To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پاکستانی مسلمان، ملو کیت کے نظام اورسسٹم کی زد میں ۔ شہدائے کربلا کے بنیادی مشن ،عظیم قربانی، بے مثال کردار کی بے حرمتی کے مجرم
عنایت اللہ

۱۔ پاکستان چودہ کروڑ عوام پر مشتمل مسلمانوں کاملک ہے ۔اسلام کے نام پر14اگست1947ء کو قائم ہوا۔ 1857ء سے لیکر 1947ء تک پاک وہند انگریزوں کا مفتوح ملک رہا ۔ آزادی کی تحریک چلی ۔ دو قومی نظریہ کے تحت ہندوستان کی تقسیم ہوئی۔ اس کے تحت مشرقی پاکستان ، مغربی پاکستان اور ہندوستان دو الگ ملک معرض وجود میں آئے۔
۲۔ ہندوستان کی تقسیم صرف اس بنیاد پر ہوئی کہ مسلمان اپنے عقیدہ ، نظریہ، دین اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔ ہندو اپنے دھرم ، مذہب،نظریات کی روشنی میں ہندوستا ن میں اپنے عقیدے اور نظریہ کے مطابق نظام زندگی چلا سکیں گے۔
۳۔ 1947سے لیکر آج تک پاکستان جاگیردار ، سرمائے دار طبقوں کی گرفت میں چلا آرہاہے۔ جن کی تعداد ملک میں چھ سات ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ انہوں نے جمہوریت کے مذہب کی سرکاری طور پر ملک میں پیروی جاری کر رکھی ہے۔ اسی کی تعلیم تربیت ، اسی کے قوانین ، اسی کے ضوابط ، اسی کی انتظامیہ ، اسی کی عدلیہ ، اسی کا ٹیکس کلچر، اسی کے سیاست کے اصول ، اسی کے نظریات، اسی کے سکول، اسی کے کالج، اسی کی یونیورسٹیاں اور پورے ملک میں پھیلے ہوئے شاہی تعلیمی ادارے، طبقاتی تعلیمی نصاب ، طبقاتی تعلیمی ادارے ، طبقاتی معاشی نظام ، طبقاتی معاشرتی سسٹم ، وہی سیاستدان، وہی شاہی ٹولہ، وہی حکمران ،۱۸۵۷ ء سے لیکر ۱۹۴۷ ء تک انگریزوں کے ساتھ مل کر اور ۱۹۴۷ ء سے لیکر آج تک پاکستان پر متواتر و مسلسل قابض اور حکمرانی کرتے چلے آ رہے ہیں۔
۴۔ پاکستان کے 70فی صد کسانوں کے گلے میں جمہوریت کا جان لیوا پھندا ڈالا گیا ۔ پاکستان کا کسان طبقہ محنت کا خوگر ، ہمت کی دولت سے مالا مال ، سخت ترین پیشہ، کھیتی باڑی سے منسلک ہے۔ ہر قسم کی اجناس ، عمدہ گندم، لاجواب چاول۔ مکئی ، باجرہ،چنے، ہر قسم کی دالیں، اعلیٰ قسم کی کپاس، ہر قسم کی سبزیاں ، طرح طرح کے پھل ، بیشما ر قسم کے میوہ جات، دُودھ کی نہریں ، چھوٹا بڑا گوشت، مرغی ، بکرا ، گائے، مچھلی، قیمتی لکڑ ی، ملک کی تمام ملوں، فیکٹریوں ، کارخانوں کے را میٹیریل مہیا کر نے والا محنت کا شاہکار اور پاکستان کی پہچان ہے۔ چودہ کروڑ انسانوں، بچے ،بوڑھوں کو خوراک، لباس مہیا کر نے کی ذمہ داری ، کروڑوں جانوروں کو پا لنے کے فرائض ادا کر تا چلا آرہا ہے ۔ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، ملک کی پیداوار، وسائل ، ہر قسم کا خام مال، دولت ، خزانہ ہر قسم کی ترقی کے لوازمات انہی کی محنت، مشقت کا ثمر ہیں۔
۵۔ دوسری طرف 29فی صد مزدور، محنت کش، ہنر مند اور مختلف پیشوں اور کاروبار سے منسلک عوام ، ملک کی تما م سڑکوں ، ڈیموں ، ائیر پورٹس، بندر گاہیں، چھوٹے گھروں سے لیکر شاندار محلوں تک اور ہر قسم کی تعمیر و تکمیل کر نے والے مزدور ۔ گھر گھر بجلی، گیس، پانی پہنچانے والے محنت کش، ملیں، فیکٹریاں، کارخانے تعمیر کر نے والے اور چلانے والے مزدور، محنت کش، ہنر مند، ملکی دولت ، وسائل ، خزانہ ، زرمبادلہ ، اندرونی ، بیرونی تجارت ہر قسم کے کام کاج اور فرائض ادا کرنے والے ان محنت کش ،ہنرمند افراد کا کوئی نعم ا لبدل نہیںہے۔ کیا کو ئی ان حقائق کو جھٹلا سکتا ہے کہ ملک کی ترقی ان کے دم سے ہے۔
۶۔ کیا 70فی صد کسان جو دیہاتو ں میں رہائش پذ یر ہیں ان کے پاس اسلام آباد،لاہور، ، کراچی، اور دوسرے شہروں جیسی سہولتیں ملک کے کسی ایک دیہات میں موجود ہیں۔ کیا ان کے پاس شاہی قسم کے ا نگلش میڈیم سکول، کالج، یونیورسٹیاں، اور بے شمار اقسام کے ٹینیکل ادارے اور ٹریننگ سنٹر کسی ایک گاؤں میں ہیں۔ جہاں سے ان کی اولادیں اور نسلیں جدید علوم اور تعلیم حاصل کر سکیں۔اسکے علاوہ کیا انکی مالی اور معاشی حالت ایسی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکیں۔
۷۔ کیا پاکستان کے 70%دیہاتوں کے پاس کوئی اعلیٰ قسم کی بلڈنگیں، شاہی محل ، سرکاری سکول، کالج اور یو نیورسٹیوں کی اعلیٰ عمارات موجود ہیں۔ کیا انکی معاشی حالت اس قابل ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت شہروں میں بھیج کر کرواسکیں جبکہ ان کے پاس دو وقت کا کھانا میسر نہیں ہے۔ کیا ان کے پاس ان حکمرانوں کی طرح سرکاری ہسپتال ہیں۔ جہاں سے وہ علاج معالجہ کرواسکیں۔ کیا اس ملک کے تما م وسائل ، دولت اور خزانہ انکی ملکیت نہیں۔ کیا29%مزدور محنت کش، ہنرمند اس ملک کی تمام تعمیرات کا کام ، ملوں، فیکٹریو ں کارخانوں، چھوٹے گھروں سے لیکر ملک کے تمام شاہی محلوں تک انکی محنت کے شاہکار نہیں۔ کیا ملک کی تمام ملوں، فیکٹریوں ، کارخانوں اور صنعتوں کی مصنوعات یہ لوگ تیار نہیں کرتے۔ کیا یہ ملک کی تمام دولت تمام پیدا کردہ وسائل اور ہر قسم کا خزانہ ان کی ملکیت نہیں۔ کیا یہ خوراک لباس اور رہائش سے محروم نہیں۔ کیا یہ تنگدستی، غربت اور معاشی بد حالی کی بدترین زندگی گذار نہیں رہے۔ کیاان کے پاس ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلوانے کے اخراجات ہیں۔ کیا انکی معاشی پوزیشن ایسی ہے کہ وہ بیماریوں کا علاج ملک کے اعلیٰ ہسپتالوں سے کرواسکیں ۔کیا یہ ٖحقیقت نہیں کہ 70%کسان اور 29%مزدورو ں محنت کشوں،ہنرمندوں کے حقوق اور ذرائع چھینے جاتے ہیں۔ان حقائق کو کون چھپا سکتا ہے کہ ملک کے تمام وسائل ، دولت اور خزانہ ان کی دن رات کی متواتر و مسلسل، نسل در نسل، سخت محنت کا ثمر ہیں۔ وہ انکے حقیقی ما لک اور وارث ہیں۔ وہ اور ان کی اولادیں ظلم کی حد تک تنگ دستی، غربت، بیماری، افلاس ،بے روزگاری کی اذیتوں میںمبتلا ہوتی چلی آرہی ہیں۔ان بد ترین حالات و واقعات سے تنگ آکر خودکشیاں اور خود سوزیاں کر تی چلی آرہی ہیں۔ کیا کسان صحراؤں ، بیابانوں میںخشک سالی سے دوچار ہو تے چلے نہیں آرہے۔ کیا پانی اور خوراک کو صحراؤں اور بیابانوں میں تلاش کر تے، نقل مکانی اور ہجرت کر کے، دھوپ ، تپش، اور آگ برسنے والے سورج اور جھلسنے والی لو، تپتی ریت کی اذیتیں برداشت نہیں کر تے چلے آرہے۔ کیا وہ اور ان کے بچے، ان کے جانور، بھوک پیاس سے تڑپتے ، سسکتے ، صحراؤں اور بیابانوں میں دم توڑتے چلے نہں آرہے۔ کیا ا ن کے وسائل ، دولت اور خزانہ سے ملک کی تمام سرکاری ایرکنڈیشن بلڈنگوں میں ان کا معاشی خون شامل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ بلڈنگ ہو یا پر یذیڈینسی ، وزیراعظم ہاؤس ہو یا پارلیمانی بلڈنگ ، کنونشن ہا ل ہو یا اسمبلی ہال وہ سب کچھ 70%کسانوں اور29%مزدوروں، محنت کشوں، ہنرمندوں کی ملکیت نہیں ہیں۔ جو لوگ ان ایوانوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں وہ سب ان کے نوکر ملازم اور خادم نہیں ہیں۔ یہ ظلم یہ درندگی، یہ وحشی پن، یہ جبر، یہ انسانیت سوزی ، یہ عدم مساوات یہ حق تلفی ، یہ ڈاکے، یہ بے دینی، یہ عدل کشی، یہ باطل تعلیم ، یہ غاصب سسٹم ، یہ نفاق، یہ نفرت ، یہ ملت کی مختلف جماعتوں میں تقسیم ، یہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی، یہ صوبوں کی جنگ، یہ الیکشنوں کا رولا، یہ سیاسی گٹھ جوڑ، یہ جما عتوں کا الحاق ، یہ حکومتوں کی تشکیل، یہ دینی جما عتنا ں، یہ مسلم لیگناں، یہ پیپلز پارٹیاں، ملک کی لا تعداد سیاسی جما عتناں، یہ نفرستان، یہ سیاستدان، یہ حکمران ، یہ پا کستان یہ جمہوریت کے سودائی، یہ کفر کے فدائی، یہ اقتدار کے مردار کو چمٹی ہو ئی گدھیں۔ سات ہزار جاگیر داروں ، سرما ئے داروں ، سیاستدانوں ، حکمرانوں کا مفتوحہ ملک بن چکا ہے ۔ جمہوریت عیسائی، یہودی مفکروں کے نظریات اور ہندو ازم کے طبققاتی نظریات پر مشتمل ایک ایسا سیاسی مذہب تیار کر کے چودہ کروڑ مسلمانوں پر سرکار ی طور پر مسلط کر رکھا ہے۔ ان نظریا ت کی تعلیم و تربیت، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں ، اکیڈیمیوں ، ٹریننگ سینٹروں میں پڑھا ئی اور سکھا ئی جاتی ہے۔ ملک کے تما م تعلیمی اداروں میں ان نظریا ت کی تعلیم سے عیسائیوں کے مفکروں کی انتظامیہ کے قوانین ، عدلیہ کے اصول و ضوابط اور تما م محکموں کے ادنیٰ سے لیکر اعلیٰ سکالروں تک اسی تعلیم و تربیت سے تیار ہو تے ہیں۔ یہودیوں کے سودی معاشی نظام کے ادنیٰ اہلکار سے لیکر اعلیٰ افسران تک تمام معاشی دانش ور انہی کی مخصوص تعلیم سے تیار ہو تے ہیں۔ طبقاتی تعلیی اداروں سے ہندؤ ازم کے ادنیٰ سے لیکر اعلیٰ مدبروں تک یہی ادارے تیار کر تے ہیں ۔ان کے ذریعے ملک کے تمام سرکاری ادارے اپنے طبقاتی افسروں اور ماتحتوں کو بھرتی کر کے ان سے اپنی اپنی ذمہ داریاں اور فرائض ادا کروا تے چلے آرہے ہیں۔ انتظامیہ کی افسر شاہی ہو یا عدلیہ کی منصف شاہی ہو، بینکنگ ہو یا فنانس ڈیپارٹمنٹ ہو ، انڈسٹری ہو یا پلاننگ ڈیپارٹمنٹ ہو، ہوم ڈیپارٹمنٹ ہو یا انٹیریر ڈیپار ٹمنٹ ہو، زکوٰۃ کا محکمہ ہو یا ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ ہو ، اوقاف ہو یا محکمہ تعلیم ہو ۔انٹی کرپشن کا ڈیپارٹمنٹ ہو یا محتسب اعلیٰ کا محکمہ ہو، تھانہ ہو یا کچہریاں ہوں، ہیلتھ ہو یا ویلتھ کامحکمہ ہو، ملک کو کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ ہو ان سب کے انچارج تمام اسمبلیوں کے ممبران، سینٹ کے ممبران ، وزیر ، مشیر وزیراعلیٰ ، گورنر، وزیراعظم ، صدر پاکستان ، ملک کے ان ہزار بارہ سو الیکشنوں میں کامیاب حکمرانوں کی ملکیت بن جا تے ہیں۔ اور ان کی مرضی منشاء پر انحصار ہو تا ہے کہ وہ اسلام یا جمہوریت کے مذہب کو سرکاری حیثیت دیں یا اس سے بھی بدترین قوانین کا نفاذ ملک میں رائج کریں۔
