To Download or Open PDF Click the link Below

 

  دین محمدیﷺ،جمہوریت اور بادشاہت کا مختصرجائزہ اورتجزیہ
عنایت اللہ
۱۔ تمام صاحب کتاب پیغمبران اورانکی امتیںاپنے پیغمبران پر نازل ہونے والی روحانی ،الہامی کتابوں سے استفادہ کرتی رہیں۔ انکے بتائے ہوئے ضابطہ حیات اور طرز حیات اور انکے نظریات اور انکی تعلیمات کے مطابق زندگی گذارتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس جہان رنگ و بو کا نظام ہستی چلانے کیلئے اس دنیا میں بھیجا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سلسلہ ء پیغمبراں بنی نوع انسان کو رشد و ہدایت اور فلاح کا راستہ بتانے کیلئے جاری رکھا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد مصطفےٰﷺ تک یہ سلسلہ انبیا جاری رہا۔ ان تمام پیغمبران میں سے حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور شریف،موسیٰ علیہ السلام پرتوریت شریف،حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل شریف اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر قران شریف جیسی طیب اور مقدس کتابیں نازل فرمائیں۔
۲۔ اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں کے ذریعہ بنی نوع انسان اور مخلوق خدا کی زندگی کے ہر شعبہ حیات کو سنوارنے کیلئے رہبری اور رہنمائی فرمائی۔انسانی زندگی اس حسین و جمیل کائنات میں نشو و نما پاتی رہی اور ہر شعبہ حیات میں ارتقا کی منازل طے کرتی رہی۔حق و باطل ہمسفری کے سفر پر رواں دواں رہے۔ جیسے جیسے معاشرہ گمراہی کے ارتقا ئی عمل سے گذرتا رہا ۔اسی طرح وقت کی ضرورت کے مطابق پیغمبران کو اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کی رہنمائی کیلئے بھیجتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چو بیس ہزار پیغمبران کو اس دنیا میں بنی نوع انسان کو خیر،فلاح ،نیکی اور صداقت کا راستہ بتانے کیلئے بھیجے۔
۳۔ انہوں نے بنی نوع انسان کو ازدواجی زندگی کا راستہ بتایا۔ آفرینش نسل کا طریقہ سمجھایا۔ انسانی رشتوں سے متعارف کروایا۔معاشرے کی ترتیب اور ترکیب قائم کی۔ اس طرح انسانی تہذیب کو جلا بخشی۔ توحید کا سبق سکھایا۔اس دنیا کی بے ثباتی کا درس دیا۔حق و باطل،خیر اور شر،نیکی اور بدی کا راستہ دکھایا۔عدل و انصاف کی قندیلیں روشن کیں۔ اخوت و محبت کے چراغ منور کئے۔صبر و تحمل کا سبق پڑھایا۔عفو و در گذر کا سلیقہ سمجھایا۔خوف خدا سے متعارف فرمایا۔ کنبہ خدا یعنی بنی نوع انسان اور تمام مخلوق خدا کی عزت و احترام کا سلیقہ بتایا۔ اعتدال و مساوات کا فکر عطا کیا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفےٰﷺ تک یہ سلسلہ پیغمبراں جاری رہا۔اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاتم النبین بنا کر اس دنیا میں بھیجا اور قرآن پاک کو انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے آخری کتاب کی شکل میں نازل فرمایا۔
