To Download or Open PDF Click the link Below

  ۱۹۴۷ ء کے طلباء کو خراج عقیدت اور ان کا پیغام آج
کے دور کے طالب علموں کے نام !
عنایت اللہ
پیارے طالب علمو ! اور آنے والی نسلوں کے وارثو !
السلام علیکم !
مسلمانانِ ہندکے پروانو ! اور آزادی کی خوبصورت و دلکش اداؤں کے محورو ! حسن و جمال ،مہر و محبت ، محنت و جفاکشی کے جگمگاتے ستارو او ر جواں سال گوہر حیات کے جانبازو ! چاک و چوبند ، انتھک ، محنتی ، جوانمردوں اور سرفروشوں کے ہراول دستو ! صفات و کردار کی اصل روح کے مالکو ! اقبالؔ ؒ کی ذرا نم والی مٹی کے شاہکارو ! قائد کے جذبوں کے عکاسو ! بردباری اور جراتوں کے پیکرو ! آپ کو کس کس نام سے پکاروں ! کیا کیا نام دوں ! جناب قائد اعظم ؒ کے پیارے اور لاڈلے طالب علمو ! آپ نے ان کی قیادت اور سربراہی میں آزادی کی جنگ پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے بڑے پر تپاک ا ور بڑے منظم انداز میں ہراول دستے کی حیثیت سے لڑی ۔ انگریز اور ہندو جیسی شاطر اور مکار اقوام سے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست (پاکستان ) حاصل کرنا کوئی سہل کام نہ تھا ۔ اس آزادی کی جنگ کا اہم رول اس وقت کے طالب علموں نے اس انداز سے ادا کیا۔ جس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے ۔ کہ مسلمان طالب علموں نے ہندوستان کی سرزمین پر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر ایمان، اتفاق ، ڈسپلن، اور تنظیم کے حسین و جمیل امتزاج سے اپنے آپ کو متشکل اور منظم کیا تھا ۔ مسلمانوں کے اجتماعی کریکٹر کا ایک الگ تھلگ تشخص ہندوستان کی اقوام میں ابھرا اور نمایاں ہوا۔ انہوںنے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بڑے احسن طریقہ سے نبھا یا اور دنیا کو ورطۂ حیر ت میں ڈال دیا۔ یعنی

ایک ہی نعرہ ایک ہی آواز!
بن کے رہے گا پاکستان
پاکستان کا مطلب کیا!
لا الہ الا اللّٰہ محمد الرسول اللّٰہ
کی ایک ایسی گونج پیدا کی ۔ ایک ایسی صدا بلند کی۔ ایک ایسی پکار پہاڑوں ، میدانوں ، صحراؤں ، بیابانوں اور فضاؤں میں پھیلائی ۔ بستی بستی ، قر یہ قریہ ، گلی گلی ، گوٹھ گوٹھ ، شہر شہر ، یہ نعرہ ، یہ ندا ، یہ دعا ، دلوں میں سرور اور وجد طاری کرتی اور خوشبو کی طر ح پھیلتی گئی ۔ یہ اجتماعی نعرہ ، یہ اجتماعی ورد ، مسلمانوں کو وجد و سرور عطا کرتا۔ اور وہ گھروں کی چار دیواریوں سے نکل کر جلسے ، جلوسوں،میں شمولیت کے لئے بیتاب ، بیقرار ، مضطرب ، منتظر رہتے ۔۔ اور مجبور ہو کر ان طالب علموں سے آ ملتے ۔ ایک نیا ولولہ، ایک نیا جوش، ایک نیا جذبہ ان کے دلوں میں بیدا ر ہوتا۔ بچے ، بوڑھے ، نوجوان اس مدھ بھرے راگ کی پرسوز اور دلکش سریں بن کر ان نوجوان طالب علموں، ان آزادی کے پروانوں، ان شمع رسالتﷺکے دیوانوں کی سنگت کے سا ز بن جاتے ۔ ہواؤں اور فضاوں میں سر ور و کیف کی کیفیات پھیل جاتیں۔ محویت کا عالم ہر سو بکھر جاتا ۔ ہندوؤں کی مکروفریب کی سیاست، اور انگریز کی شاطر مزاجی ، اس طیب اور مقدس جذبہ اور قائد اعظم کی بصیرت سے بھرپور قیادت کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور ہو گئی۔ اور ۔پاکستان ۔کالی کملی والے آقائے دو جہاںﷺ کے نام پر دنیائے عالم کے نقشہ پر ابھرا۔ اور عالم اسلام کا درخشاں ستارہ اپنے خوبصورت دلکش نظاروں کے ساتھ نمودار ہوا ۔
پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔پاکستان پائندہ باد
جب ہندو اور انگریز اس دو قومی نظر یے کی بنا پر ہندوستان کی تقسیم کو نہ روک سکے ۔۔ تو انہوں نے اندرون خانہ آپس میں ملی بھگت کا کھیل کھیلا ۔ اور مسلمانوں کی آبادی پر مشتمل ان اضلاع یعنی فیروز پو ر، گورداسپور وغیرہ کو جن کی شمولیت مسلم آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے ساتھ منسلک ہونی تھی۔کو علیحدہ کرکے ہندوستان کو دے دیئے ۔ ہندووں، سکھوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور سیاسی ناکامی کی آگ کو بجھانے کے لئے ہندوستان میں مسلمان طالب علموں، نوجوانوں ، بوڑھوں، بچوں ، اور عورتوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ مسلمانوں کو اپنے کھیت کھلیان ، مال مویشی ، جائیدادیں ، گھر ، کاروبا ر ، نسل در نسل ، مانوس دھرتی اور سجے سجائے نظام حیات کو ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے خیر باد کہنا پڑا ۔ دوران ہجرت ، ہندوؤں ، اور سکھوں نے مسلمان قافلوں پر حملے کئے ۔ قتل و غارت کی انتہا کر دی ۔ انہوں نے کیاکچھ نہ کیا ۔ مسلمانوں کی بیٹیوں، بہنوں، ماؤں، کی عصمتوںکے لٹنے کی عبرتناک ،شرمناک، اور دل سوز داستانیں ، ہزاروں معصوم بیٹیوں ،بہنوں اور ماؤں کو ان ظالموں ،بے رحموں، غنڈوں کے یرغمال بنا لینے کے زخم آج تک ان کے لواحقین اور مسلمانوں کے دلوں میں رستے چلے آ رہے ہیں ۔ سفر کی طوالت کی تہکان ، بھوک کی شدت اور پیاس کی سلگاہٹ، مختلف بیماریوں کی نقاہت ، ہجرت کے دوران مسلمانوں کا قتل عام،راستے میں چھوٹے بڑوںکی اموات کے اندوہناک و ا قعات ،اور ان کے گوروکفن کی مشکلات ، پاکستان کی حدود میں پہنچ کر سجدہ ریز ہونے کا سماں ملت کے نونہالو ! پیارے اور عزیز طالب علمو ! کیا کیا بتاؤں۔
معصوم بچے اور بچیوں کو ماؤں کی گودوں سے چھین کر اچھالنے ، نیزوں اور برچھیوں کو ان کے پیٹوںکے آر پار کرنے کے وحشتناک ، عبرت ناک ، دردناک، دلسوز واقعات بار بار دہراتے اور زمین پر پٹکتے اور کہتے کہ یہ ہے تمہارا پاکستان۔یہ دہشتناک واقعات کا منظر آج بھی دلوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔یاد رکھو ! پاکستان کی بنیادوںمیںبے گناہ طالب علموں، نوجوانوں ،بو ڑھوں،بزرگوںاور ماؤںکی گودوںسے چھینے ہوئے بچے بچیوں ، بیٹیوں، بہنوں، ماؤں کا بے گناہ اور معصوم خون رچا پڑا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ معصوم، پاکیزہ، طیب، دوشیزاؤں،بیٹیوں، بہنوںاور ماؤں کی عصمتوں کے منہدم نہ ہونے والے ز ۔۔خم بھی اس پاکستان کی بنیادوں میں مدفن ہیں۔ اسلام کے یہ سچے نام لیوا پروانے پاکستان یعنی اسلام کے نام پر کیا کچھ نہیں‘ جو قربان نہ کر بیٹھے ہوں ۔ان قربانیوں کی تاثیریں کون ختم کر سکتاہے۔
قائد اعظمؒ کے دل و جان اور روح کو ان تمام اذیت ناک واقعات ، حقائق اور صدمات نے ان کے قوا مضمحل اور شل کر دئیے۔انہوںنے ان تمام مصائب او ر مسائل کا بڑی جواں مردی ، ہمت اور جرات کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ان کا یہ روگ ان کی جسمانی طاقت کو سلب کرتا گیا اور صحت دن بدن بگڑتی گئی۔زندگی کے ایام سکڑتے گئے ۔ اور آخر انہوں نے ستمبر ۱۹۴۸ ء کواس جہان فانی کو الوداع کہہ دیا ۔
قائد اعظمؒ کی زندگی کے فور اً بعد انگریزوں کے پروردہ جاگیردار ، سرمایہ دار طبقہ نے پاکستان کے اقتدار پر خاموشی سے غاصبانہ قبضہ کر لیا ۔ ہندوؤں ، سکھوں اور انگریزوں سے تو پاکستانی عوام نے نجات حاصل کر لی تھی ۔ لیکن بدقسمتی سے ان سے بدترین، بدکردار ، غدار ، غاصب ، معاشی اور معاشرتی قاتل ، غنڈے، دہشت گرد، فاجر، فاسق اور منافق اس وقت کا جاگیر دار اور سرمایہ دار ٹولہ ، ملک و ملت کا رہبر و رہنما بن کر حکومت کے ایوانوں یعنی اقتدار اور وسائل پر قابض ہو بیٹھا ۔ دراصل ملک میں اس وقت صرف حکمرانوں کی تبدیلی رونما ہوئی ۔ لیکن نظام حکومت اور ملکی سسٹم جو انگریز ایک مفتوحہ قوم کے لئے ورثہ میں چھوڑ گئے تھے ۔ ان کے نائب ، مصاحب ،بدکردار ، خوشامدی اور پروردہ ، ان بدترین نمائندوںنے اس طریقہ کار کو ملک میں قائم و دائم رکھا ۔ ملک کو ۱۹۷۳ ء تک بغیر آئین کے چلایا۔ اور شرعی نظام کو فوری نافذ کرنے کی بجائے پس پشت ڈالے رکھا ۔ یہ طوالت کا کھیل ان بدنصیب اور بدبخت سیاست دانوں نے جان بوجھ کر اپنے اقتدا ر کو قائم رکھنے اور طول دینے کے لئے کھیلا ۔
انہوںنے جمہوریت کے ناٹک کو ذریعہ اقتدار بنایا۔ اس کے اصول و ضوابط کو اسطرح ترتیب اور ترکیب دیا کہ ان آٹھ دس ہزار جاگیردارں اور سرمایہ دارں کے علاو ہ باقی چودہ پندرہ کروڑ عوام کو ان کا ووٹر بنا دیا گیا ۔ اور جتنے بڑے بڑے سرمایہ دار اور جاگیر دار تھے ۔ وہ وقتاً فوقتا ً اپنی نئی نئی سیاسی جماعتوں کو تشکیل دیتے رہے اور اپنے من پسند کے علاقوں کو اپنے اپنے الیکشن کی حدود میں ردو بدل کے ساتھ شامل کرتے گئے ۔ کیونکہ ملک میں ان فرعونوں اور قارونوں کے سوا کوئی دوسرا شخص نہ تو اس طریقہ کار کے اخراجات اور نہ ہی دوسرے لوازمات ، واقعات اور اتنے وسیع تعلقات کا متحمل ہو سکتا تھا ۔ جمہوریت کی گاڑی چلانے کیلئے یہودیت کا معاشی اور کار سرکار چلانے کے لئے ہندوؤں کاطبقاتی نظام ملکی قوانین کا حصہ بنا کر ملت اسلامیہ کے فرزندان کو یکے بعددیگرے پچھلے ۵۳ سالوں سے بری طرح جکڑے چلے آرہے ہیں ۔ ملک میں کبھی روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ ! کبھی سوشلزم کا نعرہ ! کبھی مارشل لا کا پہرہ ! ان سب صاحب اقتدار نے ورثہ میں ملی ہوئی جمہوریت ، یہودیوں کی معیشت ، ہندوؤں کے طبقاتی اصول و ضوابط کو عدلیہ ، انتظامیہ، تعلیمی اداروں اور زندگی کے ہر شعبہ میں فطرتی اعتدال یعنی شریعت محمدی ﷺ سے ہٹ کر ان باطل،بے دین، غاصب، اسمبلیوں سے منظوری کے بعد پورے ملک میں انکے پاس شدہ قوانین و ضوابط کی روشنی میں اسلامی اصول و ضوابط کے منافی ، متضاد ، متصادم اور خلاف عملی بغاوت سے دوچار ہوتے گئے ۔
غیر اسلامی سسٹم کے استحصالی ظالمانہ معاشی اور معاشرتی پھندے چودہ کروڑ عوام کے گلے میں ڈال کران کا ناک میںدم کر دیا گیا۔نہ انکو جینے دیا اور نہ ہی مرنے دیا۔پاکستانی نسل کو یہو دیت، عیسائیت،ہندو مت ،رشوت،کمیشن اور ہر قسم کی کرپشن کی مکسچر بنا کر رکھ دیا ۔ اسلام کو صرف پڑھنے اور پڑھانے تک مسدود اور محدود کر دیا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے پیرؤکاروں کیلئے اس باطل نظام کو مضبوط سے مضبوط کرتے گئے ۔ ان کی جڑیں پھیلتی گئیں ۔ عوام الناس کا ذہنی برین واش کر تے رہے اور آج ملک و ملت کو عیسائیت، یہودیت ، اور ہندو مت کی عملی ریاست بنا کر رکھ دیا ہے ۔ مسلمانوں کے اوصاف و کردار بدل کر رکھ دیئے ۔ ملک کی یہ سب اسمبلیاں اور مارشل لا حکومتیں ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک اسلام کے خلاف غیر قانونی اور غیر شرعی سسٹم کو مروج کرتی چلی آرہی ہیں اور اس نظام کو چلانے والی پچانوے فی صدی کرپٹ افسر شاہی اور منصف شاہی ، کے ہتھکنڈوں ، کا شکار ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ جنہوں نے ملک میں انصاف ، عدل، اور ہر قسم کے اعتدال، اور مساوات کے فطرتی اصولوں کو نیست و نابود کر کے اپنی منفعتوں اور عیش و عشرت کی زندگی کو اپنانے اور ملکی خزانہ لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔
مسلمانوں کے لئے حکومت کا حق تو صر ف اللہ تعالیٰ کوہی حاصل ہے ۔ جو تمام کائنات سے بلند و بالا ہستی ہے اور جو قوانین خداوندی کے مطابق حکومت نہ کرے گا ۔ توظالموں اور کافروں میں سے ہو گا ۔ تو جس طرح آج جمہوریت کے پجاریوں نے ملک میں ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک اقتدار اور وسائل پر غاصبانہ ، قبضہ کرنے کے بعد ملک کی تمام سرکاری مشینری انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنی اطاعت اور فرمانبرداری اور اپنی مرضی کے قوانین اور ضوابط سرانجام دینے کا ریموٹ کنٹرول بنا رکھا ہے ۔ جس سے وہ ملکی خزانے کی لوٹ کھسوٹ ، بینکوں سے قرضوں کا حصول اور پھر ان کی معافیاں ۔ ملکی بینک ہضم اور ان کے نام و نشان ختم ۔ رشوتوں، کمیشنوں کی بھاری رقوم، سمگلنگ، لوٹ کھسوٹ، ہر قسم کی کرپشن ، ملکی ،غیر ملکی قرضے ہضم ، آئی ایم ایف کے قرضے ادا کرنے کے لئے مزید قرضے حاصل کرکے ملک کو سود در سود کے شکنجے اور قرضوں میں جکڑنے کا عمل اور ان قرضوں سے ملک کے تمام ایم پی اے، ایم این اے ، اور سینیٹروں، پر مشتمل ہزار بارہ سو مشیروں ، وزیروں، اور دوسری اہم پوسٹوں پر ان کی تعیناتیاں ، سرکاری خزانہ سے بڑی بڑی تنخواہیں،بڑی بڑی بلڈنگوں پر مشتمل دفاتر ، اعلی فرنیچر ، بہترین اور عمدہ قالینوں، پنکھوں، ایئر کنڈیشنروں ،پردوں، چھتوں، دیواروں ، کو اعلیٰ میٹریل سے آراستہ و پیراستہ ، وال ٹو وال قیمتی قالین اور دلکش بنانے کا ہر سال کا بجٹ ۔ قیمتی قلم دان اور ٹیلیفونوں کی بھر مار ۔ بڑی بڑی گاڑیاں، اور پٹرول کے اخراجات ،اسی طرح تاج محل کو شرمانے والی بے حیا،ان کی اعلیٰ مزین رہائش گاہیں۔
ان کے سرکاری دورے ،ان کے دوروں کے بے حساب اخراجات، ان کے ٹی اے / ڈی اے ، بل ، بڑے بڑے ہوٹلوں کے اخراجات ۔ ملکی منصوبوں اور پلانوں میں ان کے بھاری کمیشن ، موٹر وے کی تعمیر میں کروڑوں کا کمیشن،ان کی رشوتیں ، ان کے ناشتے ، ان کے اعلیٰ ہوٹلوں میں رہائش اور کھانوں کے انتظامات، ملک کے تمام اعلیٰ سرکاری اداروں پر ملک کے اندر اور بیرون ملک ، ان کے رشتے داروں ، ان کے عزیز و اقارب ، اور پسندیدہ لوگوں کی تعیناتیاں ۔ ان مہذب شرفاء صاحب اقتدار لوگوں کا مختصر زائچہ حیات، جو ملکی خزانہ اور بیرونی قرضہ جات کو چاٹنے اور ہضم کرنے کے عمل کو ملک میں جاری رکھے ہو ئے ہیں ۔ ہر قسم کی مراعات کا حصول ، ان سیاسی وڈیروں ، افسر شاہی اور منصف شاہی کا حق بن چکا ہے ۔ ان کے علاوہ ، انہی سیاسی اور سرکاری منصبوں اور حیثیتوں کی بنا پر ، ملک کے اندر بڑی بڑی صنعتیں، فیکٹریاں، ملیں، کارخانے، پرائیویٹ ادارے، مختلف ناموں پر ملکی اور غیر ملکی بوگس فرمیں یا کاغذی کمپنیاں ، بوگس ٹینڈر، بوگس طریقے ، بوگس کاموں کے مروجہ قانون، اسی سیاسی اقتدار، اور سرکاری حیثیت ، اور اثر و رسوخ سے بیرونی ملک ، کاروبار بنکوںمیں ڈا لر اور فیکٹریاں ان آٹھ دس ہزار نفوس اور انکی افسر شاہی اور منصف شاہی کی ہی ملکیت ہیں ان لوگوں کا اندرون ملک اور بیرون ممالک معاشی پھیلا وٗ ۔ اور بینکوں میں ڈالروں کا مخفی سرمایہ ، ان کے سیاسی کھیل کا ایک ا ہم حصہ ہے ۔ پاکستان اور پاکستانی عوام ملکی بینکوں کے مقروض ۔ آئی ایم ایف کے مقروض، بیرونی ممالک کے مقروض۔ ان حاصل کردہ قرضوں کی ادائیگی سے بھی معذور، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے مزید قرضوں کی آئی ایم ایف سے بھیانک گھناوٗنی اور ملکی تحفظ کے خلاف مہلک شرائط پر حاصل کردہ یہ قرضہ جات ، جو ان کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کی یہ ہزار بارہ سو وزیروں مشیروں ، افسر شاہی اور منصف شاہی کی یاجوج ماجوج کی فوج ، ان قرضوں اور ملکی وسائل کو ساتھ ساتھ چاٹے جاتی ہے اور ان کی ذاتی صنعتوں کا پھیلاؤ بیرون ممالک تک پھیلا ہوا ہے ۔
ان فوجی کمانڈروں اور حکمرانوں سے مؤدبانہ گذارش ہے ۔ کہ وہ جب سے ملک میں اقتدار میں آئے ہیں ۔ اس وقت سے ملک کے قرضے کی مکمل تفصیل سے ملت کو آگاہ کریں ۔ اس کے بعد جتنی بھی اس قرضے کی ادائیگی کی گئی ہے ۔ ان تمام اقساط کی کل رقم بھی بتائیں ۔ اور جتنا قرضہ اس دور میں آئی ایم ایف سے حاصل کیا گیا ہے ۔ اس کی بھی تفصیل بتائیں ۔ کہ ملت نے کیا کھویا ۔ اور کیا پایا ۔ اور عوام کو اس صورت حال سے ہر ماہ آگاہ کرنا حکمرانوں کا فرض ہے ۔ تاکہ عوام صحیح صورت حال سے آگاہ رہیں اور کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اوراخبارات اور اپوزیشن عوام کو گمراہ نہ کر سکیں ۔
دوسری طرف چودہ پندرہ کروڑ پاکستان میں بسنے والے عوام کی یہ حالت کہ ان کو بجلی، سوئی گیس ، پانی ۔ ٹیلی فون کے بلوں، سیلز ٹیکس، پرچیز ٹیکس، مکان ٹیکس، انکم ٹیکس، پل ٹیکس، روڈ ٹیکس، موٹر وے ٹیکس، چونگی ٹیکس، ضلع ٹیکس، پیدائش ٹیکس، موت ٹیکس، ہر قسم کے ٹیکسوں کا طوفان جو معاشی ڈھانچے کو بری طرح نگلتا جا رہا ہے اور اسے جڑوں سے اکھاڑ کر ناکارہ اور اپاہج کئے جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ قیمتوں میں اضافہ، منی بجٹوں کی بھرمار، غریب، بے روزگار، اپاہج ، ضعیف، پنشنر وں ، نادار وں، بیوہ، یتیموں، مسکینوں، عوام کو بھی ان ٹیکسوں کی پھانسی پر لٹکایا جا رہا ہے ۔ سرکاری ، نیم سرکاری ، اداروں میں ملازمتوں سے طویل عرصہ سے پابندی، بے روزگاری ، بھوک اور تنگ دستی کی چتا کے شعلے، عوام الناس کی زندگی کو جلا جلا کر راکھ کا ڈھیر بنائے جا رہے ہیں ۔
یہ مسلمانوں کے روپ میں اسلام کے عملی باغی ، دین کے منکر، جمہوریت ، یہود و ہنود کے سسٹم ، نظام اور تعلیم کے عملی پیروکار ، پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ ، تعلیم اور طرز حیات کا یہ ازلی دشمن ٹولہ ۔ نعوذ باللہ ! جن کے مطابق واقعی اسلام ایک فرسودہ اور ناقابل عمل دین ہے ۔ کیونکہ اس نظام اور سسٹم میں ان کے عشرت کدے ، عیش و عشرت کی طرز حیات، انتظامیہ اور عدلیہ کے تحفظ میں ملکی وسائل کی لوٹ مار، مشیروں ، وزیروں، ایم پی اے، ایم این اور سینیٹروں کی افواج ، اور ان کے عملے کا بے حساب بجٹ، ملکی خزانہ خالی، ملکی وسائل ختم، ملک مقروض ۔آ ئی ایم ایف کے سود در سود خوفناک، ملکی سلامتی کے خلاف شرائط کے تحت قرضوں کا حصول اور ایسے بھیانک وحشت ناک اور مہلک قرضوں کے اجراء کا ، ٹی وی ، اخبارات، میں سادہ لوح عوام کو ایسی دلسوز خبروں سے آگاہ کرنا ان کا روزمرہ کا کام بن چکا ہے۔ ملک میں آتش بازیاں، ٹی وی پرگیت سنگیت ، ناچ گانے کی محفلیں، نشرواشاعت کے اداروں کو فحاشی ، بے حیائی، ڈاکہ زنی،چوری، قتل و غارت ، دہشت گردی، رشوت، سفارش، لوٹ مار،اجتماعی عصمت دری، بینک فراڈ، یعنی ہر قسم کی برائی ، بد کرداری، بد بختی کو ڈراموں کی شکل میں پیش کر کے ان کو درس و تدریس کا بدترین حصہ بنایا جا رہا ہے اور نشرواشاعت کے تمام اداروں کوخوفناک فحاشی ، بدکرداری ،بے حیائی ،عریانی اور کرپشن کی بدترین درسگاہیں بنا رکھا ہے ۔
ان ڈراموں کے ادیبوں، اور فنکاروں کو عوامی ہیرو بنا کر مسلمانوں کی نسل کو دہشت گرد ، لوٹ مار ، قتل و غارت، کی ترغیب اور تعلیم دینا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے انعامات اور تمغے دے کر آنے والی نسلوں کا ملی ہیرو ، رہبر اور حدی خواں بناتے جا رہے ہیں ۔ ملک معاشی موت کی ہچکیوں میں مبتلا ہے اورملک کے تما م سیاست دان ،حکمران،افسر شاہی اور منصف شاہی ننگِآدم، ننگِدین ، ننگِوطن کے بد ترین شاہکار بنتے جارہے ہیں ۔ ان رہنماؤں کے بینک ڈالروں سے بھرے پڑے ہیں ۔ ان کی صنعتیں ، محل اور کاروبار ملک سے نکل کر بیرون ممالک پھیلتے جا رہے ہیں ۔ کروڑوں ،اربوں کے اثاثے انکی ملکیت ہیں۔ یہ گھناوٗنا کھیل اور ان کایہ رائج الوقت بے دین سسٹم اور جمہوری نظام عوام الناس کے غیض و غضب سے اب زیادہ دیر بچ نہیں سکتا ۔ یہ طبقہ اپنی بازی بری طرح ہار چکا ہے۔ حالات خطرناک اور عبرت ناک شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ اس سسٹم اور باطل جمہوری نظام کی آنکھ ہمیشہ ہمیشہ کو بند ہونے کو ہے ۔
اس حکمران طبقہ کے و زیروں ، مشیروں، کے کریکٹر کے بے شمار جنسی سیکنڈل ، ملک و ملت کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ شراب، شباب، کباب، زنا، بدکاری، جوا، بے حیائی کے لئے انکے کلب آزاد ہیں۔سمگلنگ، ڈاکہ زنی، اور ہر قسم کی دہشت گردی اسی طبقہ کی زندگی کا حصہ بنا چلا آ رہا ہے ۔ ملک میں ہر قسم کا نارکاٹکس مافیااور طرح طرح کی منشیات،انہی کی سرپرستی میں پھلتا پھولتاجارہا ہے چونکہ ملک میں انتظامیہ اور عد لیہ کاان کو مکمل تحفظ حاصل ہو تاہے ۔ وہ جن عورتوں کو زبردستی اپنے نکاحوںمیں لیتے ہیں۔ ان کی جوانیوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ آخر میں ان کو بدترین اذیتوں کے ساتھ الگ تھلگ کر دیتے ہیں ۔ عدالتیںانکی اپنی ہو تی ہیں۔کون انکے خلاف کاروائی کر سکتا ہے۔ہر کوئی انکی غنڈہ گردی سے خائف ہو تاہے۔ عدالتوں اور اخباروں میں یہ بیان دے کر کہ وہ ان کی سیاسی پوزیشن کو نقصان پہنچانے اور بلیک میل کرنے کی اپوزیشن کی طرف سے ان کے خلاف سازشوں کا ایک حصہ ہے۔ کوئی عدالت ، ان صنف نازک کے کیسوں کو سماعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی اور ایسے کیسوں کو طوالت کی بھٹی میں ڈال کر فوری انصاف سے محروم کر دیا جاتاہے۔ بلکہ ایسی مستورات کو مختلف ناجائز کیسوں میں مختلف شہروں میں پھنسا کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کے عزیز و اقارب ،ان کے دوست، ان کے ملنے والے ، ان کے علاقے کے لوگ ان حقائق سے پوری طرح واقف اور آگاہ ہوتے ہیں۔ ایسے ظالموں کو ملک میں اس نظام عدل کی روشنی میں کون منصف انصاف دے سکتا ہے۔ اگر یہ ایسی مستورا ت سے نکاح کی شرعی رسم کے متعلق انکار کرتے ہیں تو یقینا وہ زنا کی حدود کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ملک میں ایسے کیس جو سامنے آئے ہیں ۔ ان کی شرعی طورپر فوری انکوائری کروا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے تاکہ یہ رواج پذیر جرم انصاف حاصل کر سکے۔ وہ شہدا ء جنہوں نے اسلام اور پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ ۱۹۴۷ ء کو دیا۔ ان کی روحیں ان کے اس سسٹم اور جمہوریت کے ناٹک کے خلاف سراپا احتجاج بنی بیٹھی ہیں ۔
۱۔ آج پاکستان حاصل کرنے والے لاکھوں ، طالب علموں، نوجوانوں اور بوڑھے شہدا کا خون پکا ر پکار کر یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ کہاں ہے ۔ ان مجرموں او ر رہزنوں کو ڈھونڈو ! جنہوں نے ان شہداء اور مسلمانان پاکستان کے ساتھ دھوکا اور دغا کیا۔ اور دستور مقدس کے نفاذ کو پس پشت ڈالے چلے آ رہے ہیں ۔
