To Download or Open PDF Click the link Below

 

  تمام پیغمبران کے نظریات اور الہامی تعلیمات کو جمہوریت کے
سیاست کے دجال نگلتے جا رہے ہیں۔
عنایت اللہ
اے جمہوریت کے پرستارو۔ اے تہذیب حاضر کے رہنماؤ،اے
پیغمبران کی امتوں کے پیشواؤ۔آؤ ! ذرا غور کر لیں۔آؤ! ذرا تدبر سے کام
لیں۔آؤ !ذرا داناؤ ں کی نادانی اور سینہ ء ویراں کی حالت زار کی طرف ایک
نظر تو دیکھیں۔ آؤ! ان امتوں کے پیشواؤں ،سیاستدانوں ، حکمرانوں اور
انکی رعایا سے چند سوال تو پوچھ لیں۔
نمبر۱۔ کیا تمام پیغمبران کی امتیں اللہ تعالیٰ کو خالق دو جہاں مانتی ہیں۔
نمبر۲۔کیا یہ تمام امتیں سلسلہ ء پیغمبران پر ایمان رکھتی ہیں۔
نمبر۳۔کیا ہم حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام ،
حضرت اسحق علیہ السلام،حضرت اسمعیل علیہ السلام،حضرت داؤد علیہ
السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد
مصطفی ﷺ کو انبیا اور پیغمبرتسلیم کرتے ہیں۔
نمبر۴۔کیا تما م امتیں ان انبیا پر نازل ہونے والی کتابوں زبور شریف ، توریت
شریف انجیل شریف اور قرآن شریف کو خدائی صحیفے مانتی ہیں۔
نمبر۵۔کیا تمام پیغمبران کی امتیںتوحید پرستی کے عقیدہ سے منسلک نہیں۔
نمبر۶۔کیا تمام امتیں پیغمبران کے نظریات اور انکی تعلیمات اور انکے بتائے
ہوئے ضابطہ حیات پر یقین نہیں رکھتیں۔
نمبر۷۔کیا پیغمبران خالق کی مخلو ق کو کنبہ خدا یا وحدت آدم کی تعلیمات سے آشنا
کروانے کیلئے نہیں آتے رہے۔
نمبر۸۔کیا ُپیغمبران خدا اپنے اپنے ادوار میں ملت آدم کی اصلاح اور فلاح کیلئے
اس کائنات میں تشریف نہیںلاتے رہے۔
نمبر۹۔کیا تما م پیغمبران بنی نوع انسان کوایک ہی بنیادی تعلیم توحید پرستی ایک ہی
نظریہ خدمت خلق اورایک ہی ضابطہ حیات اخوت و محبت کا درس نہیں دیتے رہے۔
نمبر۱۰۔کیا پیغمبران کی امتیں نظریاتی گمراہی اور تباہی کا شکار نہیں ہوتی رہیں۔ داؤد
علیہ السلام کی زبور شریف کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت توریت شریف
کی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں رہی۔اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعدحضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی امت انجیل شریف کی تعلیمات پرگامزن نہیں رہی۔کیا انکے بعد
حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت قرآن شریف کی تعلیمات پرعمل پیرا نہیں ہوئی۔
نمبر۱۱۔کیا یہ تمام پیغمبران ایک ہی تسبیح کے دانے نہیں۔اور یہ ایک ہی ہستی خدا وند
قدوس کے پیامبر نہیں۔
نمبر۱۲۔کیا جمہوریت نے جمیعت آدم کو اقوام عالم میں تقسیم نہیںکر دیا۔
نمبر۱۳۔کیا جمہوریت نے پیغمبران کی امتوںسے وحدت آدم اور کنبہ خدا کے بنیادی
نظریات کو چھین نہیں لیا۔
نمبر۱۴۔کیا جمہوریت کے دانشوروں،سیاستدانوںنے خود ساختہ ضابطہ حیات کے
اصول و ضوابط سرکاری سطح پر اپنے اپنے ممالک میں نافذ کر کے انبیاء علیہ السلام
