To Download or Open PDF Click the link Below

 

 

پاکستان ایک دینی ریاست ہے ۔ اسلام اس کا دین ہے ۔ اردو اس کی قومی زبان ہے ۔ ملت کا المیہ۔ سرکاری مذہب جمہوریت۔ سرکاری زبان انگریزی ۔ قومی تشخص کفر نگری۔ ملکی نظام ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ ۔ معاشیات سودی یہودی معاشی نظام ۔ معاشرہ ۔ برہمن ۔ کھتری ۔ کھشتری اور شودر ۔

عنایت اللہ
۱۔ ۱۹۴۷ ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں نے ہندوؤں سے یہ الگ ریاست حاصل کی۔ تاکہ مسلمان اپنے مذہبی نظریات کے مطابق اسلامی ضابطۂ حیات کی روشنی میں زندگی گذار سکیں۔ ۱۸۵۷ ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک یہ ملک انگریزوں کی غلامی میں رہا۔ انہوں نے اس مفتوحہ ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ظالمانہ قانون اور غاصبانہ ضوابط نافذ کئے۔ انگریزوں نے ہند و پاک کے عوام کی نفسیات کو پرکھا اور سمجھا۔ اس کے مطابق انہوں نے ملک میں غداروں اور اپنے مفاد کو حاصل کرنے کے لئے اپنے پسندیدہ لوگوں کا پورے ہندوستان میں سے چناؤ کیا۔ ان کو جاگیریں عطا کیں۔اور و ظا ئف مقر ر کئے۔ ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی مدد و معاونت سے ہندوستان کی سر زمین پر ایک صدی تک حکومت کرتے رہے۔ انہوں نے ایک مفتوحہ قوم پر حکومت کرنے اورتسلط قائم رکھنے کے لئے جو تدابیر اور طریقہ کار اختیار کیے۔ اس کی اختصاری تفصیل درج ذیل ہے۔
۱۔ انہوں نے طبقاتی ، انگلش میڈیم اور اردو میڈیم تعلیمی ادارے ملک میں قائم کئے۔ جس سے وہ افسر شاہی ، منصف شاہی اور نوکر شاہی کے ارکان تیار کرتے۔جو ان کے حکومتی نظام کو ان کی مرضی اور خواہش کے عین مطابق چلاتے۔
۲۔ انہوں نے ملک پرگرفت مضبوط رکھنے کے لئے ظالم انتظامیہ اور غاصب عدلیہ کے سرکاری اداروں اور محکموں کو قائم کیا۔جو آج تک انہی بنیادوں پر کام کر تے چلے آ رہے ہیں۔
۳۔ ہندوستان کی عوام سے اس کے وسائل اور خزانہ لوٹنے کے لئے مخصوص سودی یہودی معاشی نظام نافذ کیا۔ جو آج تک قائم ہے۔طبقاتی تعلیمی ادارے آج بھی ملک میں اس نظام کو چلانے کے لئے معاشیات کے سکالر تیار کرتے چلے آرہے ہیں۔
۴۔ ملک پر کنٹرول حاصل کرنے اور دولت چھیننے کے لئے تھانے ، کچہریوں اور عدالتوں کاظالمانہ نظام رائج کیا۔اس نظام کو چلانے کے لئے ملک کے تمام سکول،کا لجز اور یونیورسٹیاں اکیڈمیاں آج بھی اس نظام کے مدبر تیار کرتی چلی آ رہی ہیں۔
۵۔ مفتوحہ ملک پر گرفت مضبوط رکھنے کے لئے انگلش میڈیم اور اردو میڈیم پر مشتمل طبقاتی تعلیمی نصاب مرتب کیا۔ انگریزی زبان کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا۔
۶۔ انگریزی زبان کو بطور سرکاری زبان مقرر کیا۔ عوام الناس کو گویائی سماعت اور ذہنی صلاحیتوں سے مفلوج کر دیا۔
۷۔ کالے قانون نافذ کئے۔ عوام کو کالی انتظامیہ اور کالی عدلیہ کے ظالم سکالروں، بے رحم دانشوروں، غدار مدبروں اور بے ضمیر افسروں ، غاصب منصفوں اور انسانیت سوز سرکاری کارندوں کی گرفت میں دے دیا۔
۸۔ اسلامی اقداراور اخلاق و کردارکومنسوخ کیا اور اسلامی نظریات کے متضاد نظریات پر مشتمل معاشرہ تیارکیا۔
۹۔ ایک صدی تک انگریز ہندوستان کی عوام کو طبقاتی زندگی ، سودی معاشیات اور مغربی معاشرے کی اقدار اور نظریات میں ڈھالتا رہا۔عوام الناس کا شعور بڑی حد تک ان کے رنگ میں رنگا گیا۔ انگریزوں نے ملک کو ۱۹۴۷ ء میں آزاد کر دیا۔ انگریز یہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن ہمیں ورثہ میں جاگیردار طبقہ اور سرمایہ دارطبقہ، طبقاتی تعلیمی ادارے، طبقاتی تعلیمی نظام ، طبقاتی تعلیمی نصاب، طبقاتی افسر شاہی ، طبقاتی منصف شاہی، طبقاتی نوکر شاہی، طبقاتی ظالم انتطامیہ، طبقاتی بد کردار غا صب عدلیہ اور وہی مغرب کا ۱۸۵۷ ء سے قائم کیا ہوا انتظامی ڈھانچہ ،وہی ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ، وہی تھانے، وہی عدالتی طریقہ کار، وہی دفاتر، وہی ڈپٹی کمشنر، وہی ایس پی، وہی مفتوحہ قوم کو روندنے والے کالے قانون اور ظالم کارندے، وہی جھوٹے مقدمے، وہی جھوٹی ایف آئی آرکے مطابق کیسوں کی سما عت ، وہی انصاف کرنے والے سیاہ ضمیر منصف، وہی راشی نظام، وہی سفارشی سسٹم، وہی طبقاتی معاشرہ، وہی بھوکے ننگے کسان، وہی تڑپتے سسکتے مزدور، وہی مظلوم محنت کش، ہنر مند اور وہی چودہ کروڑ بے چارے ،بے یارومددگار ، مسکین عوام، وہی انگریز کے پالے ہوئے جاگیردار ،وہی انگریز کے پروردہ سرمایہ دار، وہی ایم پی اے، ایم این اے،سینیٹر ، وہی وزیر، مشیر، سفیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم ، وہی صدر پاکستان، وہی سپیکر، چیئرمین سینٹ۔ وہی سیاست دان، وہی حکمران، وہی اپوزیشن، وہی مارشل لا، وہی فوجی حکومت، وہی تفاوتی وزیر اعظم ہاؤس، وہی گورنر ہاؤس ، وہی وزیر اعلیٰ ہاؤس، وہی وزیرستان ہاؤسز، مشیر ہاؤ سز، سفیر ہاؤسز ،وہی صدارتی محل، وہی ملک کی بددیانت ، بے حیا، بے شرم، ظالم اور غاصب سپریم کورٹ بلڈنگ۔ملک میں انگریز کا مسلط کردہ نظام اور سسٹم عوام پر اپنی گرفت وقت کے ساتھ مضبوط کرتا گیا۔
۱۰۔ وہی معاشی سودی یہودی نظا م ،وہی سود کی لعنت ،وہی سودی قرضے ،وہی معاشی ڈاکے، وہی رہزن حکمران ، وہی سو فیصد صوبائی ، قومی اسمبلی ممبران اور سینٹ ممبران کی تنخواہوںمیں اضافے کی نوید۔ وہی وزیروں، مشیروں ، سفیروں ،وزیر اعلیٰ ، گورنروں ، وزیراعظم ، صدر پاکستان کے ملک اور ملت کے وسائل اور خزانے پر ڈاکے، وہی ملک کے دہشتگرد، وہی چودہ کروڑ عوام کے رہزن ، وہی جمہوریت کو چلانے والے طبقا تی انگلش میڈیم اداروں کے سکالر، وہی سودی یہودی معیشت کے نامور مدبر ، وہی طبقاتی نظام کے دانشور ،وہی طبقاتی تعلیمی نصاب، وہی طبقاتی تعلیمی ادارے، وہی طبقاتی معاشرہ ،وہی انگریزکے دور کے جاگیر دار، وہی سرمایہ دار، وہی چھ سات ہزار افراد پر مشتمل جمہوریت کا نظام یعنی الیکشن میں حصہ لینے والے بھیڑیئے۔ مغربی دانشوروں کی تیار کردہ جمہوریت کے نظا م حکومت کے ارکان، وہی حکمران۔سچ ہے کہ انگریز ہمیں آزادی دے کر چلا گیا ہے۔ لیکن اس ملک کی سپرداری اور حکومت ان ظالم بے رحم جاگیرداروں، سرمائے داروں اور پاکستان کو دو لخت کرنے والے غداروں، ملکی راز اور سکھوں کی لسٹیں سپلائی کرنے والے سیاست دانوں، حکمرانوں کو سونپ گیا۔اسکے علاوہ وہ اپنے طبقاتی تعلیمی نظام کے پروردہ مدبروں، مفکروں،دانشوروںاور شاہکاروں کی افواج اور نظام بھی انکے سپرد کر گئے۔جنہوں نے ان کے رائج کردہ نظام اور سسٹم اور اداروں، محکموں، تھانے، کچہریوں، عدلیہ، انتظامیہ کو اسی طرح قائم رکھا۔ رشوت ،کرپشن،کمیشن اور سفارش کی ملک میں حکومت قائم کی۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک اس نظام اور سسٹم کی معاشرے میں تربیت جاری چلی آ رہی ہے ۔ اب یہ کرپٹ سسٹم معاشرے کو کینسر کی طرح چمٹ چکا ہے ۔ اقوام عالم میں جو پاکستانی عوام کی پہچان بن چکا ہے۔
۱۱۔ اسکے علاوہ ملک کا نظم و نسق چلانے کے لئے زکوۃ اور عشر کے علاوہ ا ن گنت ٹیکسوں، بیشمارمنی بجٹوں، بجلی، گیس ، تیل اور ضروریا ت زندگی کی قیمتوں کے بے پناہ اضافوں کا سلسلہ جاری کررکھا ہے۔ مظلوم، محکوم ۷۰ فیصد کسان اور غلام۲۹ فیصد مزدور،محنت کش،ہنر مند اور بے بس عوام ا لناس پر نا کردہ گناہ کا معاشی عذاب مسلط کر رکھا ہے۔ چودہ کروڑ عوام پرظلم و بربریت کی سیاہ پالیسیاںاور مہنگائی کے اندھے قوانین کے نفاذ کو کون روکے گا۔ بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ ۹۹ فیصد عوام الناس کا خون چوس کرملک کے ایک فیصدسیاستدانوں،حکمرانوں،افسر شاہی ، منصف شاہی اور نوکر شاہی کی شاہی سہولتوں،شاہی تنخواہوں ،لٹیروں، راہزنوں اور ڈاکوؤں کو قانونی اور عدالتی تحفظ فراہم کرنے سے کون روکے گا۔عدل و انصاف ناپید ہو چکا ہے۔۱۴ کروڑ عوام کو ان کالے قوانین ،رشوت، سفارش، کرپشن کی آفتوں سے نجات کون دلائے گا۔ملک میں اخلاق و کردار کی تباہی کو کون روکے گا۔ اپاہج اور مفلوج معاشرے کو نئی زندگی کون بخشے گا۔ ان مغربی سکالروں دانشمندوں۔ مدبروں اور مفکروں کو راہ ہدائیت کا راستہ کون دکھائے گا۔
۱۲۔ یاد رکھو جب کسی معاشرہ کو اسکے دین اس کے نظریات، اسکے عقیدہ کی تعلیمات اور اس کی قانونی، عدلی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار سے محروم کر دیا جاتا ہے۔پھراس معاشرے کی شکل مختلف اور تشخص متضاد اور مسخ ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب مختلف نظریات، مختلف معاشرتی ضابطہ ہائے حیات، مختلف معاشی انداز فکر سے کسی قوم یا ملت کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے۔ تو لامحالہ وہ نظریاتی قوم، نظریاتی ملک ، نظریاتی ملت، نظریاتی ریاست ، ذہنی قلبی مصیبتوںاور روحانی اذیتوں کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔ ان کے لئے دینی تعلیمات دینی عبادات، دینی اخلاقیات کی پابندی کرنا ، ان کا دینی اورفطرتی حق ہوتا ہے۔ وہ زندگی کو اس کے اصول و ضوابط کے مطابق گذارنا چاہتے ہیں۔
۱۳۔ دوسری طر ف جب ملکی سطح پرسرکاری طور پر اس معاشرہ پر مختلف متضاد نظریات کی تباہ کن طبقاتی تعلیم ، طبقاتی نصاب ، طبقاتی افراد کے لئے مختص کر دیا جائے۔ نظم و نسق چلانے کے لئے افسر شاہی اور عدلیہ کے نظام کو چلانے کے لئے منصف شاہی، ان جاگیر داروں، اور سرمایہ داروں کی اولاد کی وراثت بن جائے۔ جہاں اسلام کا مشاورتی طریقہ کا ر اور دینی نظریات کو ختم کرکے مغربی دانشوروں کا جمہوریت کاطریقہ کار اور نظریات کو اپنا لیا جائے۔ جہاں اسلامی معیشت کے نظام کو حرف غلط کی طرح مٹا کرسودی یہودی نظام اور نظریہ رائج کر دیا جائے۔ جہاں مسلمانوں میں مساوات کا سبق سکھانے والی تعلیمات کو ختم کرکے طبقاتی تعلیم کے نصاب کانفاذ کر دیا جائے۔ تو یقیناْ ان اکیڈمیوں کے وہ سکالر، وہ مدبر ، وہ مفکر وہ دانشور انہی نظریات کے علو م سے آؔشنا اور ماہر ہوں گے۔ حکمران اور محکوم طبقات اس طبقاتی تعلیمی نظام کی پیداوار ہوں گے۔ ان کا اسلام اور اسکے نظریات کے ساتھ دور کاکوئی تعلق بھی نہ ہو گا۔ موجودہ تعلیم و تربیت کے اخراجات ستر فی صد کسان اور ۲۹ فی صد مزدوروں، ہنر مندوں، محنت کشوں، کی اولادیں تو ہرگز برداشت نہیں کر سکتیں۔ یہ نظام تعلیم جاگیر داروں، سرمائے داروں، بلیکیوں، سمگلروں، رشوت خوروں کے لئے مختص ہو چکا ہے۔ پاکستان بڑے شہروں، بڑے محلوں اور شاہی دفاتر کا نام نہیں۔یہ تو ستر فی صد کسانوں کی جھونپڑیوں اور ۲۹ فی صد مزدوروں کی خستہ حال رہائشوں پر مشتمل عوام کا ملک ہے۔
