To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جمہوریت اور اس کا طبقاتی مروجہ تعلیمی نظام
عنایت اللہ
کسی بھی نظام حکومت کو چلانے کے لئے اس کی نظریاتی اساس کے مطابق ایک مخصوص قسم کے اعلیٰ منتظمین، لا جواب عدلیہ ا یماندار ماہرین اور دیانتدار، جفا کش، تجربہ کار بہترین ورکروں کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن کے تعاون ، معاونت، اور نگرانی میں ملک اور معاشرے کے تمام انتظامی اور عدل و انصاف کے امور کے اصول و ضوابط کومرتب اورمروج کیاجاتاہے۔اورانکی روشنی میںملک میںاعتدال۔ مساوات او ر عدل و انصاف ، کا میزان قائم کیا جا تا ہے۔ اور پھر انہی عمدہ اور بہترین اقدار پر مبنی ، معاشرہ تشکیل اور ترتیب پاتا ہے ۔ اگر کسی قسم کی کوئی کوتاہی، غلطی، یا کمی بیشی اس نظام کو چلانے میں پیش آ ئے اور دقت کا سبب یا رکاوٹ بنے۔ اس کو حسب ضرورت اچھے یا بہتر انداز میں بدل دیا جاتا ہے ۔ تا کہ ملک یامعاشرے میں کسی قسم کا ہیجان ، دشواری،بد نظمی ، مشکل یا انارکی نہ پھیلے ۔
ہمارے ملک میں مغرب کے نظریات پر مبنی جمہوریت کا سیاسی نظام حکومت موجود اور رائج ہے ۔ اس کی روشنی میں بذریعہ الیکشن نمائندوں کا چناؤ ہوتا ہے ‘جو ممبر کامیاب ہوتے ہیں ‘ وہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں پہنچ کر صوبوں اور وفاق میں حکومتیں تشکیل دیتے ہیں اور حکمرانی کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں دو اعلیٰ طبقے‘ جاگیردار اور سرمایہ دار موجود ہیں جو اپنے اپنے مخصوص زیر اثر علاقوں سے الیکشن لڑتے ہیں اور کامیا ب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ یہ بات بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ اس جمہو ریت کے نظام میں صرف ملک کے ان آٹھ دس ہزار افراد پر مشتمل ایک سیاسی اکیڈمی ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مالی استطاعت رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنے مخصوص اثر و رسوخ کی بنا پر الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیںاور صرف اور صرف یہی لوگ الیکشن کے متحمل ہوتے ہیں ۔ وہی اخراجات برداشت کر سکتے ہیں ۔ وہی تھانوں، کچہریوں اور مختلف سرکاری اداروں سے ہر جائز ناجائز کام لے سکتے ہیں۔
اسی کوالیفیکیشن کی بنیاد پر وہ الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور یہی دونوں طبقے سرکاری ایوانوں میں پہنچ کر ملک کا نظم و نسق سنبھالتے ہیں اور ملک کے تمام وسائل ، دولت ، اور خزانہ پر قابض ہو جاتے ہیں ۔ عزت و شہرت اور حکمرانی کرتے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے چودہ کروڑ عوام ان کے ووٹر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے قلیل ذرائع آمدن، اپنی مالی کمزوری اور پورے علاقہ میں اثر و رسوخ کی محرومی کی وجہ سے اس اقتدار کی اکیڈمی میںداخل ہو نے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ یہ دونوں شاہی طبقے عوام الناس کو جماعتوں میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ وہ ان سے زندہ باد، اور مردہ باد کے نعروں اور ملک میں سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کا کام لیتے ہیں اور حکومتیں اسی طریقہ کار سے بدلتے رہتے ہیں ۔ وہ اپنی اسی کامیابی کی خاطر ، ملت سے وحدت خیال چھین کر اور ملی اتحاد کو ختم کرکے عوام میں نفرت اور صوبائی تعصب پھیلاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے ہر قسم کا عمل کرگزرتے ہیں۔ پہلے بھی مشرقی پاکستان کو انہی حرکات سے نگل چکے ہیں۔ اور ملک میں انارکی پیدا کرکے خود حکمرانی کے مزے لوٹتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ ملک کے تمام وسائل اور خزانہ کو چبا جاتے ہیں۔ اور غیر ملکی قرضوں کو ساتھ ساتھ ہڑپ کرتے جاتے ہیں۔
ملک کے چودہ کروڑ عوام الناس جن میں کسان، مزدور، ہنر مند اور معاشرے کے تمام ارکان شامل ہیں۔ ان سات آٹھ ہزارجا گیر داروں۔سرمائے داروں کے پھندے میں پھنس کر جمہوریت کے اس طریقہ کار اور سسٹم میں مقید ہو تے چلے آ رہے ہیں۔ملک کے تمام وسائل،تمام دولت،تمام خزانہ وہ اپنے کنٹرول میں لے لیتے ہیں۔ وہ اس طریقہ کار سے استحصالی عمل بروئے کار لا کر ملک کی تمام دولت،خزانہ اور وسا ئل بڑی بے دردی۔ بے رحمی نا انصا فی سے قرضوں،شاہی سرکاری سہولتوںیا مختلف کرپشن کے طریقوں سے اقتدار کی نوک پر حاصل کر کے ذاتی ملوں،فیکٹریوں،کار خا نوں، زمینوں ،محلوں ،کاروں ، بنک ڈالروں کے کلچر کو فروغ دیکر ملک میں معاشی ،معاشرتی عدل و انصاف کو پامال اور مسخ کرتے چلے آ رہے ہیںاور دوسری طرف چودہ کروڑ عوام النا س کے جسم سے کپڑے اتار لئے اور منہ سے لقمہ چھین لیا ۔ منی بجٹوں ۔ ٹیکسوں ، بلوں اور مہنگائی کے جان لیوا شکنجے کس لئے۔ ملک کو معاشی قتل گاہ بنانے میں کو ئی کسر باقی نہ چھو ڑی ۔
انگریزوںنے سوسال کی غلامی کے بعد پاک و ہند کو ۱۹۴۷ میں آزاد کیا۔پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ملک کا نظام اور سسٹم اور قانون اسی طرح قائم و دائم رہا۔وہی تھانے ، وہی کچہریاں۔وہی سرکاری ملازمین،وہی افسر شاہی،وہی منصف شاہی،وہی وکیل،وہی جیلیں،وہی طبقاتی نظام،وہی جاگیردار،وہی سرمائے دار،وہی جعلی اور جھوٹے مقدمے،وہی ججوںکے بے بنیادفیصلے،وہی فوجداری مقدمے،وہی نہ ختم ہونے والے سول کیس۔ انگریز اس مفتو حہ قوم کا چارج اپنے پسندیدہ قابل اعتماد اور و فا دار کالے انگریزوں کے سپرد کر گئے ‘جو ان کی سو سال تک مدد و معاونت کرتے رہے۔ان کے بعد انہوں نے انکے مروجہ قوانین و ضوابط کی،انکے نظام کی اور انکے سسٹم کی مکمل پیروی کی۔جمہوریت کے نظام کو اپنایا اور اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیا۔اصل میں یہ ّآزادی ملک و ملت کو نہ دی گئی ۔بلکہ یہ ملک اور ملت ان جاگیر داروں اور سرمائے داروں کو ان کی غداری،معاونت اور و فا داری کے عوض بطور بخشیش دے گئے۔ ایک مفتوحہ قوم کا چارج ا ن حکمرانوں کے سپرد کر گئے۔اس طرح یہ کالا حکمران طبقہ بغیر کسی خوف خظرہ کے کالے قوانین مرتب کرتا اور ان کا نفاذ کر کے ملکی وسائل،قومی خزانہ،ملکی ،غیر ملکی قرضے از خود ہضم کرتا چلا آ رہا ہے۔
انہوں نے طبقاتی نظام مروج رکھنے اور نظم و نسق چلانے کے لئے طبقا تی تعلیمی نظام کو جوں کا توں چلایا۔عدلیہ اور انتظامیہ کے ماہرین تیار کرنے کے لئے اعلیٰ شاہی معیار کے طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کا جال بچھایا۔ ان کیلئے اعلیٰ معیار کی اعلیٰ بلڈنگوں پر مشتمل ا لگ تھلگ ادارے قائم کئے۔ انھوں نے مغربی تعلیمی اداروں کا جدید نصاب ان میں مروج کیا۔ان علوم کے ماہرین کی ان اداروں میںتقر ریاں کیں۔ ان اعلیٰ انگلش میڈیم اداروں کے اخراجات اتنے زیادہ رکھے کہ جن کو یہی طبقہ ادا کر سکتا ہے۔ لہٰذا انہی کی اولادیں،ان اداروںسے استفادہ کر کے اور تعلیم سے فارغ التحصیل ہو کر اور انگریزی زبان پر فوقیت کی بنا پر انتظامیہ کی افسر شاہی اور عدلیہ کی منصف شاہی، اور ملک کے تمام اداروں کی اعلےٰ پوسٹوں پر انکی تعنیاتیاں ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ انکی سلیکشن کیلئے ایک ادارہ پبلک سروس کمیشن کے نام سے قائم کر رکھا ہے ۔ جس کے معیار پر ان اداروں کے فارغ ا لتحصیل ہی پورے اتر سکتے ہیں۔ ا س کے علاوہ انکی تعیناتیوں اور تقرریوں میں انکے آباؤ اجداد کے سیاسی اثرورسوخ بھی کام آتے ہیں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دور حکومت میں اپنے پینل کے وکلا کو بطور سیاسی رشوت جسٹسس شپ کے عہدے عطا کرتی چلی آرہی ہیں۔اس طرح انھوں نے پورے ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنے زیر اثر ان طبقاتی تعلیمی اداروںکی تحویل میں دیدیا عوام پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی ۔ ملک میں ہر قسم کے معاشی اور معاشرتی اداروں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ عدل کشی پر مشتمل مساوات اور اعتدال کے منافی جرائم کو قانو نی حیثیت دے کر استحصا لی اور تفا وتی نظا م کو ملک میں رائج الوقت کئے جا رہے ہیں ۔
جاگیرداروں ، سرمائے داروں کی طبقاتی اکیڈمی میں سیاست دان اور حکمران پیدا ہوتے ہیں۔انہی کے قائم کئے ہوئے شاہی طبقاتی انگلش میڈیم اداروں سے افسر شاہی اور منصف شاہی کی افواج تیار کر کے ملک کے تمام انتطامی اور عدلی امور پر کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں۔ ان دونوں اکیڈمیوں نے چودہ کروڑ عوام کو استخصالی پالیسیاں مروج کر کے معاشی اور معاشرتی شکنجوں میں جکڑ اورمسخ کر دیا ہے۔ ملک کے تمام وسائل،خزانہ اور قرضے انہی سیاستدانوں ،حکمرانوں،افسر شاہی اور منصف شاہی کی کوٹھیوں ،محلوں ،کاروں، ٹیلیفونوں فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں، کاروباروں، بنک ڈالروں میں اندرون ملک اور بیرون ممالک متشکل ہو تا جا رہا ہے۔ انکے یہ اعلیٰ سٹینڈرڈ(معیار)‘ عیش وعشرت کی زندگی ملکی قوانین اور استحصالی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ انگریزی زبا ن سرکاری طور پر نافذ ہونے کی وجہ سے ملک کے ۹۹ فیصد عوام کو گونگے اور بہرے بنا کر رکھ دیا ہوا ہے۔یہ سب لوگ کار سرکار سمجھنے سے معذور ہو تے ہیں۔ جاگیرداروں،سرمائے داروں کے تسلط کی طرح انگریزی زبان پر بھی ان کی اجارہ داری قا ئم ہو چکی ہے۔
اسی اقتدار کی نوک پر بڑے بڑے قرضے ، رشوت، کمیشن سے اکٹھی کی ہوئی ملکی دولت، بیرون ممالک کے قرضے ، آئی ایم ایف کے تمام قرضے، انہوں نے بڑے غاصبانہ طریقوں سے لوٹے اور اکٹھے کئے ۔ اور ملک کے اندر اور باہر محل، اور کارخانے تعمیر کئے ۔ بڑے بڑے کاروبار، ترتیب دیئے ۔ جو ان کے جرائم کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔ ملک کا یہ چند نفوس پر مشتمل شاہی طبقہ، ملک کی اقتصادی ، معاشرتی، اور معاشی تباہی کا باعث بنا ہواہے ۔ یہی لوگ ۷۰ فی صد کسانوں اور ۲۹فی صد مزدوروں ، ہنر مندوں، غریبوں ، مجبوروں ،بیروز گاروں، یتیموںاور مسکینوں کا معاشی قتل کرتے چلے آ رہے ہیں۔انتظامیہ اور عدلیہ پر مشتمل انکی اولا دیں اس جرائم کدہ میں پو ری طرح ان حکمرانوں کے ساتھ ملوث اور اس نظام اور سسٹم کی نگرانی کے فرائض سر انجام دیتی چلی آ رہی ہیں۔
انہوں نے اس اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لئے ملک میں طبقاتی تعلیم کا نظام مروج کیا۔ اپنے بچوں ، اولادوں ، اور اپنے اپنے عزیز و اقارب کو اعلیٰ قسم کے مغربی طرز اور معیار پر مشتمل ، شاہی اخراجات والے اعلیٰ انگلش میڈیم اداروں کو قائم کیا ۔ جن میں صرف ان کے بچے ہی مغربی تعلیم و تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان تعلیمی اداروں کی داخلہ فیس، ماہوار فیس، امپورٹد بُکس امپورٹڈ نصاب، قیمتی کاپیاں، اور لاتعداد اخراجات صرف ا ور صرف یہی لوگ ادا کر سکتے ہیں ۔ لہذا انہی کی اولادیں مغرب کے جدید علوم کی روشنی میں انگریزی، زبان پر کنٹرول حاصل کرتی ہیں۔ اس کے بعد اسی اہلیت کی بنا پر ملک کی انتظامیہ کی افسر شاہی، اور عدلیہ کے منصفوںکی شاہی فوج میں شمولیت حاصل کرکے ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کے اہم شعبوں کو کنٹرول اور مکمل گرفت میں لے کر انگلش زبان کی چھڑی سے گو نگے، بہرے چودہ کروڑ عوام کو ہانکتے چلے آ رہے ہیں۔ان میں سے بیشتر کی اولادیں یورپ میں جا کر مغرب کی تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار سیکھ کر ملک واپس لوٹتی ہیں۔ اور ان کا تعلق حکمران طبقہ سے منسلک ہوجاتا ہے ۔ ان اعلیٰ ملکی اور غیر ملکی اداروں کے شاہی اخراجات اور معیار اس قسم کا رائج کیا ہو ا ہے ۔ کہ ان کے سوا کوئی اور غریب کسان،مزدور یا ہنر مند طبقہ ان کے اخراجات اور لوازمات برداشت نہ کر سکیں ۔ اور نہ ہی عوام النا س کے بچوں کو ملکی نظام کے ان اعلیٰ اداروں اور انتظامیہ ، عدلیہ کی اعلیٰ پوسٹوں پر ، ان کی تعیناتیاں ہو سکیں ۔ ملک میں جہاں جمہوریت کی سیاست پر ان لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ ملک کے اعلیٰ ایوانوں سے لے کر نیچے تک ان ہی کی گرفت ہے۔ اسی طرح طبقاتی تعلیمی اداروں پر اجارہ داری قائم کرکے ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے ۔ مغربی مما لک اور اقوام عا لم کو انکے اس ظلم و ستم اور استحصالی جمہو ری نظام کے رائج سسٹم جس سے انہوں نے عوام کیلئے ملک کو معا شی قتل گاہ بنا رکھا ہے اوران کے تفا وتی معاشی تقسیم کا غا صبانہ، بے رحمانہ پا لیسیوں پر مشتمل شکنجوں کی اذیتوں کے عکس پیش کرنا ضروری ہے تا کہ دنیائے عا لم کو اصل حقائق کا پتہ تو چل سکے۔ ان استحصالی طبقوں کا قلع قمع کر نا کتنا ضروری ہو چکا ہے۔ ان با طل ،طبقاتی تعلیمی اداروں کا نظام اپنی عبرت کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔ ملک میں تعلیمی ڈھانچے کا اختصاری زائچہ پیش خدمت ہے۔تاکہ ا ہل و طن اور دنیائے عالم ان حقائق سے آگاہ ہو سکیںکہ ملک میں اعتدال،انصاف،عدل اور مسا وات کے فطرتی اصولوں کو انہوںنے کسطرح پا مال اور مسخ کر رکھا ہے۔یہی چند لوگ ملک میں اردو زبان کے نفاذ میں بری طرح حائل ہو کر اپنی اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں۔ملک کے چودہ کروڑ عوام ان سے اپنی زبان اور کان واپس لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
