To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جمہوریت کے الیکشن۔ اسمبلیوں میں مستورات کا آزادی ء نسواں کے تحت اضافی کوٹہ۔ قومی سانحہ۔ملت اسلامیہ کی دین کے ساتھ کھلی جنگ
عنایت اللہ

۱۔ جمہوریت صرف الیکشن لڑنے۔الیکشن جیتنے۔ الیکشن ہارنے کا نام نہیں۔بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات اور ضابطہ دستور کا نام ہے۔ جس سے ملک کا نظام حکومت چلا یا جاتا ہے۔ جس کے اصول و ضوابط ،اخلاق و کردار،عدل و انصاف،نظام معاشیات ،معاشرتی اقدار اور ملک کے تمام تر انتظامی امورکو ضابطہ قانون میں ڈھالنے اور چلانے کے لئے مخصوص نصاب ترتیب دیا جاتاہے۔ حکومتی نظام کو چلانے کیلئے ماہرین تعلیم ،انتظا میہ کے منتظمین،عدلیہ کے منصفین،معاشیات کے سکالر،سیاسیات کے دانشور،بینکاری کے مدبر غرضیکہ ہر شعبے ،ہر محکمے ،ہر فیلڈ کے ادنیٰ نو کر شاہی کے اہلکار وں سے لیکر اعلیٰ افسر شاہی کے تعلیمی نصاب کو مرتب کیا جاتا ہے۔سکول ،کالج،یونیورسٹیاں اور اکیڈمیاں ملک میں قائم کی جاتی ہیں۔ جن کے ذریعہ انکی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے۔ جمہوریت کے نظام کی قانون سازی ، صوبائی،قومی اور سینٹ کے ممبران تشکیل و تکمیل کرتے رہتے ہیں۔ان قوانین و ضوابط کو ملکی سطح پرنا فذالعمل کرکے حکمران حکومتیں چلاتے چلے آ رہے ہیں۔ ممبران اسمبلی وقتا فوقتانئے قوانین ،نئے ضابطے حسب ضرورت تشکیل دے کران میں تر ا میم اور ردو بدل کرتے رہتے ہیں تا کہ گورنمنٹ کا کام احسن طریقہ سے چلتا رہے۔
۲۔ اس حکومتی نظام کو چلانے کیلئے اردلی سے لیکر کمشنر تک اور کمشنر سے لیکر سیکرٹری تک ،سپاہی سے لیکر آئی۔جی تک اور آئی۔جی سے لیکر سیکرٹری تک۔پیادہ سے لیکر سول جج اور سول جج سے لیکر سیشن جج تک۔سیشن جج سے لیکر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے لیکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک۔سپریم کورٹ کی عدالت سے لیکرسیکرٹری قانون تک۔اسی طرح ملک کے تمام محکموں کے اردلی سے لیکر سیکرٹریوں تک کے ادنیٰ طبقہ کے اہلکاروں سے لیکر اعلیٰ طبقہ کے ارکان تک حکومتی نظا م کو چلانے کیلئے تربیت یافتہ ارکان کی ضرورت پڑتی ہے۔ ملکی سطح پر ان کو تیار کرنے کیلئے انکی تعلیم و تربیت کرنے کیلئے پرائمری سے لیکر پی۔ایچ۔ڈی تک سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور اکیڈمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔حسب ضرورت مغربی تعلیم کے ماہرین جمہوریت کے مذہبی نظام کو چلانے کے لئے تعلیمی نصاب کو متعین کرتے رہتے ہیں۔ جس سے نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی اور ملک کے تمام محکموں اور تمام شعبوں یعنی انتظامیہ ،عدلیہ، معاشیات کے سکالر اور ہر شعبہ کے دانشور،مدبر اور مفکر تیار کئے جاتے ہیں۔اسکے علاو ہ چودہ کروڑ عوام الناس کی بھی انہی بنیادوں پر تعلیم و تربیت کر کے معاشرے کی تشکیل و تکمیل کا عمل جاری ساری رہتا ہے۔ تاکہ حکومتی نظام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں کوئی دقت نہ ہو۔
۳۔ ہمارے سیا ستدان ، ہمارے حکمران ،ہماری نوکر شاہی، ہماری افسر شاہی ،منصف شاہی اس کے علاوہ ملک کے تمام کارو باری ادارے اور چودہ کروڑ عوام مغربی تہذ یب و تمدن،اخلاق و کردار،بود و باش مخصوص تعلیم و تربیت اور جمہوریت کے نظام میں ڈھالنے والا مخصوص تعلیمی نصاب اور انہی کے طرز کے تعلیمی اداروں ، سکولوں، کالجوں،یونیورسٹیوں،اکیڈمیوںسے تیار ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ ملک کے تمام سکالروں،دانشوروں،مدبروںاور مفکروں کا فکری اور نظریاتی شعور مغرب کے دانشوروںکے ز یر اثر عیسائیت،یہودیت اور ہندو ا ز م کے تعلیمی نصاب اور انکے نظریات کی روشنی میں تربیت پاتا اور پروان چڑھتا چلا آ رہا ہے۔ ملک میں ہر قسم کی عز ت و عظمت کی خلعتیں انکے سکالروں، مدبروں، دانشوروں، مفکروں،ٹی وی کے ادیبوں اور فنکاروں کے لئے مختص ہو چکی ہیں۔
۴۔ یہ جاگیر دار ،یہ سرمایہ دار، یہ سیاستدان،یہ حکمران اور انکے جمہوری نظام کے ماہرین پر مشتمل نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی او ر ملک کی تمام معاشی اور معاشرتی اقدار ہمیں ورثہ میں ملتی چلی آ رہی ہیں۔پاک و ہند انگریزوں کا ایک مفتو حہ ملک تھا۔ مفتوحہ اقوام۔ عوام۔ ملک۔ملت کے ساتھ جس قسم کا کوئی فاتح ان پر نظام یا سسٹم انکو مقید رکھنے کیلئے مسلط یا رائج کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل میں نہ کوئی انکو روک سکتا ہے او ر نہ ہی کسی قسم کی مداخلت کر سکتا ہے۔ہندوستان بھی انگریزوں کا مفتوحہ ملک تھا۔تقریبا ایک سو سال تک انہوں نے اس ملک پر حکومت کی۔ مفتوحہ قوم کو غلامی کے آداب سکھائے۔ غلامانہ طرز حیات کو اپنانے کے لئے عوام الناس کے ذہنوں کی برین واشنگ کی۔جبر اور ظلم کے ساتھ غلامانہ ذہنیت کی پرورش کی۔ ا ن کو مقید رکھنے کے لئے ایک مخصوص قسم کا ظالمانہ ضابطہ حکومت ترتیب دیا۔تھانے اور کچہریوں کے محکمے اس نظام کو چلانے کیلئے قائم کئے۔ معاشرتی طبقاتی نظام،معاشی طبقاتی نظام،طبقاتی تعلیمی نظام، طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی ادارے،طبقاتی تعلیمی نصاب،طبقاتی نوکر شاہی،طبقاتی افسر شاہی، طبقاتی منصف شاہی،طبقاتی جاگیرداری سسٹم،طبقا تی سرمایہ داری سسٹم ، طبقاتی سیاستدان اور طبقاتی حکمران۔یہ سب غلامی کی زنجیریں تھیں۔ جن کے ذریعہ غلامی کا طوق اور اذیت ناک نکیل چودہ کروڑ مسلمانوں کو ڈال کر بد ترین غلاموں کی طرح مقید کر رکھا تھا۔خرکاروں کی طرح تشدد سے کام لیا جاتا اور کیوبا کے قیدیوں کی طرح بھوک اور فاقہ سے دو چار کر دیا جاتا۔یہ ظالم سسٹم ،یہ غاصب نظام جوں کا توں ۱۹۴۷ ء سے لیکر آج تک جاری و ساری ہے۔
۵۔ انگریزوں نے ہند و پاک کے لوگوں کی نفسیات کو پڑھا اور پرکھا۔ انکی خوبیوں خامیوں کا بغور مشاہدہ کیا۔ انہوں نے اپنی جڑیں عوام تک پھیلانے اور مضبوط کرنے کیلئے تمام عوامل و محرکات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس ملک کے رہنے والوں کی وفائیں خریدیں۔انکے بدلے انکو جاگیریں اور وظائف عطا کئے۔جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام انہو ںنے ملک پر مسلط کیا۔ ان کو کسی حد تک اقتدار میں شامل کر لیا۔انگریز انکی مدد و معاونت سے ایک صدی تک ہندوستان کی سر ز مین پر غاصبانہ قابض رہے۔ انگریزوں نے ان غداروں اور غاصبوں کو نچلی سطح سے لیکر اعلیٰ سطح تک حکومت میں شامل کیا۔پھر اپنی مرضی اور منشا کے تحفظ کے لئے ان پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ گلی۔محلہ سے لیکر یونین کونسل تک،یونین کونسل سے لیکر تحصیل تک اور تحصیل سے لیکر ضلع تک حلقہ بندیاں قائم کیں۔ چھوٹے ممبران سے لیکر ایم۔پی۔اے۔تک اور ایم۔پی۔اے سے لیکر ایم۔این۔اے تک کا چناؤ بذریعہ الیکشن جمہوریت کے نظام اور طریقہ کار کے تحت کرواتے۔اسطرح انکو حکومت میں شامل کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتے رہے۔
۶۔ گلی ، محلہ سے لیکر۔یونین کونسل۔تحصیل اور ضلعی حلقہ بندیوں کے مطابق ہر سطح پر با ا ثر اور سرکردہ افراد پر مشتمل ممبران کا چناؤ کرکے اپنی جڑوں کو انہوں نے پورے ملک میں پھیلا دیا۔ انتظامیہ اور عدلیہ کا ظالم اور غاصب نظام اپنی گرفت کو مضبوط رکھنے کیلئے قائم کیا۔ اس کے مطابق تھانے اور کچہریوں کا نظام ترتیب دیا۔جہاں عدل و انصاف کے نام پر ظلم و ستم ہر قسم کا تشددکیا جاتا۔ بیگناہ لو گوں پر جھوٹے مقدمے تیار ہوتے ۔ انکے مطابق جابر،ظالم ،بے رحم جج فیصلے دیکر کڑی سزائیں سناتے۔اسطرح وہ ایک صدی تک انکے تعاون سے ہند وپاک پر راج کرتے رہے۔انگریز حکمرانوں کا تخلیق شدہ ایک نظام حکو مت تھا ،جو ایک مفتوحہ قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے اور بالخصوص مسلمانوں کو نظریاتی تعلیم اور تربیت سے دور رکھنے،انکے کردار کو مفلوج کرنے کیلئے نافذ کیا گیا تھا۔یہ جمہوریت کا نظام ملت اسلامیہ پرتقریبا ایک صدی تک انگریزوں نے مسلط رکھا۔ اس غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے آزادی کی تحریک ہندوستان میں چلی۔دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان معرض وجود میں آیا۔پاکستان کا مطلب کیا لا ا لہ الا اللہ محمد الرسو ل اللہ کے نظریاتی جھنڈے تلے مسلمانوں نے جمع ہو کر پاکستان حاصل کیا۔۱۹۴۷ ء کو پاکستا ن دنیا کے نقشہ پر ایک اسلامی ملک بن کر ابھرا۔ اس کا آئین تیار ہوا۔پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام مقرر ہوا۔دستور مقدس کے مطابق ملکی نظام حکومت چلانے کا فیصلہ پاکستان کے آئین میںموجود ہے۔ جسکا کوئی پرسان حال نہیں۔
۷۔ پاکستان کو آزاد ہوئے ۵۵ سال کا ایک طویل عرصہ گز ر چکا ہے۔لیکن بد قسمتی سے ابھی تک انگریزکا مسلط کیا ہوا طبقاتی تعلیمی نظام ، طبقاتی تعلیمی نصاب،طبقاتی تعلیمی ادارے اور ان اداروں سے تیار ہونے والی نوکر شاہی ،افسر شاہی،منصف شاہی ا نگریزوں کے دور کی طرح سرکاری فرائض ادا کرتی چلی آرہی ہے۔مغربی قوانین اور ضوابط پر مشتمل جمہوریت، سودی یہودی معاشی نظام اور ہندو ازم کا طبقاتی نظام ملک میں ۱۹۴۷ ء سے لیکر آج تک اسی طر ح قائم و دائم ہے۔ بلکہ ترقی کی کئی منازل طے کرتا چلا آرہا ہے۔ انگریزوں کے پروردہ جاگیر دار،سرمایہ دا ر، رائل طبقہ جمہوریت کی کنگڈم پر پہلے سے کہیں بہتر قابض اور مسلط ہو چکا ہے۔
۱۔ کیا ہم نے پاکستان لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کے ضابطہ حیات کے تحت ز ندگی گذارنے اور دستور مقدس کو ملک میںرائج کرنے کے لئے حاصل کیا تھا یا انگریزوں کے باطل،غاصب،ظالم بے دین جمہوریت کے نظام کو قائم کرنے کیلئے آزادی حاصل کی تھی۔
۲۔ کیا یہ ملک سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل جاگیر داروں اور سر مائے داروں کے انگریز کے مروجہ باطل،غاصب غیر اسلامی جمہوریت کے طریقہ کار کے تحت الیکشنوں میں حصہ لینے اور چودہ کروڑمسلمانوں کوبے دین جمہوریت کا کلمہ پڑھنے اور اسکے قوانین و ضوابط کی اطاعت کرنے کیلئے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا یا اسلامی دستور مقدس کے نفا ذ اور اسلامی طرزحیات اپنانے کے لئے یہ جانی مالی عظیم قربانیاں دی تھیں۔
۳۔ کیا ہم نے انگریزوں سے آزادی اس لئے حاصل کی تھی۔کہ ہم ان بے دین اسلام دشمن جمہوریت کے سیاست دانوں، حکمرانوں اور غیر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرپٹ۔رشوت خور ،بد دیانت،بد کردار نوکر شاہی، افسر شاہی، منصف شاہی کی فوج مغربی دانشوروں کے طبقاتی تعلیمی نصاب اور طبقاتی تعلیمی اداروں سے جمہوریت کی انتظامیہ اور عدلیہ کے فرعونی نظا م کو چلانے والی نسلوں کو پیدا کرتے چلیں گے۔ ۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فیصد مز دوروں ،محنت کشوں،ہنر مندوں کے پیدا کردہ وسائل، دولت ، خرانہ اور حقوق یہ ایک فیصد مغربی تہذیب کے شاہکار اور بے رحم سرکاری ٹولہ خون پسینے کی کمائی کو حق داروںکے ہاتھ سے یوں چھینتا پھرے گا۔
