To Download or Open PDF Click the link Below

 

  انگریز کے ۱۸۵۷ء کے قائم کردہ عدل و انصاف کے کالے ادارے اور ان کے کالے منصف
عنایت اللہ
عدل و انصاف کے ادارے کسی معاشرے کے اخلاقی، معاشی،معاشرتی اقدار اور اس کے نظام کو انصاف اور اعتدال پر قائم رکھنے کے بنیادی عنصر یا جزو ہوتے ہیں ۔ یہ عدلیہ کا ادارہ ظلم ، زیادتی ، نا انصافی اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبہ میں تمام جرائم کو ختم کرنے اورہر قسم کے استحصال کوجڑ سے نکال پھینکنے کااہم فریضہ ادا کرتا ہے ۔ اس عدلیہ کے شعبہ کے منصف معاشرے میں ہر قسم کی برائی اور جرائم کو قانون کی تلوار سے نیست و نابود کرکے ملک کو امن و سکون کا گہوارہ بناتے ہیں ۔ جن اقوام ، ممالک یا سوسائٹیوں نے عدل و انصاف اور بنیادی حقوق کے فطرتی تقاضوں کے تمام اصول و ضوابط قائم اور مروج کر رکھے ہیں ۔ اوران کا اطلاق معاشرے کے ہر فرد پریکساں اور بلاتمیز قائم کیا ۔ وہ اقوام ، ممالک اور سوسائٹی جو ا ن معاشرتی اقدار کے تقدس کو قائم رکھتی ہیں ۔ وہ دنیا میں مہذب، اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار یا سربراہ کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں۔ وہی اقوام دنیا میں معاشی طور پر خوشحال اور معاشرتی طور پر پرسکون اور پر امن ہوتی ہیں ۔ اور اسی بنا پروہ ترقی کی منازل طے کر کے دنیا کی اقوام میں اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہیں۔جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف طریقے ، مختلف اصول ، مختلف ضابطہ حیات، مختلف قانون ، مختلف معاشی اور معاشرتی اقدار کو اپنے اپنے مخصوص طریقہ کار کے تحت عدل و انصاف کے مخصوص قوانین و ضوابط کی روشنی میں حکومتی کا روبار چلاتے ہیں ۔ یعنی روس میں کیمونزم ، چائنا میں سوشلزم ، امریکہ، برطانیہ اور تمام مغربی ممالک اور ایشیاء میں جمہوریت کے وضع کردہ اصول و ضوابط کی روشنی میں حکومتیں بناتے اور عدل و انصاف کو قائم کرتے ہیں ۔۔ جو ان کے نظریہ کی بنیادی اساس ہے ۔ جمہوریت میں عدل و انصاف کی قانون سازی کا حق ان کے منتخب نمائندوں یعنی پارلیمنٹ کو ہوتا ہے ۔جس کے ذریعہ وہ یہ فرائض سر انجام دیتے چلے آ رہے پیں۔
اسی طرح مسلمانوں کا بھی ایک الہامی دستور مقدس ہے ۔ جس کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کی روشنی میں معاشرے کی تشکیل اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں۔جس کی پیروی کرنا ان کاایمان اور دین کا حصہ ہے۔ انسانی عقل و دانش کے تیار کردہ قوانین و ضوابط ہر روز بنتے اور بدلتے رہتے ہیں ۔ لیکن مسلمان اللہ تعالیٰ کو سپریم طاقت مانتے ہیں اور حضور نبی کریمﷺ کے عطا کردہ دستور مقدس اور ان کے بتائے ہوئے الہامی اصول و ضوابط کو من و عن تسلیم اور انکی اطاعت کرتے ہیں ‘ اس دستور مقدس کے کسی قانون کی ترمیم نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے۔ یہی دستورانسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچاتاہے۔پوری انسانیت کو عزت و احترام کا درس دیتا ہے۔عدل و انصاف معاشرے میں قائم کرتا ہے۔در گزر اور معافی کا سبق سکھاتا ہے۔محسن انسانیت بناتا ہے۔صداقت اور شجاعت کی تربیت کرتا ہے۔دکھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرتا ہے۔بھو لے بھٹکوں کو راہ ہد ایت کا راستہ بتاتا ہے۔ایثارو نثار کے جذبوں کو بیدار کرتا ہے۔اخوت و محبت کا پیغام سناتا ہے۔نفرت اور نفاق کو ختم کرتا ہے۔خالق کی شاہکار مخلوق کوخالق کی شفیق نگاہ سے دیکھنے کے آداب سکھاتا ہے۔دنیا کی بے ثباتی کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔وہ رحمت العا لمینﷺ کی رحمتوں کا سفیر ہوتا ہے۔یا اللہ تو اس ملک کواسلامی تعلیمات اور اسکے عمل کی درس گاہ بنا۔یا اللہ ہمیں پاک اور طیب زندگی عطا فرما۔یا اللہ ہمارے دلوں کورنجشوں سے پاک فرما۔یا اللہ ہما رے دلوں کو ظلمات کے اندھیروں سے بچا۔یا اللہ ہمارے دلوں کو نور کا مخزن بنا۔یا اللہ ہمیں اس غا صب نظام اورظالم سسٹم کے دیرینہ عذاب سے بچا ۔ آمین
اقوام مغرب اور دنیائے عالم بھی ان حقائق کو تسلیم کرتی ہیں کہ جو ضابطہ حیات حضور نبی کریم ﷺ نے بنی نوع انسان کو قرآن پاک کی شکل میں عطا کیا ہے۔ وہ عدل و انصاف کا سرچشمہ اور رشد و ہدائت کا منبع ہے ۔ اقوام عالم ان سچایؤں اور حقائق کے کچھ حصوں کو اپنی ضروریات کے مطابق اپنا کر فلاحی معاشرہ قائم کرنے اور ترقی کی راہ اختیار کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئیں لیکن ایک ایسا ملک یعنی پاکستان جس کی عوام نے اسی دینی نظریہ قرآن پاک کی روشنی کے تحت عظیم ، بے شمار ، جانی ، مالی اور ہر قسم کی قربانیاں دے کر یہ ملک پاکستان حاصل کیا۔ جس کی خاطر لاکھوں بوڑھوں ، جوانوں، معصوم بچوں، ماؤں، بہنوں ، اور بیٹیوں کی جانوں کی شہادتیں پیش کیں ۔ جس کی بنیادوں میں معصوم، بے گناہ ماؤں ، بیٹیوں کی عصمتوں اور بے حرمتیوں کے زخم بھی دفن ہیں۔ جس کی خاطر سجے سجائے گھر ، زمینیں ، کاروبار، ماں باپ کی قبریں، نسل در نسل، عقیدت و محبت سے بھرپور جذبوں پر مشتمل مادر وطن سے ہجرت کا عظیم عمل ، عزیز و اقارب کے بچھڑنے اور لاتعداد ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے ہندؤوں ، سکھوں کے یرغمال بنا لینے کے اندوہناک زخم اس دھرتی کی بنیادوں میں دفن ہیں ۔ ہمارے ساتھ کیا ہوا ۔ ہمارے ساتھ کیا بیت گئی ۔ نہ اتنی عظیم قربانیوں کا کوئی دینی صلہ ملا اور نہ ہی اس ملک میں آج تک اسلام نافذ ہو سکا ۔
دین کو صرف ملک میں پڑھنے، پڑھانے تک محدود اور مسدود کر دیا ۔ملت کے ساتھ ایک بھیانک دھوکہ اور ایک عظیم سانحہ رونما ہو گیا ۔ اس کے نونہالوں کو مغرب کی تہذیب اور استحصالی جمہو ریت کی چتا میں جھونک دیا گیا ۔ طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی ادارے، طبقاتی انتظامی ڈھانچہ، طبقاتی نظام حکومت، طبقاتی حکمران، طبقاتی افسر شاہی، طبقاتی منصفوں کی گرفت اور شکنجے میں ایسے جکڑے گئے کہ۵۳برسوں تک ان سے نجات حاصل کرنے کاکوئی وسیلہ کوئی طریقہ کام نہ آ سکااور وہ سب مل کر ملک و ملت کا خزانہ ، وسائل اور تمام بیرونی قرضے ہر قسم کی کرپشن کے ذریعہ اپنی ذاتی بہبود و مقاصدکے لئے استعمال میں لاتے چلے آرہے ہیں ۔ ان کا عوام الناس کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں کہ وہ ان کے اس ظالمانہ نظام کو روک سکیں۔کالے انگریزوں نے ابھی تک اس ملت کو رہائی نہیں بخشی۔انکے ظلم کی سرخ آندھی کے طو فان کا اب اپا ہو چکا ہے۔کڑے احتساب کی تلوار انکے سروں پر لٹکی ہوئی ہے۔ان کے حساب بیباک کرنے کا وقت اب آن پہنچا ہے۔
کسی معاشرے میں اعتدال،مساوات اور عدل و انصاف کو قائم رکھنے کیلئے جن اصولوں،ضا بطوں اور قوانین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسکے متعلق عدل و انصاف سے وابسطہ قانون دان یا اسکے ماہرین یعنی جج صاحبان اور وکلا صاحبان ہی بہتر جانتے ہیں۔عدل و انصاف کو مہیا کرنے کے طریقہ کار اور سسٹم کی کوتاہیوں،خامیوں، کمزوریوں، دشواریوں کو جو یہ محسوس کر سکتے ہیں۔ وہ عام آدمی نہیں کر سکتا۔اس شعبہ یا پیشہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے یہ تمام تر ذمہ داری ان پر عائد ہو تی ہے اور انکی ڈیوٹی کا بھی فریضہ ہے کہ وہ اپنے طور پر ایسی تمام قباحتوں اور دشواریوں کو ختم کرنے کیلئے قانونی ماہرین اور دانشوروں پر مشتمل فل بینچ تشکیل دیکر انکی آ راء اور مشورے پر مشتمل رپورٹ حکومتِوقت کو پیش کریںتا کہ عوام کو انصاف کے حصول کیلئے کسی قسم کی دشواری یا پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے اور معاشرہ ان عدل و انصاف کی اقدار کے زیر اثر پروان چڑھے لیکن پاکستان میں یہ عدل و انصاف کا کرتا دھرتا منصف شاہی ٹولہ ہوس زر ،عیش و عشرت ،کرپشن اور شا ہی تنخواہوں اور بے شمار سرکاری سہولتوں،انصاف کش سسٹم اور اقتدار کی کرسی کے اندھیروں میں بھٹکتے چلے آرہے ہیں ۔
دوسری طرف علماء کرام اور مشائخ کرام کا یہ دینی فریضہ بنتا ہے کہ اگر کوئی قانون ضابطہ، نظام یا سسٹم اسلامی معاشرے کی تشکیل میں رکاوٹ یا منفی اثرات پیدا کرے تو ان عالم دین اور مشائخ کرام کا یہ اولین فریضہ اور دینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملکی سطح پراسلام کی روشنی میں اعلیٰ صلاحیتوں والے ،مفکروں ، مدبروں اور علماء صاحبان اور مشائخ کرام کی زیر قیادت ایک کمیٹی تشکیل دے کر ان غیر اسلامی قوانین، ضوابط یا سسٹم کے خلاف رپورٹ حکومت وقت کو فوری طور پر پہنچائیں اور مل بیٹھ کر ان برائیوں اور دین کے منافی ،قانون اور سسٹم کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ ملک میں دستور مقدس کا نفاذ من و عن ہو سکے ۔لیکن بدقسمتی سے وہ تو خود دین کے خلاف جمہوری نظام میں اپنی سیاسی جماعتیں تشکیل دے کر اور اس باطل نظام حکومت اور حکمرانوں کے دعا گو اور ان کی کامیابیوں کی ضمانت بنے بیٹھے ہیں۔ وہ بھی وقت کے عبرت کدے میں اسلام کی تمام اقدار ، تعلیمات ، اصول، ضوابط، سسٹم کو محدود سے محدود اور ختم کرنے والے اقتدار کے ساتھیوں کے ہاتھ پاؤں بن گئے اور دین کے خلاف یزیدی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ یہ بات واضح اس لئے کر دی گئی ہے تاکہ ان پر دینی حجت پوری ہو جائے اور وہ خائف ہوں اور وہ واپس دین کی آغوش میں لوٹ آئیں ورنہ ان کا یہ اسلام کش طرز حیات ان کو اور پوری ملت کو اسلامی تعلیمات اور عمل سے دور لے جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائیں کہ وہ اس ظلم سے باز آجا ئیں ۔ آمین!
