To Download or Open PDF Click the link Below

  شورائی نظام انتخاب جو جمہوریت کی اصل روح ہے ۔جسکے ذریعہ
اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کی جاتی ہے۔
عنایت اللہ
(۱) اسکے برعکس دین کی روشنی میںشورائی جمہور کے طریقہ کار کے تحت عوام الناس شورائی ممبران کا انتخاب کرتے ہیں۔ مسلم امہ معاشرے میں ایسے افراد کو تلاش کر کے سلیکٹ کرتے ہیں جو متقی ،پرہیز گار،امین،معاملہ فہمی اور عمدہ اوصاف کے مالک ہوتے ہیں۔ اس طرح دینی حکومت قائم کرنے کیلئے دستور مقدس کے ضابطہ حیات کے تحت ملک میں قانون سازی کی جاتی ہے۔اس طرح اللہ کے بندوں پر اللہ کی حاکمیت اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے ضابطہ حیات کو ملک میں نافذالعمل کر کے قائم کی جاتی ہے۔اس ضابطہ حیات میں کسی کی رائے یا کثرت رائے کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اس طریقہ کار سے الہامی دستور مقدس کے ضابطہ حیات کو ملک و ملت پر نافذالعمل کیا جاتا ہے۔ جس سے ملک میں اسلامی معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہوتی ہے۔ایسا معاشرہ اسلامی تشخص تیار کرتا ہے۔
(۲) اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو جمہوریت کی طرح کثرت رائے سے چنا نہیں جاتا ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو پیغمبر کی صداقت ،حسن اخلاق اور نیک کردار تسلیم کرنے کے بعدانکے سمجھانے اور بتانے سے تسلیم کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو اسکے پیغمبران کے ذریعہ،انکی الہامی کتابوں کے ذریعہ،انکے عطا کیے ہوئے دستور کے ذریعہ،انکے بتائے ہو ئے ضابطہ حیات کے ذریعہ، انکی ذات کے تقدس کے ذریعہ،انکے عمدہ اعلیٰ کردار کے ذریعہ،انکے بہترین اوصاف کے ذریعہ،انکی صفات کے ذریعہ،انکی صداقت کے ذریعہ ، انکی امانت و دیانت کے ذریعہ،انکے خدمت و ادب کے ذریعہ، انکے عفو و در گذر کے ذریعہ،انکے حسن اخلاق کے ذریعہ،انکے واسطہ سے صفات کو عروج ملا،صفات کو تکمیل نصیب ہو ئی ،صفات کو پہچان نصیب ہوئی۔پیغمبران جو بھی فرمائیں وہی صداقت ہوتی ہے۔وہ اخلاق اور صفات کو جلا بخشتے ہیں۔ حسن اخلاق اور حسن کردار اور تمام اعلیٰ ،عمدہ صفات پیغمبران کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت اور عطا ہوتی ہیں۔
(۳) مسلم امہ حضور نبی کریمﷺ کے نظام شریعت اور انکی صداقتوں سے محرو م اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ضابطہ حیات سے فارغ ہو چکی ہے۔دین کے منکر اور منافق سیاسی قائدین نے امت کے گلے میں جمہوریت اور بادشاہت کا پھندا ڈال کر اسکا دینی سانس بند کر کردیا ہے۔اس طرح جمہوریت اور بادشاہی طرز حکومت کی سرکاری بالا دستی نے مسلم امہ کو دین کی روشنی سے محروم اور بے دینی کے ظلمات کے سمندر میںدھکیل رکھا ہے ۔جسکی وجہ سے مسلم امہ کے اخلاق و کردار کی تشکیل دین کی صفات، دین کی صدا قتوں کے ضابطہ حیات کے مطابق نہیں ہو رہی۔
(۴) اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر صحیفہ اول زبور شریف کو کتابی شکل میں نازل فرمایا۔انسانی زندگی کے اخلاق و صفات کو سنوارنے کا عمل بذریعہ وحی ابتدائی طور پر جاری ہوا۔توحید و رسالت اور وحی کی تفصیل و تکمیل کا الہامی صحیفہ کی شکل میں آغاز ہوا۔مخلوق خدانے انکی تعلیمات،انکے نقطہ نظر،انکے توحید کے درس، انکے وحی کے پیغام، انکے کردار ، انکے اعلیٰ اخلاق،انکے ادب و محبت ،انکے خدمت و ادب اور انکی صداقت کی صفات کو پرکھا اور سمجھا۔یہ فطرتی حقیقتیںاورروح پرور سچائیاں عوام الناس کے دلوں میں اترتی گئیں ۔ لوگ پیغمبر حق اور ان پر اتری ہوئی مقدس کتاب زبور شریف پر ایمان لاتے رہے اور انکی امت کی تعداد بڑھتی گئی۔
(۵) داؤد علیہ السلام کی ملت وقت کے ساتھ ساتھ زبور شریف کی تعلیمات سے دور ہوتی گئی۔ خرابات اور خرافات میں گم ہوتی گئی۔ انکے بتائے ہوئے حسن اخلاق اور توحید پرستی کے سبق کو بھولتی گئی۔مذہبی الہامی،روحانی معاشرتی اور معاشی اقدار دم توڑتی گئیں ۔ عدل و انصاف نا پید ہوتا گیا۔ نمرود جیسے آمر، ظالم ،غاصب،جابر اور قاتل حکمرانوں نے مذہبی تہذیب کو نگل لیا۔ اسکے بعد فرعون کا زمانہ آیا۔اللہ تعالیٰ نے نمرود و فرعون کے باطل نظام کو ختم کرنے کیلئے ایک عالی مرتبہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ کو فرعون کی شر کو ختم کرنے کیلئے اس جہان رنگ و بو میں بھیجا۔انہوں نے فرعون کے ملکوتی،غیر منصفانہ،غیر عادلا نہ ، معاشی اور معاشرتی قاتلانہ نظام کو پاش پاش کیا ۔ درس توحید عام کیا،حق پرستی اور عادلانہ نظام قائم کیا۔ادب و احترام اور اخوت و محبت کے فطرتی چرا غ روشن کئے۔ موسیٰ علیہ السلام پر وحی کے ذریعہ الہامی اور روحانی تعلیمات کا نزول جاری ہوا۔ ان پر توریت شریف جیسی عظیم مقدس کتاب کا نزول ہوا۔ شر کی بالا دستی ختم ہوئی۔مخلوق خدا پر فلا ح کے دروازے کھل گئے۔فرعون جیسی باطل غاصب قوت غرق دریا ہوئی۔ توریت شریف کے الہامی علم و حکمت کے چراغ روشن ہوئے ۔ عدل و انصاف، اعتدال و مساوات،ادب و احترام اور اخوت و محبت کی خشک کھیتی کی آبیاری اور نشو نما کا عمل جاری ہوا۔ فطرت کا وقار معاشرے میں جلوہ فروز ہوا۔مخلوق خدا نے سکھ کا سانس لیا۔مذہبی تہذیب و تمدن پروان چڑھتا رہا۔ وقت گذرتا گیا۔ما دہ پرستی اور اقتدار کے نظریات کے فرعونی پجاری ہوس زر اور اقتدار کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ا نسانیت کا معاشی اور معاشرتی قتال کرتے رہے۔ مخلوق خدا اور انکی امت اللہ کے قر ب اور عبادت کے عمل سے دور ہوتی گئی۔ معاشرے میں اعتدال و مساوات، اخوت و محبت اورعدل و انصاف کا فقدان پیدا ہوتا گیا۔اور فرعونی نظریات کے قلیل سے پیروکا ر موسیٰ کلیم اللہ کی امت کے روپ میں مادیت کی طاقت حاصل کر لینے کے بعد ملک کے اقتدار پرقابض ہو کر توریت شریف کے الہامی نظریات ،اسکے الہامی ضابطہ حیات،اسکی الہامی تعلیمات کو روندتے چلے گئے۔ اقتدار کی نوک پر فرعونی نظریات،فرعونی ضابطہ حیات اور فرعونی تعلیمات کو سرکاری سطح پر نافذالعمل کرکے موسوی امت کو فرعونیت کے ضابطہ حیات میں کنورٹ کرتے چلے گئے۔مذہب کومعبد اور ذکرو اذکار تک محدود اور مقید کردیا گیا۔
(۶) فرعونی طاقتوں نے بنی نوع انسان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا ۔اقتدار پرستی کی آگ کو بجھانے کیلئے انسانیت کا معاشی اور معاشرتی قتال جاری رہا ۔انسانیت پر ظلم و جبر،قتل و غارت کے سیا ہ بادل چھائے رہتے ۔اقتدارکے نشے میں دھت یہ فرعونی طبقہ اپنی عیش و عشرت اور بالا دستی کی خاطر موسوی امت اور پوری انسانیت کو انسانیت کش ضابطہ حیات کے قانونی شکنجوں میںکس کر انتظامیہ اور عدلیہ کی بے رحم تلوار سے معاشی اور معاشرتی قتال کرتا۔انکے بنیا د ی اور فطرتی حقوق،انکی خوراک،انکا لباس،انکو بیماری کے علاج سے محروم کرنا انکی سیاست انکی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔لوگ اس ظالم طبقہ کے ظالم حصار کو توڑنا اورتاریخ کی بد ترین تہذیب کے قلیل فرعونی طبقہ سے نجات کے خواہاں تھے۔ جب اس جہان رنگ و بو پر شر پوری طرح حکمران بن چکی ۔ توحید پرستی اور راہ ہدائیت کے راستے بند ہو چکے۔خیر اپنا بستر لپیٹ چکی۔اوریہ دنیا ظلمت کدہ اور عبرت کدہ میں بدل چکی ۔تو فطرت نے ایک اور کروٹ لی۔تا کہ خیر کو شر پر فوقیت نصیب ہو سکے۔
(۷) اس وقت حالات کے تقاضوں کے مطابق رب العالمین نے جتنی بڑی شر تھی اتنا بڑا عظیم خیر کا داعی پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس دنیا میں بھیجا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بن باپ پیدا فرمایا۔آپ کو روح القدس کے مقدس نام سے نوازا ۔ آپ کو معجزات کا لا متناہی خزانہ عطا فرمایا۔ انہوں نے توحید پرستی کا سبق دہرایا۔ بیمارو ںکو شفا عطا فرمائی۔مردوں کو زندہ کیا۔ انسانوں پر شفقتوں کے خزانے لٹائے۔انسانوں پر سادہ اور صداقت والی زندگی کے دروازے وا کئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر انجیل مقدس جیسی الہامی کتاب نازل فرمائی۔دنیا میں رشد و ہدائیت کے راستے متعین فرمائے۔ انسانیت کو ایک نو را نی ، آسمانی ، روحانی ضابطہ حیات انجیل مقدس کی شکل میں عطا فرمایا۔ انسانیت کی خدمت و ادب اور ہر ذی جان کے تحفظ کا درس عام کیا۔ انکی امت مخلوق خدا کے لئے باعث رحمت اور باعث منفعت بن کر انسانیت کے دلوں میں اترتی گئی۔انہوں نے ایک ایسی امت تیار فرمائی ،جو درد کے صحراؤں میں خود تو دکھوں اور اذیتوں کو برداشت کرتے اور انسانیت کو سکھ اور چین جیسی دولت سے مالا مال کرتے۔ حسن کردار کی کامیابیوں سے انکی امت کے افراد انکی زندگی کے بعد انسانوں کو عیسائیت کے امن اور عظمتوں کے علاقے میں ھینچ لاتے ۔وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قربت کا راستہ صرف مخلوق خدا کی خدمت اور اس سے محبت کی راہ ہے۔ روح القدس کی پاکیزہ سیرت نے انسانیت کو مخلوق خدا کی خدمت اور محبت کے الہامی علم اور روحانی کردار سے سے سینچا اور اپنی امت کا دلکش تشخص تیار کیا۔ جو انسانیت کے لئے باعث کشش تھا۔