۱۴۔ کوئی دانا ، کوئی صاحب بصیرت ، کوئی اہل دل ، کوئی سادہ مسلمان بھی یہ سوچ نہیں سکتا۔ کہ ملک کی تمام ایسی طبقاتی درسگاہیں، سکولز، کالجز، یو نیورسٹیاں، اکیڈمیاں، جن میں جمہوریت کے سکالر، سودی، یہودی معاشیات کے دانشور ، ہندو مذہبی نظریہ کے طبقاتی فلاسفر مخصوص تعلیمی نصاب کے نظریہ او ر فکر کے تحت حکومتی نظام چلانے کے لئے تیار ہوتے چلے آ ؔ رہے ہوں۔ سرکاری سطح پرحکومتی نظام اور سسٹم بھی انہی نظریات کی روشنی میں تیار کردہ قوانین اور ضوابط کو نا فذ العمل کر رکھا ہو۔ ۱۸۵۷ ء سے لے کر ۱۹۴۷ ء تک انگریز اسی طریقہ کار کے تحت حکومت چلاتا رہا ہو۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر آؔج تک ملک میںوہی طبقاتی تعلیمی ادارے وہی تعلیمی طبقاتی نصاب سے حکومتی اہلکار اور معاشرے کے افراد تیار ہوتے چلے آ رہے ہوں۔ انگریزوں کی بجائے ملکی جاگیرداروں ، سرمایہ داروں،سیاست دانوں کو حکومت کا قلمدان سپرد ہوتا چلا ؔآ رہا ہو۔ ملک ان کی لونڈی اور عوام ان کے غلام بن چکے ہوں۔ وہ قوم ، وہ ملت ، وہ ملک کیسے فلاحی اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔ اہل دین، اہل حکمت ، اہل علم، اہل فقر تعلیم سے وابستہ وہ اہل دل ، درد مند اساتذہ اور اسلامی شعور سے ؔآشنا احباب سے درخواست ہے۔ کہ وہ اس تعلیمی کینسرکا علاج حکومت وقت کو تجویز کریں۔ اسلامی طرز حکومت، اسلامی معاشی نظام اور اسلامی مساوات پر مبنی ایک تعلیمی نصاب کو مرتب کرکے قوم کے روبرو پیش کریں۔ دستور مقدس کے نفاذ کا عمل جاری کریں۔ ۔
۱۵۔ اے اسلامی مملکت پاکستان کے راہنماو! اے دینی جماعتوں کے سیاسی لیڈرو ! اے ملک کے عظیم سیاست دانو! اے جمہوریت پسند حکمرانو! اے مغربی تہذیب کے دانشوروں کے سیاسی پپجاریو ! اے سودی، یہودی معاشیات کے پیکرو ! اور اے ہندو ازم کے طبقاتی معاشرے کے پجاریو ! تمہیں یاد دلا نا ضروری ہے کہ پاکستان ایک ایسا اسلامی ملک ہے ۔ جس کا وجود لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ کے نام نظریہ عقیدہ اور دین کے تحت لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کراور ہجرت کی اذیتیں برداشت کرکے حاصل کیا ہوا ہے۔ نام محمد ﷺ کے صدقے بے شمار معصوم بچے، بچیوں کا بے دریغ قتل عام کروایا ہو اہے۔ لاکھوں جوانوں، نوجوانوں بہن بھائیوں بیٹیوں ماؤں اور بوڑھے ماں باپ کے جسموں کو برچھیوں کلہاڑیوں،، ٹوکوں، بلموں اور گولیوں سے چھلنی کر وا کر اسم محمد ﷺ کے اجالے کی منزل کاسفر جاری کیا ہوا ہے۔
۱۶۔ جس طیب ہستی کے نظام کو اپنانے کے لئے مسلمانان ہند نے اپنے آباؤ اجداد اورعزیز و اقارب کی قبریں، گھر بار، کھیت کھلیان ، کاروبار اور وطن عزیز چھوڑ کر قافلوں کے قافلے سرزمین پاکستان میں پہنچے۔ اور سجدہ ریز ہو کر آؔنسوؤں کے تحفے پیش کئے ہوئے ہیں۔ آؔج بھی اس دھرتی کویادہیں۔
۱۷۔ جس کتاب مقدس اور اس کے ضابطہ حیات کو اس ملک میں نافذ العمل کرنے ، اس کی پیروی کرنے اور اطاعت کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی کردار سازی اور ملی تشخص تیار کرنے کی خاطر تن من دھن کی ان گنت قربانیاں پیش کی تھیں۔ تاریخ کے اوراق میںدستور مقدس کے نفاذ کا وچن ،وعدہ ،عہد آج بھی ملت کیلئے روزروشن کی طرح سراپا سوال بنا کھڑا ہے۔ اس کے راستہ میں حائل کون ہے ۔
۱۸۔ آج اہل پاکستان اور ملت اسلامیہ ان سات آٹھ ہزار بدکردار، دھوکہ باز ، نفس پرست، ظالم ، غاصب ،سیاستدانوں،انکے مسلط کردہ طبقاتی تعلیمی نظام، طبقاتی تعلیمی اداروں ، سکول ، کالجز، یونیورسٹیوںاورسرکاری اکیڈمیوں کے فارغ ا لتحصیل مغرب پرست سکالروں ، دانشوروں ،مدبروں، مفکروں، بد نصیب رہزن حکمرانوں سے ملت سراپا سوال بنی کھڑی ہے۔ اور پوچھ رہی ہے کہ اے انگریز کی مفتوحہ قوم کا چارج سنبھالنے والے سیا ستدانو! ،حکمرانو! تم ملت کے نظریاتی اثاثہ کو کیوں تباہ کر رہے ہو ۔ عہد شکنی کے مرتکب حکمرانو! اور اس کے خلاف احتجاج نہ کرنے والی عوام کی صدا اور ندا بڑی سخت ، اذیت ناک اور ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔ایسے حکمرانوں اورانکے کارندوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو جاتا ہے ۔ اور ان پربد ترین دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ جو ان کی تباہی اور بربادی کا سبب بن جاتاہے ۔ اور ان سے سب کچھ چھین لیتا ہے۔ وہ عبرتکدے کی داستاںبن جاتاہے۔ اب وہ گھڑی سر پر کھڑی ہے۔ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ افغانستان کا حال تمہارے سامنے ہے۔ توبہ کر لو۔ خالق کی مخلوق پر اور اپنے مسلمان بھائیوں پر اتنے ظلم نہ کرو۔ دستور مقدس کا نفاذ فوری طور پر عمل میں لے آؤ۔ بچ جاؤ گے۔ ورنہ ہرگز نہیں۔
۱۹۔ بتاؤآج وہ مسلمان کہاں ہے۔ وہ اسلامی آئین کہاں ہے۔ وہ اسلامی ضابطہ حیات اور شریعت محمدی کانفاذ کہاں ہے ؟ وہ نوری راستہ اور نظام کہاں ہے ؟ وہ دین کی روشنی میں تیار کیا ہوا تعلیمی نظام کہاں ہے؟ وہ حق اور سچ کے قوانین اور ضوابط کہاں ہیں۔ وہ اصحاب صفہ کی طرز کی صالح، پرہیز گار، ایماندار، متقی، دیندار، خوف خدا سے آشنا، عدل و انصاف سے لیس اور ہونہار قیمتی گوہر تیار کرنے والی دینی د رسگاہیں کہاں ہیں ؟ اسلامی تعلیمی نصاب اور اس کے پیرو کار کہاں ہیں ؟ اسلامی نظم و نسق چلانے والے کارندے کہاں ہیں ؟ اسلامی تعلیمی درسگاہیں کہاں ہیں ؟ اسلامی طرزحیات کہاں ہے ؟ اسلامی کردار کی وہ منور شمعیں کہاں ہیں ؟ قلیل ضرورتوں والے وہ نمائندے کہاں ہیں ؟ سرائے فانی کے وہ آشنا کہاں ہیں ؟ دنیا کی بے ثباتی سے روشناس کروانے والے وہ ھدی خواں کہاں ہیں ؟ اپنے پرائے کادکھ بانٹنے والے وہ مونس انسانیت کہاں ہیں ؟ یتیموں ، بیکسوں اور مجبوروں کے وہ محافظ کہاں ہیں ؟ خدا کے بندوں کو پیار کرنے والے وہ بندہ پرور کہاں ہیں۔ اندھیروں کے ورق الٹنے والے وہ روشنی کے پیکر کہاں ہیں ؟ حیدری فقر اور قلب سلیم کے وہ وارث کہاں ہیں ؟ انسانیت کے درد کے وہ درمان کہاں ہیں ؟ صداقت ، شجاعت، عدالت کے وہ رازداں کہاں ہیں ؟ اسم محمد ﷺ کی خوشبو کو چمن چمن میں پھیلانے والے وہ عطار کہاں ہیں ؟ آفتاب رسالت ﷺکی روشنی کی وہ منور کرنیں کہاں ہیں۔ منزل عاقبت کے آشنا وہ مسافر کہاں ہیں۔ گوشہ نشینی سے سرمایہ رشد و ہدایت حاصل کرنے والے وہ راہی کہاں ہیں ۔ فطرت شناس وہ نباض کہاں ہیں۔ آنسوؤں کو موتیوں میں ڈھالنے والے وہ کیمیا گر کہاں ہیں ؟ شب بیدار، غم خوار، جانثار وہ ملت کے خدمت گار کہاں ہیں ؟ پوری انسانیت اوراس عظیم ملت اور اس کے عظیم نونہالوں کو مٹھی بھر سیاستدانوں اور قلیل سے حکمرانوںاورانگریزی تہذیب اور نظریات کے سکالروں نے ایک عبرتناک سانحہ سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوںنے ملت سے حضور نبی کریم ﷺ کے دستور مقدس کے نور اور نورانی راستہ کو چھین لیا ہوا ہے۔ انہوں نے مسلمان نسلوں کو ظلم و بربریت پر مبنی طبقاتی تعلیمی نظام اور طبقاتی معاشرے کی آگ میں جھونک رکھا ہے۔ ان کو بے حیائی، نفس پرستی، خود غرضی، بد کرداری، لوٹ کھسوٹ اور بے دینی کے تند و تیز شعلوں میں بھسم کئے جا رہے ہیں۔ مغربی دانشوروں کے تیار کردہ نظریات پر مشتمل جمہوری نظام ، سودی، یہودی مفکرین کے کے نظریات کا معاشی نظام اور ہندو ازم کے سکالروں کے نظریات کے طبقاتی نظام کی پرورش و تربیت کرنے والے تعلیمی نصاب کا زہر ان مسلمان نسلوں کے ذہنوں اور روحوں میں اتار دیا گیا ہے۔ ملت اس بے دین تعلیم کے فارغ التحصیل سکالروں، مفکروں اور دانشوروں کی گرفت میں بری طرح آ چکی ہے۔ان مغربی تہذیب کے سکالروں، مفکروں اور دانشوروں نے ملت اسلامیہ کو رسوائے زمانہ کر رکھا ہے۔اس باطل، بے دین، جمہوریت کے مذہب ، اور اس کے پیراؤ کاروں سے نجات حاصل کرنا عمر بھر کی عبادت اور ریاضت سے کہیں بہتر ہے۔
۲۰۔ ملک میں سرکاری سطح پر قرآن و سنت کو پس پشت ڈالنے والے دین کے منشور کو سرکاری طور پر معطل کرنے والے، دینی تعلیم کے نصاب کو منسوخ کرنے والے ،اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو ختم کرنے والے، رسول اللہ ﷺکے ضابطہ حیات کو ملکی سطح پر پس پشت ڈالنے والے، مسلمانوں کی نسل کو عیسائیت ، یہودیت اور ہندو ازم کے نظر یا ت میں بدلنے والے رہبروں ، راہنماؤں ، سیاست دانوں ، حکمرانوں، اور ان کے نائب مصاحب سکالروں، مفکروں، اور دانش وروں کو کیسے سمجھاؤں۔ کیسے بات کروں، کہ دین کے ساتھ منافقت حضور ﷺ کی شفاعت سے محروم کر دیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا غیض و غضب ان کو اور ان کے آشیانوں کو اپنی زد میں لے لیتا ہے۔ تباہی و بربادی ایسے لوگوں کا مقدر بن جاتا ہے۔ دور حاضر کے طالب علموں اور چودہ کروڑ مسلمانوں کا یہ دردناک سوال اہل اقتدار ، سیاست دانوں، حکمرانوں، اور انکی صوبائی،وفاقی اسمبلیوں اور سینٹ کے ممبران کی خدمت اقدس میں پیش ہے۔ امید ہے کہ آپ سب لوگ ایک مسلمان ہونے کی حثیت سے ان سوالات کا جواب دینے میں عار محسوس نہیں کریں گے۔
۱۔ قرآن پاک کے تقدس ، ناموس ، اور اس کی تعلیمات کو سرکاری سطح پر پامال کرنے والا کون ہے ؟
۲۔ سرکاری سطح پر اسلام کے دستور مقدس کے نفاذ میں رکاوٹ کون ہے؟
