To Download or Open PDF Click the link Below

 

  علمائے دین اور مشائخ کرام کا جمہوریت پسند تصور اوراسکاامت محمدیﷺ کے
کریکٹرو کردار پر اثرات
عنایت اللہ
اسلام ایک نور کا خزانہ ہے ۔ قرآن پاک اس نور کی قندیلوں سے بھرا پڑا ہے۔ پوری انسانیت کے لئے رشد و ہدائت کے چراغ اسی سے روشن ہوتے ہیں۔ اس کتاب مقدس کو علمائے دین پڑھانے ، سمجھانے اور ضابطہ حیات کی حدود و قیود سے مخلوق خدا کو آگاہی اور آشنائی کرواتے چلے آ رہے ہیں ۔ حضورﷺ کی سیرت و سنت کا درس ،علم اور عمل کی روشنی کی کر نیں عام کئے جاتے ہیں۔ اب بھی اس اجڑے گلستان میں قلیل سی تعداد میں بلبلیں نالۂ سود وزیاں ، چھیڑے اسلام کے نفاذ کے لئے عمل پیرا اور جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسرے مشائخ کرام جو دیدۂ بیناکا احساس عنائت کرنے والے۔ سائل کو اثر و تاثیر بخشنے والے ، محبت و اخوت اور درد دل بانٹنے والے ، سوز و گداز عطا کرنے والے، آنسوؤوں کو موتیوں میں ڈھالنے والے، سود و زیاںمیں ڈوبے ہوؤں کو کنارے لگانے والے، شب بیداری کے ساز کو سوز بخشنے والے ، من کی بانسری کو سروں میں ڈھالنے والے، تنہایوں میں ھو سے تعارف کروانے والے ، مدینۃ العلم اور باب ا لعلم کی گلیوں میں نقش پا کو چومنے والے ، جن کے دلوں کے راڈار میں صرف اور صرف صَلّ عَلیٰ ، صَلّ عَلیٰ کی لہریں رقص کرتی ہوں۔ جو اس ذکر و فکر کے ریموٹ کنٹرول سے نگاہ شوق سے علم عطا کرتے ہوں۔اور سوئے حرم کا سفر جاری و ساری رکھے ہوئے ہوں۔ یعنی درویش، فقیر، ولی اللہ ۔ یا اللہ والے ، جو دین کے نور سے سراپا منور ہوتے ہیں۔ وہ انسانیت کو باطن کے ظلمت کدہ سے نکال کر روحانیت کے تقدس کے روشن چراغ دلوں میں جلاتے چلائے آ رہے ہیں ۔وہ سوزدل، سوز جگر، کی تڑپ سے بینا آنکھ عطا کرتے رہتے ہیں۔
اس دور جدید میں چند ایک علماء جن کے اصل فرائض دین کی ظاہری تعلیم و تربیت کرنا ، اور دوسرے مشائخ کرام کا فریضہ اس ظاہری علوم کو نگاہ فیض سے معطر اور مشفق کرکے روحانیت کے چراغ روشن کرنا تھا ۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ دنیا کی بے ثباتی کی قندیلیں دلوں میں روشن کرتے ۔ ضروریات قلیل سے قلیل رکھنے کی تلقین فرماتے اور زندگی حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق گزارتے اور مخلوق خدا کے حقوق کی بجاآوری کا خیال رکھتے اور حضور ﷺ کے عمل کی شمع سے منور کرتے ۔کتابی علم اور اس کائنات کی کھلی کتاب میں غور اور فکر کی عبادت سے آشنا فرماتے ۔ وہ خوفِ خدا کو انسانوں کے دلوں میں وارد اور مسلط کرتے ۔ وہ حق تلفیوں، ظلم، زیادتی، ناانصافی، عدل کشی، ڈاکے، رشوت، کمیشن، دہشت گردی کے مافیا یعنی دین و دنیا کی بد اعمالی اوربر بادی سے انسانیت کو محفوظ فرماتے۔ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سیاست دانوں، افسر شاہی، منصف شاہی، نو کر شاہی اور حکمرانوںکوراہ راست پرلاتے۔وہ محبت،ادب،خدمت،ایثار، نثار، اخوت، ہمدردی،درگزراور بہترین اوصاف اور اخلاق کی نشوو نما فرماتے ۔ غاصب، فاجر، فاسق، منافق اور ہر قسم کی بدکرداریوں کو دین کی اس چتا میں بھسم کرکے ملک و ملت کو ایک اعتدال اور مساوات اور جذبۂ خدمت سے لبریز معاشرے کی تشکیل و تکمیل فرماتے۔ملک امن کا گہوارہ بنا ہوتا ۔انہوں نے تو اپنے اپنے گھونسلوں میں دین کی شمع روشن کرنے کی بجائے، مسجدوں اور پیر خانوں میں رشد و ہدایت کا سبق سکھانے کی بجائے، ملت کو شرم و حیا کا لباس پہنانے کی بجائے، انسان کو انسانیت سے تعارف کروانے کی بجائے،مقصد حیات کے رموز اور سرائے فانی کے عقدے کھولنے کی بجائے، حق و باطل کے میٹھے کڑوے سمندروں کی نشان دہی کرنے کی بجائے ،علم کو عمل کا لباس اور مسلمانوںکو فقر کی زرا پہنانے کی بجائے،اخوت و محبت کا پیغام مخلوق خدا تک پہنچانے کی بجائے،حرص و ہوس کی تند وتیز آگ بجھانے کی بجائے، مساجد اور درسگاہوں میں اصحاب صفہ کی طرز کے نا یاب گو ہر تیار کرنے کی بجائے،حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بجائے،وہ روشن راستہ بھو ل گئے ۔وہ میرکاروں ،رہزنِکاروں بن گئے۔ان سے ایسی بھول ہوئی کہ وہ احساس زیاں سے بھی محروم ہو گئے۔وہ دنیا اور اسکی ضروریات کے حصول میں گم ہو گئے۔
ان دونوں بد بخت ، خود ساختہ خود غرض سیاسی علماء اور بے نور مشائخ کرام نے ملت کے ساتھ ایک ایسا دھوکہ کیا کہ دین کے ان دونوں بازؤں کو جمہوریت کی تلوار سے کاٹ کر ملت اسلامیہ کے بنیادی کردار کو پے در پے حملوں کے عمل جاری کرکے دین کی تمام اقدار کو تہس نہس کردیا ۔ ان بے عمل دنیا دار اور بصیرت سے محروم نام نہاد مذہبی پیشواؤں نے مرسیڈیز ،پجارو، لینڈ کروزر ، رشوت، کمیشن، کوٹھیوں، محلوں اور ہر قسم کے اسلام کے خلاف کلچر کے مافیا کو اپنایا۔ دولت اور ڈالروں کی جھنکار میں مست ہو کر ملک میں یہودیت، عیسائت، ہندوازم پر مبنی ، جمہوریت کے کھیل میں شامل ہو کر اسلام کی عملی زندگی، اسلامی تعلیمات اور بنیادی ا قدار کو پس پشت ڈال کر جمہوریت اور اس کے خود ساختہ اصول و ضوابط اورقوانین اور طریقہ کار کوان آٹھ دس ہزار سیاست دانوں پرمبنی غاصبوں، سے منسلک ہو کر عملی طور پر اس باطل نظام کی روشنی میں الیکشنوں میں حصہ لیا ۔ صوبائی ، وفاقی اور سینیٹ کے ممبران بنے ۔ اسی نظام کے مشیر، وزیر کے عہدوں پر بھی فائض ہوئے اور مغرب کی تہذیب و تمدن کو اپنانے میں برابر کے شریک اور مجرم بنے۔ملت کو اسلامی ضا بطہ عطا کرنے والے مغرب کے میخانہ کے ساقی بن گئے۔
ان علمائے دین نے اپنے سیاسی ورکروں کو تیار کیا اور ان اسلامی درسگاہوں میں صدقات، زکوۃ ، چندوں ۔ قربانی کی کھالوں اور حکومت کو بلیک میل کرکے اکھٹی کی ہوئی دولت سے اپنی بودوباش او ر عیش و عشرت کی زندگی کو اپنایا۔رزق حلال اور محنت کی زندگی سے گریز کیا اور یہ سیاسی دینی ادارے اپنی منفعت کے لئے چلائے ۔ اس طرز پر پیرانِ کرام ، گدی نشینوں ، مشائخ کرام نے عقیدت مندوں سے نقد نذرانے ، تحفے ، تحائف، چندے اور حکومتی اقتدار، کے مشیروں ، وزیروں اور حکومت وقت سے چوری چھپے وظا ئف حاصل کئے اور زندگی کے کاروبار چلانے کی ہر قسم کی جائز و ناجائز ، مراعات ، سہولتیں ہر دور حکومت میںاپنی خواہشات کے مطابق حاصل کیں ۔ ان کے عوض انہوں نے ان شعبوں کے تقدس ،عظمت، اور حیا کو سر عام فروخت کیا ۔ اپنے آباؤ اجداد کے اصلی روحانی مشن ، تعلیم و تربیت،اور روحانیت کی طاقت کو اپنی ان بداعمالیوں، بد کرداریوں،ہوس پرستی ، زن پرستی، زر پرستی، اور ہر قسم کی دنیاوی غرض و غائیت کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ اپنے آبا ؤ اجداد کے عظیم ناموں ، کارناموں، اور ان کے مزارات سے منسلک روحانی فیوض حاصل کرنے والے عوام الناس کو ان طیب ہستیوں سے متنفر اور گمراہ کرنے میں وہ رول ادا کیا۔ جو دین کے منکر اور کافر بھی نہیں کر سکتے تھے ۔