(۸) انجیل مقدس کی الہامی تعلیمات اور اخلاقیات کا دستک انسانی دلوں پر دیا۔ عمدہ ا خلاق، خدمت اور محبت کے پاکیزہ جذبوں سے ملی تشخص پروان چڑھایا۔اور اپنے حسن کردار کی دلربا مہریںمخلوق خدا کے دلوں پر ثبت کرتے رہے۔ انسانی عقل و فراست اور سوچ و بیچارجو بھی اخلاقی معیار مہیا کرتی ہے وہ قابل تاثیر ہو سکتا ہے۔لیکن جو اخلا ق ایک پیغمبر عطا کرتا ہے۔وہ معیار خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔خالق سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ کہ کونسا معیار بہتر کردار تیار کر سکتا ہے۔پیغمبر کا اخلاق انسانی فطرت کی جو تسلی تشفی کر سکتا ہے ۔وہ انسانی سوچ نہیں کر سکتی ہے۔انکے کردار کی تاثیریں فرعونی شر یعنی ہوس زر کے حصول کیلئے انسانی قتال اور اقتدار کی خواہشات کو ختم کرتی اور دلوں کو تسخیر کرتی گئیں۔ عوام جوق در جوق عیسائیت میں داخل ہوتے رہے ۔ لاکھوں ، کروڑوںانسان عیسائیت کے پیروکار بنے۔ عیسائیت کے پیروکار انسانی خدمت میں اتنے آگے بڑھ جاتے۔کہ وہ ترک دنیا کر دیتے۔فطرتی بنیادی ضروریات کے حصول سے بھی گریزاں ہو جاتے۔رہبانیت او ر فقر کی زندگی گذارنے پر فخر محسوس کرتے۔ یہ وہ راگ تھا جو ہر ساز پر گایا نہیں جا سکتا تھا۔ یہ مخصوص روح ا لقدس کے مذہبی پیروکاروں کا عملی کردار عوام الناس کا نصیب نہ بن سکا۔مادیت اور روحانیت کا اعتدال اور امتزاج قائم نہ رہ سکا۔مادیت کے پرستاروں نے مذہب اور روحانیت کا راستہ روک لیا۔ تہذیب عیسوی میں شگاف پڑ نا شروع ہوگئے۔ہوس زر یعنی مادہ پرستوں اور اقتدار پرستوں کا قلیل سا فرعونی طبقہ عیسائیت میں مذہب کے نام پر داخل ہوا اور عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل مقدس کی الہامی تعلیمات،حسن اخلاق اور کردار کو مسخ کرنا شروع کر دیا۔ روحانیت اور مادیت میں اعتدال پیدا کرنے کی بجائے اس قلیل سے مادہ پرست طبقہ نے فرعونی نظریہ حیات کی روشنی میں ہوس زر کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ دنیا کے مال و دولت اور وسائل پر قبضہ کر لیا۔اسی مال و دولت اور وسائل کی طاقت سے جمہوریت کے طرز حکومت کو رائج کر کے اقتدار پر قابض ہو بیٹھے ۔مذہب کو معبد اور کلیسا میں مقید کر دیا ۔ ملک و ملت پر مذ ہب کے ضابطہ حیات کی بجائے فرعونی نظریہ حیات،اسکی تعلیما ت ، اسکے اصول و ضوابط کی سرکاری بالا دستی قائم کر دی۔عیسائیت کی اجتماعی زندگی مذہب کے ضابطہ حیات اور فرعونی ضابطہ حیات کے تضاد کا شکار ہوتی گئی۔مذہب کو انفرادی اور اجتماعی طور پرعبادات کی آزادی حاصل رہی۔مگر انفرادی اور اجتماعی طور پر حکمرانی فرعونی ضابطہ حیات اور انسانی عقل کے تابع کر دی گئی۔اس فرعونی کلچر کی تعلیمات اور اس سے تیار کئے ہوئے کردار کی سرکاری بالا دستی نے مذہبی کلچر کی الہامی تعلیمات ،اخلاقیات ، کردار اور اعتدال و مساوات کو نگل لیا۔
( ۹) اس فرعونی طبقہ نے مال و زر کی طاقت کو اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے پیرو کاروں کومال و دولت،ہوس زر اور اقتدار کی جنگ میں جھونک دیا گیا۔ان غاصب قائدین کی ملکی سطح پر بالا دستی کی وجہ سے یہ ملت بھی مادی انتشار کا شکار ہو تی گئی۔اس لائع عمل کو انفرادی اور اجتماعی طور پر لاگو کرنے سے خیر سمٹتی گئی اور شر پھیلتی گئی۔نفس پرستی ،ہوس پرستی،زر پرستی،شہوت پرستی اور اقتدار پرستی کی آگ وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتی گئی ۔ کثرت رائے سے جمہوریت کا ضابطہ حیات تیار ہوتا رہا۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تو جمہوریت کے نظام کے مطابق کثرت رائے سے منتخب ہوئے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی انجیل مقدس جیسی الہامی،روحانی کتاب کثرت رائے سے مرتب ہوئی۔ جمہوریت کے قائدین نے پوری عیسائیت کو کلیسا میں پابند سلاسل کر دیا۔
(۱۰) جمہوریت نے کثرت رائے سے ملک کے قوانین و ضوابط انجیل مقدس کے نظریات اور تعلیمات کے خلاف تیار کئے۔ حکومتی بالا دستی کی وجہ سے پوری عیسائیت کو جمہوریت کے نظریات اور ضابطہ حیات کی پیروی کا پابند بنا دیا گیا۔جمہوریت کے فرعونی ٹولہ نے کثرت رائے سے عیسیٰ علیہ السلام اور انکی انجیل مقدس اور انکی امت پر غلبہ حاصل کر کے انکو عملی طور پر مذہب سے الگ کر دیا ۔ مذہب کو سرکاری سطح پر منسوخ اور ختم کر دیا گیا۔ اخوت و محبت ، ادب و خدمت، حسن اخلاق ،حسن کردار،حسن صفات، فطرتی صداقتوں اور انکی تکمیل کا عملی راستہ بند ہو تا گیا۔ عیسیٰ علیہ الاسلام کے الہامی نظریات اور روحانی تعلیمات کی افادیت اور آفاقیت کو بے اثر بنا دیا۔ اس نظریاتی تضاد نے عیسائیت کے آسمانی کردار کو کچل کر رکھ دیا۔عیسائیت کے مذہب کا فروغ رک گیا۔دنیا میں امن اور عدل انتشار کا شکار ہوتا گیا۔انسانی نسلیںمذہب کی آفادیت سے محروم ہوتی چلی گئیں۔
(۱۱) ان عیسائیت کے منافقوں، مادہ پرستوں اور اقتدار پرستوں نے عیسائیت کے مذہب کی عمارت کو ریزہ ریزہ کرنا شروع کر دیا۔ صنعتی ترقی کے حصول کی خاطر مستورات کو مردوں کے شانہ بشانہ عملی زندگی میں اپنے ساتھ لے آئے۔ انہوں نے مرد و زن میں پردہ کی دیوار کو ختم کر کے حیا کی عمارت کو روند دیا۔ گھر کی چار دیواری چھین لی۔ ازدواجی زندگی کے الہامی نظام کوبری طرح مجرو ح کر دیا۔ مذہب کے خلاف مخلوط معاشرہ اور جنسی آزادی کے قوانین کثرت رائے سے نافذ کئے۔ مذہبی حدود قیود مسخ ہوتی رہیں۔ فرعونی کلچر خاندان کی عمارت اور اسکے تقدس کو روند تا چلا گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ احساس زیاں بھی ختم ہوتا گیا۔انسان حیوان ناطق بن کر رہ گیا۔لوٹ کھسوٹ ، ظلم و تشدد، قتل و غارت اور اس جہان رنگ و بو کو تباہ کرنے کا عمل جاری رہا۔ اس طرح ترقی کے نام پر مشتمل فرعونی تہذیبی کلچر فرو غ پاتا گیا ۔ ایک عظیم پیغمبر کی عظیم امت کو اقتدار کی نوک پراس فرعونی طبقہ کے قلیل سے بر سر اقتدار قائدین نے سرکاری سطح پر مقید کرکے مجبور اور بے بس بنا دیا ۔ جوانکی مفتوحہ عوام بن کر رہ گئی اور جمہوریت کے نظام کی غلامی کی بد ترین سزا میں مبتلا کر دی گئی ۔مذہبی تہذیب کی بنیادی کڑی ختم ہو گئی۔
(۱۲) اس مادہ پرست اور اقتدار پرست طبقہ نے اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے جمہوریت کا ایسا ضابطہ حیات ترتیب دیا۔جس میں مذہبی صفات اور صداقتوں کو ترک کیا اور صرف مال و دولت اور وسائل کی برتری والے افراد حصول اقتدار کی خاطر الیکشن میںحصہ لیتے اور بے پناہ اخراجات اور ہر قسم کی دھاندلی کر کے کثرت رائے کے ذریعہ حکومتی پنڈال تک رسائی حا صل کر تے چلے آرہے ہیں۔ فرعونی نسل کا مادہ پرست اور اقتدار پرست ٹو لہ ۔ مذہبی اقدار اور کردار کو روندنے والا ظالم اور غاصب طبقہ، معصوم و مشفق اور خدمت خلق کی مستی میں گم عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے فرزندان پر جمہوریت کے ذریعہ ان پر غلبہ حاصل کر کے حکمران بنتا چلا آرہا ہے۔حکومت پر قابض ہو کر ملکی وسائل اور دولت کواپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے۔ ملک کی قانون سازی کرتے وقت مذہب کے ضابطہ حیا ت ، اسکے دستو ر ، اسکے نظریات اسکی تعلیمات کو پس پشت ڈالتا چلا آرہاہے۔ نہ تو وہ مذہبی ضابطہ حیات کو سرکاری طور پر ختم کرتے اور نہ ہی ملکی سطح پر اس کی بالا دستی قائم کرتے ہیں ۔اگر یہ روح القدس حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ضابطہ حیات اور اسکے الہامی نظریات کو ملکی سطح پر فوری طور پر منسوخ کرتے تو مذہب پرست انکا اسی وقت قلع قمع کر دیتے۔انہوں نے کلیسا کی حد تک مذہب پرستوںکو عبادت کی آزادی دے رکھی ۔ انہوں نے بڑی چالبازی،چالاکی،بڑے دھو کے اور آج کی جدید ٹرمنالوجی یعنی سیاست کے ذریعہ بڑے شاطرانہ انداز میں مذہب کے نظریات اور تعلیمات کو ملکی سطح پرمعطل کر کے بے اثر اور بے بس بنا دیا۔ جمہوریت کی سرکاری بالادستی ملک پر رائج کر کے مذہب کے نظریات اور تعلیمات کو معبد اورکلیسا تک محدود اور مسدود کر دیا۔ پھر آہستہ آہستہ مذہب کے ضابطہ حیات کی بجائے جمہوریت کے ضابطہ حیات کے قوانین نافذ کرتے گئے۔ جمہوریت کے نظام کی تعلیم و تربیت سکولز،کالجز اور یونیورسٹیوں میں جاری کر دی۔ سیاستدان ملک پر اپنی بالادستی اور اقتدار حاصل کر لینے کے بعد اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق اپنے منفعت بخش نظریات کو ترتیب دیتے ۔ حکومتی کاروبار چلانے کے لئے ان نظریات کا تعلیمی نصاب متعین کرتے اور اس نصاب کی تعلیم ملکی تعلیمی اداروں پر نافذ اور مسلط کر کے ان نظریات کے تربیت یافتہ افراد تیار کرتے۔ملک کا انتظامیہ اور عدلیہ کا کاروبار ان تربیت یافتہ افراد کے سپرد کرتے چلے آرہے ہیں۔اس طرح عیسیٰ علیہ الاسلام کی امت کا کردار مذہب کے متضادالہامی صفات کی جگہ جمہوریت کے قوانین اور ضوابط کی شر کی صفات میں بدلتا گیااور ملت جمہوریت کے ضابطہ حیات کی گرفت میں آتی گئی اور مذہب کی دوری کی سزا میں مبتلا ہوتی گئی۔اس طرح انہوں نے عیسیٰ علیہ الاسلام اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے سلامتی کے مذہب کی آفاقیت کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ جس کی وجہ سے آج انسانیت مذ ہب سے دور جمہوریت کے صحرا میں بھٹکتی جا رہی ہے۔
