To Download or Open PDF Click the link Below

 

  بنی نوع انسان اور مخلوق خدا کی نجات کا راستہ پیغمبران کا راستہ ہے
 عنایت اللہ
(۱) انسان فطرت کی ایک شا ہکارتخلیق ہے۔افضل المخلوقات ہے۔احسن تقویم بھی ہے۔ عقل و شعور کا مالک بھی اور ذہین و فطین بھی ہے اور قلب سلیم کا وارث بھی ہے۔اسکے پاس غم کے آنسو بھی ہیں اور خوشی کے قہقے بھی۔ انسان کی روح کے ساز سے کبھی آنسوؤں کا سوز اور کبھی قہقوں کے نغمات کی دھنیں تیار ہوتی رہتی ہیں۔ انسان مجبور بھی ہے او ر کسی حد تک صاحب اختیار بھی۔ازلی بھی ہے اور ابدی بھی۔انسان اس دار الفناہ میں آتا ہے اور چلا بھی جاتا ہے۔کبھی اس کے سر پرتاجوری کا تاج ہوتا ہے اور کبھی اسکے سر پرشور نوحہ گری بھی ہوتا ہے۔اس فناہ کے دیس میں انسان بھول جاتا ہے کہ اس نے ساٹھ،سو سال کی زندگی کو اس جہان میں گذارنے کے بعد کسی نا معلوم منزل کی طرف چلے جانا ہے۔جانے سے پہلے اس کو فیصلہ کر لینا چاہئے۔کہ وہ کونسی حالت میں واپس جانا چاہتا ہے۔خیر کا داعی یا شر کا داعی بن کر۔ بنی نوع انسان کو اس حقیقت کا شعور ابتدائی تعلیم سے جاری کرنا ضروری ہوتا ہے جو نہیں ہو رہا۔خوف خدا اور دنیا کی بے ثباتی کی شعوری بیداری سے اس کی آنکھ کھل سکتی ہے جس سے وہ مخلوق خدا کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش بنایا جا سکتا ہے۔یہ کرامت صرف پیغمبران کے نظریات اور مذاہب کی تعلیمات میں مضمر ہے۔
۲ ا نسان اس دنیا میں آتا ہے تو اسکے پیدا ہونے سے پہلے ایک سماج ، ایک ماحول ، ایک تہذیب،ایک تمدن اور ایک معاشرہ موجود ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں آتے ہی اس دائرہ میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔ انسان اسی نظام حیات اور ضابطہ حیات میں منزلوںکے راستوں کا چناؤ کرتا ہے۔ اپنے دنیاوی مقصد کو اپنی منز ل تصور کرتا ہے ۔ اور زندگی بھر شادابی ء عمل میں محو رہتا ہے۔زندگی دینے والا زندگی طلب کر لیتا ہے ۔ انسان خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ واپس چلا جاتا ہے۔اسکے تمام وسائل،اسکا جمع شدہ تمام مال و متاع،اسکے تمام ہمسفر ، اسکے تما م رشتہ دار،اسکے تمام عزیز و اکار ب ،اسکے بال بچے،اسکے دوست اور اسکی عمر بھر کی کمائی لٹ جاتی ہے۔ اسکی تمام فتوحات شکست میں بدل جاتی ہیں۔ اور وہ تن تنہا اپنی آخری منزل کی طرف لوٹ جاتا ہے۔سرکاری درجات، سیاسی درجات،باد شا ہی درجات بے مقصد اور بے معنی الفاظ کی حثیت اختیار کرجاتے ہیں۔ہم اپنے ساتھی کو جدا کربیٹھتے ہیں ۔ یہ جدائی کی گھڑی، یہ وقت انسان کو دنیا کی بے ثباتی کے حقائق سے آگا ہ کرتا ہے ۔ کہ یہ زند گی کسی اور کی ہے۔اور ہم کسی اور کے پروگرام کے حصہ ہیں۔یہ سوچ، یہ فکر انسان کو غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ انکا جدا ہونے والا ساتھی اس جہان رنگ و بو کی رونقوں کا ایک دلربا منظر ہی تو تھا۔نیکی اور خیر کا سہانا خواب ہی تو تھا۔دلوں کی لطافتوں کا ایک مضراب ہی تو تھا۔روح کو معطر کرنے والی ایک خوشبو ہی تو تھا۔
۳۔کچھ لوگ اس تصور کے کرشمہ سے عوام ا لناس سے مختلف اور متضاد عمل سے دو چار ہو جاتے ہیں۔ دنیا سو رہی ہوتی ہے اور وہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔وہ بے خبر زندگی میں با خبر ہو جاتے ہیں۔حکمران اپنے جشنوں میں اور عوام الناس اپنی ضروریات کے حصول میں مصروف ہو جاتے ہیں اور یہ انکے انجام کی تلخیوں پر آنسو بہا رہے ہوتے ہیں۔ وہ پوری انسانیت کی خدمت اور ادب بجا لانے میں ہمہ تن محو ہوتے ہیں۔وہ ظا لم کا ہاتھ روکنے میں غفلت نہیں کرتے اور مظلوم کو ظا لم کی اذیتوں سے نجات دلانے میں بھی کوتاہی سے کام نہیں لیتے۔ وہ انکی خیر کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ یا اللہ!۔ تو بنی نوع انسان کو پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات اور ضابطہ حیات اور انکے کردار سے نواز، تا کہ دنیا امن کا گہواراہ بن سکے۔ یا اللہ۔ تو اس قافلے کے ہدی خوانوں کی آرزو کو قبولیت کا شرف بخش۔امین
۴۔ غفلت کی زندگی سے انسانی عقل سنگدل بن جاتی ہے۔و ہ انسانی دکھوں کے درد اور رنج و الم کے عرفان سے محروم ہو جاتی ہے۔ جمہوریت کے پروردہ سیاست دانو ں اور حکمرانوں کے د ا نشو روں کا علم اور عمل سچائی اور صداقتوں کا رہزن بنتا چلا جاتا ہے۔ وہ حکومتی بالا دستی حاصل کرنے کے بعد، پیغمبران کی خدائی آ واز کو عالم گیر سطح پر اسیر بنا چکے ہیں۔وہ اپنی حاکمیت کو قائم رکھنے کیلئے سیاسی دانشورو ں ، سکالروں کا تیار کردہ جمہوریت کا طرز حکومت دنیا بھر کے ممالک پر نافذالعمل کئے بیٹھے ہیں۔مادیت اور اقتدار پرستی کی آگ انبیا علیہ السلام کی تعلیمات اور ضابطہ حیات کو خاکستر کئے جا رہی ہے ۔ جمہوریت کی سرکاری بالا دستی ملکوںاور پیغمبران کی امتوں کو، انکے نظریات اور انکے ضابطہ حیات سے محروم کئے جا رہی ہے۔مذہب کی تعمیری قوتوں کو مذہبی الہامی ،روحانی نظریات انکے ضابطہ حیات اور انکی تعلیمات اور انکے تہذیب و تمدن کو فروغ دینے سے منقطع کئے جا رہی ہے۔در اصل جمہور یت کا طرز حکومت بڑی بے دردی سے مذاہب کی تعلیمات انکے فلاحی ضابطو ں ، انکی صداقتوں،انکے حسن اخلاق ،انکے حسن کردار،انکے حسن اعمال کے نقش مٹاتی جا رہی ہے۔ سیاستدان اور حکمران جمہوریت کی بالا دستی اسکی تعلیمات ،اسکے نظریات،اسکے ضابطہ حیات کی ملکی سطح پر قانونی برتری اور پابندی سے پیغمبران کی امتوں کے افراد کو نمرود،فرعون اور یزید کے تہذیب و تمدن میں کنورٹ کئے جا رہے ہیں۔انسان مذہب اور جمہو ر یت کے دانشوروں کے تیار کردہ جمہوریت کے مذہب، کے تضاد کا شکار اور جمہوریت کے سرکاری قائدین کے نظام اور سسٹم کی زندگی کا مسافر بن چکا ہے۔تمام پیغمبران کی تمام امتیں اس فتنہ میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ پوری انسانیت اس المیہ کا شکار ہو چکی ہے۔ سلسلۂ پیغمبراں کو ماننے والے صاحب بصیرت انسانوں سے ملتجی ہوں کہ وہ مذہب کی روشن و منور صداقتوں کا راستہ اپنانے میں عوام الناس کی رہنمائی فرماویں۔
۵۔اس جمہوریت کے نظام،اسکے نظریات،اسکی تعلیمات ،اسکے سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ ضابطہ حیات ،اسکے تعلیمی نصاب اور اسکے تعلیمی اداروں کی سرکاری بالا دستی،انکا تیار کردہ معاشرہ،انکا معاشی نظام،انکا معاشرتی نظام،انکا تیار کردہ تہذیب و تمدن ، جمہوریت کا طرز حکومت،اسکے سیاستدان، اسکے حکمران،اسکے قوانین و ضوابط تیار کرنے والے سیاسی ادارے، اسکے تیار کردہ اخلاقیات، اسکے عدل و انصاف کے اصول،اسکے ازدواجی زندگی کے ضابطے ، اسکے جنسی آزادی کے قوانین ،اسکے مخلوق خدا پرجنگیں مسلط کرنے کے آداب، اسکا بیگناہ مخلوق خدا کے معاشی اور معاشرتی قتال کا انسانیت سوز طریقہ کار کی تمام اذیتوں کا حل تلاش کرنے کیلئے،اس المیہ کے قائدین سے نجات حاصل کرنے کیلئے،اس فتنہ کو ختم کرنے کیلئے، مخلوق خدا اور انسانیت کو جمہوریت کی گمراہی اور اسکی تباہی سے بچانے اور اس سانحہ سے نکالنے کیلئے تما م مذاہب کے نظام،انکے نظریات ،انکی تعلیما ت ،پیغمبران کے الہامی ،روحانی اور نورانی ضابطہ حیات،انکے تعلیمی نصاب،انکی تعلیمی درسگاہوں کا نظام،انکا تیار کردہ معاشرہ،انکا معاشی نظام ،انکا معاشرتی نظام،ان کاثقا فتی نظام ، انکا تیار کردہ تہذیب و تمدن،انکا طرز حکمرانی،انکے مذہبی پیشوا،انکے حکمران، انکے الہامی ،روحانی قوانین و ضوابط،انکے دینی ادارے،انکے تیار کردہ اخلاقیات،انکے عدل و انصاف کے اصول،انکے ازدواجی زندگی کے ضابطے، انکے رشتوں کے تقدس، انکے جنسی پابندی کے اصول،انکے مخلوق خدا کو جنگوں سے محفوظ کرنے کے آداب،انکا بے گناہ مخلوق خدا کا قتال،اذیتوں اور دکھوں سے نجات دلانے اور تحفظ فراہم کرنے کے الہامی طریقہ کار ،کا موازنہ کرنے اور پرکھنے ،گناہ اور جرم کے ضابطوں کو سمجھنے اورگناہ اور جرم کے اخلاقیات کو سمجھنے کیلئے،ا چھائی اور برائی،نیکی اوربدی خیر اور شر کی پہچان اور انسانیت کی تباہی کا تدارک اور فلاح کی روشنیوں کو پھیلانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر جمہوریت کے سیاسی دانشور و ں کے تیار کردہ اخلاقیات اور مذہب کے اخلاقیا ت اور الہیات کے وارث صاحب بصیرت پیشواؤں کو دعوت فکر کیلئے یہ مسودہ پیش کیا جا رہا ہے۔کہ وہ انسانیت کی رہنمائی فرماویں۔کہ کونسا نظام عمل بہتر اور قابل ستائش ہے جس سے انسانوں کو جنگوں،جنگی اذیتو ں ، زخموں،دکھوں ، بھوک، انسانی قتال اور انسانی تباہی سے بچایا جا سکے۔مذاہب پرست امتوں کو انکے پیغمبران کے بتائے ہوئے الہامی اورروحانی اخلاقیات کے راستوں پر گامزن کیا جا سکے۔ تا کہ پیغمبران کی الہامی کتب انکی رہنمائی کا فریضہ ادا کر سکیں۔انکے دلوںکو اخوت و محبت،عزت و احترام ، شفقت و ادب ، اعتدال و مساوات،عدل و انصاف اور خدمتِ خلق کے نور سے منور کر سکیں ۔ دنیا میں امن و سکون کی قندیلیں روشن ہو سکیں۔ آؤ ! ۔۔پوری انسانیت کو اخلاقیات انبیا علیہ السلام اورسیاست کے قا ئدین اور ان کے دانشوروں کے اخلاقیات کے فرق اور انکے تضادات سے انسانیت کو آگاہ کریں ۔ اسکے علاوہ پیغمبران کی تمام امتوںاور پوری انسانیت کو تابع فرمان الہی کے روشن پہلوؤں سے روشناس کروائیں۔


۶۔پیغمبران کی تعلیمات ہمیں انسان سے محبت اور خدمت کا راستہ دکھاتی ہے۔ہم نیکی بدی انسان کے ساتھ کرتے ہیں۔ہمارا گناہ ثواب انسانوں کے ساتھ مشروط ہے۔ انسانوں کے چہرے ہی حسن تکمیل اور احسن تکمیل ہیں۔اگر دنیا میں ہمارے سوا کوئی انسان نہ رہے تو جزا سزا کا تصور باقی نہیں بچتا۔انسانوں کی تخلیق سے ہی دنیا کی رونقیں موجود اور بحال ہیں۔پیغمبران کے ذریعہ ہی انسانی سنگتیں بنتی اور انکی امتیں تیار ہوتی ہیں۔ہم پیغمبران کے بتائے ہوئے راستے پر زندگی کا سفر جاری رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے خوف کا شعور پیغمبران کے ذریعہ ہمیں عطا ہوا۔خوف الہی ہی ہمیں گناہوں اور ظلم سے بچاتا ہے۔ خوف الہی ہی ہمیں انسانوں کے ساتھ نیکی کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔جب انسان کسی پیغمبر کو اپنا ہادی یا رہنما مان لیتا ہے۔تو انسان اسکے بتائے ہوئے راستے کے مطابق سفر کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکام کی عملی اور حتمی شکل اس پیغمبر کی تعلیمات،اسکے اخلاق حسنہ اور اسکے کردار حسنہ اور اسکی حیات طیبہ کی صفات میںمنور اور روشن ہوتی ہے۔
۷۔کسی پیغمبر کی امت کے منافق انکے نظریات کو انکی تعلیما ت کو اور انکے ضابطہ حیات کو توڑتے اور مسخ کرتے ہیں۔ وہ انکے امتی نہیں کہلا سکتے۔یہودیت ،عیسائیت اور مسلمانوں کے اقتدار پرست قائدین، سیاستدانوں،حکمرانوںاور بادشاہوں نے اپنے اپنے مما لک میں پیغمبران کی امتوں کو اقتدار کی نوک پر جمہوریت کے ضابطہ حیات میں بری طرح مقید کر رکھا ہے۔انہوں نے کمال دھوکہ بازی سے مذاہب کی بالا دستی اور سرفرا زی کو پسِ پشت ڈال کر،انکے نظریات،انکی تعلیمات اور انکے ضابطہ حیات کو منسوخ ،معطل اور ختم کر کے اور انکو معبد ،کلیسا اور مسجد کی آ ہنی سلاخوں میں بند اور مقید کر دیا۔ اور اسکے بدلے جمہوریت کے سیاسی قائدین اور انکے اسمبلیوں کے دانشوروں کے نظریات،انکی تعلیمات اور انکے ضابطہ حیات کی بالا دستی حکومتی سطح پرنافذالعمل کرکے مذاہب کی روحانی،الہامی تعلیمات،انکے نظریات،انکے اخلاقیا ت، انکے حسن اعمال ، انکے حسن کردار اور انکی اعلیٰ صفات کو کچلنے کا عمل جاری کرر کھا ہے۔دنیا بھر کے مذاہب پرست اقوام اور ممالک کے سیاستدان ،انکے سیاسی دانشور،انکے مادہ پرست رہبر،انکے اقتدار کی سیاسی جنگیں لڑنے والے قائدین اور حکمرانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کن کے ایجنٹ ہیں۔ کن کے نمائندے ہیں۔کن کی تعلیمات ،کن کے نظریات اور کن کے ضابطہ حیات کے پیروکار ہیں۔ انکو ان حقائق پر ایک نظر دیکھ لینا چاہئے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ انہوں نے تمام عالم مذاہب کو منافقت اور کفر کے تضاد کے بد ترین جمہوریت کے ضابطہ حیات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کیا انکو ان حقائق کی روشنی میں اپنی منزل کا رخ درست سمت کی طرف موڑنا چاہئے یا نہیں۔اگر اب بھی وہ پیغمبران کے ضابطہ حیات کی طرف رخ نہیں موڑتے۔انکی تعلیمات اور نظریات کو ملکی اور حکومتی سطح پر رائج نہیں کرتے۔تو انکی امتوںاور انکے عالمو ں ، انکے روحانی پیشواؤں اور انکے صاحب بصیرت حواریوں اور برہانی شعور کےوارثوں کو ا س باطل اور غاصب جمہوریت کے ضابطہ حیات اور اسکے نظام کے خلاف احتجاج کرنا اور اسکو ختم کرنا ہو گا۔ مذہبی انقلاب میں انسانیت اور مذاہب پرست امتوں اور آنیوالی نسلوں کی فلاح مضمر ہے۔اللہ تعالیٰ تمام پیغمبران کی امتوں کو راہ ہدائیت سے نوازیں۔امین۔
۸۔انبیا علیہ السلام کے نظریات، انکی تعلیمات اور انکے کردار کی کرنیں کسی ایک فرد، کسی ایک نسل، کسی ایک قوم ،کسی ایک ملک،کسی ایک بر اعظم کیلئے مختص نہیں ہیں۔وہ بین الاقوامی اور آفاقی ہیں۔انکی اخوت و محبت کی تعلیم آفاقی،انکی ادب و احترام کی تعلیم آفاقی،انکی اعتدال و مساوات کی تعلیم آفاقی،انکی امانت و دیانت کی تعلیم آفاقی،انکی صبرو تحمل کی تعلیم آفاقی،انکی ایثار و نثار کی تعلیم آفاقی،انکی سادہ اور بے سرو سامانی کی زندگی گذارنے کی تعلیم آفاقی،انکی عفو و درگذر کی تعلیم آفاقی، انکی مخلوق خدا کیلئے بے ضرر ہونے اور منفعت بخش ہونے کی تعلیم آفاقی ، انکی مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کی تعلیم آفاقی اور انکی عدل و انصاف کی تعلیم آفاقی۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران سلامتی اور خیر کا پیغام لیکر اس جہا ن رنگ و بو کو سنوارنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دار الفناہ میں یکے بعد دیگرے بھیجے۔ تمام الہامی ، روحانی تعلیمی صداقتوں کا مقصد اور محور ایک ہی تو ہے۔کہ انسان اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم شاہکار اور ایک انمول تخلیق ہے۔ جسکی آسودگی ، فلاح، راحت ،خیر اور اسکے امن و سلامتی اور رہنمائی کیلئے یہ تما م پیغمبران اور تمام روحانی ،الہامی صحیفے نازل فرمائے گئے۔ جن سے نوعِانسانی کی رہبری اور رہنمائی کا طریقہ حیات ،ضابطہ حیات اور سلیقہ حیات پوری طرح سمجھا دیا گیا ہے۔ تا کہ انسانی نسلیں زندگی گذارنے کے آداب، دنیا کی بے ثباتی سے آگاہی اور خدمت خلق سے آشنائی حاصل کر سکیں۔ انسان دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو اسکی بیماری ،تنگ دستی،تکلیف ،مشکلات اور اسکی فطرتی ضروریات خوراک،لباس، ادویات وغیرہ کو مہیا کرنیکا شعور بیدار کیا۔انسانی حقوق اور فرائض کا سلیقہ عطا کیا۔انسانی زندگی کو تحفظ فراہم کرنے کی اولیٰ عبادت کا راستہ دکھایا۔لیکن آج انبیا ء علیہ السلام کی امتیں یہودی،عیسائی اور مسلمان اپنے اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوںکی زیر قیادت مذہبی اقدار کے خلاف ایک اتم درجہ کی بغاوت اور مذہبی تہذیب کو مل کر روندنے کے عمل سے دو چار ہو چکی ہیں۔ تمام انبیا ء علیہ السلام کی امتیں انکے نظریات اور تعلیمات کو معبد،کلیسا اور مسجد میںپابند سلاسل کر چکی ہیں ۔ انکا سرکاری مذہب جمہوریت رائج پذیر ہو چکا ہے۔ انکی اسمبلیوں کے ممبران انکے پیغمبران کی حثیت اختیار کر چکے ہیں۔دنیا کی تمام دولت،تمام وسائل اور تمام مخفی اور ظاہری خزانے انکی ملکیت بن چکے ہیں۔توریت شریف ،انجیل شریف اور قرآن شریف کے نظریات اور تعلیمی نصاب کی بجائے جمہوریت کے نظریات اور جمہوریت کے پیغمبر ان کے تیار کردہ اصول و ضوابط پر مشتمل تعلیمی نصاب کی تعلیم و تربیت ان تمام امتوں کے فرزندان پر سرکاری طور پر نافذ ا لعمل ہو چکی ہے۔ جس نے انکا مذہبی تشخص مسخ کرنے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔ اس طرح تمام امتوںکو بے بس،مجبور اور نظریاتی تضاد کے عذاب کا شکار بنا یا جا رہا ہے۔
۱۔ اب سوچنا یہ ہے !۔کیا ہم ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔کیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام،حضرت اسحٰق علیہ السلام،حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ علیہ ا لسلام اور حضرت محمد الرسو ل ا للہ  علیہ السلام ایک ہی نسل اور ایک ہی پیغمبر کی اولاد نہیںہیں۔کیا ہم تمام امتوں کے فرزندان انبیاء علیہ السلا م یا جمہوریت کے سیاسی قائدین کے امتی ہیں۔
۲۔ کیا ہم پیغمبران کے نظریات اور ان کی الہامی کتابوں کے تعلیمی نصاب پر
ایمان رکھتے ہیں یا جمہوریت کے مذہب کش اسمبلیوں کے ممبر ا ن کے تیار کردہ باطل تعلیمی نصاب کے پیروکار ہیں۔
۳۔کیا تمام امتوں کے فرزندان کو حکمرانوں نے جمہوریت کے باطل مذہب کے ممبران کے نظریات اور نظام کا سرکاری طور پر پابند نہیں بنا رکھا۔ جمہوریت کے نظام کی پیروی کے بعد ہم یہودی ،عیسائی اور مسلمان کہلا سکتے ہیں یا پیغمبران اور مذاہب کے منکر، منافق اور باغی ۔
۴۔کیا ہم تمام پیغمبران کی امتوں کے فرزندان کو جمہوریت کے بے دین دانشورں اور دین کش سیاستدانوں نے بڑے دھوکے کیساتھ بے بس،مجبور اور سرکاری بالادستی کی بناپر جمہوریت کے نظریات اور تعلیمات کے سرکاری پنجرے میں پابند کرکے تمام پیغمبران کا منکر اورمنافق بنا نہیںرکھا۔
۵۔کیا جمہوریت کے ملکی سطح کے ا سمبلیوں کے ممبران کے الیکشن میں کوئی امین، دیانتدار،نیک ،صالح،پرہیز گار ، متقی، خدمت گذار،مصلح،انسانیت دوست غریب اور مذہب پرست حصہ لے سکتے ہیں یا ملکی خزانہ اور ملکی وسائل پر قابض اعلیٰ طبقہ کے قلیل سی تعداد کے بااثر مادہ پرست غاصب سیاستدان یعنی معاشی اورمعاشرتی قاتل ہی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔کیا سرمائے دار اپنی پسند کی حکومتیںلانے کیلئے اربوںڈالر اخراجات برداشت نہیں کرتے۔
۶۔کیا امریکہ جیسے ملک میںوسائل اور ملکی دولت پر قابض سرمایا دارانشورنس،تیل اوردوسری تجارتی کمپنیوں کے مالکان نے اپنے تحفظ اور اپنی اپنی منفعت اور پسند کے مذہب کش سیاستدانو ں اور قائدین کی کامیابی پراربوں ڈالر کے اخراجات برداشت نہیں کئے۔ کیا تمام دنیا میں یہی سسٹم رائج نہیں۔ یاد رکھو حکومتی پشت پناہی کرنے والے بے لگام سرمایادار حکمرانوں کے ساتھ مل کر عوام الناس سے گدھوں کی سی محنت، مشقت اورخرکاروں کی طرح قانون کی چابق سے انکے معاشی اور معاشرتی حقوق اعتدال و مساوات کے فطرتی اصولوں کے منا فی زبر دستی چھینتے اور تذلیل کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ تو ٹیکسوں کے ذریعہ ہنر مند وں ، مزدوروں ،محنت کشوں، غریب کسانوںکے خون کا آخری قطرہ بھی نکالنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ تو عوام الناس کی بنیادی ضروریات چھین کر ان کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلارکھنے کے عادی مجرم بن چکے ہیں۔ در اصل جمہوریت ظالم،بے رحم سرمایہ داروں اور غاصب، قاتل درندہ صفات عامروں کی گھناؤنی
پناہ گاہ ہے۔ جسکے سائے تلے وہ حصول مادیت اور حصول اقتدار کا کھیل کھیلتے ہیںاور مذہبی اقدار کو کچلنے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے حکومتی ایوانوں اور تجارتی اداروں پریہ ظالم قابض ہو نے کے بعد اب اسی نظام اور سسٹم کے ذریعہ د نیا کے تمام وسائل اوردولت کو اپنے کنٹرول میں لیکر وہ تمام دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔وہ دنیا بھر کے عوام کی غربت،تنگدستی،بھوک کی عبرتناک اموات کی ا ذیتوں کے مجرم ہیں۔ مادہ پرست اوراقتدار پرست نہ یہودی ہوتے ہیں۔نہ عیسائی اور نہ ہی وہ مسلمان۔وہ تو مذہب کے نظریات اور تعلیمات کے دشمن اور نمرود،فرعون،شداد، ہا مان اور یزید کے نظریات کے پرستار ہوتے
ہیں۔
۷۔کیا مادہ پرست اور اقتدار پرست نمرود،فرعون اور یزید کے پیروکار حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی امتوں میںایک منافق ، غاصب اور مذہبی نظریات کے قاتل کے روپ میں داخل نہیں ہو چکے۔ .
۸۔کیا پیغمبران اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے مصلح ہوتے ہیں یا ووٹ کے ذریعہ جمہوریت کے الیکشن جیت کر اس مقام پر متعین ہوتے ہیں۔
۹۔ کیا اللہ تعالیٰ کے نظام کو قائم رکھتے ہوئے۔پیغمبران کی امتوں میں سے سلیم فطرت اور نیک،صالح اور پرہیز گار،متقی اورامین، صادق اور دیانتدار ،اعتدال اور
مساوا ت،عادل اور منصف اوصاف پر مشتمل پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات کی روشنی میں ایسے افراد کا چناؤ لازم ہے۔یا نمرود ،فرعون اور یزید کے مادہ پرست اوراقتدار پرست جمہوریت کے پیروکاروں کے نظریات ،کردار اور تعلیمات کی روشنی میں باطل ،غاصب اور معاشی قتال کرنے والے افراد کو جو دولت اور وسائل کی فرعونی طاقت سے ووٹ حاصل کر کے الیکشن جیتیں ان کو نظام حکومت پیش کرنابہتر ہے۔
۱۔کیا عیسائی امت پر مشتمل امریکہ جیسے ملک میں اقتدار اور مادہ پرستوں کا ایک قلیل سا 
فرعونی طبقہ ،یہودیوں کے روپ میں اسکی معیشت اور اقتدار پر قابض نہیں ہو چکا۔
۲۔ کیااس فرعونی طبقہ کو یہودی یا عیسائی یا مسلمان کہنا حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ یا
حضرت محمد مصطفیٰ  علیہ السلام کی امتوں کی توہین نہیں۔
۳۔ کیاانہوں نے امریکہ جیسے عظیم ملک کے تمام کارخانے،ملیں، فیکٹریاں،مختلف
کاروباری کمپنیاں اور ہر قسم کی تجارت پر قبضہ کر نہیں رکھا۔
۴۔ کیا ان گنتی کے چند افراد نے امریکی عوام کو معاشی اور معاشرتی طور پر یرغمال بنا نہیں
رکھا۔کیا وہ انکی معیشت اور سیاست پر قبضہ نہیںکرچکے۔
۵۔ کیا وہ امریکہ کے ذریعہ تمام دنیا کی سیاست،تجارت اور معیشت پر قابض ہوتے
نہیں جا رہے۔

۶۔کیا عیسیٰ علیہ السلام کی امت اپنے ہی ملک میں اس مادی برتری کی بنا پر انکی
ملا ز م بن نہیں چکی۔کیا مالک اور نوکر،آقا اور غلام ،برہمن اور شودر کے طبقے
قائم نہیں ہو چکے۔
۷۔ کیا امریکہ کی تمام دولت ،وسائل، خزانہ، ملیں،فیکٹریاں،کارخانے اور تما م
تجارتی ادارے انکی ملکیت بن نہیں چکے۔
۸۔ کیا امریکی عوام انکے تمام اداروں میں لیبر،محنت کش اور ملازم نہیں بن چکے۔
۹۔کیا وہ محنت کشو ں سے ان اداروں میں گد ھوں کی طرح سخت محنت اور مشقت
سے کام نہیں لیتے۔
۱۰۔کیا وہ خرکاروں کی طرح اپنی انتظامیہ کی تلوار سے اپنی مرضی کے مطابق
اجرت کی چھڑی کے ذریعہ ہانکتے نہیں رہتے ۔
۱۱۔کیا وہ ٹیکسوں کے ذریعہ انکی رات دن کی محنت، مشقت اور خون پسینے کی کمائی
و چھین کر اپنی تجوریاں بھرتے نہیں آرہے۔
۱۲۔کیا نمرود،فرعون،شداد ، ہامان اور یزید کے پیروکار حصول مادیت اور حصول
اقتدار کی جنگ امریکہ کے عوام سے جیت نہیں چکے۔
۱۳ ۔کیا وہ جمہوریت کے نظریات ، کردار اور تعلیمات کو رائج الوقت کر کے ایک
لاکھ بیس ہزار پیغمبران کے نظریات،کردار اور تعلیمات کو ایک دجال کی طرح
نگل نہیں چکے۔
۱۴۔کیا وہ یہودیوں اور سرمایہ داروں کے روپ میں نمرود ، فرعون اور یزید کے کردار
کی بد ترین شکل اختیارنہیں کر چکے۔
۱۵۔کیا یہ مادہ پرست اور اقتدار پرست یہو دیت کے روپ میں عیسائیت کی مغربی
اور امریکی قیادت کو گمراہ کرنے، جمہوریت کے ذریعہ تما م دنیا کے ممالک اور
انکی عوام کو زیرکرنے اور انکی دولت،وسائل پر قبضہ کرنے، بنی نوع انسان کو جنگوں کا
ایندھن بنانے، امریکی عوام او ر انکی ا فواج کا قتال کروانے، انکی شہرت کو رسوائے
زمانہ کروانے، انکے خلاف نفرت کی آگ جلانے، مذاہب پرستوں کو مسلکوں اور

فرقوں میں الجھانے،ملتوں کی وحدت کو پارا پا را کرنے،مذاہب کی امتوں کو ایک
دوسرے کے خلاف نفاق اور نفرت کی آگ میں جھونکنے،مذاہب کے نظریات،
ضابطہ حیات، اخلاقی اقداراعلیٰ صفات اورپر تاثیر صداقتوں کو جمہوریت کی بالا دستی
کی طاقت سے کچلنا،مذاہب پرستوں کا ایک دوسرے کے خلاف جنگیں مسلط کرنا،
تمام پیغمبران انکے نظریات ، کردار اور تشخص کو مسخ کرکے دوسرے عالمی نظریات
کیمونسٹوں، شو شیلسٹوں،ہندوؤں،بدھوں،آتش پرستوںکے پیروکاروں کے
سامنے پیش کرنا، کیا یہ ایک لاکھ چابیس ہزار پیغمبران کے سلامتی کے نظریات ،
تعلیمات اوران کے مذاہب کے خلاف ایک دل سوز ،عبرتناک سازش نہیں ہے۔
۱۵۔ کیا وہ جمہوریت کے ذریعہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظر یا ت ، تعلیما ت ، ازدواجی زندگی سے اجتماعی زندگی تک ،چادراور چار دیواری سے لیکر مخلوط معاشرے تک ، اعتدال و مساوات کو فروغ دینے کی بجائے وسائل اور دولت پر قابض ہونے تک،اخوت و محبت کے عمل کوبجا لانے کی بجائے اسکو کچلنے تک،انسانیت کا عزت و احترام کرنے کی بجائے اس کو روندنے تک،خالق کی مخلوق کو کنبہ خدا سمجھنے کی بجائے انکو نیست و نابود کرنے تک،بنی نوع انسان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے انکا قتال کرنے تک،دنیا میں عدل و انصاف رائج کرنے کی بجائے اسکو ناپید کرنے تک۔کیا یہ جمہوریت کی بالادستی کے ذریعہ مذہبی ضابطہ حیات پر مشتمل مذہبی تہذیب کو ختم اور نیست ونابود نہیں کر چکے۔


۱۔ کیا جرمن، روس اور دوسرے ممالک نے ان معاشی اور معاشرتی دجالوں کو جو
یہودیت کے روپ میں انکے ممالک میں داخل ہوئے۔
۲۔ کیا انہوں نے انکو انکے نمرودی ،فرعونی اور یزیدی کردار کی بنا پر ملک بدر نہیں کیا تھا۔
۳۔ کیا عیسائی امت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کی خوبیوں،انکی سیرت، انکے
اخلاقیا ت ، انکی صفات،انکے کردار، انکی صداقتوں اور انکی عظمتوں سے آشنا نہیں۔
۴۔ کیا ان کو حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کی محبوب امت کے حسین و جمیل اخلاق و
کردار کی پہچان نہیں۔
۵۔ خدا را تمام امتیں مل کر اس فتنہ کو ختم کریں اور اپنے اپنے مذاہب کے سلامتی کے
نظام کی پیروی کریں۔تا کہ دنیا امن کا گہوارا بن سکے۔امینَ
۶۔کیا جمہوریت کے پرستار سرمایہ دار اور حکمران یہ بات واضح کر سکتے ہیں۔کہ

انہوں نے جمہوریت کا نظام اور سسٹم ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے سلامتی
کے نظریات، کرداراور تعلیمات کے متضاد اور الہامی نظام کو کچلنے کیلئے معرض وجود
میں نہیں لایا ہے۔
۷۔کیا جمہوریت کے نظریات،اسکے مذہب کش قوانین اور اعتدال و مساوات کچلنے
والے ضوابط کی سرکاری طور پرپیروی کر نے کے بعد کسی بھی امت کا فرزند اپنے
پیغمبر کا امتی کہلا سکتا ہے۔
۸۔کیا جمہوریت کے نظریات اور ان پر مشتمل ضابطہ حیات ایک دجال کی طرح
تما م ا نبیاء علیہ السلام کے نظریات اور ضابطہ حیات کو نگلتے نہیں جا رہا۔
۹۔کیا دنیا کے تمام مذاہب کے حکمران اور جمہوریت کے اسمبلیوں کے ممبر ان ان
حقائق کی روشنی میں ان واقعات کی تردید یا تصدیق فرماویں گے۔
۱۰۔کیا دنیا کی سب سے بڑی عدالت یو این او کے سیکٹری جنرل کوفی عنان اور ان
کے صاحب فکر تمام ارکان،دنیا کے سپر پاور کے صدر مسٹر بش صاحب اور تہذیب
حا ضر کے شاہکار ملک برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر ٹونی بلئیرصاحب اس بارے میں
تما م اہل مذاہب کی امتوں کے فرزندان کو اپنی رائے اور اپنی ضمیر کے فیصلہ سے
مستفیض فرماویں گے۔
۱۱۔کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور تعلیمات کے پیروکار ہیں یا نمرود ،
فرعون ، شداد ،ہامان کے نظریات اور تعلیمات پر مشتمل جمہوریت کے باطل نظام
اور سسٹم کے۔
۱۲۔خدا را اپنی ضمیر کے پاکیزہ ،طیب اور منزہ فیصلہ سے تمام امتوں کے فرزندان کو آگاہ
فرماو یں کیونکہ نظریات کے تضاد کی شکار امتیں ایک مذہبی ،الہامی اور روحانی کینسر
میں سسکتی اور تڑپتی اور نفرت، نفاق اور دہشت گردی کے شعلوں میں نہ بھسم ہوتی جائیں۔
۱۳۔ کیااس تضا د کا منطقی نتیجہ مذہب کشی،نظریات کشی،پیغمبر کشی اور امت کشی نہیں ہوگا۔

۱۴۔ کیا اس نظام کی پیروی کاحتمی نتیجہ اس جہان رنگ و بو کو ایٹمی شعلوں سے خاکستر کر نا نہیں ہوگا۔
۱۵۔بنی نوع انسان اور تمام مخلوق خدا کو نیست و نابود ہونے اور اس جہان رنگ و بو اور اس حسین و جمیل کائنات کو بچانے کا وقت ہے۔
۱۶۔ یا اللہ جب باطن مذہب کی صداقتوں اور دل رب جلیل کے ذکر میں محو ہو اور ظاہر جمہوریت کے بے دین،باطل اور غاصب سیاستدانوں اور قائدین کے نظام،احکام اور قوانین و ضوابط کے روح سوز عمل سے دو چار ہو۔ تو انسانی ضمیر کے چہرے پر نفرت کے زخم کیوں نہ نا سور بنتے جائیں۔ اے اللہ! تو تمام طاقتوں اور قدرتوں کا مالک اور وارث ہے۔ تیری بارگاہ میں وقت کا فقیر تمام امتوں اور پوری انسانیت کے لئے دعا کیلئے ہا تھ اٹھا ئے بیٹھا ہے۔خدا وند قدوس تما م امتوں کو انبیاء پرستی،مذہب پرستی، توحید پرستی، سچائی ،سلا متی ا ور ادب جہاں کی منزل کی مسافرت کا مسافر بنادے ۔یا اللہ اس دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دے۔ امین۔