یہ جمہوریت کی آڑ میں پچھلے ۵۳ سالوں سے کبھی روٹی کپڑے کا نعرہ،کبھی اسلامائزیشن کا نعرہ،کبھی لٹیروں اور رہزنوں سے لوٹا ہوا ملکی خزانہ،وسائل اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی پائی پائی واپس لینے کی نوید،کبھی مارشل لا کا پہرہ،کبھی غربت اور جہالت ختم کرنے کا حسین وعدہ،یہ بڑی درد ناک حقیقت ہے کہ اس طویل عرصہ میں یہ گھناؤنا کھیل جاری رہا۔مشرقی اور مغربی پاکستان الگ کر دےئے گئے۔مغربی پاکستان میں ون یونٹ کو توڑا گیا۔چار صوبے معرض وجود میں لائے۔ایم پی اے ،ایم این اے اور سینٹروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا، چاروں صو بوں میں مشیر، وزیر،وزیر اعلیٰ،گورنر،سینیٹ کے ممبران ،وفاقی اسمبلی کے ممبران دنیا بھر کے سفارت خا نوں میں سفیر، سینٹ کے چئیر مین، وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کی لا تعداد شاہی فوج ملک اور بیرونی ممالک میں پھیلتی گئی۔
اقتدار کی نوک پر ہر دور میں تمام وسائل ،قومی خزانہ،غیر ملکی قرضے انہوں نے آپس میں تقسیم کر لئے۔ رہبر رہزن بن گئے۔افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی سب نے ملکر شاہانہ زندگی اور لوٹ کھسوٹ کا کھیل جاری رکھا۔انگریز کی مفتو حہ قوم کوکالے انگریزوں نے سنبھال لیا۔ان کا بنا بنایا نظا م اور سسٹم وہی قائم رکھا۔ انگریز آزادی پسند لوگوں کو باغی اور غدار کہ کر پولیس مقابلے میں مروا دیتے۔جھو ٹے کیس بنوا کر اپنے منصفوں سے سخت سے سخت سزائیں دلوا تے۔ ان کا یہ قابل اعتماد شاہی ٹو لہ انکے اشاروں پر ناچتا۔ہر ظلم اپنے ہموطنوں سے کرتا۔ انکے جانے کے بعد وہی شاہی تفاوتی تعلیمی ادارے، وہی جاگیر دار ی نظام ، وہی سرمائے داری سسٹم،وہی کالے انگریز حکمران بنے ۔انکی اولادیں افسر شاہی ، نوکر شاہی اور منصف شاہی کے روپ میں انتظامیہ اور عدلیہ پر قابض ہو گئیں۔ آج بھی ۱۵۳ سالوں سے وہی نظا م اور سسٹم جاری ہے۔ جھوٹے اور جعلی کیس ہر حکومت اپنی انتظامیہ سے اسی طرح تیار کرواتی ہے۔پولیس مقابلوں میں انگنت لوگوں کو مروایا جاتا ہے۔افسر شاہی اور منصف شاہی ٹولہ آج بھی حکمرانوں کے اشاروں پر رقص کرتے ہیں۔ آج بھی رشو ت ،سفارش سے مجرم ابتدائی طور پر فارغ ہوتے رہتے ہیں۔معصوم اور بے گناہ لو گوں کو کیسوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ منصف آج بھی بوگس کیسوں کی سماعت اسی طرح کرتے ہیں۔ان دانشوروں اور پیشہ ور ماہرین نے لا قانو نیت کا غدر مچایا ہوا ہے۔ تمام ملک کا امن اور عدل اس عدلیہ ، انتظا میہ اور حاکموں نے بری طرح مفلوج کر رکھا ہے۔ اس نظام اور سسٹم کو ختم کرنااوراسلامائزیشن کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہر اہل وطن کا پیدائشی فرض ہے۔
مغرب نے حکومت اور معاشرے کا نظام چلانے کے لئے جمہوریت کے طریقہ کار کو اپنا کر عوام کی رائے کی روشنی میں قوانین اور ضوابط تیار کئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت کے مطابق کم و بیشی کر کے اپنے معاشرے کی تشکیل و تکمیل کر تے رہے۔ نظام امور احسن طریقہ سے چلایا۔عدل و انصاف قائم کیا۔معاشی اور معاشرتی ترقی کی۔ان غاصبوں اور ظالموں نے تو مفتوحہ قوم سے بھی زیادہ انسانیت سوز اور درد ناک اذیتوں سے گذارا۔ٹیکسوں کا کلچر اپنایا۔مہنگائی کو فروغ دیا۔ سب کچھ لوٹ کھایا۔عوام الناس کا معاشی قتل کیا۔ ہمیں ان چند گنتی کے رہزنوں کی ترقی نہیں بلکہ تمام اہل وطن کی ترقی اور اسلام کی کھوئی ہوئی اصلی ساخت ، شناخت اور کردار کو بحال کرنا ہے۔اور اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام ،مرتبہ اور تشخص ایک بار پھر زندہ کرنا ہے۔
اس کے برعکس مسلمانوں کو اُن کی الہامی کتاب قران پاک کی روشنی میں ایک مکمل ضابطہ حیات عطا ہوا ۔ معاشی نظام کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اور عشر کا طریقہ بتادیا‘جس سے حکومت کے انتظامات اور عوام کی ضروریات کو چلایا جاتا ہے۔ مغرب نے اپنے اپنے ممالک میں معاشی عدل قائم رکھنے کے لئے زکوۃ اور عشر کا نام بدل کر ٹیکس کلچر رکھ دیا ۔ ٹیکسوں کا نظام مروج کر کے انھوں نے حکومتی کاروبار چلایا ۔انھوں نے ان ٹیکسوں سے اکٹھا کیا ہو ا خزانہ ایمانداری سے استعمال کیا اور ملک میں غریب ، یتیم ، بیوہ ، مسکین محتاج ، بوڑھے اور بے روزگاروں کے حقوق کو مکمل تحفظ دیا اور ان کی کفالت کے لئے ان کو معقول معاوضہ مہیا کر نے کا بندوبست کیا‘ جس سے فرد سے لیکر افراد تک تما م کے حقو ق کو انسانی قدروں کے مطابق احسن طریقے سے سرانجام دیا۔ اس کے برعکس مسلمانوں یعنی حکومت پاکستان کے حکمرانوں ،افسر شاہی، نوکر شاہی، منصف شاہی کے ٹو لہ نے زکوٰۃ اور عشر کے علاوہ بے شمار ٹیکسوں اور بار بار ٹیکسوں میں اضافے کر کے پانی ،بجلی ، گیس،ٹیلیفون کے بلوں میں اتنے اضافے کر دئیے کہ عوام الناس کی برداشت سے باہر ہوگئے۔ اس کے علاوہ مکانوں کے ٹیکسوں میں بھی لامتناہی اضافوں کاسلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس میں خاص بات واضح کر نی نہایت ضروری ہے کہ انہوں نے ہر غریب ، یتیم، بیوہ ، مسکین، محتاج، بوڑھے اور بے روزگاروں کی مالی اعانت کر نے کی بجائے ان کو بھی ان ٹیکسوں اور اضافی ٹیکسوں سے پیدا کر دہ مہنگائی کی انسانیت سوز چتا میں جھونک رکھا ہے۔
وہ ان تما م ٹیکسوں سے حاصل کردہ دولت اور اس کے علاوہ زکوۃ اور عشر سے اکٹھا کیا ہو ا خزانہ اور بیرونی قرضوں اور ملکی تمام وسائل کو یاجوج ماجوج کی طرح چاٹنے اور اپنا اپنا ذاتی پاکستان یعنی سرے محلوں، رائے ونڈ ہاؤسوں، ملوں، فیکٹریوں اور کاروبارکی شکل میں تعمیر و تکمیل کرنا شروع کر رکھا ہے۔ عیش و عشرت ، جاہ و حشمت کا کھیل جاری ہے۔ تفاوتی تنخواہ اور سرکاری سہولتوں کے سسٹم سے زکوۃ ہضم ، عشر ہضم، ہر قسم کے ٹیکسوں سے اکٹھا کیا ہو خزانہ ہضم ، ملکی بینک ہضم ، غیر ملکی امدادیں ہضم اور آئی ایم ایف کے تمام قرضے ہضم لوٹیروں،رہزنوں،ڈا کوؤں سے لوٹا ہوا خزانہ واپس لینے اور ان کی جائدادیں ضبط کرنے کی بجائے انکو تحفظ فراہم کر کے پھر عوام کو ٹیکسوں اور اضافی ٹیکسوں کے شکنجوں میں جکڑ نا ۔ مہنگائی کی اذیتوں اور عذاب میں پیسنا اپنے خلاف عوام کو بغا وت پر اکسانے اور ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔خدا را ان لوگوں کو بھی پوچھ لو کہ ان کو دو وقت کا کھانا بھی میسر ہے یا نہیں۔ ان غریبوں کی معاونت کرنے کی بجائے ان سے طرح طرح کے بل اور مکانوں کے ٹیکس اورانکے اضافے وصول کرنا ان سے زیادتی اور ظلم ہے۔ جو مسلمانوں حکمرانوں کے کردار،ا خلاق اور اسلامی اقدار کے خلا ف لعنت سے کم نہیں ۔ افسر شاہی،نوکر شاہی،منصف شاہی اور حکمرانوں نے ملک کا معاشی نظام اور ملکی خزانہ لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح آپس میں تفاوتی سسٹم کے ذریعہ بانٹنے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔ اور یہ سسٹم ہر حکومت کو ورثہ میں ملتا چلا آرہا ہے اس عمل کو روکیں،اور حکومت کے غاصب مشیروں کا قلع قمع کریں۔مخلوق خدا کا ادب کریں۔اس کو دل کی گہرائیوں سے پیار کریں۔ان کو عزت دیں، اللہ تعالیٰ اپکی عزت بحال کر دے گا۔
عدل وانصاف کا جو نظام اسلام نے دیا مغرب والوں نے اسکو اپنے حکومتی نظام کا حصہ بنایا۔ مثلا قاضی کا نام بدل کر جج رکھ لیا ۔ کیسوں کی سماعت اور گواہوں کا طریقہ ویسے ہی اپنایا اور اپنے عوام کو انصاف دے کر مطمئن کیا ۔ عوام خوشحالی کی زندگی گزارنے لگے۔لیکن پاکستانی حکمرانوں نے اسلام کی عدالت کی جگہ مسجد کے اسمبلی ہال کو چھوڑ کر فرعونی نظام کے تحت عدل کش سپریم کورٹ بلڈنگ کے سپرد کردیا ۔ عالم دین کی جیوری کی بجائے مغرب کے اداروں کے فارغ ا لتحصیل ججوں کو متعین کیا اور ان کے بنچ تشکیل دیئے۔ملک میں جھوٹے مقدمے تیار ہوتے ہیں۔جھوٹے فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ حکمران جعلی پولیس مقابلوں سے قتل کرواتے ہیں۔مستورات سے اجتماعی زیادتیاں ہوتی ہیں۔عوام غربت اور بیروز گاری کے ہا تھوں تنگ آ کر خود سوزیاں کرتے ہیں۔عدلیہ اپنے فرائض بھول چکی ہے۔
وہ انصاف کے لئے نہیں ان ظالم حکمرانوں کو تحفظ دینے کیلئے ہے۔ اسلامی طریقہ کار کو بدل کر مغرب کے طریقہ کا ر کو اپنایا ۔ عدل و انصاف کے محافظوں نے اعلیٰ تنخواہیں، اعلیٰ رہائشیں ، اعلیٰ مز ین دفاتر ، اعلیٰ کوٹھیاں ، اعلیٰ گاڑیاں، بے شمار سرکاری سہولتیں، لاتعداد نوکر، ان کے گھر اوردفاتر شاہی قلعے ۔ ججوں کے چاروں طرف کرپشن ، رشوت، کمیشن ، شاہی اخراجات اور بریف کیس مافیا کے دروازے کھلتے گئے۔ انصاف حکومتیں بر سر اقتدار آنے یا رہنے کیلئے ججوں کو خود خریدتی چلی آرہی ہیں اور جرم ملک میں فروخت ہوتے رہتے ہیں۔ان کی یہ بد اعمالیاں رب العزت کی قہاری کے دروازے پر عذاب کے لئے دستک دیتی چلی آرہی ہیں۔ فطرت نے ان کا احتساب کا عمل جاری کردیا ہے۔ اس سے اب یہ مجرم اپنی عبرتوں کے نشان بننے والے ہیں ۔انکا دور ذائقۃ الموت میں مبتلا ہو چکاہے۔
ان کو بتا دو کہ اسلام کی روشنی میں اگر خلیفہ ء کا بیٹا کسی حدود کے کیس میں ملوث ہو تو اس کو عام آدمی کی طرح کوڑوں کی سزا اسلامی ضابطہ حیا ت کی روشنی میں دی جاتی ہے اگر وہ مر جائے تو بقایا کوڑے خلیفہ وقت کے بیٹے کی لاش پر مروا کر عدل و انصاف کا تقاضا پورا کیا جاتاہے۔
