To Download or Open PDF Click the link Below

 

  تمام امتیں اور پوری انسانیت پیغمبران اور مذاہب کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکی ہیں۔
عنایت اللہ
۱۔ادیان عالم میں بیداری کی روح پھونکنا ،مذاہب پرست امتوںکو نیا ولولہ عطا کرنا، مذہب کے بارے میں بے حسی اور بے عملی کو ختم کرنا، مذاہب کے مطابق قول و فعل کے تضاد کودور کرنا، امتوں کی عملی زندگی میں اتفاق،اتحاد کو قائم کرنا،مخلوق خدا اور خاص کر پیغمبران کی امتوںمیں اخوت و محبت کے جذبوں کو اجاگر کرنا، مذاہب کی روشنی میں ادب و عمل کے کردار تیار کرنا،پیغمبران کے اعتدال و مساوات کے عمل کو متعارف کروانا،انکے شرافت اور صداقت کے معیار کو برقرار رکھنا، انکی فطرتی صفات کو تسلیم کرنا، عالمی سطح پر علمی ،ادبی اور روحانی مجالس کا انعقاد کرنا، مخلوق خدا کو خالق کی نگاہ سے دیکھنا۔ مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنا۔خدمت خلق کے ورد کو عام کرنا،انسان کی عظمت و تعظیم کی شمع کو دلوں میں اجاگرکرنا، مذہبی صداقتوں کے نور کو پھیلانا، مذاہب کی افادیت کو پھر سے مخلوق خدا میں روشناس کروانا، انکی اہمیت کوواضح کرنااور انکی فلاحی قوتوں کو انسانیت کیلئے بروئے کار لانے کی طرف انکی توجو مبذول کرانا،مذاہب کی بالا دستی حکومتی سطح پر نافذالعمل کروانا، خالق کی پہچان کروانا ، توحید اور توحید پرستی پر کا راہ دکھانا،مذہب پرست امتوں کو نفاق اور نفرت کے عذاب سے باہر نکالنا، مذاہب سے نفرت، نظریات سے نفرت ،انسانوں سے نفرت کا سبب بنتا ہے ۔ ،انسانوں سے نفرت خدا کے عمل سے نفرت جو خداسے دوری کا سبب بنتا ہے ۔ مذہب کے نظریات اور طرز حیات سے دوسرے متضاد نظریات کے انسانوں کو روشناس کروانا، مسلم امہ کا فریضہ اولین ہے ۔ کیونکہ الہامی ،روحانی اور آسمانی آخری صحیفہ قرآ ن پاک اس امت کا نصیب بنا کر اتارا گیا۔یا اللہ اس امت کو اپنا فریضہ ادا کرنے کی تو فیق عطا فرما۔امین
۲۔انسانی زندگی کا سلسلہ آفرینش ،آدم سے لیکر قیامت تک جاری و ساری ہے اور رہے گا۔پیدائش اور موت کا سلسلہ جاری ہے۔ ضابطہ حیات و ممات ازلی اور ابدی ہے ۔ اس ضابطہ ازلی سے نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ ہی فرار حاصل کر سکتا ہے۔اسی طرح جو فرد،جو قوم، جو ملت اخوت و محبت،اعتدال و مساوات،ہمت و محنت، غور و فکر،صبر و تحمل اور عدل و انصاف کے فطرتی،الہامی اور دینی اوصاف سے متصف ہو ۔ جو ملت میدان کار زار میں یہ فطرتی اورالہامی خوبیاں بروئے کار لا کر کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہوتی جا رہی ہو۔ یہی لوگ ایک کامیاب زندگی کے وارث ہوں گے۔اس طرح جو لوگ ان اعمال سے گریزاں ہوتے ہیں،غفلت اور کوتاہی کا شکار ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ تنزلی اور زوال کی منزل کے مسافر بن جاتے ہیں۔ قانونِ ازلی اپنا کام جاری رکھتا ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
