To Download or Open PDF Click the link Below

  دور حاضر کے فرعونوں کو حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا خوف، اس کی تلاش اوربیگناہ مخلوق خدا کاقتل عام
عنایت اللہ
۱۔ مخلوق خدا ایک کنبہ خدا ہے۔ سائنس کی کرشمہ سازی نے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ز مینی اور آسمانی فاصلے تسخیر ہو چکے ہیں۔ دنیا سمٹ کر ایک شہر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس شہرمیں مختلف رنگوں پر مشتمل مختلف اقوام ، مختلف رنگوں پر مشتمل مختلف انسان، مختلف شکلوں کی انسانی نسلیں، مختلف قدو قامت کے لوگ ، مختلف چہرے، خوبصورت چہرے ، مختلف نظریات، مختلف عقائد، مختلف مذاہب، مختلف زبانیں، مختلف خطے، مختلف براعظم، برف پوش پہاڑ، سرسبز پہاڑ، خشک پہاڑ، وسیع و عریض صحرا، بیابان، میدان، کٹے پھٹے ساحل۔ ٹھنڈے ،میٹھے ،کڑوے پانیوں پر مشتمل سمندروں کا وسیع نظام۔ ان سمندروں میں بسنے والی مختلف اقسام کی بے شمار مخلوق۔ زمین و آسمان کے درمیان ہواوں اور خلاؤں کا لامتنا ہی سلسلہ۔اس حسین و جمیل کائنات میں مختلف رنگ و نسل کی مخلوق۔ اسی طرح مختلف تہذیبیں، مختلف تمدن،مختلف ثقافتیں،مختلف عقائد،مختلف مذاہب ،مختلف نظریات، مختلف ممالک، مختلف نظام حکومت، قلیل نیک دل حکمران۔بیشتر ظالم حکمران۔بے بس اربوں،کھربوں، معصوم،سادہ لوح ،بے بس انسانوں اور کثیر التعد اد مظلوم اقوام اور انسانیت کی دکھ بھری داستانیں۔ اس جہان فانی کی آغوش میں ہچکیاں سسکیاں لیتی ابھرتی اور دبتی چلی آ رہی ہیں۔
۲۔ اقوام عالم اور دنیا کے چند عظیم ممالک ، طاقت ورممالک، ترقی یافتہ ممالک، سائنس کی ایجادات کے شاہکارممالک، نئی نئی ایجادات کے موجدممالک، ہولناک ہتھیار تیار کرنے اور انکا وافر ذخیرہ رکھنے والے ممالک، تباہ کن ایٹمی طا قت اور طرح طرح کے ہائیڈروجن، نائٹروجن، جراثیمی، ڈیزی کٹر اور مختلف بمو ں کے خالق ممالک۔ میزائیلوں،کروز میزائیلوں،ٹینکوں، توپوں،بکتر بند گاڑیوں اور اس کے علاوہ ان گنت چھوٹے بڑے مہلک ہتھیار تیار کرنے والے ممالک ۔ دشمنوں کی حرکات و سکنات نوٹ کرنے اور اطلاع مہیا کرنے والے جدید راڈاروںسے لیس ممالک۔ ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل حفاظتی انسٹرومنٹ تیار کرنے والے ممالک، ان گنت ایٹمی پلانٹ اور بیشمار ایٹمی آبدوزیں رکھنے والے ممالک ، دنیا کی بہترین بری ، بحری، فضائی ، چوکس و چوبند، افواج والے ممالک، ان تمام مہلک اور تباہ کن ہتھیاروںسے لیس دنیا کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی افواج کے وارث ممالک۔ دنیا کے کمزورممالک کوصفحۂ ہستی سے مٹا دینے والی صلاحیتوں ، طاقتوں کے مالک اور خالق ممالک۔فطرت کے سرخ طوفانوں،سیاہ تباہیوںکی زد میں آئے ہوئے ترقی یافتہ ممالک ۔ فاسق ، فاجر،منافق،دھوکے با ز، جھو ٹے ،ظالم ،بے رحم،سنگ دل ،ہوس پرست،زر پرست، معاشی رہزن، دنیا کے امن و امان کو تباہ کرنے والے،عدل و انصاف کو کچلنے والے،انسانیت کش، وحشی درندے، سیاست دانوں اور حکمرانوںکے روپ میں بھیڑئیے۔یہ تمام فرعونی، استحصالی،قوتیں، طاقتیں دنیا پر حکمرانی قائم کئے بیٹھی ہیں۔
۳۔ دنیا کے دور جدیداورترقی یافتہ ملکوں کی طا غوتی طاقتوں میں سے ایک سب سے عظیم،طاقتور ،بے پناہ ، تباہ کن جدید اسلحہ اورجنگی سازو سامان سے لیس ملک۔دفاعی لحاظ سے نا قابل تسخیر اور دنیا کی سپر پاور یعنی امریکہ پر گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ کو کیا بیت گئی۔ عقل نے کتنی حفاظتی تدابیر اکٹھی کیں۔ کتنے اسباب تیار کئے، کتنے جدید علوم سیکھے اور بروئے کار لائے، کتنی محنت و مشقت کی، اس عظیم طاقت اور قوت نے دنیا ئے عالم میں سبقت حاصل کرنے کے لئے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔ کتنا طویل سفر اور کتنا لمبا فاصلہ طے کیا۔تدبیر نے ترقی ،طا قت اور حفاظت کوحا صل کرنے کے کتنے گرسکھائے۔ تقدیر کی ایک جنبش نے ان کی تمام کرشمہ سازی کو پاش پاش کر دیا۔
۴۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کا سورج نئی آن،نئی شان کے ساتھ طلوع ہوا۔ صدیوں کی محنت کو ایک ایسا دن دیکھنا پڑا کہ عقل خام کو بے بس، اور شرمندہ ہونا پڑا۔ رسوائی اور ناکامی اس کا مقدر بن گئی۔ تقدیر عقل کی تمام تدبیروں کو مات دے گئی۔ یہ مہلک اور ظلمات کے علم کا سائنسی اور سیاسی بچہ (فرعون ) مو سیٰ کے گھر میں پرورش پاتا رہا۔ ابن مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تمام اقدار ، تمام اخلاقیات، تمام عطا کردہ نوری ہدا یات ، تمام امن کے راستوں۔ تمام انسانیت کی بہبود کے روشن علوم ، اور ہر قسم کی آ سما نی تعلیمات کو نگل گیا۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ کو ایک درد ناک اورغضبناک سانحہ پیش آیا۔
۵۔ مغرب کی جدید تعلیم اور ان کی جدید ٹیکنیک کے فارغ التحصیل چند شاہکار امریکہ سے ہی اٹھے۔انہوں نے کمال ہنر مندی سے ان کے چار جہاز یکے بعد دیگرے ہائی جیک اور اغوا کئے۔ان کارخ واشنگٹن اور نیو یارک کے ٹاورز کی طرف موڑ دیا۔انکو کمال ہنر مندی سے نشانہ بنایا اس سانحہ، اس حادثہ، میںسات ہزار معصوم،بے گناہ، مردوں،عورتوں، بچوںاور بوڑھوں کی ز ند گیوں کے چراغ چند لمحو ں کے اندر گل ہو گئے۔ اسی طرح ہزاروں کی تعداد پر مشتمل بے گناہ لوگوں کو ز خموں کی اذیتوں میں مبتلا کر دیاگیا۔کچھ کے اعضا ء فضا ء میں بکھر گئے۔ان ٹاوزر کو دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کے ڈھیر میں بدل دیاگیا۔ اس تکلیف دہ اور اند وہناک واقعہ کی خبر پوری دنیا میں چند سیکنڈوں میں ّآگ کی طرح پھیل گئی۔ اس المیہ کو دہشت گردی قرار دے دیا گیا۔ علاوہ ازیں اس دہشت گردی کا ہیرو اسامہ بن لادن اور افغانستان کو قرار دے دیا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا۔ اس کی پوشیدہ وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ بات بالکل واضح ہے۔ اسامہ بن لادن عرصہ چند سالوں سے اس سانحہ سے قبل افغانستان میں مقیم چلا آ رہاتھا۔امریکی گورنمنٹ اس کو دہشت گرد تصور کرتی چلی آ رہی تھی۔اس کو ہر حال میں پکڑنا چاہتی تھی۔ افغان عوام اور حکمران اس کو امریکہ کے حوالے کرنے سے گریزاںتھے ۔ کیونکہ وہ اس کو دہشت گرد تصور نہیں کرتے تھے ۔ امریکہ کے الزامات کو بے بنیاد اور غلط سمجھتے چلے آ رہے تھے۔ اس حیرتناک اور عبرتناک سانحہ کے بعد امریکی گورنمنٹ نے اسامہ بن لادن کو بغیر تصدیق اور بغیر کسی ثبوت کے مجرم قرار دے دیا۔ اس سانحہ کے بعد امریکی گورنمنٹ نے افغانستان کے خلاف سخت فوجی ایکشن کر کے اس کو نیست و نابود کرنے کااعلان کردیا۔ اس تمام کاروائی کے باوجود افغانستان اور اسا مہ بن لادن اس ہولناک دہشت گردی سے انکاری ر ہے۔ افغانستان اس سانحہ کے خلاف کسی قسم کا کوئی بھی ثبوت مہیا کرنے کے لئے بضد رہا۔
۶۔ دنیا اچھی طرح جانتی تھی۔ کہ افغانستان دنیا کاایک غریب،بے یار ومددگار،ہر قسم کی تعلیم اور ٹیکنا لوجی سے محروم واحد ایسا ملک تھا۔جس کے پاس نہ اس قسم کی اہلیت تھی اور نہ کوئی ظاہری اسباب تھے۔نہ سرمایہ تھا اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ تھا جہاں سے ایسی ٹریننگ حاصل کر سکتے جو ا مریکہ جیسے ملک کے تمام کے تمام سیکورٹی کے حفاظتی انتظامات کو پاش پاش کر سکتے۔اسکے علاوہ و ہ دونوں ٹاورز کواتنا صحیح صحیح نشانہ بنا سکتے۔امریکہ نے افغانستان کے ساتھ فوری میڈیا کی جنگ کا آغاز کر دیا۔پوری دنیا کونشرو اشاعت اور میڈیا کے ذریعہ یہ باور کراتا رہا۔ کہ ان دونوں ٹاوروں کی تباہی کے مجرم اسامہ بن لادن اور افغانستان کے حکمران تھے۔اس کھیل کے پیچھے یہودی لابی کے کھلاڑی بڑی ہنر مندی سے یہ کھیل کھیل رہے تھے۔ اور وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے تھے۔ پسماندہ افغانستان یہ جنگ بڑی بری طرح ہار گیا۔کیونکہ انکے پاس نہ پریس میڈیا تھا ۔ اور نہ نشرو اشاعت کے ذرائع تھے۔جس سے وہ انکے عائد کردہ الزامات کی تردید کر سکتے۔ امریکی یہو دیوں اور عیسائیوں کے گٹھ جوڑ نے تمام مغربی ممالک کو ساتھ ملایا ۔ دنیا کی رائے عامہ کی راہ ہموار کی۔دنیا بھر کے اتحا دیوں کو ساتھ ملا کر۔ ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا۔ امریکن اور دنیا بھر کی اتحادی فوجیں حرکت میں آ گےئں۔ بری، بحری، ہوائی، افواج نے افغانستان پر حملہ کے لئے افغانستان کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ دنیا کی تمام مہذب اقوام نے افغانستان حکومت یا افغانستان کی عوام پر نہ کوئی یو این او کے ذریعہ چارج یا جرم ثابت کیا اور نہ ہی ان کو صفائی کا موقع فراہم کیا۔صرف اور صرف الزامات کی بنیاد پر امریکی اتحادیوں نے افغانستان کے کمزور نہتے، معصوم ،بے گناہ جو سیاست ، حکومت اورلڑائی جھگڑے سے بے نیازعوا م تھے۔ ان کو جدید ہتھیاروں، ڈیزی کٹر بمبوں اور کر وز میزائلوںاوربمبار جہازوں سے تباہ کن بمباری کرکے طالبان اور القاعدہ کے دہشت گرد وں کا نام دے کرہزاروں اور لا کھوں افغانیوں کا قتل عام اور کرش کرنا شروع کردیا۔
۷۔ یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اس سے قبل افغانستان کے عوام امریکہ کے ایما پر اسکے تحفظات کی خاطر روس جیسی عظیم طاقت کے ساتھ چودہ سال تک پنجہ آزما رہا۔ہر قسم کا اسلحہ،ہر قسم کے جدید راڈار،انٹی گنیں،انٹی میزائل اورسٹنگر میزائلوں کے علاوہ سامان حرب کے تحفے افغانی مجاہدین کو روس کے خلاف مہیا کرتا رہا۔روس کو شکست فاش ہوئی۔اسکی وحدت اور طاقت ختم ہوئی اور وہ ۱۲ ریاستوںمیں بکھر گیا۔ اس کے بعد امریکہ نے افغا نیوں کو آپس میں الجھا دیا۔ اسطرح افغانی قوم اندرونی خلفشار میں آٹھ سال سے دو چار تھی۔ امریکی گورنمنٹ اور تمام مغرب اسامہ بن لادن اور افغانستان کی پشت پناہی اپنے مفاد کے تحفظ کیلئے کرتے رہے۔ ا سامہ بن لادن افغانیوں کی معاونت کی وجہ سے افغانیوں کے دل میں اتر چکا تھا۔اب اسامہ بن لادن افغانستان میں ایک دوست اور محسن کی حیثیت سے رہ رہا تھا۔کیونکہ اس نے روس کی جنگ میں انکا پورا پورا ساتھ دیا۔ اور روس کو شکست فاش ہوئی۔روس بارہ ریاستوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ افغانستان کھنڈرات میں بدل گیا۔ چار پانچ لاکھ انسانی جانیں ان کی اس جنگ میں قربان ہوئیں۔ ہزاروں بے گناہ اور معصوم لوگوں کے اعضا فضا میں بکھرتے رہے۔تباہ حال افغانی ہر قسم کی خوراک لباس اور علاج سے محروم۔غربت تنگ دستی سے دوچار۔بے یار و مددگار اس جنگ کے بعد امریکیوں کے پیدا کردہ حالات کا شکار ہو گئے۔ ان کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا گیا۔اور ہجرت انکا نصیب بنا دیا گیا۔امریکہ اور روس کی چپقلش اور مفاد کی جنگ نے افغانیوں کودوزخ کی نہ ختم ہونے والی آگ میں دھکیل دیا۔