۸۔ جمہوریت کے مذہب کے پجاری اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اسلام کے باغی دستور مقدس کا نفاذ ملک میں کیوں رائج کریںجبکہ آئین کے مطابق پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے ۔ سرکاری قومی زبان اردو ہے لیکن بدقسمتی سے یہ جاگیر دار،یہ سرمائے دار، یہ دین و دنیا کے رہزن سیاستدان یہ بد ترین غاصب حکمران ، ملک میں دستور مقدس اور اردو زبان کے نفاذ سے دیدہ دانستہ جان بوجھ کر گریزاں ہیں۔ کیو نکہ یہ جانتے ہیں کہ دستور مقدس کے نفاذ کے بعد ان کا معا شی اور معاشرتی مقام ختم ہو جائیگا۔انگریزی زبان کی بجائے اردو زبان کے نفاذ سے ان کی اہلیت اور کارگزاری کا پول کھل جائے گا۔ اور اس قلیل سی تعداد پر مشتمل اعلیٰ طبقے کی سرکاری اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ اور چودہ کروڑ عوام ان کی انگریزی زبان کی قید سے آزاد ہو جائے گی۔ یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ کہ سرکاری خزانہ ، دولت اور وسائل ان کے قبضۂ قدرت میں نہیںرہیں گے۔ سرکاری ڈاکے ختم ہوں گے۔ رشوت، کمیشن، کرپشن ، ختم ہو گی۔ سرکاری خزانہ سے شاہی اخراجات، شاہی تنخواہیں، شاہی محل، شاہی گاڑیاں، عدل و انصاف ، اور فسادات کو جنم دینے والے کالے قانون، کسانوں کی محنت و مشقت کو نگلنے والا ظالم نظام، مزدوروں کی محنت سے ہولی کھیلنے والے غاصب طریقے، سرکاری خزانہ ملکی وسائل، ملکی دولت ، ملکی قرضے، غیر ملکی قرضے، یہ چودہ کروڑ عوام کے جمہوری نمائندے ، یہ سیاست دان ، یہ حکمران، یہ جاگیردار، یہ سرمایہ دار، اقتدار کی نوک پر ہضم نہیں کر پائیں گے۔ ان کی ملیں، ان کی فیکٹریاں، ان کے کارخانے ، ان کے اندرونی اور بیرونی ممالک کاروبار، ان کے سرے محل، ان کے رائے ونڈ ہاوٗس، ان کے وزیر اعظم ہاوٗس، ان کی پریزیڈنسی، ان کے وزیر اعلیٰ ہاوٗسز، ان کے گورنر ہاوٗسز، ان کے وزیر ہاوٗسز، ان کے مشیر ہاوٗسز، ان کے سفیر ہاوٗسز، ان کے ہر شہر میں پھیلے ہوئے ذاتی پیلیس ختم ہوں گے۔ ان کی ہامانی، قارونی، اور فرعونی نظام کی اجارہ داری سرکاری سطح پر ختم ہو گی۔ یہ سرکاری خزانہ آئی ایم ایف اور تمام بیرونی اور اندرونی قرضوں کو ہڑپ کرنے کے عدل کش قوانین اور انڈر گراؤنڈ اندھے راستے جنکے تمام دروازے صرف ان کے محلوں میںکھلتے ہیں۔ وہ مکمل طور پر بند ہوں گے۔ نہ ان کی طرح سرکاری خزانے کا شاہانہ اصرا ف ہو گا۔ نہ رشوت ہو گی۔ نہ کرپشن ہو گی۔ نہ کمشن ہو گی، نہ ملک کا بجٹ ، ان کی ملکیت ہو گا۔ نہ یہ راہبر راہزن ہوں گے۔ نہ قوم کی وحدت لا تعداد جماعتوں میں الگ الگ منشوروں میں منقسم ہو گی۔ نہ صوبوں میں نفرت ہو گی نہ نفاق۔ ملک امن کا گہوارہ ہو گا۔ جمہوریت کے عیسائی مفکرین کا انتطامیہ اور عدلیہ کا نظام یہودیوں کا سودی معاشی نظام ، ہندوازم کے طبقاتی سکالروں کے نظام کی سرکاری سطح پر بالا دستی اور سرپرستی ختم ہوگی۔ سکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں دین کی روشنی میں شاہین بچوں کی تعلیم و تربیت سے آنے والی نسلیں مسلمانوں کا تشخص پیش کر سکیں گی۔ پاکستان میں مجلس شوریٰ کے نظام سے انتظامیہ اور عدلیہ کا رول ملک میں عدل و انصاف کے محافظوں یعنی عادل اور صاحب اعتبار لوگوں کے ہاتھوں میں ہو گا۔ ملک میں ایک تعلیمی نظام ہو گا۔ اردو زبان ملک میں قومی زبان کا مقام حاصل کر پائے گی۔ چودہ کروڑ عوام کو ان کے کان، زبان، اور شعور واپس ہو گا ۔ قوم ان ظالم بے دین دانش وروں، بے نورمفکروں، ظلمات کے مدبروں، سے نجات پائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کھلی جنگ لڑنے والے منافقوں کا خاتمہ ہو گا۔ اور ان کے قانونی جرائم سے ملت اسلامیہ کی نجات ہو گی۔ ملک میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہو گی۔ سرکاری طور پر دستور مقدس کی حکمرانی ہو گی۔ دستور مقدس، اسلامی نظریہ اور اسلامی تعلیمات کو جمہوریت کے سکالروں، دانش وروں کے شکنجوں سے آزادی نصیب ہو گی۔ اس عدل کش ، غیر فطرتی جمہوریت کے مذہب کی سرپرستی اور بالادستی سرکاری سطح پر منسوخ اور ختم ہو گی۔ جس کی وجہ سے اہل پاکستان مسلمان دینی تعلیمات سے محروم، دینی نظریہ کی پیروی سے محروم ، دینی اصول و ضوابط سے محروم، دینی ماحول سے محروم، دینی کردارسے محروم، دینی ضابطہ حیات سے محروم، دینی اخلاقیات سے محروم، دینی عدل سے محروم، دینی مساوات سے محروم، دینی عدل و انصاف سے محروم ، دینی راہنمائی سے محروم، دینی نظریات سے محروم، رحمت اللعٰلمین کے اسوۃ حسنہ سے محروم، ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
۹۔ انگریز نے ۸۵۷ ۱ ء کے ایکٹ کے تحت ایک مفتوحہ ملک کے عوام کو غلامی کی زنجیریں پہنانے اور قیدیوں کی طرح ظلم وستم اور اذیتوں میںگذارنے کے لئے کالے قوانین مسلط کئے ۔ انکو چلانے کیلئے ایک ظالم قسم کی انتظامیہ اور ایک عبرتناک بے رحم عدلیہ کو مسلط کیا۔ جنکا حقائق اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا مقصود نہ ہوتا۔ بلکہ جس کے ذریعے وہ عوام کے وسائل، ذرائع، ملکی دولت اور تمام سرکاری خزانہ کو اکھٹاکرتے اور سمندر پار برطانیہ پہنچا دیتے۔ اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے سخت سے سخت سزائیں دیتے ۔ ہر قسم کی معاشی قوت سلب کرتے ،ہر قسم کا تشدد کرتے۔یہاں سے لوٹی ہوئی دولت مغرب میں لے جاتے ۔ معاشی برتری حاصل کرنے کے بعدانہوں نے ہر قسم کی صنعتی ترقی کا راستہ اختیار کیا ۔ انہوں نے ملک کا نظم و ضبط کنٹرول کرنے کے لئے جمہوریت کے طریقہ کار کو اپنایا۔ تمام انتظامیہ کے محکموں کا جال اور کالے قوانین ملک میں پھیلا دیئے۔ جن کے ذریعے وہ ملک کی تمام دولت لوٹتے، اکھٹی کرتے اور مختلف ٹیکسوں کو مسلط کرتے ،ظلم و بربریت کی نوک پر ان سے معاشی اسباب لوٹتے اور ضبط کرتے رہتے۔ ان کے ساتھ جو غدار تعاون کرتا ۔ اس کو جاگیر اور وظیفہ سرکاری طور پر بخشیش کردیتے۔ یہی ظالم جاگیر دار اور سرمایہ دار اپنے ہم وطنوں کو انگریزوں کے ساتھ مل کر ان کی معاشی طاقت چھین لیتے۔ اور معاشرتی طور پر اپاہج بنا دیتے۔ چوں چراں کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹ لیتے ۔پولیس سے بے رحمانہ تشدد، اور عدالتوں سے ناکردہ گناہوں کی سزائیں دلواتے رہتے۔ ہندوستان آزاد ہونے اور پاکستان کے وجود کے آنے کے بعد یہی جاگیردار اور سرمایہ دار،سیاستدان اور حکمران بنے۔انہوں نے اسی انتطامیہ اور اسی عدلیہ کو مزید مضبوط اور موثر بنایا۔ ہر ماہ پی ایل ڈی کے ذریعہ جرائم کو قانو نوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ انگریز اپنا مفتوحہ ملک اپنے ان غدار ایجنٹوں کے سپرد کر گیا۔جنہوں نے چودہ کروڑ مسلمانوں سے سرکاری طور پر ان کا دین اور لا تعداد ٹیکسوں ،منی بجٹوں،قیمتوں میں بے پناہ اضافوںسے انکی معاشی طاقت چھینتے چلے آرہے ہیں ۔جرائم پر مشتمل قوانین سے عدل و انصاف،عیسائی مفکروں کی انتظامیہ اور عدلیہ کے سکالر ،سودی یہودی معاشیات کے دانشور،ہندوازم کے طبقاتی نظریات کے مدبروں پر مشتمل سکولوںکالجوںیونیورسٹیوں سے مخصوص طبقاتی تعلیمی نصاب سے مسلمان نسلوں کوجمہوریت کا دین کش رائج الوقت مختلف نظریات کا زہر متواتر و مسلسل اتار تے چلے جا رہے ہیں۔
۱۰۔ جمہوریت کے نظام کو جوں کا توں جاری رکھا۔ وقت کیساتھ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق تبدیلیاںکرتے رہے۔ اپنا کنٹرول اور گرفت مزید مضبوط رکھنے کے لئے سخت اصول و ضوابط اور قانون مرتب کئے ۔ جس کے تحت یہی چھ سات ہزار جاگیردار، سرمایہ دار ملک کے سیاست دان اور حکمران بنتے چلے آرہے ہیں۔ ۱۹۴۷ ء سے یہی عظیم غدار شرفا ، معاشی اور معاشرتی غاصب اور دین و دنیا کے رہزن، دہشت گرد رہنما اس نظام حکومت کو چلاتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بھی انگریزوں کی طرح چودہ کروڑ عوام کو بدترین غلاموں کے کریکٹر کے علاوہ رشوت، کمیشن، کرپشن، سمگلنگ، نارکاٹکس، لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت ،بے حیائی ہر قسم کی اخلاقی،معاشی،معاشرتی انسانیت کش اقدار میں ڈھالنے اور اسلامی تشخص کو ختم اور مسخ کرنے کا عمل ملک میں جاری کر رکھا ہے ۔ اہل وطن کے ساتھ انتظامیہ، عدلیہ اور ملک کے تمام ڈیپا رٹمنٹ کی نوکر شاہی،افسر شاہی،منصف شاہی کا جو حسن سلوک ہے وہ صرف انسانیت سوز ہی نہیں بلکہ جنگی قیدیوں سے بھی بد ترین ، سلوک کرتے چلے آ رہے ہیں۔۷۰ فی صد کسان ، اور ۲۹ فی صد مزدور، محنت کش، ہنر مند، اور عوام الناس ، کی تمام محنت و مشقت ، سے کمائی ہوئی دولت، پیدا کئے ہوئے وسائل، ملکی خزانہ ، ملکی غیر ملکی قرضے ، ملک میں رائج ان گنت ٹیکسوں منی بجٹوں، تیل گیس، پانی بجلی اور تمام ضروریات زندگی کی اشیاء میں ہر روز،ہر وقت ، قیمتوں میں اضافے کے ڈاکے ڈالتے چلے آ رہے ہیں۔ انگریزوں کیطرح انہی پالیسیوں کے مطابق ملک کے تمام وسائل ، دولت، خزانہ، ملکی غیر ملکی قرضوں، کی بندربانٹ کرکے یہ دین و دنیا کے رہزن ،ڈاکے مارتے اور لوٹتے چلے آ رہے ہیں۔ ملک کی تمام ملیں، تمام کارخانے، تمام فیکٹریاں، ہر قسم کا کاروبار، بڑ ے بڑے ٹھیکے، بڑے بڑے ڈاکے، بڑے بڑے سرے محل، بڑے بڑے رائے ونڈ ہاؤس، اندرون ملک اور بیرون ملک پھیلے ہوئے شاہی محل، پیلیس ہاؤس، ان کی ملکیت ہیں۔ عوام آج بھی تنگ دستی ، غربت، اور بے روزگاری سے تنگ آ کر ان کے اس ظلم کے خلاف خود کشیاں، خود سوزیاں، کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کسان آج بھی صحراؤں میں خشک سالی سے تنگ آ کر نقل مکانی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اپنے جانوروں سمیت پانی کی بوند بوند کو ترستے دم توڑتے ، صحراؤںکی ریت ہی ان کا کفن دفن کرتی چلی آ رہی ہے ۔جبکہ انکے سرکاری میخانوں میں مختلف اقسام کے فارن مشروبات کے کروڑوں کے جام ہر دور میں چلتے رہتے ہیں۔
۱۱۔ اس کے علاوہ انہوں نے جمہوریت کے تحت چودہ کروڑ مسلمانوں کا مذہب اسلام کی بجائے عیسائیت، یہودیت، ہندوازم سرکاری طور پر رائج کر رکھا ہے۔ قومی زبان اردو کی بجائے سرکاری زبان انگریزی مسلط کر رکھی ہے۔ سکولوں کالجوں، یونیورسٹیوں میں عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم کے سکالروںکے نظریات کی تعلیم جاری و ساری ہے۔ دستور مقدس اور قران پاک کی تعلیم و تربیت ، اور اسلامی نظریا ت کو انہی ظالم بے دین، منافق ،سیاسی رہزنوں نے سرکاری طور پر منسوخ اور مسترد کررکھا ہے۔یہودیت کے سودی سکالروں ، جمہوریت کے دانشوروں، اور ہندو ازم کے کور چشم دیدہ وروں سے کیسے نجات حاصل کی جا سکتی ہے ۔ جب تک دستور مقدس کا نفاذ سرکاری طور پر ملک میں لاگو اور رائج نہ ہو۔جبکہ اس وقت پورا معاشرہ نظریات کی ابتری کابری طرح شکار ہو چکا ہے۔
