To Download or Open PDF Click the link Below

 

   مذہب کی صداقتوںاور جمہوریت کی صداقتوں کا تضاد
عنایت اللہ
۱۔ آو مل کر اس دور کے دنیا بھر کے جمہوریت پسندِسیاسی دانشوروں، مفکرو ں ، صاحب اقتدار حکمرانوں، باد شاہوں اور انکی سرکاری مشینری کے ارکان ،انکے جمہوری اور بادشاہی ادارے،انکے تعلیمی ادارے، انکے تعلیمی نصاب، انکے نظریات اور انکے رائج ا لو قت علوم کی روشنی میں تیار کردہ معاشرہ ، اس معاشرہ کے اخلاقیات ، اسکی صفات ،اسکی صداقتوں کا موازنہ اور تقابلی جائزہ انبیا علیہ السلام کے حسن خلق ، حسن کردار، حسن صفات اور انکی صداقتوں پر مشتمل نظریات،انکا تعلیمی نصاب، انکے تعلیمی اداروں سے تیار کردہ معاشرہ اور تہذیب و تمدن کا جائزہ تو لیں ۔ مخلوق خدا کو ایٹموں کا ایندھن بنانے اور اس حسین و جمیل کائنات کو خاکستر ہونے سے بچانے کیلئے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انتظام کریں ۔ جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین، دانشوروں ،سکالروں،حکمرانوں اور ادیان عالم کے اہل بصیرت مفکروں کو دعوت خیال ، دعوت فکر دیں۔تاکہ و ہ پیغمبران کی امتوں کے الہامی نظریات،الہامی عقائد،الہامی ضابطوں اور جمہوریت اور بادشاہیت کے نظریات، انکے قوانین اور انکے ضابطوں کے تضاد سے پوری انسانیت کو آگاہ کریںاوریہ فیصلہ کریں۔ کہ
۱۔ پیغمبران کی آل اور انکی امتیں انکے نظریات ،انکے اخلاقیات،انکی تعلیمات،انکے
کردار کی پیروی نہ کریںتو کیا ایسے افراد یا انسان پیغمبران کی آؒل یا انکی امتیںکہلا سکتی ہیں۔
۲۔کیا وہ فرد یا افراد یا امتیں پیغمبران کے مذاہب کے الہامی صحیفوں کی وارث بن سکتی ہیں ۔
۳۔ کیا ہمارے مذہبی نظریات ،ہماری مذہبی تعلیمات ،ہمارے مذہبی اخلاقیات پرمشتمل
پیغمبران کے کردار ہمارے لئے قابل تقلید ہیں یا جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین،
سیاسی دانشوروں اور حکمرانوں کے نظریات اور انکے قانونی ضابطے ،انکی طرزحیات اور
انکے بھیانک کردار کی پیروی ہمارے لئے لازم ہےَ۔
۴۔کیا تمام انبیا کی امتوں کیلئے انکی سیرت طیبہ کی اطاعت فرض ہے یا جمہوریت کے سیاسی
دانشورں اور بادشاہی نظام کے باطل،گمراہ ،جاہل اور بے دین قائدین کے تیار کردہ
غاصب جمہوریت اور باطل بادشاہت کے ضابطہ حیات کی۔
۵۔کیا پیغمبر کی زندگی کا علم دانائی ہے اور پیغمبر کے ضابطہ حیات اور نظریات کے خلاف
زندگی گذارنے کا نام دانائی ہے۔
۶۔کیا پیغمبر کی زندگی کا کردار،انکا اخلاق،انکی الہامی اور روحانی صفات کی پیروی
اور اطاعت دانائی نہیں۔
۷۔ کیا پیغمبران کے صرف نام یاد رکھنے اور انکا امتی کہلانے کا نام دانائی ہے۔
۸۔کیا پیغمبران کی مقدس کتابوں کو معبد،کلیسا اور مسجد میں پڑھنے کا نام دانائی اور
عبادت ہے۔
۹۔کیا اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی مقدس کتابوں کو پڑھنے ،انکا ورد کرنے کا نام دانائی
اور عبادت ہے ۔یاانکے احکام کی پیروی ،انکی تعمیل،انکی بجا آوری ،دانائی اور
عبادت ہے۔
۱۰۔کیا جس ملک کا خود ساختہ مذہب جمہوریت اور بادشاہت ہو۔ اسکے مادہ پرستی
اور اقتدار پرستی کے ضابطے ملتوں پر مسلط ہوں۔اسکے نظریات اور ضابطہ حیات
ملکوں قوموں اور ملتوں پر نافذ کر رکھے ہوں۔کیا انکے احکامات کی پیروی دانائی
اورعبادت کہلا سکتی ہے۔
۱۱۔کیا یہ خود ساختہ جمہوریت اور باشاہت کے مذہب کو پیغمبران کے مذاہب پر،
انکی امتوں پر،انکے پیروکاروں پرمسلط کرنے والے ،پیغمبران کے باغی، انکے
مذاہب کے باغی، انکے مذاہب کے منکر، اور انکے مذاہب کے منافق نہیں ہیں ۔