ا ورانکے الہامی ضابطہ حیات اور انکے اصول و ضوابط کی توہین اور گستاخی کے
مرتکب نہیں ہو تے چلے آرہے۔
۱۵۔ کیا جمہوریت نے انسانیت دوستی کے مذہبی ضابطے اخوت و محبت ، ادب و
خدمت ، عزت واحترام، اعتدال و مساوات، عدل و انصاف کو اقتدار کی تلوار سے
کاٹ اور کچل کر رکھ نہیں دیا۔ کیا انکی جگہ نفرت و نفاق، خود غرضی،نفس پرستی،حق شکنی،
زر پرستی اور اقتدار پرستی کے باطل،غاصب ضابطوں نے مخلوق خدا کوجنگوں میں
جھونک نہیں رکھا۔
نمبر۱۶۔کیا جمہوریت کے دانشوروں نے آزادی ء نسواں کے نام پر مخلوط تعلیم کو رائج نہیں کیا۔کیا مستورات کومردوں کے شانہ بشانہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میںگھر کی چار دیواری سے نکال کر مادی مفادات کے حصول کیلئے دفاتر اور زندگی کے ہر شعبہ میں نہیں لے آئے۔کیا مرد و زن کو جمہوریت پسند حکمرانوں نے جنسی آزادی دے کر مذاہب کی ازدواجی زندگی کے حسین و جمیل رشتہ کو ریزہ ریزہ نہیں کر دیا۔ کیا اس جنسی آزادی سے خاندان کی عمارت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم نہیں ہوتی جا رہی۔ کیا عوام نے ازدواجی زندگی کے مذہبی بندھن کو توڑکر وکٹورین چائلڈ کے نرسری ہوم بھرنے شروع نہیں کر دئیے۔ کیا ماں باپ،بہن بھائی،دادی دادا اور نانی نانا کے رشتوں کے آسمانی نظام اور اس سے وابستہ اخوت و محبت کو نا پید اور ان رشتوں کا تقد س روند کر رکھ نہیں دیا۔ کیا جمہوریت کے سودائیوں نے صنف نازک کو مارکیٹ کی زینت بنا کر رکھ نہیں دیا۔ کیا جمہوریت مخلوط معاشرے کے ذریعہ مذاہب کی حدود و قیود کو روند نہیں رہی۔ کیا جمہوریت کے پجاری عورت کے وجودی قیمتی ، اثاثے شرم و حیا اور فطرتی انمول مال و متاع کوبڑے دھوکہ سے لوٹے نہیں جا رہے۔ کیا جمہوریت مذہبی ازدواجی اقدار ایک ایک کرکے ختم نہیں کئے جا رہی۔ کیا جمہوریت انسان کو حیوان اور درندہ صفات کی تہذیب میں ڈھالتی نہیں جا رہی۔سیاسی،مذہبی پیشواؤں اور مذاہب پرست امتوں کو سوچنا ہوگا۔کہ اس مذہب کش اور عدل کش قیادت اور انکے نظام کو روکنا ہے یا نہیں۔ یا مذاہب پرست امتوں کو جمہوریت کی اقتدار پسند بے دین قیادتوں اور قوتوں کے باطل قوانین و ضوابط اور غاصب نظام اور سسٹم کا جمہوری مذہب قبول کرتے جانا ہے۔
نمبر ۱۷۔دنیا کی بڑی قوتوں اور ترقی یافتہ ممالک کی قیادتوں اور انبیا علیہ السلام کے ماننے والوں نے مذاہب سے دوری کا راستہ اختیار کر کے جمہوریت کے باطل، غاصب اور اخلاق سوز نظام اور ضابطہ حیات کوپوری دنیا میں نافذ کرنے کا عمل جاری نہیںکر رکھا ۔ کیا زر پرستی ،زن پرستی اور اقتدار پرستی کا عمل جاری ساری نہیں۔ کیا حق شکنی اور حقوق شکنی کے ضابطے انکی جمہوریت کی تہذیب کے بنیادی اخلاقیات نہیں ہیں ۔کیا جمہوریت کے مفکروں نے گناہ پرستی،حرام پرستی ، ہوس پرسی،نفس پرستی، مادہ پرستی، شراب نوشی،زناکاری اور ہر قسم کی بد کاری کو آداب زندگی بنا نہیں رکھا۔ اور ا س طرز حیات کو قانونی تحفظ فراہم کرتے نہیںجا رہے۔کیامعاشی اور معاشرتی قتال اقوام عالم اور غیر ترقی یافتہ ممالک اور دنیا کے تمام جمہوریت پسند قائدین نے اپنے ملکوں میں جاری نہیں کر رکھا ۔ کیا جمہوریت کے ذریعہ انہوں نے مخلوق خدا پر رحمتوں اور شفقتوں کی بجائے زحمتوں اور اذیتوں کے ضابطے مسلط کر نہیں رکھے ۔ کیا جمہوریت نے جمعیت آدم کو، نسلوں، قومو ں ، ملکوں اور مختلف نظریات میں منقسم نہیںکر رکھا ۔ کیا اس تقسیم سے مخلوق خدا کو کنبہ خدا کے بنیادی حق سے محروم کر کے رکھ نہیں دیا ۔مذاہب کے پیغمبران جمیعت آدم کی تعلیمات سے نوازتے ہیں اور حقوق انسانی کوبین الاقوامی سطح پر بجا لانے کا درس دیتے ہیں ۔ اعتدال، مساوات، کو عدل و انصاف کے سانچے میں ڈھالتے ہیں ۔ انسانوں میں اخوت و محبت کے دروازے کھولتے ہیں۔ اور جمہوریت کے دانشور بنی نوع انسان کو، نسلوں، قوموں، ملکوں، نظریات اور طبقات میں تقسیم کر کے مادیت اور اقتدار کے حصول کی جنگ جیتنے والوں کو اقتدار پر لا بھٹا تی ہے۔
۱۸۔پیغمبران الہامی صداقتوں کے سفیر ہوتے ہیں۔ خیر اور بھلائی کو پھیلاتے ہیں۔ انکے نظریات اور انکی تعلیمات آفاقی ہوتی ہیں۔ جبکہ جمہوریت کے داعی اور سیاسی مفکر اور قائدین خود ساختہ باطل صداقتیں اور انکے ضابطے تیار کرتے ہیں،جن سے انکے مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے۔۔بنی نوع انسان کو خیر اور بھلائی سے محروم کرتے ہیں۔انکے مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کے نظریات اور تعلیمات کا بنیادی مقصد انفرادی خوشحالی اور اقتدار تک رسائی کے راستوں کی ہمواری اور کامیابی تک محدود ہوتا ہے۔اور بنی نوع انسان کو نمرود ،فرعون اور یزید کے باطل ضابطوں میں مقید کرنا ہوتا ہے۔ جمہوریت کا آزمودہ فتنہ اور اسکی تما م تدبیریں اور اسکا کردار بے نقاب ہو چکا ہے۔ جمہوریت کے سودائی قائد رسوائی کا سفر تباہی کے سمندر تک طے کر چکے ہیں۔
۱۹۔ نغمہ ء بیداریء مذاہب اور چشمِ آدم کو جمہوریت کے اندھیروں سے نکال کر اور سرمایہ داری نظام سے انسانیت کی حیات کو رہائی دلوا کر چشمہ ء زمزم تک پہنچانا مقصود انبیا اور انکے بعد یہ فرائض انکے الہامی روحانی وارثوں یعنی فقرا کی ذمہ داری ہوتا ہے۔آئینہ وقت دکھانا، یہ صدا لگانا، یہ ندا سنانا اور یہ نادبجانا اور یہ آواز دینا اور یہ چراغ جلانا فقیر وقت کے ساز کی تاریں اور سریں ہیں جو مذاہب کا ڈنکا بجانے کے مضراب کا کام دیتی ہیں۔۔انسانی نسلیں اور انکے دانائے ر از،انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات کی پاسبانی کے فرائض اداکرتے رہینگے۔ ملت ابراہیم کی اخوت و محبت کی عمارت کو تعمیر کرنے والی تمام پیغمبران کی امتیںاس جمہوریت کے تاریک صحرا و بیاباں میں صداقت کی قندیلیں پھر سے روشن و منور کرنے کا عمل بار بار جاری کرتی رہیں گی۔
