To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جمہوریت سے وابسطہ عالم دین،مشائخ کرام او ر مذہبی پیشوا ؤں کا دین کش کرداراور جمہوریت کے نظریات کی پیروی۔
عنایت اللہ
جمہوریت سے منسلک عالم دین،مشائخ کرام اورگدی نشین مل کر دین محمدی ﷺاور امت محمدیﷺ کے ساتھ ایک بد ترین منافقت کا رول ادا کر تے چلے آ رہے ہیں ۔دین کی تبلیغ بھی کرتے ہیں ۔دین کے نام پر اسلامی سیاسی جماعتیں بھی بناتے ہیں۔ جمہوریت کے دین کش نظریات پر مشتمل ضابطہ حیات میں شمولیت بھی کر تے ہیں ۔ جمہوریت کے نظام نوکے مذہب کی سیاستوں،وزارتوں، مشاورتوں میں اعلیٰ مقام بھی حاصل کرتے ہیں۔ جمہوریت کے باطل نظریات اور غاصب نظام حیات کی نشوو نما بھی کرتے ہیں ۔ اسمبلیوں کے ذریعہ دین کے نظریات کے خلاف قانون سازی میں شمولیت بھی کرتے ہیں۔ جمہوریت کے حکمرانوں سے مل کر مادہ پرستی ، اقتدار پرستی کے بتوں کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ حکومتوں سے ہر قسم کا تعاون اور سودا بازی بھی کرتے ہیں۔اور اسکے عوض مادیت اور اقتدار میں پورا پورا حصہ بھی لیتے ہیں۔دینی مدرسے بھی قائم کرتے ہیں۔کبھی ا ن طالبعلموں کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کر کے مجاہدین بنا کر روس کے خلا ف جنگ کا ایندھن بنا دیتے ہیں۔کبھی ان کو امریکہ سے ہی دہشت گرد قرار دلوا کر انکا قتل عام بھی جاری کروا دیتے ہیں۔ خود جمہوریت کی سیاست کی وزارت،مشاورت اور حکومت جیسی نمرودی،فرعونی اور یزیدی طرز حیات سے لطف اند وز ہوتے رہتے ہیں۔اپنی بہو بیٹیو ں کو انگلی لگا کر دین کے نظام کے خلاف قانون سازی اور بغاوت کر کے دولت اور اقتدار کے بھوکے جمہوریت کی اسمبلیوںمیں بھی پہنچ جاتے ہیں۔
۲۔مغرب کی طرح آزادی ء نسواں اور ترقی کے نام پر مخلوط معاشرہ تیار کرنے، پردہ اور حیا جیسی اسلامی روح کو ختم کر کے ملکی ملی وسائل اور خزانہ کو لوٹنے اور شا ہانہ زندگی گذارنے کے جرائم کے مجرموں کا رول بھی ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔اسکے علاوہ وہ دین کے محافظ اور رہنما بھی ہیں۔ مغرب کی طرح ازدواجی زندگی ختم کرنے، جنسی آزادی اور وکٹورین چائلڈ پیدا کرنے کے عمل کی طرف بتدریج بڑھنے کے طریقہ کار میں پوری طرح شامل ہیں۔ خانگی زندگی کو نیست و نابود کرنے اور مسلم امہ کو حیوانی سطح پر لانے کے مجرم اور
گناہگار بن چکے ہیں۔
۳۔امت محمدیﷺ پر اس بے حیائی پھیلانے کے دور رس نتائج کیا نکلتے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ دین کے پیشوا جمہوریت کے باطل نظام کے پیشوا بن چکے ہیں۔ ان کے کار کنوں اور مسلم امہ کو انکا سختی سے احتساب کرنا ہوگا۔ آج بھی اگر یہ جمہوریت اور اس کی افادیت سے توبہ کرلیں۔اس سے علیحد گی اختیار کرکے جمہوریت کے نظریات کی پیروی کرنا بند کر دیں ۔اپنی غلطی کا اعتراف نبی کریمﷺ اور ان کی امت کے روبرو کر لیں۔ اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریمﷺ اور انکی امت سے اس منافقت کے عمل کی معافی
مانگ لیں۔ توان کو راہ نجات اور راہ راست نصیب ہوگا۔ اسلام کے نفاذ کی جنگ جیتنا مسلم امہ کے نصیب کا حصہ بن کر ابھرے گی۔ اس طرح یہ اسلام کے نفاذ میں رکاوٹ کا کفارہ ادا کر سکیں گے۔دین کے نظریات اور ضابطہ حیات کاعلم اور عمل امت محمدی ﷺ پر بحال ہوگا۔ دین پر جمہوریت کے نظریات اور ضابطہ حیات کے علم اور عمل کی بالا دستی سرکاری اور
غیر سرکاری سطح پر ازخود مسلم امہ پر ختم ہوجائیگی۔دنیا کی کوئی اور طاقت دین کے نفاذ میں رکاوٹ بھی نہ بن سکے گی۔دین کے پیشواؤں کی دین کش غلطیاں امت محمدیﷺ کی پیشوا بن کرملت کی تباہی کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔
۴۔یا اللہ جمہوریت پسند ان جاہل علما اور بے بصیرت مشائخ کرام اور جمہوریت کے سیاست دانوں کے دعا گو پیران طریقت سے مسلم امہ کو انکی رہنمائی سے نجات دلا۔ یا اللہ ملت کو انکے عذاب سے نجات دلا۔ یا اللہ انکو راہ ہد ا یت کا راستہ دکھا۔ آمین۔
