہ فرسو دہ نظا م سمجھتے ہو۔ تم اپنے پڑوسی ملک چین کی طرف دیکھ لو،وہا ں کے تمام مشیر،وزیر،افسر شاہی، منصف شاہی ا ورتمام اعلیٰ سیاستد انوں سے لیکر ادنیٰ سر کاری ملازم تک تمام لوگ پیدل یا سا ئیکلو ں پر اپنے اپنے دفاتر پہنچتے ہیں۔پو ری قوم نے اسی پالیسی اور طریقہ کارکو پورے ملک میں اختیار کر رکھا ہے۔ان کا یہ کثیر زر مبا دلہ سرکاری گاڑیو ں اور پٹرول کی مد میں بچتا ہے، جو انکے ملکی ترقی کے کام آ تا ہے۔کوئی سرکاری افسر ہو یا کوئی سیاسی حکمران وہ چار پانچ مرلہ کے کوارٹر میں زندگی گزرتے ہیں۔ پا کستان میںتمام کی تمام افسر شاہی،نوکر شاہی ، منصف شا ہی اورحکمران طبقہ کے پاس لاکھو ں کی تعداد میں اعلیٰ سے اعلیٰ گاڑیاں اور عالی شان شاہی رہائشیں مو جود ہیں ۔ جن پر اربوں ڈالر زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے اورپٹرول کا خرچ بھی سا لانہ اربو ں ڈالر زر مبادلہ کی شکل میںان عیا شو ں کی نظر ہو جاتا ہے۔سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول کا جو یہ حشر کرتے ہیں ۔ وہ پوری ملت جانتی ہے۔وہ گاڑیاں ان کے ملازمین ،انکے گھر کے افراد،انکی بیویاں بازاروں میں خریدو فروخت،انکے بچے،بچیوں کو مختلف سکولوں،کالجوں میں لے جانے اور لے آنے میں مصروف رہتی ہیں۔اسی طرح ملک کا ستانوے فیصد بجٹ انکی سرکاری ان گنت سہولتوں اور عیا شیوں کی نظر ہو جا تا ہے۔آئی ۔ایم ۔ ایف کے قرضے اور ملکی تمام وسا ئل انکی رشوتوں ، کمیشنوں اور خیانتوں کے سانچوںمیںڈھل کرانکی جاگیروں، ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں، کوٹھیوں، محلوں، لینڈکروزروں ، کاروباروںاورمخفی ڈالروں کی شکل اختیار کر کے انکے خلاف جرائم کی چیخیں مار مار کرحق اور سچ کی گواہیاں پیش کر ر ہے ہیں۔یہ سب سن سکتے ہیں،دیکھ سکتے ہیں سوائے احتساب کمیشن کے ججوں کے۔خدا انکی کو ر آنکھوں کو نور بصیرت عطا فرمائے۔آمین! جب تک یہ بے دین غاصب نظام اور استحصالی سسٹم ملک میں نافذ العمل رہے گا۔ اس وقت تک تفاوتی شاہی تنخواہیں، بادشاہی مراعات ، رشوتیں، کمیشنز ہر قسم کی کرپشن کا دور چلتا رہے گا اور ہر دور میں استحصاب یوں ہی ہوتا رہے گا۔ صحرا نشینوں پر آفتوں کا نزول، قحط سالی کے عذاب، انسانی اور حیوانی زندگیاں سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر اس بے رحم ، بد کردار ، عدل کش ، انسانیت سوز ، سسٹم کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی ۔
جمہوریت کے لا تعداد مقبروںیعنی شا ہی محلوں شا ہی نظا م میں سے اگر ایک دو ، یہ عدل کش بلڈنگیں نہ بنتیں ۔ اور اس قسم کے فرسودہ بیرونی دورے نہ کئے جاتے ۔ تو ؔآج تک ایسے تمام علاقے پانی سے محروم نہ ہوتے،۔ ڈیم اور پائپ لائنوں کے ذریعے ان کو یہ پانی جیسی بنیادی ضرورتیں مہیا ہوتیں،تو انکے یہ علاقے گل و گلزار، مختلف باغات،لہلہاتی فصلوں،بیشمارطرح طرح کے درختوں،بھیڑ،بکریوںگائے،بھینسوں، سڑکوں،رہائشوں، سکولوں، مسجدوں پر مشتمل انسا نو ں کی خوبصورت، دلکش بستیوں کے مرکز بنے ہو تے ۔ پچھلے ۵۳ سالوں سے یہ حکمران اور ان کی افسر شاہی ، منصف شاہی، جمہوریت کے نظام تعلیم ، نظام عد ل، انتظامی ڈھانچے ، انسانیت سوز قا نون سازی، معاشی قتل کے طریقوں کو مروج کرنے کی بجائے شریعت محمدی ﷺ کا نفاذ کرکے ملک و ملت کا کردار اسلامی اقدار کی روشنی میں سنوارتے ۔ تو پاکستان کا وجود دنیائے عالم میں ایک الگ تھلگ مقام حاصل کرتااور مسلمانوں کے لئے بالخصوص اور پوری انسانیت کے لئے بالعموم باعث رحمت ثابت ہوتا ۔ حکومت وقت کو نظر ثانی کا موقع میسر ہے ۔ اگر یہ دستور مقدس کے مے خانے کا جام پی لیں تو اس سے یہ خود بھی لطف اندوز ہوں اور پوری انسانیت بھی اس کا پھل کھا سکے گی۔
ملک کا خزانہ ، وسائل، ان کرگسوں، گدھوں، درندوں اور بھیڑیوں کے ہاتھ میں نہ ہوتا۔ خدا کی حکمرانی کو تسلیم کرنے والے کسی امین کے ہاتھ میں ہوتا۔ تو یقینا انصاف ہر اہل وطن ، کو بلا معاوضہ بغیر کسی اخراجات اور پریشانی کے میسر آتا ۔ معاشی اعتدال ملک میں قائم ہو تا ۔تو آج ملک اس کسمپرسی کی حالت میں ہر گز نہ ہوتا ۔نہ یہ تفا وت پر مبنی جمہوریت کا باطل، غا صب نظام ہو تا، نہ یہ فا جر ،فاسق حکمران ٹولہ۔
قرآن پاک کا ضابطہ حیات ازلی اور ابدی ہے ۔ اس میں ترمیم ممکن نہیں ہے ۔ لیکن اس موجودہ نظام میں ہر روز کے بدلے ہوئے قوانین کی پی ایل ڈی ہر ماہ شائع ہوتی ہے ۔ یہاں تو وکیلوں، سفارشوں، رشوتوں سے قانو ن ہر قدم پر توڑا اور موڑا جاتا ہے ۔ ان غاصب منصفوں، وکیلوں کے ملاپ سے انصاف کا قتل عام روزانہ ہوتا ہے اور یہی عدل کش طبقہ ، ملک کا باوقار ، تہذیب یافتہ ، صاحب علم ، اہل دانش ، قانون دان ، دور حاضرکے نظام کے اعلیٰ عارف اور معززین سمجھے جاتے ہیں ۔ خدا ان عقل کے شعور کے ضمیر کے اندھوں کو نور کی روشنی عطا فرمائے۔ آمین
کاش باب العلم حضرت علی ؓ کی نگاہ کا فیض نظر ان دینی درس گاہوں سے جلوہ افروز ہوتا ۔ ا ورانسانیت کو نور کی روشنی عطا کرتا اور دلوں کو منور کرتا اور حضرت عمر ؓ کے نظام عدل جیسے امین خلیفہ مملکت خدا دادپاکستان کو میسر آتے تو مساوات محمدی ﷺ قائم کرتے تو عدل و انصاف کی قندیلیں پوری دنیا میں روشن ہوتیں ۔ اگر دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر جاتا ۔ تواس کی ذمہ داری اپنے آپ پر عائد کرتے اور اسکی تلافی کرتے۔
حکمران طبقہ، ملک کی افسر شاہی نوکر شاہی اور منصف شاہی ملکی وسائل ،ملکی غیر ملکی قرضوں، خزانہ کے امینوں، اور ان رکھوالوں کو عوام الناس کی عدالت میں پیش کر کے درج ذیل سوالات پر مبنی الزامات کا ریفرنڈم کے ذریعہ فیصلہ مانگ لیتے ہیں کہ کوئی خاندان، فیکٹری مالک، مل مالک اور کارخانہ دار اپنے کاروبار کو چلانے کے لئے کیسے ملازموں کا چناؤ کرتاہے جس سے وہ اپنے ادارے کو بہتر انداذمیں چلا سکے ۔اور اسے قائم رکھ سکے۔
۱۔ چور ، ڈاکو، راہزن ، بد دیانت ، ہیرا پھیری کرنے والے بے ایمان، نااہل، راشی، کمشن خور اور کرپٹ اہلکاروں یاعہدیداروں کو بھرتی کرتا ہے ۔یا ایسے ورکر جو ایماندار ،لائق فائق اور محنتی ہوں؟