۲ ہندو اور سکھ بے گناہ مسلمان بچوں کو ماؤں کی گودوں سے چھین کر اچھالتے ۔۔نیزوں اور برچھیوں کو ان کے آر پار کرتے اور ہوا میں لہراتے اور زمین پر پٹخ دیتے ان شہادت کاجام نوش کرنے والے معصوموں کی چیخیں اور شہادتیں ساکت کھڑی ہو کر آپ کے لئے سراپا سوال بنی کھڑی ہیں ! کہ کہاں ہے! شریعت محمدیﷺ کا نفاذ ! جس کے لئے یہ عظیم قربانیاں پیش کی گئیں ۔ اے عشرت کدوں میں بسنے والو ! ہوس اقتدار کے پجاریو ! دین کے باغیو ! منافقو ! جواب دو! کہ مسلمانوں کا ملی ، اسلامی تشخص کہاںہے ۔ جو تم نے دنیا کو پیش کرنے کا وعدہ کیاتھا ۔ کیا تمہیں اس بدعملی اور بدکرداری کے عمل کو اپنائے رکھنے میں کوئی شرم ، یا عار محسوس نہیںہوتی ۔ کیا تمہیں موت یاد نہیں ۔ کیا تم سے پہلے تمام حکمران اپنی بد اعمالیوں کی موت نہیں مرے ۔ جواب دو ! کہ کیا تم بھی منافقانہ موت مرنا چاہتے ہو ۔ اللہ نہ کرے ۔ اللہ تعالی آپ کو توفیق دے ۔ ذرا خیال کی کروٹ لو۔دین کا عمل اپنی ذات پرنافذکر لو۔اسلامائزیشن کاعہد پورا کر سکو گے۔ورنہ؟
۳۔ پاکیزہ ، طیب ، با پردہ ، بیٹیوں بہنوں ، ماؤںکی عصمتوںکے لٹنے کی عبرتناک شرمناک، دلسوز داستانیں ، اور ان کی شہادتیں خاموش صدا بنی کھڑی ہیں ۔ جواب دو۔ کہ اسلام پاکستان میں رائج کیوں نہیں کیا ۔ کیا یہ تمام قربانیاں تمہارے ان چند حکمرانوں ، کے باطل سسٹم اور جمہورت کے ناٹک کھیلنے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لئے دیں تھیں ۔ فوری دستور مقدس کے نفاذ کا عمل جاری کرو۔ ورنہ۔۔۔ نا گہانی آفات کے لئے تیار رہو۔
۴۔ معصوم ، بے بس ،بے یار و مددگار بہنوں ، بیٹیوں، اور ماؤں جن کو ہندوؤں ، سکھوںاور ظالم غنڈوںنے یرغمال بنا لیا۔ ان کے زخم آج تک ان کے لواحقین اور مسلمانوں کے دلوں میں رستے چلے آرہے ہیں۔ ان کی بھی سنو ! وہ بھی ۔ یہی سوال لئے کھڑی ہیں کہ جواب د و ۔ اسلام کے منافقو ! اگر تم نے یہی جمہوریت ، یہودیت اور ہند و مت کے نظام اورسسٹم کو ملک میں رائج رکھنا تھا۔تو پاکستان کی خاطر اتنی بھیانک قربانیاں اور شہادتیں پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔کیا یہ تمام عظیم قربانیاں اور شہادتیں اس جہان میں اسلام کی نوری روشنی کی قندیل کو منور کرنے اور عوام الناس کو راحت اور سکون کا فیض جاری کرنے کے لئے نہیں دیںتھیں ۔ یا فرعونی ، قارونی ، ہامانی اور آزری پیرؤ کاروں کی آماجگاہ بنانے کے لئے یہ ارض پاک (پاکستان ) حاصل کی گئی تھی۔ تمہارے پاس اس سسٹم اور جمہوریت کو جاری رکھنے کا کوئی جواز ہے ۔ تو پیش کرو ۔ نیست و نا بود ہونے سے پہلے اب تم کو ان تمام معصوم قربانیوں کا حساب بے باک کرنا ہو گا ۔ اس سسٹم ا ور سیاست کی سیاہ کاریوں کا دور اب ختم ہو گیا ہے ۔ اسلام کی اصل روح کی آ بیاری کا وقت شروع ہو چکا ہے۔
۵۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک وہ تمام سیاست دان جو اس کھیل کو کھیلتے رہے ۔ اور عشرت کدوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اقتدار کا سورج ان کو موت کی وادیوں میں اندھیروں تک پہنچاتا چلا آ رہا ہے ۔ یا نہیں ۔ ا ے دولت کے پجاریو ! اے جمہوریت کے کھلاڑیو ! اے اہل حرم کے سومناتھو ! اے اسلام کے برہمنو ! پیشتر اس کے کہ تم اس فانی جہان سے کوچ کرو۔ تمہیں تمام اہل سلاسل ، درویش ، فقیر ، بزرگ ، اور پاکیزہ ہستیاں صدا دے رہی ہیں۔ ۔ کہ اس باطل نظام اور سسٹم کو ملک سے الوداع کرو ۔ ۔۔ اسلام کے خلاف منافقت کا کھیل ختم کرو ۔۔ مسلمانوں کو ان کی کھوئی ہوئی دولت واپس کرو۔ یعنی شریعت محمدی ﷺ اس ملک میں رائج کرو ۔۔
۱۴ کروڑ حضورپاک ﷺ کے نا م لیواؤںنے تو پچھلے حکمرانوں کو اسلام کے نفاذ کے لےئے ایک بار پھر اتنا بڑا مینڈیٹ دیا کہ جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ انہوں نے جو ملت کے ساتھ وعدے کئے انکو بھو ل گئے۔نہ تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے بددیانت حکمرانو ں ،افسر شاہی، منصف شاہی اور ملکی خزانہ ،وسائل اور غیر ملکی قرضے ہضم کرنے والے غاصبوں کا احتساب کیا، بلکہ جو محتسب مقرر کئے وہ تین سال تک ملی خزانہ سے شاہی تنخواہوں اور شہنشاہی سرکاری مراعات کے ذریعہ شب خون مارتے رہے اور افسر شاہی اور محتسب ان دیو قامت غاصبوں اور رہزنو ں سے حسب طریقہ اپنے بریف کیس رشوت اور کمیشن کے وصول کرنے میں مصروف رہے۔ایک ایک کر کے ان جرائم اور غبنوں کو سرکاری ریکارڈ سے دیمک کی طرح چاٹتے رہے۔ ایسے محتسبوں اور ایسے احتساب دونوں پر خدا کی لعنت۔ دوسرے بھیک کا کشکول انہو ں نے ہا تھ میں پکڑنے کی بجائے گلے میں ڈال لیا۔تیسرے اسلام کے نفاذ کو پس پشت ڈالتے گئے۔یہاں تک کہ انکا حساب اور حشر کا دن ان تک آن پہنچا۔اللہ کی گرفت سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔
آپ بھی اس بد دیانت اور غاصب سسٹم اور اس سسٹم کے پیشہ ور ما ہرین بریف کیس مافیہ اور رشوت خور محتسبوں، افسر شاہی کے آز مودہ کرپٹ ہا تھوں میں غریب عوام کا معاشی خون اور ملکی سالمیت نہ دے دینا۔ ان مجر موں کے محل ،اور ہر قسم کی جا ئید ا دیں انکے خلاف انکے جرموں کی بے شمارگواہیاں نہیں تو اور کیا ہیں۔ آپکے اقتدار کی صبح طلوع ہو چکی ہے ۔۔ دوپہر کا کھیل جاری ہے ۔ اس کے بعد شام اس کھیل کا مقدر ہے ۔ زندگی میں ایسی کامیابیاں بار بار نہیں آتیں ۔ ملک میں دستور مقدس کا نفاذ کر جا ؤ، پوری ملت آپکے ساتھ ہو گی۔کو ئی باطل قوت آنکھ ا ٹھا کرآپکی طرف نہیں دیکھ سکے گی۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اور معاونت آپکے ساتھ ہوگی۔ علاوہ ازیںمسلمان ہونے کے ناطے سے اگر کوئی بھی اسلام کے خلاف کسی اور نظام اور سسٹم کو ملک میں رائج کرنے کیلئے کوشاں ہو گا تووہ بھی اسلام کا باغی اور دین کا منا فق ہی ہو گا۔مو جو دہ حکمران اوران کے اقتدار کے ساتھی مل بیٹھیں، غور کریں اور فکر سے کام لیں۔ملک میں اسلام کے ضابطہ حیات کا نفاذ مروج کرنا چاہتے ہیں یا اسی طرزحیات کو اپنانے کا عزم رکھتے ہیں۔جمہوریت کی کشتی کے مسافروں کی منزل امریکہ اورمغرب ہو گی اور دین کی کشتی کے مسافروں کی منزل مکہ شریف اور مدینہ شریف ہی ہو گی۔بتائیے کیا آپ اور آپکے رفقا مسلمان کی شان سے جینا چاہتے ہیں۔ یا بے دین اور منافق ہو کر مرنا چاہتے ہیں ۔
یہ سب اہل اقتدار جنہوں نے شہدائے آزادی اور پوری ملت کے ساتھ دھو کہ کیا وہ ظالم اور غا صب کسی گنجائش اور رعائت کے مستحق تو نہیں ۔ مگر اے اللہ تو ان سب کو معاف فرما ۔ اے اللہ موجودہ حکمرانوں کو بھی ہدایت فرما ۔ اے اللہ تو دلوں کو بدلنے پر قادر ہے ۔ یااللہ ! گناہ کی زندگی تو بہ کے دروازے تک ختم ہو جاتی ہے ۔ ان کو توبہ کی سعادت عطا فرما ۔۔۔ ان کو اسلام کی روح سمجھا ۔ اور اس کے نفاذ کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ اے کالی کملی والے ۔۔۔ تیرے حضور تیری بارگاہ میں تیرے روبرو پیش ہونے کی استطاعت جرات ، اور سکت باقی نہیں ۔ اے رحمت اللعا لمین ! تورحم فر ما اور ہمیں اپنی اوٹ میں لے لے ۔ (آمین)
پاکستان اور اسلام کے چودہ ، پندرہ کروڑ نام لیوا مسلمانوں پر جو ۱۹۴۷ء کو بیت گئی ۔ اور جو آج تک اہل وطن پر گزر رہی ہے ۔ اے اللہ تو اس سے بہترین واقف او ر آ شنا ہے ۔ یا اللہ ! تیرا ہی ہی فرمان ہے کہ شہداء مرتے نہیں ۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جاتا ۔ اے صاحب اقتدا ر حکمرانو ں ! ان تمام شہدا ء کا خون اس پاک مٹی میں دفن ہے ۔ ان کا حساب بے باک کر و ۔ ملک میں اسلام کا نفاذ کرو ۔ عوام کی امیدوں کو پر بہار کرو۔
پاکستان کی آزادی او ر اس کے تحفظ کے امینو ! پیارے طالب علمو !اے ملت کے غم خوارو ! اے شہدائے پاکستان کے پروانو ! اے ملت کے مقدر کے ستا رو ! اے ہمت و جرات کے پیکرو ! اے کمزور اور ضعیف انسانیت کی امید کی کرنو ! اے دور حاضر کے امینو ! اے ملک و ملت کے وارثو !اے کالی کملی والے کے شیدائیو ۔ تمہارے لئے تڑپنے ، پھڑکنے کی توفیق مانگنے والا آج پھر دعوت عمل کے لئے پیغام پہنچا رہا ہے کہ اٹھو اور ان سب اہل دل ، اہل درد ،ا ہل بصیرت ، اور وطن کے تمام درد مندوں کو ساتھ ملاؤ ۔ محبوبوں کے محبوب ،پیارے طالب علمو! آو ۔ مل کر ان تمام شہدا کی ناراض اور روٹھی ہوئی روحوں ، کرب و بلاء میں ڈوبی ہوئی آہوں ،ان کی تڑپتی ہوئی چیخوںاور صداؤں کی گونج کو کرہ ارض میں ڈھونڈیں۔ تلاش کریں۔ ان کو پکاریں، انہیں آواز دیں ۔ ان سے فریاد کریں۔ ان کو منائیں۔ان کو راضی کریں۔ ان کے روبرو ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں۔ منتیں کریں ۔ ان کے سامنے شرمندگی ، ندامت، غفلت، بے بسی اور اپنی کوتاہیوں کے آنسو پیش کریں ۔
آؤ! ان معصوم بے گناہ ، پاکیزہ ، بہنوں ، بیٹیوں ، ماؤں ، جو اسلام کی خا طر اس ارض پاک کے نام پر شہید ہوئیں۔جن کی پاکیزہ او ر معصوم عصمتیں لوٹی گئیں۔ اور جن بے گناہ ، عاجز، بے بس، مسکینوں ، کو ہندووں،سکھ غنڈوں نے یرغمال بنا لیا ۔ ایسی بچھڑیں ، کہ آج تک اپنے لواحقین سے نہ مل سکیں۔ آؤ ! مل کر ان کی روحوں کے روبرو چیخیں اور دھاڑیں ماریں۔ روئیں، اپنے چہروں کو پیٹیں، ماتم کریںاور شرمندگی اور ندامت کے آنسوؤںمیں ان کے روبرو پیش ہوکر غرق ہو جائیں۔ شائد ہماری بے بسی اور اس حالت زار کو دیکھ کر ان کی روحیں پسیج جائیں اور آج پھر ان کے روبرو وعدہ کریں کہ ہم اسلام کے نفاذ کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ اس باطل نظام اور سسٹم کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیں گے ۔ شائد وہ ہمیں معاف کر دیں ۔
ان معصوم بچے اور بچیوں اور ان کی ماؤں، جن کی گودوں سے یہ ہندو، سکھ غنڈے ، ظالم درندے ان کو چھینتے، اچھالتے، نیزے او ر برچھیوں پر ٹانک کر آسمان کی طرف لہراتے اور زمین پر پٹختے ۔ ان معصوم بچوں کی معصوم قربانیوں کو کون سی درخواست پیش کریں ۔ کون سا طریقہ اختیار کریں ۔ کون سے آداب بجا لائیں۔ کس قسم کے آنسو ! کس قسم کی آہیں ! کس قسم کی چیخیں! کس قسم کی دلخراش ندائیں! ان آزادی کے معصوم پروانوں کے حضور پیش کریں اور انہیں عرض کریں کہ وہ ہماری خطاؤں کو بخش دیں ۔ آپ کو آپ کی معصومیت کا واسطہ ۔۔۔آپ کی اپنی ماؤں کا واسطہ، آپکی بہنوں کا واسطہ۔ آپ کو آ پ کی نانی امی اور دادی امیوں کے لاڈ و پیار کا واسطہ۔ آپکو ان تمام شہدا ء کا واسطہ۔ جنہوں نے پاکستان اور اسلام کے نام پرلاکھوں شہادتوں کے جام نوش کئے۔ آپ کو شہید ان کربلا کا واسطہ۔ آپ کو بی بی فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واسطہ ۔ آپ کو رحمت للعالمینﷺ کا واسطہ ۔ ہمیں معاف کر دو! ہمیں معاف کر دو! ہمیں معاف کر دو!
