To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پردہ اور شرم و حیا تما م مذاہب کا ایک بنیادی عنصر ہے
عنایت اللہ
مسلمان دوسرے مذاہب کی طرح ایک مذہب پرست امت ہے۔یہ امت سلسلۂ پیغمبران کی ایک آخری کڑی ہے۔مسلمان تمام پیغمبران کو تسلیم کرتے ہیں ۔انکے الہامی صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ان پر اور انکی آل پر درود و سلام ہر نماز میں بھیجتے ہیں۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ، حضرت اسحٰق علیہ السلام،حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت اللعالمین پر اور انکی آل پر درود وسلام بھیجنا انکی عبادت،انکے ایمان کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔تمام پیغمبران، احترام نسواں اور حقوق نسواں اور ادب نسواں کا درس دیتے رہے ۔ مذاہب ہی نے مستورات کو ادب و احترام اور عزت و توقیر کی عظمت سے نوازا۔مذاہب ہی نے ماں،بہن ،بیٹی اور بیوی کے تقدس کا الہامی اور روحانی علم سکھایا۔ مذاہب ہی نے انکو معاشرے میں ایک اولیٰ مقام بخشا ۔ مذاہب ہی نے مرد و زن کو ازدواجی زندگی کا پاکیزہ ضابطہ حیات عطا کیا۔مذاہب ہی نے مستورات کے نان و نفقہ کا مردوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔مذاہب ہی نے مستورات کوچادر اور چار دیواری کے تحفظ کا ضابطہ حیات فراہم کیا۔مذاہب ہی نے مستورات کے تحفظ کیلئے باپ،بیٹا ،بھائی اور خاوند جیسے آسمانی رشتوں کا نظام قائم کیا۔مذاہب ہی نے ان رشتوں کے روپ میںپاکیزہ اور طیب محبت جیسے عظیم آسمانی تحفہ کو دلوں میں بیدار فرمایا۔ مذاہب ہی نے ان رشتوں کے نظام کو قائم کر کے دنیا میں امن و سکون اور راحت پر مشتمل معاشرہ تیار
کرنے کا راستہ دکھایا۔
۱۔حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا سے انسانی زندگی کا آغاز ہوا۔ جڑواں بچے لڑکی لڑکا پیدا ہوتے رہے۔جڑواں بہن بھائیوں کی شادی دوسرے جڑواں بہن بھائیوں سے ہوتی رہیں۔آفرینش نسل کا عمل جاری رہا۔
۲۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہودی امت کے فرزندان کسی غیر یہودی نسل کی
عورت سے شادی نہ کر سکتے ۔آج تک انکا ازدواجی زندگی کا ضابطہ حیات اسی طرح قائم دائم چلا آ رہا ہے۔
۳۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عیسائی امت کے فرزندان زندگی میں صرف ایک ہیشادی کر سکتے ہیں۔نہ وہ اس کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی طلاق دے سکتے ہیں۔ خاوندکی وفات کے بعد عورت دوسری شادی نہ کرنے کی مذہبی طور پر پابند ہوتی ہیں۔لیکن ان میںیہودیوں کی طرح نسل سے باہر شادی کرنے کی پابندی نہیں ہے۔
۴۔حضرت محمد مصطفی ﷺکی امت کے فرزندان ایک وقت میں چار شادیاں کرسکتے ہیں۔ اسلام میں مردوں کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے۔اسی طرح عورتیں بھی طلاق حاصل کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔مرد کی وفات کے بعد عورت کومکمل اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ دوسری شادی کر سکتی ہیں۔مسلمان مرد عیسائی مستورات سے شادی کر سکتے ہیں۔اسکے علاوہ کسی بھی عورت کے ساتھ وہ ازدواجی بندھن باندھ سکتے ہیں۔اگر وہ اسکو اسلام کے دائرے میں داخل کر لیتے ہیں۔
۵۔مذاہب کی شریعتیں بدلتی رہیں۔کسی پیغمبر نے کسی دوسرے پیغمبر سے اختلاف
رائے یا تنقید کا عمل اختیار نہ کیا۔وہ اپنے سے پہلے پیغمبران کی عزت و توقیر اور ادب و احترام
کی تعلیمات کی روشنیاں پھیلاتے رہے۔مذہبی نسبت سے تمام امتیں ایک دوسری امت کے مذہبی نظریاتی تعلق کے رشتہ سے منسلک ہیں۔آخری نبی الزماںحضرت محمد مصطفی ﷺ نے تو اہل کتاب پیغمبران اور ان پر نازل ہونے والی الہامی کتابوں کی نہ صرف تصدیق فرمائی بلکہ جو ان پیغمبران پر اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان نہ لائے۔ان پر اور انکی آل پر ہر نماز میںدرود نہ بھیجے۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔اور نہ ہی اسکی کوئی عبادت قبولیت کا شرف حاصل کر سکتی ہے۔
۶۔تمام مذا ہب نے اپنی امتوں کو انسانی نسل کی آفرینش کیلئے ازدواجی زندگی کے
الہامی روحانی اور آسمانی طرز حیات اور ضابطہ حیات کی تعلیمات سے نوازا۔اللہ تعالیٰ نے مرد و زن،میاں بیوی کے فرائض اور اولادکے حقوق و ضوابط سے آگاہ فرمایا۔ کنبہ سے لیکر معاشرے تک کے حسن اخلاق،حسن کردار کے سنوارنے کے فرائض کی عقدہ کشائی فرمائی۔ انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی تک کے الہامی اصول و ضوابط سے آگاہی بخشی ۔ معاشرے کی تشکیل و تکمیل کے لئے ازدواجی زندگی کے اخوت و محبت اور ایثا ر و نثار کے آسمانی نور سے دلوں کو منور کیا۔