۲۔ جو پیشہ ور مہارت رکھتے ہوں ۔ یعنی کھانا پکانے والا باورچی، جھاڑو دینے والا خاکروب، کپڑے دھونے والا دھوبی، گاڑی چلانے والا ڈرائیور، بجلی ٹھیک کرنے والا الیکٹریشن، بازار سے خرید و فروخت کرنے والاملازم، حساب کتاب رکھنے والا منشی ، تمام انتظامی امور کی دیکھ بھال کرنے والا منیجر ، فیکٹری ، مل اور کارخانے میں حسب ضرورت انجینر وغیرہ وغیرہ کو اپنے کاروبار چلانے کے لئے بھرتی کرتے ہیں ۔
۳۔ وہ ان تمام ملازمین، نوکروں، اور خادموں کو اتنی تنخواہ اور مراعات دیتے ہیں ۔ جتنے ان کے ادارے ان کو آمدن مہیا کرتے ہیں ۔ وہ اپنے اور ورکروں کے درمیان انصاف اور اعتدال قائم رکھتے ہیں۔
۴۔ وہ ان کی تنخواہوں میں عدل قائم کرتے ہیں۔ وہ اپنے کاروبار کو بھی تحفظ دیتے ہیں ۔اور ان کی ضروریات کو بھی مناسب اعتدال پر رکھتے ہیں تاکہ ان کا کاروباربہتر، مناسب اور موزوں طریقے سے جاری و سار ی رہے ۔ ادارہ بھی قائم رہے اور ملازمین بھی عوام الناس کی طرح مناسب زندگی بسر کر سکیں۔ ادارہ اور ورکر دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ وہ دونوں صرف عدل اور انصاف کو قائم رکھ کر ہی چل سکتے ہیں۔ ورنہ دونوں کا انجام نامناسب ہی نہیں بلکہ مہلک اور تباہ کن ہو گا۔
۵۔ وہ کبھی بھی یہ برداشت نہیں کرتے کہ وہ قرض لے کر فیکٹری ،مل ، کارخانے، یا اپنے ادارے میں سرمایہ لگاتے جائیں ۔ خود غربت، تنگ دستی، بھوک، افلاس، بے بسی، بے کسی‘ناداری سے دوچار ہوںاور وہ اپنے ان ملازمین کو اعلیٰ رہائش گاہیں، اعلیٰ گاڑیاں،پٹرول،ڈرائیور، بے شمار سہولتیں، اعلیٰ مزین دفاتر، ٹیلی فون، بڑی بڑی تنخواہیں، ٹی اے ،ڈی اے، میڈیکل کے اخراجات، ملک کے اندر اور باہر انکی غیر ضروری ٹریننگوں کے اخراجات، ہیلی کاپٹر ،ہوائی جہاز، اعلیٰ دفاتر ہر قسم کی لوٹ سیل کا عمل جاری رکھنے کی اجازت دیں ۔
۶۔ وہ مالک خود تو سود در سود کا قر ض لے کر اپنی معاشی بد حالی کو دور کرتے کرتے خود اس میں بھسم ہوتا چلا جائے اپنے اور اسکے بچو ں کے پاؤں میں نہ جو تا ہو اور نہ منہ میں نوالہ اور اسکے یہ تمام ملازمین، بگڑے ہوئے نوابوں کیطرح یہ ان گنت شاہ خرچیاں اور بے شمار عیاشیاں‘ ملکی خزانے اور وسائل کو رشوت ، کمیشن اور کرپشن کے ذریعے لوٹ مار کرکے اس کی تباہی کا باعث بنتے جائیں ۔ کیا وہ ایسے بے رحم، سفاک، راشی،بد دیا نت، غاصب ملازم رکھے گا؟کیا ان ناگزیر حالات میں فیکٹری مل کارخانہ یا ملک بچانا ان سے ضروری ہے یا نہیں؟کیا ان سے لوٹا ہوا مال اس مالک کو واپس لینے کا حق بنتا ہے یا نہیں؟کیا ملت کا ان بدبختوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟
۷۔ جمہوریت کے ناطق سے چپٹے ہوئے بیشتر ہوس پرست، زر پرست ، زن پرست، شراب اور شباب کے رسیا ،رسہ گیر، چور ، ڈاکو، رہزن ، لٹیرے ، جنہوں نے ملکی خزانہ ، وسا ئل اور دولت لو ٹی اور اس سے حاصل کیا ہوا معاشرتی مقام اور جماعتوں کے بل بوتے پر اپنے اپنے علاقوں سے کام یاب ہو کر اسمبلیوں اور سینیٹ میں پہنچ جانے والے د ھوکہ باز رہنما جو رہزنوںٓاور ڈاکو وں کا رول ادا کریں۔ کیا ان غاصب ، جابر، ظالموں کو ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے یا نہیں؟
۸۔ یہ آٹھ دس ہزار جاگیردار، سرمایہ دار، سیاست دان، افسر شاہی ، منصف شاہی کے کل ایک فی صد سے کم جابر،غاصب ٹولہ نے ملک کی ۹۹ فی صد دولت پر ہر قسم کے غاصبانہ قانون اور باطل عمل سے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس بدبخت ٹولے سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟
۹۔ جمہوریت کے اس باطل نظام، یعنی طبقاتی سیاسی نظام، طبقاتی تعلیمی نظام، طبقاتی انتظامی نظام، طبقاتی عدالتی نظام ،طبقاتی معاشی نظام، طبقاتی معاشرتی نظام کے شکنجوں سے ۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فی صد مزدوروں، ہنر مندوں اور چھوٹے چھوٹے کاروباری لوگوں جو ملک کی بنیادی ضرورتوں کو پورے معاشرے کو مہیا کرتے ہیں اور فیکٹریوں ، ملوں، کارخانوں اور کارباروں کو چلاتے ہیں ۔ان کے حقوق کا تحفظ کرنا اور اس ظالم ، عدل و اعتدال کے منافی ، طبقاتی حکمران سسٹم کو ختم کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟
۱۰۔ کیا اسلام میں طبقاتی تعلیم، طبقاتی معاشی نظام ، طبقاتی معاشرتی نظام ، طبقاتی سیاسی نظام ، طبقاتی انتظامی نظام، طبقاتی عدالتی نظام کی گنجائش ہے، اگر نہیں ہے تو یہ طبقہ خدا ا و ر رسول ﷺکے ضابطہ حیات کے خلاف جنگ میں ملوث ہے ۔ کیا آپ ایسا چاہتے ہیں۔ اگر نہیں چاہتے تو اس پورے سسٹم کو ملک سے ختم کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟
۱۱۔ کیا نشرواشاعت کے تمام ادارے ،اخبار، رسائل ، ریڈیو، اور ٹی وی کو انکے باطل ، غاصب، جابر، بے حیا، بے شرم، جمہوریت کی چھتری میں پنپنے والے اس ظالم سسٹم یا طرز حکومت کو چلانے کی تشہیر کی اجازت ہونی چاہیے ، کیا دستور مقدس کے ضابطہ حیات کی تشہیر انکے مذ ہب کے خلاف ہے؟
۱۲۔ جس طرح جاگیر داروں، سرمائے داروں، سیاست دانوں اور ان بدبخت حکمرانوں کو جیل بھیج کر احتساب کا عمل جاری کیا گیا ہے ۔ کیا اسی طرح اس افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کو حکومت کے تمام اداروں سے فارغ کر کے ان کا احتساب کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟ حکومت میں انکی موجودگی اس سسٹم ، اس کرپشن، اس اجارہ داری کو پرورش کرنے کے مترادف ہے ۔اسلامائزیشن، کی روشنی میں الہامی اقدار کو ملک میں رائج کرکے ان مراعا ت یا فتہ ، عدل خور، وسائل خور ،بجٹ خور، رشوت خور، بھیڑیوں اور درندوں سے معصوم عوام کو نجات دلانا و ا جب ہے یا نہیں؟