اے اللہ تو ہماری کو تا ہیوں ، غفلتوں، مجبوریوں، اور بے بسیوں کو معاف فرما تو بڑا غفور الرحیم ہے ۔ ہم نے یہ ملک تمہارے نام پر لیا۔ اسلام اور اسلامی نظام کو رائج کرنے کے لئے یہ سب قربانیاں دیں۔ یہ سب اہل وطن یہ سب اہل خطا، سب تیری بارگا ہ میں شرم او ر ندامت سے سر جھکائے کھڑے ہیں ۔ ہمیں بھی تو اپنی رحمت میں سمیٹ لے ۔ تیرے آئین مقدس کو اس ملک (پاکستان) میں رائج کرنے کے لئے حاصل کیا تھا ۔ ہم نے اس عہدکو پورا نہیں کیا ۔ ہم نے اپنے آپ کو دھوکہ دیا ۔ دغا کیا ، ہم ظالموں میں سے ہیں۔ ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔ آج ملک و ملت کے یہ تمام نادا ن ، عاصی اورمظلوم و مجبور، تیرے نام لیوا مسلمان ، تیرے دروازے پر آن کھڑے ہوئے ہیں۔ اس قابل تو نہیں کہ تیرے حضور خطاؤں سے بھرا چہرہ پیش کر سکیں۔ شرمندگی اور ندامت کے سیاہ بادل روح کی بینائی میں بری طرح حائل ہیں۔ اس عبرت کدے اور حیرت کدے میںیہ دکھ، درد، اوربھیانک اذیتوں کے صدمات ، جوں جوں یاداشتوں کے ورق پلٹے جا تے ہیں۔ ماضی اور حال کی آگ سلگتی اور شعلوں میں بھڑکتی جا رہی ہے ۔ان تمام حاضرین کی ناتواں جان میں صرف یہی کوُک سنائی دے رہی ہے ۔ یا مولیٰ ! امت محمدی ﷺ کی کھوئی ہوئی دولت کو تو دوبارہ بحال فرما۔ اسلام کے جھنڈے تلے ہم سب کو اکٹھا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ دستورمقدس پاکستان میں نافذ کرنے کی توفیق دے۔(آمین)
اسلام میں سیاسی جماعتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہاں توصرف خیر اور شر کی تمیز سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ حق اور باطل کا فرق بتایا گیا ہے ۔سلامتی اور بدبختی کے راستوں کا تعین سمجھایا گیا ہے ۔ سیاسی جماعتوںکی تشکیل اور ملی وحدت کو پارا پارا کرنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں ۔ اے پیارے طالب علمو ! اے ملت کے ہونہار و! ا ے قائد اعظم رحمت اللہ علیہ کی امیدوں کے چراغو ! اے کالی کملی والے کے غلامو ! ۱۹۴۷ ء میں آپ کے پہلے قافلے نے دنیا کو ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا ۔۔ اور پاکستان معرض وجود میں لا کر ایک ایسا اسلام کا فریضہ ادا کیا ۔ جس کی جتنی بھی داد دی جائے ۔ وہ کم ہے ۔ آج پھر ملت اسلامیہ اور پاکستان کی چودہ کروڑ عوام کا محور اور مرکز آپ بنے ہوئے ہیں ۔۔ ۔ ملت اسلامائیزیشن کے نفاذ کروانے میں تمھاری بڑی شدت کے ساتھ کمی اور ضرورت محسوس کر رہی ہے ۔ جہاں آپ کے پہلے قافلے نے پاکستان بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔ وہاں آج پھر اہل پاکستان تمھاری طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہے ہیں کہ ہماری یہ نئی نسل اس سسٹم اور جمہوری نظام سے نجات حاصل کرنے میں اہم رول ادا کرے ۔ سادگی ، شرافت ، عدل ، محبت ، ایمان داری ، اعلیٰ کردار، اخوت اور حضور نبی کریم ﷺ کی قریب ترین زندگی کو اپنا کر ملی تشخص کو ابھارنے میں اہم رول ادا کریں اور اس باطل نظام کو الوداع کرنے میں شریفانہ انداز میں حکومت وقت کو مجبور بھی کریں ۔ اور تعاون بھی کریں۔آپ سے ملتجی ہوں کہ آپ طالب علم ان تمام سیاسی جماعتوں کی ممبر شپوں سے دست بردار ہو کر ان کو الوداع کہہ دیں ۔ صرف ایک خدا اور ایک رسول ﷺ کی اطاعت کا نعرہ قائم کریں اور اس کرپٹ نظام کو ملک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الوداع کریں ۔
معاشرے کو اسلامی تعلیم کی روشنی میں اعلیٰ قدروں پر تشکیل دینے میں معاونت کریں ۔ ان ہزار ، بارہ سو اقتدار پرستوں کو عشرت کدوں سے نکال کر ۷۰ فی صدی کسانوں اور ۲۹فی صد مزدوروں اور ہنر مندوں جیسی طیب زندگی گزارنے اور مزدوروں جیسی رزق حلال کمانے اور حلال کھانے کے طریقوں سے آگاہ کریں ۔ملک میںاعتدال اور عدل قائم کریں۔ تاکہ پاکستان سلامتی کا گہوارہ بن سکے ۔ ناانصافی اور کرپشن کے طور طریقوں کو ملک سے پوری طرح ختم کر یں ۔ ایک جیسی تعلیم ، ایک جیسے تعلیمی ا د ارے، ایک جیسی محنت اور ایک جیسی اجرت کا نظام قائم ہو۔ تاکہ ملکی وسائل اورقومی خزانے کی لوٹ سیل اور عشرت کدوں میں داد عشرت دینے کی پالیسیوں کو ملک میں مزید پنپنے او ر ایک خاص طبقہ کو ملک میں بد مست ہاتھیوں کی طرح دندنانے کا مزید موقع فراہم نہ ہو۔
پچھلے ۵۳ سالوں سے پبلک سروس کرپشن کا امتحان ان شاہی حکمرانوں ،افسر شاہی ،منصف شاہی، سمگلروں، رشوت خوروں ، کمیشن خوروں کے چند خاندانوں کی ملکیت اور وراثت بنا چلا آرہا ہے۔ کسانوں، محنت کشوںاور عوام الناس کی اولادوں کیلئے پبلک سروس کرپشن ایک شجر ممنوعہ بن چکا ہے۔ ۹۹ فیصد طالبعلموں کا استحقاق کرنے والوں کا استحصالی دور اب ختم ہو چکا ہے۔ اب ان کا ہاتھ پبلک سروس کرپشن ، ۹۵ فیصد رشوت خور اور بریف کیس مافیہ کی افسر شاہی ، نوکر شاہی اور منصف شاہی کے گریبانوں تک پہنچ چکا ہے۔ ان کو خبردار کردو۔۔۔ اب نچلے طبقہ کے کسی سرکاری اور غیر سرکاری اہلکار کو سرپلس کرکے اس کا اور اسکے کنبہ کے افراد کا معاشی قتل ان کے لئے ممکن نہیں رہا۔اب ان کی سرکاری انگنت گاڑیاں ، پٹرول ، شاہی رہائشیں ، شاہی اخراجات، شاہی تفاتی تنخواہیں، لاتعداد شاہی سہولتیں اور تمام عد ل کش اور غیر فطرتی اقتدار کی نوک پر تیار کئے ہوئے قانون سب کالعدم ہو چکے ہیں۔
طالب علموں کو قائد اعظم رحمت اللہ علیہ کا انگریز کا مروجہ استحصالی نظام اور سسٹم کو ختم کرنے اور عدل و انصاف قائم کرنے اور مہر و محبت پھیلانے کا پیغام مل چکا ہے۔ دین کی روشنی میں عمل کا سورج اسی ملک سے طلوع ہو رہا ہے۔ جو پوری انسانیت کو نئی زندگی ، نئے جذبے ، نئے ارمان، نئے ولولے، نئے پیمانے ، نئے سرور، نئے ساز ، نئے راگ ، نئے سر، نئے گیت، نئے دھن، نئے حرف ، نئے شاعر، نئے مغی، نئے ستار، نئے مضراب، نئے ہاتھ ، نئے فنکار، نئے گھنگرو، نئے دھمال ، نئے دستک، نئے کواڑ، نئے حسین، نئے میخوار مہیا کرے گا۔ ساقئی کوثر کو متوالو اور پرانی طہورا کے پیاسو۔ آؤ، آؤ مل کر اس میخانے میں داخل ہوں اورہجوم عاشقاں، صداقت کے پیامی، شجاعت کے پیکر، پیار کے ساغر، سوز و گداز کے منبع ، عجز کے محور، محبت کے چشمے، انسانیت کے اور لاڈلے طالبعلموں حضورﷺ کے میخانے سے اپنے اپنے مزاج کا گھونٹ پی لو۔ انسانیت کے عزت و احترام، ادب و خدمت اور عدل و انصاف کی ذمہ داری کو نبھانے کا عمل شروع کرو۔ جو باطل نقش نظر آئے آگے بڑھو اور اسے مٹاتے چلو۔
کسی ملک،معاشرے اورملت کی تشکیل بچوں،بوڑھوں،جوانوں سے پایایہ تکمیل پاتی ہے۔ آنے والی نسلیں اس ملت کی معمار اور وارث ہوتی ہیں۔ طالب علم اس قافلے کی طاقت کا سر چشمہ، منبع اور محور ہوتے ہیں۔جب تک یہ نئی نسل قائم ہے ۔محنت اور عدل اس کا نصب العین ہے۔اس وقت تک وہ ملت زندہ و پائندہ ہے۔ یہی ہونہارطبقہ معاشرے کی کمزوری، قباحت، ہر قسم کی بد عنوانی، ناانصافی، ظلم، رشوت، کرپشن، استحصالی نظام اور غاصبوں کو جڑوں سے نکال پھینکنے کی قوت اور طاقت رکھتا ہے۔اس وقت پاکستان کو اس عدل کش سسٹم اورغا صب قوانین، جابر اور ظالم سیاست دان اور رہزن لیڈران اور اجا ر ہ دار منظم دہشت گرد حکمران ،ان کی طبقاتی افسر شاہی اور منصف شاہی کے بنیادی طبقاتی تعلیمی انگلش میڈیم اداروں اورتمام قسم کی طبقاتی اکیڈمیوں کو شریعت محمدی ﷺکے نظام کا غسل دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر کے ملک کو عدل وانصاف اور امن و سکون کا گہوارہ بنا دیں۔نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی با نسری۔ ملک میں ایک تعلیمی نظام قائم کریں۔ ان کی اجارہ داری ریت کی دیوار کی طرح مسمار ہو جائیگی۔ ننانوے فی صد ملک کی کرپشن انشا اللہ ختم ہو گی۔ اس وقت ملک میںپانچ قسم کے تعلیمی ادارے مختلف طبقاتی اونچ نیچ کے نظام کو چلانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ان کا اختصاری جائزہ برائے ملاحظہ پیش خد مت ہے۔غور کریں، تدبر سے کام لیں۔ درست راستے کا انتخاب کریں۔
جمہوریت کی اکیڈمی۔۔۔۔ صرف جا گیر دار اور سرمایہ دار طبقو ں کیلئے وقف ہے۔ان کا تعلیمی معیار غداری اور اجارہ داری ہے۔رشوت، کمیشن اور کرپشن ان کا پیشہ ہے۔ملت کو سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر کے حکمرانی کرنا،ملکی خزانہ،وسائل،ملکی اور غیر ملکی قرضے ہضم کر نا ان کا نصب ا لعین ہے۔سرے محل،رائیونڈ ہاؤس،وزیر اعظم ہاؤس،صدارتی قلعہ،گورنر ہاؤس،وزیر اعلیٰ ہاؤس،اسمبلی ہال، کنوینشن ہال، کشمیر ہاؤس،سندھ ہاؤس،سرحد ہاؤس،بلو چستان ہاؤس ،پنجاب ہاؤس، ملک میں پھیلے ہوئے بے شمار ریسٹ ہاؤس انکی آما جگاہیں ہیں۔اسی طرح بیرون ملک تمام ملکی سفارت خانے اور اعلیٰ ہو ٹل ان کی تفر یح گاہیں ہیں۔انکی عیش وعشرت کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں،ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہازہر وقت میسر ہیں۔ان ہی سرکاری سہولتوں اور اقتدار کی چھڑی سے وہ اپنے اپنے ذاتی کارو باروں کو چار چاند لگاتے چلے آرہے ہیں۔انکی اولادوں کے لئے اعلیٰ انگلش میڈیم ادارے۔۔۔۔یعنی افسر شاہی اور منصف شاہی کیلئے مختص ہیں۔ان کے طور طریقے ان سے بھی زیادہ اذیت ناک اور بھیانک۔سرکاری ملازمت میںآتے ہی انکے منہ میں سونے کا حکمرانی کا چمچہ دے دیا جاتا ہے۔ انکی یہ سیکنڈ ٹیم انکی وراثت کا پورا پورا فا ئدہ اٹھاتی ہے۔ان کی تنخواہیں،ان کی سر کاری سہو لتیں ان سے بہتر۔ملک کے اصل حکمران یعنی سیاست دان تو وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتے ہیں۔لیکن یہ تو وقت کے سا تھ ساتھ زیادہ منظم اورملک کی تباہی اور بر با دی کا سبب بنتے جاتے ہیں۔اصل میں یہی کلاس ملک کی سیاہ و سفید کی مالک اورتمام استحصالی نظام کی خالق اور معاشی، معاشرتی اعتدال اور مساوات کے قاتل اور عدل و انصاف کے رہزن ہیں۔ رشوت، کرپشن، کمیشن انکے دم سے قا ئم ودائم ہے۔
عام شہریوں کے لئے اردو میڈیم ادارے۔۔۔ ۔دفتری کام چلانے کیلئے (یس سر)اور ( جی سر) کہنے والے اہلکارتیار کر تے ہیں جو دفاتر اور پرائیویٹ اداروں میںتمام لکھنے پڑھنے اورانتظامی امور کے فرائض اپنے افسران کی خواہش کے مطابق ادا کرتے ہیں۔یہ طبقہ بھی بڑا مظلوم اور معاشی طور پر کرش ہوتا چلا آ رہا ہے۔ان کا کوئی پرسانِ حا ل نہیں۔ ہر وقت چھانٹی کی تلوار ان کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔ ان کی ترقی کی تمام را ہیں مسدود کر دی گئی ہیں۔ ان پوسٹوں کو اپ گریڈ کر کے افسر شاہی نے اپنے لئے مختص کرلی ہیں۔ جب بھی کوئی گورنمنٹ بجٹ کو کم کرنا چاہتی ہے تو اس طبقہ کے ہزاروں اہلکاروں کا معاشی چراغ گل کر دیا جاتا ہے کیونکہ ملک کے کلی اختیارات اس افسر شاہی کی گرپ میں ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس ان کی پوسٹوںکا ہر دور میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہ مظلوم طبقہ ہر وقت انکے غیض و غضب کا شکار ہو تا رہتا ہے۔یا اللہ اس ظالم طبقہ کے خوف و ہراس سے ان مظلوموں کو نجات دلا۔آمین۔