۴۔ کیا ہم نے ۱۸۵۷ ء کے ایکٹوں کے تحت برٹش لا، امریکن لا،انڈین لا اور پاکستان کی اسمبلیوں او ر عدا لتوں کی ترمیموں سے عدل و انصاف کے اداروں کو مفلوج نہیں کر رکھا۔پاکستان لا جنرل۔ پاکستان لیگل ڈسیژنز۔سپریم کورٹ منتھلی ریویو۔ منتھلی لاڈائجسٹ۔ پاکستان کریمینل لا جنرل۔سول لا کیسز۔نیشنل لارپورٹر۔کراچی لاڈائجسٹ۔ سول لا ججمنٹس۔ان رپورٹیڈ کیسز۔کریمینل لا ججمنٹس۔ لانوٹس۔ اپیل کیسز۔شریعت ڈیسیز ن وغیرہ وغیرہ کی منتھلی پرانی اتھارٹیاں اور قوانین ختم ہوتے اور نئے جنم لیتے چلے آرہے ہیں۔ یہ تمام قومی اسمبلیوں کے ممبران او ر عدلیہ کے جسٹس ہر روز حکومتیں اور قانون بدلتے چلے آ رہے ہیں۔ ممبران حکومتیں فروخت کرتے اور جسٹس عدل و انصاف فروخت کرتے چلے آرہے ہیں۔ ا ن قانونی فیصلوں کی قانونی کتابیں با قاعدگی سے ہر ماہ شا ئع ہوتی جارہی ہیں۔ جن پر کروڑوں روپوں کے اخراجات ملک و ملت کو برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔کیا ہم نے یہ ملک اس باطل نظام، غاصب سسٹم کو رائج کرنے کیلئے بنایا تھا۔کیا ہم نے اپنی تعلیمی درسگاہوں کو پرائمری سے لیکر پی۔ایچ۔ڈی تک اسی نظام اور سسٹم کے بے دین۔ بے نور۔ عدل کش سکالر،دانشور،مدبر اور مفکر پیدا کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ اور آ نیوالی نسلوں کو اس باطل ،غاصب اور کفر کی آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ کیا حضور نبی کریمﷺ کی شان اور تعلیمات مغربی سکالروں، دانشوروں کی جمہوریت کے نظام اور تعلیمات سے نعوذ باللہ واقعی گھٹیا ہے۔کیا یہ نظام اور سسٹم ملت کی نظریاتی اقدار اور تعلیم و تربیت کو مسخ کرتا نہیں جا رہا۔کیا اس نظا م کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے اور سرکاری سطح پر رائج کرنے کے بعد ہم مسلمان کہلا سکتے ہیں۔
۵۔ کیا ہم نے سودی یہودی معاشیات کی تعلیم و تربیت اپنے سر کاری تعلیمی اداروں میںسودی یہودی معاشیات کا تعلیمی نصاب پڑھانے ،سکھانے اور سرکاری طور پر عمل کرنے کیلئے یہ ملک بنایا تھا۔ کیا ہم اپنی مسلمان نسل کا کردار یہو دی سکالروں کے نظریات میں تبدیل کرتے چلے نہیں آ ر ہے۔ کیا اس دین کے منافی ان الیکشنوں میں ایک مسلمان کو اپنا ووٹ ڈالنا جائز ہے۔
۶۔ کیا ہم نے ہندو ازم کا طبقاتی نظریہ مسلمانوں پر مسلط رکھنے، برہمن اور شودر کی تفریق پیدا کرنے کیلئے یہ ملک بنایا تھا۔کیا ہم پاکستان میں طبقاتی سرکاری نظام،طبقاتی تعلیمی نظام، طبقاتی تعلیمی نصاب، طبقاتی تعلیمی ادارے اور طبقاتی معاشرہ کے بے دین سکالر، دانشور، مدبر تیار کرنے کیلئے تمام مالی ، جانی اور ہجرت کی اذیتیں برداشت کی تھیں۔کیا اہل پاکستا ن ان دین کے منافقوں، غدار جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سیاستدانوں، حکمرانوں کو اسلام کے خلاف الیکشنوں کے ذریعہ ہندو ازم کے نظریات کا مذہب سرکاری طور پر مسلط کرنے کی مزید اجازت دینا چاہتے ہیں۔
۷۔ جمہوریت کا طرز حکومت مغر ب کے دانشوروں کی تخلیق ہے۔جو اسلام کی روح کے صرف منافی ہی نہیں بلکہ بالکل متضاد ہے۔ اس نظا م کی پیروی کرنے سے کیامسلمان مسلمان رہ جاتاہے۔ یہ حکومت الیکشن کے ذریعہ معرض وجود میںآ تی ہے جہاں گدھے گھوڑے کا ووٹ برابر ہوتا ہے۔اسلام میں سیلیکشن کے ذریعہ نیک،صالحہ ،پرہیزگار، متقی،سادہ زندگی بسر کرنے والے،ایماندار ،خوف خدا اور دیندار افراد کا چناؤ عمل میں لایا جاتا ہے۔ اسطرح جو مجلس شورٰی تیار ہوتی ہے۔ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں عدل و انصاف کے تحت ہر قسم کا فریضہ ادا کرتی ہے۔اہل محلہ،اہل علاقہ،اہل حلقہ کا کوئی فرد کسی قسم کی اگر کوئی کمی بیشی دیکھتا ہے تو وہ انکے فیصلہ کے خلا ف ہر وقت حاضر ہو کر اپنا نقطہ نظر اور اپنے اعتراضات پیش کر سکتا ہے۔ اس نظام میں یہ ممکن نہیں کہ۷۰ فیصد کسانوں اور۲۹ فیصد مزدوروں کا مال و متاع،انکے پیدا کردہ وسائل، ملکی خزانہ،ملکی دولت ایک فیصدی دہشت گرد چا ٹ جا ئیں۔ جمہوریت کا یہ نظام عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم کے نظریات ، مذاہب پر مشتمل ہے جو پاکستان کے چودہ کروڑ عوام پر ان مغرب کے ایجنٹوں نے سرکاری طور پر مسلط کر رکھا ہے۔ ملت پاکستان ۱۹۴۷ ء سے بہت بڑے سانحہ سے گذر تی چلی آ رہی ہے۔ چودہ کروڑ پاکستانی مسلمانوں کا سرکاری فرعونی مذہب ملک کے سیاستدانوں،حکمرانوں اور ان کے عیسائی،یہودی اور ہندو سکالروں، دانشوروں، مدبروں نے جمہوریت کے نام پر نافذاور قائم کر رکھا ہے۔جبکہ پاکستانی آئین کے مطابق اس ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ان مغربی ایجنٹوں سے مسلمانوں کی اصل میراث واپس لینا از حد ضروری ہو چکا ہے۔
۸۔ کیا آپ جمہوریت کا نظام اور بے دین نظام حکومت اور ان بد قماشوں، رہزنوں، معاشی قاتلوں،وحشی بھیڑیوںاور ملک کو دو لخت کرنے والے غداروں کے سیاسی ٹولے کو ایک بار پھر بذریعہ الیکشن اس ملک کی راج دھانی ان معاشی قاتلوں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔ کیا پاکستان اسلام آباد،لاہور،کراچی ا ور تمام اندرون ملک اور بیرون ممالک بڑے بڑے شہروں میں پھیلے ہوئے ایک فیصد جاگیر داروں، سرمایہ داروں، نوکر شاہی، افسر شاہی، منصف شاہی کے رائے و نڈ ہاؤسز،سرے محلوں کاایک ملک ہے۔ کیا پاکستان اس ایک فیصد دہشت گردوں کی پیجارو ،مرسیڈیز ، لینڈ کروزر اور اعلیٰ اقسام کی دوسر ی رشوت، کرپشن اور لوٹ مار کے ہارن بجانے والی گا ڑیوں کا نام ہے۔کیا پاکستان ملک میں پھیلے ہوئے اسمبلی ہالوں کانام ہے۔ کیا پاکستان میں پھیلے ہوئے کنوینشن ہالوں، ایم۔این۔ اے ہاسٹلز، ایم۔ پی۔ اے ہاسٹلز، پنجاب ہا ؤس،کشمیر ہاؤس،فرنٹیر ہاؤ س ، بلوچستان ہاؤس اور اندرون ملک اور بیرون ممالک لا تعداد ریسٹ ہاوٗسز کی سپر نیچرل مخلوق کے کلبوں کا نام ہے۔پاکستان سپریم کورٹ بلڈنگ،ہائی کورٹ بلڈنگز،وزیر اعلیٰ، گورنروں، وزیر اعظم ہاؤسز،صدر ہاؤس کانام نہیں۔بلکہ یہ تو ۷۰ فیصد غریب،مسکین کسانوں ،۲۹ فیصد معاشی مقتول محنت کشوں، پژ مردہ ہنر مندوں اور بے بس، مجبور،مظلوم، محکوم اور خود کشیاں اور خود سوزیاں کرنے والے تنگ دست اور بیروز گار عوام کا ملک ہے۔
۹۔ کیا ہم نے پاکستان ان جمہوریت پسند ایک فیصد سمگلروں، بلیکیوں،معا شی دہشتگردوں، کرپٹ نوکر شا ہی، رشوت خور افسر شاہی، بد دیانت بریف کیس مافیہ پر مشتمل منصف شاہی،ملک توڑنے والے جمہوریت کے پجاری سیاستدانوں، ملکی وسائل ، قومی خزانہ کی امانتیں لوٹنے والے حکمرانوں اور انکی تعلیم و تربیت کرنے والے غیر اسلامی، غیر دینی ، طبقاتی تعلیمی ادارے،طبقاتی تعلیمی نصاب اور طبقاتی تعلیمی نظام، جس سے عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم کے نظریات کے سکالر،دانشور اور مدبر تیار کرنا اوراس غیر اسلامی تعلیمی مافیا کو ملک میں رائج کر کے ۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فیصد مزدوروں ،محنت کشوں،ہنر مندوں،عوام الناس کو دین اور دنیا سے محروم کرنے کیلئے بنایا تھا۔
۱۰۔ کیا پاکستان ہم نے اسلام کی روشنی میں عدل و انصاف، مساوات کو قائم کرنے،دین کی روشنی میں ایک تعلیمی نصاب مرتب کر کے ملک میں اسکو نافذ ا لعمل کرکے اسلامی کردار تیار کرنا تھا یا اسلام کے نظریات کو ختم کرکے اور جمہوریت کے باطل،غاصب نظام کیلئے یہ ملک حاصل کیا تھا۔کیا یہ ملک کے تمام جمہوریت کے نظام کو چلانے والے اعلیٰ طبقاتی تعلیمی ادارے ان معاشی دجالوں ،سیاستدانوں، حکمرانوں اور انکی اولادوں کیلئے وقف ہیں۔
۱۱۔ کیا ملک کے۷۰ فیصد کسان زمین کا دل چیر کر او ر چودہ کروڑ عوام کو گندم ، مکئی، چاول، باجرہ، جوار، جو ، گڑ، شکر، چینی، کپاس، پٹ سن، چنے ، دالیں، اور طرح طرح کی سبزیاں ان گنت قسم کے پھل ، بے شمار میوہ جات، مہیا نہیں کر رہا۔ کیا یہ کسان ملک میں دودھ کی نہریں، جاری نہیں کر رہے۔ کیا کسان مرغی، انڈے، چھوٹا گوشت، بڑا گوشت، کھالیں، پیدا کرکے ملکی ضرورتوں کو اور صنعتوں کو چلانے کیلئے خام مال مہیا نہیں کر رہا۔
۱۲۔ کیا ۲۹ فی صدی مزدور ، ملک میں صنعتی انقلاب پیدا نہیں کر رہا۔ ملک کی تمام ملیں، فیکٹریاں، کارخانے ہر قسم کی صنعت کی یونٹ لگاتا اور چلا تانہیں آ رہا۔ کیا مزدور ڈیم، نہریں، کنوئیں، ٹیوب ویلوں اور سڑکوںکے جال ملک میں نہیں پھیلا رہے۔ کیا مزدور اور کسان ملک کے ہر شعبے میں دن رات محنت و مشقت کرکے را میٹریل اور پیداوار وافر مقدار میں پیدا کرکے ملک کا زر مبادلہ ،ملکی وسائل اور ملکی خزانہ نہیں بھرتے رہتے۔
۱۳۔ کیا ملک کی سوئی سے لے کر ایٹم بم تک، ایٹم بم سے لے کر میزائیلوں تک ان کی محنت کا ثمر نہیں۔ کیا ملک کی رائفل سے لے کر توپوں تک ، بکتر بند گاڑیوں سے لے کر ٹینکوں تک ملک کے ڈیفنس کی اہم ضروریات یہ مخلص اور پر عزم طبقہ مہیا کرتا نہیں چلا آ رہا۔ کیا وہ معدنیات ، تیل، گیس،سونا،تانبا،نمک،چونا،قیمتی پتھر، سنگ مرمر اور کوئلہ حاصل کرنے کے لئے ٹھوس، سخت پتھروں، اور محکم پہاڑوں کے سینے پھاڑنے اور مقصد گوہر کو دستیاب اور حاصل کرنے کے لئے ہر وقت تیار نہیں رہتا۔ کیا وہ ملک کی سڑکیں موٹر وے ، ہوائی اڈے، جہاز، ہیلی کاپٹر ، پجارو، مرسیڈیز، لینڈ کروزرز، چھوٹی بڑی ہر قسم کی موٹر سائیکل ، کاریں،وین، بسیں، ٹرک، ٹرالے، انہی کے خون پسینے سے کمائی ہوئی مال و دولت اور زر مبالہ سے خریدی نہیںگئیں۔ کیا غیر اسلامی اور بے دین جمہوریت کے غاصب قوانین کی تلوار سے ان ظالم،سفاک،بے رحم،رہز ن جاگیر داروں ، سرمایہ داروں، سیاستدانوں ،حکمرانوں اور انکے مغربی تہذیب کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوںاور اکیڈمیوں کے تیار کردہ عدل کش نظام اور سسٹم کے قانون سازوں، دانشور وں، سکالروں، مدبروں نے ان۷۰فیصد کسانوں، ۲۹ فیصد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں اورعوام الناس کی تمام کی تمام مال و متاع،دولت اور بیت المال کولوٹتے نہیں جا رہے۔کیا ان دہشت گردوں ،معاشی اور معاشرتی قاتلوں کو ایک بار پھر جمہوریت کے بے دین نظام کے الیکشنوں میں ووٹ ڈال کر آپ خدا اور رسولﷺ کے خلاف جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ اے چودہ کروڑ اہل وطن مسلمانو! ۷۰ فیصد کسانو! اور ۲۹ فیصد مزدورو!،محنت کشو! ،ہنر مندو ! اور مختلف پیشوں سے منسلک مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت نہ دو۔ان ایک فیصد دہشت گرد بے دین جمہوریت پسند ٹولہ کی بد کرداری اور بد بختی کے جلائے ہوئے جہنم کی آگ کو اسلامائزیشن کی اجتماعی رحمتوں کی بارش سے ٹھندا کر دو۔اس سے سب کی نجات ہو جا ئیگی ورنہ کشمیر ، چیچینیا، افغانستان بوسنیا،کوسوو،فلسطین کا حشر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ الیکشن میں حصہ لیکر خدا اور رسولﷺ کے خلاف کھلم کھلی جنگ لڑنا کہاںتک درست ہے۔
