To Download or Open PDF Click the link Below

 

  ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی توحید پرستی کی تبلیغ۔ساری خدائی
کنبہ خدا کا تصوراورچار الہامی صحیفے۔
عنایت اللہ
۱۔اسلام کو متعارف کروانے والے پیغمبر آخر الزماں رحمت اللعالمین ﷺ ہیں ۔ ان کو تمام جہانوں اور اس کائنات کیلئے رحمت بنا کربھیجا گیا۔خلق عظیم آپ ﷺ کی سرفرازی کا تاج۔صداقت و امانت آپﷺ کا طیب لباس۔ آپﷺ کا جسد مبارک دھیمی دھیمی خوشبو سے معطر۔آپ ﷺکا سینہ مبارک نور سے پرنور۔آپ ﷺ کی گفتگو دلوں کا سرور۔آپ ﷺکی خاموشی روحوں کا مضراب۔ آپ کا تبسم دلنواز ی کی علامت۔آپﷺ کی محفل ادب و احترام کا روحانی مخزن۔آپ ﷺ کا شیریں کلام دلوں کو اسیر کرتا اور مسحور کرتا چلا جاتا ہے۔
۲۔یہودی سوائے بنی اسرائیل کے نبیوں کے کسی نبی کو نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی مانتے ہیں۔ جسکی وجہ سے یہودی ایک قومی مذہب بن چکا ہے۔جو یہودیوں کی وراثت ہے۔ وہ کسی غیر یہودی کواس میں داخل نہیں ہونے دیتے۔مادہ پرستی اور اقتدار پرستی انکے مذہب کے اعلیٰ ارکان بن چکے ہیں۔ روحانیت کی طرف ان کا رحجان نہ تھا اور نہ ہے۔ انسانیت کیلئے جتنے بھی دکھ اور اذیتیں اس وقت کائنات میں رو پذیر ہیں وہ نمرودی،فرعونی اور یزیدی ذہنیت کے یہودیوں کے اعمال کی پیدا کردہ ہیں۔جن کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور نظریات سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ یہودی ملت اپنے عظیم پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور تعلیمات پر ایک بد نما دھبہ بن چکی ہے۔
۳۔ اسکے برعکس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کا خمیر فقر، روحانیت اور رہبانیت سے تیار ہوا۔ عیسائیت کے نزدیک مادی زندگی کی کوئی خاص قدرو منزلت نہ تھی۔ وہ اس فانی دنیا کی حقیقت اور اصلیت کے رموز سے آگاہ تھے۔ روحانیت ان پر غالب تھی۔ مخلوق خدا کو وہ ایک کنبہ خداتصور کرتے تھے۔ وہ اونچ نیچ کے قائل نہیں تھے۔ خدمت خلق انکا منشور حیات تھا۔ وہ خیر کے داعی تھے۔ انسانیت کیلئے بے ضرر اور جنگ و جدل سے نفرت کرتے تھے۔ وہ جان و مال مخلوق خدا اور راہ خدا کے لئے وقف کر دیتے۔ اس جلیل القدر پیغمبر کی تعلیمات اور نظریات نمرود اور فرعون کے نظریات پر مشتمل یہودی کلچر کی تعلیمات اور مزاج کے بالکل متضاد تھے۔یہودی قلیل سے قلیل خسارہ کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ جبکہ عیسائی سب کچھ مخلوق خدا پر نچھاور کرنے کی عبادت سے آشنا تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے بعد انکے حواریوںنے انکے فرمان اکٹھے کرنے شروع کےئے اور انجیل مقدس کو مرتب کیا ۔ رہبانیت کی بنیاد پر عیسائی مذہب کی تشکیل کی۔انکی زندگی اور زندگی کی ہر کاوش انکے علم اور عمل کی ترجمان تھی۔ جس کی بنا پر مسیحیت عوام میں مقبول اور بڑی تیزی کیساتھ پھیلتی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ امت عیسوی کے امتی اسکے عملی طور پرمتحمل نہ ہو سکے۔وہ بھی مادہ پرستی کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے۔
