To Download or Open PDF Click the link Below

  ًیہودیت،عیسائیت اور مسلم امہ مذاہب کے منافقوں اور منکروں کی گرفت میں۔
عنایت اللہ
۱۔کیا یہ وہی یہودی ملت ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا کلمہ پڑھا اسکے بعد ا س ملت نے فرعون کا زبر دست مقابلہ کیا۔ طرح طرح کی اذیتیں برداشت کیں۔ پیغمبر خدا کا ساتھ دیا۔ اور فرعونیت کو زیر اور کچل کر رکھ دیا۔فرعون کا جبر و ظلم ختم کیا۔ اس کا سلسلۂ قتال بند کیا۔مخلوق خدا کو راہِ راست دکھانے میں پیغمبر خدا کا ساتھ دیا۔توریت شریف جیسی الہامی کتاب پر ایمان لائے۔ اس دور کے قافلہ کی رہنمائی فرمائی۔بنی نوع انسان کیلئے رشد و ہدایت کے چراغ روشن کئے۔ مخلوق خدا کو توحید کے نغمیں سنائے۔
۲۔کیا یہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کی وہی امت ہے ۔ جنہوں نے پیغمبر خدا اور ان پر نازل ہونے والی کتاب انجیل مقدس پر ایمان لایا۔انکی تعلیمات کی قندیلیں دلوں میں منور کیں۔ انہوں نے زخموں پر مرہم،بیماروں کو شفا،بھوکوں کو کھانا،حاجتمندوں کی حاجت روائی کا کردار اپنایا۔ انہوں نے رہبانیت اور فقر کے گلستان کی آبیاری کی۔ درد دل کی دوا عام کی۔انسان کو انسانیت کے آداب سکھائے،خدمت خلق کے چراغ روشن کئے۔ظلم و جبر اور قتل و غارت کا خاتمہ کیا۔اخوت و محبت اور ایثار و نثار کی ایسی شمع روشن کیںکہ بنی نوع انسان اس پر پروانوں کی طرح اکٹھے ہوتے گئے۔
۳۔کیا یہ محمد الرسول اللہﷺ رحمت اللعالمین کی وہی امت ہے۔ جن کے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ صرف انسانیت کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری مخلوق خدا کیلئے باعث رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے رحمتیں تما م کیں،حسن اخلاق،حسن کردار،حسن عمل،حسن صفات اور حسن صداقت کی تکمیل کی۔آج انکی امت دین کی تعلیمات اور اسکے نظریات کے تمام اصول و ضوابط کو روندتی چلی جا رہی ہے۔کیا یہ مسلم امہ کا شیوا ہے ۔ مسلم امہ نے تو بنی نوع انسان اور آنے والی نسلوں کو توحید کا سبق اور دین کی تعلیمات اورحضور نبی کریمﷺ اور تمام پیغمبران کے کردار کی خوشبو کو اس جہان رنگ و بو میں پھیلانا تھا۔وہ تو خود جمہوریت کے باطل نظریات کی بری طرح شکار ہوچکی ہے۔یا اللہ اس امت کی رہنمائی فرما اور گمراہی کے عذاب سے نجات عطا کر ۔امین