۳۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کا مجرم کون ہے ؟
۴۔ اسلامی تعلیمات سے سرکاری طور پر محروم کرنے والا کون ہے ؟
۵۔ چودہ کروڑ عوام سے اسلامی نصب العین چھیننے والا کون ہے ؟
۶۔ اسلامی ضابطہ حیات پر ڈاکہ ڈالنے والا کون ہے ؟
۷۔ مسلمانوں کو دین سے دور لے جانے والا کون ہے؟
۸۔ دین کی روشنی میں حق و باطل کی تمیز مٹانے والا کون ہے ؟
۹۔ طبقاتی تعلیمی ادارے قائم کرنے والا کون ہے؟
۱۰۔ طبقاتی غیر دینی تعلیمی نصاب تیار کرنے اور ملکی سطح پر سرکاری طور پر اس کا نفاذ کرنے والا کون ہے ؟
۱۱۔ ملک میں سودی، یہودی معاشی نظام قائم کرنے والا کون ہے؟
۱۲۔ ہند و ازم کے نظریہ کے مطابق طبقاتی نظام تعلیم،طبقاتی معاشرہ اور طبقاتی نظام حکومت کو رائج کرنے والا کون ہے ؟
۱۳۔ ملک میں غیر اسلامی طرز حکومت یعنی مغرب کے دانش وروں کی تیار کردہ جمہوریت کو نافذ العمل کرنے والا کون ہے ؟
۱۴۔ چودہ کروڑ مسلمانوں کا سرکاری مذہب جمہوریت ہے جو عیسائی، یہودی اور ہندو ازم کے نظریات پرمشتمل ہے۔ کس نے رائج کر رکھا ہے؟
۱۵۔ ملکی قانون سازی کرنے والا کون ہے ؟
۱۶۔ قومی خزانہ اور وسائل لوٹنے والے ڈاکو، راہزن ، اور لٹیرے کون ہیں ؟ملک کا ۹۲ ۔ ارب ڈالر مغربی ممالک میں کن کے ہیں۔
۱۷۔ طبقاتی سیاست دان، طبقاتی حکمران، طبقاتی افسر شاہی، طبقاتی منصف شاہی، طبقاتی نوکر شاہی اور طبقاتی معاشرہ تیار کرنے والا کون ہے ؟
۱۸۔ ان ملی رہزنوں ، ڈاکوؤں ، دہشت گردوں، کو تحفظ فراہم کرنے والا کون ہے ؟
۱۹۔ طبقاتی کرپٹ انتظامیہ کو ملک میں کون مسلط کرتا ہے ؟
۲۰۔ طبقاتی رشوت خور، عدل کش عدلیہ کی تقرریاں ، کون کرتا ہے؟
۲۱زکوۃ ، عشر، ان گنت ٹیکسوں، تیل ، بجلی ، گیس کی قیمتوں کے اضافوں ، اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافوں سے یتیموں، بیواؤں، نادار، مسکین، اپاہج، کمزور، بیمار ،بے بس، مزدوروں، کسانوں، ہنر مندوں ، اور بے روزگاروں سے ان کا معاشی خون کون چوستا ہے ؟ ان کو زندگی اور موت کی کشمش میں کون مبتلا کرتا ہے ؟
۲۲۔ ملک کا تمام مال و متاع ، وسائل، خزانہ غیر ملکی قرضے، آئی ایم ایف کے قرضے کن کے شاہانہ تصرف میں آتے ہیں۔ ان کو کون لوٹتا رہتا ہے۔ ان ملی امانتوں پر شب خون کون مارتا ہے ؟
۲۳۔ عدل و انصاف کو کچل کر شاہی تنخواہوں اور شاہانہ سہولتوں کی ہولی کون ظالم کھیلتے ہیں؟


۲۴۔ سو فی صدی تنخواہوں میں کون اضافے کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی بجلی، گیس، تیل کی قیمتوں میں دل سوز اضافے کون کرتا ہے ؟
۲۵۔ ملک کے زر مبادلہ کی امانتوں کو نگلنے والی مرسیڈیز گاڑیاں ، پجارو ، لینڈ کروزر اور اعلیٰ قسم کی حسب مراتب خرید کی جانے والی گاڑیاں، نچلے درجے کی لاکھوں سرکاری گاڑیاں، ملک میں کون خرید کرتا ہے ؟ اور ان کو کون استعمال کرتا ہے ؟ ان کی اربوں ڈالر کی قیمتیں کون ادا کرتا ہے۔ ان لاکھوں سرکاری گاڑیوں کو کون خرید کرتا ہے ؟ ان کے تیل کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے۔َ ان کے ڈرائیوروں کی تنخواہیں کون ادا کرتا ہے۔ ان کے روز مرہ کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے۔ ان معزز دہشت گرد سیاست دانوں ، وزیروں، مشیروں ، سفیروں ، وزرائے اعلیٰ، گورنروں، سینیٹ کے چیئرمینوں ، اسمبلی کے سپیکروں، افسر شاہی ، منصف شاہی، نوکر شاہی ، اور ان کے وزیر اعظم اور صدور پاکستان کو کون پوچھ سکتا ہے۔ کہ ۷۰ فیصد غریب کسان اور ۲۹ فیصد مظلوم مزدور،محنت کش ،ہنر مند اوربھو ک ، ننگ اور پیاس میں تڑپتی صحراؤں میں بے بس عوام کا اس ملک پر کوئی حق نہیں ہے۔جبکہ تم اچھی طرح جانتے سمجھتے ہو یہ سب وسائل،یہ سب دولت ،یہ ملکی خزا نہ تو انکی ملکیت ہیں۔تم کیسے ظالم غاصب اور منافق مسلمان ہو تم انکی امانتوں کو لوٹتے چلے آرہے ہو۔۔
۲۶۔ ملک کے تمام وسائل کسان، مزدور اور بے بس عوام ہی پیدا کرتے ہیں،ملک کی تمام دولت وہی کماتے ہیں ۔اور ملک کا تمام خزانہ انکی ملکیت ہے۔یہ کون ظالم، غاصب، ڈاکو، رہزن اور لٹیرے ہیں جنہوں نے انکی دولت سے اپنے محلا ت ا ور شاہی رہائش گاہیں ۔ملک کے اندر اور غیر ممالک میں تیار کر رکھی ہیں۔یہ کون غاصب ہیں ۔ جوانکے خزانہ سے تنخواہوں کے بڑے بڑے ڈاکے ڈالتے ہیں۔یہ کون رہزن ہیںجو انکے مال سے شاہی اخراجات کرتے ہیں۔ یہ سرکاری خزانہ لوٹنے اور ذاتی تصرف میں لانے والے قانونی ضابطے کون تیار کرتا ہے ؟ سرکاری گاڑیوں کی خرید کا زر مبادلہ کا بجٹ کون منظور کرتا ہے۔ یہ سرکاری اخراجات کے ڈاکے کون مارتا ہے۔ یہ راہزن کون ہیں۔ اے رہبرو!، رہنماؤ!، سیاستدانو!، حکمرانو! کیا یہ اسلامی طرز حیات ہے۔کیا دنیا کے کسی دوسرے ممالک یا کسی کونے میں اس قسم کا ظالم، غاصب ،بے رحم نظام موجود ہے۔ مغرب، چین اور جاپان کو ہی دیکھ لیجئے ۔ ان کا رہن سہن ، اور طرز حیات اور بودو باش کیسی ہے۔ ان کے سرکاری اخراجات کتنے ہیں۔ ان کے پاس سرکاری گاڑیاں کتنی ہیں۔ ان کے پاس شاہی محل کتنے ہیں۔ انکا معاشی اور معاشرتی نظام کیسا ہے۔ ان کے ترقی کے اسباب اور محرکات کیا ہیں۔ اپنے ساتھ موازنہ کر لو۔ اپنے کردار کا احتساب از خود کر لو۔ شائد سیاست دانو ں ، حکمرانوں کو ۹۹ فی صد ی مفلوک الحال عوام الناس اور اہل وطن کی بات سمجھ میں آ جائے۔ خدا آپ کو توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
۲۷۔ کیا اسلامی ملک میں اتنی بڑی بڑی رہائش گاہیں، اور شیش محل، افسر شاہی، نوکر شاہی، منصف شاہی ، وزیروں، مشیروں، سفیروں، وزرائے اعلیٰ، گورنروں، کو سرکاری طور پر مہیا کی جا سکتی ہیں۔ کیا اسلامی طرز حیات یا خلیفہ وقت اس کے تمام نائب مصاحب، یا سرکاری مشینری کا کوئی عہدہ دار اس قسم کی تفاوتی ، طبقاتی ، غیرمنصفانہ اور غیر مساویانہ سہولتیں حاصل کر سکتا ہے۔ کیا ان کے لئے گن مین، اردلی، چوکیدار، مالی ،خانساماں، ڈرائیور، جمعدار اور بے شمار نوکروں کی افواج ان کو مہیا کی جاتی ہے۔ کیا یہ حکمران فرعون کی زندگی اور اس کے انجام سے آشنا نہیں۔
۲۸۔ کیا اسلامی منشور میں بجٹ کی مد میں خفیہ مد یں، وزیروں، وزرائے اعظم ، مشیروں، اور صدر کو میسر ہوتی ہیں۔ جس سے وہ حکومتیں خریدتے اور من مرضی کے اخراجات کرتے رہیں۔ اور ان کا کوئی حساب کتاب پوچھنے والا نہ ہو۔
۲۹۔ پاکستان کے آئین کے مطابق دستور مقدس کا نفاذ ملک میں ضروری ہے کہ نہیں۔ کیا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے کردار کی روشنیاں، رشد و ہدائت کی قندیلوں، عدل و انصاف کے چراغوں، ادب و اخلاق کے پرکشش نورانی راستوں کے انسانیت ساز ضابطہ حیات سے استفادہ حاصل کرنا ضروری ہے یا نہیں۔ کیا حضرت محمد مصطفیﷺ کے اسوۃ حسنہ کی شمعیں روشن کرنا مسلمانوں کافرض ہے یا نہیں۔کیا حضور نبی کریم ﷺ کی عظیم امت کو امت مرحومہ بنانا یا اس عظیم امت کے وقار، عزت، عظمت یا شان کو دوبالا کرنا مناسب ہے یا نہیں؟
۳۰ ۔ آؤ مل کر بیٹھیں ، سوچیں اور غور و فکر کریں۔ اور ملکی نظام کو اسلام کا غسل دے کر ایک نصاب تعلیم، دین کی روشنی میں تیارکریں۔ علم و حکمت کے موتی اکٹھے کریں۔ ان مغربی سکالروں سودی یہودی معاشی نظام کے سرکاری معاشی دانش وروں ، اور ہندو ازم کے طبقاتی تعلیمی نظام کے مفکروں، مدبروں، کو الوادع کریں۔ ان سے نجات حاصل کریں۔ ان کی طبقاتی تعلیم ، طبقاتی نصاب تعلیم، طبقاتی معاشی ، معاشرتی نظام کا خاتمہ بالخیر کریں۔ ان طبقاتی نظریات کے ظلمات کے قمقموں کو سرکاری سطح پر تمام ملکی تعلیمی درس گاہوں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوںاور سرکاری اکیڈمیوں سے بجھائیں۔ اور ختم کریں۔ اس مفتوحہ قوم، ملت، اور اسلامی ریاست کو ان نونہالوں اور پورے معاشرے سے ان غاصب ظالم بے نور بے دین سیاسی سکالروں، معاشی مدبروں ، طبقاتی مفکروں ،جاگیر داروں، سرمایہ داروں، حکمرانوں کے شکنجوں سے آزاد کروائیں۔ علم نور بھی ہے اور ظلمات بھی۔ یا اللہ ہمیں ظلمات کی تعلیمات سے نجات عطاکر۔ ہماری استغفار کو قبولیت عطا فرما۔ یا اللہ سر زمین حیات میں ہمیں دین کا پودا لگانے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ ہمیں نور کی تعلیم سے نواز۔ یا اللہ ہمیں حضور ﷺ کے عدل و انصاف، اخلاق و کردار ، علم و حکمت ، ادب و محبت ، اسوۃ حسنہ ، اور دستور مقدس کی تعلیمات اور نظام شریعت کو ملک میں رائج کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے میرے مولا تباہ حال امت کی فریاد کو سن۔ اور اس دعا کو تاثیر بھی عطافرما۔ آمین ۔
۳۱ ۔ اسلام کادامن بہت وسیع ہے۔ اس میں بڑی حد تک لچک بھی موجود ہے۔ اسلام تو ہمیں سبق سکھاتا ہے۔ علم و ہنر، حاصل کرنے کے لئے اگر چین جانا پڑے تو بھی جاؤ۔۔۔اسلام نفع بخش علم کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہر تہذیب و تمدن سے استفادہ حاصل کرنے کا شعور دیتا ہے۔ ان کے مصائب اور نقائص سے دامن بچانے کی تلقین بھی کرتا ہے۔ ایسی تہذیب کے کانٹوں سے دامن بچا کر نکلنے کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ اس لئے کسی بھی تہذیب کے مثبت پہلوؤں اور علمی ترقی سے استفادہ حاصل کرنا ایک احسن عمل ہے۔ لہذا ہمیں کسی بھی جدید سائنسنی ترقی کے علوم اور صنعتی ترقی کے علم و ہنر کو کسی بھی دنیا کے ملک سے حاصل کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیئے۔ اسلام ہمیں بھائی چارے ، اخوت، حسن اخلاق سے انسانیت کو پیش آنے کی تلقین بھی کرتا ہے۔
۳۲ ۔ سودی یہودی معیشت کا کیس تو سپریم کورٹ کے ججوں نے حکومت کی جانب سے نئے نکات کی روشنی میں جائزہ لینے کے لئے نچلی عدالت میں دوبارہ سماعت کے لئے بھیجا ہے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے۔ کہ اسلامی نظریاتی ریاست کو مغربی فکر کی جمہوریت کے سیاست دانوں ، قانون دانوں ، عدل و انصاف کے دانش وروں، سودی یہودی معاشیات کے سکالروں ، طبقاتی طرز حیا ت کے ہندو ازم کے مفکروں، مدبروں کا ملک میں سرکاری راج قائم ہے۔ ان منصفوں کی جہالت اور جرات کا اندازہ کرو۔ وہ تو خدا رسولﷺ کی حدود کو بھی روندے سے باز نہیںآتے۔یہ لوگ فطرت کی بری طرح گرفت میں آ چکے ہیں۔انکو اب کوئی بچانے والانہیں۔