۳۔ مسلم امہ اسکے سربراہان اس وقت آزمائش کے کٹھن دور سے دو چار ہے۔یہ ملت اپنے حقوق و فر ائض سے غافل،زندگی کی جد و جہد سے گریزاں،علم و عمل سے محروم، نظم و ضبط سے عاری، ہر قسم کی برائی اور کرپشن سے دو چارہے۔ یہ ملت فرقہ پرستی کی آگ میں جل رہی ہے۔یہ ملت اپنی جمعیت جمہوریت کے جاہل بے دین سیاستدانوں کی سیاسی جماعتوں میں منقسم ہو کررہ چکی ہے۔ یہ ملت نفرت اور نفاق کی شکار ہو چکی ہے۔ یہ ملت جمہوریت اور بادشاہت کے نظام اور سسٹم کے عذاب کے نتائج سے بری طرح دوچارہے۔ ملت اسلامیہ اس وقت ۵۷ ممالک پر مشتمل ہے۔ اسکی آبادی تقریبا ایک ارب پنتالیس کروڑ کے قریب ہے۔انکے پاس دنیا کی بہترین زمین ، انکے پاس قدرت کی عطا کی ہوئی بیشمار قیمتی اور انمول قسم کی معدنیات،انکے پاس پانی کی وافر مقدار، ہر قسم کی اجناس ،ہر قسم کا گوشت ، ہر قسم کا پھل،ہر قسم کے میوہ جات، تیل ،گیس کے وافر ذخائر،انکے پاس پہاڑ،انکے پاس میدان،انکے پاس ریگستان،انکے پاس دریا،انکے پاس وسیع و عریض سمندر۔یہ تمام انعامات انکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کئے ہوئے نایاب اور لا جواب عظیم تحفے ہیں۔مسلم امہ فطرت کے ان انمول عطیات کی نہ قدر کر رہی ہے اور نہ ہی ان سے پوری طرح افادیت کر رہی ہے۔اسکی ذمہ دار بے دین جمہوریت اور بادشاہت پسند ،دین کش قیادت ہے۔جو اس امت کے نظریات،تعلیمات اور کردار کی تباہی کا باعث ہے۔
۴۔ مسلم امہ اس وقت تنزلی،گمراہی،انتشار اور تباہی کی اتھاہ گہرائیوں سے دو چار ہے۔ اس امت کے زوال کے سیاق و اسباق، اسکی وجوہات،اسکے واقعات کیا ہیں اور کیوں ہیں۔ اس امت نے اوج ثریا سے پستی کا سفر کیوں اور کیسے طے کیا ۔ اقوام عالم میں اس کی تذلیل کیوں ہوئی اور کیوں ہو رہی ہے۔ یہ مسلم امہ نفرت اور نفاق کا شکار کیوں اور کیسے ہوئی ہے۔یہ آپس میں جنگوں میں بری طرح پھنس چکی ہے۔یہ آپس میںجنگیں لڑ کر اپنی فوجی طا قت ،انفرادی طاقت،معاشی طاقت تباہ کر تے چلے آرہے ہیں۔انکے ممالک اور انکے عوام بھوک ننگ اور محرومیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ جس کا جی چاہے مسلم ممالک میں سے کسی ملک پر حملہ کر دے۔ ان پر قبضہ کر لے۔انکے معصوم بچے بچیوں،نوجوانوں کا قتال شروع کر دے۔ انکو پنجروں میں بند کر کے سخت اذیتوں میں سے گذار دے، انکی مجبور و محبوس اور بے بس مستورات کی عصمتوں کو لوٹ لیں۔ یہ امت دین کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو کر رہ گئی ہے ۔ یہ امت اپنی منزل سے بھٹک چکی ہے۔ یہ امت جمہوریت اور بادشاہت کی قیادت کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جا چکی ہے۔ مسلم امہ کے ممالک کے سر براہ نا اہل ،جاہل ،عیاش اور تعیش سے بھرپور بے دین زندگی گذارنے کے رسیا ہو چکے ہیں۔ یہ بد نصیب دین کش نظریات اور دستور مقدس کے منافی، مسلم امہ پر جمہوریت اور بادشاہت کی طرز حکومت مسلط کئے بیٹھے ہیں ۔ دین کے نظریات،دین کی تعلیمات ،دین کے دستور حیات،دین کے طرز حیات اور دین کی صداقتوںکا قا فلہ ان دینی منافقوں اور ظالم غاصب حکمرانوںنے لوٹ لیا ہے ۔ مسلم ممالک کی قیادت بادشاہت کے غاصب اور جمہوریت کے باطل یزیدی نظام حکومت اپنے اپنے ممالک میں رائج کئے بیٹھے ہیں۔
۵۔اے مسلم امہ کے جہالت کے دیدہ ورو! غور سے سن لو۔دین محمدیﷺ پوری انسانیت کی میراث ہے۔مسلم ممالک کے قائدین اور تمام سربراہوں نے مسلم امہ سے دین محمدی ﷺ کی وراثت چھین رکھی ہے۔دین کے دستور مقدس اور ضابطہ حیات سے پوری ملت کو الگ تھلگ کر رکھا ہے۔اسلامی ممالک کو کفر نگریوں میں بدل رکھا ہے۔توبہ تائب کا وقت سر پر آن پہنچا ہے۔ یہ کیسی منافقانہ طرز حیات ہے۔کہ منبر و مسجد میں بیٹھ کر یزید پر لعنت بھیجتے ہو،اسکو ظالم،قاتل اور غاصب کے نام سے پکارتے ہو۔ حضرت امام حسینؓ علیہ السلام اور انکے معصوم و بیگناہ قافلے کا قاتل قرار دیتے ہو۔ نام امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ علیہ السلام کا لیتے ہو۔عقیدت اور محبت کے نذرانے ادھر پیش کرتے ہو اور علمی، عملی زندگی یزید کے نظریات کی گذارتے ہو۔یہ کیسے ممکن ہے کہ تم زندگی تو یزید کی گذارتے جاؤ اور عاقبت عالی مقام کی مانگتے جا ؤ ۔ یہ کردار کا تضاد اور منافقت کا عذاب جمہوریت کے سیاستدانوں ،تمام جماعتوں کے قائدین اور حکمرانوں نے معصوم،بیگناہ اور بے بس مسلم امہ کے فرزندان پر مسلط کر رکھا ہے۔ دینی علم و عمل سے بیگانگی انکی جہالت کا سبب بنتی چلی جا رہی ہے۔ نفاق اور نفرت مسلم امہ کی وحدت کو ریزہ ریزہ کئے جا رہا ہے ۔ مسلم امہ گمراہی اور تباہی کے گہرے شگافوں میں دفن ہوتی جا رہی ہے۔ مسلم امہ تحقیق و جستجو سے غافل اور محنت و ہمت کے جذبوں سے محروم ، جد و جہدکی شاہراہ سے دور، غفلت کے بیاباں میںاذیتوں سے دوچار، سسکتی،تڑپتی ،ذلیل ہوتی اور دم توڑتی چلی جا رہی ہے۔ یا اللہ اس پیاری ملت اور پوری انسانیت کو اس سانحہ سے بچا۔مسلم امہ کو بقائے حیات کیلئے جمہوریت اور بادشاہت سے نجات دلانا اہل فقر اور اہل بصیرت پیشواوٗں کا فرض بن چکا ہے۔