۲۰۔جمہوریت کی سیاست کے فرعونوںاور قائدین نے عیسائیت کی رہبانیت کے مذہب سے نجات حاصل کرلی اوراسلام کے شورائی نظام اور امت محمدیﷺ کی قیادت کربلا کے واقعہ کے بعد یزید کے قبیلہ کے ظالم،غاصب مادہ پرست اور اقتدار پرست بے دین سیاستد ا نو ں ، حکمرانوں اور بادشاہوں کے شکنجے میں آگئی۔جمہوریت اور بادشاہت کے نظریات اور انکے ضابطہ حیات کے قائدین کی حکومتی بالا دستی نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک کے مذاہب کے نظریات انکی تعلیمات اور انکی صداقتوں کو، جمہوریت او ر بادشاہت کے نظریات اور انکی تعلیمات کے کفر کے کینسر نے تباہ،بے بس اور نا کارہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ جمہوریت اور بادشاہت کے سیاسی قائدین اور حکمرانوںمیں جو کینسر کا عنصر مضمر ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ مانتے تو پیغمبران کے نظریات،اخلاقیات اور تعلیمات کی صداقتوںکو ہیں۔زندگی نمرود ، فرعون اور یزید کے نظریات،اخلاقیات ، تعلیمات پر مشتمل ضابطہ حیات کی گذارتے ہیں۔وہ خود بھی کفر اور منافقت کے عذاب میں مبتلا اور انبیا کی تمام امتوں کو بھی اس ہیبتناک عذاب کا ایندھن بنا تے چلے جا رہے ہیں۔یا اللہ ان سب کا رخ خیر کی منزل،فلاح کی منزل کی طرف موڑ دے۔یا اللہ اس جہانِ رنگ و بو کو انسانیت اور تمام مخلوق خدا کے لئے عافیت کی آماجگاہ بنا دے ۔ یا اللہ تمام انبیا کی امتوں اور انکی قیادتوں۔۔۔کو راہ راست عطا فرما۔ امین۔
۲۱۔مذاہب پرست امتوں کوتما م مذاہب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی شریعت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے د ور کے انسانی تقاضوں کو پورا نہ کرسکتی تھی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دور ختم ہوا تو اس کے بعدحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انسانیت کی رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس دور کے تقاضوں کے مطابق اس کائنات میں بھیجا ۔ یہودییت مادہ پرستی اور قومیت میں گم ہو گئی۔ اس میں انسانیت کے جملہ مسائل کے حل کا فقدان تھا۔ عیسائیت ترک دنیا اور رہبانیت کے عمل سے دو چار ہو کر رہ گئی۔عیسائیت میں شریعت الہی کا وجود نہیں ہے۔کچھ عرصہ عیسائیت موسوی شریعت کو اپنائے رہی۔پھر مختلف ممالک کے اعوام نے اپنی اپنی عقل کے مطابق قوانین وضع کئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے عیسائیت کا پرچار راہبانیت کے عمل سے پروان چڑھایا۔ راہبا نیت اور روحانیت سے تیار کی ہوئی عمارت جمہوریت کے قائدین کے ہاتھ چڑھ گئی اور زیادہ دیر کھڑی نہ رہ سکی۔عیسائیت کے پیروکار وں کی اجتماعی زندگی کیلئے راہبانیت اور روحانیت ایک ناقابل عمل سبب بن کر ابھری۔ جسکی بنا پر وہ امت بھی دنیاوی حرص و ہوس،نفس پرستی اور مادہ پرستی کی فرعونی خواہشات کے حصول میں گم ہو گئی۔عیسائیت کی سیاسی قیادت اور مذہبی پیشواؤں نے مقدس عبادت گاہوں کو ناچ گھروں میں بدل کر رکھ دیا۔علم و حکمت