(۱۳) عیسیٰ علیہ السلام کی امت کی تعلیم و تربیت جمہوریت کے نظریات کے نصاب کی روشنی میں پروان چڑھتی رہی۔اس نظریاتی تضاد کے فتنہ نے ملت کا طیب اور مقدس تشخص ریزہ ریزہ کر دیا۔اس ملت کا اخلاق ،کردار مذہب کی تعلیمات کے خلاف باطل، پست ، ظالمانہ،غاصبانہ اور گھناؤنا ہوتا گیا۔ مذہب پرست امت کے افراد ذہنی ،قلبی اور روحانی انتشار کا شکار ہوتے گئے۔ اعلیٰ مذہبی صفات،اعلیٰ مذہبی اقدار، اعلیٰ مذہبی کردار اور اعلیٰ مذہبی اخلاق نا پید ہوتا گیا۔ملت کا انفرادی، اجتماعی، الہامی اور روحانی اخلاق و صفات کا سورج غروب ہوتا گیا۔صفات کی تشکیل اور تکمیل کاعمل رک گیا،صفات کی پہچان ختم ہوتی گئی ، صفات کا تقدس ختم ہوتا گیااورصفات کے تقدس کا شعور سمٹتا گیا۔جمہوریت اور اسکے پیروکاروں نے ملت کی صداقت کا خزانہ لوٹ لیا۔ رہزن رہبر بن گئے۔صداقت کی تکمیل کا دور خاموشی سے سر نگوں ہوتا گیا۔شر کی قوتیںبرسراقتدارآ تی گئیں۔ملک و ملت کی دولت اور وسائل کا حصول بدلتا گیا۔عدل و انصاف کا معاشی اور معاشرتی قتال جاری ہوتا گیا۔مذہبی الہامی کلچر اور تہذیب کا رخ جمہوریت کی شر پرستی،اقتدار پرستی، عدل کشی،ظلم و جبر،غاصبیت،معاشی اور معاشرتی قتال کی قانون سازی کے زیر سایہ اپنی منازل طے کرتا گیا۔انسانیت کیلئے یہ دنیا جنت سے جہنم میں بدلتی گئی۔پیغمبران نے نمرود ،فرعون ، شد اد اور ہامان جیسے ظالموں، غاصبوں اورقاتلوںسے انسانیت کونجات دلائی۔لیکن بد قسمتی سے انکے ایجنٹ ایک منافق کے روپ میں انبیاکی امتوں کی صفوں میں گھس آئے اور وہ اب ایسے کام کر رہے ہیں جو وہ تمام باطل قوتیں نہ کر سکیں۔
(۱۴) مذہب کے گناہ اور ثواب کے الہامی جزا اور سزا کے فطرتی نظام کو منسوخ کرکے اسکا انتظامیہ اور عدلیہ کا نظام اور سسٹم ختم کر دیا گیا۔ اسکے بر عکس جمہوریت کے نظام اور سسٹم کو ملک و ملت پر مسلط کر دیا گیا۔ جمہوریت کے ضابطہ حیات کے قوانین کو توڑنے والوں کیلئے قانونی مجرم کا نام دیدیا گیا۔ جمہوریت کے قوانین کے جرائم کو روکنے کیلئے ایک نیا انتظامیہ اور عدلیہ کا جمہوری نظام اور سسٹم قائم کر دیا گیا۔ اور انکے مطابق سزائیں مقررکرتے گئے۔خدا وند قدوس کے الہامی اور آسمانی دستور اور اسکے ضابطہ حیات اور نظریات کو ملکی اور ملی سطح پر پس پشت ڈال کر مذہبی تہذیب کی نشو نما کا عمل بند کر دیا گیا۔ اسکی جگہ جمہوریت کے سیاسی اسمبلیوں کے سیاستدانوں اور دانشوروں کو اختیار حاصل ہو تا گیا۔ جس کے تحت وہ ضرورت کے مطابق وہ اپنا دستور تیار کرتے،اسکے ضابطہ حیات اور نظریات کی روشنی میں قانون سازی کرتے۔ملک و ملت پر مذہب کی تعلیمات ، نظریات اور دستور کو نظر انداز اور معطل کرکے ملکی سطح پر جمہوریت کے طریقہ کار یعنی کثرت رائے سے تیار کردہ قوانین کو نافذالعمل کرتے۔ جس سے مذہب پر جمہوریت کی بالا دستی اس خود کار نظام کے تحت قائم ہوتی گئی۔ ملک میں اللہ تعالیٰ کے الہامی دستور، قوانین اور نظریات کی حاکمیت کو سرکاری سطح پر منسو خ کر کے ملت کو جمہوریت کی غیر دینی نظریات کی اطاعت میں دیدیاگیا۔اس طرح مذہب اور جمہوریت کے نظریات کے تضاد کے فتنہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو ایک عبرتناک اور اذیت ناک ذہنی ،قلبی اور روحانی تضاد اور انتشار کے کینسر میں مبتلاکر دیا۔
(۱۵) ملت خلق عظیم سے محروم ہوتی گئی۔ مخلوقِ خدا کیلئے سراپا خدمت پر مشتمل امت کا طیب کردار اعمال کے ترازو میں گرتا گیا۔جمہوریت نے نہ صرف اخلاق کے تکمیل کے عمل کو روک دیا۔بلکہ عیسائیت کا ملی کردار جمہوریت کے نظریات کے ظالمانہ غاصبانہ کردار میں ڈھلتا گیا۔صفات کا تقدس پامال ہوتا گیا۔نور کا سورج ظلمات کے اندھیروں میں غروب ہوتا گیا۔
(۱۶) کلیسا میں مذہبی تعلیمات اور عبادات کی روایات کو جاری رکھا۔انجیل مقدس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو کلیسا میں مقید کر دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو تسلیم کرنے والی نظریاتی ملت ،اس کو ماننے کی حد تک تو قائم رہی۔لیکن اسکے اخلاق،اسکی صفات،اسکی تعلیمات،اسکے نظریات اور اسکے خدمت خلق کے طیب جذبوں کو تربیت دینے والی مذہبی،روحانی کلیسائی درسگاہوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ طیب فطرت معززپادری صاحبان اور مقدس عظیم مذہبی پیشوا خدمت خلق اور روحانی عبادات میں ہمہ تن گوش رہتے۔ مذہبی ہستیاں اور فرض شناس پیشوا روح القدس کے نظریات پر مشتمل انسانیت کا اخلاق و کردار کو منور کرتے اورروحانی صفات کے تعلیمی نصاب کے مطابق سنوارنے میں مصروف رہتے۔ وقت کے تقاضوں کو احسن طریقہ سے پورا کرتے۔وہ دنیا کی بے جا غرض و غائط سے بے نیاز اور حکومتی کاروبار سادگی اورشرافت سے چلاتے ۔ حقوق انسانی کا فرض ادا کرتے رہتے جب تک امت کو مذہبی نظریات اور اسکی تعلیم و تربیت کی آبیاری میسر رہی ۔ اس وقت تک جوق در جوق انسان عیسائیت میں داخل ہوتے رہے۔ انجیل مقدس کے نظریات اور انکی فطرتی صفات کی عزت و عظمت اور انکی تقلید جاری رہی۔ یہ دنیا امن کا گہوارہ بنی رہی ۔آج اس ملت کا کردار انسانیت کی سلامتی سے دور اور تمام انبیاء علیہ السلام کے نظریات اور کردار پر ایک بد نما دھبہ بن چکا ہے۔
۱۷ جب فرعونی نسل کے مادہ پرستوں نے ملکی دولت اور وسائل پر قبضہ کر لیا۔اور ملک کے اقتدار کے حصول کی جنگ میں کامیاب ہوگئے۔تو ان آمر اور جابر چند سیاستدا نو ں نے اقتدار کی نوک پر مذہب کے پرستاروں کو کلیسا الاٹ کر دیا اور خودحکومتی نظم ونسق کا کنٹرول سنبھا ل لیا۔ ان فرعونی ایجنٹوں اور عیسائیت کے رہزنوں نے عیسیٰ علیہ السلام اور انکے مذہب کو مات دی اور فرعونیت جیت گئی۔ عیسائیت کے منافقوں اور فرعونیت کے ایجنٹو ں کے قائدین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے نظریات،انکی تعلیما ت ، انکے حسن خلق اور انسانیت دوستی کے ضابطوں کو مسخ کر دیا۔ کنبہ خدا کی خدمت کا تصور نا پید کر دیا۔ انکی حسین اور دلکش تہذیب کو بری طرح روند کر رکھ دیا۔انسانیت کی رہنما ملت انسانیت کی رہزن بن کر رہ گئی۔
(۱۸) جمہوریت کے نظریات کی روشنی میں نظام حکومت ترتیب دیا گیا۔مذہب کے باغی مادر پدر آزاد ہوتے گئے۔سیاست کے قائدین اور دانشوروں نے پیغمبران کے ادیان کے خلاف آپنا ایک نیا مذہب تیار کرلیا،جسکا نام انہوں نے جمہوریت رکھ لیا۔ انہوں نے حکومتی قلمدان سنبھالتے ہی عیسائیت کے مذہبی نظریات کی سرکاری پذیرائی منسوخ اور معطل کردی۔ پوری انسانیت کو مذہب کی افادیت سے محروم کردیا گیا۔ مذہب کے باغٰی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نا فرمانوں نے انکی ملت کو جمہوریت کے ضابطہ حیات کی زنجیروں میں مقید کر لیا۔ا نکا الہامی اور روحانی تشخص مسخ کر کے رکھ دیا۔ انکا خدمت خلق کا کردار ان سے چھین لیا۔ انکی بے سرو سامانی کی بے بسی کی زندگی اور دلوں پر بادشاہت اور حکمرانی کرنے کے اعمال کے تصور کو بھی روند دیا۔
(۱۹) یہ مذہب کے منافق اور باغی اور فرعونیت کے ایجنٹ ان پر حکمران بن بیٹھے۔ کلیسا کی روحانی تعلیمات کے نصاب کو سرکاری سطح پر ختم کیا۔ اسکی روح کے متضاد جمہوریت کے نظریات پر مشتمل تعلیمی نصاب کو سکولز ،کالجز اور یونیورسٹیوں میں رائج کر دیا گیا ۔حکومتی نظام چلانے کیلئے انسانی نسلوں کی ان غیر الہامی، غیر روحانی مذہب کش تعلیمی اداروں میں نشونما ہونے لگی۔ان تعلیمی اداروں کے فارغ البال دانشوروں کوملک کا نظام حکومت چلانے کیلئے ہر قسم کی مادی برتری حاصل ہوتی گئی۔ ملک کا نظم و نسق انکے کنٹرول میں آتاگیا۔ عدلیہ اور انتظا میہ کے شعبہ بھی انکے سپردکر دئیے گئے۔وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنتے گئے۔ پیغمبر اورمذہب کی الہامی ،روحانی خیر کی صفات کی کلیسا میں پیروی کرنا اور جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے نظریات کی ملکی سطح پرسرکاری طور پر تقلید کرنا جسے اللہ کی تائید حاصل نہ ہو۔ملت کے نظریاتی جسد پر ایک کینسر کی حثیت اختیار کرتاگیا۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے عظیم پیغمبر کے خلاف ایک کھلی نا فرمانی کی جنگ جاری کر دی گئی۔جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت اور بنی نوع انسان اور اسکی آنیوالی نسلوں کو الہامی نظریہ حیات سے محرم کرکے انکو ظلم و تشدد، معاشی اور معاشرتی قتل و غارت کے جرائم کی واد یوں میں دھکیلنے کا عمل جاری کردیا گیا۔ ملی تشخص میں باطل،غاصب قوتیں اجاگر ہوتی گئیں۔ ملی نظریات کو جمہوریت کے نظریات کی سرکاری بالا دستی نگلتی گئی۔ حسن اخلاق اور مذہبی کردار کا سچائی کا ثمر دنیا سے نایاب ہوتا گیا۔ ملت انفرادی اور اجتماعی طور پر نفس پرستی،ہوس پرستی، مادہ پرستی،جنس پرستی اور اقتدار پرستی کے بتوں کی پرستش میں گم ہوتی گئی۔ پوری انسانیت عیسائیت کے مذہب کے الہامی نظریات اسکی روحانی تعلیمات کی روشنیوں سے محروم ہوتی گئی۔ کاش کہ کوئی نصیب ساز انسان عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو ان فرعونی نسل کے ایجنٹوںٓاور قائدین کی بالا دستی سے مذ ہب و ملت کو نجات دلا سکے۔امین
(۲۰) پیغمبری کسی سکول کی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔ یاد رکھو۔۔۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی صفات کی عظمت کے وارث ہوتے ہیں۔وہ اخلاق و صفات کی تفسیر ہوتے ہیں۔وہ ا ما نت و دیانت،اعلیٰ فطرتی صفات اور صداقتوں کی قندیلیں سمیٹے بیٹھے ہوتے ہیں۔وہ رحمت بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔وہ معلم اخلاق اور کردار ہوتے ہیں۔ وہ کسی شہر یا ملک یا قوم کی میراث نہیں ہوتے۔ وہ انسانی حقوق کا تعین کرتے ہیں۔ وہ پوری انسانیت کے حقوق کا احترام سکھاتے ہیں ۔و ہ انسانی حقوق کی حفاظت کے میزان کو قائم کرتے ہیں۔ انکا کردار آفاقی اور کائناتی ہوتا ہے۔ انکے نظریات اور کردار کی خوشبو انسانوں کے دلوں اور انکی روحوں میں اترتی اور ان کو تسخیر کرتی جاتی ہے۔ انکی پیروی کرنے والا معاشرہ ایک متوازن ، دلکش ، اعتدال و مساوات پر مشتمل حسین فلاحی معا شرہ تشکیل پاتا ہے۔ انکی خدا وند قدوس کی اطاعت اور انکے عطا کئے ہوئے ضابطہ حیات کی پیروی ،خاکی کو افلاکی بنا کر رکھ دیتی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت خود بھی کرتے ہیں اور اپنی امت کو بھی اسی راہ پر گامزن کر دیتے ہیں۔وہ خیر کے داعی اور مخلوق خدا کیلئے منفعت بخش ہوتے ہیں۔جو تہذیب و تمدن ، مذہب کی روشنی میں پروان چڑھتا ہے۔ اسکی منزل اخوت و محبت، اعتدال ومساوات، عفو درگذر، ایثار و نثار، عدل و انصاف اور امانت و دیانت کو قائم کرتی ہے۔ اور مخلوق خدا کی خدمت کو عظمت سمجھتی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے۔