۴۔موسوی،عیسوی اورمحمدیﷺ امتوں اور انکے مذہبی،روحانی پیشواؤں کی توجو حضرت موسیٰ کلیم اللہ،حضرت عیسیٰ رو ح اللہ اور حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ رحمت اللعالمین کی تعلیمات،انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات،انکے مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک،حسن عمل کے بے نظیر کردار،انکی اعلیٰ صفات،انکے روشن و منور الہامی صداقتوںپر مشتمل انمول معجزات،انکے انسانیت کی خدمت کے انوکھے اور نرالے واقعات،انکے بھوکوں کو خوراک، ننگوں کو لباس،زخموں کی مرہم،دکھوں کی دوا، بیماروں کو شفا،مخلوق خداکے دکھوں کا مداوا،اخوت و محبت کے شفیق اعمال اور ایسے تمام الہامی مذہبی جذبوں کی پاکیزہ اور منزہ امانتوں کو ایسے بروئے کار لائے کہ مذاہب کے نور کی روشنیاں اس جہان رنگ و بو میں پھیلتی گئیں۔ ذرا یہ تو بتاؤ ان صداقتوں کا نوراب کہاں سے اور کن امتوں کے پاس جا کر تلاش کیا جائے۔یا اللہ ہمیں پیغمبران کی صداقتوں اور انکے ر اہ راست کی منزل کا مسافر بنا۔یا اللہ ہماری کوتاہیوں کو در گذر فرما اور ہمیں مخلوق خدا کو عزت و احترام پیش کرنے کی توفیق عطا فرما۔امین
۵۔مذاہب پرست امتوں کا کیا حشر ہوا، ان پر کیا بیت گئی ، انکو زمانے میں کیسے رسوا کیا گیا، انکی کیسے تذلیل کی گئی، انکی پاکیزہ متاع حیات کو کیسے لوٹا گیا، انکی شکل کو کیسے مسخ کیا گیا، ان کو مذہبی انتشار کی چتا میں کیسے جھونکا گیا۔ان کو مذہب کے نظریات اور حکمرانی کے نظریات کے تضاد کا کیسے ایندھن بنایا گیا۔انکو پیغمبران کی تعلیمات اور انکے تعلیمی نصاب پر ایمان رکھنے اورنمرود ،فرعون اور یزید کے جمہوریت کی تعلیمات اور انکے تعلیمی نصاب کو سرکاری سطح پر عملی جامہ پہنانے کا پابند کیسے بنایا گیا۔معبد ،کلیسا اور مسجد میں عبادت خدا وند قدوس کی اورانکے بعد عملی پوجا نمرود ،فرعون اور یزید کے دانشوروں کے تیار کردہ تعلیمات اور تعلیمی نصاب کی۔ ان منافقوں اور باطل قیادتوں، قوتوں اور انکے غاصب ضابطوں کے وارثوں نے ان امتوں پر کیسے جمہوریت،بادشاہت اور آمریت کے کالے جادو سے قابو پار کھا ہے۔ پیغمبران کا تیار کیا ہوا عظیم اور لا جواب الہامی اور روحانی تہذیب و تمدن جس کی بنیاد حسن خلق،حسن عمل،حسن کردار پر مشتمل ہے ۔ خوف خدا اور دنیا کی بے ثباتی کا چراغ انکے دل و دماغ میں روشن و منور رہتا ہے۔ ازدواجی زندگی اورمعاشرتی زندگی کے ضابطے ،اعتدال و مساوات کے طر یقے ، عدل و انصاف کے قوانین، دینی اور دنیاوی الہامی اور روحانی نظریات پر مشتمل ضابطہ حیات ،عمدہ صفات اور لا جواب صداقتوں پر مشتمل مذہبی عمارت کا اینٹ اور گارا انکی امتوں سے کیسے چھینا جا رہا ہے۔
۶۔جس مذہبی عمارت کو جمہو ر یت ، آمریت اور بادشاہت کے رائج الوقت تباہ کن باطل اور غاصب ضابطوں ، مادہ پرستی،شہوت پرستی، جنسی آزادی، اقتدار پرستی،تعیش پرستی ، حق تلفی،نا انصافی، ظلم و جبر، معاشی اور معاشرتی قتل و غارت کے تباہ کن سیاسی قائدین، دانشوروں کے تیار کردہ تباہ کن فرعونی ،یزیدی میزائلوں سے تہس نہس اور خاکستر کر دیا ہو۔ مذہب کی روشن و منور ،پر نور عمارت کو ریزہ ریزہ ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔پیغمبران کی امتوں اور ان کے ملکوں پر پیغمبران کے باغی، انکی تعلیمات کے منکر،انکے نظریات کے قاتل، نمرود،فرعون،اور یزید کے ایجنٹ پیغمبران کی امتوں کی صفوں میں گھس آئے ہوں ۔ ان مذاہب کے منافق بر سر اقتدار قائدین نے مادیت اور حصول اقتدار کی جنگ جیت کر باطل سیاستدانوں اور غاصب حکمرانوں کے روپ میں ان امتوں پر حاکم وقت بن کر مسلط ہو چکے ہوں۔ انکے باطل نظام حکومت کو چلانے والی غاصب اعلیٰ سرکاری مشینری انکی قصیدہ گو بن چکی ہو۔ جبکہ بے بس رعایا انکے جھوٹے ذرائع ابلاغ ، جھوٹے پراپیگنڈے ، غیر ترقی یافتہ ممالک کے عوام کا معاشی اور معاشرتی بیجا قتال جو انسانیت کیلئے روح سوز ندامت اور شرمندگی کا عذاب بن کر ابھرتا چلا آرہا ہو۔ یہ تمام واقعات انکی بد بختی کے مرثیہ خواں بنتے چلے آرہے ہیں ۔
۷۔اللہ کے الہا می اور روحانی صحیفوں،پیغمبران کے فرمان اور بزرگان کے فرمودات پرسیاسی دانشو روںکے غاصب قوانین اور ضوابط کی بالا دستی قائم ہوتی جا رہی ہے ۔ اہل وطن کو بھوک کی آگ بجھانے، تن کو ڈ ھانپنے ، زندہ رہنے کیلئے اپنی بنیادی ضروریات کو حاصل کرنے، اسکے علاوہ ان حکمرانوںکی خاطر وسائل پیدا کرنے،انکے ٹیکس کلچر کو پورا کرنے انکے لئے سرکاری خزانہ بھر نے،انکی حکومتوں اور انکی سرکاری مشینری کے اخراجات برداشت کرنے،انکی مے پرستی،شہوت پرستی،نفس پرستی ، مادہ پرستی ، اقتدار پرستی،تعیش پرستی اور انکے جاہ و جلال والی زندگی کے لوازمات کو مہیا کرنے کے حصول میں غرق کر رکھا ہو۔ان حا لا ت و واقعات میں امتوں کی اصلاح اور فلاح اسلئے نہیں ہو سکتی کہ
انکا باطن مذہبی نظریات کا پجاری اور انکا ظاہر باطل نظریات کے عمل اور کردار کے تضاد کا شکار ہو چکا ہے۔ ان سے نجات حاصل کرنے کیلئے جمہوریت،بادشاہت اور آمریت کی سرکاری بالا دستی کو منسوخ اور ختم کرنا ہو گا۔اسکے بعد مذہبی ضابطہ حیات کوسرکاری سطح پر نافذالعمل کر کے انسانیت کو شر کی قوتوں سے محفوظ کرنا ہوگا۔
۴۷۔مذہب پرست امتوں کومذہب سے کیسے دور کیا جارہا ہے۔مذہب کے دستور حیات ،مذہب کی اخلاقیات،مذہب کی طرز حیات،مذہب کی تعلیمات، مذہب کے نظریات، مذہب کی ملکی سطح پر بالادستی کو منسوخ اور معطل کر کے مذاہب پرست امتوں اور پوری انسانیت کو اسکی افادیت سے کیسے محروم کیا جا رہا ہے۔پہلے مذہب کو فرقوں میں تقسیم کر کے اسکی اجتماعیت کو ختم کیا جاتا ہے۔ان فرقوں میں نفرت اور نفاق کی آگ لگائی اور بھڑکائی جاتی ہے۔اس فساد کو میڈیا کے ذریعہ پھیلایا جاتا ہے۔فرقہ پرستوں کی حکومتی سطح پر سرپرستی کی جاتی ہے۔حکومتی ایجنسیاںاور انکے خفیہ ورکر حکمرانوں کی نا پسندیدہ شخصیات کے قتال کا عمل جاری رکھتی ہیں۔