To Download or Open PDF Click the link Below

 

  ۱یٹم بم،اورایٹمی میزائل انسانیت کو فتح کرنے کے ہتھیار نہیں بلکہ انسانیت کا ادب،خدمت اور محبت فا تح عالم ہیں۔
عنایت اللہ
۱۔مذہب خیر اور بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے۔نیکی اور بدی کا شعور عطا کرتا ہے۔اخوت و محبت کے جذبوں کو بیدار کرتا ہے۔دکھوں ،دردوں ، مصیبتوں اور آفتوں کا مداوا کرتا ہے۔ زخموں پر مرہم پٹی کرنے کا درس دیتا ہے۔ بیماروں کو دوا اور شفا عطا کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔بھوکے انسانوں کو کھانا پیش کرنے کے آداب سکھاتا ہے۔اعتدال و مساوات قائم کرنے کے احکام دیتا ہے۔فطرت کے اصولوں کی نگہداشت اور اطاعت سکھاتا ہے۔ مذہب انسانوں کو اس جہان رنگ و بو کے فانی ہونے کی آگاہی بخشتا ہے۔ مذہب مخلوق خدا کیعزت و احترام،خدمت و ادب کا سلیقہ سمجھاتا ہے۔ مذہب انسانی دلوں کی کھیتی میں رحمت اور فضل کا بیج بوتا ہے۔مذہب انسانی دلوں میں اخوت و محبت کے چراغ روشن کرتا ہے۔اس حقیقت اور راز کو سمجھنا کتنا ضروری اور کتنا اہم ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغمبر اس جہان رنگ و بو، اس دار ا لفناہ اور اس زمان و مکاں میںبھیجا جاتا ہے۔وہ اس دنیا میں آکر تن تنہا ،بے سر و سامانی کی حالت میں ایک روحانی ،الہامی انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔وہ زمانے کا رخ بدل دیتا ہے۔ وہ اندھیروں کو روشنیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔وہ ظلمات کو دور کرتا اور نور کو پھیلا جاتا ہے۔ معاشی اور معاشرتی قتالوں کی گناہ سے لبریز کامیاب زندگی کو نا کامی سے تعبیر کرتا ہے ۔اور اس گناہ کی زندگی سے نکال کر ثواب اور نیکی کی کامیاب فلاحی ابدی زندگی سے ہمکنار کر جاتا ہے۔ حسن خلق اور حسن کردار اور اعلیٰ صفات کے آداب سے عدل و انصاف کا سبق سکھا کر فلاح و ثواب کی کامیاب اعتدال و مساوات،عدل و انصاف اور اخوت و محبت پر مشتمل زند گی سے ہمکنار کر جاتا ہے۔ وہ چاند کی طرح میٹھی ،دھیمی چاندنی کا نور دنیا کے اندھیروں میں پھیلاتا جاتا ہے۔ظلم کی سیاہ نگری ختم ہوتی جاتی ہے۔ اسکے پاس کونسی تلوار ہوتی ہے۔اسکے پاس کونسا ایٹم بم ہوتا ہے۔ اسکے پاس کونسا ایٹمی میزائل ہوتا ہے۔جب تک کسی بھی پیغمبرکی امت انکے نظریات،انکی تعلیمات،انکے خلق عظیم،انکے دلوں میں اترنے والے کردار کی پیروی کرتی ہے۔ جس وقت تک قوموں کی رہبری،ملکوں کی رہنمائی، دنیا پر،دنیا میں بسنے والے انسانوں پر اور انسانی دلوں پر حکومت اس پیغمبر کی،اسکی ملت کی یا اسکے ماننے والوں کے طیب ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ وہ حاصل اور محرومی کی اصل سے متعارف اور آشنائی کرواتے ہیں۔وہ اعتدال و مساوات کو قائم کرتے ہیں۔ وہ ادب،خدمت اور محبت کی روحانی ،الہامی اور آسمانی تحفوں کی دولت سے آنیوالی انسانی نسلوں کی نشو نما کرتے ہیں۔ وہ خیر اور فلاح کے پیامی دنیا میں امن وسکوں اور خیر سگالی کے جھنڈے گاڑھے رہتے ہیں۔ فطرت نے انسانیت کی رہنمائی انکو عطا کی ہوتی ہے۔ وہ اخوت و محبت ،خدمت و ادب اور سچائی و صداقت کی تلوار سے انسانی دلوں کو تسخیر کرتے جاتے ہیں۔ انسان جوق در جوق اس پیغمبر کی امت کے قافلے میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔یہ قافلہ لاکھوںاور کروڑوں کی تعداد تک ہی محدود نہیں ر ہتا بلکہ اربوں انسانوں تک جا پہنچتا ہے۔یہ قافلہ صدیوں کی مسا فتیں طے کرتا رہتا ہے۔ جب اس قافلے کی سربراہی اور قیادت ملکی سطح پرنمرود ،فرعون اور یزید کے ضابطہ حیات اور اسکے پیروکاروں کے ہاتھوں میں چلی جائے۔تو اسکا انجام کیا ہوگا!۔
۲۔یہ حسین و جمیل دنیا،یہ خوبصورت،دلکش کائنات اور یہ جہان رنگ و بو،یہ صبح شام کا کھیل،یہ دن کے ہنگامے،یہ رات کا سناٹا ،یہ زندگی کے صحرا کاسفر،یہ ستاروں کا ٹمٹمانا،یہ چاندنی کا نور، یہ باد سموم کا چلنا،یہ نسیم و شمیم کی دھیمی میٹھی سر سراہتیں،یہ پو پھٹنے کا سماں،یہ سورج کی تمازت،یہ سمندر کاُبپھرنا، یہ مدو جذر کا نظام، یہ پھول یہ خوشگوار خوشبو،یہ سبزہِ گل،یہ پہاڑاور وادیاں،یہ شور و غل،یہ ہنگامہ ء کائنات،یہ زمین و آسماں، یہ سانس کی آری، یہ زندگی کا درخت، یہ قصہ ء موت و حیات،یہ خیر و شر کا کھیل،یہ قدسیوں کی حمد و ثنا،یہ آدم وحوا کا قصہ، یہ آفرینشں نسل،یہ پانی اور ماٹی کی رونقیں، یہ کن فیکون کی صدا، یہ توحید کے جلوے،یہ سلسلۂ پیغمبراں، یہ ذکر رب جلیل ، یہ خاموشی کا مضراب،یہ غور و فکر کا ساز،یہ روح و مستی کا رقص، یہ شب بیدار ی کے گھنگرو،یہ درود صلوٰت کے نغمات،یہ محب کی حب، یہ داستانِ می رقصم،یہ خارِ نوک کی چبھن،یہ سازو سرود،یہ وادی ء عاشقاں، یہ رنج و محن کی نگری،یہ حیات و ممات کی کہانی، یہ ماٹی کی مورتی اور ماٹی اسکا دیس، یہ فناہ بقا کا راز، یہ فقر کے سفر کے چراغ، یہ عقل و خرد سے ورا، یہ جنوں سے بے خبر،یہ ادب جہاں میں گم، یہ خیر و فلاح کا نور،یہ جبہ ء رسالت کا وارث، یہ خالق کی پیاری مخلوق،یہ احسن تقویم کا شاہکار،یہ قافلے کا ہدی خواں ،یہ سلسلہ ء پیغمبراں،یہ دار ا لفناہ کے چراغ، یہ اخوت و محبت کی قندیلیں یہ حق و صداقت کی شمعیں، یہ ادب و خدمت کے ساز ،یہ اخوت و محبت کے راگ، یہ انسانیت کے سکون و اطمینان کے محور،یہ روح پرور راحت کی دولت سے مالا مال۔ پیغمبر ان اور انکے فقرا اور پیغمبران کے نقش قدم کی داستاں۔انکی زندگی ایثار کی زندگی کا راستہ دکھاتی ہے۔ انکی ضروریات قلیل۔ انکے اعمال و کردار مخلوق خدا کے لئے بے ضرر اور انکی تمام صفات انسانیت کیلئے منفعت بخشی کی قندیلیں روشن کرتی ہیں۔۔ جبب اس انسانی قافلہ کی رہنمائی مذہبی ہاتھوں سے نکل کر جمہوریت کے سیاستدانوں اور بادشاہت کے آمروں پر مشتمل قائدین کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے ۔ مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کی آگ جلائی ،سلگائی اور بھڑکائی جاتی ہے۔ جمہوریت کے حاکموں اور بادشاہت کے آمروں کے نظریات کی روشنی میں تیار کردہ منشور ملکوں پر نافذ العمل ہو جاتا ہے۔ فرزندان ملت پر جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین کے احکام جاری ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔انسان اصل کو بھول کر ضروریات زندگی اور حاکموں کے احکام کی اطاعت میں گم ہو جاتا ہے۔حکومتوں کے شاہانہ اخراجات مہیا کرنے کیلئے عوام کو مشینوں کی طرح کار گاہ جہاں میں مصروف رہنا پڑتا ہے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل کرنے کیلئے اور لا متناہی ٹیکس ادا کرنے کیلئے انکو حاصل کے پاؤں انکی ضروریات اور خواہشا ت کی چادر سے باہر پھیلانا انکی مجبوری بن جاتی ہے۔ پیغمبر علیہ السلام کی تعلیمات ، نظریات اور ضابطہ حیات کو پس پشت ڈال کر جمہوریت کے سیاستدانوں اور بادشاہت کے آمروں کا حکومتی نظام چلانے کیلئے انکے نظریات پر مشتمل تیار کردہ تعلیمی نصاب پیغمبر ان کی امتوں پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔ انسان مادہ پرستی اور حصول اقتدار کی خاطر غاصب ،ظالم اور قاتل طرز حیات کی شاہراہ کا مسافر بن کر رہ جا تا ہے۔
۳۔ اس طرح مذہب اور فطرت کا پاکیزہ اور طیب عمل روک دیا جاتا ہے۔ہم پیغمبران کے نام لیوا بن کر رہ جاتے ہیں۔انکے حسن عمل،حسن کردار حسن صفات اور صداقتوںکے وارث نہیں رہتے۔جمہوریت اور بادشاہت کا راستہ ایک باطل ، غاصب سرمایہ داروںاور عامروںکا راستہ ہے ۔انکے قائدین جبر اور ظلم کی تلوار کیساتھ ملکی وسائل اور ملکی خزانہ اور ملکی اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔ ملک و ملت اس ظالم، غاصب نظام کے قا ئد ین کی وراثت بن جاتے ہیں۔یہ طبقہ اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو کچل دیتا ہے۔وہ ملکوں میں جمہوریت کے زیر سایہ عوام سے گدھوں کی طرح محنت اور خرکاروں کی طرح ٹیکسوں اور مہنگائی کی لاٹھی سے انکی بنیادی ضروریات خود کار نظام کے تحت غصب کرتے رہتے ہیں۔انکی فیکٹریاں،کارخانے یا تجارتی ادارے عوام کو آقا اور غلام،برہمن اور شودر کے نظام کا ایندھن بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ ملک و ملت کی دولت اور وسائل پر قبضہ کرنے کے بعدوہ جمہوریت کے الیکشنوں کے ذریعہ اور بادشاہت کے طریقہ کار سے ملکوں پر قبضہ کر کے حکمرانی کی لاٹھی حاصل کر لیتے ہیں۔ جمہوریت کے یہ قائدین حاکم وقت بن کر وہ اپنی فیکٹریوں،کارخانوں اور کاروباری اداروں کو اقتدار کے اندھے قوانین سے مضبوط اور مستحکم بناتے چلے جاتے ہیں۔وہ عوام الناس کو مانگ اور سپلائی کا توازن بگاڑ کر قوانین میں جکڑتے جاتے ہیں۔ انکی ان بد اعمالیوں کو کوئی چیک کرنے اور روکنے والا نہیں ہوتا۔وہ اپنے کاروباری اداروں میں ہوں یا حکومتوں میں وہ ہر حالت میں صاحب اقتدار ہوتے ہیں۔عوام ہمیشہ برہمن اور شودر،آقا اور غلام،حاکم اور محکوم کی بد ترین معاشی اور معاشرتی اذیتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔وہ تنگدستی،غربت اور خود کشیو ں کی نا گہانی آفات میں سے گذرتے رہتے ہیں۔ا س طبقہ کی اولادیں ایچی سن کالجوں میں براہمن اور آقا کے کورس کرتی رہیں۔ دوسری طرف عوام الناس کی اولادیں اردو میڈیم میں شودر اور غلام کی تعلیم و تربیت سے پروان چڑھتی ر ہیں،انکے علاوہ دینی مدارس میں بد ترین مفلوک الحال، غریبوں ، مسکینوں،بے بسوں کی اولادیں دین کی تعلیمات یعنی طالبان کے نام پر دینی دہشت گردی کے کورس کرتی ر ہیں۔ روس کے ساتھ جنگ ہو تو امریکہ کا ساتھ دیں تو یہ طالبان۔ لاکھوں جانوں کی قربانی دینے کے بعد روس کو ریزہ ریزہ کردیںتو مجاہدین ۔ اسکے بعد وہی عظیم بین الاقوامی طاقتیں اور ممالک بغیر کسی قصور کے ان پر حملہ آور ہو جائیں۔چھتیس ہزار فٹ کی بلندی سے ان پر تباہ کن بم برسائیںانکے علاوہ آگ برسانے والے بموں سے انہیں خاکستر کر دیں۔میزائلوں سے انہیں نیست ونا بود کرتے پھریں۔ انکے ممالک کے معصوم و بے گناہ انسانوں کا بے پناہ قتال کرتے جائیں۔انکے وسائل لوٹ لیں۔ وہ اس غیر ترقی یافتہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ ان طاقت کے فرعونوں اور بین الاقوامی دہشت گردوں کو روکنے والے دہشت گرد بنا دئیے جائیں۔اس ظلم اور انسانی قتال کے راقموں کو نمرودی فرعونی طبقہ پر مشتمل جمہوریت کے مذہب کے پیروکار تو کہا جا سکتا ہے۔انکا حضرت موسیٰ علیہ السلام ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ا لرسول ا للہﷺکے ساتھ تو دور کا بھی تعلق نہیں ہو سکتا۔ان جمہوریت کے قائدین اور حکمرانوں کی ایسی کامیابیاں مذہب کے جسد پر ایک کینسر کی شکل اختیار کرتی جارہی ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر ان غاصبوں نے دوسرے نظریات کے سامنے مذہب کا تشخص مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ عدل و انصاف کو دیمک کی طرح چاٹتے چلے جا رہے ہیں۔ تمام پیغمبران کی امتوں کی روح انکے جسد کے اندر تڑپتی، سسکتی اور دم توڑتی رہتی ہے۔ مذہب پرست مذہب کی حقیقی سچائیوں کو تسلیم کرتے ہیں اورجمہوریت اور باشاہت کے کفر کے نظام کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس طرح تما م ملتیں ذہنی ، قلبی انتشار کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔و ہ مذہب کے ضابطہ حیات اور جمہوریت ا ور باشاہت کے ضابطہ حیات کے تضاد کی آگ میں جلتی رہتی ہیں ۔ اعصاب شکنی کی وبائیںفرزندان ملت اور بنی نوع انسا ن پر نازل ہوتی رہتی ہیں۔کیا مذاہب پرست امتیں اس ضابطہ حیات اور اسکے قائدین کو مزید برداشت کر نے کا عمل جاری رکھیں گی یا اسکا تدارک کریں گی۔
۴۔ آج کا مذہب پرست انسان جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین کی المناک اذیتوںکے حصار میں مقید ہوتا جارہا ہے۔آج کا انسان
جمہوریت کے حصار میں پابند رہنے کی مجبوری اور جمہوریت اور باشاہت کے حصار کو توڑکر نکلنے کی آرزو کی کشمکش میں مبتلا ہے۔جمہوریت اور بادشاہت کو ترک کرنا،مذہب کی بقا سے وابستہ ہے۔مذہب کے نزدیک جمہوریت اور بادشاہت کے گناہ عظیم کو ترک کرنے کا ارادہ توبہ کا حصہ ہے۔جمہوریت اور بادشاہت کے گناہ سے باز رہنے کا فیصلہ توبہ کی عطا ہے۔مذہب کا روحانی علم اور جمہوریت اور بادشاہت کا باطل عمل مذہب سے منافقت اور کفر ہے۔علم اور عمل ایک ہو جائیں تو مذہب ایک سورج کی مانند ہے۔سورج کا مذہب روشنی مہیا کرنا اور تاریکی کو دور کرنا ہے۔
۵۔جمہوریت اور بادشاہت کا طرز حیات حاصل کی خواہشات میں گم۔مذہب کا شعار ایثار اور قربانی کا راستہ ہے۔مذہب گنہگار کواپنے دامن سے دور نہیں کرتا۔یا اللہ جمہوریت اور بادشاہت کی تاریکیوں کے وارثوں سے پیغمبران کی امتوں اور پوری انسانیت کو نجات عطا فرما۔امین
