To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جمہوریت‘
کالے انگریز وں کی کالی انتظامیہ‘
کالی افسر شاہی
عنایت اللہ
ایک صدی کی غلامی کے بعد ۱۹۴۷ ء کو پاک و ہند آزاد ہوا ۔ انگریز ہندوستان کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ان کے جانے کے بعد حکومتی نظم و نسق چلانے کے لئے پاکستان میںانگریزوں کے مروجہ طریقہ کار اور سسٹم کو جوں کا توں چلایا گیا۔ انگریز وائسرائے اور تمام ایوانوں پر فا ئز ان کے مشیر، وزیر، گورنراور تمام اعلیٰ سرکاری عہدوں پر متعین منتظمین ملک چھوڑ کر انگلینڈ واپس چلے گئے۔
قا ئد اعظم ؒ۱۹۴۸ میں طویل علالت کے بعد وفات پاگئے۔ملک و ملت ایک عظیم قیادت سے محروم ہو گئی۔ اس کے بعد ملک کی باگ ڈور جاگیرداروں اور سرمائے داروں کے ہاتھوں میں منتقل ہوگئی۔ انہوں نے ملک کا حکومتی نظام چلانے کے لئے مغرب کا جمہوریت کا نظام اپنایا ۔ جمہوریت کی اکیڈمی پر جاگیردار ، اور سرمایہ دار طبقہ نے قبضہ بذریعہ سیاست، یا حالات و واقعات ، یا بالجبر، ہر قسم کا جائز و نا جائز حربہ استعمال کر کے حاصل کر لیا ۔ الیکشنوں کو ذریعہ اقتدار بنایا گیااور اسی طریقہ کارکو اختیار کیا گیا ۔ اس سیاسی کھیل کھیلنے کے لئے دو طبقے معرض وجود میں آ ئے۔ ایک طبقہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ٹولہ پر مشتمل تھا ۔ جو امید وار برائے صوبائی اور وفاقی اسمبلی ، الیکشنوں میں حصہ لیتے ۔دوسرا طبقہ کسان ،محنت کش اور غریب عوام الناس کا تھاجن کو ان جاگیرداروںاور سرمایہ داروں میں سے کسی ایک کو ووٹ ڈالنے اورچننے کا پابند بنا دیا گیا ۔اس طرح انہوں نے چاروں صوبوں، وفاق اور سینیٹ کے ایوانوں پر بڑی آسانی،چالاکی، ہوشیاری اور ہنر مندی سے قبضہ کر لیا اسطرح ملک کے اقتدار کو اپنی وراثت بنا لیا ۔ آج تک یہ سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔
اس طریقہ کار سے اقتدار اعلیٰ ایم پی اے، ایم این اے ،سینٹ کے ممبران، اسمبلیوں اور سینٹ کے ایوانوں میں یہ ٹولہ بذریعہ الیکشن کامیاب ہو کر پہنچ جاتا ہے۔ اسمبلیوں میں انہی ہزار بارہ سو میںسے حسب مراتب مشیر، وزیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم اور صدر پاکستان چنتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستانی عوام اس طبقہ کے غلام بن چکے ہیں۔پاکستان ان کا مفتوحہ ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور انکی وراثت بن چکاہے۔یہ کالے انگریز اس ملک پر پوری طرح مسلط ہو چکے ہیں۔
ملک کا نظم و نسق چلانے کے لئے ان سرکاری ایوانوں میں اعلیٰ سرکاری ملازمین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے انگریزوں کے ہی اعلیٰ انگلش میڈیئم تعلیمی اداروں اور ان کے مروجہ نصاب کے تحت ، ان سیاست دانوںنے اپنی اولادوں کوان شاہی اخرا جات والے اداروں سے تعلیم و تربیت حاصل کرواتے ہیں۔ انگریزوں کے دفتری نظام اورمعیار کو قائم رکھنے کیلئے انہوں نے ان شا ہی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل طلباء کو ہی تمام سرکاری محکموں یا دوسرے تمام اعلیٰ اداروں میں اعلیٰ عہدوں اور پوسٹوں پر اپنے اور اپنے من پسند کے لوگوں کی تعیناتیاں اور بھرتیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔پبلک سروس کمیشن پر فائز بھی یہی طبقہ،شاہی تعلیمی اداروں پر قابض بھی یہی لوگ،لا محالہ ان اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں اور تقرریاں بھی انہی کی اولادوں کی ہوتی ہیں۔کسان،مزدور،ہنر مند یا درمیانہ طبقے کے۹۹ فیصد عوام کو تو یہ شاہی تعلیمی سہولتیں تو ملک میں میسر نہیں ہوتیں۔ اس نظام حکومت کو چلانے کے لئے انہی پر مشتمل عدلیہ اور انتظامیہ کے ماہرین، قانون دان ، قانون ساز ، اور منتظمین کو تربیت دینے کے لئے اعلیٰ پبلک سروس کی اکیڈمیاں ملک میں انگریز کے وقت سے کام کر رہی ہیں۔ انکی ٹریننگ کی ضرورت کے مطابق انکا تعلیمی نصاب مقرر ہے ۔ اعلیٰ اساتذہ، پروفیسر، ماہرین، اور وقت کے عظیم دانش ور، منصف اور منتظمین ، اپنے انتظامی امور کو چلانے کے لئے تیار کرتے چلے آرہے ہیں۔
انگریزوں کے دور میں انتظامیہ کو چلانے کے لئے انڈین سول سروس کے تحت وہ ان لوگوں کو سیلیکٹ کرتے تھے ۔ جو انکے لئے قا بل اعتماد ہوتے۔ جو ان کے اشارے پر اہل وطن کے ساتھ ہر قسم کا ظلم کر گذرتے۔وہ انگریزی زبان اور ان کے قوانین و ضوابط کی پابندی کرتے۔ حاکم وقت قومیں جو مفتوحہ قو موں کے ساتھ جس طرح کا حسن سلوک روا رکھنا چاہتی ہیں اور رکھتی ہیں ۔ وہی ان کا قانون ہوتا ہے ۔اسی پالیسی کے تحت وہ اپنی انتظامیہ اور عدلیہ سے مروجہ قانون کی پیروی کرواتے۔ اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے ان کے یہ شاہی انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کے دانش ور، پڑھے لکھے انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے اور رائج الو قت قوانین و ضوابط کو سمجھنے اور ان کے اصولوں کی پابندی کرنے والے اور ان کے ہر قسم کے احکام کو بجا لا نے والوں کو یہ مراتب دیئے جاتے وہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ انگریز کے اشارے پرظلم زیا د تی کا ہر وہ عمل کر گذرتے جو وہ چاہتے۔آج بھی یہ سلسلہ ویسے ہی جاری و ساری ہے۔۱۸۵۷ ء سے انتظا میہ اور عدلیہ اسی سسٹم کی پیروی کرتی چلی آ رہی ہیں۔
اس انتظا میہ کے ذریعہ وہ ہر اس شخص کو جو آزادی کے لئے زبان کھولتا ۔ ان کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ۔ ان کی غلط پالیسیوں کی مخالفت کرتا ۔ ان کے کالے قوانین کے خلاف احتجاج کرتا ۔ ایسے تمام لوگ جو ان کے اقتدار کے ایوانوں کے خلاف حق اور سچ کا کلمہ کہتے ۔ان کی اجارہ داری کو توڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ۔ان ظالم حکمرانوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑتے۔ ان کو یہ انتظامیہ پکڑ واتی ۔ اپنے صعوبت خانوں، تھانوں تک پہنچاتی۔ان پر بے پناہ تشدد کرواتی، مارتی ، پیٹتی، جسم کے نازک حصوں کو جلاتی ، برف پر لٹاتی ،ا لٹا لٹکاتی ،طرح طرح کی انسانیت سوز اذیت ناک اذیتوں سے گزارتی۔ تھانوں اور کچہریوںکے بھیانک عذاب سے دوچار کرتی۔ انتظامیہ کو اتنے اختیارات ہوتے جس کا جی چاہتی حشر نشر کر دیتی۔جعلی کیس درج کرتی۔ہر قسم کا ظلم وتشدد کرتی۔ جعلی اور بے بنیاد کیس عدل کش منصفوں کے سپرد کرتی۔ منصف صرف انتظامیہ کے جھوٹے الزامات پر مبنی جرائم کے مطابق سزائیں سناتے۔ کالے پانی بھیجتے۔ قید تنہائی دیتے ۔ مونج کی رسی تیارکرواتے۔ چکی پسواتے۔ بھوک اور پیاس کی اذیتوں سے گزارتے۔ طرح طرح کی لرزہ خیز تکلیفوں اور مصائب سے دوچار کرتے ۔جسمانی طور پر معذور اور ذہنی طور پر مفلوج کر دیتے۔آج بھی وہی عدل کش ظالم سسٹم انتظامیہ اور عدلیہ کے کریکٹرو کردار کا ایک بھیانک،انسانیت سوز،وحشت ناک حصہ بنا پڑا ہے۔
۱۸۵۷ ء سے انگریز نے پاک و ہند کی مفتوحہ عوام کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھنے کے لئے ان دو جلاد محکموں کو ترتیب دیا انتظامیہ اور عدلیہ ۔ وہ اپنے اپنے شعبوں میں کمالات کا مظاہرہ کرتے۔ اپنے اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ۔ اور ہر آزادی کی اٹھنے والی آواز کو کچلنے میں مصروف رہتے ۔ انگریزی راج کی جڑیں مضبوط کرتے۔اچھی کار گزاری پیش کرتے۔انعامات اور ترقی حاصل کرتے۔ انگریز خود تو چلے گئے ۔ لیکن وہ اپنا پورا نظام اور سسٹم اپنے مقبول اور قابل اعتماد طبقہ کے حوالے کر گئے۔جنہوں نے ظلم وستم اور اذیتوں کے نئے نئے باب رقم کئے۔ ان وڈیروں نے بڑے پولیس مقابلوں میں قتل کروائے۔ بڑے گمنام بھی قتل کروائے۔ہر روز مجرم، قاتل،غاصب، رشوت اور سفا رش سے کیسوں سے فارغ۔ معصوم ، بے گناہ،کمزور اور بے سہارہ کیسوں میں ملوث اور جیلوں کے اندر۔۱۴ کروڑعوام کو اس اندھے غیر اسلامی،غیر انسانی،غیر فطرتی،بے رحم،غاصب نظام اور سسٹم سے نجات نصیب نہیں۔ یااللہ ہمیں اس پڑھے لکھے،بد دیانت دانشوروں کی شاہکار ظالم انتظامیہ اور انسانیت سوز عدلیہ سے نجات دلا ۔آمین
انگریزوں نے انگریزی زبان کو حکومتی نظام چلانے کے لئے رائج کیا۔ انگریزی زبان کو تعلیمی اداروں میں مروج کیا ۔ سرکاری نظام کو چلانے کے لئے انگلش میڈیم کی شاہی فوج ان اداروں سے تیار کی۔ جن کا معیار زندگی ، شاہی بنیادوں ، شاہی سرکاری سہولتوں پر قائم کیا طبقاتی تعلیم ملک میں نافذ کی ایچیسن کالج ، لارنس کالج ، کیڈٹ کالج، جیسے تعلیمی ادارے قائم کئے۔ ان کو اس طبقہ کے لئے مختص کیا ۔ پاک و ہند میں انگلش زبان کی حکومت قائم کی ۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں انگریزی زبان کو رائج کیا۔ صرف اور صرف وہی لوگ جو ان کی مروجہ شاہی اخراجات والے انگلش میڈیم تعلیمی اداروں سے فارغ ہوتے ۔وہی کار سرکار چلانے کے لئے ان سرکاری اور نیم سرکاری ا داروں میں بھرتی کئے جاتے ۔عوام الناس میں کسی کا بچہ ان اداروں کے قریب سے بھی نہ گزر سکتا۔یہی سسٹم اور نظام آج بھی قائم اور دائم ہے۔ اب۵۳ ۱ سالوں میں یہ ترقی کی بے پناہ منزلیں طے کر چکا ہے۔ عوام پرانی یاداشتیں بھول چکے ہیں۔اس فیلڈ میں لا جواب ترقی ہو چکی ہے۔
وقت کی ضرورت کے مطابق انگریز حکمران قوانین اور ضوا بط میں ترمیمیں کرتے ۔نئے کالے قوانین اور سزاؤں سے متعارف کرواتے۔ انسانیت کے حقوق کے تقدس کو پاش پاش کرتے ۔ظلم اور زیادتی کی لاٹھی اس انتظامیہ کے ہاتھ میں ہوتی ۔ یہ انتظامیہ آزادی کے پروانوں کو ناکردہ، بے بنیاد کیسوں اور جرائم میں ملوث کرتی ۔ایسے گھناؤنے نا کردہ الزامات پر لاتعداد مقدمے تیار کرتی ۔ تفتیش کی ہولناک اذیتوں سے گزارتی۔ جسمانی تشدد درندوں کی طرح کرتی ۔ جسمانی طور پر ان کو ناکارہ اور اپاہج بنا دیتی ۔ ذہنی اذیتوں سے دوچار کرتی۔اس ظالم انتظامیہ نے طرح طرح کے ٹارچر سیل قائم کئے۔یہ سسٹم ان آزادی کی شمع کے پروانوں کا پوری صدی نصیب بنا رہا۔ان کو یہی انتظامیہ ڈاکو، دہشت گرد، قاتل، راہزن، باغی مشہور کرتے رہتے ۔ ان کے خلاف خوفناک الفاظی جرائم کی کتابیں تھانوں میں کھل جاتیں۔ پولیس مقابلے میں اکثر مار دیئے جاتے ۔جو بچ جاتے ان کوججوں کی عدالتوں کے سپرد کرکے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ۔ جس کو چاہتے ،بستہ الف ، بستہ ب کا غنڈہ بنا دیتے ۔ ایسا کرنا اس انتظامیہ کے فرائض کا حصہ ہوتا ۔ وہ ہر قسم کی انسانی اور اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ۔ آج بھی اہل وطن اسی نظام اور سسٹم کی بد ترین اذیتوں اور خوفناک حالات سے بری طرح دو چار ہیں۔
انگریزوں نے انگریزی زبان کی حاکمیت قائم کرکے پاک و ہند کے کروڑوں عوام کو انہوں نے بہرہ، گونگا، اور ذہنی محرومی سے دوچار کر دیا ۔انگریزی بولنے والوں کے چہروں کی طرف حسرت سے دیکھتے ر ہتے اور ما یوسی کی سرد آہیں بھرتے رہتے ۔اسی نظام نے انگریزی زبان کے ماہرین کو وکیلوں کی شکل میں پیش کیا۔ جو انکی سماعت،زبان اور ذہن کے فرا ئض ادا کرتا۔ جو اس عدالتی نظام کا حصہ بن گئے ۔ اس انگریزی زبان کی ضرورت نے ہی وکیلوں کو جنم دیا ۔اس طرح عوام الناس کوانہوں نے اس مروجہ انتظامی اور عدالتی نظام کے کینسر میں مبتلا کر دیا۔آج بھی یہ نظام اور سسٹم اپنے اعمال کے عروج پر ہے۔
انگریز خود تو چلا گیا۔لیکن وہ عوام الناس کو اپنے ، ظالم جاگیر دار، غاصب سرمائے دار پر مشتمل غدار ٹولہ ،افسر شاہی۔ نوکر شاہی، منصف شاہی،معاشی اور معاشرتی نظام، انگریزی زبان، قوانین، ضوابط، انتظامیہ، عدلیہ،انگلش میڈیم کے شاہی تعلیمی ادارے، سول سروس اکیڈمیاں، تفاوتی تعلیمی نظام ، ٹیکس کلچر، جمہوریت، رشوت، کمیشن، کرپشن، سفارش، اندھے قتل،بم بلاسٹ، جھوٹے مقدمے،جعلی پولیس مقابلے، باطل نظام اور غاصب سسٹم کے خوفناک،حیرتناک،عبرت ناک تمام اقسام کے تمام انسانیت کش نمائندے ملک پر مسلط کر کے اہل پاکستان کو ان کے حوالے کر گیا۔ دین کو پڑھنے اور پڑھانے تک مسدود اور محدود کر دیا گیا۔ زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں کے کریکٹر و کردار کے منافی اور دین کے متضاد نظام کو مروج کر کے ملت اسلامیہ کے اخلاقی کردار کا گلہ گھونٹ دیا گیا۔دین سے دوری کی زندگی اور بے دین عمل کو اس عظیم ملت پر مسلط کر دیا گیا۔اسلامی تشخص اور عملی کردار ملت اسلامیہ سے چھین لیا گیا۔اس ملت کی شکل مسخ کر دی گئی۔