۱۲۔کیا پیغمبران کی امتیں انکے نظریات انکے دستور ،انکے ضابطہ حیات،انکی تعلیم و
تر بیت،انکے حسن خلق،انکے حسن کردار،انکی سیرت ،انکی صفات اور انکی صدا قتو ں
سے محروم نہیں ہوتی آرہیں۔
۱۳۔کیا بین الاقوامی سطح پر پیغمبران کی امتوں کو انکی الہامی، روحانی اور آسمانی
تعلیمات اور انکے فیض سے محروم کر کے ان چند جمہوریت پسند سیاسی دانشوروں اور
بادشاہت کے سکالروں نے جمہوریت اور بادشاہت کے خودساختہ نظریات،انکے دستور، انکے ضابطہ حیات اور انکی نمرود ی،فرعونی اور یزیدی صفات کی سرکاری بالادستی دنیا میں قائم نہیں کر رکھی۔
۱۴۔ کیا پیغمبران کی امتیں انکے نظریات اور ضابطہ حیات کے خلاف جمہوریت اور
بادشاہت کے رائج الوقت نظریات کے نظام اور سسٹم کے تضاد کا شکار نہیں ہوتی جا رہیں
۱۵۔کیا ہمارے سیاسی دانشوروں اور جمہوریت کے پرستاروں اور بادشاہت کے
آمروں نے مذہب کی دوری کی سزا میں تمام پیغمبران کی امتوں کو بری طرح مبتلا نہیں کر رکھا ۔اس طرح انسانی زندگی کو کرب و بلا اور عبرتناک اذیتوں سے دو چار کرنے والے کون ہیں
۱۶۔کیا جمہوریت کے پجاریوں اور باشاہت کے آمروں نے دنیا میں ترقی اور
طاقت اور وسائل کی بنا پر ظلم و تشدد، قتل و غارت،لوٹ کھسوٹ اورکمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک اور اقوام اور معصوم اور بیگناہ مخلوقات کا معاشی اور معاشرتی قتال جاری نہیں کئے بیٹھے۔کیا پیغمبران یا ادیان عالم اس طرح کے بھیانک عمل کی اجازت دیتے ہیں۔
۱۷۔کیا جمہوریت کے لیڈران اور بادشاہت کے آمروں کی اطاعت کا راستہ پیغمبرا ن
اور ادیان عالم کے ماننے والوں کے خلاف سازش، بغاوت اور سر کشی نہیں ہے
۱۸۔کیا اللہ تعالیٰ سے ہمہ وقت دعا مانگنی اور کوشش کرنا ضروری نہیں کہ ادیان عالم
کے پیروکاروں کو راہ راست پر چلنے اور انکے نظریات اور انکی عبادت کا قبلہ درست فرما۔انکو جمہوریت کے دانشوروں اور بادشاہت کے آمروں کے عذاب سے نجات دلا۔امین۔
۱۹۔کیا ہم یہ دعا مانگ سکتے ہیں کہ اے ہمارے خدا وند قدوس ہمیں ہمارے دین
کے نظریات ،ضابطہ حیات اور اسکی تعلیمات پر چلنے اورتمام مذہبی ممالک اور دنیامیں انکی تعلیمات اور نظریات کی بالا دستی قائم کرنے کی توفیق عطا فرما۔
۲۰۔کیا پیغمبران اور انکی امتوں کے بہترین اوصاف،عمدہ اخلاق اور لاجواب
صفات کی نشو نما کرنے اور انسانیت کا فلاح کا راستہ روکنے کے خلاف باطل جمہوریت اور غاصب بادشاہت کا نظام مذاہب کے خلاف عالمگیر سازش نہیں۔
۲۱۔ کیا مخلوق خدا کی خدمت اور اس کا عزت و احترام،اخوت و محبت اور عدل و
انصاف پیغمبران کے رشد و ہدایت کے روشن چراغ اور منور راستے نہیں ہیں۔ معبد،کلیسا اور مساجد ایسے مذہبی تشخص پیدا کرتے نہیں رہے۔
۲۲۔کیا جمہوریت میں کافر، منکر، منافق،جاہل اور بے دین کا ووٹ ایک اہل بصیرت
،دیندار انسان کے ووٹ کے برابر نہیں مانا جاتا۔کیا بادشاہت کے آمروںکی باشاہت انکی خاندانی وراثت نہیں۔
۲۳۔کیا جمہوریت کے مذہب کے سیاسی دانشوروں نے جھوٹے ووٹ اور سچے
ووٹ کا وزناخلاق کے ترازو میں برابر کر کے اللہ کے غضب کو پکارا نہیں۔ جمہوریت کا یہی عدل کش ضابطہ اخلاق جمہوریت کا نوحہ خواں ہے۔جو انسا نوں کی تباہی کا باعث بنتا چلا آرہا ۔کیا بادشاہت پیغمبران کے ضابطہ حیات کے خلاف کھلی بغاوت اور جنگ نہیں۔
۲۴۔ کیا جمہوریت کے نادانوں نے الیکشنوں کا پیمانہ مقدار اور تعداد کی برتری کو
قائم کرکے، معیار عظمت اور معیار اخلاق کو منسوخ نہیںکر رکھا۔ان رہزن سیاسی قائدین نے جوہر شناسی اور مردم شناسی کا شعور انسانی قافلے سے چھین نہیں لیا۔کیا بادشاہت کے آمروں نے ملت اسلامیہ کے فرزندان پر دین کے خلاف حکومتیں قائم کر نہیں رکھیں۔