اے حکمرانو ، اے منصفو،اس ملک میں عورتوں کی بے حرمتی اور اجتماعی زیادتیوں سے اخبارات روزانہ بھرے ہوتے ہیں۔پہلے ادوار کی طرح بیشتر حکمران ، افسر شاہی ، نوکر شاہی اور منصف شاہی ، شراب، شباب ، رشوت ،کمیشن اور کرپشن کے مرتکب ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ ریسٹ ہاؤس اور کلبیں انہی فنکشنوں کے لئے مختص ہو چکی ہیں ۔ انصاف اورعدل کیسا ، رائج الوقت جرائم اپنی تمام حدود توڑ چکے ہیں ۔ معاشی اور معاشرتی زندگی ان راہزنوں نے مفلوج کر رکھی ہے۔ اسلامی انقلاب ہی روح زمین پر تمام مخلوق ، درند ، چرند ، پرند، نباتات اور حیوانات اور حیوان ناطق کی نجات کا سبب ہے۔ اہل بصیرت ان جرائم کی اذیتوں سے انسانیت کو دیکھ کر حیرتم میں گم سم ہو چکے ہیں۔ اب یہ باطل ، غاصب نظام زندگی ، موت کی کشمکش میں مبتلا سسکیاں لیتے اور موت کا کڑوا گھونٹ پیتے واضح نظر آرہا ہے۔ عدلیہ کے ادارے کا انسانیت سوز،غیر انسانی حسن سلوک ، وحشیانہ طرز عمل کے پچھلے تمام تاریخی ادوار کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔
مغر ب کی جمہوریت کے طریقہ عدل کو چلانے کے لئے ملک میں مغربی تعلیم کے تعلیمی نصاب پر مشتمل، جمہوری انگلش میڈیم اداروں کے فارغ التحصیل سول جج، سینئر سول جج ، ایڈیشنل سیشن جج سیشن جج ، ہائی کورٹ کے جج ، سپریم کورٹ کے جج اور ان کے بیشتر چیف جسٹس صاحبان نے اس منصف اور عادل ادارے یعنی عدلیہ کی جتنی بے حرمتی ، توہین، انسانیت سوزی اور انصاف کا قتل عام کیا اور وہشتناک بربریت کا عمل انہوں نے روا رکھا۔ اور قانونی تحفظ دے کر یہ ظالما نہ، غاصبانہ، نظام عدل ملک میں قائم کیا اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں مل سکتی ۔ انہوں نے پورے سماج کی چیخیں، دھاڑیں نکلوا دیں اور رونگٹے کھڑے کرنے والی روح سوز اذیتیں دیں ۔ کوئی شخص بھی ملک کے ان تعلیم یافتہ مغرب کے دانش وروں ، قانون دانوں ، مہذب ، محترم اور ملک کے ایسے دیدہ ور ،با عزت، با و قا ر منصفوں سے ایسی توقعات نہ رکھ سکتا ہے نہ سوچ سکتا ہے ۔
جمہوریت کا تیار کردہ عدلیہ اور اس کے منصفوں پر مشتمل ڈھانچہ ۱۵۳ برسوں سے اپنے کردار اور حسن کارکردگی کی دھجیاں بکھیرتا چلا آ رہا ہے ۔ اس عدلیہ اور منصفوں کا اختصاری طریقہ کار اور جائزہ عوام الناس ۔ اہل قلم ،صحافی صاحبان ، اہل دل، اہل درد ، اہل بصیرت ، اہل دین ، اہل علم، اہل دانش ، اہل حکمت، اہل وطن، اہل نسبت فقیروں ، درویشوں اور عوام الناس کی خدائی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ وہ سب مل کر بغیر کسی رو رعائت کے اپنے فیصلہ سے قوم کو مطلع فرماویں اور اس نظام کو رائج اور مرو ج کرنے والے حکمرانوں سے بھی گزارشات پیش کریں تاکہ وہ ان کی روشنی میں ملک کا عدل و انصاف کا شعبہ ، دستور مقدس میں بدلنے پر مجبور ہو جائیں ۔ عوام الناس ، محنت کش، کسان، مزدور، اور ہنر مند، آپ کے فیصلے اور ہدایات کی بڑی بے تابی سے منتظر ہیں ۔


یہاں یہ بات واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ کسی بھی شخص یا فرد کی توہین یا دل شکنی کرنا مطلوب یا مقصود نہیں بلکہ مروجہ نظام اور سسٹم کی پیدا کردہ اذیتوں ، مصیبتوں اوران گنت انسانیت سوزلامتناہی تکلیفو ںجن کی بنا پر رشوت،کرپشن اور بریف کیس مافیہ ملک میں رواج پذیر ہوا ۔ اور عدل و انصا ف دم توڑتا گیا، ملت کو ان آ ہنی گرفتوں اور شکنجوں سے نجات دلوانا اور اس سسٹم کو ختم کر کے ملک میں عدل وانصاف کے بنیادی حقوق کو بحا ل کروانا مقصود ہے۔ان تمام انسانوںکو جو اس نظام کے اوزار یعنی افسر شاہی،منصف شاہی اور ا س تمام مخلوق خدا یعنی اہل وطن اور پوری انسانیت کو جو اس نظام کا بری طرح شکار ہو رہے ہیں۔کو نجات دلوانانہا یت ضروری ہے ۔مسلما نوں کے ملک میں مسلمانوں کے قوانین،ضوابط کے نفاذ کے لئے حکومت وقت کو التجا کرنا اورمجبور کرنا ہر اہل وطن کا حق ہے۔مسلمان حکمرانوں کواللہ تعا لیٰ کے اور حضور نبی کریمﷺ کے نظام کے خلاف جنگ لڑنا اور باطل نظام کی پیروی کرنا ان کی زندگی اور آخرت کے لئے بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کواسلام کے نفاذکی اہلیت،توفیق،طا قت، اطا عت،غور و فکر، اچھے ساتھیوں کی رفاقت،اور دین کی روشنی میں ملت کے کردار کو ڈھالنے کا عمل عطا فرماویں اور نجس زندگی سے نجات دلائیں۔آمین !
۱۔ سول ججوں، سینئر سول ججوں، ایڈیشنل سول ججوں، سیشن ججوں کی عدالتوں کے باہر اس دن کے مقدموںکی سماعت کی لسٹ دیوار کے ساتھ منسلک یا پیوست ہوتی ہے ۔ تقریبا پچاس ، ستر ، سو کے قریب کیس اس میں درج ہوتے ہیں ۔ جن کی سماعت اس دن مقرر اور متعین ہوتی ہے ۔ ان میں سے صرف چند ایک کیسوں کی سماعت ہوتی ہے۔ انصاف کے متلاشی ان عدالتوں کے ظلمت کدے میں صبح آٹھ بجے سے لے کر سہ پہر تین بجے تک عدالتوں کے باہر، دھکے کھاتے، اٹھتے ، بیٹھتے، تنگ آتے ،پریشان ہوتے ، انتظار کی چتا میں سلگتے اوربھسم ہوتے دکھا ئی د تیے ہیں۔ عوام الناس جو ان کی عدالتوں میں انصاف حاصل کرنے آ تے ہیں ۔ اس تذلیل اور انسانیت سوز عمل سے سال ہا سال تک دوچار ہوتے رہتے ہیںاور وہ ان مہذب اعلیٰ تعلیم یا فتہ منصفو ںکی، بے حسی ،بے رحمی، سنگدلی ، انسا نیت سوزی اور بے نیا زی کے منصفی سسٹم کے جہنم میںانصاف کے حصو ل کی خاطر کب تک جلتے اور سلگتے رہیں گے۔ملک میں کو ئی انکا پرسان حال،غم گساراور نجات دہندہ نہیںجو عوام الناس کو اس غاصب نظام اور سسٹم اور بے رحم منصفوں سے نجات دلا سکے۔
۲۔ یہ عا دل یہ منصف سا ئل کو انصاف کی بھیک عطا کرنے سے پہلے عدالتوں میں کیسوں کو طوالت د ے کر اپنی عظمتوں سے متعا رف کر وا تے ہیں اور فیصلوں کے سفر کو لمبے اورطویل صحراؤں میں سے گزارتے ہیں ۔ اس طریقہ کار میں ماہر قوانین یعنی وکلا ء صاحبان کابھی بڑا اہم رول ہوتا ہے ۔ عدالتوں کا بے نیاز رویہ اور کیسوں کو نپٹانے میں عدم دلچسپی وکلا ء کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دونوں اطراف کے وکلاء ہرگز اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے کہ کیس کو نپٹایا جائے ۔ وہ عموما منشیوں کے ذریعہ عدالتوں میں حاضر ہونے سے معذرت کرنے کے فن اور کرتب سے خوب واقف اور آشنا ہوتے ہیں ۔ کسی نہ کسی پارٹی کا وکیل ، کسی اعلیٰ عدالت میں مصروف ہونے کا بہانہ پیش کرتارہتا ہے ۔ فیس کیس ، دائر کرنے سے پہلے ہی لے چکے ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی پارٹی ، وکیل یا جج صاحبان کو کیس نپٹانے کے لئے گذارشات پیش کرے ۔ اور فیصلہ جلد کرنے کی درخواست کرے تو اس کا اثر کیس پر برا پڑتا ہے ۔ ان کو اس بربریت کے عمل سے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ ان کے پیشے کے کردار کا ایک اہم حصہ ہے ۔
۳۔ اگر کوئی سائل دن بھر کی سزا اور عذاب سے بچنا چاہتا ہو، تو وہ ہرکارے یا متعلقہ اہلمد سے رابطہ استوار کر کے حسب منشا خدمت کے بعد نئی تاریخ حاصل کرکے چلا جاتا ہے۔ اور دوسری پارٹی عدالت کے باہر کھڑی رہتی ہے ۔ یہ زمین دوز کرپشن کے بھیانک کھیل عدالتوں کے کریکٹر کا حصہ بن چکے ہیں۔ اور بعض پیشہ ور مقدمہ باز لوگ دوسرے کاروباری لوگوں کومختلف مقدموں میں دھکیل کر اور عدالتوں کے نظام میں پھنسا کر ان سے اپنی حسب منشاء خواہشات کی تکمیل کروانے پر مجبور کردیتے ہیں ۔
۴۔ یہ پچاس سوپر مشتمل مقدموں کی لسٹ کے مطابق دونوں پارٹیاں پابندی کے ساتھ ،کیس کی ہر تاریخ پر انصاف اور عدل حاصل کرنے کے لئے دور دراز کے علاقوں سے کرائے،چائے،کھانے وغیرہ کے اخراجات برداشت کرکے ان عادلوں اور ظالم منصفوں کی بے رحم عدالتوں کے باہر، تمام کاروبار زندگی معطل اور ہر قسم کی مصروفیت کو پس پشت ڈال کر، کیسوں کی سماعت کی انتظار کی اذیتوں کو زندگی بھر برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور یہ عمل انصاف کے بھکاریوں کے ساتھ سال ہا سال تک رواں دواں رہتا ہے ۔ اگر بدقسمتی سے کوئی انصاف کا متلاشی کسی بیماری یا ناگہانی آفت کی وجہ سے کسی تاریخ پر حاضر نہ ہو سکے تو اس کا کیس ختم کر دیا جاتا ہے اور عدالتیں انسانوں کی زندگیوں کو اپنی عدالتوں کے باہر انتظار کی چتا میں جھونکے رکھتی ہیں۔
۵۔ ان ظالم ، بے رحم ، انسانیت کش عادلوں اور تذ لیل آلودہ انصا ف کے خلاف نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی کاروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ کوئی سول کورٹ عدالت فیصلہ کر بھی دے تو کیس اپیل کے روپ میں نئے سرے سے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں شروع ہو جاتا ہے ۔ پھروہی وکیلوں کی فیسیں، کیس کی نوعیت کے مطابق نئی ٹکٹیں،پھروہی عدالت کی پیشیوں کاچکر، عدالتوں کا نئے سرے سے انتظاراور انصاف کے حصول کے لئے مجرموں کی طرح ایک طویل عرصہ تک اذیت ناک ، حیرت ناک اور عبرت ناک ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ اس کے بعد اگر کیس کی اپیل ہائی کورٹ میں پہنچ جائے تووہاں سے کسی تاریخ کا نکلوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔ وہاں کے قوانین کے ماہرین یعنی اعلیٰ نسل ، بھاری فیس، نئی قانونی ترمیمییں کروانے والے عظیم و کلا صاحبان ، نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو،ان کے لئے سبوتاژ کروا دینا کوئی مشکل کام نہیں۔
۶۔ چھوٹی سے چھوٹی جائیداد کے جائز حقوق یا قبضہ کو حاصل کرنے کے لئے عدالتوں کی جنگ نسل در نسل جاری رہتی ہے ۔ کیس دوبارہ نچلی عدالتوں کی سماعت کے لئے پیش کرنا پڑتا ہے اس وقت تک نئے قانون ، نئے ایکٹ، نئے ضوابط معرض وجود میں آ چکے ہوتے ہیں ۔ بے شمار ترمیمیں ہو چکی ہوتی ہیں ۔ عمریں بیت جاتی ہیں اور اس جائیداد کی اصل سے کہیں زیادہ اخراجات ، اس نظام کی نذر ہو جاتے ہیں ۔ جمہوریت کا عدالتی نظام ایسا پختہ اورمضبوط ہے کہ عدالتوں اور ججوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے اور نئے اور پرانے کیسوں کی تعداد بھی اسی نسبت سے بڑھتی رہتی ہے۔ حکمرانوں کے مقبول و محبوب عزیز و اقارب اور تعلقات والے انگلش میڈیم اداروں کے فارغ التحصیل لاڈلوں کے لئے اس منصف شاہی کے پھیلاؤ اور ملکی معیشت کو چاٹنے کا عمل جاری ساری چلا آ رہا ہے ۔