کے حصول کا فقدان پیدا ہوتا گیا۔عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے پاس صرف انکی خوش نما اور سحر انگیز شخصیت کی تاثیر اور تصویر باقی رہ گئی۔وہ انکے علم اور عمل کے کردار کو نہ اپنا سکی۔ وہ ان سے دور ہوتی گئی، جسکی وجہ سے آج وہ عظیم امت مذہب کی بجائے جمہوریت کے قائدین کے تیار کردہ نظریات کے عذاب کا متوا تر و مسلسل ایندھن بنتی چلی جا رہی ہے۔
۲۲۔ جب اس دنیا میں حضرت محمد مصطفی ﷺ تشریف لائے۔ان پر قرآن پاک جیسی مقدس، جامع اور آخری کتاب کا نزول ہوا۔دنیا میں اسلامی شریعت اور قوانین کا چرچا ہوا۔ تو عیسائی ممالک نے اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے کچھ کو راہ ہدایت بنا کر اپنے اپنے ممالک میں انکی روشنی میں قوانین مرتب کر لئے۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا ہمہ گیر،ایک بہترین،ایک لازوال اور ایک لا جوا ب ضابطہ حیات اور دستور مقدس انسانیت کی بہبود کیلئے نازل فرمایا جو انسانیت کی ازل سے لیکر ابد تک کی رہنمائی کے فرائض ادا کرتا ہے۔ذرا اس کتاب مبین کا مطالع کر کے تو دیکھو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمانی بادشاہت کا اعلان کیا۔حضرت محمد مصطفی ﷺ نبی آخرا لزمان نے اس آسمانی بادشاہت کو شورائی جمہوری نظام کو عملی جامہ پہناکر اس کائنات میں نافذا لعمل کیا۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے عمل سے بنی نوع انسان کو آشنا فرمایا۔
۲۲۔یہودی مادہ پرستی کا توڑ عیسائیت نے روحانیت کی تلوار سے بڑی حد تک کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں مادی زندگی کی حقارت اور عیش و عشرت کی زندگی سے نفرت کے ساتھ روحانیت کا عنصر بھی غالب تھا۔ انسانیت کی خدمت اور عزت و احترام کی تعلیمات نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخلوق خدا میں محبوب و مقبول بنا دیا۔انہوں نے بیماروں کا علاج،کوڑھو ں اور موذی امراض میں مبتلا انسانوں کو شفا اور مردہ کو زندہ کرنے کے معجزات کی بارش کر دی۔یہودیوں اور انکے ر ا ہبوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کی کامیابی اور انکی روحانی قوت کی مقبولیت کو دیکھ کر انکی سخت مخالفت کرنا شروع کر دی۔ان کو اقتدار اور اپنی برتری اور جاہ اقتدار کے مکمل زوال کا سامنا کرنا پڑ گیا۔وہ پیغمبر وقت کی سخت مخالفت پر اتر آئے۔انکے خلاف غلط فہمیاں، بد گمانیاں اور طرح طرح کے نا زیبا اور اخلاق سوز الزامات لگانے شروع کر دئے۔ انہوں نے انکے خلاف بغاوت کے الزامات رومی گورنر کو پیش کئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مرغوب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کو آسمان پر اٹھا لیا۔