۴۔وہی مذہب جو ایک دفعہ انسانیت کی فلاح اور نجات کا باعث بنا۔
عوام الناس کی عملی زندگی میں وہ ناقابل عمل ہوتا گیا۔بالاخر عیسائیت فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔انکی امت نے کلیسا کو چھوڑ کر مادی کائنات کو تسخیر کرنے کا عمل شروع کر دیا۔جس کی وجہ سے یہ امت مادیت اور اقتدار کے حصول کی تاریکیوں میں کھو گئی۔در اصل یہ خوشنما جال فرعونی ذہنیت کے یہودیوں ہی نے بچھایا اور دنیا میں امن و آشتی کا پیغام دینے والی،اخوت و محبت کا درس دینے والی،اعتدال و مساوات کا پرچار کرنے والی،خدمت خلق کے عمل کی پجاری،بیماروں کو شفا عطا کرنے والی ، زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے والی،مخلوق خدا کو تحفظ فراہم کرنے والی،بھوکوں کو کھانا اور ننگوں کو لباس عطا کرنے والی،خیر اور بھلائی کا علم اور عمل سکھانے والی،مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے والی،انسانیت کو دکھوں اور اذیتوں سے نجات دلانے والی، خیر اور شر میں تمیز سکھانے والی،روح اور روحانیت سے آشنا کروانے والی،عبادت اور انسانیت کی خدمت کی پیکر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیاری اور ہر دل عزیز امت مادیت اور اقتدارکے حصول کی جنگ میں فناہ ہو گئی۔خیر کا راستہ بھول گئی۔ روح اور روحانیت کے چراغ جلانے والی امت اس فانی جہان رنگ و بو کے اندھیروں میں گم ہو گئی۔ انسانیت کے دلوں میں اترنے والے انسانیت کے دلوں سے اترتے چلے گئے۔عیسائیت کو پھیلانے والے کردار ختم ہوتے چلے گئے۔ روح کا ساز بجانے والے، رو حوںکو رہبانیت کا راستہ دکھانے والے، گوشہ نشینی کی لذتوں سے آشنائی کروانے والے، فقر کی دنیا آباد کرنے والے، روحوں کے گھنگروچھنکانے والے ، روحوں کی مستیاں پھیلانے والے، انسانی روحوں کو تسخیر کرنے والے، روح القدس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور انکی تعلیمات انکی صفات پر قابو پانے کیلئے نمرودی اور فرعونی منافق طبقہ عیسائیت کی صفوں میں گھس آیا۔انہوں نے مادیت اور اقتدار کی جنگ جیت کر روح القدس کی امت پر حکمرانی حاصل کر لی۔ انہوں نے نمرودی ،فرعونی طرز حیات پر مشتمل جمہوریت کے نظریات،اسکی تعلیمات اور اسکی صفات کو سرکاری سطح پر نافذکر کے عیسائیت کی روحانی،الہامی تہذیبی عمارت کو کمال ہنر مندی سے ریزہ ریزہ کر دیا۔ عیسائیت کے منافقوں،منکروں نے عظیم پیغمبر کی عظیم امت سے انکے نظریاتی اثاثہ کو لوٹ لیا۔ جمہوریت کے نمرودی،فرعونی نظریات،اسکی تعلیمات اور اسکی صفات کے مذہب کی سرکاری تعلیم و تربیت،سرکاری برتری اور سرکاری حکمرانی قائم کر لی۔ امت کو عبادت کیلئے کلیسا میں مقید کر دیا۔ملک و ملت کو مذہب کے متضاد جمہوریت کے مذہب کش نظریات کی حکمرانی میں دے دیا۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے قائدین انکی امت کے افراد کو منافقت کے عمل اور کردار کے عذاب کی چتا میں دھکیلتے چلے جا رہے ہیں۔