۶۔جب پیغمبران کی امتیں اور پوری انسانیت منزل کا راستہ بھول جائیں،منزل سے بھٹک جائیں،منزل کی راہوں میں الجھ جائیں تو کوئی روشن خیال بے نوا فقیر اس درد وکرب کے صحرا میں ، اس ظلم و جبر کے ریگستانوںمیں،اس نفاق اور نفرت کے دشت میں،اس ہیبتناک ظلمات کے بیاباں میں انکی رہنمائی کا فرض ادا کر جائے۔ اس حالت غیر میں کوئی صاحب خیال خیر کا داعی دین کی روشن خیالی کا چراغ جلا ئے بیٹھا ہو اور انسانیت کا قافلہ اچانک منزل سے ہمکنار ہوجائے۔تو یہ لمحہ ماضی اور مستقبل کا سنگم بن کر ابھرتا ہے اوراس انسانی قافلے کے صدیوں کے کفر کو غسل نصیب ہو جاتا ہے۔ یہ قافلہ صداقتوں کی منزل پر گامزن ہوکر بار گاہ الہی تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔اسی کامیاب قافلے کی تمام کمی بیشی والا سفر ہی کامیابی کا سفر کہلاتا ہے۔ جمہوریت اور بادشاہت کے مکتبہ فکر کا پھر کوئی اندھا انسان دور بینی کاقلیم نہیں کرتا۔ کوئی بہرہ انسان ساز و نغمات کے سننے کا دعویٰ نہیں کرتا۔کوئی ننگا انسان پھر برہنگی کا لباس چھن جانے کے خوف سے مغلوب نہیں ہوتا۔پھر پاؤں سے محروم انسان گھوڑوں کی ریس میں شامل ہونے کا تصور نہیں کرتا۔گناہ میں کامیاب زندگی مذہب کے نزدیک بد ترین ناکامی ہے۔یا اللہ ۔ بنی نوع انسان کو اور پیغمبران کی امتوں کو جمہوریت اور بادشاہت کے المیہ سے نجات کا کوئی راستہ دکھا۔آمین ۔
۷۔جمہوریت اور بادشاہت کی سرکاری سطح پر پیغمبران کی امتوںپر بالا دستی، انکی مذہبی اقد ار ، انکے حسن اخلاق، انکے حسن عمل،انکے حسن کردار،انکی حسن صفات کے پاکیزہ ،مقدس اور الہامی ضابطہ حیات اور اسکے تیار کئے ہوئے تہذیب و تمدن کے تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین کی بالا دستی مذہب پرست امتوں،انکے نظریات اور انکی تعلیمات کا عبرتناک قبرستان بن چکا ہے۔ فطرت کے قوانین اور ضابطے توڑنے والے انسانی شکل میں سیاستدان اور آمر حکمران، در اصل بنی نوع انسان کو توڑنے ،انکو تباہ کرنے ،انکو قتل کرنے اور انکو نیست و نابود کرنے کے جرائم کے مرتکب ہوتے جا رہے ہیں ۔ جمہوریت کے نظام کی پیروی نے بشر کی کوئی صفت آج کے بشر میں نہیں چھوڑی ۔ کسی سماج کا حد سے گذر جانا اس سماج کی تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔آج کے جمہوریت اور بادشاہت کے قائدین کے تیار کردہ ضابطوں پر مشتمل تہذیب کی عمارت انسانی تباہی کا سبب بنتی چلی جا رہی ہے۔آج جھوٹ،ظلم اور عدل کشی کی ویٹو پاور جمہوریت کے غاصب ٹولہ یعنی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک،انکے صاحب اقتدار حکمرانوںاور پیغمبران کی امتوں کے منافقوں کے پاس
ہے ۔ جو پیغمبران کی صداقتوں پر مشتمل ضابطہ حیات کو کچلنے کا اجتماعی عمل جمہوریت کے باطل ضابطہ حیات کے تحت جاری کئے بیٹھے ہیں۔
۱۔ پیغمبران کی امتوں کی کتنی بڑی بد نصیبی ہے کہ وہ پیغمبران کی الہامی کتب پر اورانکے ضابطہ حیات پر ایمان رکھتے ہوں اور ان پر جمہوریت اور بادشاہت کے آمروں کے باطل اور غا صب ضابطہ حیات کی تعلیم و تربیت حاصل کرنا ان پر سرکاری طور پر مسلط ہو۔
۲۔پیغمبرا ن کی امتوں کیلئے کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہ پیغمبران کے روحانی نظریات کو تسلیم کرنے والے ہوںاور ان پر حکمرانوں کے سرکاری مذہب جمہوریت اور آمروں کے باطل نظریات کی اطا عت کرنے کی سرکاری پابندی نافذ ہو۔