ہماری انتظامیہ اور عدلیہ کا کریکٹر کسی سے چھپا ہوا نہیں۔تھانوں اور کچہریوں میں کیا ہو رہا ہے۔کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔وہی انگریز کا مفتوحہ قوم کو کچلنے کا وحشیانہ سسٹم حکومتیں جس کے خلاف چاہیں ،جتنے چاہیں،جس قسم کے چاہیں کیس تیار کروالیں۔جس کو چاہیںبھینس کے کیس میں ملوث کر دیں۔جس پر چاہیں، ڈاکے، قتل، رہزنی اور زنا کا کیس درج کر لیں۔جس کے خلاف چاہیں غداری اور بغاوت کا کیس بنا دیں۔جسمانی تشدد تو کجا وہ بد بخت سیاسی رہنماؤں سے جنسی اور غیر فطرتی تشدد کروا دیں ۔ ْقاتل کو رشوت لے کریا سفارش کی بنا پرکیس سے فارغ کر دیا جائے۔ بے گناہ انسانوں کو سلاخوں کے اندر مقید کر دیا جائے۔تفتیشی افسران بے گناہ انسانوں سے رشوتیں لیتے رہیں۔جو نہ دے سکے‘ اس کوکیس میں گھسیٹ لیا جائے۔ جدھر کی بولی زیادہ لگ جائے اسی طرف قانون کا رخ مڑ جائے۔پھر ان جھو ٹے کیسوں کو عدالتوں میں سماعت کے لئے پیش کر دیا جائے۔تھانے کچہریوں کی یہ عبرتناک وارداتیں، گھناؤنی پالیسیاں اس انسانیت سوز عمل کا حصہ بن چکی ہیں اورمقام عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ایسے نظام اور سسٹم سے عوام کیسے انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔حکمران تو خود اس جرم میں ملوث ہوتے ہیں ۔ وہ اس کا تدارک کیسے کر سکتے ہیں۔ حکمران جو اس ظالم انتظا میہ کو ۵۳ سالوں میں راہ راست پر نہ لا سکے۔ان کی گھناؤنی عظمتوں کو سلام۔
یہ کیسے منتظمین اور کیسے منصف ہیں۔ ایک تو جھوٹے کیس تیار کریں اور دوسرے ان جھوٹے کیسوںکی سماعت کے فرائض بڑی عقل و دانش اور محنت سے سر انجام دیتے رہیں۔ وکلا صاحبان دونوں طرف سے فیسوں کو حلال کرتے ہوئے ہلکان ہو تے جائیں۔ اپنے اپنے کلائنٹ کو عدالت میں جھو ٹی گواہیوں کے آداب سکھاتے رہیں۔ بحثوںکاسلسلہ کئی سالوں تک چلتارہے۔جج صاحبان،وکلا صاحبان،مدعی اور مدعا علیہ اور پولیس والے سبھی اچھی طرح کیس کی اصل حقیقت جانتے اور آشنا ہوں ، مجرم تو عدالت کے باہر دندنا رہے ہوں۔ لیکن یہ بو گس کا روائی بے گناہ لوگوں کے خلاف چلتی رہے۔یہ دانشور۔یہ انتظامیہ کے ما ہر،یہ مغرب کے قا نون کے وارث،یہ عدل و انصاف کے سکالر،یہ دور حاضر کی تعلیم و تربیت کے شاہکار جن کی آنکھوں پر رشوت،کمیشن،سفارش اور مادی آسودگی کی حیرتناک جہا لت کی پٹی بندھی پڑی ہے۔۱۰۰ سالہ انگریزوں کے شاہی انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل یہ سفاک انسان انگریزوں کی حکو مت کو قائم رکھنے کے لئے اہل وطن کے خلاف ظلم پر مبنی فرائض کی تلوار استعمال کرتے رہے ہوں اور پاکستان کے وجود میںآنے کے ۵۳( ترپن ) سا لوں میں اسی نظام اور سسٹم کے نصاب کا طویل تجربہ رکھنے والی یہ انتظامیہ اور عدلیہ کے ہونہارہمیں کن کن اذیتوں سے گذار چکے ہیں۔عدل و انصاف تو کجا یہ افسر شاہی اور حکمران ملک میں ۵۳ سالوں میںاصل مجرموں کے خلاف کیس بنوانے کا معمو لی سا عمل بھی درست نہ کر سکے۔کب تک مجرم ،درندے ،ظالم اور سفاک لوگ سفارش اور رشوت کے زور پر قانون کی زد سے بچتے رہیں گے۔ معصوم،بے گناہ اور کمزور لوگ اس گھناؤنے سسٹم کی اذیتوں اورمصیبتوں میںمبتلا رہیں گے۔اس غیراخلاقی،بے دین، جسمانی ،رو حا نی، انتظامی اور عدالتی کینسر کی بیماری کا علاج نہ یہ سیا ستدان کرنا چاہتے ہیں ۔ اور نہ ہی اس نظام کے پیروکار۔ ان کا کرپٹ نظام اور غاصب سسٹم کا سحر اب ٹوٹ چکا ہے۔ ان کے کردار کے بھیانک پہلو اب پوری ملت اور دنیا کے سا منے آچکے ہیں۔اس انتظامیہ اور عدلیہ کے سکالروں،دانشورں،عدل و انصاف کے رہزنوں،معاشی قاتلوں،معاشرتی دہشت گردوں کے کریکٹرو کردار کا اصل روپ ملت اسلامیہ کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔نہ اس انتظا میہ اور نہ اس عدلیہ کی ضرورت ہے نہ انکی اکیڈمیوں کی۔نہ یوج،ما جوج ملکی بجٹ چاٹیں گے۔نہ رشوت،کمیشن اور کرپشن چلے گی۔ نظام نو کی نوید کی خوشبو اب ملک میں پھیل چکی ہے۔ انگریز کے نظام اور سسٹم کے مروجہ طریقہ حکمرانی، انتظا میہ اور عدلیہ کی زنجیروںکو توڑنا اصل میںحقیقی آزادی کا راستہ ہے۔ اسلامائزیشن کے لئے ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا ہو گا۔۱۵۳سا لہ غلامی کا دور اب ختم کرنا ہو گا۔موجودہ فوجی حکمران یا کوئی بھی صاحب نصیب جو ا س طیب فریضہ کو ادا کرنے کے لئے میدان عمل میں نیک نیتی سے اترے گا۔آواز خلق اور مخلوق خدا اس کے ساتھ ہو گی۔مغرب و مشرق اس کے ہمنوا ہونگے۔
اہل پاکستان کو انگریزوں کا تیار کردہ ایک مفتوحہ قوم کوشکنجوں میں جکڑنے والا ۱۵۳ سالہ جابر ۔ظالم اور بے رحم طرز حکومت کے سانحہ سے یہ سیاستدان،افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی اس نظام اور سسٹم سے نجات کیوں نہیں دیتے۔ اسلا می ضابطہ حیات کیوں نہیںرائج کرتے۔اسلامی نظام کے تحت انتظامی امورکیوں نہیںچلائے جاتے۔ اسلامی عدل و انصاف کے قانون کو نافذالعمل کیوں نہیں کرتے۔مسلمانوں کو دین کے منافی نظام اپنانے کے لئے کیوں مجبور کرتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے باطل سسٹم کی پیروی کرنا کیوں لازمی ہے۔ منا فقت کا گھناؤنا کھیل مسلمانوں پر کیوں لاگو ہے۔مسلمان کب تک خدا اور رسول ﷺ کے احکام کے خلاف جنگ سے دو چار رہیں گے۔یا اللہ مسلمان کب تک دین کی تعلیمات اور عمل سے محروم رہیں گے۔یا اللہ ہمیں اسلام کا دستور مقدس نافذکرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین
یا اللہ ۱۴ کروڑ مسلمانوں کو تونے پاکستان جیسا عظیم اور خو بصورت گھر عطا کیا۔ خوراک،لباس،پھل،میوہ جات،ہرقسم کی مچھلی، مرغی، بکری، گائے، بھینس، اونٹ کا وافر گوشت ہمیں دیا۔دودھ کی نہریں عطا کیں۔ میٹھے ٹھندے پانی کے ذخائر عطا کئے۔میدان،کوہ وبیا باں،جنگل، صحرا ، دریا،چشمے اور سمندر ہمیں بخشے۔گیس،پانی بجلی اور لکڑ ی ہمیں دی۔علاوہ ازیں فطرت کے شاہکارحسین شکل،خوبصورت سیرت، محنتی، جفا کش، انتھک، جر ُات و ہمت،صبر و تحمل،ا مانت و دیانت،محبت و ادب کے پیکر انسان بھی اس دھرتی میں پیدا کئے۔اس پر طرہ یہ کہ انکوحضورنبی کریم ﷺ کا کلمہ ، محبت اور عشق بھی ملا۔لیکن بد قسمتی سے انگریزوں کے جانے کے بعدملک کا اقتدار انہی ظالم بے رحم ہاتھوں میں رہا۔ملک کا نظام اور سسٹم جو ایک فاتح قوم نے ایک غلام اور مفتوحہ قوم کو کرش اور قابو رکھنے۔انکے وسائل اور دولت چھیننے کیلئے مرتب اور نافذ کیا تھا۔اس کو جوں کا توں مروج رکھا۔ ہر قسم کا انسانیت سوز بے دین عمل انکی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔اس سسٹم اور نظام کے پیروکاروں،حکمرانوں،افسرشاہی کے کریکٹر،کردار اور طرز حیات کا اختصاری جائزہ درج ہے۔
یہ مست الست رہزن حکمران اور انکی کرپٹ افسر شاہی اور بریف کیس مافیا منصف شاہی کیسے ملک میں دندنا رہے ہیں ۔ عقل کے گھوڑے پر سوار ملک کے تمام وسائل،قومی خزانہ،انگنت ٹیکسوںسے اکٹھا کیا ہوامعاشی خون۔شاہی تفاوتی تنخواہیں، لاتعداد سرکاری سہولتیں، شاہی رہائشیں، شاہی دفاتر،شاہی گاڑیاں، شاہی اخراجات،زکوٰۃ ہضم،ٹیکس ہضم،رشوت ہضم، کمیشن ہضم، بنک ہضم،بیرونی امداد ہضم،غیر ملکی قرضے ہضم،آئی ایم ایف کے قرضے ہضم، جعلی کیس،جعلی پولیس مقابلے، جھوٹے وعدے،عوام غریب ،ملک مقروض،انکے ڈالراورپاؤنڈغیر ملکی بنکوں میں محفوظ۔ ملیں، فیکٹریاں، کارخانے اور ہر قسم کے کارو بار انکے،وہ تمام محرکات اور واقعات جو ہر آنے والے حکمرانوںکے اقتدارکے زوال کا سبب بنتے چلے آ رہے ہیں ۔وہی ان کے کردار کا حصہ بن چکے تھے۔۱۹۴۷ء سے لے کر جمہو ریت کی روشنی میں پیدا کردہ حکمرانوں ، افسر شاہی اور منصف شاہی، کی گھناؤنی لوٹ کھسوٹ اور طریقہ کار کا آخری باب کا اختصاری زائچہ جو ان کی تباہی کا باعث بنا برائے ملاحظہ پیش خدمت ہے ۔
جمہوریت کا ایک بہت بڑا مینڈیٹ حاصل کرنے والی حکومت، اپنے اقتدار اور حکومت کو مستحکم ، قائم، دائم اور ہر قسم کی کامیابیوں سے ہمکنار کر نے کے لئے جمہوریت کے نظام کی تمام مشینری۔ سیا سی اور سرکاری افسر شاہی کا لشکر، اپنے تمام عظیم رفقا ، بے حسا ب مشیروں، لاتعد اد وزیروں، تمام ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹروں، کی ز بردست افواج ، ملک کے تمام اداروں، انتظامیہ، عدلیہ،فارن ایلچیوں، سفیروں ،بڑے بڑے سیکرٹریوں، ایڈیشنل سیکرٹریوں، ڈپٹی سیکرٹریوں،سیکشن آفیسروں ، سول ججوں، سینئرسول ججوں، ایڈیشنل سیشن ججوں، ہائی کورٹ کے جسٹسوںاورچیف جسٹسوں،سپریم کورٹ کے جسٹسوںاور چیف جسٹس،احتساب سیلوںکے ججوں، اسسٹنٹ کمشنروں ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں ،کمشنروں، ڈی ایس پی‘ ایس پی ‘ایس ایس پی‘ ڈی آئی جی‘ آئی جی۔ انٹیلیجنس کے تمام اعلیٰ افسروں اور اس کے علاوہ ملک کی ہر قسم کی سرکاری ، غیر سرکاری مشینری کو تین سال کے عرصے میں مغربی تعلیم و تربیت کے انگلش میڈیم اداروں اور اکیڈمیوں سے فارغ التحصیل بہترین انتظامیہ کے جدید علوم کے ماہرین،دیدہ ور، دانش ور،قانون سازاور قانون کو بروئے کار لانے والی یعنی اعلیٰ افسر شاہی کو اپنے مخصوص اور اہم سیاسی، انتظامی، عدالتی، اور اسی طرح ملک کے تمام سرکاری اداروں کی انتظامی سربراہی اور سپرداری اپنے من پسند کے لوگوں کے حوالے کر کے ہر قسم کی معاو نت، حکومت چلانے کے لئے حاصل کی اور حسب طریقہ پہلی حکومت کے بد دیانت ، نا پسندیدہ ، تمام افسر شاہی کے سرکاری ، اہلکاروں کو اہم ذمہ داریوں سے فا ر غ اور ان آسامیوں سے الگ کر دیا۔ جیسا کہ ہر آنے والی حکومتیں ایسا کرتی چلی آرہی ہیں۔ان پر اپنے دانشوروں کی تمام ا فواج کومسلط کیا۔
اپنی پسند کے مقبو ل و محبو ب منجھے ہوئے سیاستدانوں کو اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ ان تمام نامور سیا ست دانوں اور اپنی ہر دل عزیز لائق فائق تجربہ کاراور قابل اعتماد کار سرکار چلانے کیلئے افسر شاہی کا ہجوم اپنے گرد جمع کر لیا ۔ ملک میں اپنے پسندیدہ سسٹم، طریقوںاور اصولوں کے تحت حکومت چلا ئی اس کے علاوہ کامیابی کی حسین و جمیل تتلی کو پکڑنے کے لئے ملک کے تمام وسائل، ذرائع، خزانہ، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، بڑی بڑی گاڑیاں، کوٹھیاں، محل، دفاتر اور ہر قسم کی سرکاری مشینری کو بروئے کار لائے ۔ جمہوریت کے ناٹک سے بہت بڑا مینڈیٹ حاصل کرکے پاکستان کی سیاست میں نمایاں ابھرنے والی سیاسی جماعت نے اقتدار سنبھالا اور اسکی مفتوحہ چودہ کروڑ معصوم ، مجبور، محکوم ، بے بس ، بے یارومددگار، نادار، اپاہج، بے کس، غریب، یتیم، مسکین، بیوہ، بیروزگار، لاوارث اور مظلوم عوام تین سال تک بے پناہ معاشی ، معاشرتی اذیتوں، مصیبتوں میں تڑپتی، پھڑکتی اور سسکتی رہی۔ اس بے آسرا بے سہارا ، پاؤں سے ننگی، سر سے ننگی، معاشی، معاشرتی ، مقتولہ عوام ، عدل سے محروم، انصاف کے ْ کاسہ میں جبر، ظلم، تشدد، دہشت گردی ، لوٹ کھسوٹ ، ڈاکے قتل و غارت، بم دھماکوں ، عبادت گاہوں میں قتل عام ، بیٹیوں کی عزتوں کی اجتماعی بے حرمتی کی آگ میں متواتر و مسلسل جلتی رہی۔ بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر نوجوانوں کی خود سوزیاں، معاشی قتل ، بے رحم عدلیہ، ظالم انتظامیہ، کرپٹ افسر شاہی اور عیش و عشرت میں مست کاروباری سیاسی حکمران، حکومت اور اقتدار کی نوک پر ذا تی منفعتیں اٹھانے والے تاجر ، خوف خدا سے غافل ، جن کے دل پتھر ، آنکھ پتھر، شعور پتھر فر عونی طاقتوں اور اقدار کے نشے میں مخمور تھے۔
