To Download or Open PDF Click the link Below

 

  یہودیت ، عیسائیت، اور اسلام کی روشنی میں عورت کا مقام اور دستور مقدس پر جمہوریت کے بے دین مذہب کے سیاست دانوں،دانشوروں اور حکمرانوں کے آزادیء نسواں کے نام پر اسلام کش حملے

عنایت اللہ
قرآن پاک ایک صحیفہ نور ہے۔ جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام اور ان کی امتوں کی دینی تعلیم،ذ ہنی ارتقاء اور اعلیٰ اقدار کی بتدریج نشو ونما کے بعد آخری کتاب کی شکل میں نازل ہوا۔
۱۔ سب پیغمبران اپنی اپنی قوموں ، امتوں کو راہ ہدائت کا سبق سکھاتے رہے۔ اندھیروں میں چراغ حق جلاتے رہے۔ پستیوں سے بلندیوں کا راستہ دکھاتے رہے۔ مخالفین اور معترض لوگ بھی کفر کی داستانیں رقم کرتے رہے۔ ان کی امتوں کی دینی تعلیم ، ذ ہنی ارتقا اور اعلیٰ اقدار کی نشو و نما بتدریج پروان چڑھتی رہی۔ز بور، توریت، اور انجیل مقدس جیسی الہامی کتابیں بر گزیدہ اور عظیم پیغمبران ، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی روح القدس ہستیوں پر یہ الہامی کتابیں نازل فرمائی گئیں۔ وہ بھلائی کا درس دیتے رہے۔نیکی کو پھیلاتے رہے۔معجزا ت د کھاتے رہے۔ بیماروں کو شفا دیتے رہے۔ انسا نوںسے دکھ لیتے رہے اور سکھ دیتے رہے۔ مردو ں کوز ندہ کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حسین صفات کو بروئے کار لاتے رہے۔انسانوں کو انسانیت کی اقدار اور کردار سے روشناس کرواتے رہے۔ دلوں کو روشنی اور ذہنوں کو جلا بخشتے رہے۔ فطرت کے اصو لوں کی پاسداری کرتے رہے۔ انسانیت میں خیر کی خیرات تقسیم کرتے رہے۔ لڑائی، جھگڑے، فساد، جہا لت اور قتل و غارت کے عمل کو احسن طریقہ سے ختم کرتے رہے۔ پوری انسانیت کو جینے کا ڈھنگ سکھاتے رہے۔ امن و سکون کی معطر و مہکتی ہوائیں کردار کی خوشبو سے پھیلاتے رہے۔ دلوں میںا ترنے اور تسخیر کرنے کے گر اور گیان عطا کرتے رہے۔ دنیا کی بے ثباتی کا درس سنا تے رہے۔ فطرت سلیم کو سنوارتے اور اجاگر کرتے رہے۔قدم قدم پر راہ ہدایت اور بھلائی کی شمع جلاتے رہے۔خیر اور شر کے راستے بتاتے رہے۔ نوح کے وارث آسمانی تحائف اس لاڈلی امت پر اتارتے رہے۔لیکن بنی اسرائیل نے توریت شریف اور اس کی تعلیمات سے انحراف کیا۔
۲۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ امتیں اپنے پیغمبروں کی تعلیمات سے دور ہوتی گئیں۔ اور روشنی کو سمیٹتی اور ظلمات کو پھیلاتی گئیں۔عدل و انصاف کے پیمانے توڑتی رہیں۔ ظلم و ستم،قتل و غارت کے طا غوتی نصب العین کی پیروی کرتی رہیں۔گمراہی اور تباہی کے راستے پر گامز ن ہوتی رہیں۔ ظلم و ستم اور قتل و غارت کا سبق دہراتی رہیں۔آسمانی کتب کی روحانی تعلیمات سے منحرف ہوتی رہیں۔ اپنے اپنے محبوب و مقبول پیغمبران، کی توہین کی مرتکب ہوتی رہیں۔ انکی الہامی کتابوں سے دوری کا راستہ اختیار کرتی رہیں۔ اس طرح انہوں نے آسمانی کتابوں کے فیوض کے دروازے بند کر لئے۔ ان کی امتیں کفر ،شرک اور منافقت کا شکار ہوتی گئیں۔ نفس پرستی ، عدل کشی، مادہ پرستی اور خود غرضی کا جہنم سلگا تی رہیں۔ توحید کا دامن چھوڑتی رہیں۔ انارکی اپنا دامن پھیلاتی گئی۔ان کی تعلیمات کو مسخ کیا گیا۔ کتابوں میں رد و بدل کیا۔ توحید کے درس کو بت پرستی ، اور کفر کا سیاہ لباس پہنا دیا۔ ان اقوام اور ان امتوں نے روحانیت کے چراغ گل کر دیئے۔ افراتفری اور بے راہ روی کا شکار ہوتی گئیں۔
۳۔ جب داؤد علیہ السلام کی امت نے ز بور پاک کی تعلیمات سے دوری کی راہ اختیار کی تو حضرت موسیٰ کلیم اللہ پر توریت جیسی الہامی کتاب کا نزول فرمایا اور عرفان الہی عطا کیا۔ موسیٰ کلیم اللہ جیسے عظیم پیغمبر کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا۔ بڑی جابر ظالم قوم اور فرعون جیسے بد ترین غاصب اور قاتل حکمران سے واسطہ پڑا رہا۔موسیٰ علیہ ا لسلام کو قتل کروانے اور ان سے کسی نہ کسی طرح نجات حاصل کرنے کی غرض سے ہر پیدا ہونے والے بچے کو اپنی سلطنت میں قتل کرواتا رہا۔قادر کریم اور مالک کل موسیٰ علیہ ا لسلام کو فرعون کے گھر میں پالتا رہا۔ عقل بیچاری تدبیروں کے جال بنتی اور بھٹکتی رہی۔وحی کا وارث اور رشد و ہدایت کا منور چراغ عقل و خرد کے سیاہ گھپ اندھیروں میں ٹھنڈی میٹھی نور کی کرنوں سے اس کائنات کے گوشہ گوشہ کو ر وشن کرتا رہا۔فرعو ن عظیم بد بخت اپنے ساتھیوں سمیت سمندر میں غرق ہوا اور ا س نے داستان عبرت اس جہان رنگ و بو میں رقم کی ۔ اس طرح آج بھی اس فرعون کی اولاد نے اس دور کے ظا لم، جابر،عقل و دولت، مادی ومعاشی ،سائنسی و صنعتی، تباہ کن اسلحہ سازوں اور ایٹمی طاقتوں کے انبار جمع کرنے والے دہشت گردوں اور نسل فرعون کے غاصبوں، بے رحم انسانیت کے قاتلوں کو تبا ہی و بربادی اور وقت کے سمندر میں غرق ہونے کے قریب لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدائت عطا فرمائے ۔ ( ثم امین) ۔
۴۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فلاح و بہبود کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل جیسے صحیفے سے نوازا۔بی بی مریم جیسی پاک ہستی کے بطن سے بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا۔روح القدس کا خطاب عطا کیا۔ انسانی دکھوں کے درد کی دوا اور شفا کا مخفی خزانہ عطا کیا۔ کوہڑیوں کے معالج اور بیماروں کے مسیحا کے روپ میں اس کائنات میں تشریف لائے۔ مردوں کو ز ندہ کرکے خدا ئے بز رگ و برتر کی عظمت اور اس کی شان کبریائی کا نور پوری کائنات میں پھیلا تے رہے۔ابن مریم نے انسانیت پر معجزوں کی بارشیں جاری رکھیں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے انسانیت پر ظلم و بربریت کے دروازے بند کردئے۔ انسانوں سے پیار اور اخوت کا درس سکھایا۔ رحم دلی اور عفو کی قندیلیں روشن کیں۔ انسانوں کے دلوں میں ا دب اور محبت کے چراغ جلائے۔ نفرتوں سے نفرت کرنے کا سبق سکھایا۔ خدمت خلق سے روحوں کو تسخیر کیا۔انسانیت کو تحفظ فراہم کیا۔ دنیا امن اور سکون کا گہوارہ بن گئی۔جب ان کی امت نے انجیل مقدس کی تعلیمات سے انحراف کا علم بلند کیا۔ جب عیسائیوں نے انجیل مقدس کے بنیادی اصولوں اور ضابطوں کو پامال کیا۔ جب عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رشد و ہدائت کا دامن چھوڑ دیا۔ جب عیسائیوں نے خیر کے بدلے شر کو خرید لیا۔ جب عیسائیوں نے روح القدس کی روحانی اقدار کو روند ڈالا۔جب عیسائی قوم نفس پرستی،مادہ پرستی میں ڈوب گئی،جب عیسائی قوم نے انسانیت کے قتل و غارت کا عمل اپنا لیا اور گمراہی کا شکار ہو گئی۔وہ ظلم و بربریت کے کھیل میں گم ہو گئی۔درندگی اور سفاکی کی لپیٹ میں آ گئی۔ قتل و غارت کے باطل نظام کو اپنا لیا۔ لوٹ کھسوٹ اور ظلم و تشدد کوز ندگی کا حصہ بنا لیا۔ غاصب سسٹم کو فلاح کا راستہ سمجھ لیا۔ تباہی اور بربادی کے علوم کوفوقیت دینے لگی۔ امن کا درس دینے والی قوم اورانسانیت کو دکھوں ،مصیبتوں،بیماریوں اور ہر قسم کی آ فات سے نجات دلانے والی قوم نے، انسانیت کی تباہی ،بربادی اور اسکے قتل و غارت کا عمل اپنا لیا۔ خوفناک سامان حرب بنانے اور پوری انسانیت اور اس جہان رنگ و بو کو نیست و نابود کرنے والے ایٹم بموں سے لیکرنائٹروجن بموں تک،لیزی کٹر بموں سے لیکرسٹنگر میزائلوں تک،مختلف گیس بموں سے لیکر جراثیمی بموں تک تیار کئے۔ہر قسم کا تباہ کن اسلحہ اور ہر قسم کا تباہ کن سامان حرب تیار کرکے اقوام عالم کو فروخت کرکے دنیا کو جنگوں میں ڈھکیلنے کا عمل جاری کر لیا۔اسکے عوض انہوںنے مادی برتری اور دنیاوی خوشحالی حاصل کر لی۔ اسطرح اس انسانیت دوست قوم نے دنیا کے کونے کونے میں کمزور ممالک اور بے بس اقوام کے معصوم،بیگناہ، کمزور، بچوں ،بوڑھوں، مستورات، کا قتل عام اور انکی بستیوں کو نیست و نابود کرنے کا عمل جاری کر لیا۔ اس طرح ایک ایسے عظیم پیغمبر کی عظیم امت جو انسانیت پر رحمتوں کی بارش برساتے تھے اس عظیم امت کے بر سر اقتدار سیاستدان حکمران عیسائیت کے روپ میں معصوم و بے گناہ انسانیت پر ایٹم بموں، ڈیزی کٹر بموں اور سٹنگرمیزائلوں پر مشتمل تباہ کن اسلحہ کی بارشیں آج تک برسا کر اس پاک ہستی کی تعلیمات کی توہین اور اس کا انحراف کرتے چلے آرہے ہیں ۔ انہوں نے قتل وغارت کی اسلحہ ساز مارکیٹ پر برتری حاصل کرکے انسانیت کش شیطانی عمل کی پیروی کو رہنما بنا لیا۔ اپنے پیغمبر کی تعلیمات اور انکے روحانی کردار کومسخ کرکے اسکے متضاد اندھیرے سیاست کے اصولوں کو زندگی کے اجالوں کا سفر تصور کرنے لگے۔ روح کی آسودگی کے اصولوں کو ترک کیا۔اور انسانی تباہی اور بربادی کی تباہ کن تعلیم اور ہنر کو حاصل کیا۔ اس تعلیم پر عمل کیا۔ انسانیت کی بلندی پر فائز قوم تباہی و بربادی کے کردار کی شکار ہو گئی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور ان کے روشن کردار کو تباہ کرنے کے جرم کی مرتکب ہو گئی۔اپنے پیارے محبوب و مقبول پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحیفہ کے روشن ضابطہ حیات اور تعلیمات کو چھوڑ نے کے بعد وہ فطرتی اقدار ا ور کردار سے محروم ہو گئی۔ پوری انسانیت ان کے اس عمل کی وجہ سے انارکی اور جنگ کی آگ میں جلنے اور جھلسنے لگی۔
۵۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو رحمت للعٰلمین بنا کر آخری صحیفہ اور جامع کتاب مبین یعنی قرآن پاک جیسی ابدی اور اذلی کتاب عطا کی۔ تاکہ پوری انسا نیت اس کی تعلیمات سے رشد و ہدایت اور فلاح پا سکے۔