۶۔ بے حسی،بے عملی اور غفلت کی موت سے بچانا،نفاق اور نفرت کو ختم کرنا، جمہوریت کے جہالت کے اندھیروں کو دین کے علم اور عمل کی روشنی سے منور کرنا،اتحاد قائم کرنا،عمل پیہم اور کشمکش حیات میں بیدار ی پیدا کرنا،عملی زندگی میں ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ چلنا،حقیقی بیداری پیدا کرنا،قول و فعل میں مطابقت پیدا کرنا، اخوت و محبت کے درس کو عام کرنا، عفو و در گذر سے کام لینا، خلق عظیم کی قندیلوں کو روشن کرنا،دین کی اعلیٰ صفات کو بروئے کار لانا، حکمرانوں کا فرعونی محلوںاور تعیش کی زندگی سے نکل کر کٹیا میں سادگی کی زندگی اختیار کرنا۔ جمہوریت اور بادشاہت کے فرعونی اور یزیدی طرز حیات کو ترک کرنا، دین کی روشنی میںشورائی جمہوری نظام کو نافذ کرنا، سرائے فانی کی حقیقت سے آشنا ہونا۔ دین کی صداقتوں کی اطاعت کرنا، لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرنا،خالق کی مخلوق کو عزت و احترام دینا، ذکرو فکر کے نور سے سینہ منور کرنا،وحدت آدم کا شعور بیدار کرنا،اتحاد بین المسلمین کی گرہ کھولنا،یونائیٹڈ سٹیٹ آف مسلم کی اہمیت اور اس جذبہ کی بیداری کیلئے جوش عمل پیدا کرنا،ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کرنا، مسلم امہ کو و حدت ملت میں ڈھالنا، حرم کی پاسبانی کیلئے دنیا کے تمام اسلامی ممالک کا ایک خلیفہ وقت کا چناؤ کرنا، تما م مسلم ممالک کو ایک ملک تصور کرنا،ان پر دستور مقدس کا نفاذ کرنا، تمام ممالک میں گورنر راج قائم کرنا، اجتماعی طور پر خلیفہ ء وقت کی اطاعت کرنا، اخوت و محبت کے درس کو عام کرنا، انسانیت کیلئے باعث رحمت نظام قائم کرنا، شمع رسالت کے نور کو عام کرنا، مخلوق خدا میں اعتدال و مسا وات کا درس پھیلانا ، خوف خدا کو دلوں میں پیدا کرنا،قرآن فہمی اور اسکی اطاعت پر کار بند ہونا، صاحب کتاب پیغمبران اور انکی آل پر درود و سلام بھیجنا اور انکی شان عظیم سے متعارف کروانا،نفرتوں کو محبتوں میں بدلنا،اس جہان رنگ و بو کو سنوارنا،ساری خدائی کو کنبہ خدا سمجھنے کی تعلیمات کو روشناس کرانا،زخم خوردہ انسانیت کے علاج اور شفا کیلئے کوشاں رہنا،شورائی نظام حکومت قائم کرنا،دین کے ضابطہ حیات کو سرکاری سطح پر نافذ کرنا،انسانیت کے قافلے کوامن اور سلامتی کی منزل تک پہنچانا، جمہوریت اور بادشاہت کی گرفت سے پیغمبران کی امت کو نجات دلانا،اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے نظام کو قائم کرنا۔در اصل اسلام کی روح کو بنی نوع انسان کو روشناس کروانا ایک افضل عبادت بھی ہے اور مخلوق خدا کی فلاح بھی اس میں مضمر ہے۔
۷۔زبور شریف،توریت شریف،انجیل شریف اور قرآن شریف یہ تمام آسمانی صحیفے اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے انسانوں کی سلامتی اور فلاح کے لئے نازل فرمائے۔یہ کسی ایک فرد یا کسی ایک فرقے یا کسی ایک قوم یا کسی ایک ملت کی ملکیت ہر گز نہیں۔من و عن انکو ماننے والے،انکی تعلیما ت کو بروئے کار لانے والے انکے وارث ہونگے۔جو ان صحیفوں کو تسلیم کریں ۔ علم اور عمل نمرود،فرعون اور یزید پر عمل پیرا ہوں۔وہ ان صحیفوں کے منکر یا منافق کہلا سکتے ہیں و ارث نہیں ۔لہذا جمہوریت،بادشاہت یا کوئی اور طرز حکومت ان پیغمبران کی امتوں