۴۔ قرآن پاک ایک ایسی مقدس کتاب ہے ۔جس نے انسانی زندگی کیلئے ایک ایسا مقدس دستور ، ایک مکمل ضابطہ حیات ،ایک جامع طرز حیات،ایک لا جواب سنہری منشور اور ایک اعلیٰ نصاب حیات عطا کیا ہے۔جو بنی نوع انسان کی ازل سے لیکر ابد تک رہبری اور رہنمائی فرماتا ہے۔ اس دارالفناہ کا کوئی دانشور،کوئی اہل فکر،کوئی سکالر،کوئی مصلح،کوئی مبلغ انسانیت کی فلاح و بہبود،رشد و ہدایت کے اخلاقیات کاکوئی اصول، نظام حیات کا کوئی طریقہ کار، خیر کی طرز حیات کا کوئی راستہ، انسانی زندگی کا کوئی کلیہ بنی نوع انسان کی خیر سگالی یا فلاح کیلئے پیش کرتا ہے۔تو اسکی تمام خوبیاں ،تمام اوصاف ، تمام خصوصیات اور تمام صداقتیں حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کے عملی درس کی کرنیں ہی ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس جہان فانی میں تمام پیغمبران کے بعد آپ ﷺ کی ہستی کو تمام جہانوں کیلئے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا۔آپ ﷺنے اپنی امت کو تمام اہل کتاب پیغمبران اور انکے الہامی صحیفوں پر ایمان لانے کو دین محمدی ﷺ کی بنیاد بنایا ۔ اس وقت تک کوئی امتی دائرہ اسلا م میں داخل ہی نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان پیغمبران پر ایمان نہ لائے۔ اور ہر روز ان پر اور انکی آل پر نماز جیسی عظیم پنج گانہ عبادت میں ابراہیم علیہ السلام اور انکی آل پر درود سلام نہ بھیجے۔ یہ عمل امت محمدیﷺ کے فرزندان کے نظریات کا حصہ اور انکے ایمان اور عبادت کی روح اور جان ہے۔
۵۔اللہ تعالیٰ نے اس خوبصورت اور دلکش جہان رنگ و بو،اس حسین و جمیل کائنات کو سنوارنے اور حسین سے حسین تر بنانے کیلئے انسان جیسی شاہکار تخلیق کو پیدا فرمایا، اسکو اس دار الفناہ کی عقدہ کشائی فرمائی۔ تمام پیغمبران نے حسن عمل،حسن کردار، حسن اخلاق ،حسن صفات اور حسن صداقت پر مشتمل ضابطہ حیات کی روشنی اس دنیا میں پھیلائی اور انسانیت کوراہِ ہدایت بخشی ۔ ان صفات کی قندیلیں روشن کیں۔ان صفات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔آپ ﷺ کی زندگی شمع رشد و ہدایت بن کر اس کائنات میں ابھری اور جہالت کی تاریکیوں کو ختم کر دیا۔آپ ﷺ صرف بنی نوع انسان کیلئے ہی اس کائنات میں رحمت بنا کر نہیںبھیجے بلکہ آپ ﷺ توتمام جہانوں کیلئے رحمت اللعا لمین بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ آپﷺ پر قرآن پاک جیسی مقدس کتاب نازل ہوئی۔ جو پوری انسانیت کی وراثت اور ملکیت ہے۔ جو بنی نوع انسان کی ازل سے لیکر ابد تک رہنمائی فرماتی ہے۔ اس سے تمام ا فراد، تمام اقوام، تمام نسلیں اور پوری مخلوق خدا استفادہ کر سکتی ہے۔
۶۔انسان کومذہب، انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی کے ضابطوں کا علم عطا کرتا چلا آرہا ہے۔ ازدواجی زندگی اور خاندان کی بنیاد کے اصولوں سے آشنائی کرواتا ہے ۔ انسانی حقوق وضع کرتا اور انکے تحفظ کا راستہ بتاتاہے۔خیر و شر،نیکی ، بدی کی تمیز سکھاتا ہے۔ اخوت و محبت،عدل و انصاف،خدمت و ادب،اعتدال و مساوات اور فلاح و بہبود کے راستوں سے آگاہی بخشتا ہے ۔ اس طرح جو تہذیب، جو معاشرہ ،جو تمدن پیغمبران کی تعلیمات اور انکے نظریات کی روشنی میں تیار ہوتاہے۔وہ معاشرہ امن کا مسکن اورایک لا جواب مہذب معاشرہ کہلاتاہے۔انسانی معاشرہ ارتقا کے عمل سے گذرتا رہا۔خیر اور شر کا سفر بھی جاری رہا ۔ جب بھی معاشرہ کی تشکیل اور ارتقائی عمل پیغمبران کی تعلیمات اور نظریات کے خلاف شر کے ہاتھوں میں چلا جاتا رہا۔ تو اصلاح معاشرہ اور گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کیلئے اللہ تعالیٰ یکے بعد دیگرے پیغمبران کو انسانی فلاح کے لئے بھیجتے رہے۔آخر میں چار پیغمبر ایسے تشریف لائے جن پر اللہ تعالیٰ نے الہامی صحیفے نازل فرمائے۔ حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور شریف،حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت شریف ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل شریف اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر قرآن شریف جیسے الہامی اور روحانی صحیفے نازل فرمائے۔ جہاں انسانی معاشرہ ارتقا کے عمل سے گذرتا رہا۔وقت کی ضرورت کے مطابق پیغمبران کی تعلیمات میں بھی اسی طرح ارتقائی عمل جاری ساری رہا۔ حالات و واقعات کے مطابق اللہ تعالیٰ انکو رشد و ہدایت اور فلاح کی تعلیمات عطا کرتے رہے۔تا کہ انسانیت کی رہنمائی کا عمل جاری ساری رہے۔
۷۔ اللہ تعا لیٰ کا کلام پیغمبران کی وساطت سے وحی کے ذریعے انکی امتوں تک پہنچتا رہا۔ تمام پیغمبران اپنی امتوں کو الہامی نظریات اورتعلیمات کے ذریعہ انکی انفرادی زندگی،ازدواجی زندگی ،اجتماعی زندگی،معاشی زندگی، معاشرتی زندگی اور زندگی کے ہر شعبہ کی رہنمائی فرماتے رہے ۔ حقوق و فرائض سے روشناس کرواتے رہے ۔ خدمت خلق کا درس دیتے رہے۔مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کے عمل سے گذارتے رہے۔ اخوت و محبت کا پیغام سناتے رہے۔اعتدال و مساوات کا سبق سکھاتے رہے۔عدل و انصاف کو قائم کرتے رہے ۔ صبر و تحمل کی روشنیاں پھیلاتے رہے۔عفو و در گذر کے چراغ جلاتے رہے۔خیر اور شر کی تمیز بتاتے رہے۔نیکی اور بدی کا راہ دکھاتے رہے۔ امانت و دیانت کا گیان دیتے رہے۔ توحید پرستی کے عمل تک رسائی کرواتے رہے۔ عبادت و ریاضت کی قندیلیں روشن کرتے رہے۔ الہامی اور روحانی دنیا سے متعارف کرواتے رہے۔ اس سرائے فانی کی گرہ کھولتے رہے۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے نظریا ت کی تعلیمات عوام الناس تک پہنچاتے رہے۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو رائج کرنے کے اصول وضوابط بتاتے رہے۔آئین خدا وندی کی اطاعت اور اطباعت کا سبق سکھاتے رہے۔پیغمبر وقت آکر ہر دور میں بنی نوع انسان کی رہنمائی فرماتے رہے۔ مذہبی الہامی،روحانی پاکیزہ اور منزہ ماحول انسانی نسلوں کو مہیا کرتے رہے۔مذہبی نظریات اور تعلیمات کی روشنی میں معاشرہ کی بنیادیں اسطوار کرتے رہے۔ باطل اور غاصب تہذیب و تمدن کا رخ فلاح کی طرف موڑتے رہے۔آج کا فتنہ اور ٹریجیڈی یہ ہے کہ پیغمبران کی امتوں اور انسانی نسلوں کوجو ضابطہ حیات اور ماحول سرکاری طو ر پر مہیا کیا جارہاہے۔ جن سے انکی کردار سازی کی جا رہی ہے۔ وہ انسانوں کے ہی تیار کردہ مذہب کش جمہوریت کے ضابطہ حیات ،نظریات اور، تعلیمات پر مشتمل ہے۔ جس کی وجہ سے تمام انبیا ء علیہ السلام کی امتیں اور انکی نسلیں مذہب اور جمہوریت کے نظریات اور تعلیمات کے تضاد کی شکار ہو تی چلی جا رہی ہیں۔
۸۔ داؤد علیہ السلام کی امت گمراہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو دنیا میں انسانیت کو انکا بھولا ہوا سبق یاد کروانے کیلئے بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے انکو کلیم اللہ کا خطاب عطا کیا۔ یہ دوسرے صاحب کتاب پیغمبر ہیں۔انہوں نے د نیائے عالم کے ایک بد ترین جابر، ظالم ،غاصب اورانسانی نسل کے معاشی اور معاشتی قاتل فرعون کی حکومت کو ختم کیا۔ عوام الناس نے ایک بد ترین دور سے نجات پائی۔ توریت شریف کی تعلیمات عام ہوئی۔ایک عمدہ اعلیٰ کردار، عظیم اخلاق، بے نظیر صفات اور لا جواب صداقتوں پر مشتمل بہترین یہودی امت تیار ہوئی۔