To Download or Open PDF Click the link Below

 

  یزید کے دین کش نظریات اور ضابطہ حیات کے خلاف حسینی قافلے کی آواز حق
عنایت اللہ
۱۔اللہ تعالیٰ نے مذہب اسلام یعنی دین محمدی ﷺ سے قبل تین پیغمبران حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں بھیجے۔ان پر تین الہامی ،روحانی اور آسمانی کتابیں زبور شریف ،توریت شریف اور انجیل شریف یکے بعد دیگرے ان پیغمبران پر نازل فرمائیں۔ وہ اس ظلمت کدہ میں رشد و ہدایت کا نورپھیلاتے رہے۔ لیکن انکی امتیںانکے رشدو ہدایت کے راستے ترک کرتی رہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انکی شریعتیں بھی بدلتی رہیں۔ ان پیغمبران کا تیار کردہ مذہبی معاشرہ اور انکا تہذیب و تمدن ختم ہوتا رہا۔ خیر کی بجائے شر ،نیکی کی بجائے بدی، حق کی بجائے باطل اور عدل و انصاف کی بجائے عدل کشی اور قتل و غارت کا عمل اپنے عروج کی منازل طے کرتا رہا۔منفی قوتیں پروان چڑھتی رہیں ۔ نمرود،فرعون اور شداد کے ضابطے انکے پیروکار ، ان پیغمبران کی امتوں پر نافذ کرتے رہے۔انکے الہامی روحانی صحیفوں کو بدلتے اور ختم کرتے رہے۔ دنیائے عالم میں ان پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات کے رشد و ہدایت کے چراغ بجھتے اور نایاب ہوتے گئے۔انسان حیوان ناطق بن کر رہ گئے۔اس دور جہالت اوردورِ عصیاں کو ختم کرنے اور بنی نوع انسان کی فلاح اور بہبود کیلئے ، پیغمبران کے نظریات اور انکے ضابطہ حیات اور انکی تعلیمات اور انکی توحید پرستی کی قندیلیں روشن و منور کرنے کیلئے آپ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺٓؒ کو اللہ تعالیٰ نے اس جہان رنگ و بو میں آخری نبی بنا کربھیجا۔ نمرودی اور فرعونی قوتوں کو ختم کرنے کیلئے تبلیغ کا درس جاری کیا۔ آپ ﷺ اس کائنات کے ہر انسان اور تمام مخلوق خدا کیلئے رحمت کا پیغام بن کر اس دنیا میں تشریف لا ئے ۔ انہوں نے کسی کیلئے بد دعا نہیں کی۔جو ہمیشہ سلامتی کے خواہاں رہے ۔
۲۔ جنہوں نے ہر انسان کو پیار دیا۔ہر زخم کیلئے مرہم بنے۔آپ پر زمین تنگ کر د ی گئی۔آپکو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔آپکو کفار نے پتھر مارے مگر آپﷺنے خون بہنے کے با وجو د ان کیلئے دعائیں کیں۔پیوند والا لباس زیب تن رہا۔خود بھوکے رہے اور بھوکوں کو کھانا پیش کرتے رہے۔ضروریات زندگی کو قلیل سے قلیل عمل سے گذار کر سادہ و سلیس زندگی کا راستہ دکھایا۔ اعتدال ومساوات کو قائم کیا۔ فتح مکہ کے بعد کسی ایک انسان سے بھی انتقام نہ لیا۔اس طرح انہوں نے بنی نوع انسان کیلئے عفو اور در گذر کے راستہ کی نشاندہی کی ۔ حالانکہ مکہ کے لوگوں نے آپ ﷺ کو بڑے بڑے ، دکھ، صدمات اوراذیتیں دیں تھیں۔مائی ہندا جیسی عورت جس نے آپﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ کی شہا دت کے بعد انکا پیٹ چاک کر کے انکا دل نکال کر سر عام چبایا تھا،اسکو بھی معاف فرما دیا ۔ آپ ﷺاس کائنات کی ایک ایسی پیاری ہستی ہیں جنہوں نے در گذر اور معافی کے کردار کے انوکھے چراغ روشن کئے ۔ صبر اور بردباری کے الفاظ کی حرمت کا پاس کیا۔ آپ ﷺبنی نوع انسان پر ہی نہیں پوری مخلوق خدا، درند، چرندپرند پر بھی شفقتوں کی انتہا کر کے انسانوں کے دلوں کو نرم اور گداز کردار کی راہ ہدایت کا عملی درس دیتے رہے۔