۱۳۔ مسلمانوں نے انگریزوں سے آزادی اور ہندوؤں سے علیٰحدگی اس لئے حاصل کی تھی کہ مسلمان اپنے ملک میں اپنے دین کے اصول و ضوابط کے مطابق ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے۔ جس میں انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک دین کی رشد و ہدائت پر مشتمل عدل و انصاف اور تمام اقدار یعنی حسن کردار، اخلاق، عدل، ادب،محبت، اخوت، خدمت، ایثار و نثار، ایمان داری ، دیانت داری کو زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ ہر قسم کے انسانیت کے بنیادی حقوق کوتحفظ فراہم کریں گے۔ معاشرے اور ملت کی تشکیل و تکمیل خدا رسول ﷺ کے عطاکردہ ضابطہ حیات کی روشنی میں پروان چڑھائیں گے ۔ جس سے دین کی اصل روح کی حقیقتیں بنی نوع انسان پر منکشف ہو سکیں گی۔ اقوام عالم اور مخلوق خدا کی بہتری، بہبود اور اخوت و محبت کی روح پرور صلاحیتوں کو اجاگر کریں گے۔ فطرت کے اس انمول فریضہ کو ادا کرنے کے لئے فطرت شناس انسانوں کو خوف خدا سے سینچیں گے۔ عبادت اور ریاضت کی قندیلوں کو دلوں میں منور کریں گے۔ سادگی ، شرافت کے مچ جلا کر حرص و ہوس ، لالچ و فریب کو ان میں بھسم کریں گے ۔ مساوات و اعتدال، اس ملت کے بہترین اوزار ہوں گے ۔ خیر کی گھنٹیاں محروم انسانیت کو سکون و راحت ، تسلی و تشفی کے قرار کے لئے محبت و اخو ت سے پکاریں گی ۔ بے قرار روحیں قرار پائیں گی۔ رحمت العالمین ﷺکی رحمتیں انسانی کردار میں ڈھل کر پورے جہان میں رحمتوں کے بادل بن کر برسیں گی۔ لیکن یہ تمام جذبے اور ارمان آج تک سسکتے تڑپتے، اور دم توڑتے جا رہے ہیں۔ آؤ مل کر اس روح پرور ساز کو چھیڑیں۔ آؤ انصاف و عدل کی تانوں سے محبت و اخوت ، برداشت، بردباری، صبر، تحمل، خدمت، ادب ، پیار اور لطافت کے جذبوں کی سروں کو چھیڑیں۔ آؤ مل کر کردار کے جادو سے نفرت و نفاق کے اژدھا کو انسانی دلوں سے باہر نکال پھینکیںآؤ احسن تقو یم کی کھوئی ہوئی طاقتوں اور صلاحیتوں کو واپس لوٹائیں۔ آؤ مل کر ان چراغوں کو آندھیوں اور طوفانوں سے محفوظ کریں۔ اے رب رحیم یہ الفاظ بھی تیرے ہیں۔ یہ انعام بھی تیرے ہیں۔ ان الفاظ کی تاثیریں بھی تیری ہیں۔ یا اللہ تو ان الفاظ کی تاثیر کا چہرہ اپنی مخلوق کو دکھا۔ آمین۔
۱۴۔ ۱۹۴۷ ء میں جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت انگریزوں نے ایک مفتوحہ ملک میں ایسے کالے قوانین ، ضوابط رائج کر رکھے تھے ۔ ایسا غاصب ضابطہ حکومت مروج کیا ہوا تھا کہ وہ اس ملک کی تمام دولت ، وسائل، اور محنت کشوں کی محنت، اکٹھی کرکے برطانیہ لے جاتے ۔ کوئی شخص ان کے سامنے چوں چراں کرنے کی جرات نہ کرتا ۔ وہ ایک مفتوحہ قوم کے ساتھ جو حسن سلوک کیا جا سکتا ہے ۔ وہ بروئے کار لاتے۔ ذرا سر اٹھانے والے کو باغیوں کی طرح کچل کر رکھ دیتے۔ انہوںنے اس نظام حکومت کو چلانے کے لئے جاگیردار اور سرمایہ دارطبقہ پر مشتمل ایک ایسا ٹولہ تیار کیا۔ جن کے ذریعے انہوں نے پورے معاشرے کے عوام کو اپنی گرفت اور ملکی نظم و نسق کو اپنی گرپ کے شکنجوں میں جکڑ رکھا۔ جوں ہی انگریز اس ملک کو آزادی دے کر یہاں سے رخصت ہوئے ۔ تو پھر اسی ٹولہ کے غاصبوں اور غداروں نے جمہوریت کا ایک ایسا طریقہ کار اپنایا اور الیکشنوں کے ذریعے پاکستان کے اعلیٰ حاکمیت کے اداروںپر قابض ہو بیٹھے ۔ ملک کے تمام عوام ووٹر کی حیثیت بن کر رہ گئے اور یہی نواب ، جاگیردار ، سرمایہ دار ٹولہ ، ایم پی اے، ایم این اے، اور سینیٹرز ، چنے جانے لگے ۔ انگریز کی یہ پالتو اور تربیت یافتہ اولاد پاکستانی عوام کو ایسے چمٹے کہ انہوں نے ملک کے تمام وسائل، مکمل ملکی خزانہ، ملکی اور غیر ملکی تمام قرضوں پر قابض ہو بیٹھے۔ ہر طرح کی بدعنوانیوں، رشوت، کمیشن، کرپشن سے پچھلے ۵۳ سالوں سے ملک کو نوچتے چلے آرہے ہیں۔ اقتدار اور اختیار کی نوک پر ملک کی تمام دولت اور ذرائع ، اپنے تصرف میں لاتے رہے ۔ عوام کی شب و روز کی محنت کو نوچتے رہے ۔ اس کے علاوہ عوام کو قدم قدم پر استحصالی پھندے ، زندگی کے ہر شعبہ میں ٹیکسوں کی سولیاں،بے شمار منی بجٹوں سے مہنگائی کی پھانسی کی ٹکٹکیاں، ملک میں قائم کیں ۔ ایم پی اے، ایم این اے،ڈپٹی سپیکرز، سپیکرز، سینیٹرز، چیئرمین سینیٹ، مشیر، وزیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم، صدر پاکستان، ملک کا تمام بجٹ ان کی اعلیٰ تنخواہوں،ان گنت سرکاری سہولتوں، شاہانہ بود و باش، کی نذر ہو تاچلا آ رہا ہے۔ یہ تمام حکومتی عہدے، ان کی ذاتی، معاشی ترقی، ذاتی سرے محلوں،ذاتی رائے ونڈ ہاؤسوں، ذاتی کاروباروں،ذاتی فیکٹریوں، ذاتی ملوں، ذاتی کارخانوں، ذاتی لینڈ کروزروں،پجاروں، بلٹ پروف کاروں ، ہیلی کاپٹروں، جہازوں اپنے محلوں میں سوئی گیس ، بجلی، ٹیلی فونوں، اعلیٰ قسم کی سڑکوں اور ہر قسم کی جدید ترین قیمتی اشیاء سے مزین محلوں تک اندرون ملک اور بیرون ممالک ، ملکی تمام خزانہ ، وسائل، اندرون ملک اور بیرون ممالک کے تمام قرضے ان کی نظر ہوتے چلے آ رہے ہیں ۔ ۹۹ فی صدی عوام کی محنت اور خون پسینے کی کمائی بلوں، ٹیکسوں مہنگائی کی سرنجوںسے کھینچے چلے آرہے ہیں۔ ملک کی دولت ، خزانہ ، وسائل، اور عوام الناس کی محنت ان کے غاصبانہ طرز حیات کی نذر ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ اس نظام ، سسٹم اور طرز حکومت کے دانشور حکمرانوں کی کور آنکھ ، انصاف کا معاشی گھونٹ پینے کو تیار نہیں ۔ ملک میں عدل کیسے قائم ہو سکتا ہے ۔ ملکی وسائل، دولت، خزانہ اور ۱۴ کروڑ عوام کی محنت ، مشقت کو کب محلوں، لینڈ کروزروںاور ہر قسم کی عیاشی کے ساز و سامان میں غرق اور تباہ کرتے رہیں گے اور تمام ملکی وسائل، معاشی طاقت کو چند عیاشوں کے کھلونوں کے لئے وقف کرکے ملت کو اذیت میں مبتلا کرتے رہو گے ۔ یاد رکھو ! ملت اسلامیہ کو تو مختصر سادہ، سلیس، صاف، شفاف، ستھری ، زندگی درکار ہوتی ہے ۔آئی ایم ایف کے قرضے ان تمام لٹیروں،رہزنوں سے وصول کر کے ادا کرو۔عوام ا لناس سے کیوں؟
۱۵۔ جتنی دو لت اور محنت کا ضیاع۔ اس غاصب اور استحصالی ، سسٹم اور کلچر پر ضائع ہوا ہے اور ہو رہا ہے ۔ اگر اس دولت ، وسائل، اور عوامی طاقت کو کسی احسن طریقہ کار کے تحت منصو بہ بندی کر کے ملک و ملت کے استعمال میںلایا جاتا تو یقیناآج ہمارے اجڑے ہوئے صحرا اور فاقہ زدہ صحرا نشین، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا نہ ہوتے ۔ بلکہ ان صحراؤں کوخوبصورت اور دلکش بستیوں میں بدل چکے ہوتے ۔اگریہ عیاش طبقہ اربوں ڈالر زر مبادلہ ان گاڑیوں کی دوڑ میں برباد نہ کرتا ۔ تو آج یہ ملکی خزانہ کی میر اث ہوتا ۔ ملکی حالات کی روشنی میں اس کلچر اور سسٹم پر نظر ثانی کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے فیملی کی بنیاد پر اور مناسب ضرورت کے مطابق گھروں کو سادہ اور مختصر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ گاڑیوں کا سیلاب بند کرو۔ رشوت، کرپشن ، کمیشن اور تفاوت کا نظام ختم کرو۔ محلوں اور گاڑیوں، پر ضائع ہونے والی دولت، اور بلاک ہونے والا خزانہ بچاؤ ۔ اور ملک کی حالت سنوارنے پر خرچ کرو۔ ان شعبوں پر فوری پابندی عائد کرو ۔ ملک میں ان محلوں اور شاہی گاڑیوں کی تعداد گن لو۔ ملکی دولت کی صور ت حال آپ کے سامنے آ جائے گی ۔ ملک کا ارب ہا سرکاری روپیہ، زر مبادلہ بھو کی،ننگی مظلوم چودہ کروڑ عوام کا ان بد نصیب ، بد دیانت، عیاش حکمرانوں، افسر شاہی،منصف شاہی،نوکر شاہی کے غیر منصفانہ ، غیر عادلانہ شاہی اخراجات، سرکاری سہولتوں اور عیاشیوں کی نظر ہو رہا ہے اس کو کون روکے گا؟وہ جو ان جرائم اور تفاوتی زندگی کے نظام اور سسٹم کو رخصت کرے گا۔حضورﷺکے اسوہ حسنہ کی پیروی کرے گا۔