انکی شان و شوکت اور عظمت دیکھ کر فرعونی نسل کے مادہ پرست اور اقتدار پرست ایک منافق کی حثیت میں اس امت میں داخل ہو نا شروع ہوئے ۔ انہوں نے اس ملت کے ملکی وسائل ملکی خزانہ اور ملکی اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے یہودی ملت کے ضابطہ حیات ،نظریات اور تعلیمات کو بدلنا شروع کیا اور بالا خر ان چند معاشی اور معاشرتی دہشت گردوں نے اس ملت کے تشخص کو کچل کر رکھ دیا۔ انکی ملت بھی وقت کے ساتھ ساتھ ان غاصب قائدین کی سرکاری بالادستی کی وجہ سے گمراہ ہوتی گئی۔ جوں جوں موسیٰ علیہ السلام اور انکی مقدس کتاب توریت شریف کے نظریات اور تعلیمات کی برتری معاشرے سے ختم اور ناپید ہو تی گئی۔انکی امت بھی انکی کتابِ ہدایت کی تعلیمات اور انکے بنیادی نظریات سے فارغ ہوتی اور تباہی کے راستہ پر گامزن ہو تی گئی۔ عوام الناس کا معاشی اور معاشرتی قتال شروع ہو گیا۔ نمرودی ،فرعونی قوتیں ابھر آئیں۔ اعتدال و مساوات کا فقدان پیدا ہوتا گیا۔عدل و انصاف کے اصولوں کو کچل دیا گیا۔ یہ امت اخوت و محبت سے محروم ہوتی گئی۔ آج تک اس یہودی نسل کی رہبری اسی فرعونی طبقہ کے منافقوں کے پاس چلی آرہی ہے ۔ جو اس ملت کی تباہی کا باعث اور دنیا کے امن کی بربادی کا موجب بن چکی ہے۔
۹۔ انکے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ پیدا کیا۔ ان کو روح القدس کا خطاب عطا فرمایا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں معجزات کی ہر طرف بارش کر دی۔ عوام الناس انکے گرد جوق در جوق جمع ہوتے گئے۔ان پر اللہ تعالیٰ نے انجیل مقدس جیسا الہامی صحیفہ نازل فرمایا۔جس سے انسانی زندگی میں ایک عظیم انقلاب بیدار اور رونما ہوا۔انکی امت نے انکی تعلیمات سے پوری افادیت حاصل کی۔ انسانیت کی خدمت کے حروف کا تقدس قائم کیا۔جب تک انکی امت انکی تعلیمات کی پیروی کرتی رہی اور انکے نظریات کے تقدس کو قائم رکھا۔تو اس وقت تک انکی امت میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔اس امت کی تعداد لاکھوں، کروڑوں اور اربوں تک پہنچتی چلی گئی۔
۱۰۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی امت سے انکے نظریات، انکی تعلیمات اور انکے کردار کو نمرودی اور فرعونی ایجنٹوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر نگلنا شروع کر دیا ۔ جمہوریت کا طرز حکومت عیسیٰ علیہ السلام کی امت پر نافذ کیا۔ اقتدار کی طاقت سے انکی امت کو جمہوریت کے قائدین نے ڈبوچ لیا۔ ان پر حکومتی بالا دستی قائم کر لی۔ عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب کی تعلیمات اور اسکے نظریات کی جگہ جمہوریت کے مذہب کے دانشوروں اور سکالروں کے نظریات پر مشتمل خود ساختہ تعلیمی نصاب کو مرتب کیا۔اسکو اپنے اپنے ممالک میں رائج کیا۔ انکے تعلیمی نصاب کی تعلیم و تربیت کو ملکی سطح پر تمام تعلیمی اداروں میں جاری کر د یا۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام کی ملت سے انکے مذہبی الہامی نظریات،انکی مذہبی روحانی تعلیمات،انکے حسن عمل، حسن اخلاق، انکے حسن کردار کے تشخص اور انکی تمام مذہبی حسن صفات کو چھین لیا گیا۔ اس طرح آج تک انکی امت پر نمرود اور فرعون کے نظریات اور انکی تعلیمات کی سرکاری بالا دستی انکے ایجنٹ قائم کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ عظیم امت اور اسکے عظیم فرزندان جو عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور تعلیمات کی روشن قندیلیں بن کر ابھرتی تھیں۔