۵۔تمام پیغمبران کی امتوں کو انکے مذاہب کے نظریات اور ضابطہ حیات کے علم اور عمل کی طرف مبذول کروانا اور جمہوریت کے نمرودی،فرعونی اور یزیدی نظریات اور ضابطہ حیات،اسکے علم اور عمل کی سرکاری بالا دستی سے نجات دلانااس وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔جمہوریت کے دانشورو بڑی چالبازی اور مہارت سے پیغمبران کی امتوں سے انکے مذاہب کے نظریات،انکے ضابطہ حیات ،انکے علم اور عمل کو سرکاری سطح پر منسوخ،معطل اور بے اثر کر کے ان کو مذاہب کی افادیت سے محروم کئے جا رہے ہیں ۔ پیغمبران کے حسن عمل، حسن کردار، حسن اخلاق،حسن صفات اور انکی الہامی ، روحانی صداقتوں کے تہذیبی ورثے کے انمول اثاثہ کو ختم کئے بیٹھے ہیں۔
نمبر۱۔ جمہوریت کی حاکمیت کی وجہ سے پیغمبران کی امتیں انکا بنیادی سبق کہ ساری خدائی
کنبہ خدا ہے کو بھول چکی ہیں ۔اولاد کو ماں کی نگاہ اور مخلوق کو، خالق کی نگاہ سے دیکھنے کی
تعلیمات دم توڑتی جا رہی ہیں۔
نمبر۲۔ جمہوریت کے نظریات اور قانون سازی کی روشنی میںجنسی آزادی نے انسانوں کی ازدواجی زندگی کے ضابطہ حیات کو پاش پاش کر کے انسان کو حیوان بناکر رکھ دیا ہے۔ماں کی محبت اور باپ کی شفقتوں کے فطرتی جذبے نایاب ہوتے جا رہے ہیں ۔ انسانی نسلیں شفقت و محبت کے فطرتی جذبوں کے ازلی رشتوں سے محروم ہوتی جا رہی ہیں۔
نمبر۳۔ جمہوریت نے مخلوق خدا سے دنیا کی بے ثباتی کے مذہبی علم اور عمل کو چھین لیا
ہے۔اس جہان فانی میں انسان سکڑنے کی بجائے پھیلنے میں مصروف اور گم ہو چکا ہے۔
فناہ کے دیس کی اصل حقیقت کو وہ بھول چکا ہے۔ مادہ پرستی کی حسین کشش ،انسان کو کشمکش حیات کی دلدل میں پھنساتی جارہی ہے۔مذہبی الہامی علم اورعمل ہی انسان کواس عبرتناک دلدل سے نکالنے کاایک واحد ذریعہ ہے۔
نمبر۴۔ جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کی تلوار سے مذاہب کے اخوت و محبت ، ادب و خدمت اور حقوق انسانی کو احسن طریقہ سے نبھانے کی بجائے ان اصولوں کو بری طرح کچلا جا رہا ہے۔ جسکی وجہ سے مذاہب کی آفاقی صفات کی روشنیاں ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ دنیا میں نفرت اور نفاق کی آگ سلگتی اور جنگوں کی صورت میں شعلوںمیں بھڑکتی جا رہی ہے۔
نمبر ۵۔ جمہوریت نے مذاہب کے اعتدال و مساوات کے علم اوراسکے عمل کے
اصولوں کو مسخ کر کے پوری انسانیت کو اسکی افادیت سے محروم کر دیا ہے۔انکے متضاد ، عدم اعتدال اور مساوات کے اصولوں کا راج قائم کر کے مخلوق خدا کونا گہانی آفات میں مبتلا کر دیا ہے۔
نمبر۶۔ جمہوریت نے مذاہب کے عدل و انصاف کے ضابطوں پر جمہوریت کے
سیاستدانوں کے تیار کردہ غاصب ضابطے سرکاری طور پر مسلط کر کے ان مذہبی ضابطوں کی صداقتوں کی افادیت سے انسانیت کو محروم کئے جا رہے ہیں۔جسکی وجہ سے مخلوق خدا عدم استحکام اور عدم تحفظ کی اذیتوں اور مصائب سے دو چار ہوتی چلی جارہی ہے۔
نمبر۷۔ پیغمبران پر اللہ تعالیٰ نے چار کتابیں نازل فرمائیں۔داؤد علیہ السلام پر ز بور شریف،موسیٰ کلیم اللہ پر توریت شریف،عیسیٰ روح اللہ پرانجیل شریف اور حضرت محمد الرسول اللہ رحمت اللعالمین پر قرآن شریف۔ تمام صاحب کتاب پیغمبران یکے بعد دیگرے اس جہان رنگ و بو کو سنوارنے کیلئے تشریف لاتے رہے۔حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے ان تمام پیغمبران کی اور ان پر نازل ہونے والے صحیفوں کی شان عظمت کو اور ان طےئب ہستیوں کے تقدس کی اہمیت کوآنیوالی انسانی نسلوں اور اپنی امت کو پوری وضاحت کے ساتھ آگاہ فر مایا ۔ ان تمام پیغمبران کو تسلیم کرنے، ان پر نازل ہونے والی کتابوںپر ایمان لانے کو دین اسلام کی بنیاد قرار دیا۔ہر نماز اور ہر عبادت میں درود ابراہیمی کو عبادت کا محور بنایا۔مذاہب اور انکے نظریات ،انکی تعلیمات ،انکے ضابطہ حیات کے قوانین و ضوابط اللہ تعالیٰ کے نور کی کڑیاں ہیں۔ان میں ہر دورکے انسانوں کی رہبری اور رہنمائی فرمائی گئی۔خیر اور فلاح کے رشد و ہدایت کے راستے بتائے گئے۔آخری نبی الزماں حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر دین اسلام مکمل فرمایا۔خیر کے تمام سوتے اس کتاب ہدایت میں سے پھوٹتے ہیں۔یہ کتاب تمام بنی نوع انسان کی رہنمائی کیلئے مختص ہے۔یہ کسی ایک فرد یا کسی ایک کنبہ یا کسی ایک گروہ یا کسی ایک ملت کی ملکیت نہیں ہےَ۔یہ ہر فرد،ہر قوم،ہر امت کی ملکیت ہے۔جو بھی اس سے استفادہ اٹھائے اٹھا سکتا ہے۔