۷۔ مذہب نے معاشرے کی تشکیل کیلئے ازدواجی زندگی کے نظام کو مکمل تحفظ فراہم
کیا۔جنسی بے راہ روی اور بدکاری اور زناہ کاری کا مکمل تدارک کیا۔معاشرے کو
پاکیزہ اور طیب بنیادوں پر استوار کیا۔ مذہب پرست امتوں نے ماں باپ ،بہن
بھائی اور بیٹی بیٹا کے محبت کے جذبوں سے سرشار آسمانی رشتوں کا تقدس اور انکی
عظمت کا سفر انسانی زندگی میں جاری رکھا۔انسانی فطرت میں ماں بہن ،بیٹی کے رشتوں کے تقدس کی شمع روشن کیں۔مذہب کی روشنی میں انسانی محبت سے بھرپورازدواجی زندگی کا سلسلہ آفرینشِ نسل کا عمل قائم کیا۔ انسانی نسل اس جہان رنگ و بومیں پھولوں کی طرح پھلتی پھولتی رہی۔ گھر کابا غیچہ اولاد کے بیٹی بیٹوں کے پھولوں سے سجتا ،سنورتااور ا ستوار ہوتا رہا۔ اولاد کی الہامی ،آسمانی محبت اور اولاد کی روحانی فطرتی کشش سے ماں باپ،دادی دادااور نانی نانا مسحور ہوتے رہتے ہیں۔ مذاہب کے تیار کئے ہوئے یہ آسمانی رشتے اخوت و محبت کے سفیر بن کر دنیا میں پھیلتے اور معاشرہ عمدہ اور انمول بنیادوںپر استوار ہوتا رہتا ہے۔
۸۔اولادیں جواں ہوتیں، گھر کی رونقیں دوبالا ہوتیں، مائیں اولادوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک روحانی یونیورسٹی کا رول ادا کرتیں۔تعمیرِ انسانیت کا کردار ادا ہوتا رہتا ہے۔مائیں اولاد کے اخلاق و کردار کومذہب کی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھاتیں۔ مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا درس دیتیں۔ اخوت و محبت کی روحانی تعلیمات سے انکی آبیاری کرتیں۔ اعتدال و مساوات کے الہامی فلسفہ کی روشنی میںانسانی کردار تیار کرتیں۔خدمت خلق کے جذبوںکو بیدار کرتیں۔مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کی روحانی تعلیمات سے انسانیت کو سینچتیں۔ دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتیں۔ پیغمبران کے فلسفۂ حیات کی تعلیمات کو نسل در نسل منتقل کرتیں۔ ان پاکیزہ رشتوں کا تقدس بحال رہتا۔ مذہب کے درس و تدریس اور نظریات کی آبیاری کا سلسلہ جاری رہتا۔ عمدہ اخلاق اور اعلیٰ کردار کی قندیلیں تیار ہوتی رہتیں۔ آسمانی صفات کی روشنیاں پھیلتی رہتیں۔ الہامی ،روحانی صداقتیں اس جہان رنگ و بو میں نورانی نور کا اپنا جلوہ دکھاتی رہتیں۔ انسانی نسلوں کے رنگا رنگ کے اولادوں کے پھول اور انکے رشتوں کے تقدس کی خوشبوئیں اس جہان فانی کو معطر کئے جا تی رہتیں۔ انسان عزیز و اقارب کے رشتۂ اخوت و محبت کا پیکر بنا رہا۔ مذہبی ازدواجی طریقہ کار خاندان کی تشکیل اور امن و امان اور ہر قسم کی عافیت کی آماجگاہ کا محور بنا رہا۔جمہوریت نے ماں سے روحانی یونیورسٹی اور اس سے ملی معلمی کا کردار اور اس سے شرم و حیا کی طیب دولت اور عزت و تقدس کا نورانی مقام آزایء نسواں کی ضرب سے لوٹ لیا ہے۔
۹۔ جب سے مذاہب کی کمانڈ چند نفوس پر مشتمل مادیت پرست اور اقتدار پرست نمرودی ،فرعونی اور یزیدی نظریات پر مشتمل جمہوریت کے سیاسی پیغمبران نے ہتھیا لی ۔ مذہب کے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظریات کی کڑی کو جمہوریت کے جال میں مقید کر لیا۔ یہودیوں، عیسائیوںاور مسلمانوں کے مذاہب کو زیر کر لیا۔ ان تمام مذاہب اور انکی امتوں پر سرکاری اور حکومتی سطح پر جمہوریت کی بالا دستی قائم کر لی۔ مذاہب کے نظریا ت ،انکے اصول و ضوابط،انکے ضابطہ حیات، انکا تعلیمی نصاب ،انکی درسگاہیں اور انکی تعلیم و تربیت کا سلسلہ سرکاری سطح پر معطل اور منسوخ کر دیا۔ الہامی کتابوں کے نظریات اور تعلیمی نصاب پر اسمبلیوں کے ممبران کے تیار کردہ جمہوریت کے نظریات نے فوقیت حاصل کر لی۔ جمہوریت کا تعلیمی نصاب ، اسکے اصول و ضوابط اور قوانین کا نفاذ جاری ہوتاگیا۔ جمہوریت کے مذہب کے اسمبلی ممبران کے تیار کردہ تعلیمی نصاب کے قوانین کی تقلید سرکاری احکام کی پابند بنا دی گئی۔ جمہوریت کے اقدار اور کردار،قوانین اور ضابطوں کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ مذاہب کے نظریات،انکا ضابطہ حیات،انکا طرز حیات سسک سسک کر دم توڑتے چلا گیا۔ جب تک پیغمبران کی امتیں انبیا علیہ السلام کی تعلیمات پر گامزن رہیں۔ دنیا امن کا گہوارہ بنی رہی۔ انبیا ء علیہ السلام کے الہامی صحیفوںکی تعلیمات بنی نوع انسان کے دلوں میں اترتی چلی جاتی۔ جمہوریت کے نظریات کی سرکاری بالا دستی نے انبیاء علیہ السلام کے دلوں کو تسخیر کرنے والی الہامی اقدار اور روحانی کردار کو کچل کر رکھ دیا۔ اس طرح دنیا میں جمہوریت نے ایک خوفناک نمرودی،فرعونی اور یزیدی فتنہ برپا کر دیا ہے۔