۳۳۔ انہوں نے ملک کے نظم و نسق کو خدا اور ر سول ﷺکے احکامات کے خلا ف جنگ سے دوچار کر رکھا ہے۔انہوں نے چودہ کروڑ مسلمانوں کو نماز اور عبادات سے محروم کر رکھاہے۔ نماز پڑھنے کا حکم نہیں۔نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔نماز اس وقت قائم ہوتی ہے۔جب انفرادی اور اجتماعی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع ہو۔عمل جمہوریت کے مذہب کے نظریات کے تابع ہو اور دین کے خلاف ہو تو نماز کیسی۔ بے عقیدہ بے نور تعلیم صرف سبب کو مانتی ہے۔ اور نوری تعلیم مسبب پر یقین کا درس دیتی ہے۔ بے عقیدہ انسان اسباب کی قوت کو تسلیم کرتا ہے۔ صاحب ایمان کے لئے طاقت کا سرچشمہ اور قوت کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہی ہوتی ہے۔ یہ تعلیمی ادارے اور ان کا تعلیمی نصاب ، یہ کالج، یہ یونیورسٹیاں، ان ملکی حکمرانوں ، سیاست دانو ں، افسر شاہی، منصف شاہی، اور نوکر شاہی نے مل کر اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے ، دینی اقدار کو روندنے اور اسلامی دستور مقدس اور ضابطہ حیات کو نعوذاباللہ فرسودہ اور بیکار بنانے کا یہ طریقہ کار اور سسٹم ملک میں رائج کر رکھا ہے۔ اسلام کو صرف پڑھنے پڑھانے تک محدود اور مسدود کر رکھا ہے۔ کیونکہ ظالم سیاست دان ،غاصب حکمران، بد دیانت اور بے رحم افسر شاہی اور عدل کش بریف کیس مافیا پر مشتمل کرپشن کے بد ترین شاہکار منصفوں نے مل کر ملک کے وسائل ،ملک کی دولت، ملک کے قرضے، آئی ایم ایف کے قرضے، ملکی خزانہ ،ملکی دولت،ملک وسائل، زکوٰۃ، عشر ان گنت ٹیکسوں سے اکٹھا کیا ہوا مال۔تیل پٹرول بجلی کی قیمتوں میں اضافوں اور مہنگائی کی سرنجوں سے چوسا ہوا معاشی خون اور ملک کے چودہ کروڑ عوام جن میں ۷۰ فی صد کسان ۲۹ فی صد مزدور ، محنت کش ، ہنر مند اور غریب عوام کا تمام مال و متاع چھین رکھا ہے۔ ظالم قانون ، اور جابر سسٹم کا خوفناک نظام انہوں نے چودہ کروڑ عوام پر مسلط کر رکھا ہے۔
۳۴۔ ملک کے تمام سیاست دانوں جمہوریت کے دانشوروں، سودی یہودی معاشیات کے سکالروں، طبقاتی نظام حیات کے حکومت کے مدبروں، نوکر شاہی افسرشاہی اور منصف شاہی کے دانش وروں، وڈیروں، مشیروں، سفیروں، وزرائے اعلیٰ اسمبلی ممبران، سینیٹ ممبران، سپیکروں، سینیٹ کے چیئرمینوں، ملک کے تمام وزیر اعظموں، صدروں، اور موجودہ حکومت وقت سے چودہ کروڑ مسلمانوں پر مشتمل ۷۰ فی صدی کسانوں ۲۹ فی صد مزوور ، محنت کش ہنر مند اور ہر معاشی معاشرتی طبقہ سے منسلک عوام الناس کے اہل اقتدار حکمرانوں سے درج ذیل سوالات کے جوابات کے منتظر ہیں۔ تاکہ ملت ان کے جوابات کی روشنی میں اپنا فیصلہ کر نے کے قابل ہو سکے۔
۱۔ کیا ہم مسلمان ہیں؟
۲۔ کیا قران پاک ایک الہامی اور سچی کتاب ہے؟
۳۔ کیا محمد الرسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں؟
۴۔ کیا چودہ کروڑ مسلمانوں نے اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کیا تھا؟
۵۔ کیا پاکستان کے آئین میں اسلامی ضابطہ حیات کا نفاذ ضروری ہے؟
۶۔ کیا پاکستان میں حضور نبی کریم ﷺ کے اخلاق و کردار میں مسلمانوں کو ڈھالنا چاہئے؟
۷۔ دینی اور الہامی تعلیمات اور کردارسے روشناس کروانا چاہیئے؟
۸۔ کیا پاکستان میں ملت اسلامیہ کے فرندان کو دنیا کی بے ثباتی کادرس دینا چاہئے؟
۹۔ اسلامی نظریات کی روشنی میں تعلیما ت کا ایک نصاب قائم کرنا چاہئے ؟
۱۰۔ کیا اسلام کی روشنی میں سائنس، ٹیکنا لو جی، اقتصادیات، زراعت ، صنعتی ترقی اور ہر شعبہ زندگی میں اخلاقی ، معاشی، معاشرتی انقلاب لایا جا سکتا ہے کیا حضور اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ اور اخلاق حمیدہ کی قندیلوں سے ملت کی سیرت سا زی کرنی چاہئے ؟
۱۱۔ کیا پاکستان میں مسلمانوں کو حکومتی دہشت گردوں،عیسائی، یہودی ا ور ہندو ایجنٹوں کی زمین دوز تباہ کن ،مہلک اسلام دشمن حرکات و سکنات سے آگاہ کرنااور روکنا چاہئے؟
۱۲۔ کیا چود ہ کروڑ اہل وطن مسلمانوں کو ان خوفناک، دینی منافق ایجنٹوں، سکالروں،مدبروں اور دانشوروںسے چوکس اور محفوظ کرنا چاہئے؟
۱۳۔ کیا مسلمانوں کو اپنی دینی، نظریاتی، قرآنی ضابطہ حیات کی سرحدوں کی حفاظت کر نی چائیے؟
۱۴۔ کیا رحمت اللعلمین ﷺ کی درس گاہ کے مجاہد ، غازی ، انسانیت کا ادب، عدل، انصاف، محبت، خدمت اور رحمتوں، شفقتوں، کی ا علیٰ صلاحیتوںسے تربیت یافتہ پروانوں کو اپنے اخلاق و کردار کو بروئے کار لا کر انسانیت کے دلوں کو تسخیر نہیں کرنا چائیے؟
۱۵۔ کیا وہ عمدہ اخلاق اور ادب کی قوت اور طاقت سے انسانیت کے دلوں میں نہیں اترسکتے؟
۱۶۔ کیا آپ دستور مقدس کی بجائے مغربی دانش وروں کے تیارکردہ طریقہ جمہورت کو پاکستان میں رائج رکھنا چاہتے ہیں؟
۱۷۔ کیا آپ انگریزوں کی مفتوحہ قوم، ملک ، ملت کے فرندان کو انگریزوں کا ہی سیاسی نظام ، تعلیمی نظام، حکومتی نظام ، ان کے نظریہ، عقیدہ کو دین اور دستور مقدس کے خلاف جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اسی کی پیروی کر وانا چاہتے ہیں؟
۱۸۔ کیا آپ انگریزوں کی مفتوحہ قوم ، یعنی چودہ کروڑ فرندان اسلام کو سودی، یہودی معاشی نظام کا مزید ایندھن بنانا چاہتے ہیں؟
۱۹۔ کیا ملک میں اس نظام کو چلانے کے لئے مخصوس معاشی تعلیمی نصاب کو تعلیمی اداروں میں نافذ رکھ کر اس کے میٹرک، بی اے ، ایم اے، پی ایچ ڈی، غیر دینی ، سکالر تیار کرنا چاہتے ہیں؟
۲۰۔ کیا جمہوریت کے سیاسی ڈھانچہ کو قائم رکھنے اور چلانے کے لئے طبقاتی تعلیمی نظام ، طبقاتی تعلیمی ادارے ، طبقاتی معاشرہ ، طبقاتی حکمران پیدا کرنا چاہتے ہیں؟
۲۱۔ کیا ایچی سن کالج اور اس طرح کے ملک میں پھیلے ہوئے انگلش میڈیئم تعلیمی اداروں کے تیار کردہ مغربی طرز کے بے دین ،جمہوری مذہب کے نظام کو چلانے والے بے نور سکالروں، دانش وروں، مدبروں کو دینی درسگاہوں کے تیار کردہ اسلامی تعلیم سے آؔراستہ ،علم و حکمت سے آشنا، اخلاق و کر دار کے محرموں، عدل و انصاف کے وارثوں ، اور خدا و رسول ﷺ کی اطاعت کے پیکروں کو سرکاری سطح پر انکی بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک مسلمان ملک یا ریاست کے نونہالوں کو اس ظالم غاصب طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی اداروں، طبقاتی تعلیمی نصاب،طبقاتی افسر شاہی،طبقاتی منصف شاہی،طبقاتی نوکر شاہی، کے بے دین ، کافر، اور منافق طرز حیات پر مبنی طبقاتی تعلیمی اداروں سے اسلامی تشخص پیدا کر سکتے ہیں؟
۲۲۔ کیا ایک فی صد جمہوریت کے اسلام کش مذہب کے حکمران سرکاری بے دین ظلمات کے علوم کے سکالروں، دانش وروں، مدبروں پر مبنی افسر شاہی، منصف شاہی، نوکر شاہی، اور ملک کے بیشتر ان پڑھ اور جاہل سیاست دانوں کوحکومتی قلم دان سونپ دینا مناسب ہے؟
۲۳۔ کیا جمہوریت کے مذہب کا نظام اور سسٹم ملت اسلامیہ کے فرزندان کی فطرت اور دین کے ضابطہ حیات کے خلاف نہیں۔ یہ نظام اور سسٹم معاشی، معاشرتی، دہشت گردوں، ظالم ، غا صب اور سفاک جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقہ کے لئے مختص ہے۔ تاکہ وہ انگر یزوںکی مفتوحہ قوم کو ان قانونی ضا بطوں میں جکڑے رکھیں۔ الیکشن کے جمہوری طریقہ کار سے معاشرے کے ادنیٰ طبقہ سے لے کر اعلیٰ طبقہ تک کے سیاسی لیڈران کا چناؤ الیکشنوں کے ذریعہ ہوتاہے۔الیکشنوں میں مالی ، معاشی اور معاشرتی حالات اور اثر و رسوخ کے مطابق اپنے اپنے علاقہ سے ایم این اے، ایم پی اے، ضلعی ناظم ،نائب ناظم اور ممبر صاحبان حصہ لیتے ہیں۔ اور اس طرح ملک کے تمام طبقوں کی نمائندگی الیکشنوں کے ذریعے ہو جاتی ہے۔ یعنی ملک کے تمام معاشی، طبقوں، کے غاصبوں اور ظالموں کا چناؤ عمل میں لایا جاتا ہے۔ حکومت کا قلمدان ان معاشی ،معاشرتی بدکردار رہزنوں کے ہاتھ میں خود کار نظام کے تحت چلا جاتا ہے۔ سیاستدانوں، حکمرانوں اور اپویشن لیڈروں کا
ظالم اور سفاک ٹولہ انگریزوں کی مفتوحہ قوم کوز نجیروں میں مقید کئے بیٹھا ہے۔ ملک میں بار بارعوام الناس ان بدکردار بد بخت وحشی معاشی معاشرتی درندوں کی بد اعمالیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے مارشل لا کو پکارتے رہتے ہیں۔ تاکہ وہ انگریزوں کے ظالم اورغاصب جمہوریت کے مذہب کے نظام اور سسٹم سے جان چھڑا سکیں۔ مارشل لا حکومتوں کو ورثہ میں ملی ہوئی افسر شاہی، نوکر شاہی، منصف شاہی اور لٹیرے سیاست دانوں، اور ان کے استحصالی اور سیاسی نظام اور سسٹم کے شکنجوں میں از خود جکڑے جاتے ہیں۔ طبقاتی تعلیم،طبقاتی اکیڈمیوں،طبقاتی معاشرتی بے دین نظام اور غیر اسلامی سسٹم کا زہر انکے کردار میں اتر چکا ہوتا ہے۔وہ ان حدود و قیود کو توڑ نہیں سکتے۔ وہ اقتدار کے باوجود ان سرکاری سکالروں،دانشوروں اور مدبروں کے ہاتھوں سسک سسک کر موت اور ز ندگی میں مبتلا رہ کر موت کی بھیانک آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ دراصل یہ باطل نظام اور حکومتوں کو چلانے والی افسر شاہی، منصف شاہی اور نوکر شاہی کے یہ ظالم سکالر،غاصب دانشور، منافق مدبر ایسی دیمک ہے۔ جو ہر آنے والے حکمران کے اقتدار کو چاٹ جاتی ہے اور نئے حکمرانوں کے لئے بڑی بیتابی سے منتظر رہتی ہے۔ اس گھناؤنے عمل سے وہ ۱۹۴۷ ء سے سدا بہار بنے بیٹھے ہیں۔ ان پر صرف اور صرف انکی حرکات و سکنات کا آشنا اور راہ راست کامسافر ہی اسلامی ضابطہ حیات کے نفاذ سے ان دہشت گرد جنات پر قابو پاسکتا ہے۔