جمہوریت کے سیاسی کھیل کی یہ تمام بد بخت ، بد روحیں، یعنی جاگیردار ، سرمایہ دار، اور جمہوریت کے تحت طبقاتی تعلیمی اداروں کی تیار کردہ کرپٹ افسر شاہی کی افواج نے اس خوفناک، عبرت ناک چتا کو سلگانے ، جلانے اور اس کے الاؤ سے پورے معاشرے کو بھسم کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ اس جمہوریت کے کھیل کو بام عروج تک پہنچانے میں بہت بڑا مینڈیٹ حاصل کرنے والا سیاسی ٹولہ خوب کامیاب اور کامران ہوا ۔ اقتدار اور وسائل کے نشے میں ان کو خود غرضی نفس پرستی، مالی استحکام، محلوں، کاروں، کوٹھیوں، فیکٹریوں، کارخانوں، ہر قسم کے کاروبار ، بینکوں میں ڈالروں کی یلغار، اکٹھے کرنے کی جھنکار، اپنے محلوں تک ہر قسم کی بجلی ، گیس ، عالی شان سڑکوںسے موٹر وے تک ملاپ، سرے محل، رائے ونڈ ہاؤسوں ، اور اسی طرح ان تمام اقتدار کی بد روحوں نے حسب توفیق، پھلنے پھولنے اور اپنے سٹینڈرد سے مغرب کو مات دینے کے تمام تعیش کا سامان اکٹھا کرکے منفرد مقام حاصل کرنے میں کوشاں رہے ۔ پیپلز پارٹی کے دور کے حکمرانوں اور افسر شاہی کی کرپشن کی داستانیں ٹی وی اور اخباروں میں نمایاں سرخیوں کے ساتھ اچھالی گئیں۔ چند ایک کے خلاف کیس احتساب بینچوں میں بھیج کرخاموشی تان لی ۔اور مجرموں کو صرف اقتدار سے محرومی کی نیند سلا دیا۔یہ غیر اسلامی طرز حیات،یہ رہزن قانون،یہ مجرم سسٹم جوں کا توں جاری رکھا۔ انھوں نے اپنی مرضی کے محتسب مقرر کیے اور احتساب کا کھیل انکے سپرد کر دیا۔ قانون کی گرفت میں لینے والی ایجنسیوں یعنی افسر شاہی اور احتسا ب کمیشنوں کے محتسبوں نے کروڑوں ، اربوں کی کرپشن سے اپنے اپنے حصے کے ڈالروں سے بھرے بر یف کیس بطور رشوت وصول کئے ۔ اور جرائم کے ثبوت تمام کے تمام ختم کر نے اور کیسوں کو نگلنے میں مصروف رہے ۔ ا سی اثنا میں مسلم لیگ کی باری آ گئی۔ انھوں نے اور انکی کرپٹ افسر شاہی نے ملک میں لاقانونیت پھیلانے ، قتل و غارت کا بازار گرم کرنے ، کرپشن ، رشوت ، کمیشن کے مافیا کوبام عروج تک پہنچانے، ملک کے تمام انتظامی اداروں ، محکوں میں لوٹ مار کا غدر مچانے میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ٹیکسوں اور منی بجٹوں کا عذاب ملت پر مسلط کیا۔ مکافات عمل کا سفر بھی ان کے اعمال کے ساتھ ساتھ جاری رہا۔


اس افسر شاہی نے حکمرانو ں کو ٹیکسوں ، بلوں کے اضافوںاور منی بجٹوں کا راستہ دکھا یا ۔ اور عوام کا خون خوب چوسا ،لا تعداد مشیروں ، انگنت وزیروں سے لے کر وزیراعلیٰ، وزیر اعظم، گورنروں سے لے کر صدر مملکت تک کے تمام عہدوں کے سیاستدانوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ ان میںسے بیشتر نے کرپشن ، رشوت، کمیشن، کے طور طریقوں سے خوب استفادہ کیا ۔ مروجہ سسٹم کی پیروی کی اور بڑی بڑی غاصبانہ تنخواہیں، محلوں ، کوٹھیوں، گاڑیوں ، ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی بے پناہ سہولتوں کو قانونی حیثیت دے کر ان سے ذاتی استفادہ کیا۔ ملک کے ۹۷ فیصدی بجٹ کا ان ماموں بھانجوںنے اس رائج الوقت گھنا ؤ نے جرائم کو قانونی حیثیت دے کر پہلے حکمرانوں کی طرح سرکا ری خزانہ سے پچھلی حکومت کی پالسیوں کو اپنایا اور خوب عیش و عشرت لو ٹی۔ اقتدار کے نشے میں ملک میں بد مست ہاتھیوں کی طرح دندنا تے اور ڈفلی بجاتے رہے۔اسی افسر شاہی نے قرض اتارو سکیمیں ملک کے اندر اور بیرون ممالک چلانے کی ترغیب دی ۔عوام سے دولت اکٹھی کی۔ آئی ۔ایم۔ایف ۔سے نئے قرضوں کااجرا کروایا۔حسب طریقہ انکو ہضم کیا۔اسی اقتدار کی نوک پر انہوں نے ہندوستان کیساتھ سرکاری سطح پر چینی فروخت کرنے کے رابطے استوار کئے۔دوسرے ممالک سے بھی سرکاری ذرائع اور سیاسی حیثیتوں کو استعمال کر کے ملک کے اندر اور بیرون ملک ملوں،فیکٹریوں،کار خا نوں اورہر قسم کے جائز و ناجائز کاروبار اور ذاتی تجارت کو پھیلانے کا عمل جاری رکھا۔سادہ لوح عوام اس سیاست کو کیاسمجھیںکہ ایک طرف تو ملک ہندوستان کے ساتھ جنگ کی حالت میںہو اور دوسری طرف ملک کے حکمران ذاتی تجارت جاری رکھے ہوئے ہوں اور اس تجارت کا حق صرف حکمران پارٹی کو میسر ہو۔اسی طرح انکی تمام جائیدادیں انکی سیاسی اور سرکاری حیثیتوں کی پیداوار ہیںاور یہ عوا م کی ہی ملکیت ہیں۔
ہر نا انصا فی کے جرم کو انہوں نے قانونی تحفظ دے کر پہلی حکومتوں کی طرح ملک کو جرائم کدہ میں بدل دیا ۔ اعتدا ل اور مساوات کا گلہ گھونٹ دیا۔ بڑے بڑے مہنگے داموں پلاٹوں کے کوٹے ان کے ، امپورٹ ایکسپورٹ کے پرمٹ ان کے، چینی کی ہندوستان کو سپلائی ان کی ،ملیںانکی ،فیکٹریاں انکے کارخانے ،انکی بیرون ممالک میں خرید و فروخت میں کمیشن ان کی بڑی بڑی تنخواہیں ان کی ، مو ٹر وے میں کروڑوںکی کمیشن انکی اور انکے وزیروں کی ، بڑی بڑی رشوتیں انکی اور انکی افسر شاہی کی ، ملک کے اندر اور بیرون ممالک پروٹوکول پر لاکھوں ، کروڑوںکے اخر اجات ان کے اور ان کی افسر شاہی کے ، شاہی ہوٹلوں میں من پسند کے اخبار نویسوں اور دوستوں کے کروڑوں کے اخراجات ان کے ، ملکی خزانہ ا ور وسائل اور بیرونی قرضہ جات شیِر مادرسمجھ کر ہڑپ کرنے کے مجرم، ان عیاشوں کی عیاشیاں، بے پناہ سر کاری سہولتیں ۔کبھی ملک کو قرضوں سے نجات نہیں بلکہ تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔
ملکی تجارت کا یہ حال ہے کہ معمولی سے معمولی کاروبار یعنی سیون اپ، شیزان، میرنڈا، پپسی کولا، کوکا کو لا، فراسٹ کی ایجنسیا ں انکی۔ ٹو تھ پیسٹو ں تک کے کا روبار انکے ہر قسم کے اعلیٰ صابن ڈالڈا، تلو، اور تمام اعلیٰ برانڈ ان کے، اندرون ، بیرون ملک تمام اقسام کی تجارت ان کی، یہ آٹھ دس ہزار جمہوریت کے پجاری اور ان کے ساتھ ذاتی پسند اور قابل اعتماد، کرپٹ افسر شاہی کا پسندیدہ ٹولہ،قابض ہیں ۔ ملک و ملت کو معاشی، معاشرتی ، انتظامی اور عدالتی چتا کا ایندھن سلگانے ،آلاؤ برپا کرنے اور انصاف کی تمام اقدار کو بھسم کرنے ، محنتی اور جفاکش ۷۰فیصدکسانوں ، ۲۹ فیصد مزدوروں، ہنر مندوں اور غریب عوام جو ملکی وسائل پیدا کرنے اور معیشت مضبوط کرنے کا حق ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کی حالت یہ کہ ان کے بدن سے لباس تک اتار لیا گیا اور منہ سے خوراک کا لقمہ چھین لیا گیا۔ پھربھی وہ بجلی، سوئی گیس، پانی کے اضافی بلوں اور بے شمار مزید ٹیکسوں کو ادا کر کے ملکی خزانہ بھرتے چلے آ رہے ہیں انکو یہ مہنگائی کے اژدھا کے منہ میںڈالتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی اس خستہ حالی ، مفلسی، اور غربت پر ان درندوں کو کبھی بھی رحم نہیں آیا ۔
اس مغرب زدہ نظام حکومت کو کرپشن رشوت،سفارش کے گھناؤنے سسٹم اور طریقوں میں ڈ ھا ل کر چلانے کے مدبر و ماہرین اور دانش ور، طبقاتی تعلیمی اداروں کے تعلیم یا فتہ، ملک کی اعلیٰ اکیڈ میوں کے تربیت یافتہ، شاہی اخرا جات اور شاہی خاندانوں کے سپوتوں پر مشتمل افسر شاہی، ملک کی یہ سپر نیچرل مخلوق ،عوام کے یہ سرکاری خدمت گار، ملک کے سب سے بڑے معاشی اور معاشرتی دہشت گرد ، ملک میں بد ترین غا صب اور استحصا لی نظام کے خا لق، معاشی نظام کے تفاوتی سسٹم کے موجد، ملکی وسائل اور خزانہ لوٹنے کے تمام مجرم ،سیا ست دانوں، حکمرانوں،افسر شاہی منصف شاہی ا ورانکی نوکر شاہی پر مشتمل دہشت گردوں، ڈاکوؤں، رہزنوںکے ٹولہ نے کسانوں کی محنت ، مزدوروں اور ہنر مندوں کے خون پسینہ کی کمائی بڑی سینہ زوری، غنڈہ گردی، خوفناک دہشت گردی سے چھینتے، لو ٹتے کھاتے پیتے ا ور نوچتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ دولت، عزت، شہرت کی رنگینیوں کو حاصل کرنے میں اقتدار اور حکومت کے نشے میں یوں دھت ہوئے کہ بارہ اکتوبر کا دن ان مجبور، مظلوم اور بے یار و مدد گار انسانوں کو ان بھیڑیوں،درندوں کی بربریت سے نجات دلانے کو آن پہنچا۔اسے وہ اس غاصبانہ جمہوریت پر فوجیوں کا شب خون مارنے سے تشبیہ اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ ، پوری ملت ان کو اور ان کی افسر شاہی کو دہشت گرد ، معاشی قاتل، عدل کش، وعدہ شکن، دھو کے باز،جابر،ظالم،ٹیکس خور، معاشی، معاشرتی، انتطامی اور عدالتی درندے اور بھیڑیئے کہتے ہیں۔
اے جمہوریت کے سیاسی مداریو! اور افسر شاہی کے ٹولے ! غور توکرو ، کہ تم نے ملکی اقتداراور وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے جو وعدے اور نصب العین جو منشور، ملت کے روبرو پیش کرکے ، اتنے بڑے خوفناک، بھیانک دھوکے کے ذریعے یہ تاریخی مینڈیٹ حاصل کر کے اقتدار، حکومت ، ملکی وسائل اور خزانہ حاصل کیا ۔تم سب غا صبوں نے مل کر ان ملی و سائل اور خزانہ کی امانت کو خوب لو ٹااور اخلاقی اقدار اور نظام عدل کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اور اس کے بالکل برعکس ہر قسم کی و عدہ شکنی کرکے ، ملک کی سیاسی ، اقتصادی، معاشی ، معاشرتی ، انتظامیہ اور عدلیہ کا قتل عام کیا۔ ا پنی عیاشیوں، شاہ خرچیوں، اور رنگیلے بادشاہوں کی طرح سرکاری خزانے کو خرچ کیا۔ آئی ایم ایف کے اضافی قرضوں کو حاصل کیا اور خوب مزے سے ہضم کیا۔ اس کا حساب کس نے چکانا تھا ۔ تم اس مالک کل یعنی اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے ۔
تم سب قائد اعظم ؒ جو اس ملک کے خالق تھے ۔ ان کے کردار کو بھی گھن کی طرح چاٹ گئے ۔ انہوں نے تو اپنی ذاتی جائیداد اس ملک کے نام وقف کر دی تھی ۔تم اور تمہاری انتظامیہ اور عدلیہ اس کے ملک اور مسلم لیگ کے کیسے وارث بن سکتے ہو ۔ تم سب تو ایک عدل کش تفاوتی شاہی غیر اسلامی زندگی گزارنے کے جرم میں ملوث ہوتے چلے آرہے ہو۔تم سب تو معاشی اور معاشرتی قاتل اور دہشت گردسسٹم اور نظام کے پیروکار ہو۔اسلامی تعلیمات اور عمل کو پس پشت ڈال کر ایک عیار، مکار، دھوکہ باز، رشوت خور، کرپٹ اور ذاتی شاہی محل ،شاہی گاڑیاں، شاہی اخراجات، فیکٹریاں، ملیں ، کارخانے، زمینیں یعنی ہوس پرست ، زر پرست اور زن پرست درندے بن چکے ہو اور ہجوم کرگساں کی طرح اس ملکی خزانہ پر امنڈتے ، نوچتے پھرنے میں ہمیشہ مصروف رہتے ہو اور مخلوق خدا کے ساتھ ناانصافی ، وعدہ شکنی او ر ان کی کٹیا کو بھسم کرنے والے اور ان کے منہ سے لقمہ چھیننے والے دہشت گردہو ۔ تمہارے لئے اللہ کا فرمان پورا ہوگیا کہ دھوکہ دینے والے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا دھوکہ ہو سکتا ہے کہ اس کو دھوکے کے عمل میں ملوث کر دیا جائے اور ساتھ ہی ایک دن اسکی پکڑ کا بھی آجائے ۔ لیکن ان تمام بد کرداریوں ، نا انصافیوں، اور اتنے بڑے معاشی تفاوت کے عبرت ناک عمل کا حساب کس نے بے باک کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے حساب لینا بھی اچھی طرح سے جانتا ہے ۔ ظالمو !تم اور تمھاری افسر شاہی ،منصف شاہی ابھی بھی تائب نہیں ہوئے ۔ ابھی بھی ایک لامتناہی، آئی ایم ایف کے قرضوں اور مالی وسائل سے ہولی کھیلنے کے لئے دوبارہ کوشاں ہو ۔ تمہیں اس ڈراؤنے عمل سے خوف نہیں آتا ۔ تم اور تمہاری پسندیدہ افسر شاہی اس ملکی دہشت گردی ،رشوت، کمیشن ، کرپشن اور مساوات کشی کے جرائم کو کہاں تک آگے بڑھا تے جاؤگے ۔دستور مقدس کے نفاذ کو تم لوگ کب تک پس پشت ڈالتے رہو گے۔
جمہوریت کے پجاریو ! اور ان کے مقبول و محبوب پسندیدہ افسر شاہی کے ٹولے ! اپنے عبرت ناک انجام سے دو چار ہوتے تمہیں واضح دکھائی نہیں دے رہا ۔ رسول ہاشمی ﷺ کی یہ پیاری امت ہمیشہ سچائی، راستگی، دیانت داری اور مخلوق خدا کے ساتھ انصاف اوراس کے بتائے ہوئے آئین مقدس پردل و جان وار دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔ اے ملک میں مثالی مینڈیٹ حاصل کرنے والو ! یہ تمہاری ذاتی خوبی نہیں تھی کہ یہ چودہ کروڑ کلمہ گو عوام کے ساتھ وہ واضح اور روشن تین وعدے تھے جو تمہاری اس عظیم کامیابی کی وجہ اور وسیلہ بنے۔ اور یہی عہد شکنی ،دھوکہ بازی تمہاری تباہی کا باعث بنی ۔