۷۔ عدل و انصاف مہیا کرنے والے منصفوںکی عدالتوں میں کون کون سے جرائم اور کس کس طرح کے غیر قانونی دلسوز حربے استعمال نہیں ہوتے ۔کسی جا ئداد کا قبضہ لینا ہو تو ان عدالتوں سے انصا ف کو روند کرجرائم کو کیسے قانونی شکل دی جاتی ہے۔کسی کاریگر بے ضمیر وکیل کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔اس سے متعلقہ جائیداد کی اجرا کی درخواست عدالت میں دی جاتی ہے۔عدا لت سے دوسری پارٹی کو نوٹس جاری کروا دیا جاتا ہے۔اس عدالت کے اہلمد،ریڈر اور بیلف کو کیس کے مطابق ضروری خدمت پیش کی جاتی ہے۔عموما ً نوٹس کے اجرا کے حکم کے بعد۔۔۔
۱۔ نوٹس بذریعہ بیلف برائے ضروری تعمیل ارسال کیا جاتا ہے۔
۲۔ نوٹس بذریعہ ڈاک برائے اطلاع عدالت میں حاضری ارسال کیا جاتا ہے۔
۳۔ عدالت میں حاضر نہ ہونے کی صورت میں اخبار میں نوٹس مشتہر کرایا جاتاہے۔
۴۔ علاقہ پولیس کو نوٹس برائے تعمیل بھیجا جاتا ہے۔
۸۔ لیکن ایسے کیسوں میں صرف بیلف کی بوگس رپو رٹ،کچہری میں بیٹھ کر تیار کی جاتی ہے۔ کسی سرکا ری یا غیر سرکاری جھو ٹے گواہ کی گواہی ڈلوا لی جاتی ہے۔ اس تمام بو گس کا روائی کی تصدیق خودکر کے کیس کورٹ میں برائے ضروری کاروائی پیش کردیا جاتاہے۔ اس طرح یک طرفہ اجرا کی ڈگری کے احکام تمام قوانین کو با لائے طاق رکھ کر عدالت کا جاری کر دینا۔اسکے علاوہ علاقہ پولیس کو قبضہ با الفورس فوری دلوانے کا حکم نامہ جاری کرنا۔ان منصف اداروں کے بد د یانت، رشوت خور منصفوں اور اہلکاروں کے کردارکا حصہ بن چکاہے۔عدالتوںمیںانصاف فروخت ہو تا ہے۔جرم خریدا جا تا ہے۔اب پو لیس والوں کی سن لو۔وہ بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔تھانے میں کوئی جائز رپورٹ درج کرانے چلے جاؤ۔وہ کیسے بات سنتے ہیں۔یہ کوئی چھپی لکی بات نہیں۔
۹۔ لیکن ایسے کیسوں میں قبضہ دلوانے کے لئے سرکاری چھٹی والے دن ایس ایچ او بمعہ عملہ خود پہنچ جاتے ہیں۔عدالت کے حکم کی روشنی میںزبردستی مکان میں دا خل ہونا۔ چادر،چار دیواری کو پا ش پاش کرنا‘صاحب خانہ کو گھسیٹ اور دھکے دیتے ہوئے کار سرکار میں مداخلت کے جرم میں پولیس وین میں دو تین گھنٹے تک حبس بے جا میں غیر قانونی طور پرخریدے ہوئے انصاف کے تحت پابند رکھنا۔ کسی شریف شہری کو اذیت،ندامت اورذلالت کی بھٹی میں بھسم کر دینا‘ جب تک قبضہ لے نہ لیا جائے‘ اس وقت تک اس شہری کو حراست میں رکھنا۔ ایسے کارنامے سر انجام دینا ان منصفوں کا روز مرہ کامعمول ہے۔ کاش عدالتیں دونوں پارٹیوں کوبلا کر حقائق کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا فریضہ اداکرتیں۔ ان کی اکڑ اور تمکنت فرعون جیسی کیوںنہ ہو۔ان انصاف کے قاتلوں،رشوت خوروں کے سپرد ملکی نظم و نسق دے دینا انسانیت اور ملت کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔اس غیر قانو نی اجرا کی کاپی حاصل کر نا اور اس ظلم اور ز یا دتی کے خلاف پھر انکی ہی عدالتوںکورجوع کرنا کہاںتک درست ہے۔ ایسے ججوں اوراپلکاروں کے خلاف کون کاروائی کرتا ہے۔ ایسے سائل کا کیا حشر ہوتا ہے۔ یہ اہل وطن بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔قانون انکے گھر کا ہے۔ایسے جرائم پر مبنی کیسوں کو اکثر و بیشتر ٹائم بار یا کسی اور وجہ سے نا قابل سماعت قرار دیکر ختم کر دیا جاتا ہے۔ملک کا یہ عدل و انصاف کا ادارہ مجرمو ں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔عدل و انصاف کا قتل عام یہی مجرم منصف کرتے چلے آ رہے ہیں۔
۱۰۔ اسی طرح زمین پر حق شفعہ کی مقررہ میعاد گذرنے کے بعد ایسے کیس کو ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کر دیا جاتاہے۔حالانکہ متعلقہ پارٹی سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں دوسرے شہر میں مقیم ہے۔ایسے شہری کو اطلاع تو کجا وہ تو گاؤں والوں کو بھی پتہ نہیں چلنے دیتے۔ فروخت کندہ نے گورنمنٹ کی تمام ہدایات کو بھی نظر انداز کیا ہوتا ہے۔اس قسم کے کالے قانون، عدل و انصاف کو ختم کرنے کے اس منصف ادارے کا حصہ ہیں۔ملک میں غیر اسلامی، اندھے قانون اور کرپٹ سسٹم کے تحت رشوت خور،بریف کیس مافیہ پر مشتمل منصف شاہی کو عدل و انصاف کی راجدھا نی سپرد کر رکھی ہے۔ یہ عادل،یہ منصف،یہ مغربی تہذیب کے دانشور،یہ سرکاری خزانہ کے رہزن،یہ انصاف کی دیمک،یہ ملی کریکٹر اور کردار کے کینسر، یہ عدل و انصاف کے قاتل، یہ پورے معاشرے کی اعلیٰ اقدار کی تباہی کے اصل مجرم،یہ وہ اندھے ہیں جو سب کچھ دیکھتے ہیں۔یہ وہ بہرے ہیں جو سب کچھ سنتے ہیں۔یہ وہ ذہین و فطین ہیں جو بصیرت کو ترک کر کے اندھیروں کی دانائی میں غرق رہتے ہیں۔یہ وہ منا فق ہیں جو قرآن پاک پر حلف اٹھاتے ہیںاور غیر اسلامی باطل نظام کی پیرو ی کرتے ہیں۔یا اللہ تیرے پاس کونسی کمی ہے تو ان کو کفر کی زمین سے نکال کر دین کی دھرتی کی لذت سے آشنا کر دے۔آمین
۱۱۔ عدالتی فیصلہ کے انجام و اختتام تک ملک میں عدل کی بنیاد کا رخ کئی طریقوں سے وقت کی طوالت کے ساتھ بدلتا اور مڑتا جاتا ہے ۔ کئی لوگ زندگی سے فارغ ہو کر یہ عدالتی کیسوں کا تحفہ اپنے وارثوں کو منتقل کر جاتے ہیں ۔ اور جائیداد کی تقسیم کا پھیلاؤ مزید الجھ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں پارٹیوں میں سے جو مالی لحاظ سے بہتر اور مضبوط ہو گا ۔ وہ پارٹی وکیل بھی مقدمہ کو جیتنے کے لئے اعلیٰ معیار اور اہلیت کا انگیج کرے گی۔ غریب پارٹی بڑے وکیل کے مقابلے میں کم فیس والا کمزور ، یعنی نااہل وکیل عدالت میں کیس کی پیروی کے لئے اپنے حالات کی زبوں حالی کی روشنی میں مقرر کرے گی ۔ ابتدائی طور پر انصاف کے حصول پر نامور وکیل اور کمزور اور نا اہل وکیل کا کیا مقابلہ۔ اصل انصاف عدالت کے باہر ہی دم توڑ جاتا ہے ۔ عدالتی نظام کا اچھا وکیل ، لائق وکیل قابل وکیل وہ ہے جو انگریزی زبان پر پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور ا س کا معیار زندگی بھی دوسرے وکلا سے الگ تھلگ اور نمایاں ہو اور ججوں کے ساتھ میل ملاپ اور تعلق قائم رکھنے اور میل جول کے عمل سے آشنا ہو ۔ شاطرانہ باطل طور طریقے استعمال کرنے کا ماہر اوراپنے اسی اثر و رسوخ کی بنا پر اپنی وکالت کو چمکانے کا بہترین فنکار ہوتا ہے ۔
۱۲۔ ویسے بھی اعلیٰ ، عظیم وکلا ء کے کیریکٹر کی پہچان ایک حسین، بدکردار، بے حیاجسم فروش دوشیزہ سے کم نہیں۔ وہ جسم فروخت کرتی ہے اور اپنے خریدارکو لذت گناہ بھی دیتی ہے۔ اپنے اسی جسمانی معیار کے لحاظ سے بھاری رقمیں اپنے گاہکوں سے وصول کرتی رہتی ہے۔ اس کے برخلاف بیشتر اعلیٰ عظیم وکلاء صا حبان اپنا خوبصورت ذہن اور اپنا انمول ضمیر فروخت کرتے ہیں۔ انکی بلا سے کوئی جھو ٹا مقدمہ ہو، رشوت خورہو، سمگلر ہو، دہشت گرد ہو، قاتل ہو، ملاوٹ کے گھناؤنے جرم میں ملوث ہو، انسانی زندگیوں کا قاتل ہو، بینک لوٹنے والا غاصب ہو، ملک توڑنے والا غدار ہو، بم بلاسٹ کرنے والا انسانیت کا قاتل ہو، معاشی قاتل ہو، اسلام کا باغی ہو، ملی مجرم ہو، عوام کے ساتھ اسلام کے نام پر دھوکہ کرنے والا رہنما یعنی راہزن ہو، ملکی راز افشاء کرنے والا بددیانت سیاستدان ہو، سکھوں کی لسٹیں دشمنوں کو فراہم کر کے انکا قتل عام کروانے اور انکی آزا دی کی تحریک کو کچلنے والا غاصب یا انسانیت کا قاتل ہو، ملک کو دو لخت کرنے وا لے غدار سیا ست دان ہو ں، ز انی ہو، شرابی ہو، قاتل ہو، مسلمان کے روپ میں منافق ہو، انکو تو صرف اس جسم فروش داشتہ کی طرح بڑی سے بڑی رقم چاہئے ۔جس سے وہ اعلیٰ کوٹھی، بہترین کار، شاہی اخراجات معاشرے میں لاجواب مقام انکو میسر ہو‘ان کا کوئی ثانی نہ ہو۔
۱۳۔ تمہاراعلم،تمہاری وکالت، تمہاری بصیرت، تمہارا قانون دانوں میں اعلیٰ مرتبہ، تمہاری عزت، تمہاری شہرت، تمہاری دانائی، تمہارا دین، تمہارا مذہب، تمہارا کردار، تمہاری عظمت، تمہاری شان، تمہاری شوکت پر ہزار بار لعنت۔ اے ملعون طبقے اپنے پیشہ سے توبہ کر لو۔ اس نظام اور ان عدالتوں کا بائیکا ٹ کر دو۔ کم از کم ایسے مقدمات لینے ترک کر دو۔ جھوٹ بولنا چھوڑدو۔ مخلوق خدا پر مزید ظلم نہ کرو۔ ملک میں انصاف بحال ہو جائے گا۔ تم کسی بے گناہ ، کسی مقتول کے غریب مظلوم عزیز و اقارب سے بڑی بڑی فیسیں کیسے ہڑپ کر جاتے ہو۔ واقعی تمھاری خوف خدا سے آشنائی ختم ہو چکی ہے۔آپ بھول چکے ہیں ۔ کہ سانس کی آری زندگی کے درخت کو کاٹنے میں اپنا عمل جاری کئے ہوئے ہے۔ اور یہ جسد فانی اور یہ تمام سازوسامان کسی وقت بھی تمھیں الوداع کہ سکتا ہے۔حضورﷺکے سامنے کیسا چہرہ لے کر پیش ہو گے۔ تمہاری بخشش اور تمہاری نجات کیسے ہوگی، چاہے تم حافظ قرآن ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعا لیٰ آپ پررحم فرمائے اور آپکو معاف فرمائے۔آپکو دین کی روشنی میں زندگی گزارنے اور اس باطل نظام کے خلاف جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
۱۴۔ کیس کو جیتنے کے لئے سیاسی اثرو رسوخ بھی بروئے کار لایا جاتا ہے۔ یا رشوت کا زمین دوز طریقہ استعمال کیا جاتا ہے یا وہ وکیل کیا جاتا ہے جو ججوں کا ٹاؤٹ ہو۔ اس انصاف کے شعبہ میں پچھلے پندرہ بیس سالوں میں کرپشن اس طرح بڑھی ہے کہ اکثر و بیشتر جج اپنی سرکاری حیثیت کو ذاتی منفعتوںکے لئے استعمال میں لاتے ہیں۔ انہوںنے رشوت،کرپشن بریف کیس مافیہ سے کوٹھیاں،بلڈنگیں،جا ئیدادیں اور بنکوں میں ڈالر جمع کرنے کی طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ یہ سو پچاس کی لسٹ میں سے صرف د و تین ، ان کیسوں کی سماعت کرتے ہیں ، جن کی سفارش معقول اور زور دار ہو یا ان کی جنہوں نے انڈر گراونڈ تعلق یا رابطہ قائم کیا ہو۔ملک میں جرائم عدالتوں کے ذریعہ قانون میں ڈھالا جاتا ہے۔