ادب انسانیت اور خدمت خلق کے عمل میں گم ہو کر عبادت اور روحانیت کی خوشبو بن کر اس گلستان فانی کو معطر کرتی اور دلوں کو راحت اور سکون کی دولت سے مسحور کرتی تھیں ۔ان باطل قوتوں کے ایجنٹوںنے انکو سرکاری سطح پر معطل اور منسوخ کر دیا۔ وہ عظیم امت اور اسکے وہ عظیم روحانی سپوت ان مذہبی اور جمہوری نظریات اور تعلیمات کے تضاد کا شکار ہو تے گئے ۔ جمہوریت اور اسکے دانشوروں نے اس ملت کو مذہبی نظریات اور تعلیمات کی افادیت سے محروم کر دیا ۔اس عظیم امت کے فرزندان مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے۔وہ دلوں پر حکومت کرنے کا عمل بھول گئے۔وہ مذہبی تہذیب اس جہان فانی میں دم توڑتی چلی گئی۔ بنی نوع انسان ظلمت کے سمندر میں گم ہوتے چلے گئے۔انسانیت باطل اور غاصب نظریات کا شکار ہو تی چلی گئی۔ قتل و غارت کا عمل پھیلتا گیا۔ اعتدال و مساوات کی اقدار مفلوج ہوتی چلی گئیں۔ عدل و انصاف کی عظیم صفات کو ختم کر دیا گیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب کی روشن قندیلیں بجھتی چلی گئیں۔عیسائیت سے روحانیت،رہبانیت اور فقر کی دولت چھین کر مادہ پرستی کے گمراہی کے سمندر میں دھکیل دیا گیا۔ وہ معصوم امت مادیت اور اقتدار کے حصول میں گم ہوتی گئی۔وہ دلوں کو تسخیر کرنے والی امت جسموں کو مسخر کرنے لگ پڑی۔انسانیت کی محافظ ملت انسانیت کی بد ترین قاتل کا رول ادا کرنے لگ پڑی ۔ جو آج تک انسانیت کی تباہی کا باعث بنی کھڑی ہے۔انسانی نسل کے رہبر اسکے رہزن بن کر ابھرے۔تما م امت جمہوریت کی چتا کی ایندھن بن کر رہ گئی۔یاا للہ اس امت کو سیاسی دانشوروں کی جمہوریت اور عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور تعلیمات کے تضاد سے آگاہی بخش۔یا اللہ اس امت کو جمہوریت کے عذاب سے نجات عطا فرما۔ انکو عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور
تعلیمات کا فیض جاری فرما۔امین
۱۱۔ وقت کی ضرورت کے مطابق ،اسوقت اس کائنات کے باطل اور غاصب نمرود اور فرعون کے نظریات کے ایجنٹوں کو کلمہ حق پڑھانے اور انکے نظام کو غسل دینے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے بنیادی نظریات اور تعلیمات کو بحال کرنے کیلئے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے۔ان پر قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کا نزول ہوا۔بنی نوع انسان کوخیر و فلاح اور نیکی و بہبودکی منزل سے آشنائی کروائی ۔ انسانیت کو ایک مکمل ضابطہ حیات عطا کیا۔جس کے قوانین،جسکے اصول،جسکے ضوابط انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرتے چلے جا رہے ہیں ۔
۱۲۔ دین محمدی ﷺ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کیلئے مجلس شوریٰ کے نظام کو متعارف کروایا ہے۔ اور اس نظام اور سسٹم کورائج کرنے کا طریقہ اور سلیقہ بھی عطا کیا ہے۔
نمبر۱۔شورائی نظام میں مجلس شوریٰ کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنا اور اسے تسلیم
کرنا ہوتا ہے۔
نمبر۲۔ شورائی نظام کی روشنی میںکوئی شخص چناؤ یا الیکشن کیلئے اپنا نام پیش نہیں کر
سکتا۔ عوام نے از خود ہی کسی انسان کی دینی اور دنیاوی اہلیت کو دیکھ اور پرکھ کر
اسے یہ طیب فریضہ کی ادائیگی کیلئے چننا ہوتا ہے۔