(۲۱) اسکے بر عکس جمہوریت مادہ پرستوںاور اقتدار پرستوں کے نظریات اور کردار کا ایک بھیانک فرعونی ضابطہ حیات اورطرز حیات پر مشتمل سیاسی دانشوروں کا مذہب ہے ۔جسکی تخلیق سیاست کے فرعونی قائدین اور دانشور اسمبلیوں میں بیٹھ کراپنی حکومتوں کو قائم رکھنے اور مادی افادیت کے حصول کیلئے جھوٹ اور ظلم کی آمیزش سے تیار کرتے ہیں ۔ وہ انسانی قتال اور انکے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ جس دور میں قلیل سے لوگ اور چند ترقی یافتہ ممالک حق سے زیادہ مال و دولت اور وسائل پر قابض ہو جائیں اور دنیا میں عوام الناس فطرتی اور بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتے جائیںتو یہ زمانہ حق تلفی اور افراتفری کا زمانہ ہوتا ہے۔ جب مخلوق خدا کو حقوق کے حصول کیلئے صرف ایک ہی راستہ دعا کا رہ جائے تو یہ دور ظلم اور ظالموں کا دور کہلاتا ہے۔ جب بنی نوع انسان کو حقوق کے حاصل کرنے کیلئے جنگ لڑنی پڑ جائے تو یہ دور جبر کا دور کہلاتا ہے۔ جمہوریت کیا ہے۔ جب زمانے میں حق پرست اور حق شکن،دین دار اور بے دین،،اہل بصیرت اور جاہل،صاحب کردار اور بد کردار،نیک اور بد، بے ادب اور با ادب، بے حیا اور با حیا ، زانی و شرابی اور پرہیز گار ، متقی اور غیر متقی۔صا لح اور گناہ پرست ،ظالم اور مظلوم ، قاتل اور مقتول، رہبر اور رہزن ایک ہی دام فروخت ہونے لگیں تو اسے اندھیر نگری اور جمہوریت کا دور کہتے ہیں۔


(۲۲) جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے۔ جو کثرت رائے کے ذریعہ معرض وجود میں آتا ہے۔ جس کے تحت کثرت رائے کے عمل سے ہی ملکی حکومتیں قانون سازی کر کے عوام الناس کے حقو ق غصب کرتی ہیں۔ اس طرح بین الاقوامی سطح پر ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کے حکمران کثرت رائے کی تلوار سے چھوٹے ممالک کے عوام کے حقوق چھینتے ، غصب اور سلب کرتے۔ان پر بغیر کسی جواز کے جنگیں مسلط کرتے چلے جاتے ہیں۔ انکا معاشی اور معاشرتی قتال بڑی بے دردی سے کرتے ہیں۔ عالمی عدالت یو،این،او کے ممبران یعنی جمہوریت کا بین الاقوامی غاصب،ظالم اور عدل کش ٹولہ کثرت رائے سے مذہب کے روحانی نظریات،اسکے ضابطہ حیات،اسکے تعلیمی نصاب پر فوقیت ، برتری اور بالادستی حاصل کر کے اسے خاموش،بے بس اور بیکار بنا دیتا ہے۔ اس طرح مذہب کی افادیت کے دروازے بنی نوع انسان پر پوری دنیا میں بند کر دئیے جاتے ہیں۔ یاد رکھو !۔ مذہب نہ کوئی حاکم وقت بدل سکتا ہے اور نہ ہی رائے عامہ یا کثرت رائے کے عمل سے اس میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔مذہب کسی تر میم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔جمہوریت اور مذہب کبھی ہم سفر نہیں ہو سکتے ۔ جمہوریت کے نظام کے زیر سایہ پروان چڑھا ہوا معاشرہ مذہب کی صداقتوں سے عاری اور محروم ہو چکا ہوتاہے۔جھوٹے معاشرے میں صداقت کیلئے وو ٹ کون دیگا ۔ جمہوریت کثرت رائے ،مقدار اور تعداد کی قائل ہوتی ہے مذہبی معیار کی نہیں۔یاد رکھو کثرت رائے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب کے نظریات،ضابطہ حیات اور تعلیمی نصاب کو بدلنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔بلکہ رائے عامہ اور کثرت رائے کومذہب کے تابع رہنا ہو گا ۔ تب وہ انکی امت کہلاسکے گی۔ورنہ وہ ملت کے منافق،کفر کے ایجنٹ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گستاخ و بے ادب، انکے نظریات کے باغی ، اور انکے مذہب کو کچلنے والے اور انکی ملت کے قاتل کہلائیں گے۔
(۲۳) نمرود ہو یا فرعون،ہا مان ہو یا شداد یا انکے نظریات کے پیروکار یہ اپنے آپ کو اپنے کفر کے مذہب کے مومن سمجھتے ہیں۔اپنی بیشتر غاصب عادات و کردار، غیر عادلانہ طریقہ کار ،مادیت کے حصول اور اقتدار پر قابض ہونے کیلئے ہر قسم کے جھوٹ، ظلم اور قتال کو اپنے مذہب کا حق اور فریضہ سمجھتے ہیں۔ اقتدار حاصل کر لینے کے بعد عوام الناس، مخلوق خدا اور پیغمبران کی امتوں کو اپنے غاصب نظریات اور بے رحم منشور کی اذیتناک تلوار کی طاقت اور اقتدار کی بالا دستی سے اطاعت کرواتے۔ اور نا فرمانوں کو عبرتناک سزا ئیں دیتے،اذیتوں سے دوچار کرتے اور انکا قتال جاری رکھتے ہیں ۔ اس ظالم،غاصب ٹولہ کے قائدین اور حکمران حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت عیسیٰ روح اللہ پر نازل ہونے والے صحیفوں زبور شریف ، توریت شریف اور انجیل شریف کے نظریات انکی تعلیمات کو سرکاری سظح پر منسوخ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انکی امتوں سے انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات اور انکے مذہبی تعلیمی نصاب کو سرکای طور پر مسترد کرکے ا ن مقدس کتابوں کی افادیت ختم کرتے چلے آرہے ہیں ۔انکی ملتوں کے مذہبی شعور اور روحانی تشخص کو کچلتے چلے جا رہے ہیں۔پیغمبران کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ان پر رشد و ہدایت کے صحیفوں کا نزول بھی جاری رہا۔ رحمتوں اور مہربانیوں کے دروازے بھی انسانیت پر وا ہوتے رہے ۔ کائنات کا ارتقائی عمل جاری رہا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبران علیہ السلام کو بھی اس دور کی ضرورت کے مطابق الہامی ضابطہ حیات،الہامی نظریات، الہامی تعلیمات اورروحانی طاقتیں عطا ہوتی ر ہیں۔لیکن باطل قوتیں بھی اپنا تباہ کن گھناؤنا رول ادا کرتی رہیں۔
(۲۴) عیسائیت کا دور ختم ہوتا گیا اور فرعونیت کے اصول و ضوابط عیسیٰ علیہ السلام کی امت پرنافذالعمل ہوتے گئے۔امانت و دیانت،اخوت و محبت،اعتدال و مساوا ت ، حسن اخلاق، ادب و خدمت کے پاکیزہ کردار،عدل و انصاف اور الہامی صداقتوں کے چراغ گل ہوتے گئے۔ جمہوریت کی ا نسانی سوچ کی بالا دستی نے روح القد س کے الہامی ضابطہ حیات کی تاثیریں ختم کر ڈالیں۔انسانی زندگی کے اخلاقی صفات کو بروئے کار لانے کا عمل بند کر دیا گیا اور مذہب کی نشو نما ،ارتقااور تکمیل کا راستہ بند اور مفقود ہو تاگیا۔
(۲۵) اللہ تعالیٰ نے نظام ہستی اور انسانیت کے اخلاق کی تکمیل کیلئے اخلاقی وسعتوں اور عظمتوں کے وارث ، حسن سلو ک ، مہمان نوازی ، سادگی ، شرافت،پاکیزہ کردار، شرم و حیا، اعتدال و مساوات ، عفو درگذر،صبر و توکل ،خدمت و ادب اور صداقتوںکے پیکر اور پیامبر اور کائنات کی تمام صفات کی تکمیل کے وارث حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو اس جہان رنگ و بو میں بھیجا۔ وہ مظہر اخلاق،مفسر اخلاق،مکمل اخلاق،منبع اخلا ق اور محافظ اخلاق کی مکمل تفسیر اور تکمیل بن کر اس دنیا میںتشریف لائے۔عبادت و تقویٰ،چرند و پرند پر رحم،شفقتوں محبتوںکی انتہا،کافروں اور مشرکوں سے حسن سلوک،دشمنوں اور قاتلوں کو فتح مکہ کے بعدکھلی معافی۔آپ ﷺ حسنت جمیع خصالہی کی سند بن کر اس دنیا میں تشریف لائے ۔ آپﷺ تمام انبیا اور مصلحین جو اس دنیا میں تشریف لائے ان کے عمل و کردار اور ان کی صفات کا مظہر اور نور کا مقدس مجسمہ ہیں۔
۲۶ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھٹکی ہوئی مخلوق خدا کو توحید کا بھولا ہواسبق پھر سکھا یا۔ آپ ﷺ نے اپنے حسن عمل اور پاکیزہ کردار کا سکہ اپنے مخالفین سے منوایا ۔ان سے صادق اور امین کے القاب حاصل کئے۔ آپ ﷺ سے قبل اللہ تعالیٰ ہر پیغمبر کو اس دور کی ضرورت کے مطابق انسانیت کیلئے عمدہ اخلاق اور پاکیزہ صفات کا نورانی علم عطا فرماتے رہے۔ ان پر ازلی ابدی صداقتوں پر مشتمل آسمانی صحیفوں کا نزول ہوتا رہا۔ حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور شریف،حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت شریف،حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل شریف کا نزول یکے بعد دیگرِ عطا ہوا۔ جن کے ادوار میں مخلوق خدا کے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اخلاق و کردار میں ایک انوکھا انقلاب برپا ہوتا رہا۔ صفات کی تکمیل کا عمل جاری رہا۔ وقت کی نگری میں یہ تمام الہامی کتابیں گم اور نایاب ہوتی گئیں اور انکی امتیں ان روحا نی ، الہامی کتابوں کے علوم اور فیض سے محروم ہوتی گئیں۔ شر انسانی عقل پر حکمرانی کرتی رہی۔ انسانی سوچ انبیا علیہ السلام کے حسن اخلاق کی تمام آفاقی صفات اور روحانی صداقتوں کو روندتی اور انکی تاثیریں ختم کرتی رہیں۔ نمرود، شداد، ہامان ،فرعون جیسی باطل،غاصب اورشر پسند قوتیں مادیت اور اقتدار کے حصول کی جنگیں لڑتی اور معاشرے کو اپنے ظالمانہ قانونی شکنجوں میں جکڑتی اور مقید کرتی رہیں۔ شر کو خیر پر بالا دستی حاصل ہوتی گئی۔ ان پیغمبران کی امتیں الہامی نظریات اور اسکے تعلیمی نصاب سے محروم ، گمراہ اور تباہ ہوتی رہیں۔ مادیت او ر اقتدار کی جنگیں جاری رہیں ۔ آمروں، بادشاہوں،ظالموں اور جابروں کی حکومتیں قائم ہوتی رہیں۔ انسانی قتال جاری رہا۔ اخوت و محبت،اعتدال و مساوات،ادب و خدمت اور عدل و انصاف کے بنیادی ضابطے ناپید ہوتے گئے۔ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے آخری نبی الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس کائنات میں بھیجے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس میں اللہ جلِ شان ھو’ نے نبوت کی تکمیل ،حسن اخلاق کی تکمیل، انسانیت کی تکمیل،صفات کی تکمیل،پاکیزہ کردار کی تکمیل اور ازلی ابدی صداقتوں کی تکمیل فرمائی۔تمام پیغمبران اور انبیا علیہ السلام اپنے اپنے ادوار میں مخلوق خدا اور انسانیت کی فلاح کی کڑیاں ہیں۔