۱۰۔ سترھویں صدی کے آخر تک یہ تمام امتیں چادر اور چار دیواری کے نظام کو اپنانے میں پیش پیش تھیں۔جب سے مادہ پرستوں اور اقتدار پرستوں نے مذاہب پرست امتوں سے اقتدار کی جنگ جیت کر جمہوریت کا نظام حکومت قائم کر لیا۔تو مذاہب کےنظریات، انکے ضابطہ حیات اور انکے طرز حیات کو پابند معبد،کلیسا اور مسجد کر دیا گیا ۔ جمہوریت کے طرز حکومت کے اسمبلی ممبران کے پیغمبران نے قانون سازی کا عمل جاری کر لیا۔مذاہب کی سرکاری سرفرازی ختم کر دی گئی۔مذاہب کے نظریات اور انکی تعلیمات کے خلاف جمہور یت کے نظریات کی روشنی میں قانون سازی کر کے اسکی تقلید سرکاری مشینری کے ذریعہ ان پیغمبران کی امتوں پر نافذالعمل کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے مذہبی امتیں اوران کا معاشرہ انکے نظریات اور انکی تعلیمات ابتری کا شکار ہوتے گئے۔
۱۱۔ سب سے پہلے جمہوریت کی روشنی میں عورت کے حقوق کے تحفظ اور آزادی کی جنگ مغرب میں لڑی گئی۔ وہاں خاوند، بھائی، بیٹا،باپ نے مستورات بیوی،بیٹی ،بہن اور ماں کے حقوق سلب کر کے ان کے ترقی کے راستے روکے ہوئے تھے۔ انہوں نے مستورات کو مردوں کے برابری کے حقوق سے بھی محروم کر رکھا تھا۔ انہوں نے مستورات کومردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے سے بھی روک رکھا تھا۔انہوں نے مستورات کو مردوں کے نان و نفقہ مہیا کرنے کی قید میں مقید کر رکھا تھا۔ انہوں نے ماں، بہن ،بیٹی کے جسمانی اور روحانی تحفظ کے نام پر گھروں میں قید کر رکھا تھا۔ اس طرح مردوں نے مستورات کی آزادی کے حقوق کو چھین رکھا تھا۔مردوں نے مستورات کو چادر اور چار دیواری کی اذیتناک قید میں ڈال رکھا تھا۔کتنے غضب کی بات ہے کہ مردوں نے عورتوں کو اپنے گھروں کی عزت و عظمت اور زینت بنا رکھا تھا اور گھر کی سپرداری انکے حوالے تھی۔
۱۲۔ حقوق نسواں کی جنگ میں مغربی مردوں کو شکست فاش ہوئی۔ مستورات کو مادیت کے حصول اور ترقی کے کردار کو ادا کرنے کیلئے مخلوط معاشرے میں مادی خوشحالی کی غرض سے متعارف کروایا گیا ۔عورت نے حقوق نسواں کی جنگ جیت لی۔وہ چادر اور چار دیواری کی دیوار پھلانگ کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگئی اور روز گار کی تلاش میںگھر سے باہر نکل آئی۔ان کو گھر کی چاردیواری سے آزادی مل گئی۔ مردوں کے شانہ بشانہ فیکٹر یو ں ، کارخانوں،سرکاری اور غیر سرکار ی دفاتر میں ملازمتیں مل گئیں۔ اور زندگی کے ہر شعبہ میں مردوں کے ساتھ شامل ہوگئیں ۔ گھریلو ذمہ داریوں سے آزاد ہو گئیں سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیااورمخلوط معاشرہ وجود میں آنا شروع ہو گیا۔
۱۳۔ مذہب کے نظریات اور ضابطہ حیات اور طرز حیات سے بغاوت کے آثار اور نتائج کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئے۔ روحانی اور جسمانی تقدس پامال ہونا شروع ہو گیا ۔ نوجوان طبقہ جنسی بے راہ روی کا شکار ہوتا گیا۔جمہوریت نے بدکاری اور زناہ کے گناہ کی زندگی کو قانون سازی کے ذریعہ جائز قرار دے دیا۔ ہم جنس کے ساتھ جنسی آزادی کا قانون بھی معرض وجود میں آگیا۔ نو جوان جوڑے اپنے اپنے پسند کے نت نئے ساتھی کے ساتھ جنسی خواہشات پوری کرنے کے عمل میں مبتلا ہوتے گئے۔مذاہب کی ازل سے لیکر اب تک کے ازدواجی زندگی کے نظریہ حیات اور طرز حیات کے طیب اور پاکیزہ عمل کو جمہوریت کے سیاسی پیغمبران نے جمہوریت کی چتا کا ایندھن بنا کر رکھ دیا۔
۱۴۔مستورات کو آزادی ء نسواں کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔ مذہب کے عطا کئے ہوئے ازدواجی زندگی کے طریقہ کار کے تحت عورت چار دیواری کے اندر رہ کر اپنے دیوتا کی پوجا کرتی تھی۔بچے پیدا کرتی تھی۔ گھرپر راج کرتی تھی اور دیوی کہلاتی تھی۔ ماں کی مامتا محفوظ اور زندہ تھی۔ خالقِ کائنات کی طرح وہ او لا د کو شفقت اور محبت کا انمول آسمانی تحفہ تقسیم کرتی تھی۔ اولاد دل و جان سے ماں کی خدمت و ادب کے آداب بجا لاتی تھی۔عورت کا تقدس،اسکے جسم کا تقدس،اسکی روح کا تقدس اور اسکے وجود کی موجودگی ایک سایۂ ابر رحمت بن کر خاندان کے افراد پر چھائی رہتی تھی۔ جمہوریت کے طرز حیات میں مستورات مارکیٹ کی سا مان آرائش اور ڈیکو ریشن پیس بن کر رہ گئی۔ اسکے جسم اور جوانی کے خریدار بہت نکلے۔وہ مارکیٹ میں محبت کے جھو ٹے الفاظ کے دھوکے میں جنسی تشدد کا شکار ہوتی چلی آ رہی ہے۔زندگی میں اسے کئی جنسی دیوتا ملے۔لیکن وہ کسی دیوتا کی دیوی بن کر زندگی نہ گذار سکی۔مذہب کے فطرتی اصولوں کے خلاف جنگ لڑ کر مغرب میں جمہوریت کے سیاستدانوں کے تیار کردہ ضابطہ حیات کی جیت تو ہوگئی۔لیکن عورت اور مغربی معاشرہ مذہب کی ازدواجی زندگی کے نظام سے محروم ہوتا گیا۔ماں سے مامتا چھن گئی اور اولاد کیلئے ماں باپ کی خدمت و ادب کا چشمہ خشک ہو تا گیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ملت کی اولادیں بی بی پاکدامن حضرت مریم پاک کی بیٹیوں کی دعاؤں سے محروم ہو تی گئیں۔