انہوں نے مشائخ کرام کے روپ میں لنگر خانے ، قائم کر رکھے ہیں ۔ بڑے بڑے کھانوں اور شاہی اخراجات اور سامان تعیش کو اپنی تمام بداعمالیوں، بے حیائیوں ، سمگلنگ، چور بازاری، لوٹ کھسوٹ، ناجائز ذرائع، رشوت اور کرپشن کے ڈھانپے ہوئے پردوں میں اس سلسلہ کو جاری کئے ہوئے ہیں اس طرح وہ نام نہاد بزرگانِ دین دعا کے فیض بانٹتے ہیں ۔ ان بڑے بڑے لنگر خانوں اور شاہی اخراجات سے سادہ لوح عوام الناس کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کو یہ مخفی خزانے ، ان بزرگان دین اور صاحب مزار ہستیوں نے عطا کئے ہیں ۔ جن کے وہ نائب اور مصاحب ہیں ۔ وہ بھول گئے کہ ان طیب ہستیو ں نے تو یہ لنگر شریف درس و تدریس حاصل کرنے والے طالب علموں، مسافروں، اور مستحق عوام الناس کی بہبود اور دین کو پھیلانے کی غرض سے معرض وجود میں لائے۔ وہ تو اصحاب صفہ کی طرز پر انمول کردار دین کی روشنی میں تیار کرتے ۔ جو اس ظلمت کدہ کے گھپ اندھیروں میں ماہتاب کا فریضہ ادا کرتے۔ وہ لنگر خانے نہائت سادہ، مختصر، اور کم خرچ کھانوں پر مشتمل ہوتے۔ وہ انہیں انسانیت کی ضرورت اور دین کی خدمت کے تصر ف میں لاتے ، نہ کہ ان دین کے روحانی بھیڑیوں کی طرح ان شاہی اور تفاوتی لنگر خانوں کو اپنی انا، شہرت، عزت اور سیاسی اثر و روسوخ یا بڑے پن کو قائم رکھنے کے لئے بڑے بڑے شاہی کھانے،شاہی ہوٹلوںکی طرزپر،وقت کے غاصبوں،مشیروں،وزیروں،لیڈروں اوراپنے حلقہ کے عقیدت مندوں کو پیش کرتے اور اپنی روحانی طاقت کے تصرف کا مظاہرہ کرتے ۔ ہر نئے آنے والے کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے ، اور اچھے کھانے پیش کر کے اپنی فقیری کی دھاک بٹھاتے چلے آرہے ہیں۔ سیاہ کار سیا ستدا نوں، غاصب حکمرانوںاور اقتدار کے بھو کے افسر شاہی،منصف شاہی کے ان بھگیاڑوں کو اس باطل ،غاصب بے دین جمہوری نظام کو چلانے کیلئے دعا کا فیض جاری کرنے کو دین سمجھ بیٹھے ہیں ۔جبکہ یہ بد نصیب خدا اور رسول کے خلاف کھلی جنگ میں ملوث ہیں اور عوام الناس کو دین کی عقیدت و ادب کے عذاب میں ڈھالنے کا ذریعہ بنا چکے ہیں ۔ حالانکہ یہ تمام اخراجات اور یہ تمام عیش و عشرت کی زندگی ، ٹیلی فون، کوٹھیاں، کاریں، زمینیں، جائیدادیں، انہی بڑے بڑے عقیدت مندوں کے پیش کردہ نذرانوں اور حکومتوں کے سرکاری بھتوں اور بلیک میلنگ سے حاصل کی ہوئی حرام، باطل، دولت کا یہ اسلام کش کھیل ، فقیروں، درویشوں، کے مسکنوں میں ان کرگسوں اور گِدھوں نے دین کے مقبول و محبوب نظام کو نوچنے اور اپاہج کرنے کے عمل کو جاری کر رکھا ہے ۔ یہ دین کے علوم کے کینسر، یہ دین کی روحانیت کے کینسر، ان کے حساب بیباک ہونے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ راہ سلوک کے مسافر ان راہزنوں کو عبرت گاہ تک پہنچا نے کا شاہی فرمان وصول کر چکے ہیں۔ان کے با طل کدوں میں ان کی بربادی کا گجر بج چکاہے ۔ ان کے زندگی کے ایام اب سمٹ چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرماویں اور توبہ کا در ان پر وا کریں۔آمین
معزز علمائے کرام اور اہل نسبت درویشوں، بزرگان دین کے عملی کردار کو عزت و احترام ، ادب و محبت، خدمت و ایثار، پیش کرنے والوں سے بڑی عجز و انکساری سے گوش گزار ہوںکہ ان حقائق کو سمجھیں، پرکھیں، خدا اور رسول ﷺ کی خوشنودی کے لئے آگے بڑھیں ۔ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ زمانہ بڑی تیزی کے ساتھ نئی صدی کے جدید دور میں نئی نئی جدتیں، بڑی بڑی کامیابیاں، بڑے بڑے کارناموں کے ساتھ داخل ہو رہا ہے ۔ آپ بھی مسلما نوں کو اسلام کی اصل روح سے متعا رف فرمائیں۔قول وفعل کے تضاد کے عذاب سے ملت کو نجات دلا ئیں۔اس ملت کے ساتھ اقوام عالم کا رویہ اورحسن سلوک کیا ہے ۔ اور بین الا قوامی سطح پر ا س پر کیا گزر رہی ہے‘ اس پر بھی غور کریں ۔ امریکہ ہو یا روس، اسرائیل ہو یا ہندوستان، مشرق ہو یا مغرب ، مسلمان جہاں جہاں بھی ان کو نظر آئے‘ ان کے ساتھ ظلم،تشدد، بربریت، ان کے قتال ، ان کو نیست و نابود کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں۔ مصر ہو یا شام، اردن ہو یا فلسطین، عراق ہو یا ایران، پاکستان ہو یا افغانستان ، کوسووا ہو یا بوسنیا، انڈونیشیاء ہو یا چیچنیا ۔ سعودی عرب ہو یا کوئی اور گلف سٹیٹ، وہ سب اقوام اور ممالک مسلمانوں کو کچلنے اور ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور اسی نصب العین کے تحت، دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں کے لئے سازشوں کے جال پھیلے ہوئے ہیں اور ان کو اس صفحۂ ہستی سے مٹانے کا عمل جاری ہے ۔ ادھر گھر میں یعنی مسلمانوں میں ان عالموں اور مشائخوں نے انت مچا رکھی ہے ۔ دین کی اقدار کو نگلنے میں بڑا اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ بھیڑیوں کی طرح اقتدار کے درندوں سے مل کر ملت اسلامیہ کی اصل روح مسخ کر رہے ہیں۔ معاشی خون پی رہے ہیں اور گوشت پوست نوچتے چلے آ رہے ہیں۔ دین کے متضاد، باطل، غاصب اقدار کو اپنا کر انہوں نے ملت کے تشخص کو مسخ کر دیا اور اس طریقہ کار نے ملک کو دنیا کی بد ترین اسلامی درس گاہ بنا رکھا ہے ۔یہ اقوام عا لم میں رسوائی اور ذلت سے دوچار کرنے میں حکمرانوںکے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔ اچھا کردار‘ اعلیٰ کردار، اور حسن کردار، جس سے خدا کی آواز کی گونج پیدا ہوتی ہے ۔ وہ ملک میں جاگیرداروں، سرمایہ داروں، نوکر شاہی، منصف شاہی، ان معزز علمائے کرام اور مشائخ کرام نے مل کر اس آسمانی گونج کو ختم کردیا ہے ۔ ملت کو دین اور اس کے عمل کے معجزات سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ اب جوش کردار کی تمنا مسلما نو ں میں بیدار ہو چکی ہے ۔ ذوق انقلاب کی راہ، بڑی تیزی کے ساتھ بحال کر نے کا اپنا عمل شروع کر چکی ہے۔ یہ بیداری ، یہ اضطراب، یہ درد، یہ سوز، یہ نالے، یہ آ ہ و فغاں، یہ تڑپ، یہ احساس زیاں، اس آرزو کی آبیاری کر رہے ہیں ۔ یہ بتانِ آذری اپنا وقت پورا کر چکے ہیں۔ ان کا پاش پاش ہونا ان کا مقدر بن چکا ہے۔