۵۔اسکے بعد حضرت محمد مصطفیﷺ جہان رنگ و بو کو سنوارنے کیلئے اس کائنات میں تشریف لائے۔تمام مذاہب اور تمام پیغمبران اللہ تعالیٰ کے نور کے مینار ہیں۔انکی امتیں انکے نظریات اور انکی تعلیمات کے نور کو بجھاتی رہیں۔ اسلام ان مذاہب کی آخری کڑی ہے۔ آ خری نبی الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت کو ان تمام پیغمبران کو ماننے اور انکی الہامی ،روحانی کتب کو تسلیم کرنے کا علم سکھاتے ہیں۔ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کیلئے ان تمام پیغمبران پر اور انکے اصل آسمانی صحیفوں پر ایمان لانا قبول اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ ان تمام پیغمبران پر اور انکی آل پر درود سلام بھیجنا مسلم امہ کے ہر فرد کا فریضہ اور ایک مقبول ترین عبادت کا حصہ ہے۔مسلم امہ کے کسی فرد کی اس وقت تک نماز جیسی بنیادی عبادت ہی قبولیت کا شرف حاصل نہیں کر سکتی جب تک وہ ابراہیم علیہ السلام اور انکی آل حضرت اسحٰق علیہ السلام،حضرت اسمٰعیل علیہ السلام،حضرت داؤد علیہ السلام ،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر درود و سلام نہ بھیجیں۔عبادت عابد اور معبود کے درمیان ایک رشتہ کا نام ہے۔ احکامات خدا وندی بنی نوع انسان اور انکی امتوں کو پیغمبران کی ذات اقدس اور انکے الہامی صحیفوں کے وسیلہ سے انکو میسر ہوتے رہے۔ انکے احکا ما ت کی تعمیل اور تکمیل بغیر کسی جواز کے ادا کرنا عبادت کی روح
تصور کی جاتی ہے ۔ عبادت کے ضابطہ میں نہ اضافہ کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی قسم کی کمی بیشی۔مذاہب کے تعین کئے ہوئے احکام سب زمانوں کیلئے فرض ہیں۔جب تک کوئی اور پیغمبر آکر ان میں کمی بیشی یا ترمیم نہ کرے۔آ خری نبی الزماںﷺ کی حیات طیبہ ہمارے سامنے ہے۔ان پر نازل فرمایا گیا آخری الہامی صحیفہ قرآن پاک من و عن انسانیت کی فلاح اور راہ راست کی آگاہی کیلئے اصل حالت میں کتابی شکل اور سینہ بسینہ موجود ہے۔ آپ کا مرتبہ ہر جہان میں اولیٰ و افضل ہے۔ آپ ﷺ پر نازل فرمایا ہوا قرآن پاک ہر جہان کی رہنمائی کا محور ہے۔آپﷺ کا اعلیٰ ،اولیٰ اور افضل منصب اور ان تمام عظیم بلندیوں اور رفعتوں کے با وجود آپ ﷺ کی زندگی قلیل ضروریات اور سادگی میں اپنے صحابیوں اور جان نثاروں کی زندگی کے برابر ہی نہیں بلکہ کم رہی۔ہر وہ عمل جو آپ ﷺ کے قریب کرے اور آ ُپ کی ﷺ قربت عطا کرے وہ مبارک عمل ہے۔ہر وہ عمل جو آپﷺ کی قربت سے دور کرے وہ عمل نا پسندیدہ ا ور اپنی جان پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔خوش نصیبی وجود کا ظاہر نہیں وجود کا باطن ہے۔ پیوند والا لباس،قلیل ضروریات والی زندگی،ادب و خدمت والی خوبی،اخوت و محبت والا عمل،سلامتی والا پیغام،زخموں کو منہدم کرنے والی مرہم، شفا والی دوا، پیار والی صدا،خوش نصیبوں کی عقیدتوں کے پھول ہوتے ہیں۔ایسے افراد،ایسی امت نفرت کی ضد اورمحبت کی خوشبو بن کر انسانی د لوں کو مسحور کرنے کا عمل جاری رکھتی ہے۔