حکومتیں پیغمبر ا ن ، انکے مذاہب،انکی تعلیمات اور انکی امتوں کی شکل ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ مذہب کو وجہ عناد اور فساد قرار دیتے ہیں اور ان پیغمبران کی امتوں کو بنیاد پرستو ں کا نام دیکر ملکی سطح پر سرکاری طور پر مذہب کی بالا دستی کو ختم کرتے چلے آرہے ہیں۔جو پیغمبر علیہ الاسلام،انکے مذہب اور انکی امت کے سا تھ ایک بہت بڑا دھو کہ ، ایک بہت بڑا ڈاکہ یہ بد نصیب رہزن ڈالے جا رہے ہیں۔
۸۔نمرود، فرعون اور یزید کے نظریات،انکی تعلیمات، انکی طرز حیات کو جمہو ر یت ، بادشاہت اور آمریت کی طرز حکومت کے ذریعہ پیغمبران کی امتوں پر ملکی سطح پر ان باطل اور غاصب قوتوں کی سرکاری بالا دستی قائم اور نافذالعمل کئے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ ہستیاں اہل کتاب پیغمبران،ان پر نازل فرمائے گئے الہامی صحیفے،انکا ضابطہ حیات،انکے نظریات،انکی تعلیمات،انکے اخلاقیات،انکے عدل و انصاف کے قوانین،انکے اعتدال و مساوات کے ضا بطے، انکے خدمت خلق کے اصول اور انکے انسانیت کی رہنمائی کے الہامی اور روحانی چراغوں کو سرکاری طور پر منسوخ کر کے پیغمبران کی امتوں کو نمرود ،فرعون اور یزید کے مذہب میں کنورٹ کیا جا رہا ہے۔جو پیغمبران کی امتوں کی تباہی کا سبب بن چکا ہے۔
۹۔ملکی سطح پر جمہوریت،بادشاہت اور آمریت کے حکمرانوں نے مذہب اور ملت کوفرقہ پرستی کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے بین الاقوامی سطح پر یہودیت ،عیسائیت اور اسلام کو فرقوں کی طرح ایک دوسرے مذہب کے خلاف صف آرا کر رکھا ہے۔ ذرا تعصب اور نفرت کی دنیا سے تو نکلیں۔ذرا نفاق اور فساد کی نگری سے تو باہر آئیں۔ذرا خیر اور شر کی پہچان تو کر لیں۔ذرا سلسلہ پیغمبراں اور انکی ملتوں کی طرف نظر اٹھا کر تو دیکھ لیں۔حضرت آدم علیہ السلام،اماں حوا کی طرف تو ایک نگاہ ڈال لو ، آفرینش نسل کی طرف تو غور کر لو،وحدت اور کثرت کے راز کو تو پہچان لو،تمام انسان ایک ہی درخت کی پتیاں ہی تو ہیں۔ فرشتوں اور جنوں کو فطرت نے صرف عبادت کا عمل ہی ودیعت کیا ہے۔حضرت انسان کو اس عبادت کے علاوہ ا خوت و محبت اور عشق و مستی کے جام عطا کئے اور آسمانی تحفہ کی اضافی دولت سے نوازا ہے۔ مذہب انسانیت کو فطرت کے عظیم تحفہ اخوت و محبت کی آبیاری کیلئے خلق عظیم، خدمت عظیم اور عبادت عظیم کی صداقتوںکے جلو ہ سے آگاہی بخشتا ہے ۔مذہب انسان کو خالق اور اسکی مخلوق سے متعارف کرواتا ہے۔ مذہب انسان کو اپنے خالق کی پہچان کرواتا ہے ۔ مخلوق خدا کے ادب و احترام اور عزت و