۸۔ دنیا اس وقت سمٹ کرایک گھر،ایک بستی ،ایک شہر ایک ملک بن کر رہ چکی
ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو تسخیر کر کے انسانوں کو ،تہذیبوں کو،
نظریات کو،جمہوریت کو،کیمونزم کو،سوشلزم کو، آمریت کو،بادشاہت کو،مذاہب
کو اور دنیائے عالم کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لا کر ایک شہر کے ،
ایک ملک کے وسنیک کی حثیت دے دی ہے۔نئی سے نئی ایجادات معرض وجود میں
آتی جا رہی ہیں ۔ ذرائع مواصلات،ذرائع آمد و رفت،ذرائع ابلاغ نے اپنا اپنا
ایک اہم رول ادا کیا ہے۔یہ تمام ذرائع اور وسائل ایک راڈار کی حثیت اختیار کر
چکے ہیں۔ دنیا کے کسی کونے میں کوئی حادثہ،کوئی واقعہ،کوئی تقریب،کوئی کھیل،کوئی
لڑائی،کوئی جھگڑا ، رونما ہو جائے تو دنیا کے ہر فرد کو بذریعہ ٹیلیفون،ٹی وی، کمپیوٹر اور دوسر ے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ایک ہی وقت میں دنیا کو آگاہی ہو جاتی ہے۔
۹۔ دنیائے عالم میں انسان مختلف ایجادات کی روشنیاں پھیلاتا چلا جا رہا ہے۔کن فیکون کی گونج جاری ساری ہے۔علم و دانش کے جوہر غور و فکر اور ہمت و محنت کے عمل سے عیاں ہوتے جا رہے ہیں۔بجلی ،گیس،ٹیلیفون،ٹی وی،کمپیوٹر اور اس قسم کی بیشمار ایجادات سے ہر خاص و عام اور پوری انسانیت حسب ضرورت ان سے استفادہ کر رہی ہے۔انکے علاوہ ترقی یافتہ ممالک اپنی برتری کو قائم رکھنے کیلئے سامان حرب جیسی مہلک ایجادات تیار کر کے د نیا کے غیر ترقی یافتہ ممالک،ترقی پذیر ممالک کی دولت ،انکے وسائل اور انکی پونجی کو ان ایجادات کی تجارت کے ذریعہ لوٹتے اور چھینتے چلے آرہے ہیں۔وہ سامان حرب اور اسکی ٹیکنالوجی کو فروخت کرکے دنیا میں جنگ و جدل جاری کئے بیٹھے ہے۔ انسانی قتال انکی خوشحالی کا ذریعہ بن چکا ہے۔
۱۰۔ ا ن ترقی یافتہ ممالک نے مخلوق خدا کو ایک کنبہ، ایک خالق کی مخلوق،ایک ماں کی اولاد کی نظر سے کبھی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی کبھی اس بات کو تسلیم کیا ہے۔انسانی وحدت اور انسانی جمیعت کی سوچ کو انہوں نے اپنے قریب آنے ہی نہیں دیا۔انہوں نے بنی نوع انسان کو طبقوں ، قوموں ، نظریوں ، رنگوں ،نسلوں اور ملکوں میں منقسم کرر کھا ہے ۔ مذاہب کو معبد،کلیسا اور مسجد کی حدود و قیود میں پابند کر رکھا ہے۔اسکی بین الاقوامی حثیت کو ختم کر کے اسکی افادیت سے انسانیت کو محروم کر کے اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرر کھی ہے۔ پیغمبران کی امتوں کو انکے نظریات،انکے دستور حیات،انکے طرز حیات،انکے الہامی روحانی فلسفہ ء حیات اور انکی تعلیمات سے عملی طور پر محروم کر کے تما م اہل کتاب پیغمبر ان ، انکے مذاہب اور انکی امتوںکے ساتھ ایک عالمگیر سطح پر ان رہزنوں نے بڑے دھوکہ، فریب اور فراڈ سے انکے نظریات ،انکی تعلیمات اور انکے بے ثباتی کے فلسفہ حیات کی دولت کو لوٹ لیا ہے۔جمہوریت ،بادشاہت،آمریت کے فتنہ نے مذ اہب کی اصل روح کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ مذاہب کی آفاقیت کو کچل اور روند کر رکھ دیا ہے۔ حضرت آدم سے لیکر حضرت محمد مصطفیٰﷺ تک کی مذہبی کڑیوں کو سمجھنے کے رحجان کو ختم کر دیا ہوا ہے۔مذاہب کی خوبیوں کوخامیوں میں بدل کر رکھ دیا ہے۔پوری انسانیت پیغمبران کی تعلیمات اور انکے کردار سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔کنبہ خدا کی وحدت کو ختم کر کے اقوام،ملکوں، نظریات،مذاہب اور فرقوں کی جنگ کا ایندھن بنا کر رکھ دیا ہے۔ کنبہ خدا کا احترام اور اسکا تصور نا پید ہو چکا ہے۔ مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا سبق اور عمل کا دروازہ بند کر دیا ہوا ہے۔
