To Download or Open PDF Click the link Below

 

  اہل پا کستان مسلمانوں کو جمہوریت کا کینسر
عنایت اللہ
جب انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعلیم و تربیت،علم، عمل ،کردار ، نظام اور سسٹم سرکاری طور پر تابع فرمان جمہوریت ہو تو اسلام کیسا !

۱۔ فقیر دوست انسان پوری انسانیت کی زینت ہوتے ہیں۔وہ انسانیت کی خدمت اور ادب بجا لانے میں کبھی کوتاہی یا غفلت نہیں کرتے۔وہ ظالم کا ہاتھ روکتے ہیںاور مظلوم کو ظالم کے ظلم سے محفوظ کرتے رہتے ہیں۔وہ مظلوم سے زیادہ ظا لم کے لئے دعا گو ہوتے ہیں۔تا کہ وہ اس صحرائے فانی میںہی اپنی زندگی میں نجات اور بخشش کے چراغ جلا کر رخصت ہو۔دین کی روشنی میں عدل کے وہ محافظ ہوتے ہیں۔عدل کشی کے عمل کو نفرت کرتے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کی نورانی شمع کو روشن کرنا انکا مقصود حیات ہوتا ہے۔وہ دین کے خلاف نظام،سسٹم یا عدل و انصاف کے متضاد ضابطہ حیات کو نہ پسند کرتے ہیں اور نہ ہی قبول کرتے ہیں۔اسکے خلاف نفرت کے اظہار کو نہ کبھی مخفی رکھتے ہیں۔جب حاکم و رعایا فلاح اور سعادت کا راستہ بھول جایئں۔جب وہ خدا فراموشی اور خدا فروشی کے سیاہ گھپ اندھیروں میں گم ہو جائیں۔ جب وہ دینی نظریات،اعتقاد،اخلاق اور اپنی عملی حالت ظلمات کے صحرا میں گم کر بیٹھیں۔وہ دنیا پرستی کے جہنم میں جلتے ، سلگتے اور بھسم ہوتے چلے جائیں اور انکی نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہ دے۔ تواس وقت خالق کمال کی بارگاہ میں بلائے نا گہانی ٹالنے کی دعاؤں کی تاثیریں طلب کرنے کا عمل جاری کر لیتے ہیں۔ صدائیں اور ندائیں بارگاہ الٰہی میں پیش کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ تو اپنے محبوبﷺ کی پیاری امت اور شاہکار مخلوق پر حسنت جمیع خصالہی کے صدقے رحم فرما۔ ان کو خواب غفلت سے بیدار فرما۔یا اللہ تو ان کو دین کی دوری کی سزا میں مبتلا نہ رکھ۔امین
۲۔ پاکستان چودہ کروڑمسلمانوں کا ملک ہے۔دستور مقدس کا نفاذاس نظریاتی ریاست کے مسلمانوں کا ایک اہم بنیادی فرض اور حق ہے۔ جس کی روشنی میںان کو اور ان کی آنے والی نسلوں کو اس طیب ضابطہ حیات کے مقدس علم،عمل اور کردار کی تربیت سے ان کو سنوار ا جا سکے۔ دنیا میں ایک شاہکار اسلامی تشخص کو روشناس کرانا ہر مسلمان کا فرض اولین ہے۔ ۱۹۴۷ ء سے لیکر آج تک ملک و ملت کے ساتھ سیاستدانوں اور حکمرانوں کا ظالمانہ دین کش اور عدل کش عمل جاری رہاہے۔ان میںسے بیشتر ملک توڑنے،ملکی خزانہ لوٹنے،ملکی وسائل اقتدار کی نوک پر ہضم کرنے اور چودہ کروڑ مسلمانوں کا معاشی قتل کرنے،پوری ملت کی معاشی صحت کو کینسر کی طرح تباہ کرنے اور ملت اسلامیہ کے نظریات علم،عمل اور کردار کو جمہوریت کی دیمک بن کر چاٹنے کے مجرم ہیں۔ ان میںسے بیشتر ملکی خزانہ، بیشتر شراب و زنا، بیشتر قتل و غارت اور ملک توڑنے کے جرائم کے مرتکب ہوتے رہے ۔ انکے علاوہ کچھ نے دین کے نام پر مساجد بنا ئیں اور ان میں جمہوریت کے مذہب کے کفر کے سجدے بھی جاری رکھے۔ چند روزہ زندگی گذار کر وہ فناہ کی منزل کی طرف چل دےئے اور باقی کیلئے ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے جو ملت کے معاشی اور معاشرتی جسد کوکینسر کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم اور انکا حشر نشر ہونے سے پہلے انکو توبہ کی توفیق عطا فرماویں۔ امین۔ ان سب نے مل کر اس عظیم امت کو امت مرحومہ بنا کر رکھ دیاہوا ہے۔