۲۴۔ اگر اس مملکت پاکستان کا نظام حکومت اسلامی ، دینی ، الہامی ، اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ طریقہ کار اور حضور نبی اکرم ﷺ رحمت اللعٰلمین کے ضابطہ حیات کی روشنی میں ترتیب دیا ہوتا۔ سکول، کالج، یونیورسٹیوں کا تعلیمی فریضہ مساجد کی طرز میں ادا ہوتا۔۔ اصحاب صفہ کے درس و تدریس کے طریقہ کار کو اپنایا ہوتا۔تمام شعبہ ہائے تعلیمات کا ایک نصاب قائم کیا ہوتا۔ دنیا کے جدید علوم سے آراستہ کیا ہوتا۔ جس کے دروازے ۷۰ فی صد کسان اور ۲۹ فی صد مزدور، محنت کش، ہنر مند، اور عوام الناس کے لئے یکساں کھلے ہوتے۔ جس سے ان اعلیٰ طبقاتی تعلیمی اداروں سے نہ تو طبقاتی شاہی طبقہ جنم لیتا۔ اور نہ ہی ملک میں مغرب کی جمہوریت ، سودی یہودی معاشی نظام اور نہ طبقاتی معاشرے کے بے دین ارکان ، سکالر، دانشور ، مدبر، مفکروں کا وجود ہوتا۔ نہ ہی یہ جاہل، ظالم سیاستدان ہوتے اور نہ ہی یہ بدقما ش حکمران ہوتے۔ نہ ملکی وسائل، دولت، خزانہ ،ز ر مبادلہ ان رہزنوں کی ملکیت ہوتے۔ نہ کسی غریب یتیم ، بے بس، بے کس، عمر رسیدہ اپاہج ، نادار، بے روزگار کو ٹیکسوں، منی بجٹوں، قیمتوں میں اضافوں سے دو چار ہونا پڑتا۔ نہ ہی کوئی غریب ، بے روزگار غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر خود سوزی کرتا۔ نہ ہی معاشی ناہمواری ہوتی۔ اور نہ ہی مستورات کے ساتھ اجتماعی زیادتیاں ہوتیں۔ نہ ہی یہ تفاوتی تنخواہوں کے ڈاکے پڑتے اورنہ ہی سرکاری سہولتوں سے شاہانہ زندگی گذارتے۔نہ ان کے شاہی محل ہوتے نہ لینڈ کروزریں ہوتیں۔ نہ ہی انکے پاس پجارو ہوتیںاور نہ ہی مرسڈیز۔، نہ ہی یہ سرکاری رہزن ہوتے نہ ہی یہ بدبخت سیاست دان ہوتے اور نہ ہی یہ بدنصیب حکمران ہوتے۔ بذریعہ الیکشن نہیں بلکہ بذریعہ سیلکشن اسلامی طریقہ کار سے مجلس شوریٰ کا انتخاب ہوتا ۔ پاکستان دنیا کی ایک ایسی ر یا ست،ایک ایسا ملک اور ایک ایسی ملت ہوتی جسکا کردار امن و آشتی کی روشن ومنور،قندیل بنکر ابھرتا۔مسلمانوں کو دنیا امن کا دیوتا تسلیم کرتی۔
۲۵۔ اس طرح ادنیٰ سے اعلیٰ حلقہ بندیوں میں نیک، صالح ، پرہیز گار ، متقی، ایمان دار ، علم و حکمت کے آشنا، سادہ ، اخلاق و کردار کے سچے ، خوف خدا کے وارث ، اور عدل و انصاف کے پیکر ارکان کا انتخاب عمل میں لایا جاتا۔ سرکاری خزانہ کی طرف آنکھ اٹھانے کی کسی کو بھی
جرات نہ ہوتی۔ عدم مساوات اور تفاوتی طریقہ حیات کا نشان تک نہ ہوتا۔ اب طالب علموں اور عوام الناس کو ان حقائق سے آگاہ کرنا ان کو اسلاما ئزیشن کے نظام کو بحال کرنے کے لئے بیدا ر کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔یاد رکھو۔ نیکی کے سفر میں جہاں کہیں بھی انسان کو آخری سانس آئے وہ اس انسان کی ہی آخری منزل ہوتی ہے۔ خدا ہمیں دین کی جستجو تگ و دو، اور اس کے ضابطہ حیات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
۲۶۔ ہمارا نظام حیات ، نظام تعلیم اور نظام فکر ہمیں ہمہ وقت مصروف رکھتا ہے۔ ہم مرتبے ، آسائشیں ، شہرتیں، مالی خوشحالی اور اختیارات کے مقام حاصل کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ غریب روٹی کپڑے اور سر چھپانے کے لئے سرگرداں پھرتے رہتے ہیں۔ ملک و ملت مغرب کے دانشوروں، مفکروں، مدبرو ں، سکالروں کے شکنجوں میں جکڑی پڑی ہے۔ اسلامی نظریہ دینی عقائید، اور اسلامی دستور مقدس کی تعلیمات ، اقدار، عدل و انصاف ، اسلامی طرز حیات، اسلامی طرز حکومت، اسلامی معاشرہ ، اسلامی کردار ، اور اسلامی تشخص پیدا کرنے والے تعلیمی اداروں کو سرکاری سطح پر منسوخ اور اپاہج کر دیا ہوا ہے۔ جھوٹے معاشرے میں اعلیٰ عہدے، معاشی برتری، اعلیٰ مقام دینی منافقوں کے یہ عزت واحترام کے پھول ہیں۔لیکن ملت اسلامیہ کے نام اور کریکٹر پر بد نصیبی، بدنامی اور رسوائی کے کانٹے اور سیاہ دھبے ہیں۔
ہمیں غور کرنا چاہیئے۔ فکر میں ڈوب کر حالات کا جائزہ اطمینان سے لینا چاہیے۔ تاکہ ملت اسلامیہ کا رخ اسلامی ضابطہ حیات کی طرف موڑا جا سکے۔حکمران اگر اپنی فرعونی زندگی اور اپنے خرچ و اخراجات کم کردیں اور جمہوریت کے باطل،غاصب نظام اور سسٹم سے نجات حاصل کر لیں ۔آپنی فرعونی زندگی کی آرزووٗں اور خواہشات کو سمیٹ لیں۔ عام آدمی کی طرح زندگی بسر کریں۔تو ملک کا خزانہ، دولت، وسائل محفوظ ہو جائینگے۔نہ وہ باغ سے سیب توڑیںگے نہ انکی افسرشاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کی اتنی بڑی غیر ضروری افواج پورے ملک کے باغوں کے باغ خالی کر جائیگی۔ا نصاف کو سپریم کورٹ کے ایوانوں سے نکال کر مسجد شریف کے صحن تک پہنچا دو۔کوئی جھوٹا مقدمہ نہیں بنے گا۔کوئی جھوٹا منصف نہیں ہوگا۔کوئی جھوٹ پر مشتمل پی ایل ڈی تیار نہیںہوگی۔ملک امن کا گہوارا بن جائیگا۔ اللہ تعا لیٰ نے پاکستان کو خاص نعمتوں سے نوازا ہوا ہے۔ چاروںموسموں کا سلسلہ یہاں موجود ہے۔ہر قسم کی خوراک اور لباس گندم، چاول، مکی، باجرہ، چنے،چینی۔عمدہ قسم کی کپاس اور اعلیٰ قسم کی اون، ہرقسم کی دالیں، دال مسور،منگی،ماش ، موتھ ،چنے کی دال۔ہر قسم کے طرح طرح کے پھل،ہر قسم کے میوہ جات۔یہاں پر تو دنیا کا عمدہ نمک تک اس ملک میں وافر مقدار میں میسر ہے۔ تیل۔ گیس۔ پانی۔ ڈیم۔ نہریں اور ہر قسم کی معدنیات کے قیمتی ذخائر موجود ہیں۔یہ ملک مخفی وسائل اور دولت کے چشمے اگلتا چلا آرہا ہے۔ پوری ملت کو ان چند عیاش سیاستدانوں اور حکمرانوں نے دین سے دوری کی سزا میں جھونک رکھا ہے۔دین کی روشنی میں عدل قائم کر دو۔ رشوت، کمیشن، کرپشن اور ہر قسم کی لوٹ مار ختم ہو جائیگی۔چند انتظامیہ کے افراد ملک میں کسے جگہ بھی کسی محکمہ کی ٹریفک جام نہیں ہونے دینگے۔دوکانوں اور کاروبار کو تالے لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔عوام الناس کا رخ سرکاری ملازمتوں کے ڈاکوں ، لو ٹ مار اور قومی خزانہ پر شب خون مارنے کی بجائے محنت، مشقت، ہنر مندی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرکے زراعت، صنعتوں اور تجارت کی طرف مبذول کر ا دو۔اسلام کے نفاذ سے بیشمار معاشی اور
معاشرتی برائیاں خود بخود ختم ہو جائینگی انشا اللہ یہ سر زمین آپکو کسی کا محتاج نہیں چھوڑیگی۔غور کریں ، فکر سے کام لیں۔ملک کے تمام ایم پی اے۔ایم این اے،سینٹر صاحبان،افسر شاہی ،نوکر شاہی،منصف شاہی اور ہر طبقۂ خیال کے اہل وطن تدبر سے کام لیں اور درج ذیل سوا لات کے جواب ملت کو پیش کریں ۔تاکہ ملت کی نجات کا رخ درست متعین کیا جا سکے۔
۱۔ پاکستان چودہ کروڑ مسلمانوں پر مشتمل ایک ملت کا نام ہے۔ پاکستان میں ۷۰ فیصد کسان، چودہ کروڑ انسانوں کے لئے گندم ،چاول، دالیں، گڑ، شکر، چینی، طرح طرح کی سبزیاں، ہر قسم کے پھل، بہترین میوہ جات ، لاجواب چھوٹا بڑا گوشت، دودھ ،دہی، مکھن، گھی ، کے ذخائر پیدا کرتے ہیں۔ تمام اہل وطن کو تواتر کے ساتھ ہر قسم کی خوراک مہیا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ دنیا کی بہترین چالیس فی صد کپاس اور دنیا کا اول درجہ کا چاول یہی محنت کش کسان مہیا کرتے ہیں۔ جس سے چودہ کروڑ عوام اپنا بدن ڈھانپتے ہیں اور بیرونی ممالک کوبھیج کر ملک کے لئے زر مبادلہ کماتے ہیں۔ چھوٹے بڑے جانوروں کی کھالیں مہیا کرتے ہیں۔جس سے جوتے تیار ہوتے ہیں اور پاؤں ڈھانپے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ بیرونی ممالک کو بھیج کر ملک کیلئے زر مبادلہ کمایا جاتا ہے۔ ملک کی تمام فیکٹر یاں، تمام کارخانے، تمام صنعتی یونٹوں کو یہی کسان اور محنت کش خام مال مہیا کرتے ہیں۔ جس سے ملک کی صنعتیں، وافر مقدار میں سٹاک مہیا کرتی ہیں، جس سے ملک کی اندرونی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور بیرونی تجارت سے زر مبادلہ کے ذخائر پھلتے پھولتے اور بڑھتے رہتے ہیں۔
۲۔ پاکستان میں ۲۹ فی صد مزدور، محنت کش، ہنر مند، اور عوام الناس جو ملک کی فیکٹریوں کارخانوں تمام صنعتی یونٹوں میں بڑی لگن کے ساتھ اپنے فراٗ ئض ادا کرتے ہیں۔ سڑکیں بناتے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری بلڈنگیں، ڈیم ، تیار کرتے ہیں۔ ملک میں ہر قسم کا تعمیر کا کام سرانجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ انہی کی محنت و مشقت کی وجہ سے ملک معاشی خوشحالی کی منازل طے کرتا چلا آ رہا ہے۔ الیکٹریشن، مکینیک، اور مختلف خرادیئے اور مختلف اقسام کے عظیم ہنر مند ، ان کے علاوہ مالی، چوکیدار، گن مین ، ڈرائیور ، خانسامہ سپاہی سے لے کر نان گزٹیڈ آسامیوں پر متعین یہی طبقہ ، فریضہ تعمیر و تکمیل سرانجام دیتا ہے۔ اور ملک کے تمام محکموں میں ہر قسم کی ذ مہ داری ، اور فرائض سرانجام دیتا چلا آ رہا ہے۔پاکستانی افواج کے لاکھوں سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھے شہادت کا جام نوش کرنے اور دشمن پر ضرب کاری لگانے کیلئے منتظر کھڑے رہتے ہیں۔دشمن کے چھ سو ٹینکوں کو ابابیلیں بن کرنیست ونابود اور ریزہ ریزہ کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔وہ شاہباز چھ سو جانوں کا نذرانہ مالک حقیقی کو پیش کرکے ایک تاریخ رقم کر گئے۔انکے گمنام نام تاریخ کے سنہری حروف میں درج ہو گئے۔انکی طرف سے انکے سپہ سالاروں کو تمغوں ،ترقیوں، ملک میںپھیلے ہو ئے زرعی زمینوں پر مشتمل مربعوں کی الاٹمنٹوں ،بیشمار انعامات کے اجرا،انکی کا میابیوں اور انکے جشنوں کو مبارک۔ انہوںنے تو یہ جانیںاسلام کے نام پر پیش کیں۔
۳۔ ۷۰ فی صد کسان اور ۲۹ فی صد مزدور ہی ملک کے اصل وارث ہیں۔ یہ ملکی وسائل پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں فیکٹریاں، ملیں، کارخانے ، یہی لوگ لگاتے اور چلاتے ہیں۔ انہی کی محنت کی بدولت، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ دولت کماتے ہیں اور سرکاری خزانہ بھرتے رہتے ہیں۔ زر مبادلہ کے وافر ذخائر انہی کی محنت، کاوش کے مرہون منت ہیں۔ اورا ن ہی کے دم سے ملک خوشحالی کی منازل طے کرتا چلا آ رہا ہے۔