خدمت کا درس دیتا ہے۔خیر اور شر۔نیکی اور بدی کا انکشاف عطا کرتا ہے۔اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کا راستہ بتاتا ہے۔صبرو تحمل اور قوت برداشت کی افادیت سے آگاہ کرتا ہے۔انسانوں کے ساتھ حسن عمل اور حسن کردار سے پیش آنے کے اصول بتاتا ہے۔مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا شرف عطا کرتا ہے۔حقوق العباد اور حقوق اللہ کی ادائیگی سے انسانی دل و دماغ کو رو شناس کرواتا ہے۔ایثار و نثار کے جذبوں کو بیداری عطا کرتا ہے۔مذہب وحدت آدم،جمیعت آدم اور خدمت آدم کے شعور کو آفاقیت عطا کرتا ہے۔مذہب فطرت کی صداقتوںکو تسلیم کرنے اور انکی اطاعت کرنے کی رہنمائی فرماتا ہے ۔ مذہب کی اطاعت انسان کو معصوم اور انسانیت کیلئے بے ضرر ہی نہیںبلکہ منفعت بخش بنا دیتی ہے۔
۱۰۔مذہب کا سچا انسان جمہوریت کے فاجر اور کاذب ،بادشاہت کے جھوٹے اور ظالم ،آمریت کے باطل اور غاصب نظام اور انکے حواریوں اور پیروکاروں پر روز روشن کی طرح نمایاں اور کڑکتی بجلی ہوتا ہے۔وہ ظالم کا ہاتھ پکڑلیتا ہے اور اسے ظلم سے باز رکھتا ہے۔وہ مظلوم کو ظالم کے ظلم سے بچا لیتا ہے۔وہ دونوں کو عافیت کی نگری تک پہنچا دیتا ہے۔وہ ظالم اور مظلوم دونوں کی فلاح اور نجات چاہتا ہے۔ وہ انسانیت کے لئے بے ضرر اور منفعت بخش ہوتا ہے۔ وہ طیب ہستیوں کی تعلیمات اور کردار کا سفیر ہوتا ہے۔ وہ دل و دماغ،جان و روح اور قوت متخیلہ کو حقیقت کے عرفان سے آگاہی بخش جاتا ہے۔ وہ خیر کی صدا،وہ بھلائی کی ندا اور رشد و ہدائیت کے بجھے چراغوںکو جلاتا اور روشن کرتے ہوئے اپنی نا معلوم منزل کی طرف چل دیتا ہے۔
۱۱۔نالۂ نیم شب جب ملت کے ہدی خانوںسے اٹھ جاتا ہے۔اہل نظر
جگر سوزی کی لذت سے محروم کر دئے جاتے ہیں۔ روح کی پاکیزگی کی با لیدگی ختم ، خیال کی بلند ی ناپید اور اچھائی اور برائی کی تمیز مفقود ہوتی جاتی ہے۔ تو باطل قوتیں انسانیت کی بھلائی اور فلاح کا رخ موڑ دیتی ہیں۔اہل دانش دماغ سوزی کے کدال سے مذہب پرست امت کا حشر نشر کر دیتے ہیں۔پیغمبرکے ضابطہ حیات، نظریہ حیات،اسکی تعلیما ت ، اس کے حسن کردار، اسکے حسن اخلاق، اسکی اعلیٰ صفات،اسکی لا جواب صداقتوں کی تقلید سے انکامنہ موڑ دیتے ہیں۔مادیت اور اقتدار پر فوقیت حاصل کرنے کی خاطر یہ فرعونی طبقہ معاشی اور معاشرتی جنگ کا آغاز کر دیتا ہے۔ وہ اپنے اقتدار کے حصول کی خاطر ہر جائز و نا جائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ عوام الناس کا معاشی اور معاشرتی قتال شروع کر دیتے ہیں۔
۱۲۔صا لح فطرت مذہب پرست لوگ اس قسم کے باطل عمل سے گریز کرتے ہیں۔ باطل،غاصب عمل اختیار کرنا ہر گز مناسب نہیں لیکن ان بد بخت فرعونی نسل کے ایجنٹوں کو روکنا ان کا مذہبی اور دینی فریضہ ہوتا ہے۔انکی یہ کوتاہی مذہب و ملت کی تباہی کا باعث بنتی جاتی ہے۔یا اللہ تمام امتوں کو راہِ ہدایت بخش،امین