۳۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک کے حکمران ۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فیصد مزدوروں، محنت کشوں،ہنر مندوں کے حقوق اور ذرائع،وسائل، ہر قسم کی پیداوار، دولت ،خزانہ اور انکی دن رات کی متواترو مسلسل،نسل در نسل سخت محنت کا ثمر اقتدار کی نوک پر چھینتے چلے آرہے ہیں۔وہ اور انکی اولادیں ظلم کی حد تک تنگ دستی، غربت، افلاس، بیماری،بیروزگاری کی اذیتوںمیں مبتلارہ کر خود کشیاںاور خودسوزیاں کرتی چلی آ رہی ہیں۔
۴۔ کیا کسان صحراؤں،بیابانوں،ریگستانوں میں خشک سالی کے دوران پانی اور خوراک کو تلاش کرتے،نقل مکانی اور ہجرت کرتے، وہ اور انکے بچے اور جانور بھوک ، پیاس،ننگ سے تڑپتے،سسکتے اور سورج کی اذیتناک تپش سے دم توڑتے چلے نہیں آرہے۔کیا حکمرانوں نے پانی کی ایک پائپ لائن تک انکے اور انکے جانوروں کے لئے ان ریگستانوں یا دشوار گذار میدانوں تک کبھی پہنچانے کی آج تک کوشش کی ہے۔جبکہ حکمران انکے پیدا کردہ وسائل ،دولت، خزانہ اور ان کے معاشی خون سے تیار کردہ سرکاری شاہی محلوںمیںشاہی خوراک ، شاہی مشروبات،شاہی اخراجات سے عیش و عشرت کا کھیل کھیلتے آرہے ہیں۔
۵۔ کیا کسانوں،مزدوروں،ہنرمندوںکے پیدا کردہ وسائل، دولت اورخزانہ سے ملک کی تمام سرکاری شاہی ایر کنڈیشن بلڈنگیں،سپریم کورٹ ہاؤس،وزیر اعظم ہاؤس،صدر ہاؤس،پارلیمنٹ ہاؤسز،وزیر اعلیٰ ہاؤسز،گورنر ہاؤسز،کنوینشن ہالز جیسے ملوکیتی فرعونی شاہکار محل تیار ہوتے چلے نہیں آرہے ۔کیا وہ کسانوں اور محنت کشوںکی ملکیت نہیںہیں۔کیا ان شاہی محلوں اور انکو استعمال کرنے والے ان تمام بد کردار، غاصب، ظالم اور ملک توڑنے والے مجرم حکمرانوں کے اخراجات یہی جمہوریت کے مذہب کے مظلوم اور مقید عوام برداشت نہیں کرتے چلے آرہے۔ کیا ایسا کرنا ملک کے اعلیٰ ایوانوں پر مسلط نمائندگان یا حکمرانوں کو زیب دیتا ہے۔
۶۔ کیا ملک کے کسی دیہاتی علاقہ میں کوئی سرکاری انگلش میڈیم سکول، کالج، کوئی ٹیکنیکل کالج،کوئی میڈیکل کالج،کوئی سائنس کالج،کوئی کمپیوٹر کالج اور کوئی یونیورسٹی یا کوئی ٹی بی سنٹر،دل، گردوں، آنکھوں، شوگر، کینسر، ہائی بلڈ پریشریا یرقان کا کوئی ہسپتال پورے ملک میں موجود ہے تو بتا دیں۔ یا انکے پاس ایچی سن کالج یا ان جیسے کالجوںیا پمز جیسے شاہی ہسپتال کسی دیہاتی علاقوں میں موجود ہے۔ یا وہ معا شی مقتولہ ۹۹ فیصد کسانوں اور محنت کشوں پر مشمل عوام اور انکی نسلیں شہروں میں آکر انکے شاہی اخراجات برداشت کرنے کی قوت یا صلاحیت رکھتے ہیں۔کیا ان ظالمو ں نے ملک میں ۷۰ فیصد کسانوں ۲۹ فیصد مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں پر تعلیم،علاج معالجہ، شاہی سرکاری ملازمتوں، شاہی سرکاری تنخواہوں، شاہی سرکاری سہولتوںکے تمام شاہی دروازے بند اور عدل و انصاف کا گلہ گھونٹ نہیں رکھا ۔ کیاانکی امانتوں کو یہ بے رحم رہزن رہنما زبردستی نگلتے چلے نہیں جا رہے۔کیا الیکشنوں کے بعد حکومتوں کو تشکیل دینے کیلئے رشوتوں میں وزارتوں اورملک کے خزانہ کا منہ ان سیاسی بھیڑ یوں کیلئے کھل نہیں چکا۔ کیا ملک میں ہارس ٹریڈنگ جاری نہیں۔ کیا جمہوریت کے عمل سے ملت کی وحدت بیشمار سیاسی جماعتوں اور منشوروں میں بکھر نہیں چکی۔کیا ملک اس عمل سے تباہی کے طرف گامزن نہیں اور یہ سیاستدان تباہی کو دستک نہیں دے رہے۔


۷۔ کیا ان اعلیٰ شاہی تعلیمی اداروں یا ہسپتالوں پر ان حکمرانوں کی اجارہ داری قائم نہیںہے۔انکی اولاد یںان تمام تعلیمی اداروںکے ذریعہ وہ ملک کی تمام انتظامیہ، عدلیہ اور ملک کے تمام سرکاری اور غیرسرکاری اداروں پر افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کے روپ میں ملک کا تمام کنٹرول،تمام خزانہ،تمام وسائل،تمام دولت، اور تمام ملکی املاک اپنے تصرف اور قبضہ میں لیتی نہیں چلی آرہی۔کیا ۹۹۹ فیصد میں کوئی فرد انکی اس اجارہ داری کو توڑسکتا ہے اور انکی انتظامیہ اور عدلیہ کا ممبر بن سکتا ہے۔کیا ملک ان اعلیٰ اداروں کے سیا سی نمائندگان اور انکے عمل کندگان یعنی افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کی ملکیت نہیں بن چکا۔ اس عدل کشی کے عمل سے ملک اور ملت بکھرتی نہیں جا رہی ۔جبکہ دشمن شب خون مارنے کی تیاری اور تاک میںہے۔ ایسا نہ ہو کہ دشمن ہمارے بچوں سے لیکر بوڑھوںتک قتل کرنے اور مستورات کی بد ترین بے حرمتی اور انکی عصمت کو تار تار کرتے پھریں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرماویں۔ ہمیں معاف فرماویں۔ ہمیں نجات کا راستہ دکھائیں۔ امین
۸۔ کیا یہ بار ہ چودہ سو ایم پی اے،ایم این اے۔سینٹ کے اعلیٰ ایوانوں کے ممبران،مشیر، سفیر ،وزیر ، وزیر اعلیٰ،گورنر،وزیر اعظم،صدر پاکستان چودہ کروڑ مسلمانوں کے سرکاری ملازم، نوکر، خادم، چوکیدار اور انکے خزانہ کے محافظ اور امین ہیں یا بد کردار ڈاکو یا بے حیا رہزن یا رشوتوںمیںوزارتیںلینے دینے کے قومی مجرم ہیں۔کیا وہ کسانوں، محنت کشوں کی دولت سے ہولی کھیلتے چلے نہیں آرہے ۔کیا یہ اسلام کے نام پر ایک بد نما دھبہ نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ انکو راہ ہدایت عطا فرماویں۔ امین۔
۹۔ کیا ملک کا خزانہ،دولت،وسائل اور سرکاری املاک کی ا ما نتوں کو انہوںنے اپنی جاگیروں،کارخانوں،ملوں ،فیکٹریوں،صنعتوں،رائے ونڈ ہاؤسوں، سرے محلوں،شاہی پیلسوں،میں سیاسی بالا دستی اور قانونی جرائم سے اپنی ملکیتوں میں بدل نہیں لیا۔کیا انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس ملک ۳۸۔ ارب ڈالر میں گروی رکھ کر ۹۲۔ ارب ڈالر غیر ملکی بنکوں میں جمع نہیں کروائے ہوئے۔ملک کے قوانین۹۹فیصد عوام کو صرف کرش کرنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔کیا آپ اب بھی توبہ کرنا چاہتے ہیں یا فطرت کے عبرتناک گجر کی آواز کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ملت اسلامیہ کو توبہ کی توفیق عطا فرماویں۔امین۔