۸۔ مغربی سیاست دانوںاور امریکہ کے حکمرانوں نے اس ملک کے و سنیکوں اورباسیوںکو اپنی غرض و غائت پوری کرنے اور روس کو شکست دینے کے لئے ان کو جنگ میں جھونکے رکھا۔تا کہ روس اس علاقہ پر قبضہ نہ کر سکے اور انکے بین ا لاقوامی مفاد محفوظ رہیں۔ اور انکا ایشیا میں اثر و رسوخ قائم رہ سکے۔ اس طرح ا فغانیوں کو تباہی ، بربادی اورقتل و غارت سے دو چار کر دیا گیا۔ افغان قوم معاشی طور پر مفلوج اور معاشرتی طور پر مفلو ک الحا ل اور افرا تفری کا شکار ہوگئی۔ بڑی ستم ظریفی اور ظلم کی بات یہ تھی۔ کہ کل کا دوست آ ج کے بد ترین دشمن کی شکل میں نمودار ہو گیا۔ افغانستان کی بات میں وزن بھی تھا۔ اور صداقت بھی اور بڑی حد تک معقول بھی کہ سکتے ہیں کہ وہ اس سانحہ میں شامل نہیںتھا۔ ان کے مطابق اسامہ بن لادن ، ان کے پاس ایک مہمان کی حیثیت میں رہ رہا تھا۔ وہ بھی اس خوفناک سانحہ کا ذمہ دار نہ تھا اور نہ ہی اس میں ملوث تھا۔ انکی یہ بات بڑی حد تک جا ئز تھی۔ اگر کوئی امریکہ کے پاس ٹھوس ثبوت اسامہ بن لادن کے خلاف ہیں ،تو وہ ان کو دکھا دے۔ جس کی روشنی میں وہ اسامہ کو ان کے حوالے کرنے کو تیار تھے ورنہ نہیں۔طاقت ور کے سامنے کمزور کو اس کی مرضی کے خلاف بات کہنے کی جرات کیوں۔ ان گستا خوں کو سچ بات کہنے کا حق کیوں اور کیسے حاصل ہو ا۔ امریکن تو ہر حال میں اسامہ کی آڑمیں اسلحہ اور طاقت کی نوک پر اپنا مقصد پورا کرنا چاہتے تھے۔افغانستان کے عوام کو قابو کرکے انہیں اپنے زیر اثر رکھنا چاہتے تھے۔ اصل میں وہ چین اور روس کی شہ رگ پر بیٹھ کر ایشیا کو اپنے اثر و رسوخ میں رکھنا چاہتے تھے۔
۹۔ امریکن کیا چاہتے تھے اور انکا اصل مقصد کیا تھا۔ورلڈ آرڈر جاری کرنے والوں کی اگلی سکیم اور دنیا کو کنٹرول کرنے کے لئے نیا نشانہ کیا تھا۔ انکی حکمت عملی بالکل روز روشن کیطرح واضح تھی۔ کہ وہ افغانستان پر اپنا قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ افغانستان پر قبضہ کرنے کی وجوہات اور اس کے دور رس نتائج کیا تھے۔ایک تو اسلامی ضابطہ حیات اپنانے والے مسلمان ممالک کو نظریاتی ریاست قائم کرنے سے روکنا تھا۔علا وہ ازیں مسلمان کے ملک میں اسلامی ضابطہ حیات کی بجائے مغربی دانشوروں کی تیار کردہ جمہوریت کے نظام اور سسٹم کو رائج کرنا تھا۔تاکہ مسلمانوں کے پاس صرف اسلام کا لیبل رہ جائے۔ جمہوریت کے نظام میںتو صرف انکے پسندیدہ معاشی اور معاشرتی غاصب اور ظالم ارکان ایوان اقتدار میں رسائی حا صل کر سکتے ہیں۔ پھر جمہوریت کی انتظامیہ اور عدلیہ کے نظام کو چلانے کے لئے وہی طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی ادارے‘ وہی طبقاتی تعلیمی نصاب،وہی سودی یہودی معاشی نظام، وہی افسر شاہی،منصف شاہی اور نوکر شاہی کے سکالر، وہی اسلامی اقدار کے خلاف منافی معاشرہ۔ جمہوریت کے باطل مذہب کے سرکاری سکالر، دانشور، مدبر اور مفکر تیار ہوتے۔ پھر کلمہ شریف کا زبان پر ورد جاری رکھنا اور کار سر کار کا عملی نظام عیسائیت، یہودئیت اور ہندو ازم کی پیروی کرنا۔پھر وہی غیر اسلامی طرز حیات اور کفر اور منافقت کی اطاعت اور اطباعت کا سلسلہ۔وہی نظریاتی تضاد، وہ افغانستان فتح کرنے کے بعدقرآن پاک کا دستور مقدس اور اس کے نظام کو مسلمانوں سے چھیننا چاہتے تھے۔ امریکی اور یہودی ایجنٹ جو مسلمانوں کے روپ میں افغانستان میں داخل ہو چکے ہیں۔ ا ن سے محتاط رہنا اور اسلامی نظام کا تحفظ کرنا ہر افغانی مسلمان کا فرض ہے۔
۱۰۔ یہو دیوں،عیسائیوں،ہندووں، کا مشترکہ مشن ہے۔کہ وہ پاکستان کو کسی نہ کسی طریقہ سے صفحہ ہستی سے مٹا دیں ۔ اور ملیا میٹ کر دیں۔یہ ہمیشہ ہم مشورہ اورہم صلاح ہو کرپاکستان کو نقصان پہنچاتے رہے۔مشرقی پاکستان پر از خود انہوں نے ہندوستان سے حملہ کروایا۔ ہندوستان کھلی جارحیت کا مرتکب ہوا۔ ساتواں بحری بیڑا پاکستان کی امدادکے لئے امریکہ سے چلا۔ لیکن اس کا اتہ پتہ نہ چل سکا۔ اسطرح مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ہندوستان نے کشمیر کے اندر چھ سات لاکھ فوج انہی کے ایما پرزبردستی داخل کر دی۔جنہوں نے آج تک تقریبا اسی ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ بچے، بوڑھوں، جوانوں ،ما ں،بہن، بیٹیوں نے جام شہادت نوش کیا۔بیشمار کشمیری زخمی اور اپاہج ہوئے۔انگنت کشمیریوں کے اعضا ء فضا میں بکھرتے رہے۔ عورتو ں کے ساتھ جسمانی اور جنسی تشدد ہوتا چلا آرہا ہے۔ آج تک ظلم و بربریت کا یہ عمل جاری ہے۔اس کیس کا فیصلہ یو۔این۔او۔ کی بین الاقوامی عدالت میں زیر سماعت ہے۔انہی کی ایما پر ہندوستان اپنی فوجیں کشمیر کے بارڈر پر لے آیا۔ اور اس صورت حال سے پاکستان سے جو مفاد حاصل کرنا تھا۔ وہ انہوں نے تلوار کی نوک پر یہودیوں،عیسائیوںاور ہندوؤں نے مل کر ہمارے حکمرانوں سے حاصل کیا۔ اسی طرح وہ آگے بھی کرتے رہیں گے۔ جب تک اہل پاکستان اللہ تعالیٰ کو حاکم اعلیٰ من و عن صدق دل سے تسلیم نہیں کرتے۔اور ملک میںسرکاری سطح پر دستور مقدس کا نفاذ نہیں ہو سکتا ۔یا اور اس صورتحال سے پاکستان سے جو مفاد حاصل کرنا نے تلوار کی نوک پر ہمارے حکمرانوں سے حاصل کیا۔اسی طرح آگے بھی کرتا رہے گا۔ جب تک اہل پاکستان اللہ تعالیٰ کو حاکم اعلیٰ من و عن صدق دل سے تسلیم نہیں کرتے۔ ملک م میںسرکاری سطح پردستور مقدس کا نفاذنہیں کرتے۔
۱۱۔ امریکہ نے افغا نستان، پاکستان اور مسلم ممالک کو نکیل ڈالنے اور اسلامی تہذیب اور ثقا فت کوختم کرنے کے بعد ورلڈ آرڈر کے منشور کے مطابق اب روسی ریاستوں روس اور چین پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لئے انکی سرحدوں میں گھس کر ہوم ورک جاری کر رکھا ہے۔اس کا سمندر سے پار آکرافغانستان اور پاکستان میں داخل ہونا ایشیا ئی ممالک کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں بن چکی ہیں۔امریکہ اس وقت تک اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔جب تک ان دونوں ممالک کو جنگ میں دھکیل نہیں دیتا۔انہی وجوہات کی بنا پر وہ جدید ترین اسلحہ کو لیکر ایشیائی ممالک میںپوری طرح براجمان ہو تا جا رہا ہے۔اس کا پرانا کھیل ہے کہ کبھی وہ عراق کو ایران کے خلاف مہلک ہتھیار مہیا کرتا ہے۔کبھی عربوں کے ساتھ ملکر عراق کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔ کبھی بوسینیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کرواتا ہے۔کبھی فلسطین میں مسلمانو ںکے تمام شہروںپر ٹینکوں،توپوں اور ہوائی حملوںسے اسرائیل کا قبضہ کرواتا ہے ۔ اورکبھی انکی عورتوں ،مردوں،بچے،بوڑھوں،کی لاشوں کے ڈھیرلگواتا چلا آرہاہے۔ کبھی افغانستان کو روس کے خلاف مہلک اسلحہ فراہم کرکے اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر وا دیتا ہے۔کبھی افغانستان پر دوسری جنگ عظیم سے زیادہ مہلک جدید ترین اسلحہ کے بے پناہ استعمال سے بے گناہ،مستورات،معصوم بچوں،عام شہریوں،عوام الناس اور بے ضرر مخلوق خدا کو وحشتناک ہوائی حملوں،تباہ کن لیزی کٹربموں،کروز میزائیلوں،توپوں ، ٹینکوں کے گولوں سے ان کی بستیاں ، ان کے گاؤں ان کے شہر، ان کے گھروں، ان کی فصلوں ، ان کے جانوروں کو نیست و نابود کر دیتا ہے۔


۱۲۔ اے دور حا ضر کے مغربی حکمرانو !، اے دور حاضر کے دانشورو!، اے مغربی تہذیب کے مدبرو!، اے یو این۔او کے ادارے کے وارثو!‘ اے یہو دیت اور عیسائیت کی تہذیب کے شاہکارو!۔اے انسانیت کے مونسو!۔اے عدل و انصاف کے منصفو!۔اے ہولناک، ہتھیاروں کے موجدو!۔ اے جدید علم و برہان کے علمبردارو!۔ اے باطل،غاصب سیاست کے پجاریو! ذراطاقت، غصہ اور انتقام کی ّآ گ کو کنٹرول کرو۔تھوڑا سا صبر سے کام لو۔ اس سانحہ ،تخریب کاری اور دہشت گردی کے عوامل اور محرکات کا جائزہ لو۔ واقعات کو عقل سلیم سے پرکھو، حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرو۔ اصل وجوہات ڈھونڈو ۔ جن عوامل و محرکات کی وجہ سے یہ دلسوزسانحہ رونما ہوا۔
۱۳۔ یاد رکھو اور غور سے سن لو۔اس وقت خاص کر امریکی اور با لعموم دنیا بھر کے عوام ایک کٹھن اور تباہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاستدانوں اور اس دور کے تمام ممالک کے حکمرانوں۔دنیا کے تمام مفکرین،اہل بصیرت،دانائے وقت، دیدہ وروں،اہل حکمت، اہل عرفاں،اہل باطن، اہل نظر،اہل دل،شب بیداروں،حق پرستوں ، صاحب دعا اور مونس انسانیت کے دروازے پر دستک دینا ضروی ہوچکا ہے۔تا کہ وہ معصوم، بیگناہ مخلوق خدا ، پوری انسانیت اور اس جہان رنگ و بو کو تباہ و برباد اور مکمل نیست و نابود ہونے سے بچائیں۔ ان سوالات کا جواب تلاش کریں۔ تاکہ صحیح صورت حال سے آگاہی حاصل ہو سکے ۔ اور اس کا تدارک کیا جا سکے۔
۱۔ انسانیت کا مجرم کون ہے؟
۲۔ امریکہ کے ان فلک بوس ٹاوروں کو منہدم کرنے والا کون ہے؟
۳۔ ان سات ہزار پیاری ،لاڈلی ،خوبصورت زندگیوں کا قاتل اورہزاروں زخموں سے چور اور نڈھال انسانوں کی اذیتوں کا ذمہ دار کون ہے؟
۴۔ کیا جنگ ایسے سانحہ ، ایسے المیہ، ایسی دہشت گردی کو روکنے کا تدارک یا سبب بن سکتی ہے؟
۵۔ کیا اس قسم کے دہشت گردوں پر قابو پایا جا سکتا ہے؟
۶۔ کیا دنیا کے تمام ایٹمی پلانٹ ان سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟
۷۔ کیا بین ا لاقوامی پروازیں ان دہشت گردوں سے اس واقعہ کے بعد محفوظ رہ سکتی ہیں؟
۸۔ کیا کسی ملک کی کوئی اسمبلی بھی ان دہشت گردوں سے محفوظ رہ سکتی ہے؟