۱۔ کیا داؤدی،موسوی،عیسوی اور محمدیﷺ امتیںتوحید پرستی پر ایمان رکھتی ہیں۔
(۲) کیاتمام امتیںاپنے اپنے پیغمبران کو تسلیم کرتی ہیں۔

(۳) کیا ہر امت اپنے پیغمبر پر ناز ل فرمائی ہوئی الہامی روحانی کتاب کو رشد و [L:7] [L:7] [L:7]
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] ہدایت کا منبع اور فلاح کا راستہ تسلیم کرتی ہے۔
(۴) کیا تمام امتیں وحی اور پیغمبران کے معجزات پر یقین اور ایمان رکھتی ہیں۔
(۵) کیا ہر امت کے افراداپنے پیغمبر کے بتائے ہوئے ازدواجی اصول و ضوابط [L:7] [L:7]
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] کی پیروی کرتے ہیں۔
( ۶) کیا ہر پیغمبر کی امت انکے بتائے ہوئے حسن اخلاق اور پاکیزہ کردار کے [L:7]
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] سائے تلے اپنی تہذیب کو پروان چڑھاتی ہیں۔
ّ (۷) کیا تمام پیغمبران معاشرے کے ارتقائی عمل کے ساتھ صداقتوں کو بھی مقام
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] عروج کی منازل بخشتے نہیں رہے ہیں۔
(۸) کیا ہر دور میں پیغمبر وقت، معلم اخلاق، کے فرائض ادا کرتے اور حسن اخلاق [L:7] [L:7] [L:7]
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] اور پاکیزہ کردار کی تکیل ہوتی نہیں رہی۔
( ۹) کیا آدم علیہ السلام سے آفرینش نسل کا ازدواجی سلسلہ یوںرائج ہوا کہ [L:7]
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] جڑواںبھائی بہنوں کی شادی دوسرے جڑواں بھائی بہنوں کے ساتھ ہوتی رہی۔
(۱۰) کیا داؤد علیہ السلام تک رشتوں کی ازدواجی زندگی کے اصولوں کی حدود
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] متعین ہوئی۔
(۱۱) کیا موسیٰ علیہ السلام کی امت یعنی یہودی اپنی نسل کے علاوہ از دواجی زندگی
[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] میں منسلک ہونا ایک گناہ کبیرہ تصور کرتے ہیں۔
(۱۲) کیا عیسیٰ علیہ السلام کی امت مرد و زن صرف ایک شادی کر سکتے ہیں۔وہ اس کو طلاق نہیں دے سکتے۔جسکی وجہ سے مغرب میں عیسائیوں نے جمہوریت کی روشنی میں جنسی آزادی پر قانون سازی کر کے مذہب کے ضابطہ حیات کے خلاف بغاوت کی اور اسکوکچل کر رکھ دیا ہے ۔
(۱۳) کیا نو جوان جوڑے مذہبی ضابطہ، کے مطابق جنسی فطرتی خواہشا ت اور آفرینش نسل کی بجائے، فرینڈ شپ کے طریقہ کار سے حرامی بچے پیدا کرتے چلے نہیں آ رہے۔جن کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور وہ انکو چائلڈ ہوسز میں پرورش کیلئے جمع کرواتے جا رہے ہیں۔ اس طرح جو معاشر ہ تیار ہو رہا ہے اس میں خاندان کی عمارت کا مذہبی شعور نا پید اور اس میں آسمانی اور روحانی دولت اخوت و محبت کا فقدان پیدا ہوتا جا رہا ہے۔انسانی سوچ انسانیت کو جو اخلا ق مہیا کرتی ہے اس کا معیار پیغمبر کے خدائی معیار سے بہتر نہیں ہو سکتا۔اخوت و محبت
سے محروم معا شرہ اخلاقی پستی کا مظہر اور درندہ صفات بن جاتا ہے۔کیا ایسا نہیں ہو رہا۔کیا جمہوریت کے حواریوں اور حکمرانوں نے انکو مذہب کے ضابطہ حیات کے خلاف جنسی آزادی کا قانونی تحفظ فراہم نہیں کر رکھا۔
(۱۴) جبکہ اسلام نے مرد کو چار شادیاں ایک وقت میں کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔اس شرط پر کہ وہ انکے حقوق، انصاف اور عدل کیساتھ ادا کرنے کی پابندی کرے۔مرد کو طلاق دینے کا حق بھی ہے اور اسی طرح عورت کو طلاق لینے کا بھی حق دیا گیا ہے۔ عورتوں کی تعداد بڑھ جانے کی شکل میں بھی کوئی عورت شادی یعنی جنسی خواہشات کے قدرتی عمل سے محروم نہیں رہ سکتی اور نہ ہی کوئی بیوہ دوسری شادی سے محروم رہ سکتی ہے۔معاشرہ ہر لحاظ سے توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔اسی طرح ہر پیغمبر کے دور میں اخلاق و صفات کی تکمیل کا عمل فطرت کی طرف سے جاری رہا۔ انسانیت کی تکمیل،انسانیت کے اخلاق کی تکمیل ،انسانیت کے کردار کی تکمیل، انسانیت کے اسوہِ حسنہ کی تکمیل کا عمل بتدریج بڑھتا رہا۔ نبوت کا عمل بھی اپنی منازل طے کرتا رہا۔
(۱۵) پیغمبران کی امتوں کو چند مادہ پرست شر پسندوں نے انکے نظریات اور ضابطہ حیات کے علم اور کردار سے محروم کرکے انکو عقیدوں ، مسلکوں اور فرقہ پرستی کی جنگ میں جھونک دیا گیا۔ہر پیغمبر کی امت اپنے اپنے مذہبی پیشواؤں کے شعور کے معیار کے مطابق مختلف مسلکو ں ، عقیدوں اور فرقوں میں منقسم ہوتی جاتی رہی۔ عیسائیت رومن کیتھولک اور پروٹیسٹینٹ عقیدوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اس طرح مسلم ا مہ شیعہ،سنی مسلکوں میں بٹ چکی ہے۔ انسانی سوچ الہامی مذہبی کتابوں کے ضابطہ حیات، انکے نظریات انکی تعلیما ت،انکے تعلیمی نصاب کو اپنے اپنے فرقوں میں بدلتی جا ر ہی ہیں۔ تمام مذاہب کی امتیں مذہب پرستی سے نکل کر فرقہ پرستی کی آگ میں بھسم ہوتی جا رہی ہیں۔ نفاق اور نفرت کو جنم دیتی آ رہی ہیں۔پیغمبران کے اخلاقی را ہ عمل کو ترک کر کے اخلاقی رفعت کی مسافتیں طے کرنے والے اور معاشرے میں مذہبی سوچ کے نظریات کی بالا دستی قائم کرنے والے، ملت کے کردار کو سوار نے والے، پیغمبر ا ن کے نظریات کو پھیلانے والے، مذاہب کے نور کی قندیلیں روشن کرنے والے، پیغمبران کی امتوں کو راہ ہدایت بتانے والے پیشوائے مذاہب عقیدوں ،مسلکوں اور فرقوں کے شیطانی فتنہ کا شکار ہوتے گئے۔ مذاہب پرست امتیں ان شیطان فطرت مذہبی پیشواؤں کی جہالت کی وجہ سے فرقوںکی جنگ میں مبتلا ہوتی گئیں۔ مذہب پرستوں کو ا س نفرت اور نفاق کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ وحدت ملت کا تصور نا پید ہوتا جا رہا ہے۔ مذاہب کے منکر اور منافق فرعونی حکمران ٹولہ اس ملی انتشار کی وجہ سے انکو آپس میں الجھائے رکھتے ہیں ۔
(۱۶) بین الاقوامی سطح پر مذاہب پرست امتیں ایک دوسرے مذہب کی امتوں سے دست و گریباں ہیں۔ نظریات کے پیروکار ایک دوسرے نظریات سے پنجہ آزما ہیں۔ ان حالات میں انسانیت کی اصلاح احوال کیسے ممکن ہے۔ انکو نجات اور فلاح کے راستہ پر گامزن کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری اور اہم ہے ۔ مذاہب، نظریات، عقیدوں ، فرقوں سے نفرت انسانوں سے نفر ت ہوتی ہے اورمخلوق سے نفرت خالق کی محبت سے محروم کر دیتی ہے۔ یہ مذاہب،یہ عقیدے،یہ نظریات خدا وند قدوس کے رنگا رنگ کے پھولوں کے حسین و جمیل گلدستے ہیں۔انکو خالق کی نگاہ سے دیکھنا،پیغمبران کی امتوں کو عزت و احترام دینا ،ان سے محبت سے پیش آنا ایک اتم درجہ کی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ مذاہب سے نفرت ،نظریات سے نفرت انسانوں سے نفرت کے مترادف ہے۔اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ہے۔
(۱۷) آؤ ! ایسے عظیم انسانوں کو ڈ ھونڈنکالیں جو اختلاف عقیدہ اور اختلاف مذاہب اور اختلاف نظریات کو برداشت کر نے کی توفیق کے وارث ہوں۔ان پیغمبران کے در پر بڑے ادب و احترام اور عاجزی سے دستک دیں۔ان سے با ادب ہو کر درخواست[L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] [L:7] گذا ریں۔ان سے ملتجی ہوں۔ان کے سامنے ندامت سے سر جھکا کر عرض پیش کریں۔ کہ ہماری کوتاہیوں اور غفلتوں کو در گذر فرمائیں۔ ہمیں اپنا قرب عطا فرماویں۔ہمیں قلب سلیم عطا فرماویں۔ہمیں ہر زخم کی مرہم اور بنی نوع انسان سے ادب و پیا ر،خدمت و احترام اور اخوت و محبت سے پیش آنے کی توفیق عطا فرماویں۔ہمیں مخلوقِ خدا کے لئے شفقتوں کے خزانے عطا فرماویں۔ ہمیں اس کائنات کیلئے محبتوں اور رحمتوں کا پیامی ہونے کا شرف عطا فرماویں۔ یا اللہ ہمیں سادہ اور صداقت والی زندگی عطا فرما۔ یا اللہ ہمیں مذاہب کے نور کی روشنیاں پھیلانے کی توفیق عطا فرما۔یا اللہ ہر پیغمبر کے امتی کو انکی تعلیمات اور نظریات پر چلنے اور انکی شفاعت عطا فرما۔ہمیںنفرت ،نفاق کی بد اعمالی کے اعمال کی عبرت سے بچنے کیلئے دعا کی توفیق بھی عطا فرما۔ یا اللہ ہمیں ساری خدائی کو کنبہ خدا سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ ہمیں ساری خدائی میں اعتدال و مساوات قائم کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ ہمیں دنیا کے کونے کونے میں مخلوق خداکے حقوق نبھانے کے عمل کی عبادت کا وارث بنا۔ یا اللہ ہمیں شرف انسانی سے آشنا فرما۔ہماری سوچ اور عمل کو آفاقیت بخش۔ یا اللہ دنیا کے کسی کونے میں اگر کوئی کتا بھی بھوکا ہو تو اس کے حقوق کو ادا کرنے کی توفیق بھی دے اور بیداری عمل بھی عطا فرما۔ امین۔
(۱۸) تمام پیغمبران کی امتوں کی عبادت انکے الہامی روحانی صحیفوں یعنی زبور شریف،توریت شریف،انجیل شریف اور قران شریف کی وساطت یا وسیلہ سے انکو احکامِ عبادات ،حسن اخلاق ، حسن کردار،حسن صفات اور حسین صداقتوں کی آشنائی اور آگاہی عطا فرمائی۔عبادت وہ نظام عمل ہے۔جس سے انسان انسانوںکی خیر و بھلائی بھی کر سکے اور قربتِ خدا وندی بھی حاصل کر سکے۔اسکی اعلیٰ ترین اور مکمل ترین شکل ہر دور کے پیغمبر کی ذاتِ گرامی ہے۔اخلاقِ پیغمبر اور کردارِ پیغمبر ہی ہر امت کیلئے چشمہ رشد و ہدایت ہے اور شریعت پیغمبر ہی ذریعہ قرب خداوندی ہے۔ہر دور میں انسانی تہذیب منزل با منزل پروان چڑھتی ر ہی۔ارتقا کا فطرتی عمل جاری رہا، وقت کی ضرورت کے مطابق پیغمبر بھی اسی طرح حسن اخلاق اور پاکیزہ کردار کی تکمیل فرماتے رہے ۔امانت ودیانت۔ عدل و انصاف، اخوت و محبت، ادب و احترام، اخلاق و اوصاف ، حسن سلوک،عمدہ صفات اور صداقتوں کے چراغ روشن فرماتے رہے۔