۳۔پیغمبران کی امتیں پیغمبران کے عمدہ اخلاق،حسن اخلاق،حسن کردار،حسن عمل،حسن صفا ت کی لا زوال دولت کے وارث ہیں۔ لیکن یہ سب مقدس اخلاقی ضابطے سرکاری طور پر انکے ممالک میں منسوخ ہو چکے ہیں۔ انکی تباہی کا باعث یہ ہے کہ جمہوریت اور آمروں کے سیاسی دانشوروں کے غاصب اصول و ضوابط کی قانونی پیروی انکا مقدر بن چکی ہے۔جس سے مذہبی تہذیبیںدم توڑتی چلی جا رہی ہیں۔جسکا تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے۔
۴۔پیغمبران کی امتیں بھی ہوں۔انکے پاس پیغمبران کی صداقتوں کا دستور حیات بھی ہو۔ادیان عالم کے پاس دین کا نور بھی ہو۔انبیا علیہ السلام کی امتیں بھی ہوں اور یہ تمام امتیں اور بنی نوع انسان کی آنیوالی نسلیں جمہوریت کے ظلمات کے سمندر میں تباہ و برباد اور ڈوب رہی ہوں۔یہ کیسا عبرتناک سانحہ ہے۔اس المیہ سے بنی نوع انسان کو کون نجات دلائے گا ۔
۵۔آؤ !۔ تمام امتیں مل کر خلیل اللہ سے التجا کریں۔کلیم اللہ سے درخواست کریں۔روح القدس کے دروازے پر صدا لگائیں۔ رحمت اللعالمین ﷺکو پکارلیں۔ آؤ! درد و کرب میں ڈوبی ہوئی پیغمبران کی امتوں کو۔آؤ!۔ اذیتوں میں مبتلا انسانی نسلوں کو۔ آؤ !۔دکھوں دردوں میں کڑاہتی ہوئی انسانی زندگیوں کو۔آؤ!۔ تڑپتی ہوئی مخلوق خدا کو ان پیغمبران کی صداقتوں کی روشنیوں تک رسائی کا راستہ دکھائیں۔ انکو الہامی صحیفوں تک رسائی اور ان سے استفادہ کرنے کا طریقہ سمجھا ئیں۔ تا کہ مخلوق خدا جمہوریت اور بادشاہت کے دجالوں سے نجات کا کوئی راستہ تلاش اور اختیار کرسکے۔امین۔
۶۔ یہ کون ہیں جو پیغمبران کی امتوں کوآپس میں الجھا رہے ہیں۔نفاق اور نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔یہی وہ جمہوریت کے قائدین ہیں جو پیغمبران کے باغی، مذہب کے باغی،مذہب کے نظریات کے باغی،مذہب کی الہامی تعلیم کے باغی،مذہب کے حسن خلق کے باغی، مذہب کے حسن کردار کے باغی،مذہب کی صفات کے باغی، مذہب کی صداقتوں کے باغی، عدل و انصاف کے باغی، اخوت و محبت کے باغی، عفو و درگذر کے باغی، خدمت و ادب کے باغی، اعتدال و مساوات کے باغی،امانت و دیانت کے باغی، پیغمبران کے منکر اور انکی ملتوںکو منافقت کے عمل سے گذارتے چلے آرہے ہیں ۔ اور پیغمبران کی امتوں میں فتنہ و فساد پھیلانے کے عمل او ر بنی نوع انسان کو دکھوں اذیتوں اور مصیبتوں میں مبتلا اور بنی نوع انسان کے قتال کے مرتکب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ یہی وہ جمہوریت اور بادشاہت پسند چند نمرودی،فرعونی اور یزیدی مادہ پرست اور اقتدار پرست افراد پر مشتمل قائدین ہیں جو پیغمبران کی امتوں میں نمرود،فرعون اور یزید کے ایجنٹوں کا رول ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ جو دنیائے عالم پر جمہوریت اور بادشاہت کے سائے تلے نمرودی ،فرعونی اور یزیدی نظام
نافذکر کے پیغمبران خدا کی تعلیمات کو منسوخ اور ختم کرتے چلے آرہے ہیں۔یہ دجال بنی نوع انسان کوکچلتے ا ور نیست و نابود کئے جا رہے ہیں۔
یا اللہ ہمیں ان کی گرفت سے نجات عطا فرما۔امین