۶۔ یہاں یہ بات واضح کرنا نہائت ضروری ہے۔ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاٰق علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت محمدمصطفیٰﷺ حضرت اسمعٰیل کی اولاد میں سے ہیں۔ جب موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی امتیں گمراہی اور تباہی کے راستے پر چل پڑیں۔توریت شریف اور انجیل مقدس کی تعلیمات کو بدل دیا۔ اور اس سے انحراف کر لیا۔ تو اس کے بعد حضرت محمد مصطفی ﷺ کواللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر الزمان کے طور پر دنیا میں پوری انسانیت کے لئے رحمت اللعٰلمین بنا کر بھیجا۔ اس طرح یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کا شجرہ نسب آپس میں ملتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت محمد مصطفی ﷺ ایک ہی تسبیح کے دانے اور ایک ہی خانوادے کی عظیم ہستیاں ہیں۔
۷۔ صاحب کتاب پیغمبر، توحید کے پیامبر پیغمبر، اللہ تعالیٰ کی ہدائت یافتہ طیب ہستیاں ،انسانیت کے مونس، معجزات کے وارث، گناہ سے پاک ، انسانی فطرت کے آشناء، خدمت خلق کے خوگر، ادب و احترام کے پیکر، صبر و تحمل کی آماجگاہ، ادب و اخلاق کے چشمہ، دین و دنیا ء کے رکھوالے ، نور کے راستہ کے مسافر، خیر کو پھیلانے اور شر کو مٹانے والے پیغمبر ،فطرت کے رازداں پیغمبر، زندگی اور موت کے حقائق سے روشناس کروانے والے پیغمبر، الہامی بنیادوں پر انسانی معاشرے کو سنوارنے والے پیغمبر، اس جہان رنگ و بو کومعطرکر نے اور انسانوں کی رہنمائی فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کو اس کائنات میں بھیجا۔ وقت کے ساتھ ضرورت کے مطابق انسانی معاشرہ، ارتقا کی منازل طے کرتا رہا۔ ہر دور کے پیغمبر اپنے دور کی ضرورت کے مطابق الہامی تعلیمات کی روشنی میںا صلاح معاشرہ کے فرائض نبھاتے رہے۔ آخری نبی حضرت محمد مصطفیﷺ آخری صحیفۂ نور قرآن مجید، فرقان حمید لے کر اس دنیا ئے فانی میں تشریف لائے۔ پوری ا نسانیت کو رشد و ہدائت کی روشنی عطا کی۔ ایک جامع ضابطہ حیات انسانیت کو عطا کیا۔
۸۔ سب کمالات کی بنیاد کلمۂ توحید ہے۔ سب کمالات کی انتہاء حضور نبی کریم ﷺ کے اسوۃ حسنہ اور اخلاق حمیدہ کی روشن کرنیں ہیں۔ جو اس آفتاب نور کی روشنی سے آسمان و زمین پر محیط ہیں ۔ کتاب مقدس علم و حکمت دانش و برہان اوردانائی کا ایک ایسا صحیفہ ہے۔ جس سے رشد و ہدائت کافیض جاری و ساری رہتا ہے۔ اس کے اصول و ضوابط پوری انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے ضامن ہیں۔اس کی تعلیمات انسانیت کو حقوق و فرائض کے فطرتی نصا ب سے آگاہ کرتی ہیں۔ عدل و انصاف کے حسین امتزاج اور اعتدال کا ایسا دروازہ ہے۔ جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ہر کس و ناکس پر وا ہوتا جاتا ہے۔ زبور، توریت، اور انجیل مقدس حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امتوں پر نازل فرمائیں۔ لیکن قرآن پاک رب العٰلمین نے تمام جہانوں کے لئے ایک ایسا جامع منشور رحمت اللعٰلمین پر نازل فرمایا۔ جو ہر دور، ہر زمانہ پر محیط ہے۔ وہ صرف مسلمانوں کی ہی وراثت نہیں بلکہ کوئی بھی فرد، کوئی بھی قوم، کوئی بھی ملک اور کوئی بھی ملت اس سے استفادہ کرکے دنیا میں مادی اور روحانی فیوض حاصل کر سکتی ہے۔
۹۔ ان کے بتائے ہوئے تمام راستے چمکتے دمکتے آبدار موتی ہیں۔جو دل و دماغ کو آسودگی اور روح کو بالیدگی عطا کرتے رہتے ہیں۔ وہ اعلیٰ، منظم ،معظم ،مکرم، اور مقدم معاشرے کی تشکیل فرماتے ہیں۔ اس سے امن و سکون کے سو تے پھوٹتے ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا سے روشناس کروایا جاتا ہے۔ وہاں اس کی مخلوق پر رحم، شفقت کے جذبوں کو بھی بیدار کیا جاتا ہے۔ عبادت اور ذ کر و فکر کی قبولیت کا گیان عطا کیا جاتاہے۔اس عطا کے بعد اس کے تصرف کو حکم خداوندی کے مطابق خدمت خلق کو بجا لانے پر معمور کر دیا جاتا ہے۔نفس پرستی، اور خود غرضی کی آگ کو بجھایا جاتا ہے۔ قتل و غا رت اورظلم و ستم کے کرداروں کو ختم کیا جاتا ہے۔ امانتوں کے امین ، حکومت کے حکمران، ملکی نظم و نسق کے رکھوالے ، ملک میں عدل و انصاف قائم کرتے ہیں۔ ملکی خزانہ اور وسائل کی حفاظت کرتے ہیں۔بچوں، بوڑھوں، یتیموں، بے کسوں، بے بسوں، اپاہجوں، ناداروں، بیواؤں ،اور بے روز گاروں کو ز ندہ رہنے کیلئے ضروریات زندگی مہیا کرتے ہیں۔ علمی کمال سے لے کر عملی کردار تک دین کی روشنی میں ملت کے کردار کو تیار کرتے ہیں۔ وہ انسانیت کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ایسا حسین و جمیل تشخص تیار ہو تا ہے جو انسانیت میں مقناطیس کا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ دنیا کی کشش کا سبب بنتا ہے۔وہ لو گ، وہ زمانہ ،وہ گھڑیاں ، وہ وقت، وہ لمحات تمام بیتے ادوار کا شاہکار دور ہوتا ہے۔ جس پر انسانیت عش عش کر اٹھتی ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی محنت کوشش اور تعلیمات جس کی بنا پر معاشی ، معاشرتی اور سیاسی ، تہذیب و تمدن کے خدو خال ارتقا ء کی منازل طے کرتے رہے۔زمانے نے بھی اپنا سفر جاری رکھا ۔ انسان نے بھی اس جہان رنگ و بو کی تعمیر و تکمیل جاری رکھی۔نئی نئی ایجادات کے معجزات تخلیق کرتے اور پھیلاتے رہے۔مخلوق خدانے ان سے خو ب استفادہ کیا۔ اقوام عالم اس ترقی اور سائنسی دو ڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں دن رات کوشا ں ہیں۔مادی ترقی کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ تعمیر کائنات کا عمل بھی اسی تیزی سے رواں دواں ہے۔انسانی اقدار اور کردار پر ا ن حالات و اسباب کا اثر بڑا گہرا پڑتا جا رہا ہے۔
۱۰۔ زمینی فاصلے سمٹ گئے۔ فاصلے تسخیر کرنے کے بعد پوری دنیا ایک شہر، ایک ملک، ایک نگر ، ایک بستی بن کر ابھری۔ مختلف اقوام، مختلف ممالک، مختلف نظریات ، مختلف مذاہب، مختلف نسلوں، مختلف رنگوں پر مشتمل یہ خوبصورت کائنات اور حسین و جمیل انسانوں کا ایک خوبصورت گلدستہ بن کر ابھری۔ گلوبل لائف معرض وجود میں آئی ۔ ایک دوسرے ملکوں کو ایک دوسرے کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی حالات کو سمجھنے کا موقع فراہم ہوا۔ہماری زندگی میں ایک جدید،لا جواب اور عظیم انقلاب دنیا میں رونما ہوا۔ مختلف تہذیبوں کا انسائیکلوپیڈیا تیار ہوا۔دور حاضر کے انسانوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ انسانیت پرمشاہدات کے دروازے کھل گئے۔دنیا بھر کے انسان ایک دوسرے کے قریب ہوگئے۔ترقی یافتہ اقوام اور غیر ترقی یافتہ اقوام ایک دوسرے کے گلے ملیں۔ ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ہر قوم،ہر ملت اور ہر ملک کے انسانوں کو اپنے اپنے مقام سے آشنائی حاصل ہوئی۔مغربی ممالک کے دانشوروں، مدبروںاور مفکروں نے چند صدیوں پہلے اپنے معاشرے کے زوال پذیر ہونے کے اسباب، واقعات ، حالات، اور تمام خرابیوں اور انکی وجوہات کا جائزہ لیا۔ غور کیا۔ فکر کی کسوٹی پر حالات کو پرکھا۔ قتل و غارت لوٹ کھسوٹ ،ظلم و ستم ، معاشی اور معاشرتی دہشت گردی، بدامنی ،انارکی ، اور عدل و انصاف کو روندنے والے تمام حقائق کو ڈھونڈ نکالا۔ انہوں نے معاشرے کے تشکیل نو کا ؔآ غا ز کیا۔
۱۱۔ مغرب نے علم و حکمت کے موتی چنے اور اکھٹے کئے۔ مسلمان مفکروں اور اسلامی تعلیمات کے نور سے استفادہ حاصل کیا۔ تعلیم کا اعلیٰ نصاب مقرر کیا۔ عدل و انصاف کے پیمانے کو درست کیا۔ معاشرے میں اعلیٰ اقدار کو متعارف کروایا۔ اقوام مغر ب کو محنت اورتجسس کا شعور دیا۔ انفرادی زندگی کو معاشی اور معاشرتی عدل میں سے گذار دیا۔ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک کے عوام الناس کو مساوات کا درس دیا۔ اور یکساں تحفظ فراہم کیا۔معاشرہ امن و آشتی کا گہوارہ بن گیا۔ علمی دنیا میں نام پیدا کیا۔عملی زندگی کو اپنایا۔ سائنس کی دنیا میں نئی سے نئی ایجاد ات کو تخلیق کیا اور فروغ دیا۔ دنیا میں صنعتی انقلاب برپا کیا۔ مادی اور مالی خوشحالی حاصل کی۔اقوام عالم کا برتری کا پرچم انہوںنے اپنے ہا تھ میں لے لیا۔ دوسری طرف ہمارے سکالروں ،مدبروں، مفکروں،دانشوروں ،سیاستدانوں ،اور حکمرانوں نے ان تمام کی تمام خوبیوں کو پس پشت ڈالا۔دستور مقدس کی تعلیمات اور ضا بطہ حیات کو سرکاری طور پر منسوخ کرکے جمہوریت کے بے دین منشور کو ملک میں نافذالعمل کرکے اسکو پاکستان کا سرکاری مذہب بنا دیا۔ اس شاہی ٹولہ نے چودہ کروڑ عوام کا وہ حشر کیا جسکی تفسیر و تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔
۱۲۔ جہاں انہوں نے علمی سائنسی ، اور صنعتی ترقی میں انقلاب برپا کیا۔ نئی سے نئی ایجادات کو تخلیق کیا۔ مصنو عات کو وافر مقدار میں تیارکیا۔موٹرسائیکل سے لیکرکار، جیپ، پجارو، مرسڈیز، لینڈکروزر تک۔ٹوتھ پیسٹ سے لے کر برش تک۔ سیون اپ سے لے کر شیزان تک ہر قسم کے مشروبات،ہر قسم کی ادویات، ہر قسم کی سرجری سے لے کر دل کی سرجری تک،پستول سے لیکر رائیفل تک۔ توپ سے لے کر ٹینک تک،ایٹم بم سے لے کرنائٹروجن، ہائڈروجن بم تک ، راڈار سسٹم سے لیکر میزائیل تک ٹیلیفون سے لیکر کمپیوٹر تک کی تخلیق کی اور بیشمار طر ح طرح کی ایجادات سے دنیا کو محو حیرت کردیا۔ مالی اور مادی خوشحالی پر اجارہ داری قائم کر لی۔اپنے ممالک میں عدل و انصاف کا میزان قائم کیا۔ محنت کشوں، مزدوروں، ہنر مندوں،کسانوں اور عوام کیلئے محنت و مشقت کے دروازے کھولے۔ انکی اجرات اور محنت کا یکساں تواز ن قائم کیا۔ملازمتیں مہیا کیں ۔
ہماری طرح سرے محل، رائیونڈہاؤس، رشوت، کمیشن، کرپشن، جاگیروں، فیکٹریوں، کارخانوں،ملکی تجارت،وسائل،خزانہ،ملکی اور غیر ملکی قرضے آئی۔ایم۔ایف ، کے قرضے، لوٹنے اور تفاوتی تنخواہوں،سرکاری سہولتوں،عیش و عشرت کی زندگی کے تباہ کن معاشی اور معاشرتی کلچر کو نہ رواج دیا اورنہ فروغ دیا۔