۱۲۔ ۱۸۵۷ ء سے لے کے آج تک جمہوریت کے مذہب کی تعلیمات کازہر ملک کے تمام تعلیمی ادارے ، مسلمان نسلوں کے دل و دماغ میں اتارتے چلے آ رہے ہیں ۔ انگریز چلا گیا ، وہ اپنی معاشی برائیوں، اور معاشرتی بدکاریوں کے اصول و ضوابط اور نظام حکومت کا چارج اپنے نمائندوں ، ایجنٹوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، کے ہاتھوں میں دے گیا۔ خود غرضی، نفس پرستی، نفرت ،نفاق ، غاصبیت، آمریت، لوٹ مار، قتل و غارت ،صوبائیت، مختلف نظریات، پر مشتمل ۷۸ سیاسی جماعتوں کے منشوروں نے ملت کی وحدت کو ریزہ ریزہ کر رکھا ہے۔ اس سیاسی کھیل سے ملت کا اتحاد بکھرتا چلا جا رہا ہے۔ ملک کا ایک حصہ یعنی مشرقی پاکستان ان مجرم سیاست دانوں اور راہزن حکمرانوں کے اسی کھیل کی علیحدگی کا سبب بنا۔نیک دل،صالحہ فطرت،محب وطن سیا ستدان بھی اس پر تڑپے اور ہاتھ ملتے رہ گئے مگر وہ اس نظام اور سسٹم کا کچھ نہ بگاڑسکے۔ آج بھی مسلم لیگناں، پیپلز پارٹرناں، دینی جما عتناں، گھات گھات کی بولی بولنے والی سیاسی جماعتناں، ملک میں مختلف نظریات، مختلف عقائد میں ملت اسلامیہ کو منقسم کرتی چلی جا رہی ہیں۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا چلا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اتنے بڑے ملی سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی ان کی جنگ پریذیڈنسی، وزیر اعظم ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، وزیر ، مشیر، سفیر ہاؤسز، ایم پی اے، ایم این اے سینیٹروں کی سیاسی سیٹوں پر رسائی حاصل کرکے ملک کے شاہی ایوانوں تک، ملکی دولت تک، ملکی وسائل تک، ملکی خزانہ تک، ملکی تجارت تک، ملکی غیر ملکی قرضوں تک ،سرکاری شاہی دفاتر تک ، سرکاری شاہی گاڑیوں تک، اور سرکاری خزانہ لوٹنے والی عدل کش تنخواہوں تک ، ملک پر قبضہ کرکے شاہانہ زندگی گذارنا، معاشی اور معاشرتی دہشت گردی اور ملک کا نظم و ضبط پر کنٹرول حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ان لٹیروں، ڈاکووں ،رہزنوں اور بد بخت تاجروںنے کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام الناس سے ان کے منہ سے لقمہ،انکے پیدا کردہ وسائل کے علاوہ ان پر ظالم اقسام کے ٹیکسوں، بلوں، اضافی بلوں، منی بجٹوں، قیمتوں میں اضافوں اور بے شمار جابرانہ حربوں سے چودہ کروڑ عوام سے دولت چھین کر مغربی بینکوں میں لاکھوں کروڑوں، اربوں ڈالروں کے اکاوئنٹ کھول رکھے ہیں۔ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ ایک دوسرے کے خلاف احتساب کمیشن بٹھاتے رہتے ہیں ۔ وہ بھی سرکاری خزانہ سے اعلیٰ تنخواہوں،شاہی سرکاری سہولتوں،شاہی سرکاری رہائشوں،شاہی سرکاری گاڑیوں، ٹیلیفونوں، سرکاری نوکروں کی افواج،چپڑاسی،گن مینوں،مالی چوکیدار کی مراعات حاصل کرتے رہتے ہیں اور یہ بھی ٹی وی ڈراموں میںبے حیائی کی طرح ملکی خزانہ کو ذاتی تصرف میں لاتے اور معاشی طور پر پھیلتے رہتے ہیں۔
۱۳۔ ان اعلیٰ ایوانوں کے نمائندگان کی تعداد میں مستورات کے تحفظ کے نام پر اضافوں، مشاورتوں اور وزارتوں کے اضافوں، انکے ہارس ٹریڈنگ کے اخراجاتوں، انکے ساتھ افسر شاہی کی سرکاری افواج کے بجٹوں اوران کی تنخواہوں میں ڈبل اضافوں،بیشمار سرکاری شاہی سہولتوں کیلئے سرکاری خزانہ اکٹھا کرنے کیلئے انگنت ٹیکسوںاور یوٹیلٹی بلوں کے بیشمار اضافوں،منی بجٹوں کا زہر ہر وقت،ہر روز۷۰ فیصد کسانوں،۲۹ فیصد محنت کشوں اور عوام الناس کے جسموں اور ذہنوں میں اتارا جاتا ہے اور ان سے معاشی خون ان سرنجوں کے ذریعہ کھینچا جاتا ہے۔ اس عمل سے ایک تو غربت کا شکنجہ عوام الناس پر کسا جاتا ہے۔دوسری طرف اس منگائی کی بنا پر ہماری مصنوعات کا ریٹ دنیا کی مارکیٹوں کے ریٹوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس طرح ہماری بیرونی تجارت بھی بری طرح متا ثر ہو تی چلی جا رہی ہے۔ ملک کے بیشتر صنعتی ادارے تباہ اور بندہو چکے ہیں اور ملک بیروزگاری سے دو چار ہے۔ان ظالم،بے رحم درندہ صفت سیا ستدانوں کے پیدا کردہ ان حالات و واقعات کی بنا پر عوام بیروزگاری کے لا متناہی عذاب میں مبتلا ہو تے چلے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں ، خود سوزیاں اور خود کشیاں کرنے پر عوام مجبور کر دئیے جاتے ہیں۔انکا حساب اور احتساب ہونے کا وقت اب شروع ہو چکا ہے۔
۱۴۔ انکے احتساب والوں کی بات نہ پوچھو۔ وہ تو صاحب اقتدار کے صاحب اعتماد با ضمیر لوگ ہوتے ہیں ۔ وہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پرفائز ہوتے ہیں۔ سرکاری محل سرکاری گاڑیاںِ سرکاری ڈرائیور، سرکاری ٹیلی فون، سرکاری ریسٹ ہاوٗس، سرکاری اندرون بیرون ممالک کے دورے، اتم درجے کی خزانہ چاٹنے والی اعلیٰ تنخواہیں، بے شمار سرکاری سہولتیں، رشوت، کمیشن، کرپشن اس کے علاوہ ان کے اختیار ات کی قیمت الگ ہوتی ہے ۔ حکمران ان معاشی ڈاکوؤں کا احتساب اپنے من پسند کے شاہی ٹولہ کے افراد کو نوازنے اور ملک کے بجٹ پر ایک اور کنٹریکٹ فکس تنخواہ کا احتسابی شب خون مارنے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ملک میں ہر جرم اقتدار کی نوک پر قانون میں ڈھلتا چلا جا تا ہے۔ ان حالات و واقعات کی روشنی میں ملک کا سدھار اس جمہوریت کے غاصب نظام اور کرپٹ سسٹم اور ان جاگیر دار اور سرمائے دار وزیراعظموں، صدروں، گورنروں، وزیروں، مشیروں، ایم پی اے ، ایم این اے، اسمبلیو ں، سینیٹروں، لٹیروں، راہزنوں، کے بس کا روگ نہیں۔ یہ فریضہ تو اخوت و محبت اور مساوات کی چٹائی پر بیٹھ کر حضوراکرمﷺ کا کوئی پروانہ ہی ادا کر سکتا ہے جو اپنا سب کچھ بیت المال کے لئے وقف کردے اور خوف خدا کی زرہ پہن کر اس آمریت اور ملوکیت کے نظام کو پاش پاش کردے۔ یہ نفاق، اور باہمی نفرت کلمہ شریف ہی باہمی محبت میں بدل سکتا ہے۔ فرعو ن کی زندگی گذارنے والے موسیٰ علیہ السلام کی عاقبت کے وارث نہیں ہو سکتے۔
۱۵۔ ان سیاست دانوں، ان حکمرانوں، ان اہل بصیرت کور چشموں کو کیسے سمجھا یا جائے کہ ظلم، زیادتی، حق تلفی، معاشی قتل، بے گناہ قتل و غارت، اور عبرت ناک اذیتیں، دہشت گرد ہی تو تیار کرتی ہیں۔ جو اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے امریکہ ، روس جیسے ممالک کے ایوانوں میں خود کش حملوں سے گریز نہیں کرتے۔ اس کا تدارک کرنے میں سائنس بھی عاجز ہے اور جدید ٹیکنالوجی والے ممالک بھی۔ پاکستان سیاستد ان اور حکمران بھی ان خود سوزی ،خود کشی ، کرنے والے بے روزگاروں، صحراؤں، ریگستانوں میں بوند بوند پانی کو ترسنے والوں کو بھوک ننگ سے دوچار ستر فی صد کسانوں اور ۲۹ فی صد مزدوروں محنت کشوں کی دولت، وسائل پر ہاتھ صاف کرنے والوں اور ان سے عدل و انصاف، مساوات اور انکے بنیادی حقوق چھیننے اور ڈاکہ مارنے والے معاشی اور معاشرتی دہشتگردوں کو خاموش وارننگ سے سبق سیکھنا چاہیئے۔ ملک کے خزانہ ،وسائل اور دولت کو سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل سیاستدانوں نے جمہوریت کے مذہب کے جرائم سے ملک کو معاشی قتل گاہ بنا رکھا ہے۔ کیا ملوکیت کے نظام کی پیروی کرنا پاکستان کے مسلمانوں کے لئے اب جائز ہوچکا ہے ۔ عوامی اژدہا ان ظالموں، معاشی دجالوں، کو نگلنے کے لئے اب بیتاب کھڑا ہے شائید اس بات کی ان غاصبوں کو سمجھ نہیں آرہی۔
۱۶۔ پاکستان کا مسلمان ، جمہوریت کے مذہب کے غیر دینی سرکاری نظریات ، رسم و رواج ، نظا م اورسسٹم اور روایات میں گم ہو چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ دین کی تعلیمات اور کردار سے بھی محروم کر دیا گیا ہے ۔ اسم محمد ﷺ کے نام کے اجالے کی جوش و خروش والی تمنا کا دروازہ کھٹکھٹانے کا عمل اب جاری ہو چکاہے۔اسلامی معاشرے کے قیام کا وقت آج اہل پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہاہے۔مسلمانوں سے دین کی روشنی اور اسکا ذوق سفر چھیننے والے رہز ن، مسلمانوں اور اسلام کے بد ترین دشمن ہیں۔ ان سے نجات حاصل کرنا وقت کا اہم تقاضاہے۔
ؐ ۱۷۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر ؔآج تک ہمارے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، اور تعلیمی اداروں نے مسلمان نسل کو عیسائیت، یہودیت، اور ہندوازم کے مدبروں کے نظریات کی تعلیم و تربیت کی چتا میں جھونک رکھا ہے۔ ملک کی تمام سرکاری مشینری ، اور تمام کاروبار انہی نظریات کے سیاہ ضمیر سکالروں، ظلمات میں ڈوبے ہوئے دانشوروں،بے نور مدبروں کے ہاتھ میں ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کا نظام اور اہم فرض سپرد کر رکھا ہے۔ ملت اسلامیہ کے جسد کو جمہوریت کے مختلف نظریات ،پر مشتمل لاتعداد سیاسی جماعتوں کے لاتعداد منشور کینسر کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ وحدت ملت اور وحدت عمل کا شعور ختم اور مسخ کیا جا رہا ہے۔ اسلام کی خوبصورت عمارت پاکستان میں عیسائیت، یہودیت، اور ہندوازم کے نظریات کے سکالر، دانش ور، اور مدبر پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ان سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ملک کی تمام مساجد کو مسجد قرطبہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ملک میں دستور مقدس، اسلامی عمل ، اسلامی اقدار، اسلامی ضابطہ حیات سرکاری طور پر منسوخ اور معطل کیا جا چکاہے۔ اسلامی تعلیمات اور قران و فقہ کا علم صرف مساجد میں پڑھا اور پڑھایا جا رہا ہے۔ یاد رکھو ! اہل پاکستان کے ۷۰ فی صد کسان ۲۹ فی صد مزدور مسلمان ہیں۔ یہی ان کا فرقہ ہے ۔ یہی ان کا دین ہے۔ اور یہی ان کی جمیعت ہے ۔ چودہ کروڑ مسلمانوں کو یہ صاحب اقتدار سیاستدان اور حکمران جمہوریت کے مذہب کو سرکاری طور پر نافذالعمل کر کے عیسائیت کے سکالروں، یہودیت کے دانشوروں، ہندو ازم کے فلسفیوں کے نظریات کے جبر و تشدد، ظلم و بربریت کے قوانین و ضوابط کی گرفت میں بری طرح مقید کئے بیٹھے ہیں۔ ملت کے ہر شعبہ کے اخلاق و کردار کی تعمیر و تکمیل باطل اصول و ضوابط کے زیر سایہ رشوت ، کمیشن، کرپشن، بد دیانتی، نفس پرستی، خود غرضی، لوٹ کھسوٹ، سرکاری غبن، ڈاکہ زنی ، قتل و غارت، عدل کشی ، عدم مساوات ریاستی دہشت گردی، کی بنیادوں پر حکومتوں کی سرپرستی میں استوار ہوتی چلی آ رہی ہے۔ ہمارے سیاست دان ہمارے لیڈران، ہمارے حکمران دین کے نہیں، مسجدوں کے نہیں، کربلا والوں کے نہیں، بلکہ جمہوریت کے نظام کے رائج کردہ ملک میں سرکاری اداروں کے نظام ،سٹم کے یزیدی طرز کے ظلمت کدہ کے پیشوا بنے بیٹھے ہیں۔ فاسد اغراض و مقاصد کے پرستار اور لذت نفس کے پجاری بنے بیٹھے ہیں ۔ان بد بختوں نے اس غاصبانہ ، ظالمانہ طرز حیات کی تقلید کو اپنی نماز بنا رکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور ہدائتوں کو دنیاوی ا غراض و غائیت اور منفعتوں کے لئے پش پشت ڈالا ہوا ہے۔ دین سے گمراہ کرنے کا فساد قتل و خوں ریزی سے کہیں بڑھ کر مہلک ہے۔ اس فتنہ انگیزی اور بد ترین خون ریزی کاتدارک صرف اور صرف حکم خداوندی کی اطاعت میںہے ۔اہل وطن کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کے چند سوالات درج ذیل ہیں۔ ان کے جوابات،اہل منشورسیاستدانوں،حکمرانوں،افسرشاہی کے سکالروں، منصف شاہی کے دانشوروں ،ملک کے دیدہ وروں کی خدمت اقدس میں پیش ہیں ۔تاکہ وہ ملک و ملت کی ضروری رہنمائی فرما سکیں۔ملت اس سے استفادہ حاصل کر سکے۔امین
۱۔ کیا ملک ان سات آٹھ ہزار انگریز کے پروردہ جاگیر داروں، سرمایہ داروں پر مشتمل سیاست دانوں، اور حکمرانوں کی ملکیت ہے؟ مارشل لا حکومتیں ہوں یا سیاسی دور ہو ۔ یہ ہر حکومت کے ایوانوں میں موجود ہوتے ہیں۔
۲۔ کیا ملک کے تمام وسائل، دولت، خزانہ ، جس کو ملک کے۷۰ فی صد کسان اور ۲۹ فی صد مزدور، محنت کش، ہنر مند اور عوام الناس پیدا کرتے اور جمع کرتے ہیں۔ وہ ان کسانوں، محنت کشوں کی ملکیت اور میراث نہیں ہیں؟
۳۔ کیا ملک کی تمام دولت، خزانہ ، وسائل چودہ کروڑ عوام کی امانتیں نہیں۔ کیا سیاست دان، لیڈروان، حکمران، جمہوریت کی آڑ میں آپس میں اقتدار کی نوک پر عدل وانصاف اور مساوات کی تمام اقدار کو روند کر رہزنوں کی طرح لوٹتے اور ڈاکہ ڈالتے اور ہضم کرتے چلے نہیں آ رہے۔