۱۵۔ یہاں یہ بات بڑے دلی دکھ اور روحانی اذیت سے ادا کرنی پڑتی ہے۔کہ انبیا ء علیہ السلام پرجمہوریت کے جاہل سیاسی ممبران کی سرکاری بالا دستی کا فتنہ پیغمبران کی امتوں پر ،انکے نظریات پر اور انکی تعلیمات پر ہر قسم کی فوقیت حاصل کرچکا ہے۔
۱۶۔ان سیاسی جہلا کے پاس نہ عدل ہوتا ہے اور نہ ہی انصاف۔نہ ا مانت اور نہ ہی دیانت۔نہ اعتدال اور نہ ہی مساوات۔نہ صبر اور نہ ہی شکر۔ یہی ملت کے رہبر بھی ہوتے ہیں اور یہی رہزن بھی۔یہی ظالم بھی اور یہی جابر بھی۔یہی چودہ کروڑمسلم امہ کے فرزندان کا خون چوستے بھی ہیں اور پیتے بھی ہیں۔یہی خزانہ کے امین بھی ہوتے ہیں اور لوٹنے والے بھی ۔یہی زانی بھی ہوتے ہیں اور عیاش بھی۔یہی ملک کے خادم بھی ہوتے ہیں اور حکمران بھی ۔یہی بارہ سو برہمن چودہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کوشودر بنائے بیٹھے ہیں۔یہ دین بھی لوٹ رہے ہیں اور مسلم امہ کا خزانہ بھی ۔یہ آدھا ملک توڑ بھی چکے ہیں اور باقی آدھا ملک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا بھی کر رکھا ہے۔کیا ان سے اور جمہوریت سے نجات حا صل کرنا ملک و ملت کی سلامتی کیلئے ضروری نہیں۔ کیاانکے رو برو حق بات کہنا ہزار سال کی عبادت سے افضل اور ارفع نہیں۔ان ظالموں ،عیاشوںنے اپنی ڈکشنری سے رحم اور عدل کا لفظ خارج کر رکھا ہوا ہے۔ان چودہ کروڑ مسلم امہ کے مظلوم فرزندان کے آنسو ،ان ظالموں کی دو دھاری تلوار سے کہیںزیادہ مہلک اورخطرناک بن کر انکے سامنے آ چکے ہیں ۔ ان کی عقل مات کھا چکی ہے۔ پانی سر سے گذر چکا ہے۔انکو جمہوریت کے اس دین کش طرز حیات کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی ہو گی۔مذاہب کے انقلاب کا طوفان انکے سامنے کمر باندھے آن کھڑا ہوا ہے۔
۱۷۔پاکستانی حکمران مغرب کے ممالک کے حکمرانوں کی اچھائیوں اور خوبیوں کو پس پشت ڈالے چلے آرہے ہیں۔انکو انکے اعتدال و مساوات کے سسٹم کی سمجھ نہیں آتی۔ انکو انکے انسانی حقوق کے ادا کرنے کے عمل کی بھی سمجھ نہیں آتی۔انکو انکے رائج الوقت اعتدال پر مشتمل معاشی نظام کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ انکو انکے ایک تعلیمی نصاب قائم کرنے کی افادیت کا بھی پتہ نہیں چل سکا۔انکو انکے امانت و دیانت کے اصولوںپر گامزن ہونے کا بھی پتہ نہیں چل سکا۔انکو انکے یتیمو ں ، مسکینوں، محتاجوں ،بیماروں،بے روز گاروںاور بوڑھوں کی بنیادی ضروریات کے فرائض کو سرکاری سطح پر ادا کرنے کا عمل بھی دکھائی نہیں دے سکا۔انکو انکے ممالک میں عد ل و انصاف اور اپنے ملک کے عدل و انصاف کے فرق کا بھی علم نہیں ہو سکا۔ان کو ر چشموں کو انکی اخلاقی خوبیوں اور اپنی خامیوں کا فرق بھی محسوس نہیں ہو سکا۔ان کو مغرب کی ترقی کے اسباب اور پاکستان کے زوال کے محرکات کے عوامل کی نشاندہی کون کرے۔یہ تو اقتدار کے نشہ میں دھت۔ ملک کی عوام سے ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعہ انکا معاشی خون چوسنے اور ملکی وسائل کو لوٹنے۔انکو اپنے اپنے کارخانوں، فیکٹر یو ں،محلوں اور بنکوں میںمنتقل کرنے سے ابھی فرصت ہی کہاں۔ ملک کی تمام دولت ، تمام خزانہ اور تمام وسائل اقتدار کی نوک پر ان ساڑھے سات ہزار خاندانوں میں تقسیم ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ قیمتوں میں بے پناہ اضافے کرتے جائیں انکو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔
۱۸۔بیوہ، یتیم، اپاہج، بوڑھوں، ناداروں اور بے روز گاروں کی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری نبھانے کی بجائے ان سے ہر قسم کے ٹیکس،بجلی،گیس،پانی کے بل۔مکان کے ٹیکس،مہنگائی کے ٹیکسوں سے انکا معاشی خون چوسا جاتا ہے۔ انکو خود کشیوں اور خود سوزیوں پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ وہ اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو قائم کرنے سے گریز کرتے چلے آرہے ہیں۔اگر ملک میںمعاشی اعتدال و مساوات کو بروئے کار لایا جائے۔ تو ملک میں غربت قسم کی کوئی چیز نظر نہیں آ سکتی۔اعتدال و مساوات چودہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا بنیادی حق ہے ۔اس حق کو نافذالعمل کرنا ان کا دینی فریضہ ہے۔