۱۔ پیپلز پارٹی کے کرپٹ جوڑے ، اس کے نادر شاہی لٹیروںکی لوٹ کھسوٹ، صدر،گورنروں، اور وزیروں، مشیروں، سرکاری اعلیٰ بیوروکریسی اور تمام ایم پی اے ، ایم این اے، سینیٹروں، افسر شاہی، منصف شاہی اور ہر قسم کے فراڈوں میں ملوث افراد کا کڑا احتساب کرنے کا وعدہ توتمہیں یاد نہ رہا ۔ سرے محل سے لے کر ، وزیر اعظم ہاؤس میں ۔ ریس کورس گراؤنڈ،اور سٹیل ملز،اور ہر قسم کے سرکاری خزانے اور وسائل پر ڈاکہ زنی ، ہر قسم کی کرپشن رشوت اور کمیشن کی تمام وارداتوں کو عوام کے سامنے لانے کا وچن کہاں گیا ۔ وہ کرپشن کے ٹی وی بلٹن کہاں گئے اور ان سے تمام یہ ملکی دولت واپس لینے کا وعدہ کہاں غائب ہو گیا اور اس سے ملک کے قرضے اتارنے کی نوید کہاں غائب ہو گئی۔ عرصہ تین سال تک یہ نورا کشتی تم حسب عادت لڑتے رہے۔
۲۔ ہم مغرب کے کسی ملک یا آئی ایم ایف سے ادھار کی خیرات نہیں مانگیں گے ۔ اور کشکول توڑ دیں گے اور اپنے وسائل سے اپنے ملک کا نظم و نسق چلائیں گے‘ کہاں تک اس پر عمل کیا۔تمہارے ضمیر کی یاداشت سے یہ وعدے کیسے غائب ہو گئے۔ اے سیاستدانو تمہارا دین مذہب کیا ہے؟ یہ طرز حیات اپنانے کے بعد تم کیا کہلا سکتے ہو؟ مسلمان ،کافر یا منا فق؟ اپنے فیصلہ سے ملت کو خود ہی آگاہ کر دوتا کہ لوگ تمہیں اس نام سے پکاریں۔
۳۔ ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہو گا اور اس کے مطابق سزائیں دی جائیں گی ۔ معاشرے میں ہر قسم کی برائی ختم کی جائے گی اور عدل و انصاف اور ملک کے تمام قوانین ، دستور مقدس کی روشنی میں قائم کئے جائیں گے۔ کہا ں گئے تمہارے منشور کے یہ وعدے۔ وراثت میں ملا ہوا تفاوتی تنخوا ہوں اور انگنت سرکا ری سہو لتوں کا سسٹم اور وہی رشوت، کمیشن، لوٹ مار اور ملکی خزا نہ اور وسائل لوٹنے والی سیاہ کاریاں اور 97 فیصدملکی بجٹ ہضم کرنے والی پالیسیاں۔وہی وزیر اعظم ہاؤس،وہی صدر مملکت کا قلعہ ،وزیروں، مشیروں ا ور افسر شاہی کے مزین شاہی محلوں اور اعلیٰ شاندار بلڈنگوں پرمشتمل سرکاری دفاتر ۔ وہی شاہی اخراجات ۔وہی غاصبانہ طریقہ کار۔ اس طر ز حیا ت سے تم اور تمہاری افسر شاہی، منصف شاہی اپنا مقدر تو بدل سکتے تھے ۔ملک و ملت، کسانوں ،مزدوروں اور غریب عوام کا نہیں۔مسلمان کا عملی کریکٹر تو اپنا کر ملت کو دکھا دیتے۔کوئی دنیا کی طاقت آپ کو اور آپ کے رفقا کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھ سکتی۔
جمہوریت کے بازی گروں نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ یہ سلوگن تیار کئے عوام الناس کو اس دھوکے سے اعتماد میں لیا ۔ لوگ ایک بار پھر قائد اعظم ؒکی مسلم لیگ کے دھوکے میں آ گئے ۔ لوگوں نے ان دعدو ں کی روشنی میں جس انقلاب کا ڈھانچہ اپنے ذہنوں اور دلوں میں ترتیب دیا ۔ اس کو پاش پاش ہوتے۔ عوام پورے تین سال اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے رہے اور عملی طور پر منافقت کے جابر، ظالم، دہشت گرد ، لوٹ کھسوٹ، ڈاکے، قتل و غارت، اجتماعی بے حرمتیوں کی چتا،عدل و انصاف کی محرومی، تھانوں، عدالتوں، انتظامیہ اور ملک کے تمام سرکاری اداروں کے کارندوں نے مزدوروں، ہنر مندوں، تاجروں، پڑ ھے لکھے طبقہ اور عوام الناس کو طرح طرح کی اذیتوں ٹیکسوں،بلوں اور مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کر دیا ۔بے بس ، بے کس، محروم، مظلوم نادار، اپاہج ، بیروزگار ۔بیوہ ، یتیم اور ملک کے ۷۰فی صد کسانوں ، مزدوروں اور ۲۹فیصد غریب عوام کو ان گنت ٹیکسوں، کی آگ کے الاؤ میں جھو نک دیا اور ان کے چھوٹے چھوٹے کھلیانوں کو بھسم کرنے کا عمل ملک میں جاری کیا۔ اس ضمن میں کئی نئے ابواب رقم کئے ۔ ہر کس و ناکس کے لئے جینا موت سے زیادہ تلخ بنا دیا ۔ تم سب معاشی قاتلوں نے وراثت میں ملے ہوئے تفاوتی نظام اور سسٹم کے تحت اپنی بڑی بڑی غاصبانہ تنخواہوں ، اور بے پناہ سرکاری سہولتوں سے ، ملکی خزانے کو اپنی شاہ خرچیوں کا ایندھن بنایا اور معاشی انصاف کو اپنی انتظامیہ ، اور عدلیہ کے تعاون سے بالکل ویران کر دیااور ۹۹ فی صد عوام الناس کا معاشی قتل کر کے انکے لئے زندگی کے سانس کو جاری رکھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا اور یہ لوگ سسک سسک کر اندوہناک موت کے عمل سے دوچار ہوتے گئے ۔ اقتدارکے اعلیٰ منصب کو ذاتی منفعت اور کاروبار کے لئے استعمال کیا ۔قدرت نے ان کے باطل جمہوری نظام ، ان کے دھوکہ سے حاصل کئے ہوئے اقتدار، اور ان کی حکومت ، اور ان کی عیش و عشرت کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے بارہ اکتوبر ۱۹۹۹ کے دن کو وقت کے عبرت کدے میں ان سب کے انجام کا دن مقرر کیا۔
ان کی تمام تد بیروں کی شمعوں کو فطرت نے ایک ایسا خاموش میزائل ، ان کے خرد کدے میں پھینکا کہ ان کے اقتدار کی روشنی کو زوال کے لاامتناہی گھپ اندھیروں میںہمیشہ ہمیشہ کیلئے غرق کر گیا۔ ہزار بارہ سو ایم پی اے۔ ایم این اے۔ سینیٹروں۔ یعنی ان تمام ا پنے اپنے علاقے کے لیڈران کے ہجوم،یعنی کرگسوں، گدھوں، درندوں، بھیڑیوں کواللہ تعالیٰ نے ایک ایسے فوجی رہبر سے واسطہ ڈال دیا۔اور فطرت نے اسکو بھی اسطرح کے حا لا ت سے دو چار کر دیا کہ ان تمام غاصبوں کا احتساب کر نا وقت اور حا لات کی مجبو ری بن گیا ۔ فطرت کے اس خا مو ش میزائل نے پاکستانی عوام کو ان خوفناک جھوٹے، دھوکہ باز، فریبی، ظالموں، فاسقوں، فاجروں، دہشت گردوں،منافقوں،معاشی،معاشرتی قاتلوں ،اقتدار اور ملکی وسائل پر غاصب ، جابر ، حکمرانوں کو تو وقت نے ساز خاموش کی طرح اپنی آغوش میں لپیٹ لیا ۔عبرت گاہ میں ان کے نام تاریخ کے اوراق میں جلی حروف میں ہمیشہ کیلئے درج ہو گئے۔لیکن صد افسوس ابھی تک ہم پر وہی غاصب نظام اور وہی کرپٹ سسٹم مسلط ہے ۔ جو اپنے پیرو کاروں کو نگلتا اور ملک و ملت کو روندتا چلا جا رہا ہے۔
جمہوریت کے ماموں جان تو نشان عبرت بن گئے لیکن ان کے بھانجے یعنی افسر شاہی، منصف شاہی جو ان کی جمہوریت کے طریقہ کار اور نظام سر کار کے سسٹم کے اہم اداکار جو ان کی باطل غیرمنصفانہ پالیسوں کے اصل خالق، ملک میں قانون سازی کے میرِ کارواں، مدبر، اعتدال اور مساوات کے دشمن،رشوت،کمیشن کے کنٹرولر جوان کے تمام جرائم کے ساتھی اور محافظ ، جو عوام کو آزادی جیسی دولت، عدل و انصاف جیسے بنیادی حقوق ، معاشرے میں ختم اور نابود کرنے کے مجرم۔ ہر اہل اقتدار سے مل کر معا شرے کے امن کو آہنی ہا تھوں سے مسخ کرنے والے یہ دیو، ملک کی معیشت کو چاٹنے والے ہاتھی، جن کی طاقت کو ہر دور میں دوام رہا اور ہر نئی حکومت کے یہی اعلیٰ انتظامی ڈھانچے کے پالیسی سازوں، ہنر مندں، عقل مندں، دانشو رں، ہر شعبہ کے فن کے بہترین، اعلیٰ ترین، جمہوریت کی گاڑی کے اوزار۔ مغربی طرز کی تربیت گاہوں، اکیڈمیوں کے تربیت یافتہ ماہرین ،کافرانہ، ملحدانہ جمہوریت کے اداروں کو چلانے والے بے دین ظالم منتظمین ، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سیاست دانوں، حکمرانوں، صدرمملکت، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، گور نروں، وزیروں، مشیروں، اسمبلیوں، یعنی ملک کے ہر انتظامی امور کو چلانے والے مدبر، حکمرانوں کے یہ سپہ سالار، یعنی سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری، جائنٹ سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری، سیکشن آفیسرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، کمشنرزاور دنیا کے تمام مما لک میںپھیلے ہوئے فارن آفس کے یہ نائب، مصاحب یعنی ملک کے سرکاری محکموں اور بیرون ملک کے کرتا دھرتا، تمام اداروں کے نیچے سے لے کر اوپر تک ملکی انتظامی ، مشینری کے اصل حکمران،جو اسلام کے باغی اور منکر نظام کے سکالر‘مغرب کے دانشکدہ کے مفکر‘ اس غاصب اور بے دین نظام اورسسٹم کے رکھوالے، دستور مقدس کے نفاذ کی راہ میںپہلی اور آخری رکاوٹ بنے بیٹھے ہیں۔
یہ منظم اور متحد ٹولہ ہر حکمران کی تباہی کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔ہر نئے آنیوالے حکمرانوں کو اس کرپٹ نظام کی افسر شاہی، راشی طریقہ کار کی نوکر شاہی، عدل کش سسٹم کے منصف ورثہ میں ملتے چلے آ رہے ہیں۔ہر نئے حکمرانوں کے دونوں ہاتھ اس نظا م اور سسٹم کی ہتھکڑیوں کی آہنی گرفت میں بندھے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے سامنے چوں چراں کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ملک کے تمام انتظامی امور اور بیرونی پالیسیاں وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کرپشن کے باب واکئے جاتی ہیں۔ اس کرپٹ نظام اور سسٹم کے ایک راشی پٹواری کی کروڑوں کی جائیداد اور بنک بیلنس پکڑ کر ماشل لا اتھارٹی نے ضبط کئے ہیں اور قید کی سزا بھی دی گئی ہے۔اس نسل کے پٹواریوں کی ایک خاص تعداد پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہر محکمہ میں موجود ہے۔ ان کو کھلا چھوڑنا اس پٹواری کے ساتھ ظلم ہو گا۔اگر اس نسل کی افسر شاہی، نوکر شاہی اور منصف شاہی کے حساب کتاب چیک کئے گئے تو انکے کروڑوں کی نہیں اربوں کی جائیدادیں اور بنک بیلنس روز روشن کی طرح نظر آئیں گے۔ انکی تنخواہ انکے شاہی اخراجات کا ایک دن بھی نہیں گذار سکتی،ان کے بچوں کی فیس اور اخراجات ہی اس سے ادا نہیں ہو سکتے۔ انکی کرپشن اور انکے نظام اور سسٹم کو ختم کر دو۔ ملک کا قرضہ اترنے میں دیر نہیں لگے گی جو ملک خوراک،لباس،پھل،میوہ جات اور ہر قسم کی ضروریات میں خود کفیل ہواسکے وسائل کا ۹۷ فیصد بجٹ اس کرپٹ نظام اور سسٹم کی بھینٹ چڑھ جائے ،غیر ملکی قرضے بھی ہضم کر جائے،لا تعداد ٹیکسوں اور بے پناہ منی بجٹوں کے اضافوں اور مہنگائی سے اکٹھی کی ہوئی ۱۴ کروڑ عوام کی د ولت بھی نگل جائے تو اس کرپٹ نظام اور سسٹم سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
انگریز کا انتظامیہ کا نظام، عدلیہ کا منصفی سسٹم پوری طرح نا کام ہو چکا ہے۔ اس ملک کو نہ اس افسر شاہی کی ضرورت ہے نہ منصف شاہی کی۔نہ انکے راشی افسر شاہی تیار کرنے والے تعلیمی اداروں کی۔ ان کرپشن کی زنجیروں کو توڑنا اسلامائیزیشن کی طرف پہلا اور آخری قدم ہو گا یہ بم بلاسٹ کتنے سیانے اور سمجھدار ہیں کہ وہ انکی طرف رخ ہی نہیں کرتے۔معصوم،بے گناہ عوام کے پرخچے اڑاتے ہیں۔اس انگریز کے ۱۸۵۷ ء کے مروجہ نظا م اور سسٹم کو ختم کردو، ملک میں قتل و غارت،جعلی پولیس مقابلے ، عدل کشی اور ہر قسم کے دھماکے ختم ہو جائیں گے۔ ملکی وسائل ،خزانہ اور حکمران بھی بچ جائینگے اور چودہ کروڑعوام بھی محفوظ ہو جائے گی۔ملک و ملت کو حضوﷺ کے میخانے کی مے پلا دو،شفا نصیب ہو گی۔ورنہ یہ کالے انگریز ملک و ملت کو تباہ کر دینگے۔
اسلام کی روشنی میں خلیفہ وقت اور حکومتی نظام کے چلانے والی انتظامیہ کے معاونین کے اخراجات اور بود و باش کا یہ معاشی رہزن ٹولہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔انکے کافرانہ نظام اور سسٹم کی موت اسلام کا جام نوش کرنے سے ہو گی۔ اسی لئے شرعی نظام انکے نزدیک نعوذ با اللہ قابل عمل نہیں۔انشا اللہ اب اس مقدس نظا م کی راہ میں کوئی مداخلت اور رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ان کا مروجہ نظام اپنی زندگی کے ایام پورے کر چکا ہے۔ملت کا یو م نجات کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔
یہ دانش زادے، یہ سی ایس ایس زادے، یہ پیر زادے ، یہ جاگیر زادے ، یہ خان زادے، یہ نواب زادے، یہ سردار زادے، یہ سرمائے دار زادے ، یہ حکمت زادے، یہ عقل زادے،یہ علم زادے،یہ انگریز زادے،یہ مغرب زادے،یہ محکمہ زادے،یہ کوٹھیوں زادے یہ کاروں زادے، یہ ٹیلی فون زادے، یہ محلوں زادے، یہ رشوت زادے، یہ کمیشن زادے، یہ کرپشن زادے، یہ برہمن زادے، یہ عدل زادے، یہ منصف زادے،یہ شیور زادے، یہ شدادزادے، یہ فرعون زادے یہ نمرود زادے ،یہ قارون زادے، یہ عبرت زادے ، یہ عیش زادے، یہ عشرت زادے ، یہ معاشی غاصب، یہ معاشرتی دہشت گرد ،یہ ملی مجرم۔ یہ دینی مجرم۔یہ انسانی شکل میں فطرتی،اخلاقی،روحانی اور دینی اقدار کو روندنے والے دہشت گرد درندے۔ ملت کے ہونہار طالبعلم،قائد اعظم ؒکے پروانے انکے شکنجوں کو مزید برداشت نہیں کرینگے۔