۳۔ آپﷺ کی زندگی کا ہر عمل ایک پوری درسگاہ ہے۔ ایک دفعہ راستے میں کتیا بچوں کو دودھ پلا رہی تھی ۔آپﷺ نے اپنے قافلے کواسکے قریب سے گذرنے کی اجازت نہ دی۔قافلے کا راستہ روک کر لشکر کو دشوار گذار پہاڑ کے راستے سے گذارا۔تاکہ کتیا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے فطرتی عمل کو نہ روکے۔ وہ جانوروں کے فطرتی حقوق تک کی نگہداشت کرنے کا درس دیتے رہے۔ آپ ﷺنے زندگی بھر حسن عمل ،حسن کردار او ر عمدہ صفا ت پر مشتمل صداقتوں کی شمعیں روشن کیں۔آپﷺ نے انسانیت کو ایک ایسا معاشی اور معاشرتی دستور حیات ، ضابطہ حیات،طرز حیات ، فطرتی نظریات دئیے اورالہامی صفات پر مشتمل ایک ایسی روشن و منورکتاب ہدایت یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل فرمائی۔ جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔دنیا میں خیر اور فلاح کے تمام سوتے اسی الہامی کتابِ ہدا سے پھوٹتے ہیں۔دنیا کے تمام مفکر ین اور مصلحین کے انسانی فلاح اور بہبود کے تصورات اور نظریات کی امامت کا اعلیٰ مقام اسی فرقان حمید کا الہامی،روحانی اور فطرتی نصیب ہے۔یہ کتاب مبین بنی نوع انسان کی ازل سے لیکر ابد تک کی رہنمائی کی ذمہ داری اور اسکے فرائض ادا کرتی ہے۔
۴۔آپ ﷺ نے بنی نوع انسان کو ایک مقدس دستور حیات عطا فرمایا جو بے مثل و بے مثال ہے۔ بنی نوع انسان کو اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت کا تصور پیش کیا۔جسکی روشنی میں حاکم وقت کے چناؤ کے اصول وضع فرمائے۔مجلس شوریٰ کی تشکیل کا ضابطہ حیات بخشا ۔ امیر المومنین کے طرزحیات کا شعور عطا فرمایا۔یہ ایک ایسا نظریات کا حسین و جمیل گلدستہ اور مجموعہ ہے۔جو پوری انسانیت کو اعتدال و مساوات اور عدل و انصا ف کی راہ دکھاتا ہے۔ ایسے اصول و ضوابط سے آگاہی اور رہنمائی فرماتا ہے اور ایسے قوانین سے روشناس کرواتا ہے۔ جو ادنیٰ اور اعلیٰ کے فرق کو مٹاتا ہے۔جو انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور انکے حقو ق نبھاتا ہے۔ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔ایک ایسی تہذیب ترتیب دیتا ہے۔ جو بنی نوع انسان کے قافلے کو اللہ تعالیٰ کے احکام،انکے نظریات اور انکی من و عن اطاعت کی پابندی کے راستہ پر گامزن کر دیتاہے۔ اس طرح جو تہذیب جو تمدن اور جو معاشرہ تیار ہوتا ہے۔ وہ دینی اور مذہبی معاشرہ کہلاتا ہے۔ جو امن و سکون اور انسانی فلاح اور راحت کا منظر پیش کرتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد دین محمدیﷺ کا قافلہ حضرت ابو بکرؓ،حضرت عمر ؓ ،حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ تک قا ئم و دائم رہا۔