۱۶۔ جنرل صاحب۔۔۔!فوجی ٹینٹوںکی زندگی اختیارکرلیں۔ان جاگیرداروں، نوابوں، سرمایہ داروں، ان کی افسر شاہی، منصف شاہی، اور نوکر شاہی کے انصاف کش غیر فطرتی ، موروثی نظام کو دستور مقدس کے نظام میں عدل و نصاف میں سے گزار دو ۔ ان کو پتا چلے کہ اسلام نعوذ باللہ ایک فرسودہ نظام نہیں بلکہ ملک میں عدل و انصاف قائم کر تاہے۔ ملت و ملک کو بام عروج کی منازل طے کرواتا ہے ۔ یہ کام صرف اسلام کے نفاذ سے ہی ہو سکتاہے۔ ان تمام اقتدار پر قابض لوگوں کا یہ رائج الوقت غاصب نظام اور ان کا استحصالی سسٹم دستور مقدس کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے۔ اس سے تقریبا ایک فی صد ظالم ، غاصب ڈاکو، راہزن، نہ بچ سکتے ہیں، نہ بھاگ سکتے ہیں ۔ ملک کے مجاہدوں اور غا ز یوں سے توقعات رکھنا اچھی بات ہے ۔ خدا ان کو اس کار خیر کی توفیق دے ۔ جر نیل صاحب ! دوبارہ ملتجی ہوں کہ فوجی ٹینٹوں کی زندگی اور پیدل چلنے کا عمل جاری کریں اور ایک آدھ نارمل مکان پر اکتفا کریں ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ اس ٹولہ کے محل رہیں گے اور نہ ہی زر مبادلہ کو جلانے والی گاڑیوں کو یہ سڑکیں ایساکرنے کی اجازت دیں گی۔ ورنہ یہ کلچر ، اپنے شعلوں میں تمام ملکی وسائل، دولت، اور ۹۹ فیصد عوام کی محنت و مشقت کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہر حکمران کو تباہ و برباد کرتا رہے گا ۔ قومیں عدل و انصاف کے اعلیٰ کریکٹر اور کردار سے تیار ہوتی ہیں اور بگڑے ہوئے اطوار سے نیست و نابود اور ذلالت کی اتھاہ گہرائیوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہیں۔ حکمران اگر پرہیز گار ، متقی، دین دار، صالح، امانت دار، منصف، دیانت دار، اعتدال پسند، مستعد، اور چوکس ہو اور خوف خدا اس پر وارد ہو اور ملک میں انہی بنیادوںکو مضبوط کرکے ملک میں امن و امان اور سکون کی دولت عام کر دیتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ عوام کے دلوں پر حکومت کرتا ہے ۔ جو اس کو صحیح معنوں میں ظل الٰہی سمجھتے اور اس کی درازی ء عمر کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔ پھر اس کی طرف آنکھ اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا‘ اس کا آغاز اپنی ذات سے شروع کرو۔
۱۷۔ یاد رکھو یہ جمہوریت کا نظام اورسسٹم اپنی زندگی کے ایا م پورے کر چکا ہے‘ اتنے واضح حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کو ئی بھی حکمران اور اسکے اقتدار کے ساتھی، اس افسر شاہی نوکر شاہی اور منصف شاہی اور اس باطل ،غاصب، ظالم، نظام اور سسٹم کے اذیت ناک موت کے پھندے کو اپنے اور ا پنے احباب کے گلے میں ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوتا مگر یہ نظام اورسسٹم کے ماہرین کا پھندا ہر آنے والے حکمرانو ں کو وراثت میں ملتا چلا آ رہا ہے ۔انکے کرتب کی صفائی یہ ہے کہ وہ اپنی طرف کسی کو آنکھ اٹھا کردیکھنے کا مو قع ہی نہیں دیتے۔ان فنکاروں اور ان کے سسٹم سے نجات حا صل کر لی جاے تو ملک بچ سکتا ہے۔
۱۸۔ ہمارے ملک کا حصول آمدن کا ذریعہ صرف زراعت ہی توہے۔اس لئے ہمیں زراعت کے میدان میں خاص توجہ دینی ہو گی ۔ کسانوں کو عزت و تکریم دی جائے ۔ اس پیشے کی عزت و عظمت کو بحال کیا جائے ۔ جو زمین سرکاری افسران اور سیاسی حکمرانوں کو تحفے یا رشوت کے طور پر الاٹ کی گئیں وہ سب منسوخ کر کے کسا نوں کو دی جا ئیں۔ انگریز کا دیا ہوا گھناؤنا طریقہ کار بند کیا جائے زمین صرف زمینداری کرنے والوں کو دی جائے۔ ملک میں بنجر اور فالتو زمینوں کو بروئے کار لایا جائے ۔ زیادہ تر عوام کی توجہ زراعت کی طرف مبذول کروائی جائے ۔ زرعی انقلاب لانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر قوم کو ابھارا جائے ۔ پھل دار درختوں ، پھولوں اور پھلوں کو زمین کا زیور بنا دیا جا ئے ۔ دریاؤں کے کناروں پر درختوں کے جنگل لگائے اور اگائے جائیں ملک میں ہر قسم کے مفیداور پھلدار درخت لگانے کا عمل ہنگامی بنیادوں پر جاری کیا جائے ۔ کاروباری ضرورت اور ایندھن کے لئے زیادہ سے زیاد ہ لکڑی حاصل کرنے کی کو شش کی جائے اور ان سے عمدہ لکڑی فر نیچر اور زندگی کے دوسرے شعبوں یعنی تجارت کے استعما ل میں لائی جائے۔ موٹر وے ، جی ٹی روڈ، ریل گاڑیوں، کی لائنوں کی دونوں اطراف زمین کو ہموار کرکے اس کو سبزیوں ، پھل دار درختوں کے استعما ل کیلئے مختص کیا جا ئے اور ہر قسم کی اجناس پیدا کرنے کے لئے استعمال میں لایا جائے ۔ ملک میں گندم ، مکی، باجرا، چنے ، دالیں ، چاول ۔ سویا بین ، کپاس ، پٹ سن، ہر قسم کی سبزیاں ،اور ہر قسم کے پھل، ہر قسم کی اجناس کو ملکی ضروریات سے وافر پیدا کرکے بیرون ممالک بھیج کر کثیرزرمبادلہ کمایا جانے کا عمل جاری کیا جائے۔ جانوروں کی آفرینش یعنی بھیڑ بکریاں، گائے ، بھینس، مرغیاں پالنے کی طرف خاص توجہ دی جائے ۔ دودھ ، گوشت ، انڈوں جیسی غذا کو وافر مقدار میں پیدا کرکے ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد بیرون ممالک بھیجنے کے انتظامات کئے جائیں ۔محنتی ، جفا کش کسا نوں،مزدوروں کو عزت و احترا م د یا جائے اور انکا ہر قسم کا استحصال ختم کیا جائے۔بیلداروں ، مالیوں اور دوسرے سرکاری عملہ کو افسر شاہی، نوکر شاہی کے گھروں میں نجی کام کروانے کی بجائے سڑکوں اور گاڑی کی لائینوں کے دونوں اطراف زمین ہموار کر کے پھل دار درخت لگاتے، سبزیاں اگاتے اور موسم کے لحاظ سے مختلف اجناس پیدا کرتے ۔ ذرائع آمدورفت مہیا ہونے کی وجہ سے پیداوار حاصل کرنے میں کسی قسم کی دقت نہ ہوتی۔ ملت کو منظم اور اسکی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے ملک کی کفالت بھی ہوتی اور باہر ممالک بھیج کر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاتا۔ لیکن ایسا کون کرتا۔ یہ راشی، کرپٹ، کمیشن خور نظام ۔ ایسے کام تو زندہ قومیں کرتی ہیں جن کے لیڈر، رہنما انسانی قدروں سے مالا مال ہوں۔ کھالوں سے چمڑا ، حاصل کرکے ملکی کفالت پوری کی جائے ۔ با ٹا کے جو توں کے مقابلہ میں اعلیٰ جو تے تیار کر کے ملکی معیشت کو مضبو ط بنایا جائے۔جیکٹیں تیار کی جائیں اورفالتو تیار کردہ اشیا ء کا سٹاک بیرونی ممالک بھیجا جائے۔ انشاء اللہ اہل وطن اور دنیا ، ان محنت کشوں ، ان محب وطن ایمان دار، محنتی، جفاکش کسانوں، بچے، جوانو ں اور بوڑھوں کی محنت اور کوشش سے صنعتی اور سرسبز زرعی انقلاب ملک میں لایا جا نا اب ضروری ہو چکا ہے ۔تمام اہل وطن اس انقلاب کو شان کریمی کا انعام تصور کریں گے ۔ اور ان محنت کشوںکی ہمت، محنت، کوشش، اور عظمت کو جھک کر سلام کریں گے ۔
۱۹۔ عوام الناس کے لئے محنت کے دروازے کھل جائیں گے ۔ باطل نظام کے پروردہ چند معاشی اور معاشرتی دھشت گردوں ، غاصبوں، ڈاکووں ، لٹیروں، رشوت خوروں ، کمیشن خوروں ، بدکرداروں، عیاشوں ، عشرت کدوں کا مکمل خاتمہ ہو گا اور چند ہاتھوں میں ملکی دولت اور وسائل کا مکمل قبضہ ختم ہو گا ۔ ان کا یہ مجرمانہ کلچر معاشرے سے پوری طرح ختم ہو گا ۔ ان کی ان قباحتوں ، اور بداعمالیوں کا بوجھ ان کے دلوں سے اترے گا ۔ اور یہ سیا ہ کار خود بھی اس خود غرضی ، ناانصافی ، کی وحشیانہ اقدار کے دوزخ سے رہائی پا کر سکون محسوس کریں گے ۔ یقینا ان غاصبوں کو اسلامی طرز حیات میں رزق حلال کمانے میں کسی حد تک دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ محنت کی بجائے ناجائز حربوں سے ملکی خزانہ اور ملکی وسائل لوٹنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔ اس نظام میں اس قسم کی ناجائز اور ناپاک ناانصافی کے طریقہ کار کی کسی کے لئے بھی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ ذرا غفلت کی نیند سے جاگ کر تو دیکھو۔ اللہ کا فضل اور کرم کیسے اپنے انعامات کی بارش برساتا ہے۔
۲۰۔ ملک میں ، زراعت میں سخت محنت اور کھیتی باڑی کے پیشہ کی عزت اور محنت کا صلہ بحال کرکے زیادہ سے زیادہ خام مال اس شعبے سے حاصل کیا جائے گا ۔ ملک میں سب سے بڑی اور سب سے منفعت بخش اس زرعی انڈسٹری کو کامیاب و کامران کرنے کے لئے بہتر سے بہتر عملی شکل دی جائے گی ۔ آنے والی نسلوں کو زراعت کے پیشہ کی عظمت سے آگاہ کرنا اس پیشہ کو منفعت بخش بنانا کھیتی باڑی کو عوام الناس کی دلچسپی کا مرکز بنانا ، جدید زرعی اوزار کو بروئے کا ر لانا نہائت ضروری ہو گا ۔ کھیتوں کو پھل دار درختوں اور فصلوں کا زیور پہنایا جائے گا ۔ تاکہ لوگ شہروں کے عذاب سے نکل کر دیہاتوں کی پاک ، مصفیٰ فضاؤں میں سانس لینے اور شہروں سے بہتر روزی کے مواقع میسر آنے ، ہر قسم کی اجناس، سبزیاں ، پھل، گوشت ، دالیں ، ان کے بہترین ذریعہ معاش ہوں گے ۔ مالیہ ، بلوں اور ٹیکسوں کے بے جا عذاب سے نجات دلائی جائے گی اس شعبہ میں ہر قسم کی سہولت مہیا کی جائے گی ۔ کیونکہ پاکستان کی۷۰ فی صدی آبادی کا انحصار زمینوں اور دیہاتوں پر منسلک ہے اور باقی انتیس فی صدی شہری عوام ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں، میں ان کے پیدا کردہ مختلف اجناس کے خام مال کی بدولت محنت ، مزدوری ، اور روزی کے مواقع سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور ملک میں یہی ایک ایسی ایجنسی ہے ۔ جو زیادہ سے زیادہ خام مال تیار کرکے ملک کو خوش حالی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے ۔ انشاء اللہ عوام کی بدحالی کو خوش حالی میں بدلنے کا یہ نسخہ اکسیر ثابت ہو گا ۔ اور ملک خود بخود آسودگی اور فراوانی کی دولت سے مالامال ہو گا ۔ننانوے فیصد لوگ آسودگی اور خوشحالی کی زندگی گزاریں گے۔ ایک فیصد غاصبو ںکا احتساب خو د کار نظام کے تحت ایسا ہو گا کہ یہ ا پنے ا نجا م کا چہرہ دیکھ لیں گے۔ ملک ترقی کی منازل کی طرف گامزن ہو جائے گا۔
۲۱۔ جنگلوں سے حاصل کردہ لکڑی سے فرنیچر تیار کرنے کے کارخانے ، گندم سے فلور ملیں، چنوںسے دال ملیں، چاول چھڑنے کے کارخانے، گنے سے چینی بنانے کے کارخانے، گھی کے کارخانے، چمڑے سے جوتے بنا نے کے کارخانے، جیکٹیں تیار کرنے کی فیکٹریاں، روئی بیلنے کے کارخانے، دھاگہ بنانے کے کارخانے، کپڑا تیار کرنے کے کارخانے، چاولوں کی پرالی سے چپ بورڈ تیار کرنے کے کارخانے اور صابن کے کارخانے، ڈبل روٹی پلانٹ، بیکریاں اور ڈیری فارم سے دودھ اور مکھن کی ملکی ضرورت پوری کرنے کے وسائل ۔ جتنی زیادہ توجہ زراعت پر دی جائے گی‘ اتنا ہی زیادہ خام مال مہیا ہو گا اور اتنے ہی کارخانے اور صنعتیں زیادہ سے زیادہ ملک میں تعمیر ہوں گی ۔ ملک میں بیروزگاری کا مکمل خاتمہ ہو گا ۔
۲۲۔ جنگلوں اور باغوں میں شہد بانی سے ملکی ضرورت پوری کرنے کے بعد زرمبادلہ کمانے کا بہترین نظام قائم کیا جائے گا۔ زراعت ہی ہماری خوراک، لباس، پھل اور ہر قسم کی ضروریات پوری کرنے کی ماں ہے اور زرمبادلہ کمانے کی ریڑھ کی ہڈی اور ملک میں بیروزگاری کا نام و نشان مٹانے کی چابی اور خوشحالی کی ضامن ۔۔ جتنا زیادہ خام مال زراعت سے مہیا ہو گا ۔ اتنی ہی صنعتیں ، ملک میں پھیلیں گی ۔ کپاس پیدا کرنے میں ہماراملک دنیا میں ایک الگ تھلگ مقام رکھتا ہے ۔ گانٹھوں کی شکل میں ایک پونڈ وزنی کپاس کی قیمت صرف چند سینٹ ہے ۔ باہر کے ممالک ہمارے اسی خام مال سے دھاگا ، اور کپڑا تیار کرتے ہیں اور اس کے بعد گارمنٹس کی شکل میں ڈالر وں کے حسا ب سے فی پونڈ کے حساب سے دنیا میں فروخت کررہے ہیں ۔ انشاء اللہ ملک میں روئی بیلنے سے لے کر گارمنٹس تیار کرنے کے کارخانوں اور فیکٹریوں تک تمام قسم کے کارخانے اسی ملک میں لگیں گے ۔ جتنے زیادہ کارخانے لگیں گے ۔ اتنی ہی محنت ، مزدوری اور روزی کے دروازے کھلتے جائیں گے ۔ اسی طرح ہر پیداوار اور خام مال کی تمام شعبوں کی مشینری ملک میں بنائی اور لگائی جائے گی اور روزگار کے ذرائع انشاء اللہ دن بدن بڑھتے چلے جائیں گے ۔ غربت ، افلاس، اور بیروزگاری کا مکمل خاتمہ ہو گا ۔ ملت کو محنت و مشقت ، ہنرمندی اور ہر قسم کی جدید ٹیکنیک سے آراستہ کیا جائے گا۔تاجر اور کاروباری حضرات اس ظا لم بے دین نظام اور استحصالی سسٹم سے نجات حاصل کریں گے۔ملک و ملت کو ان غا صبوں سے نجات مل جائیگی۔ملک ہر فیلڈ میں ترقی کرے گا۔