یہ پبلک سروس کرپشن کی سلیکشن کے شاہکار یعنی افسر شاہی ، یہ ملک کی سپر نیچرل مخلوق، جو چودہ کروڑ عوام کے لئے عذاب الٰہی بن کر اس ملک کے جمہوری نظام حکومت پر چھائے ہوئے ہیں ۔ملک کے تمام شعبوں کی انتظامی اہم پوسٹوں پر ، اوپر سے نیچے تک، قابض، اور نافذ، ہوتے چلے آ رہے ہیں ۔ کلیریکل سٹاف، جس پوسٹ پر بھرتی ہوتا ہے ۔ اسی پر ریٹایئر ہو جاتا ہے ۔ ان کے ترقی کے تمام دروازے ایک ایک کرکے اپنے اقتدار کی نوک پر ان پر بند کر دیئے ۔یہی طبقہ یعنی جونےئر کلرک ، سینئر کلرک، ہیڈ کلرک، سپرنٹنڈنٹ، سرکاری فرائض،ملکی سطح پر سرانجام دینے کی پوری قدرت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ انکو یہ سرکاری فرائض اپنی قومی زبان اردو میں سرانجام دینے کی اجازت ہو ۔ تو ۹۹ فیصد عوا م کی مشکلات بھی آسان ہو جائیں اور ملک کا کام بھی ایمانداری ،دیانتداری اور تیزی سے رواں دواں ہو نا شرو ع ہو جائے اور ملک کا ۹۷ فیصدی بجٹ حکمرانوں اوراس افسر شاہی کی ازخود منظور کی ہوئی بڑی بڑی تفاوتی تنخواہیں، بے شمار سرکاری سہولتیں ، شاہی محلوں اور شہنشاہی بڑی بڑی بلڈنگوں پر مشتمل دفاترکے اخراجات سے بھی نجات مل جائے گی۔
اس غا صب نظام اور کرپٹ سسٹم کو دین کے میزان سے گذار دیا جائے تو دین کی قوت بھی بحال ہو گی۔ ان سیاستدانوں ، حکمرانوں اور افسر شاہی کی اجارہ اری بھی ختم ہو جائے گی اور اس ظالم ، بدبخت، غاصب ، مغرب پرست انسانیت کش طبقوں سے ملت کو چھٹکارا بھی نصیب ہو جائے گا۔ اس باطل،غاصب نظام اوراس کرپٹ،رشوت خور،کمیشن خور اوربریف کیس مافیا سے لو ٹا ہوا ملی خزانہ ،وسا ئل اور تمام ملکی اور غیر ملکی قرضوں سے بنائی ہوئی ہر قسم کی جائیدادیں،ملیں،فیکٹریاں،کارخانے،جا گیریں،کاریں، کو ٹھیاں، محل، اندرون اور بیرون ممالک کاروبار حکومت پاکستان کے نام ضبط کر کے ، انکی شاہ خرچیوں کو فوری طور پر بند کر کے، انکو کیفر کردار تک پہنچانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔اگر اب بھی ان کا احتساب عمل میں نہ لایاگیا تو پھر یہ ایسے حا لات پیدا کر دینگے کہ فوج منہ دیکھتی رہ جائیگی۔ٹیکس کلچر کو اپنی عیاشیوں کیلئے فروغ دینگے۔اور اس فوجی قیادت کا وہ حشر کر ینگے جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ مشرقی پاکستان کی یاد لوگ بھول جائیں گے خدا ایسا نہ کرے (آمین)۔


فوجی حکمرانوں کو عوام کی بات سننی ہو گی۔عوام کے دلوں میں اپنی عزت اور ادب بحال رکھنا ہو گا۔ان سے لوٹا ہو ا خزانہ اور دولت واپس لینا اور ملکی خزانہ میں جمع کروانا ہزار سال کی عبادت سے بھی افضل ہے۔عوام ان چند رہزنوں اور معاشی قاتلوں کا انجام دیکھنا چاہتے ہیں۔اس انگریز کے مروجہ نظام اور سسٹم کوجو انہوں نے ایک مفتوحہ ملک کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کے لئے تیار اور مسلط کیا تھا ۔اس سے نجات حاصل کرنا وقت کا اہم تقاضا بن چکاہے۔ ان کی لوٹی ہوئی عیاشیاں توواپس نہیںلی جا سکتیں۔فوری طورپر ان سے اور انکی تفاوتی تنخواہوں، تفاوتی سہولتوں،تفاوتی شاہی رہائشوں،سرکاری شاہی گاڑیوںاور پٹرول کے روز مرہ کے اخراجات کے عذاب سے سرکاری خزانہ اور ملکی وسائل کی امانتیں بچائیں اور محفوظ کریں۔ اس سے ملک و ملت کے قرضے بھی ادا ہونگے، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا اور آئی ایم ایف کے دروازے پر بھیک مانگنے کی دستک بھی نہیں دینی پڑے گی۔ملک میں عد ل و انصا ف قا ئم ہو گا۔
ان جاہلوں، ظالمو ں، غاصبوں اور انسانیت کی فطرتی اقدار کے علم سے محروم ، اسلام کے اخلاق، اقدار، کردار کو روندنے والے بد نصیبوں،دین کے منافقوں، انصاف کے میزان کو ریزہ ریزہ کرنے والے دہشت گردوںسے نجات بھی مل سکے گی۔ ملک کے تمام سرکاری اورغیرسرکاری محکموں اور اداروں میں تعلیم،سائنس،زراعت، انڈسٹری ، اکنامکس ،ہیلتھ ، فنانس ، بینکنگ اور تمام شعبوں کے اعلیٰ تعلیم یا فتہ ،پی ایچ ڈی ، ماہرین جن کی یہ عزت نفس کو بری طرح مجروح ہی نہیںبلکہ انکو اقتدار اور ملک میںمکمل کنٹرول حاصل ہونے کی وجہ سے سرکاری فرائض کی ادائیگی میں بری طرح حائل اور گدھوں کی طرح ہانکے پھرتے ہیںانکی تبدیلیاں،انکی ترقیاںاورسروس کے ہرقسم کے معاملات خرید و فروخت اوردیگر پا لیسیاں انہی کرپٹ ،رشوت خور،کمیشن خور افسر شاہی کی گرفت میں دے رکھی ہیں۔اس طرح اس جاہل طبقہ کی پو رے ملک میں اجا رہ داری قائم ہو چکی ہے۔کمال ہنرمندی سے وہ ملک کے سیاہ و سفیدکے مالک بن چکے ہیں۔ ان رہزنوں سے ان کو نجات دلانابے ریا عبادت سے کہیں بہتر ہے۔ملکی شعبہ جات کے سدھارنے کی چند تجاویز ملاحظہ ہوں ۔: ۔
۱۔ صحت کے محکمہ کا انتظام صحت کے متعلقہ جتنے بھی امور ہیں ڈاکٹروں سے بہتر کون جان سکتاہے۔ انکی ہدایات کی روشنی میں اس محکمہ کی تمام ضروریات اور انتظامی امور اور تمام واقعات کی ذمہ داری انکو سونپنی مناسب ہو گی۔ پو سٹنگ اور ٹرانسفر کے فرائض بھی حسب ضرورت وہ انکی نسبت بہتر انداز میں سر انجام دے سکتے ہیں۔انکی کرپشن،رشوت اور اجارہ داری بھی ختم ہو گی ۔ اور محکمہ کا کام بھی درست چلے گا۔
۲۔ زراعت کے متعلق، تمام ذ مہ داریاں اسی محکمہ کے متعلقہ پیشہ ور تعلیمی اور فنی ماہرین کے سپرد کرنے سے ملک کی زرعی ترقی بڑی تیزی کے ساتھ ہو گی، کسی قسم کی انکے کام میں رکاو ٹ یا مداخلت نہیں ہو گی اور محکمہ اپنا ہدف بھی پورا کر نے کے قا بل ہو جا ئیگا پڑھا لکھا طبقہ اور اس شعبہ کے ماہرین اپنی ضرورت اور منشا کے تحت سرکاری فرائض ادا کرنے کے قابل ہو نگے اور ان راشی،بد دیانت افسر شاہی کا غیر منصفا نہ تسلط بھی ختم ہو گا ۔زرعی ماہرین اپنے جوہر دکھانے کے قابل ہو سکیں گے۔
۳۔ اینیمل ہسبنڈری محکمہ کے فرائض اس کے متعلقہ سپیشلسٹوں کے سپرد کرنے سے جانوروں کی دیکھ بھال ، انکی ادویات، علاج اور انکی افزائش نسل کے متعلق یہی لوگ بہتر جانتے ہیں۔ ان کو اپنے شعبے میں اپنی پالیسیاں خود مرتب کرنے کا مو قع ملے گا۔ اور ان فرائض کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے یہی پیشہ ور ماہرین ہی ہو سکتے ہیںانکے زیر نگرانی محکمہ کی پالیسیاں مرتب ہو نگی تو ملک میں جانوروںکی تعداد بھی بڑھے گی اور دیکھ بھال بھی بہتر ہو گی اور محکمہ سے رشوت ، کرپشن بھی ختم ہو گی اور محکمہ سے غیر متعلقہ افسر شاہی کی مداخلت بھی۔
۴۔ ایجوکیشن کے اساتذہ،پروفیسروںاورماہر تعلیم جو بہتر تعلیمی معیار،سائنس، ایگریکلچر ،صحت، خوراک، کمپیوٹر، انجینئرنگ،اکنامکس ، اکاوئنٹس اور بقایا تمام شعبوں میں جدید علوم پر مشتمل نصاب اور معیار ایک جیسامرتب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ افسر شاہی کی رکاوٹوں اور ہر قسم کی مداخلت سے نجات پا سکیں گے۔ انکی عزت نفس بھی بحال ہو گی اور انکا کھویا ہوا مقام انکو میسر آسکے گا۔ ملک تعلیمی میدان میں بہتر طریقہ سے اعلیٰ معیار قائم کر سکے گا۔ اساتذہ کرام اور ماہر تعلیم ان غا صبوں کی رکاوٹوں اور اس استحصا لی نظام سے نجات حا صل کرسکیں گے۔اساتذہ کا عزت واحترام اور ان کا معاشرے میں مقام بھی بحال ہو جائیگا۔
۵۔ اسی طرح ڈاکٹر ہر شعبہ کے امراض کے سپیشلسٹ جو ضروری اقدامات برائے علاج ،ادویات ،جدید اوزار اور اعلیٰ مشینری حسب ضرورت ہسپتالوں کی ضرورت کو مد نظر رکھ کر تیا ر کر وا سکتے ہیں ۔ جتنا یہ اپنے شعبہ کے متعلق بہتر علم رکھتے ہیں اور پوری ذمہ داری سے اسکے فرائض سرانجام دے سکتے ہیں ۔کمیشن خور ، رشوت خور افسر شاہی یہ فرائض ادا کرنے کے قابل نہیں، نہ وہ بیماری کو جانتے ہیں اور نہ ہی اسکی ضروری ادویات کو انکی انگریزی زبان کی حکمرانی کی چھڑی نے ہرشعبے کے ماہرین کو معتوب کر کے ا نکو ذلیل اور خوار کیا ہوا ہے۔بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ انکی تقرر ی، پوسٹنگ ،ٹرانسفر،انکے ہا تھ میں۔ انکے ڈائر یکٹر اور سیکرٹری یہ پبلک سروس کمیشن (کرپشن )کے ممبر اورچیئر مین یہی افسر شاہی انکی اہلیت انگلش میڈیم ادارے۔ا نکی سیلکشن ماموں بھا نجوں کے رشتے،نا طے، طبقاتی شاہی انگلش میڈیم ادارے، یہ طبقا تی نسل ملکی خزانہ کی دیمک ہے، یہ انگلش میڈیم کی بے حس، بے رحم چھڑی انسانوں کو گدھو ں کی طرح ہانکے چلی جا رہی ہے ۔ملکی معیثت ،انسا نی اقدار، فطرتی حقوق، انصا ف کے میزان کو بحال کر نے کے لئے ان سے نجا ت حا صل کر نا نہائت ضروری ہے۔ روڈ ، بلڈنگ، ڈیم ، اور بڑے بڑے منصوبے جو انجینئر تیار کر سکتے ہیں۔ وہ کسی اور کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ جس کا کام اسی کو سا جھے باقی سب نادانی اور احمق پن کے مترادف ہے اور یہ کھیل ملک میں جاری ہے ۔
۷۔ ایٹمی شعبہ،ایگریکلچر کا شعبہ،انجینئرنگ کا شعبہ،ہیلتھ کا شعبہ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا شعبہ ،اکنامکس کا شعبہ ، فنانس کا شعبہ اور تمام شعبوں میں صرف اور صرف ان شعبوں کے سپیشلسٹ، ان محکوں کی ضروریات، کوالٹی، کوانٹٹی، اور اپنی لیبارٹریوں میں ضروری سامان کی اہمیت کو یہی سمجھتے اور بہتر جانتے ہیں۔ وہی اپنے اپنے شعبہ ،محکمہ کی بہتر دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ افسر شاہی کی مداخلت اور بے جا التوا کا عمل ختم ہو جائے تو یہی لوگ عمل کے معجزات دکھا سکتے ہیں۔ان حکمرانوں اور افسر شاہی کا کمال یہ ہے۔ کہ انھوں نے ملک کی تمام معیشت اور محکوں کا کنٹرول ، انکا بجٹ، اور تمام پڑھے لکھے ماہرین کو ان رشوت خوروں ، کمیشن خوروں کی زیر قیادت دے کرانکے ساتھ بہت بڑی زیادتی ، ناانصافی، عدل کشی اور غاصبانہ استحصالی شکنجو ں میں جکڑ رکھا ہے۔ انہوں نے آہستہ آہستہ ملک کے تمام محکوں کی پوسٹوں کو اپ گریڈ کروا کر ان پر نابلد، نااہل، محکمہ کی کارگزاری سے بالکل ناواقف، محکمہ کی بنیادی پالیسیوں اور اصل حقائق سے محروم، سال ہا سال سے محکموں کے تجربہ کار اہل کاروں کی ترقیاں بند کرکے ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے والے یہ قانونی دہشت گرد ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک ان کی تعداد گن لو، انکے دفاتر اور انکی کو ٹھیوںپر ٹیلیفونوں کی تعداد کی گنتی کر لو، ٹیلیفون ڈائرکٹریا ں انکے ناموں سے بھری پڑی ہیں۔ ملک کے تمام محکموں پر انہوںنے اپنی گرپ اور گرفت قائم کر کے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور ملک کے وسائل اور خزانہ من مرضی کی پالیسیاں مرتب کر کے لوٹے جا رہے ہیں ۔
یہ سپر نیچرل مخلوق اپنی من مانی پالیسیوں کو اپنی منفعتوں کے لئے ملک میں مروج کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ ان کی اہلیت ملک کے اعلیٰ انگلش میڈیم ادا رے ،یہ حقیقت روز رو شن کی طرح واضح ہے کہ جو بچے میٹرک میں لائق فائق ہوتے ہیں وہ انجینئرنگ ، میڈیکل، زراعت،سائنس، کمپیوٹر یا اکاؤنٹس کے شعبوں میں اہلیت کے تحت داخلے لے کر اپنی اپنی متعلقہ فیلڈ میں چلے جاتے ہیں یہ اوباش ذادے ،بی اے، ایم اے کرکے سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے ملک کے حکمران طبقے میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی کامیابی کی کنجی انکی انگلش زبان پر فوقیت اور انکے آباؤ اجداد کا طبقاتی اثر و رسوخ ہوتا ہے وہ ڈاکٹر ہوں ، انجینئر ہوں یا فوج میں کیپٹن ان کے تعلق ان کو اس کرپٹ افسر شاہی میں پہنچا دیتے ہیں۔وہ افسر شاہی کی غاصب برتری کی وجہ سے وہ اپنے پیشوں کو حقیر اور بیکار سمجھ کراس لوٹ کھسوٹ والے کرپٹ سپر نیچرل حکمران ادارے میںپہنچ جاتے ہیں۔اسی تعلق کی طاقت کی بنا پر وہ حسب مرضی اپنی پوسٹنگ کروا لیتے ہیں ۔ہر حکومت اپنی من پسند اور قابل اعتماد افسر شاہی ٹولے کو اپنے گرد اکٹھا کر لیتی ہے۔انکے تعا ون سے ہر جا ئز و نا جائز طریقوں سے معاشی اور معاشرتی فوائد حاصل کرتی اور حکومتی کارو بار چلاتی ہے۔