۱۔ فیوڈل لارڈز کے نونہال جو بیرونی ممالک مغرب کی تربیت گاہوں میں اعلیٰ قسم کی تعلیم حاصل کرکے ملک واپس لوٹتے ہیں اور مغربی تہذیب و تمدن کی اقدار یعنی جنسی آزادی، ون کس فار ون ووٹ ( One kiss for one vote ) کے سلوگنوں سے کالجوں ، یونیورسٹیوں کے الیکشنوں کی خاص تربیت حاصل کرکے یہ مغرب کے دیدہ ور ، دانش ور ، تعلیم یافتہ ، زمانہ ساز، ملک میں حکمرانی کے لئے واپس لوٹتے ہیں۔ ان کے کریکٹرپرمغرب کی چھاپ کا گہرا اثر موجود ہوتا ہے۔ وہ شاہی نسل کے شاہی اخراجات کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ وہ کسی غریب آدمی کی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان کے لئے ملکی خزانہ اور ملکی وسائل یقینا ناکافی ہوتے ہیں۔ وہ تو دنیا میں کوئی اور آئی ایم ایف کا وجود موجود ہو تو اس سے بھی اتنے قرضے لے کر ملک کو دوبارہ گروی رکھنے سے گریز نہیں کریں گے۔ وہ تو صرف ملک میں دولت لوٹنے اور حکمرانی کرنے کے لئے آتے ہیں۔ وہ انسانو ں کے روپ میں انسانیت کش اقدار کے پیکر‘ما دیت کی دنیا کے شا ہکار بن چکے ہوتے ہیں۔
۲۔ مغرب کی طرز کے انگلش میڈ یم بڑے بڑے اخراجات والے ادارے ملک میں موجود ہیں۔ ان کا تعلیمی نصاب اور نظام مغرب کے اداروں سے منسلک ہوتا ہے اور اسی معیار کو قائم رکھا جاتا ہے۔ ان میں صرف یہی صاحب ثروت، یعنی جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ اور ان کی افسر شاہی اور منصف شاہی یا سمگلروں کی اولادیں ہی صرف ان اداروں کے تعلیمی اخراجات ، لوازمات اور اخلاقیات کو برداشت کر سکتے ہیں۔لہٰذا ان جمہوری اداروں میں اسی طبقہ کی مکمل اجارہ داری قائم ہوتی ہے کیونکہ متوسط طبقہ یا غریب طبقہ کے لوگ ان اداروں کے شاہی اخراجات ادا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔لہٰذا یہ شاہی ادارے ان کے لئے مخصوص اور مختص ہوتے ہیں۔ یہ ادارے ملک میں حکمران طبقہ ، افسر شاہی اور منصف شاہی کے ارکان پیدا کرتے ہیں۔باقی چودہ کروڑ عوام کی اولادیں گونگے اور بہرے اداروں یعنی اردو میڈیم میں داخلہ لے لیتی ہیں۔تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد وہ سرکاری محکموں میں اس افسر شاہی اور منصف شاہی کے ماتحت ایک غلام کی طرح زندگیبسر کرتے ہیں۔
۳۔ اردو میڈیم سرکاری نیم سرکاری ، پرائیویٹ ادارے جن میں ان کا تیار کردہ تعلیمی نصاب متعین اور مقرر ہوتا ہے ۔جن کے فارغ التحصیل نوجوان سرکاری محکموں ، اداروں ،فیکٹریوں ،ملوں، کارخانوں میں ان حکمرانوں کے، یس سر yes sirکی تربیت سے آراستہ، ارکان یا کارکن تیار کئے جاتے ہیں۔ جو غلامانہ تربیت کے اصولوں سے خوب سنوارے ہوتے ہیں۔ ان پر اس افسر شا ہی کا خوف ، اور ڈر مسلط رہتاہے کہیں ان ظالموں سے نوکری نہ چھن جائے یا کریکٹر رول خراب نہ کردیں۔یہ بد ترین مظلومانہ زندگی گزارتے ہیں۔کسی ایک افسر کی ناراضگی بھی انکی ترقی اور ملاز مت کی تباہی کیلئے کافی ہو تی ہے۔ملک کی دولت،ملک کے وسائل،ملک کا خزانہ،ملکی غیر ملکی قرضے،چودہ کروڑ عوام کی محنت،ان کی شاہی تفاوتی تنخواہیں،انگنت سرکاری سہولتیں، غیر ملکی دوروں، رشوت،کمیشن،کرپشن اور شاہی اخراجات ان کے سرکاری سسٹم کا حصہ ہے ۔اس طرح پورا ملک ان ماموں بھانجوں کی ملکیت بن چکا ہے۔
۴۔ انگلش میڈیم سرکاری پرائیویٹ ادارے جن کا نصاب اور کورس بھی یہی حکمران طبقہ مقرر کرتا ہے ۔ یہ ادارے ان کے سرکاری دفاتر میں خط و کتابت ٹیلیفون پر جھوٹ بولنا کہ صاحب میٹنگ میں گئے ہوئے ہیں یا مصروف ہیں ۔ حسب حکم افسرانِ بالا کا عوام الناس کو ان سے ملاقات سے گریز اور خواص سے ملاقات کرانے کا گر سکھا دیا جا تا ہے ۔ یہ انسانیت سوز عمل صرف اس افسر شاہی کو ہی زیب دیتا ہے جو انکے اداروں کی تربیت کا حصہ ہے۔شاہی انگلش میڈیم اداروں کے تیار کردہ اخلاق سوزی اور انسانیت سوزی کے شاہکار افسر شاہی اور منصف شاہی کے دہشت گرد اوررہزن ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کے اقتدار کے وارث بنتے چلے آ رہے ہیں۔ان کی سول اکیڈ میاں ان کے اس کریکٹر اور کردار کی تشکیل کرتی ہیں۔
۵۔ ۷۰فی صد دیہاتوں میں رہنے والے قابل صد احترام عوام یعنی کسان، لوہار، ترکھان، حجام ، موچی ، درزی ، راج، مزدور اور دوسرے تمام شعبوں کے لوگوں کے لئے نہ شہروں جیسی سکولوں کی بلڈنگیں، نہ سڑکیں، نہ وہ سرکار ی بجلی، گیس ، پانی کی معیاری سہولتیں، نہ بچوں کے لئے سکولوں میں بنچ ، نہ کرسیاں، اور اس کے علاوہ نہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سٹینڈرڈ اور نہ اساتذہ ، اور نہ ہی ان کا ایسا رہن سہن، وہ اپنے مالی وسائل سے مجبور، معذور ، بے بس، وہ بچوں کی کتابوں، کاپیوں اور پنسلوں کے اخراجات تو کجا وہ تو معمولی فیس ادا کرنے اور معمولی سے معمولی اخراجات بر داشت کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے ۔ وہاں تو ایک ٹیچراور پانچ کلاسیں سکول کی گراؤنڈ میں درختوں کے سائے تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔یہ ہونہار، محنتی ، جفاکش ،ایماندار، سادہ شریفانہ زندگی گزارنے والے پاک اور طیب فطرت طلباء گاؤںکی مساجد اورسرکاری سکولوںکے فارغ التحصیل یہ نو جوان ملک کے ہر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں مقا بلے کا امتحان پاس کرکے ان اداروں میں چپڑاسی ،ڈرائیور، چوکیدار، مالی ، بیلدار، پولیس، یا فوج میں سپاہی بھرتی ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں میں محنت و مزدوری کا بھی امتحان پاس کرنے میں اپنے دور کے تمام شاہی انگلش میڈیم اداروں کے اعلیٰ خوبیوں والوں کو مات دے کر نوکریاں حاصل کرتے رہتے ہیں۔۷۰فیصد کسان اور ۲۹فیصد مزدوروں، ہنر مندوں اور غریب طبقہ کی اولادیں ان سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں شودروں سے بد ترین زندگی گزارتی ہیں۔ وہاں ان کے ساتھ انسانوں جیسا حسن سلوک نہیں بلکہ حیوانوں سے بدتر مشقت لی جاتی ہے۔ جہاں انسانیت شرما جاتی ہے اور ضروریات اتنی قلیل مہیا کی جاتی ہیں کہ جس سے وہ نہ مر سکیں اور نہ زند ہ رہ سکیں بلکہ سسک سسک ، تڑپ تڑپ ، اور بلک بلک کر معاشی اذیتوں کا شکار ہو کر دم توڑے جاتے ہیں۔ یہ طبقاتی تعلیم ملک میں عدل و انصاف کی دیمک ہے۔اسکی وجہ سے ملک کا اقتدار،نظام اورسسٹم افسر شاہی،منصف شاہی اور سیاستدانوں کے چند ہا تھو ں میں خود کار نظام کے تحت منتقل ہوتا جا رہا ہے۔
۶۔ دینی مدارس، یہ دینی ادارے ، یا درس گاہیں، ملکی سطح پر مساجد شریف، یا بزرگان دین کے مزارات سے منسلک ، علماء کرام، مشائخ کرام، کی زیر نگرانی اپنی اپنی ذاتی کوششوں اور کاوشوں سے یہ دین دار طبقہ چلاتا ہے ۔ جہاں پر یتیم ، مسکین، غریب، بے روزگار، اپاہج ، بے سہارا ، بچوں کو قران پاک ، حدیث شریف کا درس دیا جاتا ہے ۔ جہاں قران پاک کی روح کو سمجھا اور سمجھایا جاتاہے ۔ جہاں حدیث شریف کے دور چلتے ہیں۔ جہاں سنت رسول ﷺ کے طور طریقے بتائے جاتے ہیں۔ جہاں فقہ کی گتھیاں سلجھائی جاتی ہیں۔ جہاں خدا اور رسول ﷺ کی اطاعت کا راستہ بتایا جاتا ہے ۔ جہاں حقوق العباد ، اور حقوق اللہ کی وضاحتیں کی جاتی ہیں۔ جہاں محسن انسانیت ﷺ کے اخلاق میں ان نونہالوں کو ڈھالا جاتا ہے ۔ جہاں انسان کو انسانیت کے احترام و عزت کا درس دیا جاتا ہے۔ جہاں اسلامی اقدار کی آبیاری ہوتی ہے ۔ جہاں مہر و محبت اور اخوت کے پیمانے بھرے جاتے ہیں۔ جہاں در گزر اور عفو سے روشناس کروایا جاتا ہے‘ جہاں صبر و شکر کے ازلی راز اجاگر کئے جاتے ہیں۔ جہاںبزرگانِ دین کی عملی زندگی اور تبلیغ کی روشنی کے چراغ جلائے جاتے ہیں ۔ جہاں سادگی اور شرافت کی افادیت بتائی جاتی ہے۔ جہاں دنیا کی بے ثباتی کا درس دیا جاتا ہے ۔ جہاں مسلمان ، کافر ، منکر، منافق ، کی خوبیوں، خامیوں کی پہچان کرائی جاتی ہے ۔ جہاں جہاد کی عقدہ کشائی اور افادیت سمجھائی جاتی ہے ۔ جہاں شہادت کے مقام سے آشنا کیا جاتا ہے ۔ جہاں خوف خدا کو زندگی کا نصب العین بنایا جاتا ہے ۔ جہاں مخلوق خدا کی خدمت کے جذبوں کو بیدار کیا جاتا ہے۔ جہاں ایثار و نثار کی دولت سے لیس کیا جاتا ہے ۔ جہاں مخلوق خداکی خدمت اور ادب کے جام پلائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ دینی ادارے حکومت پاکستان کی کسی قسم کی مدد ، اعانت اور ہر قسم کی سرپرستی سے محروم ، چلے آ رہے ہیں ۔ یہ دینی ادارے صدقات ، زکوٰۃ۔ خیرات، چندے، قربانی کی کھالوں کے ذرائع سے چلائے جاتے ہیں ۔ یعنی یہ دینی ادارے حکمرانوں کے نزدیک ایک یتیم ، لاوارث، بے کار، اور ناکارہ نعوذ باللہ فرسودہ دینی ادارے سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس دینی الہامی ، تعلیم و تربیت کی افادیت ، ختم ہو چکی ہے ۔ اور وہ مغرب کے رنگ میں مکمل رنگے جا چکے ہیں۔ یہ دینی ادارے پچھلے ۵۳ سالوں سے بالکل نظر انداز ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ ان دینی درسگاہوں کے تعلیم یافتتہ اور سند یافتہ طلباء کو گورنمنٹ کے کسی ادارہ میں ملازمت مل ہی نہیں سکتی ۔ کیونکہ ان کے پاس ان کے مغرب کے جمہوریت کے کسی منظور شدہ تعلیمی ادارے کی سرکاری سند یا تصدیق نامہ نہیںہوتا ۔ مسلمانوں کو حکومتی سظح پر عملی طور پر اسلام سے فارغ کرنے کا عمل کون کر رہا ہے ۔ عیسائی، یہودی، ہندو، کافر ، بے دین ، منافق یا دور جدید کے یہ مسلم کش، اسلام کش، افسر شاہی،منصف شاہی یا یہ بد نصیب،بد کردار، غاصب، بے دین،فاسق، فاجر،منافق،دھوکہ باز،رہزن،رہبر و رہنما ،لیڈران ،جا گیردار،سرمائے دار،حکمران۔انکے بر عکس جو دین کی روشنی میں فطرتی اصولوں،ضابطوں کی پیروی کریں۔جو انسانی اقدار اور کردار کو اپنائیں ۔جو انسانیت کا ادب اور خدمت کے جذبوں سے مالامال ہوں‘انکے نز دیک وہ جاہل۔ان پڑھ۔نادان اوربیکار اور جومغرب کی تعلیم،تربیت اور نصاب سے بے دین غاصب افسر شاہی، محکوم نوکر شاہی اور کرپٹ منصف شاہی کے جاہل دانشوروں، منا فق مدبروں، ظا لم ماہروں کے کردار وں کو تیار کریں وہ اس ملک کے حکمران بنتے رہیں۔مفتوحہ قوموں کے ساتھ ایسا ہوا کرتا ہے۔جب تک وہ قومیں ایسے ظالم نظام اورغا صب سسٹم سے بمع انکے نجات حاصل نہیں کرلیتیں۔
