To Download or Open PDF Click the link Below

 

  ابتدائیہ چراغِ وقت
عنایت اللہ
شب بیداری کے چراغ جلانے والو
ظلمت کدے میں روشنی کی بات کر و
یہ حسین و جمیل کائنات۔یہ خوبصورت جہانِ رنگ و بو۔یہ رات کی تنہائیاں یہ نیلگوں آسماں پر سجی ہوئی بزم انجم۔یہ شب کے پاسباں اپنی منزل کی طرف رواں۔یہ رات کی خاموشی کے ساز و سرو د ۔ انکی چمک دمک ،انکی سریں۔انکے نور کے جلوے، روحوں کی مستی کے سرور۔ یہ شب بیداروں، کی تنہائیوں کے جلوے۔یہ نیم شب، کے کارواںکی منزلوں کے راستے۔ یہ جگر سوزی ،یہ رازِ پنہاں سے آشنائی کی لذتیں۔ یہ رات کے مسافر، مشرق سے طلوع ہونے والی صبح کی جلوہ گری کی زینت میں گم ہو تے جاتے ہیں ۔سلسلہ ء کائنات کا عمل جاری ہے اور قافلۂ زندگی اپنی منزل کی مسافتیں طے کرتا چلا آرہا ہے۔صبح و شام ہوتی رہتی ہے۔گردش ایام اپنے عمل کو جاری رکھتی ہے۔ انسانی زندگی طلوع اور غروب ہوتی رہتی ہے۔ فناہ کے دیس میںکسی مسافر کو اس سرائے فانی میں ٹھہرنے کی اجازت نہ ملی۔یہ جلوہ گاہ حسن کے مسا فر، درد انگیز منظر کی رقت میں، اپنی منزل حیات کی مسافتیں طے کرتے اپنی اصل منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ یا اللہ ہمیں خیر اور سلامتی کی زندگی عطا فرما۔امین ۔
انبیاء علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی توحید پرستی کی تعلیمات دیتے رہے۔ دنیا کی بے ثباتی کی آگاہی بخشتے رہے۔ازدواجی زندگی کاعلم سکھاتے رہے۔ آفرینش نسل کی عقدہ کشائی فرماتے رہے۔ اخلاقی صفات کی رہنمائی کرتے رہے۔اخوت و محبت کا درس دیتے رہے۔خدمت و ادب کا پیغام پہنچاتے رہے۔ایثار و نثار کا راستہ بتاتے رہے۔ صبر و تحمل کی افادیت سمجھاتے رہے۔ اعتدال و مساوات کا گیان دیتے رہے۔ نیکی اور بدی سے مطلع کرتے رہے۔خیر اور شر کی نشاندہی کا عرفان عطا کرتے رہے۔ خدمت خلق کی عبادت سے سرشار کرتے رہے۔ عدل و انصاف کی گرہ کھولتے رہے۔ روز قیا مت اور جزا و سزا کا تصور پیش کرتے رہے۔ امانت و دیانت کی عقدہ کشائی کرتے رہے۔ سادگی اور شرافت کا نور پھیلاتے رہے۔ مذہب کے نظریات اور تعلیمات کی روشنی میں معاشرے کی تشکیل و تکمیل کرتے رہے۔ ا للہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رہنمائی اور فلاح کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کو سلامتی اور راہ ہدایت کی تعلیما ت کا پیغا م د ینے کیلئے اس دنیا میں بھیجا ۔ پیغمبران کی امتیں انکے بتائے ہوئے الہامی دستور حیات،ضابطہ حیا ت ،طرز حیات اور نظریات کو اپنا کر بے نظیر صفات اورانمول صداقتوں کی قندیلیں اس جہان رنگ و بو میں روشن کرنے میں محو رہیں۔ مذاہب پرست امتیں مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھتی رہیں۔ دل و جان سے مخلوق خدا کی خدمت اور ادب کی قندیلیں روشن کرتی رہیں۔ایثا ر ونثار کے عمل کی خو شبو پھیلاتی رہیں۔اخوت و محبت کی آسمانی اور روحانی قدریں انسانیت میں بکھیرتی رہیں ۔ اعتدال و مساوات کو ضابطہ حیات میں ڈھالتی رہیں۔دکھی انسانوں کو راحت کا ساماں مہیا کرتی رہیں۔