جب کہ گز شتہ بزرگان دین کی عملی زندگی نہائت سادہ، عبادت گزار ، شب بیداری، ایثا ر و نثار، محبت، اخوت، درگذر، عفو، پرہیز گاری، دین کی اصل روح کے قریب گزری ۔ ان کے عمل کی خوشبو جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ‘ معطر و مشفق ہوتی جاتی ہے ۔ یہ مشفق ، پاک باز اور معطرہستیاں لوگوں کو اپنی روحانی کشش سے ترو تازہ رکھتی اور اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں ۔لیکن اس دور کے بہرو پیوں کے ظاہری فقیرانہ روپ کو دیکھ کر بڑے بڑے لو گ ، مشیر، وزیر،سیشن جج، ہائی کورٹ کے جج، سپریم کورٹ کے جج اور چیف جسٹس صاحبان اور بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائض، افسرانِ بالا ، ان کے علاوہ سرمائے دار ، جاگیردار، سیاست دان ، حکمران اپنی اپنی خوا ہشا ت کی تکمیل کیلئے ان کی چوکھٹ پر حاضری دیتے چلے آ رہے ہیںاور ان کے فیض سے جمہوریت کے نظام میں یہ کامیاب وکامران زندگیاں گزارتے ہیں ۔ انہوں نے اس باطل طرز حیات کو اپنایا اور روحانیت کی ان روحانی گدیوں کو چلا کر ضرورت اور اقتدار کے مارے ، بھوکے، لالچی، خود غرض، سمگلروں، رشوت خوروں، لٹیروں، رہزنوں، بھیڑیوں ، بھگیاڑوں اور درندوں کو دعاؤ ں کے فیض سے نوازتے چلے آ رہے ہیں ۔ حکومت وقت سے ان کے جائز ، ناجائز کام کروا کر اپنی رشوتوں کے معقول معاوضے اور بھتے حاصل کرنے کا نظام قائم کر رکھا ہے ۔ یہ مسیحا، بیماروں کو شفا بخشنے کے مختلف طور طریقوں کو بروئے کار لاتے ہیں ۔ عبرت کے بحر میں فنا ہونا ان کا مقدر بن چکا ہے ۔یہ شب بیداری کی ندائیں، آنسو، سسکیاں، ہچکیاں، آہیں، آہ و زاریاں، شوق و ذوق کی ہواؤں سے مغموم، معمور، مخمور، فضاء پیدا کر چکی ہیں ۔ اب یہ ساز مضراب کے لئے مضطرب ہے ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ ا لفاظ بھی وہی ہوتے ہیں ۔ اور ان کے معنی بھی وہی ہوتے ہیں ۔ ان میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ اے رب رحیم، جب تیری ذات اقدس، ان کو تاثیر بخشتی ہے ۔ تو ان میں طاقت اور توفیق کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں اور انسانوں کے دلوں میں ان کا عزت و وقار، قائم ہو جاتا ہے ۔ یا اللہ ! اس ملک اور ملت کو دین اور دنیا میں سرفرازی عطا فرما ۔ دیدۂ بینا بھی دے اور بیداری بھی عطا کر ۔ چٹائی رسول ﷺ بھی بخش اور اس کے انعامات سے بھی نواز۔ اسلام کی تعلیمات اور اقدار کو بروئے کار لانے کی دعا بھی قبول فرما ۔آمین ۔
کبھی خاموش دعا، کبھی کسی صاحب مزار کے پاس دعا کے لئے حاضری کا حکم، کبھی کوئی صدقہ ادا کرنے کا حکم، کبھی کوئی ورد، کبھی کوئی تعویز، یعنی یہ ہر قسم کی حاجت روائی ، ہر مشکل کی کنجی،ہر میدان کی فتح، ملازمتوں ، اقتدار، حکومتوں کو فنا ہ و بقا کے احکام جاری کرتے ، کامیابی اور کامرانی کے فیوض، تقسیم کرتے اور بخشتے رہتے ہیں۔ جتنے بڑے بڑے معاشی معاشرتی قاتل بلیکئے ، سمگلر ان کے گرد جمع ہوتے ہیں ۔وہ اتنے ہی مستند درویش اور فقیر مانے جاتے ہیں۔ دین کو ضروریات کا بت بنا کر خو د اسکے متولی بن گئے،جتنی زیادہ حرص و ہوس کی گدھیں انکے گرد جمع ہوتی ہیں اتنے ہی یہ مستند مشائخ تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ خدا نخواستہ یہ کبھی خود بیمار پڑ جائیں ۔ تو بڑے بڑے ڈاکٹروں، ہسپتالوں‘ ملک کے اندر یا بیرون ممالک اپنی بیماریوں کے علاج معالجے کے لئے در بدر ، بد حالی کے روپ میں ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں ۔ ان میںسے بیشتر مغربی مما لک یا ان کے قائم کئے ہوئے ملکی ہسپتالوں میں دم توڑتے اور فا ر غ ہو تے نظرآتے ہیں ۔انہوں نے مغرب کی تہذیب ، اور انہی کی جمہوریت کے سیاسی کردار کو اپنایا۔ چند ایک علماء اور مشائخ کرام ان عظیم ہستیوں کے روپ میں اس دور کے ابوجہل ، مغرب کے جمہوریت کے آلہ کار بن کر ملت اسلامیہ کو گمراہ اور اسکے سا تھ دھوکا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ وہ جمہوریت کی کشتی میں بیٹھ کر اس کے تمام غیر اسلامی قوانین ، ضوابط ۔ اصول ، طریقے ، اور طرزحیا ت کو اپنا تے چلے آرہے ہیں ۔ وہ جمہوریت کے وضع کردہ قوانین و ضوابط کے تحت غیر اسلامی ، غیر دینی، بد ترین نظام حکومت کو ملک میں قائم کرنے کے لئے الیکشنوں میںحصٓہ لینے ، اور کا میابی کی صورت میں صوبائی، اور وفاقی اسمبلیوں کے ممبران بنتے چلے آ رہے ہیں اور ان کے علاوہ بیشتر ان نام نہاد مشائخ کرام کی دعاؤں کا نتیجہ نظر آتے ہیں ۔ جمہوریت کی بننے والی صوبائی ،وفاقی، حکومتوں میں مشیر و وزیر بھی بنتے چلے آ رہے ہیں اور جمہوریت کے عمل کو اپنانے اور انہی کے تحت اپنی زندگیوں اور اپنے پیرؤ کاروں کی زندگیوں کو ڈھالنے کا عمل اپنائے ہوئے ہیں ۔ اس جمہوریت کے باطل ، غاصب اور بے دین نظام حکومت اور اس کے ارکان کے دعا گو ، پیرانِ کلیسا بھی ان عالموں اور مولانا صاحبان سے کسی لحاظ میں پیچھے نہیں رہے ۔ یہ دونوں بہروپئے دین کے روپ میں اہل وطن کے ساتھ منافقت کا بد ترین کھیل کھیلنے میں مصروف چلے آ رہے ہیں ۔ عوام ان کی گمراہی کے ثمرات سے دوچار ہو رہے ہیں ۔کفر اور منافقت کی تمام باطل ، غاصب، بے دین قوتیں، انہی کے زیر اثرمعاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے جارہی ہیں۔اسلام کے نام پر غیر اسلامی طرز حیات انکی زندگی کا نصب ا لعین بن چکا ہے۔ورثہ میں ملے ہوئے اس دینی اور روحانی غیر اسلامی نظام حیات نے مسلمانوں کے کریکٹر و کردار کو کینسر کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ کم از کم دینی جماعتیں اور مشائخ کرام تو ایک مرکز پر اکٹھے ہوکر اسلامائزیشن کے لئے کام کرتے ۔ یقینا عوام الناس ان کا پوری طرح ساتھ دیتے۔ لیکن یہ تو خود اس سسٹم اور نظام سے ذاتی منفعتیں ، سیاسی اثرو رسوخ اور اسی نظام میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے اس نظام کو قائم رکھنے اور چلانے کے لئے کوشاں چلے آ رہے ہیں اور اسی باطل نظام اور سسٹم کے پجاری بن چکے ہیں۔ان کا دین کے ساتھ کوئی دور کا تعلق بھی نہیں ۔وہ تو پیرانِ کلیسا ہی کہلا سکتے ہیں۔ ایسے کریکٹر خارج از اسلام اور بد ترین منافق ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو رشد و ہدایت کا راستہ دکھائے اور سادہ لوح معصوم انسانوں کو ان نام نہاد دینی درندوں سے نجات عطا فر ماویں تا کہ اسلام کے نام لیوا مسلمان دینی تعلیمات کی روشنی میں تمام دینی اقدار اور اعلیٰ اخلاق اپنانے کے قابل ہو سکیں۔آمین۔