۶۔اس جہان فانی میں رنگا رنگ کے پھول،طرح طرح کے عقیدے،طرح طرح کے نظریات، مختلف اقوام،مختلف رنگ و نسل کے انسان،خالق کی مخلوق کے یہ سب جلوے، اس جہان کے باغ میں رونق افروز اور جلوہ فرما ہیں۔نظریہ اور عقیدہ کی پختگی نظریات اورعقیدوں کے اختلافات کو برداشت کرنے کا نام ہے۔نظریات اور عقیدوں سے نفر ت انسان سے نفرت کے برابر ہے۔ انسانوں سے نفرت اللہ تعالیٰ کی محبت سے فارغ اور محروم کر دیتی ہے۔ پوری انسانیت کو اور خاصکر اہل کتاب پیغمبران کی امتوں کو اپنے نظریات اور عمل سے با خبر ہونا چاہئے۔انہیں اپنا قبلہ درست کر لینا چاہئے۔یا اللہ ہمیں رحمت کا دروازہ دکھا۔ ہمیں ہمارے عمل کی عبرت سے بچا۔تیری رحمت برے اعمال کی عبرت سے بچانے کیلئے ہی تو ہوتی ہے۔ہمیں مخلوق کی خدمت اور محبت اور شفقت کی منزل کا مسافر بنا۔مخلوق پر حکومت کرنے اور اسکو غلام بنانے اور اسکو طبقات میں تقسیم کرنے کی خواہش رکھنے والے خالق کے باغی ہی تو ہوتے ہیں۔انسان کی شخصیت کا روشن باب اور راز، مخلوق کے ساتھ محبت اور ادب میں مضمر ہوتا ہے ۔ انسان کن مراحل سے گذرتا ہے۔کبھی اس کے سرپر تاج رکھا ہوتا ہے۔کبھی اسکا سر دار پر لٹکا ہوتا ہے۔کبھی اسکے ہاتھ میں کاسہ ء گدائی پکڑا ہوتا ہے۔کبھی غریب الوطنی کا شکار ہوا ہوتا ہے۔یا اللہ ہماری ملی ، اجتماعی اور انفرادی لغزشوں کو معاف فرما۔ہمیں باطل لیڈروں اور غاصب قائدین کی یلغار سے بچا۔ہمیں ایسا لیڈر عطا فرما جو تیرے اور تیرے محبوب کے تابع فرمان ہو۔ ایک ایسا صاحب بصیرت،صاحب کردار با عمل لیڈر، رہنما، امیر یا خلیفہ ہی مسلم امہ اور پوری انسانیت کا نصیب بدل سکتا ہے۔یا اللہ اس نصیب ساز شخصیت اور اسکے کردار کا جلوہ دکھا ۔آ مین۔
۷۔۔آج کا انسان جدیدیت،مادیت اور ترقی کے حصول میں گم اور دنیا کی محبت،شہرت،مرتبہ اور دولت کے حجابات کا شکار ہو چکا ہے۔انسانی دل و دماغ دولتِتسکین سے محروم اور فار غ ہو چکے ہیں۔ امانت ،دیانت اور صداقت کے چراغ بھی گل ہوچکے ہیں۔اخوت و محبت ناپید ہو چکی ہے۔حسن خلق،حسن کردار،حسن صفات اور مذہبی، دینی صداقتیں اور خدمت خلق کے الفاظ کی تاثیریں ختم ہو چکی ہیں۔
پیغمبران اور انکے مذہبی الہامی ،روحانی نظریات ،انکا تعلیمی نصاب ،انکی عبادت گاہیںاور انکا منشورحیات پابندِ سلاسل اور اپنی افادیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ انسان خیر ،بھلائی اور نیکی کا راستہ بھول چکا ہے۔ جسد انسانی شر کے کینسر میں مبتلا ہو چکا ہے۔ انسانی روح دلسوزی اور اذیتوں کی شکار ہو چکی ہے۔ ادب و خدمت جیسے پاکیزہ جذ بےِانسانی بستیوں سے اپنا ڈیرہ کوچ کر چکے ہیں۔ نفس پرستی،ہوس پرستی، شہوت پرستی ،مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کی آگ انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