کیلئے زہر قاتل ہے۔وقت کے شہنشاہو ں کو !جن سے آج زوال ڈرتا ہے یہ پیغام انکے لئے ہے۔یہ آواز انکے سینۂ ویراں تک پہنچاناصرف ضروری ہی نہیں بلکہ مجبوری ہے۔تا کہ وہ گورستان میں پہنچنے سے قبل اپنی جانوں پر ظلم کا مزید بوجھ نہ ڈال سکیں۔اس جہان فانی سے کوچ کرنے سے قبل اس نمرودی ،فرعونی اور یزیدی تہذیب کو ظالم،غاصب تہذیبوں کے قبرستان میں اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے جائیں۔توبہ کا دروازہ ان سب کیلئے کھلا ہے جو اس وقت زندگی میں موجود ہیں۔توبہ انکا حق ہے۔توبہ قبول کرنے والی ذات اقدس انکی منتظر ہے۔یا اللہ ان سب بر سر اقتدار قائدین اور تمام امتوں پر رحم فرما۔انکی خطاؤں کو معاف فرما۔انکو سیدھا راہ دکھا،انکو دین اور جمہوریت کے تضاد سے آگاہ فرما۔ انکو عمر والی پہلی زندگی سے نکال کر حضرت عمرؒ والی زندگی عطا فرما۔ آمین
۸۔حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد مصطفی ﷺ تک کے سلسلہ ء پیغمبران کی نفی نہ کرتے جائیں۔شب بیداری کے آنسو تمام پیغمبران کے سامنے انکی امتوں کیلئے سراپا فریاد بنے کھڑے ہیں۔یا اللہ ان پر رحم فرما۔ ان کو دہر کی آفات سے محفوظ فرما ، زندگی کا راز جو انکی آنکھ سے مستور ہے اس سے انہیں آشنا فرما۔ان خاموش ا لفاظ کی آواز کوانکی ضمیر کی وادی تک پہنچانا از حد ضروری ہے۔یہ آدم خور دھرتی بے شمار تاجور اور ہزاروں قافلے اس سے قبل اپنی اس رہ گذر سے گذار چکی ہے۔اس حقیقت سے آگاہی ہر کس و ناقص کیلئے ضروری ہے تاکہ انسانیت غفلت اور گمراہی سے بیدار ہو سکے۔
۹۔ اے شب بیدار ی کی حیات کے عارفو! اے شبِ تنہائی کی محفلوں کے مکینو !۔اے بے نشاں منزلوں کے مسافرو!۔اے فغانِ نیم شب کے مسافرو! ۔اے پیغمبران کے پیغام جاوداں کے وارثو !۔ آؤ مل کر غور کریں ، ظلمت کدے میں روشنی کی بات تو کریں۔حالات و واقعات کو پرکھیں،ان وجوہات کا کھوج لگائیں۔ ہر زاویہ سے ان تمام حقائق کو دیکھیں ۔ کہ کیا وجوہات ہیں۔ جن کی وجہ سے تمام پیغمبران کی امتیں انکی تعلیمات سے محروم،انکے نظریات سے دور،انکے روحانی رابطے سے قطع تعلق، انکے کردار کی عملی نفی،انکی صفات سے عدم د لچسپی،انکی صداقتوں سے بے نیازی،انکے حسن عمل سے علیحد گی ۔ انکے اخوت و محبت کے جذبوں کا فقدان ۔ انکے اعتدال و مساوات کے ضابطوں سے لا تعلقی۔انکے انسانی ادب و احترام کی قندیلوں کا خاتمہ ۔ انکی خدمت خلق کی کرنوںکی بے نور روشنیاں کب تک مخلوق خدا کو اپنی لپیٹ میں لیتی جائیں گی۔کب تک انسانیت اذیتوں اور مصیبتوں اورجنگوں کی زینت بنتی رہے گی۔کب تک یہ انسانیت کے قاتل ایٹم بم ، نائٹروجن بم،جراثیمی بم اور تباہ کن ہتھیار بناتے جائیں گے۔