۱۴۔ کیا ۷۰ فی صد کسانوں اور ۲۹ فی صد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں، اور عوام الناس کی اولادیں، دیہاتوں میں کھیتی باڑی کا کام،دفتروں میں چپڑاسی، دفتری، چوکیدار، ڈرائیور، مالی، ماشکی، بھنگی، سپاہی، گن مین ،کلرک وغیرہ سرکاری اور غیر سرکاری ، اداروں میں یہ طبقاتی اور معاشرتی شودر بد ترین غلاموں سے زیادہ بہتر کام کرتے نہیں چلے آ رہے۔ کیا محنتی ، جفا کش،ایماند ار ، متقی، پرہیز گارانسانی شکل میں ربو بیت کے فرائض ادا کرنے والا کسان ایک دیوتا کی حیثیت سے کھیتی باڑی کرکے ہر قسم کی خوراک کی پیداوار مہیا نہیں کرتا چلا آرہا۔اور تلخیء دوراں سے بے نیاز،محنت کے خوگر مزدور، جمہوریت کے غاصب نظام کے کچلے ہوئے محنت کش،اور اپنے فن کے لا جواب ہنر مند، ملک کی صنعتی انڈسٹری کی تعمیر و ترقی کو چار چاند لگاتے نہیں چلے آرہے۔ کیا یہ بیمثل و بے مثال اعلیٰ کردار کے شاہکار پاکستان کی مصنوعات کا بہترین معیار اور وافر سٹاک مہیا کرتے چلے نہیں آ رہے۔کیا یہ ملکی دولت اور زر مبادلہ کمانے میں کوئی کمی یا کسر چھوڑتے ہیں۔ کیا یہ ۷۰ فی صد کسان ، اور ۲۹ فی صد مزدور، محنت کش، ہنر مند، ملک کے لئے ہر قسم کا را میٹیریل اور ضروریات زندگی وافر مقدار میں دن رات محنت کرکے مہیا نہیں کرتے چلے آرہے۔ کیا ۲۹ فی صد مزدور صنعتی انقلاب ، اور صنعتی مصنوعات ملک کی ضرورت سے وافر مہیا نہیں کرتے چلے آ رہے۔کیا یہ زندگی کے ہر شعبہ میں تعمیر و ترقی کے فرائض دلجمعی اور احسن طریقہ سے ادا نہیں کرتے آ رہے۔ کیا وہ یا ان کی اولادیں اس خون جگر سے کمائی ہوئی دولت اورمحنت و مشقت سے اکٹھا کیا ہوا خزانہ، طویل جد وجہد سے تیار کئے ہوئے وسائل سے استفادہ حاصل کر رہی ہیں یاورثے میں ملے ہوئے انگریزوں کے پروردہ جمہوریت کے جاگیر دار ، سرمایہ دار ، سیاست دان ، حکمران، ان کی افسر شاہی ، نوکر شاہی، اور منصف شاہی کے معاشی دہشت گرد اور ظالم غاصب یہودی ایجنٹ یہ تمام کی تمام ملکی دولت،خزانہ اور انکی محنت کی کمائی اپنی عیش و عشرت کی عدل کش زندگی گذارنے کے تصرف میں بڑی بے رحمی سے لاتے نہیں چلے آرہے ہیں۔
۱۵۔ کیا ملک کی تمام دولت ، تمام ذرائع آمدن، تمام وسائل ، تمام خزانہ، تمام زر مبادلہ، ملک کی تمام سرکاری بلڈنگیں، دفاتر، وزیر اعظم ہاؤس، صدر ہاؤس، سپریم کورٹ بلڈنگ، کنونشن ہال، کشمیر ہاؤس، پنجاب ہاؤس ، فرنٹیئر ہاؤس، بلوچستان ہاؤس ، تمام ڈی سی ہاؤسز، کمشنر ہاؤسز، سیشن جج ہاؤسز، ہائی کورٹ بلڈنگز اورریسٹ ہاؤسز، تحصیل آفسز، ملک میں پھیلے ہوئے ضلعی سطح پر تمام سرکاری دفاتر اور ریسٹ ہاؤسز، بیرون ممالک تمام سرکاری دفاتر پر مشتمل بلڈنگیں اور سفیر ہاؤسز، وال ٹو وال قیمتی قالین،لا جواب اور نایاب قسم کا ساز و سامان، انکی شاہی رہائش گاہیں ،بیشمار ٹیلیفون،پنکھے ، دلہن کی طرح سجے سجائے سازو سامان پر مشتمل یہ سرکاری بلڈنگیں،ائیر کنڈیشنڈ دفاتر، اور دفتروں میں آرام کیلئے چیمبر سرکاری سکول، کالجز، یونیورسٹیاں ، اکیڈمیاں، سرکاری گاڑیاں، سرکاری ڈرائیور، سرکاری اردلی ، سرکاری چوکیدار ،سرکاری مالی،سرکاری گن مین،سرکاری ٹیلی فون، اور ہر قسم کی سرکاری املاک ، اور ملک میں پھیلی ہوئی ہر سرکاری چیز اور انکا تمام عیش و عشرت کا سازو سامان ان کسانوں،مزدوروں،محنت کشوں ،ہنر مندوں،اور ہر شعبہ میں کام کرنیوالے کارکنوں[L:8] کی ملکیت ہیں یا نہیں۔ ان مالک کسانوں اور وارث مزدورں،محنت کشوں،ہنر مندوں اورعوام الناس کو سیاست اور الیکشن کے ذریعہ ہیپٹینائز کر کے ملک میںرائج غیر اسلامی،بے دین، مغربی سکالروں، دانشوروں کا تیار کردہ جمہوریت کا طرزحکومت قائم کر رکھا ہے۔ سرکاری خزانہ پر ہر لمحہ ، ہر وقت ،ہر روز، یہ رہزن ڈاکے مارتے اور درندوں کیطرح معاشی قتل عام کئے جا رہے ہیں۔ انکا شاہانہ شاہی اخراجات اور نادر شاہی تصرفات ملک کی دولت خزانہ اور تمام وسائل اور اندرونی بیرونی قرضے نگلتے اور دیمک کی طرح چاٹتے چلے جا رہے ہیں۔ انکے باطل اور غاصب کالے قوانین، کالے نظام کالے جاگیرداروں، کالے سرمایہ داروں،کالے سیاستدانوں، رو سیاہ حکمرانوں نے ملکر انکا تمام کا تمام مال و متاعِ،دین اور دنیا کا انمول سرمایہ یہ راہزن پچھلے ۵۵ سالوں سے ان سے چھینتے اور لوٹتے چلے آ رہے ہیں۔ اسکے علاوہ انہوں نے اصل دولت ملت اسلامیہ سے اسلامی نظریہ،اسلامی طرز حکومت، اسلامی عدل و انصاف،اسلامی تعلیم و تربیت،اسلامی ا صول و ضوابط ، اسلامی معاشی نظام،اسلامی ضابطہ حیات اور دستور مقدس کی نورانی تعلیمات کو سرکاری سطح پر منسوخ کرکے اہل وطن مسلمانوں کو قرآن و سنت سے الگ تھلگ کر رکھا ہے۔ انکا نظریاتی قتل عام کیا جا رہا ہے۔کیا آپ ان نظریاتی اور معاشی قاتلوں کو ملت اسلامیہ کی تباہی اور بربادی کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے بذریعہ الیکشن ایک بار پھر حکومت دینا چاہتے ہیں اور ملک کو مزید تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کے مختلف منشوروں کے خالقوں کی وزارتوںکی جنگ اورحکومتیں تشکیل دینے کیلئے ملکی خزانہ ایک بار پھرداؤ پر لگانا چاہتے ہیں۔ ان تمام بیماریوں کا علاج صر ف دستور مقدس کے نفاذسے ہی ہو سکتا ہے۔ خدا کرے کہ آپ ایسا کریں۔امین۔
۱۶۔ کیا ملک کے تمام سرکاری ملازم چپڑاسی سے لے کر کمشنر تک پیادہ سے لے کر سول جج ، سینئر سول جج ، ایڈیشنل سیشن جج، سیشن جج، ہائی کورٹوں کے تمام جج ، سپریم کورٹ کے ججوں سے لے کر چیف جسٹس سپریم کورٹ تک ہر محکمہ کے ادنیٰ ملازم سے لے کر اعلیٰ ملازم تک ، فوج کے بٹ مین سے لیکر سی۔این۔ سی تک ، سپاہی سے لے کر ڈی ایس پی، ایس پی، ایس ایس پی ، ڈی آئی جی، آئی جی، ہوم سیکرٹری اور ملک کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے تمام کے تمام ملازمین ان ۷۰ فی صد کسانوں اور ۲۹ فی صد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں اور چودہ کروڑ عوام کے ملکی انتظام اورسسٹم چلانے کیلئے یہ تمام لوگ اردلی سے لے کر وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم صدر پاکستان، تک یہ تمام لوگ ان کے ملازم نوکر، اور خادم ہیں یا نہیں۔ کیا سرکاری خزانہ ان کسانوںاور مزدوروں کی ملکیت نہیں، کیا تمام وسائل صنعتی مصنوعات تمام کارخانے اور تمام اداروں کے ملازمین ان کے نوکر اور خادم نہیں ہیں۔کیا ملکی خزانہ انکی امانت نہیں۔کیا حکمران اس خزانہ کے امین نہیں۔کیا ایسے امانت خور پو ری قوم کے مجرم نہیں۔کیاسیاسی جماعتیں الیکشنوں میں کامیابی کے بعد اپنے مجرم رہنماؤں کوجرموںسے پاک کرکے ملک میں دوبارہ لے کر نہیںآئینگی۔کیا جرائم ملک میں ایسے ہی ختم ہوتے اور پروان چڑہتے رہیںگے۔یا اللہ ہمیں ان ظالموں سے نجات عطا فرما۔امین۔ کیا یہ ملکی، ملی، معاشی، معاشرتی دہشت گرد نہیں۔ کیا یہ حکمرانی کے قابل ہیں۔


۱۷۔ کیا ملک کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سیاست دانوں، حکمرانوں، ان کے نظام پر مشتمل حکومت چلانے والے ، افسروں، منصفوں، اور ملازموں کو جمہوریت کے ان سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل ظالم، غاصب، ڈاکو، راہزنوں، معاشی قاتلوں، اور معاشرتی دہشت گردوں کے ایک مختصر اور قلیل ٹولہ کو ملک کے عظیم کسانوں، اور مزدوروں ، محنت کشوں، ہنر مندوں، اور ملک کے چودہ کروڑ مسلمانوں کے سرکاری خزانہ ، یعنی بیت المال کو سرکاری سطح پر لوٹنے۔ عدل و انصاف کے منافی اور متضاد طریقوں سے بڑی بڑی تنخواہیں، سرکاری محل، سرکاری گاڑیاں، ٹیلی فون، ہر محکمہ میں اردلی خانسامہ، ڈرائیور اور بے شمار ملازمین ان گنت سرکاری سہولتیں، رشوت ، کمیشن، کرپشن، سفارش، ہر قسم کی لوٹ کھسوٹ کا عمل انہوں نے ملک میں جاری کر رکھا ہے۔ ان کا رہن سہن ، شاہی اخراجات، بودو باش، شاہی سہولتیں، اور عیش و عشرت کی زندگی مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کو ورطۂ حیرت میں ڈالے بیٹھی ہے۔ وہ تو دو تین نوکروں کا سوچنا کجا وہ توایک ملازم تک رکھ نہیں سکتے۔ ان سیاسی دہشت گردوں نے ملک میں مساوات، اور عدل و انصاف کو نگل لیاہے۔کیا پاکستان اسلام آباد، لاہور، کراچی، اور ملک کے تمام شہروں، تحصیلوں میں سرکاری شاہی دفاتر ، اور انکی رہائشوں کا نام ہے۔ کیا یہ ملک پچانوے فی صد کرپٹ بد دیانت بے حیا، افسر شاہی، منصف شاہی، نوکر شاہی، کی لوٹ کھسوٹ اور جمہوریت کے ان بدنما ،بے حیا ، بد شکل، بد کرداروں، سرکاری خزانہ، لوٹنے والے راہزنوں، ملکی ، غیر ملکی قرضے ہضم کرنے والے معاشی قاتلوں، معاشرتی غاصبوں کا ملک ہے۔ یا دین دار دیانت دار، ایمان دار، محنتی ۔ حضورﷺ کے قریب سادہ شریفانہ مختصر ضروریات نیک دل جانثاروں ،۷۰ فی صد کسانوں اور ۲۹ فی صد مزدوروں، ہنر مندوں، محنت کشوںاور ملک کا کاروبار چلانے میں ہمہ تن مصروف چودہ کروڑ مخلص عوام کا ملک ہے۔ کیا وہ ان حقائق کے جاننے کے بعد بھی الیکشن میں ان غاصبوں ، ظالموں اور رہزنوں کو ووٹ ڈال کر ایک بار پھر انکو سرکاری خزانہ اور بے دین جمہوریت کی کنگ شپ حوالے کرنا چاہتے ہیں۔اب عوام کو از خود انکا دین کی روشنی میں احتساب کرنا ہوگا۔
۱۸۔ کیا یہ ہندوؤں ، عیسائیوں، یہودیوں، کے منشور ، اور ضابطہ حیات کے پیرو کار نہیں۔ کیا انہوں نے ان کے تعلیمی نصاب کو پورے ملک کے تعلیمی اداروں، میں سرکاری طور پر نافذ العمل کر کے مسلمانوں کی نسلوں کو پچھلے پچپن سالوں سے عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم کے نظریات کی تعلیم و تربیت نہیں کرتے آ رہے۔ کیا ان بے دین سیاستدانوں نے پاکستان میں اسلامی تعلیمی نصاب کو سرکاری طور پر مسترد اور منسوخ نہیں کر رکھا۔ کیا ان مغربی ایجنٹوں نے ملک کے تمام ادنیٰ سے اعلیٰ سرکاری اہلکاروں، افسر شاہی کے سکالروں، منصف شاہی کے دانش وروں، اور ہندو ازم کے طبقاتی مدبروں کو سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں ، اکیڈمیوں میں جمہوریت کے اسلام کش نظام کو چلانے کے لئے تیار نہیں کرتے آ رہے۔ کیا یہ ظا لم جاگیر دار ٹولہ اور رہزن سرمایہ دار دہشت گرد طبقہ چودہ کروڑ مسلمانوں کو جمہوریت کے کفر ، شرک ، اور ملوکیت کے نظام میں ملت اسلامیہ کی تعلیم و تربیت اور نشو و نما نہیں کرتے آ رہے۔