۱۵۔ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں حکمران لابیاں، سیاسی پارٹیاں اپنی من پسند کے ججوں کی تقرریاں یا تعیناتیاں اپنے اقتدار کی نوک پر کرتی ہیں اوراسی طریقہ سے اپنے ناپسندیدہ چیف جسٹس سپریم کورٹ تک کو ایک جنبش سے فارغ کر دینے میں پوری قدرت رکھتے ہیں ۔ ان اعلیٰ عدالتوں کے بیشتر جج حکمرانوں کے اپنی پارٹی اپنے من پسند اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ہر دور کی حکومت ان کی تقرریاں عمل میں لاتی ر ہتی ہے اور عوام کو آسان ، سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کا دلفریب نعرہ ایک مژدہ کی صورت میں سنایا جاتا ہے۔ یہ توان کے ذاتی ، پالتو اور ان کے حقوق اورنظام حکومت کو تحفظ اور ہر قسم کی حفاظت فراہم کرنے والے منصف اور محتسب ہیں ۔ ان کا اپنا معاشرتی ، معاشی ، غاصبانہ ، غیر عادلانہ ، اور عدل کش مرتبہ بھی اسی فنکشن کو قائم رکھنے میں قائم رہ سکتا ہے ۔ جو ان کی مکمل ، باطل اور غاصب زندگیوں کا پرتو ہے ۔ ان کی کرپشن رشوت کے کھلے تذکرے اور چرچے ان کی عدالت کے ایوانوں میں ہوتے رہتے ہیں ۔ معاشرے میں انکی پہچان رشوت خور اور بریف کیس مافیہ سے منسوب کی جاتی ہے۔ کیسوں کو التوا میں رکھ لینا اور بغیر رشوت کے کیس کافیصلہ نہ سنانا ان عدل کش ، دہشت گرد ، منصفوں کی زندگی کا معمول بن چکا ہے ۔
۱۶۔ یہ جج ، یہ منصف ، یہ تمام عدالتی ڈھانچہ ، ملک و ملت کے جسد کا ایک ناسور اور کینسر بن کر پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے ۔ عوام جمہوریت کے اس کرپٹ نظام عدل سے بیزار، بری طرح زخم خوردہ اور بے بس ہیں ۔ حکمران طبقہ نے انصاف کے حصول کو صرف پیچیدہ ہی نہیں بلکہ گھمبیر بنا رکھا ہے تاکہ ملک میں کوئی شخص حکمرانوں کی منی بجٹوں ، بجلی پانی کے بلوں ،اور لامتناہی ٹیکسوں کے سسٹم اور بے پناہ اضافوں سے اس کرپٹ افسر شاہی اور اس بد دیانت اور ظالم پالتو منصفوں اور عدلیہ کے شکنجے میں کسے رہیں اور ان کی عیش و عشرت کی زندگی میں کسی قسم کی کمی نہ آ ئے ۔ کوئی شخص اس فاجر، فاسق، منافق ، باطل، غاصب نظام کے سامنے چوں چراں نہ کر سکے ۔ یہ شاہی کرپٹ نسل اور غاصب جمہوریت کے استحصا لی بطن کی پیدا شدہ جرائمی اولادیں ہیں ۔
۱۷۔ ان کی غیر منصفانہ بڑی بڑی تنخواہیں ، بے پناہ سہولتیں ۔ اعلیٰ بلڈنگوں پر مشتمل سرکاری مزین رہائشیں،اعلیٰ دفاتر پر مشتمل سپریم کورٹ بلڈنگ کی طرح کا پورے ملک میں ہائی کورٹوں ، سیشن کورٹوں ، اور سول کورٹوں کا پھیلا ہوا جال ، ریسٹ ہاؤس، گاڑیاں، اور پٹرول ، بے شمار عملہ ، ٹیلی فون، ہر ماہ کے بعد چلتی پھرتی عدالتوں کے ملک کے تمام صوبوں میں آنے جانے کے اخراجات ، بڑے ٹی اے ، بڑے ڈی اے ، بڑی رشوتیں ، بڑی جائیدادیں ، ان کی زندگیوں کا مقصد بن چکا ہے ۔ اس کے علاوہ گرز ہاتھ میں تھامے، سرکاری شاہی وردی میں ملبوس، ان کے دفتر اور اس کے منسلک ویٹنگ روم یعنی چیمبر تک لے جانے اور لے آنے کا شہنشائی نظام ایک جدید دور کی بد ترین فرعونی ، عدالتی ادا کا حصہ ہے ۔ جہاں پناہ کا اصل چہرہ ، روپ، عدل کشی ، بے رحمی ، بے حسی ، رشوت خوری، عدل و انصاف کے خلا ف بڑ ی بڑی تنخوا ئیں اور لا تعداد سرکاری شاہی سہو لتیں اور ہر قسم کے بے پناہ بدنما ، بے حیا ، مکروہ داغوں سے بھرا پڑا ہے ۔
۱۸۔ ان کی اس کرپشن ، رشوت ، ذاتی، معاشی ،بے پناہ غیر منصفانہ ، ملی خزانہ سے فوائد اور سہولتوں کو اس کرپٹ جمہوری نظام اور باطل اور غاصب تقسیم کے ہرجرم کو انہو ں نے قانونی اور عدالتی تحفظ فراہم کر رکھا ہے ۔ ان کے یہ ضمیر کا حصہ ہی نہیں کہ وہ ایک عادل کی حیثیت سے ملک میںکسی لا قانو نیت ،جرم، سمگلر،رشوت خور ،کمیشن خور، کسی کرپشن کے شاہکار،کسی غاصبانہ طور طریقوں میں ملوث ، عورتوں کی اجتما عی بے حرمتی کے کسی کیس کو یا کسی بد دیانت حکمران کو عدل و انصاف کی خاطر پچھلے ۵۳ سا لوں سے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی کا روائی عمل میںلائی ہو۔ان کے سامنے ملک لٹتا رہا۔ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔وہ عیش میں مست الست رہے۔نہ کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹسوں میں سے کسی ایک نے بھی کوئی بینچ تشکیل دیانہ کوئی کا روائی عمل میں لائی گئی۔یہ تو ہر آنے والے حکمرانوںکے ہرقسم کے جرائم کے ساتھ تعا و ن کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ اپنی غیرقانونی، سہو لتیں،تنخواہیں، ترقیاں،نوکریاں اور کرپشن کا مال بچانے کی خاطر ان کے ضمیر کی روشنی بجھ چکی ہوتی ہے۔
۱۹۔ احتساب بنچوں پر یہ سیاہ و سفید ہاتھی ملک کی معیشت کو چاٹنے میں ہر دور میں بری طرح مصروف چلے آ رہے ہیں ۔ سیاست دانوں اور افسر شاہی نے اپنے تحفظ کے لئے یہ علیٰحدہ عدالتیںتشکیل دے رکھی ہیں۔جہاںنورا کشتی کاا حتسابی کھیل کھیلا جاتا ہے۔ جہاں مجرمو ں اور منصفو ں میں کروڑوں، اربو ں کے غبن کے سودے طے ہو تے ہیں ۔وہ ان کے کیسوں کوسال ہا سال تک لٹکائے رکھتے ہیں اور وقت کا انتظار اس وقت تک کرتے ہیں ۔ جب تک حالات ان کی موافقت میں نہیں ہو جاتے اور ڈالروں سے بھرے بریف کیس ان تک نہیں پہنچ جاتے اور بالآخر ان کو یہ کہہ کر بری کر دیا جاتا ہے کہ حکومت ان کے خلاف کسی قسم کے مناسب شواہد پیش نہیں کر سکی ۔ یہ معاشی رہزن رشوت کے غسل سے پاک اور صاف ہو کر ا پنی سیا سی ساخت کو بحا ل کر کے پھر عوام کے پاس پہنچ جا تے ہیں۔
۲۰۔ اس طرح وہ سفید ہاتھی ، ملک کا بہت بڑا بجٹ چاٹ چکے ہوتے ہیں ۔ انکے خمیر اور ضمیر میں عدل کرنا نہیں ہوتا ۔ بلکہ کیس کی نوعیت کے مطابق کروڑوں، اربوں کے غبن میں سے زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ حاصل کرنا ہوتا ہے اور اس طرح ملک کے تمام قرضے قانونی تقاضوں کو پوراکر کے ہضم کئے جا رہے ہیں اور اس فوجی حکومت سے پہلے شاید ہی کسی حکمران نے لوٹ مار، رشوت ، کمیشن ، ملکی خزانے کو لوٹنے اور ہضم کی ہوئی دولت میں سے کوئی پائی پیسہ جمع کروا یا ہو یا ان کے خلاف آج تک کوئی کاروائی یا سزا دلوائی ہو ۔ تمام عدالتیں ان معاشی اورمعاشرتی درندوں، وحشیوں اورانسانی شکل میں بھیڑیوں کے تحفظ کی آماجگاہیں ہیں ۔
۲۱۔ صرف اسی فوجی حکومت کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان عدالتوں کے علاوہ ان غاصبوں اور بدقماشوں سے تیرہ ارب روپے اگلوا لئے ہیں ۔ یہ کرپٹ افسر شاہی اور رشوت خور منصف اپنے ماموں بھانجوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے میں او ر ہم پیشہ کرپٹ افسرشاہی اور منصفوں کے جرائم کو فائیلوں سے چاٹ جانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ ان کو اس عمل کی مہارت ٹریننگ پچھلے ۵۳ سالوں سے میسر ہے۔ جب تک ملک میں جمہوریت اور اس کے یہ طبقاتی حکمران ، طبقاتی انگلش میڈ یم اعلیٰ تعلیمی ادارے ، طبقاتی معاشی اور معاشرتی تقسیم ، بد دیانت سیاہ و سفیدہاتھیوں پرمشتمل انتظامیہ کی بیشتر کرپٹ افسر شاہی اور عدلیہ کے لا تعداد عدل کش منصفوں کی فوج ظفر موج ملک میں قائم ہے اور یہ باطل سسٹم رائج ہے ا س وقت تک یہ سیاسی حکمران ، یہ کرپٹ افسر شاہی ۔ یہ بد دیانت منصف ملک کا ستانوے فی صدی بجٹ ان کی تنخواہوں، بے شمار سہولتوں اور آرائشوں کی نظر ہوتا رہے گا ۔
۲۲۔ ملک کاخزانہ وسائل، جو ۹۹ فیصد غریب عوام یعنی کسان، مزدور، ہنر مندوں کے خون پسینے کی کمائی ہے اور یہ غریب، مسکین، یتیم ، بیوہ، نادار، محتاج، بوڑ ھوں، بے روزگاروں ، مجبور، محکوم، بے بس انسانوں سے ظلم اور جبر کی شکل میں حاصل کئے ہوئے بے شمار ٹیکسوں ، لاتعداد بلوں سے اکٹھی کی ہوئی دولت کو اس نظام عدل کے چلانے والے عیاشوں ، بے رحموں ، ظالموں، غاصبوں کے معاشی ، معاشرتی، عدل کش طریقہ کار سے مقرر کی ہوئی بڑی بڑی تنخواہیں، بے شمار ٹی اے، ڈی اے، سرکاری اعلیٰ رہائش گا ہیں ریسٹ ہاؤسز، ٹیلی فون، بڑی بڑی سرکاری گاڑیاں، پٹرول، ڈرائیور، باڈی گارڈ، بے شمار سرکاری ملازمین، بے شمار سرکاری سہولتیں اور بے پناہ فضول اخراجات، انکے روز مرہ قانون سے غسل کئے ہوئے جرائم ہیں۔
۲۳۔ بیت المال یا سرکاری خزانہ سے انکو تو صرف عام لوگوں جیسی جائز اور عام زندگی گذارنے کیلئے 1/14کروڑ کا معاشی حصہ ملنا چاہئے۔ اگر اسلامی دور ہوتا تو انکے خمیر اور ضمیر یقینا کم سے کم اخراجات ، حاصل کر کے مطمئن ہوتے۔ یہ کیسے منصف ہیں جو اتنی بڑی تفاوت کی زندگی غیر دینی اور اسلام کے منافی گزار رہے ہیں۔ان معاشی بھیڑیوں اور درندوں کو انصاف کا غسل کون دے گا۔ صاحب اقتدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اور ملک کے ان سرکاری دہشت گردوں کو بھی عدل کے عمل سے گذارے ۔ اس ظالم نظام کو عدالتوں سے اٹھا کر مسجد کے صحن تک پہنچا دو۔ ملک کا بجٹ بھی بچ جائے گا۔ آئی ایم ایف کے قرضے ،انکی جائدادوں اور رشوت سے اکٹھی کی ہوئی دولت سے نہ صرف اتریں گے بلکہ ملک کا خزانہ بھی بھر جائے گا۔ یہ نظام کب تک چلتا رہے گا۔ یہ بریف کیس مافیا کب ختم ہو گا۔ انصاف پاکستان میں کب اپنا دروازہ کھولے گا۔ ان سوالات کے جواب موجودہ حکمران دینگے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضرور دینگے۔ اگر یہ خدا نخواستہ نہ دے سکے۔ تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ فطرت خود اس کا کڑاکے دار جواب دینے کی تیاری کئے بیٹھی ہے۔انشا اللہ اس کام میں اب دیری نہیں ہو گی۔