۸۔ آؤ! ذرا آنکھ کھول کر اس طرف دیکھ تو لیں!۔ وہ بھول کیا ہے۔۔۔ وہ گناہ کیا ہے۔۔۔وہ خطا کیا ہے۔۔۔ جس کی وجہ سے یہ سزا،یہ اذیت،یہ نا گہانی آفات مخلوق خدا کو اپنی لپیٹ میں لئے جا رہی ہیں ۔ انسانیت بے بسی اور بے حسی کی حالت میں سسکتی ، تڑپتی، دم توڑے جا رہی ہے۔کوئی وقت کا حکیم،کوئی طبیب،کوئی عالم، کوئی کیمیا گر، کوئی دانائے وقت اور کوئی مذہبی پیشوا جسد انسانی اور روح کے اس اذیت ناک کینسر کا علاج کرنے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتا۔ اہل دل ، اہل درد اہل بصیرت اور شب بیدارو، یہ تو بتاؤ!کہ جذبہ اسلاف کہاں مفقود ہو گیا۔ مذہب کو معبد ،کلیسا اور مسجد میں کس نے اور کیسے بند کیا ہے۔پیغمبران کے الہامی جذبوں،روحانی حسن اور نورانی تعلیمات کی روشنیوں کو تاریکیوں اور افسردگی کے ہنگاموں سے دو چار کس نے کر دیا ہے۔ نمرود ،فرعون اور یزید کے داناؤں کی نادانیوں اور اقتدار کی باطل قیادتوں اور قوتوںنے اس روحانی ،الہامی ضابطہ حیات کو کیسے کچل کر رکھ دیا ہے ۔ پیغمبران کی امتوں پر مادیت اور اقتدار پرستوں کا ٹولہ کیسے قابض اور مسلط ہو چکا ہے۔مذہب پرست ،خدا پرست ، صالح فطرت اور دیندار بر گزیدہ طیب ہستیاں رائج الوقت نمرودی سیاست اور جمہوری حکمرانوںاور یزیدی طرز حیات کی بادشاہت کے نظام حیات کو اپنانے سے عدم دلچسپی اور اسکو روکنے سے گریزاں بھی رہے ۔ اس باطل غاصب سیاست میں حصہ نہ لینا اور اس کی تقلیدنہ کرنا حق ہے۔ لیکن پیغمبران کی امتوں اور ملتوں کو اور پوری انسانیت کو انکے جمہوریت اور بادشاہت کے فساد اورلا متناہی فتنہ اور اسکے ظلم سے محفوظ کرنا بھی نہائیت ضروری اور اہم تھا اور ہے۔
۹۔ان باطل بے دین قیادتوں اور قوتوں کو بے لگام کرنے سے انکی پذیرائی ہوتی رہی۔جس کی وجہ سے انسانیت اپنی تمام مذہبی پاکیزہ حرمتیں کھو چکی ہے۔ انسانیت ظلم و تشدد اور قتل و غارت کی دلدل میں غرق ہوتی جا رہی ہے۔ انسانوں کو حکمت کے صحراؤں سے نکالنا اور محبت کی خوبصورت،حسین و جمیل اور دلکش پرسکون وادیوں میں واپس لانا تمام پیغمبران کی امتوں کا بنیادی فرض ہے ۔تہذیب حاضر کے مریضوں کو شفا مہیا کرنا، نالۂ نیم شب کے مسافروں کو بیدار کرنا،انکو انکی منزلوں پر گامزن کرنا،انکی تعلیمات اور اخلاقیات کو بحال کرنا،انکو پوری انسانیت اور کائنات کیلئے باعث رحمت بنانا اور تیار کرنا،انکی باطنی کائنات کو منشائے الہی میں ڈھالنا،انکو عمدہ صفات اور اعلیٰ صداقتوںکے نور سے آشنا کروانا صاحب وقت فقیر اور درویش کی ذمہ داری ہے۔یا اللہ ۔تو اس فریضہ کو ادا کرنے کی استطاعت بھی عطا کر اور اپنے بندوں کی مدد و اعانت بھی فرما۔امین۔