۴۔ کیا یہ لوگ جمہوریت کے گھناؤنے طریقہ کار سے ملک کے خزانہ پر قابض ہو کر اپنی من مرضی کی سرکاری خزانہ سے از خود رائج کردہ جرائم پرمشتمل عدل کش قوا نین کے نفاذ سے شرمناک حدود کو تجاوز کرکے شاہی تنخواہیں، بے شمار سرکاری سہولتیں، ان گنت سرکاری مراعات، عدل و انصاف کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے مساوات کش اخلاق سوزاور اسلامی اقدار کے سراسر منافی ، شاہانہ تصرف میں نہیں لاتے چلے آ رہے۔ جب کہ چودہ کروڑ عوام ان کی اس بد کرداری کی وجہ سے معاشی طور پر بری طرح مفلوج اور سسک سسک کر دم توڑتے جا رہے ہیں۔
۵۔ کیا صدر ہاوٗ س ، وزیر اعظم ہاوٗس، پارلیمنٹ ہاوٗسز، کنونشن ہال سپریم کورٹ بلڈنگ، گورنر ہاوٗسز، وزیر اعلیٰ ہاوٗسز، وزیر ، مشیر، سفیر،، سپیکر ہاوٗسز، ہامانی، قارونی فرعونی نظام کی منہ بولتی، چیخیں مارتی، عبرت کدے کی نشانیاں نہیں ہیں۔ جہاں عوام الناس کے کروڑوں نہیں ا ربو ں ڈالروں کے زر مبادلہ سے ہولے کھیلی جاتی ہے۔ یا اسلام کی تعلیمات اخلاق و کردار عدل و انصاف یا مساوات محمدیﷺ کی ترجمانی کی سندیں ہیں۔
۶۔ کیا لندن و پیرس کو مات دینے اور شرمندہ کرنے والی ان شاہی محلوں کی وال ٹو وال قلین، قیمتی فرنیچر، لاجواب جدید ڈیکوریشن، شاہی آسائشوں سے مزین قیمتی ساز و سامان ، میں ملوکیت کا تعفن آتا ہے یا اسلامی اقدار کی خوشبو آتی ہے۔
۷۔ کیا سرکاری خزانہ سے ان کو بھاری تنخواہیں ،بے شمار سرکاری سہولتیں، ان گنت سرکاری مراعات، شاہی سرکاری رہائشیں، کروڑوں ڈالروں کے زر مبادلہ سے خریدی ہوئی بلٹ پروف گاڑیاں، لاتعداد لینڈ کروزرز، پجاروز، مرسیڈیز، ان گنت دوسری سرکاری گاڑیاں، ان گاڑیوں کی مینٹیننس کے اخراجات ،ڈرائیوروں کی تنخواہیں، بجلی ، گیس، پانی ، اور ان کی رہائشوں کے شاہی اخراجات ٹیلی فونوں کے بے شمار سرکاری اخراجات چودہ کروڑ غریب، محنت کش، مزدور، ہنر مند، دن رات کی تگ و دو اورمحنت و مشقت کے شاہکار، عظمت کے پیکر کسانوں، بے بس، یتیم، بیوہ ،نادار ، محتاج، اپائج، بے روزگار ، بھوک ، ننگ اور بیماریوں سے تنگ آ کر خود کشیاں اور خود سوزیاں کرنے والے عوام کی خواہش مرضی اجازت سے ان کے ٹیکسوں سے اکٹھا کیا ہوا سرکاری خزانہ کی امانت کو ہضم کرتے یا تصرف میں لاتے چلے نہیں آ رہے ہیں۔ یا اقتدار کی ظلم و بربریت کی تلوار کی دہشت گردی سے یہ ملی خزانہ لوٹتے چلے نہیںآ رہے ہیں ۔ کیا یہ سیاستدان، حکمران، ملی راہزن ہیں یا ڈاکو ہیں، یا شب خون مارنے والے دہشت گرد ہیں یا ملک و ملت کی امانتوں کے امین ہیں۔


۸۔ کیا جمہوریت کے بے دین کالے قوانین و ضوابط اور ملوکیت کے اصولوں پر مشتمل طرز حکومت کو چلانے والی نوکر شاہی، افسر شاہی، منصف شاہی، کے شاہی تعلیمی اداروں کی فار غ التحصیل شاہی افواج، ان حکمرانوں کی سرپرستی میں پورے ملک میں کینسر کی طرح پھیلی ،دیمک کی طرح ملی خزانے کو اہل اقتدار سے مل کر چاٹتی، بھاری تنخواہیں، شاہی سرکاری رہائشیں، سرکاری شاہی دفاتر، سرکاری پٹرول، سرکاری ٹی اے، سرکاری ڈی اے، سرکاری میڈیکل اخراجات، سرکاری اندرون ملک اور بیرون ممالک غیر ضروری دورے، بے شمار سرکاری سہولتیں، ان گنت سرکاری مراعات، سرکاری سٹیٹس کی جاگیریں ، رشوت، کمیشن، کرپشن کے مجرم ، ملک میں کینسر کی طرح پھیلا ہوا شاہی طبقہ چودہ کروڑ غریب اور ۳۸ ۔ ارب ڈالر کی مقروض عوام سے اجازت لے کر یہ سرکاری خزانے سے شاہانہ اخراجات کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یا اہل اقتدار سیاست دانوں حکمرانوں کے ٹولہ سے مل کر جبر و تشد ، ظلم و بربریت اور اقتدار کے ظالم شکنجوں، ہتھ کنڈوں اور جرائم پر مشتمل از خود تیار کردہ سرکاری عدل کش جرائم پر مشتمل قوانین،ضوابط سے زبردستی ڈاکے مارتے اور لوٹتے چلے آ رہے ہیں۔ کیا اس خزانہ کے مالک اور وارث انکے ظلم والے ہاتھوں کو روک نہیں سکتے۔
۹۔ کیا ملک کا ۵۵ سالوں کا سرکاری بجٹ اور ۳۸ ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضہ جات ان چھ سات ہزار جاگیرداروں ، اور سرمایہ داروں، سیاست دانوں، حکمرانوں ان کی افسر شاہی، نوکر شاہی، منصف شاہی کے راہزن، ڈاکو، دہشت گرد، اقتدار اور قانون کی بالا دستی سے ۷۰ فی صد کسانوں ۲۹ فی صد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں، پر مشتمل چودہ کروڑ غریب عوام بیر وزگار، تنگ دست، معاشی اپاہج، نادار دو وقت کی روٹی سے محروم خود کشیاں، خود سوزیاں کرنے والوں کا ملک ہے یا ان چند بد قماش ظالم ، بے رحم ، حکمرانوں معاشی دجالوں کاملک ہے ۔
۱۰۔ کیا سرکاری خزانہ اور بیرونی قرضے آئی ایم ایف کے قرضے ؔآپس میں تقسیم کرتے چلے نہیں آ رہے ہیں۔ کیا ملک میں بڑے بڑے قرضے ان کے علاوہ کسی کسان، مزدور، محنت کش، ہنر مند یا عوام کو کبھی جاری کئے ہیں۔کیایہ ملک ان راہزنوں، ڈاکووں لٹیروں، سیاست دانوں، لیڈروں، راہنماوں، حکمرانوں، یا افسر شاہی ، کے سرکاری دہشت گردوں کا ہے ۔ان مجرموں کو سزا کون دیگا۔
۱۱۔ کیا ان رہزنوں میں سے بیشتر لاکھوں کروڑوں کے قرضے معاف کرواتے چلے نہیں آ رہے۔ جب کہ ان کی جائیدادیں اور ان کے شاہی اخراجات، انکے شاہی محل، انکی شاہی گاڑیاں، انکے اندرون،بیرون ممالک پھیلے کارو بار،انکی لوٹ کھسوٹ انکے جرائم کی چیخیں مارتی اور اس نظام پر لعنت بھجتی جوں کے توں معاشی دجالوں کی نشان دہی کرتی چلی نہیںجا رہی ہیں۔ان کو دنیا دیکھ سکتی ہے سوائے کور چشم محتسبوں کے۔ان مجرموں سے یہ سرکاری امانتیں کون اگلوائے گا۔
۱۲۔ کیا ملک کی تمام ملیں، فیکٹریاں، کارخانے ، ملک میں شاہی محل ،شاہی جاگیریں، اندرون اور بیرون، ممالک تجارت، سرے محل، رائے ونڈ ہاوٗسوں، شاہی پیلسوں پر پھیلی ہوئی جائیدادیں ان کے جرائم کی داستانیں نہیں ہیں۔ان مجرموں سے یہ تمام مال و متاع واپس کون لے گا۔
۱۳۔ کیا انہوں نے ملک میں رشوت کمیشن کرپشن، کمیشن، حکومتوں کی سودا بازی، لٹیروں کو عام معافی، لوٹ کھسوٹ، احتساب کمیشنوں میں کیسوں کی معافیاں، الیکشنوں میں کامیابیوں کی بنا پر ہر قسم کے ڈاکے ، غبن اور جرائم کے خاتمے، سیاسی رشوتوں، وزارتوں،مشاورتوں کے سودے ان کے روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں بنا آ رہا ۔کیاعوام ان راہزنوں ، راہبر وں ، راہنماوٗں، حکمرانوں کو جمہوریت کی سیاہ کاریوں،بد کاریوں کے رائج الوقت نظام حکومت کا جھولا جھولتے نہیں دیکھتے آ رہے۔ مجرم قانون، عدل کش ضوابط ان کی سلطنت کا حصہ نہیں ہیں۔ کیا یہ ملک و ملت کی اس تباہی کے اصل مجرم نہیں ہیں۔ا ن مجرموں کا احتساب کون کریگا۔
۱۴۔ ہیلی کاپٹر خرید کرنے ہوں یا پی آئی کے جہاز یا ایف سیکسٹین یا کوئی اور سامان حرب ہو ، گندم خرید کرنی ہو یا چاول فرخت کرنے ہوں یا کسی قسم کی تجارت کرنی ہو ، عمرہ یا حج جیسے متبرک فریضہ ادا کرنا ہو ان کی کروڑوں کی کمیشن، رشوت اور ہر طر ح کی کرپشن ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا آ رہا ہے ۔کیا ہر قسم کی خرید و فروخت میں یہ راہزن حکمران بدقماشی کا عمل اقتدار کی نوک پر مل جل کر کرتے چلے نہیںآرہے۔ کیا ایسا کرنا ان کے اقتدار کی تلوار سے نہیں ہوتا آرہا۔ کیا ملک کے جرائم پر مشتمل تمام قوانین اور اعلیٰ منصف ،عظیم محتسب اور رہزن حکمران ان جرائم کا تحفظ کرتے چلے نہیں آ رہے۔ کیا انہوں نے مل جل کر ملک کا خزانہ،دولت اور ہر قسم کے وسائل لوٹنے کے گھناؤنے جرائم پر مشتمل کالے قوانین، جمہوریت کی آڑ میں تشکیل نہیں دے رکھے ۔ کیا یہ قوم کے خادم ایم پی اے،ایم این اے ،سینیٹر صاحبان از خود ایک سادہ زندگی،مختصر ضروریات پر مشتمل ایک عام کسان، ایک عام مزدور،ایک عام ہنرمند کے فی کس آمدن کے مطابق سرکاری خزانہ سے اپنا اپنا عوضانہ ماہوار لینے کے لئے تیار ہیں۔ وزیر ،مشیر،سفیر،وزیر اعلیٰ،گورنر،وزیر اعظم اور صدر پاکستان ایسا کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ جن چودہ کروڑ اہل وطن مسلمانوں سے ووٹ لیکر آئے ہیں انہوں نے ان کو معاشی دجالوں کے طریقہ کار کی اجازت نہیں دی۔خبردار کسی نے ملت اسلامیہ کی امانت کو اب لوٹنے کی جرات کی ۔دل کاکینسر،شوگرکا نزول ، کالے ، چٹے یرکان، بلڈ پریشر، گردوں کے نقائص اور طرح طرح کی بیماریوں کی شکل میں خوفناک عذاب انکے تعاقب میںہے۔اسکے علاوہ نا گہانی آفات سے انہیں کوئی نہیںبچا سکتا۔وقت ہے چودہ کروڑ مسلمانوں سے اپنے کئے کی معافی مانگیں اور اللہ تعالیٰ سے آ ہ و زاری اور مغفرت کی التجا کریں۔
۱۵۔ کیا ملک کا چوری کیا ہوا، لوٹا ہوا، ڈاکے سے چھینا ہوا، نوے ارب ڈالر مغربی ممالک کے بینکوں میں ان کا موجود نہیں۔ملک کا کوئی
محتسب،کوئی حکمران ان ظالموں تک رسائی حاصل نہیں کر سکا۔ ملک و ملت کی معاشی سانس اکھڑی ہوئی ہے ۔یہ معاشی سمگلراور معاشرتی دہشتگرد جرائم پر مشتمل اقتدار کی تلوار سرکاری قوانین کی نوک پرملی خزانہ لوٹ کر فرعون کی طرح شاہانہ تصرف میں لاتے نہیں آ رہے۔ کیا یہ تمام دولت مغرب کے بینکوں میں محفوظ نہیں کئے جا رہے۔ کیا ان کا احتساب ممکن ہے۔ جی ہاں۔ ان کی تمام جائیدادیں، ملیں، فیکٹریاں، کارخانے ، صنعتی یونٹ، شاہی محل ، شاہی پیلیس، ان کے بینکوں میں پڑے ہوئے ڈالر، فورا ضبط کر لو۔ کیونکہ یہ دولت چودہ کروڑ عوام کی ہے ۔ جو انہوں نے خود ساختہ قوانین کے ظلم و بربریت اور اقتدارکی نوک پر لوٹی ہوئی ہے۔ ایسا کرنے سے کوئی راشی، کوئی کمیشن خور، کوئی راہزن ،کوئی ڈاکو ، کوئی سمگلر، کوئی بلیکیا، نہ ملک سے بھاگ سکے گا اور نہ ہی قانون سے بچ سکے گا ۔ان کے شاہی اخر اجات کو ایک محنت کش ایک مزدور ایک کسان ایک ہنر مند کے اخراجات سے غسل دے دو۔ ان کا فرعونی قارونی ہامانی نشہ خود بخود اتر جائے گا۔ملت تاریک رات سے باہر نکل آئیگی ۔ وقت ہے سنبھل جاؤ ورنہ عوامی اژدھا ان سب کو نگل جائے گا۔انکے لئے معافی کے تمام دروازے بند ہونے والے ہیں۔
۱۶۔ کیاان صاحب اقتدار سیاستدانوں، لیڈروں، حکمرانوں کی شاہی سرکاری سہولتیں، سرکاری مراعات اور تنخواہوں میں ڈبل اضافوں کی خبریں اخباروں میں شائع ہوتی چلی نہیں آ رہیں۔ ان کے ساتھ ۷۰ فی صد کسانوں ۲۹ فی صد مزدوروں ، غریب،مسکین اور مفلوک الحال عوام کو بجلی، گیس، پانی، تیل کی قیمتوں میں اضافوں اور ٹیکسوں کے ذریعہ عوام الناس کا آخری لقمہ چھیننے کی نوید کی خبریں بھی سنائی نہیں جا رہی۔ کیا یہ عدل کش نظام، مساوات کش سسٹم اوریہ ظلم و بربریت کاطرز حیات، جمہوریت کی چھتری تلے پروان چڑھتا چلا نہیں آ رہا ۔اس ملوکیتی نظام کو پاش پاش کون کریگا۔ا ن ظالم حکمرانوں کا ہا تھ کون روکے گا۔خبردار ٹیکس کلچر او ر ملی خزانہ لوٹنے کا کلچر ختم کرو۔اس وقت تک عوام سے کوئی ٹیکس لینے کا نہ سوچے جب تک وہ خود اپنی روز مرہ کی زندگی کے اخراجات ایک مزدور،ایک کسان کی ضروریات کے مطابق نہیں لے آتے۔ملک کا بجٹ صرف کافی ہی نہیں بلکہ تمام قرضے دنوں میں اتریں گے۔ان معاشی اور معاشرتی مجرمو ں کی بچت اسی میں ہے۔
۱۷کیا اس ملک کے ۷۰ فی صد کسان ہر قسم کا را میٹیریل، خام مال، خوراک، لباس، پھل، میوہ جات، سبزیاں اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگوشت دودھ کی نہریں، نمک، مرچ ،گرم مصالحہ، جڑی بوٹیاں، دنیا کی چالیس فی صد عمدہ کپاس اور دنیا کا بہترین چاول، دالیں، گڑ ،شکر ،چینی ،خوردنی تیل، گھی، مکھن، زندگی کی ہر ضروریات وافر مقدار میں مہیا نہیں کرتے چلے آ رہے۔ کیا ان کی بے پناہ ہمت و محنت سے پیدا کئے ہوئے تمام وسائل، تمام دولت، تمام خزانہ، مختلف جرائم پر مبنی انتظامی حربو ںسے جمہورییت کے پجاری چھینتے اور ہضم کرتے چلے نہیں آ رہے۔ اگر ان کا معاشی قتل بند نہ ہوا تو ان کی اولادیں موجودہ نظام کو غلط حرف کی طرح مٹا دیں گی۔دینی اور دنیاوی مجرمو! اپنے اعمال اور کردار کو درست کر لو۔اسلامائزیشن کا عہد پورا کر دو۔ اسی میں تمہاری بہتری اور نجات ہے۔تقدیر نامہ تمہارے اعمال کا آئینہ ہے۔
۱۸۔ کیا ملک کے ۲۹ فی صد مزدور، محنت کش ہنر مند اور عوام الناس ان کے سرکاری محلوں ان کے ذاتی شاہی محلوں، پیلیس ہاوٗسوں ،ملوں ، کارخانوں، فیکٹریوں، نہروں، ڈیموں، سڑکوں، ہوائی اڈوں اور ملک میں ہر طرح کی تعمیر وتکمیل کے فرائض اپنے اپنے ہنر کے کمالات، اپنی اپنی محنت اور ہمت کے معجزات ملک کے وسیع وعریض رقبہ پرپھیلاتے چلے نہیں آ رہے۔ان کی محنت و مشقت کی کمائی کو یہ
چند جمہوریت کے معاشی درندے نگلتے نہیں آ رہے ۔ کتنے ظلم کی بات ہے کہ ان میں سے بیشتر کے پاس تو کوئی جھونپڑا نہ ہو اور نہ ہی ان کے پاس کچھ کھانے کو ہو اور انکے روز مرہ کے شاہی اخراجات ملک کا خزانہ چاٹ جائیں ۔ تمہارے عدل و انصاف کے محلوں پر لعنت۔
۱۹۔ صحراؤں، بیابانوں، دشوار گذار ریگستانوں، میدانوں، میںکسان بنجر زمینوں کو آباد کرنے اور ان کو پیداوار کے قابل بنانے مختلف اجناس اور وسائل کو بڑھاتے چلے نہیں آ رہے۔ لیکن وہ ان ویران اور سنسان صحراؤں اور ریگستانوں میں وہ پانی کی بوند بوند کو سالہا سال سے ترستے چلے نہیںآرہے۔ لیکن ان کے محلوں میںفریج، ان کی عمارتیں ایئر کنڈیشنڈ اور عیش و عشرت کے ساز و سامان سے لند ن و پیرس کو شرمائے جائیں ۔ان کے پینے کا پانی بھی ڈسٹل واٹر کی بوتلوں میں سائنٹفک طریقوں سے محفوظ ان کے مختلف مشروبات کی بات نہ پوچھو ۹۹ فی صد عوام الناس کی حالت زار اور ان چند خزانے کے آستین کے سانپوں اور محافظوں کی زندگی کافرق جمہوریت کے غاصبانہ نظام میں ہی ہو سکتا ہے۔ اسلامی طرز حیات میں انسان ا یسے واقعات، حرکات اور حالات کا کبھی سو چ بھی نہیں سکتا۔وقت نے اپنا فیصلہ دیدیا ہے۔تمہارے جرائم اور مخلوق خدا پر ظلم کرنے کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔
۲۰۔ کیا ہمارے۷۰ فی صد دیہاتوں میںبسنے والے کسانوں نے صرف ملک کو گندم ،چاول، چینی، کپاس، دودھ،گوشت ،شہد ،کھجور، فروٹ، سبزیوں، پھلوں اور ہر قسم کے میوہ جات مہیا نہیںکرتے چلے آ رہے۔ملک میں بسنے والے مزدور،ہنرمند،محنت کش، کسان اور عوام ملک میں رائج قانونی جرائم اوراقتدار کی نوک پر یہ کروڑوں،اربوں کازرمبادلہ انکی طرح سرکاری اور ذاتی سامان تعیش کی زینت بناتے چلے نہیں آرہے ۔کیا ان مظلوموں کا یہ حق بھی نہیں بنتاکہ وہ ان کا یہ ظالمانہ ہاتھ اور عمل روک سکیں۔
۲۱۔ کیا ہمارے ۲۹ فی صد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندوں نے فیکٹر یاں، ملیں، کارخانے،صرف تعمیر ہی نہیں کئے بلکہ ہمت و محنت سے دن رات چلا کر ہر قسم کے سٹاک تیار کئے۔ سامان حرب تک کفالت ہی نہیں اس کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر پہنچایااور زر مبادلہ کا ایک عظیم کارنامہ سر انجام دیکر ملت کو ایک اعلیٰ مقام سے ہمکنار کر دیا۔ یہ سب کچھ بے رحم سیاستدانوں، لیڈروں،حکمرانوں کے بے پنا ہ شاہی اخراجات اور عیش و عشرت کی نذر ہوتا چلا آرہا ہے۔ کیا ان عدل و انصاف کو کچلنے والے اور ظالم غاصب نظا م اور شرمناک حق تلفیوں پر مشتمل سسٹم اور اس کے پجاریوں کو ختم کرنا چاہئے یا نہیں۔
۲۲۔ کیا ہمارے ہنر مندوں، محنت کشوں، سائنس دانوں نے ملک کو ایٹمی طاقت نہیںبنایا وہ میزائیلوں کے میدان میںاپناسکہ منوانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔کیا انہوں نے ملک کے ڈیفنس کو ناقابل تسیخر نہیں بنا یا ۔کیا ان اقتدار کے درندوں نے عظیم کسانوں، مزدوروں محنت کشوں ،ہنر مندوں کو معاشی دہشتگردی اور عدل کشی کے میزائیلوں سے انکو بری طرح مفلوج نہیں کر رکھا۔ کیا انکا یہ عمل اس سائنسی ترقی میں بری طرح حائل نہیں ۔کیاان سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے یا نہیں۔


۲۳۔ کیا یہ ملک ستر فی صد کسانوں ۲۹ فی صد مزدورو ں، محنت کشوں ہنر مندوں اور سادہ، غریب عوام کا ملک ہے یاان سات آٹھ ہزار سماجی، سیاسی ،معاشی، ظالم، بے رحم عدل کش لیڈروں غا صب سیاستدانوں اور رشوت خور حکمرانوں کا ملک ہے۔ کیا یہ سب رہزن اہل وطن عوام کے نوکر خادم ملازم اور پاکستان کے سرکاری خدمت گذار ہیں یا غاصب ،قاتل، بے رحم ،ڈاکو اور لٹیرے بدکردار دہشت گرد اخلاق سوز
انسانی روپ میں دردندے حکمران ہیں یا ملت کے خزانہ کے آمین ہیں۔
۲۴۔ کیا ملک کے ۹۹ فی صد محنت کشوں کی محنت و ذ ہانت نے ملک و ملت کی حفاظت کے فرائض ادا نہیں کئے ۔کیا انہوں نے ملک کو دنیا کی بڑی ایٹمی طاقتوں کی لسٹ میں شامل نہیں کر دیا۔ کیا ان عیاش بدبخت سیاستدانوں، حکمرانوں نے اقتدار کی ایٹمی سیاسی جنگ میں ملک کو دو لخت نہیں کیا۔ان کے اقتدار کی بے دین سیاسی ایٹمی جنگ ابھی بھی ملک میں جاری ہے۔ ان سے ملکی اقتدار اور ملی خزانہ واپس حاصل کرنا ضرری ہے یا نہیں۔ان مجرموں کے جرائم کا کھوج اب لگ چکا ہے۔مزید ملک کو انکے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچائیں۔
۲۵۔ کیا سیاستد ان اور حکمران انگنت ٹیکسوں بیشمار بجلی ،تیل، گیس، پانی، ٹیلفیون کے بلوںمیں اضافوں اور مہنگائی کی سرنجوں سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر چودہ کروڑ عوام کے معاشی خون سے ملی خزانہ بھرتے نہیںآ رہے۔ کیا وہ ہامانی اسمبلیاں ،قارونی وزیر، مشیر ،سفیروزیراعلیٰ گورنر، وزیراعظم صدر پاکستان اور فرعونی انتظامیہ عدلیہ کے نظام اور سسٹم کی آگ میں چود کروڑ عوام کو جلاتے جھلساتے اور بھسم کرتے چلے نہیں آ رہے۔ مغربی تہذیب کی جمہوریت اس کی تعلیم و تربیت اور اس کے شاہکار دانشوروںسے نجات ملت کی زندگی کے لئے از حد ضروری ہے یا نہیں۔ اسلامی تعلیم ، اسلامی کلچر، اسلا می کردار ملت کی بنیادی ضرورت ہے یا نہیں۔خدا اس مشن کے مجاہدوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔
۲۶۔ کیا صحراؤں، بیابانوں، ریگستانوں میں خشک سالی کی وجہ سے لاکھوں کسان ان کے بچے بھوک پیاس سے سسک سسک کر مرتے، دم توڑتے، سورج کی آ گ برسانے والی تپش سے جھلستے اور دم توڑتے چلے نہیںآرہے۔ ایک طرف تو پاکستان کے عظیم کسان، محنتی مزدر، ان کے جانور، با ہمت محنت کش ملک میں بوند بوند پانی کو ترسیں،بھوک اور ننگ کی کشمکش میںنقل مکانی کے دوران قافلے کے قافلے مرتے رہیں۔انکا کفن دفن تپتے ریگستان کرتے رہیں، وہاںتک تو یہ ظالم غاصب بے رحم سنگ دل سیاستدان ، اور حکمران ایک پائپ پانی کا نہ پہنچا سکیں ۔ اس عدم مساوات کا مجرم اور ذمہ دار کون ہے۔ اس ملکی ٹریجیڈی کا کیس کس عدالت میں درج کرائیں۔ان کا یزیدی نظام ، ان کا ملوکیتی نظام کیسے ختم کیا جائے گا، کون ان مجرموںسے نجات دلوائے گا، ابلیس کی مجلس شور یٰ کے ممبران سے چودہ کروڑ مسلمانوں کو کون نجات دلائے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ کی مجلس شوریٰ کے عملی نظام کو کون پیش کرے گا۔ مرحوم ملت کو چراغ حیات کون عطا فرمائے گا۔یا اللہ کربلائی قافلے کے عاشقان عمل وکردار کی خوشبو پیش کرنے کی توفیق عطافرما۔ جس سے پوری انسانیت اور ہر ذی جان مہک اٹھے ۔
۲۷۔ کیا سیاستدان، حکمران سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل ملک کا شاہی طبقہ بتا سکتا ہے کہ ۷۰ فی صد کسانوں کے پاس پینے کا سادہ، صاف، شفاف پانی کا کوئی سرکاری انتظام موجود ہے۔ جبکہ وزیر،مشیر، وزیر اعلیٰ ہاؤ سز ،گورنر ہاؤ سز، ا سمبلی ہا ؤ سز، وزیراعظم ہاؤس صد ر ہاؤس ، سپریم کورٹ ہاؤس کے مشروبات ، ڈسٹل واٹر، چائے، قہوہ اورشراب طہورہ کے روزانہ کے ا خراجات ان پر اور ان کے مہمانوں پر کتنے ہوتے ہیں۔ دھوپ میںجلنے ،جھلسنے اور محنت و مشقت کی بات نہ کریں ۔ اور شاہی سرکاری محلوں کی جدید ڈیکور یشنوں اور وال ٹو وال کلینوں، ایئر کنڈیشنوں اور انگنت سرکاری سہولتوں، مراعات اور سرکاری خدمت گاروں کی بات بھی نہ کریں۔ اے نام نہاد مسلمانو! منافق سیاست دانو! رہزن حکمرانو ! ہر قسم کا ظلم و بربریت،جبر و تشدد کا عمل تمہاری جمہوریت کا پیش لفظ نہیں۔کیا چودہ کروڑ عوام معاشی طور پر مفلوج
،اپاہج اور بیروزگاری کی زندگی گذار نہیں رہے۔کیا وہ خود کشیاں اور خود سوزیاں اسی ملک میں کرتے چلے نہیں آرہے۔کیا وہ انسانی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہوتے نہیں آرہے۔اے جمہوریت کے مذہب کے مسلمان حکمرانو! کیا انصاف، عدل، مساوات اور حق پرستی کاطریقہ سلیقہ ایسا ہوتا ہے ۔کیایہ ابلیس کا طرز حیات نہیں۔کیا ملک کا تمام نظام اور سسٹم حکمرانوں کو ۱۹۴۷ ء سے وراثت میں ملتا چلا نہیں آرہا۔
۲۸۔ کیا ظالم سیاست دان ،راہزن لیڈران اور بدبخت حکمران یہ بتاسکتے ہیں کہ ملک کی کثیرآبادی جو ۷۰ فی صد کسانوں پر مشتمل ہے۔ ان دیہاتوں یا علاقوں میں کوئی ایک زرعی کالج کوئی ٹیکنیکل کالج ،کوئی میڈیکل کالج، کوئی کمپیوٹر کالج، کوئی سائنس کالج کوئی ایک بھی یونیورسٹی انکے پاس پورے ملک میں موجود ہے۔ کیاان ۷۰ فیصد کسانوں کی نسلوں پر ہر قسم کی تعلیم کے دروازے ان پر سرکاری طور پر بند نہیں۔کیا ان کی اولادیںایچی سن کالج یاایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ طبقہ کی سرکاری صفوں میںبیٹھ سکتے ہیں ۔کیا جاگیرداروں، سرمائے د اروں پر مشتمل سات آٹھ ہزار دہشت گرد جاگیرداروں،سرمائیداروں، سیاست دانوں، حکمرانوں نے ان کے حقوق اقتدار کی نوک پر غصب نہیںکررکھے۔ کیا ملک میں اعلیٰ تعلیم ، اعلیٰ تعلیمی اداروں پراس شاہی طبقہ اور انکی اولادوں کی اجارہ داری قائم نہیں ہے۔