۷۔ اے دور حاضرکے حکمرانو !یہ ٹھیک ہے کہ آپ نے ان بد قماش رہزنوں،عیاشوں،لٹیروں،دہشت گردوں کا راستہ روکا ہے۔ ملک میں احتساب کا عمل جاری ہے۔ملک کے کنویں میں کتا گرا پڑاہے۔آپ اس کا تمام پانی نکال دیں۔ کنواں پاک نہیں ہو گا۔جب تک کنویں میں سے کتا با ہر نہیں نکالا جاتا۔اور اس کی صفائی نہیں کی جاتی۔یاد رکھو جب تک آپ اس باطل ،غاصب سسٹم اور ملکی قوانین و ضوابط کو نہیں بدلتے ۔ تفا وتی تنخواہیں۔ انگنت سرکاری سہولتیں۔افسر شاہی،منصف شاہی اور حکمرانوں کے اقتدار کی پالیسیاں وہی جاری ہو ں ،رشوت کمیشن اور کرپشن کا نظام یونہی قائم رہے۔ سرکاری شاہی رہائشیں اس طرح قائم رہیں۔ سرکاری لاکھوں گاڑیاں اور پٹرول پر زر مبادلہ یونہی جلتا رہے تو آپ کیسے مصلح ہو۔ان تمام حا لات پر نظر ثانی اور غور تو کر لو۔ ان تمام واقعات کا کوئی حل نہیں۔ جب تک اس نظام کو شریعت محمدیﷺ کے نظام کا غسل نہیں دیا جاتا۔اس وقت تک تمام حکمران اس عبرت کدے کی زینت میں اضافہ کر تے رہیں گے۔حکومتی مہمان خانے میں آ پ لوگوں کا قیا م اور پڑاؤ اگر دستور مقدس کا نفاذ فوری طور پر نہ لائے تو دوسروں کی طرح بڑا مختصر اور عارضی ہو گا۔ حضورﷺ کے پاس کون سا چہرہ لے کر جاؤ گے اور کیسے آمنا سامنا کرو گے۔ یہ واضح کرنا پھر ضروری ہے کہ اللہ کے دین کے نفاذ میں دلی ، روحانی سکون و آسودگی میسر ہو گی۔ تاریخ ساز لمحے آپ کے عمل کے منتظر کھڑے ہیں۔ وقت کے عبرت کدے میں ورثہ میں ملی ہوئی پالیسوں اور سسٹم کی پیروی بند کرو۔ یہ ضابطے اور سسٹم ڈاکوؤں اور رہزنوں نے ملک لوٹنے کے لئے غیر منصفانہ قانون سازی کر کے نافذالعمل کئے۔ لٹیروں ، غاصبوں، افسر شاہی ، منصف شاہی کی عیاشیوں کیلئے ٹیکسوں،بجلی،گیس وغیرہ کے اضافوں کی چتا میں مزیدعوام الناس کو نہ جھونکو۔ راہزنوں سے لوٹا ہوا خزانہ واپس لو اور مو جودہ ظالموں کا ہاتھ روکو۔ان بگڑے ہوئے عیاشوں کو غریبوں کا خون اب مزید چوسنے نہ دو۔ ملک میں سالہا سال سے عوام الناس کیلئے سرکاری نوکریاں تو بند ہیں لیکن افسر شاہی اور منصف شاہی کی بھرتیا ں ہر دور میں جاری رہتی ہیں اور محکموں میں ڈاؤن سائزنگ سے غریب بے بس نچلے درجے کے اہلکاروں اور انکے لواحقین کے منہ سے لقمہ چھیننے والے۔ یہ کیسے خوف خدا سے محروم راہزن ہیں۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنا ان کا فن ہے۔ ان کے مکتبہ فکر سے بچ جا ئیں۔ افواج پاکستان کا احترام اور وقار عوام کے دلوں میں قائم رکھنا آپ کا فرض ا وّلین ہے۔ ملک میں تعلیم کانصاب اسلام کی روشنی میں جدید خطوط پر تیار کر کے پوری ملت کیلئے ایک مقرر کرنا ضروری ہے۔ تمام شاہی اخراجات والے شا ہی تعلیمی ادارے ملک میں بند کریں۔ یہ طبقاتی تعلیم ختم ہونے سے ہر قسم کی طبقاتی بیماریوں سے معاشرہ پاک صاف اور صحت یاب تیار ہو گا۔ ملک میں عدل و انصاف اور ذہنی انقلاب کی راہ ہموار ہو گی۔ملت کا کردار سنورے گا۔
۸۔ مغرب کی جمہو ریت اور اس کے نظام کو چلانے کے لئے جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ نے طبقاتی نظام حکومت ملک میں رائج کر رکھا ہے ۔ اس نظام کو چلانے کے لئے انہوں نے ملک میں طبقاتی تعلیمی انگلش میڈیم ادارے اور درس گاہیں ، اکیڈمیاں، قائم کر رکھی ہیں۔ اسی لحاظ سے انہوں نے تعلیم کا نصاب مرتب کیا ۔ یورپ میں پلنے والے مغربی تعلیمی اداروں کے فارغ البال اور اسی معیار اور طرز پر قائم انگلش میڈیم ملکی اداروں کے تعلیم یافتہ طبقہ، اعلیٰ درجے کے حکمران، اعلیٰ درجے کے لیڈران یا اعلیٰ نسل کی کرپٹ افسر شاہی، اور بد دیانت ، بے ضمیر،منصف شاہی تیار کرتے ہیں۔ وہ اسی تعلیمی معیار اور انگریزی زبان کی اہلیت کی بنا پر ، اور اپنے آباؤ اجداد کے اثر و رسوخ کی وجہ سے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے انتظامیہ میں کینسر کی طرح پورے ملک میں پھیلے جاتے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر کمشنر تک ڈی ایس پی سے لے کر آئی جی تک ، سیکشن آفیسر سے لے کر سیکرٹری کی پوسٹ تک ، صوبوں سے لے کر وفاق تک، یہی عنصر ملک کی اعلیٰ انتظامیہ اور عدلیہ پر قابض ہو جاتے ہیں ۔ دوسری طرف سول جج سے لے کر سیشن جج تک ۔ ہائی کورٹ کے جج سے لے کر چیف جسٹس تک اور سپریم کورٹ کے جج سے لے کر چیف جسٹس تک اس کے علاوہ احتساب بنچوں تک پورے ملک میں تحصیل سے لے کر ضلع تک ضلع سے لے کر صوبے تک، اور صوبوں سے لے کر وفاقی حکومت تک ، پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ان طبقاتی اداروں کی مدد سے اپنامعیاری سٹف تیار کرتے ہیں۔اور ملک کا تمام نظم و نسق اپنی گرفت میں ان کے ذریعے لے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پور ی دنیا کی ایمبیسیوں پر کنٹرول بھی انہی غاصبوں، معاشی دہشت گردوں کا ہے۔ اس مغربی طرز کے اعلیٰ طبقاتی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل ماہرین، عالم ، فاضل، دانش ور، منتظمین ،قانون دان ،معاشیات اور اقتصادیات کے سکالر پیدا کرتے ہیں۔ جو ملک کی انتظامیہ ، عدلیہ ،اور تمام حکومتی مشینری پر مسلط یا متعین ہو کر ملک کے نظم و نسق کو چلاتے ہیں ۔ جمہوریت کے تیار کردہ طبقاتی نظام تعلیم سے طبقاتی معاشرہ تشکیل دیتے چلے جاتے ہیں۔ان آٹھ دس ہزار جاگیرداروں، سرمایہ داروں نے جمہوریت کے اعلیٰ ایوانوں ۔ یعنی چاروں صوبائی اسمبلیوں ، وفاقی اسمبلی، اور سینیٹ کے ایوان پر قبضہ کرکے ملک کی حکومت و اقتدار ، وسائل اور خزانہ پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ حکومتی نظام چلانے کے لئے اعلیٰ طبقاتی ، تعلیم کے انگلش میڈیم اعلیٰ سٹینڈرڈ ، شاہی اخراجات والے اداروں کے فارغ التحصیل دانش ور، منتظمین اور قانون دانوں کو ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کا اقتدار اور اس کے فرائض سونپ دیئے جاتے ہیں ۔ ان حکمرانوں اور ان کی اس افسر شاہی نے مل کر ملک و ملت کے معاشی، معاشرتی ، اخلاقی اقدار کو اعتدال،مساوات یا عدل و انصاف کا توازن ، فطرتی ، اخلاقی ، دینی تقاضوں کی روشنی میں قائم کرنے کی بجائے انہوں نے غاصبانہ استحصالی، عدل کش طبقاتی ،معاشرتی طبقاتی ، معاشی طبقاتی ،تعلیمی طبقاتی ، انتظامی طبقاتی ، اور عدلی طبقاتی نظام کو اس طرح مروج کیا کہ انہوں نے امت مسلمہ کو ہندو ازم کی چار گوتوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا۔ یعنی برہمن ، کھتری ، کھشتری، شودر اور حکومتی انتظامیہ کو بھی اور عدلیہ کو بھی کلاس ون، کلاس ٹو، کلاس تھری اور کلاس فور کے ڈھانچے اور سانچے میں ڈھال کر رکھ دیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے تنخواہوں‘سرکاری سہولتوں‘ سرکاری دفتروں‘ سرکاری رہائش گاہوں‘ سرکاری گاڑیوں‘ ٹیلی فونوں‘ ٹی ا ے ‘ ڈی اے ۔ اندرون ملک اور بیرون ممالک سرکاری دوروں کے شاہی اخراجات، ملک میں قانون سازی کرکے ملک کا ستانوے فی صد بجٹ ان جمہوری براہمنوں کی شاہ خرچیوں کیلئے وقف کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے برعکس کلاس تھری اور کلاس فور کی تنخواہوں اور سرکاری سہولتوں کا شرمناک تفاوت کا باطل نظام مروج کر رکھا ہے ۔ وہ ان کے بھیا نک اور دہشت ناک استحصالی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔عوام اس گھناؤنے سسٹم کونیست و نا بود کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ہاتھ کی انگلیوں کے مطابق تنخواہوں اور سرکاری سہولتوں کا ہونا عدل و انصاف اور وقت کا تقاضا ہے۔
۹۔ ۷۰فی صدی دیہاتی کسانوں۔ ۲۹فی صدی شہری، مزدوروںِ، ہنر مندوںِ اور غریب عوام ، ، کسان، سخت محنت کے بعد ملکی وسائل اور ملکی خزانہ تنکا تنکا کرکے خون پسینہ کی کمائی کو جمع کرتے رہتے ہیں۔ ان کو استحصالی شکنجوں میں جکڑ کر ان کی اس طرح زبان بندی کر دی جاتی ہے کہ وہ اس عدل کش نظام کے خلاف لب کشائی بھی نہ کر سکیں۔ وہ اس گھر کے مالک ، وہ ملک کے وارث، وہ پاکستان کے خطہ کے محافظ، ان کے پاؤں ننگے، ان کے جسم ننگے، وہ علاج سے محروم ، وہ تعلیم سے محروم، وہ سڑکوں سے محروم، وہ پارکوں سے محروم، وہ ریسٹ ہاؤسوں سے محروم ۔ وہ ایم پی اے ، ایم این اے ہوسٹلوں سے محروم ۔ وہ وزیر اعلیٰ ہاؤسوںسے محرو م۔ وہ گورنر ہاؤسوں سے محروم ۔ وہ اسمبلی ہالوں سے محروم، وہ وزیر اعظم ہاؤس سے محروم ۔ وہ پریزیڈنسی سے محروم، وہ سپریم کورٹ ، ظالم، غاصب ۔ عدل کش، اور استحصالی شاہکار بلڈنگ سے محروم، وہ اعلیٰ ہائی کورٹ کی بلڈنگوں، اور ویٹنگ روموں سے محروم، وہ ان ججوں کے ریسٹ ہاؤسوں، اور محلوں سے محروم، وہ گاڑیوں سے محروم، وہ پٹرول سے محروم، وہ ٹیلی فونوں سے محروم ، وہ اعلیٰ مزین دفتروں اور رہا ئشوں سے محروم ۔ وہ ٹی اے سے محروم ، وہ ڈی اے سے محروم، وہ سرکاری ایکیڈ میوں سے محروم۔ وہ غیر ملکی دوروں سے محروم، وہ صحافیوں اور دوست و احباب کو امریکہ کے اعلیٰ ہوٹلوں میں دعوت دینے سے محروم ، وہ فیکٹریوں سے محروم ، وہ ملوں سے محروم ، وہ کارخانوں سے محروم ، وہ کاروبار سے محروم، وہ قرض لینے سے محروم ، و ہ سرے محل سے محروم، وہ رائے ونڈ ہاؤس سے محروم ، وہ عالیٰ شان بڑ ے بڑے شہروں میں ، ان کی لاتعداد کوٹھیوں، محل ، ماڑیو ں سے محروم، وہ ڈالروں سے محروم ، وہ بینک بیلنسوں سے محروم، وہ جائیدادوں سے محروم، وہ جاگیروں سے محروم، وہ اقتدار سے محروم۔ وہ قومی وسائل سے محروم، وہ ملکی خزانے سے محروم، وہ اس باطل تعلیم سے محروم، وہ اس کرپٹ افسری سے محروم،وہ اس بریف کیس مافیہ کی منصفی سے محروم، وہ غیر ملکی بینکوں میں رشوت ، کمیشن کے ڈالروں سے محروم۔ وہ بیرون ملک محلوں اور ملوں سے محروم، وہ آئی ایم ایف کے قرضے وصول کرنے سے محروم، وہ ان قرضوں کو ہضم کرنے سے محروم، وہ ملک کو گروی رکھنے کے خیال سے محروم۔آج سے ان کی محرومیوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔اس جابر، ظالم،استحصالی،غاصب،باطل نظام کو ختم کرنا اور ان تمام بے رحم غا صبوں اور رہزنوں سے ملک و ملت کا ایک ایک پائی واپس لینے کا گجر بج چکا ہے اور اس طیب فریضہ کو سر انجام دینا صد سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔ٹیکس کلچر یا کسی استحصا لی طریقہ کار سے نہ خون چو سنے دیا جائیگا اور نہ یہ درندے اس خون کو پی سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔ آمین۔وقت انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایسا نہ کر نا انکے لئے ایک خطرناک سانحہ ہو گا۔
۱۰۔ اے دور حاضر کی تعلیم و تربیت کے شاہکارو! اے طبقاتی انگلش میڈیم اداروں کے دانش ورو ! عالمو! فاضلو ! منتظمو ! قانون دانوں ! منصفو ! جاگیردارو! سرمایہ دارو! سیاست دانو ! حکمرانو! کچھ تو بولو ! تم انسانی شکل میں کون ہو ؟ گدھ ہو کہ کرگس ؟ بھیڑیئے ہویا درندے ؟ چلو یہ نہیںبتاتے تو کم ازکم یہ تو بتا دو کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اور کلمہ پڑھنے کے بعد اس غیر اسلامی غاصبانہ ، ظالمانہ، طرز حیات کو اپنانے کے بعد تم کیا کہلا سکتے ہو؟مسلمان، عیسائی، کافر، ہندو، بے دین، منافق، مشرک، یا یہودی؟ جواب عوام کو نہیں‘ ننانوے فی صد اہل پاکستان کو بھی نہیں‘ دنیائے عالم کو بھی نہیں ‘ صرف اپنے ضمیر کو دو ۔ اگر استغفار کا موقع ملے تو ہاتھ سے نہ جانے دینا۔ یہ گھڑی غنیمت جان لینا۔ جرنیل صاحب۔۔اس باطل نظام اور غاصب سسٹم کے حوالے ملت کو دوبارہ کر دینا ایک آخری جرم ہو گا۔آپ اور آپکے رفقا مل بیٹھیں،غور کریں،فکر کریں،اپنے مالک سے مدد طلب کریں۔راستہ مانگیں۔یہ حق اور سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ مانگنے والے کو نئی دنیا بھی عطا کرتے ہیں۔سائل بن کر تو دیکھو۔دینی جماعتوں اور ہم خیال لوگوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کریں۔مل کر فیصلہ کریں۔انشا اللہ وقت ساتھ دے گا۔ملت کا مستقبل روشن ہو گا۔
۱۱۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے میں کسی قسم کی کمی نہیں ۔ وہ بڑا رحیم اور رحمان ہے ۔ وہ توبہ قبول کرنے اور معاف کرنے پر قادر ہے ۔ ان میں سے بیشتر لوگ اس تفاوتی اور طبقاتی غیر اسلامی، غیر فطرتی عدل و انصاف کے منافی، اقدار اور نظام کو پسند نہیں کرتے لیکن مجبوراً رائج الوقت اور مسلط مغربی ضابطہ حیات اور طرز حیات کے سسٹم سے ان کو گزرنا پڑ رہا ہے ۔ وہ اس باطل ، غاصب ، نظام کے حصار میں مقید ہو چکے ہیں۔ یا اللہ ! ان کی بھی سن ۔ وہ کس عذاب کا شکار ہیں۔ ان کے خیال کو عمل کی توفیق عطا فرما۔ ان کو اس عذاب سے نجات عطا فرما۔ آمین!