(۱۹) اچھائی اور برائی کی پہچان اور آگاہی پیغمبران کی تعلیمات سے ہوتی رہی ۔ انکی اور انکے بتائے ہوئے ضابطہ حیات کی اطاعت کرنے والوں کو انکی امت کہتے ہیں ۔ پیغمبران کے ضابطہ حیات، انکے اخلاقیات اور نظریات کے خلاف انکی امتوں سے جمہوریت کے متضاد،باطل اور غاصب سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ نظریات اور اخلاقیات کی پیروی اور اطاعت کر وانے والے ملتوں کے سیاسی حکمرانوں کو پیغمبران کے نظریات، اخلاقیات اور تعلیمات کے قاتل اور منافق کہتے ہیں۔تمام پیغمبران اپنی امتوں سے سراپا سوال بنے کھڑے ہیں اور بڑی حیرت سے پوچھ رہے ہیں ۔ یہ تو بتاؤ ! ۔ کہ جب جمہوریت کے فرعونی اور یزیدی ضابطہ حیات،نظریات اور اخلاقیات کی بالا دستی ملکوں اور ملتوں پر مسلط کر دی جائے۔تو یہ انکی امتیں اور ملتیں تابع فرمانِ الہی کیسے ہو سکتی ہیں۔

(۲۰) جمہو ریت کے ضابطہ حیات اور اخلاقیات کے نظام اور سسٹم کے مطابق عوام کو صرف قیادتوں اور حکومتوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے ۔مذہب کا ضابطہ حیات اور اخلاقیات کا نظام اور سسٹم انسان کو جوابدہ بناتا ہے۔اس ذاتِ اقدس کے سامنے جس نے زندگی عطا کی اور زندگی کے نظام کو بھی پیغمبران کے ذریعہ انسانیت کوآگاہی بخشی اور[L:7] [L:7] [L:7] رو شناس فرمایا ۔ اخلاقیات میں سے پیغمبران کی شریعت کو نکال دیا جائے تو مجرم وہ ہوگا جو قانون کی گرفت میں آجائے۔جو قانون کی زد سے بچ جائے،وہ مجرم ہی نہیں کہلائے گا۔لیکن پیغمبران کے اخلاقیات کے مطابق انسان گناہ چائے تنہائی میں یا کسی حالت میں بھی کرے گنہگار ، گنہگار ہی رہے گا ،چاہے وہ عوام میں درویش اور فقیر ہی بن کر کیوں نہ بیٹھا ہو۔جرم حکمرانوںاور حکومت کے حکم کی خلاف ورزی کا نام ہے اور گناہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف عمل کا نام ہے۔ گناہ اور جرم کے نظریات کا تضاد[L:7][L:237] در اصل پیغمبران خدا کے ادیان اور اسکے منکر،منافق فرعون اور یزید کے نظریات اور طرز حیات کا واضح تضاد ہے۔[L:7] تما م پیغمبران کی امتوں کو ان حقائق سے آگاہ کرنا صاحب بصیرت مذاہب پرست پیشواؤں کا فرض بنتا ہے۔تاکہ وہ جمہوریت کی اس اندھیر نگری میں پیغمبران کی تعلیمات کی قندیلیں روشن کرسکیں۔اور پیغمبران کی امتوںکو انکے نظریات اور تعلیمات کے نصاب کی قیادت نصیب ہو سکے۔اس طرح جو تہذیب تیار ہوگی وہ خود بخود مہذب اور مذہب پرست ہو گی۔
(۲۱) گناہ اور جرم کے ضابطہ حیات کا فرق،گناہ اورجرم کے اخلاقیات کا فرق، گناہ اور جرم کے نظریات کا فرق، گناہ اور جر م کے مجلس شوریٰ کی سلیکشن اور جمہور یت کے الیکشن کے نظام اور سسٹم کا فرق، مذہب کے اخلاقیات اور جمہوریت کے اخلاقیات کا فرق، اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے اور جمہوریت کے نظام حکومت کا فرق ۔ یہ تمام فرق اور تمام تضاد ایک پیغمبر کے الہامی علم او ر سیاسی دانشوروں، مفکرو ں کی سوچ کا فرق ہے۔ مذہب کے اخلاقیات ہر انسان کیلئے،ہر امتی کیلئے،ہر دور کیلئے،ہر زمانے کیلئے مختص ہو چکے ہیں۔ مذہب میں قیادت کا تصور دنیائے سیاست سے الگ تھلگ اور واضح ہے۔
(۲۲) مذہب صرف پیغمبر کی قیادت میں زندگی بسر کرنے کا نام ہے۔ قیادت کی اطاعت اگر مذہب کے خلاف اور متضاد ہو ۔تو نہ وہ اس مذہب کا پیروکار اور نہ ہی امتی ہو سکتا۔ وہ مذہب کے نظریات کا منکر ،منافق اور قاتل ہو سکتا ہے ۔ وہ مذہب کا پیروکار نہیں ہو سکتا۔ اطاعت پیغمبر انسان کو حسن خلق اور حسن کردار کی دولت سے مالا مال کرتی ہے۔اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیتی ہے۔ ایک پیغمبر اور ایک مفکر ، ایک دانشور کے نظریات کا فرق انسانی نظریات کی منزلیں جدا کر جاتا ہے ۔ جہاں جمہوریت اور ا سکے نظریات کی بالا دستی تمام پیغمبران کی امتوںپر ،دنیا کے تمام ممالک پر سرکاری سطح پر نافذالعمل ہو چکی ہو۔یاد رکھو!۔ مذہب میں کسی بھی متضاد نظریات کی غیر مذہبی قیادت اور نظام کی اطاعت مذہب کے علاوہ ہو تو مذہب کے نظریات،اسکی تعلیمات،اسکے ضابطہ حیات، اسکے حسن اخلا ق ، حسن کردار اور ہر قسم کی مذہبی نشو نما کی تکمیل نہ صرف رک جاتی ہے۔بلکہ ختم ہو جاتی ہے۔ ایسی حکومتیں اور ایسی قیادتیں پیغمبران کی گستاخ اور باغی اور مذاہب کے زوال کا سبب بنتی جاتی ہیں۔ مذہب کی عمدہ صفات اور فطرتی صداقتیں اگر معاشرے سے الگ کر دی جائیں تو بنی نوع انسان ایک جنگلی درندہ بن کر رہ جاتا ہے۔یہ فریضہ صرف جمہوریت کے قائدین ہی ادا کر سکتے ہیں۔خدا ان سے انکی قیادت سے اور انکی جمہوریت سے
نجات عطا فرمائے۔
(۲۳) دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں، پادری صاحبان اور روحانی پیشواؤں،علما کرام اور مشائخ کرام سے ملتجی ہوں۔ کہ و ہ د رج ذیل سوالات پر غور کریں۔اپنے اپنے پیغمبران کے نظریات ،تعلیمات اور انکے بتائے ہوئے اخلاقیات اور انکے الہامی صحیفوں کی روشنی میں پرکھیںاور انکی امتوں کی رہنمائی فرماویں۔
(۱) کیا جمہوریت کسی پیغمبر کی تعلیمات،نظریات اور دستور حیات کا حصہ ہے۔
(۲) کیا جمہوریت کا مذہب زر پرستوں، مادہ پرستوں اور اقتدار پرستوں پر مشتمل
ایک پیغمبر کش،مذہب کش ،انسانیت کش نمرودی ،فرعونی اور یزیدی نظام کا طریقہ کار نہیں ہے۔
(۳) کیا جمہوریت کا طرز حکومت انسانوں پر حکمرانی کرنے کیلئے بذریعہ الیکشن عوا م سے مادہ پرست اہل وسائل،اہل دولت اہل ثروت اپنی اسی فوقیت کی بنا پر الیکشن میں کھڑے ہو کر عوام سے ووٹ لیکر حکوتیں قائم نہیں کرتے۔اقتدار کی طاقت حاصل کرنے کے بعد پیغمبران کی امتوں کو انکی تعلیمات اور نظریات کے خلاف جمہوریت کی تعلیمات اور نظریات کے عذاب کے جام پلاتے نہیں آرہے۔
(۴) کیا پیغمبران انسانی دلوں کو حسن اخلاق اور حسن کردار،اعلیٰ صفات اور عمدہ صداقتیں سے مسخر نہیں کرتے رہے۔ کسی پیغمبر کو بھی پیغمبر تسلیم کروانے کیلئے کبھی ووٹ کی ضرورت پڑی۔ کیایہ پیغمبران کی امتوں کے فرزندان سے ووٹ اور اقتدار حاصل کر کے انکے الہامی نظریات ، روحانی تعلیمات اور تہذیب کو ختم اور ناپید کرتے چلے نہیں آرہے۔
(۵)کیا پیغمبران،انکے نظریات اور انکی تعلیمات انکے اخوت و محبت کے درس انسانیت کے دلوں میں محبت اور خدمت کے چراغ جلاتے چلے نہیں آرہے۔کیا انکو انسانی دلوں میںمحبت کے چراغ جلا نے کیلئے کسی الیکشن پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔جمہوریت اور اسکے الیکشنوں کامذہب کش نظام پیغمبران کی امتوں اور پوری انسانیت کے ساتھ ایک تباہ کن نظریاتی دھوکہ اور دین پر نظریاتی ڈاکہ نہیں ہے۔ کیا ان مذہبی رہزنوں نے تمام پیغمبران کی امتوں کو ایک باطل غاصب جمہوریت کے نظریاتی عذاب میں مبتلا نہیںکر رکھا۔ کیا یہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تہذیب کو روندتے اور نیست و نابود کرتے چلے نہیں آرہے۔
(۶) کیاایک لاکھ گدھا مل کر ایک گھوڑا بن سکتا ہے۔کیا تمام جاہل مل کر ایک عالم
کے برابر ہو سکتے ہیں۔کیا تمام عالم مل کر ایک اہل بصیرت کے برابر ہو سکتے ہیں۔ کیا تمام اہل بصیرت ملکر ایک پیغمبر کے برابر ہو سکتے ہیں۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ پیغمبران کے نائب مصاحب اور انکی امتوں کی بجائے جمہوریت کے حکومتی ایوانوں میں جمہوریت کے سیاسی بے لگام گدھے[L:7] ہنکنا تے پھریں۔
( ۷) کیا نمرود اور ابراھیم علیہ السلام،کیا فرعون اور موسیٰ علیہ السلام اور کیایزید اور
حضرت امام حسینؓ عالی مقام کے حسن اخلاق اور حسن کردار ایک جیسے ہو سکتے ہیں۔
(۸)کیا نمرود،فرعون اور یزید کے پیروکار اور داؤد علیہ السلام،موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور محمد الرسول للہ کے ماننے والے برابر
ہو سکتے ہیں۔
(۹)کیا نمرودی، فرعونی اور یزیدی نظریات پر مشتمل جمہوریت کے پجاری زر پرست ،مادہ پرست اور اقتدار پرست پیغمبران کی بے سرو سامانی کی زندگی کے وارث اور ان کے امتی ہو سکتے ہیں۔
(۱۰) کیا تمام مذاہب کے تمام مذہبی پیشوا، کیا عیسائیت کے تما م معزز پادری
صاحبان ،کیا اسلام کے تمام قابل قدر عالم دین ،کیا اسلام کے تمام معظم و مکرم مشائخ کرام اور دنیا کے تما م مذاہب کے روحانی پیشوا جو جمہوریت کے نظریات اور نظام کی سرکاری طور پر اپنی امتوں اور ملکوں پرغیر مذہبی نظریات، تعلیمات اور نظام کی بالادستی قائم کرنے والے سیاستدانوں سے مل کر حکومتیں رائج کرنے میں حصہ لیں۔اور جمہوریت کے نظام حکومت میں شامل بھی ہوں۔ان مذہبی قائدین سے پوچھ تو لو ۔ ! انہیں کس نام سے پکاریں۔
(۱۱)۔جمہوریت کی اسمبلیوں کے سیاسی دانشوروںاور سیاسی مذہبی قائدین کے تیار کردہ جمہوریت کے مذہب کش نظریات کی روشنی میں مذہب کے نظریات ،تعلیمات اور ضابطہ حیات کے خلاف قانون سازی کر نے والے کون ہیں۔
(۱۲)جمہوریت کے نظریات پر مشتمل تعلیمی نصاب کا تعین کر نے والے اور مذہبی الہامی تعلیمات اور اخلاقیات کے نصاب کو سرکاری سطح پر منسوخ کر نے و الوںکوکس نام سے پکارا جائے۔ان سیاسی اور مذہبی حکمرانوں سے پوچھ تو لو۔یہ کون ہیں۔
(۱۳)۔مذہبی ضابطہ حیات کو دنیا بھر کے مذہبی ممالک میں معطل اور ختم کرکے جمہوریت کا باطل اور غاصب ضابطہ حیات مذہب پرست امتوں پرنافذ العمل کرتے جا ئیں ۔ تو کیا اس طریقہ کار سے مذہبی ضابطہ حیات کی بقا ممکن ہے۔ ایسا کرنے والوں کو کون سا نام دیا جا ئے ۔ مذہب پرست یا مذہب کش!
