To Download or Open PDF Click the link Below

 

  مذہب کی تعلیمات کی روحانی قندیلیں۔
عنایت اللہ
جہاں مادی ترقی کیلئے سائنس کے علوم کا سیکھنا ازحد ضروری ہے۔ وہاں معاشرے کو پیغمبران کے بتائے ہوئے دینی نظریات،دینی اخلاقیات، دینی عدل و انصاف، دینی صفات،دینی صداقتوں کی تعلیمات کو سیکھنا اور انکو بروئے کار لانا بھی اشد ضروری ہے۔ا ن پر غور و فکر کرنا اور انکی ملکی ،ملی اور سرکاری سطح پر بالادستی قائم کرنا ۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان علوم میں ڈھالنا ا ن سائنس کے علوم سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے۔
۱۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے ضابطہ حیات،نظریہ حیات کی ملکی
سطح پر سرکاری اور اجتماعی بالادستی میں مضمر ہے۔
۲۔یا اللہ اس ملت کو ان جاہل،ظالم ، غاصب،منافق اور بد دیانت سیاستدانوں
حکمرانوں سے نجات دلا۔ جنہوں نے اپنی اولادوں کیلئے ایچی سن کالج،اپنی اعلیٰ
سرکاری مشینری اور اپنے خوشحال طبقہ کی حکمرانی کیلئے شہروں میں اعلیٰ قسم کے انگلش
میڈیم تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ اسکے علاوہ انہی شہروں میں غریبوں کیلئے
اردو میڈیم تعلیمی ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔ انکے ظلم اور نا انصافی کی انتہا یہ
ہے ۔کہ دیہاتوں میں ستر فیصد عوام الناس کیلئے اردومیڈیم پرائمری سکول قائم
کررکھے ہیں۔
۳۔مسلم امہ کو حکمرانوں نے چار درجات یعنی کلاس ون،کلاس ٹو ،کلاس تھری اور
کلاس فور میں تقسیم کر رکھا ہے۔معاشرہ اونچ نیچ کی معاشی اور معاشرتی درد ناک اور
عبرتناک طبقاتی اذیتوں کا شکار ہوتا جاتا ہے۔
۴۔ ملک میں برہمن اور شودر کا نظام نافذ کرنے والو۔ انکے ماتھے پر تلک بھی لگا
دو۔ تا کہ برہمنو ں کی پہچان تو ہو سکے۔
۵۔ اس تعلیمی پروگرام کی ٹی وی پر نشر و اشاعت کرنے والو ۔ یہ تو بتا دو کہ پورے
ملک میں کسی دیہات میں کوئی انگلش میڈیم ادارہ،کوئی انگلش میڈیم کالج،کوئی
ایک زرعی کالج یا کوئی اور کسی قسم کی یونیورسٹی اس پورے ملک میںہے تو بتا دو!تم
کونسے طبقے کے نصاب کی تعلیمات عام کر رہے ہو۔
۶۔ اسکے علاوہ یہ بھی بتا دو کہ ان کے پاس ان اعلیٰ و افضل تعلیمی اداروں کی
کتابوں،کاپیوں اور فیسوں کے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت ہے جہاں
تمہارے اپنے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یا انکے پاس شہروں میں واقع ان
تعلیمی اداروں تک آنے جانے کا کرایہ ادا کرنے کی سکت ہے۔
۷۔ اس داستاں کو رقم کرنے والو،اسکے انجام سے بھی آشناہونا ضروری ہے۔
کب تک اسلام کی تہذیبی عمارت میں ان طبقات کے بتوں کو سنوارتے اور
سجا ئے رکھو گے ۔کب تک انکی پوجا پات جاری رکھو گے۔یہ چند حروف اس
حقیقی انقلاب کے داعی ہیں۔ تم میں سے انشا اللہ اس انقلاب کو کوئی روک نہیں
سکتا۔ اس ملک میں ایک تعلیمی نصاب ،ایک اعلیٰ عمدہ معیار ،ایک جیسی تعلیم کا
نظام قائم ہوگا۔، فقیرِ بر ملا ،بر ملا بات کر رہا ہے۔
۸۔ چودہ کروڑ انسانوں کو طبقات میں تقسیم کرنے والو!
۹۔ ان کے مال و متاع لوٹنے والو!
۱۰۔ انکے مال سے تعیش کی زندگی گذارنے والو!
۱۱۔ وزیراعظم ہاؤس میں ریس کے گھو ڑے پالنے والو!
۱۲۔ سرے محلوں میں زندگی گذارنے والو!
۱۳۔ رائیونڈ ہاؤس اور شاہی محلات تیار کرنیوالو!
۱۴۔ ملک کی اندرونی اور بیرونی تجارت کے وارثو!
۱۵۔ اندورونی اور بیرونی ممالک کی انڈسٹری کے مالکو!
۱۶۔ دنیا کی خاطر دین فروخت کرنے والے مذہبی پیشواؤ!
۱۷۔ اپنی بہو بیٹیوں کو انگلی لگا کراسمبلیوں میں لے جانے والو!
۱۸۔ مادیت اور اقتدار کی خاطر دین کی حیا کو فروخت کرنے والو!
۱۹۔ دین کے خلاف مخلوط معاشرہ تیار کرنے والے مذہبی اور روحانی پیشواؤ !
۲۰۔ ملک کی اندرونی اور بیرونی تجارت کے وارثو!
۲۱۔ ملک کے وسائل کے مالکو!ملک کے خزانے کے امینو!
۲۲ ۔بیواؤں، یتیموں، مسکینوں، اپاہجوں، بوڑھوں،بیروزگاروں،غریبوں کے مکانوں کے ٹیکس،بجلی کے ٹیکس،سوئی گیس کے ٹیکس ، پانی کے ٹیکس،سڑکوں کے ٹیکس ، پیدائش کے ٹیکس،موت کے ٹیکس، سیلز ٹیکس،پرچیز ٹیکس، ہر چیز پر ٹیکس،مہنگائی ٹیکس لا تعداد ،لا متناہی ٹیکسوں

سے ان بے بسوںاور مجبوروں سے قوانین کی تلوار سے چھینی ہوئی دولت اور اس دولت سے بھرا ہوا ملک کا خزانہ،اس کو چاٹنے والے بے رحم اور عیاش حکمران، انکی اسمبلیاں،انکی شاہانہ بود و باش اور انکی اعلیٰ سرکاری مشینری کے ہوتے ہوئے ۔ان چودہ کروڑ انسانوں کی بھوک،ننگ اور غربت کیسے دور ہو سکتی ہے۔ کیوں ٹی وی پر غربت دور کرنے کا جھوٹا پراپیگنڈہ کرتے ہو!اپنی جائدادوں،کارخانوں اور کارو باروں اور مخفی دولت کو ذرا ٹی وی پر مشتہر تو کرو! اصل کھاتوں اور دو نمبرکھاتوں کے ذریعہ ٹیکس چوری کی داستاں تو بتاؤ! یہ بھی ملت کے چودہ کروڑ فرزندان کوبتا دوکہ کونسی مزدوری سے یہ مال و متاع اکٹھا کیا ہے۔یہ بھی لگتے ہاتھوں انکو مطلع کر دو، کہ کتنے انسانوں کا بے رحمی اور بیدردی سے معاشی اور معاشرتی قتال کر کے ان عہدوں پر فائز ہوئے ہو۔ ان عہدوں سے کتنی افادیت حاصل کر چکے ہو۔ کتنے نئے قرضے لے چکے ہو۔ کتنے پہلے قرضے ہڑپ کر چکے ہو۔
۲۳۔ ملکی خزانے کا رخ کیسے اسمبلیوں کی طرف موڑ چکے ہو۔ یہ سب کچھ جو تمہارے پاس ہے ۔وہ اس دھرتی اور اسکے ستر فیصد کسانوں اور انتیس فیصد مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام کی ملکیت ہے۔آپکے رائج کردہ جمہوریت کے نظام کے تحت ریفرنڈم کروا کر اس دولت کو واپس لیا جائیگا۔ کسی کے ساتھ کسی قسم کا ظلم یا زیادتی نہیں کی جائیگی۔ اس دھرتی،اس ملک،اس ملت کی تمام دولت اور وسائل جویہ بیرون ملک لے کر جا چکے ہیں واپس لائی جائیگی۔احتساب کے الفاظ کی حرمت بحال کی جائیگی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلم امہ کے ضابطہ حیات کو بحال کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔امین
۲۴۔یہ نظام ،یہ سسٹم اور یہ جمہوریت چودہ کروڑ انسانوں کو غلام بنانے، انکو مقید کرنے کے یہ ظا لمانہ ،غاصبانہ قانونی ضابطے ہیں۔ جن کے ذریعے یہ مادیت اور اقتدار کے حصول کی جنگ جیتتے ہیں۔ ا ہل مذہب کے اہل بصیرت دانشور و اور مذہبی پیشوا ؤ۔ اسلام کے شورائی جمہوری نظام اور اسکی افادیت کو سمجھنے کی کوشش تو کرو۔ اس سے نفرت نہ کرو۔ اس نظام کو سمجھنے میں کیا عار ہے۔
۲۵۔شورائی نظام جمہوریت کا ایک ایسا الہامی ،روحانی ،خدائی نظام حکومت ہے۔جس سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہوتی ہے۔ عدل و انصاف اور اعتدال و مساوات کی قندیلیں منور ہوتی ہیں۔ مخلوق خدا کی خدمت و ادب اور اخوت و محبت کی شمع روشن ہوتی ہیں۔مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا شعور بیدار ہوتا ہے۔ مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا عمل جنم لیتا ہے۔ شورائی ممبران سلیکشن کے ذریعہ دین کی روشنی میں چنے جاتے ہیں۔جہاں دید ہ ور، صاحب بصیرت،ایماندار، سادگی اور شرافت سے نظام حکومت چلا نے کے آشنا، عدل و انصاف کے عارف،خدمت خلق کے عمل کے مشتاق،سادہ اور سلیس انبیا کی زندگی کے وار ث ، ضروریات قلیل،انسانی خوبیوں سے سر شار لوگوں کا چناؤ کیا جاتا ہے۔مجلس شورٰی کے ممبران کا انتخاب ایک دینی الہامی نظریات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔اس طرح معاشرے میں سے بلند کردار اور بالغ شعوری پر مشتمل ممبران کی تشکیل معرض وجود میںآ تی ہے۔ اس طرح ملک کا نظم و نسق صالحین کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے۔شوائی نظام کسی بادشاہ،کسی حاکم،کسی جماعت،کسی فلسفی یا کسی دانشور کا تیار کردہ نظام حکومت نہیں۔اس کا تعلق الہامی کتاب قرآن حکیم،رسول پاکﷺ اور خدا سے وابسطہ ہے۔شورائی نظام اعلیٰ معیار،جامع حقائق اور ممتاز مرتبہ انسانی فلاح کی آماجگاہ ہے۔یہ ازل سے
لیکر ابد تک بنی نوع انسان کی رہنمائی کے فرائض ادا کرتا ہے۔
۲۶۔ جمہوریت کا نظام ایک ایسا نظام ہے ۔جس میں صرف سرمائے دار اور جاگیر دار طبقہ ہی حصہ لے سکتا ہے۔انکی ملک میں کل ساڑھے سات ہزار کے قریب تعداد موجود ہے جو ہر الیکشن میں حصہ لیتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سے بارہ چودہ سو ممبران چاروں صوبوں ،وفاق اور سینیٹ کے باری باری چنے جاتے ہیں۔وہ اسمبلیوں میں پہنچ کر جمہوریت کے ضابطہ حیات کی روشنی میں قانون سازی کرتے ہیں۔ ملک انہی خاندانوں کی ملکیت بن چکا ہے۔جمہوریت آمرانہ کردار کی تربیت گاہ ہے۔جس سے سیاست کے ابلیسی کردار تیار ہوتے ہیںجوملک کے وسائل،ملکی خزانہ،ملکی تجارت اور ملک کی حکمرانی کے وارث ہوتے ہیں۔ طبقاتی تعلیم سے طبقاتی معاشرہ مرتب کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے عوام آقا اور غلام اور قیدی کی حثیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔جج،جرنیل اور جرنلسٹوںکو خدا توفیق دے تو یہ ملک جمہویت کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہیں۔انکے پاس کوئی وسائل یا ذرائع کی کمی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرماویں۔امین
۲۷۔انہوں نے دین اور دینی احکام کی حرمت کو بری طرح کچل دیا ہے۔قرآن شریف جیسے الہامی ضابطہ حیات کو سرکاری طور پر منسوخ کر رکھا ہے۔ورنہ قرآنی ضابطہ حیات کی روشنی میں جو معاشرہ جنم لیتا ہے اور معاشرے کی تشکیل و تکمیل اعلیٰ عمدہ اخلاقیات کی بنیاد پر ابھرتی ہے۔ اسکا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ قرآنی ضابطہ حیات انسان کو غور و فکر اور محنت و ہمت کی عبادت سے سرشار کرتا ہے۔جو لوگ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ان سے ایجادات کے معجزے سر زد ہوتے رہتے ہیں۔غور و فکر کی عبادت سے انسان انسانیت کی معراج کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔یا اللہ اس معصوم و بیگناہ اور بے ضرر امت کو جمہوریت کے سیاستدانوںکے عذاب سے نجات دلا۔جو دین کے بنیادی نظریات اور تعلیمات کو دجال کی طرح نگلتے جا رہے ہیں۔امین