۲۹۔ کیا تمام سیاسی جماعتوں کے الگ الگ منشوروں پر مشتمل سیاست دان حکمران بتا سکتے ہیں کہ ملک میں پھیلے ہوئے لاتعداد سرکاری ہسپتالوں کے مراکزان کیلئے بڑے بڑے شہروں تک محدوداور مسدود نہیں۔ جہاںسے صرف یہی علاج معالجہ کروا سکتے ہیں ۔ جبکہ ۷۰ فی صد د یہاتوں میںبسنے والے کسانوں کے لئے پورے ملک کے کسی ایک گاؤں میں بھی ایسا ہسپتال موجود ہے۔ کیا ان کے پاس کوئی ٹی بی ہسپتال ہے۔ کیا ان کے پاس کوئی کڈنی ہسپتال ہے۔ کیا ان کے پاس کوئی کینسر انسٹی ٹیوٹ ہے ۔کیاان کے پاس کسی مرض کا کوئی ایساہسپتال ہے جہاںسے وہ عام بیماریوں کا شہروں کی طرح علاج معالجہ کروا سکیں۔ کیا پورے ملک کے کسی دیہی علاقوں میں کوئی کسی قم کی ٹیسٹ لیبارٹری ہے۔ جہاں سے انکی امراض کی تشخیص ہو سکے۔ یہاں تو بیماریاں ان پر موت کی شفا لے کر نازل ہوتی ہیں۔وہ تو سسک سسک کر دم توڑتے ، بیماریوں کی اذیتوں میں چیختے،ڈھارتے موت کا لقمہ بنتے رہتے ہیں۔ کیا ملک کی تمام دولت ،خزانہ وسائل، ذرائع، را میٹیرئل ۷۰ فی صد کسان پورے ملک کو مہیا کرنے کی واحدایجنسی نہیں۔کیاملک معاشی طور پر خوش حال ان کے دم سے نہیں۔کیا ملک کے خزانہ سے تیار ہونے والے غاصب وزیراعظم ہاوٗ س ،صدر ہاوٗس، عدل کش سپریم کورٹ ہاؤس اور اس پر مسلط ڈاکو ، رہزن ، دہشت گرد، ظالم، قاتل ،عدل و انصاف کو مسخ کرنے اور اسلامی اقدارکو سرکاری طور پر روندنے والے خدا اور رسول ﷺ کے باغی چودہ کروڑ مسلمانوں کے نظریہ اسلام کو منسوخ کرنے والے دین کے اصول و ضوابط او ر ضابطہ حیات کو ملکی سطح پر سرکاری طور پر معطل کرنے والے حکمرانوں کو پہنچانو تو۔ یہ کون ہیں ۔یہ یہودی ہیں ، عیسائی ہیں یا ہندوازم کے نظریات کے ایجنٹ اور اسلامی نظریات کے قاتل ہیں۔کیا یہ مسلمان ہیں،کیا یہ کافر ہیں،کیا یہ منافق ہیں۔ جو ملت اسلامیہ پر سیاستدانوں ، حکمرانوں کی شکل میں مسلط ہیں۔ان کا حساب بے باک کرنا اور ان سے نجات حاصل کرنا اب ضروری ہو چکا ہے۔ کلمہ شریف ہی ملت کو وحدت خیال اور وحد ت عمل عطا کر سکتا ہے۔ خبردار ان کے اوپر کوئی ہاتھ نہیں اٹھانا،کسی قسم کی جسمانی تکلیف نہیں دینا،اس باطل غاصب نظام اور سسٹم سے نجات حاصل کرنا اور ان سے اقتدار اور نظام حکومت واپس لینا
ہے۔ ملک کی تمام لوٹی ہوئی دولت ،کارخانے،ملیں،فیکٹریاں،ہر قسم کے صنعتی یونٹ،شاہی محل،شاہی پیلس، شاہی گاڑیاں، اندرون اور بیرون ممالک اقتدار کی نوک پر پھیلے ہوئے کارو بار۔ ملکی تمام دولت،خزانہ اور ہر قسم کے وسائل ا ن سے واپس لینے از حد ضروری ہیں۔ ان کو صرف ایک کسان اور ایک مزدور کے حقوق فراہم کرنے ہیں ۔ملک میں دستور مقدس کی روشنی پھیلانے کا عمل، اسکا نفاذ، اسلامی شورائی نظام، اسلامی تعلیم،اسلامی ضابطہ حیات، اسلامی ماحول، اسلامی طرز حیات اور اسلامی عدل و انصاف کا روشن ومنور چراغ آنے والی نسلوں کے ہاتھوں میں دینے کی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مل کر ملک و ملت کا یہ دینی فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔ امین۔ تاکہ پاکستان دنیائے اسلام اور پورے عالم انسانیت کے لئے علم و عمل کا مرکز اور رحمت اللعٰلمینﷺ کے اخلاق و کردار اور حسن اخلاق کا مخزن بن سکے ۔ آمین۔
۳۰۔ کیا ملک کے جاگیردار، سرمائے دار ،سیاست دان، لیڈران، حکمران یہ بتاسکتے ہیں کہ ۲۹ فی صد شہروں میںبسنے والے مزدور، محنت کش، ہنر مند اور ان کی اولادیں اور سفید پو ش عوام الناس شودر وں کیطرح زندگی بسر کرتے نہیں ہیں ۔جوصبح سے لے کرشام تک اور شام سے لے کر صبح تک تمہاری فیکٹریوں، کارخانوں، ملوں ، صنعتوں، دفتروں اور ہر شعبہ زندگی میں محنت مشقت کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ بیروزگاری کی زندگی گذارتے ہیں ۔ اور مالی ابتری کا شکار، رہائش، خوراک، لباس کی اذیتوں میں مبتلا رہتے، کشمکش حیات سے دوچار رہتے ، بیماری اور علاج سے محرومی کے عذاب میں تڑپتے ،سسکتے ،معاشی زخموں کی اذیتوں میں مبتلا رہتے چلے آرہے ہیں۔ تلخی ء دوران کی آری ان کے جسم و جان اور روح کو ہر لمحہ چیرتی، تنگ دستی کی گھٹن ان کا سانس روکتی، ان کے اور انکی اولادوں کے فرسودہ لباس اور پژمردہ چہرے اس ظالم نظام اور غاصب سسٹم اور اسکے رہزن اور درندہ صفات متولیوں پر صبح شام لعنت بھیجتے چلے آرہے ہیں۔ وہ خوراک سے محروم، لباس سے محروم، علاج سے محروم، رہائش سے محروم ،بجلی پانی گیس تیل کی قیمتوں میں اضافوں، مہنگائی اور ٹیکسوں در ٹیکسوں کی سرنجوںسے معاشی خون چوسنے کی اذیتوں نے ان کے ذہنی، جسمانی صلاحیتوں کو مفلوج اور مفقود کر رکھا ہے۔ اے ظالم جاگیردارو! اے غاصب سرمایہ دارو! اے بے رحم سیاسی لیڈرو!اے معاشی قاتل حکمرانو ! کیا۷۰ فی صد کسانوں ۲۹ فی صد مزدوروں، محنت کشوں، ہنر مندو ں، مفلوک الحال عوام الناس کی اولادیں کون سے انسٹی ٹئیوٹ سے بیماریاںچیک کروائیں۔ کون سے ہسپتالوں سے بلڈ پریشر کو چیک کروائیں ۔ کون سے ہسپتال سے ٹی بی کی ادویات حاصل کریں۔ کون سے انگلش میڈیم اداروں سے بچوں کو تعلیم دلوائیں ۔وہ کیسے ایچی سن کالج میں بچوں کی تعلیم و تربیت کروائیں۔ وہ کیسے اکاون فی صد مستورات کو اسمبلیوں یا حکومتی پنڈال میں پہنچائیں۔ یہ تمام راستے ،یہ تمام منزلیں، یہ تما م عہدے، یہ تمام حکومتی کرسیوں کو حاصل کرنے کی پایسیوںکے دروازے ان سات آٹھ ہزار جاگیر داروں ، سرمائے داروں،ظالم سیاستدانوں، غاصب حکمرانوںاور ان کی اولادوں کے محلوں تک جا کر کھلتے ہیں۔اب انکے ساتھ انکی بیٹیاں ،بہنیں اور مائیں بھی اس جمہوریت کے اقتدار کے کھیل میںبرابر شریک ہو نگی۔ ملکی دولت،ملکی وسائل،ملکی خزانہ لوٹنے میں برابر کی شریک ہونگی۔یہ کیسے دھوکے باز ہیں کہ ۵۱ فیصد غریب،مسکین مستورات کے نام پر ملک کے خزانہ پر ایک اور شب خون مارنے اور اسلام کی ایک اور شرم و حیا اور پردہ کی اکائی کو توڑنے اور مسخ کرنے؁ٓ؁ٓ میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ ملک و ملت ان ملوکیت کے ظالموں، جابروںاور قاتلوں کی خوفناک گرفت میں مقید ہو
چکی ہے۔ لاالہ الا اللہ محمدالرسول اللہ کاورد کرتے ہوئے، ان سے حکومت اور اقتدار فورا واپس لینے کیلئے تیار رہو۔ ان کو اسلام کا غسل دو۔ان کی تمام جائیدادیں جو کسانوں اور مزدوروں، محنت کشوں ،ہنر مندوں، اور عوام الناس کی ملکیت ہیں ان سے فوری طور پر واپس لینا ہونگی۔ ان کوایک کسان اور مزدور کے حقوق دین کی روشنی میں سرکاری طور پر مہیا کرو۔ ان کو انصاف اور عدل کے ضوابط سے گذارو۔ ان کورزق حلال کمانے اور کھانے کی ۹۹۹ فی صد عوام ا لناس کی زندگی سے روشناس کروادو۔ ملک اور ملت کو امن اور سکون میسر ہو گا۔ ان کو مزید ملکی دولت، ملکی وسائل ،سرکاری خزانہ شاہی محلوں، شاہی گاڑیوں،اور شہنشاہی اخراجات ہامانی، قارونی، اور فرعونی لوازمات کو چھین کر مزید ملک و ملت کو تباہ ہونے سے بچایا جانا ضروری ہو چکاہے۔ان دہشت گردوں کو قابو کر نا ہر معاشی مظلوم ومقتول ،ہرخود کشی کرنے والے،ہر خود سوزی کرنے والے کا دینی اورد نیاوی فریضہ بن چکاہے ۔ کہ ان ظالم معاشی اور معاشرتی درندوں سے اقتدار امن اور اتحاد کی طاقت سے واپس لینا پورے ملک کے عوام کا حق بن چکا ہے۔ ملک کو عدل و انصاف،حسن و اخلاق،مہر و محبت اورامن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گا۔ انسانی تہذیب کاچہرہ انہوں نے مسخ کر رکھا ہے۔ اسلام کے پرنور چہرے کو دنیائے عالم کے سامنے پیش کرکے اس ملک کے توحید پرستوں اور عاشقان رسول ﷺ کو ہردو عالم میں سرخرو ہونے کے اسباب مہیا ہونگے۔یا اللہ انکو بھی توفیق عطا فرما کہ یہ منافقت کی زندگی اور جمہوریت کے مذہب کے عیسائیت ، یہودیت،اور ہندو ازم کے سکالروں کے نظریات کو سرکاری سطح پر ترک اور منسوخ کر کے دستور مقدس کا نفاذ کرنے میں ملت کا ساتھ دیں۔ یا اللہ ملت اسلامیہ پاکستان کو حیات جاودان بخش۔آمین۔
۳۱۔ کیا سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل جاگیردار، سرمائے دار، معاشی دجال، رہزن یا سیاسی رہنما، صوبائی اسمبلیوں کے وارث، وزارتوں کے وارث، مشاورتوں کے وارث، گورنری کے وارث، وزرائے اعلیٰ کے وارث ، قومی اسمبلی کے وارث، وزارتوں، مشاورتوں، سفارتوں کے وارث، سینیٹ کے پنڈال کے وارث، اسمبلیوں کے سپیکروںاور ڈپٹی سپیکروں کی افواج کے وارث، ملک کے وزیر اعظم اور صدر پاکستان کے عہدوں کے وارث، یہ قلیل سا عیاش برہمنوں کا طبقہ ، یہ بتانے سے کیوں گریز کرتا ہے۔ کہ ملک میں صرف دو ہی چیزیں پھیلی ہیں۔ ایک ان کی جائیدادیںاور دوسری ان کی پھیلائی ہوئے بے حیائی۔ ۹۰ ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی دولت ان کے مغرب کے بینکوں میں محفوظ ہے۔ ملک کی تمام صنعتیں، کارخانے ،فیکٹریا ں، ملیں ، اندرون بیرون ممالک تمام تجارت اور کارو بار ان کی ملکیت ہیں۔چودہ کروڑ کسانوں مزدوروں محنت کشوں ہنر مندوں کے تمام حاصل کردہ وسائل دولت خزانہ۔ ۱۹۴۷ ء سے ان کے شاہانہ تصرف میں چلا آ رہا ہے۔ بلیک، سمگلنگ، منشیات کا کاروبار، رشوت، کمیشن ،کرپشن، ملکی قرضے، غیر ملکی قرضے، آئی ایم ایف کے قرضے، ان کی ملکیت بنتے چلے آرہے ہیں۔ان رائج الوقت جرائم سے بنائے ہوئے ملک کے تمام رائے ونڈ ہاوٗسز، شاہی پیلیس، بیرون ممالک ان کے تمام پھیلے ہوئے سرے محل، ان کے بین الاقوامی سطح پر شاہی اخراجات، ان کے وزیر اعظم ہاؤس میں ریس کے گھوڑوں کی نمائشیں، ان کے عمدہ اقسام کے سیبوں پر مشتمل مربوں کی ان کو خوراکیں۔ ملک میں پھیلے ہوئے ان شاہی طبقوں کی اولادوں کے لئے شاہی انگلش میڈیم ادارے اور ملک کے تمام ایچیسن کالج ان تعلیمی اداروں کے شاہی اخراجات، عیش وعشرت کی زندگی انکے لئے اور انکی نسلوں کیلئے مختص ہو چکی ہے۔ یہ تمام طبقاتی تعلیمی ادارے ان چودہ کروڑ عوام الناس کے لئے شجر ممنوع بن چکے ہیں ۔ان کے یہ تمام نقش کہن پاش پاش کرکے ملک میں ایک
تعلیمی نصاب، ایک قسم کی تعلیمی درسگاہیں، دینی مدرسوں کی سادگی، شرافت، اخراجات نہ ہونے کے برابر، اسلامی درس و تدریس کادرس، اسوۃ حسنہ کی تعلیم و تربیت ،رحمت اللعلمینﷺ کابنیادی تصور حیات و ممات، خدمت و ادب، اخلاق و کردار کی خوشبو، صبر وتحمل کے اسباق، عفوو درگذر کے آداب، قلیل ضروریات کی تربیت،پیار و محبت کا اشتیاق، جلیل مقاصد کی آبیاری، انسانیت کے حقوق کی بجا آوری، انسانی چہروں میں رب رحیم کی صناعی سے آشنائی، حضوراکرم ﷺ کے درویشوں، فقیروں، قلندروں، مدبروں، مفکروں، معلموں، دانشوروں، حکیموں، فطرت شناس دیوانوں، جنہوں نے اس ملک کے کونے کونے میں اسلام کی شمع روشن کیں۔ ان کے حضور سلام عاجزانہ پیش کر تا ہوں۔ ان کے سفروں کو سلام پیش کرتاہوں۔علم معلومات کا نام نہیں علم نگاہ کافیض ہے۔باب ا لعلم کے دروازے پر ایک حقیر سے سائل کی طرح کھڑا ہو کر انکی وساطت سے بارگاہ الہی میں ملتجی ہوں۔ یا اللہ تو اپنی پیاری مخلوق پر خاص رحمت فرما۔ مسلمانوں سے چھینی ہوئے دولت انکو واپس عطا کر۔ ہر دور کا علم اس دور کے وارثوں کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔ ان کی زبان وہ خود بن جاتا ہے ۔یا اللہ اس زبان کی تاثیر دلوں میںاتار دے۔وہ حیا ت جاودانی کے وارث ہوتے ہیں۔وہ جاگتے ہیںتو ملت کے لئے وہ سوتے ہیں تو ان کی ر وح ملت کیلئے بیدار ہوتی ہے۔ ان کادل پسیجتا ہے تو ان کی آنکھوں میں سمندر امڈ آتے ہیں۔ خوف خدا ان پر طاری رہتا ہے۔وہ عجز و انکساری کے ورد میں مبتلارہتے ہیں ۔وہ لفظ دعا بھو لے ہوتے ہیں۔ ان کی تنہایاں آباد ہوتی ہیں ۔ان کے حجرے ان کی یادوں اور محفلوں سے آباد ہوتے ہیں۔ وہ لذت آشنائی کے جام سے لبریز ہوتے ہیں۔ وہ رشد و ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں۔وہ ظاہری باطنی مخفی امانتوں کے امین ہوتے ہیں۔ و ہ حق کے سودائی اور پیار کے فدائی ہوتے ہیں۔ وہ نفرت انسانوں سے نہیں انکی بد اعمالیوں اور انکے شر سے کرتے ہیں ۔وہ مظلوموں کو ظالموں کے ظلم سے محفوظ کرتے رہتے ہیں ۔وہ سب کا بھلا اور سب کی خیر کی ندا لگاتے رہتے ہیں۔ وہ زندگی اور موت کے کنارو ں سے ہمکنار رہتے ہیں۔ وہ خیر اور شرکو بھی تسلیم کرتے اور مانتے ہیں۔ بشریت کے تقاضوں کے رموز کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ جدائی اور وصال کے زخموں کی وحدت کو بھی پہنچانتے ہیں۔وہ مخلوق خدا کے دکھ لیتے اور سکھوں کا فیض جاری رکھتے ہیں۔یا اللہ اس ملت کے خادموں کو یہ اوصاف،یہ انعام، یہ خوبیاں، یہ عظمتیں، یہ مراتب عطا فرما۔ انکو انسانیت پر سایہ رحمت بنا۔ امین