۱۹۔اگر ملک میں طبقاتی تعلیم ختم کر دی جائے اور ایک تعلیمی نصاب مقرر کر دیا جائے اور تعلیم کے اخراجات عمومی یا نارمل سطح پر لا دئیے جائیں جن اخراجات تک عوام الناس کی رسائی ہوسکے۔تو ملک سائنس کی دنیا اور ترقی میں کسی سے پیچھے نہیں رہ سکتا۔طبقات کے عذاب سے ملک و ملت بچ سکتے ہیں۔ایک تعلیمی نصاب قائم کرنا اور طبقات ختم کرنا، چودہ کروڑ انسانوںکی عبادت کا حصہ ہے۔
۲۰۔اردو کے قومی زبان کے ورثہ کو ملک میں بحال کر دیا جائے تو چودہ کروڑ انسانوں کی جہالت اور غلامی دور ہو سکتی ہے۔ورنہ افسر شاہی ،منصف شاہی کے چند انگلش میڈیم کے طبقاتی انگریزی اداروں کے پروردہ ملت اسلامیہ کے فرزندان کو انتظامیہ اور عدلیہ کی لاٹھی سے جاہل بنا کر ہانکتے چلے جائیں گے۔چودہ کروڑ انسانوں کو اپنی جہالت اور غلامی کو دور کرنے کیلئے انتظامات کرنا انکا پیدائشی حق بنتا ہے۔ انگریزی زبان کی حاکمیت سے جمہوریت کی حاکمیت قائم ہوتی جا رہی ہے۔ چین،روس،روس کی بارہ آزاد ریاستیں اور دنیا کے بے شمار مغربی ممالک جن میں اپنی مادری زبان میں تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے۔ کیا وہ تمام ممالک ترقی یافتہ ممالک نہیں ہیں۔ اہل وطن کو اپنے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔یا اللہ چودہ کروڑ اہل وطن کو انگریزی زبان کی غلامی سے نجات دلا۔امین
۲۱۔دین پر علما کی عربی زبان کی اجاررہ داری کو ختم کرنے کیلئے اور قرآن پاک کی روح کو سمجھنے اور اسکی حکمتوں سے مسلم امہ اور پوری انسانیت کو آشنا کرنے کیلئے اور اس پر عمل پیرا ہونے کیلئے قرآن حکیم کا ترجمہ اردو زبان میں پہلی جماعت سے لیکر پی ایچ ڈی تک کا نصاب تیار کرکے ملک میں رائج کرنا ہوگا۔ اس سے دین کے نظریات،دین کے ضابطہ حیات،دین کی طرز حیات،دین کے حسن اخلاق، دین کے حسن کردار،دین کی اعلیٰ فطرتی صفات اور دین کی صداقتوں کے نور سے ملت کے فرزندان کی آبیاری ہونا شروع ہو جائیگی۔جس سے وہ دین کی روشنی میں ملت کی رہنمائی کے فرائض ادا کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ایسا کرنے سے دین کی قندیلیں پوری دنیا میں روشن ہونگی،چودہ کروڑمسلم امہ کے فرزندان اور انکی آنیوالی نسلیں دین کی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے قابل ہو سکیں گی۔ اسی سے مسلم امہ کی کردار سازی کا عمل بھی جاری ہو جائیگا۔ ایسا کرنا مسلم امہ کا فرض اولین ہے جو انہوں نے ادا کرنا ہے۔یا اللہ مسلم امہ کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرما اور جمہوریت کے عذاب سے نجات بھی دلا۔ امین
۲۲۔چادر،چار دیواری اور پردہ مسلم امہ کے دین کا ایک اہم جزہے۔جس نے پردہ کی دیوار کو توڑا اس نے زناہ کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا۔دین اسلام، مخلوط معاشرے کی اجازت نہیں دیتا۔تعلیم کی دولت کومخلوط تعلیمی اداروں کے سپرد کرنا مسلم امہ کے تشخص کے خلاف ایک گھناؤنی دین کش سازش ہے۔ سیاستدان اورحکمران عیش عشرت کے دلدادہ ، شراب نوشی اور بدکاری کے رسیا بن چکے ہیں۔یہ مخصوص پیشہ ور مستورات کے ساتھ رقص و ڈانس اپنی مخلوط محفلوں اور کلبوں میں تو کر سکتے ہیں۔کھلے عام یہ آج بھی اپنے بیٹیوں ،بہنوں ، بیویوں اور پھ
و پھیوں کو داد عیش دینے کی اجازت کو برداشت نہیں کر سکتے۔مغرب کی طرح مخلوط معاشرے کی تکمیل کا عمل درجہ بدرجہ آگے بڑھاتے جا رہے ہیں۔آزادیء نسواں اور مخلوط معاشرہ کے ذریعہ ملک و ملت کو مغرب کی تقلید میں دین کے ازدواجی نظام کو مفلوج کرنے۔ماں کی مامتا کو ختم کرنے،ماں کی حیا کو نوچنے۔ماں کی عزت کو روندنے،ماں کی روحانی صفات کو پائمال کرنے،ماں کے تقدس،ماں کی حرمت،ماںکی شفقت،ماں کی محبت،ماں کے جذبہ ایثار، ماں کے دعا کیلئے اٹھنے والے ہاتھوں کو کیسے مفلوج کیا جا سکتا ہے اور ماں کا اولاد کے ساتھ خدائی رشتہ ترک کرنے کے عذاب کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔یا اللہ یہ کیسا عذاب ہے کہ بد کردار سیاسی علما اور بے حیا سیاسی دانشوروں اپنی بہو بیٹیوں کو انگلی لگا کر اسمبلیوں کے ننگے ناچ ہالوں میں پہنچ گئے ہیں۔ان سے حیا کے الفاظ کی تاثیریں چھین لی گئی ہیں۔وہ دین کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ یا اللہ انہیں راستگی کی منزل کا مسافر بنا ۔یا اللہ ہم پر ہماری آنیوالی نسلوں پر رحم فرما۔امین
