To Download or Open PDF Click the link Below

 

  مذہب کی اطاعت انسان کو معصوم اور انسانیت کیلئے بے ضرر بلکہ منفعت بخش بنا دیتی ہے۔
عنایت اللہ
۱۔اہل دل! اہل نظر! شب بیدار دیدہ وروں! کے در پر یہ سوال دستک دیتا جا رہا ہے۔زبور شریف،توریت شریف،انجیل شریف اور قرآن شریف کے الہامی صحیفوں کو تسلیم کرنے والو،انکو ماننے والو،ان پر ایمان لانے والو۔انکی ملتوں کے فرزندو ! اپنے اپنے پیغمبران کی عزت و ناموس کی پاسداری کا خیال تو رکھو،انکے حسن اخلاق،انکے حسن کردار،انکی اعلیٰ صفات،انکے افضل و اعلیٰ نظریہ حیات،انکے اولیٰ ضابطہ حیات،انکے عمدہ اخلاقیات،انکا بے نظیر تعلیمی نصاب،انکے خدمت خلق کے اصول ، انکے اخوت و محبت کے درس،انکے صبر و تحمل کے راستے،انکے ایثار و نثار کے طریقے، انکے ازدواجی زندگی کے ضابطے ،انکے خاندان کے قیام کے آداب،انکے اعتدال و مساوات کے اصول،انکے عدل و انصاف کے قوانین،انکی مخلوق خدا کی خدمت اور اعتدال و مساوات کے ان تمام آفاقی اصول و ضوابط کی حفا ظت اور نگہبانی تو کرو۔ انکو بروئے کار تو لاؤ۔ ذرا غور تو کرو کہ چند نفوس پر مشتمل یہ نمرودی ،فرعونی اور یزیدی طبقہ جمہو ریت، بادشاہت اورآمریت کے طرز حکمرانی سے مذہب کی تمام الہامی تعلیمات اور ضابطہ حیات کو سرکاری سطح پر یک قلم منسوخ اورانکی تقلید کو سرکاری سطح پر ختم کرتے چلے آرہے ہیں۔ مذہب کی تہذیبی عمارت کو پاش پاش کئے جا رہے ہیں۔ انکی جگہ سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ اپنی اپنی افادیت کے غیر مستند ضابطہ حیات اور اسکی تعلیمات کی سرکاری بالا دستی قائم کر کے ان امتوںکی نسلوں کو مذہب کش نظام حیات کا کلمہ پڑھاتے اور اسکی تقلید جبر کی تلوار سے سرکاری طریقہ کار کے مطابق کرواتے چلے آرہے ہیں ۔جہاں مذہب کے نام پر کاذب حکمران قابض ہو جائیں وہاں صداقت کا سفر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر اعمال اور کردار کی عبادت نمرود ،فرعون اور یزیدکے تابع فرمان ہو تو معبد کلیسا اور مسجد کی عبادت سے منافقت کی آبیاری ہو گی۔اہل مذاہب اتنے واضح راز کو کیوں نہیں سمجھتے۔
۱۔یہودیوں،عیسائیوںاورمسلمانوںکوغورکرناہوگا۔
۲۔ ایک ٹیبل پر بیٹھنا ہو گا۔ نفرتوں کو ختم کرنا ہوگا۔
۳۔ بنی نوع انسان اور دوسرے عالمگیر نظریات کے ماننے والوں کے سامنے اپنے
مذہبی کردار کی خوشبو کو پیش کرنا ہوگا۔
۴۔ سلسلہئِ پیغمبران ،مذاہب اوران کی الہامی تعلیمات سے روشناس کروانا ہوگا ۔
۵۔ مذہب کی افادیت اور آفاقیت سے آ گاہ کرنا اور فکر سے کام لینا ہوگا۔
۶۔ حقائق کو پرکھنا ہوگا۔ ایک دوسرے کی عزت و آبرو کو بحال کرنا ہوگا۔
۷۔ایک دوسرے کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرناہوگا۔ آپس کی جنگوں کو بند کرنا ہوگا۔
۸۔ حکمرانوں اور سیاسی دانشوروں کی نفرت اور نفاق کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانا ہوگا ۔
۹۔ ہمیں تمام امتوں کو آگاہ کرنا ہوگا کہ تمام مذاہب کے بنیادی نظریات اور انکی
تعلیمات اور تما م پیغمبران کا سلسلہ ایک ہی مشن کے چراغ ہیں۔
