To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جمہوریت کی طرز حکومت کا مختصر جائزہ
عنایت اللہ
نمبر۱۔مذہب کے نظریات ، مذہبی تعلیمات، ضابطہ حیات اور دستور حیات کا نصاب پیغمبران کو الہام یا وحی کے ذریعہ انسانیت کی فلاح اور رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ ودیعت کرتارہا ہے۔جسکی بنیاد حسن اخلاق،حسن کردار،حسن عمل،حسن صفات اور فطرت کی حسین اور روح پرور صداقتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔وہ نظام حیات نوع انسانی کو انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی تک کے لئے ایسے ضوابط اور اصول اور طریقہ کار سے آگاہی بخشتا ہے۔جو انسانیت کیلئے فلاح اور بہبود کے ضامن ہوتے ہیں۔ جس سے اخوت و محبت کی خوشبو اورا دب و احترام کی مہک سے انسانی فضا معطر ہوتی ہے۔ پیغمبر کے اخلاق،پیغمبر کے اعمال ، پیغمبر کی صفات ، پیغمبر کی صداقتیں اور پیغمبر کے اوصاف اور پیغمبر کے علوم اس کائنات کے تمام اوصاف و علوم کے پیغمبر ہوتے ہیں۔پیغمبر اور سکالر،عارف اور جاہل،نور اور ظلمات، نمرود اور ابراہیم ،موسیٰ اور فرعون،حضرت حسینؓ اور یزید کے ووٹ کا وزن کیسے برابر ہو سکتا ہے۔وہ تو ایک دوسرے کی ضدیں ہیں۔ حق اور باطل کو ایک ترازو میں تول ڈالنا جمہوریت کا خاصا ہے۔ پیغمبران کی امتوں پر جمہوریت کے سیاستدانوں[L:7][L:237]حکمرانوںکے تیار کردہ ضابطہ حیات کو،انکے نظریات کو،انکے قوانین و ضوابط کو،انکے تعلیمی نصاب کو، پیغمبران کی امتوں پر سرکاری طور پر نافذالعمل کرنا۔پیغمبران کے نظریات، انکی تعلیمات،انکے حسن عمل،حسن اخلاق،حسن کردار،انکے حسن صفات اور انکی صداقتوں پر مشتمل الہامی تعلیمی نصاب کا قتال ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ زندگی فرعون کی گذاریں اور عاقبت موسیٰ کی ما نگیں ۔ مذہب کی تعلیمات اور عمل سے ملتیں پروان چڑھتی ہیں۔علم اور عمل میں فرق ہو تو مذاہب اور امتوںکی بقا ممکن ہی نہیں۔
۲۔اسی طرح جمہوریت کے نظریات،اسکا تعلیمی نصاب اسکا ضابطہ حیات اور اسکے دستور کے اصول و ضوابط جمہوریت کے دانشور،سکالر اور سیاسی مفکرین وقت[L:7] کی ضرورت کے مطابق تیار کرتے اور نافذ کرتے رہتے ہیں۔جمہوریت اقلیت اور اکثریت کے ترازوسے پروان چڑھتی ہے۔یاد رکھو جہاں اکثریت کاذب اور جاہل ہو، جہاں اکثریت پر مشتمل حکومت قا ئم ہو۔جس حکو مت کو اکثریت چلاتی ہو، وہاں صداقتوں کا سفر کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اور کیسے طے کیا جا سکتا ہے۔جب باطن مذہب کی صداقتوں کی عبادت کا پجاری ہو اور ظاہرجمہوریت کے بے دین سیاستدانوں کے نظام ،احکام اور قوانین و ضوابط کے روح سوز عمل سے دو چار ہو۔تو ضمیر کے چہرے پر نفرت کا اظہار کیسے روکا جا سکتا ہے۔انبیا کی امتوں کے ساتھ صدیوں سے کتنا بڑا مذہبی دھوکہ اور کتنی بڑی نظریاتی ڈاکہ زنی جاری ساری ہے۔کہ انکی امتوں کے فرزندان کو انکے نظریات،انکے دستور حیات سے حکومتی بالا دستی کی طاقت سے الگ کیا جا رہا ہے۔اور انکو اقتدار کی نوک پر باطل ،غاصب جمہوریت[L:7] کے مذہب کے نظریات اور اسکے دستور حیات اور اسکی تعلیم و تربیت کو سرکاری سطح پر کار بند بنا یا جا رہا ہے۔ انبیا علیہ السلام کا الہامی،روحانی، اخلاقی اور دینی حسن چھپتا جا رہا ہے اور انکی امتوں کی نظریں اس فطرتی حسن کو دیکھنے کیلئے مشتاق اور منتظر کھڑی ہیں۔ یا اللہ اس سورج کو طلوع فرما جو جمہوریت کے ظلمات کو ختم کر دے۔امین جمہوریت ایک ایسا سیاسی نظام حکومت ہے۔جسکی تعریف اسکے سیاسی دانشور اور مفکر اس طرح کرتے ہیں۔

 نمبر۱۔ عوام کی رائے اور الیکشن کے ذریعے لائی ہوئی حکومت، عوام کی حکومت اور عوام   کی خاطر۔
 نمبر۲۔ دینی حکومت اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہے،اللہ کے بندوں پر ،اللہ تعالیٰ کی خاطر
 نمبر۳۔ جمہوریت اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں، تمام فوائد اور نقصانات کے با وجود کبھی
 دینی حکومت نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ اور انبیا کا مرتبہ کسی کے وو ٹ کا محتاج نہیں۔
نمبر۴۔عوام سے پہلے بھی تمام ادیان کو جمہوری رائے عامہ کے حوالے کر کے
ختم کیا جاتا رہا۔دین محمدیﷺ کی رائے یا کثرت رائے یا کسی سیاستدان یا ا سمبلی یاکسی حکمران یا کسی بادشاہ یا کسی قائد کی مرضی یا فیصلے سے بدلا نہیں جا سکتا۔ اس دین میں نہ ترمیم ہو سکتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کمی بیشی ممکن ہے۔کثرت رائے کو دین کے تابع رہنا پڑے گا۔ورنہ دین انکے تابع ہو جائیگا۔
نمبر۵۔جمہوریت اور ادیان عالم نہ ہم مرتبہ ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ہمسفر ہوسکتے ہیں ۔ انکی منازل مختلف اور متضاد ہیں۔جمہوریت کے ذریعہ دینی انقلاب یا دینی معاشرہ قائم کرنا ممکن ہی نہیں اسلام کے نام پر جو سیاسی جماعتیں جمہوریت کے دین کش نظام حکومت میں شامل ہو کر حکومتیں بناتی،چلاتی اور اسکے نظام کی اطاعت کرتی اور اسکی افادیت سے برابر استفادہ کرتی ہوں ۔ اور وہ دین کے ضابطہ حیات کے خلاف قانون سازی کے جرم کی مرتکب بھی ہوتی آرہی ہوں وہ کیسے اسلامی انقلاب کی داعی بن سکتی ہیں۔ وہ خود بھی دھوکے میں ہیں ۔انکے پیروکار بھی بد نصیبی کے عمل سے دوچار ہیں۔ کثرت رائے یزید کے پاس ہو تو بھی صداقت اور شہاد ت حضرت امام حسینؓ اور انکے قافلے کے عمل میں مضمر ہوتی ہے۔
نمبر۶۔ انبیاء علیہ السلام کے ادیان کو چھوڑکر سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ باطل ، غاصب نظام کو سرکاری بالا دستی دے کر جمہوریت کے نظام حکومت کو قائم کرنے اور چلانے والے قائدین اپنے اپنے پیغمبران کے نظریات،انکی تعلیمات اور انکے حسن کردار ،انکے حسن اخلاق ، انکی اعلیٰ صفات اور تمام الہامی صداقتوں کے منکر،باغی،منافق ، غدار اور قاتل ہیں۔ انکی زندگی بنی نوع انسان کے ساتھ جبر ، ظلم ، انسانی قتال اور مذہب کشی کی داستاں رقم کےئے جا رہی ہے۔جمہوریت سے منسلک سیاسی دانشور اور مذہبی رہنما پیغمبران اور انکی امتوں کے نظریات کے قاتل اور مجرم بن چکے ہیں۔وہ خود بھی گمراہ ہو چکے ہیں اور پیغمبران کی امتوں کو بھی گمراہی کے دوزخ میں دھکیلتے جا رہے ہیں۔یا اللہ یہ بھی تیری ہی مخلوق ہے۔انکو را ہ ہدایت کا مسافر بنا۔ان سے پیغمبران کے ادیان اور ان کی امتوں اور ان امتوں کی آنیوالی نسلوں کو جمہوریت کے باطل،غاصب مذہب کش قائدین اور ضابطہ حیات کے عذاب سے رہائی اور نجات عطا فرما۔امین