۹۔ کیا چند دہشت گردوں کو ختم کرنے کیلئے، سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں بیگناہ، معصوم اور بے ضرر انسانوں پر اور ان کی بستیوں پر بمباری کر دینا ٹھیک ہے اس کا کوئی جواز بنتا ہے ؟
۱۰۔ کیا اسلحہ ساز فیکٹریاں ا ن دہشت گردوں سے محفوظ رہ سکتی ہیں؟
۱۱۔ کیا کمپیو ٹر میں وائرس آسکتا ہے؟
۱۲۔ کیا جہازوں میں کمپیو ٹرز نصب نہیں ہوتے؟
۱۳۔ کیا جو چیز ایجاد یا تیار کی جا سکتی اسے ناکارہ نہیں کیا جا سکتا؟
۱۴۔ کیا ایٹمی آبدوزیں ان دہشت گردو ں سے محفوظ رہ سکتی ہیں؟
۱۵۔ کیا کسی ملک کی کوئی ایمبیسی یا اسکا کوئی کارکن کسی ملک میں محفوظ ہے؟
۱۶۔ کیا کسی کمزور ملک یا حکومت یااس کی بے گناہ عوام پر بری بحری فضائی حملے کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا۔اس کی معصوم، بیگناہ،بچے،بوڑھوں،نو جوانوںاورمستورات پر مشتمل عوام کا قتل عام کرنا،انکے عضا فضاؤں میں بکھیر دینا اور ان کے ملک پر قبضہ کر لینا دہشت گردی ہے۔ یا حملہ آوروں کے خلاف گو ریلا جنگ لڑنا اور ان ناجائز قابضین کو قتل کرنا دہشت گردی ہے۔؟کیا افغانی دہشت گرد ہیں یا یہ ظالم۔
۱۷۔ کیا کشمیری دہشت گرد ہیںیا ہندوستان جس نے کشمیر پر ۱۹۴۸ ء سے قبضہ کرکے ۸۰ ہزار بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا۔ اور بیشمار لوگو ں کو زخمی کیا اور ابھی کرتا جا رہا ہے۔کیا ہندوستان کی سات لاکھ فوج دہشت گرد ہے یا وہ کشمیری دہشت گرد ہیں جو اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں؟
۱۸۔ کیا فلسطینی دہشت گرد ہیں یا اسرائیل جس نے انکے ملک پر فوجی طاقت کے ذریعہ قبضہ کر رکھاہے۔ اور ہر روز انکا قتل عام کئے جارہاہے۔ کیا جنگی جہازوں ، ٹینکوں،توپوں سے قتل عام کرنے والے دہشت گرد ہیں یا خود کش حملے کرنے والے دہشت گرد ہیں؟
۱۹۔ بوسینیااور کاسو وا میں قتل عام کس نے کیا۔دہشت گرد کون تھا۔اتنی بڑی دہشت گردی کروانے کا اصل مجرم کون ہے۔بین ا لا قوامی عدا لت نے ان کا تدارک کیا کیا ہے۔
۲۰۔ ان حا لات و واقعات کے مضمرات پرغور و فکر کرنے کے لئے دنیا بھر کے انسانیت دوستوں کو مدعو کرنا وقت کی ا ہم ترین ضرورت ہے۔ تاکہ اصل حقائق کو تلاش کر سکیں۔ انکی روشنی میں اس کا تدارک کر کے دنیا کو ایک ہولناک تباہی کے عذاب سے محفوظ کر سکیں۔ دنیا کو امن کا گہوارا بنانے کا راستہ تلاش کرسکیں۔ آنیوالی نسلوں،بنی نوع انسان اور ہر ذی جان کوتحفظ، راحت، خوشیاں اورامن جیسی لازوال دولت سے مالا مال کر سکیں۔ ایسی غاصبانہ، ظالمانہ، انسانیت کش، عدل کش، بے رحم طرز حیات اور باطل،غاصب طرز سیاست اور عبرتناک حکومتی نظام اور سسٹم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کر سکیں۔ اس وحشیانہ اور انسانیت کش طرز حیات کو عدل و انصاف کا غسل دے کر۔ محبت،ادب اور انسانیت کی خدمت جیسی اعلیٰ خوبیوں اور صلاحیتوں کو برو ئے کار لا سکیں۔ اے ابن مریم کو ماننے والو! اے ان کی تعلیمات کے سنہرے اصولوں ،روشن راستوں کی پیروی کرنے والو! اے انکے حسن عمل،دلربا عمل اور انکے دلکش عمل کے وارثو! بیماروں کا علاج ، دکھی انسانیت کا مداوا کرنے والو!۔ باطنی اور روحانی مریضوں کیلےئے شفا مہیا کرنے والو!۔ رشد و ہدایت کے چراغ روشن کرنے والو!۔ ذرا یہ بات تو بتاؤ کہ انکی تعلیمات کی اطاعت اور انجیل مقدس کے دستور کی پیروی کرنے، انسانیت کی خدمت کرنے میں عظمت ہے یا ان کی تعلیمات اور ضابطہ حیات سے بغاوت اور سر کشی کرنے میں۔آؤ مل بیٹھیں۔اپنے کردار اور اعمال کا از خود احتساب کریں۔ سیاست کے گمراہ ، سیاہ ، اذیت ناک ،عبرت ناک، درد ناک، بد امنی اور تباہی پھیلانے والے سیاہ راستوں سے اجتناب کریں۔ اس بدکردار ی کی تباہ کن سرخ آندھی اور تاریک سیاست سے توبہ کریں۔اپنے روح القدس اور عظیم پیغمبر کی تعلیمات کے منور راستہ کی پیروی کریں۔ سیاست کے گمراہ کن اصولوں کی پیروی کرو گے تو عیسائی نہیں بد کردار،ظالم ،غاصب،وحشی درندے اور بے ضمیر سیاستدان اور حکمران کہلاؤ گے۔ابن مریم کی تعلیمات کی پیروی کروگے تو سیاستدان نہیں معصوم، پاکیزہ ،مونس انسانیت،ہر دل عزیز اور محترم عیسائی کہلاؤ گے۔ منافق کی زندگی توبہ کے دروازہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ منا فقت سے توبہ کر لو۔ محبت اور ادب تمہارا نصیب اور دلوں پر تمہاری حکومت ہو گی۔آؤ انسانیت کے ناطے سے درج ذیل چند سطور کو پڑھیں،پرکھیں اور تجزیہ کریں تا کہ صحیح راستہ کا تعین کیا جا سکے۔
۲۱۔ ستمبر ۲۰۰۱ کی ہولناک دہشت گردی کے عبرتناک واقعہ نے پوری انسانیت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ سات ہزار حسین و جمیل معصوم ،بے گناہ مخلوق خداکا اجتماعی قتل اور گھناؤنی تباہی کا کھیل کسی افغانی مسلمان کاعمل نہیں ہوسکتا۔ کوئی بھی افغانی باشندہ اس علم سے واقف اور آشنا نہیں ہو سکتا ۔ایسی ٹیکنیک سے واقف بھی نہیںاور اتنی مہارت سے روشناس بھی نہیں ہو سکتا۔اتنا بڑارول ادا کرنے کے قابل بھی نہیں ہو سکتا۔جو امریکہ جیسے عظیم ملک کی تمام احتیاطی تدابیراور تمام تحفظ کے سسٹم اور نظام کو پاش پاش کرسکیں۔چار جہازوں کو پروگرام کے مطابق یکے بعد دیگرے ہائی جیک کریں۔ نیو یارک اور واشنگٹن کے ٹاوروں کو نشانہ بنائیں۔ ان سے ٹکرائیں اور ان کو ریزہ ریزہ کرکے فضاوٗں میں بکھیر دیں۔ سات آٹھ ہزار ا نسا نی زندگیوں کو پلک جھپکنے میںنیست و نابود کردیں۔ہزاروںبے گناہ انسانوں کو زخموںاور اذیت میں ناکردہ جرم کی پاداش میں مبتلا کر دیں۔ ایک طرف تو امریکہ کی معصوم و بیگناہ اور بے ضرر مخلوق خدا کا چند نا معلوم بدنصیب دہشت گردوں نے قتل عام کیا۔ اور دوسری طرف امریکی سیاستدان ،حکمران بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے لا کھوں افغانی معصوم بے قصور ننھے منھے بچوں، عورتوں ، مردوں، جوانو ں، بوڑھو ں اور تمام عوام الناس کو جدید اسلحے سے ان کا قتل عام کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کا عمل جاری کر دیا۔بات صرف اتنی سی ہے،افغانستان کے حکمرانوں نے امریکن سیاستدانوںکی دھونس، رعب اور حکم کی تعمیل نہیں کی ۔ اوراسامہ بن لادن جو ان کا ہی تربیت یافتہ شخص تھا۔ان کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔ جس نے امریکہ کی مدد و معاونت سے روس کی جنگ کے دوران ا فغانیوںکی مدد ،معاونت اور دل و جان سے ان کا ساتھ دیا تھا۔
۲۲۔ یہود ی سیاستدانوں کا اثرو رسوخ امریکی گورنمنٹ میں کتنا ہے۔ ان کی تعداد اقتدار میں کتنی ہے۔ان کی پالیسیاں تشکیل کون کرتا ہے۔ ان کے انتظامی امور میں کہاں تک ان کا عمل دخل ہے۔وہ کسی سے چھپا نہیں۔ نشر و اشاعت اور پریس میڈیا پر وہ کیسے چھائے ہوئے اور کنٹرول کئے بیٹھے ہیں۔ دنیا کی آ نکھوں میں کیسے دھو ل ڈالتے ہیں۔ اصل حقائق کس حد تک سامنے آنے دیتے ہیں۔ کس شاطرانہ طریقہ سے مخلوق خدا کو گمراہ کرتے اور دھوکہ دیتے چلے آرہے ہیں۔ دنیا کاقائم کردہ عدل و انصاف کا یو۔ این۔ او۔ کا ادارہ کس کے زیر اثر اورزیر کنٹرول ہے۔ جھو ٹے کیس،جھوٹے جج، اس کی افادیت کن کے لئے ہے۔ویٹو کی پاور عدل و انصاف کو کیسے مسخ کرتی ہے۔ ابن مریم کی تعلیمات سے عیسائیت کو کیسے محروم کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی مسلسل تباہی اور قتل و غارت کا عمل کب اور کیسے ختم ہو گا۔اسکا جواب وقت کے پاس محفوظ ہے۔ اس ظالم، اذیت ناک، عبرت ناک، خونی ہو لی کے گھناؤنے کھیل کا اصل مصنف اور اسکے کردار کون کون سے ہیں۔ روز روشن کی طرح یہ امریکی سیاست دان، امریکی عوام ،اور امریکی حکمران اصل حقائق سے بالکل آشنا ہیں۔ چونکہ یہودی لابی امریکی حکمرانوں اور سیاستدانوں پر پوری طرح چھا چکی ہے۔ اور وہ عیسائیوں اور مسلمانوں کو آُپس میں لڑانے،الجھانے اور جنگ میں ملوث کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔دیکھتے ہیں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔یہ نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہوگا۔خود کش حملے تیز تر ہو جائینگے۔ ہر ملک کے آزادی پسند اوربین الاقوامی سطح پر تمام مظلوم ممالک اور اقوام ان سے پچھلی صدی کے ظلم و تشدد کا حساب چکانے کے لئے اکٹھی ہوتی جائیں گی۔ تمام دنیا امن اور سکون کے لئے ہاتھ ملتی رہ جائے گی۔ امن پسند،مظلوم، مجبور اور دل برداشتہ خود کش حملہ آوروں کے ہاتھوں دنیا کے کسی کونے میں کوئی امریکی، کوئی عیسائی یایہودی کسی بھی ملک یا دنیا کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں ہوگا۔یہ عبرتناک کھیل ایٹمی جہنم کی آگ کو سلگا رہا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سیاستدانوں،حکمرانوں کوعدل و انصاف کااحترام اور احتمام کرنا ہوگا۔انسانیت کے رشتے کا تقدس بحال کرنا اور پوری انسانیت کا تحفظ کرنا ہو گا۔امریکہ کے حکمران اور انکے مغربی اتحادی لیڈران اپنی فرعونی طاقت کے بلبوتے پرایک کمزور ملک پر جنگ مسلط کرکے پوری دنیا کے کمزور ممالک کے طاقتور خود کش اسلحہ سے لیس دہشت گردوں سے جنگ کا آغاز کرچکے ہیں۔ افغانستان کے بے گناہ اور مجبور افغا نیوں پر تھونپی ہوئی جنگ سے نجات حاصل کرنا امریکیوں اور انکے اتحادیوں کے لئے کوئی آسان کام نہیں۔ بدقسمتی سے ان کاعلم ان کی حکمت ان کی تدبیر بدبختی اور جہالت کے راستے کو اپنائے ہوئے ہے۔ وہ تو ہر قیمت پرافغانستان کی حکومت کو دہشت گرد بنانے اور ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اسامہ بن لادن کو بین الا اقوامی دہشت گرد بنا چکے تھے۔دنیا بھر میں نشرو ا شاعت کے میڈیا سے افغانستان کے خلاف یکطرفہ جنگ جیت کر دنیا کی رائے ہموار کر چکے تھے۔ وہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میںڈھال چکے تھے۔ جھوٹ اور منافقت پر مبنی طرز حیات نہ یہودیت کے مذہب کا حصہ ہے، نہ عیسائیت کا اور نہ ہی اسلام کا۔ بد قسمتی سے سیاست کا مذہب ان تمام خدائی مذاہب کے بنیادی، فطرتی،حقیقی سچائیوں کے اصولوںکے بر عکس ہی نہیں۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کی ضدیں ہیں۔ یہ تمام سیا ستدان اور ان میں سے چنے ہوئے حکمران اپنے اپنے مذاہب کے منافی، متضاد اور انکی تعلیمات کی روح کو مسخ کرنے والے لوگ ہیں۔ اور وقت کے بد ترین دجال کا رول ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ان،سیاسی رہنماوئں کا کردار دھوکہ، فریب، ظلم، زیادتی، تشدد،قتل و غارت، عدل کشی ،ناانصافی، انسانیت سوزی ، دل سوزی اور منافقت کے ہر گھناوٗنے عمل سے گذر کر اقتدار اور حکومت حاصل کرنے اور اس کوقائم رکھنے کا نام ہے۔ سیاست کے روپ میںسیاسی یہودی،سیاسی عیسائیوں پر امریکہ میں پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ وقت قریب آ رہا ہے۔ جب تمام سرکاری اداروں کے سربراہ امریکہ میں یہودی ہی ہوںگے۔ امریکہ کی حکومت اور اس ملک کی مکمل اقتصادیات اور معاشیات ان کے قبضہ قدرت میں ہو نگی۔ عیسائی انکی فیکٹریوں اور کارخانوں میں انکے ملازم اور نوکر ہو نگے۔ مسلمانوں پر وہ کچھ نہیںگذری ہو گی جو کہ پوری عیسائیت پر گذرنے والی ہے۔ امریکہ میں یہو دی لابی حکو مت کی نائب اور مصاحب کے فرائض ادا کرتی ہے۔ اور حکمران انکے ہا تھوں میںکھلونا بنے ہوئے ہیں۔ عیسائیت کے سیاسی اور حکومتی رہنما، عدل و انصاف،سچائی او ر رحم جیسی فطرتی خصوصیات خدائی صلاحیتوں جیسی روحانی دولت سے محروم ہو چکے ہیں۔انکی اس پالیسی کی وجوہات کی بنا پر آ ج ہر امریکی شہری اور اسکے تمام اتحادی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔اگر اس پالیسی کو ترک نہ کیا گیا تو دنیا کے تمام مظلوم عوام یعنی دہشت گرد ایسی ٹیکنالوجی اور ایسا سامان حرب تخلیق کرنے اور اسے استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ جو بے گناہ،معصوم اور بے ضرر امریکی عوام الناس کو مکمل نیست و نابود اور خاکستر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ کوئی اچھی بات نہ ہوگی۔مخلوق خدا کیلئے بہتر انسان وہ ہوتا ہے،جو انسانیت کے لئے بے ضرر ہو۔اس سے بھی بہتر انسان وہ ہوتا ہے جو مخلوق خدا کیلئے منفعت بخش ہو۔طاقت اور قوت کا گھمنڈ انسان کو فرعونیت کا راستہ دکھاتا ہے۔عجز و انکساری،رحم وشفقت،درگذر اورحسن اخلاق کا عمل حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام کی منزل کا مسافر بناتا ہے۔ اصل میں مغربی ممالک اور خاصکر امریکہ نے اپنے ملک میں بہت ساری اسلحہ ساز فیکٹریاں اور مہلک اسلحہ کے ذخائر اکٹھے کر رکھے ہیں۔اسی طر ح ایٹمی پلانٹ،ایٹمی میزائل، ایٹمی وارھیڈ، اور خطرناک ایٹمی بموں کے انبار بھی انکے ہاں موجود ہیں۔جو انکے سب سے بڑے دشمن ان کے اپنے ملک میں موجود ہیں اور انکا بری طرح حصار کئے بیٹھے ہیں۔ جو ان کی تباہی کا باعث کسی وقت بھی بن سکتے ہیں۔ اب دنیا میں جنگ کا قانون اور طریقہ کار بدل چکاہے۔ سیاستدان اور حکمران معصوم عوام کو گمراہ کرکے دنیا کے کونے کونے میں محاذ آرائی اور قتل و غارت کا گھناؤنا عمل جاری کئے بیٹھے ہیں۔امریکہ کے حکمران کتنے ظلم کی بات ہے۔ کہ وہ القاعدہ کی تنظیم کے ارکان کو سمندروں پار، افغانستان کے پہاڑوں میں پکڑنے کے لئے ہوائی حملوں سے بستیوں کی بستیوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ جب کہ القاعدہ کے اصل تخریب کار انکے ملک میں گھسے بیٹھے ہیں جو کسی وقت بھی بھیانک تباہی مچا سکتے ہیں۔
ستمبر ۲۰۰۱ ء کے بعد نا قا بل تسخیر امریکہ ایک بے یارو مدد گار ملک بن چکا ہے۔ ان کا کوئی شہری بھی دنیا کے کسی کونے میں محفوظ نہیںرہا۔ایسے حکمرانوں ، ایسے سیاستدانوں،ایسے پالیسی سازوں ایسے دانشوروں ، ایسے مدبروں کو کون سمجھائے۔ کہ ظلم و بربریت انسانو ں کے دلوں میں نفرت اور انتقام کی آگ بھڑکاتی ہے۔ فطرت کا اصول ہے کہ چیونٹی ہمیشہ ہاتھی کی موت کا سبب بنتی چلی آ رہی ہے۔دلوں پر حکومت کرنے کا گر ،گیان کسی گیانی،کسی پادری،کسی ابراہیم لنکن،کسی صاحب بصیرت،کسی دیدہ ور سے سیکھ لیں۔تا کہ وہ اس درندگی سے نجات پا سکیں اور انسانیت میں امن و آشتی کی خیرات تقسیم کر سکیں۔
۲۳۔ انسانوں کیساتھ حسن سلوک کے آشنا ہی انسانیت کے ماندری ہوتے ہیں۔امریکی [L:8] عوام ا لناس اپنی روحانی کتاب انجیل مقدس کی تعلیمات کو آج بھی نہ صرف تسلیم کرتے ہیں۔ بلکہ اس کی پیروی کو ذریعہ نجات تصور کرتے ہیں۔ اس وقت پچاس فی صدی کے لگ بھگ امریکہ میں سرکاری عہدوں پر یہودی فائز ہیں۔ انہوں نے عیسائی سیاست دانوں کو دبوچ رکھا ہے۔ جرمن اور روس نے ان کی ان سیاسی اور معاشی شاطرانہ حرکات و سکنات کی وجہ سے ان کو اپنے ممالک سے نکال باہر پھینکا تھا۔ جو انکے سب سے بڑے دشمن انکے ملک میں موجودہیں۔ کسی وقت بھی تمام سیکورٹی کے انتظامات کو درہم برہم کرکے چار جہازوں اور دو ٹاو روں جیسی تباہی کا باعث پھر بھی بن سکتے ہیں۔حادثہ سے بچنے کے لئے یا ضروری تدابیر اختیار کر لیں یا حادثہ رو نما ہونے تک انتظار کر لیں۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم ٖ فرمائے۔ اور ایسی ناگہانی آفات سے محفوظ فرمائے۔آمین۔
۲۴۔ جرمن قوم کو جنگ میں شکست دینے کے بعد ان کی نسل کشی امریکہ اور ان کے اتحادی سیاست دانوں نے کتنی بے رحمی اور سنگدلی سے کی۔ آٹھ سال کے بچوں سے لے کر جوانوں اور ۸۰ سال تک کے بوڑھوں کا قتل عام ا ن کی ماوئں ، بہنوں، بیٹیوں کے سا منے کیا۔ ہر قسم کا ظلم اوران کے عزیزوں کا قتل عام اور ان کی مستورات کے ساتھ زبردستی سنگینوں کی نوک پر جنسی تشدد کس نے کیا۔ انکی مستورات ،انکی بچیوں اور انکی عورتوں کی چھاتیوں اور شرم گاہوں کو کن لوگوں نے چیرا۔ کیا ان اذیت ناک زخموں کا درد اس قوم کے دل و دماغ میں آج بھی ٹیسیں نہیں ماررہا۔ کیا ان کو اپنے بزرگوں ،ماں،بہن ، بیٹیوں کی عبرت ناک، دل سوز، آپ بیتیوں کا انتقام لینے سے کوئی روک سکتا ہے۔کیا انہوں نے امریکنوں کے بدترین غلامی کی اذیتوں کے کرب ناک دن نہیں دیکھے اور گذارے۔ کیا ان حقائق کو کوئی جھٹلا سکتا ہے۔کیا مفتوحہ انسانوں کے ساتھ مہذب اقوام ایسا ہی حسن سلوک کیا کرتی ہیں؟
۲۵۔ کیا امریکیوں اور انکے اتحادیوں نے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر جاپانیوں کے معصوم، بیگناہ، لا کھوں آباؤ اجداد،انکے بچوں، جوانوں، بزرگوں ،ماوئں، بہنوں، بیٹیوں کو چند لمحوں میں پوری کی پوری نسلوں او ر انکی تمام کی تمام تعمیرات اور مکمل نظام زندگی کو نیست و نابود نہیں کیا تھا۔کیا وہ یہ سب کچھ بھول چکے ہیں۔کیا یہ یقین کر چکے ہیں کہ ان کی یاداشت میں یہ سلگتی چنگاریاں بجھ چکی ہیں۔ اس قوم کے دلوں سے ان اذیتوں کا نا سور کون ختم کر سکتا ہے۔ انسانی فطرت بدل نہیں سکتی۔نفرت اور انتقام کی آگ ایسے افراد اور اقوام کے
سینوں میں سلگتی رہتی ہے۔ کیا اس زخم کی مرہم ان امریکیوں، عیسائیوں، یہودیوں اور مغرب والوں کے پاس ہے۔مسلمان آج کے جدید علوم، ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی میں بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔انکی ظاہری تعلیم و تربیت فرنگی نظام کے تحت ہو رہی ہے۔جبکہ انکا دین اسلام ہے۔اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔ انکی تمام عبادات اور باطنی تربیت پر اسلام کی گہری چھاپ کا اثر نمائیاںہے۔انکا کردار دینی اور دنیاوی تربیت کے تضاد کا شکار اور منافقت کی آگ میں سلگ رہا ہے۔ پوری ملت انتشار کا شکار ہوچکی ہے۔ مسلم ممالک کے چند حکمران اور قلیل سی تعداد میں بد بخت سیاستدان طبقاتی معاشی اور طبقاتی معاشرتی نظام اور سسٹم کا گھناؤ نا کھیل اپنا کرملت اسلامیہ کو تباہی اور بربادی کی چتا میں دھکیلتے چلے آرہے ہیں۔ دنیا کے اسلامی ممالک میں سے کسی ایک ملک کے پاس نہ تو اتنی سائینٹیفک تعلیم اور نہ ہی تربیت ہے۔جو امریکہ جیسے ملک کا جدید ترین نظام حرب اور دفاعی سسٹم روند ڈالیں۔ایک ہی وقت میں چار جہاز اغوا یا ہائی جیک کریں۔نیو یارک اور واشنگٹن کے دو عظیم ٹاوروں کو نشانہ بنائیں۔یہ کون لوگ تھے۔یہ کہاں سے آئے تھے۔کیا یہ ان جہازو ں کے پائیلٹ ہی تھے۔کیا ان دہشت گردوں نے ان تمام پائیلٹوں اور عملہ سے جہاز چھین کر انکے رخ ٹاوروں کی طرف موڑ دےئے تھے۔ کیا کسی مسافر نے بھی ان جہازوں میں ان دہشت گردوں کے خلاف مداخلت نہ کی۔ کون اپنی زندگیوں کوختم کر سکتا ہے۔کیا یہ دہشت گرد تھے یا حریت پسند۔ یہ دہشت گرد یا حریت پسند کن حالات نے پیدا کئے۔ ان کی داستان کیا ہے۔کن مجبوریوں اور کن ظالمانہ واقعات نے ان کو جنم دیا۔وہ کن ممالک کے لوگ تھے۔کن تنظیموں نے ان کو پروان چڑھایا۔یہ تنظیمیں کیوں معرض وجود میں آئیں۔ا ن دہشت گردوں یا حریت پسندوں نے تمام دنیا کے ممالک کو چھوڑ کر امریکہ کاانتخاب کیوں کیا۔اس کا جواب امریکہ کے عوام امریکی سیاستدانوں یا حکمرانوں سے پوچھیںاور جواب لیں۔کیا انکے مجرم وہ دہشت گرد یا حریت پسند تھے یا یہ ظالم ، بے رحم، سنگدل، سیاستدان یا حکمران ہیں۔جن کا کردار ہر قسم کا جرم اور ظلم، قتل و غارت جیسا گھناؤنا اور بھیانک عمل زندگی کا حصہ بن چکاہے۔
۲۶۔ کیا ا مریکہ بہادر اور مغرب کے دوسرے اتحادی ممالک جنہوں نے یہودیوں کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے اسرائیل کا وجود اسلحہ کی نوک پر قائم کیا۔نیپام بموںاور جدید مہلک ہتھیاریہودیوں کو سپلائی کرکے اس اسلحہ کی برتری سے عرب ممالک کی افواج اور عوام کو تباہ اورخاکستر کر کے ان کے سروں کے اوپر ایک بد ترین ظالم دشمن کس نے بٹھایا ہوا ہے۔ کیا فلسطینی آج بھی اس اسلحہ کی برتری کی تباہی کا ایندھن نہیں بنتے آ رہے۔کیا عربوں اور فلسطینیوں کے دلوں میںنفرت کی آگ بھڑک نہیں رہی۔کیا وہ جینے کا حق لینے میں کوئی کسر چھوڑینگے۔کیا وہ حریت پسند مجاہد معصوم زندگیوں کا بدلہ لینے اور اپنے ملک کو آزاد کروانے کے لئے ہر قسم کی جنگ لڑ سکتے ہیں یا نہیں۔ چاہے تم اس جنگ کا نام دہشت گردی ہی کیوں نہ رکھو۔ تم انکے خود کش حملوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
۲۷۔ انصاف کا ترازو اپنے ہاتھوں میں رکھو۔ان حقائق کی روشنی میں اپنے ضمیر کا فیصلہ تو اقوام عالم کو سنا دو۔ بتاؤ اسلحہ تیار کرنے والا، اسلحہ فروخت کرنے والا، اسلحہ خرید کرنے والا اور اسلحہ معصوم ،بے بس اور کمزور انسانیت پر استعمال کرنے والا کون ہو گا۔ کیایہ سبھی لوگ انصاف کی لغت میں انسانیت کے اصل قاتل،مجرم اوربنیا دی اور پیدائشی دہشتگرد ہیںیا نہیں۔کیا اسلحہ ساز ممالک کمزور ممالک کو اسلحہ فروخت کرکے ان سے انکی دولت لوٹ نہیں لیتے۔ کیا وہ معاشی رہزن نہیں۔ کیا یہ دنیا میں پھیلے ہوئے معاشی اور معاشرتی دہشت