۱۲۔ یا اللہ ! اس بے گناہ اور معصوم مخلوق کی بھی سن۔ ہمیں اس سسٹم اور طرز حیات سے نجات دلا ۔ یا اللہ تجھے تیری ہواؤں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیری فضاؤں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے سمندروں کا واسطہ، یااللہ تجھے تیرے صحراؤں کا واسطہ ۔ یا اللہ تجھے تیرے آسمانوں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے ستاروں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے شمس و قمر کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے پہاڑوں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے دل ربا ، سرسبز ، خوبصورت دلکش دامنوں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیری زمین کے تمام ذروں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے تمام علوم کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیری تمام ذی جان مخلوق کی حمد وثنا کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے اسمائے حسنیٰ کا واسطہ، یااللہ تجھے تیرے محبوب رحمت اللعالمین ﷺکی تمام رحمتوں کا واسطہ، یا اللہ تجھے تیرے نورا لسٰموت والارض کا واسطہ، یا اللہ تو اپنے محبوب کی محبوب امت پر رحم فرما ۔ یاا للہ ہمیں معاف فرما ۔ یا اللہ ہمیںدر گذر فرما ۔ یااللہ ہمیں سرفرازی عطا فرما۔ یااللہ ہمیں انسانیت کے لئے رحمتوں کا سایہ بنا۔ یااللہ ہمیں توفیق عطا فرما کہ تیری مخلوق کو ادب، اور سلامتی اور محبت دے سکیں ۔ آمین ثم آمین۔ یا اللہ ہمیں وہ علم ، وہ آداب، حاصل کرنے اور بجا لانیکی توفیق عطا فرما جو تجھے پسند ہیں۔یا اللہ ہمیں اس باطل،غاصب سسٹم اور نظام سے نجات عطا فرما۔آمین !

۱۳۔ جمہوریت کی یہ تمام اعلیٰ طرز کی مغربی درس گاہیں نفسانی خواہشات ، شہنشاہانہ اخراجات، انگریزی زبان کی حکمرانی، نفس پرستی، ہوس پرستی، زر پرستی، زن پرستی، حق تلفی، عیش و عشرت کی زندگی،شباب، شراب، بدکاری، بے حیائی، لوٹ کھسوٹ، انسانی حقوق اور اقدار کی پائمالی، ننگِ ذہن، ننگِدل، ننگِجسم، ان درس گاہوں کے فارغ ا لبال افسر شاہی ، منصف شاہی کا عملی نصاب بن چکا ہے۔یہی درس گاہیں ان کی تربیت اور کردار کا محور ہیں ۔ یہ جابر، ظالم ، انسانی حقوق اورا قدار کا استحصالی کریکٹر ان کی زندگیوں کا نصب العین بن چکا ہے۔ اور اسی میں ڈھلتے جا رہے ہیں ۔یا اللہ یہ بھی تیری ہی مخلوق ہے۔ان پر رحم فرما۔ان کو بھی اسلام کے نور سے پر نور فرما۔آمین!
۱۴۔ دوسری طرف اسلام کی تعلیمات حقوق اللہ ، اور حقوق العباد کی تربیت سے مخلوق خدا کا ادب، ان کے حقوق کا تحفظ ، ایثار و نثار کے طیب جذبوں کی تکمیل، خیر و شر میں تمیز، عدل وانصاف اوراعتدال کے پیکر، شرم و حیا کے محافظ، محبت و اد ب کے سالار، خلیفہ وقت اور ان کے اقتدار کے ساتھیوں کی سادہ سلیس، مختصر زندگی۔ ان کی ضروریات قلیل سے قلیل، ان کی خوراک سادہ، لباس سادہ، رہائش سادہ، حضور ﷺکے اصولوں کے وارث ، عوام الناس کے وسیع اختیارات ، تنقید اور اعمال کا محاسبہ قبول کرنے والے ، ہر کس و ناکس کو اس بات کا اختیار حاصل ہوتا ہے ۔اور یہ ان کا بنیادی حق سمجھا اور تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خلیفہ وقت سے ایک چادر سے کرتا بنانے کی پوچھ گچھ اور ان کا اصل حقائق سے آگاہ کرنے کا عمل، سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! رحمت اللعالمینﷺ کے نظام شریعت پر دل و جان قربان۔ اس دور میں کرپٹ ، غاصب ، سیاست دانوں، حکمرانوں، ملکی خزانہ لوٹنے والی کرپٹ افسر شاہی، اور رشوت میں ڈالروں سے بھرے بریف کیس، وصول کرنے والے ججوں کے بارے میں بات کرنا جرم، بلکہ توہین عدالت کے مجرم، اس ظالم ، جابر، مجرم نظام اور ان کے آٹے میں نمک کے برابر قارونوں، فرعونوں پر مشتمل حکمران طبقہ، اور ان کی افسر شاہی، ان کی منصف شاہی تاریخ کا بد ترین حصہ بن چکے ہیں۔ ان کی مغربی تربیت گاہوں، اور ان کے کالے علم کا المیہ اور ان کی سیاہ کاریاں اور انسانیت سوز دور اب آخری سانسوں پر موت کی آغو ش میں ہچکیاں لے رہا ہے ۔ اہل وطن، اہل دل ، اہل درد، اہل فکر ، اہل وجد ،اہل سرور،شب بیدار،اہل تصوف،اہل فقر ، اہل بصیرت، دیدہ وروں،عقل سلیم کے وارثوں،محب وطن جان نثاروں ملک میں اسلامائیزیشن کے نظام کے پر ستاروں، حکومت وقت کے فوجی سربراہ اور تمام ان کے رفقا کار کے لئے چند تجاویز برائے ملاحظہ اور برائے فور ی کاروائی پیش خدمت ہیں :
۱۔ قرآن پاک کے اردو ترجمہ کو مملکت پاکستان کی تعلیم کے نصاب کا بطور لازمی مضمون نافذ کیا جائے۔ قرآن پاک کے اردو ترجمہ سے ملت اسلامیہ کے فرزندان کو دین اور اس کی اقدار کی روشنی سے ان کے دلوں کو منور کیا جائے۔ عربی زبان میں اس الہامی مخفی خزانہ کو اپنی سرکاری اردو زبان میں سمجھا اورعمل میں لایا جائے ۔ یہ کتاب مقدس، عربی سمجھنے والے ملک کے چند ہاتھوں سے نکل کر پوری ملت کے قلوب کو روشنی عطا کرے گی اور پوری ملت کا کریکٹر و کردار، اس میں ڈھلتا چلا جائے گا ۔ عربی زبا ن پڑھنے اور سمجھنے میں بہتر مدد ملے گی۔ دانش و برہان کا فیض عام ہو گااور اپنی مادری اور قومی زبان میں قران پاک سمجھنے کا ہر کس و ناکس کو موقع فراہم ہو گا ۔ نماز شریف اور قرآن پاک کے معنی، دینی اقدار، دینی ضابطہ حیات اور اس کے اصل حقائق ،مخفی حقیقت،دین کا راستہ،حکمت اور دانائی کے خزانے،فطرت کے راز،معاشرے کی تشکیل و تکمیل کے آداب،پوری انسانیت کے حقوق، عبا دات،اخلاق،حقوق اللہ اور حقوق العباد،عدل وانصاف، اعتدال، مساوات، رشتوں کا تعین اور ان کا تقدس،زندگی کے ہر شعبہ پر محیط فلسفہ حیات کو سمجھنے سے اہل پاکستان کے دل ، د ماغ اور روح ،اسلام کی روشنی سے منور ہوں گے اور یہ شمع رسالت کی قندیلیں تیار ہوںگی۔ دنیائے عالم میں انسانیت کو اندھیروں سے نکالنے اور ان کی رہنمائی کرنے کے فرائض انجام دیں گی ۔ نماز کے الفاظ عقیدت سے ادا کرنے والے اس کی روح کی خوشبو ،اسکی لطافتوںاور اسکی حقیقتو ں سے مستفیض ہوں گے۔انکا لطف سجدہ بندہ اور خدا کے درمیان ا یک سنگم کا کام کرے گا۔
۲۔ طبقاتی مغربی تعلیم بڑی بڑی فیسوں پر مشتمل انگلش میڈیم اداروں، جمہوریت اور اس کے متعلقہ تعلیمی اکیڈمیوں، اداروں، اور اس پر مشتمل سلیبس ، اور نصاب کو فور ی طور پر منسوخ اور ختم کیا جائے ۔ افسر شاہی ، منصف شاہی اور جمہوریت کے سودائی انگریزی زبان کی برتری ختم ہونے سے اپنی عاقبت کی آغوش میں خود بخود پہنچ جائیں گے ۔ ان کی اجارہ داری ملک کے ہر شعبہ سے ختم ہو جائے گی ۔ اردو زبان ملک میں فوری رائج الوقت کی جائے ۔ اور سرکاری فرائض اسی زبان میں ادا کئے جائیں تاکہ عوام الناس دفتروں، عدالتوں، وکیلوں، اور انگریزی دانوں کی اجارہ داری سے بھی نجات پا سکیں۔ چودہ کروڑ اہل وطن انگریزی زبان کے سمجھنے اور سننے کی محرومی سے بچ جائیں گے۔ان کی سماعت اور گویائی اللہ تعا لیٰ کے فضل و کرم سے(۱۵۳) سال کے بعد بحال ہو جائے گی۔
۳۔ اردو ، پنجابی، سندھی ، پشتو، بلوچی، عربی، فارسی، اور انگریزی کے تمام مضامین کو بطور اختیاری مضمون،پڑھا اور سمجھا جائے۔ ان کا سلیبس اسلام کی نامور شخصیتوں کے کردار ، تعلیم اور ان کی دینی، سائنسی، اخلاقی ، روحانی، بے مثل و بے مثال زندگی کے گوشوں کو اجاگر کرنے اور اپنے ان اسلاف کے کردار کو روشناس کروانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے ممالک یعنی چائنا ، کے دانش وروں، روس کے کیمونزم، مغرب کی عیسائیت اور یہودیت کے معاشی نظام ہندووں کے مذہبی عقائید سے بھی آشنا کروایا جائے تاکہ وہ ان کے تقابلی جائزے سے دین کے عرفان اور عظمت کی پہچان کر سکیں ۔
۴۔ ملک کے تمام تعلیمی اداروں کا نصاب اور سلیبس ایک مقرر کیا جائے تا کہ طبقاتی تعلیمی نظام ملک سے ختم ہو سکے اور جاگیردار، سرمایہ دار، افسر شاہی، منصف شاہی، رشوت خوروں، کمیشن خوروں، بلیکیوںاور سمگلروں کی اجارہ داری ختم ہو اور عوام تعلیمی دہشت گردی سے نجات پا سکیں اور کالی کملی والےﷺ رحمت العالمینﷺ کی محبوب و مقبول ہستی کے نظامِ مساوات ، اعتدال اور عدل و انصاف کے درس کا اجرا ہو سکے اور ہر کس و ناکس اس سے استفادہ کر سکے۔
۵۔ سائنس اور زراعت کے جدید علوم کو ملک کی تعلیم کا بنیادی حصہ قرار دیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے نظام کو اپنی زبان میں پڑھنے ، سمجھنے اور عمل میں لانے کا موقع مہیا کیا جائے ۔ چائنا ، جاپان، فرانس، جرمنی ، روس اور ان تمام ریاستوں سے جو حال ہی میں روس نے آزاد کی ہیں ۔ روابط اور تعلق قریب سے قریب قائم کئے جائیں اور ان کی ٹیکنالوجی سے استفادہ اور افادیت حاصل کی جائے ۔ اس کے علاوہ مغرب کی ریسرچ سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔اخلاقیات اور کر دارکی تشکیل قرآنِ پاک کی روشنی میںکی جائے اورزرعی ،صنعتی ٹیکنالو جی دنیا کے کسی کونے سے میسر آئے‘ اسکو حاصل کرنا مسلما نوں کا فریضہ اولین ہے‘اس فرض کو ادا کرو۔
۶۔ انگریزی زبان چونکہ بین الاقوامی زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لئے اس سے عوام الناس کو آشنا کروانا مناسب ہوگا‘ لیکن اسکے لئے ضروری ہو گاکہ جو کورس اردو میں اسلامی مفکرین ، بزرگان دین، قرآنِ پاک کے ظاہر اور باطن کو سنوارنے والے دانش و برہان پر مشتمل مضامین، اسکے علاوہ دنیا کی تمام بڑی بڑی شخصیات کے بھی واقعات اور انکے کئے ہوئے کا رناموں کو جنکی وجہ سے انکے نام زندہ ہیں ، انکو بھی شامل نصاب ہر سطح پر درجہ وار مرتب کرنا بہتر ہو گا۔ اس کے مطابق انہی مضامین کی انگریزی ترجمہ پر مشتمل کتابیں ترتیب دے کر کورس کا حصہ بنایا جائے ۔ اس سے بچوں کو انگریزی سیکھنے میں کافی مدد و معاونت ملے گی اور اپنے اسلاف کے اوصاف سے آشنائی بھی حاصل ہو گی اور ان کا کردار انہی کی روشنی میں اجاگر اور مرتب ہو گا۔
۷۔ ملک میں جدید علوم کی روشنی میں سائنس دان ، انجینئرز‘ ڈاکٹرز‘ معاشیات اور اقتصادیات ‘زراعت کے ماہر ین حسب ضرورت پیدا کئے جائیں۔ حکمت کی تعلیم جدید بنیاد وں پر مروج کی جائے۔جڑی بو ٹیو ں سے استفادہ کرنے کی صد یو ں پرانی طرز کو جدید خطوط پر تعلیم کا حصہ بنایا جائے ۔ دیسی ادویات جو ہمارے مزاج اور علاج کا حصہ ہیں ۔ ان سے جدید خطوط پر استفادہ کرنے کا عمل جاری کیا جائے۔ اسلامی معاشی نظام کو ملک میں رائج کرکے سود کے لعنتی نظام کو خیر باد کر کے ملک کی تجارت کو فروغ دیا جائے۔زراعت کی فیلڈکوبھی ایمرجنسی بنیا دوں پر خاص توجہ اور ترقی دے کر کسانوں کو روشن خیالی اور جدید اوزار اور آلات سے آشنائی اور انکے استعمال سے آگاہ کرنا نہائت ضروری ہے۔ ملک میں خام مال زیادہ سے زیادہ پیدا کیا جائے۔ جدید ٹیکنا لو جی کو بروئے کار لایا جائے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا نہائت ضروری ہے کہ زراعت ہی ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہمارے ملک کی پیداوار جتنی بڑھے گی،خام مال جتنا زیادہ حاصل کیاجائیگا۔اتنے زیادہ کارخانے ‘ملیں‘فیکٹریاں ملک میںتعمیر ہونگی ۔ بیروز گاری دور ہو گی ۔عوام خو ش حال ہو نگے ۔سرکاری محکموںمیںرشوت،کرپشن اورلوٹ مارکی بجائے زراعت کے فیلڈ، فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں، گھریلو صنعتوں اور ذاتی کاروبار کو ذریعہ معاش بنائیںگے۔آنیوالی نسلیں محنت، ہمت، کوشش اور متواتر تگ و دو سے ملت کو خوشحال اور ترقی سے ہمکنارکریں گی۔