۱۰۔ کیا سیاستدان ملک میں جمہوریت کے مذہب کو سرکاری طور پر دین کے خلاف نافذ اور مسلط کرکے اسکے علم۔عمل اور کردار سے چودہ کروڑ مسلمانوں کا بے دین تشخص تیار نہیں کئے جا رہے۔
۱۱۔ کیا جمہوریت اور مغربی تہذیب کو بتدریج آگے بڑھاتے ہوئے، اکاون فیصد مستورات کی آبادی اور مستورات کے حقوق کے تحفظ کی بنا پر ملکی خزانہ اور اسلام کے معاشرتی نظام کے بنیادی اصول (پردہ ) پر ایک اور خوفناک شب خون مارا ہے۔مخلوط معاشرہ کو پروان چڑھانے کی غرض سے حکمرانوں نے ۶۸۔ ایم این اے کی سیٹیں مستورات کیلئے قومی اسمبلی کے اعلیٰ ایوان میں مختص کی ہیں۔اسی طرح چاروں صوبوں اور سینٹ کے ایوانوںمیں بھی انکو بھر پور نمائندگی دی گئی ہے ۔ دنیا کے کسی لیبرل ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں اتنی بڑی تعداد میں مستورات کو نمائندگی حاصل نہیں۔ مستورات کے حقوق کے تحفظ اور مخلوط معاشرہ تیار اور پروان چڑھانے کیلئے ایک خاصی تعداد میںاعلیٰ ایوانوں میںبطورایم پی اے،ایم این اے، سینیٹروں، مشیروں، وزیروں اور سفیروں کی تعیناتی کے دروازے مستورات کیلئے کھو ل دئے گئے ہیں۔ واقعہ ہی یہ سات آٹھ ہزار جابر،ظالم،بے رحم جاگیر دار ،سرما یادار، سیاستدان اور حکمران اپنی ان مستورات کے حقوق غصب کر کے زبردست اور ناقابل معافی حد تک انکے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے اوراس غیر جمہور ی جرم کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح ان
۵۱ فیصد مستورات کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے تمام دروازے ان جاگیر داروں،سرمائے داروں، سیاستدانوں اور حکمرانوں کے گھروں میں اب بھی جا کھلے ہیں۔ ان صاحب اقتدار سیاستدانوں نے اپنی بیٹیوں، بہنوں ، ماؤں اور بیویوں کو انگلی لگا کر اسلامی حدود و قیود کو تہہ و تیغ کرتے ہوئے جمہوریت کے مذہب یعنی مخلوط معاشرے کی مرد و زن کی با جماعت دین کش،تباہ کن اور برباد کرنے والی بے حیا،بد کردار معاشی اور معاشرتی دہشتگردی کی نماز ادا کرنے کیلئے اعلیٰ ایوانوں تک اپنی مستورات کو از خود لے پہنچے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے دین کو محفوظ فرماویں۔امین
۱۲۔ ان مغرب پرست بے دین سیاستدان اور منافق حکمران اس مخلوط معاشرے کے منطقی انجام سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ اس مخلوط معاشرے کی پالیسی اپنانے سے ماں،بہن ،بیٹی، بیوی کودین کی تعلیمات کے خلاف بے حیائی، بد کاری، بد کرداری، اسمبلی ہاؤسز، کلبوںمیںحقوق نسواں کی حفاظتوں کے پروگراموں میں مخلوط شمولیت، سیاسی گٹھ جوڑ میں مستورات کا اہم رول، ڈانس ہالوں میں فنکاروں کے مخلوط افتتاح،فرینڈ شپ کے تعلق استوار کرنے کے مخلوط معاشرے کو مواقع کی فراہمی۔اس مخلوط معاشرے سے ناجائز بچے پیدا کرنے کا فطرتی عمل۔ ان بچوںکو چائلڈ ہاؤسوں کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت اور ان وکٹورین چائلڈوں کی پرورش کرنے کا بجٹ۔ حقوق نسواں کے تحفظ کے نام پر مستورات کو پبلک پراپرٹی بنانے کا مغربی طرز عمل ملک میں شروع کرکے دین کے خلاف ایک عبرتناک سازش،بغاوت اور ملکی خزانہ پر ایک خوفناک ڈاکہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔مسلمان مستورات جو گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر ملی معماروں کے فرائض سر انجام دیتی ہیں ، اسلام نے عورت کے نان نفقہ کی ذمہ د اری مرد کے سپرد کر رکھی ہے۔ مستورات گھر کے فرائض ادا کرتی ہے۔ ان باپردہ،باحیا،نیک دل اور صالح فطرت، پاکدامن، ماں، بہن، بیٹیوں، بیویوں کو دفتروں، کلبوں، فیکٹریوں ،کارخانوں،اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا عمل مغرب پرستی،ہوس پرستی،نفس پرستی،جنس پرستی،زنا،بد کاری کی آگ میں دھکیلنے اور بھڑکانے کے مترادف ہے۔ جبکہ ملک کے کروڑوں غریب عوام پہلے ہی بیروز گاری اور تنگدستی کے عذاب کا بری طرح شکار ہیں۔ ان اعلیٰ ایوانوں میں مستورات کی اتنی بڑی نمائندگی ملکی خزانہ پر ایک بہت بڑا ڈاکہ ہے۔اس سے ان شاہی خاندانوں کی ملک پر اجارہ داری اور گرفت اور مضبوط ہوگی۔اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے۔ اب انکے مرد و زن ملکر ملک کے وسائل،دولت،خزانہ،ملکی اور غیر ملکی قرضے لوٹیںگے۔دین کی روح کو بے حیائی کی تلوار سے تباہ و برباد کریں گے۔ اسکے علاوہ انکے ساتھ انکی لا تعداداولادیں افسر شاہی،نوکرشاہی کے روپ میں ملکی خزانہ کو چمٹ جائیں گی۔ اور یہ سب ملکر عیش و عشرت کی بے حیا زندگی گذاریں گے۔اللہ تعالیٰ ان کو تباہ ہونے سے بچائیں۔امین
۱۳۔ ان ملکی ظالم، جابر ،بے رحم حکومتی اجارہ داروں کے اس عمل سے ۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فیصد مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مند وں اور عوام ا لناس کی خود کشیوں،خود سوزیوں اور بیروز گاروں کی تعداد میں بیشمار اضافہ اور منگائی،منی بجٹوں اور ٹیکسوں کے کئی بلٹن ان درندوں اور انکی مستورات کو پالنے کیلئے جاری ہونگے۔ملک کے اعلیٰ ایوانوں کے نمائندگان کی تعداد ملکی معیثت،وسائل،دولت ، خزانہ اور ملکی املاک کو کینسر کی طرح چمٹ چکی ہے ۔ملت کی وحدت کومختلف منشوروں اور۷۸ سیاسی جماعتوں میں بکھیر رکھا ہے۔ اقتدار اور مال کی رشوتیں ملک میں بانٹی جارہی ہیں۔ یہ ظلم اور جبر کی انتہا کو چھو چکے ہیں ۔انکا ہاتھ روکنا ہر اہل وطن مسلمان ،کسان،مزدور، محنت کش، طالبعلموں اور ہنر
مندوں کا فرض بن چکا ہے۔وہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے ان سیاستدانوں کو ملک کا خزانہ لوٹنے اور اس عدل کش، اسلام کش،ملکی خزانہ کی بندر بانٹ کے نظام کیلئے الیکشن میں ووٹ دئے تھے یا ملک میں اسلام کے نفاذ اور ملکی خزانہ کو محفوظ کرنے کیلئے۔