نمبر۳۔شورائی نظام کو قائم کرنے کیلئے جن خوبیوں،جن خصوصیات اور جن عوامل کو
مد نظر رکھ کر چناؤ کیا جاتا ہے۔کہ وہ شخص دین کا عارف ہواورنیک سیرت ہو۔اسکی زندگی دین کے قریب تر ہو۔امین اور دیانتدار ہو۔اخوت و محبت کا پیکر ہو۔ادب و خدمت کے جذبوں سے سرشار ہو۔اعتدال و مساوات کا مربی ہو۔ سادہ ا ورشریف ہو اور عدل و انصاف جیسی خوبیوں سے مالا مال ہو۔ اہل بصیرت اور امورسلطنت کے امور کوچلانے کے علم کا آشنا ہو۔معاملہ فہمی اور انتظامی امور کو نبھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ وہ شخص حضور نبی کریمﷺ کی قریب ترین عملی زندگی کا وارث ہو۔ امور سلطنت چلانے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کیلئے ایسے اشخاص کو اپنے اپنے حلقہ سے ڈھونڈ نکالنا اور انکو تلاش کر لینا اور انکا انتخاب کرنا ملت کے ہر فرد کا فرض ہوتا ہے۔ جو ان اہلیت کے وارث ہوں۔ اس طرح شورائی اسمبلی کے ارکان کا انتخاب دین کی روشنی میں ایسے اشخاص کو جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے قابل سمجھے جاتے ہیں ۔ان صاحب بصیرت افراد کو منتخب کر لیا جاتا ہے۔ جواموز سلطنت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے عارف ہوتے ہیں۔ پھر یہ ارکان شورائی اسمبلی ،اپنا امیر المومنین اسی طریقہ کار کی روشنی کے مطابق چن لیتے ہیں۔اسکے بعد یہ دین محمدی ﷺکے اصول و ضوابط اور ضابطہ حیات کو رائج کرتے ہیں۔وہ قرآن و سنت کی خود بھی پیروی کرتے ہیں اور مخلوق خدا کو بھی اسکا پابند بناتے ہیں۔ یہ ملی خزانہ کے امین ہوتے ہیں۔ وہ اما نت و دیانت کے عرفان سے آشنا ہوتے ہیں۔ انکی زندگی کی ضروریات مختصر اور ان کے اخراجات ایک عام شہری یا فرد سے بھی کم ہوتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نظام ،فرمان اور احکام کے سامنے سر نگوں ہوتے ہیں۔ وہ ملت کے افراد کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ کہ انہوں نے اپنا کرتا ایک چادر سے کیسے بنا لیا۔انکو پوری وضاحت کرنی پڑی کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے اسکی
چادر حاصل کرکے یہ کرتا تیار کروایا ہے۔ وہ انسانی حقوق کا ہی نہیں بلکہ اگر انکی ذمہ داری میں دی ہوئی سلطنت میں کوئی کتا بھی
بھوکا مر جائے۔ تو وہ اسکے بھی جواب دہ ہوتے ہیں۔ ان کا حسن خلق،حسن کردار ،
حسن عمل اور اعلیٰ صفات دین کی روشنیوں کے نور کی قندیلیں ہوتی ہیں جو دنیا میں
بسنے والے انسانوں کی توجو کا مرکز بن جاتی ہیں۔ انکے دلوں کو منور کرتی ہیں اور بنی
نوع انسان کو اپنی طرف راغب اورکھینچتی ہیں۔انکی ان دلکش صفات پر مشتمل اعلیٰ
ارفعٰ صداقتیں دین کو پھیلاتی ہیں۔ ۴۔ مجلس شوریٰ اور امیرالمومنین دین کے دستور کے نظریات،دین کا ضابطہ حیات ، دین کا طرز حیات،دین کا اخلاق،دین کا حسن کردار،دین کا حسن عمل، دین کی اعلیٰ صفات کی تعلیمات کا نوری علم ملت کے فرزندان کو تعلیمی اداروں کے ذریعہ مہیا کرتے ہیں۔
۱۔ان کو دین کی سوجھ بوجھ سے مالا مال کرتے ہیں۔
۲۔غور فکر کی دنیا سے آشنا کرتے ہیں۔ ۳۔ملی کردار کودین کے سانچے میں ڈھالتے ہیں۔۴۔مذہب کی یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے ۔کہ وہ انسانیت کو پہلے ایک پاکیزہ اور منزہ
ماحول فراہم کرتا ہے۔۵۔معاشرے کو شرافت اور صداقت کے چراغوںسے روشن کرتا ہے۔۶۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کے خصائل اور فضائل سمجھاتا ہے۔