۲۴۔ اب معلوم نہیں کہ یہ غیر سیاسی فوجی قیادت اس جمہوری نظام حکومت کے دائرے میں رہ کر ان ماموں بھانجوں سے لوٹا ہوا خرانہ واپس لینے اور ان کو کڑی سزائیں دینے میں کہاں تک کامیاب ہو سکتی ہے یا پہلی حکومتوں کی طرح یہ محتسب سرکاری خزانہ سے تنخواہیں اور بے شمار سرکاری سہولتوں کے ڈاکے مارتے رہیں گے اور ان قومی مجرموں سے ان کروڑوں ، اربوں کے ڈاکوؤں سے اپنے ڈالروں کے بریف کیس حاصل کرتے رہیں گے۔ کسی سیاستدان ، کسی افسر شاہی ، منصف شاہی ، کے شاہانہ اخراجات، گاڑیاں ، کوٹھیاں ، کاروبار، ملیں ، فیکٹریاں، کارخانے ، اندرون ، بیرون ممالک تجارت اور جائیدادیں انکی کرپشن، رشوت، کمیشنوں اور ڈاکوں کی پورے ملک میں اذانیں سنائی دیتی رہیں گی۔ چور اور کتیا مل جائیں ۔ تو ڈاکو ، ڈکیٹ، دہشت گرد، معاشی قاتلوں کو کون پکڑ سکتا ہے۔ جنرل مشرف صاحب اور ان کے کور کمانڈر ساتھیوں نے ایمانداری ، دیانت داری سے انکا محاسبہ کرنے کاعہد اور وچن قوم کو دے رکھا ہے ۔ خدا ان کو توفیق دے اور کامیاب کرے (آمین ) ۔ چودہ کروڑ عوام کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
۲۵۔ کوئی بھی حکومت ہو ‘ کوئی بھی حکمران ہو ‘ وہ جمہوریت کی پروردہ اس بد دیانت انتظامیہ کی افسر شاہی اور عدلیہ کے ان بدکردار عدل کش منصفوں سے اپنے دور اقتدار میں اپنے نیک ، فلاحی ، جذبوں اور ارمانوں کی ان سے قبریں تو کھدوا سکتا ہے ۔ وہ ملک میں انسانیت کے بنیادی حقوق ، عدل و انصاف کو قائم نہیں کروا سکتا ۔ ان کرگسوں اور گدھوں کی موجودگی میں ملک کو فلاحی ریاست نہیں بنا سکتا۔ وہ ملک کے ضخیم قرضوں میں ان کی تنخواہوں اور بے پناہ سہولتوں کی سرکاری خزانے سے ادائیگیاں کرکے ملک کے قرضوں میں اضافہ تو کرسکتا ہے ۔ ان قرضوں کو اتار نہیں سکتا ۔ کیونکہ ملک کا ستانوے فی صدی بجٹ ان سیاہ و سفید ہاتھیوں کے سرکاری ایوانوں ، کوٹھیوں ، محلوں ، بڑی بڑی گاڑیوں، ریسٹ ہاؤسوں، بڑے بڑے دفاتر کی عظیم بلڈنگوں ، ان کی اکیڈمیوں، ان کی ڈیکوریشنوں ، ملک کے اندر اور بیرون ممالک ان کے تربیتی کورسوں میں شمولیت کے بڑے بڑے بجٹ ، بیرون ممالک فارن ایکسچینج، ان کے ٹی اے، ڈی اے، ان کی بڑی بڑی غیر منصفانہ، غیر عادلانہ تنخواہیں ، بے حساب، لامتناہی غا صبانہ سرکاری سہولتوں کی نذرہو جاتا ہے ۔
۲۶۔ ہر دور میں اس افسر شاہی اور منصف شاہی کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ہے ۔ ان کے لئے ایک اور آئی ایم ایف درکار ہے ۔ جو اس ملک کو اسی طرح قرضے فراہم کرے تاکہ ان کا رشوت اور کمیشن کا لوٹ مار کا کاروبار حیات آسانی سے چل سکے ۔ ہرحکومت‘ ہر حکمران کو ملکی نظام چلانے اور قرض ادا کرنے کے لئے عوام الناس پر بلوں ، ٹیکسوں میں بے پناہ اضافوں کا چکر چلا کر عوام اورحکمرانوں میں نفرت کی خلیج قائم کر دیتے ہیں ۔ وہ ملک میں انارکی پھیلاتے ہیں ۔ اور اسی آگ میں ہردورکے حکمرانوں اور ان کے اقتدار کو بھسم کرکے خود عیش و عشرت اور اپنی صدا بہار حکمرانی قائم رکھتے ہیں ۔ وہ اپنی ظالمانہ رائج الوقت معاشی لوٹ مار کی پالیسیوں اورسسٹم کو جوں کا توں چلاتے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ غیر ملکی قرضے بھی ان کی ملی بھگت سے کرپشن،کمیشن اوررشوت کی نذر ہو جاتے ہیں ۔ رزق حرام ان کو باطنی زندگی کی پاکیزگی سے محروم کر دیتا ہے اور احساس زیاں کا شعور بھی چھین لیتا ہے۔
۲۷۔ ان کی جائیدادیں اور مخفی اکاؤنٹ اور ان کے بے پناہ شاہی اخراجات،ان کے پھلوں اور میو ہ جات سے بھرے ہوئے ڈائننگ ٹیبل اور ان کا یہ استحصالی جمہوری نظام ، ان ملی مجرموںاور لٹیروں کے خلاف چیخ چیخ کر اہل دل ، اہل نظر، اہل شعور ، اہل احتساب ، اہل وطن۔ اور اہل اقتدار فوجی حکمرانوں کو پکار پکار کر یہ التجائیں اور ندائیں پیش کر رہی ہیں اور سراپا سوال بنی کھڑی ہیں کہ ملت اسلامیہ اور اہل پاکستان کے عوام کے ساتھ یہ اذیت ناک ظلم کیوں ۔کیا اس نظام عدل وانصاف،اس بد ترین عدل کش سسٹم اوراس بریف کیس مافیہ کے خونخوارمعاشی منصفوں کا ملک مزید متحمل ہو سکتا ہے؟ملک و ملت کی فلاح صرف رسول عربیﷺ کے دستور مقدس میں مضمر ہے۔ہم کب تک خدا اور رسول کے نظام کے خلاف ان غا صبوں اور ان کے سسٹم کے تحفظ کے لئے جنگ لڑتے رہیں گے۔یا اللہ۔اپنی مقبول و محبوب امت کو ان منافقوں کے عذاب سے بچا۔
۲۸۔ ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی سے لے کر ۱۹۴۷ء تک اور ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک تمام معصوم بے گناہ شہدا کی روحیں پکار پکار کر اس پاک وطن کے حکمرا نوں سے اس غاصب، جابر، باطل، ظالم ، بے دین نظام اور اسکی انتظامیہ اور ان کے بے رحم ظالم عدل کش منصفوں کے اس سانچے اور ڈھانچے کو اسلامائیزیشن کے فطرتی عدل و انصاف کے ضابطہ حیات میں کیوں نہیں ڈھالا اور کیوں نہیں بدلا گیا ۔ ملک کو ا من کا گہوارہ کیوں نہیں بنا یا گیا ۔ یہ خوفناک حقیقت پر مبنی سوال بڑے جلال کے ساتھ تمام حکمرانوں کے لئے سراپا سوال بنا کھڑا ہے کہ کیوں نہیں یہ حکمران خدا اور رسول ﷺکی عملی طور پر اطاعت قبول کرتے اور ملت اسلامیہ کو ان لامتناہی اذیتوں سے نجات کیوں نہیں دلواتے ۔ کیا وہ اس باطل نظام اور ان آستین کے سانپوں کو پا لتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے کور کمانڈروں کو اس اذیت ناک سسٹم سے ملت کو نجات دلانے کی توفیق عطا فرماویں اور دستور مقدس کے نفاذ کی قوت اور ہمت بھی بخشیں۔آمین
۲۹۔ مسلمان تو انصاف کی عدالت مسجد شریف میں بیٹھ کر لگاتے ہیں انصاف کے تقاضے خدا اور رسول ﷺ کے ضابطہ کی روشنی میں پورا کرتے ہیں اور کیسوں کو نپٹاتے ہیں ۔ جھوٹے گواہ کو سزا آنا ًفاناً ًدیتے ہیں۔ منصفوں کی کسی قسم کی کوتاہی اور ناانصافی کو کسی حالت میں بھی معاف نہیں کیا جاتا ۔ اس کے لئے قانون کی جزا و سزا میں سے گزرنے کا مثالی طریقہ کار عمل میں لایا جاتا ہے ۔ یہ ضابطہ حیات کسی کو بھی غلط عمل یا حرکت کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ انصاف سال ہا سال تک نہیں ۔ مہینوں تک بھی نہیں ہفتو ںمیں نہیں بلکہ چند یوم میں مہیا کیا جاتا ہے اور اس پر کسی قسم کے کوئی اخراجات ادا نہیں کرنے پڑتے ۔ اسلام کے منا فقو اسلام کوئی فرسودہ نظام نہیں۔ انکے گمراہ کن خیا ل کی تردیدصرف عمل سے کی جا سکتی ہے۔حیوان ناطق کی آنکھ،اہل بصیرت کی آنکھ اور دیدہ و بینا کی آنکھ دین کی روشنی میں پلنے اور پنپنے والے انسانو ں پر یہ علم منکشف ہوتا ہے۔اندھوں کو اندھیروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کرتا۔ اللہ جی ان پر اور ملت اسلامیہ پر اپنے حبیب ﷺکے صدقے رحم فرماؤ۔آمین
۳۰۔ یہ ملک کے تمام عدالتی نظام کے مکمل بجٹ کی ضرورت ختم ہوجائے گی ۔ ظالم، بے ر حم ، غاصب ، بے دین ، منصفوں کا سیاہ و سفید ، بد مست ہاتھیوں کا غول ۔ نہ معاشرتی اقدار کو روندے گا۔ اور نہ ہی ملک و ملت کی معاشی اور معاشرتی ، اقتصادی قوت کو نگل سکے گا۔ ان کے طبقاتی انگلش میڈیم اداروں کاخاتمہ بالخیر ہو گا۔ عوام ان سے اور ان کے باطل نظام سے نجات کی شہنایاں بجائیں گے ۔ ملک و ملت کا قافلہ معاشی معاشرتی استحکام کی منزل کی طرف دین کی روشنی میں بے خطر گامزن ہو سکے گا ۔
۳۱۔ ان فطرتی حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ کہ جن سیاسی پارٹیوں یاحکمرانوں نے اپنے پسند یدہ لوگوں ،عزیزوں کی نامزدگیاں ان غاصب ،بے رحم منصفوں کی تقرریاں اور تعیناتیاں کی ہوتی ہیں ۔ ان کے مفاد بھی ان سے ویسے ہی منسلک ہوتے ہیں ۔ یہ ہر مشکل اور ہر آڑے وقت میں یہ شہرت یافتہ کرپٹ ، بدکردار ماموں بھانجے ۔ ایک دوسرے کی ڈھال بنتے چلے آرہے ہیں ۔ یہ کیسے کسی نیک ، ایمان دار حکمران اور اس کے احتساب کو ملک میں چلنے دیں گے۔خاص کراس وقت جب یہ لوگ احتساب کی گرفت میں تڑپ اور پھڑک رہے ہوں۔اور ہر قیمت پر اس احتسابی پھندے سے نجات چاہتے ہوں۔یہ ایسے حکمرانوں کوختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ان کو پہلی دفعہ مشکل جرنیلوں سے واسطہ پڑا ہے۔احتساب کے عمل سے بچ نکلنا ان کے لئے آسان کام نہیں فطرت اپنا عمل بروئے کار لا رہی ہے۔
۳۲۔ اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ پاکستانی عوام کو موجودہ جمہوری نظام کے تحت قائم کی ہوئی ملکی عدالتوں سے انصاف کی بھیک ، خیرات یا صدقہ حاصل کرنے کے لئے ایک عام آدمی کو صبر ایوب، عمر نوح ، اور قارون کا خزانہ درکار ہوتا ہے۔ ایسی ظالم عدالتوں، ایسے بے حیا ، بے شرم باطل، فاجر ، غاصب ۔ ضابطہ قانون اور ججوں، منصفوں اور محتسبوں پر مشتمل سرکاری خزانہ اور ملکی معیشت اوروسائل چاٹنے والے سیاہ و سفید سرخ ، بدمست ہاتھی ، ملک میں انصاف ، عدل ، اعتدال، مساوات کو مسخ کرنے والے اور روندنے والے یہ مغربی تہذیب کے مہذب ،مدبر، مفکر ، دانشور، قانون دان، انسانی روپ میں کرگسیں ، گدھیں، درندے اور وحشی بھیڑیئے ۔ ان کے اعلیٰ لاجواب دفاتر اور ریسٹ ہا ؤسوں پر مشتمل ll decorated buildings ،ان کی عالی شان عیش و عشرت سے مزین رہائش گاہوں ،ان کے اعلیٰ قسم کے کھانوں میں بیشمار قاتلوں، غاصبوں، سمگلروں، راشیوں، لٹیروں، ڈاکوؤوں، رہزنوں، دہشت گردوں ، منشیات فروشوں اور ملک کے غداروں، بلیک میلروں اور ملک دشمن عناصر کے تعفن کی سڑا ند اور بدبو آتی ہے ۔
۳۳۔ عدلیہ کا ادارہ ا ور ان کے بریف کیس والے سسٹم کے یہ منصف ایک کلمہ گو مسلمان کی حیثیت سے اسلامی آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھیں ۔ فیصلہ سے عوام کو مطلع فرمائیں کہ انہوں نے ان منصفوں کے بہروپ کے روپ میں کس قسم کی شکل ان کے سامنے آئی ہے ۔ اس کے نام سے ضرور عوام الناس کو آگاہ کریں ۔ ان کے خلاف توہین عدالت کا کیس عوام الناس کی کورٹ میں پیش ہو چکا ہے ۔ عوام ان کو ملی مجرم تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی مہربانی ہو گی ۔ کہ اگر وہ اس گھناؤنے نظام، سسٹم اور عمل سے توبہ کر لیں ۔ اللہ تعالیٰ کے قہر کا نشانہ نہ بنیں۔ کیونکہ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ وہ منافقت کی موت نہ مریں ۔ یہ چند روزہ زندگی حضور نبی کریم ﷺ کی قربت کے سپرد کر دیں ۔ آپ کے اندر کا انسان جاگ اٹھے گا ۔ اور جگمگا کر اپنی اصل اساس سے مخلوق خدا کو راحت اور سکون کی روشنی عطا کرے گا ۔ خدا آپ کو توفیق عطا فرمائے اور اس نجس زندگی سے نجات بھی دے ۔ آمین