گردوںکے سردار نہیں۔ کیا ایٹم بموں،ہا ئیڈروجن بموں،نائٹروجن بموں، ڈیزی کٹر بمبوں اور کروز میزائیلوں اور ہر قسم کے مہلک ہتھیار تیار کرنے والے پوری انسانیت کے دشمن ہیں یا نہیں۔کیا انکی چالوں سے بڑی چال اس خالق حقیقی کے پاس ہے یا نہیں۔کیا فطرت کا کوئی عمل انکے بموں تک رسائی نہیں کر سکتا۔القاعدہ کی تمام افواج،دنیا کے تمام اسامہ بن لادن انکے ممالک میں چھپے بیٹھے ہیں۔ دنیا کے تمام طالبان تمہار ے ایٹمی پلانٹوں،ایٹمی جہازوں،ایٹمی آبدوزوں میں چوکس کھڑے فطرت کی پابندی اور وقت کا انتظار بڑی بے تابی سے کر رہے ہیں۔تم انہیں افغانستان کے ْقریہ قریہ ،بستی بستی، پہاڑوں میں بسنے والے معصوم،بے گناہ انسانوں کو ڈھونڈڈھونڈ کر ان کا قتل عام کئے جا رہے ہو۔ اگر اس حقیقت کا راز ان مغربی دانشوروں،مدبروں اور حکمرا نوں پر عیاں ہو جائے۔ تو ان کا بیلنس آف لائف ختم ہو جائے۔اس دنیا میں ان کو کوئی بچا نہیں سکتا سوائے ابن مریم کے۔خدا کرے کہ ان کا رخ ان کی طرف اور ان کی تعلیمات کی طرف مبذول ہو جائے۔ تا کہ دنیا دارالا من بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو نجات کا راستہ دکھائے۔آمین ۔
۲۸۔ بو سنیا میں مسلمانوں پر کیا گذری۔ ان کی اجتماعی قبروں کی داستانیں وقت کی کتاب میں رقم ہیں۔انسانیت کی لاشوں کی بے حرمتی کس نے کی۔ بچوں، بوڑھوں، جوانوں، ماوئں ، بہنوں، بیٹیوں کو جدید اسلحہ سے کن د ہشت گرد حکمرانوں نے ان کاقتل عام کیا۔ اور کس نے کروایا۔ان کی مستورات کی بے حرمتی اور جنسی تشدد کن ظالموں نے کیا۔مسلمانوں کے ساتھ کیا بیت گئی۔ کیا گذری، کسی سے کچھ پوشیدہ اور چھپا ہوا نہیں۔ دنیا کی معزز عدالت یو۔ این۔ او۔ نے اس وقت تک جان بوجھ کر مداخلت نہ کی۔ جب تک مسلمانوں کا ملک اور عوام الناس پوری طرح تباہ و برباد اور نیست و نا بود نہ ہو گئے۔ کیا وہ انسان ہونے کے ناطے یا نسبت سے انسانیت کا ناطہ بھی ان سے ختم کر چکے تھے۔ کیا یہ تمام مظالم، یہ اندوہناک واقعات، یہ عبرت ناک اور شرمناک آپ بیتی بھول جائیں گے۔یہ کیسے ممکن ہے۔لاکھوںکروڑوں انسانوں میں سے چند ہزار ایسے مجاہد، نو جوان، حریت پسند، جان پر کھیلنے والے جان نثاروں کو پیدا کرنے سے کوئی کیسے روک سکتا ہے۔تم ملک تباہ کر سکتے ہو،حکو متیں اسلحہ اور طاقت کی نوک پر ختم کر سکتے ہو۔لیکن ایسی تنظیموں کو نہ کوئی حکومت روک سکتی ہے اور نہ ہی کوئی ملک۔تم اپنے آپ کو،اپنے اہل و عیال کو، اپنے اتحادی ممالک کو اور اپنے اہل وطن کوکیسے پوری دنیا میں تحفظ فراہم کر سکتے ہو۔جبکہ آپکا اپنا ہی ملک غیر محفوظ ہو چکا ہے۔اب اسامہ بن لادن تمام دنیا میں بہت زیادہ پھیلا چکے ہو۔ کتنے قتل کرواؤ گے۔کتنے ملکوں کو تباہ کروگے۔کتنی معصوم مخلوق خدا کو تباہ کرو گے۔ کتنے ملکوں کے حکمران بدلو گے۔ اور حکمران بدلنے سے کیا فوائد اور تحفظ حاصل کر سکو گے۔اگر ان چند ممالک کو فتح کر بھی لو گے تو اس دنیا میں کب تک زندہ رہو گے۔کیا یہو دیوں اور عیسائیوں کو فرعون کی عاقبت کا کچھ پتہ نہیں۔
۲۹۔ امریکہ اور اس کے اتحادیو!، یہ تو بتاؤ، اسامہ بن لادن کی تربیت کس نے کی، اس کو فن حرب کس نے سکھائے ،اس کو دہشت گردی کا یہ عظیم سبق ا ور علم کس نے سکھایا ، اسکی ٹریننگ کس نے کی۔ اس کو روس کے خلاف جہاد کے نام پر کس نے اکسایا۔اور کس نے ا پنے مفاد کے لئے استعمال کیا۔افغانستان اگر اس وقت تمہارے کہنے میں نہ آتا۔ چار پانچ لاکھ جانوں کا نذرانہ روس کی جنگ میں پیش نہ کرتا، اپنے گھروندے اور ملک کو تباہ نہ کرواتا،روس کے ساتھ تعاون کر جاتا۔ اس کا اتحادی بن جاتا۔ اس کے سامنے سرنگوں ہو جاتا۔بتاؤ روس کی یلغار کو تم میں سے کون تھا جو روک سکتا تھا۔ آج اسرائیلی ریاست ختم ہوئی ہوتی۔ دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ روس تمہارے گھروں تک پہنچا ہوتا۔
اگر افغانستان ،پاکستان، ایران اور دوسرے مسلم ممالک اہل کتاب ہونے کے ناطے اور اسی بنا پر تمہارے ساتھ اتحاد نہ کرتے۔ اتنی عظیم قربانیاں نہ دیتے۔ تو دنیا کاجغرافیہ آج بدلا ہوتا۔وہ لوگ کچھ بھی ہوتے یقینا وہ تم جیسے ظالم، غاصب، منافق، نام نہاد عیسائیوں اور یہودیوں کے روپ میں وحشی سیاسی درندے ہر گز نہ ہوتے۔کم از کم تم جیسے دھوکہ بازوں اور ابن الوقت بد خو سیا ست دانوں سے کہیں زیادہ بہتر ثابت ہوتے۔
تم ہزار بار افغانستان پر حملہ کرو۔تمہاری طاقت اور سیاست کا مدفن انشا اللہ یہی افغانستان بنے گا۔ اے ابن الوقت امریکی سیا ستدانو!حکمرانو! اور انکے اتحادیو تم تو کل تک افغانیوں کے بہترین دوست تھے آج تم کیسے بدترین دشمن بنے ہو۔تم نے تو طالبان حکومت کو ختم کرنا یا بدلنا تھا۔ کتنے بے رحم اور ظالم ہو۔ تم نے انسانیت کا قتل عام شروع کر دیا۔ تم نے تو افغانستان کے معصوم بچے بچےیوں،بیگناہ مستورات،بے ضرر نوجوانوں،ضعیف بوڑھوں کو دنیا کے مہلک ترین لیزی کٹر بموں،کروز میزائلوں،تباہ کن بمباری سے ہر ذی جان کا قتل عام کیا۔تم انسانی شکل میں تہذیب حاضر کے کیسے وحشی اور درندہ صفت عیسائیت کے روپ میں سیاستدان ہو۔ کیا فطرتی عمل کوئی روک سکتا ہے۔ کیا یہ افغانی تمہارے اس ظلم کا حساب چکانے میں کوئی کسر چھوڑیں گے۔ کیا اسطرح امن قائم ہو گا۔ کیا پورے مغرب میں ابن مریم کو ماننے والا پوری عیسائیت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جس کسی کے پاس انسانیت کے لئے رحم،محبت،شفقت ،ادب و احترام کا فطرتی جذبہ موجود ہو جو انکو اس ظلم و بربریت سے روک سکے ۔ چین بھی ایک سوشلسٹ ملک ہے۔ اس نے آج تک کسی ہمسائے ملک کے ساتھ زیا دتی نہیں کی اور نہ ہی اسکو کسی نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی دوستی اور دشمنی پر ناز ہے،وہ منافق نہیں۔ امریکہ اور اسکے اتحادی مغربی سیاستدانوں اور حکمرانوں جیسے بے ضمیر اور بدخصلت استحصالی اور دہشت گردی کے خالق بد خصلت سیا سی لوگ جو دوست کے ر وپ میں سعودیہ ، کویت، کی مدد و معاونت اور حفاظت کے لئے آئے۔انکے خزانے اور وسائل لو ٹ لئے۔ رہزنوں اور د ہشت گردوں کی طرح تمام وسائل پر قابض ہو بیٹھے۔اے دنیا کی مہذب قوم۔ اے ابن مریم کے ماننے والو!،ا ے دنیا کے عظیم سیاستدانو! بتاؤ ، تمہیں کس نام سے پکاریں۔سیاست دان،انسانیت کے قاتل،بین الاقوامی دہشت گرد، جہان رنگ و بو کو نیست و نابودکرنے والے اسلحہ ساز،معاشی قاتل،معاشرتی بھڑئیے، منافق یا عیسائی۔ ابن مریم کو ماننے، انکی تعلیمات کو حاصل کرنے اور انکے نقش قدم پر چلنے کا عمل ہی انکے حصول کردار کی خوشبو کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہے۔وہ تو تم ترک کئے بیٹھے ہو۔اس ظلم و بربریت کے نتائج کیا ہونگے۔اپنے کسی پوپ،پادری،دیدہ ور،صاحب بصیرت یا کسی ابن مریم کے پرستار سے پوچھ لو۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم فرماویں۔ اور راہ ہدایت کا راستہ دکھائیں۔امین
۳۰۔ تمہاری عقل و فراست اور جرات پوری دنیا ویت نام کی جنگ میں نمایاں دیکھ چکی ہے۔ بائیس سال تک ایک چھوٹے سے ملک سے جنگ لڑنے کے بعد دم دبا کر بھاگنے والے شیرو!۔ تم کس کریکٹر کے مالک ہو۔ تم نے آج تک ادھر آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی جراٗت نہیں کی۔ افغانستان پر ضرور حملے کرتے رہو۔ لیکن حملے جاری رکھنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا۔ اسلام ان کا مذہب ہے۔ظلم کے خلاف جہاد ان کی عبادت کا بہترین مقبول و محبوب نظریہ اور نصب العین ہے۔ شہادت کی موت ان کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی سرفرازی اور کامیابی
کا مقام ہے۔ تم سات آٹھ ہزار لاشوں کو دیکھ کر تڑپ اٹھے۔ پوری قوم دماغی توازن کھو بیٹھی۔ پاگلوں کی طرح اپنا تباہ کن اسلحہ لے کر اسامہ بن لادن اور افغا نستان کی طرف دوڑ پڑے۔ عیسائیت کے روپ میں سیاسی درندوں کی بدحواسی اور کینہ پروری کی انتہا یہ ہے۔ کہ یہ اپنے اصل مجرموں کی طرف رخ موڑنے کی طرف تیار ہی نہیں۔ ان کو چاہئیے پہلے اپنے مجرموںکو تلاش کریں۔ نشرو اشاعت کے میڈیا پر جاری بے بنیاد، باطل ،غاصب اور یک طرفہ وحشیانہ جنگ افغانستان کے خلاف بند کریں۔اسی میںانکی بہتری ہے۔ورنہ یہ افغانستان کی گوریلا جنگ کی دلدل میں پھنس کر نیست و نابود ہو تے جائینگے۔ روس اورروسی ریاستوں اور چین کے تحفظ کی جنگ بھی افغانی نسل ہی لڑ رہی ہے۔ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی آج کا دوست کل کا دشمن اور آج کا دشمن کل کا دوست بن سکتا ہے۔حقائق خود بولیںگے۔روس اور روسی ر یا ستوں اور چین کو افغانیوں کا ساتھ دینا پڑیگا۔ ورلڈ آرڈر کی دھجیاں یہاں ہی بکھریں گی۔ انکو یہاں سے بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ ایشیا کا امن تباہ کرنے اور ہند و پاک کے عوام کو ایٹمی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش نہ کرو۔یہی تمہارے لئے بہترہوگا۔عدل و انصاف کو قائم کرو۔ خود بھی بچ جاؤ گے اور پوری انسانیت بھی۔ و رنہ ایٹم بموں کے ٹکر اؤ سے تمہارا اور تمہارے اتحادیوں کی آنکھ سے حقائق کا پردہ اٹھنے والا ہے۔
۳۱۔ امریکہ کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا یہ وطیرہ اور پالیسی کا نصاب اب فرسودہ ہو چکا ہے۔یہ بھول جا ئیں۔ کہ وہ مسلمانوں اور مسلم ممالک کو آپس میں الجھائے اور لڑائے رکھیں گے۔ شمالی اتحاد کی امریکیوں کے ساتھ معاونت آخری باب ثابت ہوگا۔وقت آگیا ہے کہ افغانی اور شمالی اتحاد والے مل کر اپنے فا تحین کے ساتھ گوریلا جنگ لڑیں گے۔وہ مغربی مفکروں کی اسلام کش جمہوریت کی آگ میں نہیں جلیںگے۔