۱۳۔ جہاں وہ مالی اور مادی خوشحالی کی خوبصورت اور دلکش تتلی کو پکڑنے میں مصروف اور محو ہوگئے۔ وہاں مغربی اقوام گھریلو اور خانگی زندگی کو تباہ و برباد کرتی چلی گئیں۔صنعتی ترقی اور پیداوار کا ہدف پورا کرنے کے لئے عورت کو گھر سے باہرنکا ل کرکارخانوں، فیکٹریوں، دفتروں اور مردوں کے ساتھ ہر شعبہ میں لاکر کھڑا کر دیا۔ مغربی معاشرہ نے بچی،بیٹی ،بہن، کو سن بلوغت تک پہنچتے ہی اس کو اپنی کفالت حاصل کرنے کے لئے فیکٹریوں، کارخانوں، دفتروں، اور زندگی کے ہر شعبہ میں روزگار تلاش کرنے اور حاصل کرنے پر مجبور کر دیا۔دراصل انہوں نے عورت کو عوامی زندگی کی زینت بنا دیا۔ اس تہذ یب وثقافت کے یہ دلدادہ لوگ، ہر جگہ، ہر وقت ، ہر گھڑی عورت کو اپنے پہلو میں دیکھنا چاہتے ہیں۔عورت کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلے۔ نفسا نفسی کا دور شروع ہو گیا۔اس عمل نے انہیں جنسی گمراہی اور اخلاقی تباہی سے ہمکنار کر دیا۔
۱۴۔ ان کی تہذیب نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ کوئی مرد اپنی بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کا معاشی بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہی نہ رہا۔َمرد و زن کا ملاپ جنسی آزادی کو فروغ دیتا چلا گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی جرائم اپنے عروج کی منازل طے کرتے رہے۔ جنہوں نے خانگی اقدار کو بدل کر رکھ دیا۔ ازدواجی زندگی کا ذائقہ ہی بدل دیا ہے۔ وہ ماں، بہن، بیٹی ، کے تقدس کے رشتہ کے آداب، اور فطرتی محبت کے جذبوں کو بری طرح پامال کر چکے ہیں۔
۱۵۔ پوری مغربی دنیا یعنی یہودیت اور عیسائیت اپنے اپنے پیغمبران کی تعلیمات سے دور سے دور ہوتی گئی۔ انہوں نے موسیٰ کلیم اللہ اور عیسیٰ روح اللہ جیسی پاک و طیب ہستیوں کی الہا می کتابوں سے فرار کا راستہ اختیار کر لیا۔ جس کی وجہ سے ان کی گھریلوز ندگی عزت و ادب،مہرو محبت ، ایثار و نثار اور اخوت جیسی آسمانی رحمتوں کے فطرتی انعامات سے بھی محروم ہو گئیں۔ وہ اپنی الہامی کتابوں کی نا فرمانی اوربے حرمتی کرنے میں مصروف ہیں۔ اور مقبول و محبوب پیغمبران یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت عیسیٰ روح اللہ جیسی طیب ہستیوں سے مذہبی، روحانی نسبت، عملی وابستگی، عقید ت ختم ہو گئی ۔ اور انکی تعلیمات سے منحرف اور باغی ہو چکے ہیں۔ وہ عورت جیسے آسمانی پاکیزہ تحفے کے حقوق اور تقدس کو پامال کر چکے ہیں۔ وہ اس کی توہین اور بے حرمتی کے مجرم ہیں۔وہ اس کی عصمت اور اس کی فطرتی پاکیز گی کوروند چکے ہیں۔ وہ بیٹی، بہن اور ماں کو مخلوط پکنک پارٹیوں ، رقص و سرود ، اور شراب کی محفلوں، اورجنسی آٓزادی کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔
۱۶۔ اسلام ایک فطرتی دین ہے۔ اسلام جتنا عورت کو احترام اور عزت سے نوازتا ہے۔ وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ وہ عورت کو چادر اور چادر دیواری کا تحفط فراہم کرتا ہے۔ اسلام کے نظام میں نفقات کا ضابطہ موجود ہے۔ ایک مرد کے لئے یہ لازم اور ضروری ہے۔ کہ وہ اپنی ماں ، بہن، اور بیوی بچوں کے اخراجات برداشت کرے۔ بہن اور بیٹی کی شادی کا فرض ادا کرے۔ شادی کے بعد بچے بچیوں کی پیدائش اورآفرینش کی ذمہ داری عورت ادا کرتی ہے۔ گھریلو نظام چلاتی ہے۔ کھانا پکانا ، کھانا کھلانا ، کپڑے دھونا ، گھر کی صفائی کرنا ، بچوں کو سکول بھیجنا ان کی تعلیم و تربیت ،ان کی دیکھ بھال کی طرف خصوصی توجہ دینا یعنی ہر قسم کے گھریلو فرائض کو ادا کرتی ہے۔ جہاں عورت گھریلو نظام کو سنبھالتی ہے۔ وہا ں وہ دین کی روشنی میں گھریلو زندگی کے معیار اخلاق کو استحکام بھی بخشتی ہے۔ عورت بچوں کو انسانی اور اذلی رشتوں کے تقدس سے آگاہ کرتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور حضرت محمد مصطفیﷺ کی شان عظیم سے آنے والی نسلوں کوآشنا کرواتی ہے۔ انہیں ان کی عزت و احترام کا درس دیتی ہے۔ ان کے خمیراور ضمیر میں ان جذ بوں کو اس طرح گوندھ دیتی ہے۔ کہ ان کی فطرت اور جبلت کاحصہ بن جاتا ہے۔ ماں باپ بہن بھائی خالہ خالو، پھوپھی ، دادی ، دادا، نانی ، نانا کے قریبی رشتوں سے آشنا کرواتی ہیں۔ دینی اخلاقیات کے نور کو ان کے دلوں میں اتارتی ہیں اور بیدار کرتی ہیں۔ ان رشتوں سے محبت ، اخوت، پیار، شفقت ، حاصل کرنے کے آٓداب سکھاتی ہیں۔ استاد، اور بزرگوں کے ساتھ نرمی ، پیار سے پیش آنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ہمسایوں کے حقوق کے آداب سکھاتی ہیں۔ اسلامی اخلاقیات کے اصولوں کی پاسداری اور ان کی اطاعت کادرس دیتی ہیں۔ عورت کی زندگی اسلامی طرز حیات میں گھریلو نظام کی ایک اہم کڑی ہے۔ عورت گھر اور معاشرے کی تشکیل کا بنیادی رکن ہے۔ عورت محبت کا چشمہ ہے۔ خاندان اور کنبہ کے افرا د اس سے سیراب ہوتے رہتے ہیں۔ ماں کے اٹھے ہوئے اولاد کے لئے دعا کے ہاتھ بار گاہ الٰہی سے کبھی مایوس نہیں لوٹائے جاتے۔
۱۷۔ اسلام نے عورت کو جہاں اس کا عظیم معاشرتی حق عطا کیا ہے۔ وہاں اس کو معاشی استحکام بھی بخشا ہے۔ بیٹوں کی طرح بیٹی کو بھی ماں باپ کی جائیداد کا وارث بنایا ہے۔ جو عزت اور احترام۔ ادب، تحفظ اور شان ، اسلام کے ضابطہ اخلاق نے عورت کو بخشا ہے۔ اس کی مثال کسی بھی مذہب ، کسی نظریہ کسی تہذیب کسی بھی معاشرے میں نہیں ملتی۔
۱۸۔ مغرب کے مہذب اور شاہکار معاشرے نے عورت کی گھریلو ز ندگی چھین لی ہے۔ اس سے پاک، طیب ،پرسکون ازدواجی زندگی بھی چھین لی ہے۔ عورت کوانہوں نے خاندانی رشتے ناطوں سے محروم کر دیا ہے۔ اس سے ماں کی مامتا لوٹ لی ہے۔ عورت سے محبت کے تمام مقدس رشتے ناطے ختم کر دیئے ہیں۔ اس کو جنسیات کا ایندھن بنا دیا ہے۔ اس کو معاشیات کے حصول میں گم کر دیا ہے۔ اس کو کلبوں کی زینت بنا دیا ہے۔ اس کو اخلاقی جرائم اور ناجائز اولاد پیدا کرنے کی مشین بنا چکے ہیں۔ مغرب کی علم بردار تہذیب اور مہذب سکالروں نے عورت کو پبلک پراپرٹی بنا دیا ہے۔ اخلاق کے مفکرین نے ان کے حقوق پر ان کی عزت پر ان کی عصمت پر ان کی حفاظت پر ان کی ازدواجی زندگی پر ان کی چادر اور چار دیواری پر آزادی نسواں کے نام پر ایسا ڈاکہ ڈالا۔ ایسا ظلم کیا۔ ایسا روندا۔ ایسی بے حرمتی اور توہین کی۔ جو انسانیت کے نام پر ایک بد نما داغ ہے۔ جس سے از دواجی اور معاشرتی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کی اجازت کسی بھی آسمانی صحیفہ نور یعنی زبور ، توریت، انجیل اور قرآن مقدس میں نہیں ملتی ہے۔بلکہ ہر قوم ،ہر ملت اپنے اپنے پیغمبران کی تعلیمات کے خلاف کھلی جنگ میں مبتلا ہو چکی ہے۔پاکستان میں بھی چند مغرب پرست جمہوریت کے سکالر اور دانشور حکومتی سطح پر اس جنگ کو لگانے بھڑکانے اور تباہ کن معاشرتی کینسر کوآزادی ء نسواں کے نام پر پھیلانے میں مصروف ہو چکے ہیں۔ٹی۔وی اور نشر و اشاعت کے تمام ادارے انکے تصرف میں ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور خا ص کر اسلامی نظریاتی جماعتیں اسلام کی روح کومسخ ہوتے اپنی عقلی اور باطنی نگاہ سے دیکھتی قرآن پاک کی تعلیمات کو پاش پاش اور مسخ ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھے جا رہی ہیں۔ملت اسلامیہ ان چند بے دین مغربی سرکاری سکالروں، دانشوروں، مفکروں، سیاستدانوں اور حکمرانوں کا ملک نہیں۔ ان میں سے بیشتر نیک دل مسلمانوں اور۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فیصد دیندار، مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عاشقان رسولﷺ کے عوام کا ملک ہے۔عورت کے حقوق اسلام سے بہتر نہ کسی کے پاس ہیں اور نہ ہی کوئی ادا کر سکنے کی سوچ سکتا ہے۔جمہوریت کے بے دین نظام اور اسکے پیروکاروں سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ضروت ہے۔
۱۹۔ تمام مغرب نے ان الہامی کتابوں کی تعلیمات اور ضابطہ اخلاق کو ترک کرکے دور حاضر کے اخلاقیات کے مفکرین کے اخلاقی اصولوں کی پیروی کی۔ وہ گناہ گاری، حرام کاری ، زنا کاری ، شراب نوشی اور ہوس پرستی، نفس پرستی کے بدترین ناپاک اور نجس اخلاق اور اعمال کو اپنا بیٹھے ہیں۔اس باطل ، غاصب ،بے دین نئی تہذیب اور اخلاقی پستی کو پورے مغرب میں پھیلا دیا ہے۔ انکے جمہوری دانشوروں اور حکمرانوں نے اس طرز حیات کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔ جس سے گھریلو زندگی اور گھریلو امن و سکون نیست و نابود ہو کر رہ گیا ہے۔ بد قسمتی سے اس بد ترین اخلاقی پستی کے کینسر کو اپنی تہذیب کا شاہکار عمل تصور کرنے لگے۔ ان کی اس آزادیء نسوا ں نے ہوس پرستی،نفس پرستی، جنس پرستی، اور نئی نسل کے نوجوانوں کے لئے لذت گناہ کا حسین و جمیل اور دلکش ماحول اور حالات و واقعات میسر کئے۔ پورا یورپ مخلوط معاشرے کی لپیٹ میں آگیا۔ عورت کے قیمتی وجودی اثاثے یعنی شرم و حیا اور فطرتی مال و متاع کو بڑے دھوکہ سے لوٹ لیا۔ مرد و ز ن ازدواجی زندگی کے انعامات سے محروم ہو گئے۔ مذہبی ازدواجی اقدار ایک ایک کرکے دم توڑ تی گئیں۔ ازدواجی زندگی عدم دلچسپی کا شکار ہو گئی۔۔ مغربی مفکرین اور دنیا کے جدید مہذب معاشرے نے دل و دماغ پر جنسی گمراہی کی تاریک پٹی باندھ لی ہوئی ہے۔مغربی معاشرہ مذہب کی نورانی تعلیمات کو ترک کرکے ظلمات اور گمراہی کی عبرت ناک منزلیں طے کرنے لگا۔ چادر و چار دیواری ، حیا ، شرم، طیب زندگی اور ازدواجی زندگی کے انعامات اور فطرتی امن و سکون کی لامتناہی دولت سے محروم ہوچکا ہے۔پاکستان کے بیشتر سرکاری دانشور ،مدبر،سکالر جوکلبوں میں شراب وکباب اور مغربی تہذ یب کے نظام کے رسیاہیں۔ اور حکومتی مشینری کے کرتا دھرتا ہیں۔جو رشوت، کرپشن، کمیشن، شراب،کباب اور ہر علت سے دوچار ہیں۔وہ جمہوریت کے سائے تلے ملک و ملت کو اس مخلوط معاشرے کے بے دین دوزخ میں دھکیلتے جا رہے ہیں۔