۱۰۔ ترقی یافتہ اقوام عالم اور انکے ممالک کے سیاستدان،حکمران ایک دوسرے پر مادیت اور اقتدار کی برتری کے حصول کی جنگ میں مصروف ہو چکے ہیں ۔ وہ مہلک روائتی ہتھیاروں سے لیکر،تباہ کن میزائیلوں،خاکستر کرنے والے نائٹروجن بموں ، ایٹمی پلا نٹو ں ، ایٹمی آبدوزوں،ایٹم بموں کے ڈھیراپنے اپنے ممالک میں اکٹھے کئے بیٹھے ہیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک کی اسلحہ ساز فیکٹریاں جدید مہلک روائتی ہتھیار تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ ڈیزی کٹر جیسے تباہ کن بم، انسانی بستیوں کو خاکستر کرنے والے نائٹروجن بم، بیماریاں پھیلانے والے جراثیمی بم، تباہ کن جنگی جہاز،تباہ کن مزا ئیلو ں جیسے روائتی ہتھیاروں کو تیار کرتے چلے آرہے ہیں۔ان ہتھیاروں کی خرید و فروخت انکی آمدن ،انکی خوشحالی اور انکی ترقی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ وہ غیر ترقی یافتہ اقوام،عوام اور انکے ممالک کے سیا ستد انو ں ، حکمرانوں کو آپس میں الجھائے رکھتے ہیں۔ اسکے علاوہ فریقین کے ساتھ اپنے اپنے تعلق بحال اور استواررکھتے ہیں۔انکو اسلحہ فروخت کر کے انکی معاشی طاقت سلب کرتے رہتے ہیں۔ ان ممالک کو جنگوں میں الجھا کر انکی انفرادی قوت اور معاشی قوت کو مفلوج اور ختم کر دیتے ہیں۔انکے ملکی وسائل جنگوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔انکی بستیاں ویرانوں میں بدل جاتی ہیں۔ انکے مرد و زن زخموںاوراذیتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غربت اور بیماریاں انکی نسلوں کی میراث بن جاتی ہیں۔وہ اقوام اور ممالک ان ترقی یافتہ ممالک کے دروازوں پر بھیک اور خیرات مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ تعلیم کسی پیغمبر اور مذہب سے متعلقہ نہیں۔یہ اعمال انکی امتوں کے نہیں۔ یہ اعمال نمرود ،فرعون،شداد اور یزید کے پیروکاروں کے ہیں ۔ جنکے ایجنٹ ان امتوں میں گھس آئے ہوئے ہیں۔جو ما دیت اور اقتدار پر قابض ہو کر ملکوں اور ملتوں پر حکومتیں کر رہے ہیں۔
یہ کون لوگ ہیں جو ایسا کرتے چلے آرہے ہیں۔
کیا یہ یہودہیں بالکل نہیں۔کیا یہ عیسائی ہیں،ایسا سوچنا ایک گناہ عظیم ہے ۔
کیا وہ مسلمان ہیں ہر گز نہیں۔یہ تو نمرود ،فرعون اور یزید کے نظریات پر مشتمل
مذاہب کے منافقوں اورمنکروں کے ایجنٹ ہیں۔
دنیا میں ہر قسم کا قتل وغارت انکے ایما پر ہوتا ہے۔
اسلحہ سا زی کا تباہ کن عمل انکی خوشحالی کا ذریعہ ہے۔
جو مذاہب کے نورانی،روحانی نظریات اور تعلیمات کا کینسر ہیں۔
۱۱۔ اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے دنیائے عالم میں نئی سے نئی ایجادات کی روشنیاں پھیلائی ہیں۔علم و دانش اور ترقی کے چراغ جلائے ہیں ۔ ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ انسانی زندگی کو بجلی اور گیس فراہم کی ہے۔ ٹیلیفون، ٹی وی اور کمپوٹر جیسے عقلی معجزات سے نوازا ہے۔ نوع انسانی کو گاڑی،ریل اور جہاز جیسے ذرائع آمد و رفت کی سفری سہولتیں مہیا کی ہیں۔ انسانوں کی بیماریوں کی تشخیص کے آلات اور انکے علاج کی ادویات کو ایجاد کیا ہے۔ جہاں عقل و فکر نے سمندروں،زمینوںاور آسمانوں کی وسعتوں کو تسخیر کیا ہے۔جہاں انہوں نے خیر کی قندیلیں روشن و منور کی ہیں۔
۱۲۔وہاں ان ترقی یافتہ ممالک کے سائنس دانوں اور حکمرانوں نے مل کر د نیا کے امن اور بنی نوع انسان کی تباہی کا فریم ورک اور انٹر نیٹ کا کام ہر وقت جاری رکھا ہوا ہے۔ ان ترقی یافتہ ممالک کے سیاستدان اور حکمران مل کر مختلف غیر ترقی یافتہ ممالک ،انکے کمزور اعوام اور ان میں بسنے والے معصوم اور بے گناہ انسانوںکی تباہی کے ماسٹر پلان بھی تیار کر تے رہتے ہیں۔وہ خیر کی قندیلوں کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