۷۔ملت کا کردار اور ملت کا تشخص دین کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ ۸۔ظلمات کے گھپ اندھیروں کو ختم کرتا ہے۔۔خیر اور نیکی کی شمع روشن کرتا ہے۔گناہ ،ثواب اور آخرت کی دنیا سے آ گاہی بخشتا ہے۔ ۹۔خوف خدا کو دلو ں پر نافذ کرتا ہے۔ خلوت اور جلوت کے اندھیروں کو دور کرتا ہے۔ دنیا ان فطرتی صداقتوں سے امن کا گہوارا بن جاتی ہے اور اسکے بسنے والے سکون وراحت کی آغوش میں پرورش پاتے رہتے ہیں ۔۱۰۔اگر کوئی فرد یا شخص اس مصفا اور منزہ ماحول یا معاشرے میںدین کی کسی حدود کو
توڑتاہے تو تب اسکو دین کے ضابطہ حیا ت کی مقرر کی ہوئی سزا کو بروئے کار لا کر
اس گناہ کی کونپل کو کاٹ دیا جاتا ہے ۔معاشرہ غیر شرعی ہو تو شریعت کی سزائیں کیسے دیجاسکتی ہیں۔
۱۱۔ معاشرے میں عدل و انصا ف کے ترازو کو قائم کیا جاتا ہے۔ ۱۲۔اعتدال و مساوات کی تلوار سے معاشی برائیوں کا قلع قمع کردیا جاتا ہے۔۱۳۔اس طرح ملت کے کردار کی اصلاح اور فلاح کی آبیاری کی جاتی ہے۔ ۱۴۔ملک میں مذپبی ضابطہ حیات کو چلانے والے تمام حکومتی معاشی اور معاشرتی اداروں کو مربوط اور منظم کیا جاتا ہے۔۱۵۔ہر قسم کی آلائش سے محفوظ اور اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں نہائیت مثبتطریقہ سے سر انجام دینے کی اہلیت اور فوقیت قائم رکھی جاتی ہے۔
۱۶ ۔فلاحی ریاست کی معاشی حالت کو سنوارنے کیلئے دین کی روشنی میں زکوٰۃ ، عشر اور
خمس کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔
۱۷۔اس طرح جمع کیا ہوا خزانہ یا بیت المال کا استعمال دین کی روشنی میں کیا جاتا ہے
۱۸۔امیر المومنین اور اسکی انتظامیہ کے ارکان کی بودو باش اور ضروریات زندگی مختصر
اور قلیل ترین ایک عام شہری کی طرح ہوتی ہیں۔ اعتدال،مساوات ،انصاف اور
معاشیات کو نگلنے والی نہیں۔
۱۹۔ اس سرائے فانی کے مسافر کو اس کائنات کی عارضی زندگی کی حقیقت سے آشنا کیا
جاتا ہے۔انکو بتایا جاتا ہے کہ مال و دولت والے سخی نہیںہوتے اور سخی جو ہوتے
ہیں وہ مال و دولت نہیں رکھتے۔۲۰۔سادہ ،مختصر اور قلیل ضروریات کی زندگی کا اجتماعی شعوربیدار کیا جاتا ہے۔ ۲۱۔وقت کے حاکموں اور عوام الناس کی معاشی اورمعاشرتی زندگی کا تضاد ختم کر دیا ہے۔ امیرا لمومنین کی وساطت سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم اور رائج کیا جاتاہے ۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہوتی ہے۔نمبر ۵۔ امت محمدی ﷺ کیلئے امیر المومنین کی اطاعت اور فرمانبرداری خدا اور رسول ﷺ کی اطاعت کے مترادف تسلیم کی جاتی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے دستور مقدس،اسکے نظر یا ت ، اسکے دینی ضابطہ اور قوانین کی خود بھی حفاظت کرتا ہے اور امت کے ہر فرد سے بھی کرواتا
ہے ۔دین کی تعلیمات کی روشنی میں تعلیمی نصاب کا تعین کرتا ہے۔صداقت اور شرافت کا سبق یاد کرواتا ہے۔حسن اخلاق اور حسن کردار کی تکمیل کرواتا ہے۔تما م دینی صفات کو بروئے کار لاتا ہے، جس سے اسلامی معاشرہ پنپتا اور نشو نما پاتا ہے۔اس طرح انسانی نسل کی تشکیل و تکمیل کا ارتقائی عمل دنیا میں جاری رہتا ہے۔یا اللہ ہمیںانبیا ء علیہ السلام،انکے نظریات، تعلیمات اور کردار کو سمجھنے اور اسکی افادیت سے آگاہی بخش اور ان پر چلنے کی توفیق بھی عطا فرما ۔آمین