پچھلے ۵۳ سالوں سے علما کرام رائج ا لوقت حکومتوں کے ساتھ مختلف شکلوں میں اپنا رول ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔کچھ حکمرانوں کا سا تھ دیتے اور کچھ ان کے خلاف یعنی اپوزیشن کے ساتھ منسلک ہوتے۔ان میں سے بیشتر نے اسلام کے نام پر فرقہ وار نہ اپنی ذاتی دینی سیاسی جماعتیں تشکیل دے رکھی ہیں۔ ان دینی رہنماؤں نے اس غیر اسلامی نظام کو چلانے اور اس کی جڑیں مضبوط کرنے کے جرم میںبرابر کے شریک اور اپنا اہم رول ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔وہ بطور ایم پی اے،ایم این اے،سینٹر،مشیر،وزیرکے اہم سرکاری عہدوں پر فائض ہو تے رہے۔غیر اسلامی نظام حکومت کے اعلیٰ منصب،سماجی اثر و رسوخ،سرکاری خزانہ میںباطل سسٹم کے مطابق ناجائزسرکاری مراعات،کوٹھیاں ،کاریں،شاہی رہائشیں،ا پنے احباب اور سیاسی ورکروں کے جائز نا جائز کام ہر دور میںکرتے چلے آ رہے ہیں۔وہ اسلام کے نام پرجماعتیں تشکیل دیتے ہیں اور اسلامی ڈھانچے کو نیست و نا بود کرنے والے ادارے جمہوریت کے نظام کو بڑے فخر سے چلاتے اور حکمرانی کے فرائض ادا کرتے ہیں۔یہ کیسے منا فق دین علما کرام ہیں۔
اسی طرح کور چشم ،گدی نشین پیران اور ان کے حلقۂ عقیدت کے معصوم اور سادہ لوح عقیدت مندوں کے پاس ،ایسے پیران کی مستندفقیری اور درویشی اور اللہ والے ہونے کی ظاہری ا ور باطنی سند یہی ہوتی ہے کہ ان کی چوکھٹ پر ملک کے تمام حاکم وقت حا ضری دیتے ہوں۔ایم پی اے،ایم ۔این۔اے،مشیر،وزیر،افسرانِ بالاراشی، کرپٹ،ظالم، سفاک،سمگلر،معاشی قاتل،رہزن،سیاسی لیڈران،اعلیٰ قسم کے مقرر،خوش الحان علما کرام،عظیم نعت خواں، ان کی شان میں الفاظ کی حرمت کی توہین کرتے ہوئے ایسے جملے ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے ایسے روحا نیت کے درجات بیان کرتے جاتے ہیں۔ جن کے نہ تو وہ معنی جانتے ہوتے ہیں اور نہ ان مقامات سے کبھی گزرے ہوتے ہیں۔ یہ تمام جاہل علما اور جھو ٹے تعر یفیں کرنے والے مقررین اور پیشہ ور خوش الحان نعت خواںکا اکٹھ یا اجتماع اپنی پیری ،فقیری اور روحانی مقامات کے درجات کی بلندی کے لئے نہیں۔ بلکہ اسلام کے ایک طاقتور رو حانی شعبہ کو یہ بد بخت اپنی آسودہ زندگی گزارنے ‘جا ہ وحشمت اور اپنی سیاسی روحانی گدی کو جلابخشنے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے اپنی عظمت کے باطل کدہ کو مقام عروج تک پہنچانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے کھانے کسی روحانی طاقت یا جنات کے وسائل سے مہیا نہیں ہوتے۔وہ تو بڑے بڑے کاموں کے عوض شاہی نذرانے،سرکاری بھتے، ہر گھناؤنے جرم سے حا صل کی ہوئی آمدنی ،اس طیب شعبہ کی عصمت کو فرو خت کر کے اکٹھی کی ہوئی دولت،ان طرح طرح کے معاشی آلودگی کے تعفن اور سڑاند سے بھرے ہوئے بے شمار کھانے ان کی با طل روحانی اکیڈمیوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں کی پیداوارہیں ۔ ان کی دعاؤں کے فیض سر عام فروخت ہوتے ہیں۔ان کی دعائیں اتنی با طل ،غاصب اور ان کی طرح عیار،مکار اور منافق ہیں کہ دین کی روشنی میں ملت کی کردار سازی کی طرف اٹھتی ہی نہیں۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ اگر ان کا بیٹا ، بھائی یا کوئی اور رشتہ دار اس جہان فانی سے رخصت ہو جائے تو اس کی خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل جائے ۔ افسوس اور غم میں شرکت کے لئے سیاست دانوں، ورکروں، طالب علموں اور ان کے نمائندوں کا ہجوم اکٹھا ہو جائے اور کئی روز تک یہ ماتم کدہ اور غم کدہ آباد اور سلسلہ جاری رہے ۔ دوسری طرف یہ اپنے اپنے فرقے کے داعی ، اسلام کے فدائی، سچے عاشق رسول ﷺ ، توحید پرستی کے رہبر و رہنما ، ہر مسجد ، ہر منبر ، ہر سٹیج اور ہر مقام پر اپنے اپنے علم کی روشنی میں اسلام کی سرفرازی کو قائم رکھنے کے لئے بڑی بڑی تقریریں، جان، مال اور اولاد کی قربانی کو حکم خداوندی کے تحت، پیش کرنے کی تلقین کرنا ، ان کی تبلیغ کا بنیادی حصہ ہے ۔ کافروںکے خلاف صف آرا ہو کر جہاد کرنے کا حکم دیں اور اس عمل میں کوتاہی کرنے والے کو خارج از اسلام قرار دیں ۔ لیکن ان کا اپنا کمال یہ ہے کہ اس کے برعکس اور متضاد اسلام ہی کی ازلی اور ابدی قدریں اور خدا و رسول ﷺ کے تمام احکام اور شریعت محمدی ﷺکے تمام اصول و ضوابط اور بنیادی عقائید کو پس پشت ڈال کر اس کی جگہ عیسائیت کا جمہوری نظام۔ یہود یت کا معاشی نظام اور ہنود کے طبقاتی نظام کو پاکستان کی قومی اسمبلی سے پاس کروا کر مسلمانوں پرزبردستی نافذ العمل کرنے والے طبقہ کے ساتھی اور معاونین کے فرائض ادا کرتے چلے آئیں۔ ملک میں تمام نشرواشاعت کے ادارے اور ٹی وی پر جمہوریت کے گیت گائے جائیں اور اس طرح اسلام کی تمام خوبیاں اور تمام صفات اور تمام ارکان ملک میں سسک سسک کر ، تڑپ تڑپ کر پچھلے ۵۳ سالوں سے آہستہ آہستہ ان کے سامنے دم توڑ ے جائیں ۔ یہ تمام اسلامی اقدار ناقابل استعمال بنا کر نیست و نابود ‘ ناپید اور پامال کرتے جائیں تو ان تمام فرقہ اور عقیدہ پرست اسلام کے سیاسی ، مذہبی رہنماوں ، مفکر عظیم ، دینی علمبردار ، حضور ﷺ کے عاشقین ، کافروں کے ساتھ جہاد کے وارثوں، کے گھروں میں نہ تو اس عظیم ملی المیہ پر کبھی ان کے ہاں صف ماتم بچھی ہو اور نہ ہی کبھی کوئی آنسو گرا ہو اور نہ ہی افسوس کے لئے ان کے پاس ان کے یہ تمام سیاسی، مذہبی، لٹیرے ساتھی ، ورکر اور ان کی درس گاہوں کے طالب علم اس ناگہانی آفات اور اموات سے دو چار ہونے پر کبھی اکٹھے ہوئے ہوں ۔ انہوں نے یہ تمام ذرائع تعلق اور ورکر، اپنی اپنی ساخت ، اور سیاسی طاقت شو آف کرنے کے لئے محفوظ رکھے ہوتے ہیں ۔ وہ تو ان تمام اسباب کو حکومتیں بدلنے ، ملک میں توڑ پھوڑ کرنے ، ڈنڈے گولیاں، کھانے ، اور اسلام کے نام پر شہید ہونے کے لئے پالے ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان کا اسلام ، ان کے مقاصد کی تکمیل تک ہوتا ہے ۔ انصاف کا ترازو ، انہی مذہبی سیاست دانوں کے ہاتھ میں دیتے ہیں ۔ ان علمائے دین ، مشائخ کرام اور ان کے اس گھناؤنے ، متواتر اور مسلسل اسلام کش عملی زندگی کے بارے میں انہی سے فیصلہ کروا لیتے ہیں کہ یہ اسلام کی روشنی میں دین کی کون سی کٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کیا وہ عیسائی ہیں ۔ یہودی ہیں ۔ ہندو ہیں۔فاجر ہیں۔ فاسق ہیں۔ مشرک ہیں‘ منافق ہیں یا مسلمان ؟ ان کے یہ اعمال کسی لحاظ سے بھی قابل معافی نہیں ۔ فقیروں، درویشوںاور اللہ والوں کی مسند اورمسکن میں بیٹھے ہوئے رہزنوں کونشانۂ عبرت بننا ہو گا۔دین کے المیہ کے یہ تمام اسباب منظر عام پر آ چکے ہیں۔کڑکتی بجلیاں انکے مسکنوں میں گھس چکی ہیں۔خاکستر ہو نا ان کا مقدر بن چکا ہے۔یا اللہ یہ بھی تیری ہی مخلوق ہے ان پر رحم فرما۔ ان کی غفلت والی آنکھ کو بیداری عطا فرما۔آمین