اس طرح ان بد کرداروں اور بد بختوں سے رہائی دلائی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ کے حواریوں اور پیروکاروں نے انجیل شریف کے صحیفے مرتب کئے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فقر اور رہبانیت پر مشتمل عیسائی مذہب کی تشکیل کی۔انکی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں۔عیسائی مذہب بڑی تیزی کیساتھ دنیا میں پھیلتا گیا۔لیکن عیسائیت اور مسیحیت دنیا کے مذاہب کی ایک اہم کڑی تھی۔ روحانیت اور فقر پر کھڑی کی ہوئی عیسائیت کے مذہب کی عمارت پادریوں اور راہبوں کی حرص و ہوس او ر مادہ پرستی کے سبب اس امت کا رحجان مادہ پرستی کی طرف راغب ہوتا گیا۔ اور یہ مذہب مادی آفتوں کا گھر بنتا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت ،راہبا نیت اور فقر سے انکی امت کی دوری انکے مذہب کے زوال کا سبب بنی۔ انکی امت کے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خوش نما اور سحر انگیز عظیم پیغمبر کا تصور اور اسکی خیالی تصویر باقی رہ گئی۔ عیسائیت نے ترک دنیا کی انتہا پسندی کے عمل کو اپنا کر انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر دیا۔جسکی وجہ سے عیسائیت مادیت اور رہبانیت اور روحانیت کے متضاد نظریات کا شکار
ہوتی چلی جا رہی ہے۔مغرب کے تیار کردہ جمہوریت کے نظریات پر مشتمل متواتر و مسلسل طرز حکومت اور طرز حیات اور اس کی تعلیمات کی سرکاری برتری نے عیسائیت کے مذہب کو ختم کر کے رکھ دیا اور نگل لیا ہے۔
۲۳۔اسلام نے بنی نوع انسان کو ایک ایسا نظریہ عطا کیا۔ جس میںدین کو
مادیت پر بالا دستی عطا کی اور مادیت کو روحانیت میں مدغم کر کے ایک قابل قبول
اعتدال کا نظام قائم کیا۔انسان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کا نسخہ عطا کیا۔ ا سلام نے
توحید پرستی کے نمایاں اور ہمہ گیر نظریہ سے عوام الناس کو متعارف کروایا۔ ایک خالق
حقیقی کا تصورانسانیت کی دنیا میں نمودار ہوا۔ایک ہی خالق ، ایک ہی مالک کل اور
ایک ہی قادر مطلق کے زیر سایہ ساری خدائی رعیت قرار پائی۔انسان انسان کے برا بر قرار پایا۔ رنگ و نسل کا امتیاز ختم کیا۔حسب و نسب کا فرق مٹادیا۔ذات اورفرقہ بندی کا قلع قمع کیا۔ انسانی برتری کا سبب تقویٰ قرار پایا۔ایک خدا ،ایک خدائی،ایک مذہب اور ایک ضابطہ حیات کا تعین فرمایا۔ جس سے ایک ہمہ گیر انسانی جمیعت قائم ہوئی ۔ ایک عالمگیر اخوت کا سلسلہ جاری ہوا۔ انسانی حقوق،انسانی مساوات،انسانی صفات ،انسانی صداقتوں کو ایک عالمگیر سطح پر روشناس کروایا اور تسلیم کیا گیا۔سماجی ،معاشرتی اور معاشی انصاف کوقائم کرنے کی تعلیم و تربیت کو عمل میں لایا گیا۔قوانین و ضوابط کو عدل و انصاف کے عمل سے گذاراگیا۔ غاصب ، سرکش سرغنوں اور مخلوق خدا کو دھوکہ دینے والوں پر اللہ تعالیٰ کی