۱۹۔ کیا یہ جاگیردار،سرمایہ دار،سیا ستدان، حکمران مسلمان ہیں جنہوں نے اسلامی ضابطہ حیات کے خلاف ملک میں جمہوریت کا نظام نافذ کر رکھا ہے۔ کیا حضور نبی کریم ﷺکی شان ان کا دستور مقدس نعوذا باللہ مغر ب کے دانش وروں، اور ان کی تیار کردہ جمہوریت سے بھی فرسودہ نظام حکومت ہے۔ اے جاگیردارو! سرمایہ دارو! حکمرانو! افسرشاہی، نوکر شاہی، منصف شاہی کے مدبرو ! سکالرو! دانش ورو ! مفکرو! جمہوریت کے پروانو ! جواب دو ! کیا تم عیسائی ہو ، یہودی ہو ، ہندو ہو ، کافر ہو ، منافق ہو ، مسلمان ہو ، یا ان کے ایجنٹ ہو۔ خبردار اپنی اصل کو پہنچانو۔ اس سوال کا جواب ۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فیصد مزدوروں، محنت کشوں،ہنر مندوںاور اہل وطن مسلمانوں کو دینا ہو گا۔ کہ آپ کون ہیں۔ اس سوال سے تمہاری تدبیریں، تمھارے ہوش و حواس سے مانوس نہیں رہیں۔ اس سے قبل بھی صدائے وقت میں صورتحال سے ملت اسلامیہ اور سیاستدانوں کو جمہوریت کے نظام کی تباہ کاریوں اور ا س میں مضمربربادیوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔اس وقت ملت اورحکمران مل کر گھوڑا بھی اور سوار بھی بچا سکتے ہیں۔ صداقت کی میز پر بیٹھ کر سچائی کا دامن پکڑلو۔ آپس کی چپقلشیں دور کر لو۔پوری انسانیت کیلئے مہر و محبت،عدل و انصاف،لطف و کرم، اخوت و خدمت، شفقتوں اور رحمتوں کے حصول کیلئے رحمت العالمین ﷺ کا چراغ روشن کرو۔ بھاگنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔کوئی متبادل راستہ نہیں۔تباہی و بربادی،قتل و غارت اور بربریت کی تلوار سر پر کھڑی ہے۔ایسا نہ ہو کہ فطرت کا عمل جاری ہوجائے۔اسلامائزیشن کا عمل ہی صرف اور صرف نجات کا سبب بن سکتا ہے۔ورنہ اقتدار کے سورج کے غروب ہونے کا تھوڑا سا انتظار کر لو۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرماویں۔آمین
۲۰۔ مغربی جمہوریت کے سیاسی سکالروں، اس نظام حکومت کو چلانے والے قانون دانوں پر مشتمل افسر شاہی کے کرپٹ دانشوروں، عدل و انصاف کے عدلکش مفکروں، اور طبقاتی نظام کے اعلیٰ طبقے کے غاصب مدبروں ان کے تیار کرنے والے مغر بی طرز کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، اکیڈمیوں کا زہر، ان کے دل ودماغ میں پوری طرح اتر چکا ہے۔ وہ الیکشن کے ذریعہ غاصب، جابر، ظالم علاقہ کے دہشت گرد وں، معاشی رہزنوں کو اپنے اپنے علاقے ، محلے، گاؤں یونین کونسل، تحصیل ناظم، ضلعی ناظم ایم پی اے، ایم این اے ، سینٹروں، کے چناؤ کے طریقہ کار سے تو آشنا ہیں۔ جہاں ملک میں اربوں روپوں کے اخراجات دھاندلیوں، رشوتوں، قتل و غارت، توڑ جوڑ کے ذریعہ ملک کے تمام چھوٹے بڑے معاشی ، معاشرتی غنڈوں، لٹیروں، رشوت خوروں، ر ہز نوں، ڈاکوؤں، عدل کش درندوں، بلیکیوں، سمگلروں، منشیات کے شا ہو کا روں، کا ہجوم ہر سطح پر حکو متوں کے ایوانوں تک پہنچا دینے کے بے حیا فن سے اچھی طرح آشنا ہیں۔ لیکن ان کو اسلامی طریقہ کار جس میں ملکی خزانہ کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ بات وقت کے مدبروں، داناؤ ں ، سکالروں، دانش وروں، کی سمجھ میں نہیں آ سکتی ، یعنی اپنے محلہ کے معزز ین میں سے پانچ نیک دل صالح، ایمان دار، دیانت دار ، سمجھ دار ،خوف خدا سے لیس دین دار،صاحب اعتماد انسانوں ، کے نام چن کر جن کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ ہو علاقہ کے نیک سیرت افراد یا شخصیتوں کو مجلس شوریٰ کا رکن چن کر علاقہ کی ذمہ داری سونپ دینے کا عمل ان کے لئے ممکن نہیں۔ اسی طر ح محلہ، گاؤں، یونین کونسل، تحصیل اور ضلعی حلقہ بندیوں کے مطابق مجلس شوریٰ کے عہدیداروں کو سیلکٹ کرکے دین کی روشنی میں ذمہ داریاں ملک کی تمام انتظامی، عدالتی مشکلات کا واضح حل اور اس کا حصول ملت کو نصیب ہو گا۔ کیا آپ نے جرگہ سسٹم سرحدی علاقوںمیں اس قسم کے فرائض ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا یا سنا۔ کیا سعودی عرب میں ہر جمعہ کومجرموں کو سزائیںدیتے کبھی نہیں دیکھا۔دوکانیں کھلی رہتی ہیں۔کوئی چور رہزن،ڈاکو یا دہشت گرددیکھنے کو نہیں ملتا۔ اگر ضلعی انتظامیہ ایمان دار اور دیانت دار چند لوگوں پر مشتمل ہو گی۔ غلطی کرنے والوں کا احتساب اسی وقت اور اسی جگہ ہوتا جائے گا۔ اس کرپٹ رشوت خور، عدل کش، سسٹم اور نظام کی انتظامیہ اور عدلیہ سے چھٹکارا نصیب ہو گا۔ جن کی عدالتوں میں انصاف کے حصول کے لئے کئی عمریں درکار ہوتی ہیں۔ انصاف کی بھیک حاصل کرنے کیلئے قارون کا خزانہ درکار ہوتا ہے۔ ملکی عدالتیں مجرم اور جرائم کی پرورش کرتی ہیں۔ غریب انسان اس ملک میں قیامت تک نہ عدالتوں کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے۔نہ اسکے پاس مزدوری چھوڑنے کا کوئی بندو بست ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ان ظالم منصفوںسے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔۔ ملک میں درس و تدریس کا نصاب جدید علوم اور دین کی روشنی میں سکولوں، مدرسوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں ایک تعلیمی نصاب کے نظام کوقائم کر نے سے انکی معاشی۔معاشرتی۔ ریاستی دہشت گردی۔ قانونی بالا دستی اور اجارہ داری کا خاتمہ ہو گا۔ کسی مغربی فلاسفر، سکالر، دانش ور، مدبر،مفکر کی ملک کے کسی ادارے سے طبقاتی تعلیم کا اجرا نہیں ہو سکے گا۔ ملک و ملت کا کردار، تعلیم و تربیت ، دین کی روشنی میں اجاگر ہو گا۔ شاہی تنخواہوں، عیش و عشرت کے شاہی کلب بند ہوںگے۔ شاہی محلوں میں مغرب پرست عیاش اور بدقماش لوگوں کا قبضہ نہیں ہو گا۔ بلکہ یہ عظیم بلڈنگیں عظیم رفاہی کاموں کے لئے مختص ہو ں گی۔ سرکاری شاہی گاڑیوں کا کلچر ختم ہو گا۔ سرکاری خزانہ اور وسائل سائنس، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی ،ز راعت اور زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کا سفر جاری و ساری ہو جائے گا۔اسلامی تشخص اس جہان رنگ و بو میں اپنی فطرتی خوبیاں اور خوشبوئیں سمیٹ کر ابھرے گا۔جو پوری انسانیت کیلئے باعث رحمت ہوگا۔
۲۱۔ مسلمان بچیوں کو دین کی حدود میں رہ کر علیحدہ تعلیم و تربیت کا مستقل بنیادوں پر اجرا کرنا نہایت ضروری اور اہم ہے۔ ملت کی تقدیر بدلنے میں جو فرائض مستورات سرانجام دے سکتی ہیں۔ وہ مرد نہیں دے سکتے۔ مائیں بچے اور بچیوں کی پرورش بھی کرتی ہیں اور ان کو بولنا بھی سکھاتی ہیں۔جس محبت ،خلوص اور پیار سے ایک ماں فطرتی جذبوں کی ودیعت سے جو بچے کی پرورش کر سکتی ہے۔دنیا میں اسکا کوئی نعم ا لبدل نہیں۔ماں کی گود ایک عظیم درسگاہ ہے۔مائیں تعلیمیا فتہ ہوں تو ملت عظیم تیار ہوتی ہے۔ پرائمری تک بچے بچیوں کی مخلوط تعلیم مستورات کے سپرد کرنا اور اعلیٰ تعلیم کے لئے مستورات کے الگ تھلک سکول کالج، یونیورسٹیاں، اکیڈمیاں قائم کرکے مستورات کیلئے تعلیمی ماہرین کا تیار کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ بچے،بچیوں اور لڑکیوں کا شعبہ درس و تدریس ماہرین مستورات کے سپرد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اسی طرح ہیلتھ کے تمام شعبوں کی ماہرین ڈاکٹر تیار کرکے ہسپتالوں میں ملک کے تمام بچے، بچیوں اور مستورات کی دیکھ بھال کے فرائض انکے سپرد کرنا ایک بہتر شگون ثابت ہوگا۔کپڑے کی سلائی، کڑھائی کے اداروں کے فرائض سونپنے سے مستورات کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے دروازے عورتوں کیلئے کھل جائینگے۔ دین کی اطاعت اوراتباعت کی روشنی میں مستورات کی ۵۱ فی صدی آبادی سے پورا پورا استفادہ کرنا اس لئے ضرور ی ہے کہ عورت گھر کی چار دیواری سے لے کے کر ملت کے اخلاق و کردار، تعلیم و تربیت کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔اس میں کونسی قباحت ہے کہ اگر مستورات کو دین کی روشنی میں الگ فیلڈ دیکرا ن سے ملی ذمہ داریاں بھی لی جائیں اور دین کے احکام کی پابندی بھی کی جا ئے۔ماں،بہن،بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی اور انکو روز گار بھی مہیا کیا جا سکے۔
۲۲۔ مغرب کی طرح مخلوط معاشرہ، مخلوط تعلیم ، مخلوط نظام قائم کرنے کیلئے مستورات کو فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں، اور سرکاری محکموں میں مردوں کے شانہ بشانہ ، محنت ومشقت میں شمولیت کرنا اسلامی نظریات پر ان مغرب پسند ایجنٹوں کا ایک اور حملہ شروع ہو چکا ہے۔ صنعتی انقلاب۔ ملکی ترقی اور آزادی ء نسواں کے نام پر مغرب کی طرز پر دین کی تعلیمات کے خلاف مخلوط معاشرہ تیار کرنا یہ مغربی دانشوروں، سکالروں اور مدبروں کا اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ اس مخلوط معاشرے کی پالیسی اپنانے سے ماں۔ بہن۔بیٹی کو دین کی تعلیمات کے خلاف بے حیائی، بدکاری ،کلبوں ، ڈانس ہا لوں ، فرینڈ شپ کے تعلق سے ناجائز بچے پیدا کرنے ،ہسپتالوں اور چائلڈ ہاؤسوں کی طرف ر خ موڑنے اور مستورات کو پبلک پراپرٹی میں مبتلا کرنے کی دین کے خلاف ایک اور گھناؤنی اورعبرتناک سازش ہے۔ مسلمان مستورات جو گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر ملی معماروں کے فرا ئض سر انجام دیتی چلی آرہی ہیں۔ان با پردہ،با حیا، نیک فطرت، صالح، پاکدامن، ماں،بہن،بیٹیوں کو دفتروں، کلبوں، فیکٹریوں، کارخانوں، اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا عمل مغرب پرستی ،ہوس پرستی، نفس پرستی، جنس پرستی، زنا ،بدکاری کی آگ میں دھکیلنے اور بھڑکانے کے مترادف ہے۔ اسلام کا عطا کردہ ازدواجی نظام، گھریلو نظام، مرد و زن کے تقدس کو قائم رکھنے کا نظام، رشتوں کے تقدس کا نظام، ماں۔ بہن۔بیٹی کو تحفظ فراہم کرنے کا نظام، عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری اٹھانے کے فرائض کا نظام ، ماں۔ بہن۔بیٹی ،بیوی ،خالہ۔پھوپھی۔ نانی۔دادی کے رشتوں کے تقدس کے نظام کو درہم برہم کرکے مغربی تہذیب کو
اپنانے اور اسکی اذیتوں کو برداشت کرنے اور انکے ہم پلہ معاشرہ تیار کرنے کے فرائض ان یہودی ، عیسائی ، ہندو نسل کے ایجوکیٹڈایجنٹوں، سکالروں کے سپرد ہو چکاہے۔ مغربی دانشوروں کے جمہوریت کے ظالم بے دین نظام کی حکومت قائم کرنے اور ملک پر قابو پانے کے بعد یہ اسلام کش بے حیائی کا نظام قائم کرتے اور فروغ دیتے چلے آ رہے ہیں۔
۱۔ کیا آ ُپ محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ کیا قرآن پاک ایک سچی کتاب ہے۔ کیا قرآن پاک کا عطا کیا ہوا دستور مقدس اور مغربی سکالروں کا ترتیب دیا ہوا جمہوریت کا باطل نظام اور غاصب سسٹم اور حکومتی طریقہ کار نعوذاباللہ اسلامی ریاست میں نافذ رکھا جانا چاہیئے۔
۲۔ کیا آپ ایک اسلامی ریاست اور چودہ کروڑ ملت اسلامیہ کے فرندان پر مغربی سکالروں کا تیار کردہ جمہوریت کا دستور مقدس کے خلاف تباہ کن نظام حکومت ملک میں قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
۳۔ کیا آپ جمہو ریت پر مبنی ملکی انتظامیہ کی کرپشن، رشوت ، سفارش ،ڈ اکے، معاشی اور معاشرتی دہشت گردی اور انکے ظلم و ستم کو مزید برداشت کرنا چاہتے ہیں۔