۱۳۔ جرمن کی جنگ،جاپان کی جنگ کیوبا کی جنگ،فلسطین کی جنگ، کشمیر کی جنگ ، بوسینیا کی جنگ،عراق اور ایران کی جنگ،عراق اور کویت کی جنگ،افغانستان اور روس کی جنگ ، ترقی یافتہ ممالک کی افغانستان سے جنگ ، امریکہ اور انکے حواریوں کی عراق سے جنگ ۔ اسکے علاوہ مزید جنگوں کو جاری رکھنے کیلئے ترقی یافتہ طاقتور ممالک کے سیاستدانوں، حکمرانوں نے بین الاقوامی سطح پر کمزور ممالک پر دہشت گردی کی جنگیں مسلط کر کے ایک ایسی دہشت گردی کی جنگ جاری کر لی ہے۔ جسکا اختتام ممکن نہیں۔ انہوں نے دنیا کے تمام بین الاقوا می ضابطوں اور اخلاقی اصولوں کو مسخ کر کے کمزور اقوام،غیر ترقی یافتہ ممالک کے عوام پر جنگیں مسلط کر کے ایک ایسی جنگ کا آغاز کر دیا ہے ۔جس نے اب تما م دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دنیا کی کوئی قوم، کوئی ملک ،کوئی فرد ان سے محفوظ نہیں۔ یہ عالمی طاقتور دہشت گرد ممالک دنیا میں کمزور ممالک کی خود کش حملہ آوروں کی ایک ایسی فوج تیا رکر چکے ہیں۔جن سے یہ ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک اور انکے باشندے از خود بھی انتہا کے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔اگر یہی عمل جاری رہا تو مغربی ممالک اس دہشت گردی کے عمل سے بری طرح متا ثر اور مفلوج ہو کر رہ جائیں گے ۔ انکے اپنے ایٹمی پلانٹ اور اہم مقامات انکے لئے ایک عذاب الہی کی حثیت اختیار کرتے جائیں گے۔ انکے لئے کوئی بندر گاہ ،کوئی ائیر پورٹ،دنیا کا کوئی ملک یہاں تک کہ انکے اپنے ممالک بھی انکے لئے محفوظ نہیںرہیں گے ۔ تمام دنیا سے انکی ہر قسم کی تجارت مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ انکی یہ پالیسی انکی مادی برتری کو خا کستر کر دے گی۔حکمران اور عوام بے بس اور مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ جمہوریت کے دانشوروں کی پالیسیاں تباہی کی شاہراہ پر چل چکی ہیں۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں سے وقت نکلتا جا رہا ہے۔ تمام ملتیں مذہب کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکی ہیں۔
۱۴۔ دنیائے عالم کتنی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ امریکہ کے پینٹا گان جیسے سینٹر اور اس میں رہنے والے ہزاروں انسانوں کی حفاظت تک کے بنیادی فرائض تو یہ ترقی یافتہ ممالک ادا نہ کر سکے۔یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔اس انسانی المیہ اور اس واقعہ کی وجوہات اور اس کے
محرکا ت کیا ہیں۔
اسکے حقائق کیا ہیں ۔اسکے اصل مجرم کون ہیں۔ایک ترقی یافتہ بین الاقوامی سپر
پاورکے اہم سنٹر پر کیسے حملہ ہوا۔
ان عظیم ٹاوروں کو کیسے خاکستر کیا گیا۔یہ حملہ آور جہاز کہاں سے آئے۔
ان جہازوں کے پائلٹ کون تھے۔
انہوں نے دنیا کی سپر پاور کے سیکورٹی کے آلات و انتظامات کو کیسے روندا۔
کیا یہ امریکہ کے سیاستدانوں کا کھیل تھا۔
کیا یہ امریکہ کے خفیہ اداروں کا عمل تھا۔
کیا یہ کسی جرمن قوم کے دل جلے کا انتقامی عمل تھا۔
کیا یہ کسی جاپانی سپوت کے انتقام کا سلسلہ تھا۔
کیا یہ کسی کمبوڈیا کے مظلوم کا رول تھا۔کیا یہ کسی فلسطینی دکھیارے کا کردار تھا۔
یہ دہشت گردی کی آگ کس نے جلائی۔یہ خود کش حملہ آور کس نے تیار کئے۔
یہ روائتی مہلک ہتھیار کس نے بنائے۔ یہ ایٹمی پلانٹ کس نے ایجاد کئے۔
یہ ہائیڈروجن بم ،یہ آکسیجن بم،یہ نائیٹروجن بم،یہ جراثیمی بم کس نے تیار کئے۔
یہ ایٹمی میزائل،یہ ایٹمی آبدوزیں،یہ ایٹمی وار ہیڈ ان سب کے خالق کون ہیں۔
ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم پھینکنے والے کون تھے۔
جرمن کے آٹھ سال کے بچوں سے لیکر اسی سال کے بوڑھوں تک کا قتال کرنے
والے کون تھے۔
انکی مستورات کی بے حرمتی کرنے والا کون تھا۔
جاپان کی نسل کو ایٹم بموں سے خاکستر کرنے والا کون تھا۔
اس تمام تباہ کن،عبرتناک اسلحہ سازی کی ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے والا کون
ہے۔یہ تمام واقعات ہی اصل مجرموں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دنیا میںذرائع ابلاغ کی اجارہ داری کس کی ہے۔
سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے والی نشرو اشاعت کی ایجنسیاں کس کے پاس
ہیں۔ دنیائے عالم سے حقائق کوچھپانے والے کون ہیں۔
اسامہ بن لادن کون ہے۔اس کردار کو تیار کرنے والا کون ہے۔