دیہاتی تعلیمی ادارے۔۔۔۔ ایک استاد اور اسکے سپرد چھ کلاسیں ۔ ان کی کسمپرسی اور غربت کا یہ حال کہ وہ کتابوں کے اخراجا ت تو کجا‘ وہ تو معمولی سی فیس ادا کرنے کے قابل بھی نہیں ہو تے۔ملک کے سیا ست دانوں،حکمرانوں،افسر شاہی اور منصف شاہی نے ایسا نظا م اور سسٹم مروج کر رکھا ہے۔انکی محنت ،انکی دن رات کی بے پناہ مشقت سے حاصل کردہ ملک کی تمام ملوں،فیکٹریوں، کارخانوں کا خام مواد یا را مٹیریل تو وہی مہیا کریں ۔ہر فرد،ہر گھر،ہر شہری کو خو راک، لباس،ہر قسم کی سبزی،ہر قسم کا گوشت،ہر قسم کے پھل،ہر قسم کے میوہ جات تو وہی مہیا کریں۔ملک کے تمام وسائل،ملکی خزانہ اور زر مبا دلہ اور ہر قسم کی ضرورت تو یہی کسان مہیا کریں۔ کتنے ظلم اور زیادتی کی بات ہے کہ ان ظا لموں اور غا صبوں نے انہی سے خوراک،لباس اور ان کی بنیادی ضرورتوں ہر قسم کی سہولتوں کو ڈاکوؤں اور رہزنوں کی طرح چھینتے چلے آرہے ہیں۔ان معاشی قاتلوں اور بے رحم درندوں نے اپنے قانونی شکنجے اور گھناؤنے سسٹم کے پھندے ان کے گلوں میں ڈال کر اس طرح کس دےئے کہ وہ تڑپ تڑپ کر کش مکش حیات سے دو چار ہو تے چلے آ رہے ہیں۔ملک کا خزانہ،ملکی وسائل اور ہر قسم کے قرضے ان کے، بڑی بڑی تنخواہوں اور بے پناہ سر کاری سہولتیںانکی ،کاروں،ہیلی کاپٹروں،جہازوں ،محلوں پر مشتمل شاہی رہائشیں انکی ،ٹیلیفونوں، رشوتوں،کمیشنوں اور ہر قسم کی کرپشن پر مشتمل زندگی انکی۔ یہ تمام عدل کش طرزحیات اور انصاف کش نظام سرکار کے ا صول و ضوابط کے کرتا دھرتا یہ ظالم۔ ملک میںاعتدال اور مساوات کے فطرتی حقوق کو ضبط اور مسخ کر کے کسانوں اور مزدوروںکو اپاہج بنانے والے یہ۔۔۔ کسا نوں کے پاس نہ کو ئی سڑک نہ ہسپتال،نہ کوئی معیاری سکول اور نہ کوئی کالج،نہ کوئی فیکٹری اور نہ کو ئی کا رخانہ،نہ کو ئی پیسہ اور نہ کوئی بنک بیلنس۔ستر، اسی فی صد معاشی مقتول عوام یعنی کسانوں ،مزدوروں اور غریبوں کی اولادیں، ملوں ۔ فیکٹریوں ۔ کارخانوں میں مزدور چوکیدار، اردلی،گن مین، ڈرائیور،پولیس اور فوج میں سپاہی کے فرائض ادا کر تی چلی آ رہی ہیں۔


دینی مدارس۔۔۔۔ اوران اداروںکے فارغ البال طلبا کیلئے سرکاری ملازمت کے د روازے ان پر بند ہو تے ہیں انکے پاس گورنمنٹ کے کسی ادارے کی ڈگری نہ ہونے کیوجہ سے ان کو سرکاری ملازمتیں مہیانہیں کی جا تیں ۔ یعنی نعوذباللہ دینی تعلیم انکے نزدیک ایک فرسودہ اور ایک نا قابل عمل تعلیم بن چکی ہے۔خدا ان دین کے منافقوں،ظالموں،پر دائرہ حیات تنگ کر دے ۔تا کہ وہ اس ظلم اور منافقت کی زندگی سے نجات حا صل کر سکیں۔
اسی طبقاتی تعلیمی معیار پر ملک میں طبقاتی معا شرہ اور استحصالی معاشی نظام رائج ہے۔ سرکاری ملازمت میں بطور خادم اور نوکر کی حیثیت سے یہ راشی اورکرپٹ افسرشاہی اوربد دیانت،انصاف کش منصف شاہی، سرکاری محکموںمیںداخل ہوتے ہیں۔ڈاکو ،رہزن، لٹیرے اور دہشت گرد بن کرملت کے خزانے،وسائل اور اندرونی اور بیرونی قرضے قلم کی نوک پر حکمرانوں سے مل کر آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ اپنے اپنے من پسند کے لو گوں کوسیم زدہ اور بنجر زمینوں اور بوگس ناموں پرکروڑوں،اربوں کے رعائیت سود پرقرضے جاری کرتے چلے آرہے ہیں۔ہر معرکہ میں کمیشن اور رشوت کے یہ برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ان میں سے بیشتر کے تعلقات بیرونی طاقتوں سے ہو تے ہیں۔ملک کی اہم پوسٹوں پر ملک کے اندر اور بیرون ممالک میں انکی پوسٹنگ انکے اشاروں پر ہو تی ہیں۔ ان بیرونی ایجنٹوں کی نشاندہی اور انکا خاتمہ اس طبقاتی تعلیمی خاتمہ سے ہی ہو سکتا ہے ۔ افسر شاہی اور منصف شاہی اور انکی میرٹ لسٹیں اور انکی پبلک سروس کمیشن کے انٹر ویو اور ان کی سلیکشنوں کے استحصالی مقا بلے ان ہی استحصالی طبقے کی اولادوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ جس میںکسان،محنت کش،ہنر مند پر مشتمل ۹۹ فیصد عوام کی اولادوں کی شمولیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس استحصا لی،عد ل کش نظام کو واصل جہنم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔
طالب علمو ، پیارے عزیزو۔۔۔۔ اصل حقائق کو سمجھو۔ اس استحصالی نظام ، غاصب سسٹم اور ان غاصب حکمرانوں کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اٹھو۔۔۔۔ اور ملک میں ان تمام بیمار یوں کا ایک جنبش سے علاج کر دو ۔حکو مت وقت کے ساتھ پورا پورا تعا و ن کرو اوردستور مقدس کا نفاذ عمل میں لانے کے لئے ان کو مجبور کرو۔جب آپ تمام سیاسی جماعتوں کو خیر باد کہہ دو گے اور ایک مرکز پر اکٹھے ہو جاؤ گے تو دنیا کی کو ئی طاقت تمہاری صداقت کے راستے میں حائل نہیںہوسکتی۔جو نقش با طل نظر آئے اس کو مٹا نے میں کوتاہی نہ کرنا۔ ان غا صبوں سے لوٹا ہوا خزانہ اور تمام ملکی وسائل واپس لینا اور بیت المال میں جمع کروانا صد سالہ عبادت سے بھی بہتر ہے اور انکو ایک کسان، ایک مزدور، ایک ہنر مند کی با عزت،پاک ،طیب اور سادہ زندگی سے متعا رف کروانا ان کے لئے بھی بہتر ہو گا اور ملت اسلامیہ کے لئے بھی۔ خدا آپ کا حا می و ناصر ہو! اللہ تعالیٰ اسلامی احکام اور حقائق کو سمجھنے اور بروئے کار لانے کی توفیق عطا فرما ویں۔ (آمین )
اقوام عالم کی بڑی طاقتیں عدل و انصاف کا دامن چھوڑ کر ظلم و بربریت ، قتل و غارت، انسانیت سو زی کا وحشت ناک عمل پوری دنیا میں جاری کئے ہوئے ہیں۔کمزو ر ممالک اور انکے عوام کا قتل عام ، بے پناہ اذیتوں ، مصیبتو ں کے ٹارچر۔ ان گنت مسائل، بے حساب تشدد کے واقعات، کمزور اقوام کی نسل کشی کے عمل کو جاری کئے ہوئے ہیں۔ ان واقعات کا نشانہ پو ری دنیا میں مسلمانوں کو بنایا جا رہا ہے۔ان کے خلاف انفرادی اور اجتماعی طور پر سا ز شو وں کا جال بچھا اور پھیلا کر یہ بڑی طاقتیں انکو طرح طرح کے رنج و الم ، مصائب اور اذیتوں سے گذار رہی ہیں۔ کبھی بو سینیا ۔۔۔ میں بچوں ،بو ڑ ھوں،جوا نوں عورتوں اور مردوں کا قتل عام اور عو رتوں سے بے پناہ جنسی تشدد کے مرتکب اور کبھی چیچنیا میں روس ۔۔۔کا جدید ترین اسلحہ سے انسانی زندگیوں اور شہروں کو خاکستر کرنے کا دہشت ناک اورکرب ناک سماں۔کبھی اسرائیل ۔۔۔کے فلسطینیوںپر فضائی حملے اور کبھی امریکہ ۔۔۔۔کی عراق پربمباری کے لرزہ خیز واقعات۔کبھی افغانستان ۔۔۔۔پر میزائلوں کے حملے۔کبھی لیبیا ۔۔۔ دہشت گرد،کبھی ایران ۔۔۔۔دہشت گرد۔کبھی کشمیری۔۔۔ دہشت گرد،کبھی افغانستان ۔۔۔دہشت گرد اور کبھی پاکستان۔۔۔ دہشت گرد۔کبھی مشرقی پاکستان۔۔۔ بنگلہ دیش اور کبھی انڈو نیشیا ۔۔۔ کے ٹکڑے آزاد۔ کبھی قبلہ اول۔۔۔ پر یہودیوں کا قبضہ اور کبھی خانہ کعبہ ۔۔۔پر مرحلہ وائز امریکہ کا قبضہ۔
ان واضح عوامل کی روشنی میں اس خوفناک حصار کو توڑنے کیلئے غور، فکر، ، تدبر اور بڑی دور اندیشی اور اعلیٰ حکمت عملی کو اپنانا ہو گا۔ آپس کی چپقلشیں، کدورتیں، نفرتیں، نادانیاں، کم ظرفیاں، حماقتیں، قتل و غارت، لڑائی، جھگڑے، جنگیں فوری طور پر نہ صرف بند کرنی ہونگی بلکہ پچھلے تمام حالات و واقعات کو نظر انداز اور درگزر کرنا ہو گا۔ نئے سرے سے ملت اسلامیہ کی شیر ازہ بندی کا کام اسلامی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔ اپنی صفوں میں نفاق اور نفرت کے جراثیموکو ختم کرنا ہوگا۔ پوری امت مسلمہ کو اسلامائزیشن کی تعلیم و تربیت ا ور اعلیٰ اقدار اور پوری انسانیت کے فطرتی حقوق کے تحفظ کے عمل کو بروئے کار لانے کے لئے فوری طور پر ان اہم فرائض کو سر انجام دینا ہوگا۔
دنیا کی کوئی طاقت پو ری انسانیت اور اس خوبصو رت جہان رنگ و بو کو اس تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل تباہی اور بربادی سے نہیں بچا سکتی ، سوائے امت مسلمہ کے دور حاضر کی ترقی یا فتہ اقوام اور انکے سائنس دانوںنے جہاں انسانیت کو نئی نئی ایجادوں سے متعارف کر آسائشوں ، آرائشوں، زیبائشوں، سہولتوں کی قندیلیں روشن کی ہیں اور انسانیت کو انکے فوائد سے روشناس کروایا ہے ۔وہ تمام ایجادات قابل صد ستائش ہیں۔فاصلوں پر عبور حاصل کر کے پو ری دنیا کو ایک گاؤں ، ایک شہر، ایک ملک ، ایک وطن میں سمیٹ لیا ہے اور پو ری انسانیت کو ایک مرکز پر اکٹھا کر دیا ہے۔ انسان اور اقوام ، ملک اور ممالک ، بر اعظم تا بر اعظم کے درمیان فا صلے ختم کر د ئیے گئے ہیں اور پوری دنیا کے انسان سمٹ کر انسانیت کے ناطے ،رشتے اور ایک قبیلے میں منسلک ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف انہی بین الا قوامی طاقتوں کے سا ئنس دانوں نے خوفناک ، بھیانک ، لرزہ خیز ایٹمی مہلک ہتھیار تیار کر کے اس حسین و جمیل کائنات اور اس میں بسنے والے درند، چرند،پرند اور ہر ذی جان یعنی ہر قسم کی مخلوق کو پوری طرح نیست و نابود کرنے کے لئے دہشت ناک، اذیت ناک، عبرتناک اور مہلک ترین ایجادات تیار کر کے پوری دنیا کو مکمل تباہ کرنے کی قدر ت حاصل کر رکھی ہے۔ اس وقت دنیا میں قتل و غارت، ظلم و ستم کمزور قوموں کے اوپر اسی ایٹمی طا قت اور مہلک سامان حرب کے زور پر بلیک میل کرکے ڈھائے جا رہے ہیں۔ بڑی بڑی طاقتیں عدل و انصاف کو مسخ کر کے اس ظلم و ستم اور قتل و غارت کے بھیانک کھیل میں برابر کی شریک ہیں۔ دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ بڑی طاقتیں عالمی سطح پر اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور برتری کو قائم رکھنے کیلئے کمزور اقوام اور غیر ترقی یافتہ ممالک کو اس جدید اسلحہ کی نوک پر طرح طرح کی اذیتوں، چپقلشوں، لڑائیو ں اور جنگوں میں الجھا کر ۔انکا قتل عام، انکو نیست و نا بود ، ذلیل و خوار اور تہس نہس کئے جا رہی ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ یہودی اور عیسائیوں کی ساز باز سے اسرائیل ۔۔۔۔ کا وجو د عمل میں لایا گیا۔ سامان حرب اور جدید ہتھیاروں کی سپلائی ، نیپام بموں اور جدید سامان حرب اسرائیل کو مہیا کئے گئے۔ نیپام بموں اور ان مہلک ہتھیا روں سے عربوں کی افواج اور عوام کو تباہ کر کے ان کے ممالک کا بہت بڑا حصہ ان سے چھین لیا گیا۔ بڑی طاقتوں نے اسرائیل کا مکمل ساتھ دیا۔
دوسری طرف افغانستان کے لوگوں کو جدید ہتھیار اور گوریلا ٹریننگ امریکہ نے دے کر روس کے خلاف استعمال کیا ۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے کر د ےئے۔ روس کی بارہ ریاستیں خود مختار ہو گئیں۔ اسکی اجتماعی قوت کو بارہ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ روس کو مات ہوئی ۔ امریکہ دنیا کی واحد بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ یہ جنگیں اور فتوحات کا عمل ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا۔ ابھی بڑی جنگ کے آغاز سے پہلے یہ ریہرسل ہو رہی ہے۔