(۱۴)۔جمہوریت کے نظریات کا تعلیمی نصاب بین الاقوامی سطح پر دنیا بھر کے سکولوں کالجوں،اکیڈمیوں اور یونیورسٹیوں میں سرکاری طور پر رائج کر دیا جائے اور تما م الہامی ، روحانی مذہبی نظریات اور اخلاقیات کے تعلیمی نصاب کی آفادیت کو آنیوالی نسلوں تک کیسے پہنچایا اور روشناس کروایا جا سکتا ہے۔
(۱۵) ۔پیغمبران اور مذاہب کے نظریات پر مشتمل اخلاق و کردار کا معیار الہامی ،روحانی اور انسانیت کیلئے منفعت بخش ہوتا ہے اور جمہوریت پر مشتمل انسانی سوچ کے اخلاق و کردار کا معیار مہلک ہی نہیں بلکہ عبرتناک حد تک انسانیت کی تباہی کاباعث ہوتا ہے۔ یہ چند مادہ پرستوں کی آماجگاہ ہے۔ یہ بات انہیں کیسے سمجھائی جائے۔
(۱۶) پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات کی راہ، مخلوق خدا کی خدمت اور محبت کی راہ
ہے ۔ انسانیت کے ادب و احترام کی راہ ہے۔انسانیت کے ساتھ شفقتوںاور مہربانیوں کی راہ ہے۔دل یاد الہی میں مصروف اور عمل مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف ۔مذہب کی درسگاہ کے نمائندہ نیک سیرت، خدمت خلق کے جذبوں کوبیدار کرنے والے ، اعلیٰ اخلاق اور حسین کردارکے معزز مذہبی پیشواؤں، معززپادریوں، معززعلما کرام کوجو مذہبی نظریات کی تعلیمات کو جمہوریت کے اندھیروںمیں اپنے اپنے
پیغمبران کے رشد و ہدایت کے چراغ روشن کئے بیٹھے ہیں۔ اورایسے مشائخ کرام کو جو دلوں میںروحانیت کو جلا بخشنے ہیں اور ان تمام فقیروں کو جودین کے نور کی قندیلیں روشن کئے بیٹھے ہیں ان سب کو سلام عاجزانہ
قبول ہو۔یا اللہ انکی توفیق میں اضافہ فرما ۔امین
(۱۷) دوسری طرف جمہوریت کے نظریات اور تعلیمات کی راہ،خود غرضی، نفس پر ستی ، شہوت پرستی،زر پرستی،مادہ پرستی،زن پرستی اور اقتدار پرستی کے فرعونیت اوریزیدیت کے وحشی کردار تیار کرتی ہے۔انفرادی اور اجتاعی زندگی میں جمہوریت کے مفکر اور مدبر مذہب کے ضابطہ حیات ، اسکے نظریات،اسکی تعلیمات سے تیارشدہ تہذیب و تمدن کا قتال کرتے چلے آرہے ہیں۔جمہوریت کے کفر کے مذہب کے مومنوں نے تمام پیغمبران کی ملتو ں سے پاکیزہ کردار،حسن اخلاق،حسن عمل اور مذاہب کا الہامی اور روحانی فیض کا خزانہ لوٹ لیا ہے۔ان مذہب کے منافقوں کی اصلاح کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔
(۱۸) دنیا کے تمام مذاہب کو جمہوریت اور کثرتِ رائے کے حوالے کردیا گیا ہے۔
جس سے انکی الہامی،روحانی تعلیمات کی افادیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔اورمذاہب کی انفرادی اور اجتماعی صفات اور صداقتوں کی پذیرائی اور تقدس معبد،کلیسا اور مسجد تک محدود اور مسدود کر دیا گیا ہے۔ اسکی جگہ کثرت رائے پر مشتمل جمہوریت کے پیغمبران کو ملکی ،ملی اقتدار دے کر انکو اور انکے تیار کردہ قوانین و ضوابط کو سرکاری سطح پرمسلط کر دیا گیا ہے۔اس طریقہ کار سے کیسے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
۱۹ کثرتِ رائے پر مشتمل جمہوریت کے حکمرانو ںاور حکومتوں کے باطل غاصب نظام
اور انکے احکام کی اطاعت نے مذاہب کے نظام اور احکام کو نگل لیا ہے۔جمہوریت کی حکومتی سطح پر بالا دستی اور اسکے نظام حکومت کی اطاعت اور تقلید تمام پیغمبران کی امتوں کی بے بسی اور مجبوری بن چکا ہے۔ جس نے تمام انبیا کی امتوںکو کفر ،شرک ، منافقت ،معصوم و بے گناہ انسانیت کا بیجا قتال،نفرتوں اور نفاق کی آگ اور لا مذہبی کے لا متناہی عذاب میں انسانیت کو دھکیل رکھا ہے۔ تمام پیغمبران کی امتیں مذہب کے حکم اورحکومتی احکام کے تضاد کا شکار ہو تی چلی جا رہی ہیں۔ ان کو کیسے نجات دلائی جا سکتی ہےَ۔
(۲۰) جمہوریت کاکسی پیغمبر کی پیغمبری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔وہ اللہ تعالیٰ کے نمائند ے ہیں۔انکو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ الہامی اور روحانی،ظاہری اور باطنی علوم عطا فرماتے ہیں۔ وہ حسن اخلاق،حسن کردار، حسین صفات اور لا جواب صداقتوں کے پیامی اور شاہکار ہوتے ہیں۔ وہ نور حق کے روشن مینار ہوتے ہیں۔انکے نظریات اور تعلیمات ازلی اور ابدی ہیں۔
(۲۱) پیغمبران کی تعلیمات اور کردار انسانی دلوں میں اترتا اور دلوں کو تسخیر کرتا ہے۔ وہ
دنیا کی بے ثباتی کی درسگاہ اور بے سرو سامانی کی زندگی کے وارث ہوتے ہیں۔ وہ محبت کے سفیر اور انسانیت کی فلا ح کے ضامن ہوتے ہیں۔ اور اسکے برعکس جمہوریت کے کثرت رائے سے چنے ہوئے نمائندگان کے کردار اور تعلیمات دلوں سے اترتی،فساد کا سبب بنتی اور انسانیت کے معاشی اور معاشرتی قتال کاموجب بنتی ہیں۔ جمہوریت کے کثرت رائے کے چنے ہوئے پیغمبران کا نظام اورکردار مادیت اور،وسائل کے حصول کی جنگوں اور اقتدار کو حاصل کرنے کا نام ہے ۔وہ انسانیت پر ایک عذاب کی بد ترین شکل بن کر مسلط ہو چکے ہیں۔وہ
دولت کے انبار عالمِ انسانیت کے حقوق چھین کر جمع کرتے رہتے ہیں۔وہ تعیش کی زندگی کے وسائل اعتدال کو روند کر اکٹھے کرتے ہیں۔ وہ انسانیت کا معاشی اور معاشرتی قتال کرتے ہیں ۔وہ ظالم ظلم کو بروئے کار لاتے ہیں اور دنیا کے معزز اور ترقی یافتہ کہلا تے ہیں۔وہ مادیت اور اقتدار کی جیتی ہوئی جنگ زندگی کے ساتھ ہار جاتے ہیں۔
(۲۲) جمہوریت کے پجاریو۔۔۔عذاب اس وقت کا نام ہے جب انسان خالق کے قوانین کو ترک کرتا ہے۔بلکہ جمہوریت کی کثرت رائے کی بد اعمالیوں کا خوفناک نتیجہ اسکے سامنے آ ن کھڑا ہوتا ہے اس وقت کو عذاب کا وقت کہتے ہیں۔جب انسان اپنے مذہبی عقیدوں سے سر کشی کرتا ہے۔اسکا ہاتھ معصوم بیگناہ بے بس عوام الناس پر اٹھتا ہے،مجبور اور مظلوم کی آہ فریاد بن کر انصاف کے لئے بار گاہ الہی میںپکارتی ہے۔فطرت خا موشی سے دیکھتی رہتی ہے۔ جب فطرت کا عمل شروع ہوتاہے تویہ دنیا عبرت کا منظر اور قیامت کا سماں بن جاتی ہے۔ اس عبرتناک وقت سے بچ جاؤ۔ یہ گھڑی سر پر آن کھڑی ہوئی ہے۔
۲۳ جمہوریت خود غرضی اورنفس پرستی کی یو نیورسٹی ہے۔مذہب خدمت خلق اور اد ب جہاں میںگم رہنے کی درسگاہ ہے۔ جب انسانوں کے دل انسانوں کی محبت سے فارغ ہو جائیں،جب انسانیت کا احترام ختم ہو جائے ، جب طاقت اور صرف طاقت کوہی مسائل کا حل مان لیا جائے،جب غاصب کمزور کا حق چھین لے، جب ظالم اقتدار پر قابض ہو جا ئے جب انسان دوستی دشمنی میں بدلتی جائے،جب ظالم، غاصب نام نہاد مسیحاؤں کا حکمران ٹولہ معصوم و بے گناہ انسانوں کا معاشی اورمعاشرتی قتال جاری کر رکھے۔خدا خوفی کے مسافر بے بس ہو جائیں۔جب یہ لوگ بد مستیو ں میںملوث ہو جائیں۔جب یہ عیش و عشرت اور رنگ رلیوں میں گم ہوجائیں۔جب ایسے تمام اعمال، ایسے تمام کام،ایسے تمام طور طریقے، ایسے تمام مال و متاع ہمارے لےئے عذاب لکھ رہے ہوں ۔ تو اس دور کو جمہوریت کادوراور مذاہب سے دوری کاعذاب کہتے ہیں۔ جب دنیا میں خیر پر شر کی حکومت قائم ہوجائے۔تو فطرت کی طرف سے احتساب اور عذاب کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔
۲۴۔جب پیغمبران کی امتوں پرنمرود ، فرعون اور یزید کے ضابطہ حیات پر مشتمل
جمہوریت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔توبنی نوع انسان جہنم کا ایندھن اور عذاب الہی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس عمل کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔اہل بصیرت مذہبی پیشواجواب دیں
۲۵ جمہوریت کی بد اعمالیاں ایٹم بموں،نائٹروجن بموں، ہائیڈروجن بموں ، ڈیز ی کٹر بموںاور تباہ کن بموں اور مخلوق خدا کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے والے ایٹمی میزائلوں اور ایٹمی پلانٹوں کی زد میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراؤ کے لئے منتظرکھڑے ہیں۔نار جہنم بھڑکنے والی ہے۔ہے کوئی اس جہان کا نجات دہندہ۔ ہے کوئی انسانیت کا پرستار جو ان دین کے باغیوں اور وقت کے دجالوں کو راہ راست دکھا سکے اور اس حسین و جمیل کائنات کو راکھ کا دھیر بننے سے نجات دلا اور بچاسکے۔
۲۶ جمہوریت کیسا ضابطہ حیات ہے کہ جس وقت انسان پر اور پیغمبران کی امتو ں پر جمہوریت کے نظریات کے پروردہ ترقی یافتہ ممالک،تہذیب یافتہ مما لک ،طاقتور ممالک اور بین الاقوامی طاقت کے وارث ممالک اور ان ممالک پر کثرت رائے سے چنا ہوا ،عوام کا
پسندیدہ صاحب اقتدار قائدین کا جمہوری ٹولہ، معصوم و بے گناہ کمزور ممالک کے عوام پربغیر کسی قصور ،بغیر کسی جرم اور بغیر کسی جواز کے ان پر اور انکے ملکوں پر جنگیں مسلط کر دے ۔انکو تباہ کن بموں،تباہ کن میزائلوں سے نیست و نابود کرنا،انکے اعضا فضا میں بکھیر نا ، معصوم و مجبور بچوں کو قتل کرنا،بیگناہ مستورات، نوجوانوں اور بوڑھوں کا بغیر جواز قتال کرنا ، معصوم و بے گناہ افراد کو زخموں سے چور اور معذور بنانا،انکی بستیوں کو تباہ کرنا،انکے خوراک کے گودام اور ذخائر،پانی کے ذخائر کو ختم کرنا،انکے وسائل کو تباہ کرنا،انکو خوراک اور ادویات سے محروم کرنا،انسانیت پر ظلم و جبر اوررنج و غم اورمخلوق خداکو سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر زیست گذارنے پر مجبور کرنا۔ ذرا یہ تو بتاؤ ! اس دنیا کو دارالمحن میں بدلنے والی کن کی امتیں ہیں۔ یہ جمہوریت کی دنیا کیسی جھوٹی اور ظالم ہے۔ کہ جمہوریت کا ظالم ٹولہ کمزور ممالک پر حملے بھی کرتے جا ئیں ۔ انسانی زندگیوں کو کچلتے بھی جائیں۔ ستم بالائے ستم پھر انکو دہشت گرد بھی کہتے جائیں ۔یو این او کے سیکٹری جنرل صاحب۔یہ تو بتاؤ۔ ان واقعات کے بعد بھی تم تمام جمہوریت پسند، کسی بھی پیغمبر یا عیسیٰ علیہ الاسلام کے امتی کہلا سکتے ہو۔ نمرود،فرعون اور یزید کی جمہور یت کے نظریات کے تمام دجال حکمران پیغمبران کی امتوں کو جوا ب دیں۔کہ وہ یوم حساب کے روز اپنے پیغمبران کے سامنے کون سے مذہبی اعمال لیکر پیش ہونگے۔
۲۷ پیغمبران کے ا متیوں کے نام موسیٰ خان،عیسیٰ خان اور محمد خان رکھ لینے اور انکی تعلیم و تربیت جمہوریت کے باطل نظریات اور ضابطہ حیات کے سلیبس کے سرکاری طور پر انکے قائم کردہ ابلیسی طبقاتی تعلیمی اداروں سکولوں،کا لجوں اور یونیورسٹیوں سے تربیت حاصل کرلینے کے بعد وہ نمرود،فرعون اور یزید کی سپاہ تیار ہو گی یاپیغمبران کے مذاہب کی اہل بصیرت روحانی افواج۔یہ جمہوریت کا فتنہ مذاہب اور مخلوق خدا کے لئے ایک المیہ بن کر رو نما ہو چکا ہے۔یہ جمہوریت کے نظریات کاعذاب بے قصور اور بے بس مخلوق خدا پر اس مادیت اور اقتدار کے رہزنوں نے مسلط کر رکھا ہے۔یہ ایک ایسا المیہ ہے جو امتوں کو پیغمبرا ن کے نظریات اورتعلیمات سے محروم کئے جا رہا ہے۔ کیا اسے روکا نہیں جا سکتا۔
۲۸ ۔ جب تمام مذاہب کی امتیں پیغمبران کے نظریات اور انکی تعلیما ت ، انکے حسن اخلاق،انکے حسن کردار، انکے حسن عمل اور انکے حسن صداقت پر مشتمل الہامی،روحانی تعلیمی نصاب اور اسکا نورانی سلیبس انکے لئے بدل دیا جائے اور انکو تربیت دینے والی درسگا ہیں ختم کر دی جائیں ۔ اور مخلوق خدا کو کثرت رائے کے جمہوریت کے مذہب کے نظریات، اسکی تعلیمات،اسکے تعلیمی اداروں کے حوالے کر دیا جائے تو اس وقت خدا اور اسکے انبیاء علیہ السلام ،انکے نظریات اور تعلیمات کے خلاف بغاوت کا عمل جاری ہو جاتا ہے اوروہیں سے عذاب الہی کا سفر بھی جاری ہو جاتا ہے۔کیا ہم خدا سے معافی اور اپنے اپنے پیغمبران کے روبرو ندامت سے سر جھکا سکتے ہیں۔یا اللہ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق عطا فرما۔امین
۲۹۔جمہوریت کے رہبر ، مذاہب کے رہزن ، دنیا کے امن کو چاٹے جا رہے ہیں۔
پیغمبران کی معصوم امتوں کوان ظالم،غاصب سیاست دانوں نے انکو مجبور اوربے بس بنا کر رکھ دیا ہوا ہے۔ ان حقائق سے پردہ اٹھانا وقت کے فقیر کی ذمہ داری ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ پوری انسانیت کا مجرم اور گنہگار ہے۔اس سے فکر کی عبادت چھین لی جاتی ہے۔ اگر وہ ایسا
کر جاتا ہے تو اسکے عمل کا فیض اسکی ز ندگی کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔یا اللہ تو اپنی توفیقوں میں اضافہ فرما اور اپنی رحمت میں لپیٹ لے اور انسانیت کیلئے منفعت بخش بنا ۔یا اللہ ۔تو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے۔یا اللہ ۔تو اپنی ظاہری باطنی طاقتوں سے نواز اور انہیں بروئے کار لانے کی توفیق بھی عطا کر امین ۔
۳۰ ۔مذاہب کے روحانی ،الہامی ،آسمانی صحیفوں کویہ نمرودی فرعونی اور یزیدی جرا ثیم کینسر کی طرح چمٹ چکے ہیں۔وہ مادیت کے حصول کی جنگ جیت چکے ہیں۔وہ اقتدار کی جنگ بھی جیت چکے ہیں۔وہ دنیا کی سپر پاور بھی بن چکے ہیں۔وہ دنیا بھر کے ممالک میں سرفرازی حاصل کر چکے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں جمہوریت کی کثرت رائے کی جمہوری حکومتیں قائم کر چکے ہیں۔ وہ مذاہب پرستوں سے انکے طیب اخلاق،انکے حسن کردار،انکے رفعت خیال ،ان کے پاکیزہ اطوار،انکے دینی فرائض، انکے مذہبی عقائد،انکے مذہبی نظریات، انکی تعلیمات، انکے مذہبی طریقہ کار،انکی تہذیب ،انکا تمدن،انکے حیا کے ضابطے،انکے ازدواجی زندگی کے ضابطے غرضیکہ وہ مذاہب کی تہذیبوں کو سرکاری طور پر مسخ ، منسوخ اور ختم کئے جا رہے ہیں ۔ کیا انکو ایسا کرنے کی مزید اجازت ہونی چاہئے۔
۳۱ ۔وہ دہشت گرد اپنی دہشت گردی سے انگنت دہشت گرد پیدا کر چکے ہیں۔ وہ دہشت گردوں کو تمام دنیا میں پھیلانے کا عمل جاری کر چکے ہیں۔ دہشت گردوں کے خود کش حملے جاری ہو چکے ہیں۔ انسانی قتال عروج کی منازل طے کرتا جا رہا ہے۔ ادھر یہ ظالم ،بے رحم بین الاقوامی حکومتی[L:7] طاقتیں دہشت گرد وں کا نام لیکر بستیاں ، شہر اور ملک تباہ کئے جا رہے ہیں۔ تباہ حال ، مظلو م ، بے بس،معصوم،بے گناہ عوام اور اقوام ان دہشت گرد ،درندوں اور وحشیوں کے تباہی پھیلانے والے ایٹمی پلانٹوں کو تباہ کرنے کے زیر زمیں خود کش حملوں کے پروگرام اور ہتھیار تیار کرنے کیلئے کوشاں ہو چکے ہیں۔ ایٹمی جنگ کے بگل بجائے جا رہے ہیں۔ ا نکی عقلی فرعونی سوچ دنیا کی تباہی کا آخری عذاب تیار کرتی جا رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو! طاقتیں مجبور اور حکومتیں بے بس ہوتی جا رہی ہیں۔ مذہب پرست عوام الناس حیرت میں گم ہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔انکو معاشیات کے جادواور ترقی کے سحر نے مصروف اور اس قدر محو کر رکھا ہے۔ انکے پاس اس ناگہانی آفات کے متعلق سوچنے اور روکنے کا وقت اور شعور ہی نہیں چھوڑا۔یہ جمہوریت کا کیسا عبرت ناک نمرودی،فرعونی اور یزیدی ترقی یافتہ دور ہے۔یا اللہ ۔تو اپنے پیغمبران کے صدقے انکی معصوم،بیگناہ اور بے بس امتوں پر رحم فرما ۔ان کو اس عذاب عظیم سے نجات دلانے کا کوئی سبب بنا۔امین۔
۔جب جمہوریت کے پروردہ ترقی یافتہ ممالک، تہذیب یافتہ ممالک،تعلیم یافتہ ممالک، طاقتورممالک کے سیاسی دانشور اور قائدین، جمہوریت کے سکالر، حکمران دنیا کے کمزور، غریب ممالک اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے عوام پر بغیر کسی قصور، بغیر کسی جرم اور بغیر کسی جواز کے، بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کی بنا پر جنگ مسلط کر دیں۔ انکے وسائل لوٹنے کے بہانے تراشتے پھریں۔ جدید تباہ کن اسلحہ سے معصوم ،بے گناہ اور بے بس مخلوق خدا کا قتال شروع کر دیں۔انسانوں کے اعضا فضا میں بکھیر نے کا عمل جاری کر دیں۔ بے ضر ر بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں اور مستو رات کو زخموں اور اذیتوں میں مبتلا کر دیں، ڈیزی کٹر بموں سے بستے شہروں کو نیست و نابود اور خاکستر کر دیں، نائٹروجن بموں سے انسانی بستیوں کو راکھ کا دھیر بنا کر رکھ دیں۔ چند نا پسندیدہ اشخاص کو مجرم اور دہشت گرد گردان کر ملک میں بسنے والی ہر قسم کی مخلوق
خدا کا حشر نشر کر دیں۔وہ معصوم و بیگناہ مخلوق خدا اپنی زندگی کو بچانے کیلئے فریاد تک نہ کر سکے۔اس وقت کو عذاب کا وقت کہتے ہیں۔جب کنبہ خدا کا احترام ختم ہو جائے۔جب انسان دوستی ،انسان دشمنی میں بدل جائے۔جب نمرود،شداد، فرعون،ہامان کے ایجنٹ تما م مذاہب کی امتوں اور خاص کر حضرت عیسیٰ روح القدس کی امت میں داخل ہوکر انسانی قتال شروع کر دیں۔ امت کا تشخص ایک درندہ، سفاک، غاصب اور قاتل کا بھیانک روپ اختیار کر جائے۔ مظلوموں اور بے بسوں کے پاس آنسو اور آہیں ہوں اور یہ لوگ بے حس اور بے رحم اپنی بد مستیو ںمیں کنبہ خدا کو نیست و نابود کرنے میں محو ہوں۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام کے اہل بصیرت مذہبی پیشوا،ان منافقوں اور عالمی دہشت گردوں کا ہاتھ روک نہیں سکتے۔ کیا وہ اس فناہ کے دیس سے آشنا نہیں۔وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔یا اللہ تو قادر مطلق ہے تو ان کو راہ راست دکھا۔ تو انکو اخوت و محبت کا بھولا ہوا سبق پھر سے یاد کروا۔ تو انکو کنبہ خدا کی خدمت کے جذبہ کو پھر سے بیداری عطا فرما۔ اے اللہ انکو باطل قوتوں سے نجات عطا فرما۔انکو خیر کا داعی بنا ۔امین
۳۳۔ تما م پیغمبران کی امتوں اور بالمخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیاری امت کو یہ بات یاد دلانا اشد ضروری ہو چکا ہے کہ اس امت کو انکے مذہب کے الہامی،روحانی نظریات،ضابطہ حیات ، تعلیمات،حسن خلق، حسن کردار سے ایک بار پھر آشنا کروایا جانا اور انکے معجزات کی یاد کو پھر سے تازہ کرنا نہائیت ضروری ہو چکا ہے۔ تا کہ اس عظیم امت کے فرزندان کو جمہوریت کے فرعونوں کے نظریا ت ، تعلیمات کی سرکاری بالا دستی اور انکے کردار سے نجات دلائی جا سکے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب کے نظریات، تعلیمات اور انکے حسن اخلاق، حسن کردار کی شمع جلانا اور انسانیت دوستی کا بھولا سبق یاد دلانا اور انکو راہ ر راست دکھانا، ان کیلئے اور مخلوق خدا کیلئے بہتر ہوگا۔ دنیا کے مسائل عقل صرف عقل اور طاقت صرف طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہو سکتے۔عقل اور طاقت مذہب کے تحت ہو تو فلاح اسکا نصیب ہے۔اگر طاقت اور عقل جمہوریت کے مذہب کے تابع ہو۔ تو اس وقت عذاب کا سفر جاری ہو جاتا ہے۔یا اللہ تمام پیغمبران کی امتوں کو راہ ہدایت کا مسافر بنا۔تا کہ یہ دنیا امن کا گہوارا بن سکے۔ امین۔
۳۴۔جب انسان اپنے گھر میں، اپنے شہر میں ،اپنی عبادت گاہوں میں ، اپنے ملک میں خود کش حملوں سے خوف زدہ ہو۔ اور پوری دنیا میں انسانی زندگی غیر محفوظ ہو چکی ہو ۔ دہشت گردوںاور ایٹم بموں کے وسوسوں کے خوف سے انسانی روح لرزتی اور تڑپتی رہے ۔ ترقی یافتہ اسلحہ سے لیس ممالک، ہزاروں ایٹمی بموں اورسینکڑوں ایٹمی پلانٹوں کے وارث ممالک ہر وقت خود کش حملہ آوروں کی زد میں ہوں۔ اور دنیا کو نیست و نابود کرنے والے اسلحہ سے لیس ممالک کی نیندیں حرام ہو چکی ہوں۔انکی یہ ترقی اور انکے یہ مہلک تباہ کن ایٹم بم، انکے پھیلے ہوئے ایٹمی پلانٹ، انکے اپنے ممالک اور دنیا ئے ہستی کو مٹانے کیلئے فطرت کے حکم کے منتظر کھڑے ہوں۔ایک عبرتناک عذاب کا وقت چیخیں مارتا اور اذانیں دیتا اپنا سفر بڑی تیزی سے طے کرتا ہو ا چلا آرہا ہو۔ بات کو غور سے سن لو۔ اب بھی وقت ہے ،غور کر لو، فکر سے کام لو اور سوچ لو۔ کیاآپ جمہوریت کے علوم سے استفادہ جاری رکھنا چاہتے ہیں یا پیغمبران کی صداقتوں کے سفر کو جاری کرنا چاہتے ہیں۔یہ فطرت کی آواز ہے جو تمہارے دلوں پر دستک دے رہی ہے۔فیصلہ تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ خیر یا شر!
۳۵۔یہ بڑی طاقتیں،یہ عالمی طاقتیں،یہ جمہوری طاقتیں اپنا کھیل اور اپنا رول مکمل کرچکی ہیں ۔یہ دنیا میں دہشت گردی کے نام پر دہشت
گردی کے ظلم کا فساد پھیلا چکی ہیں۔یہ مذہب کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ عقل کو مات اور طاقت کو ند امت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اہل بصیرت مذہبی پیشواؤں کا یہ طیب فرض بنتا ہے کہ وہ اس آڑھے وقت میں انسانیت کی رہنمائی فرماویں۔
۳۶۔یااللہ اس رات کی تنہائی میں، ان لمحات کی تنہائی میں،اس فکر کی تنہائی میں، اس جلتے ہوئے خیال کے صحرا کی تنہائی میں،اس آہ و سوزی کی تنہائی میں حرف دعا تو یاد نہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ خیال کی دنیا میں تمام پیغمبران اور حضور نبی کریمﷺ کے سامنے ایک گنہگار کی حثیت سے نادم کھڑا تھا۔یا اللہ تو تمام معصوم و بے گناہ امتوں اور انسانی نسلوں کو اور تمام مخلوق خدا کو پیغمبران کی الہامی تعلیمات،انکے روحانی ضابطہ حیات کی آغوش عطا فرما۔ ان الفاظ کی بے بس اور خاموش ر وح کی پکار کو سن لے۔اے مولیٰ تو خبیر و بصیر ہے۔تو رحم فرما،تو کرم کر،تو اس مشکل گھڑی میں اپنا خاص فضل و کرم عطا فرما ۔آمین۔