زمین تنگ ہوتی گئی۔
۲۴۔اسلام نے بنی نوع انسان کو توحید پرستی کا ایک ہمہ گیر نظریہ عطا کیا۔ خدائے بزرگ و برتر سے رشتۂ بندگی استوار ہوا۔خدائی کا اسرار اور بندگی کے رموز،حسن تخلیق کی
تجلیاں اور زمین و آسمان کے راز نمودار ہوئے۔علم و حکمت کے دروازے جو بنی نوع انسان پر بند پڑے تھے۔وہ نور کی روشنیاں بن کر کھلتے گئے۔
۲۵۔اسلام کے نظریات اور تعلیمات کی تجلیاں جہالت کے تاریک افق پر آفتاب بن کرایسے ابھریں کہ کمال کر دکھایا۔ اس جہان رنگ و بو کی تاریکیوں کو روشن و منور کرتی
رہیں۔عیسائیت کے بعد اسلام نے ا نسانیت کو ایک نیا ولولہ،ایک نیا شعور بخشا۔خالق و مخلوق میں حائل سب دیواریں منہدم ہو گئیں۔اسلام کسی ایک فرد،ایک نسل ،ایک قبیلہ، ایک قوم کی ملکیت نہیں۔یہ تو پوری بنی نوع انسان کی میراث ہے۔
۲۶۔اہل مغرب اسلام کے ایک ہزار سال بعد اسلام کی وادیوں میں داخل ہوئے ۔ علم و حکمت سے آشنائی حاصل کی ۔ غور و فکر کی دنیا آباد کی ۔ محنت وہمت سے کام لیا۔ نظم و ضبط کو قائم کیا۔ حقوق و فرائض کو احسن طریقہ سے پورا کیا۔ ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔ فاصلوں کو تسخیر کیا۔انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ اقوام عالم اور دنیا کے تمام ممالک ایک ہی شہرکی آبادی بن کر رہ گئے۔ انسانی
زندگی کو راز پنہاں سے باخبر کیا۔نئی سے نئی ایجادات کے خالق بنتے گئے۔کائنات کو مسخر کرتے گئے۔اہل مغرب نے جو کام کرنا تھا ،وہ اس پر آج بھی رواں دواں ہیں ۔ وہ راز جو سینۂ کائنات میں صدیوں سے چھپے بیٹھے تھے،ایک ایک کر کے عیاںکرتے چلے آرہے ہیں۔انسانیت کو ایک ہی مرکز پر جمع کرنے کی منزل آن پہنچی ہے۔اقوام عالم اپنے اپنے نظریات کی قندیلیں اپنے اپنے ہاتھوں میں تھامیں کھڑی ہیں۔
۲۷۔پوری انسانیت انصاف ،امن و سلامتی ، اخوت و محبت اور اعتدال و مساوات کی منزل کی متلاشی ہے۔ اسلام ایک ہمہ گیر ،مصدقہ ، متوازن اور دا نشمند ا نہ اوصاف پر مشتمل مذہب ہے۔یہ مذہب پوری انسانیت کیلئے سراپا رحمت ہے ۔ اس نے انسان کی مشکلات،اسکی مجبوریوں،اسکی کمزوریوں اور اسکی فطرت پر نظر ڈالی۔اس کائنات اور آدم کی تخلیق،مذہب کی حقیقت،حقوق اللہ،حقوق العباد کی گرہ کو کھولا۔اسلام نے انسان کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیا۔مساوات اور اخوت کو فر وغ دیا۔امن و سلامتی کی راہ دکھائی۔اسلام دکھی انسانیت کی پکار کا جواب بن کر سامنے آیا ہے۔اسلام کااللہ رب العالمین ہے۔وہ کسی فرقے یانسل،یا قوم یا ملک یا مسلمان کا ہی رب نہیں ۔وہ تو رب العا لمین ہے۔اسلام کا اللہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔وہ لا زوال اور لا فانی ہے۔کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔یا اللہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔امین۔