To Download or Open PDF Click the link Below

 

  اللہ تعالیٰ ما لک الملک ہیں
عنایت اللہ
جمہوریت ایک ایسا سسٹم،ایک ایسا طریقہ کار اور ایک ایسا نظام سیاست ہے۔جسکی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے۔عوام کی حکومت،عوام کی خاطر جس کو عوام ہی تیار کرتے ہیں۔جمہوریت کے نظام سیاست میں عوام بذریعہ الیکشن وو ٹ کے ذریعہ کثرت رائے سے اپنے اپنے علاقہ سے سیاسی عہدے داروں کا انتخاب کر کے اسمبلی ممبران کا چناؤ کر لیتے ہیں۔اسکے بعد یہ منتخب اسمبلی ممبران حکومت تشکیل دیتے ہیں۔وہ قانون سازی کر کے حکومتی کارو بار چلاتے ہیں۔
(۱) بادشاہت ایک ایسا نظام حکومت،ایک ایسا سسٹم،ایک ایسا طریقہ کار ہے۔جو اسلام اور اسلام کے نظریات اور اسکے ضابطہ حیات اور اسکے روح کے منافی ایک متضاد ایک آمرانہ بادشاہی نظام حکومت ہے۔جو وراثت در وراثت عا لم اسلام پر نافذہوتا چلا آرہا ہے۔جو خدا کی حاکمیت اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کے خلاف واقعہ کربلا کے بعد یزید کی اور اسکے پیروکاروں کی ایک ایسی جیتی ہوئی جنگ ہے۔جو اسلام کے جسد کو کینسر کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔جو دین اسلام،اسکے دینی معاشرہ ، اسکی دینی حکومت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے میں پہلی اور آخری روکاوٹ بنی کھڑی ہے۔جس نے اسلام کے دستور حیات کو مسجد وں اور مسلم امہ کے دلوں میں مقید کر رکھا ہے۔اسکا علم اور عمل چھین لیا ہے۔ اسلامی ممالک میں جمہوریت کے سیاستدانوں اور بادشاہت کے بادشاہوں نے حکومتی نظام پر یزید کے نظریات اور ضابطہ حیات کی بالا دستی رائج اور قائم کر رکھی ہے۔ [L:7]
(۲)۔ اسکے برعکس دینی حکومت میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے اور قائم کرتے ہیں۔ دینی معاشرے میں طرز حکومت کی تشریح و توضیح اس طر ح کی جا سکتی ہے۔کہ دینی حکومت اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرتی ہے۔اللہ کے بندوں پر اللہ کی خاطر ۔ لیکن اس کا طرز انتخاب بذریعہ الیکشن نہیں بلکہ بذریعہ سیلیکشن ہوتا ہے۔امیر المومنین اور اسکی اسمبلی کے ممبران کی سلیکشن دین کے ضابطہ کے تحت ایسے نیک دل ممبران کاکیا جاتا ہے جو امانت و دیانت،عدل و انصاف، اخلاقِ حمیدہ اورانتظامیہ اور عدلیہ کے فرائض نبھانے کے اوصاف سے متصف ہوں۔وہ دستور مقدس کے مطابق اللہ کے قوانین اور ضوابط ملک میں نافذالعمل کر کے ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کے فرائض ادا کرتے ہیں۔ ان میں فرق نمایاں ظاہر ہے۔جسکی اختصاری وضاحت ایسے کی جا سکتی ہے۔جمہوریت کی طرز حکومت میں اسمبلی ممبران ملکی نظام حکومت چلانے کے لئے وقت کی ضرورت کے مطابق کثرت رائے سے حسب ضرورت قانون سازی کرتے ہیں۔اسکو دستور کا حصہ بنا کر ملک میں نافذ العمل کرتے جاتے ہیں۔ اسکو جمہوری طرز حکومت کہتے ہیں۔
بادشاہت میںبادشاہ مطلق العنان ہوتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے دستور کے منافی اپنی حکومت کو قائم رکھنے کیلئے اپنی مرضی اور خواہش کی قانون سازی کرتا ہے۔ جس سے بادشا ہت نسل در نسل قائم ہوتی چلی جاتی ہے۔ انکی معاشی اور معاشرتی تفاوتی طبقاتی بادشاہا نہ طرز حیات دین کے خلاف ایک غاصبانہ،ظالمانہ اور جابرانہ یزیدی نظام حیات اور طریقہ کا ر ہے ۔جو بنی نوع انسان کواسلام کی سلامتی سے نا آشنا اور اسکے روح کو سمجھنے سے محروم کئے جا رہے ہیں۔ یہ اسلام کے باغی،اسلام کے منکر اور امت محمدیﷺ کا منافق ٹولہ ہے جو واقعہ کربلا کے بعد یزید
کے اور اسکے نظام حکومت کے ایجنٹ کا بد ترین رول ادا کئے جا رہے ہیں اور مسلم امہ کو اپنے تیار کردہ ضابطوں میں مقید کر کے حکمرانی کی مسند پر مسلط ہو تے جاتے ہیں۔دین کے خلاف جو بھی نظام مسلم ممالک اور مسلم امہ پرنافذہو گا وہ بے دین نظام ہی کہلائے گا۔ اس سے جو معاشرہ تیار ہو گا اسکا تشخص کبھی بھی اسلامی تشخص نہیں ہو گا۔