کب تک ترقی یافتہ ممالک معصوم،بے گناہ ،بے ضرر انسانو ںاوربے زبان مخلوق خدا پر چھتیس ہزار فٹ کی بلندی سے ڈیزی کٹر بموں سے بارش کرتے اور تباہی پھیلاتے رہینگے۔ کب تک کمزور ممالک پر تباہ کن میزائیلوں سے انسانیت اور مخلوق خدا کو نیست ونابود کرتے رہینگے۔کب تک ہنستی کھیلتی بستیوں کو نائٹروجن بموں سے خاکستر کرتے رہیںگے۔ کب تک جراثیمی بموں سے غیر ترقی یافتہ ممالک کی عوام میں بیماریاں پھیلاتے پھریں گے۔کب تک یہ ترقی یافتہ ممالک اپنے تباہ کن ہتھیاروں سے دنیا ئے عالم میں دہشت گردی اور عوام الناس کا قتال جاری رکھیں گے۔کب تک یہ عالمی دہشت گرد دنیا ئے عالم میں تباہی پھیلاتے رہیں گے۔کب تک یہ اسامہ بن لادن ایک خود ساختہ تن تنہا تخیلاتی دہشت گرد کے کریکٹر کو ختم کرنے کیلئے افغانستان اور پھر پوری دنیاکی عوام کو بری طرح کچلتے چلے جائیں گے۔کب تک ترقی یافتہ ممالک ڈیزی کٹر بموں،نائیٹروجن بموں ،جراثیمی بموں،تباہ
کن میزائلوں اور بد ترین مہلک ہتھیاروں سے اسامہ کے نام پر افغانستان کے قریہ قریہ،بستی بستی ، شہر، شہر ، ہسپتالوں،تعلیمی اداروں،عبادت گاہوں کو نیست و نابود اور انسانی جانوں کو خاکستر کرتے جائیں گے۔کب تک افغانستان کے بے گناہ ،بے بس، انسانوںکو آ ہنی سلاخوں میں پابندِسلاسل اور انسانیت سوز اذیتوں سے گزارتے رہیں گے۔کب تک یہ بد نصیب پیغمبران کے باغی اور مذاہب کے منافق مخلوق خدا کو بلا جواز زخموں،اذیتوں،دکھوں اور مصیبتوں سے دوچار کئے جائیں گے۔کب تک یہ قیادتیںاسامہ کی تلاش کیلئے دہشت گردی کے نام کی تذلیل کرتی پھریں گی۔
۱۰۔کب تک عراق پرمہلک ہتھیار تیار کرنے،ایٹم بم بنانے کے من گھرت،بے بنیاداور جھوٹے الزامات لگا کر اسکی جامہ تلاشی لیتے رہیں گے۔دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک ،ترقی یافتہ ممالک کے قائدین عراق کے صدام حسین اور اسکے تیار کردہ مہلک ہتھیارو ں ، نائٹروجن بموں،جراثیمی بموں اور ایٹم بموں کے ڈرامہ کودنیا کے سامنے پیش کرتے اور عراق کی معصوم،بے بس،بے ضرر اور بے گناہ عوام کو ڈیزی کٹر بموں،نائیٹروجن بموں، جرا ثیمی بموں، تباہ کن میزائلوںاور تباہی پھیلانے والے مہلک ہتھیاروں سے نیست و نابود کرتے اور انکی بستیوں کو خاکستر کرتے چلے جائیں گے۔ان کی لاشوں کو بے گور کفن گہرے گڑھوں میں دباتے رہیں گے۔کب تک انکے معصوم و بے گناہ بچوں کے اعضا فضاؤں میں بکھیرتے رہیں گے۔ کب تک یہ عالمی قائدین،انسانیت کے قاتل !۔ اپنے مال و جان،اپنے گھر اور اپنے ممالک کی حفاظت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیتے رہیں گے۔یہ کب تک الٹے بانس بریلی کی منزل کی طرف گامزن رہیںگے۔ یہ انسانیت کے ملزم اور مجرم ثابت ہو چکے ہیں۔ ان پر انسانیت کے قتال کی تعزیرات لگ چکی ہے۔یہ اب انسانیت کو عالمگیر جنگ کی طرف دھکیلتے جا رہے ہیں اور یہ آخری راؤنڈ کھیلنا چاہتے ہیں ۔ ا یٹم بموں کے ٹکراؤ کا عبرتناک منظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھو!۔ ان عالمی طاقتوں کے قائدین کا ظلم اور جبر ان مظلوموں کو ایسے اوزار بنانے کیلئے مجبور کر رہا ہے۔کہ وہ ایک ہی وقت میں انکے تمام ایٹمی پلانٹوں کو تباہ کر سکیں۔ اس دہشت گردی کے بعد کسی اور جنگ کی ضرورت نہیں ہو گی۔