۴۔ ملک کا ایک فیصد شاہی طبقہ، جاگیردار ، سرمایہ دار ، سیاست دان ، ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر، وزیر، مشیر، سفیر، وزرائے اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم اور صدر پاکستان کے عہدوں پر متعین ہوتے چلے آ رہے ہیں۔یہ طبقہ جو ملک میں الیکشن میں حصہ لیتا ہے ان کی تعداد صرف سات آٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے بارہ سو کے قریب چاروں صوبوں میں ایم پی اے ،ایم این اے ، سینیٹروں، کا چناؤ ہوتا ہے۔ جو ملک کا نظم و نسق سنبھال لیتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں جن کو انگریز ی زبان پر عبور حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ نہ وہ لکھ سکتے ہیں اور نہ وہ بول سکتے ہیں ،نہ وہ سمجھ سکتے ہیں۔ اور یہی حال چودہ کروڑ عوام الناس کا ہے۔ جواس زبان سے نابلد اور ناآشنا ہیں۔ لیکن ستم بالائے ستم اس ایک فیصد افسر شاہی،منصف شاہی ،نوکر شاہی اور مغربی ممالک کو ملک کی ہر قسم کی پالیسیوں کو سمجھنے کی سہولت کے لئے انگریزی زبان کوقومی زبان اردو پر تر جیح دے رکھی ہے۔انگریزی زبان کو سرکاری حثیت اسی لئے دے رکھی ہے۔
۵۔ ملک کا ایک فی صد طبقہ، ملک کے اعلیٰ طبقاتی انگلش میڈیم اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔انگریزی زبان پر عبور حاصل کرتے ہیں۔ اسی زبان کی فوقیت کی بنا پر ایف اے، بی اے کے بعد افسر شاہی، منصف شاہی ، نوکر شاہی کی سرکاری آسامیوں پر اپنے آباؤ اجداد کے اثر و رسو خ کے ذریعے پبلک سروس کمیشن یا سیلکشن کمیٹی سے کلیرنس حاصل کرکے ملک کی انتظامیہ، عدلیہ اور نوکر شاہی کی اعلیٰ پوسٹوں پر متعین ہو جاتے ہیں۔ یہ کالے انگر یز، انگریزی زبان کی فوقیت کی وجہ سے ملک کا تمام کاروبار، اور نظم و ضبط اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ وہ اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت، کمیشن،کرپشن، کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔وہ سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں۔ ملک کی تمام پالیسیاں اور تمام انتظامی امور ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ مارشل لا حکومتیں ہوں یا سیاسی۔ان کا جھٹکا کرنا،ان کو ذ لیل کرنا ،ان کوخوار کرنا، ان کی تذ لیل کرنا ان کا نصب العین بنا چلا آ رہا ہے۔ یہ انتظامی سکالر ملک کے انتظامی امور کے کینسر ہیں۔ دوسری طرف انگر یزی زبان پر قدرت رکھنے والے منصف جرا ئم کو قانونی تحفظ دے کر عدل و انصاف کو دیمک کی طرح چاٹتے جا رہے ہیں۔ یہ دونوں ونگ انتظامیہ اور عدلیہ ملک کی تباہی کا باعث بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی سیاستدان، کوئی حکمران،کوئی جرنیل اس افسرشاہی، منصف شاہی، نوکر شاہی کے سامنے آج تک ملک میں ٹھہر نہیں سکا ۔ ان کی بدکرداری اور عدل و انصاف کو کچلنے والی پالیسی کے باعث مشرقی پاکستان پہلے ہی الگ ہو چکا ہے۔ آج تک اتنے بڑے سانحہ کے مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔ نہ انتظامیہ نے ملزموں اور مجرموں کا کھوج لگایا۔ اور نہ ہی منصفوں نے ان کو کسی قسم کی سزا دینے تک کا ارادہ کیا۔ اصل میں یہ تمام طبقہ ایک ہی خانوادہ کے لوگ ہیں۔ تمام ملک کرپشن، رشوت، کی زد میں آ چکا ہے۔قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ اور دہشت گردی کے ظالم شکنجے معاشرے میں انہوںنے رائج پذیر کر رکھے ہیں۔ملک تباہی کی گرپ اور گرفت میں ہے۔
۶۔ ملک میں پچھلے پندرہ سولہ سال سے سر کاری نوکریاں عوام الناس کے لئے بند ہیں۔ لیکن ان شاہی خا نوادوں کی اولاد کے لئے ہر سال افسر شاہی، منصف شاہی، نوکر شاہی کی آسامیاں بڑھائی جاتی ہیں۔ جتنے وزیر ،مشیر، سفیر بڑھینگے ہر ایک کا دائرہ تنگ کرنے اور انکو مقید کرنے کیلئے ہر ایک کا حصار کر لیتے ہیں۔سیکٹری،ایڈیشنل سیکٹری،جائینٹ سیکٹری،ڈپٹی سیکٹری، سیکشن افیسر اور بیشمار افسران اور انکا عملہ
گاڑیوں،سرکاری محلوں ،ٹیلیفونوں اسکے علاوہ بیشمار کینسر کے جراثیم ملکی خزانہ کو چمٹ جاتے ہیں ۔سیاسی رشوتیں جووزارتوں کی شکل میں دی جاتی ہیں انکے ساتھ ایک جم غفیر سرکاری دہشت گردوں کا سرکاری ملازمتوں میں گھس آتا ہے۔ ان کی اس غنڈہ گردی کی پالیسیوں اور بد دیانتی سے ملک میں معاشی دہشت گردوںاور ملکی خزانہ نوچنے والی فوج میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔دوسری طرف چودہ کروڑ عوام کی اولادوں کو سرکاری ملازمتوں سے زبردستی برخواست کرنے کا عمل بڑی بے رحمی سے جاری کر دیتے ہیں۔ آج تک پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ کسی افسر شاہی،منصف شاہی کے قبیلہ کے کسی فرد کو گورنمنٹ نے نوکری سے سر پلس یا سبکدوش کیا ہو۔ بیروزگاری کی معاشی اذیتوں،زکوۃ ،عشر،ٹیکسوں،ذاتی مکانوںپرٹیکسوں ،منی بجٹوں ، اضافی بجٹوں،بجلی ،پانی ،گیس کے بے شمار اضافی بلوں نے ملک میں معاشی دہشت گردی کی آگ گھر گھر لگا رکھی ہے۔غریب چودہ کروڑ عوام ان معاشی اذیتوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے خود سوزیا ں اور خود کشیاں کرتے چلے آرہے ہیں۔ کیا یہ ملک صرف غاصب جاگیردار، ظالم سرمایہ دار، رشوت خور بے دین نظام کی افسر شاہی کے سکالروں، عدل کش،بریف کیس مافیا پر مشتمل بے دین سسٹم کی منصف شاہی کے دانشوروں،بد دیانت،بے حیا بے دین کلچر کی کرپٹ نوکر شاہی کے مدبروں کے لئے معرض وجود میںلایاگیا تھا۔ کیا اس بے دین رہزن نظام اور اس بے دین لٹیرے سسٹم اور اس کے حکمرانوں کو مزید ملک وملت پر مسلط رکھنا چاہتے ہیں۔ ملک کا اکثر و بیشتر بجٹ ان کی شاہی تفاوتی تنخواہوں، شاہی سرکاری سہولتوں، شاہی سرکاری رہائش گاہوں، شاہی سرکاری دفتروں، شاہی سرکاری گاڑیوں، سرکاری پٹرول، ڈرائیوروں، اندرون ملک و بیرونی ممالک کے دوروں اور حسب مرتبہ سرکاری خزانہ لوٹنا اور خالی کرنا ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔آٗئی ایم ا یف کے ۳۸۔ ارب ڈالر کے قرضے بھی یہ نظام نگل گیا ہے۔
۷۔ پاکستان میں ہندو ازم کا طبقاتی نظام سرکاری طور پر رائج ہے۔طبقاتی تعلیمی نظام،طبقاتی تعلیمی نصاب،طبقاتی حکمران،طبقاتی افسرشاہی،طبقاتی منصف شاہی،طبقاتی نوکر شاہی،طبقاتی سرکاری تنخو اہیں،طبقاتی سرکاری سہولتیں،طبقاتی شاہی رہائشیں،طبقاتی شاہی دفاتر،کیا ہم برہمن ہیں یعنی کلاس ون افسر،کیا ہم کھتری ہیں یعنی کلاس ٹو افسر،کیا ہم کھشتری ہیں یعنی کلاس تھری اہلکار،کیا ہم شودر ہیں یعنی کلاس فور بھنگی۔مالی۔اردلی۔چوکیدار،گن مین،ڈرائیور، سپاہی۔کیا یہ اسلامی طرز حیات ہے۔کیا یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔کیا یہ اسلامی تشخص ہے۔کیا مسلمانوں کو منافقت اور بدکرداری کی تربیت سے پسماندہ اور تباہ نہیں کیا جا رہا۔کیا مسلمانوں اور انکی نسلوں کو تباہ و برباد اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم نہیں کیا جا رہا۔کیا اس نظام اور سسٹم سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔
۸۔ پاکستان کے ۷۰ فیصد کسان،۲۹ فیصد مزدور،محنت کش،ہنر مند اور عوام اس جمہوریت کے باطل،غاصب بے دین طبقاتی نظام کو سرکاری طور پر اپنانے کے بعد کیا ہم مسلمان کہلا سکتے ہیں۔ یاہندویا کافر یامنافق۔چودہ کروڑ ملت اسلامیہ کے فرزندان اپنے دینی رہزن سیاستدانوں،حکمرانوں،افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کے دروازے پر سوال لئے کھڑے ہیں۔کیا آپ اس جمہوریت کے بے دین مذہب کے نظا م کو جاری رکھنے اور ا س کرپٹ طبقہ کو تحفظ دینے کیلئے الیکشن لڑے ہیں۔خبردار اب جمہوریت کے الیکشن لڑنے والوں کی تباہی کا گجر بج چکاہے۔چودہ کروڑمسلما نوں کا یہ دینی اور ٖ فطرتی حق ہے کہ وہ اس نظام اور سسٹم کو ملک سے رخصت کردیں۔
۸۔ پاکستان میںجمہوریت کا مذہب چلانے کے لئے یہودیوں کا معاشی نظا م سرکاری طور پر یہودیوں کے ایجنٹوں نے ملک پر مسلط کر
رکھاہے۔سودی یہودی معاشی نظام کو چلانے کے لئے ملک میں سرکاری سطح پر یہودی معاشی تعلیمی نصاب سکو لوں۔کالجوں۔ یونیورسٹیوں اورسرکاری اکیڈمیوں میں جاری ہے۔چودہ کروڑ مسلمانوں کی تربیت اور ٹریننگ سودی یہودی معاشی نظام کی تعلیم و تربیت کے تحت ملک میں جاری ساری ہے۔ملک کا نظم و نسق انہی یہودی معاشی دانشوروں کے ہا تھوں میں چلا آرہا ہے۔پاکستان میں قرآن حکیم کی تعلیمات اور اسلامی نظام کوسرکاری سطح پر منسوخ کر رکھا ہے۔مسلمانوں کوان ظا لم سیاستدانوں نے یہودیت میں بدلنے کی عملی سازش ملکی سطح پر مسلط کر رکھی ہے۔آنیوالی نسلوں کی زندگی اس سودی یہودی تعلیمات کو حاصل کرنے اور سودی یہودی معاشی نظام کی سرکاری طور پر پیروی کرنے کا مہلک عمل ملک میں جاری چلا آ رہا ہے۔ملک اور ملت ان سیاستدانوں ، حکمرانوں ،افسر شاہی،منصف شاہی،نوکر شاہی اور یہودی معاشی سکالروں کی گرفت میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ملت اسلامیہ کودین سے فارغ کرکے یہودیوں کے علم اور عمل سے گذار کر مسلمانوں کے تشخص کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ چودہ کروڑ اہل وطن مسلمان ان تمام سیاستدانوں سے سراپا سوال بنے کھڑے ہیں۔کیا آپ نے الیکشنوں میں حصہ اس لئے لیا تھا کہ اسلامی نظریاتی ریاست کے تصور کو مزید تباہ اور مسخ کر سکو گے۔ ملت کو بتائیں کہ آپ یہودیوں کے نمائند ے ہیں یا مسلمانوں کے تا کہ ملت اسلامیہ آپ کو اپنا فیصلہ سنا سکے۔ملک کو آپ نے سرکاری طور پر ایک بے دین ریاست بنا رکھا ہے۔عمل دین کے خلاف ہو تو نماز اور عبادت کیسی۔ نما ز اس وقت قائم ہو سکتی ہے جب انفرادی اور اجتماعی زندگی خدا اور رسولﷺ کے احکام کے زیر فرمان ہو۔اہل وطن مسلمانوں کی نجات کیلئے، علما کرام اور مشا ئخ کرائم اس پر اپنی رائے سے ملت اسلامیہ کی رہنمائی فرماویں تاکہ ملت کا عبادات اور نماز کا قبلہ درست ہو سکے اور ملت کا اسلامی تشخص بحال ہوسکے۔امین۔