۲۵۔جمہوریت اور بادشاہت کے راستوں سے ایوان اقتدار میں آنے والوں کو دین
حکومت قائم کرنے سے کیا غرض۔وہ کیوں اپنا اقتدار اور اپنی حکومتیں کچلنے اور ختم کرنے کا خطر ناک عمل از خود کریں۔یہ ملتوں کے فرزندان کا حق بنتا ہے کہ وہ مذہب کے الہامی نظام حیات کو بحال کروائیں۔
۲۶۔جمہوریت اور بادشاہت کتنی بے دردی سے مذاہب کے نظریات،انکا ضابطہ
حیات ، انکا حسن اخلاق،انکی اعلیٰ صفات،انکے عمدہ کردار ، انکے فلاحی ضابطوں اورانکی صداقتوں کے نقش مٹاتی چلی جا رہی ہیں۔
۲۷۔کیا جمہوریت اور بادشاہت کے باطل اور غاصب قائدین نے مذاہب کی تعمیری
قوتوں کو مذہبی تہذیب و تمدن کو فروغ دینے سے سرکاری سطح پر منقطع نہیں کر رکھا۔
۲۸۔کیا جمہوریت اور بادشاہت کے ضابطہ حیات کی تیار کردہ قائدین کی عقل و دانش سنگدل اور بے رحم نہیں بن چکی ۔جو انسانی رنج و الم، انکے زخموں،انکے دکھوں،انکے دردوں کے عرفان سے محروم ہو چکی ہے۔ملتوں کو انکے پیغمبرا ن سے دور لے جا رہی ہے۔
۲۹۔ کیا جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین نے انسانی ضمیر کی مذہبی ، الہامی، روحانی آواز کو عالمگیر سطح پر خاموش، بے بس اور اسیر نہیں بنا رکھا۔
۳۰۔کیا جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین نے انسانی بھلائی کے مذہبی اعجاز، آلامِ انسانی میں بدل کر رکھ نہیں دئیے۔
۳۱۔کیا جمہوریت اور بادشاہت کے فاجر،فاسق ضابطہ حیات،انکے شاہکاروں اور
انکے قائدین کو انکی اوج گاہوں سے اتارنا اور انکی بالادستی ختم کرنا مذہبی ، انسانی ،الہامی اور روحانی فریضہ اور تقاضا نہیں۔
۳۲۔یا اللہ اس دعائے نیم شب کی فریاد کو اپنی بارگاہ صمدیت میں قبولیت کا شرف
عطا فرما۔ جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین کی دین کش طرز حیات سے پیغمبران کی امتوںکورہائی عطا فرما۔ امین ۔
۳۳۔اللہ کے پیغمبر انسانوں کے ووٹ اور کثرت رائے سے منتخب نہیں ہوتے۔ان کا مرتبہ انسانوں کا دیا ہوا نہیں بلکہ وہ مرتبہ تو اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتاہے۔دین کثرت رائے کا محتاج نہیں۔جمہوریت دین کے معاملے میں عمل دخل نہیں دے سکتی۔ اگر کسی بھی پیغمبر کی امت کو جمہوریت کے حوالے یعنی رائے عامہ کے حوالے کر دیا جائے۔تو اسکی الہامی تعلیمات،اسکے روحانی نظریات اور اسکے تیار کردہ بے دین کردار مذہب اور ملت کو کچل کر رکھ دیں گے۔ جمہوریت کے دجالوں نے پیغمبران اور انکے مذاہب کے دستور حیات،انکی تعلیمات،انکی صفات،انکی صداقتوں،انکے توحید پرستی کے اسباق اور انکے دنیا کی بے ثباتی کے درس کو صدائے صحرا بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح بادشاہت کا نظام بھی مسلم امہ کے نظریات کے منافی اور دین کے خلاف ایک ہولناک نظام حیات ہے ۔جو مسلم امہ کی بے دینی اور تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔جس سے نجات حاصل کرنا ملت کے ہر فرد کا پاکیزہ اور طیب فریضہ ہے۔جمہوریت اور بادشاہت کے نظریاتی دجال دنیائے عالم پر سرکاری برتری اور بالادستی حاصل کرنے کے بعد پیغمبران خدا اور ادیان عالم کی عمارت کو ریزہ ریزہ کرتے جا رہے ہیں۔ ادیان عالم اوربنی نوع انسان اس جدید دور کے جمہوریت کے قائدین کے تیار کردہ نظام اور سسٹم کی قید میں سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر دم توڑے جا رہے ہیں۔یا اللہ تمام پیغمبران کی امتوں کو ان جمہوریت کے دجالوں کے عذاب سے نجات کا کوئی راستہ عطا فرما ۔امین ۔