۵۔ان خلفائے راشدین کے بعداس دین محمدی ﷺ کے دستور حیات کو یزید نے توڑا۔بادشاہت اور ملوکیت کے نظام کو رائج کیا۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ضابطوں کو پاش پاش کرنا شروع کیا۔اس نے دین محمدی ﷺ کے دستور کی حاکمیت کو سبو تاژ اور مسخ کرنا شروع کر دیا۔اس نے دین کی عمارت میں بے دینی اور کفر کے شگاف ڈالنا شروع کر دئیے۔ حضرت امام حسینؓ جنہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کا دور نبوت دیکھا۔ اسکے بعد خلفائے راشدہ کے ا دوار بھی اپنی آنکھوں کے سامنے گذارے تھے۔وہ حا لات و واقعات اور حقائق سے پوری طرح آگاہ تھے۔وہ دین کی روح کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ انکی پرکھ،انکا غورو فکر،انکا تدبر،انکا شعور اور انکی بصیرت حق اور باطل کی پہچان سے اچھی طرح آشنا تھی۔انکو خیر اور شر کی پہچان تھی۔وہ عقل سلیم کے مالک تھے۔وہ دین کی روح سے وابستہ تھے انہوں نے اس دین محمدی ﷺ کی متاع حیات کو لٹتے دیکھا۔تو حضرت امام حسینؓنے یزید کے نظریات اور کردار کے خلاف علم بلند کیا۔ اسکی بے دین خلافت کی بیعت سے انکار کیا۔یزید ہر قیمت پر خلافت کے روپ میں باطل ،غاصب فرعونی نظام قائم کرنا چاہتا تھا۔حضرت امام حسینؓ یزید کے مشن
کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے۔آخرحق و باطل کے درمیان واقعہ کربلا رونما ہوا۔قافلہ حسینیؓ یزید کے دین کش نظریات کے خلاف بری طرح ڈٹ گیا۔اپنے قافلہ سالار حضرت امام حسینؓ کے ساتھ بہتر ۷۲ بے مثل و بے مثال افراد کے قافلے نے ایک ایک کر کے جام شہادت نوش کیا۔تیروں کے زخم کھائے،زخموں کی اذیتیں برداشت کیں۔بھوک سے نقاہت کی دلسوز تکلیفیں اٹھائیں۔پیاس سے معصوم بچے ،بوڑھے اور مستورات تڑپتے رہے۔یہ حسینیؓ قا فلہ ایک ایک کرکے جام شہادت نوش کرتا رہا۔اس قافلے کے تمام شہدا کرام مقصد حیات جیت گئے اور زندگی کی بازی ہار گئے۔یزید زندگی اور زندگی کا باطل نظام حیات جیت گیا۔ یزید اور اسکے پیروکار اللہ تعالیٰ کے مسترد کئے ہوئے نمرود،فرعون اور شداد کے عبرتناک قافلے سے جا ملے۔
۶۔آج بھی انسانیت اور تما م پیغمبران کی امتوں کیلئے دین اور بے دین،خیر اور شر کی پہچان کیلئے امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور انکے قافلے کے شہدا صداقتوں کاعلم لئے انسانیت کی رہنمائی کیلئے کھڑے ہیں۔ صدیاں بیت گئیں ۔ نمرود،فرعون شداد اور یزید کے پیروکار دین محمدی ﷺ اور تمام صاحب کتاب پیغمبران کی امتوں کے فرزندان کو انکے مذاہب انکے پیغمبران کی تعلیمات،انکے الہامی روحانی صحیفوں کے منافی باطل ضابطہ حیات ان پر مسلط کئے جا رہے ہیں۔ان کو انکے الہامی نظریات،روحانی دستور حیات، آسمانی طرز حیات کے ضابطوں سے الگ کر رکھا ہے۔ انکی تربیت باطل غاصب مذاہب کے نظریات کے خلاف اصول و ضوابط سے کی جا رہی ہے۔تمام پیغمبران کی امتوں اور انسانی قافلوں کو تمام ممالک کے قائدین حکومتی بالا دستی کی بنا پر زبردستی جمہوریت کے باطل و غاصب نظریات کے عدل کش مہلک ضابطہ حیات کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اسطرح جو تہذیب و تمدن تیار ہو رہا ہے اسکا کسی بھی مذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ تمام مذاہب کے پیروکاروں اور انکی امتوں کے فرزندان اور بالخصوص دین محمدی ﷺ کے پیروکاروں کیلئے یہ حسینی ؓ قافلہ حق و باطل سے آگاہی اور آشنائی کا فریضہ ادا کرتا چلا آرہا ہے۔جب تک یہ کائنات موجود ہے اس وقت تک حسینیؓ قا فلہ حق پرستوں کیلئے ہر دور میں رہنمائی کا یہ طیب اور مقدس فریضہ ادا کرتا رہے گا۔اسی قافلہ کے پیروکار ہر دور میں،ہر زماں میں ان باطل قوتوں کے خلاف عمل پیرا ہو نے کا عملی درس پوری انسانیت کو دیتے رہیں گے۔
۷۔یا اللہ ہمیں جمہوریت کی منافقت کی زندگی سے رہائی عطا فرما اور حضرت امام حسینؓ کے مشن کی تکمیل کی تو فیق بھی دے۔مسلم امہ کے فرزندانوں اٹھو!۔تمام پیغمبران کی امتیں جمہوریت کے دجال کی گرفت میں بری طرح پھنس چکی ہیں۔حقائق کی روشنی میں بات کریں۔ایک مرکز پر تمام امتوں کے اہل بصیرت پیشواؤں کو اکٹھا کریں۔اخوت و محبت کے جام سے انکی تواضح کریں۔ادب وخدمت کے عمل کو بروئے کار لائیں۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی توحید پرستی اور سلامتی کی تبلیغ اور تعلیم کے تحفظ کا فریضہ ادا کرنے کا عمل جاری کریں۔دین محمدیﷺ کی عمارت کومسلکوں،فرقوں میں ریزہ ریزہ نہ کریں۔آپس میں نفرتوں اور نفاق کی آگ کو بجھائیں۔دنیائے عالم میںصداقتوں کے چراغوں کو قوت برداشت کی طاقت سے روشن و منور کریں۔تمام مذاہب کی امتوں کواخوت و محبت کا بھولا سبق یاد کرائیں۔اپنی بھولی بھٹکی زندگی کے اعمال سے توبہ کریں۔ہم سب امتوں نے تو اپنے مقبول و محبوب پیغمبران کی تعلیمات کو،انکے توحید پرستی کے نظریات کو،انکے دستور حیات کو،انکی عمدہ صفات کو،انکے حسن اخلاق کو،انکے عمدہ کردار کو،انکے عفو و در گذر کے اصولوں کو،انکے ایثار
و نثار کے ضابطوں کو،انکے اعتدال و مساوات کو،انکے عدل و انصاف کو،انکے بے ثباتی کے ا سباق کو،انکے خدمت خلق کی عبادات کو،انکے شب بیداری کے طریقہ کار کو،انکے الہامی روحانی ضابطوں کو،انکے امن وآشتی کے کردار کی شمع کو اس جہان رنگ و بو میں روشن و منور کرنا تھا۔ہم نے تو انسانی نسلوں میں خدا و بزرگ و بر تر کی عظمت کو آشنا کروانا تھا۔ہم نے تو پیغمبران کے صحیفوں کی تعلیمات کو عام کرنا تھا۔ہم نے تو اسوہ حسنہ کی خیرات انسانیت میں بانٹنی تھی۔ہم نے تو اس دنیا کو امن کا گہوارا بنانا تھا۔