یہ عالم دین ، یہ مذہبی جماعتوں کے سیاسی رہنما، جو جمہوریت کے باطل بطن سے پیدا ہونے والی حکومتوں ، حکمرانوں اور اپوزیشن سے برابر کے تعلق قائم رکھتے ہیں اور عملی طور پر جمہوری حکومتوں میں حصہ لیتے ہیں ۔ ذاتی منفعت کی سودا بازی کا کھیل خوب سمجھتے اور کھیلتے ہیں ۔ جب بھی کوئی حکومت ان کے رشوتی بھتے، جگا ٹیکس اور چندوں میں کمی بیشی کرے یا اپوزیشن سے بہتر مفاد میسر آ رہے ہوں ۔ جس طرف کی ہوا کا رخ مناسب اور بہتر ہو ۔یہ اسی طرف کا رخ اختیار کر لیتے ہیں ۔ایسے حالات میں ان کا دین کے ساتھ دور کا واسطہ بھی نہیں رہتا ۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے ۔ اسلام کے دیوانوں اور فرزانوں کو یعنی جماعتوں کے طالب علموں ، اور ورکروں ، کو حکومت وقت سے ٹکرانے ، زندگی اور موت کا کھیل کھیلنے کے لئے میدان عمل میں اتار دیتے ہیں ۔ اس انقلابی تبدیلی میں نہ ان کا کبھی بیٹا ، بھائی، یا کوئی لیڈر مرا ہے ۔ اور نہ ہی پچھلے۵۳ سال کی تاریخ میں ان تمام مذہبی ، سیاسی رہنماوں میں سے کسی ایک رہنما کو بھی شہادت نصیب ہوئی ہے ۔ جب کہ یہ بے شمار عوام اور ورکروں کو اپنی ذاتی غرض و غائت اور اقتدار کے لئے مرواتے چلے آرہے ہیں اور شریعت محمدی ﷺ کے نفاذ کے لئے اہل دین ، اہل ایمان ، اہل وطن ، کو بری طرح بلیک میل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔
اسلام کی اوٹ اور آڑ میں یہ جمہوریت کا کھیل کھیلنے والے مذہبی جماعتوں کے یہ قدآور سیاست دان اپنے معاشی فوائد ، وزارتوں اور اقتدار کی ہوس اور سیاسی اثر و رسوخ ، ہوس زر، دولت اور اپنی اپنی انا کے پجاری ، ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے ، قتل و غارت اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے حکمرانوں اور اپوزیشن کے عروج و زوال کے آلہ کار بننے والے ۔شریعت محمدی ؐکے نفاذ کے کیسے داعی ہو سکتے ہیں ۔یہ پیشہ ور دینی دہشت گرد، کاروں، پجاروں، لینڈ کروزروں میں یوں دندناتے پھرتے ہیں۔ جیسے کوئی بلیکیا ڈاکو، سمگلر یا معاشی قاتل۔ یعنی جمہوریت کے معتبر اور معزز ارکان یا حکمران ہوں ۔ ان کے اسلحہ سے لیس باڈی گارڈ ان کی عظمتوںکے یہ نشان ہیں۔ انکا دین کیساتھ کیا واسطہ ، وہ تو معاشی اور معاشرتی دہشت گردوں کے ممبران اور لیڈ ران ہیں۔
اے پیارے دوستو، ساتھیو اور طالب علمو ! وطن عزیز کے رکھوالو ! اے دینی سیاسی جماعتوں کے ورکرو ! ان کی گرپ اور گرفت سے باہر نکلو۔ ان کو راستگی کا راستہ دکھاؤ۔ سادگی اپناؤ۔ اپنی صفوں کو درست کر لو ۔ اسلامائیزیشن کے ملکی اور عملی سطح پر نفاذ کے لئے آگے بڑھو۔ اس قسم کے عالم ، فاضل، مفتی ، ہر دور میں موجود ہوتے ہیں ۔ انہوں نے تو علامہ اقبال اور قائد اعظم کو بھی کبھی معاف نہیں کیا ۔ پاکستان کے وجود کے خلاف کام کیا ۔ ان کا ماضی اور حال ایک دوسرے سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے ۔ ان کی تباہی اور بربادی اپنے عبرت کدے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے ۔ ان کا تفاخر ، ان کا گھمنڈ، ان کا عطر سے ڈوبا ہوا لباس ، ان کی موٹی موٹی گردنیں اوربے ہنگم پلے ہوئے جسم اور بڑی بڑی توندیں، ان کی زندگی کے پورے احوال، خوفناک حد تک بگڑ چکے ہیں ۔ دور حاضر کے یہ مذہبی رہنما، جو جمہوریت کے ٹولے کے عملی ورکر ۔ وہ ملک میں حسب ضرورت قومی اتحاد قائم کرکے حکومتیں بدلنے کے ماہر اور اس باطل بے لگام ، نظام کے اندرون خانہ محرم راز ۔ سیاسی اقتدار ۔ مال،شہرت ، بیرون ممالک سے امداد ، زکوۃ ، صدقات، اور چندوں کی بھر مار ان کا فنا ہ فی الدنیا ہونے کا واضح ثبوت ہیں ۔ وہ تو سیاست دانوں کی طرح کوٹھیوں ، کاروں ، فخاشیوں اور آسائشوں کے ایندھن بنے پڑے ہیں ۔ دھوکہ دینے والے کے لئے اس سے بڑا اور کیا دھوکہ ہو سکتا ہے کہ وہ دھوکے اور منافقت کی عادت میں ملوث ہو جائے اور وہ بھی جو دین کے نام پر دھوکہ دیا جائے ۔ یہ اپنی آخرت خراب اور برباد کر چکے ہیں ۔ یہ حضور ﷺ کی قربت اور ان کی عملی ، باطنی اور روحانی زندگی کے کیسے وارث ہو سکتے ہیں ۔ ان کی اپنی اولادیں تو مغرب کی تہذیب اور تعلیم کے حصو ل کیلئے بیرون ممالک پلیں اور پڑھیں اور اسی تہذیب و تمدن کی عیاشیوں اور فخاشیوں سے کھیلتے رہیں۔ وہ اسلام کی کیا خدمت کریں گے ۔ آؤ مل کر عوام کو حضور نبی کریم ﷺ کی سادہ زندگی ، انسانیت کی عزت، ادب، محبت، خلوص، خدمت ، اور احترام کے بھولے ہوئے سبق سے آشنا کرائیں ۔ اسلام کے ملک میں نفاذ کے لئے کوشش و عمل جاری کریں ۔ عدل و انصاف کو معاشرے میں قائم کریں ۔ ازلی اور ابدی اقدار کو مسلمانوں کے کردار کا حصہ بنا کر خوشبوئے محمد ﷺ زمانے میں پھیلائیں ۔ اور ان کی شمع کو روشن کریں۔اسلام کے نفاذ کے بعد ان غاصبوں کا احتساب بھی پورا پورا ہو گا ۔ اس کے بعد اس قسم کی کوئی کونپل اس دھرتی میںنہ پیدا ہو گی اور نہ پنپے گی ۔ ان مذہبی سیاست دانوں کا مستقبل بھی انہی حکمرانوں سے وابسطہ اور منسلک ہے ۔ اگر یہ جماعتیں اسلام کی سچی اور حقیقی داعی ہوتیں ۔ تو کبھی بھی اس غیر اسلامی جمہوریت کے نظام میں شمولیت ہر گز ہر گز نہ کرتیں۔کیو نکہ وہ اسلام اور کفر کے فرق سے اچھی طرح آگاہ اور آشنا ہیں ۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ اس سسٹم اور جمہوری نظام میں شمولیت کے بعد الیکشن میں حصہ لینے اور عیسائیت ، یہودیت، اور ہنود کے مروجہ، غیر اسلامی طریقہ کار کو اپنانے ، اور اس نظام کے نمائندہ بننے مشاورتوں اور وزارتوں کے قلم دان سنبھالنے کے بعد ، ان سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو کس نام سے پکارا جا سکتا ہے ۔ عیسائی، یہودی، ہنود، منافق، یا مسلمان ؟ان سے یہ بھی پوچھ لینا مناسب ہو گاکہ سور کا گوشت کلمہ پڑھ لینے سے پاک ہو جاتاہے اور کھا یا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی بھی وضاحت کروا لیں کہ قرآن پاک پر حلف اٹھا لینے کے بعد دین کے منافی مغربی قوانین و ضوابط ، باطل اور غاصب سسٹم کی پیروی کرنا مسلما نوں کے لئے جائز ہو جاتا ہے۔
خدا ان تمام سیاست دانوں،مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،پیران کلیسا کو کفر ، منافقت اور جہالت کے اندھیروں سے نجات عطافرماویں۔ ان تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مل بیٹھ کر اس غیر شرعی ، غیر اسلامی ، غیر دینی طریقوں کو اپنانے کی غلطی کا اعتراف عوام الناس کے سامنے کرنا ہو گا ۔ کہ وہ غلطی پر تھے اور ہیں اور ان کو اپنے اس عمل پر استغفار پڑھ کر اس سسٹم اور نظام کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے ترک کرنا ہو گا ۔ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ اور ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس باطل ، غاصب، اور بے دین زندگی سے نجات حاصل کر لیں ۔ اور اس نظام کے تحت ملک میں الیکشنوں کا بائیکاٹ کر نا ، دنیا وی زندگی اور آخرت کے لئے بہتر ہو گا۔ اس کے بعد اس سسٹم اور نظام کے خلاف تمام مذہبی جماعتوں کو متحد ہو کر اسلام کے نفاذ کے لئے عمل پیرا ہونا لازم ہو گا ۔ پہلے اسلام کا نفاذ اپنی ذات پر کرنا ہو گا۔پھر حکومت وقت کو اسلامائزیشن کے لئے مجبور کرنا اور اس سلسلہ میں ان کے ساتھ تعا ون کرنا ایک نیک شگون ہو گا۔ دنیا میں وہ لوگ عظیم ہوتے ہیں ۔ جو اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں ۔ اگر تنہائی میں اکیلے دینی یا دنیاوی غلطی کی ہو ۔ توتنہائی میں اکیلے معافی مانگ لینا عین حق ہے ۔ اگر اجتماع کے روبرو دین کے خلاف کوئی غلطی سرزو ہوتی رہی ہو اور ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو ایسے عمل کی غلطی کی معافی اجتماع کے روبرو مانگنا ضروری ہوتی ہے ۔ ان حقائق بالا کی روشنی میں ان کو دین کی اصل اقدار کو اپنانے اور بہتر عاقبت کی توفیق عطا ہونے کی ہم سب مل کر دعا کرتے ہیں اور اس نجس منافقانہ فکر و عمل سے اللہ تعالیٰ ان کو نجات عطا کرے ۔ آمین
یہ مذہبی سیاسی جماعتیں اسلام کے نفاذ میں عملی طور پر بڑی بری طرح حائل ہو چکی ہیں ۔ اگر یہ ملک میں اس جمہوریت کے نظام میں شمولیت نہ کرتیں اور اپنے مشن پر قائم و دائم رہتیں تو یقینا آج ملک کی صورت حال کچھ سے کچھ ہوتی ۔ لیکن یہ نفس پرست ، زر پرست، عیش و عشرت کے د لدادہ ، پجارو اور لینڈ کروزروں اور شاہی محلوں میں لطف اندوز اور عیش و عشرت کی رنگینیاں اور غیر دینی زندگی کو یہ کیسے اپناتے۔ خدا ان مذہبی جماعتوں کے سیاسی رہنماؤں کو درگزر اور معاف فرمائے اور ان کو دین کی آسودگی عطا کرے ۔ اپنے منصب کے فرائض نبھانے کی تو فیق بھی دے۔ آمین
دین کی تعلیمات کی قندیلیں ، جہاں دل و دماغ کو روشن اور منور کرتی ہیں۔ تاریکی سے نکال کر روشنی کا سفر عطا کرتی ہیں۔ جہاں مخلوق خدا کے ادب و احترام اور اخوت کے درس سے آگاہی دیتی ہیں۔ جہاں عمدہ ، بہتراور پر کشش ، اخلاق پیش کرنے کے آداب سکھاتی ہیں۔ جہاں فطرت کے مطابق عمل کا درس اور اس کی افادیت سمجھاتی ہیں اور انسانیت کو فطرت شناس کراتی ہیں۔ جہاں انسانیت کو عدل و انصاف کے بنیادی ضوابط سے آگاہ کرتی ہیں، جہاں مساوات کے ازلی اصولوں کے ایسے الہامی گر سکھاتی ہیں۔ جو انسانی فطرت کے مطابق اور ہر کس و ناکس کے حقوق کا تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ جہاں رنگ و نسل جغرافیائی حدود کے امتیازات، ختم کرکے آقا ء و غلام کے معنی بدل کر سب قیود سے بالا ہو کر ایک صف میں کھڑا کرکے ایک جیسے حقوق ، ایک جیسی عزت و احترام کے مقام سے آشنائی کی دل کش روشنی،میں پوری انسانیت کو اپنے احاطے میں لے لیتی ہیں۔جہاں سائل کو سوال سے پہلے اس کے مسائل کو حل کرنے کی تمنا بیدار کرتی ہے۔ جہاں اخوت و محبت کے رشتوں میں پوری انسانیت کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح سمیٹ لیتی ہے ۔ جہاں اللہ تعالیٰ جل شانہ کی توحید ، اس کی حمد و ثناء اس کے آسمانوں، زمین ، سورج، چاند، ستاروں، پہاڑوں ، دریاؤں، سمندروں، میدانوں، صحراؤں، بیابانوں، بادلوں، گرج،چمک، اور بارشوں، زمین پانی کے ملاپ ، خوراک،لباس، سبزیاں، پھل،میوہ جات، سبزہ گل، رنگ و بو، حیوانات، جمادات، نباتات، ذرے کا دل چیر نے سے لے کر دل کی آہ تک ۔ بابا آدم سے لے کر اماں حوا تک، خیر سے لے کر شر تک، اس جہان رنگ و بو سے لے کر موت تک، مقام برزخ سے لے کر قیامت تک، دوزخ سے لے کر جنت تک، کے مالک کل ، یعنی اللہ تعالیٰ سے آشنائی اور اس کی کبریائی کی آگاہی کے انعامات سے نوازا۔ انسانیت کی درس و تدریس کے لئے جہاں، اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر انسانوں کی رہبری و رہنمائی کے لئے اس کائنات میں وقتا فوقتا مختلف ادوار میں مخصوص تعلیم کے ساتھ بھیجے، اور انہوں نے اپنے اپنے فرائض ادا کئے ۔ توریت ، انجیل، زبور، مقدس الہامی کتابیں معاشرے کی اصلاح و تشکیل کے لئے نازل فرمائیں۔ ان کی امتوں نے ان کی کتابوں کو بدل دیا۔ اور اس کے بعد پوری انسانیت کے لئے جامع اور آخری کتاب قرآن پاک اپنے مقبول و محبوب پیغمبر، حضرت محمدﷺ پر نازل فرمائی۔ یہ آخری نبیؐ مکمل ضابطہ حیات یعنی قران حکیم کی شکل میں آخری صحیفہ نور ، منبع توحید، منبع رسالت، منبع رشد و ہدائت، تا قیامت، بروئے کار لانے کے لئے آپ ﷺ تشریف لائے۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے ۔ تو اس وقت بتوں کی پوجا کا بدترین دور تھا بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی ظالمانہ رسم قائم تھی۔ قتل و غارت عروج پر تھی۔ آقا و غلام کا وحشت ناک ، افسوسناک دور تھا ۔ پوری انسانیت کوبربریت، ظلم و ستم، قتل و غارت، جہالت،بت پرستی،معاشی اور معاشرتی ابتری کا سیلاب،اپنی لیپٹ میں لئے ہوئے تھا۔ معاشرے کی تشکیل کی بنیادیں، کفر اور جبر پر قائم تھیں۔ پوری انسانیت تاریکی اور ظلمات میں گھری پڑی تھی۔ عدل و انصاف کا مکمل فقدان تھا ۔ جہالت اپنے عروج پر تھی ۔
شمع رسالت ﷺ کے نور کا جب ظہور ہوا۔ تواس نور نے کفر، جبر، بربریت، قتل و غارت، بت پرستی، جہالت کی تاریکیوں کو دیکھتے ہی دیکھتے ختم کر دیا ۔ انسان کو انسانیت کے فطرتی حقوق اور رموز سے آگاہی عطا فرمائی۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ذمہ داریوں، فرائض، اور آداب سے آشنائی عطا کی۔ جو مقامات جو نقاط، جو الجھی ہوئی گھتیاں، جو مسائل، نقطہ وروں، فلسفیوں، اور منطقیوں، سے نہ کھل سکے ۔ نہ حل ہوسکے ان کی وضاحتیں، ان کی تشریحیں، ان کی توضیحیں، کملی ﷺ والے نے کمال ہنر مندی سے سلیس، سادہ، مختصر نقاط میں بیان فرما دیں۔سلامتی کے راستے عمل کرکے دکھائے۔ کوڑا پھینکنے والی مائی کی تیمار داری کے لئے خود ان کے گھر حاضر ہوئے ۔ فتح مکہ کے بعد تمام دشمن ، قاتل ، ظالم عناصر کو معاف کرکے اپنے حسن عمل سے عمل کی زینت کو چراغ ہدائت بخشا۔بے شمار دفعہ گھر میں کھانے کے لئے کوئی چیز میسر نہ ہوتی ۔ اس عمل کے راستہ سے گذر کر توکل اور صبر کا عمل عطا کیا ۔ تنہایؤں میں سکون و دلجمعی سے بارگاہ الہی میں حاضری، غور و فکر کے چراغ ، غاروں میں جلائے ۔ روحا نیت کی منازل طے کیں اور عمل سے گزر کر سلیقۂ عبادت و ریاضت کے علم سے آگاہ کیا ۔ دین کی خاطرمکہ سے ہجرت کرکے عظمت ہجرت اور اس کا عمل متعارف کرایا ۔ شادیاں کیں ا ن کے ساتھ عدل و انصاف ، ان کے حقوق، میں مساوات کا عمل روا رکھ کر چار بیویوں کو ایک وقت میں رکھنے کے علم سے آشنائی کروائی۔ پھوپھی، خالہ، ماں، بہن، بیٹی، بیوی، کے رشتوں کے تقدس کے ربی علم کو عمل میں لا کر انسانیت میں معاشرے کی تشکیل کا معاشرتی اور ازدواجی رشتوں کے اقدار کا علم اور عمل عطا کیا ۔ اصحاب صفہ کی تربیت کرکے اسلامی درس گاہوں میں علم کو عمل کا پیرہن عطا کیا ۔ اور اس دینی تربیت سے نوازتے ہوئے لوگوں کو معاشرے کی ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ اور اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک، بغیر کسی روک ٹوک کے ، اعلیٰ اوصاف ، ایمان داری، دیانت داری، انصاف ، عدل، اہلیت، جذبۂ خدمت، قلیل ترین ضرورتوں، امانت، دیانت، اخوت، صداقت، چٹائیوں پر بیٹھ کر بڑی سادگی، بڑی حلیمی، اور بڑی کریمی سے ملکی ، معاشرتی، معاشی، عدل و انصاف اور مساوات قائم کی ۔ بیت المال یا سرکاری خزانے کا اس طرح تحفظ کیا کہ اگر کسی خلیفہ وقت کے گھر میں مستورات تھوڑا تھوڑا آٹا ، گھی، میٹھا، بچا کر کبھی حلوہ تیار کر لیتیں، تو اسی وقت پوچھ گچھ ہو جاتی ۔ ذمہ دار محافظوں کو ہدائت کر دی جاتی ۔ کہ وہ روزانہ کے سٹاک میں سے اتنا سٹاک کم جاری کیا کریں ۔ کیونکہ ان کی گذر اوقات اتنے سٹاک میں ممکن ہے ۔ اگر مال غنیمت میں ملی ہوئے چادر سے کوئی خلیفہ وقت کرتہ بنا لیتا ۔ تو عوام الناس ان سے پوچھ لیتے کہ آپ نے یہ کرتہ کیسے بنایا ہے ۔ تو ان کو یہ بتانا پڑا ۔ اور اپنی صفائی دینی پڑی ۔ کہ دوسری چادر میں نے اپنے بیٹے سے لے کر کرتہ تیار کروایا ہے ۔ نہ کہ مال غنیمت سے اضافی چادر حاصل کی ۔ یا ناانصافی سے دو چادریں لے کر یہ کرتہ تیار کروایا ہے ۔ کتنے عظیم علم اور عمل کے مغنی تھے جو پوری رعیت کے سامنے جواب دہ اور اپنی پوزیشن واضح کرنے کے پابند ہوتے۔ ایسا معاشرہ ، ایسا نظام، ایسا خلیفہ، ایسا دانا، ایسا حکیم، ایسا حلیم،، ایسا متحمل،ایسا عادل،ایسا صابر، ایسا صادق، ایسا شاہکار، کردار انسانیت کے روپ میں روئے زمین میں کسی اور مذہب یعنی عیسائی، یہودی، ہندو یا کسی اور نظام یعنی کیمونزم سوشلزم، کیپٹلزم،نے تیار کیا ہے ، تو پیش کریں۔ معیوب اعمال ، معیوب کردار، معیوب طریقے، معیوب انداز، سبھی معتوب ہوئے انسانی حقوق کو پا مال کرنے کی بجائے انہیںاحسن طریقوں سے ادا کرنے کا سبق عطا ہوا۔ احسن تقویم کو احسن کردارکے تمام اداب و خصائل،جو انسان کو انسانیت کی معراج تک کا سفر طے کرواتے ہیں،وہ بھی بخشے۔

 
دور حاضر کے عالم دین، پیروں، درویشوں، فقیروں، جنہوں نے ان دینی درس گاہوں کا نظام چلا رکھا ہے۔ انہوں نے دینی مدرسے اور ادارے ، تو اسی نقش قدم کے تحت مساجد، یا مزارات کے ساتھ ترتیب دے لئے ۔ انہوںنے قران حکیم کی تعلیم و تربیت کو جاری رکھا ۔ مگر مختلف مسلک میں دین کی وحدت کو بکھیرا۔ مسلمانوں کی وحدت کو فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم کیا ۔ پیروں نے اپنے مدرسوں میں اپنی اپنی عقیدتوں اور سلسلوں کا درس چلایا ۔ دین کو غریب ، یتیم، مسکین، کمزور، ناتواں، نادار، بے کس، مجبور، محکوم، بے روزگار، منگتا،بھکاری اور محنت سے عاری بنا دیا اور چندوں، صدقوں، خیراتوں، زکوٰتوں، کھالوںاور عقیدتوںکی ضرب سے چھینے ہوئے نذرانوں سے اپنے اپنے مدرسوں ، مزاروں، مسجدوں، اور اداروں کی تعمیر، تکمیل کے لا متنائی منصوبے جاری کر رکھے ہیں۔ ان پر محنت کرکے پیسہ کمانا جرم بن چکا ہے اور رزق حلال کمانا اور کھانا ان کی سرشت سے فارغ ہو چکا ہے ۔ ان دینی مدرسوں، اداروں، پیر خانوں، کے لنگروں کو سپر سٹار ہوٹلوں کی شکل دے رکھی ہے ۔ اسلاف کے سادہ، مختصر کھانے کے آداب فارغ کر دیئے گئے ہیں۔ تفاوتی دستر خوان،ان کی عظمتوں کی پہچان بنے پڑے ہیں۔جاگیر دار، سرمایہ دار،بڑے بڑے تاجر، افسر شاہی،منصف شاہی، ممبر، وزیر، وزیر اعلیٰ۔ گورنر، صدر، مشیر،وزیر اعظم، افواج پاکستان کے بڑے بڑے افسران،انتظامیہ، عدلیہ کے ممبران ان کی دعاؤں کے چراغ اور ان کے علم اور سیاسی اثر و رسوخ کے خریدار، یہ حکمران، اپوزیشن ارکان سبھی لیڈران، ان کی دعاؤں کے عوض ان کے سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر ان کی تجوریاں بھرتے رہتے ہیں۔ بیشتر عالموں نے جمہوریت کی سیاست میں اپنی جماعتیں تشکیل دے رکھی ہیں ۔ وہ حکمرانوں کو بلیک میل کرکے بڑی بڑی رقمیں بٹورنے اور عیش و عشرت کی زندگی گذارنے اور فرعون کی اتباع میں زندگی کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ۵۳ سالوں میں ملک میں اسلام نافذ نہیں کروا سکے ۔ پیران بھی پجارو، لینڈ کروزرز،اور شاہی محلوں،میں اپنے اپنے علاقے کے تاجران روحانیت بنے بیٹھے ہیں ۔ جو اپنے اپنے محلوں کو غار حرا بنائے ہوئے ہیں ۔ اپنے اسلاف کی عزت و ناموس کو ، ان کی شان عظیم کو ، ان کے روحانی فیوض کو ،ان کی دینی خدمات کو ، ان کی فاقہ مستی کو، ان کی حق اور سچ کی تلاش کی راہوں کو ، ان کے دین کے پیوند لگے جبہ کو ۔ اور ان کے دستار مبارک کو ان کی عظمتوں کو ۔ ان کے فرمودات کو ، ان کے اقوال کو ، ان کی توحید پرستی کو، ان کے رہبرو مرشدوں کی عطا کردہ بصیرت کو ۔ ان کی نگاہ فیض کو ، ان کی عشق رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی نعت گوئی کو۔ان کے حال سے ، مخلوق خدا اور طالبان حق کو اپنی فرعونی زندگیوں ، اعلیٰ محلوں، عیاشیوں، فحاشیوں، پجارو، لینڈ کروزروں، بینک بیلنسوں، لاکھوں، کروڑوں کی جائیدادوں، ہزاروں لاکھوں کے اخراجات، فقیری اور درویشی کے متضاد ، تمام طور طریقوں، ناانصافیوں، غیر فطرتی، غیر دینی، ان کے رائج الوقت اصول و ضوابط اور نظام حیات نے عقیدت ، محبت ،ادب، والی مخلوق کو متنفر اوراصل حقائق سے محروم کر دیا ہے ۔ یہ بدعمل ، یہ بد روحیں پیران کلیسا،یہ فاجر عالم دین، یہ منافق پیر دین، وہ جمہوریت کے سودائی، یہ جمہوریت کے فدائی ہیں ۔ یا اللہ ان کو راہ راست دکھا ۔ یا اللہ ان کو مقام شکر اور مقام استغفار سے آشنا فرما۔ یہ ہمارے بزرگان دین کے شعبوں کے وارث ہوں۔ یا اللہ ان کو سچا وارث بنا۔ یا اللہ ان کو بینا آنکھ عطا کر ۔ان کو مقام شکر اور مقام استغفار سے بھی اشنائی فرما۔ انہوںنے جہاں شکر ادا کرنا ہو وہاں استغفار ادا کرتے رہتے ہیں اور جہاں استغفار اداکر نی ہو وہاں شکر کے سجدے بجا لانے میں محو رہتے ہیں۔ یا اللہ انہیں سیدھا راستہ دکھا۔ یا اللہ ان کو شریعت محمدیﷺ نافذ کرنے کی توفیق بھی عطا فرما ۔ یا اللہ ان کو کھانے کے امتیاز سے نجات عطا فرما ۔ انکو اور انکے رفقاء کو مرغوں ، رانوں اور اعلیٰ کھانوں کے عذاب سے نکال کر مدرسے کے طالب علموں اور ملازمین کے ساتھ ایک صف میں بیٹھ کر لمبے، بے سوادے شوربے کی رکابیوں پر بیٹھنے کی توفیق عطا فرما۔آمین
