To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پیغمبران رشد و ہدایت کا چشمہ ہیں
عنایت اللہ
۱۔احکامِ خدا وندی پیغمبران کے ذریعے انسانوں تک پہنچائے جاتے رہے ہیں۔ پیغمبران نے ہی انسان کو آگاہی بخشی کہ اس جہانِ رنگ و بو کی تمام تخلیق کا ایک ہی خالق ہے اور تمام مخلوقات میںسے سب سے افضل تخلیق،سب سے اعلیٰ تخلیق،سب سے نفیس تخلیق ، سب سے عمدہ تخلیق اور سب سے اشرف تخلیق انسان ہے۔اس کائنات میں انسان کا مقام احسن تقویم کے عمل سے وابسطہ ہے۔انسان جتنا اللہ کے قر یب ہوگا،اتنا ہی انسانوں کے قریب ہوگا۔انسانوں پر رحم کھانے والے اللہ کی رحمت کے وارث ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے پیغمبران کے ذریعے اپنا اور اپنی مخلوقات اور اشرف تخلیق،احسن تخلیق انسان کا تعارف کروایا۔اللہ تعالیٰ نے پیغمبران پر جو صحیفے نازل فرمائے یعنی زبور شریف،توریت شریف ، انجیل شریف اور قرآن شریف ان تمام الہامی کتا بوں میں انسانوں کے تذکرے اور انکے انجام اور اختتام کے تذکر وںکے بارے میں آگاہی اور رہنمائی فرماتے رہے۔ پیغمبران ان صحیفوںکے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ارشادات انسانوں تک پہنچاتے رہے۔ نیکی اور بدی، خیر اور شر،گناہ اور ثواب کے راستے بتاتے رہے۔ انسانیت کو آگاہ کرتے رہے کہ اللہ کی خوشی انسانوں کی خدمت میں مضمر ہے۔ انسانوں پر ظلم نہ کرو،انکی خدمت کرو،انکے دکھوں اور مصیبتوں کا مداوا کرو۔انکی بیماریوں کا علاج کرو،انکو دوا اور شفا عطا کرو۔حاجتمندوں کی حاجت روائی کرو،بھوکوں کو کھانا کھلاؤ اور ننگوں کو لباس پہناؤ۔ کسی کو جھڑکی نہ دو،کسی کا دل نہ دکھاؤ ، انسانوں کے حقوق کا تحفظ کرو۔انہیں پامال نہ کرو اور انسانوں کو خوش رکھنے کیلئے اخلاق حمیدہ کو بروئے کار لاؤ۔ انسانوں میں جتنا کوئی انسان محبوب اور مقبول ہوگا اتنا ہی وہ انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب و مقبول ہوگا۔
۲ انسانوں سے نفرت ،ظلم،حق تلفی،دھوکہ ،فریب،معصوم و بے گناہ بچوں ، بوڑھوں اماں حوا کی دختران اور انسانوں کا بیجا قتال کرنے والا نہ پیغمبران کا امتی کہلا سکتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی قربت اسکا نصیب بن سکتی ہے۔
۱۔ نیکی اللہ کی قربت کا وسیلہ اور بدی اللہ تعالیٰ سے دوری کا سبب بنتی ہے۔
۲۔ وہ مال ،وہ دولت ،وہ وسائل اور وہ خزانہ جو انسانوں کا معاشی قتال کر کے اکٹھا کیا
ہوجومال ظلم اور جبر کے ذریعہ چھینا گیا ہو۔
۳۔ جو ملی دولت قانونی جرائم سے اکٹھی کی گئی ہواورجو وسا ئلاقتدار کی نوک پر
زبردستی لوٹے گئے ہوں۔اس ملکی ملی دولت کا استعمال،اسکے وسائل ،اسکا خزانہ ، چند سیاستدان،حکمران اورانکی اعلیٰ سرکاری مشینری کے وارثان کی ملکیت،انکی تعیش کی
زندگی گذارنے کا سبب بن چکی ہو۔جہاں اعتدال و مساوات کو کچل دیا گیا ہو ۔
۴۔ جہاں اقتدار کی نوک پر ملکی دولت،وسائل اور خزانہ لوٹا جا رہا ہے۔ایسی حرام
کی کمائی سے غریب کی مدد و معاونت کی نیکی ایک بد ترین بدی کو جنم دیتی ہے۔
اس دولت سے مساجد تعمیر کروانا اور درس و تدریس جاری کروانا اور حج کرنا اور
رفاعی کام سر انجام دینا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میںان کے خلاف انکی بد اعما لیو ں