۹۔ جمہوریت کا طرز حکومت مغربی دانش وروں کا تیار کردہ ایک منشور ہے۔جس کے تحت وہ الیکشن کرواتے ہیں۔ممبروں کا چناؤ کرکے وہ اسمبلیاں تیار کرتے ہیں۔ووٹرز ووٹ کے ذریعہ ممبروں کا چناؤ کرتے ہیں۔نہ ہی ووٹر کی اہلیت کو پرکھا جاتا ہے اور نہ ہی ممبروں کے احوال اور واقعات کو عدل و انصاف کے ترازو پر تولا جا تا ہے۔ گدھے اور گھوڑے۔ راہی اور رہزن۔چور اور سادھ۔نیک اور بد۔صالح اور کرپٹ۔ مسافر اور رہزن۔زانی اور متقی۔ شرابی اور پرہیز گار۔ رشوت خور اور ایماندار۔ غریب اورمعاشی دہشت گرد۔ منافق اور مسلمان کی تمیز ختم کر دی جائے۔تو تب جا کر جمہوریت کے الیکشنوں کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ وہ ملک کو چلانے کے لئے ممبر چنتے ہیں۔ممبروں سے اسمبلیاں اور اسمبلیوں سے وزیر،مشیر۔سفیر اور اعلیٰ ارکان حکومت کا چناؤ عمل میں لایا جاتا ہے۔تمام معاشی اور معاشرتی دجال اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ جمہور یت اسلام کش مذہب کی حکومتیں مغرب کے ایک نظریاتی طریقہ کار سے معرض وجود میں آتی چلی آرہی ہیں۔ یہی اسمبلیاں ملک میں قانون سازی کے فرائض ادا کرتی ہیں۔ بین الا قوامی سطح پر اسی نظام کے تحت یو۔این۔او۔ کی عدالت عظیم معرض وجود میں آئی ہوئی ہے۔ اقوام عا لم کی موجودگی میں عدل و انصاف کو یہی ادارہ کچلتا ہے۔ پاکستان میں بھی جمہو ریت کا نظام قائم ہے۔ قانون سازی سے ظلم و بر بریت کاعدل و انصاف کا پیمانہ ہر وقت جمہو ریت کی نگری میں تیار کیا جا سکتا ہے۔عشر اور زکوٰۃ کے علاوہ ان گنت ٹیکسوں،لاتعداد قیمتوں میں اضافوں،منی بجٹوں ،انکم ٹیکسوں،سیلز ٹیکسوںاور طرح طرح کے بیشمار ٹیکسوں کے اجرا کا نفاذ۷۰۔فیصد غریب کسانوں اور۲۹ فیصدمزدور وں ،محنت کشوں، کاروباری لوگوں اور ہنر مندوں پر عائد کرکے انکو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کیا جا سکتا
ہے۔ اسکے بر عکس ایم۔پی۔اے، ایم ۔ این ۔ اے ، وزیر ،مشیر،سفیر،افسر شاہی،منصف شاہی ،نوکرشاہی کی اعلیٰ تنخواہوں میں سو فیصد اضافوں ،بیشمار سرکاری سہولتوں، اعلیٰ شاہی سرکاری رہائشوں ، اعلیٰ شاہی گاڑیوں،اعلیٰ شاہی زندگی کی آشائشوں کو رائج الوقت رکھا جا سکتا ہے۔اسکے علاوہ رشوت،کمیشن ،لوٹ ماراور کرپشن کے غاصبانہ اختیارات انکے پاس ہر وقت محفوظ ہوتے ہیں۔ ملکی خزانہ لوٹنا اور ملک بیچ کر بیرونی قرضہ جات حاصل کرنا اور انکو نگل جانا انکی زندگی کا نصب العین بن چکا ہے۔اس کے بر عکس قرآن پاک مسلمانوں کی ایک الہامی کتاب ہے۔اس کو پڑھنا،اس کو سیکھنا اور اس پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ قرآن حکیم کی تعلیمات کے مطابق خلیفہ وقت اور مجلس شوریٰ کے انتخاب اور چناؤ کا طریقہ کار ، جو اللہ تعالیٰ نے دستور مقدس کے ذریعہ مسلمانوں اور پوری انسانیت کو بتایا ہے۔ اس میں رد و بدل نہیں ہو سکتا۔مجلس شوریٰ کے ممبرکے انتخاب کے لئے کوئی شخص اپنا نام پیش نہیں کر سکتا۔قرآن حکیم کی تعلیمات کے مطابق اس کا پرہیز گار ہونا،متقی ہونا،نیک اور صالح ہونا،صبر و تحمل اور ایماندار ہونا،حق پرست اور صادق ہونا اور حضور نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ اور اخلاق حمیدہ کی خو بیوں سے مالا مال ہونے کا شرف رکھنے والے انسان کا انتخا ب لازم اور ضروری ہوتا ہے۔ انکی زندگی سادہ اور مختصر ضروریا ت سے وابستہ ہوتی ہے۔وہ سرکاری خزانہ کے امین ہوتے ہیں۔وہ عدل و انصاف کے پیکرہوتے ہیں۔انکے اسمبلی ہال اور سپریم کورٹ بلڈنگیں مسجد شریف کے صحن ہوتے ہیں۔وہ بڑے سے بڑے کیس کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ ایک دو دن میںدینی اصول و ضوابط کے مطابق سماعت کرکے فیصلے سے آگاہ کر دیتے ہیں۔مدعی اور مدعیٰ علیہ کو کسی قسم کے اخراجا ت برداشت نہیں کرنا پڑتے۔جزا سزا کا اطلاق بھی فوری طور پر عمل میں لایا جاتا ہے۔نہ جھوٹے کیس درج ہوتے ہیں اور نہ ہی جھوٹے فیصلے سنائے جاتے ہیں اور نہ ہی ظلم پروان چڑھتا ہے۔ نہ رشوت لی جاتی ہے اور نہ انصاف بکتا ہے۔ نہ عدل و انصاف مہیا کرنے والے منصف فرعون وقت اور معاشی دجال ہوتے ہیں۔ عدل و انصاف ملک میں قائم ہوتا ہے۔ملک کا خزانہ محفوظ ہوتا ہے۔ ملک میںدین کی روشنی میںایک ہی تعلیمی نظام اور ایک ہی نصاب تعلیم کا نفاذ ہوتا ہے۔ملت کا کردار خود بخود اسلامی تشخص میں ڈھلتا جاتا ہے۔کیا آپ اس نظام کو مزید رائج رکھ کر ملی خزانہ،دولت،وسائل اور ملک فروخت کرکے آئی ایم ایف جیسے اداروں کے قرضوں کو لوٹنے کا مزید موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ اہل وطن مسلمانوں کو آپنی رائے سے مطلع کریں۔
۱۰۔ وقت نے کروٹ لے لی ہے۔ملت جاگیر داروں، سرمائے داروں اور انکی افسر شاہی،منصف شاہی ،نوکر شاہی کے جمہوریت کے بے دین،ظالم،غاصب سیاستدانوں،حکمرانوں اور منافق سکالروں ، سودی یہودی معاشیات کے دانشوروںاور ہندوازم کے طبقاتی فلسفیوں،منطقیوں اور مفکروں کا ظاہری اور باطنی راز چودہ کروڑ مسلمانوں پر افشاں ہو چکا ہے۔ان اسلام کے دشمنوں اور دین کے منکروں نے اس ترقی یافتہ دور میں قرآن حکیم کی بے حرمتی کے جرم کا واضح ارتکاب کر رکھا ہے۔ملک و ملت کو انکے تیار کردہ طبقاتی تعلیمی نظام،طبقاتی تعلیمی نصاب اور ۱۸۵۷ ء کے انگریز کے تیار کردہ ایکٹ کے تحت تمام قوانین اور ضوابطوں کو منسوخ کر کے اسکی جگہ اسلامی ضابطہ حیات کی نورانی تعلیمات کو فورا نافذا لعمل کرنا نہائت ضروری ہے۔ اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لئے جدید علوم، سائنسی، زرعی ،ایٹمی اور ہر قسم کی ٹیکنالوجی کو دنیا کے کونے کونے سے اکٹھا کرکے اس کوتعلیم کا حصہ بنانا ملت اسلامیہ کے لئے ایک نیک شگون ہوگا۔ جدید تعلیم کو حاصل کرکے ملت کے ہونہاروں کو لیس کرنا وقت کی ہم ضرورت ہے۔ ان سیاستدانوں اور ان کی تیار کردہ انتظامیہ اور عدلیہ کو فارغ کر کے
اسلامی ضابطہ حیات کو بچانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔پاکستان ان چند سیاستدانوں اورچند افسر شاہی،منصف شاہی پر مشتمل اسلام دشمنو ں اور منافقوں کا ملک نہیں۔یہ چودہ کروڑ لا الہ الا اللہ محمدا لرسول اللہ کے پروانو ں کا ملک ہے۔ قوم اور پوری ملت انکے اس غیر اسلامی طرز حیات کے با ئیکاٹ کی نوید دیتی ہے۔
۱۱۔ پاکستان میں چودہ کروڑ مسلمانوں کا سرکاری مذہب جمہوریت رائج ہے۔ جو مغربی دانشوروں، مفکروں، سیاست دانوں، کا تخلیق شدہ ہے۔ ملک میں تمام تعلیمی ادارے تمام کالج، تمام یونیورسٹیاں، اور تمام اکیڈمیاں، جمہوریت کی حکومت قائم رکھنے اور چلانے کے لئے ایک مخصوص تعلیمی نصاب کے تحت ملت اسلامیہ کے نونہالوں کی سرکاری سطح پر تعلیم و تربیت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ جو اس سرکاری مذہب ، جمہوریت کے سکالر ، دانش ور، مدبر، مفکر ، سیاست دان، قانون دان، عدلیہ کے ارکان انتظامیہ کے ماہرین، ہر شعبہ زندگی کو چلانے کے لئے حسب ضرورت ہر فیلڈ میں کارکنوں کو تیار کر کے یہ تعلیمی کارخانے جمہوریت کی مصنوعات تیار کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس جمہوریت کے مذہب کے منتظمین اور ان کے قوانین اسلام کے نظریات اور دینی اداروں سے تعلیمات حاصل کرنے والوں کے لئے ان کا سرکاری طور پر حقہ پانی بند،سرکاری نوکریاں بند،انکو سرکاری طور پر شودر بنا رکھا ہے۔ جمہوریت کے مدبر ، مفکر، دانش ور، سکالر، سیاست دان، حکمران، قانون دان، عدلیہ کے ارکان ، انتظامیہ کے ماہرین، قرانی تعلیمات حاصل کرنے والوں اور ان نظریات کے لوگوں اور ان کی دینی درس گاہوں کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے لئے ملک کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں ان کی بھرتی پر سخت اور کڑی پابندی ہے۔ کیونکہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی شکل و سیرت، سے مشابہ دینی درس گاہوں کے طالبعلموں کو دہشت گرد اور ان کو سرکاری ملازمت مہیا نہیں کرتے۔ ان کی بدقسمتی و ہ کسی جمہوری ادارے کے کوالیفائیڈ نہیں ہوتے۔ پاکستان میں اسلامی نظریات اور دینی درس گاہوں کو قید و بند کی سزا میں مقید کر رکھا ہے۔ انہی نظریات کی روشنی میں ملک کی تمام دینی درس گاہوں کو ملکی سطح پر ختم کرنے کے لئے سرکاری تحویل میں لیا جارہا ہے۔ ان جمہوریت کے ماہرین کے دل میں یہ دینی درس گاہیں بری طرح کھٹکتی چلی آ رہی ہیں۔ کیونکہ ملک میں یہی دینی طبقہ ہے جو اسلامائزیشن کی بات کرتا ہے۔ ان سے وہ بری طرح خائف ہیں۔ وہ ایسے قانون ملک میں ان اداروں کے لئے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ جمہوریت کے پالتو سیاست دان اور ان کی سرکاری مشینری ان کو قانونی زنجیروں میں جکڑ کر اسلام کی روح کو مزید نیست و نابود اور مسخ کر سکیں۔یہ سرکاری سکالر، ہر آنے والے حکمرانوں کو گمراہ کن پالیسیوں کے ذریعے اسلام کش قوانین کاراستہ بتاتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں اس جمہوریت کے الیکشن کے بعد ان کو مزید حکمرانی کا موقع فراہم کرنا اسلام دشمنی کے مترادف ہو گا۔
اے سیاست دانو! اے حکمرانو! تمھیں یاد ہو یاشائد نہ بھی یاد ہو۔ پھر بھی سن لو۔ پاکستان دو قومی نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا تھا ۔ یہ کن قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا ۔ یہ بھی تمہیں بتانا ضروری نہیں۔ البتہ یہ بتانا ضروری ہے ۔ کہ پاکستان ایک دینی ریاست ہے۔ اسلام اس کا دین ہے ۔ اردو اس کی قومی زبان ہے۔ یہ ایک دینی نظریاتی ریاست ہے ۔ اسلام کا ایک اپنا ضابطہ حیات ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کا مذہب سرکاری طور پر نافذالعمل ہے ۔ پاکستان میں انگریزی بطور سرکاری ز بان رائج ہے۔ ملک میں ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ کے تحت انتظامیہ، عدلیہ کا نظام، سودی یہودی معاشیات کا نظام ،نوکر شاہی، افسر شاہی، منصف شاہی، مشیر شاہی، وزیر شاہی، وزیر اعلیٰ