یہ افسر شا ہی ملک کے تمام محکوں کے فرائض کی ادائیگی میںاپنی غا صبانہ اجارہ داری کی وجہ سے بری طرح حائل ہو چکی ہے۔ ملک کے تمام محکموں میں ہر قسم کی تقرریوں، تبدیلیوںاور طرح طرح کی انتظامی پیچیدگیوں ، اذیتوں، پریشانیوں اور التوا کی تلواریں اس افسر شاہی کی ہر وقت سرکا ری اہلکا روں کے سروں پر لٹکتی رہتی ہیں۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری بیشتر افسر شاہی ہمارے جاگیرداروں، سرمائے داروں، سمگلروں، رشوت خوروں، سیاست دانوں اور اہل اقتدار ممبروں ، مشیروں ، وزیروں ، وزیراعلیٰ، وزیراعظم، گورنروں اور صدر مملکت اور ان بڑے لوگوں کی طبقاتی انگلش میڈیم اداروں کی فارغ التحصیل اولادوں پر مشتمل یہ سرکاری اعلیٰ طبقہ سفارشوں اور سیاسی رشوتوں کی پیداوار ہے۔ ہر حکومت وقت اپنے پسند کے لوگوں کی تعینا تیاں اقتدار کی نوک پر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہ حکمران دہشت گرد مافیا اور ۹۵ فیصد کرپٹ افسر شاہی ملک کا ۹۷فیصدی بجٹ اور تمام آئی ایم ایف کے قرضے انہی غاصب ، جمہوریت پسند سیاستدانوں ، حکمرانوں سے مل کر لوٹتے چلے آرہے ہیں ۔ ان کی بڑی بڑی تنخواہیں ، بڑی بڑ ی کوٹھیاں، بڑے بڑے عالیشان دفاتر، بڑی بڑی گاڑیاں، ٹیلیفون اور بے شما ر سرکاری سہولتیں ،علاوہ ازیں ، ہر قسم کی رشوت، کمیشن اور کرپشن کے کالے قانون انھوںنے رائج کر رکھے ہیں۔ان کے جرائم کی منہ بولتی گواہیاںانکی کوٹھیاں ، محل، پلازے، بڑی بڑی گاڑیاں، جدید مزین دفاتر اور گھر اور اندرون بیرون ممالک فیکٹریاں ، ملیں، کارخانے ، بینکوں میں ڈالر ، ظاہری آمدن سے بڑھ کر شاہی اخراجات، شباب، شراب، کباب، زنا، بڑے بڑے کلبوں کی ممبر شپیںاور بڑے بڑے اداروں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے اخراجات ملکی بنک ہضم، غیر ملکی قرضے ہضم، ملک کے تمام وسائل ہضم، ملک کا مکمل خزانہ ہضم۔ یہ دہشت گرد طبقہ چودہ کروڑعوام کو ٹیکسوں بجلی،پانی کے بلوں اورمہنگائی کی ان ٹکٹکیوں پر لٹکاکر خون چوستے چلے آرہے ہیں۔ یہ ملی، ملکی مجرم، یہ حکمران ،یہ افسر شاہی،یہ سرمائے دار، یہ جاگیر دار، یہ سیاستدان، انکا احتساب کون کرے گا یہ محتسب، یہ نظام ، یہ سیاسی حکمران، ہرگز ہرگز انکا احتساب نہیں ہو سکتا۔ جب تک ان محتسبوں اور اس بریف کیس مافیا سے نجات دلا کر انکو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا ۔
جب تک کوئی حاکم وقت عدل و انصاف اور مساوات نہیں کرنا چاہتا اور دستور مقدس کا نفاذ نہیں کرتا۔ اس وقت تک یہ انگریز کے پالتو بھیڑیے، یہ درندے ملک میں اسی طرح دندناتے پھریں گے۔ یہ جمہوری نظام انکی ایسی آماجگاہ ہے ۔جہاں یہ اور انکا نظام آکاس بیل کی طرح پنپتا رہتا ہے اور کینسر کی طرح پورے معاشرے میںپھیل چکا ہے انہی اذیت ناک ہاتھوں نے اپنے انہی غاصبانہ طور طریقوں سے پہلے مشرقی پاکستان کو نگل لیا۔ اب اس سے بڑھ کر پاکستان کے حالات زیادہ خوفناک صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔ ملت کو صرف اور صرف کلمہ شریف ہی وحدت کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔دستور مقدس ہی ان جابر دہشت گردوں کے نظام کو درست کر سکتا ہے۔ جمہوریت کے سیاسی بھگیاڑوں اور افسر شاہی کے بھیڑیوں سے نجات حاصل کر لو ، ملک بچ جائے گا۔ ملک کے قرضے اتر جائیں گے،عوام اپنے وسائل میں بہتر زندگی بسر کریں گے، ملک ترقی کرے گا، عوام سکھ کا سانس لیںگے،سیاستدانوں کی بجائے دین سے آگاہ اور صالح لوگوں کو حکومتی مشینری میں لانا ضروری ہے۔ انصاف کو عدالتوں کے طبقاتی عادلوں اور بریف کیس مافیا سے نجات حاصل کر کے مسجد کے صحن تک عدل و انصاف کے شعبے کو پہنچا دو۔ دین کی روشنی میں انصاف مفت مہیا کرنا بھی ضروری ہے۔ افسر شاہی سے نجات حاصل کرنے سے مغرب کی طبقاتی تعلیم بھی خو د بخود اپنے انجام کو دیکھ لے گی۔ رشوت کمیشن کرپشن اور ہر طرح کی برائی ختم ہو گی۔ ملک میں ان درندوں ، بھیڑیوں ، بھگیاڑوں ، گدہوں ، کرگسوں کا ہجوم بھی نا پید ہو گا۔ ملت، اسلام کی روشنی میںاخلاقی اقدار اور حسن کردار کے عمل سے وقت کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے معجزے خود بخود اجاگر اور سر زد ہوتے رہیں گے۔انکی تربیت مغرب کی مادر، پدر آزاد ، بنیادوں پر ہوئی ہے۔اسی لئے اسلام انکے نزدیک نعوذباللہ ایک فرسو دہ نظام ہے۔کفر کے ظلمات میں ڈوبے ہوئے لوگوں کواسلام کے نور اور اسکی روشنی کے متعلق رائے پیش کرنے کا حق نہیں بنتا۔
کیسی حیران کن بات ہے کہ یہ انتظامی عہدے، کرپشن ،رشوت،اور معاشرے میں موثر ہونے کی وجہ سے ان پر جاگیر داروں ، سرمائے داروں، سیاست دانوں اہل اقتدار اور افسر شاہی کی اپنی ہی اولاد وں کی تقر ریا ں ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ان حکمرا نوں اور قانون سازوں نے اب تو ڈاکٹروں، انجینروں، فوجی افسران کو بھی ادھر کھینچ کراسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کمشنر، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ متعین کروانے کا نامناسب اور غیر قانونی اور بد ترین ناانصافی کے عمل کو قانونی حیثیت دے کر اپنی گرفت مضبوط کر تے چلے آ رہے ہیں۔پاکستان کو معرض وجود میں آئے ۵۳ سال گزر چکے ہیں ان برہمن ذادوں کو ہر بدی، ناانصا فی، عدل کشی،بے رحمی، ظلم ،زیادتی،دہشت گردی، لوٹ کھسوٹ ، رشوت، کمیشن،سفارش، کرپشن ، شراب،شباب، کباب، زنا، شاہانہ زندگی گزارنے اپنی آمدن سے بڑھ کر عیش و عشرت ، فضول خرچیوں، اور ہر قسم کی بدکرداری، بے پناہ سرکاری سہولتوں کے ناجائز استعمال پر کسی نے نگاہ ڈالنے کی اس منظم با اختیار طبقہ پر جرأت نہیں کی ۔
ملک کا ستانوے فی صد بجٹ اور غیر ملکی قرضوں کا وافر حصہ، ان کی تنخواہوں، ان کی بے شمار، سہولتوں اور ان کے بے پناہ ناجائز طریقوں پر مبنی کرپشن، رشوت ، کمیشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ ان اعلیٰ افسر شاہی کی اولادوں کی شادیوں پر ، دس دس ہزار لوگوں کی شمولیت، کئی لاکھ روپے کی سونے کی تاروں سے مزین ان کی بہو بیٹیوں کے دوپٹے اسی اسلام آباد کے وسنیکوں کو حیرت زدہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یاد رکھو ! یہی افسر شاہی طبقہ ملک کے خزانے کو لوٹنے اور اس ملک کی ترقی میں بری طرح حائل ہے ۔ ملک کا تمام بجٹ سیاست دانوں اور ان کی تنخواہوں، ٹیلی فونوں ، سرکاری گاڑیوں، سرکاری رہائش گاہوں، اعلیٰ جدید ڈیکوریشن سے مزین دفاتر،ان کے ٹی اے، ڈی اے، اندرو ن ملک اور بیرون ممالک، سرکاری اخراجات پر ان کی ٹرینگیں، میڈیکل چارجز اور ان گنت سہولتوں، رشوتوں، کمیشنوں اور کرپشن کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ۔ ان کو اس سے قبل کبھی کسی حکومت نے ان کی گردن پر اس طرح ہاتھ نہیں رکھا ۔ جس طرح کہ موجودہ فوجی حکمرانوں نے ان کو اپنی گرفت میں لیا ہے اور اب وقت اپنا تقاضا لے کر ان کے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔
یہ جتنے بے رحم ہیں اتنے ہی بزدل بھی ہیں، ان کی مرضی کے خلاف تبدیلی جہاں رشوت، کمیشن، سمگلنگ یا انکے اختیارات کا دائرو اختیار انکے مطابق مناسب نہ ہو۔ تو ان کا نروس سسٹم بے کار اور اپاہج کر دیتا ہے ۔ اب نہ یہ بچ سکتے ہیں اور نہ ان کا انتظامی ڈھانچہ ، نہ ان کی یہ عیش نہ ان کے عشرت کدے اور نہ ان کے بے فیض انگلش میڈیم ادارے، نہ ان کی یہ باطل اکیڈمیاںجہاں سے یہ انسانیت کی توہین کرنے والے انسانیت کے آداب کے خلاف، غیر فطرتی،انسانیت سوزی کی۱۵۳ سالہ پرانی شاہی مخصوص درس گاہیںجہاںسے انگریزوں کے غلام، ملک کے با غیوں کو شکنجوں میں جکڑنے والی افسر شاہی،منصف شاہی نظام کی مخصوص تعلیم اور گھناؤنی تربیت حاصل کرتے ہیں اب کیسے قائم رہ سکتے ہیں ۔ انگلش زبان کی حکمران چھڑی، ان سے اب چھینی جا چکی ہے۔ ان کے کلب اب ختم اور ویران ہونے کو ہیں، ان کا شاہی طرز حیات،شاہی اخراجات، شاہی گاڑیاں ، شاہی محل، شاہی ٹیلیفون نظام، بے شمار سرکاری ملازمین، شاہی تفاوتی زندگی مخفی ڈا لر،مخفی اکاؤنٹ اورظا ہری جائیدادیں ان کی تفا وتی تنخواہوں،شاہی سرکاری سہولتیں، رشوت،کمیشن، کرپشن کی چیخیں بڑی وا ضح پوری دنیا اور چودہ کروڑ عوام کو سنائی دے رہی ہیں ، سوائے محتسبوں کے۔ یہ چور ،چوروں کو کیسے چور کہ سکتے ہیں۔


۹۵ فی صد کرپٹ افسر شاہی کا احتساب عوام کی عدالت میں شروع ہو چکا ہے ۔ فطرت نے ماموں بھانجوںکے بے پناہ مظالم کا حساب مانگ لیا ہے ۔ ان کرپٹ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، سیاست دانوں اور افسر شاہی کی ناجائز جائیدادوں کی لسٹیں ، ملک میں تیار ہونا شروع ہو چکی ہیں ۔ موجودہ فوجی حکومت جس انداز سے اس ملکی کینسر کو سرکاری اداروں میں ختم کرنا چاہتی ہے ۔ اس میں ان کرپٹ عناصر کا بچ نکلنا ممکن نہیں ہے ۔اسی طرح دوسری کالی بھیڑوں کا تمام ملک کے سرکاری اداروں سے نجات حاصل کرنا بھی اشد ضروری ہو چکا ہے ۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ فوج اب کس حد تک اس ورثہ میںملے ہوئے ملک کے کرپٹ نظام اورسسٹم اور اسکے منتظمین افسر شاہی، منصف شاہی اور انکے ماموں جان سیاستدانوں کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں یا وہ پھر اپنا نظام قائم رکھنے کیلئے انکا رخ ٹیکسوں و غیرہ کے ذریعہ عوام الناس کی طرف موڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔بھانجے ،عوام اور فوج کو آپس میں الجھانے کیلئے ماموںجان یعنی سیاستدانوں کا پورا ساتھ دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فوجی حکمرانوں کو حالات و واقعات کو سمجھنے، قابو پانے اور وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرماویںاوراس پورے سسٹم اور ان تمام طبقاتی تعلیمی اور تربیتی اداروں جن سے یہ ہونہار پیدا کئے جاتے ہیں، نجات دلانے کی توفیق عطا فرماوے ۔آمین!
یہ جمہوریت کی کوکھ سے پیدا ہونے والی اسمبلیوں کے ممبران ، ملک کے اقتدار کے وارث ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک یہ معزز حکمران ،ان کی طبقاتی تعلیم کے پیدا کردہ نونہال انتظامیہ کی پچانویں فی صدی کرپٹ افسر شاہی اس ملک اور ملت کو جونکوں کی طرح چمٹی ہوئی ہے ۔انہوں نے ملت اسلامیہ کے دلوں میں محمد عربی ﷺ کے دستور مقدس کی روشنی کو جمہوریت کے باطل ، غاصب، فاجر، فاسق قوانین اور ضوابط کو ملک میں رائج کرکے ابوجہل کے خانوادے کے سیاست دا نو ں اور اعلیٰ افسر شاہی کی فوج نے اپنی جہالت کی ان پھونکوں سے اسلام کی قندیلوں کو بجھانے کی بے حد کوشش کی ۔ ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو طبقاتی تعلیم سے مغربی طرز پر مروج کرکے مسلمانوں کی نسل کو پچھلے ۳ ۵ سالوں سے (Motivate) کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی تمام درس گاہیں، ان کی تمام اکیڈمیاں ان کے تمام نشر و اشاعت کے ادارے، ان کے تمام حکومتی ادارے، ان کا تمام عدالتی نظام ، ان کا انتظامی ڈھانچہ، ریت کی دیوار بن کر ریزہ ریزہ ہوتا چلا جا رہا ہے ان کے زوال کاآغاز ہو چکا ہے۔
انکی امتیازی طرزحیات اور عیش و عشرت میں مستغرق ،ان معاشی وحشیوں کو صحراؤں میں بھو ک اور پیاس سے سسکتے بلکتے ۵۳ سالوں سے انسان اور حیوان موت کی آغوش میں پہنچنے سے قبل انکے دروازے پر عدل و انصاف کیلئے دستک دیتے چلے آ رہے ہیں۔بد قسمتی سے انکے نظام اورسسٹم میں مفتوحہ قوم کیلئے عدل و انصاف اور رحم کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ پریذیڈنٹ ہاؤس، یہ وزیر اعظم ہاؤس،یہ سپریم کورٹ ہاؤس اپنے حکمرانوں اور منصفوں کوصبح و شام لعنتیں بھیجتے اورانکی تباہی کا پیغام سناتے چلے آ رہے ہیں۔ خدا انکو سچ سننے کی توفیق اوردین کی روشنی میں عمل کرنے کی طاقت عطا فرماویں۔اس نجس زندگی سے نجات دیں۔دین کی روشنی کے مطابق سادہ، سلیس اور مختصر ضروریات والی زندگی ان کا نصیب ہو۔آمین!