اور بھیانک ظلم کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔
۵۔ مذہب کی نگری میں یہ اعمال ایک بہت بڑا ظلم اور گناہ عظیم ہے۔
۶۔ جو دور ،جو نظام اللہ تعالیٰ کے منشور،اسکے بتائے ہوئے ضابطہ اخلاق
ضابطہ اعتدال و مساوات، ضابطہ حیات،ضابطہ تعلیم اور ضابطہ نصاب سے
باہر ہوگا وہ دور ظلم و بربریت اور بدی کا دور ہوگا۔
۷۔ انسانیت کی عزت و احترام خدا وند قدوس کے احکام کی روشنی کی بجا
آوری میںہے، انکی بغاوت میں نہیں۔
۸۔اللہ تعالیٰ کی یاد کیلئے انسانی دل اور اسکے ذکر کیلئے انسانی زبان درکار ہے
۹۔ا نسانی فلاح احکام خدا وندی کی بالا دستی اور پیروی میں مضمر ہے۔ ۰ا۔اللہ کی کتب انسانوں کے ذکر،انسانوں کے آغاز اور انجام سے آگاہی بخشتی ہیں۔
اللہ کی خوشی انسانوں کے ادب،انکے احترام،انکی عزت نفس اورانکی خدمت میںمضمرہے۔
۱۱۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی اعلیٰ،عمدہ صلاحیتیں بخشیں،جس سے وہ اپنے خالق،
اپنے مالک، اس کائنات اور اس فانی جہان رنگ و بو میں غور اور فکر کرے
۲ ۱۔اس عارضی ٹھکانے میں اپنے خالق کو پہچانے اور اسکی مخلوق کو راہِ راست دکھائے
اورفلاح کے متلاشی انسانوںکو انعام یافتہ انسانوں کا راستہ دکھائے۔
۱۳۔حق کی نورانی روشنی سے باطل کدہ اور ظلمت کدہ کو روشن کرے۔
۱۴۔ انسانوں سے منہ موڑ کر خدا کی تلاش ممکن ہی نہیں اور نہ ہی ایسا متلاشی کامیاب
ہو سکتا ہے اور فلاح پا سکتا ہے
۱۵۔ انسانیت کی عزت اور نیک سلوک ہی نیکی ہے۔خدا کے احکام کی بجا آوری کا
زمانہ ہی انسان کی سرفرازی کا زمانہ ہوتا ہے۔
۱۶۔ اللہ سے پیار کرنے والے انسانوں سے بیزار اور انکی خدمت سے غافل نہیں ہو
سکتے اور انسانوں سے بیزار اور انکو تکلیف دینے والے اللہ کے قریب نہیں ہوسکتے۔
۱۷۔انسانوں کا بیجا قتال اور انسانیت کا معاشی قتال کرنے والے قربت خدا وندی
کے وار ث نہیں ہو سکتے۔
۱۸۔اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ،اسکے اور اسکے نظام کے خلاف کھلی بغاوت
ہے۔ یا اللہ! انسانیت کو اس ظلم سے آگاہی اور اس سے نجات کا شعور عطا فرما۔ تا کہ انسانیت سکھ کا سانس لے سکے۔تیری قربت حاصل کر سکے ۔تیرے احکام کیبجا آوری کر سکے ۔
۱۹۔یا اللہ ۔ہمیں ایٹم بموں ، ایٹمی پلانٹوں،ایٹمی میزائلوںاور اسلحہ سازی کے مہلک ہتھیاروںور خود کش حملہ آوروں کی بھڑکانے والی دوزخ کی آگ سے نجات کاکوئی وسیلہ عطا فرما۔
(۵)۔انسانی زندگی کا قافلہ اس جہان فانی میں پنپتا،پھلتا ،پھولتا اور پھیلتاچلا آرہا ہے۔ یہ انسانی قافلہ مختلف مراحل،مختلف ادوار ،مختلف واقعات اور مختلف اوقات سے گذرتا ہوا ایک لا متناہی سفر اور ایک نا معلوم منزل کی طرف رواںدواں اور تسلسل کے ساتھ گامزن ہے۔انسانی زندگی کی آفرینش کا عمل جنسی فطرتی قوت میں مضمر ہے۔جنسی قوت انسانی تخلیق کا سبب ہے۔مردو زن کے جنسی ملاپ سے تخلیق کا عمل جاری ہوتا ہے۔اسی لطیف اور پر لطف جنسی جذبے سے اس کائنات کی شاہکار تخلیق یعنی انسان پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کو جاری رکھنے کیلئے ازدواجی زندگی کا ایک پر کشش ضابطہ حیات پیغمبران کے ذریعے انسانیت کو عطا کیا۔جس سے میاں بیوی، ماں باپ ، بہن بھائی،بیٹا بیٹی،دادی دادا ،نانی نانا کے رشتوں کا ارتقائی عمل جاری رہا۔ ایک کنبہ ایک خاندان کی بنیاد رکھنے کا ازدواجی طریقہ کار پیغمبران خدا نے انسانیت کو متعارف کروایا۔ ان آسمانی خونی رشتوں کا ادب و محبت اور تقدس کا شعور بھی عطا فرمایا۔پیغمبران نے انسانوں کو بتایا کہ زندگی اور موت دینے کی قدرت اسی صانعِعظیم کو ہے جو تمام جہانوں کا مالک اور خالق ہے۔انسان کو زندگی اور موت دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ اسی مالک کل نے مقصد حیات اور عرصۂ حیات کا حکم دے رکھا ہے۔


۶۔ پیغمبران معصوم ہر خطا سے مبرا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی نشانی ہوتے ہیں۔پیغمبر ان صاحبِ صفات ہوتے ہیں۔کسی پیغمبر کو ماننے والوں میں انکی صفات کا پرتو ہوتا ہے۔پیغمبر انسانوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی منزل کا مسافر بنا دیتے ہیں۔ہر ماننے والے کے دل میں قرب الہی کی تمنا اور خواہش موجزن کر دیتے ہیں ۔ پیغمبر کی صفت ہوتی ہے کہ و ہ باغی معاشرے اور اخلاقی طور پر گمراہ اور تباہ معاشرے کو اللہ کے فضل اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا شعور عطا کرتے اور اسکے حصول کا مژدہ سناتے ہیں۔بد نصیبوں کو خوش نصیبی کا پیغام دیتے ہیں۔گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ عزت و فضیلت کی خلعت حاصل کرنے کی عقدہ کشائی فرماتے ہیں۔انکی تعلیمات انسانو ںکو فلاح کے راستے پر گامزن کر دیتی ہے۔ انکے نظریات پر مشتمل ضابطہ حیات انسانوں کی روحانی دنیا کو آباد کرتا ہے۔ بنی نوع انسان کیلئے اس دنیا کو خیر کا مسکن بنا دیتے ہیں۔ جب تک انکے دلوں میں ایمان کا چراغ روشن رہتا ہے۔اس وقت تک پیغمبران کی تعلیمات اور انکے کردار کی صفات کی روشنیاں اس دنیا کے ظلمت کدہ کومنور کرتی رہتی ہیں۔ان سے دنیا میں امن کے نسخے مرتب ہوتے رہتے ہیں ۔ دنیا امن و سکون کی آما جگاہ بنی رہتی ہے۔جب انکے ماننے والے ،انکے پیروکار انکا بتایا ہوا سید ھا راستہ بھول جاتے ہیں۔ انکی روحا نی اور الہامی تعلیمات ،انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات کو ترک کر دیتے ہیں۔انکے عمل کو چھوڑ دیتے ہیں۔ دنیا میں وہ امتیں پیغمبران سے منسوب تو رہتی ہیں ۔ لیکن وہ انکی منکر اور منافق بن کردنیا میں بد امنی اور تباہی کا راستہ اختیار کر لیتی ہیں۔ پیغمبر علیہ السلام کے دم سے انسانوں میں جو اخلاق اور صفات کی تکمیل میں نکھار پیدا ہوا،انکوعزت و مرتبہ نصیب ہوا،انکو پہچان ملی،انکو عالی مرتبہ ملا، انکو تہذیب و تمدن میںانفرادی اور اجتماعی عروج ملا۔ سچائی اور صداقت کا تقدس قائم ہوا۔انکی امتوں کے منکر اور منافق سیاستدانوں کے دانشوروں کے روپ میں جمہوریت کے نظریات ،اسکی تعلیمات، اسکے کردار اور اسکے ضابطہ حیات کی سرکاری سطح پرملکوںمیں بالا دستی قائم کر کے،پیغمبران کے نظریات،انکی تعلیمات،انکے کردار کی اور انکے ضابطہ حیات کی شمعیں گل کرتے اور انکو حرف غلط کی طرح مٹاتے چلے آرہے ہیں۔و ہ انسانوں کو مادیت کے حصول اور اقتدار کی ہوس کی جنگ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا راستہ ترک کر دیتے ہیں۔ یہ پیغمبران کی امتوں میںجمہوریت کے سیاسی رہبر کے روپ میں ایک بد ترین رہزن بن کر ابھرتے ہیں۔اور پیغمبران کی تیار کردہ تہذیب و تمدن کو راکھ کا ڈھیر بنا دیتے ہیں۔یا اللہ تو انسانوں کو ان کی گرفت سے نجات دلا۔انکو جمہوریت اور بادشاہت کے فتنہ کی تباہی سے بچا۔انکو پیغمبران کے کردار اور عمل کے ضابطہ کی سرکاری بالا دستی عطا فرما۔امین۔
۷۔پیغمبران کو ہر دور کے مطابق بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہتری کیلئے پیغام صداقت اور اخلاق حمیدہ کو سنوارنے کے فرائض ملتے رہے۔انکے رنگ مخصوص اور جزوی تھے۔مثلا ازدواجی زندگی کے اصول اور ضابطے،حرام اور حلال رشتوں کی تمیز اوراہل کتاب پیغمبران کے ازدواجی رشتوں کی نشاندہی۔انکی شریعتوں میں کمی بیشی ہوتی رہی۔ہر پیغمبر کے دور میںانسانوں کے دلوں میں انفرادی اور اجتماعی اخلاقی صفات میں انقلاب پیدا ہوتا رہا۔انکے ذریعہ صفات کے معجزات پھیلتے رہے ۔ ان پر آسمانی ،روحانی اور الہامی صحیفوں کا یکے بعد دیگرے نزول ہوتا رہا۔ انسانیت کے ارتقا اور نبوت کے ارتقا کا عمل فاطر کی طرف سے جاری رہا۔ حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ انبیا علیہ السلام کی کڑی کے آخری نبی الزماں ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔انکی وساطت سے اخلاق،صفات اور صداقتوں کو تکمیل نصیب ہوئی،انہی کے ساتھ نبوت بھی پایۂ تکمیل تک پہنچی۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ، حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ، حضرت موسیٰ کلیم اللہ،حضرت عیسیٰ روح اللہ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کورسول اللہ اور رحمت اللعالمین کے مقدس القاب اور ناموں سے پکارا گیا۔
ب۔ پیغمبران کی رسالت کے جزوی رنگ بتدریج ترقی کی انتہائی منازل کی طرف گامزن رہے ۔ انسانی معاشرے کی تشکیل اور نشو نما بھی ہوتی رہی اور اخلاق و صدا قت کی تکمیل بھی جاری رہی۔خیر اور شر بھی اپنی منازل طے کرتی رہیں۔نمرود آیا تو اسکے روبرو ،حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی تشریف لائے،فرعون آیا تو انکے سامنے حضرت موسیٰعلیہ السلام بھی آئے،حضرت عیسیٰ علیہ الاسلام کو بھی سر دار چڑھانے کا عمل جاری رہا۔ اور یزید آیا تو انکے روبرو حضرت امام حسین علیہ السلام بھی تشریف لائے۔ وہ خیر کے داعی، حسن اخلاق ، حسن کردار ،حسن صفات اور صداقتوں کے حسن کی تاثیر اور انکے سفیر ہیں۔وہ حاصل کی بجائے ایثار کے علمبردار ہیں۔وہ محبت و اخوت کی عبادت سے سر شار ہیں ۔وہ اصلیت سے آشنا اور قربت الہی کی خلعت سے سرفراز ہیں۔ ان انبیا علیہ السلام کا بتایا ہوا راستہ کہ انسان کا قرب ہی اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ ہے۔جو انسان سے قریب ہونے سے انکاری رہا اسکا حشر کیا ہوا ۔اسے اہل مذاہب خوب جانتے ہیں۔وہ شیطان الرجیم بن کر رہ گیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں نمرود،فرعون، یزید اور شیطان الر جیم کے قائدین اور انکے پیروکاروں کی شر سے محفوظ فرمائیں ۔ امین۔
۸۔اللہ کا راستہ تنہائی میں دستیاب اور دریافت ہوتا ہے۔بندے اور خدا کا تعلق تنہائی میں بحال ہوتا ہے۔عبادت کی گرہ کھل جاتی ہے۔قربت خدا وندی کے بعد مقرب کی زندگی انسانوں کے ہجوم میں سے گذرتی ہے۔انسانوں کی خدمت،ادب ، احترام اور انکی محبت میں گذرتی ہے۔یہی راستہ عبادت کی ارتقا کا راستہ ہے۔تنہائی کی عبادت انسانوں کی خدمت کی معراج کی عبادت سے واصل کراتی ہے۔اگر بنی نوع انسان کے لئے عبادت صرف یاد حق ہی سے پایۂ تکمیل تک رسائی حاصل کر سکتی۔ تو نبی کریمﷺ کی ذات اقدس کبھی غار حرا سے باہر نہ آتی۔انسان جتنا اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے ۔اتنا ہی وہ مخلوق کے قریب ہوتا ہے۔ آج دنیا میںاقتدار اور حکومتیں مذاہب کی تعلیمات کے خلاف ان لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ جو نہ تو اس راستہ سے گذر کر آئے ہیں اور نہ ہی اس راستہ کے مسافر ہیں۔ جنہوں نے اس دنیا کو ظلمت کدہ میں بدل رکھا ہے۔ وہ حکمران کتنے بد نصیب ہیں جو مذہب کی اعلیٰ اقدار کو کچل کر جدید جمہوریت اور بادشاہت کے مذہب کی گمراہی کا عمل جاری کئے ہوئے ہیں۔ اگر انسان کسی انفرادی مقصد کے حصول کیلئے مخلوق خدا کی خدمت،مخلوق خدا کا ادب،مخلوق خدا کی عزت و احترام اور مخلوق خدا سے محبت کرتا ہے تو یہ عمل اللہ تعالیٰ کی قربت کا سبب نہیں بنتا۔ اگر یہ تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کیلئے کرتا ہے تو یہ تمام اعمال انسان کو قربت خدا وندی کی منزل سے ہمکنار کر دیتے ہیں۔
۹۔ہم مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت کر رہے ہیں۔ایک دوسرے سے الگ ہو رہے ہیں۔ایک دوسرے کے عقیدے کے خلاف دست و گریباں ہو رہے ہیں ۔ ہم ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر رہے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف جنگیں کر رہے ہیں۔نفرت کی آگ پھیلا رہے ہیں۔بنی نوع انسان اور تمام مخلوقات اور اس جہان رنگ و بو کی تباہی کا آخری سامان اکٹھا کر رہے ہیں۔پیغمبران کے راستے کے علاوہ یہ تمام جمہوری اور بادشاہی راستے نمرود ،فرعون اور یزید کے راستے ہیں جن پر دنیا کے یہ سیاسی دانشور اور انکے حکمران پوری انسانیت کو اس باطل راستہ پر گامزن کئے بیٹھے ہیں۔۔یہ تمام مادہ پرستی اور حصول اقتدار کے نظریات خدا کے خلاف جنگ کے راستے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اسکے پیغمبران کی بات غور سے سن لو اور فکر سے کام لو۔ہم جن انسانوں کو برداشت نہیں کرتے وہ کس کی تخلیق ہیں۔انکو بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے نافرمانوں اور نہ ماننے والوں کو بھی تخلیق فرمایا۔ پیغمبران کی تعلیمات،انکے نظریا ت،انکے اخلاق حمیدہ،انکی صفات تمام انسانیت کی میراث ہیں۔ان پر کسی ملت اورکسی ملک اور کسی قوم اور کسی فرد کی اجارہ داری نہیں ہے۔ تمام مذاہب کی امتیںاور پوری انسانیت ان سے استفادہ کر سکتی ہیں۔کافر کو،منکر کو اور نہ ماننے والے کو اللہ کی خوشنودی کیلئے دعوت حق دی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کو تسلیم کرنے کی دعوت بھی دو اور انہیں جینے کا حق بھی دو ۔ایمان نہ لانے والوں کو پیار بھی دو اور انکے ادب و محبت اور انکے حقوق کا تحفظ بھی کرو۔پیغمبران کی تعلیمات کی روشنی کو دنیا میں پھیلانے کا حکم ہے۔انسانوں کو راہِ راست دکھانے کا حکم ہے ۔ مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا حکم ہے۔ان پر شفقت کرنے کا حکم ہے۔انکو بیماری میں دوا دینے اور شفا تک خدمت کرنے کا حکم ہے۔انکے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کا حکم ہے ۔ بھوکوں کی بھوک مٹانے کا حکم ہے۔انکو راحت اور سکون مہیا کرنے کا حکم ہے ۔