۴۔ کیا آپ مفتوحہ قوم کے لئے تیار کردہ ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ کے تحت انتظامیہ کے نظام اور سسٹم کو مزید مسلط رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ نوکر شاہی، افسر شاہی کے کرپٹ سسٹم کے سکالروں کو ملک کا نظم و ضبط ان کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔
۵۔ کیا آپ ملت اسلامیہ پر جمہوریت کے تیار کردہ نظام اور سسٹم کو ان کے بد دیانت بریف کیس مافیا کے منصفوں کو ملت اسلامیہ کے چودہ کروڑ فرزندان کا عدل و انصاف کا قلم دا ن مزید انکے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں۔
۶۔ کیا آپ انگریز کے ز ر خرید جاگیر داروں ،سرمایہ داروں، سیاست دانوں کو ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ کے تحت جمہوریت کے نظام کے مطابق الیکشنوں میں ووٹ ڈال کر ان مغربی عیاش، بد قماش ، راہزن، لیڈروں کو ایک بار پھر ملک کا حکومتی قلم دان سپرد کرنا چاہتے ہیں۔
۷۔ کیا ان سات آٹھ ہزار سیاسی دہشت گردوں کو ملکی خزانہ لوٹنے والے رہنما ؤں، ملکی ، غیر ملکی اور آئی ایم ایف کے قرضے ہڑپ کرنے والے ڈاکوؤں۔ بینک لوٹنے والے غاصبوں۔ اعلیٰ اور قیمتی وزارتوں کی خرید و فروخت کرنے والے سیاسی بھیڑیوں، ۷۰ فی صد کسانوں اور ۲۹ فی صد مزدورں، محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام کو ٹیکسوں، بلوں، منی بجٹوں، قیمتوں میں اضافوںز کوٰۃ اور عشرسے چھینی ہوئی دولت کو ہضم کرنے والے ہاتھیوں، وزیر اعظم ہاؤس میں ریس کے گھوڑے پالنے والے جواریوں، رائے ونڈ ہاؤس اور سرے محل بنانے اورخریدنے والے معاشی قاتلوں، سیاسی حکمرانوں، بینک لوٹنے والے دہشت گردوں، ملکی چینی ہندوستان کو فروخت کرنے اور ملکی تجارت پر اجارہ داری قائم کرنے والے لیڈروں، ملک کو دو لخت کرنے والے اور پاکستان کے ایک حصہ کو بنگلہ دیش میں بدلنے والے ظالم سیاست دانوں، حکمرانوں اور ان کی سرکاری مشینری پربار بار لعنت بھیجنے کی بجائے ان کو حکومتی قلمدان مہیا کرنا ظلم اور جرم ہے یا نہیں۔ ملکی راز افشا کرنے والے اور سکھوں کی لسٹیں ہندوستان کی حکومت کو مہیا کرنے والوں کے پھر جمہوریت کے جال میں پھنسنا چاہتے ہیں۔ اب انکے کڑے احتساب کا وقت انکے شاہی محلوں پر دستک دے رہا ہے۔

۸۔ کیا آپ جمہوریت کے نظام حکومت کے تحت ۷۰ فی صد کسانوں ۲۹ فی صد مز دوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام الناس کو معاشی اور معاشرتی زندگی کے عذاب میں پھر ایک بار اور مبتلا کرنا چاہتے ہو۔ غریب کسان، مز دور اور عوام روٹی کپڑے سے محروم، تعلیم سے محروم، ہسپتالوں سے محروم، سڑکوں سے محروم، محنت و مشقت اور کاروبار سے محروم، سر چھپانے سے محروم ، عدل و انصاف سے مٓحروم ، انسانی بنیادی حقوق سے محروم ،ننانوے فی صدی عوام بھوک اور ننگ کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشیاں اور خود سوزیاں کرتے پھریں۔صحراؤں میں بوند بوند پانی کو ترسیں، اپنی اور جانوروں کی خوراک کو تلاش کریں ۔ کسان اور مزدور دن رات محنت و مشقت کرکے ملکی وسائل ،خام مال کی فراہمی، صنعتی ترقی، ملک کی تعمیر و تکمیل کے فرائض ادا کریں اور پھر بھوک ننگ اور مفلسی کا عذاب بھی بر داشت کریں۔ یہ ظالم سیاست دان، حکمران ان کی افسر شاہی، منصف شاہی، نوکر شاہی، وزیر اعظم ہاؤس ، پر یذ یڈ ینسی ، سپریم کورٹ بلڈنگ، وزیر ہاؤس، مشیر ہاؤس ، سفیر ہاؤس، سیکرٹری ہا وٗ س ، کمشنر ہاؤس، ڈی سی ہاؤس، اے ڈی سی جی ہاؤس، اے سی ہاؤس ، ڈی ایس پی ہا ؤس، ایس پی ہاؤس، ڈی ّ آئی جی ہاؤس ، آئی جی ہاوٗ س ، ملک میں تمام افسر شاہی ہاؤس، جج اور جسٹس ہاؤس ملک میں پھیلے ہوئے ریسٹ ہاؤس، کلبوں، اور سرکاری گاڑیوں اور مرسیڈیز، لینڈ کروزر، پجارو، اور طرح طرح کی بے شمارا قسام کی بے شمار گاڑیاں، ان و ز یروں، مشیروں، سفیروں، ان کی افسر شاہی، منصف شاہی، کے سرکاری ان گنت تحفے ،اور شاہی سہولتیں، ان کا مقدر ہیں۔ ان کی حفاظتوں کے لئے گن مین، پٹرولنگ سٹاف ،پولیس وین، کاریں، گاڑیاں، ان کے علاوہ ان گاڑیوں کا پٹرول، مینٹیننس، ڈرائیور، اور ہر قسم کے اخراجات سرکاری خزانہ سے وصول کریں۔ ان کی تنخواہوں کے اضافوں وزیر اعلیٰ، گورنروں ، وزیر اعظم ، صدر پاکستان کی ڈبل تنخواہوں کی نویدکی خبریں ملک کے اخبارات میں شائع اور مشتہر ہوتی رہتی ہیں۔ یہ تفاوتی تنخواہوں، اور اضافی تنخواہوں اور سرکاری بے شمار سہولتوں رشوت کمیشن اور کرپشن سے ملک کے وسائل ، خزانہ ،اندرون ملک اور بیرونی ممالک قرضے ہضم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ دوسری طرف پانی، بجلی،گیس کے نرخوں میں اضافوں، ٹیکسوں میں اضافوں، نئے ٹیکسوں کا اجرا سے۹۹ فی صدی آبادی پر ان کا معاشی ظلم و ستم جاری و ساری چلا آ رہا ہے۔ یہ کون سی مخلوق ہے جو چودہ کروڑ عوام سے ووٹ حاصل کرکے اس ظالمانہ جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے تحت ایک فی صدی معاشی اور معاشرتی دہشت گرد انہی اہل وطن مسلمانوں کی مال و متاع لوٹنے ، چھیننے اور ڈاکہ ڈالے چلے آ رہے ہیں۔ کیا آپ ان عیسائیوں، یہودیوں ، ہندووں کے نظریاتی ایجنٹوں ،کو ملک کا نظم ونسق اور حکومت ووٹوںاور الیکشن کی پلیٹ میں رکھ کر ایک بار پھر پیش کرنا چاہتے ہو۔
۹۔ مغرب نے عورت ذات کو یعنی ماں، بہن، بیٹی کو گھر کے محفوظ قلعہ اور اس کی چار دیواری سے باہر نکالا۔ مردوں نے ماں، بہن، بیٹی کے نان نفقہ اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری سے بے نیا زی اور غفلت سے کام لیا۔ سن بلوغت تک پہنچنے تک انہیں مردوں کی طرح نان نفقہ اور ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لئے جاب اور روزگار کی تلاش کرنے کے لئے گھر کی چار دیواری سے باہر نکال دیا۔ مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں نے فیکٹریوں، کارخانوں، ملوں، سر؂کاری اور نیم سرکاری محکموں میں جاب تلاش کئے۔ اور محنت و مز دوری سے اپنی معاشی ضروریات کو پوری کرنا شروع کر دیا۔ ہر شعبہ زندگی میں عورتوں مردوں کے ملاپ سے مخلوط معاشرہ تیار ہوا۔ا نہوں نے مذہبی حدود
قیود کو توڑ دیا۔ ان کی خانگی اور گھریلو زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ گئی۔ اس آزادانہ ملاپ اور عورت کی حصول ضروریات زندگی کی دوڑ ازدواجی زندگی دم توڑ گئی۔ فرینڈ شپ کا رواج عام ہو گیا۔ جنسی تعلق کی آزادی اور ملکی قانونی تحفظ نے ان کو گناہ اور جرم کی زندگی کی طرف دھکیل دیا۔ انجیل مقدس کی تعلیما ت سے انحراف کیا۔ فطرتی رشتوں کا تقدس ادب اور محبت جیسے آسمانی روحانی تحائف ان کے معاشرے میں مفقود ہو گئے۔ آج ہمارے حکمران مغربی تہذیب کے رسیا اور انکے ایجنٹ انہی عیاشیوں میںگم ہو گئے۔انکی پالیسیوں کا اجرا من و عن کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان مغربی سکالر وں، مفکروں، مدبر وں اور دانش وروں نے۔کو ایجوکیشن اور مخلوط معاشرہ تیار کرنے کے طور طریقے اصول و ضوابط اور قانونی تحفظ فراہم کرنا شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے آزادی نسواں کے نام پر ملک میں دین کے خلاف مغربی تہذیب کو پھیلانے کے راستے اختیار کر رکھے ہیں۔ عورتوں کو گھر کی چاردیواری سے نکال کر سیاست اور فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں، سرکاری اور نیم سرکاری محکموں غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ان کی شمولیت کے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔ مخلوط معاشرہ تیار کرنے کے راستوں پر گا مزن ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ ایسی پالیسیاں ملک میں رائج کرتے چلے آ رہے ہیں جس سے اسلام کی تعلیمات معاشی اور معاشرتی نظریات اسلامی معاشرہ کی تمام اقدار کو ایک ایک کر کے ختم کرتے اور روندتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں ۵۱ فی صدی مستورات موجود ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ازدواجی ز ندگی کے نظام کے تحت مرد کو بیوی بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ بیوی گھر کی نگہداشت کرتی ہے۔ وہ بچوں کو جنم دیتی ہے۔ ان کی پرورش یعنی آیا کے فرائض سرانجام دیتی ہے۔ بیو ی بچوں کی خوراک لباس صحت کا خیال یعنی نرس کے فرائض بھی ادا کرتی ہے۔ وہ برتنوں کی صفائی گھر کی صفائی، یعنی خاکروب کی ڈیوٹی بھی دیتی ہے۔بیوی بچوں کے کپڑے اپنے اور اپنے خاوند کے کپڑ ے دھونے اور سینے کا کام بھی سرانجام دیتی ہے۔یعنی دھوبی اور درزی کے فر ائض بھی ادا کرتی ہے۔ وہ گھر میں کھانا تیار کرنے اور اس کے تقسیم کرنے اور بچوں کی عمر کیمطابق ان کو خوراک مہیا کرنے کی ڈیوٹی بھی ادا کرتی ہے یعنی خانساماں اور بہرے کے فرائض بھی ادا کرتی ہے۔ وہ گھر کی اور تمام ضروریات کی نگہداشت اور حساب کتاب کو احسن طریقہ سے عمل میں لاتی اور چلاتی ہے۔ یعنی وہ ایک اچھے مینیجر کے فرائض بھی ادا کرتی ہے۔ ماں کی گود بچوں کے لئے ایک عظیم درس گاہ کے فرائض بھی ادا کرتی ہے۔ جہاں وہ ان کو پالتی ہے۔ بولنا سکھاتی ہے ابتدائی تعلیم و تربیت دیتی ہے۔ خدا اور رسول ﷺ کا تصور بچوں کے ذ ہن و قلب میں اتارتی ہے۔وہاںاچھے اخلاق اور کردار کا سبق سکھاتی ہے۔ یعنی وہ ایک بہترین استاد کے فرائض بھی ادا کرتی ہے۔وہ گھر اور چاردیواری کا تحفظ کرتی ہے۔یعنی وہ چوکیدار کے فرائض بھی ادا کرتی ہے ۔ خدا اور رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق نان نفقہ کی ذمہ داری مرد کو سونپی گئی ہے۔ وہ اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ مستورات اپنے کام سر انجام دیتی ہیں۔ ماں، باپ، بہن، بیٹی بیٹے کے رشتوں کے تقدس ادب و محبت کی ازلی اور ابدی نسبتیں پروان چڑھتی ہیں۔ معاشرہ ایک خوبصورت ردھم کے ساتھ انسانی زندگی کے قافلے کو رواں دواں رکھتا چلا جا رہا ہے۔ گھر دارالامن اور دارالقرار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب کے معاشرے نے عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری اور اہم فرض ادا کرنے کی بجائے اس کو حصول رزق اور ضروریات زندگی حاصل کرنے اور معاشی ذ مہ داری ادا کرنے کے لئے فیکٹریوں، کارخانوں اور زندگی کے ہر شعبہ میں روزگار تلاش کرنے اور مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ محنت و مشقت کرنے کی ذمہ داری عائد کر دی۔اسطرح مخلوط معاشرہ تیار ہوتا رہا۔کئی نسلیں اس