جمہوریت اور اسکے منتظمین سے نجات حا صل کرنا ہزار سال کی بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔اسی جمہوریت کی وجہ سے ملک خداداد پاکستان سے عورت کی حرمت کو جو ہمارے دین اور معاشرے کا اہم ترین جزو اور بنیادی فریضہ ہے ۔ اس کو انتہائی مغربی انداز سے پس پشت ڈالنے کی سازش جمہوریت کے اسی لعنتی رائج الوقت نظام کی وجہ سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا نظام جس میں عورت کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔ اس کو توڑنا خدا اور رسول ﷺسے جنگ کے مترادف ہے۔ اسلام کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ اسلام پہلے معاشرے میں ماحول اور ایسا سسٹم پیش کرتا ہے ۔ اوراسکے تحفظ کا پورا بند وبست کرتا ہے۔اسکے بعد اگر کوئی فرد اسکی خلاف ورزی یا دیدہ دانستہ اسکو توڑتا ہے۔توپھر اسلامی قانونی ضابطہ کے مطابق اسکی سزا سے اس بد اعمالی کا قلع قمع کرتا ہے۔ پا کستان میں حقوق نسواں کو مسخ اور سلب کرنے کا عمل جمہوریت کے مذہب کے پجاریوںکاحصہ ہے۔مسلم معاشر ہ امن و سکون اور پاکیزگی کی آماجگاہ ہوتا ہے۔اس میںاجتماعی زیادتیوں اورکسی قسم کا عورتوں سے ظلم و تشدد کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔ پاکستان میں نہ اسلامی روح ہے، نہ معاشرہ،نہ اسلامی قانون اور نہ ہی اسلامی حکومت۔ یہ تمام بے ضابطگیاں اور عورتوں کے سا تھ ظلم و تشدد او ر بد ترین ناروا سلوک جمہوریت کے مذہب کی پیداوار ہے۔ اسلام تو مستورات کیلئے دنیا میں سب سے بہترین ضابطہ حیات عطا کرتا ہے ۔ جس میں عورتوں کی بھلائی ہی بھلائی ہے۔ عورتوں کی عزت، احترام، ادب اور انکی خدمت اسلام کی اصل روح ہے۔َ جمہوریت کا راستہ روکنا اور دین مقدس کا اجراء اصل میں دنیاء عالم کی مستورات کے تحفظ کا راستہ ہے۔
۲۰۔ مغربی معاشرے کا انسان حیوان ناطق ہونے کے باوجود جنسی درندہ بن چکا ہے۔ مغربی دانش وروں، اخلاقی مفکروں اور حکمرانوں نے مل کر مذہب کی الہامی تعلیمات اور روحانی فیوض کے خلاف ؔآزادی نسواں کے نام پر ایک ایسی جنگ جیتی۔ جس سے عورت کی عظمت کو روند ڈالا۔اس سے اس کے بنیادی اور فطرتی حقوق چھین لئے۔ انہوں نے اس کے معاشی حقوق ادا کرنے ، اس کے نان و نفقہ کو برداشت کرنے اس کو چار دیواری اور گھریو یلو زندگی کو تحفظ فراہم کرنے اس کے وراثت کے حقوق ادا کرنے اس کی عصمت و حیا کو محفوظ کرنے سے فرار کاراستہ اختیار کر لیا ہے۔ کیا کوئی اہل پاکستان با ضمیر مسلمان اپنی بیٹی،بہن،ماں،بیوی یا کسی مستورات کو آزادی ء نسواں کے نام پر ان جنسی درندوں کی تنہائیوں میں انکے ما تحت ان کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔ کیا مخلوط معاشرے سے ہی مستورات سے کام لیا جا سکتا ہے۔ کیا تعلیم،صحت،گارمینٹس وغیرہ کے ڈیپارٹمنٹ میں بچے،بچیوں اورمستورات کی تعلیم و تربیت ،صحت اورکپڑوں کی سلائی کے الگ شعبے انکے سپرد کرنا دین اور دنیا کی بھلائی نہیں۔ ان ظالم بے دین درندوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔اب انکا اور انکی بد اعمالیوں کا حساب چکانے کا وقت انکے دروازے تک آن پہنچا ہے۔
۲۱۔ دین کے اخلاق کی صداقتیں اذلی اور ابدی ہیں۔ وہ اخلاقیات کے مفکروں کے زیر اثر نہیں ہوتیں۔ وہ ان کے اخلاقیات کے متضاد اور ماورا ہوتی ہیں۔ مذہب کے اصولوں سے روگردانی ، انسانیت کو گناہ ساز اور گناہ پرور زندگی سے دوچار کر دیتی ہے۔ اس خوفناک اور عبرت ناک سانحہ کا عذاب ان پر لازم ہو جاتا ہے۔ وہ نفسانی خواہشات اور ذہنی آسودگی کی آگ میں جلتے،سلگتے اور بھسم ہوتے رہتے ہیں۔[L:8] وہ اللہ تعالیٰ کے احسان اور شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ وہ دین یا مذہب کے خلا ف جنگ میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان سے دینی اور مذہبی تعلیم کی افادیت کی تاثیرختم ہو جاتی ہے۔۔ ایک پیغمبر کے بتائے ہوئے اخلاق حمیدہ اور ایک مغربی مفکر یا دانش ور کے اخلاقی منشور میں واضح فرق ہوتا ہے۔کیا اہل پاکستان حضور نبی کریمﷺ کا دستور مقدس اور ایک مغربی دانشور کا تخلیق کیا ہوا جمہوریت کا بے دین طرز حکومت نعوذبااللہ اسکے برابر یا ناقص سمجھتے ہیں۔کیا اس وقت ملک کا سرکاری مذہب جمہوریت نہیں۔کیا ملکی تمام تعلیمی ادارے پرائمری سے لیکر پی۔ایچ۔ڈی تک جمہوریت کا بے دین نظام چلانے کیلئے نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی کے دانشور،سکالر،مدبر اور مفکر تیار نہیں کر رہے۔اسکے بعدکیا ہم منافق کہلا سکتے ہیں یا مسلمان۔فیصلہ ملک کے تمام سیاستدانوں اور خاص کر اسلامی سیاسی جماعتوں کے منصفوں سے کروا لیں۔خدا کے عذاب سے ڈرو۔عذاب کیلئے مزید دروازے نہ کھٹکھٹاؤ۔ دنیا میں تمہارا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔اللہ تعا لیٰ ہم پر رحم فرماویں۔ آمین۔
۲۲۔ ایک پیغمبر کی تعلیمات اور ایک اخلاقی مفکر کی تعلیمات میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے۔ پیغمبر ایک آسمانی دنیا کی صداقت کاداعی ہوتا ہے۔ جب کہ مفکر اسی دنیا اوراسی معاشرہ کی اصلاح احوال کی با ت کرتا ہے۔ یا اللہ ایسے مفکرین اخلاق کو راہ ہدایت عطا فرما۔ خیال والفاظ کے استعمال کو اپنے اعمال کے آئینے میں دیکھنے کی توفیق بھی بخش۔ تاکہ ہم سب راہ راست اختیار کر سکیں اور نجا ت پا سکیں۔امین
۲۳۔ پاکستان میں مغربی جمہوریت کا طرز حکومت رائج ہے۔اس نظام حکومت کو چلانے کیلئے ایک مخصوص نظام ،سسٹم اور طریقہ کار مغربی دانشوروں کا مرتب شدہ ہے۔ ان اصول و ضوابط کی روشنی میںملک کا نظم و نسق چلایا جا رہا ہے۔الیکشنوں کے ذریعہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کا چناؤ ہوتا ہے۔اس طرح سینٹ کے ممبران بھی چنے جاتے ہیں۔ الیکشن میں کامیاب جماعتیں حکومت کو تشکیل دیتی ہیں۔ وزیر، سفیر، مشیر، وزیراعلیٰ، گورنر،وزیر اعظم اور صدر پاکستان کے عہدے کامیاب جماعتیں اپنے ممبران کو حکومت چلانے کیلئے ان پر متعین کرتی ہیں۔جمہوریت کی حکومت کے نظم و نسق کوچلانے کیلئے مغربی سکالروں کا مرتب شدہ ایک مخصوص ضابطہ حکومت متعین شدہ ہے۔اس میں مغربی عیسائیوں کا انتظامیہ اور عدلیہ کا طریقہ کار،یہودیوں کا سودی معاشی نظام،ہندوؤںکا طبقاتی معاشرہ تیار کرنے کا طبقاتی تعلیمی نظام،طبقاتی تعلیمی نصاب اور طبقاتی تعلیمی ادارے اپنے فرائض ملک میں سر انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ جمہوریت کے نظام کو چلانے کیلئے الیکشن کے ذریعہ حکومتی ارکان اور کار سرکار کو چلانے کیلئے سرکاری ارکان یعنی نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی اور چودہ کروڑ مسلمانوںکی تعلیم و تربیت ایک مخصوص بے دین تعلیمی نظام اور نصاب کے تحت کرتے چلے آرہے ہیں۔کیا ہم ان تعلیمی اداروں سے آنیوالی مسلمان نسلوں کا اسلامی تشخص تیار کر رہے ہیں یا انکو عیسائی،یہودی اورہندو نظریات کے سکالر،دانشور اور مدبر بناتے چلے آرہے ہیں۔
۲۴۔ پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے چودہ کروڑ مسلمانوں کو عیسائیوں،یہودیوں اورہندوؤں کے نظریات کے سکالروں کی سرکاری طور پر تعلیم و تربیت کرنے میں مصروف ہیں۔سکولز سے لے کر کالجز تک اور اکیڈمیوں سے لیکر یونیورسٹیوں تک۔ادنیٰ ارکان سے لیکراعلیٰ افسران تک۔انتظامیہ کے سکالروں سے لیکرعدلیہ کے دانشور اورمعاشیات کے مدبر تک، معاشرتی اقدار سے لیکر تباہ کن مخلوط معاشرے کے مفکروں تک تیار ہوتے ہیں جو حکومتی نظم و نسق چلاتے چلے آرہے ہیں۔کیا ہم مسلمان ہے۔جنہوں نے دستور مقدس اور اس کی تعلیمات کو سرکاری طور پر ملک میں رائج نہیں کیا۔ اسکے بر عکس جمہوریت کا کالا مذ ہب امت محمدیﷺ پر مسلط کر رکھا ہے۔ کیا یہ اسلامی سٹیٹ کہلا سکتی ہے؟ کیا ہمارے سیاستدان اور حکمران مسلمان ہیں جو چودہ کروڑ مسلمانوں اور اہل اسلام کے دینی اور روحانی نظریات کے فیض کے چراغ بجھا رہے ہیں اور اسلام دشمن طاقتوں کے گھر گھی کے چراغ جلا رہے ہیں ؟۔
۲۵۔ جمہوریت کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ ایک خطرناک سازش کی جا رہی ہے۔مسلمانوں کو قرآن پاک کی تعلیمات اور دینی
نظریات اور اسکے آئین کو پاکستان میں سرکاری طور پر منسوخ۔ معطل اور مسترد کیا ہو اہے۔ہمار ی تعلیم،ہمارا نصاب تعلیم،ہمارے تعلیمی ادارے۔ہمارا کردار،ہمارا روز مرہ زندگی کا نظام، ہمارا اخلاق ، ہمارا ملی کریکٹر ان مختلف مذاہب کے سکالروں کی تعلیمات کی روشنی میںسرکاری سطح پر پورے جبر اور قانون کی نوک پر ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک تمام حکمران اپنی حکومتیں قائم دائم رکھنے اور چلانے کے لئے انہی تعلیمی اداروںسے ملت اسلامیہ کے نونہالوں کی نشو و نماکرتے چلے آرہے ہیں۔وہ جان بوجھ کر اسلامی طرز حکومت اور اسلا م کی روشنی میں ایک تعلیمی نصاب ملک میں قائم کرنے سے گریزاں ہیں۔یہ غاصب ،جابراور ظالم چھ سات ہزار افراد پر مشتمل جاگیر دار،سرمایہ دار سیاستدانوں کا ٹولہ چودہ کروڑ مسلمانوں کے گلے میں جمہوریت کا پھندا ڈال کر اپنی حکومتوں کی زنجیروں میں جکڑ کر اور اقتدار کی ٹکٹکی پر لٹکا کر بڑے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کے ساتھ مسلمانوں کو عیسائی، یہودی، ہندو ازم، کے نظریات کامعاشرتی لباس پہنا کر ملت کا کفر اور منافقت کا تشخص تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔سکول ،کالج، یونیورسٹیاں،اوراکیڈمیاں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور نظام حکومت چلانے کے بے دین، مفکر،مدبر اور دانشور تیار کرتی چلی آرہی ہیں۔ کیا پاکستان کے سیاستدان اور حکمران ان جمہوریت کے تعلیمی اداروں سے تیار کردہ نوکر شاہی، افسر شاہی ،منصف شاہی کے سکالروں ،دانشوروںاور مدبروں کی گرفت میں مقید نہیں ہو چکے۔کیا اس جہالت اورظلمات کے علوم سے لا علم ہونا بہتر نہیں۔اللہ کے بندو اللہ کے نور کی تعلیمات سے استفادہ کرو۔تا کہ تمہیں پتہ چل سکے کہ توبہ کہاں کرنی ہے اور شکر کہاں ادا کرنا ہے۔کیسے لوگ ہو کہ جہاں توبہ کرنی ہوتی ہے وہاں شکر ادا کرتے رہتے ہو اور جہاں شکر ادا کرنا ہوتا ہے وہاں توبہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہتے ہو۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرماویں۔ امین