۱۱۔اسی طرح اب ایران اور شام کو نشانہ عبرت بنانے کیلئے انکا میڈیا عالمی سطح پر انکے خلاف جنگ کا آغاز کر چکا ہے۔ مناسب وقت کی تلاش میں ہیں۔کب اور کیسے ان کے ممالک کو بھی حشر کا میدان بنایا جائے۔
۱۲۔دنیا کا کوئی قتل ان عالمی قائدین کی پشت پناہی کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس سے قبل بوسینیا کے بچوں ، بوڑھو ں ، نوجوانوں اور مستورات کاقتال ان بڑی قوتوں کے قائدین کی پشت پناہی کی بنا پر بڑی بے رحمی سے انکے حواری کرتے رہے ہیں۔انکی اجتماعی قبر یں آج تک دستیاب ہوتی جا رہی ہیں۔انسانی زندگیوں کو کچلنا انکی فرعونی طاقت کے استعمال اور یزیدی تہذیب کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ان پیغام حیات دینے والی امتوں کے موجودہ قائدین پیغام مرگ بن کر انسانیت پر ٹوٹ پڑے ہیں ۔ انہوں نے عدل و انصاف کے ضابطہ کو تار تار کر دیا ہے۔ پیغمبران کی امتوں کے دور حاضر کے قائدین انسانیت کے قاتل اور پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات کے ہزن بن چکے ہیں۔
۱۳۔انڈو نیشیا میں آبادی کی بنیاد پر ایک عیسائی ریاست قائم کر کے جمہوریت کے اصول و ضوابط کی ا فا دیت اور اسکی روشنی کو دنیا ئے عالم کے سامنے ایک در خشندہ مثال کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف کشمیر میں کشمیریوں کو حق خود ارادی کے حصول کی خاطر ایک طویل
عرصہ سے کشمکش حیات میں مبتلا کر رکھا ہے۔دنیا کی عدالت یو این او نے ۱۹۴۸ سے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔یہاں کشمیریوں کی پانچ،چھ لاکھ انسانی جان کچلی جا چکی ہے۔ انکے لاکھوں مرد و زن معذور بنا دئے گئے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو یہ باطل اور گمراہی کا راستہ اختیار کئے بیٹھے ہیں۔ جو ظلم کی انوکھی داستاں رقم کر رہے ہیں۔ جو اس ظلم کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ یہ وہی فاجر ،فاسق اور ظالم قائدین ہیں جو عیسائیت کے بھیس میںنمرود ،فرعون اور یزید کے ایجنٹ اور شر کے پجاری ہیں۔یا اللہ انکو راستگی کا سفر عطا فرما۔ان کو راہ ہدایت بخش۔انکو مذہب کی روشنی عطا فرما۔انکو پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات کا محافظ بنا۔یا اللہ تو کار ساز مطلق ہے تو انکے دلوں کو بدل دے۔یا اللہ تو انکی عاقبت سنوار دے۔ تو ہم سب پر اور آنیوالی نسلوں پر رحم فرما۔امین