۲۔مذہبی پیشواؤں، رہبانیت میں گم فقیروںاورصاحب بصیرت مذہبی راہنماؤں
کوآگے آنا ہو گا۔ پیغمبران،انکی تعلیمات، انکے ضابطہ حیات،انکے نظریات،انکے ، کردار ، انکے اخلاقیات ،انکے عدل و انصاف کے طریقے ،انکے اخوت و محبت کے جذبوں،انکے ادب و احترام کے طریقہ کار، انکے بخششوں اور شفقتوں کے درس،انکے دلوں اور روحوں کے ساز کو چھیڑنے والے مضراب،انکے توحید کے گھنگرو،انکے ذکر کی جھنکار، انکے راحت اورمستی کے حسین کردار کے جام کو دنیائے عالم کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ پیغمبران اور انکے مذاہب کے مسخ شدہ ضابطہ حیات اور طرز حیات کو بحال کرنا ہو گا۔ جمہوریت کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے مذاہب پرست امتوں کی تعلیمات اور نظریات کے تیار کردہ کردار اور انکے تشخص کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔
۱۔پوری انسانیت اور آنیوالی نسلوںکو جمہوریت کے عذاب نے انکی الہامی اور
روحانی تعلیمات اور اسکی افادیت سے محروم کر رکھا ہے۔
۲۔ مذہبی تشخص نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔
۳۔انکی تعلیمات، انکے نظریات اور کردار کوبحال کرنا ہو گا۔
۴۔انکے اخلاق سازی کے عمل کو سلام، انکے دلوں میں اترنے والے افکار کو سلام۔
۵۔ انکے دنیا کی بے ثباتی کے درس کو سلام، انکی بے سرو سامان والی زندگی کو سلام۔
۶۔انکے دلوں میں اترنے والے اعمال کو سلام،انکے دلوں کو تسخیر کرنے والے
کردار کوسلام۔
۷۔انکے عدل و انصاف کے اصولوں کو سلام،انکی اخوت و محبت کی جلائی ہوئی
شمع کو سلام،
۸۔انکے ایثا رو نثار اور خدمت خلق کے ضابطوں کو سلام، انکے نقش قدم پر چلنے والوںکو
بیشمار سلام،انہیں اپنے پیغمبران کی عظیم شان کو پھر سے بحال کرنا ہوگا۔
۹۔پیغمبران کے نظریات، تعلیمات اور ضابطہ حیات کو سمجھنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر
اکٹھا ہونا ہوگا ۔ انکے تقدس کو قائم کرنا ہوگا۔
۱۰۔انکے نظریات اور تعلیمات اور ضابطہ حیات کو پھر سے بحال کرنا ہوگا۔
۱۱۔پیغمبرا ن کے طیب و پاکیزہ اور روشن و منور اسما کو ایک تسبیح میں پرونا ہو گا۔
۱۲۔ان کی سوانح حیات کی یاداشتوں کو نوع انسانی میں عام کرنا ہوگا۔
۳۔نمرود اور ابراہیم خلیل اللہ کے واقعات، داؤد علیہ السلام پر زبور شریف کے الہامی
صحیفہ کا نزول ،فرعون اور موسیٰ کلیم اللہ کے حالات اور ان پر توریت شریف کا نزول،عیسیٰ روح اللہ کے معجزات اور ان پر انجیل مقدس کا نزول اور محمد الرسو ل ا للہﷺ کے کردار اور رحمت اللعالمین کے لقب کے مضمرات اور ان پر قرآن پا ک کا نزول۔ انکی عزت و احترام کی شمع کو پھر سے روشن کرنا ہو گا۔
۱۔ زبور شریف،توریت شریف،انجیل شریف اور قرآن شریف جیسے الہامی صحیفوں کو
یکے بعد دیگرے ان پیغمبران پر کیوںنازل فرمایا گیا۔
۲۔ وہ انسانیت کو کیا اسباق دیتے رہے۔انکی تعلیمات کیا ہیں۔
۳۔انکے نظریات کیا ہیں۔انکا طرز حیات کیا ہے۔انکا مذہبی نقطۂ نظرکیا ہے۔
۴۔ان پیغمبران کی تعلیمات میں مذہبی نظریات کے بنیادی عنصر کون سے ہیں۔
کونسے احکام کا ارتقائی عمل جاری رہا۔
۴۔اخلاقیات کی تعلیمات،اخوت و محبت کی تعلیمات،ادب و احترام کی تعلیمات ،