۳۲۔ ایران اور عراق مسلمانوں کی دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایران میں بادشاہت ختم ہوئی۔تو اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔امام خمینی صاحب نے ملک میں اسلام نافذ کرنے کا عمل جاری کیا۔ امریکنوں نے عراق کے حکمرانوں کو سبز باغ دکھائے۔عراق کو ایران سے بہتر اسلحہ مہیا کیا۔ ان کو آپس میں جنگ میں الجھا دیا۔ عراق کی فوجی مدد کی اور اسکو اس جنگ میں فوقیت حاصل رہی۔دونوں مسلم ممالک کی اقتصادی اور فوجی طاقت کمزور اور ختم ہو گئی۔ہزاروں، لاکھوں بے گناہ لوگ اس جنگ کی نظر ہوئے۔امریکہ کا فرسودہ،نا کارہ اور پرانا اسلحہ اربوں ڈالرز کا فروخت ہوا۔ پھر انہوں نے عراق کی فوجی امداد کی اور اس سے کو یت پر حملہ کروایا۔سیاسی منافقوںنے سعودیہ اور کویت کی مدد کا اعلان کیا۔امن کی خاطر پھر ان کی مدد کو آن پہنچا۔ عراق پر فضائی حملے شروع کئے۔اس کی فوجی اور اقتصادی طاقت بری طرح مسخ کر دی۔ اس طرح امریکہ نے اپنے بوسیدہ اور پرانے اسلحہ کے انبار عراق کی امن کے نام پر مکمل تباہی کے لئے استعمال کر کے ارب ہا ڈالرز کی قیمت سعودی عرب اور کویت سے وصول کی۔ ان کا خزانہ بھی چاٹ لیا۔ اور انکی اقتصادی حالت بری طرح اپاہج کر دی گئی۔ عراق کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ۔ ہزاروں بے گناہ،معصوم انسان قتل ہوئے۔بے شمار کے اعضا ہوا میں بکھرے۔ ان گنت زخموں سے چور ہوئے۔انسانیت تڑپتی رہی۔یہ بے دین سیاسی مذہب جمہوریت کے پجاری ظلم اور دہشت گردی کرتے رہے۔ علاوہ ازیں امریکہ انکے ملک کے اندر ایسا داخل ہوا۔ان کے تمام قدرتی وسائل یعنی تیل اور ملک پر قابض ہو بیٹھا۔
۳۳۔ امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کتنے طاقتور اور دہشت گرد سیاستدانوں پر مشتمل حکمرانوں کا ایک مضبوط ٹولہ ہے۔ جو یو۔ این۔ او۔
کی بین ا لاقوامی عدالت پر قابض ہیں۔اس سے عدل و انصاف کا قتل عام کرواتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں وہ کرتے جاتے ہیں۔ ان خوفناک ، درندہ صفت ، عدل و انصاف اور انسانیت کے قاتلوں نے پہلے ایران کو دہشت گرد اور پھر عراق کو دہشت گرد دنیا کی اس نام نہاد عدل کش عدالت یعنی یو۔این۔او سے مجرم قرار دلوایا۔ اسی اسلحہ کی فروخت سے اربوں ڈالر ان ممالک سے ان معاشی دہشت گردوںنے چھینے۔ ایران،عراق،سعودی عرب ، کویت اور دوسرے عرب ممالک کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹی۔مسلمان ممالک کو جنگ میں الجھا کر، ان سنگدل عالمی شہرت یافتہ ، ظالم، بے رحم، انسانیت کش عالمی [L:8] اسلحہ ساز دہشت گردوں نے انکی صرف دولت ہی نہیں لوٹی۔ بلکہ لاکھوں بے گناہ،معصوم ان ملکوں اور قوموں کے عوام کا قتل عام بھی کروایا۔کئی ٹاوروں، بستیوں، بلڈنگوں، کارخانوں، شہروں کو مسمار کیا۔


۳۴۔ نیو یارک اور واشنگٹن کے دو ٹاوروں کی تباہی اور چند ہزار لوگوں کی اموات نے ان کا ذہنی توازن خراب کر دیا۔ ان سیاسی مذہب کے رہزنوں اور دہشت گردوں کے پیشوا ؤں نے دنیا کے تمام حریت پسندوں کو اس دہشت گردی کی جنگ کا راستہ دکھا دیا ہے۔ ان گھناوٗنے حا لا ت و واقعات نے ا قوام عالم میں بیداری کا شعور پیدا کردیا ہے۔ جنگ کا طریقہ کار بدل دیا گیا ہے۔اب جنگیںمیدانوں اور ملکوں کی فوجوں کے آمنے سامنے لڑنے کی بجائے کسی بھی ملک کے چند خفیہ حریت پسند، جان باز انکے ناقابل تلافی نقصانا ت کرنے میں کوشاں رہینگے۔امریکہ اور اس کے اتحادی مما لک اور بین ا لاقوامی عدالت یو۔این۔او سے اپنے مخالفین پر بوگس الزامات،بوگس کیس، یہ دولت کے رہزن،امن کے قاتل، انسانیت کے قاتل، معصوم اور بیگناہ مخلوق خدا کے قاتل اورکمزور ممالک کے وسائل اورخزانہ لوٹنے والے عیسائیت کے روپ میں درندہ صفت دہشت گرد اپنی ان پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں اسامہ بن لادن ہمیشہ پیدا کرتے رہیں گے۔ عیسائیت کے پر نور چہرے پر ا ن سیاستدانوں کے ظلم و بربریت کے سیاہ دھبے دھونا ابن مریم کے اربوں ماننے والوں کا پا کیزہ فریضہ ہے تا کہ یہ حسین و جمیل کائنات مکمل نیست و نابود اور تباہ ہونے سے بچ سکے۔
۳۵۔ حا لیہ امریکہ میں ہونے والی انقلابی دہشت گردی نے جنگ کا طریقہ بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔امریکہ کا تمام نیٹ ورک اور تمام جدید ترین حفاظتی انتظامات کو ان چند جان نثاروں نے روند ڈالا ہے۔ اسامہ بن لادن دنیا کی ہر قوم ہرملک ہرمظلوم گھر میں پیدا ہو چکے ہیں۔ امریکہ کا کوئی ہوائی جہاز،کوئی بحری جہاز،کوئی ایمبیسی،کوئی فرد ، ان دنیا کی مظلوم ،مجبور ،محکوم قوموں کے ہاتھوںاب بچ نہیں سکے گا۔ امریکہ کے فوجی ماہرین اور اقتصادی دانشوروں کو اپنی حکمت عملی بدلنی ہو گی۔اپنا فرعونی جنگی رویہ بدلنا ہو گا۔ ابن مریم کی الہامی تعلیمات کی طرف لوٹنا ہو گا۔ حسن اخلاق انجیل مقدس کی تعلیمات کی روشنی میں عوام الناس کو پیش کرنا ہو گا۔ورنہ نوشتہ دیوار تو امریکنوں نے پڑھ ہی لیا ہے۔قتل و غارت کے عمل سے انکا سکون تباہ اور تحفظ ختم ہو چکا ہے۔ یہودی قوم فطرتی طور پر مادیت کے پرستار، دولت کے پجاری ، اور معاشیات کے عاشق ہوتے ہیں۔ دنیائے عالم میں مختصر اور قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود سرمایہ داری اور سرمایہ کاری پر ان کی مکمل اجارہ داری قائم ہے۔ تجارت کے جال سے پوری دنیا کے کونے کونے سے دولت اکٹھی کرکے وہ کسی بھی ملک کا کنٹرول حاصل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اسی دولت کی طاقت اور قوت سے وہ دنیا کا مکمل معاشی گھیراؤ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ فرعونیت کی تمام صلاحیتیںانمیں موجود ہیں۔ جرمن اور روسی سیاست دانوں، حکمرانوں نے ان کی انہی حرکات و سکنات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہودیوں کو
اپنے اپنے ممالک سے ملک بدر کیا۔ ان کے کیا عوامل محرکات اور کیا وجوہات تھیں۔ انہوںنے ان کے کردار پر غور و فکر کیا۔انہوں نے ان کی فطرت کو پڑھا ، پرکھا، فکر و تدبر کی کٹھالی میں ڈالا ۔ اور ان کی جبلت کے تمام پہلوؤں کا تجزیہ اور مشاہدہ کیا۔تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ لوگ جس بستی، جس قریہ، جس نگر، جس شہر جس ملک میں جا بسیں گے۔جہاں کہیں سے بھی ان کا گزر ہو گا۔ وہاں کے عوام سے یہ مال و متاع اور ان کی اقتصادی طاقت کو ان کے کارخانوں ان کے بینکوں ان کی اندرونی اور بیرونی تجارت اور ہر قسم کے معاشیات کے نظام پر بڑی مہارت سے قابض ہوبیٹھیں گے۔ کہ جہاں کہیں بھی یہ رہیں گے۔ اس ملک کی تمام اقتصادی ایجنسیوں پر یہ قابض ہوتے جائیں گے۔ ان ممالک کے تمام کارخانے اور کاروبار ان کے قبضہ قدرت اور بتدریج ان کے کنٹرول میں ہوتے جائیںگے۔وہاں کے عوام اپنی ہی سرزمین اپنے ہی ملک میں ان کے ذاتی ملازم اور غلام بنتے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ملک کی حکومتی اداروں کی سربراہی ، اور سیاسی اداروں کو زیر کنٹرول کرکے اس ملک کے اصل حکمران بننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ یہ تھے وہ عوامل اور محرکات جس کی بنا پر روسیوں اور جرمنوں نے ان کواپنے اپنے ممالک سے زبردستی باہر نکال پھینکا۔
۳۶۔ اس کے بعد مغرب میں انہوں نے پناہ حاصل کی۔ امریکہ میں اپنے ڈیرے ڈال دیئے۔ قلیل سی تعداد میں ان یہودیوں نے اس عظیم ملک کو اپنا مسکن بنایا۔ انڈر گراؤنڈ مرتب کردہ اقتصادی پالیسوں کی روشنی میں اقتصادی قوت حاصل کرنے کے لئے امریکہ کی سرزمین میں اقتصادی قوت اور حکمرانی کی جنگ کا آغاز کیا۔ ان کے بڑے بڑے تجارتی مراکز پر انہوں نے کنٹرول حاصل کر لیا۔ اندرونی اور بیرونی تجارت پر قبضہ کیا۔ امریکہ میں ان کی بڑی بڑی صنعتیں ، کارخانے ، بینک اور ہر قسم کے بین الاقوامی کاروبار اور پوری دنیا کی تجارت پر ان کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ ان کی اقتصادی پالیسیاں ان کے ز یر اثر ہو چکی ہیں۔ اسی اقتصادی قوت کی بنا پر انہوں نے ان کی اسمبلی پر پورا کنٹرول اور گرپ مضبوط کر رکھی ہے۔ عیسائی پوری نسل ان کی مقید ہو چکی ہے۔ پچاس فی صد کے لگ بھگ ملک کے اعلیٰ اداروں پر یہودی قابض ہو چکے ہیں۔ ان کی تمام پالیسیاں ان کے ز یر اثر ہو چکی ہیں۔ ان کی ظالمانہ خصلت پوری طرح واضح ہو چکی ہے۔ پوری دنیا کے نشر و اشاعت اور ٹی وی میڈیا پر ان کو مکمل اختیار حاصل ہے۔ یہ معاشی دجال پورے مغرب پر چھانے کے بعد پوری دنیا پرتسلط قائم کرنے کیلئے کوشاںہیں۔ امریکی عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ واشنگٹن اور نیویارک کے ٹاوروں کو نیست و نابود کرنے والے نہ افغانستان کے طالبان اور نہ ہی اسامہ بن لادن ہیں۔ یہ بیرونی دہشت گردی نہیں بلکہ اندرونی یہودیوں کی سازش ہے۔ جو حکومتی ایجنسیوں کے تعاون سے کی گئی ہے۔ کوئی بیرونی دہشت گرد ان چاروں جہازوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اور نہ ہی رسائی حاصل کر سکتا تھا۔یہ کارنامہ ان کے اپنے ہی پائلٹوں نے ایک یہودی سازش کے تحت ان دونوں ٹاوروں کو مسمار کیا۔ اور سات آٹھ ہزار بے گنا ہ اور معصوم عوام الناس کا قتل عام کیا۔ ہزاروں انسانوں کے اعضاء فضا میںبکھیر دیئے۔ اور بیشتر کو بری طرح زخمی کیا۔ ایساعمل کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ یہ سازش یہودیوں کے کردار کا حصہ ہے۔ چاروں جہازوں کے اغوا کی ساز ش بڑی منصوبہ بندی سے کی گئی۔ اس ظالمانہ فعل میں ملوث انسانیت کے قاتلوں کی ایک بھیانک گھناؤنی اذیت ناک، شرمناک المیہ پر مشتمل ایک دکھوں سے بھری کہانی ہے۔ انسانیت سوز، دکھوں، آہوں اور اور عرش معلی ہلا دینے والی چیخوں پر مشتمل ٹریجک کہانی ہے۔ اس کا اگلا سکرپٹ افغانستان پر حملہ اور افغانستان کے مظلوم، بے بس، معصوم، بے گناہ بچے