۳۴۔ ۱۸۵۷ء کے ایکٹوں سے لے کر انڈین لا، برٹش لا، جیورس پروڈنس، Jurisprucidence کے تحت ترتیب دینے والے قوانین جو کتے کتیوں سے جنسی تعلق جو ہم جنس سے جنسی تعلق کو قانونی حیثیت دے کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مرتکب اور ایڈز جیسی مہلک بیماری کو جنم دینے والے مغربی ممالک کے نظام عدل کو آہستہ آہستہ بتدریج آگے بڑھاتے جا رہے ہیں ۔ہرروز اعلیٰ عدالتوں میں قوانین بدلتے اور ترمیمیں ہوتی رہتی ہیں ۔ عدل و انصاف کے منصف ہر روز اپنا پیمانہ عدل بدلتے رہتے ہیں ۔ ہر ماہ نئے فیصلوں پر مشتمل پی ایل ڈی شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ انگریزوں کا مقولہ ہے کہ ’’بیوقوف قانون بناتے ہیں اور عقل مند ان کو توڑتے ہیں۔۔‘‘۔ یقینا اسی کی روشنی میں یہ اعلیٰ عدالتیں۔ اپنی ذہنی اختراع اورارتقا ء سے اور ملک کے دانشور وکلا صاحبان کی معاونت سے اپنے فیصلوں کو ملکی قوانین ، عدل و ا نصاف میں ترامیم کے فارمولا سے قانونی دہشت گردی کا رواج قائم کئے ہوئے ہیں ۔
۳۵۔ اگر یہ عدلیہ کے شعبہ کے محافظ انصاف کے میزان کی امانت کو محفوظ رکھتے ۔ اور نظام عدل کی خامیوں اور برائیوں کو دور کرتے اور ایک سچے مسلمان کی طرح اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھاتے ۔ انصا ف اور مساوات ا پنی ذات سے شروع کرتے تو ملک میں کسی قسم کا ظلم ، اور ظالم معاشرے میں ڈھونڈے سے نہ ملتے ۔ چایئے تو یہ تھا کہ وہ حکمرانوں کو قانون کی بالا دستی کی گرفت میں لاتے ۔ اسلامی ضابطہ حیات ملک میں نافذالعمل کرواتے۔ انہوں نے تو خود انصاف کی فقیری کا راستہ چھو ڑ کر قارونی، فرعونی ، اور لعنتی زندگی کو اپنایا ۔ انصاف ، اعتدال، اور مساو ات کو خود نگل گئے ایک کسان ، مزدور ، ہنر مند، کے معیار زندگی سے کہیں بڑھ چڑھ کر اپنے اس غیر منصفانہ، غاصبانہ اعلیٰ معیار کو قائم رکھا۔انکی محنت مشقت سے حاصل کردہ وسائل،ملکی خزانہ،تفا وتی نظام کے تحت زبر دستی چھینتے چلے آئے، اور موت کو بھول گئے ۔ اسلام کی تعلیمات کے خلاف کفر اورمنافقت کا راستہ اختیار کر لیا۔جسم اور روح کے گرد بد قماشی اورمادیت کالباس اوڑھ لیا۔ضروریات اور خواہشات کا دامن پھیلا لیا۔صبر،شکر،سادگی،کفائیت شعاری سے تعلق منقطع کر لیا۔اندر کا حیوان پلتا اور پنپتا رہا۔انسان انسانیت کی منازل طے کرنے کی بجائے حیوان ناطق اور درندہ بن کر رہ گیا۔یا اللہ ان کو باد سموم کی کثا فتوں اور با د نسیم کی لطافتوں سے گزار کر خیر کی دنیا کا شاہکار بنا۔یا اللہ تو انکوایک سچے مسلمان کی زندگی عطا فرما۔آمین
۳۶۔ ملت بیضا کی اخلاقی، دینی اور روحانی اقدار کی شیرازہ بندی کا آغاز ہو چکا ہے ۔ انسانی لباس میں ملبوس روحیں تڑپنے ، پھڑکنے والی سیمابی باطنی قوتیں صدائے وقت سے صدائے ملت بن کر شریعت محمدی ﷺ کی روشنی میں کارجہاں ، معمار جہاں کا فیض حاصل کرنے کے لئے بارگاہ الہی کے دروازے پر جہان نو کی تعمیر کے لئے باطنی سجدے میں جھک چکی ہیں ۔ حکمت مغرب کے یہ تمام ملکی ادارے ، یہ تمام انتظامی نوکر شاہی ، اور عدلیہ کے منصف تیار کرنے والی باطل اکیڈمیاں ، یہ تمام باطل ،غاصب جمہوری کلچر ، کو فروغ دینے والی ایجنسیاں ، یہ طبقاتی تعلیمی نظام ، یہ جمہوریت میں شمولیت کرنے والی خود ساختہ دینی سیاسی جماعتیں، اس ظالم ، بے رحم، دہشت گرد ، عدل کش، معاشی قانونی ، انتظامی، عدالتی جمہوری نظام کے پیروکاروں کے دعا گو پیران کلیسا، جاگیردار اور سرمایہ دار کے روپ میں جمہوریت کے وحشی درندے ، عدلیہ اور انتظامیہ کی کرپٹ افسر شاہی کی شکل میں متشکل بھیڑیئے ، یہ سب لوگ ملک و ملت کے ساتھ اس عظیم سانحہ اور المیہ کے مجرم ہیں ۔ اور یہی حکمران افسر شاہی، منصف شاہی طبقے پہلے بھی پاکستان کو دو لخت کرنے کے مجرم ہوئے ، یہ ملک کے ساتھ غداری کے مرتکب ، ملک کو معاشی طور پر انہوں نے دیوالیہ کردیا ہے ۔ فطرت کے پاس ان کے بے شمار ظلم ، نا انصافی اور بربریت کے عبرتناک اعمال کا قرض واجب الادا ہو چکا ہے۔اب اس کی ادائیگی کا عمل جاری ہے۔فطرت کا نشتر اپنے عمل کے لئے تیار ہے۔


۳۷ ۔ اب دنیا میں جنگ کے اصول بدل چکے ہیں ۔ اب جنگیں اقتصا دی اور معاشی سطح پر لڑی جاتی ہیں۔ جس ملک ‘ قوم ،ملت ، معاشرے کی اقتصادی ، معاشی حالت بہتر نہ ہو گی ۔ جس ملک کا اونچا قبیلہ شاہ خرچیوں، عیاشیوں،ٖ فحاشیوں، بد کرداریوں کو اپنا لے اور ملکی وسائل ، خزانہ کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ مار شروع کر دے۔ عدل و انصاف کو روندتا جا ئے ۔ اس ملک کے عوام غریب ، نادار، بے بس ، بیکس، مجبور بھوک ننگ اور خستہ حالی کی اذیتوں اور مصیبتوںسے دو چارہو کر، بڑی کسمپرسی کی حالت میں زبوںحالی کے عبرت نامے بن جائیں۔ اس کے علاوہ جو ملک یا عوام جنکے حکمران یا سیاستدان رہزن ہوں اور بڑے بڑے ملکوں یا آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرض حا صل کر کے خود ہضم کر جائیں اور ملک مقروض ہو جائے تو وہ اپنے قرضے وصول کرنے کے لئے اس ملک کے قدرتی وسائل یا بڑے بڑے انکم کے ادارے یعنی ریلوے ، واپڈا، آئیل اینڈ گیس کا رپوریشن، اور قدرتی معدنیات کے وسائل وغیرہ وغیرہ اونے پونے داموں خرید و فروخت کرا کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت اور روپ میں ملک کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور عملی طور پر ملک کے اندر ہرشعبے کا کنٹرول حاصل کرکے ملک کے اقتصادی اور معاشی ڈھا نچے پرقابض ہو جاتے ہیں اور ملک اور عوام کو غلام اور زیرکر لیتے ہیں ۔ اس ملک کی ہر قسم کی رازداری اور کمزوریوں سے آشنا ہو جاتے ہیں ۔ پھر وہ ملک کے ڈیفنس اور ایٹمی قوت کے سلامتی کے شعبوں کے بجٹ سلب کردیتے ہیں ۔ ملک اور قومیں اپنی حفاظت سے محروم اور کمزور ہو جاتی ہیں ۔
۳۸۔ پاکستان اس وقت ایسی ہی صورت حال سے دو چار ہے ۔ملک کا بجٹ بیرونی ممالک اور آئی ایم ایف کے قرضے پچھلے ۵۳ سالوں سے یہ ظالم حکمران، یہ بد قماش انتظامیہ ، اور عدل کش عدلیہ کا کرپٹ افسر شاہی ٹولہ یعنی یہی وحشی ، بھیڑیئے اور درندے ملکی معیشت کو چاٹتے چلے آ رہے ہیں ۔ انہوں نے ملکی معیشت کو تباہ کرنے کا ہر حربہ ہر جرم اپنایا ۔ ملک کے خزانے سے بڑی بڑی تنخواہوں،بڑی بڑی رہائشوں، شاہی اخراجات ، عالی شان ، بلڈنگوں پر مشتمل well decoratedدفاتر، نایاب اقسام کے فرنیچر ۔ وال ٹو وال قالین۔ ایر کنڈیشن دفاتر،بے پناہ ناجائزاقسام کے غیر ضروری اخراجات ، لاتعداد مرسیڈیز، پیجارو، لینڈ کروزر ز اور ان کے علاوہ بے شمار انکے لئے بڑی بڑی گاڑیاں، پٹرول، ڈرائیور ان حکمرانوں منصف شاہی اور افسرشاہی کے ریسٹ ہاؤسوں، اندرون ممالک اور بیرون ممالک ان کے اور ان کے عملے کے شاہی ہوٹلوں کے اخراجات اور ان گنت غیر اخلاقی ،ناجائزاور غیر ضروری اور غیر عادلانہ سرکاری سہولتوں کا غیر منصفانہ خود ساختہ نظام عدل سے ملک کا بجٹ ہضم کر جاتے ہیں ۔ تمام قرضے کمیشنوں اور رشوتوں کی صورت میں یہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ۔
دوسری طرف ۹۹ فیصد عوام الناس جو اس ملک کے وسائل اور خزانہ کے اصل مالک ہیں ۔ انکا یہ حشر کہ چولستان جیسے صحراؤں اور دیہی علاقوں میں انسانوں اور حیوانوں کے پینے کے لئے پانی کی پائپ لائن بچھانے تک کے اہم اور بنیادی منصوبوں کی طرف قطعا ًکوئی دھیان نہیں دیتے ۔ جب کہ یہی لوگ اس ملک کی ہر قسم کی معیشت ہر قسم کی پیداوار ، اور ہر قسم کا را میٹیریل ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں، کو مہیا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلاسکتا ۔ کہ اس ملک کا تمام خزانہ اور تمام جدید ترین وسائل انہی کے دم سے ان عیاشوں کو میسر ہیں ۔ ملک کی ننا نو یں فی صد عوام ، کسان ، مزدور، ہنر مند اور تمام شعبوں کے کارکن ایک ایک پائی کرکے خزانہ میں جمع کرتے ہیں۔ خود غربت ، بھوک ، ننگ سے دوچار رہتے ہیں ، کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں ۔ ان معاشی قاتلوں کی آنکھوں کے سامنے وہ سسک سسک کر زندگی کے ایام کسمپرسی کی حالت میں گزارتے ہیں اور ان بے رحم رہزنوں کو کبھی رحم نہیں آیا۔چودہ کروڑ عوام ان بدقماش عیاش ، ایک فی صد کالے انگریز حکمرانوں، ان کی کالی عدلیہ اور کالی انتظامیہ کی افسر شاہی کے استحصالی شکنجوں میں جکڑے پڑ ے ہیں ۔ ان ایک فی صد لٹیروں کا احتساب کرنا وقت کا ایک اہم تقاضہ ہے۔ خدارا اہل وطن پر اور ملت اسلامیہ پررحم کھاؤ ۔ جمہوریت کے باطل نظام کے غاصب حکمرانوں اور ان کی عدل کش عدلیہ کو اسلامایئزیشن کا غسل دو ۔ دین کی روشنی میں نظام حکومت چلاؤ ۔ عدل و انصاف کو عدالتوں سے نکال کر مسجد کے صحن تک لے آؤ ۔ تنخواہوں اور سہولتوں کاغیر منصفانہ نظام ختم کرو ۔ملک میں امن قائم ہو گا۔قرضے اتریںگے۔ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔
۴۰۔ خلیفہ وقت اور اس کے انتظامی ڈھانچے کے ارکان کا بجٹ اور اس کی عدلیہ کا بجٹ سمٹ کر اربوں سے ہزاروں میں خود بخود پہنچ جائے گا ۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچاؤ۔ ایک فی صد ان کالے حکمرانوں ، کالی عدلیہ اور کالی انتظامیہ کے ان معاشی درندوں اور بھیڑیوں سے ننا نویں فی صد عوام الناس کو نجات دلاؤ ۔ اگر یہ ایک فی صد لٹیرے ، ڈاکو، معاشی قاتل ، تھوڑی بہت مشکلات سے ووچار ہوتے ہیں ۔ تو ان کی بد اعمالیوں اور شاہ خرچیوں کے ظالمانہ رویے پر کسی کو افسوس نہیں ہونا چاہئے ۔ گروی پڑے ہوئے عوام اور دیوالیہ ملک کو نجات دلانا بڑا ضروری اور اہم ہے ۔ اس ضمن میں کسی قسم کی کوتا ہی کی گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور ہمارے ملک کے اقتصادی حکمران یہودی اور عیسائی ہوں گے۔