ٌٌٌَ ۸۔لیکن ہم تمام امتوںنے تو تما م پیغمبران کے نظریات اور سلامتی کی تعلیمات اور انکے مشن کی روح کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ ہم نے تو مذہب کو مسلکوں اور فرقوں کی جنگوں میں مبتلا کر کے،ہم مذہبوں کا قتال کر کے اپنے ہی ممالک کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنا دیا ہے۔بین الاقوامی سطح پر مذاہب پرستوں نے ایک دوسرے مذاہب کے پیرو کاروں میں نفاق اور نفرتوں کی آگ کو سلگا اور جلا رکھا ہے۔ایک دوسرے کے قتال کا گھناؤنا کھیل جاری کر رکھا ہے۔مذاہب پرستوں کا کردار انسانی برادری میں ایک عبرتناک داستاں رقم کر چکا ہے۔اے مذاہب پرست امتوں کے ہدی خوانوں پیغمبران کی بھولی بھٹکی امتوں کو اس سرائے فانی میں راہِ راست کی نشاندہی تو کر تے جاؤ۔ انکو اورانکی خطاؤں کو معافی کے دروازے پر تو لے جاؤ ۔انکو چشمہ رشد و ہدایت کے الہامی اور روحانی تعلیمات اور نظریات کے جام تو پلا دو۔انکا مذہبی تشخص تو انکو واپس دلا دو۔انہوں نے دنیائے عالم کے تما م نظریات کو سلامتی کا مقدس جام پلانا تھا۔یا اللہ !۔معبد،کلیسا اور مسجد میں مذہبی پیشواؤں کے روپ میں شیطانِ رجیم قابض ہو چکا ہے جنہوںنے مذہب کی عمارت کو سیاسی قائدین اور حکمرانوں سے مل کر ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ پیغمبران کی امتوں پر تمام دنیا میں جمہوریت کا مذہب کش نظام ایک دجال کی شکل میں ان پر قابض ہو چکا ہے۔ یا اللہ ان تمام امتوں کو کوئی نجات اور فلاح کا راستہ عطا فرما۔امین۔
۹۔یا اللہ تو ان تمام پیغمبران کے واسطہ اور وسیلہ سے ہمیں معاف فرما۔ہمیں راہ ہدایت کا مسافر بنا۔ہمیں پیغمبران کی صداقتوں کا سفر عطا فرما۔ہمیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے سلامتی کے عمل کو رواں دواں رکھنے کی توفیق عطا فرما۔تمام امتوں کو اخوت و محبت سے مل بیٹھنے کی طاقت اور انسانیت کی خدمت کرنے اور تما م پیغمبران کے مشن کی تکمیل کرنے کا فریضہ نبھانے کی ہمت عطا فرما۔ یا اللہ تو ان الفاظ میں چھپے ہوئے درد و اذیت کی فریاد کو سن لے۔ یا اللہ تیرا بندہ تیرے پیغمبران کی امتوں اور پوری انسانیت اور ہر قسم کی مخلوق کی فلاح کیلئے تیرے حضور اپنا روح و قلب اورتن و من جھکائے کھڑا ہے۔ تو اسکی فریاد کو سن لے۔تیرے پاس تو لا محدود توفیقیں ہیں۔ تو اپنی مخلوق پر رحم فرما۔ تو آسانیاں اور سہولتیں عطا فرما۔ تو ان تمام امتوں کو مل بیٹھنے کی صلاحیت عطا فرما۔ یا اللہ تو ہمارے دلوں میں نفرت اور نفاق کی آگ کو بجھا۔ یا اللہ ہمیں نیکی کا شعور عطا فرما۔یا اللہ ہمارے نفرتوں اور نفاق کے زخموں کو شفا کی مرہم عطا فرما۔یا اللہ تمام امتیں اپنے اپنے پیغمبران کی تعلیمات اور سلامتی کے پیغام کو انسانی نسلوں تک پہنچانے کی مقروض ہیں۔یا اللہ ان سب کو یہ قرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ ہماری اس بھول کو معاف فرما۔ یا اللہ تو ان الفاظ کو قبولیت کا شرف عطا فرما۔ امین