شاہی، گورنر شاہی، وزیر اعظم شاہی، پریزیڈنسی شاہی، کا طبقاتی نظام جمہوریت کے مذہب کا یہ غیر اسلامی سرکاری نظام ملک میں رائج ہے۔ جس کو چلانے کے لئے ملک کے تمام طبقاتی تعلیمی ادارے سکول، کالج، یونیورسٹیاں، انتظامیہ کی نوکر شاہی، افسر شاہی، منصف شاہی، معاشیات کے سکالر، سیاسیات کے مدبر، قانون سازی کے دانش ور، غرضیکہ حسب ضرورت اس نظام اور سسٹم کے کارکن ، اور ماہرین تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ قران و سنت کے دستور اور اس کا طریقہ حکومت، اس کے قوانین ، اس کے ضوابط ، اس کے نظام اور سسٹم اور اس کی تعلیمات کو سرکاری طور پر مسترد اور منسوخ کر رکھا ہے ۔ پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کی تعلیمات کے خلاف بغاوت میں دو چار ہیں۔کیا آپ اسلام کی تعلیمات اور طرز حکومت قائم کرنے کو جائزاور مناسب سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپکی مدد کریں۔ملت کا بگڑا ہوا کام سنوار جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپکا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
۱۔ کیا ۱۸۵۷ ء کے انگریز کے مسلط کردہ ایکٹ کے تحت پاکستان میں جمہوریت کا مذہب آج تک سرکاری طور پرنا فذ العمل نہیں ہے۔ جس کے تحت جاگیر داروں اورسرمایہ داروں کومکمل طور پر حکومتی اعلیٰ اداروں پر کنٹرول حاصل ہے۔
۲۔ کیا ہمارے ملک کے تمام سکولز، کالجز، یونیورسٹیاں، اکیڈمیاں اور مخلوط تعلیمی ادارے جمہوریت کے نظام کو چلانے کیلئے ایک مخصوص تعلیمی نصاب کے مطابق ملک کی تمام انتظامیہ کی نوکر شاہی،افسر شاہی اور عدلیہ کی منصف شاہی۔معاشیات کے سودی یہودی معاشی سکالر اور ہندو ازم کے طبقاتی مدبر جمہوریت کے مذہب کے حکومتی نظام کو چلانے کیلئے تیار کرتے چلے نہیں آرہے ہیں۔
۳۔ کیا پاکستان کے تمام اعلیٰ شاہی اخراجات والے تعلیمی اداروں پر جاگیر داروں،سرمایہ داروں،سمگلروں، بلیکیوں، سیاستدانوں، حکمرانوں اور رشوت خور معاشی غاصبوں کی اجارہ داری قائم نہیں۔ اس تعلیمی اجارہ داری کی بنا پر انکی اولادیں انتظامیہ اور عدلیہ پر افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کی شکل میں ملک کے تمام اداروں پر قابض ہوتی چلی نہیں آرہی۔ اس طرح ملک کے اقتدار اعلیٰ کے تمام ایوانوں اور انتظامیہ اور عدلیہ کے تمام اداروں پر انکی اجارہ داری قائم ہوتی چلی نہیں آرہی۔
۳۔ کیا ملک کا خزانہ،دولت،وسائل اور ہر قسم کی ملکی املاک یہ بد کردار لوٹ مار کرنے والے سیاستدان اور ملک توڑنے والے رہزن حکمران انکی ۹۵ فیصد کرپٹ افسر شاہی،نوکر شاہی،منصف شاہی اپنی جاگیروں، کارخانوں، ملوں، فیکٹریوں، صنعتوں،رائے ونڈ ہاؤسوں، سرے محلوں،شاہی پیلسوں،کو حکومتی بالا دستی اور اقتدار کی نوک پر قانونی جرائم سے اپنی ملکیتوں میںبدلتے چلے نہیں آرہے۔ جو ۷۰ فیصد کسانوں اور۲۹ فیصد مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام الناس کی ملکیت ہیں۔کیا انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس ۳۸ ۔ارب ڈالر میں ملک گروی رکھ کر ۹۲۔ ارب ڈالر غیر ملکی بنکوں میں جمع نہیں کروائے ہوئے۔ملک کے قوانین صرف۔ ۹۹۹ فیصد عوام الناس کو طرح طرح کے ٹیکسوں،منی بجٹوں،قیمتوں میں اضافوں، مہنگائی کی سرنجوں،یوٹیلٹی بلوں کے بے جا اضافوں سے صرف کرش ہی نہیں بلکہ خود کشیوںاور خود سوزیاں کرنے پر مجبور کرتے چلے نہیں آ رہے۔ان ظالم سیاستدانوں اور رہزن حکمرانوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
۴۔ کیا ۱۹۴۷ ء سے جمہوریت پسند شاہی ٹولہ نے ملت کے چودہ کروڑ فرزندان کو دستور مقدس کے نظریات،علم،عمل اور کردار کی تعلیم و تربیت کو پروان چڑھانے کی بجائے سرکاری طور پر ختم اور منسوخ کرکے ا نہیں دین سے محروم نہیں کر رکھا۔ کیا یہ نظریاتی دہشت گرد چودہ کروڑ
مسلمانوں کی نسلوں کو ایک منافق کی عملی زندگی گذارنے کیلئے جمہوریت کے مذہب کا ملی تشخص تیار کرتے چلے نہیںآرہے۔ کیا اعلیٰ اقتدار کے ایوانوں پر مسلط بد کردار ملک لوٹنے والے سیاست دان، ملک توڑنے والے رہزن حکمران۔ ملت کی وحدت کو بیشمار سیاسی جماعتوں میں منقسم کرنے والے سیاسی سکالر اور اعلیٰ سرکاری منصبوں پر فائز ۹۵ فیصد کرپٹ رشوت خور افسر شاہی ، نوکر شاہی کی انتظامیہ، اور بریف کیس مافیہ پر مشتمل منصف شاہی کی عدلیہ کی امامت میں ہر وقت پوری ملت جمہوریت کے مذہب کی کفر کی نماز اور اس کے سجدے اور سجود ادا کرتی چلی نہیں آرہی۔کیا یہ سب اہل اقتدار ملکر دین کے خلاف اور متضاد جمہوریت کے مذہب کی باطل دین کش تعلیم اور غاصب تعلیمی نصاب رائج کرکے ملک کے تمام سکولز، کالجز، یونیورسٹیاں، اکیڈمیاں اور ملک میںتمام تعلیمی اداروںسے کفر کی نماز سکھاتے، اسکوسرکاری طور پر ادا کرواتے ا ور اس پر قانونی طور پر عمل پیرا ہونے کا پابند بناتے چلے نہیںآرہے۔اس کے بعد کیا ہم مسلمان کہلا سکتے ہیں۔یہ کیسے مسلمان سیاستدان اور جمہوریت کے مذہب کے ایجنٹ حکمران ہیں کہ ملک کا خزانہ لوٹتے اور شاہانہ تصرف میں لانے کے عمل کو جاری کئے ہوئے ہیں۔کیا انکے جرائم سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
۵۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق خوانگی زندگی میں یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوی بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔آؤ ۔ مل کر غور و فکر کریں اور اپنی ضمیر سے فیصلہ لیں ۔کہ کیا ہم اپنی بیوی،بیٹی، بہن،ماںکو زندگی کی ضروریات کے حصول،معاشی برتری اور سیاسی افادیت کی خاطر سیاست کے پنڈالوں، فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں، ہوٹلوں، سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں اور ہر شعبہ زندگی میںمردوں کے شانہ بشانہ مغرب کی طرح حقوق تحفظ نسواں اور آزادی ء نسواں کے نام پر انکی عزت،انکی عصمت،انکا پردہ، انکا احترام،انکا دین سے دوری کا عمل،انکے جنسی تحفظات اور انکے نان نفقہ کے دینی حقوق کو نبھانے کی بجائے انکو مخلوط مغربی تہذیب کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
ا۔ کیا آپ مغرب کی طرح ماں،بہن،بیٹی،بیوی اور مستورات کو گھر کی چار دیواری سے روز گار کی تلاش کیلئے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔


ب۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، بیویاں اورتمام مستورات مغرب کی طرح روز گار کی تلاش میں گھر سے باہر نکلیں ۔اپنی معاشی ضروریات پوری کریں اور چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے فارغ ہو جائیں۔غیر محرم مردوں کے ساتھ مخلوط زندگی گذاریں۔
پ۔ کیا آپ دین کے مطابق ماں۔بہن، بیٹی اور بیوی کی گھریلو اور خانگی زندگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ت۔ کیا آپ ما ں،بہن،بیٹی کو فرینڈ شپ کے تحت جنسی تعلق پیدا کرنے کا ما حول اور اس عمل کی اجازت دینا چاہتے ہیں اوراسلام کے ازدواجی بندھن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولﷺ کے دین کے خلاف بغاوت اور جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔
ث۔ کیا آپ مخلوط معاشرے سے شادی کے بغیر وکٹورین چائلڈ پیدا کرنا اور انکے لئے چائلڈ ہاؤسز تیار کرنا چاہتے ہیں۔
ج۔ کیا آپ عورت سے ماںبہن بیٹی بیوی دادی نانی خالہ پھوپھی چاچی ممانی اور تمام الہامی دینی رشتوں اور ان رشتوں کا تقدس، عزت، احترام اور ادب ختم کرنا چاہتے ہیں۔

چ۔ کیا آپ حیوانوں،جانوروں اور درندوں کی طرح جنگلی اور جنسی آزادی کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
ح۔ کیا آپ خدا اور رسولﷺکے عطا کردہ نظام اور ضابطہ حیات اور ازدواجی زندگی کے قوانین کو ان چند بے حیا،بد نصیب مغربی سکالروں، دانشوروں، مفکروں، مدبروں اور اسلام کش مغربی ایجنٹوں کے ہاتھوں چودہ کروڑمسلمانوں کی نظریاتی اور دینی سرحدوں کو مسخ کرنا اور نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔
خ۔ کیا ہم نے ملک میں یہودیوں کے دانشوروں کا سودی یہودی معاشی نظام رائج کرکے اللہ تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺکے خلاف جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
د۔ کیا سیاستدانوںنے دین کی تعلیمات اور اسکے ضابطہ حیات کو سرکاری طور پر منسوخ اور مسترد کرکے ملی وحدت کو کئی منشوروں اور کئی سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرکے ملت کی وحدت کو ختم اور اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ اور مسلمانوں کی تباہی کا سلسلہ جاری نہیں کر رکھا۔ اسطرح ہمارا سرکاری مذہب جمہوریت۔ہمارے آئمہ کرام جمہوریت کے اعلیٰ ایوانوں پر مسلط جمہوریت کے مذہب کے سیا سی نمائندگان۔ یعنی ملک لوٹنے والے غاصب سیاستدان اور ملک توڑنے والے رہزن حکمران۔ہمارے سرکاری امام ۹۵ فیصد کرپٹ افسر شاہی اوربریف کیس مافیہ پر مشتمل راشی منصف شاہی۔ہمارا سرکاری مذہبی تعلیمی نصاب۔ عیسائیت کے دانشوروں کا جمہوری نظام۔ہماری معاشیات کا سرکاری مذہبی نظام جمہوریت کا سودی یہودی معاشی نظام۔ہمارا سرکاری مذہبی معاشرتی نظام۔ جمہوریت ہندو ازم کا طبقاتی نظام۔ جمہوریت کے دانشوروں، سکالروں، مد بروں کا تعلیمی نصاب اور انکی درسگاہیں ۔ملک میں پھیلے ہوئے بے دینی پھیلانے والے سکولز، کالجز، یونیورسٹیاں، اکیڈمیاں اور تعلیمی ادارے۔خدا را ذرا سوچیں ! ۔ ہماری ملی زندگی دین کے خلاف کافرانہ تہذیب و تمدن میں ڈھلتی جا رہی ہے۔چودہ کروڑ مسلمان الفاظ کی نماز مسجد شریف میں پڑھتے ہیں۔سرکاری طور پرعلم،عمل اور کردار دین کے خلاف جمہوریت کے مذہب کے ایوانوں کے نما ئند گان کے بے دین قوانین اور ضوابط کے ادا کرتے ہیں۔پوری ملت کواس منافقت کے عذاب میں ان ظالموں نے دھکیل رکھا ہے۔ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی تابع فرمان الہی نہیں ہے۔ان حالات میں دین کی نماز کیسی۔ کتا کنویں میں گرا پڑا ہو تو کنواں پاک کیسے ہو سکتا ہے جب تک اس میں سے کتے کو نکالا نہ جائے۔