کسی اسلامی ملک کا نظم و نسق چلانے کیلئے ایک صاف ستھری انتظامیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسکے ارکان، انکے نمائندوں ، انکے ورکروں، اسکے کارکنوں کی بنیادی تعلیم و تربیت، خوف خدا، ایمانداری ، سا دگی ، شرافت، دیانتداری ، نیک نیتی، انسانیت کی عزت و احترام اور خدمت خلق کے جذبوں کی بنیادوں پر دین کی روشنی میں استوار ہوتی ہے ۔ اسطرح ملک میں معاشرتی عدل اور معاشی انصاف کو بروئے کار لا کر معاشرے میں اعتدال و مساوات کو قائم رکھ کر ایک اچھی انتظامیہ کا فر یضہ اداکر تے ہیں۔ ملک امن کا گہوارہ بن جاتاہے۔اگر کوئی کتا بھوک سے دجلہ کے کنارے مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی خلیفہ ء وقت پر عائد ہوتی ہے۔
دنیا کے تمام مذاہب ، تمام نظریات جن کے تحت اس دور میں حکومتیں معرض وجود میں آتی ہیں اور اپنے اپنے انتظامی ڈھانچوں کے تحت معاشرے میں عدل و انصاف قائم رکھتی ہیں۔ انسانی حقوق اور معاشی اقدار کو ترتیب دے کر معاشرے کی تشکیل کرتی ہیں۔ اسطرح اپنے اپنے ملک میں امن و امان کی فضا بحال رکھ کر نظام حکومت چلاتی ہیں۔ پوری قوم مل کر محنت، مہارت، جدید سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر اپنی قوم ، اپنے ملک سے افلاس، غربت، بیماری کو ختم کرنے اور ترقی کی منازل طے کر کے نئی سے نئی جدتیں، ایجادیں ، سہولتیں، بنی نوع انسان کیلئے تیار کرتی ہیں۔ اپنی ٹیکنالوجی ، ہنراور محنت کو فروخت کر کے اپنے ملک و قوم کو مالی خوشحالی اور عدل و انصاف مہیا کرتی چلی آرہی ہیں۔
ہمارا ملک بھی دنیا کا ایک ایسا ملک ہے ۔ جہاں ہمارے حکمران ہماری انتظامیہ مغرب کی جمہوریت، اسکے نظام کو چلانے کیلئے اسکی ملکی انتظامیہ کے ارکان ایک مخصوص نصاب ،کورس اورسسٹم کی تعلیم و تربیت حاصل کر کے ملک کے انتظامی امور کے فرائض ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ جمہوریت کے تحت الیکشنوں کے ذریعہ جو سیاسی پنڈال یااسمبلی کے ممبران چنے جاتے ہیں ۔ انکی بنیادی کوالیفیکیشن جاگیردار اور سرمائے دار ہونا لازم ہے۔ جو ملک میں ۱۴ کروڑکی آبادی میں صرف آٹھ دس ہزار نفوس پر مبنی ہیں۔ پچھلے ۵۳ سالوں سے یہی دونوں طبقے الیکشن کے ذریعہ اسمبلیوں میں پہنچتے ، حکومتوں کو تشکیل دیتے، مشیروں، وزیروں، وزیر اعلےٰ، وزیر اعظم، گورنر، صدر پاکستان، سینٹ کے ممبران، چےئرمین، اسمبلیوں کے سپیکر وغیرہ بن کر ملک کے تمام وسائل اور ملکی خزانہ پر قابض ہو کراسی مخصوص انتظامیہ یعنی افسر شاہی کے ذریعہ ملک کا نظم و نسق چلاتے اور حکومت کرتے چلے آرہے ہیں۔
جس طرح ان سیاستدانوں، حکمرانوں کا معیار الیکشن، جاگیردار، سرمایہ دار کے وسائل اور اثر و رسوخ ہی جمہوریت کا پنڈال یا اسمبلی ممبران یا سینٹ ممبران چننے کا واحد ذریعہ ہے اور انکی اجارہ داری قائم ہے اور وہی لوگ اس سیاسی کھیل ،ناٹک کے صرف ممبران بن سکتے ہیں ۔اسی طرح انکی اور افسر شاہی کی اولادیں اعلےٰ انگلش میڈیم اداروں جنکے اخراجات وہی جاگیردار، سرمائے دار، سمگلر ، بلیکیے ، رشوت خور، کمیشن خور ہی ادا کر سکتے ہیں۔ ان ا داروں پرمکمل اجارہ داری انہی لوگوں کی ہے۔ انہی کی اولادیں انکے اثر و رسوخ اور حکومتی عہدوں کے بل بوتے پر سلیکٹ ہو کر انتظامیہ کی افسر شاہی کی فوج میں شامل ہوتے ہیں اور ملک کے انتظامی امور کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیتے ہیں۔ ملک کی تمام داخلہ اور خارجہ پالیسیاں یہی طبقہ مرتب کرتا ہے۔ ملک کا خزانہ، ملک کے وسائل، ملک کا بجٹ اور غیر ملکی قرضوں کے استعمال کے شیڈول اور ملک کی ہر قسم کی پا لیسیاں بھی یہی تر تیب دیتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سیاستدان، حکمران اور یہ افسر شاہی کا تعلق چولی دامن کا تعلق ہے۔دونوں ملک کی تباہی کا سبب بنے بیٹھے ہیں۔
ملک میں اسی طبقہ یعنی حکمرانوں اور افسر شاہی نے مل کر آپس میں ملکی خزانہ، ملکی وسائل کا رخ انصاف، عدل، مساوات، اعتدال کے تمام اصولوں، ضابطوں کو مسخ کر کے اپنی من پسند کے غاصبانہ، جابرانہ طریقہ کار کو اپنا کر ملک میں معاشرتی اور معاشی اقدار کو تہس نہس کر رکھا ہے۔ یہ تمام کھیل ملک میں آپس کی اجارہ داری سے قائم کر رکھا ہے۔بیرون ممالک ان کے سرکاری دورے انکی نج کاری کے فروغ اور انکے کاروبار میں ترقی کیلئے مختص ہوتے ہیں۔ملک کے اندرشاہانہ بودوباش اور بیرون ملک انٹرنیشنل شاہی ہوٹلوں میں سرکاری اخراجات کا اندازہ لگاؤاورصحرانشینوں، ریگستانوںکے باسیوں،میدانی کسانوں اورپہاڑی جفا کشوں، شہری مزدورں، ہنر مندوں ننانوے فیصد عوام الناس کی تلخیوں،اذیتوں کا شمار اور انکی شاہی زندگی کا تضاد کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔ان کے تفاوتی، عدل کش، اسلامی طرز حیات کے منافی،شاہی بود و باش کا اختصاری عکس درج ہے۔
انکے اسمبلی ہال، انکے ایم پی اے ریسٹ ہاؤس، انکے ایم این اے ہاسٹل انہی کا قومی اسمبلی ہال، انکا وزیراعظم ہاؤس، انکی پریذیڈنسی، انکا کنونشن ہال، انکا سندھ ہاؤس، انکا بلوچستان ہاؤس، انکا سرحد ہاؤس، انکا پنجاب ہاؤس، انکا کشمیر ہاؤس، انکا کنو ینشن ہال، انکے علاوہ بے شمار ملک میں پھیلے ہوئے ریسٹ ہاؤسز کا سلسلہ، انکے اعلیٰ مزین سر کاری بڑے بڑے دفاتر، انکی بڑی بڑی اعلیٰ محلوں پر مشتمل رہائشیں، انکی بڑی بڑی جدید قسم کی پجارو، مرسڈیز، لینڈکروزریںاور بلٹ پروف قیمتی لاجواب گاڑیاں، انکے پٹرول، انکے ڈرائیور، انکے باڈی گارڈ، انکے شاہی رہائش گاہوں میں شاہی دفاتر، انکے ٹیلیفون، ان کے پروٹو کول، اسی طرح انکی شب خون ماری ہوئی بڑی بڑی غاصبا نہ تنخواہیں، ٹی اے ، ڈی اے، سرکاری جہاز، سرکاری عملہ، بڑے اخراجات، وسیع اختیارات، انکی حکومت، انکے اقتدار، انکے نمایاں الگ تھلگ یہ تمام خدوخال ہیں۔ انکی بنیادی تعلیم بی۔ اے، ایم ۔اے کے بعد سی، ایس،ایس کا امتحان ۔ بنیادی تعلیم اعلیٰ مہنگے انگلش میڈیم ادارے جن کے بڑے بڑے اخراجات اور شاہانہ زندگی کے آداب ا نہی درسگاہوں سے سیکھتے ہیں۔ انکو صرف یہی سرمائے دار، جاگیردار، سمگلر، بلیکئے، رشوت خور، کمیشن خور ہی ادا کر سکتے ہیں۔ کسانوں اور مزدوروں کی اولادوں کے پاس ان اداروں کے اخرا جات توکجا، انکے پاس تو ان تک پہنچنے کا کرایہ تک نہیں ہو تا۔ اسکے علاوہ انکے آباؤاجداد کا سیاسی اثر و رسوخ انکی اس کامیابی کی چابی ہوتی ہے۔
ملک میں عوام الناس کی اولادیں دو دو ایم ۔اے اورپی۔ ایچ۔ ڈی کر سکتی ہیں لیکن پبلک سروس (کرپشن ) کمیشن کا باطل ، غاصب ، ظالم امتحان پاس نہیں کر سکتیں۔ اگر کوئی کامیاب ہو بھی جائے تو انٹرویو میں ناکامی اس کی قسمت کا حصہ ہوتا ہے۔ یہی طبقہ ملک میں ہر محکمہ میں افسر شاہی کی نچلی پوسٹ سے لے کر اعلیٰ پوسٹ پر مسلط ہوتے ہیں۔ اس لئے ملک کے تمام محکموں کی تمام انتظامیہ پر ہر قسم کی گرپ اور ہر قسم کا کنٹرول اور ہر قسم کی پالیسیاں مرتب کرنے کا کلی اختیارات رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تنخواہوں ،ٹی اے ، ڈی اے، انکے تمام کورسز، ملک کے اندر اور ملک کے باہر اور انکے بڑے بڑے اخراجات کے بجٹ یہ از خود ہی تیار کرنے والے اورمنظور کرنے والے ہوتے ہیں۔ انکی اعلےٰ رہائشیں، انکے اعلےٰ دفاتر، انکے ٹیلیفون، انکی سرکاری گاڑیاں، انکے ڈرائیور، انکے چپڑاسی، چوکیدار، مالی،جمعدار اس سپر نیچرل مخلوق کو سروس میں آتے ہی لاتعداد سہولتیں اور بے پناہ اختیارات میسر آجاتے ہیں۔ کلبوں، مئے خانوں، جائز و ناجائز اختیارات کے استعمال کے دروازے ان پر کھل جاتے ہیں۔ ملکی خزانہ یا آئی ایم ایف کے قرضے ان قرضوں کی منصوبہ بندی، انکے استعمال کے اختیارا ت انکے پاس ہوتے ہیں۔ اورانکو لوٹنا، ڈاکہ ڈالنا، عوامی امانتوں کو نگل جانا ان حکمرانوں اور افسر شاہی کی زندگی کا نصب العین بن چکا ہے۔ ایک طرف تو یہ ملک کی معیشت کوبڑی بے در دی سے نوچتے ہیں ۔ دوسری طرف یہ حکمران افسر شاہی کا ٹولہ خرکاروں کی طرح پوری ملت کو گدھوں کی طرح ہانکتا چلا آ رہا ہے۔
کسان، مزدور اور اس طبقہ کی زندگی میں اتنا بڑا معا شی اور معاشر تی تفاوت دنیا کے کسی کونے میں ڈھو نڈے سے نہیں ملے گا ملک کے تمام محکمے، تمام ادارے، تمام اختیار ات انکے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ انکے قوانین، انکے بجٹ، انکی اسامیاں، انکی ترقیاں، انکی پوسٹنگ، ٹرانسفر، انکے تمام اونچ نیچ کے قوانین یہی ترتیب اور متعین کرتے ہیں۔ ملک میں ہر قسم کا جرم یعنی سمگلنگ، ڈاکہ زنی، دہشت گردی،چور بازاری رشوت خوری، ناانصافی ظلم، قتل، معاشی قتل، معاشرتی تباہی ، انہی کی زیر نگرانی پنپتی ہیں اور یہی لوگ ملک میںہر قسم کی انار کی کے ملزم اور مجرم ہیں۔ ہردور حکومت میں انکو دوام میسر رہتا ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں ایسا کرپٹ سسٹم اور غا صب نظا م دیکھنے کو نہیں ملتا۔یہ انصاف،عدل،مساوات کے رہزن ، تمام فطرتی اقدار اورمعاشی اور معاشرتی فلاحی ضوابط کو روندنے والے ڈاکو اور دہشت گرد ہیں۔اسلام کا نفاذ انکی موت ہے ۔انکی تمام جائیدادیں ضبط اور انکی تمام کی تمام عیاشیاں ختم ہو نے کا وقت اب قریب ہے۔ اس کاعمل جاری ہو چکا ہے۔فطرت انکے واجبات ادا کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
ملک کا ۹۷ فیصد بجٹ انکی تنخواہوں اور لاتعدادشاہانہ سہولتوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ ملک کے تمام بنکوں کے قرضے اور آئی ایم ایف کے قرضے انہی کی رشوتوں، کمیشنوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ تجارت کے تمام بڑے بڑے شعبے انہی حکمرانوں اور افسر شاہی کے رشتہ داروں کی ملکیت ہو تے جاتے ہیں۔ ملک میں ملیں، فیکٹریاں، کارخانے لگانے کے تمام قرضہ جات انہی کی قلم سے اسی مخصوص طبقہ کوجاری ہوتے ہیں۔ ملک کی اس ۹۵فی صد کرپٹ افسر شاہی نے ملک کو رشوت، کمیشن، ا ستحصا لی نظا م کی بدترین آماجگاہ بنارکھا ہے ملک کا کوئی ادارہ یا محکمہ ایسا نہیں جس کا انتظام، جس کا مکمل کنٹرول اس افسر شاہی کے ہاتھ میں نہ ہو۔ تمام محکموں، تمام اداروں اور تمام ملک کی رشوت، کمیشن، کوئی پوسٹنگ ، کوئی ٹرانسفر ایسی نہیں۔جو انکی مرضی اور منشا کے خلاف ہو۔ محکموںمیں منتھلی سسٹم، خریدوفروخت، سمگلنگ، رشوت، کمیشن، مختلف کیسوں میں سودا بازی انکی روزمرہ کی زندگی بن چکی ہے۔ سرکاری گاڑیاں انکے بچوں کو سکول لے جانے، لے آنے اور انکے خاندان کے افراد کے استعمال کیلئے روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
یہ ملکی خزانہ، وسائل اور غیر ملکی قرضے پچھلے ۵۳ سالوں سے ہر وقت، ہر روز، ہر ماہ ہر سال انکی لوٹ کھسوٹ کی نذر ہوتے چلے آ رہے ہیں، انکے شاہی اخراجات، شاہی دسترخوان، سرکاری کلبیں ، اور ملک میں پھیلے ہوئے تمام سرکاری بڑے بڑے ریسٹ ہاؤس، انکے بچوں کے سکولوں کی بڑی بڑی فیسیں، یونیفارم، کتابیں، کاپیاں اور ہر قسم کے تمام اخراجات انکی تنخواہ تو انکا ایک دن بھی نہیں چلا سکتی۔ اسکے بعد انکی اعلےٰ کوٹھیاں، بے شمار جائیدادیں، ذاتی کاریں ، بڑے بڑے بنک بیلنس، ملکی خزانے اور آئی ایم ایف کے تمام قومی قرضے ان سیاستدانوں، حکمرانوں ،کرپٹ افسر شاہی کے اس نظام کی زینت بنے پڑے ہیں۔ جب تک یہ ملک ان ماموں ، بھانجوں کے اقتدار اور کنٹرول میں رہے گا ۔ ان کا احتساب ناممکن ہے۔ یہ تمام سرکاری سسٹم انکو ، آکاس بیل کی طرح پرورش کرتا رہے گا۔محکمانہ سرکاری گا ڑیوں اور پٹرول کے انکے اخراجات ہی ختم کر دئیے جائیں تو ملک پٹرول مد میں خودکفا لت حا صل کر سکتا ہے۔ملکی بجٹ کا بہت بڑا حصہ ان غاصبوں سے بچ سکتا ہے ۔ ٹیکسوں کا بوجھ اور مہنگائی کا طوفان تھم سکتا ہے اور بڑی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔اگر انکو فارغ کر دیا جائے،تو ملکی بجٹ ہی نہیں بلکہ قو می کردار اور تشخص بھی بچ سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی شان و شوکت، عیاشیوں ، فحاشیوں، بڑی بڑی تنخواہوں ،اعلےٰ رہائشوں ، سرکاری گاڑیوں،بے شمار سرکاری سہولتوں ،اپنے اور اپنی اولاد افسر شاہی کے اخراجات اور انکے کرپٹ نظام کو چلانے کیلئے ملک میں بے شمار ٹیکسوں، بلوں، منی بجٹوں کا کھیل اور روز مرہ کی اشیا یعنی پٹرول، گیس، بجلی کے ریٹوںمیں اضافے کر کے عوام الناس کو مہنگائی اور بیروزگاری کی چتا میں بھسم کرنے کا عمل جاری کر ر کھاہے۔ اور انکا یہ انگریز کا دیا ہوا غیر منصفانہ استحصالی نظام اور عدل کش سسٹم جوں کا توں پھلتا اور پھولتا رہے گا اور یہ ایک فیصدطبقہ ۹۹فیصد عوام الناس سے انگریزوںسے بد ترین قیدیوں جیسی محنت اور جانوروں جیسا سلوک ہی نہیں ۔ بلکہ باغیوں جیسی اذیتوں ، تکلیفوں ، اور مصیبتوں سے دو چار کئے رکھیں گے۔ محکموں میں تمام امور پر انکو فوقیت اور کنٹرول حاصل ہونے کی وجہ سے ملک میں تمام معاشی ، معاشرتی، اخلاقی جرائم، انکی زیر نگرانی اور انکی زیرقیادت ایک منظم طریقہ کار کے ذریعہ پرورش پاتے ہیں ۔
کسی ڈاکٹر، انجینئر یا کسی شعبہ کے ماہرین کو تیار کرنے میں گورنمنٹ کا کافی وقت، سخت محنت اور بہت بڑے تعلیمی اخراجات برداشت کر نا پڑتے ہیں ۔ لیکن حیران کن بات ہے کہ صرف رشوت، کرپشن، معاشرے میں ہر جائز اور ناجائز کام کرنے کیلئے یہی طبقہ اپنی اولادوں کو سی ایس ایس کیڈر میں تمام ملکی قوانین کو موم کی ناک کی طرح توڑ موڑ کر اس شعبہ میں پہنچادیتے ہیں۔ یہاں یہ بات بڑی غور طلب ہے کہ نہ تو یہ لوگ انگریزی زبان کے پی ایچ ڈی ہوتے ہیں نہ اردو کے، نہ زراعت کے، نہ یہ اکنامکس کے پی ایچ ڈی اور نہ تعلیم و ثقافت کے،نہ یہ اکاؤنٹس کے، نہ یہ امور خارجہ کے پی ایچ ڈی نہ ہی امور داخلہ کے ،نہ سائنس کے پی ایچ ڈی نہ ٹیکنالوجی کے،نہ کسی رائج مضمون کے یعنی ایجوکیشن، انجینئرنگ، ہیلتھ، زراعت، سائنس اینڈٹیکنالوجی،اکنامکس، کیمسٹری، بیالوجی، سوشیالوجی اکاؤنٹس، کمپیوٹر، عربی، فارسی، نفسیات یا کسی اور مضمون کے پی ایچ ڈی نہیں ہوتے۔ انکی تعلیم و تربیت اعلیٰ مغربی معیار کے انگلش میڈیم ادارے اور سول اکیڈمیوں میں انکی نشونما ہوتی ہے اور انکے خاندانی اثرورسوخ کی بنیاد پرسلیکشن ہوتی ہے۔یہی فوقیت ان کو زندگی کے ہر شعبہ میںمیسرہوتی ہے۔ملکی خزانہ اور غیر ملکی قرضے انکے ترنوالے ہوتے ہیں۔ زکوٰۃ، عشر ا ور انگنت ٹیکسوں سے اکٹھا کیا ہوا مال۔منی بجٹوں اور مہنگائی کی سرنجوں سے چوسا ہوا خون ان کے شیریں جام ہوتے ہیں۔