۸۔ ملک میں ہنر مندوں ، کارکنوں کی تربیت حسب ضرورت مناسب تناسب ا ور تعداد سے تیار کی جائے ۔ علم کو کتابوں سے نکال کر عمل میں لایا جائے ۔ اپنے اسلاف کے سبق کو پھر سے دہرایا جائے ۔ اپنی نامور شخصیتوں کو عزت دی جائے ۔ معاشی اور معاشرتی نظام کو ہر کس و ناکس کے لئے اسلام کے عدل و انصاف کے پیمانے کے تحت مہیا کیا جائے۔ یہ درست ہے کہ معاشرے کے تمام انسان ہاتھ کی انگلیوں کی طرح برابر نہیں ہوتے۔ انگلیوں میں انچوں کا فرق تو ہوتا ہے ۔ لیکن میلوں کا فرق نہیں ہوتا ۔ معاشرے میں اعتدال ، اور مساوات کے فطرتی اصولوں سے آبیاری کی جائے تا کہ استحصالی طبقہ پیدا ہونے کی گنجائش ہی نہ رہے ۔
۹۔ ملک کی تمام مساجد کو درس و تدریس کا درجہ دیا جائے ۔ کنونشن ہالوں ، تمام ریسٹ ہاؤسوں ، اسمبلی ہالوں، وزیر اعظم ہاؤس ، پریذیڈنسی ، سپریم کورٹ بلڈنگ اور ملک کی بڑ ی بڑی سرکاری بلڈنگوں کو یونیورسٹیوں‘ کالجوں اور تعلیمی اداروں میں تبدیل کیا جائے تاکہ ان املاک کا درست استعمال ہوسکے اور اس سرکار ی مشینر ی کے تمام اہلکارو ں اور ورکروں کوایک مسلمان کی طرح سادہ اورمناسب اخراجات مہیا کئے جائیں۔ تفا وتی نظام اور سرکاری خزانہ کی لوٹ کھسوٹ ختم کی جا ئے۔ملک میں انارکی ختم ہو جائے گی ۔نہ شاہی اخراجات ہونگے نہ ٹیکس کلچر کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ رشوت چلے گی اور نہ کرپشن کا دور جاری رہے گا۔ ملک میں ایماندار،دیانت دار اور عدل و انصاف پرمبنی معاشرہ تشکیل پائے گا۔ عشر اور زکوٰۃ سے ملک کا خوب نظام چلے گا۔ عوام سکھ کی نیند سوئیںگے۔ملک ترقی کرے گا۔سرکاری انتظامیہ جتنی مختصر اور سادہ ہو گی اتنی ہی مؤثر اورمضبوط ہو گی۔
۱۰ ۔ اساتذہ صاحبان کی عزت و تکریم اور معاشرے میں خاص مقام اور ادب سے نوازا جائے ۔ وہ ملک و ملت کے معمار اور نبی کریم ﷺ کے عمل کے وارث ہوتے ہیں ۔ ملت کو ان کے اس اعلیٰ مقام سے آشنائی کروائی جائے۔ ملک میں قران کی روشنی میں منصف تیار کئے جائیں ۔مساجد مسلمانوں کے اسمبلی ہال ہوتے ہیں اور وہ مساجد میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کے تحت فیصلے اورسزائیں دے کر معاشرے میں ا من قائم کر کے ملک کو ایک فلاحی ریا ست بنا سکیں ۔ جس پر انصاف کے متلاشیوں کو نہ وکیلوں کی فیس ، نہ نسل در نسل کیسوں کا ورثہ ، نہ انصاف کی عدالتوں کے باہر کیسوں کی سماعت کے لئے گرمیوں اور سردیوں میں مجرموں کی طرح صبح سے شام تک انتظار کرنا پڑے۔ چھوٹے بڑے طبقوں کی تمیز کئے بغیرحکم خداوندی کے فرمان کی اطاعت ، اور پابندی کی جائے ۔ مساجد ہی مسلمانوں کے اسمبلی ہا ؤ س ہیںجہاںپر بیٹھ کر مسلمان اپنے تمام اہم فیصلے کرتے ہیں۔
۱۱۔ ملک میں طبقاتی طریقہ تعلیم کاٍخاتمہ، عدل و انصاف ملک کے بڑے بڑے ایوانوں اور عدالتوں سے نکال کرمساجدکے صحن اور قرآن پاک کے اصول و ضوابط کی روشنی میں فیصلوں کا اطلاق معاشرے کو ہر قسم کی برائی سے دور کرنے کا ذریعہ نجات بنے گا۔ ملک کا یہ تمام انتظامی عدالتی بجٹ اور سرکاری خزانہ، ان تمام غیر ضروری اخراجات سے محفو ظ ہو جا ئیگا ۔ اور وہ ملک و ملت کے فلاحی اداروں، یعنی زراعت ،تعلیم، سائنس اور دوسرے اہم ضروری شعبوں میں جہاں کہیں ضرورت ہو گی ، استعمال کیا جائے گا یہی کثیر رقم دیہاتوں کی ضروری اور اہم بنیادی ضرورتوں، میں استعمال میں لا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے گا۔ عدلیہ سے منسلک طبقہ دوسرے اہم شعبوں میں آ ُپنے فرائض ادا کرے گا۔
۱۲۔ ملک کا بہت بڑا بجٹ ا ن انصاف کش مغربی طر ز کے عدالتی انتظامی نظام کے خاتمے سے محفوظ ہوگا ۔ اور انسانیت کے اس قیمتی اثاثہ سے ملک و ملت کی فلاح کی مشینری کے بہترین کارکن تیار ہوں گے ۔ ان کے ضمیر کا تقدس بحال ہو جا ئیگا۔ ان کے جسم اور روح کی،عدل وانصاف اورطیب رزق سے آبیاری ہوگی۔
خیر الامت کا اہم فریضہ بین الاقوامی سطح پر یہی لوگ سرانجام دے کر خیر کی دنیا کے علمبردار ہوں گے ۔ اس نظام سے جو کثیر اخراجات ختم ہوں گے ،تعلیمی اداروں کو بیس فی صد ی شہری آبادی سے نکال کر دیہاتوں میں قومی سطح پر تعلیم کو اجاگر کرنے اور پھیلانے کا عمل شروع ہو سکے گا۔ جہاں آنے والی نسلوں کو جدید علوم سے آراستہ کیا جائیگا ۔ زراعت کے جدید اصول و ضوابط اور اوزاروں کو استعمال کے طریقوں سے انکو آشنائی کروائی جائے گی ۔ وہاں دینی الہامی، قرآنی تعلیم کو بہتر طریقہ سے بروئے کار لا کر آنے والی نسلوں کو اخلاقی، روحانی تربیت بھی میسر ہوگی ۔ اس درس و تدریس کی بنیادی تربیت سے ملک میں انقلاب برپا ہو گا اور خود بخود ان کا اندر کا انسان زندہ ہو جائے گا۔
۱۳۔ حکومت وقت کے ارکان کی زندگی کسانوں، مزدوروں، اور عام ورکروں کے معیار زندگی کے مطابق ہو گی۔انصاف اور عدل سے ہر قسم کی برائی کا معاشرے سے خاتمہ ہو گا ۔ امیر غریب کے فرق کو مناسب اعتدال پر لایا جائے گا۔ ملک و ملت اپنے کھوئے ہوئے مقام اور وقار کو دوبارہ حاصل کرسکے گی ۔ اخلاق اور کردار دین کی روشنی میں سنوارہ جائیگا۔ مسلمان عدل و انصاف اور اعلیٰ صفات کی روشنی سے منور ہوں گے ۔ طبقاتی تعلیم ، طبقاتی افسر شاہی، طبقاتی منصفوں ‘ معاشی اور معاشرتی طبقاتی باطل اقدار پر پنپنے والے ، ان نا خداؤں کے عذاب سے ملک و ملت کو نجات ہو گی ۔ کلمہ شریف اورشریعت محمدی ﷺ کے اصول وضوابط کے تحت ملک کی شیرازہ بندی سے ہمیں وحدت ملت ، اور اتحاد بین المسلمین کی اجتماعی طاقت دنیائے عالم میں اجاگر کرنے کا موقع نصیب ہو گا
۱۴۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور درس و تدریس کا ایک نصاب قائم کیا جائے گا۔ ملت کے ان ہونہاروں کی ایک معیار پر مشتمل تعلیم سے ان کی آبیاری ہو گی ۔ اس طرح ملک میں تعلیمی عدل، اور تقدس بحال ہو گا ۔ ملک کے ہونہار طالب علموں کو انتظامیہ اور عدلیہ کے موجودہ ظالم اور باطل نظام کے مٹھی بھر ارکان تیار کرنے کی بجائے ملک کے تمام ہونہار طالب علموں کو جدید علوم کے ہر شعبہ زندگی میں اعلیٰ مقام حاصل ہو گا ۔ ملک میں نہ طبقاتی تعلیم ہو گی اور نہ کسی کی اجارہ داری ہو گی ۔ اور نہ ہی طبقاتی میرٹ لسٹیں سکولوں، کالجوں اور سرکاری ملازمتوں کے لئے الگ الگ تیار ہوں گی ۔ ایک فی صد طبقہ کی اجارہ داری ہر شعبہ میں ختم ہو گی۔ عدل و اعتدال ، مساوات اور انصاف ہر شعبہ میں قائم ہو گا ۔ خیر الامتﷺ کے کردار کی خوشبو انسانیت کے حقوق اور خدمت کے امین، ظاہر اور باطن کے آشناء حق اور سچ کے سپاہی تیار ہوں گے۔
۱۵۔ پانچویں کلاس تک بچے اور بچیوں کو اکٹھی تعلیم دی جائے گی ۔ اور اس تعلیم و تربیت کی اساتذہ پڑھی لکھی مستورات ہوں گی ۔ وہ ملک و ملت کے ان نونہالوں کو بنیادی تعلیم سے آراستہ کریں گی اور ملت کے اس اہم فریضہ کو ادا کرنے میں اپنا دینی، روحانی اور معاشرتی فریضہ ادا کریںگی۔ان سے بہتر اس درس و تدریس کے ابتدائی فرائض کوئی اور ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کی عزت و احترام کی شان ہر کسی پر نمایاں ہو گی ۔بچیوں کی تعلیم کی طرف پوری توجہ اور ان کی عزمتوں کو اسلام کی روشنی میں بحال کیا جائے گا۔بچے، بچیوںاورملک کی تمام مستو رات کے علاج معالجہ کا شعبہ اگرمستو رات کے سپرد ہی کر دیا جائے تو اسطرح ملک کی آدھی آبادی بڑے اعلیٰ معیاراور احسن طر یقہ سے تعلیم اور صحت کے اہم فر یضہ کو اداکرنے میںاپنا اہم رول اسلام کی حدود میں رہ کر ادا کر سکے گی۔ہماری زندگی کا قافلہ دین کی روشنی میں اپنا سفر جاری کر سکے گا۔
۱۶۔ جاگیرداری ، سرمایہ داری، افسر شاہی منصف شاہی کے طبقاتی اداروں اور مغربی طبقاتی تعلیم سے نجات اصل میں ان مغرب پرست غاصبوں سے عملی آزادی کی نوید ہو گی ۔ ملک میں ہر قسم کے کرپٹ ، باطل، فاسق، فاجر،ظالم ، نظام کا خاتمہ ہو گا ۔ نہ یہ کرپٹ افسر شاہی ہو گی اور نہ یہ ڈالروں سے بھرے رشوت خور منصف ہوں گے ۔ نہ یہ عدالتیں ہوں گی۔ اور نہ یہ ا ستحصالی نظام اور نہ ان کی عدالتوں کے باہر انصاف کی بھیک مانگنے والوں کا ہجوم ہو گا ۔ ملک ان دہشت گردوں، اور ان کے استحصالی نظام سے عوام نجات حاصل کر کے خدا کا شکر بجا لائیں گے ۔ یہ ملک و ملت کا قافلہ شان کبریائی کی عظمتوں کی منازل کی طرف رواں دواں ہو جائے گا۔
۱۷۔ دین کی روشنی میں ایک تعلیمی نصاب مقرر کرنے سے عدل و انصاف کو حاصل کرنے کے لئے ایک طویل عمر تک عدالتوں کے باہر مجرموں کی طرح صبح سے شام کھڑا ہونے کی اس اذیت اور زحمت سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل ہوگی ۔ سال ہا سال نہیں ، سال بھر بھی نہیں ، ایک ماہ تک بھی نہیں ۔ بلکہ آٹھ دن کے اندر اندر بڑے سے بڑے کیس کا فیصلہ ظالم اور مظلوم کو مطمئن کردے گا۔ انسانیت کی تذلیل کا درو ازہ بند ہوگا۔ چند ظالموں ، فاسقوں، اور استحصالیوں کو انصاف کی چتا میں پھینک کر ملک میں ا من و سکون بحال کیا جائے ۔ تو یہ کوئی مہنگا عمل یا سودا نہیں ۔ اس عمل سے ملک امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ کیسوں کی تعداد ملک میں سمٹ کر نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی ۔ اس عدل کش نظام اور ان کے پڑھے لکھے جابر، ظالم ، بے رحم ، دانش وروں کو آخری سلام۔


۱۸۔ قرآن پاک کی تعلیمات ، قرآن پاک کے اقوال، قرآن پاک کے اصول ، قرآن پاک کے ضوابط، قرآن پاک کی معاشرتی اقدار۔ قرآن پاک کے عطا کردہ رشتوں کے تقدس کا علم، قرآن پاک کی ذہنی، جسمانی اور روحانی تربیت کا نظام، قرآن پاک کے عطا کردہ انسانی حقوق اور انکی ادائیگی، انسانیت کا ضابطہ آداب، اورانکا تحفظ، قرآن پاک کا قانون اخلاق و کردار، قرآن پاک کا طریقہ عدل و انصاف، قرآن پاک کے عفو، درگذر کے منور چراغ، قرآن پاک کا صبر و تحمل کا بے مثال روشن باب، قرآن پاک کا تدبیر و تقدیر کا فلسفہ حیات، قرآن پاک کا تقویٰ و طہارت کا درس عظیم، قرآن پاک کی امانت و دیانت کی سلیقہ شعاری کا علم، قرآن پاک میں توحید پرستی کے اسباق، قرآن پاک میں رب العالمین کے انکشافات، قرآن پاک میں رحمت اللعالمین ﷺ کے مرتبہ کی پہچان، قرآن پاک میں عبادت و ریاضت کے طریقہ کار کا انکشاف، قرآن پاک کا دستور مقدس، پوری انسانیت کی وراثت ہے ۔ جس فرد، قوم، اقوام نے کتاب مبین کا مطالعہ کیا ہے اور اس کے اصول و ضوابط کو اپنی زندگی میں نافذ العمل کیا ۔ وہ لوگ ، وہ قومیں، وہ ممالک، ان آفاقی اصول و ضوابط، کے پودوں ، درختوں، شاخوں، پتوں، پھولوں، خوشبوؤں کے انہوںنے ظاہری لطائف سے استفادہ بھی حاصل کیا ۔اورانکے پھلوںسے خوراک اورلذ ت کے مزے بھی لوٹے اور اقوام عا لم میں اعلیٰ مقام بھی حاصل کیا۔اسلام ایک آفاقی دین ہے ۔ یہ حکمت ، دانائی کا صحیفہ اورانسان ، حیوان، درند، چرند، پرند، زمینوں، آسمانوں، پہاڑوں، دریاؤں، سمندروں ، بادلوں، بارشوں ، موسموں ، ہواؤں، فضاؤں، ذرہ کے دل سے لے کر پتھر کے اندر چھپے ہوئے کیڑے کی خوراک تک کے علوم اور راز سے آشنائی حاصل کرواتا ہے ۔وہ ظاہری اورباطنی تربیت کے علوم سے انسانیت کو آگاہی عطا کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرنے کا راستہ بھی بتاتا ہے ۔ اس کائنات کے ورق ورق کے مطالعہ کی تلقین بھی کرتا ہے ۔