۲۳۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ بغیر چھانے آٹے کا استعمال کرنا صحت کے لئے بہتر ہے ۔ پاکستان میں ایک رواج رائج ہو چکا ہے کہ جس میں آٹے سے چوکر نکال کر سفید آٹا ،فائن آٹا، سپر آٹا ،میدہ کے استعمال کا رواج عام ہو چکا ہے۔ ان اقسام کے آٹے کے استعمال کرنے سے معدہ خراب ہو جاتا ہے ۔ اس معدہ سے آنتوں میں چکناہٹ جمع ہو کر اس کے قدرتی کام کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتی ہے ۔ خون کو گاڑھا کر تی ہے ‘ جس سے معدہ کی تبخیر اور دوسری بیماریاں معدے اور جگر کو ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ اس سے انسانی جسم میں شوگر پیدا ہوتی ہے ۔ گردے خراب ہوتے ہیں‘ بلڈپریشر کا مرض انسانی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ خون گاڑھا ہونے کی وجہ سے انسانی جسم پر فالج کا حملہ اور دل کا اٹیک کا مرض ملک میں عام ہو چکا ہے ۔ جہاں یہ فائن اور سفید آٹا زندگی کے لئے مہلک ہے ‘ وہاں دوسری طرف کم از کم پندرہ بیس فی صد چوکر آٹا سے نکالنے سے ملکی معیشت بھی بری طرح تباہ ہوتی ہے ۔ ہر سال پندرہ سے بیس فی صد گندم ملکی ضرورت پورا کرنے کے لئے باہر کے ممالک سے خریدی جاتی ہے اور اس طرح اربوں ڈالر ملکی زرمبادلہ اس بنیادی ضرورت کو حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ ملک میں ان بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعدادبہت زیادہ ہو چکی ہے۔ مغرب میں چھان والی ڈبل روٹی کا رواج عام ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اس قسم کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لئے ڈاکٹر چھان والے آٹے اور چھان والی ڈبل روٹی کے استعمال کی ہدایات دیتے چلے آرہے ہیں۔ ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ کے حکم کی اطاعت کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ اس میں ہماری صحت اور خوشگوار زندگی گزارنے کا راز پنہاں ہے اور ملکی زر مبادلہ کے عظیم نقصان سے بچنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔اس سے ہسپتالو ں اورادویا ت کے عذاب سے نجات بھی میسر ہو گی اور صحت بھی بحال ہو گی۔ ان حقا ئق کو کو ئی جھٹلانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ مگر ان حقائق کو ٹی وی پر مشتہرکرنے اور عوام کو اصلیت سے آگاہ کرنے سے انکی رشوت اور کرپشن اور کارو بار پر برا اثر پڑ تا ہے۔ البتہ ایسا کرنے سے ملکی خزانہ ، عوامی صحت، ایمانداری کا راستہ، ٹیکسوں میں کمی اور استحکام کا موقع میسر آسکتا ہے۔
۲۴۔ ملک میں مختلف مغربی مشروبات یعنی سیون اپ ، شیزان ، کوکا کولا، پیپسی کولا ، مرنڈا، فراسٹ، وغیرہ وغیرہ کا استعمال اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ جس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔یہ تمام مشروبات باہر کی یہودی کمپنیوں کی پیداوار ہیں ۔ وہ ان کا خشک میٹریل پاکستانی ایجنٹوں کو مہیا کرتے ہیں اوریہ اس میٹریل کو ان کے کلیہ کے مطابق اسی تناسب سے پانی میں حل کرکے بوتلوں میں بند کرکے گلی گلی ، محلہ محلہ، گھر گھر ، شہر شہر، پورے ملک میں مہیا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ یہاں یہ بات واضح کرنی نہائت ضروری ہے کہ اس سٹاک کو محفوظ رکھنے کے لئے کیمیکل کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ان میں ویسے بھی مختلف سینٹ اور کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جو انسانی زندگی کے لئے مہلک ہوتے ہیں۔ جس سے انسانی گردے ، معدہ، جگر، بلڈ پریشر، بینائی اورسماعت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ ان سے مختلف بیمار یاںمثلاً گردے کی بیماریاں، شوگر، بلڈ پریشر، کینسراور دوسری ہر قسم کی بیماریاں پیدا ہونے کاا حتمال ہوتا ہے ۔جہا ں ملک میں یہ بیماریاں عام ہوئی ہیں وہاں کثیر زر مبادلہ کانقصان بھی ہو تا چلا آ رہا ہے ۔چونکہ ان مشروبات کی ایجنسیوں کے الاٹی یا مالک ملک کے برسراقتدار لوگ یا ان کے عزیز و اقارب ہی ہوتے ہیں ۔ اس لئے یہ ملک کا ارب ہاسرمایہ عوام الناس کی جیبوں سے کھینچتے چلے آرہے ہیں ۔ہم ملکی زر مبادلہ سے کینسر،دل کے مرض، گردوں کی خرابی، سماعت،بینائی اور بہت سی بیماریا ں خر یدتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے مغربی مالکان یعنی یہودی اور یہاں کی یہ مخفی شخصیات اس معاشی قتل اور عوامی صحت کو تباہ کرنے میں پیش پیش ہیں ۔
۲۵۔ اے اہل وطن ! ان حقائق کی چھان بین کریں ۔ ان کے اصل حقائق تک رسائی حاصل کریں۔ ان ملکی ایجنٹوں کا کھوج لگائیں کہ یہ کون لوگ ہیں ۔ حکومت وقت سے گزارش کی جائے کہ وہ ان تمام ایجنسیوں کے مالکوں کے نام کی فہرست شائع کرے تو بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ عوام کو زندگی کے حقائق سے کتنا دور رکھا جاتا ہے ۔


۲۶۔ پوری قوم سے ان حقائق کی روشنی میں التجا کرنا ضروری ہے کہ وہ مغربی مشروبات استعمال کر نے کی بجائے ملکی مشروبات کی طرف توجہ دیں ۔ ہمارے ملک میں مسمی ، مالٹا، فروٹر ، کینواور سنگترہ کے باغات وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے پھلوںاور سبز یوں کے جوس ملک میں ہی تیار کئے جا رہے ہیں۔ اس فیلڈ کی طرف توجہ دے کر ہم ملکی مشروبات کو زیر استعما ل لا کر ملک کا زر مبادلہ بھی بچا سکتے ہیں اور اس معاشی اور معاشرتی عذاب اور طرح طرح کی بیما ریوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات بھی حاصل کرسکتے ہیں اور انشاء اللہ ان مشروبات کے سٹاک بیرون ملک بھیج کر ایک معقول زرمبادلہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ہمارے ملک میں مولی ‘گاجر‘ سیب‘ کیلا‘ انار‘ گنا‘ کنو‘ مسمی‘ مالٹا‘فروٹر‘ آم اور ہر قسم کے پھل اور سبزیاں موجودہیں ۔ ان کے جوسزغیر ملکی مشروبات کا بہترین نعم البدل ہیں۔ انکے استعمال میں کئی بیماریوں کا قدرتی علاج بھی موجود ہے۔ مثلا ہر قسم کے یرقان کیلئے یہ جوس نہائیت مفیدہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ملک میں جنجر کی بوتلیں پیٹ کے درد اور ہاضمہ کیلئے استعمال میں چلی آرہی ہیں۔ مغربی مشروبات اور انکی افادیت اور نقصانات سے عوام الناس کو آگاہ کرنا نشرواشاعت کے اداروں کا کام ہے۔ کم سے کم ٹی وی پر سگریٹ کے اشتہار کے بعد اس طرح کی عبارت ’’تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے‘‘ (محکمہ صحت) جیسا اشتہار ہی دے دیا جائے۔ صندل کے شربت سے لے کر شربت بزوری تک ‘ جام شیریں سے لے کر روح افزا تک کے مشروبات کی افادیت سے آگاہ کرنا اور اعلیٰ معیار کو قائم رکھنا ہمارے ان ہنر مندوں کا کام ہے تاکہ وہ ملکی مشروبات کو بین الاقوامی سطح پر معیاری ثابت کر سکیںاور عوام بھی مغرب کے مشروبات کی بجائے ملکی جوس اور مشروبات کے استعمال کی طرف توجہ دیں ۔ ملک ایک بہت بڑے زر مبادلہ کی کثیر رقم بچا سکے گا‘ جس سے مختلف بیمار یاں اور موت خریدی جاتی ہے نیز ان ایجنٹوں سے بھی نجات مل سکے گی۔غور کریں بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی بچتیں ملکی معیشت کو آکسیجن کا کام دیتی ہیں ۔ کاش اہل اقتدار میں کوئی اہل درد بھی ہو۔
۲۷۔ اس سے قبل ڈاکٹر صاحبان بلڈ پریشر، گردوں اور دل کے مریضوں کو دیسی گھی کا استعمال فوراً بند کروا دیتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہ دیسی گھی ایسے مریضوں کے لئے مہلک تھا ۔ ڈالڈا تیل استعمال کرنے کی ایسے مریضوں کو اجازت دیتے تھے بلکہ پا بند کرتے تھے۔ اب جدید سائنسی ترقی سے یہ ثابت ہوا کہ دیسی گھی انسانی درجہ حرارت کے مطابق ہے اور یہ انسان کے جسم میں جا کر جمتا نہیں ۔ اس کے برعکس ڈالڈا گھی مختلف کیمیکلز کے ذریعہ تیار ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر‘ گردوں اور دل کے امراض کے لئے نہائت مضر اور نقصان دہ ہے۔کیونکہ یہ گھی اور تیل اندر جا کر جم جاتا ہے ۔ تمام اہل مغرب اس گھی کا استعمال برائے نام کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں اس کا استعمال روز مرہ زندگی میں بہت زیادہ ہے ۔ معاشرے میں ہر قسم کا کھانا گھی کی بہتات سے تیار ہوتا ہے ۔ گھی میں فرائی کھانے کی اشیاء کا رواج ہے ۔ یہ ڈالڈا گھی انسانی جسم میں جا کر تمام بیماریوں کا موجب بنتا ہے ۔ عوام الناس کو ان حقائق سے آگاہ کرکے اس گھی کے استعمال میں کم از کم ساٹھ فی صد کمی کی جا سکتی ہے ۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ یہ مقولہ تمام حکماء اور ڈاکٹروں کا متفقہ تسلیم شدہ ہے ۔ ہم روز مرہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے استعمال میں کمی کرکے اربوں ڈالرزکے زر مبادلہ کی بچت کرسکتے ہیں اور ملک میں اسی لحاظ سے امراض میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ ان حقائق کو ٹی وی پر مشتہر کرنا اور عوام الناس کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ عوام کی صحت اور معاشی نقصان کا تدارک کیا جا سکے اور ملک گھی کے معاملے میں خودکفالت بھی حاصل کر سکے گا اور ملکی زرمبادلہ بھی بچایا جا سکے گا۔عوا م الناس کو بیماریوں پر کنٹرول بھی ہو گااور صحت بھی بحال ہوگی۔کیا ایسا کرنے سے ملکی معیثت اور عوام کی صحت بچا ئی جا سکتی ہے یا نہیں؟ یہ اتنا مشکل کام کون کرے گا؟یہ زرمبادلہ کون بچائے گا ؟ عوام الناس کی صحت کی حفاظت کون کرے گا؟ عوام کو ان حقائق سے آگاہ کون کریگا؟ کیا یہ فریضہ اس کاروبار اور دھندہ میں ملوث یہودی ایجنٹ جو حکمرانی ٹولہ میں گھسے ہوئے ہیں وہ کریںگے۔ وہی مردِ حریہ فرائض ادا کریگا جس کے پاس یہ ملی احساس موجود ہو گا۔ ایسے مرد ہی ملت کے کردار کا رخ موڑنے کا اہم فریضہ ادا کیا کرتے ہیں۔
۲۸۔ اس کے علاوہ تیل‘ گیس‘ ہر قسم کی معدنیات‘ یعنی تانبا ‘ لوہا‘ سونا‘ یورانیم‘ سنگ مرمر اور بے بہا موتیوں اور ہیروں کے مخفی خزانے پاکستان کی سرزمین انشاء اللہ ایسے اگلے گی کہ دنیا محو حیرت ہو جائے گی۔ قدرت نے پاکستان کی سرزمین کو چار موسموں کا حسین و جمیل فطری نظام عطا کیا ہے ۔ ان موسموں کے دلکش نظارے خوبصورت پہاڑ اور ان کے دامن‘ حسین سرسبز میدان‘ دلکش صحرا‘ کوہ و بیاباں کی خاموشی کے منظر ‘ دلربا ساحل سمندر‘ میٹھے ٹھنڈے چشموں اور زمینی پانی کے ذخائر۔ دریا‘ نہریں‘ ڈیم‘ کیا کچھ نہیں جو اس خطے میں میسر نہ ہو ۔ دنیا کی ہر جنس‘ ہر پھل‘ ہر پھول‘ ہر قسم کے درخت‘ جڑی بوٹیوں کی لاجواب و لازوال سرزمین ‘ ہر قسم کی نعمت اللہ تعالیٰ نے اس خطہ کی زمین کو پیدا کرنے کی طاقت، صلاحیت، توفیق اور بہترین اعلیٰ خوبیاں بخشی ہیں ۔ اس کے علاوہ موسموں کی تبدیلی کا فطری عمل اور بارشوںسے ماحول کی آلودگی کا خاتمہ اور اس کے پانی سے زمین کی سرسبز رونقیںبحال‘اس ملک کا ذرہ ذرہ عشق و محبت کا امین‘ حکیموں‘طبیبوں‘ محنت کشوں‘دانش وروں ‘ دینداروں‘ عالموں‘ فقیروں‘ درویشوں کی آماجگاہ ہے ۔
۲۹۔ ملکی جڑی بوٹیوں سے افادیت حاصل کرنے کیلئے طب کی طرف سرکاری سطح پر پوری توجہ دینا نہائیت ضروری ہے ۔ جسطرح مغربی دنیا جراحی میں مقام عروج حاصل کر چکی ہے‘ اسی طرح ان جڑی بوٹیوں سے افادیت حاصل کر کے اور ان سے مختلف ادویات تیار کر کے دنیا میں منفرد مقام اور عروج حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً لیموںجسم اور خون میں چربی کو زائل کرتا ہے۔ لہسن خون کو پتلا اور خون میں جالے کو ختم کرتا ہے۔ ادرک جسم سے بادی اور دردوںکو دور اور ہاضمہ کو درست کرتا ہے۔ شہد کو ام الشفا کے خطاب سے قرآن پاک نے پکارا ہے۔ اگر ایک چھٹانک لیموں کا عرق، ایک چھٹانک لہسن کا عرق، ایک چھٹانک ادرک کا عرق حاصل کر کے تین چھٹانک شہد میں ملا کر محلول تیار کیا جائے اور بوتل میں محفوظ کرلیاجائے تو آدھا چمچہ چائے کا رات سوتے وقت آدھا کپ پانی میں ڈال کر استعمال کرنے سے خون میں چربی ، خون کا گاڑھا پن، خون میں جالا ختم ہو جائے۔ معدہ صحیح کام کرے۔ درد وجود سے ختم ہو جائے ۔ دل کے تمام جملہ امراض کے لئے اکثیر کا کام کرتا ہے ۔ خون کی بند نالیاں کھل جاتی ہیں توکیا لاکھوں روپوں سے بائی پاس کروانا ضروری ہے؟ سونف اگر پیغمبرﷺکے پیٹ کے درد کو ختم کر سکتی ہے تو آج اس کے استعما ل سے گریز کیوں؟ حضورﷺکے بتائے ہوئے خوراک کے سادہ اصولوں کو زندگی میں اپنایا جائے تو بیماریوں اور ہسپتالوں سے بڑی حد تک نجات میسر ہو سکتی ہے۔ اپنے ملک کے مشروبات‘ اپنے ملک کی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مختلف مشروب اور ادویات عوام کو سکھ دیں گی۔عوام کو راحت اور سکون بخشیں گی۔ عوام کو تندرستی اور صحت عطا کریں گی۔ عوام ان لغویات سے نجات بھی پائے گی اور ملکی بجٹ بھی بچے گا ۔ ملک خوشحالی کی طرف گامزن ہو گا۔ملک میں حکمت اور جڑی بوٹیوں سے استفادہ کرنے کی سرکاری سطح پر سرپرستی کون کرے گا؟جب ڈاکٹروں ‘ سرجنوں کی فیسوں اورآپریشنوں کی بڑی بڑی رقمیں وصول کرنے والا ظالم سسٹم ختم ہو گا۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں میڈیکل کالجوں کی طرح اسکا نصاب کون مقرر کرے گا؟ حکمت کے معزز پیشہ کے تقدس کو کون بحال کرے گا؟یاد رکھو یہ اس وقت ہو گا جب ملت کی نبض کسی حکیم کے ہاتھ میں ہوگی۔
۳۰۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے ایک طرف پاکستان کا ایک عظیم دوست اور ہمسایہ ملک چائناChina) ) ہے ۔ دوسری طرف افغانستان ، ایران ، روس اور اس سے آزاد ہونے والی بارہ ریاستیں ۔ان تمام ممالک کی تجارت کا موزوں ترین راستہ ۔ لنڈی کوتل سے لے کر کوئٹہ اور کراچی تک بذریعہ موٹر وے ۔ تمام ایشیاء اور مغربی ممالک کے رابطہ کا اندرونی اور بیرونی اہم دروازہ پاکستان ہی تو ہے۔ انشاء اللہ اس موٹر وے کی آمدن آپ کے موجودہ بجٹ سے کہیں زیادہ ہو گی اور ہمسائیگی کے تعلقات میںاخوت و محبت کے رشتے الگ استوار ہوں گے ۔ پاکستان صرف اپنے عوام کی کفالت ہی نہیںبلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام کی مدد و معاونت بھی کرنے کے قابل ہو گا۔ پاکستان دنیا میں تجارت کی شاہ رگ کا کام دے گا۔ اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے شریعت محمدیﷺ کا نفاذ اور اس کی تعلیمات کی روشنی میں تربیت کا ہونا لازمی ہے کیونکہ ملی کردار ہی کسی قوم کی ترقی اور کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اس طیب فریضہ کو کون ادا کریگا۔ وہ جو نصیب کا شہنشاہ ہو گا۔
۳۱۔ ملک میں ڈیموں کا جال بچھا کر ماہی گیری کی صنعت کی طرف پوری توجہ دی جائے گی ۔ مچھلی کی ملکی ضرورت اس طرح پوری کی جائے گی اور سمندر سے حاصل کردہ اعلیٰ اقسام کی مچھلی کو بیرون ممالک سپلائی کرکے ایک کثیر رقم کا زر مبادلہ کمانا کوئی مشکل کام نہ ہوگا ۔ ہماری سمندری مچھلی کی ڈیمانڈ بیرون ممالک بڑھے گی اور ہماری آنے والی نسلوں کو محنت ‘ مزدوری اور روزگار کے بے شمار مواقع میسر ہوں گے۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کے منشور‘ تمام دعوے اور تمام نعرے ان سیاست دانوں کے ہاتھوں اپنے اپنے انجام تک پہنچ چکے ہیں ۔کرپشن اور اسکے منتظمین ملک سے فارغ کر نا صاحبِاقتدار کا کام ہے اور ملک کی خو شحالی اس کا انعام۔ اللہ تعا لی آپکو ایسا کرنے کی تو فیق عطا کرے ۔آمین
۳۲۔ ملک میں رائج الوقت جمہوریت کی کالی ماتا کا طلسم بے اثر ہو چکا ہے اور اس کے سیاسی منتریوں کا دور ختم ہو چکا ہے ۔ یہ اپنے ہی طلسمی نظام کے شکنجے کی گرفت میں بری طرح پھنس چکے ہیں ۔ ان کا انجام ان کے سامنے ہے ۔ملک کے چودہ پندرہ کروڑعوام کا انعام نفاذ اسلام ہی میں مضمرہے ۔اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو اس باطل نظام اور غاصب سسٹم کے اندھیروں سے نجات عطا فرم دیں۔ آمین
۳۳۔ اسلام ہی پوری کائنات کے مسائل کا حل ہے ۔ جب تک ہم ایک مسلمان کا عملی کردار اور اسلامی ضابطہ حیات کی روشنی اور پوری اطاعت پر مبنی ملک میں معاشرے کو تشکیل دے کر دنیائے عالم کے سامنے نمونہ پیش نہیں کر تے کہ خلیفۂ وقت اور مجلس شوریٰ کی ضروریات قلیل سے قلیل ‘ اخراجات کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ‘ عوام کے سامنے جوابدہ‘ زندگی نہائیت سادہ‘ اخوت ‘ محبت ‘ ادب‘ پیار‘ خدمت‘ ایمان داری‘ انصاف‘ در گزر‘ عفو‘ بھائی چارہ‘ داد رسی‘ انسانیت کا ادب و احترام‘ محنت و جفاکشی کے پیکر ‘ انسانی حقوق کے امین‘ گناہ کے مطابق حکم خداوندی کے نافرمانوں کو بلا تمیز سزا دینے اور معاشرے کو ہر قسم کے جرائم سے پاک کرنے کے پابند‘ ہر برائی اور ہرقسم کے ظلم کا فوری قانونی علاج‘ لین دین اور کاروبار میں ایمان داری‘ ہر برائی کو حکمِ خداوندی کے قوانین کے مطابق نیست و نابود اور ختم کرنے کے پابند‘عد ل و انصاف کی قندیل کی روشنی میں اقوام عالم کی رہبرو راہنمائی کرنے کی سعادت کے وارث‘ اطاعت رسول ﷺ اور اطاعت خداوندی ان کی زندگی کا نصب العین ‘ پوری مخلو ق اورانسانیت کے لئے رحمت عالم‘ اس دور کے انسانوں کے مہتاب و آفتاب‘ دلکش و دلربا ‘ پر کشش‘ پرلطف ‘ پر کیف‘ پر بہار‘ پر نور‘ پر سرور‘ پر شوق‘ پر ذوق‘ پر سوز‘ رحمت اللعالمین ﷺکی ان مست الست بہاروں کو کرہ ء ارض میں اس طرح پھیلانے کے پابند‘ باد نسیم‘ بادِ شمیم کے کندھوں پر خدمت ادب‘ احترام‘ عزت‘ سلامتی ‘ مہر‘ کرم‘ محبت کے آسمانی تحائف کا لا متناہی نور دہر میں ضیائے سحر کی طرح ہواؤں اور فضاوں میں پھیلانے میں مست و محو ۔یا اللہ یہ کائنات امن ، آشتی، سکون، راحت، کی آماجگاہ بن جائے ۔ یا اللہ ۔۔ بنی نوع انسان کو اس راز کی آگاہی اور آشنائی سے روشناس فرما ! اے اللہ تیرے پاس تو بڑی توفیقیں ہیں ۔ یا للہ تو ہمیں اس نجس نظام اور عدل کش سسٹم کے غیر جمہوری اور غیراسلامی شکنجوں سے نجات عطا فرما۔ یا اللہ تو ہمارے کسانوں ،محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام الناس کو اس ایک فیصد حکمرانوں ، سیاستدانوں، جاگیرداروں، سرمائے داروں، افسر شاہی، نوکر شاہی اور منصف شاہی پر مشتمل معاشی قاتلوں، معاشرتی دہشت گردوں کے ٹولہ کی ظالمانہ گرفت سے بچا۔ تو اس دنیا کو عبرت کدے سے امن کدے میں بدلنے کی طاقت اور توفیق رکھتا ہے ۔ یا اللہ ! یہ اس دن کو اس عہد کے نصیب کا حصہ بنا ۔۔ آمین ۔ یا اللہ ! مسلمانان پاکستان ، ملت اسلامیہ اور پوری کائنات کو ذہنی، قلبی، اور روحانی، سکون عطا فرما ۔ اور شریعت محمدیؐ کی نوری روشنی سے د نیا کو منور فرما ۔ یا اللہ ہمیں یہ دن ہماری زندگی میں دکھا ۔ آمین