۱۰۔فرعون کی طرح گھر گھر بچے قتل کروانا۔دہشتگردوں کے نام پر معصوم و بیگناہ انسانیت کا قتال اور بستیوں کی بستیاں تباہ کرنے کا عمل۔اسلحہ کی برتری پر انسانوں کو خاکستر اور نیست و نابود کرنے کا عمل،رات کے اندھیروں میں ملکوں پر بلا جواز ڈیزی کٹر بموں ، نیپام بموں،نائٹروجن بموں کی بارشیں اور تباہی پھیلانے کا عمل۔کمزور اور غیر ترقی یافتہ اقوام کو میزائلوں سے تباہ کرنے کا عمل ۔دلوں پر حکومتیں کرنے کے اعمال سے اجتناب کرنے کا عمل۔کمزور اور غیر ترقی یافتہ اقوام کو اپنے مال و جان کی تحفظ کی خاطر خود کش حملوں پر مجبور کرنے کا عمل۔یہ سب نمرود ،فرعون اور یزید کی تعلیمات اور انکے نظریات کی کامیابیوں کے عمل ہیں۔ یہ سب حضرت موسیٰ علیہ الاسلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی ﷺکی امتوں کے منکروں اور منافقوں کے سیاہ کردار ہیں۔جو ان طیب اور مقدس پیغمبران کی ہستیوں کے نظریات اور ضابطہ حیات کو، انکی تعلیمات اور انکی تہذیب کو کچلنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر انکے خلاف مذہب کے منافقوںاور منکروں کی ایک عالمگیر سازش ہے۔جو انکی امتوں کواقوام عالم میں ختم کرنے،انکو رسوا اور نادم کرنے کارول ادا
کر رہے ہیں۔اس فتنہ کو روکنا ہر پیغمبر کی امت کا فرض بنتا ہے۔کہ وہ حقائق کی روشنی میں جمہوریت اور بادشاہت کے فرعونوں اور یزیدوں کے نظریات اور نظام کو بدلیں۔ادیان عالم کی قندیلیں اس باطل جمہوریت اور غاصب بادشاہیت کے ظلمت کدہ میں روشن کریں
یا اللہ تمام امتوں کوکلمہ حق پڑھنے کی توفیق بخش۔آمین
۱۱۔انبیاء علیہ السلام کا ادب،ان سے محبت، انکی تعلیمات کی پیروی کرناانکی
امتوں کیلئے باعث حصول نجات ہے۔
۱۔ انبیا کی قربت انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات،انکے اخلاقیات،انکے حسن عمل ، انکے حسن کردار،انکی اعلیٰ،عمدہ صفات کی پیروی میں مضمر ہے۔
۲۔ پیغمبران کا وجود انسانیت کیلئے باعث نجات بھی ہے اور باعث بخشش بھی۔
۳۔ وہ اپنے اپنے ادوار میں ظالموں،غاصبوں اور گمراہوں کو الہامی تعلیمات
دے کر راہ ہدایت سے آشنا فرماتے رہے۔
۴۔ پیغمبران کی صفات کا حصو ل قربت خدا وندی کا ذریعہ۔
۵۔انکے نظریات، ایک پر لطف اور پر سوز ہدی خواں کی آواز۔
۶۔انکا حسن اخلاق، دلوں کا سکون۔
۷۔انکا حسن کردار، انسانوں کیلئے اخوت و محبت کا پیغام۔
۸۔انکا ضابطہ حیات، زمانوں کا رخ بدلنے والا کرشمہ۔

۹۔وہ مایوسیوں میں امید کے چراغ جلاتے ،وہ فانی کو حیات جاوداںعطا کرتے۔
۱۰۔وہ انسانوں کی تکلیفوں کو دیکھ کر پریشان اور آ زردہ ہوتے ۔
۱۱۔وہ غریبی میں بادشاہی اور بادشاہی میں فقیری عطا کرتے۔
۱۲۔وہ توحید کا درس دیتے،وہ فانی جہاں کی عقدہ کشائی فرماتے۔
۱۳۔وہ اعتماد کی منزلیں طے کرواتے،وہ امیدوں کے چراغ جلاتے۔
۱۴۔وہ دنیا کی راہیں آسان فرماتے،وہ بارگاہ الہی میںجھکے ہوئے سر کوسرفرازی
سے ہمکنار ہونے کی آگاہی فرماتے۔
۱۵۔انکے نوازے ہوئے لوگ ماہتاب و آفتاب ہوتے ۔
۱۶۔انکی فکر انکی نگاہ کا کرشمہ،وہ ہر دور میں اپنے ماننے والوں کی رہنمائی فرماتے ہیں۔
۱۷۔فصاحت اور بلاغت انکی عطا کی ہوئی کرم کی رفعتیں اور فضل کے اعجاز ہوتے ہیں
۱۸۔وہ لوگ ہی ڈوبتی نیا کو پار لگانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔
۱۹۔وہ مخلوق خدا کو بھولے ہوئے اور ترک کئے ہوئے راستہ کی آگاہی فرماتے اور اس
پرگامزن کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔
۲۰۔وہ زمانے کی سوچ کو بدلتے ہیں۔
۲۱۔وہ ایک آہنی دیوار کی طرح باطل اور غاصب نظریات کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں
۲۲۔ وہ خیر کے مسافر اور خیر کے داعی ہوتے ہیں۔
۲۳۔وہ آنیوالے زمانے کا رخ بدلنے کے فرائض ادا کرتے ہیں۔
۲۴۔وہ انسانی فلاح کا قافلہ پھر سے تیار کرتے ہیں۔
۲۵۔وہ پیغمبران کے نقش قدم پر چلنے کا پھر سے سبق دہراتے اور دنیا کو پر امن گذر گاہ
بنانے کا عمل پھر جاری کر دیتے ہیں۔
۲۶۔یا اللہ بنی نوع انسان کو دین و دنیا کی فلاح اور آسودگی عطا فرما۔امین۔
۲۷۔وہ انبیا علیہ السلام کے نظریات اور کردار کے وارث ہوتے ہیں۔
۱۲۔ امت محمدیﷺ کے افراد اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو مانتے اور توحید کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ سلسلۂ انبیاء علیہ السلام پر یقین رکھتے ہیں۔انکی نماز ان سب انبیاء علیہ السلام کو ماننے، انکی الہامی کتب کو تسلیم کرنے اور ان پر درود و صلوٰت بھیجنے سے قائم ہوتی ہے۔ہر نبی نے
پہلے نبی کی امت کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور انکو فلاح کا راستہ دکھایا۔مذہب پرست تہذیبیں ابھرتی اور ختم ہوتی رہیں۔زمانے کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن کا ارتقائی عمل جاری رہا۔ اسی طرح انبیاہ علیہ السلام یکے بعد دیگرے اس دنیا میں تشریف لاتے رہے۔اسی طرح انکی تعلیمات اور شریعت کا نظام بھی ارتقائی عمل سے گذرتا رہا ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے سلسلہ انبیا علیہ السلام کا آغاز ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلا م ، حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت اسحٰق علیہ السلام،اور حضرت اسمٰعیل علیہ ا لسلام تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔ انکے بعد حضرت داؤد علیہ ا لسلام، حضرت موسیٰ علیہ ا سلام حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ؑؒعلیہ وسلم ایسے پیغمبر دنیا میں تشریف لائے جو صاحب کتاب ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اخلاق و صفات میں برتری پیدا ہوتی رہی۔صداقتوں کی شمعیں روشن سے روشن ہوتی رہیں۔جزوی رنگ تکمیل کی منازل طے کرتا رہا۔انفرادی ا ور اجتماعی اخلاق و کردار میں انقلاب پید ا ہوتا رہا۔اخلاق و اوصاف بہتر سے بہتر ہوتے رہے۔
۱۳۔پیغمبرا ن کے اخلاق کا معیار خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔انکی سیرت کی تاثیریں انسانی دلوں میں اترتی اور انکو تسخیر کرتی جاتی ہیں۔مصلحین عالم میں پیغمبران کے حسن اخلاق،حسن کردار،حسن صفات کا مقام اس لئے ممتاز ہوتاہے ۔کہ وہ کسی انسان کی سوچ کا حصہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ تمام صفاتی صداقتیں اللہ تعالیٰ نے پیغمبران کو ودیعت کی ہوتی ہیں ۔ موسیٰ کلیم اللہ،عیسیٰ روح اللہ اور آخری نبی الزماں کو اللہ تعالیٰ نے رحمت ا لعالمین ﷺ کے لقب سے پکارا۔تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔تمام پیغمبران کی امتوں کو ان حقائق پر غور کرنا ہوگا۔اس فطرت کے ارتقائی عمل اوراسکے فطرتی نظام کو سمجھنا ہو گا۔اللہ تبارک تعالیٰ ہمیں راہ ہدایت بخشیں۔آمین۔