۳۲۔ کیا جمہوریت کے مذہب کے تیار کردہ دانشور ،سکالر، مفکرپرائمری سے لے کر پی ایچ ڈی تک ملک میں پھیلے ہوئے مغربی تہذیب کے ایچی سن کا لجوں کی پیداوار نہیں۔ جن میں عیسائیت یہودیت اور ہندو ازم کے نظریات کی تعلیم و تربیت جاری ساری نہیں۔ ملک کی انتظامیہ، عدلیہ اور معاشی نظام کے تمام اصول ،تمام ضوابط، تمام قوانین، تمام نظم و نسق ،مسلمان نسلوں کا ضابطہ حیا ت اور ضابطہ اخلاق تیار ہوتا نہیں آ رہا۔ چودہ کروڑ اہل پاکستان کے مسلمانوں کو سات آٹھ ہزار سیاستدانوں، حکمرانوں اور ان کی قلیل سی تعداد پر مشتمل عدلیہ، انتظامیہ کے سکالروں کی فوج نے یرغمال نہیں بنا رکھا ۔ ملک کے تمام وسائل ،تمام دولت، تمام خزانہ، تمام اندرونی بیرونی قرضے، ان سیاست دانوں حکمرانوں کی افسر شاہی اور منصف شاہی کی ملکیت نہیں بن چکے۔ کیا ملک کی تمام اندرونی بیرونی تجارت ان کی ملکیت اور ان کے کنٹرول اور قبضہ میں نہیں۔ کیا ملک کی تمام فیکٹریاں، ملیں ،کارخانے ان کی ملکیت نہیں، کیا انہوں نے مسادات کی روح کو کچل نہیں رکھا۔کیاملک میں پھیلے ہوئے عدل کش قانون اور عدل شکن نظام ان سیاست دانوں حکمرانوں کے جرائم نہیں۔ کیاانہوں نے مسلمانوں پر ملوکیت کا
یزیدی نظام نافذ نہیں کیا ہوا۔
۳۳۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک پاکستان کے عوام بدترین ملوکیت کے شکارہوتے چلے آرہے ہیں۔۱۹۴۷ ء تک انگریزوں نے ایک مفتوحہ ملک ہندوستان کو یرغمال بنائے رکھا ۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ ء کو پاکستانی مسلمانوں نے اسلام کے نام پر ایک علیحدہ ملک دو قومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل نہیں کیا۔ جہاں مسلمانوں کو اپنے عقیدہ نظریہ، اور دستور مقدس کی روشنی میںتعلیم و تربیت مہیا کرکے ملت کے اخلاق و کردار کو تشکیل دینا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کے اسوۃ حسنہ کے اصولوں کی پیروی کرنا تھی۔ ایک ایسااسلامی تشخص تیار کرنا تھا۔ جس کے عمدہ اخلاق ، امانت، دیانت، عدل و انصاف، صبر و تحمل، برداشت، درگزر ، عفو، رحم، شفقت ، سادگی، سلیس، مختصر پاکیزہ ،خوف خدااور ہر اچھائی پر مشتمل تمام خصوصیات کو اکٹھا کرکے مسلمانوں کے تشخص کی خوشبو سے زمانے کو معطر کرنا تھا۔ لیکن اہل پاکستان مسلمانوں کے ساتھ ایک حیرت انگیز اور عبرت ناک ٹریجیڈی ہوئی۔ پاکستان کی حکومت اوراقتدار ایسے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے ہاتھ میںآ گیا جنہوں نے دستور مقدس کو نافذ کرنے کی بجا ےٗ جمہوریت کے مذہب کی تعلیم و تربیت اور نظام حکومت کو جوںکاتوں جاری و ساری رکھا۔ عیسائیت، یہودیت، اور ہندوازم کے سکالروںکے نظریات کی تعلیم و تربیت سرکاری طور پر پاکستان میں جاری رکھی۔ پاکستان کی انتظامیہ کی افسر شاہی کے سکالر ، عدلیہ کے منصف شاہی کے دانش ور، معاشیات کے سودی یہودی نظام کے دیدہ ور ہندو ازم کے طبقاتی نظریات کے تعلیمی ادارے طبقاتی تعلیمی نصاب،طبقاتی سرکاری نظام، طبقاتی معاشرہ ۱۹۴۷ ء سے پرائمری سکو لوںسے لے کر یونیورسٹیوں تک تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔اس سانحہ کے مجرم کون ہیں۔ وہ اسوقت کہاں ہیں۔ کیاان کے اعمال اور کردار میںکسی قسم کی کمی آئی ہے یا ان کی جائیدادیں اور مغربی بنکوں میں ڈالر اور سامان تعیش بے حیائی کیطرح پھیلتا چلا جا رہاہے۔
۳۴۔ ۱۹۴۷ ء لے کر آج تک عیسائیت یہودیت اور ہندوازم کے نظریات کا زہر مسلمان نسل کے دل و دماغ اور رگ و پے میں متواتر و مسلسل جمہوریت کے نام پر ا تارا جارہا ہے۔ پاکستان نے مسلمان نسل کو انہوں نے اسلامی تعلیمی نصاب ، اسلامی نظریاتی تعلیم، اسلامی اخلاق و کردار، اسلامی اصول وضوابط، اسلامی طرزحیات، اسلامی معاشی نظام اسلامی معاشرتی اقدار، اسلامی شورائی نظام، اسلامی عدل و انصاف، اسلامی آئین پاکستان اور دستور مقدس کی بالادستی کو سرکاری طور پر منسوخ معطل اور ختم کرکے چودہ کروڑ مسلمانوں کاتشخص ،عیسائیت کے مفکروں، یہودیت کے دانش وروں، ہندو ازم کے دیدہ وروںکی تعلیمی چتا میںجھونک رکھا ہے۔ مسلمانوں پر سرکاری مذہب جمہوریت پاکستان میں نافذ العمل کر رکھا ہے ۔ اس ملی المیہ کے مجرم کون ہیں۔ملک میں رشوت کمیشن،کرپشن، قتل و غارت لوٹ مار، دہشت گردی کو تحفظ فراہم کرکے ملک میں انہوں نے غدر مچا رکھا ہے ۔
۳۵۔ معرکہ کربلا دو مختلف نظریات کی ایسی جنگ تھی ۔ جو حق و سچ کے وارثوں ،ظالم، غاصب ،عدل و انصاف کو کچلنے اور دستور مقدس کے اصول و ضوابط کو مسخ کرنے والے رہزنوں ، ملوکیت کے پجاریوں کے درمیان لڑی گئی۔ آج بھی پاکستان میں چودہ کروڑ مسلمانوں کو ان منافق ،رہزن ،سیاست دانوں، اور ملوکیت کے چند گنتی کے پیروکار حکمرانوں کے قلیل سے ٹو لہ نے یرغما ل بنا کر کفر کی زنجیروں میں جکڑ اور مقید کررکھا ہے۔یہ ایسے رہزن سیاست دان اور ظالم حکمران ہیں۔ جو چودہ کروڑ مسلمانوں کو سکولوں،کالجوں، یونیورسٹیوں اور اعلیٰ اکیڈ
میوں کے ذریعے دینی تعلیمات، دینی دستور مقدس،دینی عدل وانصاف، دینی طرز حکومت اوردینی ضابطہ حیات کے تعلیمی نصاب کو سرکاری طور پر منسوخ کر رکھا ہے۔ اس کی جگہ ایک مسلمان ریاست میں عیسائیت کے مدبروں کی انتظامیہ اورعدلیہ کی تعلیمات اوریہودیت کے مفکروں کی سودی،یہودی معاشیات کا درس و تدریس، ہندو ازم کے طبقاتی معاشرہ، طبقاتی تعلیم، طبقاتی نصاب، طبقاتی درسگاہیں، طبقاتی حکمران، طبقاتی افسرشاہی ، طبقاتی عدلیہ، اور طبقاتی نظریات کی تعلیم و تربیت ملک میں قانون کی نوک پر جاری ساری کررکھی ہے۔ اس جمہوریت کے مذہب کو سرکاری طور پر پاکستان میںرائج کرکے ملک کو کفر نگری اور ملت کے اخلاق و کردار کو عیسائیت کے مدبروں، یہودیت کے مفکروں ،ہندو ازم کے فلسفیوں کے نظر یا ت کی تعلیم وتربیت کا نصاب ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں سرکاری طور پر مسلط کر رکھا ہے۔ ۱۹۴۷ ء سے تمام مسلمان نسلوں کو پاکستان میں دینی تعلیمات اور دینی نظریات کے متضاد اور دینی روح کے خلاف جمہوریت کی چھتری تلے منافقت کے دوزخ اور کفر کی چتامیں جھونک رکھا ہے۔ ان جاگیر داروں، سرمائیداروں،ملکی غداروں اور اسلام کش ایجنٹوں نے ملک پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ ان باطل نظریات کا زہر ملک میں قائم تمام تعلیمی اداروں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ہر قسم کی تعلیمی اکیڈمیوں کے ذریعہ متواترو مسلسل ملت کے ہونہاروں کے رگ و پے میں اتارا جا رہا ہے۔ اس رائج ا لوقت تعلیمی نصاب نے ملت کا تشخص مجروح اور نیست و نابود کر رکھا ہے۔ جمہوریت کی انتظامیہ ،عدلیہ کفر ، ظلم و بر بریت، عدل کشی کی ملک میں اذانیں دے رہی ہے۔ اپنی امامت میںجمہوریت کے مذہب کے علم،عمل اور کردار کی نماز ہر وقت سرکاری طور پر ادا کرواتی چلی آرہی ہے۔اہل وطن مسلمانوں کو سوچنا ہو گا کہ وہ دین کے خلاف انکے جمہوریت کے مذہب کا علم،عمل اور کردار کی نماز ادا کرنے والے مسلمان کہلا بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ کیا سیاستدان،حکمران ،دہشت گرد ،ڈاکو،رہزن سرکاری وسائل، سرکاری دولت،سرکاری خزانہ ۱۹۴۷ ء سے لیکر اج تک لوٹتے چلے آرہے ہیں یا نہیں !۔کیایہ سیاستدان ۷۰ فیصد کسانوں،۲۹ فیصد مزدوروں،محنت کشوں،ہنرمندوں اور عوام الناس سے مجرم قوانین کی تلوار کی نوک پر انگنت ٹیکسوں،قیمتوں میں بے پناہ اضافوں،یو ٹیلٹی بلوں کے بے رحم اضافوں اور منی بجٹوں کے ڈاکے مارتے چلے نہیں آ ر ہے! ۔کیایہ ملو کیت کا بے رحم ٹولہ آپنی شاہی تنخواہیں بڑھاتے،ہر قسم کی مراعات حاصل کرتے،رشوت ،کمیشن اور ہر قسم کی کرپشن سے ملک کے چودہ کروڑ عوام کا خون چوسنے کے نادر شاہی حکم جاری کرتے چلے نہیں آرہے!۔ملکی دولت کا ضیاع،ملکی دولت کا ناجا ئز استعمال،ملکی دولت کا شاہانہ خرچ،ملکی دولت کوچمٹے ہوئے بیشمار ایم پی اے،ایم این اے اور لاتعداد سینیٹرز صاحبان،انکے علاوہ وزیر ،مشیر، سفیر،وزیر اعلیٰ،گورنر،وزیر اعظم،صدر پاکستان کی شاہی رہائشیں ، شاہی گاڑیاں، شاہی اخراجات کو کون روکے گا۔ اس نظام اور سسٹم کو کون ختم کرے گا۔ ان جرائم کا مجرم کون ہے۔کیس عوام کی عدالت میں برائے سماعت پیش کیا جاتا ہے۔
ملت کے چودہ کروڑ مسلمانوں کو اے اللہ شعور بخش اور فہم و ادراک عطا کر۔ اپنے فضل کی خاص بارش برسا۔ان کودین کی اوٹ عطافرما۔ ان کو کربلا والے شہیدوں کے صدقے اس دور کے یزیدی نظام اور ملوکیت کے سرکاری سسٹم سے نجات دلا۔ ملت اسلامیہ کو جمہوریت کی کفر پرستی کے عذا ب سے رہائی عطافرما۔ یا اللہ اس ملت کو ان رہزن سیاستدانوں سے بچا ۔یااللہ ہمیں مساوات کوکچلنے والے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے غاصب شکنجوں سے چھڑا۔ یااللہ ہمیںعیسائیت، یہودیت، ہندوازم کے مفکرین کے نظریات کی اعلیٰ طبقاتی
تعلیم او ر اکیڈمیوں کی تربیت سے نجات بخش۔ یااللہ ہمیں دینی تعلیم سے نواز ۔یا اللہ پاکستان کے مسلمانوں کودستور مقدس کا نظام نافذکرنے کی توفیق بخش۔ جمہوریت کے ظالم، باطل نظام سے اور اس کے ظالم اور غاصب حکمرانوں کی قید و بند سے ملت کو رہائی عطافرما ۔یااللہ ملت اسلا میہ کے چودہ کروڑ مسلمانوں کوعیسائیت کے دانشوروں یہودیت کے سکالروں اور ہندوازم کے مدبروں کی حکمرانی کے عذا ب سے بچا ۔یا اللہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ اوراہل بیت کی عزت واحترام کے پرخلوص داعی ہیں۔ ہم حضور اکرمﷺ اور آپ کی آل پر درود و صلوٰۃ کو عبادت اور نماز کی روح تسلیم کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا کے شہدا کو بڑے احترام سے یاد کرتے۔ ان کی یاد مناتے ہیں۔ محرم کے ماہ میں مجالس منعقد کرتے ہیں۔ اس واقعہ کی عظمت اور ان پاک ہستیوں کے کردار کو بار بار دہراتے ہیں۔ ان کی شجاعت اور ہمت کوداد دیتے ہیں۔ ان کی استقامت اور انکی جرات کو پھول چڑھاتے ہیں۔انکے صبر و رضا کے عمل کو مشعل راہ بنانے کادرس دیتے ہیں۔ حسینی قافلے کے سردار اور ان کے معصوم و محبوب شہدائے کربلا کو آنسوؤں،آہوں، ہچکیوں، سسکیوں کا نظرانہ پیش کرتے ہیں۔ عزاداری اور ماتمی قافلے زنجیر زنی اور ماتم کرکے اپنے جسموں کو لہو لہان کرتے ہیں۔ آگ پر ماتمی مجالس کااندوہناک عمل پیش کرتے ہیں۔ یزیداور اس کے ساتھیوںپر لعنت اور تبرا بھیجتے ہیں۔ علم اور ذوالجناح کے جلوس کا درد و الم کا ر کعت آمیز منظر پیش کرتے ہیں۔ اور مرثیہ خواں اس دردناک شہادت کے واقعہ کو رنج و غم میںڈوب کر بیان کرتے ہیں۔ انکا پر تاثیر کلام جوش و ولولہ کے ماتمی ماحول کو پروان چڑھاتا ہے۔ا س کے علاوہ محرم کے ماہ میں ان شہدا کے لئے قران خوانی ہر گھر میں جاری رہتی ہے۔ درود پاک کی محفلیں گھروں، مسجدوں، امام بارگاہوں میںمنعقد کرتے ہیں۔ سبیلیںلگاتے ہیں۔ لنگر پکاتے اور خیرات کرتے ہیں۔ہر قسم کا احتمام اور احترام اس ماہ کی نسبت سے کرتے نظر آتے ہیں۔