بوڑھے ، جوان ، مرد و زن کا قتل عام ہے۔ جدید اسلحہ سے جنگ عظیم سے زیادہ ڈیزی کٹر بمبوںاور کروز میزائیلوں کے متواتر و مسلسل خوفناک حملے۔ان کی بستیوں کو تباہ کرنا اور ان کو ملک سے نکال کر دربدر کرنا اس عبرت ناک کھیل کا حصہ ہے۔ لاکھوں افغانیوں کو اپنے قصبوں، شہروں اور بستیوں سے ہجرت کرکے بھوک ،ننگ اور مصافتوں کی اذیتوں میںمبتلا کر دیا گیا۔ تباہ کن جدید اسلحے کا استعمال۔ متواتر اور مسلسل ہوائی حملے میزائیلوں کی خونی بارش۔زمین کو لرزانے والے بھاری بمبوں کے حملے۔ دیہاتیو ں اور وہاں کے وسنیکوں کو نیست و نابود کرنے کا سماں ان کی تباہی ، ان کے ہسپتالوں اور مریضوں کے نام و نشان ختم کرنے کا یہ عمل حیرت اور عبرت ناک جنگی جنونیوں کا ٹی وی اور نشری بلٹنوں پر کامیابیوں کا رقص۔ آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے عیسائیت کے منافق ظالم اور بے رحم سیاسی رقاصوں کاناچ۔ انسانی بستیوں اور انسانی لاشوں پر ناچنے والے مغربی تہذیب کے مہذب شاہکاروں کا رول فطرت کی کتاب میں پیکچرا ئیز ہو چکاہے۔ ابھی اس ہولناک جنگ کا رخ دیکھئے کدھرمڑتا ہے۔ کیا یہ صلیبی جنگ کا رخ بدلتی ہے۔ کیونکہ مسٹر بش ایسی باتیں کر چکے ہیں۔ افغانستان پر قبضہ کر نے کے بعد کیا افغانستان کو روسی ریاستوں، روس اور چین کے خلاف جارحیت کا اڈہ بنانا چاہتے ہیں۔ کیاوہ ایشیائی ممالک کی شاہ رگ پر بیٹھ کر بات کرنا چاہتے ہیں۔ کیاوہ عالم گیر حکومتی خواب کی تعبیر دنیا کو پیش کرناچاہتے ہیں۔ کیا یہ ایشیا میںبیٹھ کرعالم گیر جنگ کا نظارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ دوسری طاقتوں کو اپنی سینہ زوری ،طاقت اور دہشت گردی سے مرعو ب کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ حسین و جمیل کائنات کو مسخ کرناچاہتے ہیں۔کیا یہ دنیا کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ عدل و انصاف کے اصولوں کو پوری دنیا میں مسخر کرناچاہتے ہیں۔ کیا یہ کمزور قوموں سے ان کا جینے کا حق چھیننا چاہتے ہیں۔ کیا یہ اس حقیقت سے آشنا نہیں ۔ کہ واشنگٹن ٹاور اور نیو یارک ٹا ورکو تباہ کرنے جیسی دہشت گردی میں نہ اسامہ بن لادن اور نہ ہی طالبان ملوث ہیں۔ کیا امریکی قوم اس حقیت سے آشنا نہیں کہ دنیا کا کوئی بھی اسلامی ملک نہ اتنی صلاحیت رکھتا ہے ، اور نہ ہی اتنی اہلیت کا مالک ہے۔ کیا مغر بی طاقتیں اتحادی ممالک اور امریکن گورنمنٹ اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ مسلمان آپس میں انتشار کا مکمل شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی آپس کی جنگیں اور چپقلشیں ان کو تباہ کر چکی ہیں۔ ان کے پاس نہ جدید ٹیکنک ہے اور نہ ہی ڈسپلن اور نہ ہی اتحا د۔خانہ جنگی اور آپس میں الجھی ہوئی قوم ایسی سوچ بیچار کی مالک کیسے ہو سکتی ہے۔
۳۷۔ جو قوم ،جو ملک، جو ملت، اتحاد سے محروم ، جدید علوم سے نا آشنا، تنظیم سے بے نیاز، محنت سے عاری ، افلاس اور غربت میں مبتلا،ملکی وسائل کی کمی، اسکے علاوہ معاشی اور معاشرتی ابتری کا شکار بھی ہو۔ وہ اتنے بڑے جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس اور سیکورٹی کا دنیا کا شاہکار نظام رکھنے والا سپر پاور ملک۔افغانستان جیسا کمزور اور دنیا کی جدید ٹیکنیک سے محروم ملک اس قسم کی دہشت گردی کا کیسے متحمل ہو سکتا ہے۔ کیا بین الاقوامی عدالت، یو این او ، دنیا میں عدل و انصاف قائم رکھنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یا عدل و انصاف کو مسخ اور ختم کرنے کے لئے۔ کیا اقوام عالم کے یواین او۔کے ممبران نے عدل و انصاف کا قتل عام نہیں کیا۔ کیا اقوام عالم نے امریکہ کے افغانستان پر بہتان اور الزامات کی تصدیق کی۔کیا جھوٹا مقدمہ، جھوٹا کیس ، جھوٹی جیوری، جھوٹا فیصلہ اور جھوٹی عدل کش عدالت کے خود ساختہ فیصلہ نے امریکن حکمرانوں کوایک غریب، کمزور، بے بس، نہتے ملک کے معصوم عوام پر جدیداور مہلک ترین ہتھیاروں سے انکا قتل عام نہیں کیا۔ تباہ کن کروز میزائلوں ، خوفناک حد تک تباہی مچانے والے جدید بڑے بڑے ڈیزی کٹر بمبوں ، اور بمبار طیاروں سے افغا نستان کو ملبے کے ڈھیرمیں نہیں
بدل دیا۔ کیا خاک و خون میں لت پت انسانی لاشیں تڑپتی،پھڑکتی اور ٹکڑے فضا ؤں میں ا ڑتے دنیا نے نہیں دیکھے۔کیا افغانستان میں بے گناہ انسانی زندگیاں اس بے رحم ،ظالم ، غاصب ، عالمی مہذب اور عظیم دنیا کے رہنماؤں نے جدید اسلحہ سے تباہ نہیں کیں۔ کیا ان اتحادیوں کے فیصلے سے کھلے عام قتل و غارت، زخموں اور اذیتوں سے چور ، دردسے بھری آہیں ان کے کانوں نے نہیں سنیں۔ کیا ان کے اس استحصالی اور دہشت گردی کا عمل اور کریکٹر انکے ضمیر پر صبح و شام لعنت کے مضراب نہیں لگا تی جا رہی۔ کیا لاکھوں بچوں، بوڑھوں، مردوزن ،بیماروں، کمزوروں، ناداروں ، اور بے یار و مددگار انسانوں پر مشتمل انسانی قافلوں پر ظلم و تشدد نہیں ہو تا رہا۔ کیا انہوں نے لوگوں کو بے گھر ، بے سروسامانی کی زندگی میں مبتلا نہیں کیا۔ نہ خوراک نہ پیسہ ، نہ کاروبار نہ ذرائع آ مدن ،نہ گھر نہ بستی، نہ گھروندہ نہ ضروریات زندگی، وہ کھلے آسمان تلے سردی ،گرمی میں دکھوں ، دردناک اذیتوں میں تڑپ نہیں رہے۔ نہ بیماروں کے لئے دوا ، نہ مرنے والوں کیلئے کفن و دفن کا انتظام۔ کیا ان ترقی یافتہ اتحادی ممالک نے فطرت کو عذاب کے لئے نہیں پکارا۔ کیا یہ عمل فطرت کو چیلنج ہے یا نہیں۔ کیا اس سے قبل امریکیوں اور اسکے اتحادیوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم نہیں برسائے تھے۔ کیا انکی یاد آج پھراتحادی ممالک افغانستان میں تازہ نہیں کر رہے۔ کیا ان عالمی دہشتگردوں اور ظالم بے ر حم سیاستدانوں اور اتحادی ممالک کے ضمیر مردہ نہیں ہو چکے ہیں۔ کیا وہ اپنی افواج کو ان کے ضمیر کے خلاف ان کو جنگ میںدھکیل نہیں رہے۔ اس جنگ میں بے ضمیر موت مرنے والی افواج کے لئے یہ جنگ ایک خوفناک المیہ ہے یا نہیں۔ا ور اتحادی ممالک کے رہنے والے باشندے ،امریکی عوام اور پوری دنیا کے انسانو ں یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں، ہندؤوں، بدھوں،شوسلسٹوں،کیمونسٹوں اور تمام عقائد اور نظریات کے عوام کو مل کر سوچ لینا ہوگا۔کیادنیابھرکے حکمرانوں،کو ، انسانی بستیوں، شہروں، ملکوں کی بربادی ، ان کو ملیا میٹ اور نیست و نابود کرنے کی کھلی چھٹی ہونی چاہیئے۔ کیاسیاستدانوں،حکمرانوں کی آپس کی چپقلشیں یاکسی طاقت ور ملک کی حکم عدولی کی پیدا کردہ سازشیں دنیا کے کسی کمزور ملک کے عوام کا قتل عام کرنے کا سبب بنتی رہیںگی۔ کیا کسی ملک کے معصوم، بیگناہ، بچوں، بوڑھوں، بیماروں، معذوروں ،تباہ حا ل مخلوق خدا ، غربت سے دو چار بے بس،بے ضرر عوام اور ناداروں کا قتل عام کرنا مناسب اور جائز ہے،اس کا جواب کون دے گا۔
۳۸۔ یہ تباہ کن ہتھیار۔ایٹم بم،ہائیڈروجن بم،نائیٹروجن بم، ڈوزی کٹر بم،بیشمار جدید ترین تباہ کن میزائل،کروز میزائل،ایٹمی پلانٹ، ایٹمی ری ایکٹر پلانٹ۔ ایٹمی وار ہیڈ، تیار ہو تے چلے آرہے ہیں۔ کیا یہ دنیا کے سیاستدان،حکمران اس حسین و جمیل کائنات کو نیست و نا بود اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آج تک دنیا کو تباہ کرنے کے لئے جتنے ا خراجات ہو چکے ہیں۔ اگریہ دولت،اتنے بڑے فنڈز اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا بجٹ دنیا میںغربت،بیماری،جہالت اور انسانیت کی بہبود کی خاطر خرچ ہوا ہوتا تو آج دنیا کی حالت ہر گز ایسی نہ ہوتی۔پوری دنیا میں عیسائیت کا بول بالا ہوا ہوتا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اخوت و محبت،ادب و سلوک،عدل و انصاف،در گذو عفواور خدمت کے جذبوں کو نبھانے والے کیریکٹر و کردار کی شمع کو روشن کیا ہوتا۔ تو آج یہ دنیا جہالت کے ظلمات میں غرق نہ ہوئی ہوتی۔آج پوری انسانیت اور اس جہان رنگ و بو اور حسین مخلوق کو تباہی سے دو چار ہونے کی نوبت نہ آتی۔ اس قسم کی جنگیں ہر گز نہ ہوتیں۔ یہ عیسائیت کی جنگ لڑنے والے عیسائیت کے نور کی تعلیم سے محروم، رشد و ہدائیت سے محروم ،انسانیت کے احترام سے محروم، گمراہی اور تباہی کے
اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ظالم اور جاہل پر رحم فرما ئیں ۔ اور انکو انکی اپنی ایجادات کی تباہی سے بچا ئیں۔امین۔
۳۹۔ اب تو ان تباہ کن ہتھیاروں کے اخراجات کا حساب کتاب کرنا ممکن نہیں۔ ابھی یہ عبرت ناک کھیل جاری ہے۔ اب اینٹی ٹینک شکن گنوں کی طرح میزائلوں،اینٹی ایٹمی پلانٹوں،اینٹی ایٹمی بموں، ہائیڈروجن، نائیٹروجن بموں اور ہر قسم کے مہلک بموں کے اینٹی نظام اور ہر قسم کے اینٹی وائرس کمپیوٹروں کی ایجاد اور تیار کرنے میںدنیابھر کے سائنسدان اس ٹکنیک پر قابو پانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ تا کہ وہ ان مہلک اور تباہ کن بموں سے نجات حاصل کرسکیں۔عنقریب ہر قسم کے ا ینٹی شکن نظام اور ہر قسم کے اینٹی وائرس تیار ہونے کی خبریں دنیا میں پھیلنا شروع ہو جائینگی۔یہ تباہ کن اسلحہ اور تباہ کن ایٹمی بم،ایٹمی پلانٹ۔ایٹمی آبدوزیں یہ سب ایک خوفناک اور خطرناک بم کی زد میں آچکے ہیں۔ یہ بم ہر قسم کے راڈار اور ہر قسم کے اینٹی شکن نظام سے بالا ہے۔اس بم کا نام ہے خود کش بم۔یہ بم ظالم،غاصب، عدل کش،بے رحم، انسانیت کے قاتلوں،ریاستی دہشت گردی کرنے والے بد نصیبوں اور وقت کے حکمرانوں فرعونوں کے ظلم و بر بریت کے خلاف تیار ہو چکا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بم دنیا کے کونے کونے میں تیار ہوتے جا رہے ہیں۔یہ خود کش بم دن بدن انکے قریب سے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ ان مہذب ممالک کے ظالم سیا ستدانوں، حکمرانوں کی قتل و غارت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج یہ امریکہ جیسی دنیا کی سپر پاور اور اسکے اتحادی ممالک کی معصوم،بے گناہ اور بے ضرر عوام مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکی ہے۔وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی محفوظ نہیں رہے۔اگر انہو ں نے یہ پالیسی ترک نہ کی تو انکو افغانستان اور اسرائیل سے ہی نہیں بلکہ تمام دنیا سے انکو اپنے سفارت خانے اور ہر قسم کے کارو بار بند کرنے پڑیں گے۔انسان کچھ سوچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں۔اب یہ لڑائی چین ،روس اور اسکی بارہ آزاد ریاستوں کو اپنی سرحدوں سے امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کو دور رکھنے کے لئے لڑنی نہیں پڑے گی۔ اگر امریکہ یہ درندہ صفت پالیسیاں ختم نہیں کرتا تو امریکہ خود بخود ایشیا سے بہت بڑا جانی مالی نا قابل تلافی نقصان کروا کربھاگنے کی کوششیں اور کاوشیں کرنی شروع کر دے گا۔کیونکہ ظالم بزدل اور مظلوم جرات کا پیکر ہوتا ہے۔ اسرا ئیل کی دنیا کی بہترین بری، بحری، ہوائی افواج اور جدید ترین اسلحہ سے لیس فلسطینیوں کا بڑی بے دردی سے قتل عام کئے جا رہی ہے۔لیکن نہتے فلسطینیوں کے خود کش حملوں کا مقابلہ کرنے سے بری طرح نا کام اور قاصر ہو چکی ہے ۔ اسرائیلی حکمران اور عوام دونوں خوف و ہراس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ادھر افغانستان میں بھی روز مرہ اتحا دی فو جوں کا جانی ،مالی نقصان دن بدن بڑ ھتا جا رہا ہے۔جونہی طالبان اور خود کش حملہ آور انکا جانی ،مالی نقصان کرتے ہیں۔ تو امریکہ بہادر کروز میزائلوں اور ڈوزی کٹربمو ں سے بستیوں کی بستیاں تباہ کرتا جا رہا ہے۔دنیا کی ہمدردیاں ان مظلوم بے گناہ اور بے ضرر عوام الناس سے بڑھتی جا رہی ہیں۔اتحادی فوج بری طرح زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اور خوف وہ ہراس میں پھنس چکی ہے۔ اے ابن مریم کو ماننے والو! اپنے پیغمبر کی تعلیمات انکے فرمودات،انکا پیغام تو یا د کرلو۔ انکے اعمال و کردار کی طرف ایک نظر تو دیکھ لو۔ آپ نے ضرور فرعون کی طرح موسیٰ کو قتل کرتے کرتے مخلوق خدا کی مخلوق کو ختم کروا دینا ہے ۔ اور پھر خود غرق ہو جانا ہے۔رب العالمین کی مخلوق کو اس رب کی نگاہ سے تو دیکھ لو۔ شائد تمہیں اصل حقائق اور راز کی سمجھ آجائے۔