مخلوط معاشرہ کو پروان چڑھانے میں صرف ہو گئیں۔ گھریلو زندگی تباہ ہوتی رہی۔ فرینڈ شپ کا ہولناک سسٹم چل پڑا۔ جنسی تعلق قائم ہوتے رہے۔ بچے جنم پاتے رہے۔ اور چائلڈ ہا ؤس میں پہنچتے رہے۔ ازدواجی زندگی دم توڑتی چلی گئی۔ دوست بدلتے رہے۔ بچے پیدا ہوتے رہے۔ بے حیائی، بدکاری جیسی مہلک بیماریاں عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو نگل گئیں۔ ازدواجی زندگی اپنے انعامات سے محروم ہو گئی۔ عمریں جوانی اور بڑھاپے کے چولے بدلتی رہیں۔ عورت تنہائی کے عذاب میں تڑپتی۔ پھڑکتی اور سسکتی رہی۔ نہ اولاد مل سکی نہ خاوند۔ وہ ماں کی مامتا اور خاوند کی قربت سے محروم ہوتی گئی۔کیا آپ بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس جمہوریت کے کھیل کو کھیلنے کے لئے ان بے حیا ایجنٹوں کو ووٹ ڈالتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی ہمت نہ دے ۔ کہ آپ دونوں جہان تباہ کر سکیں۔ آمین۔
۱۔ کیا چودہ کروڑ اہل پاکستان مسلمان مغر بی ثقافتی ، تہذیبی غیر دینی تباہ کن مخلوط معاشرہ کی اقدار کو ملکی سطح پر مروج کرنا چاہتے ہیں؟
۲۔ کیا آپ مغر بی صنعتی ،سائنسی ترقی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے طبقاتی تعلیمی نصاب ، طبقاتی تعلیمی ادارے، طبقاتی تعلیمی نظام، طبقاتی معاشرہ ، طبقاتی افسر شاہی، منصف شاہی، نوکر شاہی، مخلوط تعلیمی نظام اور مخلوط معاشرہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔
۳۔ کیا آپ مغرب کی طرح عورت ذات کو یعنی ماں بہن بیٹی اور مستورات کو گھر کی چار دیواری سے باہر نان نفقہ اور معاشی ضروریات زندگی کے حصول کی خاطر اسلام کی تعلیم و تربیت اور دین کی حدودو قیود کے خلاف اس کو روزگار کی تلاش میں گھر کی چار دیواری سے باہر بھیجنا چاہتے ہیں؟
۴۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ماں، بہن ، بیٹی اور تمام مستورات فیکٹریوں، کارخانوں، سر کاری اور غیر سرکاری اداروں اور ز ندگی کے ہر شعبہ میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں اور دین کے خلاف گناہ کی زندگی میں ملوث ہوجائیں۔
۵۔ کیا آپ مخلوط معاشرہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ماں بہن بیٹی کی اور تمام مستورات کی ازدواجی ز ندگی اور خانگی زندگی مفلوج کرنا چاہتے ہیں؟
۶۔ کیا آپ مغرب کی طرح شادی کے مذہبی طریقہ کار کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ماں، بہن، بیٹی اور مستورات کاطیب پاکیزہ، الہامی، قرآنی، فطرتی رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔کیا آپ مخلوط معاشرے سے فرینڈ شپ کے جنسی تعلق سے بچے بچیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اور ان کوچا ئلڈ ہاؤسز بھجوانا چاہتے ہیں؟
۷۔ کیا آپ عورت کے فطرتی تقدس اور اس کی شرم و حیا کو تار تار کرنا چاہتے ہیں۔ اور دین کی حدود و قیود کو روندنا چاہتے ہیں؟
۸۔ کیا آپ عورت سے عورت پن چھیننا اس کے جسم کو نوچنا اس کی پاکیزگی و عصمت اور اس کے انمول ضمیر کو آزادی نسواں کا نام دے کر پاش پاش کرنا چاہتے ہیں؟
۹۔ کیا آپ مغرب کی طرح عورت سے گھر اور گھرہستی کی اکائی کو چھیننا چاہتے ہیں۔ کیا آپ عورت سے ماں کی مامتا اور اولاد سے ادب و محبت، عزت و احترام، خدمت وعظمت اور دعا دینے اور دعا لینے کے فطرتی جذ بوں کو روندنا اور پامال کرنا چاہتے ہیں؟
۱۰۔ کیا آپ عورت سے ماں بہن، بیٹی ، پھوپھی، خالہ، دادی، نانی ، بیوی کے رشتوں کا تقدس ختم کرنا چاہتے ہیں۔؟

۱۱۔ مغربی عورت معاش کی تلاش میں گھر سے نکلی۔گھر کا راستہ بھول گئی۔ جنسی درندوں کے نرغے میں آ گئی۔اس نے انسان کے بچوں کو جنم دیا۔ لیکن اولاد سے محروم رہی۔ اور جیون ساتھی کو تلاش کرتی رہ گئی۔ مغربی معاشرے نے عورت کو تنہائی کے عذ اب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کی معصومیت اور سادگی ہاتھ ملتی اور روتی رہی۔ خشک آنسو آہوں کی شکل میں بہتے رہے۔ روح کو جلاتے رہے۔ وہ زخموں سے چور اور دکھوں میں سلگتی رہی۔ وہ تنہائی کی آگ میں اکیلی جلتی اور بھسم ہوتی رہی۔ مغربی دانش وروں، مدبروں، مفکروں، ماہرین نفسیات اور اس شعبے کے سکالروںنے ان سے عیسائیت کی تعلیم چھین لی۔ ا ور عورت جیسی عظیم ہستی کو پبلک پراپرٹی بنا کر رکھ دیا۔
۱۲۔ کیا چودہ کروڑ مسلمان اہل پاکستان کے لوگ خدا اور رسول ﷺکے بتائے ہوئے راستے اصول و ضوابط، ضابطہ حیات ،ازدواجی زندگی کے قوانین اور دستور مقدس کے نفا ذ کو اب بھی پش پشت ڈالنا چاہتے ہیں۔کیاآپ مغربی تہذیب کو اپنانا چاہتے ہیں۔کیا آپ مغرب کی طرز کے فری سٹائل ڈانس ہالوں، کلبوں کو پاکستانی معاشرے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ مخلوط معاشرے کی اذیتوں میں مبتلا ہونا چاہتے ہیں۔ کیا آپ جاگیرداروں سرمایہ داروں کو مزید حکمرانی کرنے کی ایک بار پھر اجازت دینا چاہتے ہیں۔ کیا آپ طبقاتی تعلیمی نظام، طبقاتی تعلیمی ادارے ، طبقاتی تعلیمی نصاب اور طبقاتی مخلوطی تعلیم مغرب پرست ایجنٹوں کا معاشرتی نظام قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
۱۳۔ کیا آپ ان طبقاتی تعلیمی اداروں سے نوکر شاہی، افسر شاہی، منصف شاہی کے بے دین ،بد نصیب ،بے حیا، معاشی دہشت گرد، جمہوریت کے سودائیوں کو ملک کا نظم و نسق ایک بار پھر بے دین الیکشنوں کے ذریعہ حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ان غاصبوں کی اعلیٰ تفاوتی تنخواہیں، اعلی سرکاری رہائشیں، اعلیٰ سرکاری گاڑیاں، کھلا پٹرول، سرکاری ڈرائیور ، اعلیٰ سرکاری دفاتر، گن مین، چوکیدار چپڑاسی، مالی ، خانسامہ اور ان گنت سہولتیں، تنخواہوں میں بے شمار اضافوں کے تحفے ان کو ایک بار پھرجاری کرنا چاہتے ہیں۔
۱۴۔ پاکستانی مستورات کو ایجو کیٹ کرنے کیلئے حکومتی سطح پر ہر دور کے حکمران بڑا واویلا مچاتے نظر آتے چلے آرہے ہیں ۔ ۵۱ فیصد مستورات کو مخلوط تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ملک کی ۵۱ فیصد مستورات پر مشتمل آبادی کو ایجو کیٹ کرنے کی بات تو مسلمانوں کی سمجھ میں آتی ہے۔ مستورات کو تعلیمات کا زیور پہنانا تو اسلامی معاشرے کی بنیادی ضرورت اور اہم کڑی ہے۔ لیکن مغرب کے بے حیا ،بدکار،بد کردار ،دین کی تعلیمات کے طریقہ کار کے خلاف جنسی دہشتگردی کی طر ف رخ موڑنا اور مخلوط تعلیمی نظام اور اسمبلیوں میں مستورات ممبر ان کی تعداد بڑھانے اور اسلام کے خلاف مغربی تہذیب کے مطابق مخلوط معاشرہ تیار کرنے کی بات حضور نبی کریمﷺ کی امت کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اسلام معاشرے میں ماں، بہن، بیٹی، بیوی کو سرکاری غیر سرکاری اسمبلیوں، دفتروں ،کارخانوں،فیکٹریوں،ملوں میں مردوں کے شانہ بشانہ، ہوٹلوں اور کلبوں کی زینت بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام عورت کو عزت و احترام ، پاکیزگی ء عصمت، ادب،محبت، اسکی حفاظت، اسکے تقدس، اسکی شرم و حیا، اسکی شان عظیم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔اسلا م عورت سے چادر اور چار دیواری کے بنیادی حقوق کو چھیننے کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام مغرب کی طرح عورت کو پبلک پراپرٹی بنانے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔اے سیاستدانوں! حکمرانوں! مغربی تہذیب کے شاہکارو! ، سکالرو! ، مدبرو! ، دانشورو! آزادی ء نسواں کے نام پر خدا اور رسول ﷺ
کی تعلیمات کے خلاف کھلی جنگ لڑنے کا عمل ترک کر دو۔مغرب پرست ایجنٹوں اور انکی چند مستورات کی خاطر ملک و ملت کے اسلامی کردار اور طرز حیات کو مسخ کرنے کی کوئی بھی مسلمان اجازت نہیں دے سکتا۔
۱۵۔ ان جمہوریت کے فدائین اور پرستاروں کو بتاؤ کہ ۷۰ فیصد کسانوںاور ۲۹ فیصد مزدوروں، محنت کشوں،ہنر مندوں، سفید پوش عوام کی اولادیں تو بنیادی تعلیم سے محروم چلی آرہی ہیں۔ وہ تو انکو دو وقت کا کھانا مہیا کرنے، انکو لباس پہنانے،انکی بیماری کا علاج معالجہ کروانے کی سکت نہیں رکھتے ۔ وہ تو آئے دن بیروز گاری،معاشی بد حالی کی اذیتوں سے تنگ آ کر خود کشیاں، خود سوزیاں کرنے پر مجبور ہوتے چلے آرہے ہیں۔ وہ تو صحراؤں اور بیابانوں میں بوند بوند پانی کو ترسیں۔ بیابانوں ،صحراؤںمیں بسنے والے کسان اور انکے جانور خشک سالی کے ہاتھوں سورج کی آگ اور ریت کی تپش سے بری طرح جلتے،جھلستے اور خوراک اور پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے سسک سسک کر دم توڑتے رہیں۔دوسری طرف وزیر اعظم ہاؤس،گو رنر ہاؤس، پریذیڈینسی،سپریم کورٹ ہاؤس،انگنت وزیر،مشیر،سفیر،وزیر اعلیٰ ہاؤسز،نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی کے وسیع و عریض شاہی محلوں پر مشتمل شاہی ر ہا ئشیں ۔اسمبلی ہال،کنوینشن ہال،سندھ ہاؤس،بلوچستان ہاؤس،فرنٹیر ہاؤس،پنجاب ہاؤس،کشمیر ہاؤس ، شاہی محلوں پر مشتمل ملک میں پھیلے ہوئے ریسٹ ہاؤسز،شاہی ائیر کنڈیشنڈ دفاتر،شاہی ائیر کنڈیشنڈ سرکاری گاڑیوں کی زندگی اور میدانوں،صحراؤں،پہاڑوں اور بیابانوں میں کسانوں کی زندگی ۔ فیکٹریوں،کارخانوں ، ملوں میں کام کرنے والے محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام ا لناس کی زندگیوں کا تصور اور معاشی مقتولوں اور بنیادی ضرورتوں ،روٹی،پانی سے محروم ۹۹ فیصد عوام ا لناس کی زندگیوں کا موازنہ آ پنی کور ،بے نور اور ملوکیت میں غرق آنکھوں سے یہ سیاہ پردے اٹھا کر صرف چند لمحوں کیلئے انکی طرف دیکھ تو لو۔خدا راہ یہ عدل کشی،یہ عدم مساوات بند کرو۔اس بھوکے،ننگے اور جان لیوا ٹیکسوں کے زخموں سے چور۔بجلی،پانی،سوئی گیس کے بلوں سے تنگ آکر خود کشیاں،خود سوزیاں کرنے والے مظلوم عوامی اژدھا سے بچ نکلو۔اللہ تعالیٰ آپکو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔ ثم امین۔


۱۶۔ ہر دور کے بد بخت اہل اقتدار، ظالم جاگیر دار،بے رحم سرما یہ دار،سنگدل افسر شاہی،سفاک منصف شاہی اور درندہ صفت حکمران۹۹ فیصد عوام الناس کی مال و متاع،دولت،خزانہ، اور انکی دن رات کی محنت سے پیدا کئے ہوئے وسا ئل لوٹتے اور عیش و عشرت کی زندگی گذارنے میں مصروف چلے آرہے ہیں۔ وہ انکے تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کرنے کی مالی سکت نہیں رکھتے ۔ وہ ان اداروں کے تعلیمی بوجھ اٹھانے کے کیسے قابل ہو سکتے ہیں۔ ملک کے دیہی علاقوں میں بتاؤکتنے ہائی سکول ہیں،کتنے کالج ہیں،کتنی یونیورسٹیاں ہیں،کتنے ٹیکنیکل ادارے ہیں،کتنے کمپیوٹر سنٹر ہیں۔ کتنے انجینرنگ انسٹی ٹیو ٹ موجود ہیں ۔جہاں سے انکی نسلیں تعلیم و تربیت حاصل کر سکتی ہیں۔وہ تو ان تعلیمی اداروں کے اخراجات ادا کر سکنے کے متعلق کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔اگر ان کا کوئی بچی بچہ میٹرک کر بھی لے تو وہ کبھی بھی ان اداروں کی میرٹ لسٹ کے نمبروں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔انکے کسی بچے کو نہ کہیں داخلہ مل سکتا ہے اور نہ کہیں ملازمت۔انکے ساتھ شودروں سے بد ترین سلوک انگریز کے مسلط کردہ ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ کے تحت ہوتا چلا آ رہا ہے۔ جمہوریت کے مذہب کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں کے تمام دروازے۷۰فیصد کسانوںاور۲۹ فیصد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام الناس کے