۲۳۔ مغربی تہذیب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔جمہوریت کے نظام نے مذہب کو کلیسا میںبند کر دیا۔ مخلوط معاشرہ بتدریج اپنی منازل طے کرتا رہا۔ اس طرح عیسائی نسلیں جمہوریت کے ظلمت کدہ کی زینت بنتی گئیں۔ مذہب کی ابتدائی اکائی ازدواجی زندگی کو انہوں نے پاش پاش کر دیا۔ مغرب میں چادر اور چار دیواری کا تصور اور ازدواجی زندگی کا نظام درہم برہم اور فرسودہ بنا کر رکھ دیا گیا۔جنسی آزادی نے خانگی زندگی میں ایک انوکھا انقلا ب برپا کر دیا ہے۔ عورت اور مر د ، نت نئے ساتھیوں کے ساتھ جنسی خواہشات کے عمل میں مصروف ہو چکے ہیں۔ عورت کی جوانی جنسی تشدد کا شکار ہوتی جاتی ہے۔ حرام کے بچے جنتی ہے اور وہ وکٹورین ہومز میں جمع کرا دیتی ہے۔ مغرب میں مرد و زن اولاد کی پرورش سے مبرا اور مثتثنیٰ ہوچکے ہیں۔ اولاد ماں باپ کی شفقت سے محروم ہو چکی ہے۔آسمانی رشتے بکھر چکے ہیں۔اخوت و محبت کے فطرتی جذبے نایاب اور ناپید ہو چکے ہیں۔ ازدواجی اور خانگی زندگی جمہوریت کے عذاب کی نظر ہو چکی ہے۔ دین دارسیاستدانوں، حکمرانوں، وقت کے دانشوروں، اور صاحب شعور مسلم امہ کے فرزندان کو سوچنا اور سنبھلنا ہو گا۔ کیا وہ ماں کے تقدس کو روندنا چاہتے ہیں یا تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ملت کوآپنے دو ٹوک فیصلہ سے آگاہ فرماویں۔
۲۴۔ہمارے سیاستدان اور حکمران بھی ملک میں جمہوریت کے نظام کے تحت مذہب کے نظریات،ضابطہ حیات کو مسجد کی چار دیواری میں پابند سلاسل کرچکے ہیں۔ جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کی طاقت سے مخلوط تعلیم، مخلوط اسمبلیاں، مخلوط حکمرانی، مخلوط سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتیں جمہوریت پسند سیاستدان اور حکمران ملک و ملت پر رائج کرتے جا رہے ہیں۔جمہوریت کی سرکاری بالا دستی مسلم امہ کے چودہ کروڑ پاکستانی فرزمدان اور تمام مسلم ممالک کے عوام کو دین محمدیﷺ سے فارغ کرنے کی ایک عالم گیر گہری سازش ہے۔جمہوریت کے ابلیسی فکر کے رہنما مسلم امہ کا اور دین محمدی ﷺکا گلا گھونٹ رہے ہیں۔انکے شکنجوں کو توڑنا ہوگا۔
۲۵،جمہوریت کے پروردہ جاگیر دار اور سرمایہ دار، مذہبی سیاسی جماعتوں کے علما کرام اور مشائخ کرام اور ان پر مشتمل حکمران پاکستان میں حکومتی سطح پر مستورات کو اسمبلیوں میں بہت بڑی تعداد میں نسشتیں مہیا کر کے ملک میں مخلوط حکومتیں بنانے کا عمل جاری کر چکے ہیں۔ مغرب کی طرح آزادیء نسواں کی جنگ کا آغاز ان سیاستدانوںاور حکمرانوں نے شروع کر رکھا ہے۔ سیاستدان اسلامی تہذیب کے چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے ضابطہ کو توڑنے کا عمل جاری کر چکے ہیں۔مخلوط تعلیمی نظام ملک میں رائج کر چکے ہیں۔سرکاری اور غیر سرکاری
ملازمتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی پالیسی اپنا چکے ہیں۔انتظامیہ اور عدلیہ کے ہر شعبہ میں مستورات پہنچ چکی ہیں۔ہوٹلوں اور کلبوںتک آزادیء نسواں کا سفر طے ہو چکا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں مخلوط طرز حیات کی سرکاری پذیرائی ہو رہی ہے۔بدکاری اور بے حیائی کا دین کش مخلوطی معاشرے کا سفر مغرب کی طرح اپنے منطقی انجام کی منزل کی طرف رواں ہو چکا ہے۔سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں نوجوان لڑکیوں کو عیاش افسر اور عیاش سرمایہ دار انکی ظاہری بدنی جاذبیت کے تحت معقول تنخواہوں کے عوض بھرتی کر لیتے ہیں۔نوجوانوں کیلئے نوکریاں حاصل کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ سیاسی جماعتوں کے ممبران اور سیاسی عالم دین اور مشائخ کرام جمہوریت کے سائے تلے مسلم امہ کی بیٹیوں کو مخلوط معاشرے کی زینت اور بدکاری اور بے حیائی کا دوزخ کا ایندھن بنانے کا سرکاری قانون نافذ کرچکے ہیں اور اپنی بیٹیوں کو انگلی لگا کراسمبلیوں میں پہنچ چکے ہیں۔ دین محمدیﷺ کی امت کے نظریات اور کردار کے قاتل بن چکے ہیں ۔ دین کی حیا کو اقتدار کے عوض فروخت کر چکے ہیں۔جمہوریت کی بالا دستی دینی اقدار اور کردار کو بری طرح روندتی چلی جا رہی ہے۔سیاستدانو اور حکمرانو اپنے اعمال کا احتساب خود کر لو۔نیک مشورہ ہے۔دنیا اور آخرت سنور جائیگی۔ورنہ حالات آپکے سامنے ہیں ۔وقت ایسا آرہا ہے کہ کوئی شخص کسی کی کوئی مدد کر نہیں سکے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی ناگہانی آفات سے محفوظ فرماویں۔امین۔