۲۶۔ [L:8] مغرب کی تعلیم و تربیت کے زہر اور تہذیب و تمدن کے کینسر کے جراثیموں نے افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی، سیاستدانوں اور حکمرانوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر دینی نظر یات کی اہمیت ، عظمت اور افادیت سے محروم کر رکھا ہے ۔ پاکستانی نسلوں کو تعلیمی نظام، ملکی نظام، انتظامی نظام ، عدالتی نظام ، سرکاری نظام، معاشی نظام ، معاشرتی نظام، مخلوط تعلیمی نظام کی تربیت ، ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک سرکاری سطح پر اسی سسٹم اسی نظام اور اسی تعلیمات کی روشنی میں ان کے کرداروں کی تشکیل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مغربی مفکرین کی جمہوریت ، یہودی دانش وروں کا معاشی نظام اور ہندو ازم کے طبقاتی نظام کو ملت اسلامیہ پر سرکاری طور پر نافذ کرکے مسلمانوں کو ان کے نظریہ قرآن پاک اور اس کے تعلیمی اثاثے سے محروم کر تے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو دینی تعلیم،مجلس شوریٰ کا اسلامی طریقہ کار ،اسلامی معاشی نظام، اسلامی طر ز حیات، اسلامی تعلیمی نصاب، انتظامی طریقہ اور اسلامی طر ز عدلیہ کے الہامی اور روحانی ضابطہ حیات کو چلانے کے قوانین کے منشور سے الگ کر رکھا ہے۔ کیا اہل پاکستان مسلمان ایسی عدل کش عدلیہ جس میں ہر وقت رشوت،سفارش اورحکمرانوں کے حکم اور خوف سے، لائق اور نالائق وکیلوں کے دلائل سے، امیر اور غریب کی استطاعت سے روزانہ قانون بدلتے رہیں۔ ایسے بد دیانت منصف سکالروں اور ایسی جمہوریت کی عدلیہ پر لعنت بھی اور ان کیلئے معافی اور رحمت کی دعا بھی۔یا اللہ اس پیاری امت کو ان دینی،دنیاوی غاصبوں سے اور انکی جمہوریت کی زنجیروں سے نجات اور آزادی عطا فرما۔امین۔


۲۷۔ یہ کیسی سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہ کیسی دینی سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہ کیسی قومی اور صوبائی اسمبلیاں ہیں۔ یہ کیسے ایم پی اے اور ایم این
اے ہیں۔ یہ کیسے سینیٹ کے ممبران اور چیئرمین ہیں۔ یہ کیسی انتظامیہ ہے۔ یہ کیسی عدلیہ ہے۔ یہ کیسے حکمران ہیں۔ یہ کیسے مسلمان ہیں۔ جو قرآن پاک کی تعلیمات ، ضابطۂ حیات ، اور منشور کو مفلوج اور مسترد کئے بیٹھے ہیں۔ وقت کے تیور بد ل چکے ہیں۔ چودہ کروڑ مسلمانوں پر ان گنتی کے چند سیاست دانوں، حکمرانوں اور بے دین منافق، راہزنوں، کی حکومت مزید قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ تمام کھلاڑ ی اور ان کا گھناؤنا کھیل اپنی بساط لپیٹ چکا ہے۔ ان میں سے بیشتر سیاست دان ، حکمران ، خود اس ورثہ میں ملے ہوئے باطل ، غاصب اور بے دین ، منافق ، غیر اسلامی طرز حکومت ، اور غیر اسلامی طرز حیات کی اذیتوں سے نجات کا راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس مقدس خواہش کو ان کے نصیب کا حصہ بنادے۔ آمین۔ اس ملک کے اصل حکمران نوکر شاہی،افسر شاہی اور منصف شاہی کے بے دین دہشت گرد ہیں۔ یہ جمہوریت کے مذہب کے گرو، سکالر، دانشور، مدبر ہیں جو ملک کی تمام باطل پالیساںمرتب کرتے اور نافذ کرتے چلے آرہے ہیں۔۔جن کوپاکستان کے اعلیٰ طبقاتی تعلیمی ادارے جمہوریت کے نظام کو چلانے کیلئے پرائمری سے لیکر یونیورسٹیوں تک تربیت کرتے چلے آرہے ہیں جو ملک کا نظم ونسق ۱۹۴۷ سے سنبھالے بیٹھے ہیں۔جو ملک میں کینسر کی طرح پھیلے اور ملکی خزانہ دیمک کی طرح چاٹتے چلے آ رہے ہیں۔ انگریزی زبان کی تلوار ہاتھ میں تھا مے سیاستدان ہوں یا سیاسی حکمران یا مارشل لا کے فوجی حکمران۔ کوئی بھی ہو وہ انکو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔یہ تمام حکمران بڑے فاتح انداز میں آتے ہیں۔یہ بھی بڑے پر تپاک انداز میں انکو خوش آمدید کہتے ہیں اوربڑ ے ہی ذلت آمیز اور شرمناک طریقہ سے الوداع کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس نیم مارشل لا حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ان ۹۵ فیصد کرپٹ،رشوت خور،کمیشن خور،ملک کے معاشی دجالوں کوا حتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔انکی عیش و عشرت اور کرپشن کا کیا تذکرہ انکے خدمتگار پٹواریوں کی کروڑوں کی جائدادیں منظرعام پر آچکی ہیں اور مارشل لا حکومت نے ضبط کی ہیں۔ ایک ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدارکے پاس تحصیل سے لے کرضلع تک کتنے پٹواری ہوتے ہیں۔کرپشن مافیا ملک میں کیسے کام کرتا ہے۔ کاروں،کو ٹھیوں اور عیش و عشرت کی زندگی کیسے گذارتے ہیں۔ ملک کا ہر فرد اس سے آشنا ہے یہ اس احتساب سے پھر بچ نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ورنہ ملک کے تمام قرضے صرف ان ہی کی کرپشن سے تیار کی جائدادوںسے اتر سکتے تھے۔ یہ صدا بہار پالیسی ساز جمہوری قانون دان، دستور مقدس کے خلاف اب مخلوط معاشرے کی تشکیل کا تباہ کن کام بڑی تیزی سے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔یہ جمہوریت اور اقتدار کی تلوار سے دین مبین کی تعلیمات اور اسکی تمام اقدار کو پاکستان سے یکے بعد دیگرے منسوخ اور مسترد کرتے اورمغربی تہذیب کی بے دین اقدار کوملت اسلامیہ پر نافذکئے جا رہے ہیں۔ ان مغربی ایجنٹوں کا حساب بیباک ہونے کا وقت انکے سر پر آن کھڑا ہے۔یا اللہ انکو کفر اور منافقت کے عمل سے نجات عطا فرما۔امین۔؁ٓ
۲۸۔ ملک کے تمام جمہوریت کے سکالروں، معاشیات کے مدبروں ، طبقاتی تعلیم اور طبقاتی معاشرے کے دانش وروں کا ملک پر مکمل قبضہ ہے۔ انگریزوں کے پالتو سیاست دانوں اور حکمرانوں کووراثت میں ملے ہوئے غیر اسلامی حکومتی نظام اور غیر اسلامی سسٹم کو ملک میں چلانے والی سرکاری مشینری نے پوری ملت کا شعور، اس کی صلاحیتوں، اورفطرتی خصو صیات کو مفلوج اور تسخیر کر رکھا ہے۔ انہوں نے آج تک اسلامی مملکت میں اسلامی آئین کے مطابق اسلامی ضابطہ حیات کو ملک میں رائج اور نافذ العمل نہ ہونے دیا۔کیونکہ وہ پاکستان میں کسی
اور تہذیب و تمدن اور ثقافت کے ایجنٹ ہیں۔ وہ ملک کے بجٹ،خزانہ اور وسائل پر پوری طرح قابض ہیں۔ وہ شاہی تنخواہوں،شاہی سرکاری سہولتوں،شاہی محلوں،شاہی سرکاری گاڑیوں،شاہی سرکاری خرچوں، رشوتوں، کمیشنوں، کرپشنوں کے بے تاج بادشاہ چلے آرہے ہیں۔ حکمران مختصر سے وقت کے لئے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ہر حکمران کو یہ سرکاری مشینری کے ادنیٰ اہلکار سے لیکراعلیٰ افسر شاہی اور منصف شاہی تک کے بے دین سکالر وراثت میں ملتے جاتے ہیں۔ ۱۸۵۷ سے لے کر۱۹۴۷ اور ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک ان اسلام کش جمہوریت کے مذہب کے دہشت گردوںکو دوام حاصل رہا ہے۔ان سکالروں،دانشوروں سے ملک و ملت کونجات دلانا از بس ضروری ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے مذہب کے تمام اعلیٰ طبقاتی تعلیمی ادارے ان کی تربیت گاہیں ہیں۔جن کے شاہی اخراجات صرف اور صرف یہی لوگ ادا کر سکتے ہیں۔ انکی تعلیم وتربیت کے لحاظ سے یہ بات مسلمہ ہے کہ انکے نزدیک نعوذباللہ اسلام کا نظام ایک فرسودہ اور ناقابل عمل ضابطہ حیات ہے۔وہ اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ اسلام کے نفاذ کے بعد ان کی طرح طرح کی عیاشیوں اور ہر قسم کی لوٹ مار کے دروازے انکے لئے بند ہوجائینگے۔ملت اور ملک کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ ان سے اور انکے طبقا تی تعلیمی اداروں سے جتنی جلدی ہو سکے نجات کاراستہ اختیار کریں۔تا کہ ملک میں آئین کے مطابق دستور مقدس کانظام قائم ہوسکے،امین۔
۲۹۔ اس کے برعکس انگریزوں کے تیار کردہ ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ کے مطابق انگریزوں کے مروجہ جمہوریت کے غیر دینی نظام حکومت، سودی معاشی نظام، طبقاتی معاشی طریقہ کار، کو سرکاری سطح پر رائج کررکھا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ملک کے اعلیٰ انگلش میڈیم تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کے فارغ التحصیل ہوتے ہیں ان کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے آج تک انہوں نے انگلش ز بان کو بطور سرکاری زبان چودہ کروڑ عوام کی منشا کے خلاف ملک میں رائج اور مسلط کر رکھا ہے۔ جبکہ آئین کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کے سکالر،سودی معاشیات کے سکالر،طبقاتی معاشی نظام کے سکالر اصل میں انگریزوں، عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کے سفیر،ایجنٹ اور حکومتی نمائیندے ہیں۔ جب کہ ملک کے ستر فی صدی کسان ، ۲۹ فی صد ی مزدور، محنت کش، ہنر مند ، بیشتر سیاست دان ، اور عوام الناس اس انگریزی زبان کو نہ سمجھ سکتے ہیں۔ نہ لکھ سکتے ہیں۔ اور نہ ہی بول سکتے ہیں۔ یعنی چودہ کروڑ عوام کو انہوں نے کانوں سے بہرہ زبان سے گونگا اور شعور سے ماؤف کر رکھا ہے۔ انگریزی زبان کو انہوں نے اپنی اہلیت ، قابلیت، دانش وری، اور دیدہ وری کی ایک پہچان بنا رکھا ہے۔ ان مغرب زادوں نے ۱۹۴۷ ء سے ملک کی انتظامیہ عدلیہ، اور تمام محکموں کا نظم و نسق اپنے قبضے میں لے کر اسلامی ضابطہ حیات کو ملکی اور ملی سطح پر الگ تھلگ کر رکھا ہے۔ پاکستان میں اردو زبان کا نفاذ اور دین کی روشنی میں تعلیم کا ایک نصاب جو دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرسکے قائم کرنے میں بری طرح حائل ہیں جو ملت کی فلاح کیلئے از حد ضروری ہے۔
۳۰۔ ملک ، حکومت، حکمران اور چودہ کروڑ عوام انگریزی زبان اور ان کے شکنجوں میں جکڑے پڑے ہیں۔ انگریزی زبان طبقاتی مغربی تعلیم و تربیت کی بنیادی کڑی ہے اور افسر شاہی کی تمکنت کی نشانی ہے۔ سروس میں آتے ہی سرکاری کوٹھی ، ٹیلی فون ، مالی، چوکیدار، گن مین، باورچی، سرکاری گاڑی، ڈرائیور، سرکاری پٹرول اور سرکاری عہدے کی سٹیٹ اور بے شمار سہولتیں، ان کی ڈسپوزل پر ہوتی ہیں۔دنیا کے کسی مہذب ملک میں کسی حکمران یا سرکاری اعلیٰ سے اعلیٰ اہلکار کے پاس نہ اتنی بڑی تنخواہیں اور نہ اس قسم کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔انہوں نے
اقتدار کی نوک پر معاشی اور معاشرتی ہولناک تباہی مچا رکھی ہے۔ مغربی ثقافتی،معاشرتی،سماجی، تہذیبی۔ غیر دینی تباہ کن اقدار کو ملکی سطح پر مروج کر رکھا ہے۔ کیا پاکستان ان جمہوریت کے سیاسی مذہب کے حکمرانوں یا انکی بد دیانت ظالم نوکر شاہی، رشوت خور جابر افسر شاہی یا بریف کیس مافیا پر مشتمل بد کردار منصف شاہی کے تباہ کن سکالروں،ظالم دانشوروں اور غاصب مدبروں کیلئے بنایا گیا تھا۔تا کہ حکمران بر سر اقتدار آکروزارتیں اور ملک بیچتے رہیں اور یہ بد بخت عدل وانصاف کے سودے اور حکمرانوں سے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے تعاون کرتے رہیں۔ جمہوریت اور اسکے منتظمین سے چھٹکارا حاصل کرنا ملک میں اسلا ما ئزیشن کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
۳۱۔ مغرب کی صنعتی ، سائنسی، ترقی کا راستہ اختیار کرنے ،انکے مطابق ملک میں مساوات قائم کرنے،محنت ومشقت کی اجرت میں فرق ختم کرنے، سرکاری سہولتوں میں تفاوت ختم کرنے،معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے،انسانی حقوق کو برابری کی سطح پر ادا کرنے کی بجائے انہوں نے تو ملک میں اسکے برعکس اور متضاد عدل کش نظام اپنا رکھا ہے۔وہ تو ملک میں بے حیائی بے شرمی، بد کرداری کے ضابطہ اخلاق کو، جنسی سیکنڈل، ڈاکے، دہشت گردی، تخریب کاری، قتل و غارت، بینک ڈکیتی ،فراڈ، رشوت، کمیشن، انتشار، بلیک میلنگ ،قانون شکنی کی تشہیر ہر وقت،ہر روز ڈراموں، اخبارات ، رسائل ریڈیو، ٹی وی، انٹرنٹ اور تمام ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سرکاری اور غیر سرکاری ہر قسم کے طریقہ کار سے مشتہر اور پھیلاتے جا رہے ہیں۔ اور ان اخلاق سوز لغویات کی تشہیر جا ری و ساری ہے۔ جس سے آنے والی نسلیں نئے جرائم، نئے ڈاکے ، نئے اصولوں ، نئے اقسام کے جرائم سے آراستہ اور پیراستہ ہوں گے۔ اور ملکی امن و سکون، انارکی کی آگ میں جلتا سلگتا اور بھسم ہوتا دکھائی دیتا رہے گا ۔جو آنے والی نسلوں کیلئے مہلک ثابت ہو گا۔ جب تک ملک میں ان اخلاق سوز اقدارکے بتوں کو تراشنے کا عمل جاری رہے گا اوران کی پرستش بھی قانونی طور پر جائز رہے گی۔ ملت کے جسد کو ان کینسر کے جراثیموں سے بچانا اور ان کے علاج معالجہ کافریضہ حکمت کے وارثوں کا کام ہے۔
۳۲۔ مغرب کی سائینسی اور صنعتی ترقی کی طرف توجہ دینے کی بجائے ہمارے مغربی تہذیب وتمدن کے سکالروں، مفکرو ں،مدبروں نے ہر معاشی اور معا شرتی برائی کو حکومتی سطح پر مسلط کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ مغرب نے صنعتی ترقی کا ہدف پورا کرنے اور خوش حال زندگی گذارنے کے لئے ماں،بیٹی،بہن اور عورت ذات کو گھر کی چار دیواری سے باہر نکالا۔ مردوں نے اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری اٹھانے سے گریز بلکہ معذرت کر لی۔ سن بلوغت تک پہنچنے تک ان کو روزگار کی تلاش کے لئے گھر کی چار دیواری سے باہر نکالا گیا۔ مردوں کے شانہ بشانہ جوان لڑکیوں نے فیکٹریوں، کارخانوں،سرکاری محکموں اور ہر شعبہ زندگی میںروزگار کی تلاش اور اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کیلئے اور خوش حال زندگی گذارنے کے لئے ملازمتیں کرنا شروع کر دیں۔ مخلوط معاشرہ معرض وجود میں آیا۔ ان کی گھریلو اور خواندگی زندگی مفلوج ہو گئی۔ شادی کا مہذب ، سماجی ، معاشرتی ، ثقافتی اور مذہبی طریقہ کار اور رسومات دم توڑتی گئیں۔ گھر اور ازدواجی زندگی کا پا کیزہ، طیب،روحانی اور فطرتی نظام ریزہ ریزہ ہو گیا۔ جنسی تعلق کی بنا پر فرینڈ شپ کا رواج عام ہوا۔ زبور شریف، توریت شریف، انجیل مقدس کی تعلیمات کو نظر انداز کیا گیا۔ مذہب کے خلاف گناہ اور جرم کی زندگی کو اپنایا گیا۔ احساس گناہ کا احساس بھی ختم ہوتارہا ۔ عیسائیت کے مذہب کے خلاف شادی کے بغیر بچے پیدا کئے۔ اور چائلڈ ہاؤس میں پرورش کے لئے پہنچا دیئے۔ عورت کے فطرتی تقدس اور اس کی شرم و حیا کی
معصوم پاکیز ہ اور انمول ضمیر کو آزادی ء نسواں کا نام دے کر ریزہ ریزہ کر دیا۔ اس کی عصمت کو لوٹا، اور اس کے جسم کو نوچا۔ اس کو پبلک پراپرٹی بنا کر رکھ دیا۔ ازدواجی زندگی کا مذہبی شعور دم توڑتا گیا۔ مغربی معاشرہ گھریلو اور گرہستی اکائی کو بری طرح روند چکا ہے۔ وہاں رشتوں کا تقدس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ماں کی مامتا، بہن،بیٹی اور اولاد کے ادب و محبت کا رشتہ اجڑ چکا ہے۔عورت سے تقدس کے فطرتی رشتے ماں ، بہن، بیٹی ،بھائی ، باپ اور خاوند چھینے جا چکے ہیں۔
۳۳۔ مغرب کی عورت تنہائی کا زہر پی رہی ہے۔ وہ کسمپرسی کی حالت میں روتی ہے۔ اس کے پاس آنسوتک نہیں ہوتے۔ وہ زخموں سے چور ہے۔ لیکن اس کی آہ تک موجود نہیں۔ وہ دکھوں میں سلگتی ہے۔ لیکن اس کے دکھوںمیں درد اور تپش محسوس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بیگانوں کو پکارتی ہے۔ لیکن اس کے سننے والے کوئی نہیں۔ وہ معاش کی تلاش میں گھر سے نکلی ، اور پھر گھر کا راستہ بھول گئی۔اس کو جنسی درندوں نے گھیر لیا۔ اس نے بچے بچیوں کو جنم دیا۔ اس کے بعد نہ وہ بچے بچیاں ڈھونڈھ سکی۔ نہ وہ خاوند تلاش کر سکی۔نہ وہ ماں کو د ھونڈ ھ سکی نہ ہی اسے اپنا باپ ملا۔ نہ بھائی بہن مل سکے۔نہ وہ آسمانی اور خونی رشتوں کے تقدس سے آشنا ہو سکی اور نہ ہی وہ فطرتی الفت،پیار اور محبت کی پیاس بجھا سکی۔ مغرب کے انسان نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام کی تعلیمات اور رشد و ہدایت کے چراغوں سے علیحدگی اختیار کر کے حیوان ناطق کی جنگل کی زندگی کو اپنا لیا۔
۳۴۔ آج جمہوریت کے مذہب کے پاکستانی سکالر، دانشور، مدبر، ملت اسلامیہ کے دینی نظام کو آزادیء نسواں کے نام پر اسلام کش طرز حیات اپنانے کیطریقے سرکاری طور پر مسلط کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ کیسے ظالم ، منافق ، ہیں کہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ ملک کا سیاسی طریقہ کار قانون سازی، عدل و انصاف کا ضابطہ سودی یہودی معاشی نظام، طبقاتی تعلیمی نظام اور طبقاتی معاشرہ کے بے دین جمہوریت کے مذہب کے کالے قانون سرکاری طور پر نافذ کرکے چودہ کروڑ مسلمانوں کو جھوٹ کفر، بے حیائی اور منافقت کے عمل کرنے کا زبردستی پابند اور مقید کئے جا رہے ہیں۔ جمہوریت کے کفر کے مذہب کا قلم دان ان غاصب ، ظالم بے رحم منافقوں سے چھین لینا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
۳۵۔ ۱۸۵۷ ء سے لے کر ۹۴۷ ۱ تک اور ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک ایک مفتوحہ مظلوم پاکستانی قوم کے ساتھ جو بیت گئی سو بیت گئی۔ ۴۷ ۱۹ ء تک انگریز فاتحین نے مسلمانوں کو جس ظلم و اذیت اور بربریت سے گذار دیا۔ اسکا تذکرہ ان کے ظالمانہ کردار سے نفرت اور انتقام کی آگ کو ہوا دیتا اور بھڑکا تا ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان کو فتح کیا۔ مغلوں کے آخری حکمران بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں قید کیا۔ اور اس کے تینوں بیٹوں کے سر کھانے کی میز پر چن دیئے۔ ہندوؤں اور انگریزوں نے مل کر مسلمانوں کا قتل عا م کیا۔ مسلمان شہروں سے بھاگ کر دور دراز کے علاقوں ، گاؤں ، پہاڑوں، صحراؤں، میں خانہ بدوشوں کی زندگی گزارنے لگے۔ اور دور دراز کے علاقوں میں چھپ کر زندگی کی اذیتوں کے ساتھ روزگار کی تنگی ، اور نان و نفقہ سے محرومی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوگئے۔ انتظامیہ ، عدلیہ ، تھانے کچہریاں، مسلمانوں کو اور انکے نظریات کو ختم کرنے اور اپاہج بنانے کے لئے قائم کی گئیں۔ جو آج تک اپنا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا۔ اپنے قابل اعتماد معاونین کو جاگیریں عطا کیں۔ اور کچھ کے وظائف مقرر کئے۔ مفتوحہ قوم کے لئے ایک خاص قسم کے ظالم اور غاصب قوانین مرتب کئے۔ پولیس مقابلوں میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے۔بے گناہ مسلمانوں کو پکڑکر بے پناہ تشدد
کرتے۔ہر قسم کی اذیتوں سے گذارتے۔ جس کو چاہتے قانون کا پھندا گلے میں ڈال دیتے۔ جھوٹے مقدمے دائر کرتے۔ بد نصیب منصف ان کے مطابق فیصلے کر دیتے۔ پھانسی پر لٹکا دیتے۔
۳۶۔ بدقسمتی سے آج بھی ہماری انتظامیہ اور عدلیہ وہی ظلم،وہی تشدد،وہی بربریت،وہی جعلی کیس،وہی بوگس فیصلے، وہی تمام پالیسیاں،وہی ظالم پولیس،وہی غاصب جج اسی قسم کے فرائض ،وہی صبح سے لیکر شام تک عدالتوں کے دروازوں پر مجرموں کی طرح انصاف کی بھیک مانگنے کا طریقہ، وہی سالہا سال عدالتو ں کے چکر۔وہی ظالم وکیل،وہی انکا ہر تاریخ پر لوٹنے والا عمل۔ وہی عدل کش رشوت پر مشتمل فیصلے ۔پھر اگلی عدالتوں میں اپیلیں۔وہی وکیلوں کی دو بارہ فیسیں۔ وہی تاریخوں کے عبرتناک زخم۔ وہی انگریز کے مسلط کردہ انسانیت سوز ضابطہ قانون کے تحت عدالتوںکی کاروائیاں۔ وہی ر شوت خور،بد دیانت سکالر منصف۔ وہی انصاف کے طلبگار مظلوم عوام۔ پاکستان ۱۹۴۷ء کو معرض وجود میں آیا۔ انگریزوں کے مسلط کردہ منصف ،وہی افسر شاہی۔وہی نوکر شاہی، وہی سرمایہ دار، وہی جاگیر دار،وہی حکمران، وہی نظام، سسٹم اور وہی قوانین ملک پرنافذ ہوتے چلے آرہے ہیں۔ انہوں نے آزادی کے بعد بھی انگریزوں کی جمہورییت یہودیوں کا سودی معاشی نظام اور ہندووں کا طبقاتی نظام سرکاری سطح پر جوں کا توں جاری رکھا۔ ملک کے تمام سرکاری بے دین تعلیمی ادارے اسی طبقاتی تعلیمی نصاب کو چلاتے اور نوکر شاہی،افسر شاہی، منصف شاہی کی تعلیم و تربیت کرتے چلے آرہے ہیں۔ جو جمہوریت کے نظام حکومت کو چلاتے آرہے ہیں۔وہی انگر یزوں کے پروردہ جا گیر دار اور سرمایہ دار سیاستدان اور حکمران بنے۔ جب کہ ہندوستان نے ایسے لوگوں کی تمام جاگیریں ، اور املاک ضبط کر لیں۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ ہندوستان کی طرح ان کی تمام جاگیریں، جائیدادیں، وظائف اور ان کی تمام املاک ضبط کرکے ملک کے خزانے میں جمع کروائی جاتیں۔ ان کے خلاف غداری کے کیس بنائے جاتے۔ ان کو ان کے جرائم کی سزائیں دی جاتیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے ہاتھ سیاست اور حکومت تک رسائی حاصل کر گئے۔ جو ملک و ملت کی تباہی کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔
۳۷۔ انہوں نے چودہ کروڑ عوام کو بری طرح ظلم و بربریت کا شکار بنایا۔ انہوں نے طبقاتی تعلیمی ادارے، طبقاتی انگلش میڈیم نصاب، طبقاتی معاشرہ ،طبقاتی معاشی نظام اور مخلوط تعلیم کو جاری کر رکھا ہے۔ افسر شاہی، منصف شاہی، نوکر شاہی کی بے دین فوج سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لئے تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مغربی جمہوریت، کے مذہب کا سیاسی نظام ، انتظامی نظام، عدالتی نظام، سودی یہودی معاشی نظام، طبقاتی معاشرتی نظام کو ملکی سطح پر سرکاری طور پر نافذالعمل کرکے پوری ملت کے ساتھ بدترین دھوکا اور ظلم کر رکھا ہے۔ اس طرح انہوں نے مسلمانوں کو ان کے نظریے ، عقیدے، دین اور دستور مقدس سے الگ تھلگ کر دیا ہوا ہے۔ ان منافق سیاست دانوں، حکمرانوں نے افسر شاہی ، نوکر شاہی اور منصف شاہی کے ساتھ مل کر سرکاری طور پر ملت کو کفر کے نظریات اور غیر اسلامی مغربی طرز حکومت کی پیروی اور دین سے دوری کی منزلوں پر گامزن کر رکھا ہے۔ نعوذاباللہ قرآن پاک اور دستور مقدس کو انہوں نے فرسودہ اور ناکارہ نسخہ سمجھ کر گھروں اور مسجدوں تک محدود کیا ہوا ہے۔ یہ اسلامی تہذیب و ثقافت کو کچلتے جا رہے ہیں۔ نظریاتی ریا ست اور نظریاتی ملت سے اس کی نظریاتی ،دینی،قرآنی اور اسلامی اساس ضبط اور غصب کرتے جا رہے ہیں۔ اسلام مسلمانوں کے صرف علم کا نام نہیں اسکے عمل کا نام ہے۔اسلام
بیان کرنے کا نام نہیں اس کو کرنے کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق دے۔
۳۸ ۔ آؤ مل کر غور و فکر کریں۔ اور درج ذیل نکات کی روشنی میں اپنے ضمیر سے فیصلہ لیں۔ کہ کیا ہم اپنی بیٹی،بہن،ماں کو ضروریات کے حصول اور سیاسی برتری کی خاطرسیاست، فیکٹریوں، کارخانوں، ملوں سرکاری اداروں میں مردوں کے شانہ بشانہ آزادیء نسواں کے نام پر انکی عزت،انکی عصمت ،ان کا پردہ، ان کا احترام ، انکا دین سے دوری کا عمل، انکے جنسی تحفظات اور انکے نان نفقہ کے دینی حقوق کو نبھانے کی بجائے ان کو مخلوط مغربی تہذیب کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ مغرب پرست سکالروں، مدبروں، مفکروں، اور دانش وروں جن کی تعلیم و تربیت انہی کے تعلیمی اداروں،اکیڈمیوں ،کلبوں، شراب و سرور،ناچ گانے، رقص و سرود،زنا و بدکاری سے پروان چڑھتی جا رہی ہیں۔ان غیر ملکی بے دین ایجنٹوں کے سپرد پاکستانی مسلم معاشرے کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں یا مسلمانوں کو اسلامی اقدار کا تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ کیا پاکستان کی تہذیب ان چند ٹی۔وی کے بے حیا،بے شرم،ڈرامہ نویس قلم کاروں ، بے حیائی اور بد کاری پھیلانے والے ہمہ وقت ٹی وی چینلوںپر نشر ہونے والے اداکاروں، ناچوں اور ناچنے،گانے بجانے والی اداکاروں کا نام ہے۔
۱۔ یہ ملک ۷۰ فیصد کسانوںاور ۲۹ فیصد مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں پر مشتمل مسلمانوںکا ملک ہے۔کیا آپ ان غیر ملکی بے دین سکالروں اور انکے مغربی تہذیب پر مشتمل نشرو اشاعت کے اداروں ، تعلیمی اداروں، انکی این ،جی،اوز اور ان دین کے منافقوں کو مزید جمہوریت کے مذہب کے حکومتی نظام پر مسلط رکھنا چا ہتے ہیں۔ تا کہ وہ مخلوط معاشرہ اوربے دین نظام کو مزید ہم پر مسلط رکھ سکیں۔
۲۔ کیا آپ مغرب کی طرح ماں، بہن، بیٹی اور عورت ذات کو گھر کی چار دیواری سے باہر نکالنا چاہتے ہیں؟ اور نوجوان لڑکیوں کو مغرب کی طرح سن بلوغت تک پہنچنے پر ان کو روزگار کی تلاش کے لئے گھر کی چار دیواری سے نکالنا چاہتے ہیں؟
۳۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹیاں،بہنیں،مائیں اور تمام مستورات مغرب کی طرح فیکٹریوں، کارخانوں اور سرکاری محکموں اور زندگی کے ہر شعبہ میں روزگار تلاش کریں۔اور اپنی معاشی ضروریات پوری کریں۔ چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے فارغ ہو جائیں اور غیر محرم مردوں کے ساتھ مخلوط زندگی گذاریں۔
۴۔ کیا آپ مغرب کی طرح مخلوط معاشرہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی گھریلو اور خانگی زندگی ختم اور برباد کرنا چاہتے ہیں۔
۵۔ کیا آپ شادی کی مذہبی رسومات اور طریقہ کار کو توڑنا چاہتے ہیں۔ ماں، بہن ، بیٹی اور بیوی کا دینی مقام ، عظمت ، تقدس اور ادب کو پامال اور اسلامی رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں؟
۶۔ کیا آپ ماں، بہن، بیٹی کو فرینڈشپ کے تحت جنسی تعلق پیدا کرنے کا ما حول اور اس عمل کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔اس دینی برائی اور گناہ کی زندگی کا ملک میں رواج قائم کرنا چاہتے ہیں؟
۷۔ کیا آپ ماں،بہن،بیٹی اور عورت کی فطرتی پاکیزگی اور اسکے شرم و حیا کو تار تار کرنے کے لئے بے دین مخلوط معاشرہ تیار کرنا چاہتے ہیں؟

۸۔ کیا آپ مخلوط معاشرے سے مغرب کی طرح عورت سے شادی کے بغیر بچے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان بچوں کو چائیلڈ ہاؤسز میں پہنچانا چاہتے ہیں؟
۹۔ کیا آپ عورت کی شرم و حیا جیسی طیب فطرت، عصمت،پردہ اور اس کے انمول ضمیر کوآزادی نسواں کانام دے کر پاش پاش کرنا چاہتے ہیں۔
۱۰۔ کیا آپ مخلوط معاشرہ تیار کرکے عورت سے عورت پن چھیننا اور اس کے جسم کو نوچناچاہتے ہیں۔
۱۱۔ کیا آپ مغربی مخلوط معاشرے کی طرح عورت سے گھریلو اور گرہستی کی اکائی کو چھیننا اور روندنا چاہتے ہیں۔
۱۲۔ کیا آپ مخلوط معاشرہ تیار کرکے عورت سے ماں کی مامتا اور اولاد سے ماں کی محبت اور ادب کا رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں؟
۱۳۔ کیا آپ عورت سے ماں بہن ، بیٹی ، بیوی، کے فطرتی رشتوں کو ختم اور پامال کرنا چاہتے ہیں؟
۱۴۔ کیا آپ مغربی مخلوط معاشرے کی طرح عورت کو تنہائی کے عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں؟
۱۵۔ کیا آپ بہن،بیٹی بیوی اور ماں کو بے یارو مدد گار اور بے بسی کی حالت میں مخلوط معاشرے کے ظالم،بے رحم جنسی درندوں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔
۱۶۔ مغربی عورت معاش کی تلاش میں گھر سے نکلی۔ اور گھر کا راستہ بھول گئی۔ وہ جنسی درندوں کے نرغے میں آ گئی۔ اس نے انسان کے بچوں کو جنم دیا۔ لیکن وہ اولاد سے محروم رہی۔ اور خاوند کو تلاش کرتی رہ گئی۔کیا آپ ایسا معاشرہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔
۱۷۔ کیا آپ مغرب کے مخلوط معاشرے کی طرح عورت کو پبلک پراپرٹی بنا نا چاہتے ہیں ۔ اور اس کے تمام فطرتی اور ازلی رشتے ناطے ختم کرنا چاہتے ہیں۔
۱۸۔ کیا آپ اسلام کے دا ئرے میں رہنا چاہتے ہیں۔ یا اسلام سے خارج ہونا چاہتے ہیں۔ یا منافقت کا عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
۱۹۔ کیا آپ مخلوط معاشرے کی درج بالا جسمانی ، قلبی، اور روحانی اذیتوں کو برداشت کرنا چاہتے ہیں۔ اور حیوانوں کی طرح جنسی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
۲۰۔ کیا آپ مغرب کے طرز کے فری سٹائل کلبوں، ڈانس ہالوں، کو پاکستانی معاشرے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں؟
۲۱۔ کیاآپ عورت کے جسمانی حسن کو جنسی لذت حا صل کرنے تک صرف محدود رکھنا چاہتے ہیں؟
۲۲۔ کیا آپ خدا اور رسول ﷺکے عطا کردہ نظام اور ضابطہ حیات اور ازدواجی زندگی کے قوانین کو ان چندبے حیا، بد نصیب مغربی سکالروں، دانش وروں، مفکروں، مدبروں، اور معاشرتی دہشت گردوں اور ایجنٹوںکے ہاتھوں چودہ کروڑ عوام کی نظریاتی اور دینی سرحدوں کو مسخ کرنا ،اپاہج کرنا اور نیست و نا بود کرنا چاہتے ہیں۔

۲۳۔ ان مغربی تہذیب کے ایجنٹوں اور بے دین سرکاری سکالروں اور دانشوروں نے اسلامی تہذیب و تمدن کو مکمل طور پر ختم کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ انہوں نے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اکیڈمیوں میں مخلوط تعلیمی نظام قائم کر رکھا ہے۔ جنسی آزادی کو فروغ دینے کا عملی کام شروع کیا ہوا ہے۔ ٹی وی کو مخلوط معاشرہ تیار کرنے کے فرا ئض سونپے ہوئے ہیں۔ ملک میں نشرو اشاعت کے تمام ادارے یہی فرائض ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ انہی کی اولادوں اور کالج کے نو جوان لڑکے، لڑکیوں نے بے حیائی پھیلانے ڈراموں میں حصہ لینے اور گناہ کی زندگی گذارنے کاعملی کام شروع کر رکھا ہوا ہے۔ ٹی وی کے تمام چینلوں پر ڈرامے ہی ڈرامے ، فنکار ہی فنکار ، ایکٹریسیں ہی ایکٹر یسیں کینسر کی طرح پھیلتی جا رہی ہیں۔ ڈراموں میں بے حیائی، بے شرمی، قتل و غارت، دھو کہ دہی، فراڈ ، چوری، ڈاکے ، بددیانتی کے راستے، رشوت، کمیشن، کرپشن ، اغوا، لوٹ مار کے جدید طریقوں اور جدید اسلحہ کے استعمال کی تربیت و ترغیب دے کر آنیوالی نسلوں کو ایجو کیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح غیر اخلاقی محبتوں اور محبو بوں کے رول شائد پیشہ ور عورتیں اور بد کردار مرد بھی اس طرح سر انجام نہ دے سکیں۔ جس طرح یہ نو جوان لڑکے اور لڑکیاں سر عام ٹی۔وی پر پیش کرتے ہیں۔
۲۵۔ ہر قسم کے دین کے اصول و ضوابط کے خلاف اور متضاد بدکاری ، بے حیائی ، بے شر می، بد اخلاقی، اور جرم کا رول ادا کرنے والا بدکردار بے حیا، ایکٹر یا مہذب فنکار کہلاتا ہے۔ ہر برائی میں ملو ث بے حیا،بد کردار عورت کا رول ادا کرنے والی اور فحاشی پھیلانے والی لڑکیوں کو ایکٹریس یا ہیروئن کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ایسے ڈراموں کے مصنفوں کو ادیب اور ماہر تعلیم تصور کیا جاتا ہے۔ اس بے حیائی ، بد کرداری اور فحاشی پھیلانے والے مغرب پرست مصنفوں کو اور ان کے ڈراموں میں رول ادا کرنے والے فنکاروں کو جو اسلام کے نظر یا ت کو ملیامیٹ کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ان کو ادیبوں، ایکٹرسوں، ہیرو اور ہیروئنوں کے معزز ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔ان کی اس اعلیٰ کارکردگی کی سرکاری سطح پر قومی ہیرو کی طرح پوری پوری حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔


۲۶۔ مغربی تہذیب کے سکالر ،دانشور، مدبر، مفکر اور عظیم آرٹسٹوں اور ملک کی نامور اعلیٰ شخصیات کو ٹی۔ وی کی سالانہ تقریبات میں اکٹھا کرتے ہیں۔ مختلف اقسام کے قیمتی سامان اور نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ انکی حوصلہ افزائی اور پذیر ائی کی جاتی ہے جس سے ان کی ترقی کی شاہراہیںکھل جاتی ہیں۔ یہ غیر اسلامی ثقافتی جرائم پر مبنی ڈراموں کی یلغار ٹی وی کے تمام چیلنوں پر نظر آتی ہے۔ یہ نامور فنکار اور نامور ایکٹریسیں، انہی سرکاری دانشوروں، سکالروں ،مدبروں، مفکروں ، مغربی تہذیب کے علمبرداروں ، ٹی۔وی سے منسلک نسل در نسل فنکاروں اور اعلیٰ معاشرے کے طبقہ کی اولادیں ہوتی ہیں۔ جو اسلام کے تقدس کو بین الاقوامی سطح پر پامال اور روندتی جاتی ہیں۔ پاکستان کے ٹی وی پر مشتہر ہونے والے بے حیا،بے غیرت، بھانڈوں ، فنکاروں اور سکالروں پرمشتمل چندلوگوں کا نام تہذیب و ثقافت کے اعلیٰ نمائندوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دینی نظریات کے قاتل اور جمہوریت کے تن آور چنار کے ہولناک درخت۔
۲۷ ۔ بلکہ یہ تو ستر فی صد خود دار ، باوقار، با حیا، دین دار پاک دامن،پاک باز کسانوں جو ملک کی پیداوار کا ہدف پورا کرتے ہیں۔ اور ۲۹ فی صدی رزق حلال کمانے والے،محنت کے خوگر اور اس دور کے عظیم مزدوروں، نامور محنت کشوں، لا جواب ہنر مندوں پر مشتمل چودہ کروڑ
عوام الناس کا ملک ہے۔جوملک میں صنعتی انقلاب کے ضامن اورملکی معاشیات کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ جو ملکی پیداوار ، خام مال مہیا کرتے چلے آ رہے ہیں۔جن کو ان غاصبوں نے بنیادی ضروریات سے محروم کر رکھا ہے۔یا اللہ ان پر رحم فرما۔امین
اے اہل وطن چودہ کروڑ پاکستانیو!۔اے اسلامی نظریہ ، عقیدہ، دین اور دستور مقدس کے ضابطہ حیات کی جنگ لڑنے والی دینی سیاسی جماعتوں کے رہبرو! ان کے ورکرو! اور دور حاضر کے ہونہار طالب علمو! غور سے سن لو۔ مسلمانوں کی کردار سازی کا وقت اب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔اٹھو ! اور اسلامی ضابطہ حیات کی سرحدوں کی حفاظت کرو۔ اس ملک کے حکمرانوں کا اس وقت تک تعاقب کر و جب تک یہ آئین کی روشنی میں ملک میں دستور مقدس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔امن و امان بھی قائم رکھو۔ اور انکو اسلامائزیشن کے لئے مجبور بھی کرو۔ اس ٹی وی کی یلغار کو آہنی ہاتھوں سے روکو۔ یہ مغربی تہذیب کے سکالر، دانشور ،مدبر ،مفکر ، غیر اسلامی طرزحیات کا پرچار مختلف سائنٹیفک طریقوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ڈ راموں کی سیریز کو دن رات ٹی وی کے تمام چینلوں پر نشر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم ٹی۔ وی پر ملکی، ملی اور قومی مسائل کو دنیا کے سامنے مناسب طریقہ سے پیش کرنے سے بری طرح قاصر اور ناکام ہو چکے ہیں۔ ٹی۔وی کی ناقص کارکردگی مغربی دنیا کو جہاد اور دہشتگردی کے فرق سے آج تک آگاہ نہیں کر سکی۔ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ریاستی دہشت گردی کا کون مرتکب ہوا ہے۔ یو این او میں استصواب رائے[L:8] کیلئے کشمیر کا کیس کون لے کر گیا تھا۔ ۸۰ ہزار کشمیریوں کا قاتل کون ہے۔ مستورات کی بے حرمتی کون کرتا چلا آرہا ہے۔ انسانی اعضا فضا میں کون بکھیرتے چلا آرہا ہے۔ کشمیر میں نا جائز قابض کون ہے۔ کشمیر میں سات لاکھ فوج کس طرح ظلم و ستم کرتی چلی آرہی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کا ملزم اور مجرم کون ہے۔ اسکے علا وہ ٹی۔وی اور نشرو اشاعت کے تمام ادارے مغربی دنیا کو یہ بھی باور کرانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ کہ امریکہ جیسی عظیم بین الاقوامی طاقت اور اسکے جدید ترین سیکورٹی کے حفا ظتی انتظامات کو درہم برہم کرنے میں کسی بھی افغانستا نی فرد کا ہاتھ نہیں تھا۔ نہ افغانیوں کے پاس ایسی صلاحیت ہے نہ تجربہ۔ نہ ہتھیار ہیں نہ ٹریننگ۔ نہ ان کے پاس امریکہ جیسی عظیم طاقت ہے۔جس کے پاس وقت کے جدیدترین سیکورٹی کے حفا ظتی انتظامات میسر تھے ۔ اور دنیا کا جدید ترین دفاعی انتظام بھی۔ وہ کیسے ان کو توڑ سکتے تھے۔چار جہازوں کو ہائی جیک کرنے والے کون تھے۔ان جہازوں کو دونوں ٹاوروں کے ٹا رگٹ سے ٹکرانے والے کون تھے۔سات ہزار انسانی جانوں کے قاتل کون تھے۔یہ دہشت گرد امریکہ یعنی فرعون کے گھر موسیٰ پرورش پاتے اور پلتے رہے۔ اتنے بڑے سانحہ اور جانی نقصان کا بہتان لگا کر امریکہ جیسی بڑی طاقت نے افغا نستان جیسے کمزور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ ڈیزی کٹربموں اور کروزر میزائلوں کی بارش کر دی۔بے گناہ اور معصوم افغانستان کے عوام کے قتل و غارت کی انتہا کر دی ہے۔ پچھلی جنگ عظیم سے بھی زیادہ اتحادی ممالک نے اکٹھے ہو کر تباہ کن جدید اسلحہ استعمال کر کے ظلم و بربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ملک کے یہ مغربی سکالر اور سرکار کے پالے ہوئے یہ سفید ہاتھی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ وہ دنیا کو صحیح صورت حال سے آگاہ تک نہ کر سکے۔یہ تو صرف اور صرف ملکی خزانہ ،ملکی دولت، ملکی وسائل لوٹنے چاٹنے اور عیش و عشرت سے زندگی گذارنے اور ڈراموں اور فحاشی کو پھیلانے کے جرائم کے عادی بن چکے ہیں یہ تو ناچ گانے اور بے حیائی کے عادی مجرم اور ڈراموں کے رسیا ہیں۔ قومی فریضہ بین الاقوامی سطح پر ادا کرنے کے نہ تو یہ اہل ہیں اور نہ ہی ان کا ایسے ملی فرائض ادا کرنے
کاکوئی مقصدہوتا ہے۔اصل میں تو یہ غیر ملکی جمہوریت ، عیسائیت، یہودیت اور ہندو ازم کی تعلیم و تربیت سے لیس مغربی سکالر اور ان کے ایجنٹ ہیں۔جو ملک میںاسلامائزیشن کی راہ میں پہلی اور آخری رکاوٹ ہیں۔ان ظلمات کی تعلیم کے عارفوں سے نجات حاصل کرنا وقت کا ایک اہم فریضہ اور تقاضا ہے۔زندہ اقوام اپنے قول و فعل کے تضاد ، کریکٹر اور کردار کی جانچ پڑتال ، نااہلی اور کمزوری کے اسباب ، معاشی اور معاشرتی ابتری کے واقعات، عدل و انصاف کی تباہی کی وجوہات، ظلم و بربریت پر پھیلے ہوئے عبرت ناک حالات کا جائزہ لیتی اور خدا اور رسول ﷺ کی تعلیمات اور احکامات کے خلاف بغاوت جیسی مہلک خامیوں کا جائزہ لیتی ، احتساب کرتی اور ان کا سختی سے تدارک کرتی رہتی ہیں۔ جب کسی قوم ملت یا ملک میں بے حیائی ، بدکرداری ، بدکاری ، فخاشی، رشوت ، کمیشن ، کرپشن معاشی ابتری، عدل کشی، امانتوں میں خیانت ، معاشی مساوات کشی جیسی مہلک معاشرتی بیماریاں سر عام ہوتی اور پھیلتی جا رہی ہوں۔ حاکم وقت ان کو روکنے سے جان بوجھ کر گریزاں رہیں۔ اور خود اس میں ملوث ہو جائیں۔ وہ وقت ان حاکموں کے لئے سخت کٹھن ، مہلک اور تباہ کن اثرات مرتب کر دیتا ہے۔وہ طرح طرح کی نا ختم ہونے والی نامعلوم بیماریوں، اور ان کی اذیتوں کے عذاب میں مبتلا کر دیئے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے اطمینان و سکون ، اور خیر و عافیت کی دولت ان سے چھین لی جاتی ہے۔ ان کی زندگیاں خوف و ہراس میں پھنس جاتی ہیں۔ اور خطرات کے خوفناک، ہیبتناک اور عبرتناک شعلے ان کا بڑی تیزی کے ساتھ تعاقب کرتے چلے آ رہے ہیں۔ دستور مقدس کو پس پشت ڈالنے والے اور جمہوریت کے اسلام کش مذہب کے ملکی دیدہ ور، دانش ور، سکالر، مدبر، سیاست دان اور حکمران ان شعوری شعلوں کے دوزخ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اب کسان ، محنت کش، ہنر مند، عوام الناس، نوکر شاہی، افسر شاہی، منصب شاہی، سیاست دانوں اور حکمرانوں کی معاشی ، معاشرتی زندگی مساوات محمدی ﷺ اور اعتدال سے خالی ہے ۔ ان کو رسول ﷺ عربی کے دستور مقدس سے گذارنا ملک وملت اور ان کی بھلائی کے لئے از حد ضروری ہے۔
کیا آپ الیکشن کے ذریعہ ان ظالم،غاصب غیر اسلامی جمہو ریت کے مذہب کے پجاریوں، معاشی دہشت گردوں کو ان کی بالا دستی اور حکومت قائم رکھنے کیلئے مزید وقت دینا چاہتے ہیں۔ ان ظالموں، معاشی قاتلوں، ان کی کرپٹ افسر شاہی، بریف کیس پر مشتمل منصف شاہی، تفاوتی شاہی تنخواہوں، شاہی سرکاری سہولتوں، کے سرکاری راہزنوں کو مزید پانچ سال تک رائے ونڈ ہاؤس اور سرے محل ملک اور غیر ممالک میں شاہی محلوں کومزید تعمیر کرنے کے لئے اجازت دینا چاہتے ہیں۔تا کہ وہ مزید عیش و عشرت کی زندگی گزار سکیں۔ ملکی خزانہ ملکی وسائل ملکی دولت مخلوط معاشرہ ، ستر فی صد کسانوں، ۲۹ فی صد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں کو تعلیم سے محروم ، خوراک سے محروم ، لباس سے محروم، عدل و انصاف سے محروم،مساوات سے محروم، دین سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں معاشیات کے کچلے ہوئے لوگوں کو خود سوزیاں، خود کشیاں کرنے کے لئے اور مخلوط معاشرہ تیار کرنے اور اس بے دین ، جمہوریت کے مذہب کی حکومت قائم رکھنا چاہتے ہیں یا اسلامائیزیشن کے پاک دستور مقدس کا نظام چاہتے ہیں ۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔ ّ ( آمین )