To Download or Open PDF Click the link Below

 

  مذہب کے نظریات،الہامی ،روحانی،ظاہری ،باطنی انسانیت کی رہنمائی کے چراغ ہیں۔
عنایت اللہ
۱۔کائنات کی کتاب کاورق ورق انسان کو عقلی،شعوری،الہامی ،روحانی،ظاہری اور باطنی،آنکھ کو سوچنے،سمجھنے،پرکھنے اور پڑھنے کیلئے دعوت عام دیتا ہے۔غور وفکر کے عمل پرکسی کی اجارہ داری نہیں۔ الہامی صحیفے زبور شریف،توریت شریف،انجیل شریف اور قرآن شریف!پوری انسانیت کی وراثت ہیں۔
۱۔جو بنی نوع انسان کوحسن اخلاق سنوارنے کے آداب سکھاتے ہیں۔
۲۔پاکیزہ اور طیب زندگی گذارنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔
۳۔خیر اور شر کی پہچان کراتے ہیں۔ نیکی اور بدی کے تصور کا شعور عطا کرتے ہیں۔
۴۔ فطرت کے اصولوں کی نگہبانی کی تعلیمات دیتے ہیں۔
۵۔ازدواجی زندگی اور خانگی زندگی کے اصول بتاتے ہیں۔
۶۔اخوت و محبت کے درس سے آشنائی بخشتے ہیں۔
۷۔معاشرے کی احسن طریقہ سے تشکیل و تکمیل کے گر سکھاتے ہیں۔
۸۔مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کی راہ ہدائت کا راستہ دکھاتے ہیں۔
۹۔اعتدال و مساوات کے عمل سے زندگی گذارنے کی ہدائت فرماتے ہیں۔
۱۰۔صبرو تحمل کا عرفان عطا کرتے ہیں۔
۱۱۔قوت برداشت کی طاقت سے آگاہی بخشتے ہیں۔
۱۲۔مخلوق خدا کی خدمت اور ادب کی عبادت کے گیان سے روشناس کراتے ہیں ۔
۱۳۔زندگی کے تاریک صحرا میں انسانیت کی فلاح کے دیپ روشن کرتے ہیں۔
۱۴۔درگذر اور شفقتوں کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
۱۵۔اعلیٰ عمدہ صفات کو پروان چڑھانے کا راستہ بتاتے ہیں۔
۱۶۔ صداقتوں کی پیروی کے حسن عمل کے فیض کو عام کرتے ہیں۔
۲۔وہاں مذاہب بنی نوع انسان کوہمت و محنت کی عظمتوں کے راز سے آگاہی
بخشتے ہیں۔
ذکرو اذکار کی ریاضت سے دل و دماغ کو مصفٰی اور طیب کرتے ہیں۔
غور و فکر کے عمل اور اسکی افادیت اور انعامات کاانکشاف کرتے ہیں۔
علم سیکھنے کو عبادت کی روح تسلیم کرتے ہیں ۔
زمین و آسمان میں غور فکر کرنے اور ان میں چھپے رازوں کو تلاش کرنے کی تلقین
فرماتے ہیں۔
نئی سے نئی معلومات دریافت کرنے کی کوششوں کا راستہ دکھاتے ہیں ۔
پیغمبران،انکے الہامی صحیفوں ،انکے نظریات ،انکی تعلیمات پر کسی کی
اجارہ داری نہیں۔
۳۔ کسی پیغمبر کا امتی کہلانے اور اسکی صداقتوں اور صفات اور تعلیمات سے لا تعلق اور منقطع رہنے اور انکے متضاد ضابطہ حیات کی پیروی کرنے سے نہ انکے امتی بن سکتے ہیں۔ نہ انکے وارث بن سکتے ہیںاور نہ ہی انکی وراثت کے مالک۔
۱۔ ایسے افرادایسی نام نہاد ملتوں سے وابستہ انسانوں کو کن ناموں سے پکار یں ۔
۲۔ پیغمبران کے امتی یامنکر ین یا منافقین۔ٖ
۳۔ فیصلہ یہ از خود کر کے آپنے آپ کو آگاہ کردیں اور مخلوق خدا کو بھی مطلع کر دیں ۔
تاکہ انکو اس نام سے پکارا جا سکے۔
۴۔ مذہب میں مسلک پرستی اور فرقہ پرستی کی چتا کون جلاتے ہیں۔
۵۔ مذاہب میں عالمگیر سطح پر نفرت اور نفاق کی آگ کون بھڑکاتے ہیں۔
۶۔ بین الاقوامی سطح پر مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا اورقتل
وغارت کون کرواتے ہیں۔پیغمبران کی امتوں کا تو یہ فعل نہیں۔
۷۔ ان اعمال پر مذاہب کی تعلیمات کی روشنی اور انسانیت کے ناطے سے سوچنا ہو گا ۔
اسکے علاوہ ان حقائق کی روشنی میں عالمگیر سطح پرمختلف نظریات پر مشتمل انسانی
برادری میں مذاہب کے نظریات کا حقیقی معیار اور مقام کیسے تعین کیا جا سکتا ہے ۔
۸۔ جب مذاہب کی عطا کی ہوئی دلکش عمدہ الہامی صفات،اعلیٰ دلوں کو موہ لینے والے
اخلاق اور دلوں میں اترنے والی فطرتی صداقتوں پر مشتمل ضابطہ حیات کے متضا د
مذاہب کے منافق پیش کرتے ہیں۔
۹۔ یہ جمہوریت کے نام نہاد پیغمبران کی تمام امتیں بنی نوع انسان کی فلاح میں بری
طرح حائل ہو چکی ہیں۔
۱۰۔ یہ انسانی نسلوں کوپیغمبران کی تعلیمات،نظریہ حیات اور ضابطہ حیات کی افادیت
سے محروم کئے جا رہی ہیں۔ان کا تدارک از بس ضروری ہے۔
۱۱۔ مذہب جہاں انسانیت کوظاہری اور باطنی اصلا ح کی تعلیمات کا درس دیتا ہے
وہاں وہ غور فکر کی عبادت سے انسانیت کو روشناس بھی کرواتا ہے۔
۱۲۔ غور فکر کی تلاوت کا عمل اس کائنات کے مخفی خزانوں کو دریافت کرتا رہتا ہے۔
۱۳۔ غور و فکر کا مضراب کن فیکون کی صدائیں پیدا کرتا رہتا ہے۔
۱۴۔ غور فکر کا عامل اپنے من کی دنیا میں غوطہ زن رہتا ہے۔
۱۵۔ غور فکر کا پجاری نت نئی تخلیق پیدا کرتا رہتا ہے۔
۱۶۔ غور فکر کی عبادت بندے اور خدا کی دوری کا سفر ختم کر دیتی ہے۔
۱۷۔ غور فکر کی ریاضت خیر و فلاح کی منزل کا مسافر بنا دیتی ہے۔
۱۸۔ تمام بنی نوع انسان کو،تمام امتوں کو اور خاصکر مسلم امہ کو اپنا بھولا ہوا سبق یاد
کرنا ہوگا۔
۱۹۔ اس امت کیلئے حکم ہے علم سیکھو ۔ چاہے تمہیں چین جانا پڑے۔
۲۰۔ طالبعلم کی زندگی بہترین عبادت سے ہمکنار رہتی ہے۔
۲۱۔ آج کا علم،فزکس کا علم،کیمسٹری کا علم،ریاضی کا علم،زراعت کا علم اور ہر قسم کی
سائنس کے علم کا دور ہے۔ان علوم کا سیکھنا انسانی زندگی کی ضرورت کا اہم حصہ
ہے۔ مذہب کی حدود میں یہ تمام نئے علوم اور نئی ایجادات بنی نوع انسان کی فلاح
و بہبود اور زندگی کے ہر شعبہ حیات میں خیر کے ارتقائی عمل کے فرائض ادا کرتے
ہیں ۔ جب کہ جمہوریت کے زیر سایہ ، یہ تمام علوم اور ایجادات انسانیت کی تباہی
کا باعث بنتے ہیں۔
۴۔ جہاں بنی نوع انسان کیلئے دنیا کی مادی بنیادی ضروریات ، اسکے بعد دنیاوی آشائشوں اور مادی سہولتوںکے لوازمات کے حصول کے علوم،اسکے ہنر،اسکی ٹیکنیک اور اسکے سائنسی لوازمات اور کاروبار کو سیکھنا ضروری اور واجب ہے۔ اسی طرح معاشرے کو تشکیل دینے کیلئے ایک نظریہ، ایک لائح عمل ،ایک ضابطہ حیات بھی درکار ہوتا ہے۔جس کی روشنی میں معاشرے کی اقدار،معاشرے کے اصول،معاشرے کے ضابطے،معاشرے میں اعتدال و مساوات کو قائم کرنے کے طریقے،عدل و انصاف کے پیمانے اور نظم و ضبط کے قوانین کو مرتب کیا جاتا ہے۔جن کی روشنی میں انفرادی زندگی سے لیکر ا جتماعی زندگی تک کے حقوق و فرائض کا عمل احسن طریقہ سے چل سکے۔اس ضابطہ حیات کو اپنانا اور اسکے تقدس کو قائم کرنا حکومت اور عوام کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے۔دنیا میں کئی نظریات موجود ہیں ۔
کیمونیزم،سوشلزم،ہندو ازم،بدھ ازم،،جین مت اورآتش پرست ۔وغیرہ وغیرہ۔
جمہوریت اورمذہب کے نظریات۔
۵۔ مذاہب پرست امتیں پیغمبران پر، خدا پر،انکی الہامی کتابوں پر،انکے نظریات پر،
ا نکے ضابطہ حیات پر،ا نکی طرز حیات پر،انکی تعلیمات پر ایمان اور یقین رکھتی ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت ابراہیم خلیل اللہ تک ۔حضرت اسحٰق علیہ السلام سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام۔حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ ا لسلام، حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ رحمت اللعالمین آخری پیغمبر تک یہ سلسلہ پیغمبران جاری رہا۔اس طرح اس جہان رنگ و بو کو سنوارنے کیلئے ایک لاکھ چوبیس ،پچیس ہزار پیغمبران تشریف لائے۔
۶۔ یہ بات بڑی واضح ہے کہ دنیا ئے عالم کے تمام نظریات کے اپنے اپنے موجد ہیں۔ان کا اپنا اپنا دستور حیات موجود ہے۔جس کے مطابق وہ اپنے اپنے ممالک میں وہ اپنی اپنی زندگی گذارتے اور اپنا تہذیب و تمدن تیار کرتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن تمام پیغمبران بنی نوع انسان کو توحید پرستی کا سبق،عبادات کا طریقہ،ازدواجی زندگی کے اصول ، اخلاقیات کے ضابطے ، خدمت و ادب کے طریقے، کنبہ خدا کا احترام، مذہبی تعلیمات اور دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتے رہے ۔ جن کے مطابق انکی امتوں کا تہذیب و تمدن تیارہوتا رہا اور وہ اپنی زندگی انکے مطابق گذارتی چلی آرہی ہیں۔اسوقت جمہوریت کا نظریہ دنیا ئے عالم پر رائج الوقت ہے۔ اسکے مطابق عوام پر حکومت کرنے کیلئے عوام ہی بذریعہ الیکشن ممبرا ن کا چناؤکرتے ہیں۔ جن سے اسمبلیاں تیار ہوتی ہیں۔ انکے ممبران ملک کے معاشی اور معاشرتی اصول ،قوانین اسمبلی کے ذریعہ وقت کی ضرورت کے مطابق منظور کر کے ملک پر نافذالعمل کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس طرح جو ضابطہ حیات تیار ہوتا ہے ،اسمبلیوں کے ممبران اسکے خالق ہوتے ہیں۔ رعایا انکی اطاعت کرتی ہے۔ اس طرح پیغمبران کی امتوں پر پیغمبران کے الہامی صحیفوں،الہامی کتابوں کی تعلیمات،پیغمبران کا دستور حیات،پیغمبران کے نظریات،پیغمبران کے اخلاقیات، پیغمبران کے کردار،پیغمبران کی الہامی صفات، پیغمبرا ن کی فطرتی صداقتوں کو سرکاری طور پرختم ، منسوخ،معطل اورفرسودہ بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔
۷۔ستم بالائے ستم ان تمام انبیاء علیہ السلام کی الہامی کتابوں کی موجودگی میں ان کی امتوںپر اور انکے ممالک پر جمہوریت کی اسمبلیوں کے پیغمبران کے جمہوری نظریات، انکے قوانین،انکے ضوابط ،انکی تعلیمات،انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات،انکے ازدواجی زندگی کے اصولوں کی پابندی کوملکی قوانین کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔اس طرح تمام پیغمبران کے نظریات،ضابطہ حیات اور تعلیمات کو کچل کر رکھ دیا جاتا ہے۔ انکی جگہ اسمبلیوں کے پیغمبران کے قوانین و ضوابط کی ہر شعبہ حیات میں سرکاری بالا دستی قائم ہو جاتی ہے۔پیغمبران کی امتیں جمہوریت کے اس کفر ،منافقت اور مذہبی تضاد کا شکار ہو کر سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر دم توڑتی جاتی ہیں۔
۱۔ جنسی آزادی سے خاندان کی عمارت ریزہ ریزہ ہو چکی ہے۔
۲۔ جمہوریت نے بنی نوع انسان کی خدمت کے جذبے انسانی دلوں سے کچل کر رکھ

دئیے ہیں۔ سچ کی جگہ جھوٹ کی حکمرانی قائم ہو چکی ہے۔
۳۔ زخموں پر مرہم پٹی لگانے والے نیپام بمو ں اور ڈیزی کٹر بموں سے انسانیت کو
زخموں سے چھلنی کئے جا رہے ہیں۔
۴۔ پیغمبران کی امتیں جمہوریت کے سائے تلے دنیا کی بے ثباتی کی تعلیمات، مختصر
اور بے سرو سامانی والی زندگی کا نقش ذہنوں سے مٹا چکی ہیں۔
۵۔اخوت و محبت کا درس بھول چکی ہیں۔
۶۔دلوں کو تسخیر کرنے کے اعمال ترک کر چکی ہیں۔
۷۔انسانوں کا قتال اوراسلحہ کی عبرتناک زبان کا استعمال عام کر چکی ہیں۔
۸۔دنیا کے طاقتور حکمران اور انکے نقش قدم پر چلنے والے ترقی پذیر ممالک کے
حکمران درندہ صفات بن چکے ہیں۔
۹۔وہ جمہوریت کی سیاست میں مادیت اور حصول اقتدار کی جنگ کا شکار ہو چکے
ہیں ۔ یہ سب امتیں پیغمبران کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکی ہیں۔
۱۰۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں انسانیت اور اس کائنات کو مسخ کرنے کیلئے ایٹمی
پلانٹوں کا حساب ہی نہیں۔
۱۱۔دنیا کے مظلوم ، اذیتوں سے چورکسی دکھیارے نام نہاد دہشت گرد انسان کا
انتقامی جذبہ اسکو ان ایٹمی پلانٹوں تک رسائی جدید میزائل یا خود کش حملے کی
صورت میں حاصل ہو گیا تو اس دنیا اور انکی تاریخ لکھنے والا کوئی نہ ہو گا۔
۸۔ جمہوریت کے پجاریوں نے یہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کی جنگ اسر ا ئیل ،
افغانستان اور عراق کی حدود سے نکال کر پوری دنیا میں پھیلا دی ہے۔ دہشت گرد اور خود کش حملہ آور انکے اندر سے پیدا ہوتے اور رہتے رہیںگے۔ جو انکی تباہی کا باعث بنتے رہینگے اور یہ بے گناہ افغانستان اور عراق جیسے کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی معصوم اور بے گناہ عوام کو نشانہ عبرت بنائے اور نیست و نابود کرتے پھریں گے۔
۹۔ جمہوریت کے پجاریو! پیغمبران کے باغیو! مذاہب کے سر کشو! امتوں کے رہزنو اور جمہوریت کے ایجنٹو! ۔یہ توبتاؤتم نے تو مذاہب کے نظریات ، مذاہب کی عبادات،مذاہب کے طرز حیا ت ، مذاہب کے ضابطہ حیات اور مذاہب کی الہامی تعلیمات،مذاہب کے اخلاقیات،مذاہب کے کردار،مذاہب کے ازدواجی ضابطے اور مذاہب کا تیار کردہ تہذیب و تمدن کا نظام معبد،کلیسا اور مسجد کے مذہبی
پیشواؤں کے سپرد کیا تھا۔کہ تم اس الہامی ،روحانی مذاہب کے نظام اور سسٹم میں مداخلت نہیں کریں گے۔اور حکومتوں کے کارو بار میں مذہبی پیشوا مداخلت نہیں کریں گے۔تم نے تما م پیغمبران کی امتوں کیساتھ دھوکہ کیا۔ تمام مذاہب کے نظریات پر ڈاکہ ڈالا۔تمام مذاہب کی تعلیمات کو روند دیا۔تمام مذاہب کے اصولِ اخلاقیات کو رہزنوں کی طرح لوٹ لیا۔تمام مذاہب کی ازدواجی زندگی کے نظام کو روند دیا۔تما م مذہبی اقدا ر کا حشر نشر کر دیا۔تم نے تو معاشیات کی آگ میں مخلوق خدا کو دھکیل دیا۔ تم نے تو دنیا کی بے ثباتی کی حقیقت کو چھپا لیا۔تم نے تو رہبانیت اور فقر کے دروازے انسانیت پر بند کر دئیے۔تم نے تو پیغمبران کی امتوں اور انکی نسلوں کو جمہوریت کے نظریات اور مذاہب کے نظریات کے تضاد کا ایندھن بنا دیا۔مذاہب کے تہذیب و تمدن کو مسخ کر کے رکھ دیا۔
۱۰۔مذاہب کی امتوں نے تو اقوام عالم اور دنیا بھر کے نظریات کی رہنمائی کرنی تھی۔جمہوریت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے تمام پیغمبران کے سلامتی کے نور کو بجھا دیا ہے۔انہوں نے مذاہب کی عمارت کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ انکی تہذیب و تمدن کو روند دیا ہے۔ انہوں نے پیغمبرا ن کی امتوں کا جو تشخص دنیائے عالم میں پیش کیا ہے۔وہ جھوٹا ، غلط ، مادہ پرست،ظالم،غاصب،قاتل اور مخلوق خدا کی تباہی کی صفات پر مشتمل ہے۔ کتنا ظلم عظیم ہے کہ پیغمبران کے تشخص میں صداقت کی کوئی ایک کرن تک نظر نہیں آتی۔
۱۱۔اے تما م مذاہب کے مذہبی پیشواؤ! غور سے سن لو۔اس جہان فانی میں کب تک زندہ رہو گے۔ یہ دنیا یقینا ایک عارضی ٹھکانہ ہے پیغمبران کی زندگی سادہ اور بے سر و سامانی والی مختصر ضروریات اور لوازمات پر مشتمل تھی۔وہ رحم دل اور بے ضرر زندگی گذارتے تھے۔وہ انسانی دکھوں کا مداوا کرتے تھے۔وہ مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھتے تھے۔وہ بیماروں کی دوا اور شفا بنے رہتے تھے۔وہ توحید کا درس دیتے۔وہ انسانیت کے حقوق بڑے ادب کیساتھ نبھاتے تھے۔وہ بھوکوں کو کھانا اور ننگوں کو لبادہ مہیا کرتے تھے۔وہ انسانیت کا ادب اورخدمت بجا لاتے تھے۔وہ نفاق اور نفرت کی آگ کو بجھاتے تھے۔وہ حیات میں خیر اور بھلائی کا مرکز بنے رہتے تھے۔وہ سچائی اور صداقتوں کے پیامبر کے فرائض ادا کرتے تھے۔وہ کمزور اور بے سہارا انسانوں کا سہارا بنے بیٹھے تھے۔وہ محبت کے ازلی نور کی قندیلیں روشن کرتے تھے۔وہ اخوت کا سبق سکھاتے تھے۔وہ امانت و دیانت کی صلاحیتیں عطا کرتے تھے۔وہ اعتدال و مساوات کا عمل پیش کرتے تھے۔وہ عدل و انصاف کی شمع روشن کرتے تھے۔انکی زندگی مخلوق خدا کی بھلائی کیلئے وقف ہوتی تھی۔وہ قربت خدا وندی کیلئے رہبانیت اور فقر کا جبہ عطا کرتے تھے۔
۱۲۔ وہ مرنے سے پہلے مرنے کے علم سے آشنائی کرواتے تھے۔اس وقت یہ کائنات اور اس میں بسنے والی تمام مخلوق،تمام پیغمبران کی امتیں جمہوریت کے ظلمت کدے میں مقید ہو چکی ہیں۔جمہوریت کے شاہکار سیاستدانوں نے ان ملتوں کوترک دنیا اور قلیل لوازمات کی تعلیمات سکھانے کی بجائے ان کو مادیت اور اقتدار کے حصول کی چتا میں جھونک رکھا ہے۔خود غرضی،نفسا نفسی انفرادی اور اجتماعی قتال کا ضابطہ رائج پذیر ہے۔
۱۳۔ اے ساربانو! اے مذہبی پیشواؤ! اے وارثان مرسلین!
آؤ بنی نوع انسان اور تمام انبیا کی امتوں کو جو جمہوریت کے دجال کے اژدہا کی گرفت میں سسک سسک کر دم توڑ رہی ہیں۔ انکو نجات
دلائیں۔جمہوریت کے سربراہوں نے مذاہب پر نہ صرف سرکاری بالا دستی قائم کی۔بلکہ مذا ہب کی بنیادی عمدہ قدروں،عمدہ صفات،بنیادی اخلاق،ازدواجی زندگی اور مذ ہبی صداقتوں اور فطرتی سچائیوں کو ختم کر کے سیاست کے پیغمبران کے قوانین کو بروئے کار لاکر ان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
۱۴۔مذاہب کی تعلیمات کو جمہوریت کے سیاستدانوںسے وا گذار کرواناہر قسم کی عبادت سے افضل ہے۔یہ طیب اور پاکیزہ فریضہ تمام امتوں اور انکے اہل بصیرت پیشواؤں کا فرض ہے۔ وہ مل کر انسانی شعور کو مذہبی صداقتوں کا لباس عطا کریں۔ خلوص و اعتبار کا جہاں آباد کریں۔ تا کہ تمام انبیاء علیہ السلام کی امتیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی نا فرمانی،گستاخی اور بے ادبی کا سلسلہ جمہوریت بند کریں۔یا اللہ تو ہم سب پر رحم فرما۔ہمیں جمہوریت کے عذاب سے نجات دلا ۔امین