حکومتی سطح پر ٹی وی مخلوط معاشرہ تیار کرنے میں اہم رول ادا کر رہا ہے۔
۲۶۔ڈراموں میں چوری ،ڈاکے اور رہزنی کے کردار ملک میں چوری، ڈاکے اور رہزنی کی تربیت گاہ کا سرکاری فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ حکومتی پالیسی کے مطابق حکمرانوں نے نوجوان مرد و زن کو ٹی وی ڈراموں کے ذریعہ نفس پرستی،ہوس پرستی،مادہ پرستی ، اور شہوت پرستی کی تربیت گاہ بنا رکھا ہے ۔ٹی وی پر سفارش،کرپشن اور رشوت کے ڈراموں کے کردار معا شر ے کو ان برائیوں سے متعارف کروانے اور ان پرعمل پیرا ہونے کا رول ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ٹی ۔وی آرٹسٹوں میں شامل مرد و زن دین کی دیواریں پھلانگنے اور دین کا مذاق اڑانے کا فریضہ سرکاری ہدایات کی روشنی میں ادا کر رہے ہیں۔ ٹی ۔وی کا یہ سب مخلوط نظام اور سسٹم تمام مذاہب اور خاص کر دین محمدیﷺ کے نظریات،ضابطہ حیات ، تعلیمی نصاب،دینی اخلاقیات،دینی کردار،دینی صفات اور فطرتی صداقتوں اور مذہبی طرز حیات کو ختم کرنے،اسکو منسوخ کرنے،اسکو مسخ کرنے اور اسکو روندنے اور انکو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ٹی ۔وی پر جو مستورات ایکٹرسوں اور مرد حضرات اداکاروں کا رول ڈراموں میں ادا کر رہے ہیں۔ جو ڈرامہ نویس ان ڈراموں کے خالق ہیں یا جو مرد و زن پر مشتمل اشتہار ٹی ۔وی پر مشتہر ہورہے ہیں ۔ انکی تعداد گن لو۔ ان بے حیاؤں کی نفری ہزار بارہ سو سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ بے حیائی پھیلانے والے بہترین شہرت یافتہ ادیبوں اور فنکاروں کے سرکاری تغمات کی تعداد گن لو۔جن کو بے حیائی پھیلانے کا انعام دیا جاتا ہے۔ انکا پاکستان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ جمہوری حکمران دنیائے عا لم کو جو پاکستانی مسلم امہ کا تشخص پیش کر رہے ہیں۔وہ سرا سر ظلم اور زیادتی ہے۔ انبیا علیہ السلام اور انکے الہامی ،روحانی صحیفوں کے خلاف جمہوریت کے سیاسی دانشوروں،سیاسی سکالروں ، سیاسی لکھاریوں کی ایک عالمگیر سازش ہے جس کے ذریعہ تمام پیغمبران اور انبیا علیہ السلام اور انکے الہامی صحیفوں کی توہین اور انکے نظریات کو بین الاقوامی سطح پر منسوخ کر کے اور جمہوریت کے باطل ،غاصب نظریات کی سرکاری بالا دستی قائم کر کے پیغمبران کے نظریات
اور تعلیمات کو بے اثر بنایا جا رہا ہے۔ مذہب پرست امتیں جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کی قید میں مقید اور بے بس ہو چکی ہیں۔ آج بھی حسینی قافلے کے خلاف بد نصیب علما کرام اور مشائخ کرام یزیدی نظام کا ساتھ دینے سے گریز نہیں کر رہے۔ جس کے ذریعے یہ نمرود ،فرعون اور یزید کے نظریات کی جنگ جیتنا چاہتے اور جمہوریت کے اقتدار کی تلوار سے ورلڈ آرڈر کے تحت ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظریات اور تعلیما ت اور کردار اور پوری تہذیب کو دنیا سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔
۲۷۔ان حقائق کی روشنی میںاصل حقیقت تک رسائی کرنا از بس ضروری ہے۔اس دین کش جمہوریت اور اسکے سیاستدانوں اور مذہبی سیاسی پیشواؤں کو روکنا مسلم امہ کے ہر فرد کا دینی پاکیزہ فریضہ ہے۔عالم دین اور مشائخ کرام جو جمہوریت کے نظام میں اپنی دینی سیاسی جماعتیں بناکر جمہوریت کے نظام کا حصہ بنے بیٹھے ہیں۔انکے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔کہ وہ مادیت اور اقتدار کے حصول کی خاطر ضمیر اور دین کو فروخت کر نے کا عمل جاری رکھنا چاہتے ہیںیا ترک کرنا چاہتے ہیں۔ اس تحریر کے بعد ان سے پوچھ لینا بہتر ہوگا ۔ کیا وہ اسکے بعد بھی جمہوریت کی حکومت کا حصہ بننا پسند کرتے ہیں۔یہ اپنی اپنی سیاسی اسلامی جماعتوں کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اپنے ورکروں کو مطلع کر دیں۔تا کہ انکا اصل روپ انکے سامنے آسکے۔اگر یہ ملک میں دین نافذ کرنا چاہتے ہیں۔تو حکومت سے فارغ ہو جائیں۔دین مہینوں میں نہیں دنوںمیں نافذ ہوگا۔
۲۸۔کیا علما کرام اور مشائخ کرام جمہوریت اور دین کے شورائی نظام کے فرق کو سمجھتے ہیں۔کیا وہ اچھی طرح جانتے نہیں کہ جمہوریت کے نظریات اور دین کے نظریات ایک دوسرے کی ضدیں ہیں۔
۱۔جمہوریت کی سرکاری بالا دستی نمرود، فرعون اور یزید کے ضابطہ حیات کے علم،عمل
اور کردار کی!
ملک میںا صول و ضوابط جمہوریت کے! مخلوط اسمبلیاں جمہوریت کی!
مخلوط تعلیمی نظام جمہوریت کا!مخلوط معاشرتی نظام جمہوریت کا!
سودی معاشی نظام جمہوریت کا!طبقاتی سرکاری نظام جمہوریت کا!
دین کی تقلید سرکاری طور پر زندگی کے ہر شعبہ میں منسوخ!