ربِدو جہان نے جہاں مسلمانوں کو اپنے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت میں پیدا کیا ‘وہاں انہیں قرآن پاک جیسی الہامی کتاب، کتابِ مقدس بھی عطا کی ‘ جس میں ہر قسم کی ازل سے ابد تک رہنمائی کے روشن اسباق اور دلیلیں مو جود ہیں۔اس کا بتایا ہوا راستہ انسانیت کی فلاح اور کامیابی کا راستہ ہے۔
مغربی اقوام آج سے پانچ سات سو سال پہلے اسی طرح انحطاط کا بری طرح شکار تھیں۔ مسلمانوں کے اقتدار کا دور تھا۔ مسلمانوں نے عیش و عشرت کی زندگی کو اپنانا شروع کر دیا۔ اسلامی تعلیمات اور اس کے مطابق عملی زندگی سے روگردانی شروع کر دی۔ زندگی میں عدل و انصاف ، محنت و جہد، سادگی وشرافت، پاکیزگی و طیبّ ، صبر و تحمل، ایثار و نثار، عبادت و ریاضت اور من جملہ دینی اقدار سے یکے بعد دیگرے انحراف کے مرتکب ہوتے گئے۔ قیصر و کسریٰ کے باطل نظام حکومت میں ڈھلتے گئے ۔ صاحبِ ثروت اورحکمران طبقہ اسلام سے عملی دوری اختیار کر تا گیا۔ عوام الناس بھی اسی عمل میں ملوث اور مستغر ق ہو تے گئے اور یوں ملت اسلامیہ گمراہی اور تباہی کے سمندر میں غرق ہوتی چلی گئی۔کریکٹر و کردار کی کمزوری انکی تذلیل، تباہی، رسوائی، بربادی، جہالت، نفاق، نفرت اور طرح طر ح کی بیماریوں میں مبتلا ہو کرذلت کی پستیوں کا شکار ہوتی گئی۔
مغربی اقوام نے مسلمانوں کے عروج و زوال کے واقعا ت کو سمجھا اور پرکھا اور ان سے وہ خوبیاں جو کسی بھی ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ د کھا سکتی ہیں، وہ علم، وہ عدل، وہ محنت، وہ عمل، وہ راستے اور وہ رشد و ہدایت کے طریقے ان سے سیکھ لئے ۔ انہوں نے اپنی اقوام کی تربیت ان اصولوں ، ضابطوں کی روشنی میں کرنی شروع کر دی اور انہوں نے عمل کے جوہر سے نئی نئی ایجادات کے معجزے مخلوق خدا کو دکھائے ۔ حکمت و ہنر کی قندیلوں کا ہجوم انہوں نے اپنے گرد اکھٹا کر لیا۔ یہ قومیں دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صورت میں پوری دنیا میں ابھریں۔ ان اعمال کے نتائج کے ذریعہ مغربی اقوام مسلمانوں پر غالب آنا شروع ہو گئیں۔ جو آج تک یہ ملت زندگی کے ہر شعبہ میں کمزور اور ذلت و خواری سے دوچار ہوتی گئی۔ا پنے اسلاف کے اخلا ق و کردار کو چھوڑنے کی سزا میں مبتلا ہو گئی۔
آ ج بھی وہ راستے،وہ اصول،وہ ضوابط،وہ قانون،وہ اخلاق، وہ دیانت،وہ امانت،وہ ادب،وہ خلوص،وہ پیار، وہ اخوت، وہ ایثار،وہ سادگی،وہ شرافت،وہ کردار،وہ ہمت ،وہ عفو،وہ درگذر، وہ جوانمردی،وہ آقاﷺ کا پیدل چلنا،وہ غلام کا سوار ہونا،وہ عدل ،وہ انصاف،وہ اعتدال،و ہ مساوات،وہ عاجزی،وہ مسکینوں میں مسکین بھی اور شاہوں میں سلطان زمانہ بھی،وہ نور کے راستے،وہ انوار کی برساتیں ، وہ حضورﷺ کی آغوش وہ رحمت دو جہاں کے تمام اسوہ حسنہ بڑی بیتابی،اضطراب،بیقراری، اور شدت سے امت مسلمہ کو پکارتے اور غفلت کی نیند سے بیدار کرتے چلے آرہے ہیں۔اٹھو!گمراہی اور زوال کے اندھیروں سے نکلو۔اسلام کا رشد و ہدایت کا راستہ اختیار کرو اور فطرت کی نگہبانی اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے فرائض بجا لاؤ۔
اقوام متحدہ کے تمام ملکوں کی تعداد تقریباً ۱۸۷ ہے ۔ جن میں ۵۶ ممالک میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ ان ۵۶ ممالک میں سے ایک ملک یعنی پاکستان، اسلام کے نام پر چودہ اگست ۱۹۴۷ ء کو معرض وجود میں آیا ۔ مسلمانوں نے جانی، مالی، بدنی، اذیتوں، مصیبتوںِ تکلیفوں، شہادتوںِ کی ایک عظیم انمول، قربانیوں، کے عوض دین کے نام پر یہ خطہ ارض حاصل کیا ۔ پاکستان دو قومی نظریات کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ۔ امت مسلمہ کا یہ بنیادی منشور تھا کہ چونکہ مسلمان اور ہندو مذاہب ،نظریات اور عقیدے میں ایک واضح فرق رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ دونوں قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ کیونکہ مسلمان اپنے مذہب ، اپنے دین، قرآن پاک اور شریعت محمدی ﷺ کے اصول وضوابط کے تحت اپنی زندگیوں کو گزارنا چاہتے تھے ۔ مسلمانوں نے یہ ملک یعنی پاکستان اسلام کے نام پر حاصل تو کر لیا لیکن بد قسمتی سے آج تک اس ملک میں اسلام کا دستور مقدس نافذ العمل نہ ہو سکا۔حالانکہ یہ ملک جمہوریت کے تحت دو قومی نظریہ کی بنیاد پرمسلما نو ںنے دستور مقدس کے نفاذ اور اس کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کیلئے حاصل کیا تھا۔لیکن یہ بد نصیب، غاصب سیا ست دان اس نظام کے نفاذ سے گریز کرتے چلے آ رہے ہیں۔اور مغرب کی تعلیم و تربیت کو طبقاتی اصولوں کے تحت قائم کر کے ملک کے حکومتی نظا م پرقا بض ہو تے چلے آ رہے ہیں۔اس استحصا لی تعلیمی نظام کو فوری طور پر ختم کر نا حالات کی مجبوری بن چکی ہے۔ ملک میں ایک تعلیمی نظام کا نفاذ اس سسٹم کی اجا ر ہ داری ختم کرنے کا ایک واحد ذریعہ ہے۔
قائد اعظمؒ کی زندگی نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ وہ ۱۹۴۸ کواس جہان فانی سے ملت کے بے شمار گھناؤنے زخم اپنے سینے میں لے کر رخصت ہو گئے ۔ ملک کی باگ ڈور سرمایہ دار، جاگیردار طبقوں کے ہاتھوں میں آ گئی ۔ جنہوں نے ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی میں اہل وطن سے غداری کر کے انگریزوں سے اس کے عوض جاگیریں اور وظیفے حاصل کئے ۔ انگریزوں کے دور حکومت میں ملک میں ان کی بالا دستی پہلے ہی قائم تھی۔ انگریز انہی کے ذریعہ عوام الناس کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھا۔ کچہریوں ، تھانوں اور جیلوں کے صعوبت خانوں میں بے پناہ اذیتوں سے دوچار کرنا۔ انہی کے ذریعے عمل میں لایا جاتا ۔ انگریز ملک کو چھوڑ کر خود تو چلے گئے ۔ لیکن وہ غاصب، جابر، ظالم، نائب و مصاحب جاگیرداروں، اور سرمایہ داروں کو اپنا اقتدار ،منتقل کر گئے جو عذاب الہٰی بن کر ملک پر مسلط ہو گئے۔انہو ں نے مسلما نوں سے دین اور دنیا دونوں غاصبانہ طریقہ سے چھین لیں۔افسر شاہی اور منصف شاہی کواس مشن کی تکمیل کے لئے بروئے کار لائے۔
انہوں نے جمہوریت کے نظام کو اپنے رنگ ، سسٹم اور اپنے من پسند کے رہزنی پر مشتمل اصو ل و ضوابط کو اپنی حکومت کے روپ میں ڈھال لیا اور انگریزوں کے مکمل غا صبا نہ طرز عمل کو جوں کا توں جاری رکھا اور انہوں نے جمہوریت کے نام پر عوام الناس پر ظلم، زیادتی اور معاشی استحصالی نظام کے شکنجے بری طرح کس دیئے۔ جو انگریز بھی نہ کرسکا ۔ وہ انہوںنے کر دکھایا۔ ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کی مغربی بنیادوں پر تربیت کی ۔ قوانین، ضوابط اس طرح مرتب کئے کہ ہر جرم کا تحفظ ان صاحب اقتدار اور شاہی طبقہ کو میسر رہااور اس کے بر عکس چودہ کروڑ عوام کو انہی قوانین نے کچل اور مسل کر رکھ د یا۔ ا فسر شاہی اور منصف شاہی ان تمام اہل اقتدار کے ہا تھوں میں کھلونا بنی رہی ۔ ہر دور حکومت میں انتظامیہ نے حکمرانوں سے مل کر اہل وطن پر ظلم ڈھائے اور منصفوں نے ہر دور میں ضمیر فروشی کر کے جائز نا جائز حکومتوں کا سا تھ دیا۔کمال یہ ہے کہ ان حکمرانوں ، سیاست دانوں، افسر شاہی اور منصف شاہی نے مل کر ملک کے قوانین و ضوابط از خود اپنی مرضی کے ایسے مرتب کئے ‘جہاں ہر جرم ان کے لئے قا نون بنا رہا۔اس طرح انہوں نے اعتدال، مساوات، انصاف، عدل، اور ایمان داری، کی اقدار کو چن چن کر ختم کیا ۔ یہ حکمران ٹولہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورے کو عملی شکل دیتے چلے آئے ۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے دونوں ونگوں میں اپنی بدکرداری اور لوٹ کھسوٹ کے عمل سے نفرت کا بیج بویا اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی خوب آگ بھڑکائی۔ عوام الناس اور فوج کو اس آگ کی چتا میں جھونک دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں حصے الگ ہو گئے ۔ نوے ہزار پاکستانی فوج ، کو مکتی باہنی اور ہندوستان کی فوج کے سامنے ذلیل ترین طریقے سے ہتھیار پھینکنے کا حکم دے دیا گیا۔ ان بد نصیب حکمرانوں ، افسر شاہی، اور منصف شاہی نے اس عظیم المیہ سے کوئی سبق نہ سیکھا۔ ادھر تم ادھر ہم کے خوب نعرے لگائے ۔بد نصیبو! گمراہ سیاست دانوں، اور اس نظام کے کل پرزو ! افسرو اور منصفو ! بتا ؤ! تو تم کہاں تک آگے بڑھتے جاؤ گے۔ تمہارے دل میں انسان کا دل نہیں کوئی سل پڑی ہوئی ہے۔ تم تو اقتدار اور دولت کے نشے میں خون خوار بھیڑیئے اور درندے بن چکے ہو ۔ تمہاری خوفناک اور عبرت ناک عا قبت تمہیںچیخ چیخ کر پکار رہی ہے کہ اب بھی وقت ہے بچ جاؤ۔دین کی تعلیمات کی دوری سے یہ انسان حیوان ناطق بن کر رہ گئے۔ ان تمام سیاسی اکیڈمیوں، درسگاہوں اور اداروں کو مسمار کر دو جو اس با طل نظام کی پرورش کا ذریعہ ہیں۔اسلامی تعلیمات سے ملت کا اسلامی تشخص قائم کرو۔ملک دین کے اصول و ضوابط کے حوالے کرو۔کردار کی شمع روشن کرو۔عمل کے معجزات کی خون جگر سے نمود کرو۔انشا اللہ خیر الامت تیار ہو گی۔
اے غاصب نسل کے حکمرانو!سیاستدانو!جاگیردارو!سرمایہ دارو، افسر شا ہی اور منصف شاہی پر مشتمل وحشیو ! ملک میں لاقانونیت اور بربریت کی چتا تم نے پھر جلا رکھی تھی ۔ ملکی تمام وسائل ، تمام سرمایہ، تمام خزانہ، غیر ملکی قرضے، آئی ایم ایف کے قرضے‘ اے دہشت گرد محافظو اور امینو! تم نے اپنی بڑی بڑی تنخواہوں، بے شمار بڑی بڑی سرکاری سہولتوں ، مراعات کے ذریعے آپس میں تقسیم کر ر کھے تھے ۔ تمام ملکی اور غیر ملکی قرضے تم نے رشوت کمیشن کے مروجہ طریقوں سے ہضم کرنے کا عمل جاری کر رکھا تھا۔ ممبروں، مشیروں، وزیروں، افسر شاہی، منصف شاہی کی تعداد دن بدن بڑھاتے جا رہے تھے ۔ بدنصیبی کی انتہایہ تھی کہ غریب بے یارومددگار نچلے درجے کے سر کاری ملازمین کو فارغ کرکے ڈاؤن سائزنگ کا نظام قائم کر رکھا تھا۔ پچھلے دس پندرہ سال سے سرکاری ملازمتیں غریب عوام کے لئے بند تھیں ۔ لیکن وزیروں، مشیروں، ممبروں، افسر شاہی، منصفوں، اور ان کے من پسند، کے صحافیوں، دوستوں، یاروں، ان پڑھ اور جاہل طبقہ کے سفاکوں کو احتساب اورسرکاری عہدے اور آسامیوں کی تعداد کو بڑھاتے رہے ۔ ان کی اضافی پوسٹیں برابر بڑھتی چلی گئیں ۔ اپنے دوست احباب کو نوازتے رہے اور ملکی خزانہ مال غنیمت کی طرح لوٹتے چلے گئے ۔خدا کی گرفت تم پر لازم ہو چکی تھی۔ چودہ کروڑ عوام کی محنت،مشقت کا خون تم نے ٹیکسوں اور مہنگائی کی سرنجوں سے چوس لیا۔بے رحم درندوں کی طرح یہ تمام خون عیش و عشرت اور عیاشی کے گھونٹ بنا کر پیتے رہے ۔اس گھناؤ نے سسٹم نے تمہاری عادات و خصلات بگا ڑیں ہیں تو اس کی اصلاح کیلئے بھی تیار رہو۔ فطرت کا احتساب کا عمل جاری ہے۔خیر کی خبران سب تک پہنچنے والی ہے۔تعلیمی دہشت گردی اوراس کے تیار کردہ رہزن اپنا بھیانک دور ختم کر چکے ہیں۔