اب تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ورکروں کو غور و فکر سے کام لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر وہ مسلمانوں کی موت مرنا چاہتے ہیں اور زندگی حضور نبی اکرم ﷺاور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں کی اطاعت میں گزارنا چاہتے ہیں ۔ تو اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو الوداع کہیں ۔ ۵۳ سال سے تو یہ ایک دوسرے کا اسی طرح اور ایسے ہی احتساب کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ اہل وطن اور پیارے عزیز دوستو، بھائیو، طالب علمو اور ان جماعتوں کے ورکرو ! آپ سے بڑی عجز و انکساری سے گزار ش کی جاتی ہے کہ ۱۹۴۷ ء کی طرح آگے بڑھیں۔ شریعت محمدی ﷺ کے نفاذ کے لئے دل و جان سے عملی کام کریں ۔ اور ملک میں اسلامی آئین نافذ العمل کراکر امت کا یہ بگڑا ہوا کام سنوار دیں ۔ اور ان آٹھ د س ہزار جاگیرداروں ، سرمائے داروںاور تمام سیاست دانوں اور ان تمام سیاسی پیشہ ور علماء اور وحشی مشائخ کا اس طرح احتساب کریں ۔ کہ کسی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی بھی نہ ہو ۔ اور ان کی بداعمالیوں کو معاف بھی نہ کیا جائے ۔ ملک کا قرضہ/ لوٹی ہوئی دولت انہی چند ہاتھوں میں ہے ۔ ان سے واپس لے کر قرضے کی تمام رقم کی ادائیگی ایک سچے مسلمان کی طرح آئی ایم ایف اور دوسرے ممالک کو واپس لوٹائی جائے۔ معصوم بچوں، ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں، طالب علموں، جوانوں ، بوڑھوں، بزرگوں! جنہوں نے اسلام کے نظام کے نام پر بھیا نک اذیتیں برداشت کیں ۔ جانی ، مالی شہادتوں کے نذرانے پیش کئے ۔ ان کے اس مشن کی تکمیل کا کام پورا کرنے کا عہد دوبارہ کریں ۔ یعنی ملک میں شریعت محمدی ﷺ کا نفاذ ، کرنے کے لئے ہر قسم کی جانی ، مالی ، بدنی قربانی حضور اکرم ﷺ کے نام پر پیش کرنے کے لئے ایک مرکز پر اکٹھے ہو جائیں۔ اے اللہ ! تو اس دور کے پاکستانی مسلمانوں کو توفیق عطا فرما ۔ کہ وہ اسلام کے نفاذ کا ملکی سطح پر رائج کروانے کی ذمہ داری کا کام سرانجام دے سکیں ۔ (آمین) اور ان تمام معصوم بچوں، بچیوں ، عورتوں ، مردوں،بوڑھوں ، نوجوانوں اور طالب علموں ، جنہوں نے پاکستان کو بنانے اور ہجرت کرکے پاکستان آنے میں اذیتوں، مصیبتوں، تکلیفوں، کو برداشت کرکے ، مالی ، جانی، شھادتوں کا اس ملک کی خاطر نذرانہ پیش کیا ۔ ان کے روبرو جھک کر بڑی عاجزی سے ان کی عظمت کو سلام پیش کریں اور ان کی ناراض روحوں کو شریعت محمدی ﷺ کے وعدہ کو ایفا کرکے ان کے اس روحانی صدمے کا کسی حد تک ازالہ کر سکیں۔ یا اللہ ہم پر رحم فرما۔آمین
یا اللہ یہ جہان تیرا ہے ۔ یہ مخلوق تیری ہے ۔ تو خیر کا مالک ہے ۔ تو شر کا بھی وارث ہے ۔ یہ تمام خدائی تیری ہے ۔ یہ تمام نظام تیرے ہیں۔ یہ چاند تیرا ہے ۔ یہ ستارے تیرے ہیں۔ یہ کہکشاں تیری ہے۔ یہ نیلگوں آسمان تیرا ہے ۔ یہ سورج تیرا ہے ۔ یہ تپش تیری ہے ۔ یہ فضائیں تیری ۔ یہ ہوائیں تیری ۔ یہ بادل تیرے ۔ یہ سمندر تیرے ۔ یہ درند تیرے ۔ یہ پرند تیرے۔ یہ حیوان تیرے ۔ یہ حیوان ناطق تیرے ۔ یہ انسان تیرے۔ یہ بندے تیرے ۔ یہ جانور تیرے ۔ یہ نباتات تیرے ۔ یہ پیغمبر تیرے ۔ یہ پاکباز تیرے۔ یہ فقیر تیرے ۔ یہ گنہگار تیرے ۔ یہ دریا تیرے۔ یہ ندی نالے تیرے۔ یہ تالاب تیرے ۔ یہ چشمے تیرے۔ یہ صحرا تیرے ۔ یہ میدان تیرے۔ یہ پہاڑ تیرے۔ یہ بیابان تیرے۔ یہ مور تیرے ۔ یہ چکور تیرے۔ یہ دھوپ تیری، یہ چھاؤں تیری ،یہ لو ح و قلم تیرے۔ یہ حجاب تیرے۔ یہ انکشافات تیرے۔ یہ نیکی تیری، یہ بدی تیری، یہ مسافر تیرے۔ یہ مسافر خانے تیرے۔ یہ کھانا تیرا۔ یہ پینا تیرا ۔ یہ کارخانہ تیرا۔ یہ کارخانے کا ہنگامہ تیرا۔ یہ موت تیری۔ یہ زندگی تیری، یہ شور تیرا یہ سکوت تیرا۔ یہ دل تیرا یہ احساس تیرا ۔ یہ آنکھ تیری ، یہ نظارہ تیرا ۔ یہ آواز تیری ۔یہ کان تیرے ، یہ سوچ تیری، یہ دماغ تیرا، یہ جلوہ تیرا یہ جلوہ گری تیری، یہ ظلمات تیرا، یہ نور تیرا، یہ دن تیرا یہ رات تیری، یہ دلبر تیرا ، یہ دلبری تیری ، یہ جان تیری، یہ مال تیرا، یہ حسن تیرا ، یہ آنکھ تیری ، یہ سر تیرا ۔ یہ ساز تیرا، یہ قال تیرا ، یہ حال تیرا ، یہ درد تیرا، یہ دوا تیری ، یہ گردوارہ تیرا، یہ کلیسا تیرا ، یہ مندر تیرا، یہ مسجد تیری ، یہ گیان تیرا ، یہ دھیان تیرا ، یہ رونق تیری، یہ بازار تیرا، یہ رونا تیرا، یہ ہنسنا تیرا، یہ ادھر تیرا ، یہ ادھر تیرا ، یہ اونچ تیری ، یہ نیچ تیری ، یہ روپ تیرا، یہ بہروپ تیرا ، یہ کن تیرا ، یہ فیکون تیرا، یہ چہک تیری ، یہ مہک تیری ، یہ پھول تیرا، یہ بو تیری ، یہ رنگ تیرے، یہ رنگ سازی تیری، یہ بیماری تیری، یہ شفا تیری، یہ کھیل تیرا ، یہ تماشا تیرا ،یہ یہودی تیرے ،یہ عیسائی تیرے ، یہ بدھ تیرے، یہ جین تیرے ، یہ ہندو تیرے ، یہ سکھ تیرے ، یہ منافق تیرے ، یہ منکر تیرے یہ کفر تیرا ، یہ اسلام تیرا ، یہ دوزخ تیرا ، یہ جنت تیری، یہ مخلوق تیری ، یہ سبھی مہمان تیرے، یہ سبھی انعام تیرے ، یہ محمدﷺ تیرا،یہ قرآن تیرا ، یہ جبریل تیرا، یہ عشق تیرا، تو رب العالملین ہے ، وہ رسول عربی رحمت اللعالمینﷺہیں ۔ وہ تیرے آخری رسولﷺ ہیں ۔ وہ تیرے ہی محبوب ﷺہیں ۔ یا اللہ ! جب آپ نے ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی امت میں پیدا کیا ۔ ہمیں ان کی تعلیم ، اقدار اور اوصاف کے فیض سے بھی نواز ۔ یا اللہ ! ہمیں انسانیت کا ادب ، محبت ، خدمت ، ایثار، نثار ،۔ در گزر ، عفو، انس، احترام، اعتدال، مساوات،عدل ،انصاف کی قندیلیں روشن کرنے کی توفیق بھی عطا فرما تاکہ ظلم ، نفرت، حقارت، حق تلفی، زیادتی، چھینا جھپٹی ، قتل و غارت، عدل کشی، انسانیت سوزی،کے اندھیروںاور اس سیاہ تاریک رات اور ظلمات کی تاریکیوں سے اس خوبصورت جہان رنگ و بو کے وسنیکوں کو نجات ملنے کا سبب مہیا ہو سکے ۔ اس دھرتی کے درویشوں ، فقیروں، مستوں، ولیوں، مجذوبوں، محبوبوں، شہیدوں، کی لامتناہی کوششوں کاوشوں، ہمتوں، جہدوں سے یہ ملک تیرے محبوب ، حضور ﷺ کے نام کے صدقے حاصل ہوا۔ اس کے منشور ، اس کے قانون ، اس کی اقدار، اس کا انصاف، اس کا عدل، اس کی مساوات اور اس کے دستور مقدس کے نفاذ کی توفیق بھی عطا کر۔ قران پاک کی تعلیمات کی روشنی بھی عطا کر اور عمل بھی ۔ اے اللہ ! جس طرح تو نے جسد انسانی کو آنکھ، کان، دل، دماغ، جسم،خون، گوشت، پوست، ہڈیاں، دل کی دھڑکن اور زندگی عطا کی ۔ اسی طرح مولا توملت اسلامیہ اور نسل انسانی کو معاشرتی زندگی کے تمام فطرتی ،الہامی ، روحانی، طرز حیات کے اصول و ضوابط، اخوت، صداقت،امانت،امامت۔ ایثار و نثار،اخلاق و کردار،عدل و انصاف، مساوات، اعتدال، مہر و محبت، صبر و تحمل ، برداشت، محنت، جہد، حضور ﷺ کے تمام اوصاف حمیدہ معاشرتی، سانچے ، ڈھانچے میں نمود حیات نو، کو نور کی روح بھی بخش۔ دلوں کے چراغ کو نورہدایت سے منور فرما۔دنیائے رنگ و بو،جہا نِہر سو کو امن و آ شتی کا گہوارہ بنا ، یا اللہ اپنی مخلو ق پر رحم اور فضل خاص فرما۔یا اللہ ہمیں اس مقا صد کو حاصل کرنے کے لئے جہاد کی توفیق بھی بخش۔ آمین