لئے بند کر دےئے گئے ہوئے ہیں۔ جمہوریت کے جابر نظام اور اس کو چلانے والی ملکی انتظامیہ اور عدلیہ کی باطل تعلیم اور غاصب سسٹم کے ایک فیصد شاہکار سیاست دانوں ، حکمرانوں،افسر شاہی کے سکالروں،منصف شاہی کے دانشوروں، نوکر شاہی کے مدبروں نے بڑی ہنر مندی سے قبضہ کر رکھا ہے۔ ملک کے ۹۹ فیصد مزدوروں ،محنت کشوں،ہنر مندوں اور سفید پوش عوام الناس کے محنت و مشقت سے جمع کئے ہوئے انگنت دولت ، وسائل ، خزانہ پر اس ملت کے بد بخت لٹیرے خادموں، بے حیا راہزن نوکروںنے بیت المال پر ۱۹۴۷ ء سے لیکر آج تک ہر وقت،ہر روز ڈاکے اور شب خون مارتے چلے آرہے ہیں۔یہ وہ ظالم ہیں جو غریب، یتیم،بیوہ ،مسکین، اپاہج،بیروزگار،بوڑھوں، چھوٹے طبقوں کے پنشنروں، ناداروں اور بے بسوں،مجبوروں کی مدد و معاونت کرنے کی بجائے ان سے بجلی، گیس، پانی، مہنگائی،منی بجٹوں، مکانوں کے ٹیکسوں اور لا تعداد انگنت ٹیکسوں کے ذریعہ انکا معاشی خون چوستے چلے آرہے ہیں۔اب یہ لوگ ۵۱ فیصد مستورات کی آبادی کی نمائندگی کی بنا پر اپنی بہو ، بیٹیوں،ماؤں ،بہنوں کو آزادی ء نسواں کے نام پر سیاست کے کھیل میں اضافے کر تے چلے آ رہے ہیں۔ آئندہ انکی مستورات حکومتی اقتدار میں بھی برابر شامل ہوں گی ۔اور مشیر، وزیر، سفیر بنتی رہینگی۔مخلوط تعلیم کے ذریعہ انہی کی اولادیں ۵۱ فیصد مستورات کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے افسر شاہی،منصف شاہی اور نوکر شاہی کے اقتدار کی کرسیاں سنبھالیں گی۔کیا یہ عدم مساوات کا غیر فطرتی ،غیر دینی سلسلہ ملک میں رواں دواں رہنا چاہیئے ۔کیا ان ایک فیصد مرد و زن کو دستور مقدس کی دھجیاں اڑانے کی اجازت ہونی چاہیئے ۔کیا مسلمانوں پر جمہوریت کے مذہب کی پیروی کرنا واجب ہے۔ کیا حضور نبی کریمﷺ کی شان عظیم اور قرآن حکیم کا عطا کردہ دستور مقدس نعوذباللہ مغرب کے دانشورں کے تیار کردہ جمہوریت کے نظام حکومت سے بھی فرسودہ ہے۔ ملک کے تمام جاگیر داروں، سرمائے داروں، سیاستدانوں، حکمرانوں، افسر شاہی، منصف شاہی ،نوکر شاہی کے سکالروں، دانشوروں، مدبروں، مفکروں سے فیصلہ لے لیتے ہیں۔ کیا جمہوریت کے مذہب کی سرکاری طور پر پیروی کرنے کے بعد ہم کیا کہلا سکتے ہیں۔ عیسائی، یہودی، ہندو،کافر،منافق یا مسلمان ۔اپنے فیصلہ سے ملت اسلامیہ کو اگاہ کر دیں ۔تاکہ ملت اسلامیہ کے فر زندان اور اہل پاکستان کو اپنے مذہب، اپنے دین، اپنے نظریاتی نقطہ نظر کی پہچان ہو سکے۔
۱۷۔ جمہوریت اور اسلامی مجلس شوریٰ کے نظام میں فرق کیا ہے۔جمہوریت میں نچلی سطح سے لیکر اعلیٰ سطح تک کے معاشی خوشحال اور طاقتور لوگ شامل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ تھانے، کچہریوں، سرکاری دفتروں،پٹواریوں سے کام نکلوانے کے فن سے آشنا ہوتے ہیں۔ گاؤں کے چوہدری اور اپنے اپنے علاقے کے معاشی اور معاشرتی حثیتوں کے وارث اور مالک افراد ہوتے ہیں ۔ان میں سے بیشتر چورا چکاری،لوٹ کھسوٹ اور علاقے کے امن و سکون کو برباد کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اسی معاشی اور معاشرتی طاقت کی بنا پر یہی لوگ الیکشنوں میں حصہ لیتے اور شمولیت کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے ، قتل وغارت،فتنہ وفساد کا کھیل کھیلنے کے عادی ہوتے ہیں۔غریب عوام کو کرش کرنے انکی بہو ، بیٹیوں، بہنوں کی عزت لوٹنے کا عمل انکی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ انتظا میہ اور عدلیہ کا مجرموں کو مجرمانہ تحفظ اور انکے خلاف آواز نہ اٹھا سکنے کی سکت اسی جمہوریت کے عمل کا حصہ ہے۔ جمہوریت کے ظلم کی گرفت نچلی سطح سے لیکر اعلیٰ ایوانوں تک آہنی ہاتھوں میں چلی آرہی ہے۔ا سکی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہی لوگ الیکشنوں کے اخراجات برداشت کرنے ،
سیا سی اور حکومتی ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اور ملک کی تمام دولت ، وسائل اور خزانہ ، ملکی غیر ملکی قرضوں کو چاٹتے چلے آ رہے ہیں ۔ مجلس شوریٰ کے ممبران کا چناؤ گاؤں ، علاقہ، یونین کونسل،تحصیل اورضلع کی سطح پر دین کی رو سے کوئی جاگیر دار،سرمایہ دار، نسلی غدار، سمگلر، بلیکیا، معاشی دہشت گرد، جھوٹا ، فاسق ، فاجر،منافق یا کسی بھی بد عملی کا شکار از خود اپنا نام الیکشن کے لئے پیش نہیں کر سکتا۔بلکہ اہل علاقہ گاؤں سے لیکر یونین کونسل، تحصیل، ضلع، صوبہ اور ملک یعنی ہر سطح پرمجلس شوریٰ کے ارکان کو دین کی روشنی میں ایسے افراد کا انتخاب کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔جو خدا اور رسولﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں عملی طور پر سب پر سبقت لینے والے اور نمایاں ہو تے ہیں۔ صاحب بصیرت، دیدہ ور، نیک دل،صالح خیال، دیندار، ایماندار، دیانتدار، امین،پرہیز گار،متقی،مخلص،عدل پسند، شریف النفس، حلیم، برد بار، صبر و تحمل کا شاہکار انسان جو حضور نبی کریمﷺ کے قریب ترین سادہ و سلیس زندگی گذارنے کا خوگر ہو۔جو اسلام کی روح کی سلامتی کا محرم ہو۔جو اسلامی اقدار کو بروئے کار لانے کا آشنا ہو۔ایسے پاکیزہ فطرت شخص کا چناؤ اہل علاقہ از خود تجویز یا سلیکٹ یا چناؤ کرتے ہیں۔کوئی شخص بھی اپنا نام کسی عہدے کیلئے پیش کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔اس سلیکشن میں نہ کسی ظالم، غاصب، فاجر، منافق،بد دیانت،عدل کش،رشوت خور، شرابی، خزانہ لوٹنے والے رہزن، بینک ہضم کرنے والے لٹیرے،ملکی اور غیر ملکی قرضے خرد برد کرنے والے ڈاکو،رشوت ،کمیشن، کرپشن میں ملوث بد کردار کی گنجائش تک نہیں ہوتی۔ محدود تنخواہیں،کم از کم ضروریات پر انحصار انکی طرز حیات کا روشن پہلو ہوتا ہے۔ ا س طرح ۴۵،۵۰ سال کی عمر کے ممبران کا چناؤ عمل میں لانا مناسب اور موزوں رہتا ہے۔نیک اور اعلیٰ کردار کے مجلس شوریٰ کے ممبران کی سلیکشن حضور نبی کریمﷺ کی تعلیمات، اخلاق و کردار ،عدل و انصاف اور مساوات محمدیﷺ کے قریب ترین ہو نا لازم ہوتا ہے۔ملک میں صرف اور صرف حاکمیت اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے منشور کی ہوتی ہے۔ملکی سطح پر حضور نبی کریمﷺ کے طریقہ کار اور کردار کی روشنی میں ملت اسلامیہ پاکستان کی قیادت گاؤں، محلہ، یونین کونسل، تحصیل، ضلع، صوبہ اور ملکی سطح پر نیک دل، دیندار، ایماندار اور عدل و انصاف کے وارثوں کے ہاتھ میں ہو تی ہے ۔ انکی زندگی سادہ و سلیس،مختصر اور ملک کے عام شخص کے مطابق کم سے کم ضرور یات پر مختص ہو تی ہے۔اس طرح ملک کی دولت، وسائل،خزانہ خود کار نظام کے تحت عادل اور منصف ہاتھوں میں چلاجاتا ہے ۔عوام اسلامی اصول و ضوابط کے مطابق ان مجلس شوریٰ کے ممبران کے کریکٹرو کردار اور زندگی کے ہر پہلو پر کڑی نگاہ رکھنے کے مجاز ہوتے ہیں۔نہ کوئی جھوٹ بول سکتا ہے اور نہ ہی کوئی جھوٹا مقدمہ درج کرا سکتاہے۔ نہ ہی مغربی تہذیب کے دانشور ججوں کا عدل کش سسٹم، نہ روز بدلنے والے جرائم کی قانونی توصیح،نہ صبح سے لیکر شام تک عدالتوں کے باہر کھڑے رہنے کی اذیتیں،نہ سو پچاس کی لسٹ کا انتظار ،نہ پیادہ سے سمنوںکی تعمیل کی رشوتیں، نہ وکیلوں کی بڑی بڑی فیسیں نہ انکو تلاش کرنے کی مختلف عدالتوں میں دوڑ ،نہ اسکے غیر حاضر ہونے کا خوف،نہ مرحوم کے لواحقین کو جانشینی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے اخبارات کے اخراجات اور نہ ہی مجرموں کی طرح ججوں کی دہلیزوں پر صبح سے شام کرنے کی طویل صعو بتیں،نہ رائج الوقت طریقہ کار سے انصاف حاصل کرنے کیلئے بد بخت، رشوت خور،بد دیانت ججوں،ریڈروں کو رشوت، سفارش، کرپشن کا عبرتناک ضمیر کش عمل،نہ جائز کیس میں حکم امتناعی( سٹے آرڈر ) حاصل کرنے کیلئے ججوں کے ٹاؤٹ وکیلوں کو بطور کمیشن دو ہزار سرکاری فیس ادا کرنے کا فکر،نہ انکی موقعہ کی رپورٹ کے مطابق حقائق کو پس پشت ڈالنے اور مسخ کرکے انصاف کی دھجیاں
بکھیرنے کا جج کا فیصلہ، نہ قبضہ گروپ کے قبضہ کا ڈر، نہ مظلوم کی فریاد رائیگاں جانے کا خطرہ،نہ جمہوریت کے ظالم،باطل اور اسلامی معاشرہ کے کردار کو نیست و نابود کرنے والے بے دین ملک کے تمام شاہی اخراجات والے تعلیمی ادارے جو اس ملکی نظام حکومت کو چلانے کیلئے یہ بد بخت،بد کردار سکالر،دانشور،مدبر تیار کرتے ہیں ۔ جو ملت اسلامیہ کے تشخص کو کینسر کی طرح تباہ برباد کئے جارہے ہیں۔ جنکی وجہ سے ملی کریکٹر تباہ ہو چکا ہے۔ ا ور ملک رشوت ، کمیشن، کرپشن اور بد دیانتی کیوجہ سے ایک الگ تھلگ پہچان پوری دنیا میں کروا چکاہے۔ ملک میں اس نظام کو پاش پاش کرنا ملت کے ہر فرد کا ایک طیب فریضہ ہے۔ عدلیہ کا انتظام سپریم کورٹ بلڈنگ سے نکال کر مسجد شریف تک پہنچانا،قومی تشخص کو بحال کرنا ہر مسلمان کا فرض بنتاہے۔
۱۸۔ کیا ہمارے تعلیمی ادارے جمہوریت کے نظام کو چلانے کے لئے پرائمری سکول ، ہائی سکول، کالجز، یونیورسٹیاں، اکیڈمیاں، اور ٹریننگ سنٹر مغربی طرز کی تعلیم و تربیت نہیں کرتے آ رہے؟
۱۹۔ کیا ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ کے تحت ملک کے تمام محکموں شعبوں، کی انتظامیہ کے نوکر شاہی سے لے کر افسر شاہی تک کے تمام ارکان کی تعلیم و تربیت کرتے چلے نہیں آ رہے؟
۲۰۔ کیا ۱۸۵۷ ء کے ایکٹ کے تحت ملک کی تمام عدالتوں کے نوکر شاہی سے لے کر منصف شاہی تک تعلیم و تربیت جمہوریت کی عدلیہ کے نظام کو چلانے کے لئے انہی پرائمری سکولوں، ہائی سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اکیڈمیوں سے تیار کرتے نہیں چلے آ رہے ؟
۲۱۔ کیا سودی ، یہودی معاشیات کا سرکاری نظم و ضبط چلانے اور ملکی کاروبار چلانے کے لئے انہی اداروں میں میٹرک ، ایف اے، بی اے، ایم اے ، پی ایچ ڈی، نہیں کرتے چلے آ رہے؟
۲۲۔ کیا ملک میں ہندو ازم کے طبقاتی معاشرے کو تیار کرنے کے لئے طبقاتی تعلیم، ؂طبقاتی تعلیمی ادارے، طبقاتی تعلیمی نصاب، ملک میں جاری و ساری نہیں ہے؟
۲۳۔ کیا انگریزی زبان کی حکمرانی قائم رکھنے کے لئے تمام مضامین کے نصاب انگریزی زبان میں نہیں؟
۲۴۔ کیا چین ، روس، روس کی بارہ ریاستیں، جرمن ، ناروے، ڈنمارک، جاپان، اٹلی، یونان، فرانس، اور دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک اپنی نسلوں کو اپنی قومی زبان میں تعلیم و تربیت نہیں کرتے چلے آ رہے ؟
۲۵۔ کیا ستر فی صدی دیہاتیوں کے پاس ہائی سکول، کالج، یونیورسٹیاں، اکیڈمیاں، میڈیکل کالجز، انجینرنگ کالجز یا کوئی ٹریننگ سنٹر ملک میں موجود ہیں ؟