۴۱۔ ملت کے کسی قسم کے احتجاج کے بغیر سی ٹی بی ٹی پر دستخط مسلط ہو جائیں گے ۔ اور چودہ کروڑ عوام ہاتھ ملتے رہیں گے اور یہ عیاشوں کا ٹولہ مغربی ممالک میں بھاگ جانے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کرے گا اب وقت ہے کہ عدل کی تلوار سے ان کی کوٹھیوں، محلوں ، زمینوں ، کارخانوں، ملوں ، فیکٹریوں ، کاروں ، کاروباروں ، بینکوں میں ڈالروں کو واپس لے کر سرکاری خزانے میں جمع کرائیں ۔اور غیر ملکی قرضوں کو جلد سے جلد ادا کرکے ملک کو آزادی اور بین الاقوامی سطح پر سرفرازی کی راہ پر گامزن کردیں ۔ ان کے لئے انصاف کا گجر بج چکا ہے ۔ ان کے لئے احتساب کا غدربرپا ہو چکا ہے ۔ ملک کو ان بے رحم بھیڑیوں اوردرندوں سے بچا نا نہائت ضروری ہو چکا ہے ۔ نئی نسل اس نظام کو ختم کرنے کے لئے بے قرار اور مضطرب کھڑی ہے۔ ملک میں اقتصادی اور معاشی ڈھانچے کو اعتدال اور انصاف کو دینی بنیادوں پرقائم کرو ۔ انگریزی کی بجائے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دو ۔ اسلام کے مطابق خلیفہ وقت کی زندگی اور ملی فرائض ادا کرنے والوں کی زندگی کا نصاب ہر کوئی خوب جانتا ہے اس کو قائم کرو ۔ یہ وہ علم ہے جو بتا یا نہیں جاسکتا ، عمل کر کے دکھا یا جا سکتا ہے۔
۴۲۔ ملک کے چودہ کروڑ عوام دینی راستوں پر گامزن ہو کرامن و سکون ،عدل و انصاف ، خیرو برکت اور ملک کو عظمتوں کا گہوراہ بنانے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ ملک قرضوں کی لعنت سے بچ جائے گا۔ ملک اقتصادی اور معا شی طو ر پر مضبوط اور معاشرتی طور پر اعلیٰ اقدار کا مالک اور وارث ہوگا ۔ دنیائے عالم کی نظر میں ان کا کریکٹر قابل تقلید ہو گا ۔ عدل و انصاف کا ان غاصب عدالتوں سے نکال کر مساجد کے صحن تک پہنچانے سے نت نئے قوانین کی تبدیلی اور ہر ماہ کی پی ایل ڈی کے شائع ہونے کا نظام اور اس پر بے شمار اخراجات بھی خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔ خدا کی ایک پاکیزہ الہامی کتاب یعنی قرآن پاک کی اطاعت سے ان کی انصاف کش لاکھوں کتابوں کے عذاب سے نجات مل جائے گی۔ ان کے طریقہ کار کی طرح نہ اس مقدس کتاب کے قوانین میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ اور نہ ہو گی ۔ ملک ایک ایسے غاصب ٹولہ کے معاشی اور معاشرتی استحصالی ڈھانچہ سے نجات پا کر کرپشن ، رشوت کی لعنت سے پاک ہوجانے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ملت معاشی
قاتلوں کے ظلم سے بچ نکلے گی اس ملکی خزانہ سے سائنس ایند ٹیکنالوجی ، زراعت ، تعلیم کے شعبوں میں استعمال کرکے عوام ملک سے غربت دور کرنے ، اور ملت مالی اور ملکی استحکام حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گی۔
۴۳۔ اے ملت کے مجاہدو!٬ اے ملت کے غازیو! اے ملت کے شہیدوں کے وارثو ! آپ نے افواج پاکستان میں شامل ہونے سے پہلے ملک و ملت کو ایک عہد دیا تھا۔ کہ آپ ہر قسم کے ملکی، ملی، قومی ، دینی دشمنوں کے خلاف، تن ، من ، دھن، سے جہاد اور جنگ لڑیںگے ۔ جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ جب بھی دشمنوں نے اس ملک پر حملہ کیا ۔ تو آ ج تک کی تاریخ شاہد ہے کہ ہماری افواج نے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا حق اداکیا ۔ آج کے دشمن کو بھی پہچانو۔ جنہوںنے ملک وملت کو یرغمال بنا کر اس کو لوٹا اور اس کے اسلامی کریکٹرو کردار کو بھی بری طرح چھین لیا۔ملک و ملت کو صرف اسلامی انقلاب ہی بچا سکتاہے۔
۴۴۔ اب آپ کے سامنے ملت اسلامیہ اور اس کی اصل اساس یعنی دین محمدی ﷺکو ہماری جابر، غاصب،منظم،کالی افسر شاہی ، کالی منصف شاہی اور ظالم کالے حکمرانوںنے ان تمام اسلامی اقدار،امانت، دیانت، عدل، انصاف، مہرومحبت، اخوت، درگذر،عفو، اعتدال،مسا وا ت کی تعلیمات اور اس کی اصل روح کے متضاد، منافی ہندوؤوں ، یہودیوں، عیسائیوں، کے تعلیمی ، اور عدلی نظام کو جمہوریت کا لباس پہنا کر ملک میں رائج الوقت کر رکھا ہے۔ان سے فوری نجات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
۴۵۔ انہوں نے دیدہ دانستہ، اسلامی طاقت کو مفلوج کرنے اور اسلامی تعلیم کو پڑھنے پڑھانے تک محدود اور مسدود کر رکھا ہے ۔ ملک میں ان منافق ، گوریلوں کے سسٹم پر سرخ سیاہی سے نشان لگائیں۔ اور ان کے خلاف جہاد کا عمل جاری کریں ۔ ان کے جمہوریت کے مکمل ڈھانچے کو بدل کر اسلام کا مقدس الہامی نظام ملک میں فوری طور پر نافذ العمل کریں ۔ اس سے آپ کی عاقبت بھی بہتر ہو گی اور ملک کا اقتدار بھی دین کے محافظوں کے ہاتھوں میں ہو گا ۔ اور چودہ کروڑ عوام کی تائید اپنے اس اسلامی ہیرو کو مکمل طور پر دل و جان سے میسر اور حاصل ہو گی ۔ و ہ مجاہد ،وہ غا زی دنیا ئے اسلام کا ہی ہیرو نہیں ہو گا بلکہ پوری انسانیت کا رہبرو رہنما ہو گا ۔
۴۶۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دنیا میں کوئی اسلامی ملک جب اپنے ملک میں دستور مقدس کو نافذ العمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس ملک کے پیچھے یہودی، ہندو، عیسائی، لابیاں،حرکت میں آ جاتی ہیں۔ اور بین الاقوامی مغربی طاقتیں ، اکھٹی ہو کر ، اس ملک کے خلاف سازشوں کا جال بچھانا شروع کر دیتی ہیں۔ اپنے نشر و اشاعت کے اداروں کو اس کے خلاف من گھڑت ، الزامات ، کی تشہیر دنیا بھر کی اقوام میں کرتی ہیں۔ اس ملک کا اقتصادی اور معاشرتی بائیکاٹ کر دیتی ہیں ۔ اس کو بنیادپرست اور دہشت گرد قرار دے کر اس ملک کا حقہ پانی بند کرکے معاشی اور معاشرتی تکلیفوں اور اذیتوں میں مبتلا کرتی چلی آ رہی ہیں ۔ انہی بنیادوں پر ایران، عراق ، افغانستان، عرب سٹیٹس کو اپنی گرفت میں لے کر اور مختلف جنگوں میں الجھا کر ان کو کمزور اور زیر کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ یہ تمام سیاق و سباق ، ملت اسلامیہ کے دروازے پر سراپاسوال بنے کھڑے ہیں ۔
۴۷۔ دنیا میں اس وقت مسلمانوں کے تقریبا چھپن ممالک موجود ہیں ۔ ملت کے تنظیم نو کا کام بین الاقوامی سطح پر کرنا لازم ہو چکا ہے ۔ ان سب کو اپنی تمام معیشت کو پول کرنا ہو گا ۔ آپس میں تجارت ، ہر قسم کا کاروبار ، کرنے میں محبت بھی بڑھے گی اور ایک دوسرے کے قریب بھی آئیں گے۔ اس وقت پوری ا سلامی دنیا میں پاکستان ہی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ یہودی، ہندو، عیسائی ، متحد ہو کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کیا جائے ۔ اللہ پر بھروسا کرو۔ اس کے حکم کے بغیر نہ کوئی کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے ۔ موت اور زندگی ، عزت و ذلت ، اسی مالک کل کے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کا تو صرف اس دنیا میں اتنا ہی کام ہے ۔ کہ وہ بن خواہش اس دنیا میں آ تا ہے ۔اور بن خواہش نا معلوم منزل کی طرف سفر کر جاتا ہے ۔ یہ ڈرنے اور خوف زدہ ہونے کا وقت نہیں ۔ یہ دور جرات رندانہ کا دور ہے ۔ یہ مالک ہی کا کام ہے کہ وہ جب چاہے ابابیلوں سے ہاتھیوں کا لشکر تباہ کرا دے اور یہ اسی کا کام ہی ہے کہ وہ ان کی تمام ایٹمی طاقت کو کسی ایک جنبش سے ان کے ظالمانہ عمل کی پا داش میں ان کا دنیا میں نام و نشان ختم کر دے ۔ جو قومیں اور ملتیں موت میں آنکھ ڈال کر زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان کے لئے موت اور زندگی کوئی الگ چیز نہیں۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کی توحید کو مانتے اور رسالت ﷺکو تسلیم کرتے ہیں ۔ ان کا سر اسی بارگاہ میں جھکتا ہے ۔ اور یہی ان کے لئے عزت و سرفرازی کا مقام ہے ۔ملت اسلامیہ کو منظم،متحداور باکردارعمل میں ڈھا لنے کا وقت شروع ہو چکا ہے۔

۴۸۔ مغربی جمہوریت پسند ان آٹھ دس ہزار نفوس پر مشتمل جاگیردار اور سرمایہ دار طبقوں اور ان کے افسر شاہی ، منصف شاہی کے ٹولہ کو جمہوریت کے نظام کو قائم دائم رکھنے کی آڑ میں مغربی حکومتوں اور بڑی بڑی طاقتوں نے اپنا آلہ کار بنانے کے لئے ان کو قرضوں کی صورت میں بڑی بڑی معاشی امداد اور بڑے بڑے قرضے ، ایک دانا دوست کی طرح ، ان نفس پرستوں، زن پرستوں اور زر پرستوں کو بطور رشوت جاری کیے ۔ اور پھر ان کو رشوت، کمیشن اور کرپشن کے طریقے بھی خود سکھائے ۔آئی ایم کے قرضے،ملکی دولت اور سرکاری خزانہ اپنے بنکوں میںمنتقل کرنے کا راستہ بھی دکھایا۔کرپٹ کالے حکمرانوں، کالی افسر شاہی،کالی منصف شاہی کے ذریعہ ملکی تمام خزانہ اور تمام کے تمام قرضے واپس لے گئے۔اب نہ یہ لوٹی ہوئی دولت کا سراغ دیتے ہیں اور نہ ہی مجرموں کو واپس کرتے ہیں۔پاکستان کی غریب عوا م الناس کو قرضے اور سود در سود کے اضافی بوجھ سے اسکا معاشی قتل کئے جا رہے ہیں۔پریس میڈیا کے ذریعہ اقوام عالم کو ان حقائق سے آگاہ کرنا اور ان قومی مجرموں اورخزانہ کو واپس لانے میںانکی معاونت حاصل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے اس جمہوریت کے درخت کی آبیاری طبقاتی، انگلش میڈیم بڑے بڑے اداروں سے حکمران، انتظامیہ اور عدلیہ کی افسر شاہی اور منصف شاہی کے نونہال پیدا کئے اور جمہوریت کا مغربی نظام دے کر ملک کے چودہ کروڑ عوام کو اسلامی اقدار اور شریعت محمدی ﷺ کے نظام اور تعلیم سے فارغ کر دیا اور ان کو عملی طور پر عیسائیت ، یہودیت، اور ہندوازم کی مکسچر بنا کر رکھ دیا ۔ حکمران طبقہ کو انگریزی زبان کی چھڑی د یکر عوام الناس کو جہالت اور نااہلی کے احساس کمتری کا شکار بنا دیا اور عملی طور پر پوری ملت کو گونگا اور بہرہ بنا کر رکھ دیا۔ خدا آپ کو ملک میں رائج اس غاصب نظام اور مجرم سسٹم کے خلاف جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ خدا کرے کہ یہ طیب فریضہ ، ہماری افواج پاکستان کے نصیب کا حصہ ہو ۔ آمین