۱۴۔تمام مصلحین عالم کے ماننے والوں کو اور تمام پیغمبران کی امتوں کو
اور پوری انسانیت کو رحمت العالمینﷺ نے دعوت فکر دی اور دین کی تبلیغ
کا عمل جاری کیا۔
۱ آپکیﷺ سیرت صفات کی مظہر، صداقتوںکی محافظ،حسن اخلاق کی تفسیر،حسن کردار
کی تکمیل،حسن اخلاق کا منبع۔
۲ آپکیﷺ شخصیت سے تمام صفات کی تکمیل ہوئی،صفات کو عروج ملا، صفات کو اعلیٰ و
افضل مقام ملا،صفات کو تقدس ملا،صفات کو پہچان ملی۔
۳ آپ ﷺ ہی سے اس جہان فانی میں صداقتوں کا نور منور ہوا۔
۴ آپ ﷺ کی شخصیت میںرسالت کی تکمیل ہوئی۔
۵ آپ ﷺپر نازل ہونے والی کتاب تما م آسمانی صحیفوں سے ما ورا اور حرف آخرہے۔
۶آپ ﷺ کو اس کائنات میں معلم اخلاق بنا کربھیجا گیا۔
۷ آپ ﷺ ہمیشہ غریبوں،مسکینوں،محتاجوں اور بے کسوں سے عملی ہمدردی،حلیم مزاجی
اور خوش اخلاقی سے پیش آتے۔

۸آپﷺ نے دنیا میں اعتدال و مسا وات کا اعلیٰ ترین اور عمدہ ترین نظام پیش کیا۔
۹ آپ ﷺ انسانوں کیساتھ شفقت کرتے،منکروں اور مشرکوںسے ادب سے پیش
آتے اور غلاموں پر شفقتوں کی بارشیں کرتے۔
۱۰آپ ﷺ کی غلامی کا کمال یہ ہے کہ آج بھی آپﷺ کی غلامی سرفرازی کی علامت
کا وسیلہ ہے۔
۱۱ خلق عظیم آپﷺ کی صفت اور آپﷺ کی صفت خلق عظیم ہے۔
۱۲ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو رحمتِ مجسم بنا کر بھیجا ۔
۱۳ رحم اخلاق کی بہترین صفت ہے اور حیا اسلام کا عمدہ ترین خلق ہے۔
۱۴ یہ رحمت العالمینﷺ کے اوصاف حمیدہ ہیں۔
۱۵ ۔دنیا کے تمام مفکرینِ اخلاق نے جتنے بھی اخلاقی ضابطے،اخلاقی قوانین،اخلاقی
اصول تیا ر کئے ہیں۔آپﷺ کی زندگی ان صفات کی مظہر ہے۔
۱۶۔آپﷺ کی ذات اقدس تما م جہانوں کے لئے سراپا رحمت ہے۔
۱۵۔آج کے مادہ پرست دور میں جب انسان ہوس پرستی ،زر پرستی اور اقتدار پرستی میں گم ہو چکا ہے۔ آج کے انسان کو یہ بات سمجھنے اور باور کرنے میں مشکل پیش آئے، کہ وہ انسان جو انبیا علیہ السلام کا امام ہو،قبیلے کا سردار ہو،جس کا نام لوگوں کے دلوں کو جلا بخشتا ہو،جس کانام لوگوں کے ایمان کا حصہ ہو، جس کا علم لوگوں کے دلوں پر جاری ہو،جس کے اشاروں پر آج بھی لوگ جان نثار کرنے کو سعادت سمجھتے ہوں،جسکے اخلاق لوگوں کیلئے عبادت بن چکے ہوں۔جسکی صفات لوگوں کی رہنمائی کا درس بن چکی ہو ں ،جس کے پاس رحمت کا بحر بیکراں موجود ہو، جسکے پاس عروج کی انتہا ہو،اس انسان کے جسم پر پیوند دار لباس ہو،جسکے جوتے پر پیوند اپنے دست مبارک سے لگائے گئے ہوں ۔ جس انسان کی ضروریات قلیل سے قلیل ہوں۔ جس کو دولت معراج عطا ہو۔جو انسان ا ما نت ، دیانت،شرافت ، صداقت اور ایفائے عہد کا پیکر ہو۔جسکی زندگی ایسی سادہ اور پر کشش ہو۔جسکے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسوۂ حسنہ کا خطاب موجود ہو۔ حضور نبی کریمﷺ ایسے معلم اخلاق ہیں کہ اخلاق کی تکمیل آپﷺ کے دم سے ہے۔ آپ ﷺ پر نبوت کی تکمیل ہوئی۔انسان کو انسانیت کی معراج کی آگاہی بخشی۔ تمام انبیا علیہ السلام پر ،انکی آل پر ۔،انکی امتوں پر اور حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر ،انکی امت پر،انکی آل پر درود و سلام قبول ہو۔یا اللہ تمام انبیا علیہ السلام کی امتوں کے منافقین اور منکرین کو راہ راست دکھا۔امین۔