ایک طرف تو ۷۰فی صد کسانوںاور ۲۹ فی صد مزدوروں، محنت کشوں، ہنرمندوں کے پاؤں میں جوتا میسر نہ تھا ۔ ان کے بچے کتابوں کے اخراجات تو کجا‘ وہ تو معمولی سی فیس ادا کرنے کے قابل نہ تھے۔ ان کے پاس نہ کوئی سکول اور نہ ہی کالج ،نہ ان کے پاس کوئی ٹیکنیکل کالج نہ یونیورسٹی، نہ کوئی ڈسپنسری نہ کوئی ہسپتال، نہ کوئی بڑے بڑے کاروبار، نہ بیرون ممالک تجارت، نہ فیکٹری، نہ کارخانہ، نہ بیماری کے لئے پیسے ‘نہ ہی شہر کا کرایہ ‘ نہ صحراؤں میں پینے کے لئے جانوروں کے لئے پانی اور نہ ہی انسانوں کے لئے خوراک، نہ چولستان میں کوئی اخبار نہ کوئی اخبار نویس ، بھوک اور پیاس میں نڈھال انسانوں، حیوانوں کی اذیتوں کا نہ کوئی شمار اور نہ ہی کوئی آشنا۔ بیشتر اخبار نویسوں کا کام تو صرف بلیک میلنگ تک ہی محدود ہوتا ہے۔ وہ تو ایسے غلط عناصر کو ڈھونڈھنے میں ہمیشہ مصروف رہتے ہیں اور اپنے شکار کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سرکاری افسروں اور حکومتوں کو بلیک میل کرنے اور بھاری بھتے لینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ صحا فت کے پا کیز ہ اور طیب پیشہ کو سیا ستدا نوں کیطرح دہشت گردی اور لوٹ کھسوٹ کا ذ ریعہ بنا رکھا ہے ۔کہا ں سے جناب مولا نا ظفر علی اور جناب حمید نظا می صاحب کو پکا روں۔آوازیں دوں ۔ ملت کی اذیتوں، آ ہو ں اور آنسوؤں کی فر یاد کو ان تک پہنچاؤں‘ جو اس باطل کدے کے ایوانوں میں کڑکتی، کوندتی بجلی بن کر گریں اور انکو خاکستر کردیں۔او صحا فت کے دہشت گردو،رہزنو،بلیک میلرو۔ تم تو اس کے تقدس کو پا مال کرتے جا رہے ہو ۔ اہل دل، اہل درد، اہل بصیرت ،اہل قلم اور طیب فطرت صحافیوں سے ملتجی ہو ں کہ وہ آ گے بڑ ھیں اور اس طیب فریضہ کو ا دا کریں ورنہ یہ لوگ تو وزیر اعظم کے ساتھ سرکاری اخراجات پر بڑے بڑ ے امریکی ہوٹلوں میں ہنی مون منانے اور عیش و عشرت اور مغربی آسودگی ، آزادی اور وہاں کے کلچر اور ماحول سے آشنائی پیدا کرنے اور لطف اٹھانے کے لئے آتے جاتے رہیں گے یہ صحافی اور ان کے سیاسی ساتھی، حکمران، افسر شاہی،اور غاصب ورکروں میں بیشتر تو وہاں کاروبار سیٹ کرنے یا بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے یا اپنی ملکیتوں کی دیکھ بھا ل کیلئے جاتے ہیں۔ ملک و ملت کے یہ تمام خا دم اور غمگسار ، وہ تمام دولت اور سرمایہ ان عیاشیوں پر خرچ کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ صحراؤں میں پڑے ہوئے بیماروں کو علاج یا دوا مہیا کرنا یا انکی تیمارداری کرناکب ضروری سمجھتے ہیں ۔ان کی شفا اور علاج توصرف موت اور عزرائیل ہے۔ اے دیدہ ورو ! اے قلم کی امانت کے امینو! اے دہشت گردو ں کے گروہوں کے اعلیٰ صحافیو! اے جمہوریت کے پجاریو! اے قلم کی عصمت اور عفت بیچنے والے ملک دشمنو! تم کچھ تو بولو کہ ۹۹ فی صد کسان ، مزدوروں کے پیدا کردہ وسائل،خام مال، سرمایہ، ان گنت بلوں، غریبو ں ،مسکینوں ، یتیم، بیوہ،اپاہج، بو ڑھوں پنشنروں، بے روزگاروں کا منی بجٹو ں کے اضا فوں سے چو سا ہوا خون،عوام ا لناس سے بجلی، سوئی گیس، پانی، ٹیلیفون، مکا نوں پر پراپرٹی ٹیکس ، یعنی دو ہزار سے پا نچ ہزار کا ہر غریب اور سفید پوش شہری کو ان ظالم حکمرانوں نے گو رنمنٹ کا ہر ماہ کا کرائے دار بنا ر کھا ہے ۔ بے رحم غاصبو۔کبھی تم نے ان سے پوچھا ہے ۔کہ انکے پاس کچھ کھانے کو بھی ہے یا نہیں؟
بد نصیبو! تم نے ٹیکسوں کا کلچر مغرب سے تو سیکھ لیا،لیکن تمہیں انکی انسا نیت دوستی نظر نہ آئی۔وہ تو ان ٹیکسو ں کے عوض ہر بیروزگار کو مناسب اخراجات مہیا کرتے ہیں۔بیماروں کا علاج معالجہ سرکاری طور پر ہو تا ہے۔تم تو یہ تمام ملکی وسا ئل، ، ملکی خزانہ،یہ تمام بلو ں اور ٹیکسوں سے اکٹھی کی ہوئی دو لت ڈاکو ؤں اور دہشت گردوں کی طرح عوام سے لوٹتے ہو اور غنڈ وں ،لٹیروں کیطرح آپس میں تقسیم کر لیتے ہو ۔ معاشی بے رحم قاتلو! ابھی تم اس نظا م کو مزید چلانا چاہتے ہو۔شرم کرو منافقو۔ اب مزید قوم کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔اب تو تمہارے کڑے حساب کا وقت شروع ہو چکا ہے۔پوری ملت کی خون پسینے اور محنت سے کمائی ہو ئی دولت کو لوٹنے کا حق تمہیں کس نے دیا ہے۔ تم سب تو ان عظیم ۹۹ فی صد کسانوں ،مزدوروں ،ہنر مندوں اور اس غریب عوام کے خادم، نوکر ،ملازم، اور انکے حکم کے قانونی پابند ہو! اپنی حیثیت کو پہچانو اس عوامی اژدھا سے بچ جاؤ یہ نہ تم کو چھوڑے گا اور نہ تمہاری شہروں اور ملکوں میں پھیلی ہوئی،ملوں،کارخا نوں، فیکٹریوں‘ کوٹھیوں، سر ے محلو ں،رائے ونڈ ہاؤ سوں، جاگیروں، قریہ، قریہ ،بستی، بستی، شہر، شہر ملک ملک،پھیلے ہوئے کاروباروں، جاگیروں،کارخانوں، ملوں، فیکٹریوں، بینکوںمیںڈالروں، گاڑیوں، جہازوں اور تمام غیر قانونی لو ٹی ہو ئی دولت کو چھوڑے گا۔اس عوامی اژدھا سے جان بچانے کا راستہ ڈھونڈو۔تمہارا اور تمہارے استحصا لی نظام کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ اس سے فرار اور نجات کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔ زمانہ کروٹ لے چکا ہے ۔ آئی ایم ایف کے ایجنٹو۔تم نے تمام قرضے وصول کئے۔انہی کے بنکوں میں جمع کروا کر واپس وہیں مغرب میں لے گئے۔اگر ان کو قرضے لینے کی ضرورت ہوئی تو وہ تمہیں بھی واپس کریں گے اور تمہارا لوٹا ہوا مال غنیمت بھی اور وہ تمام کارخانے ،کا رو باراور اثاثے بھی جو دوسروں کے نام پر بنا رکھے ہیں۔ تم ملک اور عوام کو گروی رکھنے اور بیچنے کے لئے کو شاں ہو۔پہلے اپنی جاگیروں ،جائیدادوں اور تمام سرمائے کو سرکاری خزانہ میں جمع کراؤ تا کہ وہ قرضے ادا ہوسکیں۔ تمہارے ظلم کا وقت ختم ہو چکا ہے۔نہ تم بچ سکو گے نہ تمہارا مال و اسباب۔تمہیں ابھی بھی اٹکھلیاں سوجھی ہیں۔
ملت کو تنظیم نو کے احکام مل چکے ہیں، ملت کو اس کی کھوئی ہوئی میراث کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ وہ علم ،وہ عدل، وہ محنت ، وہ عبادت، وہ ریاضت، وہ صبر و تحمل ، و ہ ایثار و نثار، وہ دینی اقدار، وہ مہر و محبت، وہ اخوت و برداشت، وہ حکمت و ہنر، وہ عمل کے آفتاب کی تما م کرنیں وہ محبوب خدا کے اعمال کی دھیمی دھیمی خوشبوئیں ،وہ رحمت اللعالمین ﷺکے نور کی معطر فضاؤںکو اپنانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ وہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لئے صدیاں نہیں ، سالوں میں بحال کرنا چاہتی ہے۔ وہ دیدہ ور ہو چکی ہے ۔ نئی نسل تم سے تمام حساب چکانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ طبقاتی تعلیمی نظا م، شاہی انگلش میڈیم اداروں ، تربیتی اکیڈمیوں اور ان کے تیار کردہ افسر شاہی،منصف شاہی کے شاہکاروں ، پالیسی میکروں،دانشوروں،معاشی اور معاشرتی رہزنوں اور دہشت گردوں اور تمہارے غا صب سسٹم سے نجات حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس نے تمہارے تمام کچے پکے راگ سن لئے ہیں۔اوراب ان کا بھی دیپک راگ سنو ۔ تمہارے تمام استحصالی اور غاصب شکنجوں کو پاش پاش کرنے کی تو فیق اور طاقت بار گاہ الہی سے حاصل کر چکی ہے ۔ تمہاری باطل اکیڈمیاں ، تمہا رے غاصب پبلک سروس کمیشن کے ادارے،تمہا را طبقا تی تعلیمی نظا م اب خود سوزی کی آگ میں جل رہا ہے۔اس کے ختم ہوتے ہی نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بے سری بانسری، اس سے ملک وملت کو کیا فائدہ ہو گا وہ کسی سے چھپا نہیں۔ظا لم ، رشوت خور، کمیشن خور،جابر، زانی شرابی،شاہی اخراجات کے دلدادہ، بے رحم،سفاک اورخود غرض درندے،انسانی شکل میں معاشی بھیڑ ئیے، انصاف کش دہشت گرد،منتظمین کی شکل میںسرکاری غنڈے،ملک کے خزانے کو چاٹنے والی دیمک ،ملک کو مقروض کرنے والے شاہ خرچئے،ان باطل شعبوں کے دانشور،دانا،عقلمند،ذہین،فطین، ان اکیڈ میوں کے شاہکاروں سے نجات مل جا ئیگی۔ملک بے شمار سرکاری گاڑیوں کے اخراجات سے بچ جائیگا پٹرول کے اخرا جات نہ ہو نے کے برابر ہونگے۔ نہ شاہی محلوںپر مشتمل انکی سرکاری رہائشیں ہو نگی اور نہ سرکاری نو کروں کا ہجوم ہو گا۔ نہ تفا و تی بڑی بڑی تنخواہوں کے ڈا کے پڑینگے ۔ نہ ملکی غیر ملکی تربیتی کورسو ں کے اخراجات۔نہ یہ ملک کا مٹھی بھر سیا ستدان طبقہ حکمران بنے گا نہ انکی اولادیں افسر شاہی، نوکر شاہی اور منصف شاہی سے سرکاری خزانہ، تمام ملکی وسائل اور غیر ملکی قرضے لو ٹ سکیں گے۔ان کا صحیح معنوں میں احتسا ب ہو گا۔ ماموں ،بھانجے چودہ کروڑ عوام کے غیض و غضب سے اب بچ نہیں سکتے۔ سیا ست اور سیاستدانو ں کا نام لینا اب پوری ملت کیلئے ایک گالی بن چکا ہے۔
وقت کے حکمرانو! اس پکار کو سنو اور غور کرو۔ملت بہت سی توقعات اور امیدیں آپ سے وابسطہ کئے بیٹھی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے اقتدار کے ساتھیوں کو ملک و ملت کا یہ اہم فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرماویں اورملک میں دستور مقدس کا نفاذعمل میں لائیں۔پوری دنیائے اسلا م کی نگاہیں پا کستان کی قیادت پر لگی ہو ئی ہیں۔ آپکے اقتدار کا سورج بارہ اکتوبر ۱۹۹۹ کو طلوع ہوا۔وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے،دوپہر ہو چکی ہے،وقت کو تھام سکتے ہو تو تھام لو‘ احتساب کا عمل اپنی ذات سے شروع کرو۔ اس سعادت کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ لو۔زندگی شمع کی صورت گزارو۔دنیا چھوڑنے سے پہلے اس شہزادی کو طلاق دیدو ۔ دنیا کی کوئی شے دل یا روح کے ا ندرداخل نہیں ہو سکتی،صرف اسکا احساس ہی اندر جاتاہے۔اس د ھوپ چھاؤںکے احساس سے ذرا بے نیاز ہو کر تو دیکھو۔اس با طنی علم کے طالب خیر کا عمل کرنے میں دیر نہیں کیا کرتے ۔ایسا نہ ہو کہ وقت کی ظالم آ غوش میں تمہارا اقتدار موت کی ہچکیاں اور سسکیاں لیتے ہو ئے دوسرے حکمرانوں کی طرح دم توڑ جائے۔خدا آپکا حا می و مدد گار ہو۔خدا کی راہ میں مرنا اور بے دین موت مرنے میں بڑا فرق ہے اللہ تعالٰٰٰٰٰٰٰٰی آ پکو اورآپکے ساتھیوں کو دین کی خدمت کرنے کی تو فیق عطا فرماویں۔آمین!