اعتدال و مسا وات کی تعلیمات، خدمت خلق کی تعلیمات،نیکی بدیکے نظریات کی تعلیمات ،
ازدواجی زندگی کی تعلیمات، ماں باپ کے ادب کی تعلیمات، خیر اور شر کی پہچان کی
تعلیمات،توحید پرستی کی تعلیمات، تمام انبیا علیہ السلام اور انکی امتوں کو تسلیم کرنے
کی تعلیمات،ان تمام انبیا علیہ السلام اور انکی الہامی کتب پر ایمان لانے کی
تعلیمات،ان پر درود سلام بھیجنے کی تعلیمات، اسکے بعد دائرہ اسلام میں داخل
ہونے کی تعلیمات،نماز جیسی پنجگانہ عبادت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی
آل پر درود بھیجنے کی تعلیمات،اسکے علاوہ حقوق ا لعباد اور حقوق اللہ کی تعلیمات کے
حقائق کو پرکھنا ہو گا۔
۱۔ تمام سیاستدانوں اور حکمرانوں اور مذہبی پیشواؤں کے پیدا کردہ اختلافی واقعات اور اصل حقائق کو ایک دوسرے کیسا تھ مل کر سمجھنا ہو گا۔
۲۔تمام پیغمبران کی امتوں کا اور بالخصوص ا مت محمدی ﷺ کا فریضہ اولین بنتا ہے
کہ وہ پیغمبران کے دستور حیات اور نمرود ، فرعون،اور یزید کے دستور حیات کا
موازنہ کر کے تمام امتوں کو اور پوری انسانیت کو اس سے آگاہی بخشیں۔
۳۔انکو آپس میں الجھنے کی بجائے حقائق کو سمجھنا ہوگا۔ مذہبوں میں فرقہ واریت کی
آگ کس نے جلائی اور مذاہب میں نفرت اور نفاق کو پھیلانے والے کون ہیں۔
۴۔مذہبی پیشواؤںاور دانش برہانی کے وارثوں سے ملتجی ہوں کہ وہ اپنے اپنے
مذہب کی قندیلیں روشن کریں۔
۵۔ اپنی اپنی امتوں اور پوری انسانیت سے محبت کی میٹھی زباں اور اخوت کے
شیریں بیاں سے انکو پیغمبران اور انکے مذاہب کی تعلیمات اور انکے فلسفہ حیات
سے آگا ہی بخشیں اور اصل حقائق کی گرہ کھولیں اور انکو راہ راست کی منزل کی
رہنمائی فرماویں خیر کی دنیا کو پھر سے آباد کریں۔نمرود،فرعون اور یزید کے ایجنٹوں
کے جمہو ر یت ،بادشاہت اور آمریت کے مذہب کش فتنہ سے نجات کا راستہ
مذہب کے ضابطہ حیات، نظریات اور تعلیمات کی روشنی میں ڈھونڈ نکالیں۔
۵۔عقلِ سنگدل اور سیاست کے دانشوروں نے بنی نوع انسان،تمام مخلوق خدا اور اس حسین و جمیل کائنات کو تباہ و برباد،نیست و نابود اور خاکستر کرنے کیلئے ایک طویل جد و جہد،ایک طویل کوشش،ایک طویل غور و فکر کے بعد ایسے علوم،ایسی سائنس ،ایسی ایجادا ت ، ایسے تباہ کن ہتھیار،ایسا تباہ کن اسلحہ، ایسے تباہ کن جنگی جہاز،،ایسی تباہ کن آبدوزیں،ایسے تباہ کن میزائل، ایسے تباہ کن ڈیزی کٹر بم،ایسے تباہ کن جراثیمی بم،ایسے خاکستر کرنے والے نائٹروجن بم،ایسے اس کائنات کی ہر قسم کی مخلوق کو ختم کرنے اور اس حسین و جمیل جہان رنگ و بو کومسخ کرنے،ویرانے اور کھندرات میں بدلنے والے، ایٹم بموںکے انبار، ترقی یافتہ مذہبی اقوام اور دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک نے تیار کر رکھے ہیں۔
۶ ۔پون صدی قبل ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے شہروں پر صرف دو ایٹم بم جو آج کے جدید دور کے ایٹم بموں سے کہیں کمتر تھے انہوں نے لاکھوں انسانی جانیںاور ہر قسم کی مخلوقِ خدا کو خاکستر کر کے رکھ دیا۔اسکے بعد آج تک انکی نسلیں معذور اور بیکار پیدا ہوتی آ رہی ہیں ۔ آج ان ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔آج انکی کمانڈدنیا کے تمام د ہشت گردوں کے ہاتھ میں پہنچ چکی ہے۔گیارہ ستمبر کا واقعہ امریکہ جیسی دنیا کی بین ا لاقوامی سپر طاقت کے تمام دفاعی نظام تمام تحفظ کے جدید آلات کو روند کر دنیا کے دو عظیم ٹا روں کو پل بھر میں زمین بوس کر کے ہزاروں جانوںکو غلط حرف کی طرح ختم اورمسخ کر دیا ۔ ہزاروں انسانوں کے اعضا فضا میں بکھر گئے، ہزاروں معصوم و بے گناہ انسانوں کو معذور بنا کر رکھ دیا۔ امریکی احکام نے دنیا کے سامنے اصل حقائق کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ مجرموں کو جرم سے دیدہ دانستہ الگ کر دیا گیا۔ اسکے بعد امریکی حکمرا نو ں نے اپنے ناپسندیدہ غیر ترقی یافتہ ممالک کو مورد الزام ٹھہرایا اور انکی عوام کو دہشت گرد ، قرار دے کر ان ممالک اور انکی بیگناہ عوام پر جدید مہلک ہتھیاروں کی تباہ کن بارش برسانا شروع کردی۔افغانستان اور عراق جیسے کمزور،غیر ترقی یافتہ ممالک اور انکی معصوم و بیگناہ عوام کو دنیا کی سپر طاقتیں اکٹھی ہو کر دنیا کا امن بحال کرنے کی خاطر ان پر حملہ آور ہو گئیں۔لاکھوں جانیں صفحہ ہستی سے تلف کر دیں ۔ ہزاروں انسانوں کے اعضا فضا میں بکھرتے رہے۔ انکے معصوم بچوںاور بیگناہ مستورات کی بے حرمتی اور قتال
جاری رکھا۔ا نکی بستیاں ، انکے شہر،انکے تعلیمی ادارے،انکے ہسپتال،انکی عبادت گاہیں،انکی سڑکیں،انکے قیمتی اثاثے،انکے خوراک کے ذخیرے ، انکے پانی کے ذخیرے،انکے کھیت کھلیان،انکے قدرتی اور ہر قسم کے دوسرے وسائل بغیر کسی معقول جواز اور ثبوت کے شک کی بنا پر نیست و نابود کرتے رہے۔انکو بھوک، ننگ اور بیماریوں میں مبتلا کرتے رہے۔ انکو آہنی سلاخوں کے اندر پنجروں میں بند کر کے اور انکو طرح طرح کی اذیتں دیتے اور مختلف آفات میں مبتلا کرتے چلے آرہے ہیں۔ان ممالک پر حملوں اور اتنے بڑے قتال کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔ سوائے مسلم امہ کے وہ ا ب کسی سے چھپے نہیں۔
۷۔ظالم،غاصب ، سنگدل جمہوریت کے سیاسی دانشور ، طاقت کے نشے
میں دھت انسان دشمن افراد۔ جمہوریت کے نظا م اور سسٹم کی دنیا کی رہنمائی کرنے والے سپر طاقتوں کے سپر حکمران، عظیم پیغمبرا ن کی امتوں کے نام نہاد شاہکار ،انسانی رنج و الم،انسانی اذیتوں، انسانی دکھوں کے درد اور مذہب کے عرفان سے محروم ہوچکے ہیں ۔ جمہوریت کے باطل اور غاصب علم و حکمت کی سرکاری بالا دستی مذہب کے برہانی علم و حکمت کے خزانہ کو لوٹ چکی ہے۔ مذاہب کے الہامی ،روحانی نظریات کے ضمیر کی خاموش آواز عالمگیر سطح پر اسیر ہو چکی ہے۔ مذاہب کی انسانی فلاح و بہبود اور بھلائی کے اعمال آلامِ انسانی میں بدل چکے ہیں۔ پیغمبران کے الہامی صحیفوں کے رہزن کتنی تیزی سے مذاہب کی تعلیما ت ، نظریات،صفات اور صداقتوں کے نقش مٹاتے چلے جا رہے ہیں۔ جمہوریت کے فرعونی یزیدی طرز حکومت کے حکمرانوں نے مذہب کی تعمیری قوتوںکے تہذیب و تمدن کو فروغ دینے سے کیسے روک رکھا ہے ۔ جمہوریت،بادشاہت اور آمریت نے انسانی جمیعیت کو قوموں، نسلوں، طبقوں، نظریوں،مذہبوں،فرقوں اور ملکوں میں منقسم کر رکھا ہے۔ کسی نے بھی مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کی کوشش تک نہیں کی۔ ا س نظریہ حیات کا طیب شعور مذہبی امتوں سے چھین لیا گیا ہے۔ انسانی نسل کی بین الاقوامی سطح پر اجتماعی ہمدردی،اجتماعی بہبود، اجتماعی معاشی تحفظ، اجتماعی اعتدال و مساوات،اجتماعی اخوت و محبت ، اجتماعی عدل و انصاف ،اجتماعی اخلاق و اقدار،اجتماعی حقوق وفرائض اور اجتماعی معاشرتی فلاح کے مذاہب کے درس و تدریس کے علوم کو معبد ،کلیسا،اور مسجد کی سلاخوں میں مقید کر رکھا ہے۔ انکی آفا قیت کو مفلوج کر کے رکھ دیاہوا ہے۔ پیغمبران کے ضابطہ حیات اور طرز حیات کو سرکاری سطح پر پس پشت ڈال رکھا ہے۔ جمہوریت کے نظام نے مذاہب کی عالمگیر قوتوں، حسن صفات ، حسن صداقت، حسن عدالت کو عالمگیر سطح پر اسیر بنا رکھا ہے۔ آج ایسا وقت سر پر آن کھڑا ہوا ہے کہ بادشاہت،جمہوریت اورآمریت کے شاہی محلوں کی شاہی سہولتوں، شاہی آشائشو ں ، حکومتی اعلیٰ اقتدار اور حکومتی طاقتوں کو بین الاقوامی سطح پر مذاہب کے الہامی ضابطہ حیات اور روحانی طرز حیات اور مقدس دستور حیات کے سامنے ندامت ، شرمندگی اور ناکامی سے سر جھکانا پڑ رہا ہے۔
۸۔پیغمبر وقت اس جہان رنگ و بو میںبے سرو سامانی کی حالت میں تشریف لاتے رہے۔ بے سرو سامانی کی حالت میں زندگی گذارتے رہے۔ وہ اخوت و محبت کا درس۔عدل و انصاف کا ضابطہ۔ اعتدال و مساوات کی زندگی۔ غور و فکر کی عبادت۔ہمت و محنت کا عمل۔خدمت خلق کا جذبہ۔خیر و برکت کے را ستہ کے تمام ایٹمی پلانٹ انسانی دل و دماغ میں ایسے پیوست کرتے رہے کہ وہ من کی دنیا کے مست نگر کے پجاری بن کر رہ جاتے ۔ وہ اپنی زندگیاں انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کر دیتے تھے۔ وہ دنیا کی بے ثباتی کے ساتھ آنکھ سے آنکھ ملا کر
اسکی حقیقت کو دیکھتے تھے۔ رہبانیت اور فقر کو عیسائیت کے مذہب کی روح اور اسکی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسی عمل سے وہ انسانوں کے دلوں کو تسخیر کرتے اور ان کو پیروکار بنا کر اپنی نا معلوم منزل کی طرف چل دیتے۔ عیسائیت اپنے مذہب سے دور ہٹتی چلی گئی۔ عیسائیت اپنی روحانی اور الہامی مذہبی تعلیم و تربیت کی سرکاری بالا دستی ختم کر بیٹھی۔ عیسائیت کے سیاستدانوں اور دانشوروں نے عیسیٰ علیہ السلام کی امت پر جمہوریت کے نظام کی سرکاری بالا دستی حکومتی سطح پر قائم کر دی۔
۹۔مذہبی نظام کلیسا کے سپرد کر دیا گیا۔ اس طرح جمہوریت کی تعلیم و تربیت،اسکے علم اور اسکے عمل اور اسکے کردار کا اژدہا، مذہبی نظام اور اسکی تعلیمات اسکے فقر کے کردار کو نگلتا گیا۔ پوری عیسائیت مادیت اور اقتدار کی دلدل میں پھنس کر رہ گئی۔ انہوں نے بنی نوع انسان کے دلوں کو اخوت و محبت سے تسخیر کرنے کی بجائے انکے جسموں کو نمرودی ،فرعونی اور یزید ی طاقت سے فتح کرنے کیلئے اسلحہ ساز فیکٹریاں، نائٹروجن بم،گیس بم،ڈیزی کٹر بم،انکے علاوہ بیشمار مہلک ہتھیار، ایٹمی پلانٹ ، ایٹمی آبدوزیں، ایٹمی میزائل ،ایٹم بموں کے انبار اپنے ممالک میں ذخیرہ کر تے گئے ۔ اسلحہ سازی کو انہوں نے ذریعہ معاش بنا لیا۔ اقوام عالم اور دنیا کے ممالک کو جنگوں میں الجھاتے اور اسلحہ فروخت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ بنی نوع انسان کی تباہی کا یہ سامان انکی خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس جہان رنگ و بو اور اس میں بسنے والی ہر قسم کی مخلوق کی مکمل تباہی کا سامان وافر مقدار میں انکے پاس پڑا ہے۔وہ اس مہلک اسلحہ سے انسانی بستیاں ویران اورمخلوق خدا کا قتال،معصوم و بیگناہ انسانوں کو بلا جواز اذیتوں سے دو چار،انکے وسائل کو نیست و نابود،انکی نسلوں کو اپاہج کرنا انکی زندگی کا روز مرہ کا کھیل بن چکا ہے۔عیسائیت کا اجتماعی کردار بین الاقوامی دہشت گردوں کا کردار بن چکا ہے۔ انسانیت سے اخوت و محبت اور خدمت و ادب کی بجائے کمزور ممالک اور انکی عوام کے وسائل لوٹنا، ان کو جنگوں میں الجھانا،انکو اسلحہ فروخت کرنا ، انسانی زندگیوں کو معاشی اورمعاشرتی تباہی سے دو چار کرنا، ان پر ازخود حملے کرنا ان پر قبضہ کرنا،انکو قتل کرنا انکی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔انسانیت کا قتال انکا ذریعہ معاش بن چکا ہے۔ مذاہب اور فطرت کے اصولوں کی بالادستی کے وہ عملی طور پر منکر بن چکے ہیں۔وہ اس راز کو بھول چکے ہیں کہ انسان اس دنیا میں صرف آتا اور جاتا ہے۔ہر مسافر کا تمام ساز و ساما ن اس فناہ کے دیس میں ہی لٹ جاتا ہے۔اسکے ساتھ صرف اسکے اعمال ہی جاتے ہیں۔وہ ابابیل اور ہاتھیوں کے لشکر کے انجام کو بھول چکے ہیں۔وہ اس حقیقت کو بھول چکے ہیںکہ ایسا واقعہ پھر بھی سر زد ہو سکتا ہے۔ کیا کوئی ایسا واقعہ دنیا میں پھیلے ہوئے ہزاروں ایٹمی پلانٹوں،ایٹمی آبدوزوں،ایٹمی وار ہیڈوں،ایٹمی بموں کے ساتھ پیش نہیں آسکتا۔کیا یہ نمرود ،فرعون اور یزید کے ایجنٹ اس عبرتناک منظر کو دیکھنا اور ضرور معرض وجود میں لانا چاہتے ہیں ،جسکے بعد اس دنیا میں اس واقعہ کوکوئی دیکھنے والا اور بیان کرنے والا ہی نہ رہے گا ۔ یا اللہ یہ تیرے پیارے پیغمبران کی پیاری امتوں کی پیاری نسلیں ہیں ۔ان انسانی نسلوں پر رحم فرما اور ان ظالموں ، غاصبوں اور مخلوق خدا کے قاتلوں کو راہ ہدایت بخش ۔امین۔
۱۰۔اس تہذیب حاضر کے خرد مندان کی تباہی سے انسانیت کو بچانا اور اس گلستان جہاں کو خیر کی آبیاری سے سینچنا ہر مذہب کے امتی کا فریضہ اولیں ہے۔ انسانیت کو ظلمات سے نکال کر نور کی منزل پر گامزن کرنا ان پر انسانیت کا قرض ہے جو انہوں نے ادا کرنا ہے۔ یا اللہ یہ جتنا بڑا کام ہے۔تو اپنے بندوں کو اس سے بڑھ کر اتنی بڑی توفیق بھی عطا فرما تو ہی تمام توفیقوں کا مالک اور وارث ہے۔ تو ہم پر رحم فرما ،تو ہم پر
کرم فرما، تو ہم پر آسانیاں عطا فرما۔ ہمیں آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق بھی عطا فرما، تو ہماری کوتاہیوںسے در گذر فرما۔ یا اللہ۔ تو ہمیں گلستان محبت اور شبستان محبت کا نغمہ خوا ں بنا۔ یا اللہ ان شب خیزی کے موتیوں کو شرف قبولیت بھی بخش۔یا اللہ ان موتیوں کی صداقت کو صفات سے بھی نواز اور انکا فیض عام فرما۔ امین