۱۴۔ ملت کے اسلامی نظریات،علم،عمل اور کردار کو سرکاری طور پر ملکی سطح پر ۱۹۴۷ ء سے یہ بد نصیب اور بد بخت بے دین شاہی ٹولہ عوام الناس کی مرضی اور خواہش کے خلاف منسوخ کرتا چلا آرہا ہے۔چودہ کروڑ مسلمانوں کو ایک منافق کی عملی زندگی گذارنے کیلئے جمہوریت کے مذہب کا ملی تشخص بنا دیاگیاہے۔ پوری ملت کو اسکے علم ،عمل اور کردار کی نماز سکولوں، کالجوں، اکیڈمیوں،یونیورسٹیوں، تھانے، کچہریوں، ٹیکس خانوں اور ملک کے تما م محکموں اور زندگی کے ہر شعبہ میں ہر وقت سرکاری طور پر ادا کرنے کا پابند بنا رکھا ہے۔ ملک میں ۹۵ فیصد کرپٹ افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کی تمام انتظامیہ اور عدلیہ کے اعلیٰ منصبوں پر فائز عمل کنندگان کی امامت میں چودہ کروڑ مسلمان ہر وقت کفر کے سجدے اور سجود ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔اسکے علاوہ تمام سرکاری غیر سرکاری کارو بار میں صبح و شام جمہوریت کے بے دین مذہب کے علم، عمل اور کردار کی نماز ادا کرنے میں پوری ملت مصروف ہے۔ ہمارا مذہب جمہوریت کے ملک میں اعلیٰ ایوانوں کے نمائندگان یعنی مرد و زن کی سرکاری طور پر رائج کردہ قوانین و ضوابط کی اطاعت، اطباعت اور فرمانبرداری بن چکا ہے۔ہمارے سرکاری امام اعلیٰ ایوانوں کے عمل کنندگان، افسر شاہی،نوکر شاہی، منصف شاہی کے ارکان۔ ہمارا سرکاری مذہبی نصاب،عیسائیت کے دانشوروں کا جمہوری نظام، یہودیت کے سکالروں کا سودی یہودی معاشی نظام،ہندہ ازم کے مدبروں کا طبقاتی نظام۔ ہماری تعلیم و تربیت۔ جمہوریت کا تعلیمی نصاب اور ہماری تربیت گاہیں اس کے تعلیمی ادارے یعنی سکولز، کالجز، اور سرکاری اکیڈمیا ں،یونیورسٹیاں ۔ خدا را ذرا سوچیں۱۔ ہماری ملی زندگی دین کے خلاف کافرانہ تہذیب و تمدن میں ڈھلتی جا رہی ہے۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی تا بع فرمان الٰہی نہیں ہے۔ہم چودہ کروڑمسلمان الفاظ کی نماز مسجد شریف میں پڑھتے ہیں۔ سرکاری طور پر علم، عمل اور کردار دین کے خلاف جمہوریت کے مذہب کے ایوانوں کے نمائندگان کے قوانین اور ضوابط کا ادا کرتے ہیں۔ ان حالات میں دین کی عبادات اور نماز کیسی۔پوری ملت اس منافقت کے عذاب میں ان ظالموں نے دھکیل رکھی ہے۔وہ تو اعلیٰ ایوانوں کی بالا دستی کی بنیاد پر ملک کا خزانہ، دولت،وسائل اور تمام ملکی املاک کی امانتوں کواپنی عیش و عشرت کی زندگی، جاگیروں، ملوں، کارخانوں، فیکٹریوں، صنعتوں، رائیونڈہاؤسوں، سرے محلوں، شاہی پیلسوں، کو قانون سازی کے جرائم سے اپنی ملکیتوں میں بدلتے چلے آرہے ہیںاور دین کے خلاف اپنی مستورات کو حکومتی ایوانوں میںلا کر جہاں انہوں نے دین کے خلاف ایک کھلی جنگ کا اغاز کردیا ہے وہاں انہوں نے ملکی خزانہ چاٹنے کا عمل اعلٰی سطح پر جاری کر دیا ہے۔ؒٓؒمخلوط معا شرہ تیار کرنے کا دین کش عمل کرنے کے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ مسلمان کے روپ میں عیسائیت،یہودیت اور ہندو ازم کے ایجنٹوں کے فرائض ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست پر لائے اور پوری ملت کو منافقت کے عذاب سے بچائے اور دستور مقدس کے نفاذ کی تو فیق عطا فرماوے۔امین۔
۱۵۔ کیاقومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اور سینٹ کے ممبران ملت کو بتانا پسند فرماویںگے کہ وہ بھی اپنے سابقہ حکمرانوں کی طرح دین کش اور غیر اسلامی رائج ا لوقت جمہوریت کا ضابطہ حیات اور انکی پالیسیوں کو سرکاری طور پر نافذالعمل رکھنا چاہتے