اسی طرح مسلم آبادی پر مشتمل ، کشمیر ، بین الاقوامی مروجہ قانون اور اس کے بنیادی اصولوں ، پالیسی اور سسٹم کے تحت پاکستان کا حصہ ہے۔ ہندوستان نے ۱۹۴۸ میں اس پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ لڑائی جاری تھی کہ ہندوستان یو این او میں استصواب رائے کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے از خود سائل کی حیثیت سے گیا۔ دنیا کی اس بڑی عدالت نے جنگ بند کروا دی۔ پاکستان اور ہندوستان کشمیر کا جھگڑا کشمیری عوام کی مرضی یعنی استصواب رائے کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے پر متفق اور پابند ہوئے۔ اسی اثنا ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ قائم رکھنے کے لئے سات لاکھ فوج کشمیر میں داخل کر دی ۔ جو بے پناہ ظلم، قتل و غارت اور آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے مقرر کر رکھی ہے۔ ۷۵ ، ۷۶ ہزار انسانی جانوں کو جس میں بچے ، بوڑھے، مرد اور عورتیں شامل ہیں۔ اب تک انکا قتال کر چکی ہے ۔ اس کے علاوہ بے شمار انسانوں کو ہاتھ پاؤں اور جسم کے مختلف حصوں سے معذور کر دیا گیا ہے۔ بیشتر انسانوں کی شکلیں مسخ ہو چکی ہیں۔ وہ کشمیری عوام کو کچلنے ، روند ڈالنے اور پوری طرح ان کو نیست و نا بو د کرنے پر تلا ہوا ہے۔ انکے بنیادی حقوق یعنی استصواب رائے کے عمل کو بروئے کار لانے سے دیدہ دانستہ گریز اں ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں تماشائی کی حیثیت سے اس بربریت اور ظلم کو دیکھتی چلی جا رہی ہیں۔ کوئی اسکو پوچھنے والا ہی نہیںبلکہ اصل بات یہ ہے کہ بین ا لاقوامی طاقتیںخود اس قتل و غارت میںبرابر کی شریک ہیں۔
کشمیر سے بے شمار لوگ جان بچانے کیلئے آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک میں پناہ لئے بیٹھے ہیں۔ اگر وہ اس غاصبانہ قبضہ اور ہندوستان کی سات لاکھ افواج کی بر بربیت اور ظلم کے خلاف ہتھیا ر اٹھائیں اور دنیا کے کونے کونے سے اس آزادی کی جنگ لڑنے کے لئے اپنے وسائل اور جان و مال سے اس ظلم اور بربریت کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ لڑیں ۔ ا پنی جانو ں کا نذرا نہ ا پنی آزادی کی خاطر پیش کریں۔ اپنے ماں باپ ، بھائی بہن ، عزیز و اقارب ، ۷۵،۷۶ ہزار لاشوں اور بے پناہ مفلوج، معذور اور طرح طرح کے زخموں سے دو چار اپنے عزیزوں اور ہم وطنوں کیلئے ہندوستان کی فوج کے ساتھ ٹکرائیں اور اپنے گھر، کاروبار ، ماں باپ کی جا ئیدادوں ، قبروں، زمینوں اور اپنے وطن اور خاندان کے افراد کو ان ظالموں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر وہ اس ظلم اور زیادتی کے خلاف ہتھیاراٹھائیں اور اپنی آزادی کے تحفط کیلئے اور اپنی بقا کیلئے جنگ لڑیں اور جان قربان کریں۔ تو یہ لو گ دہشت گرد اور جو ممالک انسانیت کی بنیاد پر ان مظلو موں کو پناہ دے اور انکو کھانے پینے اور رہنے کیلئے جگہ مہیا کرے ۔ وہ ملک بھی دہشت گرد۔ تم کیسے منصف ہو ۔ تم کیسے عادل ہو ، تم کیسے ظالم اور سفاک انسان ہو،تم کیسے سنگ دل،بے رحم انسانی شکل میں ترقی یافتہ درندے ہو۔فطرت اچھی طر ح جانتی ہے،کہ انسانیت کا قاتل کون ہے۔تباہ کن ہتھیار انسانوںکو قتل کرنے کے لئے کون فروخت کرتا ہے۔معصوم اور بے گناہ مخلوق خدا کو کون مرواتا ہے۔
اے بیسویں صدی کی ترقی کے علم بردارو! اے یو۔ این۔ او۔ کی بین الاقوامی عدالت کے منصفو ! اے دنیا کے رہبرو رہنماؤ! اے بین الا قوامی عدالت اور اس کے عدل و انصا ف کے وارثو! اے امن و آشتی کے حدی خوانوں ! اے ترقی یافتہ اقوام کے شاہکارو! اے ماڈرن تہذیب و تمدن کے مفکرو! اے جدید ترقی کے موجدو! اے انسانیت دوستی کے پرستارو! اے دکھی انسانیت کے مونسو!اے ابن مریم کے دانش و برہان کے متولیو! تمھارے مذہب ،تمہارے عقیدے ،تمہارے روحانی پیشواؤں نے بھی تمہیں رشدو ہدائیت کے منور چراغ، خیر کی دولت، انسانیت کی بہبو د کے راستے ، انسانیت کے دکھوں کا مداوا، انسانوں کے ادب و احترام کا تصور اور ان سے محبت کا درس سکھایا تو ہو گا۔ اے تہذیب حاضر کے انسانیت کش اور انسانیت سوزی کے دہشت گردو!اے ناانصافی کی تلوار سے امن کچلنے والو ، اے انسانیت سوزی کی چتا جلانے والو! اے انسانیت کشی کی آگ سلگا نے والو!اے مخلوق خدا کی بربادی کے خالقو!اے خالق کائنات کی احسن تقویم کو بھسم کرنے والو! اے جہان رنگ و بو کو صفحہ ہستی سے مٹانے والو! اے سازجہان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے والو! اے رب دو جہاں کے باغیو! اے دنیا کے عظیم سیاستدانوں ، حکمرانوں ، دنیا عالم کے دہشت گردو، تم نے تو عدل و انصاف کی عفت کو نو چا۔تم نے تو انسانیت کی طیب ،مطہر ، معطر اور پر امن فضاؤں کی عصمت کو تارتار کر دیا ہے۔تمہا ری سیاست کا مذہب عیسائیت کامذہب نہیں ہو سکتا۔انجیل مقدس کا فکر و تصور اورتعلیم جو پوری انسانیت کے سا تھ حسن عمل کی تلقین کرتی ہے۔تم بھی اسکے منکر اور باغی ہو۔خدا کا عذاب تمہارا مقدر ہے۔پوری عیسائیت کو اس کا نوٹس لینا ہو گا۔انہوں نے اپنے ملکوں میں تباہی کے سامان کا انبار لگا رکھا ہے۔معصوم اور بے گناہ مخلوق خدا کو ان کے نا کردہ گناہ کی تباہی سے بچانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔
اپنے کسی پیشوا، کسی پوپ، کسی پادری ، کسی برہمن، کسی فلسفی، کسی منطقی ، کسی حکیم، کسی دانائے راز، کسی وقت کے ارسطو، کسی دورکے سقراط، کسی ابرہیم ادہم، کسی انسانیت دوست شخصیت سے اپنے ان اعمال کے بارے میں پوچھ لیا ہوتا۔کسی اہل دل،اہل درد،اہل نظر ، کسی دور اندیش انسان سے استفادہ کرلیا ہوتا۔اب بھی وقت ہے۔ اپنے کسی پیشوا،کسی اچھے انسان سے مشورہ کر لو۔پو چھ لو۔رہنمائی حاصل کر لو۔ انسانیت میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کا راز معلو م کر لو۔با لیقین وہ تمہیں درست راستہ اور فلاحی اصو لوں سے آگاہی،آشنائی اور رہنمائی فرماویں گے۔شائد وہ تمہیں اس ظلمت و بر بریت سے نجات کا راستہ دکھا سکیں۔ایسے لوگ نور اور نورانی راستہ کے مسافر ہو تے ہیں۔ ان کوان سیاستدانوں، حکمرانوں اور پارلیمنٹ ممبران کے ان ظالمانہ عدل کش پالیسیوں پر ازخود ایکشن لینا چاہے تھا ۔
ہر قوم، ہر طبقہ،ہر معاشرے میں ایسے لوگ مو جود ہوتے ہیں۔جو انسانیت کے تحفظ کی خا طر حق بات کہنے سے کبھی گریز نہیں کرتے۔یہ انسا نیت کے سفیر ہو تے ہیں۔اور اپنے ماحول اور معاشرے میں مستثی کردار کی مہک پھیلاتے رہتے ہیں۔انسا نیت ان سے استفا دہ حاصل کرتی رہتی ہے۔اگر وہ چپ سادھ لیں۔ ظلم اور بربریت کے خرد مندوں کواس صحرائے فانی میںمن مانی کرنے اور ان کی بد اعمالیوں کے سپرد کر دیا جائے تو اس وقت ان کے بے گنا ہ قتل و غارت ،ظلم و ستم،معصوم مخلوق خدا کو اذیتوں ، مصیبتوں میں مبتلا کرنے والی ان اقوام کا قرضہ جو فطرت کے ہاں واجب الادا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ یہ اقوام اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو جو اس بر بریت میںملو ث ہیں اور انسانیت کی تباہی کابا عث بنے چلے آ رہے ہیں۔ ان کو سختی سے روکیں۔ورنہ پوری انسانیت کو سخت اذیت ناک، عبرت ناک، تباہی و بربادی کی مشکل ترین گھڑیوں کا سامنا کرنے کا وقت سر پر آن کھڑا ہے۔
ایٹمی چنگاریاںاکٹھی کرنے والو ، سامان حرب کے ڈھیر جمع کرنے والو،میزائلوں اور راکٹوں کو ایجاد کرنے والو۔نیپام بموں اور مختلف مہلک جراثیموں پر مشتمل احصاب شکن ایجادوں کے خالقو۔ ہر قسم کا لا تعداد،انگنت اور بے شمار تباہی کا سامان تمہارے گھروں یعنی تمہارے ملکوں میں پڑا ہے۔ انسانی عقل کی تمام صلاحیتوں اور تمام تدبیروں اور تمام حفاظتوں کو فاطر کا کوئی معمولی سا عمل یا وائرس تمہارے ایٹمی پلانٹوں، ایٹم بمبوں اور ہر قسم کے مہلک ہتھیاروں اور تمام ترقی کے شاہکاروں اور پوری انسانیت اور ہرذی جان مخلوق کی مکمل تباہی، بربادی اور صفحہ ہستی سے نیست و نا بود کرنے، اس جہان کو ویران اور کھنڈرات میں بدلنے ،بے گناہ اور معصوم مخلوق کو بھسم کرنے کا آخری سبب بننے والا ہے۔ یہ ایٹمی صلا حیتیں کوئی سامان حرب نہیں بلکہ ایک قرس (Curse) ہے۔
دنیا کو ڈرانے ،دھمکانے،خوف و ہراس پھیلانے،جسموں اور عقلوں کو مات دینے اور فتوحات حا صل کرنے۔ کمزور اقوا م کو نشانہ عبرت بنانے غنڈہ گردی،دہشت گردی کا گھناؤنا غیر انسانی کردار اپنانے اور دنیا کو مکمل تباہ کرنے کے تمام گر اور تمام طریقے تو سیکھ لئے۔ انسانی روح کو خوشحالی ، سکون ، تسلی ، تشفی اور راحت مہیا کرنے کی درس گاہ میں تو قدم رکھ نہ سکے۔ اپنی محبوب و طیب ہستیوں کی تعلیما ت سے عملی طور پر منحرف ہوئے۔ منا فقت کا کردار اپنایا۔ نہ انسان کو عزت دی نہ احترام، نہ پیا ر دیا اور نہ محبت ۔نہ کبھی شفقت دی اور نہ کبھی مشفق ہوئے۔نہ کبھی خدمت کی اور نہ کبھی خدمت کرنے کا اظہار۔نہ کبھی معاف کیا اور نہ در گز ر۔ مخلوق کو خدا کا کنبہ سمجھا ہی نہیں۔ تمہاری سیا ست کا چہرہ ، دھوکہ، فریب ، خود غرضی ، خوف،دہشت گردی،قتل و غارت،انسانیت سوزی،بد عہدی،محسن کشی، ظلم،زیادتی ، مکاری،ابن الوقتی اور اس طرح کی بے شمار نجس کاریوں کے بد ترین داغو ں سے بھرا پڑا ہے۔
تمہا ری عوام یارعیت تو اس سوچ اور فکر کی مالک نہیں۔ایسی فرعونی طاقت اور ایسا اقتدارقربت خدا وندی سے دوری کے راستے ہیں۔یا اللہ یہ بھی تیری ہی مخلوق ہے ۔ انکو گمراہی کے راستہ سے نجات عطا فرما۔ ان کو بھی امن کا راستہ دکھا۔ یہ تمام سیاق و اسباق اور یہ تمام عوامل انسانیت کے ضمیر کو بری طرح جھنجھو ڑ رہے ہیں اور خاص طور پر ملت اسلامیہ کو غفلت کی نیند سے بیدار کر رہے ہیں۔اٹھو! اور رحمت کے بادل بن کر اس پو ری کائنات پر بر سو۔میٹھی پون کے جام پو ری انسا نیت کو پلاؤ۔ انسانی جبلت نیکی اور بدی کے خمیر سے گوندھی پڑی ہے۔دنیا میںانسان اچھے اور برے کام کرتے رہتے ہیں۔اگر کوئی انسان چاہے ، وہ کسی نسل،قوم،عقیدہ،مذہب یا سوسائٹی سے تعلق رکھنے والا ہو۔چاہے اس کا تعلق مشرق سے ہو یا مغرب سے ،شمال سے ہو یا جنوب سے،ہنر مند ہو یا سائنس دان، نیم فوجی حکمران ہو یا جمہوریت کا پوجاری،کیمو نزم کا پرستار ہو یا سوشلزم کا،کوئی بھی حکمران ہو، اپنے ہنر مندوں یا سا ئنس دانوں کوایسی ایجادات جو انسانیت کو سکھ بانٹیں اور آرام اور سکون کی سہولتیں مہیا کریں،قدرتی آفات،مہلک بیماریوں، کے خلاف جنگ جیت کر انسانیت کیلئے نجات کا سبب بنیں۔قدرتی وسائل کو انسانیت کیلئے ڈھونڈ نکا لیں،ٖفاصلوں کو تسخیر کریں،چاند،ستاروں میں اپنی گزر گاہیں تلاش کریں۔پیداوار میں اضافہ کرنے کے اسباب کا کھوج لگائیں۔نئے نئے علوم ،نئی نئی ایجادات،ٹیلیو یژن سے لے کر کمپیو ٹر تک،کار سے لے کر جہاز تک کی ایجادات،بجلی سے لے کر گیس تک ،آئل سے لے کر ہر قسم کی معدنیات تک کی تلاش سے مالا مال کرنے والے ،انسانوںکی تگ و دو اورعزت و عظمت کے وہ چراغ ہیں۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے، اس وقت تک ان کے یہ کارنامے ان کو جلا بخشیںگے۔