۲۶۔ کیا ۲۹ فی صدی شہروں میں مزدور، محنت کش، ہنر مند، چھوٹے طبقہ کے اہل کار، نان گزیٹڈ سٹاف اور عوام الناس لاکھوں روپے کے تعلیمی اخراجات ایک ایک بچے کے ادا کر سکتے ہیں؟
۲۷۔ کیا اس ملک کے اعلیٰ تعلیمی طبقاتی ادارے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، افسر شاہی، منصف شاہی ، سمگلروں، بلیکیوں، یا معاشی غاصبوں کی اولادوں کے لئے مختص نہیں ہیں؟

۲۸۔ کیا ہم رائج الوقت تعلیمی نصاب جو جمہوریت کے مذہب کو پروان چڑھاتا ہے ۔ مسلمان نسلوں کو عیسائیت کے نظام کے دانش ور، سودی یہودی معاشیات کے سکالرز، ہندو ازم کی طبقاتی افسر شاہی، نوکر شاہی، افسر شاہی، منصف شاہی، کے مدبر تیار نہیں کرتے چلے آ رہے؟
۲۹۔ کیا ہم عیسائیت کے دانش ور، سودی یہودی معاشیات کے سکالر اور ہندو ازم کے مدبروں کو تیار کرکے ملک کے نظم و نسق ، قانون، اور تمام ضابطوں کی سرکاری طور پر پیروی کرنے کے بعد ہم اپنی نسلوں کو عیسائی ، یہودی، ہندو، کافر، منافق، یا مسلمان بتاؤ کس نام سے پکار سکتے ہیں؟
۳۰۔ کیا ہم آنے والی نسلوں کو منافقت کے عذاب سے نجات دلا سکتے ہیں؟
۳۱۔ اسلامی آئین اور اسلامی کردار عملی طور پر ملت اسلامیہ کے نونہالوں کو دے سکتے ہیں؟
۳۲۔ کیا ہم سرکاری سطح پر اسلامی نظریات کو پاکستان کی زمین میں دفن نہیں کر چکے اور بقایا کیلئے یہ حکومتی ایجنٹ کوشاںنہیں ؟
۳۳۔ کیا نظریاتی ریاست کے پاس اس کا اصل اثاثہ موجود ہے ؟
۳۴۔ کیاآپ کرپٹ افسر شاہی ، بد دیانت بے حیا عدل کش بریف کیس مافیا پر مشتمل عدلیہ کے بے دین مغربی سکالروں، دانش وروں کے سپرد ملک کی باگ ڈور ایک بار پھر الیکشنوں کے توسط سے ان کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔خدا نہ کرے کہ آپ ایسا کریں۔
۳۵۔ ملک میںآزادی ء نسواں اور تحفظ حقوق نسواں کے فروغ کیلئے حکمرانوں نے ایم پی اے،ایم این اے،سینیٹروں کی ۵۱ فیصد مستورات کی آبادی کے لحاظ سے انکی سیٹوں کا اضافہ کر دیاہے۔تا کہ وہ پاکستان میںمستورات کی نمائندگی کرکے ان کے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔حکمرانوں اور انکے مشیروں نے ۶۸ مستورات کو قومی اسمبلی میں ایم۔این۔اے کی سیٹوں پر لا بٹھایا ہے۔اسطرح انہوں نے ایک تو خدا اور رسولﷺ کے دین کی حدود کو توڑاہے۔ دوسرے اسکے بنیادی نظریات کو مسخ،منسوخ اور روندا ہے۔یاد رکھو جب کوئی منافق مسلمان حکمران اسلامی ملک میں اسلامی ضابطہ حیات کو توڑتا ہے۔اس ملک کی مسلمان رعایا اس پر خاموشی تان لیتی ہے۔قہر الٰہی ایسی اقوام پرنازل ہونا شروع ہو جاتاہے۔ مستورات کا پردہ میں رہنا اسلام کا بنیادی اور اہم رکن ہے۔اسکو توڑنے والا عمل زنا کی طرف پہلا قدم تصور کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ انکی جگہ ان پر دوسری جابر اور ظالم اقوام کو غالب کر دیتا ہے۔انکی نسلوںکو غلامی کی اذیتوں کی زنجیریں انکے گلوں میں پہنا دیتا ہے۔مغرب پرست عیاشوں نے ملت اسلامیہ کو دین کے خلاف جنگ میں جھونک دیا ہوا ہے۔ فطرت کی طرف سے عبرتناک غیبی سزا کیلئے یہ دین کے منافق حکمران اور انکی بے دین ظالم آکاس بیل کی طرح پھیلی ہوئی سرکاری افسر شاہی اور منصف شاہی تیار رہیں۔چودہ کروڑ اہل اسلام بتائیں کہ انہوں نے ان حکمرانوں کو ایسے دین کش احکام جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔
۳۶۔ دوسری طرف مستورات کی آزادی کے متعلق سن لو۔۷۰ فیصد کسانوںاور ۲۹ فیصد مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کے پاس نہ تعلیم،نہ سرمایا،نہ وسائل،نہ کالج ،نہ یونیورسٹی،نہ میڈیکل کالج،نہ ٹیکنیکل کالج۔نہ انکے پاس شاہی فیسیں،نہ انکے پاس
کتابیں ،نہ انکے پاس کتابوں کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت۔وہ تو خوراک سے محروم، لباس سے محروم، ریگستانوں، صحراؤں اورمیدانوں،پہاڑوں میں پانی سے محروم،یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ملک کا ۹۹ فیصد شودر طبقہ صرف وسائل،دولت ، خزانہ اور زر مبادلہ اکٹھا کر سکتے ہیں۔ یہ جمہوریت کے اعلیٰ ایوانوں پر مسلط برہمن حکمران، انکی نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی اپنے شاہانہ تصرف میں لاتے ،رہزنوں کی طر ح لوٹتے اور ڈاکوؤں کی طرح چھینتے چلے آرہے ہیں۔ وہ جمہوریت کے اس کالے نظام اور سسٹم کے مطابق ۹۹ فیصد شودر نہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکتے ہیں اور نہ ہی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کسی فردکے تصرف میں لا کر اسکی جان کو بچا سکتے ہیں۔ کتنے ظلم اور افسوس کی بات ہے۔ دولت کماتے یہ ۹۹ فیصد عوام ہیں اوریہ رہزن، ظالم،غاصب لٹیرے خزانہ دیمک کی طرح چاٹ یہ درندے جاتے ہیں۔
۳۷۔ محنت و مشقت سے پیدا کئے ہوئے وسائل کے علاوہ، وہ انگنت ٹیکسوں،منی بجٹوں،قیمتوں میں اضافوں اور منگائی کی ٹکٹکیوں پر لٹک کر سسک سسک کر مر سکتے ہیں۔بیروزگاری کے ہاتھوں خود کشیاں،خود سوزیاں کر کے وہ آپنی جان دے سکتے ہیں۔وہ ا س ملک کے اعلیٰ ایوانوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔انکو یا انکی نسلوں کو انکی نمائندگی قیامت تک نصیب نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ملک کے تمام اعلیٰ ایوانوں کے دروازے ان غاصب، ظالم، سیاستدانوں، حکمرانوں کے محلوں میں جا کھلتے ہیں۔ اسطرح آبادی کی بنیاد پر مشتمل مستورات کی اعلیٰ ایوانوں کی نمائندگی بھی انکے گھروں میں تقسیم ہو گئی ہے۔اسمبلی اور وزارتوں کے اعلیٰ ایوانوںمیںانکی بیٹیاں، بہنیں،بھانجیاںبہوویںاور انکے علاوہ انکی رشتہ دار مستورات، اب حکومت اور حکمرانی کریںگی اور جام سے جام ٹکرائیںگی اور بے حیائی پھیلائیں گی۔اسکے علاوہ مخلوط معاشرہ کی بنا پر ملک کی انتظامیہ، عدلیہ اور ملک اور بیرون ممالک کی تمام انتظامی امور انکے اور انکی بیٹیوں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔علاو ازیں ملک کی تمام دولت،تمام وسائل،تمام خزانہ اور ملک کے تمام ذرائع پر یہی مرد و زن معاشی اور معاشرتی رہزن قابض ہو تے جائیں گے۔
۳۸۔ ملک کے دانشور،ملک کے قلمی محافظ،ملک کے طالبعلم،اہل دل،اہل علم،اہل ایمان،اہل دین،اہل قرآن، اہل اسلام ان دینی ،دنیاوی رہزنوں،لٹیروں،منافق سیاستدانوں اور ظالم حکمرانوں کے اس دین کش بے حیائی کے جمہوریت کے عمل کو کیا روک نہیں سکتے۔ اور ملکی دولت پر ایک خوفناک شب خون مارنے کا تدارک نہیں کر سکتے۔کیا عوام نے انکو اسطرح ملک میں دین کشی کرنے کی اجازت دی ہے۔ ملک میں ریفرنڈم کروا کر فیصلہ کر لیں۔اگر یہ ملک میں اسلام کی ساخت کو تباہ نہیں کرنا چاہتے یا ملک میں امن چاہتے ہیں تو فو را ان احکام کو واپس لیں۔اے اخبار نویسو اپنا رول ادا کرو۔ انکو روک لو،انکے ہاتھ پکڑ لو،ان سے نجات حاصل کر لو،ملک کو عبرت گاہ نہ بننے دو۔معصوم ملت کی۹۹ فیصد مسلمانوں کی نسلوں کو اس عبرتناک اسلام کش جہنم نہ ڈھکیلو ۔ اس ہولناک تباہی سے ملت کوبچا لو ۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔امین
۳۹۔ ذرا غور فکر سے کام لیں۔ملک میں ۵۱ فیصد مستورا ت کے حقوق کو کون مسخ کر رہا ہے۔اس کا ذ مہ دار کون ہے۔مستورات کے ساتھ اجتماعی زیادتیاں کون کرتا ہے۔انکی عزتوں کو کون درندے نوچتے ہیں۔ہوٹلوں میں عورتوں کے ساتھ رنگ رلیاں کون مناتے ہیں۔
کلبیں کن کے دم سے آباد ہیں۔کالجوں اور یونیورٹیوں میں مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرہ دین کے خلاف تیار کرنے کی پالیسیاں کون مرتب کرتاہے۔ ملک میں بے حیائی دین کے خلاف کون پھیلاتے ہیں۔ ان کا اصل مجرم کون ہے۔ ان مجرموں کو تحفظ فراہم کون کرتا ہے۔ یہ کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ مستورات سے یہ تمام زیادتیاں،یہ تمام جرم،یہ تمام ظلم، جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے ظالم حکمران اور یہ بے دین بد نصیب سکالر، دانشور، مفکر انکے اصل مجرم ہیں۔ جو حکمرانوں کی آغوش میں پلتے چلے آرہے ہیں۔ یہی حقوق نسواں کے تحفظ کے علمبردار ہی ان تمام جرائم کے مجرم ہیں۔ اسلام نہ اسطرح کا معاشرہ تیار کرتا ہے اور نہ ہی ایسے معاشرتی جرائم کی اجازت دیتا ہے۔ ان حالات اور ان تمام جرائم کا تدارک صرف صرف دستور مقدس کے نفاذ میں مضمر ہے۔اس جمہوریت کے نظام کو چلانے والے دینی دنیاوی دہشت گرد حکمران اور چاروں صوبوں کی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی میں پہنچنے والے ایم پی اے، ایم این اے،مشیر،وزیر بیبیاں ان مستوری جرائم پر کبھی قابو نہیں پاسکتیں بلکہ ملک میں مخلوط معاشرہ تیار کرکے مزید معاشی اور معاشرتی تباہی پھیلا سکتی ہیں۔پاکستان میں ان بیبیوں نے دین کی حدود کو توڑ کران اعلیٰ ایوانوں پر رسائی حاصل کی ہے۔ انکے ہولناک مضمرات سے انکو کیسے آگاہ کیا جائے۔
۴۰۔ یہ کیسے جمہور یت پسند مسلمان حکمران ہیں۔کہ وہ مغرب کیطرح مستورات کو گھروں سے نکال کر فیکٹریوں ،کارخانوں، ملوں، سرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ ایوانوں تک پہنچا تے چلے جا رہے ہیں۔مغربی تہذیب کے باطل،بے دین اور تباہ کن بے حیا مخلوط معاشرہ کے اصولوں اور انکے ضابطوں کو ایک مسلمان ملک میں نافذ کرکے بے حیائی،بد کرداری اور جنسی کینسر پھیلائے جا رہے ہیں ۔ ؑ یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں مردوں کے شانہ بشانہ مستورات کو کام کرنے کی پالیسی پر گامزن کر نا چاہتے ہیں۔وہ مسلم لاز اور ضابطہ حیات کو ریزہ ریزہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ مردوں کو مستورات کے نان نفقہ کی ذمہ داری کو سبوتاژ ، روندنا اور ختم کرنا چاہتے ہیں۔وہ مسلم تہذیب کی گھریلو اکائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔وہ پاکستان میںمغرب کی طرح چائلڈہاوس قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بن باپ بچوں کو جنم دینے کی پالیسی پر گا مزن ہونا چاہتے ہیں۔وہ مسلمان عورتوں کو پبلک پراپرٹی بنانا چاہتے ہیں۔وہ عورت سے تمام روحانی رشتے ماں، بہن، بیٹی، بیوی،نانی،دادی، خالہ،پھوپھو کے چھیننا چاہتے ہیں۔اے اہل وطن مسلمانوں اس نا گہانی آفات اور عذاب کو روک لو۔ اس ملت کو تباہ ہونے سے بچا لو۔اس جمہو ریت کے مذہب سے ملت اسلامیہ کو نجات دلوانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔یا اللہ اس ظلمت کدہ کو عبرت کدے میں نہ بدلیو۔یا اللہ ہم پر رحم فرما۔ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں جس سے ہم بچ سکیں۔اس گھڑی تیرا فضل ہی درکار ہے۔یا اللہ تو اپنے فضل سے ملت اسلامیہ کوجمہوریت کے مذہب کی کفر نگری سے نکال کر دستور مقدس کی سر سبز اور پر نور علم ،عمل اور کردار کی خلد میں داخل فرما۔ مسلمانوں کو دین کی روشنی میں پوری انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ امین