ہیں اور وزارتوں کی رشوتوں سے وزیروں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔
۱۶۔ کیا وہ عدل کش نادر شاہی ،شاہی تنخواہوں،شاہی سرکاری محلوں،شاہی سرکاری دفتروں اور وال ٹو وا ل قا لینوں اورقیمتی ڈیکور یشنوں اور شاہی سرکاری گاڑیوں،شاہی سرکاری سہولتوں اور ملک کا تمام سرکاری بجٹ اس ظالمانہ عدل کش تفاوتی نظام کے تحت ہضم کرنے اور غیر ضروری شاہی اخراجات کاتصرف کا کلچر اپنانا چاہتے ہیں۔کیا اب بھی وزارتوں اور ملکی خزانہ لوٹنے کی سیاسی جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ جبکہ ہمارے دشمن ہمیں تباہ کرنے کیلئے ہما رے سر پر کھڑے ہیں۔اللہ نہ کرے ہماری آنکھ اس وقت کھلے جب اس ملک پر کوئی ظالم قوم مسلط ہو چکی ہو۔ ۱۷۔ کیا وہ ایک کسان ،ایک مزدور،ایک ہنر مند کی سی سادہ زندگی اور قلیل ضروریات پر اکتفا کرینگے۔ ۱۸۔ کیا آپ مستورات کے حقوق کے تحفظ کے نام پرملی خزانہ اور دین کے بنیادی اصول پر شب خون مارنے کے عمل کوجاری رکھنا چاہتے ہیں یا ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۹۔ اگر آپ دین کے نفاذ کیلئے مخلص ہیںتو ملک میں موجودہ ناظموں کی جگہ شوریٰ کے نظام کے تحت تمام علاقوں سے شوریٰ کے با کردار، قابل اعتماد،دینی اخلاق و کردار کی سوجھ بوجھ،نیک صفات اور حضور نبی کریمﷺ کے قریب ترین سادہ،سلیس اور مختصر ضروریات پر مشتمل زندگی والے با کردار افراد کا چناؤ دین کی روشنی میں لا کر مجلس شوریٰ کا نظام قائم کریں۔ تمام علاقوں کا مرکزی آفیس علاقہ کی جامع مسجد قرار دیں۔شوریٰ کے ممبران کا جرگہ کا انتخاب دین کی روشنی میں لائیں۔ علاقہ کے تمام مقدمات اور جرائم کا فیصلہ اپنی قومی زبان میں مسجد شریف کے صحن میں بیٹھ کر کریں۔جرائم کا قلع قمع قلیل سے قلیل وقت میں ہوتا جائیگا۔ اسطرح عدل و انصاف اور ملکی خزانہ کو چمٹے ہوئے انتظامیہ اور منصف شاہی کے کینسروں سے نجات ہو گی۔ انصاف اور انصاف کے حصول کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہونگے۔ انتظامیہ کی خود کار نظام کے تحت تطہیر ہو جائیگی۔ ملک کا مکمل بجٹ اور وقت کے ضائع ہونے، سرکاری محکموں اور عدالتوں کے نسل در نسل کے نہ ختم ہونے والے چکروں کا دور ختم ہوگا۔ ملت کو گمراہ کرنے کا فساد بھی ختم ہوگا۔ نوجوانوں کا رخ کھیتی باری اور کارخانوں، فیکٹریوں، ملوں، صنعتوں اور تجارت کی طرف مبذول کرنا ہو گا۔ ملت ایک ہولناک سانح سے نجات پائے گی۔انصاف نہ بکے گا، نہ رشوت ہو گی نہ ہی کرپشن۔ حکومتی سطح پر اس کار خیر کو سر انجام دینا ایک نیک شگون اور تاریخ ساز فیصلہ ہوگا۔ملت کی کردار سازی کیلئے دین کی روشنی میں ایک تعلیمی نصاب مقرر کرنے سے ملک کی تما م بیماریاں از خود ختم ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ آپکو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔تا کہ ملک و ملت سلامتی کا راستہ ا ختیار کر سکیں ۔امین۔ثم امین