جوبھوکوں کوخوراک اور پیاسوں کو پانی صحراؤں،ریگستانوں،بیابانوں ، پہاڑوں، میدانوں اور دشوار گذار علاقوںمیںمہیا کریں۔جو جہالت کوتعلیم و تربیت کے ظاہری باطنی علوم سے منور کریں۔جوہنر اور کسب سے اس جہان رنگ و بو کو خوبصورت سے خوبصورت بنائیں اور انسانیت کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کریں جو انسانیت کو ادب اوراحترام سے نوازیں۔جو پیار، محبت،ایثار و نثار ، اچھے اخلاق اوراعلیٰ خدمت سے پیش آئیںجو صبر و تحمل اور برداشت کی قوت کو بروئے کار لائیں۔جو انسانیت کو در گزر اور معاف کرنے کی صلاحیتوںسے مالا مال ہوںجو انسانیت کو عدل، اعتدال، مساوات اور انصاف کا عملی درس دیں۔جو حکمران خود اور اپنی رعایا کو فطرت کی ان بنیادی خوبیوں اور خصوصیات میں ڈھال لے۔ایسے انسان دنیا میں عمل کی خوشبوؤں کے صدقات بکھیرتے رہتے ہیں۔انسانیت انکے کردار کے فیض سے فیضیاب ہوتی رہے گی۔یہ چشمہ رشدو ہدایت ، فلاح وبہبود کا جب تک جاری رہیگا ۔ان حکمرانوں اور عوام کا نام دنیا میں زندہ اور انسانیت میں قابل احترام رہے گا۔آج کا انسان فاصلوں کو تسخیر کر کے اب ایک گھر،ایک بستی ،ایک قریہ،ایک شہر،ایک ملک کا وسنیک بن چکا ہے۔ اب دنیا کے تمام لوگ ایک ہی گھر کے مختلف افراد نسل،عقیدہ،مذہب پر مشتمل ایک کنبہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔وقت نے کروٹ لے لی ہے ۔وہ اپنے ساتھ اپنے تقاضے بھی ساتھ لایا ہے۔
دنیا کے جو سیاستدان یا حکمران اپنے سائنس دانوں،ہنر مندوں کو جنگیں جیتنے کے لئے سامان حرب بندوق ، رائفل،توپ، ٹینک،بکتر بند گا ڑیاں ، آبدوزیں،جہاز، میزائل، گولہ بارود، نیپام بم،احصاب شکن بم، مختلف بیماریوں پر مشتمل جراثیموں کے بم، ایٹم بم،نائٹ روجن بم، ہر قسم کے تباہ کن سامان حرب کے انبار۔بڑی طاقتیں اپنے ممالک میں ڈھیر لگائے بیٹھی ہیں۔ان کے یہ تباہ کن ہتھیاران کے ذرائع آمدن کاذریعہ بن چکے ہیں۔وہ انسانیت کے قاتل،وہ انسانوں کے گھروندے، بستیاں، شہروں کو تباہ اوربھسم کرنے کے مجرم ۔ وہ انسانوں کو جنگوں میں الجھانے کے مجرم۔وہ دنیا میں ہر قسم کی دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانے کے مجرم۔وہ اقوام عالم کاامن تباہ کرنے کے مجرم۔وہ معصوم بچوں،بے گناہ عورتوں، مردوں، جوانوں، بوڑھوں کے جسموں کو فضا میں بکھیرنے کے مجرم۔وہ دنیا میں بے گناہ معصوم عورتوں کی عصمتوں کو نوچنے کے مجرم۔ ان کے ذمے مخلوق خدا کے بہت سارے قرض بارگاہ الہی میں واجب الادا پڑے ہیں۔ ان کے حساب چکانے کا وقت قریب آچکا ہے۔فطرت ایسے ظالموں،قاتلوں،دہشت گردوں،بے رحم درندوں کو کبھی معاف نہیں کیا کرتی۔
اب ایٹمی چنگاریاں ان کے گھروں یعنی ملکوں میں ڈھیروں کی شکل میں پڑی ہیں۔ کوئی جانباز،کوئی ان کے ظلموں سے دل برداشتہ، ان کی ایٹمی چنگاریوں کو سلگانے میں کامیاب ہو گیا۔تو اس کائنات کی شکل کیسی ہو گی۔کم از کم ان لو گوں میں کوئی نہیں ہو گا جو اس صورتحال کے متعلق بتا سکے گا۔وہ جتنا اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے۔ آج وہ اتنے ہی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔اب اس خوفناک طوفان اور استحصالی نظام ا ور کر ب ناک گھناؤنے سسٹم اور جدید ٹیکنالو جی کی تباہ کاریوں سے دنیا کی کوئی طاقت ان کو تباہی،بربادی اور نیست و نابود ہونے سے نہیں بچا سکتی سوائے ان سچے اور فطرت شناس،دیدہ ور انسانوں کے جودنیا میں عدل و انصاف اعتدال، مساوات اور انسانی حقوق ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مخلوق کو کنبہ خدا سمجھتے ہوں۔ یاد رکھو یہی لوگ انسانیت کی اصل روح کے محافظ اور وارث ہوتے ہیں۔ایسے اصول اور ایسے ضوابط اور ایسے فلاحی راستے ہمیں صرف اور صرف اسلام ہی عطا کرتاہے۔اسلام ہی حیوان ناطق کو بصیرت عطا کرتا ہے۔اسلام ہی اہل بصیرت کو دیدہ و بینا والی دل کی آنکھ بھی بخشتا ہے۔اسلا م ایک ایسا دین فطرت ہے کہ جس میں پیغمبر آ خرالز ماںﷺ نے عمل سے گزر کر علم عطا کیا۔جہاں قرآن کریم انسان اور پوری انسانیت کو مکمل ضا بطہ حیات عطا کرتا ہے۔وہاں محبوب خدا طیب دستور حیات کو عمل کا لباس پہنا کر پو ری انسانیت کو درس وتدریس اور رشد و ہدائیت کا سبق سکھاتے ہیں ۔ اس لئے جہاں قرآن پاک ایک چشمہ رشدو ہدائت ہے وہاں حضور کی ذات اقدس منبعکرداربھی ہیں۔حضورﷺکی تعلیمات اوردرس وتدریس، اخلاقیات، اقدار، اعتدال، مساوات، عدل، انصاف،عفو،درگذر،کی تمام خوبیوں، خصوصیات کی کالی کملی کو اوڑھ لیں۔آپ سے انسانیت کی عفت و عصمت کی چادر کو کبھی دا غ نہیں لگ سکے گا۔
اگردنیا میں زندہ رہنا ہے تو محبت و ادب کے چراغ جلاؤ۔دستور مقدس کا نفاذ عمل میں لا ؤ۔ اس وقت مسلمان بڑی بری طرح انحظا ط کا شکار ہیں۔ ان کی شیرازہ بندی کا کام شروع کرو۔ تمام وسائل اورذرائع اور تمام دولت کو اکٹھا کرو۔اس کے استعمال کو دین کی روشنی میں حضور کے اصولوں کے مطابق استعمال میںلاؤ۔ ملت اسلامیہ کو جدید علوم اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کراؤ۔دین کی روشنی میں ملت کو منظم کر و اور صداقت کی راہ پر چلاؤ۔ سامان حرب تیار کرو۔ایجادات کے معجزے دکھاؤ۔ہر اسلامی ملک کو ایٹمی صلا حیت سے لیس کرو۔جتنے اسلامی ممالک ہیںان کو چھاؤ نیوں میں بدل دو۔اگر اسرائیل کی قلیل آبادی اپنے سامان حرب کی بنا پرتمام عربوں اور تمام مسلمان مما لک کوبری ،طرح کچل کر ان کے علاقے چھین سکتی ہے تومسلمانوں کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ انکے ظلم کے خلاف جہاد کریں اور پوری طاقت کے ذریعہ وہ اپنے کھو ئے ہو ئے علا قوں کو واپس لیں۔
اگر اسرائیل کی قلیل آبادی اپنے سامان حرب کی بنا ُ پر دنیا میں زمینی اور خلائی برتری حاصل کر سکتی ہے۔ نئے نئے سامان حرب کی ایجادات سے پورے عرب ممالک کو ذلیل خوار، ذلت سے دوچار او ر اپنے سے کئی گنا بڑے ممالک کو ایک چوہے کی طرح اونٹ کی نکیل پکڑ کر صحرا و بیاباں میں گھسیٹتے چلی جا رہی ہے۔ امریکہ اور مغرب کی تمام طاقتیں اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ امریکہ بہادر کی منتوں سے انکی جان بخشی کبھی نہیں ہو سکتی۔ ا ن کمزوریوں ، ا ن نالائقیو ں ، ان غفلتوں، ان تمام وجو ہات جن کی بنا ء پر آج ندامت اور شرمندگی اور ذلالت کا شکار ہیں‘ انکے تمام عوامل و محرکات کے بارے میں سوچ تو لو اور غور کرو کہ اس سے کیسے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ تمام اسلامی ممالک کوایک مرکز پرا کٹھا کرو۔ اور ان تمام ممالک کو صوبوں کا درجہ دے دو۔ ایمانداری ، دیانتداری، محنت، مشقت ، غور و فکر، مہر و محبت ، امانت و صداقت، صبر و تحمل، سنت و قرآن کو اپنے سینے میں اتار کر زندگی کا آغاز کرو۔ آپس میں تجارت کو فروغ دو ، جدید علوم کا ایک نصاب مقرر کرو۔ اس نصاب کے مطابق ہر ملک میں اسکی مادری زبان میں تعلیم د ے کر ملت اسلامیہ کے نو نہالوں کی تربیت کرو۔ مسلمانوں کو ایک زبان دے دو ۔جو تمام ممالک میں اور تمام دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہو۔
یہ کیسی دہشت گردی ہے کہ طا قتور اور ترقی یافتہ ممالک خود تو مہلک سے مہلک ہتھیار بنا تے جائیں۔ اس سلسلے میں نئی سے نئی ایجادات میں اعلیٰ مقام اور اعلیٰ صلاحیتیں حاصل کرتے جائیں اور دوسرے کمزور ممالک اور خاص کر مسلم ممالک کو ایسا کرنے سے نہ صرف روکیں بلکہ طرح طرح کے مصائب سے دو چار کر دیں۔ یہ تمام واقعات یہ تمام کھیل ، یہ تمام فیصلے ، یہ تمام ڈرامے ، یہ تمام احکام مسلمانوں کی کمزوریوں ، نفاق ، نفرت اور آپس میں لڑائی جھگڑے اور جنگوں کی وجہ سے ہیں۔ اس قسم کی تمام پابندیاںطاقت وروں کے غاصبانہ ، کالے قانون اور انکی غنڈہ گردی دہشت گردی کی اطاعت کے مترادف ہے۔
خدا را آپس کے نفاق اور نفرت کو ختم کرو، مسلمانوں کا جینے کا حق خود بحال کرو۔ امریکہ اور اسرائیل کتنے ممالک تباہ کرینگے۔ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی ہتھیار دنیائے اسلام کے تمام ممالک میں نہیں بلکہ صرف ان ممالک کے بارڈروں پر پھیلا دو جن کے ساتھ ان کی سرحدیں آپس میں ملتی ہوں ۔اپنے اللہ پر بھروسہ کرو۔ان کی بلیک میلنگ سے نجات حا صل کر لو۔برابری کی بنیاد پر تمام ممالک سے تعلق قائم کرو۔دھونس اورغنڈہ گردی کرنے والے ممالک از خود اپنے مقام سے آشنا ہو جائنیگے۔ان کے پاس بہت سی طاقتیں ہو نگی ۔کوئی بات نہیں۔ مسلمانوںکا ایک ملک بن کر ابھرنا۔انسانی قدروں کا احترام کرنا۔کمزور اقوام اور بے گناہ عوام کو دنیا کے کونے کونے میں تحفط فراہم کرنا۔ ان کے ہر دکھ میں شامل ہو کر ان کا ساتھ دینا ۔انسانیت کو راحت و سکون پہنچانے کا عمل۔ ان کے دلوںکو ایثار و نثار سے اخوت کے ر شتہ میں منسلک کرنے کے آداب بجا لانے کے اثرات اور نتائج مسحور کن ثابت ہونگے۔اس عمل سے جسم نہیں دل مسخر ہونگے۔ پورے مغرب، جرمن جاپان،رو سی ریاستوں، روس،کینڈا‘ فرانس اور اپنے قابل اعتماد دوست چائنا اور دوسرے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعلق پیدا کرو اور بہتر بناؤ ۔اپنے وسائل کو بروئے کار لاؤ۔ تمام اسلامی ممالک کے عوام کو درس ر سالت سے فیض حاصل کرنے کا پا بند بنائیں۔
تمام ممالک سے تین تین ارکان لیکر اسلام کی ایک بین لا سلامی مجلس شورٰی ترتیب اور تشکیل دینے کا وقت اب آن پہنچا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے ذریعہ جدید تعلیمی نصاب اسلام کی روشنی میں مرتب کر کے ۔اس کا نفاذ پوری دنیا ئے اسلام پر لا گو کریں۔ اسلامی مما لک کے سائنسدانوں کو مل جل کر ایک دوسرے سے استفادہ کرنے اوراپنی صلاحیتیںاجاگرکرنے کا موقع فراہم ہو گا ۔زراعت،انڈسٹری، میڈیسن ہیلتھ ، ایجو کیشن ،مکینیکل، ٹیکنیکل، تمام شعبہ ہائے زندگی میںنمایاںٖ فریضے محنت و ہمت سے ادا کریں۔ وقت کے سمندر سے گوہر مقصود تلاش کرنے میں انشا اللہ کامیاب اور کا مران ہونگے۔ تمام اسلامی ممالک میں ویزا سسٹم ختم کریں۔ ایک کرنسی مرتب کریں۔ بیت المال قائم کریں۔دنیاکے ہر فرد،ہر نسل، ہر قوم،ہررنگ،ہرملک کے افراد کو ،عزت،ادب احترام،خدمت ،محبت اور شفقت کے فطرتی تحفوں کو پوری انسانیت کو پیش کریں۔ انسانی بنیادی حقوق اور فطرتی اعتدا ل کے دینی اصولوں کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھال لو۔دنیا میں خیر اور امن بحال ہو گا۔دنیا میں عدل وانصاف قائم ہو گا۔
مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھیں اوراولاد کو ماں کی نگاہ سے دیکھیں۔کوئی ماں اپنی اولاد کو تکلیف دینے والے کو نہ پسند کرتی ہے اورنہ ہی برداشت کر سکتی ہے۔اگر خالق کو اس جذ بۂ محبت کا سمندر سمجھیں تو کائنات کی ماؤ ں کو اس سمندر سے صرف ایک قطرہ ہی ملا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو تنگ کر کے،تکلیفوں، مصیبتوں، پریشانیوں، اذیتوں،دکھوں میں مبتلاکرنے والے دنیا بھر کے سیاستدانوں،حکمرانوں اور انسانیت کش بد بختوں نے پوری انسانیت کو کشمکشوں ، جھگڑوں،لڑائیوں ، فسادوں اور جنگوں میں جھونکتے چلے آ رہے ہیں۔اس وقت دنیا ایک تباہی کے دہا نے پر کھڑی ہے۔ایٹم بموں کے انبار ہر ملک میں لگے پڑے ہیں۔بڑی طاقتیں ملکوںکے مسائل حل کرنے کی بجائے انکو ہوا دیتے، الجھاتے،انصاف اور عدل کو پامال کرتے،اپنے ہتھیاروں کو فروخت کر نے اور اپنے گھناؤنے مقاصد کی تکمیل کو مد نظر رکھتے چلے آ رہے ہیں۔ انکی عوام کو انکو ایسا کرنے سے سختی سے روکنا ہو گا۔