جہاں تک ذہین اور لائق طلبہ کا تعلق ہے اعلیٰ نمبروں اور اہلیت کے لحاظ سے انجینئرنگ، ہیلتھ ، زراعت، اکاؤنٹس، کمپیوٹر کے شعبوں میں داخلہ حاصل کر لیتے ہیں ۔ جو اہلیت کے حساب میں کسی شعبہ میں داخلہ نہیں لے سکتے وہ ملک کے حکمران، سیاستدان اور افسر شاہی طبقے کی اولادیں، اپنے اثرورسوخ اور تعلقا ت کی بنا پر ان کو سی ایس ایس کے امتحان دلوا کر ملک کی انتظامیہ میں بھرتی کروا دیتے ہیں، ملازمت میں جنم لیتے ہی اس ‘سپر نیچرل مخلوق کو گورنمنٹ خزانے، سے اعلےٰ تنخواہ، ٹی اے ، ڈی اے، اعلےٰ مزین دفاتر، ٹیلی فون، اعلےٰ فرنیچر، قالین، اےئر کنڈیشن سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور، پٹرول، اعلےٰ رہائش، مالی، چوکیدار، بے شمار سرکاری سہولتیں اور اعلےٰ اختیارات انکو سونپ دیے جاتے ہیں ۔ جبکہ ان سے بہتر تعلیم یافتہ لوگ ملک کے تمام محکموں میں چھوٹی چھوٹی اسامیوں پر مختلف فرائض سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔انکو یہ سیٹ نہیں مل سکتی کیونکہ افسر شاہی کی پوسٹیں تو انکے لیے مختص ہو تی ہیں۔
وہ تعلیم ، اسکے معیار، اسکے شعبے، اسکے نصاب، اسکی درسگاہوں ، اسکے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسکی مختلف تعلیمی برانچوں کے متعلق آشنا تک نہیں ہوتے اور ملک کے تمام بڑے بڑے عظیم اساتذہ، تمام پی ایچ ڈی، بڑے بڑے ماہرین تعلیم انکے ماتحت ہو تے ہیں۔ تعلیم سے متعلقہ تمام پا لیسیاں، سکیمیں ، نصاب کی منظوریاں یہی جاہل طبقہ دیتا ہے۔اسی طرح زراعت کے اوزاروں کے نام، اجناس کی قسموں کے نام ، بیجوں کے نام اور اسکی اقسام، کھادوں کے نام اور اس کے استعمال کے طریقوں سے آگاہی کا علم، زمین کی تیاری، پانی کی ضرورت ، فصلوں میں جڑی بوٹیوں کا نام، انکو تلف کرنے کے طریقے، انکی ادویات کے نام، فصلوں کی بیماریاں اور انکے علاج، پودوں ، درختوں کی بیماریوں سے نا واقف، درخت یا جنگل اگانے کے اصولوں سے محروم، وہ کھیتوںمیں پیداوار کے اصولوں سے محروم، وہ کھیتوں میں پیداوار کی مقدار سے بے نیاز ، زراعت میں عملی کام کرنے والوں، زراعت کے ہنر مند، تعلیم یافتہ، بی ایس سی ، ایم ایس سی ، پی ایچ ڈی ایگریکلچر کے سروں پر ان نااہل، کرپٹ، غیر متعلقہ افسر شاہی کو انکے محکمہ کے سیکشن آفیسر سے لے کر، ڈائریکٹر، ڈپٹی سیکٹری، جائنٹ سیکٹری، ایڈیشنل سیکٹری، سیکٹری کی تمام پوسٹوں پر متعین کر کے ان ماہرین پر ان جاہل، کرپٹ، رشوت خور افسر شاہی کے ضابطہ کنٹرول میں دے دینا کہاں کا انصاف ہے، خدارا غور کرو۔ اسی طرح ہر محکمہ پر انکی مکمل اجارہ داری قائم ہے۔ انکو ہر شعبہ کے ماہرین پر ہر قسم کی فوقیت ہی نہیںبلکہ انکے کریکٹر رول ، انکی ترقی، ان پر ہر قسم کی اپنی پالیسیاں نافذالعمل کر کے ان سے ذاتی ملازموں بلکہ غلاموں جیسا حقیر سلوک روا رکھنا افسر شاہی کے روپ میں ان پر حکمران بن کر بیٹھ جاناانکی مروجہ پالیسی ہے۔
یہی حال ملک میں تمام محکموں ، اداروںکا ہے یہ افسر شاہی طبقہ فوڈہو یا ایگریکلچر، لیبر ہو یا مین پاور،لاء ہو یا جسٹس، مذہبی امور ہو یا زکوۃ، پاپولیشن ہو یا پلاننگ، ریلوے ہو یا پی آئی اے، ایجوکیشن ہو یا ڈ یفینس، وزارت امور خارجہ ہو یا داخلہ، کامرس ہو یا فنانس ان سب پر انکی اجارہ داری قا ئم ہو تی ہے۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ ہو یا سینٹ، مشیر ہو یا وزیر، وزیر اعلےٰ ہوں یاگورنر، وزیر اعظم ہوں یا صدر پاکستان، ملک کے سیاستدان، حکمران وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، ایوب صاحب کا مارشل لا ء ہو یا یحیٰ خان صاحب کا مارشل لاء، ضیا صاحب کا مارشل لاء ہو یا مشرف صاحب کا عارضی نیم سیاسی مارشل لاء ،یہ افسران، یہ پالیسی ساز، یہ اعلےٰ تنخواہ دار طبقہ، یہ بے شمار سرکاری سہولتوں، آسائشوں میں مست الست اصل حکمران یہ ۹۵ فیصد کرپٹ افسر شاہی ہر آنے والی حکومت کے یہی رشوت خور ،دہشت گرد معاشی قاتل، ملک کے تمام اداروں کو چلانے والے منتظمین۔ انکو وراثت میں مل جاتے ہیں۔ وہ ۵۳ سالوں سے حکمرانوں۔ سیاستدانوں کو بڑی مہارت سے عبرت کدوں تک پہنچاتے چلے آرہے ہیں۔ اس انتظامی سسٹم کے شکنجے میںہر حکمران ہر حکومت موت کی ہچکیاں لینے پر انکے ہاتھو ں مجبور اور بے بس ہو تی ہے۔
اس ملک کی تاریخ میںپہلی بار جناب جنرل پرویز مشرف اور انکے کور کمانڈروں نے اس بددیانت افسر شاہی کی گردن پر ہاتھ رکھا ہے۔ ملک میں گورنمنٹ کے اداروں میں کئی سالوں سے ہر قسم کی تقرریوں پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ لیکن ان سے اس طبقہ کے ماہرین کی تعداد پوچھ لو کہ ان کا سرکاری دفاتر میں اس پیریڈمیں کتنا اضافہ ہوا ہے، کتنی تقرریاں اس دوران کی ہیں۔ یہ بلوں ٹیکسوں کی تعداد بڑھانے ، ان میں انقلابی اضافے کر کے عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کی چتا میں جھونک دیتے ہیں۔ یہ تمام ملکی خزانہ اور وسائل انکی غیر مساویانہ ، غیر عادلانہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔یہا ں یہ بات واضح کرنا نہائت ضروری ہے کہ جو مغربی ممالک اس قدر ٹیکس عوام سے حاصل کرتے ہیں وہ بیوہ، اپاہج، غریب، نادار، یتیم اور بے روز گار کو گزارہ الاؤنس جاری کرتے ہیں۔لیکن اس ملک میں تو یہ تمام کے تمام ٹیکس ان افسر شاہی ،منصف شاہی اور حکمرانوں کی تنخواہوں،لا تعداد سرکاری سہولتوں، رشوت اور کرپشن کا نوالہ بن جاتے ہیں۔یہاں کا تو بابا آدم ہی نرالہ ہے۔یہ ظالم طبقہ تو ہربیوہ،یتیم، محتاج، ناداراور بیروزگار سے قانون کی نوک پر زبر دستی اور جبر کے ساتھ لاء تعداد ٹیکس اورمنی بجٹوں کے ا ضافوں کے ذریعہ ان کا خون چوستے رہتا ہے۔دوسری طرف انکی شاہی تنخواہوںاور بے شمار سرکاری سہولتوں کا منظر ایک خوفناک اورلرزہ خیز سوال بنا کھڑا ہے۔ اسکا کون جواب دے گا؟
دوسری طرف محکموں میں ڈاؤن سائزنگ کر کے غریب سرکاری ملازموں کو بڑی بے رحمی کے ساتھ ملازمتوں سے فارغ کر کے بے روزگاری کے عذاب میں پھینک دیتے ہیں۔ جبکہ ملک کی تاریخ میں آج تک کسی افسر شاہی کے ایک ہاتھی کو بھی سرپلس یا فارغ نہیں کیا گیا۔ اس طرح یہ ملک میں حکمرانوں کے خلاف غلط پالیسیاں مرتب کر کے نفرت کی آگ ان کے خلاف سلگاتے اور ملک میں انارکی پیدا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ ملکی خزانہ اور وسائل ایک داشتہ کی طرح نوچتے اور انجوائے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان سے نجات ملک و ملت کی بنیادی ضرورت ہے۔ وہ ملک میں ہرقسم کے اعتدال ، مساوات، عدل و انصاف، امانت، دیانت، شریعت محمدیﷺ کے بنیادی اصول و ضوابط کے منافی، متضاد، ملحدانہ، کافرانہ، ظالمانہ، منافقانہ، غاصبانہ، مروجہ نظام حکومت، طریقہ کار اور سسٹم میں ہر آنے والے حکمرانوں کو ،چاہے وہ جمہوریت کے تحت بہت بڑا مینڈیٹ حاصل کر کے اقتدار حاصل کریں اور چاہے مارشل لا یا سیاسی مارشل لا کے روپ میں حکمرانی کا یہ خوفناک ، بھیانک ، اذیت ناک پھا نسی کا پھنداگلے میں ڈال لیں۔انکو یہ افسر شاہی اس ملک کے اصل حکمران اس باطل نظام کے شکنجوں میں جکڑلیتے ہیں۔ وہ سسکتے رہتے ہیں۔ وقت کی آغوش میں دم توڑتے رہتے ہیں۔ اور اسی باطل اور غاصب نظام اور سسٹم کی پیروی میں خد ا اور رسو لﷺ کے خلاف کھلی جنگ میں مبتلا کر دیے جاتے ہیں اور اسی عذاب کا شکار ہو کر فارغ ہو جاتے ہیں ۔
جب تک کوئی حکمران خدا کی راہ میں جنگ کرنے والا اس ملت ،اس ملک کو میسر نہیں آتا جو خدا کے احکام، اس کی شریعت اور قیام حق و عدالت ، عدل و انصاف کے لئے عملی جہاد کر کے مسلمانوں کو انکا کھویا ہوا ، لوٹا ہوا ،چھینا ہوا اصل خزانہ ان دہشت گردو ں، لٹیروں، ڈاکوؤں، بے رحم معاشی اور معاشرتی قاتلوں، رشوت خوروں، کمیشن خوروں، عیاشوں، فحاشوں، منافقوں، غاصبوں کے قبضہ ، گرفت سسٹم یا نظام سے چھٹکارا اور اس افسر شاہی کے بے رحم ٹولہ سے نجات حاصل کر کے ملک میں دستور مقدس کا نفاذ نہیں کر دیتا اس وقت تک نہ گھوڑا بچ سکتا ہے نہ سوار۔اگر کوئی گھوڑا اور سوار بچانا چاہتا ہے تو نسخہ درج ہے۔
یہ جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس کا جہاد اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے اور نفاذ پورے معاشرے پر۔ اس جنگ کیلےئے اپنے اعلیٰ ارکان حکومت، اپنے کور کمانڈروںکو ملکی، ملی، اس بھیانک خوفناک سانحہ پر غورو فکر کیلئے اکٹھا کریں ۔ مشاورت کریں۔ منصوبہ بندی کریں۔ ۱۴ کڑور عوام کو اس باطل، غاصب، جمہوری نظام اور انکے ان معاشی ، معاشرتی دردندوں، بھگیاڑوںکو ایک کڑے احتساب سے گذار کر ملت کو ا ن سے فو ری نجات دلوائیں۔ یہ عظیم جنگ اللہ تبارک تعالیٰ پر بھروسہ ، اعتماد اور یقین کے خزانہ سے مالا مال مجاہد اور غازی ہی لڑا کرتے ہیں۔ یاد رکھوجنہوں نے ہندوستان کی سر زمین میں آ کر اسلام کی قندیل کو روشن کیا۔ اور آج لگ بھگ ۵۰ کروڑ کلمہ گو پیدا کئے، ان درویشوں اور فقیروں کو سلام۔ جنہوں نے ان مسلمانوں کیلئے پاکستان جیسا عظیم ملک، دھرتی اور آزاد ریاست ان عوام کیلئے گھر کی صورت میں بنایا۔ ان شہدا ،فقیروں اور وقت کے قلندروںکو بھی سلام اور جو۔۔۔۔ اب اس ملک و ملت کو دستور مقدس کا آئین کا نفاذ عطا کرے ۔اس کو بھی بے شمار سلام قبول ہوں ۔ وہ بھی انہی اعلیٰ مرتبہ قلندروں، فقیروں، درویشوں، شہیدوںاور غازیوں میں شمولیت کے وارث ہوں گے۔ ان کا نام بھی قیامت تک قائم دائم ہو گا۔ یہ سودا کسی لحاظ سے بھی کم منفعت بخش نہیں۔انکی دنیااور آخرت دونو ں میں کامیابی اور کامرانی کی سند اس عمل میں موجود ہے۔اس ملک کا اقتدار صرف اور صرف انہی مجاہدوں کا مقدر ہے ۔انکے دبدبے کی کوئی تاب نہیں لا سکتا۔
اس پاک وطن کو بے شمار اور ان گنت جانی، مالی، قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا۔ اس کے لئے مسلمانوں نے اپنے گھر، زمینیں، کاروبار، آباؤ اجداد کی قبریں اور جنم بھومی کو چھوڑ کر ہجرت کی سنت ادا کرکے پاکستان کی سرزمین پر سجدہ ریز ہونے کے رقت آمیز مناظر ، بارگاہ الہی کے مخفی خزانے میں انہوں نے اپنی اپنی امانتیں جمع کروا رکھی ہیں ۔ یہ ملک محمد مصطفی ﷺ کے عاشقوں کا مسکن ہے۔ یہ ملک دنیا میں سب سے پہلا ملک ہے جو دین کے نام پر قائم ہوا۔ یہ ملک صرف عالم اسلام کی رہنمائی کے لئے ہی معرض وجود میں نہیں آیا ۔ بلکہ پوری انسانیت کے لئے رحمتیں سمیٹ کر معرض وجود میں آیا ۔ اے سیا ست دانو، حکمرانو، افسر شاہی، منصف شا ہی! یہ تمہاری جہالت ،ناانصافی، ظلم، زیادتی، دہشت گردی، لوٹ مار،کمیشن، رشوت، کرپشن ، بے حیائی،بے رحمی، خود غرضی، دنیا کی بے ثباتی،اور خوف خدا کو بھول کر دنیاوی مقام عروج کو چھو چکی ہے۔ دنیا کی دولت و متاع اکھٹی کرنے والو ! تم بھول گئے کہ خالی ہاتھ اس فانی دنیا سے الوداع ہونا لازم اور ضروری ہے۔ لیکن اب تم کو انشاء اللہ اپنی زندگیوں میں عدل کا جام پی کر ہر جرم سے فارغ ہونا ہو گا۔ اب کفر اور ظلم کے نظا م اور سسٹم کو اس ملک سے ہجرت کرنا لازم ہو چکا ہے ۔اس ملت نے دنیا کی رہبرو رہنمائی کے فرائض ادا کرنے ہیں۔یہ حضورﷺ کے نام پر ملک معرض وجود میں آ یا ہے۔ دنیا کا یواین او بننااس کا مقدر ہے۔
اے وقت کے حکمرانو ! غور کرو۔ اپنی عاقبت کا چناؤ کرو کہ آپ اس جمہوریت کے باطل نظام اور غاصب سسٹم کے عبرت کدے کی نشانی بننا چاہتے ہو یا اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو۔ خیر کی منزل کے مسافر کو سفر اختیار کرنے سے پہلے کسی قسم کی خوشخبری نہیں دی جا سکتی۔ اس کا پہلا قدم ہی آخری قدم ہوتا ہے۔ راہ سلوک کے مسافر کو اس کی منزل کی طرف عمل پیرا ہونے میں ہی فطرت کے مخفی انعامات میسر آتے ہیں ۔ وہ مسافر امید اور یقین کی کرنوں سے لذت آشنائی حاصل کرتا ہے۔ نا امیدی اور کفر کے اندھیروں سے نکل کر دین میں داخل ہوتا ہے۔ اس کو دین کے ساتھی بھی اسی مسافرت میں میسر آ تے ہیں ۔ اس کی تنہائیاں آباد ہو جاتی ہیں۔ وہ دین کے اصول و ضوابط کی قندیل کو دل و جان سے تھامے سفر جاری رکھتا ہے۔ وہ چلتا ہے اور ملت کا قافلہ اس کے ساتھ ہو جاتا ہے بلکہ پوری انسانیت کا محور بنتا چلا جاتا ہے دین کی روشنی میں وہ تو صرف اپنی ذات پرعدل قائم کرتا جاتاہے اور زمانے میںعادل بن جاتاہے۔دین کی اطاعت سے رحم حاصل کرتا ہے۔ حضورﷺکے رحمت اللعالمین ﷺکے نظام میں مکمل طور پر داخل ہو جاتا ہے اور زمانوں کے لئے رحمت بن کر ابھرتا ہے ۔ وہ خواہشات اور ہوس دنیا کو دین کی تلوار سے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور پھر موت اس پر حرام ہو جاتی ہے ۔ آؤ مل کر فلاح میں داخل ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈرسے بڑھ کر نہ کوئی خزانہ ہے نہ کوئی دولت اور نہ کوئی طاقت ہے۔
اے اللہ ! ہمیں اس قافلے کے عظیم فقیر ،درویش ، اللہ والے ، مجاہد،غازی اور زمانہ ساز ہستیوں کے جوتے سیدھے کرنے اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین
آؤ مل کر دین کی روشنی میں حسن عمل ، دلکش عمل، دلربا عمل کو زندگی کا نسب العین بنائیں ۔ وقت کے تند تیز طوفان میں محبت، عدل ، عدالت ، صداقت، شجاعت، اخوت کے انوکھے معجزات انسانیت میں پھیلائیں۔یا اللہ ہما رے دور کو اس عظمت سے نواز۔یا اللہ ہمیں رشدو ہدائت کے راستے پر گامزن فرما۔یا اللہ ہمیںانسانیت کے لئے رحمت اور سراپا رحمت جیسی عظیم خدمت کی قندیل عطا فرما۔ جس کی روشنی تمام جہانوںکو روشن کردے۔آمین ثم آمین