جابر اور ظالم حکمرانوںکے نظریات اور قانونی ضابطوں کو پاش پاش کرتی رہیں۔ طبقات اور تفاوت،براہمن اور شودر کا نظام روندتی رہیں۔ عدل و انصاف کی شمعیں روشن کرتی رہیں۔ دنیا کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنا تی رہیں۔آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام تک اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد مصطفیٰﷺ تک چار الہامی ،روحانی اور آسمانی صحیفے اس دنیا میں انسانیت کی رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے پیغمبران پر نازل فرمائے۔ حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور شریف،حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت شریف،حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل شریف اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر قرآن شریف۔ان الہامی کتابوں کے ذریعہ بنی نوع انسان کو سلامتی کا راہ دکھانا، انکے بنیادی نظریات،توحید پرستی،خیر وشر اور گناہ ثواب کی پہچان اور قیامت کے دن ان اعمال کی جزا سزا سے آ گاہی بخشنا تھا۔خوف خدا انسانوں کے دلوں میں اجاگر کرنا تھا۔
بد قسمتی سے ان مذاہب کے ناداں پیروکار اور انکے بے سوجھت پیشوا اپنے اپنے مذاہب کو مسلکوں اور فرقوں میں تقسیم کرتے اور آپس میں جنگ و جدل اور ایک دوسرے کا قتال کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ جو پیغمبران کی تعلیمات اور نظریات کا کینسر بن چکے ہیں۔بین الا قو ا می سطح پر تمام اہل کتاب پیغمبران کی امتیں سیاستدانوں کی زیر قیادت ایک دوسرے کیساتھ دست و گریباں اور جنگیں لڑتی۔ایک دوسرے کا قتال کرتی۔ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے عمل سے دو چار ہوتی چلی آرہی ہیں۔ان تمام امتوں کے اقتدار کے سیاسی ابلیس بڑی ہنر مندی سے مذاہب کے رہبر و رہنما بن کر دنیا میں ابھرتے چلے آرہے ہیں۔ تمام امتیں اور انکے پیشوا ایک بین ا لاقوامی سیاست اور سازش کا شکار ہو چکے ہیں۔ در اصل تمام امتیں نمرود ،فرعون،شداد ، ہا مان اور یزید کے نظریات اور ضابطہ حیات پر مشتمل جمہوریت کی سیاست کے پیغمبران کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکی ہیں۔ وہ مذہب کے روپ میں باطل نظام کے ایجنٹ اور پیغمبران کے نظریات کے باغی، منکر اور منافق ہیں۔ان جمہوریت کے سیاسی وارثوں نے ان تمام انبیا علیہ السلام کی تعلیمات اور نظریات اور تہذیب و تمد ن کو کچل کر رکھ دیا ہے۔یہ تمام امتیں ان سیاستدانوں کی زیرِ قیادت اپنے اپنے انبیا علیہ السلام کی تعلیمات اور نظریات کی گستاخ،بے ادب ،باغی اور انکی شانِ عظیم کو مسخ کرنے والی بن چکی ہیں۔