روس کے خلاف جہاد کے نام پراسامہ بن لادن کو استعمال کرنے والا کون تھا۔
مجا ہد سے دہشت گرد بنانے والا کون تھا۔
دنیا بھر کے دانشور،سیاستدان،مذہبی پیشوا غور سے سن لیں اور ان سوالات کا جواب
دیں۔ اسامہ کوعرب کی سر زمین سے افغانستان کا راستہ بتانے والا اور لانے والا کون
تھا۔
کیا وہ امریکہ جیسی عظیم طاقت کے دفاعی انتظامی نظام کو درہم برہم کرنے کی
صلاحیت رکھتا تھا۔
کیا اسکے پاس کوئی ایسا سائنسدان موجود تھا جو امریکہ کے دفاعی انتظامی نظام کو
معطل یا ناکارہ بنا سکتا تھا۔
کیا و ہ امریکہ کے ائیر پورٹ پر چار جہازوں کو باہر سے پہنچا سکتا تھا ۔
کیا وہ ان جہازوں کو ائیر پورٹ کے عملہ کی مرضی کے بغیر وہاں سے اڑا سکنے کی
صلاحیت رکھتا تھا۔
کیا وہ امریکہ کے ان ٹاوروں کی بجائے کسی ایٹمی پلانٹ کو بھی تباہ کر سکتا تھا یا نہیں
اور اس نے ایسا کیوں نہ کیا۔
کیا یہ پائلٹ آسمان سے آئے تھے اور آسمان پر واپس چلے گئے۔

کیا یہ ایک یہودیوں،عیسائیوں اور مسلمانوں کے روپ میں نمرود،فرعو ن یا یزید
کے ایجنٹوں کی سازش تھی یا سی آئی اے جیسی بین الاقوامی تنظیم کا ایک عالمی
دہشت گردی کے منصوبے کا آغاز تھا۔
کیا اس دن سو کالڈ یہودی ان ٹاوروں پر موجود تھے۔
کیا اسامہ کا گھناؤنا تشخص ان کے ذرائع ابلاغ کا پیدا کردہ نہیں ۔
کیا اسامہ انکا اپنا ہی تیار کیا ہو ا ایک آلہ کار نہیں تھا ۔جو انہوں نے روس کے خلاف
جہاد کے نام پر استعمال کیا۔
کیاروس اور افغانستان کی جنگ میں اسلحہ اور تمام جنگی سامان امریکہ کا مہیا کیا ہوا
نہیں تھا۔ کیا امریکہ ان مجاہدین کو ہر قسم کی تربیت نہیں دیتا تھا۔
کیا امریکہ کے پاس ان دہشت گردوں کی فہرست موجود نہیں تھی۔
کیا یہ دہشت گردی تھی۔کیا یہ کوئی خود سوزی کے بم تھے۔
کیا یہ تما م دہشت گرد اسامہ بن لادن انکے اپنے ہی ملک کے باشندے نہ
تھے۔جنکو افغانستا ن کے پہاڑوں میں نائٹروجن اور ڈیزی کٹر بموں کے ذریعہ
تلاش کیا جا رہا ہے۔
یہ مذاہب کی تعلیمات اور نظریات کے تیار کردہ کردار ہر گز نہ تھے اور نہ ہیں۔
یہ تو جمہوریت کی تہذیب حاضر کے تعلیمی اداروں کے تراشے ہوئے بت تھے جنکا
سیاسی مذہب جمہوریت ہے۔جو مذاہب کے منافق اورانکے تقدس کو پامال کر تے
چلے آ رہے ہیں۔
یہ تما م خرابی،یہ تما م ظلم ، یہ تمام جبر و ستم،یہ تمام جنگیں،یہ تمام عالمگیر سطح پر دہشت
گردی،ان واقعات کے تمام محرکات مذہب کے نظریات اور اسکی تعلیمات سے
دوری کی سزا ہیں۔
مسیحائی کا عمل اور انسانی قتال کا عمل ایک دوسرے کی ضدیں ہیں۔جو مومن اور کافر
کی پہچان ہیں۔
۱۵۔کیا افغانستان امریکہ کا اتحادی ملک نہ تھا۔کیا افغانستان کے عوام نے روس

کے خلاف جنگ میں لاکھوں جانوں کی قربانی نہیں دی تھی۔
کیا افغانستان دنیا کا ایک غیر ترقی یافتہ ملک نہیں۔کیا اس جنگ نے اس ملک کو
کھنڈرات میں بدل کر رکھ نہیں دیا تھا۔
کیا افغانستان کے پاس کوئی اسلحہ سازی،جہاز سازی،میزائل سازی یا کسی قسم کا
اسلحہ بنانے والی فیکٹری موجود ہے یا تھی۔
کیا افغانستان دنیا کا غریب ترین،کمزور ترین اور غیر ترقی یافتہ ملک نہیں۔
کیا امریکہ جیسی بین الاقوامی سپر پاور کا اسامہ بن لادن جیسے بے وطن انسان کا کوئی
مقابلہ ہے۔
کیا امریکہ جیسی سپر پاور کیلئے ایک آدمی کو ختم کرنا کوئی مشکل کام ہے۔
اسامہ امریکہ کا ایک ذرائع ابلاغ کا تیار کیا ہوا ایک ایسا کردار ہے ۔جسکے نام کی آڑ
میںیہ دہشت گردی پوری دنیا میں پھیلا چکے ہیں۔
اسی خود ساختہ کردار کو ختم کرنے کیلئے امریکہ نے اپنے تمام اتحادیوں کو اکٹھا کیا ۔
تمام بین لاقوامی طاقتیں جدید اسلحہ، جنگی جہاز،ڈیزی کٹر بم، نائٹروجن بم ، جراثیمی
بم ، طرح طرح کے میزائل لیکر اسامہ پر حملہ آور ہوئے جو افغانستان میں رہائش
پذیر تھا۔
چونتیس ہزار کی بلندی سے ڈیزی کٹر بموں کی تباہ کن بارش افغانستان کے غیر ترقی
یافتہ، کمزور،بیگناہ اور بے بس ملک کی معصوم عوام پر کرتے رہے۔
جنگی جہازوں سے تباہی مچاتے رہے۔نائٹروجن بموں سے بستیاں خاکستر کرتے
رہے۔جراثیمی بموں سے بیماریاں پھیلاتے رہے۔