ہیرو شیما کو ایٹم بم سے تباہ کرنے والو۔جرمنوں کو فتح کر کے انکی نسل کشی کرنے والو۔ اے انسانیت کے قا تلو اب وقت کروٹ لے چکا ہے۔اب اور اس وقت بیشتر ممالک کے پاس اس ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ طاقتور اور تباہ کن ہتھیار موجود ہیں۔نوشتہ ء تقدیر تم نہیں پڑھ سکتے تو سن لو۔ اب مکمل تباہی ان ممالک کی ہو گی۔ جن کے پاس یہ مہلک ہتھیار کثرت سے جمع ہونگے۔ اب واقعات اور حالات کسی ایک ملک یا ایک طاقت کے ہاتھ میںنہیں۔ یا اللہ اس معصوم ،مجبور،بے گناہ،لاڈلی ،پیاری،احسن تقویم اوربھو لی بھالی خوبصورت، حسین مخلوق کا کیا قصور۔ آو مل کر پوری انسانیت کی خیر کی دعا مانگیں۔یا اللہ ہماری اس دعا کو شرف قبو لیت عطا فرما اورانسانیت سے پیار اور ادب کرنے والوں کو دنیا کے کونے کونے میں بیدار ی عطا فرما اور انکی مدد فرما تاکہ وہ ان ظالموں ، غاصبوں ، بے رحم انسا نیت کش سیاستدانوںاور حکمرانوں کو ان کے ظالمانہ رویہ سے روک سکیں اور دنیا میں امن قائم کرنے میں اپنا رول اداکر سکیں۔۔آمین
اے ولولہ خیز قیادت کے وارثو۔۔۔۔پیارے طالبعلمو۔اٹھو اس کار خیر کا آغاز اللہ کے نام سے شروع کرو۔اپنے وطن عزیز سے اس غاصب نظام اور استحصالی سسٹم کو ختم کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ملک کے ۹۹ فیصد کسان،مزدور، ہنر مند اور غریب عوام سخت محنت،صبح شام محنت،ہر لمحہ تگ و دو،ہر قسم کی تکلیف و اذیت کو برداشت کرکے ملکی وسائل،ملکی خزانہ،ہر قسم کا خام مال،کھیتوں سے لیکر فیکٹریوں،ملوں، کارخانوں تک تمام نظام کو چلا کر ملکی سرمایا اکٹھا کریں۔ ملت کی اس امانت کو اس کے رکھوالے ایک فیصد میں سے سات آٹھ ہزار خا دم جاگیردار،سرمائے دار یعنی سیا ستدان ، باقی تمام سرکاری نیم سرکاری ملازمین یعنی نوکر شاہی،افسر شاہی اور منصف شاہی کی ملک میںپھیلی ہوئی فوج اس تمام ملکی وسائل،خام مال،دولت اورملکی خزانہ کو شاہا نہ زندگی،شاہی اخراجات،شاہی بودو باش، شاہی محلوں،شاہی دفاتروں،شاہی سہولتوں،شاہی تنخواہوں، شاہی نظام حکومت کے ظالم بے رحم سسٹم سے سب کچھ نگل جائیں۔اس کے علاوہ زکوٰۃ اور عشر کا مال بھی ہضم کر جائیں۔ہزاروں ٹیکسوں کی اذیت ناک سرنجوں سے کھینچا ہوا معاشی خون وہ بھی یہ پی جائیں۔ بیرونی ممالک کی تمام کی تمام وصول کردہ امدادی دولت وہ بھی چبا جائیں۔آئی ایم ایف کے کروڑوں ڈالر قرضے وہ بھی انہی کی ملوں،فیکٹریوں،کارخانوں،سرے محلوں ، رائے ونڈہا ؤ سوں، جہازوں، لینڈ کروزروں، پجاروں، اندرون ملک اور بیرون ممالک کاروباروں میں بدل جائیں۔ دو تین سو افراد پر مشتمل دوست احباب،من پسند کے اخبار نویسوں کو سرکاری اخراجات پر سیرو تفریح ، ذ اتی شہرت کو چار چاند لگانے کیلئے امریکہ جیسے ممالک اورمہنگے ہوٹلوں میں عیش و عشرت اور ہنی مون کیلئے ساتھ لے جانا انکی روز مرہ زندگی کا معمول بن چکا ہے ۔اس ظا لم نظام اور غاصب سسٹم کے متولیوں سے کوئی پوچھ سکتا ہے،کہ کیا ملک ان تباہ کن حالات میں ایسے فضول شاہی اخراجات کا متحمل ہے۔ کیا ملت انکے اس غیر عادلانہ طرز حیات کو مزید برداشت کر سکتی ہے۔
دوسری طرف گھر( پاکستان) کے مالک ۱۴ کروڑ عوام یعنی کسان ،محنت کش،ہنر مند،دیانتدار،محنتی،جفا کش، فطرت کے شاہکار انسان۔ بھوک ،ننگ سے دوچار۔انکے اس غاصبانا،جابرانہ،ظالمانہ نظام کے شکنجوںمیں سسک سسک اور تڑپ تڑپ کرزندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔یہ لوگ صحراؤں میں بوند بوند پانی کو ترسیں۔ان کے جانور بھوک سے تڑپیں۔وہ کھلے آسمان تلے تیز و تند دھوپ سے جھلسیں،وہ خشک سالی سے گھر ،زمین اور اپنی دھرتی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔وہ اور انکے جانور مسافرت کی لا متناہی منزلیں طے کرتے،اذیتیں برداشت کرتے،مصائب سے دو چار ہوتے انہی اذیتوں میں دم توڑتے رہیں۔ایک طرف تو انکے گھروں تک موٹر وے کی سڑکوں کے جال بچھائے جائیں۔انکی زمینوں ،جاگیروں،کارخانوں،فیکٹریوں،ملوں اور محلوں تک بجلی،سوئی گیس اور ٹیلیفون کی تاریں دیکھتے ہی دیکھتے پہنچ جائیں۔دوسری طرف ۵۳ سالوں کی طویل مدت تک پینے کے پانی کی پائپ لائن تک ا ن صحراؤں میں نہ پہنچائی جاسکے۔ یہ عیش و عشرت سے دھت ظالم،غاصب،بے رحم،سفاک درندہ سسٹم کے ایوانوں ،وزیر اعظم ہاؤس،وزیر اعلیٰ ہاؤسز،گورنر ہاؤسز،وزیر ہاؤسز،مشیرہاؤسز،دنیا کے شاہی محلوں میں نمائیاں شاہی پریذیڈنسی، دنیا کے عجوبوں میں عظیم عجوبہ سپریم کورٹ ہاؤس،ججز ہاؤسز،ڈپٹی کمشنر ہاؤسز، کمشنرہاؤسز،ایس پی ہاؤسز،ڈی آئی جی ہاؤسز،آئی جی ہاؤسز،سیکٹری ہاؤسز، محتصب ہاؤسز، ملک میں پھیلے ہوئے لا تعداد گیسٹ ہاؤسز ، ریسٹ ہاؤسز، انگنت کلبوں کے شیش محلوں کے ایوانوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کریں۔یہ مغرب کی تہذیب کے پڑھے لکھے،دانشور،منتظمین،سیاستدان،جا گیر دار،سرمائے دار،نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی اور حکمران طبقہ کے اعلیٰ اخلاقی معیار،لا جواب عدل و انصاف، بہترین حقوق العباد اور انسانیت دوستی کے ظلمت کدہ کے روشن مینار ہیں۔ انہوں نے ۱۴کروڑ عوام کو ٹیکسوں اور رائج ا لوقت نظام اور سسٹم کے پھندوں سے معاشی اور معاشرتی قتل گاہ بنا رکھا ہے۔
اٹھو واقعات اور حالات کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔اس ظالم نظام اور بے رحم سسٹم۔جس نے پاکستانی مسلمانوں کے کریکٹر و کردار کو دنیا بھر کی اذیت ناک برائیوں‘ دلسوزناانصافیوں۔دل خراش عدل کشیوں ۔بھیانک پولیس مقابلوں۔ خوفناک دہشت گردیوں۔وحشت ناک قتل و غارت۔عبرتناک مستورات سے جنسی تشدد وں۔درندوں کی طرح ڈاکوں۔ وحشیوں کی طرح لوٹ مار۔ملک میں اسلحہ کی بھرمار۔سیاسی جماعتوں میں نفاق۔ معصوم ،بیگناہ عوام کو مسجدوں، بازاروں، شاہراہوں، بسوں،گاڑیوں میں بم بلاسٹوں سے تباہ کرنا،اپاہج بنانا روز مرہ کا کھیل بن چکا ہے۔ملک کے ایم پی اے،ایم این اے سینیٹرز،مشیر،وزیر،وزیر اعلیٰ،گورنر،وزیر اعظم،صدر پاکستان،انکی نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی کے اس نافذالعمل نظام اور سسٹم نے ان تمام سیاسی اور سرکاری حکمرانوں کو اپنے اپنے منصب کے مطابق ملکی وسائل،ملکی پیداوار،ملکی خزانہ ،سرکاری قوانین، کالے قوانین،سرخ قوانین،سیاہ قانونوں کے تحت ہر کسی کو اور ہر وقت لو ٹنے کا کلی اختیار حاصل ہے۔
انکی سرکاری حیثیتیں انکی سرکاری ریاستیں ہیں۔رشوت،کمیشن،ہر قسم کی کرپشن انکی آماجگاہیں ہیں۔ ملک کے کونے کونے میں انکے سرکاری ریسٹ ہاؤسز، ٹیلیفون،اعلیٰ رہائشیں،شاہی گاڑیاں، شاہی خرچ،شاہی کھانے،دفتروںمیں ہوں یا دوروں پر ہوں۔رہائش گاہوںمیں ہوں یا ریسٹ ہاؤسوں میں ہر قسم کی شاہی سہو لتیں انکے ان عہدوںکی زینت ہیں۔اس کے علاوہ زکوٰۃ ہو یا عشر کا مال،ٹیکس ہو ں یا منی بجٹوں سے چھینی ہوئی دولت۔ بیوہ ہوں یا یتیم،اپا ہج ہوں یا بیروزگار ان سے بھی بجلی،گیس،پانی کے بل اور اضافی بل لینا اور مہنگائی کی سرنجوں سے۱۴ کروڑ عوام کا معاشی خون چوسنا اور پی جانا انکی خواہش کی بھوک کو مزید بڑھاتا رہتا ہے۔پھر ملکی بنکوں میں پڑی ہوئی ا مانتیں ہضم ، بیرونی ممالک کی تمام کی تمام امدادیں غائب۔آئی ایم ایف کے اربوں ڈالر قرضے نگلنے والے تعلیم یافتہ،پڑھے لکھے،ذہین و فطین،دانشور،انگریزی دان،تفاوتی تعلیم کے شاہکار۔اعلیٰ منتظمین،اعلیٰ منصف،اقتصادی ماہرین، اعلیٰ سیاستدان، بے نظیر حکمرانوں کے نظام اور سسٹم سے نجات حاصل کرنا اب تمہاری ہی ذمہ داری ہے۔ اقتدار کی نوک پر لوٹی ہوئی ان متولیوں کی طویل عیش و عشرت تو واپس نہیں لی جا سکتی۔البتہ انکی تمام جائدادیں اس چودہ کروڑ عوام کی ملکیت ہیں۔ان سے واپس لینا ایک ہزار سال کی بے ریاعبادت سے بہتر ہے۔ملکی قرضے بھی اترایں گے اور ملک و ملت اقتصادی خوشحا لی اور کردار کی دولت سے مالا مال بھی ہو گی۔
اس مروجہ طبقاتی نظام اور سسٹم کو شریعت محمدیﷺ کا غسل دو۔ دین کی تعلیمات کو نافذالعمل کرو۔دین کے ضابطہ حیات سے رشد و ہدائت،اعلیٰ اقدار اور حسن کردار سے ملت کی کردار سازی کا فریضہ اداکرو۔ اخلاق، ادب، محبت، اخوت، ایمانداری، دیانتداری، محنت، جفاکشی، بردباری، تحمل، برداشت، سلیقہ شعاری ، رحم، فضل، کرم،عدل ،انصاف،اعتدال، مساوات،انسانیت کے عزت و احترام کے چراغ قدم قدم پر روشن کرو۔ملت کی کردار سازی کے طیب فرائض سر انجام دو۔ملت کی شیرازہ بندی کا آغاز کرو۔تعلیمی نصاب ،جدید علوم اور وقت کے تقاضوں کے مطابق دین کی روشنی میں تیار کرو۔تمام اسلامی ممالک میں اپنی اپنی زبان میں پڑھنے،پڑھانے اور سکھانے کا کام شروع کرو۔خوف خدا کی زرہ پہنو۔ پوری انسانیت کی خدمت بجا لانے میں کسی قسم کی تفاوت سے کام نہ لینا۔ انسانوں کی خدمت میں عظمت ہے۔ان کے احترام میں عزت ہے۔قومیں اچھے کریکٹر و کردار سے تیار ہوتی ہیںاور بداعمالیوں سے برباد یا اللہ ہمیں تفاوتی انگلش میڈیم تعلیمی اداروں اور انکے پبلک سروس کمیشن کے عذاب سے نجات عطا کر۔طبقاتی نظام حیات کی اذیتوںسے معاف فرما۔ہمیں دین کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق بھی بخش۔آمین اچ
ملت اسلامیہ کی طاقت کا چشمہ قرآن پاک کے عطا کردہ ضابطہ حیات میں مضمرہے۔مخلوق خدا کے دلوں میں اترنے اور ادب و محبت سے تسخیر کرنے کا نسخہ حضور نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کے خزانہ سے میسر آتا ہے۔رات کی پر نور،پر کیف،پر سوز،روشن و منور باران رحمت کو سنبھالے تنہائیاںغفلت اور جہالت میں ڈوبے حکمرانوں کو دستک دے رہی ہیں۔سوئی ہو ئی ملت کو جھنجھوڑرہی ہیں۔ہونہار ننھے منھے اور نو جوان طالبعلموں کو ذمہ داری کا احساس بخش رہی ہیں۔انکولا جواب صلاحیتیں اور بے پناہ طاقتیں دی جا چکی ہیں۔حکمرانوں اور انکے رفقا کا یہ فرض بنتا ہے۔وہ سیا ستدانوں کے غاصب ٹولہ اور اس نظام اور سسٹم کے استحصالی طبقاتی نوکر شاہی،افسر شا ہی اور منصف شاہی کے باطل علم اور غاصب پالسیوں سے بچ جائیں۔طالبعلموں کو اعتماد میں لیں۔اسلامائزیشن کے نفاذ کے عمل کو شروع کریں۔تاریخ ساز مہر کو وقت کے صفحہ پر ثبت کریں۔کوئی طاقت آپ کو اور آپکے رفقا کو میلی انکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ اللہ کی نصرت دین کی اطاعت میں مضمر ہے۔ اگر کوئی مرد حق اس عمل کو شروع کرتا ہے تو اس کا انعام جاری ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے ساتھ تعاون اور معاونت کی توفیق عطا فرماویں۔آمین