پاکستانی مسلمانوں کی ٹریجیڈی یہ ہے کہ وہ جنا ب امام حسین علیہ السلام اور انکے قافلے کے شہدا ء کے کردار کے شیدائی اور فدائی ہیں۔وہ انکی حق پرستی کے عمل کو داد دیتے ہیں۔وہ انکے کردار کی صفات کو عقیدت کے پھول چڑھاتے ہیں۔وہ انکے مشن کی عظمت کو بیان کرتے ہیں۔وہ بجاسمجھتے ہیں کہ امام حسین علیہ ا لسلام جنہوں نے دین کو اپنے خون جگر سے سینچا وہ سردار شہدا ہیں۔مرثیہ لکھنا،مرثیہ پڑھنا،مسالمہ لکھنا،مسالمہ پڑھنا،سلام لکھنا ،سلام پڑھنا،انکے عمل اور انکے کردار کو روشناس کروانا اور اس سانحہ کو بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ انکے غم میں ماتم کرنا اور پھر دھکتی آگ پر ماتم کرنے سے منصب شہادت سمجھ نہیں آسکتا ۔اور نہ ہی زنجیر زنی سے مقصد شہادت پورا ہوتا ہے۔ ختم شریف،درود شریف کی محفلیں،لنگر شریف کی تقسیم،سبیلوں کا جاری کرنا۔ مساجد اور امام بارگاہوں میں ذکر حسین علیہ السلام اور کردار حسین علیہ السلام پر آئمہ کرام روشنی ڈالتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سب کام اور سب عمل اپنی اپنی عقیدتو ں کے اظہار ہیں۔جس میںپوری امت گم ہوچکی ہے۔کربلا ان تمام بیانات اور روایات کا نام نہیں۔ کربلا ایک عمل کا نام ہے ۔ایک پیغام کا نام ہے ۔کلمہ حق پڑ ھنے کا نام ہے۔ ملو کیت کے خلاف آخری سانس اور آخری فرد تک جنگ لڑنے کا نام ہے۔ صبر و رضا کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔کربلا کے چراغ کو روشن کرنے کا نام ہے ۔جس کو امام عالی مقام نے اپنے خون سے سینچا۔اسکی کردار کشی کرنے والوں کا نام نہیں۔اسکے کردار کے منافقوں کا نام نہیں۔مسلمانوں کے ظالم سماج نے اس پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اسکو روایا ت میں گم کر دیا ہے۔ کربلا کے روشن و منور چراغ کو ظلمات
کے سیاہ گھپ اندھیروں میں گم کر دیا ہے۔
آج پاکستانی مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھو۔چودہ کروڑ عوام پر کیا بیت رہی ہے۔ ان پر جمہوریت کا مذہب سرکاری طور پر جاگیر داروں، سرمائیداروں، سیاستدانوں، حکمرانوں نے اقتدار کی نوک پر مسلط کر رکھا ہے۔جبکہ مسلمانوں کا دین اسلام ہے۔اسکا اپنا الہامی ضابطہ حیات اور دستور مقدس موجود ہے۔پاکستان کا وجود ا سی نظر یاتی بنیاد پر معرض میں آیا تھا۔لیکن ان دینی سیاسی راہزنوں اور بے دین حکمرانوں نے عیسائیوںکے دانشوروں،یہودیوں کے سکالروں،ہندو ازم کے مدبروںکے نظریات پر مشتمل جمہوریت کے نظام حکومت کو سرکاری طور پر ملک میں مسلط کررکھا ہے۔ اور انہی نظریات کی تعلیم و تربیت، علم و عمل، انتظامیہ، عدلیہ کا نظام، معاشی نظام، معاشرتی نظام، ملکی سیاست، ملکی طرز حکومت ،ملکی تعلیمی ادارے، ملکی تعلیمی نصاب، طبقاتی طرز حکمرانی ملک پر مسلط کر رکھی ہے۔ اس نظام کو چلانے کیلئے سکولز،کالجز،یونیورسٹیوں اور ہر قسم کے تعلیمی اداروں سے جمہوریت کے مذہب کے نظام حکومت اور معاشرتی اقدار اور زندگی کے نظام کو چلانے کے لئے انہی نظریات پر مشتمل ملوکیتی اور یزیدی دانشور، سکالر، مدبر اور مفکر ملک میںتیار ہوتے چلے آرہے ہیں۔بے دین معاشرہ تیار ہوتا اور ظلم و بربریت کا کھیل ملک میں جاری ہے۔بد قسمتی سے یہ طبقہ اسلام کی روح سے نہ آ شنا ہے اور نہ ہی وہ اس منزل کے راہی ہیں۔ اس طرز حیات کو اپنانے کے بعد ان سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔تا کہ آئندہ انکو اس نام سے پکارا جائے۔کیا وہ مسلمان ہیں،عیسائی ہیں،یہودی ہیں،ہندو ہیں،کافر ہیں،منافق ہیں یا یزیدی ٹولہ کے غاصب یا قاتل، یا دہشتگرد ہیں۔
ان جمہوریت کے نظریات اور اسلامی نظریات کی جنگ میں ان بد بختوں نے چودہ کروڑ مسلمانوں کو جھونک رکھا ہے۔جمہوریت کے نظریات کو سرکاری برتری حاصل ہونے کیوجہ سے اسلامی نظریات اور اقدار مفلوج ہو چکی ہیں۔ ملک میں جمہوریت کے مذہب کے نظریات کے علم، عمل اور کردار کی نماز جاری ہے۔اسلام کے تقاضوںکے مطابق معاشرہ کہاں ہے۔ سرکاری طور پر چودہ کروڑمسلمان سب کے سب عملی طور پر غیر مسلم بن چکے ہیں۔ایسی صورتحال میں اصلاح احوال اسلامی تقاضوں کے مطابق کیسے ممکن ہے۔ اہل پاکستان ملک میں جمہوریت کے عمل کی صبح ، شام بلکہ ہر وقت باطل نماز ادا کرتے ہیں ۔ اورمسجد میں اللہ تعالیٰ اور اسکے حبیب نبی کریمﷺ کی نماز صرف پڑھتے ہیں۔
ہم کیسے مسلمان ہیں جن کوسیاستدانوں اورحکمرانوںنے دستور مقدس کے خلاف جمہوریت کے نظریات کی پیروی کا پابند بنا رکھا ہے۔مسلمانوں نے ہی حضور نبی کریمﷺ کے اسوۃحسنہ کے خلاف زندگی گذارنے اور دین کی تضحیق اور توہین کرنے کا عمل غیر شعوری طور پر جاری کر رکھا ہے۔ہم دین کے ساتھ منافقت کے جرم کے مرتکب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نام مسلمان ۔ہمارا دین اسلام۔لیکن ہمار ا سرکاری مذہب جمہوریت، ہمارے سرکاری رسول، عیسائیوں کے دانشور،یہودیوں کے سکالر،ہندو ازم کے مفکر،ملک میں رائج تعلیمی نظام جمہوریت کے دانشوروں، سکالروں اور مفکروں کا۔ملک میں تعلیمی نصاب ان کا۔ ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں سرکاری تعلیم و تربیت ان کی۔ ملک میں تمام اقسام کا سرکاری علم،عمل اور تیار کردہ کردار انکے۔ ان کے اس گھناؤنے تیار کردہ تشخص کا نام مسلمان۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولﷺ اور چودہ کروڑ مسلمانوں کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ،اتنا بڑا فراڈ۔ان ظالموں، غاصبوں،دینی رہزنوںکے احتساب کا کڑا وقت
انکے سر پر آن کھڑا ہے۔دینی نظریات کشی کرنے والوں کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجویز ہو چکی ہے۔ انکے خلاف انکا مقدمہ چودہ کروڑ مسلمانوں کی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔کیا یہ سیاستدان اور حکمران پاکستان میں دستور مقدس کے نفاذ اور رحمت اللعٰلین ﷺکی تعلیم و تربیت ،اخلاق و کردار، عدل و انصاف، مہر و محبت، اخو ت و پیار، اعتدال و مساوات کے رحمتوں کے دروازے مقفل کرنے اور پوری انسانیت کو اس سے محروم کرنے کے مجرم اور گنہگار نہیں ہیں۔کیا آپ ان سوالات کے جواب دینا پسند کرینگے؟
۱۔ چودہ کروڑ اہل وطن مسلمانوں، جاگیرداروں، سرمائیداروں، سیاستدانوں، افسر شاہی، منصف شاہی،نوکر شاہی، تمام جمہوریت کے دانشوروں، سکالروں، مفکروں، ملک و ملت کا خزانہ لوٹنے والے لٹیروں اور دین و دنیا چھیننے والے راہزنوں سے سوال ہے۔کیا آپ ان حقائق کی روشنی میں اس جمہوریت کے باطل،غاصب اور بے دین نظریات پر مشتمل مذہب کا نفاذ اسلامی ر یا ست پر مزید قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
۲۔ کیا آپ خدا و رسولﷺ کے خلاف مزید جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
۳۔ کیا آپ دستور مقدس کے نفاذکو ایک اسلامی ریاست میں مسلمانوں کی مرضی اور خواہش کے خلاف مزید معطل اور منسوخ رکھنا چاہتے ہیں۔
۴۔ کیا آپ ملک میں طبقاتی دین کش تعلیم،دین کش تعلیمی نصاب،طبقاتی شاہی انگلش میڈیم تعلیمی ادارے، جنکے اخراجات سمگلر، معاشی رہزن،رشوت خور، جاگیردار، سرما ئیدار ہی برداشت کر سکتے ہیں۔جن سے انکی اولادیں ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ پر قابض ہوتی ہیں۔ جنکے دروازے ۷۰ فیصد کسان۲۹ فیصد مزدور،محنت کش،ہنرمند اور عوام الناس کی اولادوں کی تعلیم و تربیت کیلئے بند ہوتے ہیں۔ اس عدل کش نظام حکومت کومزید قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
۵۔ کیا آپ ملی خزانہ،ملی دولت،ملی وسائل،ملکی ،غیر ملکی قرضے مزید ان دہشتگردوں اور لٹیروں کو ہضم کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔
۶۔ کیا آپ ملک اور بیرون ممالک سرے محلوں، رائیونڈ ہاؤسوں، شاہی پیلسوں،ملوں، فیکٹریوں،کارخانوں، ہر قسم کی صنعتوں اور ملک کی تمام تجارت اور تمام کاروباروں،لا کھوں، کروڑوں،اربوں ،ڈالروں کے ڈیپازٹس مغربی بنکوں میں انکے مزید پہنچوانے چاہتے ہیں۔
۷۔ کیا آپ اس شاہی ٹولہ کے شاہی اخراجات،شاہی نا در شاہی تنخواہیں،شاہی سرکاری محل، پیرس و لندن کوشرمانے والی نایاب ڈیکوریشنیں، شاہی سرکاری گاڑیاں،ملکی خزانہ کی بے دریغ لوٹ مار،ملی خزانہ کی دیمک۔ان عیاشوں کی جنت کی غاصب حکمرانی کو مزید جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
یااللہ تجھے تمام انبیاء کاواسطہ، تجھے تیرے محبوب پیغمبران کا واسطہ، تجھے موسیٰ علیہ السلام کی لکنت کا واسطہ، تجھے عیسیٰ علیہ السلام کے شفا اور زندگی بخشنے والے معجزوں کا واسطہ ،تجھے ابراہیم علیہ السلام کی عظمت کاواسطہ، تجھے اسحٰق علیہ السلام کا واسطہ، تجھے اسمعٰیل علیہ السلام کی
قربانی کا واسطہ ،تجھے حضور نبی کریم ﷺ کے والدین کاواسطہ،تجھے تیرے مقبول و محبوب صحابہ کرا م کا واسطہ، تجھے مائی حلیمہ کی خدمت کا واسطہ، تجھے ازدو اج مطہرہ کاواسطہ، تجھے بی بی خدیجہ، بی بی فاطمہ الزہرا، اور تمام اولاد کا واسطہ ،تجھے علی مرتضیٰ کے اس بستر پر لیٹنے کا واسطہ جس پر حضور نبی کریمﷺ نے آپ کو لٹایا، تجھے امام حسین کے کردار کا واسطہ ،تجھے کربلا کے قافلے کی استقامت کا واسطہ، تجھے حضرت بلال کی اذان کا واسطہ ،تجھے اویس کرنی کی ماں کی خدمت کرنے اور حضور نبی اکرمﷺ کے عشق کی صداقت کاواسطہ ،تجھے مخلوق خدا سے پیار کرنے والوں کا واسطہ ،تجھے اس نماز کا واسطہ جس میں حضور نبی کریم اور ان کی آل پر درود وصلوٰۃ بھیجنا فرض ہوا، تجھے باب العلم پر کھڑے ہوئے ان تمام درویشوں، فقیروں، مستوں، مجذوبوں کی نداؤں کا واسطہ، تجھے تیری احسن تقویم اور اس کائنات کے زرہ زرہ کاواسطہ، تجھے بحر و بر کاواسطہ ،تجھے تیرے آسمانوں کا واسطہ ،تجھے تیرے حسین و جمیل ستاروںاور میٹھی میٹھی نورانی چاندکی روشنی کا واسطہ ،تجھے تیری بلندی اور پستی کا واسطہ، تجھے تیری حمد و ثنا کرنے وا لو ں کاواسطہ، تجھے تیرے محبو ب سے پیارکرنے والو ں کاواسطہ، تجھے آنسووں، آہوں، اور ہچکیوں کا جس کی توفیق تونے عطا کی اور ان تمام ہستیوںجن کے روبرو تیری ذات اقدس میں پیش کئے ہیں ۔ انکے صدقے تو اس پیاری امت پر اور پوری انسانیت پراوراس کائنات کے زر ے زرے پررحمت اللعٰلمین ﷺ کی رحمتوں کی بارش برسا۔ یاا للہ یہ تیری مخلوق ہے۔ تواس جہا ن فانی میں انکو ایک دوسرے کااحترام اور عزت کرنے کی توفیق کاخزانہ عطافرما۔ یا اللہ مسلمانوں کو انسانیت سے پیار اور ادب کرنے کا راستہ دکھا۔نفرت اور نفاق کی بیماریوں سے نجات عطا فرما۔آمین۔
تمت بالخیر