علم روشنی بھی ہے ۔ ظلمات بھی ۔ جو علم ناانصافی کے گر سکھائے ۔ جو علم حق تلفی کا راستہ دکھائے ۔ جو علم جبر و تشدد پر اکسائے ۔ جو علم نفس پرستی کا درس دے۔ جو علم انسانوں سے انسانیت چھین لے۔ جو علم سادہ ، سلیس، اور اختصاری زندگی سے محروم کر دے۔ جو علم عدل و انصاف کا دامن چھوڑ دے ۔ جو علم اقتدار حاصل کرنے کے لئے دھوکہ ، فریب اور ہر قسم کا جرم کر گذرنے پر اکساتا رہے ۔ جو علم اقتدار حاصل کرنے کے لئے جھوٹے ، فاسق، فاجر، بے دین، منشوروں کے مطابق سیاسی جماعتیں تشکیل کرکے ملت کے جسد کو بیماریوں کی طرح چمٹ جائے ۔ جو علم بدکاری، بے حیائی، شراب، بدکرداری، سے سکون و راحت حاصل کرنے کے لئے کلبوں کی طرف رخ موڑ دے ۔ جو علم حق تلفی ، دہشت گردی، ظلم و بربریت، لوٹ کھسوٹ ، قتل و غارت، ڈاکے، رہزنی کو جنم دے ۔ جو علم اقتدار کی ہوس میں آدھا ملک نگل جائے ۔ جو علم اقتدار کی نوک پر ملکی وسائل ملکی خزانہ، ملکی ، غیر ملکی قرضوں اور چودہ کروڑ عوام کی محنت و مشقت کی خون پسینہ کی کمائی ، بڑی بے دردی سے ہولی کھیلے۔ جو علم اقتدار کی نوک پر استحصالی نظام کو بروئے کار لا کر ملک ، بیرون ممالک، ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں، کاروباروں، ہر قسم کی تجارت، پر اجارہ داری قائم کر لے۔ جو علم چھوٹے بڑے شہروں میں عالی شان محلوںِ سرے محلوں، رائے ونڈ ہاؤسوں، بینک ڈالروں، ہر قسم کا عیش و عشرت کا کلچر فروغ دے جو علم مجرم قانون، قاتل ادارے، راہزن حکمران، راشی افسر، عدل کش منصف، تیار کرے۔ جو علم روز بدلنے والے قوانین کا کرپٹ نظام ترتیب دے۔ جو علم رشوت، کمیشن، کے لئے بوگس فرمیں، بوگس کوٹیشن، اربوں کے سودے، کروڑوں کی کمیشنیں، شاہی تنخواہیں، بادشاہی سہولتیں، حاصل کرنے میں محو ہو۔ جو علم ہر قسم کی کرپشن ، مجرم نظام، ملزم حکمران تیار کرے۔ جو علم خو ف خدا سے دور کر دے۔ جو علم مادیت کے حصول کا جہنم جلائے رکھے۔ جو علم حق تلفیوں، ناانصافیوں سے عیش و عشرت کا ایندھن اکٹھا کرنے میں مصروف رہے ۔ جو علم انمول ضمیر، یعنی باطن کدہ کو احساس کی آگ میں سلگاتا رہے جو علم امانت میں خیانت کو حق سمجھے ۔ جو علم چودہ کروڑ عوام کی دولت، عزت و ناموس، کو چند ہاتھوں میں مقید کر دے ۔ جو علم صحراؤں میں بسنے والوں کو ہر سہولت سے محروم رکھے ۔ جو علم صحرا نشینوں اور ان کے مال مویشیوں کو ۵۳ سال تک نگاہ اٹھا کر ان کی خستہ حالی ، بد حالی، کو بھی نہ دیکھے ۔ جو علم ان کو خشک سالی، بد حالی، زبوں حالی، قحط سالی، کا شکار ہمیشہ بناتا رہے ۔اور ان کی معاونت سے گریزاں رہے ۔ جو علم انسانوں ، حیوانوں کو طویل مسافتیں، دھوپ کے جلتے ریگستانوں میں پیاس اور بھوک سے نڈھال کر دے ،کشمکش حیات سے دو چار اور موت سے ہمکنار کرتا رہے۔ جو علم ضمیر کو مردہ کر دے اور ملک و ملت کو اپنی ذاتی، آسودگی اور منفعت کے لئے اذیتوں میں مبتلا کر دے۔ جو علم اپنے اسلاف کے اخلاقی ، روحانی ، اثاثوں کو روند ڈالے ۔ جو علم اپنے ملی تشخص اور شناخت کو کچل دے ۔ جو علم حکمرانی اقتدار کی مسند بھی عطا کرے ۔ اور اپنے عمل کی جزا و سزا کی اذیتوں میں مبتلا کرکے نشان عبرت بھی بنا دے ۔جو علم شرم و حیا کو چاٹ جائے ۔ اور ٹی وی اور اخبارات، رسائل جیسے،میڈیاکوبے حیائی پھیلانے کے تصرف میں لایا جائے جو علم ملک کی سا لمیت، اور ملت کے لئے خوفناک خطرہ بن جائے جو علم ٹی وی جیسے میڈیا پر بے حیائی کے جدید سکالروں کے سپرد کر دیا جائے۔جو علم ڈراموں کی شکل میں دہشت گردی،قتل و غارت،کرائم کے تمام ہنر،محبت کے جنسی آداب،دھو کہ ،فریب کے اخترا عی ماڈل پیش کریں ، جو علم نو جوان نسل کو غیر جنس کے ساتھ سر عام اچھے برے کریکٹروں کو پیش کرنے کے بھیانک سین سے اخلاقی پستی کی تربیت سے د و چار کر دے۔
اس علم کے ادیبو ں! فاضلوں، ماہروں، فلسفیوں، حکیموں، نقطہ دانوں، دانش وروں، لکھاریوں، سرکاری مدبروں، عدالتی منصفوں، کو دنیاوی بے پناہ اشیاء ، اور ضروریات کا سامان اکھٹا کرنے پر مختص کر دے ۔ اس کے حصول کے لئے معاشرے کے ہر قسم کے اخلاقی اور دینی تمام ضوابط کی حدود کو توڑ کر ظلم و بربریت، قتل و غارت، دہشت گردی، کا راستہ اپنا کر مساوات، اعتدال کو کچلنے، انصاف اور عدل کو روندنے ، امانتوں کو لوٹنے اور غصب کر نے میں مصروف عمل کر دے۔ علم کے یہ تمام راستے یہ تمام پگڈنڈیاں، یہ تمام طور طریقے، یہ تمام جہتیں، علم کی جہالت کے راستے ہیں ۔ اور اس علم کے وارث ابوجہل، اور ابولہب کے خانوادے اور قبیلہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے عقل و دانش کے چراغ ، گمراہی ، اندھیرے، اور تباہی پھیلاتے ہیں ۔ یہ جہالت کی تہذیب کے مہذب دانش ور کہلاتے ہیں ۔ یہ نفاق ، نفرت، قتل و غارت، اقتدار ، حکمرانی، لوٹ کھسوٹ ، دہشت گردی، ناانصافی ، حق تلفی اور خود غرضی کی جنگیں آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ اہل وطن کو اپنے نظام اور سسٹم کے نئے نئے طریقوں کو رائج کرکے نئی سے نئی آزمائشوں، مصیبتوں اور اذیتوں سے دوچار کرکے اپنے اندھیروں کی دنیا آباد رکھتے ہیں ۔
ان کے ملک میں تمام تعلیمی ادارے اسی نظام کے کارندے تیار کرتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے ۔ کہ ان کا یہ نظام اور سسٹم کے شکنجے ، ان عقل کے اندھوں کو اپنے پیشرو حکمران ورثہ میں مہیا کرتے جاتے ہیں۔ وہ اس میں اس طرح محو ہو جاتے ہیں ۔ اور اس خول کو توڑ کر راہ حق ، نور ہدایت، کے فلاحی راستے ، اختیار نہیں کر پاتے۔ وقت کروٹ لے چکا ہے ۔ فطرت نے ان کے احتساب کا عمل جاری کیا ہے۔ حکمرانوں ، سیاست دانوں، جاگیر داروں، سرمایہ داروں، افسر شاہی، نوکر شاہی، منصف شاہی اور ان کے نظام اور سسٹم کے ایوانوں میں احتساب کے لرزہ خیز زلزلے نے خوف و حراس پید ا کر دیا ہے ۔ اب ان کے اپنے اور اپنے رفقاء کے ناموں پر حاصل کردہ ، تمام کی تمام ملکیتیں، جائیدادیں، ملیں، فیکٹریاںِ کارخانے، کاروبار، اندرون، اور بیرون ممالک، تجارت کے تمام اڈے اور ادارے، ان کے خلاف چیخیں مار کر گواہی دیں گے ۔ بلوں، ٹیکسوں، اور مہنگائی کے ذریعے چوسنے والا معاشی خون اور نوچنے والا معاشرتی گوشت، کا عوام خود دفاع کریں گے ۔ حکومت اپنی سرکاری مشینری کی تمام غاصب پالیسی سازوں سے خود نپٹ لے گی ۔ ان کے خلاف عوام کا احتجاج ان کی رہنمائی کا کام دے گا ۔انشاء اللہ فوجی حکمران احساس ذمہ داری اچھی طرح نبھائیں گے ۔یقینا وہ ان کو کھلی چھٹی دے کر اپنا حشر جنرل ضیاء ا لحق صاحب جیسا نہیں کروائیں گے ۔ وقت ملت اسلامیہ کی تقدیر بدلنے اور پاکستان میں دستور مقدس کے نفاذ کے حالات و واقعات پیدا کر چکا ہے ۔
حضور ﷺ کے علم کی نورانی قندیلیں اس ملک میں روشن و منور ہوں گی ۔ ملت کی ظاہری اور باطنی اصلاح کے جدید علوم کے جام حضور ﷺ کے میخانے سے یہاں سے ہی جاری رہیں گے ۔ عدل و انصاف ، مہر و محبت، ہمدردی و اخوت،ایثار و نثار، اعتدال و مساوات، ہر فرد کے کردار کی خوشبو بن کر پوری کائنات میں پھیلے گی ۔ انسان تو انسان ہر ذی جان کو، ان کے عمل سے راحت و سکون ، میسر آئے گا ۔ دینی علوم، ظاہری تبدیلی کے ساتھ ساتھ باطن کی اصلاح کی تربیت پر زیادہ موئثر ہو گا۔ اسلام کی روپوش تمام قدریں دوبارہ جلوہ افروز ہوں گی۔ انسانیت کے مسیحائی کے فرائض ادا ہوں گے ۔ اہل بصیرت ، اس دور میں فطرت سلیمی کی آبیاری اور معماری کا کام کریں گے ۔ بہتر انسان اور اعلیٰ حاکم وہی ہو گا ۔ جو اس باطل علم کی پستیوں سے ملت کو نکال کر دین محمدی ﷺکی روشنی میں اس کے کردار کی تشکیل و تعمیر کو عمل میں لائے گا ۔اور دنیائے اسلام کے تمام ممالک کے لئے ایک جدید تعلیمی نظام دین کی روشنی میں جو اس دور کی ضروریات پر پورا اترے ۔ وہ نصاب ماہرین وقت سے تیار کروا کر اپنے ملک میں رائج کرے اور تمام اسلامی ممالک کو مہیا کرے ۔ یا اللہ اس فریضہ کو نبھانے کی توفیق عطا فرما ! یا اللہ اس جہان رنگ و بو میں جگر سوزی ، دلسوزی، کی لذتیں اور چشم بینا اس ملت بیضا کا نصیب بنا۔ آمین۔