۴۰۔ جنگ بری چیز ہے۔ جنگ صرف انصاف کی میز پر بیٹھ کر ختم کی جا سکتی ہے۔جنگ کے میدان میں جنگ میں الجھے ہوئے ممالک
کی معصوم اور بے گناہ،عوام جو جنگ میں شریک نہیں بھی ہوتے۔ اور افواج کا نا قابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ان چھوٹی جنگوں کا اختتام اب ایٹمی جنگوں پر ہو گا۔جو پوری دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔اے اللہ تو اس دور کے سیا ستدانوںاورحکمرانوں کو فرعون کی عاقبت کے انجام سے بھی آگاہ فرما۔ اور انکو راہ راست کا سفر بھی عطا فرما۔ تا کہ دنیا کے ہر ملک کے معصوم ،بے گناہ اور امن پسند عوام کے قتل و غارت،ظلم و تشدد کا خاتمہ ہو سکے۔یا د رکھو۔اے اہل مغرب اپنے اعمال اور کردار کا از خود احتساب کرو۔ اگرآپ نے جدید اسلحہ تیار کر ہی لیا ہے۔ اور صنعتی ترقی میں اقوام عالم سے سبقت لے ہی گئے ہو تو انسانیت پر،ادب و خلوص ، عزت و احترام،مہر و محبت کے دروازے وا کرو۔تا کہ دنیا آپ کے لئے امن گاہ بن جائے۔ انسان اس کائنات میں جو عمل کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اسی عمل کا دروازہ آسمان پر کھول دیتا ہے۔ انسانیت پر مہربانی کرتے جاؤ گے تو آسمان مہربان ہوتا چلاجائیگا۔ اس کی مخلوق پر شفقت کرتے جاؤ گے۔ آسمان والا آپ پر شفیق ہوتا جائیگا۔اس کی کائنات کا احترام کرتے جاؤ،اس کی کائنات کا ہر ذرہ آپ کا با ادب ہوتا جائیگا۔کسی چیز سے الجھنے کی کوشش کرو گے توہر چیز آپ سے الجھتی جائیگی۔کسی سے لڑائی جھگڑا کروگے تو لڑائی جھگڑے کے نا سور اور کینسر میں مبتلا ہو کر مرو گے۔منزل پر پہنچنا ہو تو کانٹوں سے دامن بچا کر گذر جاؤ۔اے طا غو تی طاقتوں کے سربراہان یہ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا ۔ کہ زندگی تو تم فرعون کی گذارواور عاقبت تمہیں موسیٰ علیہ ا لسلام کی میسر ہو۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پیغمبران کی تعلیمات اور نور کے منور راستہ سے آشنائی عطا فرماویں۔امین۔
۴۱۔ اہل پاکستان اپنے ہمسائے مسلم ملک افغانستان کی کروڑوں عوام کو ڈیزی کٹر بموں ، کروز میزائلوں، جنگی جہازوں، تباہ کن اسلحہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تباہ کن حملوں سے تباہ ہوتے ، ان کی بستیاں ، گاؤں، مساجد، سکولز، ہسپتال،شہر ، شہر، قریہ قریہ، بستی بستی، پہاڑیوں کی چوٹیوں سے لیکر دامنوں تک، معصوم بچے، بچیوں، عورتوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، کا قتل عام اور ان کو نیست و نابود ہوتے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے اور سنتے رہے۔ موت کا وقت متعین ہے۔ جنہوں نے شہادت کا جام پینا تھا۔ وہ صاحب نصیب موت کا جام پی کر اپنی منزل سے جا ملے۔ کون ہے۔ جس کو موت نہیں آ نی۔ زندگی موت کی محافظ ہوتی ہے۔ پھر کوئی بھی اس سے بھاگ نہیں سکتا۔ جنگ کیوں لڑی گئی۔ اسکی وجوہات اور عوامل کیا تھے وہ بھی دنیا پر اور خاص کر مسلمانوں پر بالکل روز روشن کی طرح عیاں اور واضح تھے۔وہ ایک نظریاتی مسلم ریاست تھی۔ جس کا کنٹرول طالبان کے پاس تھا۔ اس کا حکمران ملا عمر ایک مسلمان تھا۔ اور وہ جمہو ریت سے نفرت اور اسلامائزیشن کے پجاری تھے۔ امریکہ اور اسکے اتحادی مغربی ممالک انکے ملک میں اپنا اثرو رسوخ اورجمہوریت کے مذہب کا نفاذ چاہتے تھے۔جس سے انکا دین، انکا قرآن و سنت کا نظام، ان کا ضابطہ حیات، ان کی تعلیمات اور ان کی طرز حیات چھیننا چاہتے تھے۔ وہ نظریاتی لوگ تھے ۔ اور وہ نظریاتی ریاست قائم کر چکے تھے۔انکے ملک کا تمام نظم و نسق اسلامی ضابطہ اور دستور کے مطا بق چل رہا تھا۔افغانستان کے نوے فیصد علاقے پر طالبان کا قبضہ تھا۔ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہو چکی تھی۔ امریکہ اور اسکے اتحادی افغانستان کے حکمرانوں اور ان کی نظریاتی ریاست کو پسند نہ کرتے تھے۔ وہ ان پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے تھے۔وہ مسلمانوں میں جمہوریت کے ذریعہ ملک میں جماعتیں تشکیل دیکر نفاق اور نفرت کی پالیسی کا نفاذ چاہتے تھے۔ جس سے کسی ملک کے نظریات، اتحاد اور اتفاق کو ریزہ ریزہ کیا جا سکتا ہے۔ جو افغانی قوم کے مزاج کے خلاف تھا۔

۴۲۔ یہاں یہ بات واضح کرنا نہایت ضروری ہے۔پاکستان میں جمہوریت کا نظام نافذ ہونے کی وجہ سے ملک میں کئی سیاسی جماعتوں کا وجود اپنے اپنے سیاسی منشوروں کے مطابق موجود ہے۔ یعنی ملک کے مسلمان عوام کتنے نظریات اور کتنی جماعتوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ جب کہ وہ ایک قرآن ایک نبی کو ماننے والے ہیں۔ ان سیاسی لیڈران کا کردار کیا ہے۔ ان کے کردار کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔کن کن سیاسی جماعتوں کی مدد و معاونت کون کون کرتا ہے اور کون کس ملک کا ایجنٹ ہے۔وہ عام آدمی بھی جانتا ہے۔ مشرقی پاکستان کیسے الگ ہوا۔ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ کس نے لگایا۔ ملک دو لخت کیسے ہوا۔ سیاسی جماعتیں حکومتیں حاصل کرنے کیلئے کیا کچھ کرتی اور ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں کیسے پھیلاتی ہیں۔یہ تمام حقیتیںہر پاکستانی پر عیاں ہیں۔ ملت میں نفاق اور نفرت جمہوریت کی آگ کی چنگاریاں ہیں۔ جو ہر وقت سلگتی رہتی ہیں ۔ اور ملک کی تباہی کا باعث بنتی چلی آرہی ہیں۔ جمہوریت کا طرز حکومت ایک ایسی دیمک ہے تو اسلام کی تعلیم و تربیت،عدل و انصاف، اخوت و محبت،ضابطہ حیات، کردار اور اسلامی تشخص کو چاٹتا چلا جارہا ہے۔ جمہوریت کے مذہب کے اعلیٰ ایوانوں کے سیاسی نمائندگان کے تیار کردہ قوانین و ضوابط کی سرکاری طور پر فرمانبرداری کرنا اہل وطن کی قانونی مجبوری بن چکا ہے ۔پاکستان میں سیاستدان اور حکمران چودہ کروڑ مسلمانوں کے دینی نظریات اور طرز حیات کو جمہوریت کی باطل تلوار سے نیست و نابود کرتے چلے آرہے ہیں۔انہوں نے بد قسمتی سے دستور مقدس کے نفاذ کو سرکاری طور پر منسوخ اور نا قابل استعمال کرکے گھروں مسجدوں میں پابند اور مقید کر رکھا ہے۔ہمارا علم،عمل،کردار جمہوریت کے مذہب کے حکمرانوں کا پابند بن چکا ہے۔ہم سبھی مسلمان اہل وطن ایک منافق کی زندگی گذارتے چلے آرہے ہیں۔ جس سے نجات حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
۴۳۔ افغانستان کے طالبان اور ان کے دینی رہنماء اور ان کے مجلس شوریٰ کے ممبران کو سلام جنہوں نے کلمہ حق پڑھ کر اپنی جانیں،اپنا مال، اپنے اقتدار کو قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ان کے اسلامی نظریات اور ان کے تحفظ کرنے کے آداب کو سلام۔ ان کو جھک کر ادب پیش کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے عزم کو سلام ، ان کے کردار کو سلام، ان کے پہاڑوں کو سلام، ان کی شہادتوں کو سلام، انکے پاکیزہ جسدوں سے پھوٹی ہوئی خوشبوؤں کو سلام، ان کے غازیوں کی عظمتوں کو سلام ،انکے حوصلہ و ہمت اور جر ات کو سلام۔ ان کے ایمان کی سلامتی کو سلام، ان کے عشق رسول ﷺ کی عقیدتوں اور محبتوں کو سلام، ان کے جان و مال قربان کرنے کو سلام، ان کے نا قابل شکست عزم کو سلام، ان کے تاریخ سازی کے عمل کو سلام، ان کے مقدر کو سلام، ان کے مجاہدین کو سلام، ان کے غازیوں کو سلام، ان کی آنے والی نسلوں کو سلام، ان کے بے تیغ جنگ لڑنے کو سلام، ان کے مشن کی فتح کو سلام، ان کی غیرت مندی کو سلام، وہ زندہ و پائندہ ہیں۔ ان کے دشمن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ وہ روزانہ جیتے ہیں اور روزانہ مرتے ہیں۔ان کی حرمت اور حریت کی عظمت کو سلام۔ان کے منافق، ظالم،سفاک،دھوکہ باز، بد کردار، دور حاضر کے تہذیب یافتہ انسانیت کے علمبرداروں کے پنجروں میں بند قیدیوں کو سلام،ان کی صداقت و شجاعت کو سلام، ان کے دشمنوں پر فطرت کی تعزیرات لگ چکی ہیں۔ وہ فطرت کے عذاب کی زد میںہیں۔نہ یہ یہودیت کے مذہب کے پیراؤ کار ہیں نہ یہ عیسائیت کے۔بلکہ یہ فرعون کی بد ترین نسل کے ظالم،بے رحم لوگ ہیں۔یہ دنیا بھر میںحضرت
موسیٰ علیہ السلام کی اولاد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مار رہے ہیں۔لیکن فطرت کا کمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولادیں انکے گھروں میں پرورش پارہی ہیں۔ وقت کے سمندر میں غرق ہونا انکا نصیب بن چکا ہے۔ عقل اور اسکی تمام تدبیریں اور ہر قسم کے عقلی حصار کسی کو موت سے بچا نہیں سکتے۔ کسی وقت بھی انکے اپنے ایٹمی پلانٹ ہی انکی مکمل تباہی کا سبب بننے کیلئے فطرت کے حکم کے منتظر کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انکو راہ ہدایت عطا فرماویں۔ اور بے گناہ مخلوق کو مکمل تباہی اور نیست و نابود ہونے سے بچائیں۔ آمین ۔