معصوم،بیگناہ،نہتے،بے بس،کمزور اور غریب مرد و زن ، بچوں ، بوڑھوں کو موت کا
ایندھن بناتے رہے۔ آبادیاں اور بستیاں ملبے کا ڈھیر بناتے اور روندتے رہے۔
ا نکے ہسپتال ، انکے تعلیمی ادارے،انکے خوراک کے ذخائر،انکے ذرائع آمدو رفت،
انکے کھیت کھلیان نیست و نابود کرتے رہے۔
بے شمار زخمی تڑپتے رہے۔بیشمار بے بس معصوم بچے ،بوڑھے،نوجوان اور

مستورا ت کے اعضا فضاؤں میںبکھیرتے رہے ۔
بتاؤ تو تم کس طرح کے مسیحا ہو۔کیا تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت ہو۔
جمہوریت کے سائے تلے تمام اقوام عالم، دنیا بھر کے تمام ممالک ،تمام
مذاہب، تمام نظریات کے کرداروں کی رونمائی جاری رہی۔ جمہوریت کے
سیاستدانوں اور انکے دانشوروں اور جمہوریت کی تہذیب کے علمبردارملک امریکہ
کی زیر نگرانی ان معصوم،بے گناہ انسانوں کے قتال کا گھناؤنا کھیل افغانستان کی سر
زمین میںجاری ہے ۔
اس کھیل کا ذمہ دار کون ہے۔خود کش حملہ آوروں کی فوج تیار کرنے والا کون ہے۔
۱۶۔ اسی طرح عراق کے صدام حسین کے ساتھ امریکہ نے بہت اچھے تعلقات قائم کر رکھے تھے ۔امریکہ کے دل میں ایران بری طرح کھٹکتا تھا۔ سو کالڈ یہودیوں کے خلاف وہ عربوں کا ساتھ دیتا تھا۔اسرائیل کے لئے ایران ایک خطرہ تھا۔صدام حسین کے ساتھ دوستی قائم کی ۔اسکو جدید اسلحہ مہیا کیا۔دونوں ممالک کی جنگ کروا دی۔انکی مین پاور اور اقتصادی طاقت جنگ کے ذریعہ کچل دی گئی۔
صدام سے کویت پر حملہ کروایا۔ اسکے بعد امریکیوں نے اپنی پالیسی کا رخ بدل لیا۔
کویت اور عربوں کا ساتھ دیا۔ان کو خوب سامان حرب مہیا کیا اور عراق پر استعمال کیا۔
عراق کو خوب سبق سکھایا۔ایران،عراق اور عربوں کو خوب لوٹا۔انکو تمام روائیتی ہتھیار
مہیا کئے۔انکی افرادی قوت اور اقتصادی قوت مسخ کر کے رکھ دی۔
۱۷۔ صدام حسین پر ایٹم بم بنانے کے الزامات عائد کردئیے۔ اس طرح عراق کے خلاف تمام بڑی طاقتوں نے ہر قسم کی معاشی اور معاشرتی پابندیاں بے بنیاد الزامات پر عائد کر دیں ۔ عراق کے عوام کو اقتصادی اور سماجی پابندیوں میں جکڑ لیا۔ عراق کے خلاف ذرائع ابلاغ کی جنگ شروع کر دی۔کئی بار ایٹمی اسلحہ کی باز پرس کے بارے میں تمام دنیا کے ماہرین انسپکٹر عراق کی چیکنگ اور انسپیکشن کیلئے عراق میں بھیجے گئے ۔وہاں کسی قسم کا ایٹمی مواد انکو نہ مل سکا۔ انکی رپورٹس دنیا کے تمام اتحادی اور غیر اتحادی ممالک کو معلوم ہو چکی تھیں۔ جب انکو مکمل یقین ہو گیا کہ اسکے پاس کسی قسم کا کوئی مہلک اسلحہ نہیں ہے۔ اس یقین دہانی کے بعد امر یکہ اور اسکے اتحادیوں اور حواریوں نے ملکر عراق پر حملہ کر دیا۔بھوکے ،ننگے، کمزور،بے بس عراقی عوام امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے درندہ صفات وحشی حکمرانوں کے نرغے میں آگئے۔
۱۸۔وہ اپنے اپنے ممالک سے اپنی افواج،جدید ترین اسلحہ،بحری بیڑے،ایٹمی آبدو زیں، سپر قسم کے تباہ کن اسلحہ سے لیس جنگی جہاز،تباہی مچانے والے میزائل ، ڈیزی کٹر بم، نیپام بم،جراثیمی بم،اعضا شکن گیس بم اور ہر قسم کا مہلک ترین اسلحہ عراق کی ہر ذی جان
مخلوق خدا ،معصوم، بچے،بچیوں، نوجوانوں، بوڑھوں، مستورات ، اپاہجوں، بیماروں، جانوروں، کھیتوں،سڑکوں،پلوں،درسگاہوں،ہسپتالوں،کارخانوں،فیکٹریوں،بستیوں، شہروں میں بسنے والی مخلوق اور انکے ہر قسم کے وسائل کو نیست ونابود اور خاکستر کر کے رکھ دیا۔ جمہوریت کی تہذیب کے ترقی یافتہ ممالک کے شاہکار ایک ظالمانہ،ایک غاصبا نہ ،ایک سفاکانہ انسانیت اور مخلوق خدا کے قتال کے عمل میں پاگلوں کی طرح مصروف اورگم ہو گئے ۔ وہ انسانی بستیوں کو ویرانوں میں بدلتے جا رہے ہیں۔
۱۹۔بیشک یہ امت حضرت یسوع مسیح کی مسیحائی کی مجرم اور گناہگار ہے۔اور یہ امت انکے نظریات اور تعلیمات کی توہین کی مرتکب ہو چکی ہے۔ یہ ملت انکی گستاخ اور انکے نظریات اور انکی تعلیمات اور انکے کردار کو کچل چکی ہے۔ اسکے بعد انکا کسی قسم کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نہیں رہتا اور نہ ہی یہ انکی امت کہلا سکتی ہے۔ غور سے سن لو!