ان تمام امتوں نے اقوام عالم اور دنیا کے تمام مختلف نظریات کے ماننے والوں کے سامنے جو مذاہب اور انبیا علیہ السلام کے کردار کا تشخص پیش کیا ہے۔ نہ وہ انکی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اور نہ ہی انکے کردار کا، ان سے دور کا واسطہ یا تعلق ہے ۔ تما م امتیں پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات کے خلاف ایک گہری سازش اور کھلی بغاوت کے کردار میں جھونک دی گئی ہیں۔ پیغمبران کی تمام امتوںکے سیاستدانوں اور حکمرانوںنے انکے الہامی صحیفوں کی تعلیمات،انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات،انکے اخلاقیات،انکی صفات ،انکی صداقتوںکو اپنے اپنے ممالک میں منسوخ،معطل، بے اثر اور بے بس بنا کر رکھ دیا ہے ۔ پیغمبران کی جگہ انکی امتوں پر ابلیس کے ارباب سیاست کے دانشورں کی تیار کردہ تعلیمات،انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات،انکی طرز حیا ت ، ا نکے اخلاقیات،انکی صفات، انکی خود ساختہ انسانیت سوز سیاستدانوں کی باطل صداقتوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی مذہب جمہوریت رائج کررکھا ہے۔ جس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی ازل سے ابد تک کی الہامی روحانی تعلیمات اور نظریات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر منسوخ کر کے ایک دجال کی طرح نگل لیا ہے۔
جمہوریت ایک جھوٹا، ظالم،غاصب،بد کردار،بے حیا ،نفس پرست، بد دیانت، مادہ پرست اور اقتدار پرست ، کنبہ خدا کے قاتلوں کے نظریہ
حیات کا نام ہے۔جمہوریت کے مذہب کے سیاستدان تمام انبیا کی روحانی تعلیمات اور الہامی نظریات کو ایک ایک کر کے ختم کئے جا رہے ہیں۔ ان تمام انبیاء علیہ السلام کی بنیادی قدروں ازدواجی زندگی،اخوت و محبت، ادب و احترام،کنبہ خدا کے حقوق کا تحفظ، اعتدال و مساوات، ایثار و نثار، صبر و تحمل،دنیا کی بے ثباتی اور عدل و انصاف پر مشتمل تہذیب و تمدن کی عمارت کی بنیادوں کو مسمار کرچکے ہیں۔انسانی اور معاشی قتال، اسکا تدارک صرف اور صرف مذاہب کی بقا میں مضمر ہے۔تمام امتوں کو اپنے اپنے محبوب و مقبول پیغمبران کی طرف لوٹنا ہو گا۔ تما م ادیانِ عالم کے مذہبی پیشواؤں سے ملتجی ہوں کہ وہ ایک بین ا لاقوامی کانفرنس بلا کر اس جمہوریت کے سیاسی اہل دانش مدبروں سے اور ان کے نظام اور سسٹم کی سرکاری بالا دستی کے عذاب سے بنی نوع انسان اور انکی نسلوں کو نجات دلانے کا کوئی راستہ نکالیں۔


انبیاء علیہ الاسلام کے نظریات اور تعلیمات کے خلاف مغرب میںمخلوط معاشرہ اور جنسی آزادی کے نیپام بموںنے ۔مذہب کی ازدواجی زندگی اور اسکے نظام حیات کا خاتمہ کر دیا ہے۔ بنی نوع انسان سے اسکے خاندان کی شناخت اور پہچان چھین لی ہے۔ جنسی آزادی سے مرد اور عورتیں بغیر نکاح شریف کے بچے پیدا کرتے ہیںاور اس ضابطہ حیات کو قانونی تحفظ دیا جا چکا ہے۔ یہ بچے گھروںکی بجائے وکٹورین چائلڈ ہومز میںپرورش پاتے ہیں۔مرد اور عورت اولاد کے فطرتی جذبوں،اسکی محبتوں،اسکی پرورش کے فطرتی عمل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ مخلوط معاشرے اور جنسی آزادی کے قا نونی تحفظ نے مذہب کے نظریات کو ختم کر ڈالا ہے۔ اولاد کو ماں باپ کی شفقتوں اور خدمت سے محروم کرنے کا عمل جاری کر چکے ہیں۔ جمہوریت کے سیاسی پیغمبران نے بنی نوع انسان سے ماں باپ ،دادی دادا،نانی نانا،بہن بھائی اور بیٹی بیٹے کے مقدس آسمانی رشتوں کی مذہبی تہذیبی عمارت کوپامال کر دیا ہے۔مغرب میں کلیسا و گرجا میں ازدواجی زندگی کے مذہبی فنکشن کو ختم کیا جا رہا ہے۔ مخلوط معاشرے اور جنسی آزادی نے مذہب کے بنیادی ضابطہ کو روند کر رکھ دیا ہے۔ انسان جنگلی جانور اور حیوان ناطق بن کر رہ گیا ہے۔ جمہوریت کے سیاسی پیغمبران اور انکے پیروکار ، انبیا ء علیہ الاسلام کے نظریات اور تعلیمات کے منکرانکی امتوں میں داخل ہو کر ایک منافق کا بد ترین رول ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے سلامتی کے نظریات اور تعلیمات کو نگلتے جا رہے ہیں۔ مادیت ،وسائل اور اقتدار پر قابض ہو کریہ نمرود ،فرعون ،شداد اور یزید کے ایجنٹ وہ کام کر رہے ہیں جو[L:7][L:129]نکے گر و اپنی زندگیوں میں نہ کر سکے۔
انہوںنے مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کے نظریات اور تعلیمات کا وہ حشر کر دیا ہے۔جسکا انبیاء علیہ الاسلام کی امتیں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔جب تک ان امتوں کی رہنمائی مذہبی اور روحانی پیشواؤں کے ہاتھ میں رہی۔اس وقت تک خدمت خلق ملتوں کے کردار کا حصہ رہا۔اخوت و محبت انکا سرمایہ ء حیات رہا۔ایثار و نثار انکے اعمال کی خوشبو بنا رہا۔انسانوں میں امانت و دیانت کی روشنیاں پھیلتی رہیں۔اعتدال و مساوات کے اعمال کی شمعیں روشن ہوتی رہیں۔ عدل و انصاف کے پیامی اپنا حق ادا کرتے رہے۔ بیماروں کو شفا،بھوکوں کو غذا،ننگوں کو لباس مہیا کرنے کی عبادات جاری رہیں۔انسانوں سے ہمدردی،دکھی انسانوں کی دلجوئی،زخمیوں کی مرہم پٹی،انسانی اذیتوں کی تلافی کے اعمال انبیاء علیہ الاسلام کی امتوں اور انکے پیشواؤں کا سرمایا حیات بنے رہے۔وہ دنیا کی بے ثباتی کے آشنا تھے۔وہ بے سرو سامانی کی زندگی کے با وجود انسانی دلوں پر حکومتیں کر تے رہے۔جمہوریت کے سیاسی ابلیسی دانشوروں کے نظریات اور تعلیمات کی
سرکاری بالا دستی اور انکی حکمرانی انبیا ء علیہ الاسلام کے نظریات اور تعلیمات کو بری طرح روندتے چلے جا رہے ہیں۔
انبیاء علیہ السلام کی محبت فاتح عالم اور ادب و خدمت کی عبادت اور ابلیس کے ارباب سیاست کی مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کی نفرت اورنفاق کی طرز حیات کا فرق تمام امتوں اور انسانیت کو سمجھانا ہوگا۔ یا اللہ تو انبیا علیہ السلام کی امتوں کے دلوں پر اس راز حقیقی کو منکشف فرما۔تو اس سچائی کے مقصد کو حاصل کی منزل سے ہمکنار فرما ۔ تاکہ دنیا کے تما م نظریات کے پیرو کاروں کے سامنے انبیا علیہ السلام کی الہامی ،روحانی صفات اور صداقتوں کو انکے اصل روپ میں پیش کیا جا سکے۔ہمیں اور ہماری آنیوالی نسلوں کو پتہ چل سکے کہ تما م انبیا علیہ السلام انسانیت کیلئے فلاح اور سلامتی کی قندیلیں ہیں۔ سچائی کے نور کو عام کرنا تمام پیغمبران کے مذہبی اہل بصیرت پیشواؤں اور امتیوں کا طیب فریضہ ہے۔ یا اللہ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ امین۔

باباعنایت اللہ