۲۰۔یہ عقدہ ء سیاست نہ کلیم اللہ سے وابستہ ہے اور یہ طرز جمہوریت نہ روح القدس کی تعلیمات کا حصہ ہے۔ عیسائیت کے مذہبی پیشواؤں کو ملت کے ان منافق رہزنوں سے
نجات حاصل کرنا ہزاروں سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ جمہوریت کے سیاستدانوں نے تمام انبیا علیہ السلام کی سلامتی کی نورانی شمع کو گل کر کے رکھ دیا ہے۔ مذہبی نظریا ت، مذہبی صفات اور مذہبی صداقتوں پر مشتمل مذہبی تہذیب و تمدن جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران نے تیار کیا تھا و ہ ان نمرود ی ،فرعونی اور یزیدی ایجنٹوں نے ان پیغمبران کی امتوں میں داخل ہو کر جمہوریت کے ذریعے انکے وسائل اور ملکوں پر بالا دستی حاصل کر کے ان کونگلتے اور انکے نقش مٹاتے جا رہے ہیں۔
۲۱۔ ایسے اعمال سے تو دلوں کی کھیتیاں سر سبز نہیں ہوا کرتیں۔شمع حق کو تو یہ روشن کرنیوالے اعمال نہیں۔ جمہوریت کی پروردہ اقوام کیوں عذاب کی بجلیوں کو پکار رہی ہیں۔پیغمبروں کی امتوں کی تو ایسی خو نہیں ہوتی۔یہ عقل سنگدل کسی اور دامن میں پلی ہے۔یہ نظام کائنات اور نقش حیات مٹانے کیلئے کیوں حجتیںپیدا کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا علم و حکمت مادیت اور اقتدار کے حصول کے شعلہ ء نمرود کے روشن الاؤ ہیں۔ دور حاضر کے سیاستدان اور حکمران زندگی کی بہت بڑی صداقت اور حقیقت کو بھول چکے ہیں۔ کہ یہ دنیا فناہ کا دیس ہے۔ یہاں ہر سفری کا سامان لٹ جاتا ہے۔ وہ تو اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ نا معلوم منزل کی طرف چل دیتا ہے۔ جمہوریت کے دانشور پیغمبران کی امتوں کے متولی بھی کہلاتے ہیں۔ دوسری طرف انکے نظریات اور انکے ضابطہ حیات، انکے حسن خلق،انکے حسن کردار،انکی حسن صفات اور انکی صداقتوںپر مشتمل الہامی اور روحانی تعلیمات کے سوتے سرکاری سطح پر بند بھی کئے جاتے ہیں۔ انکی امتوں کو حق کی آواز سے بے خبر اور محروم کئے جا رہے ہیں۔
۲۲۔یہ رہزن نور ابراہیم علیہ السلام کو بجھائے جا رہے ہیں۔یہ بھول چکے ہیں۔کہ یہ شان حاضر اور ربط جان و تن سب عارضی ہیں۔جمہوریت کا صحرا مذاہب کی وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لئے جا رہا ہے۔ مذاہب کے جذبے پیدا کرنے والے ادارے جمہوریت کی گرفت میں مقید ہو چکے ہیں۔ امتوں کی غفلت نے اپنی نسلوں کو نمرود، فرعون اور یزید کے نظریات اورضابطہ حیات کی چتا میں دھکیل رکھا ہے۔

۲۳۔انکو اس غفلت سے بیدار کرنے کیلئے کسی دکھ درد کے مارے صاحب درد کے آنسو ہی کام آسکتے ہیں۔اسکے نقش پا سے درد و اذیت کے بیاباں میں پھر سے امن و سکون کے پھول پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے اعجاز کی توفیق اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبران کی بھولی بھٹکی امتوں کی رہنمائی کیلئے انکے اہل فکر ، اہل بصیرت اور اہل دانش فقیروں، درویشوںاور انکے ماننے والوں کو عطا کرتے رہتے ہیں۔یا اللہ تو فریاد پنہاں کو پیغمبران کی امتوں کے دلوںاور روحوں میں بیدار کر دے ۔ آمین