اے دینی اسلامی جماعتوں کے سیاسی رہنماؤ۔اے جمہوریت کی سیاست کے علماکرام اور مشائخ کرام،اے جمہوریت کے مذہب کے ایم پی اے،ایم این اے اور سینیٹرو
اے جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والے مشیرو،وزیرو۔بتاؤ!۔ تمہیں کس نام
سے پکارا جائے۔ فرعون یا یزیدکے ایجنٹ، دین کے منکر، دین کے منافق یا د شمن
دین ۔ یا مسلمان فیصلہ کر کے امت کو بتا تو دو۔ورنہ اپنی غلطی کا اعتراف کرو اور
دین کو بحال کرو۔یا اللہ انکو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرما۔امین۔

۲۔ کیا وہ مذہبی رہنما جمہوریت کے نظام حکومت میں شامل ہو کر دین کی حفاظت کر
رہے ہیں یا دین کو ضرب کاری لگا رہے ہیں۔
کیا پاکستان میں بسنے والی مسلم امہ سرکاری طور پرجمہوریت کے باطل ،غاصب
ضابطہ حیات کی تقلید کی پابند نہیں بن چکی۔
۳ ۔کیا وہ شورائی جمہوری نظام کو ترک کر کے دین کے خلاف جمہوریت کے
الیکشنو ں میں حصہ لیکر ایم پی اے۔ایم این اے اور سینیٹر کے ممبران بنتے نہیں ہیں۔
۴۔کیا وہ الیکشن جیتنے کے بعدمشاورتیں،وزارتیں حاصل کر کے جمہوریت کے
دین کش نظام کی حکومتوں کا حصہ نہیں بنتے چلے آرہے۔
۵۔کیا جمہوریت کے باطل نظریات اور غاصب ضابطہ حیات کی سرکاری تقلید سے
اسلام کا نفاذ ممکن ہے۔جمہوریت کے سیاستدانوں نے مسلم امہ کو ۷۸ سیاسی
جماعتوں میں منقسم کر رکھا ہے۔اور مذہبی رہنماؤں نے ملت اسلامیہ کی وحدت
کو مسلکوں اور فرقوں میں بکھیر رکھا ہے۔مسلم امہ کی وحدت کو ختم کرنے کے یہ
تمام گھناؤنے طریقے ہیں۔دین کی عمارت میں جمہوریت،مسلکوں اور فرقوں
کے بتوں کو ختم کرنا ہوگا۔وحدت دین کی شمع روشن کرنی ہوگی۔
۶۔کیا اسلام کے نظریات اور ضابطہ حیات کو اسمبلیوں کے ذریعہ سرکاری طور پر ختم
کرنے اور ترک کرنے سے اسلام نافذکیا جا سکتا ہے۔تم کیسے عالم دین اور
مشائخ کرام ہو۔ملت اسلامیہ کو اپنا اصل تعارف کراؤ۔
۷۔ کیا یہ عالم دین اور مشائخ کرام جمہوریت کی سیاست میں دین کے نام پر
اپنی اپنی جماعتیں تشکیل دینے والے دین اسلام کے رہبر ہیں یا رہزن۔
۸۔ کیا اس جمہوریت کی عملی زندگی کے بعد، ان سے پوچھ لیا جانا مناسب ہے کہ وہ
یزیدکے ساتھی ہیں یا حضرت امام حسینؓ کے قافلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
۹۔ ان سے یہ بھی پوچھ لینا مناسب ہوگا کہ وہ زندگی تو فرعون کی گذاریں اور
عاقبت انکو کس کی ملنی چاہئے۔فرعون کی یا موسیٰ علیہ السلام کی۔ انکو اپنا قبلہ
فوری طور پردرست کر لینا چاہئے
۔
۲۹۔جمہوریت کے باطل اور غاصب نظریات اور ضابطہ حیات کا راستہ صرف اور صرف پیغمبران کی امتیں اور انکے مذہبی پیشوا ہی روک سکتے ہیں۔تمام مذاہب کی تمام امتیں اور دنیا کے تمام نظریات کی تقلید کرنے والے عوام جمہوریت کے نظام اور سسٹم کی گرفت میںبری طرح پھنس چکے ہیں۔جمہوریت کا نظریہ حیات ۔ جمہوریت کا تعلیمی نصا ب ۔جمہوریت کا علم۔جمہوریت کے مخلوط تعلیمی ادارے۔جمہوریت کا معاشی نظا م ۔ جمہوریت کا معاشرتی نظام۔ جمہوریت کے اخلاقی اصول۔جنسی آزادی کا ضابطہ اور ازدواجی اور خوانگی زندگی کا خاتمہ۔ دنیائے عالم کے تمام ممالک کی مذہبی امتوں کو سیاست کے ممبران کے پیغمبران کی تحویل میں دیدیا گیا ہے۔ تمام مذاہب کی امتوں کا سرکاری مذہب جمہوریت مقرر ہو چکا ہے۔جمہوریت کے دانشوروں، سکالروں،داناؤں اور پیشواوئںنے بڑی ہنر مندی اور بڑے ٹیکنیکل طریقہ کار سے تمام مذاہب کے ضابطہ حیات کے اصول و ضوابط کو سرکاری سطح پر منسوخ کر کے انکی معاشی اور معاشرتی افادیت کو ختم کر دیا ہے۔ روحانیت پر مادیت کی بالا دستی قائم کر دی ہے۔ جمہوریت کے مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کے فتنہ نے دنیا ئے مذاہب کی امتوں میں فساد پھیلا رکھا ہے۔مادہ پرست ،زن پرست،ہوس پرست، شہوت پرست اور اقتدار پرست مخلوق خدا اور بنی نوع انسان سے ظلم کی نوک پر حق چھینتے ہیں۔ غاصبانہ قوت اور طاقت کی بنا پر وسائل چھینتے ہیں۔ اسی طاقت اور وسائل کی برتری سے ملک کا اقتدار سنبھالتے ہیں۔ طاقتور ممالک کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے بے گناہ عوام پر حملے کرتے اور ان کا قتال جاری رکھتے ہیں۔جسموں کو تسخیر کرتے ہیں۔ انسانی دلوں سے اترتے جاتے ہیں۔
۳۰۔ مذاہب بنی نوع انسان میں اخوت و محبت اور ادب واحترام کی شمع روشن کرتے ہیں۔خدمت خلق کے عمل کو حسن اخلاق سے ادا کرتے ہیں۔عدل و انصاف قائم کرتے ہیں۔ایثار و نثار کی قندیلیں منور کرتے ہیں۔بنی نوع انسان کے دلوں کو اعلیٰ صفات سے مالا مال کرتے ہیں۔نیکی کی راہ استوار کرتے ہیں۔مذاہب کے ضابطہ حیات کی حدود و قیود معاشرتی زندگی کو سنوارتی ہیں۔مذاہب کے نظریات کی آبیاری دلوں کو عاجزی اور انکساری سے رو شناس کرواتی ہے۔مذاہب کی تعلیمات اپنی ذات سے متعارف کروانے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔مخلوق خدا سے حلیمی اور کریمی کے عمل کاراستہ اور اسکی افادیت سے آشنائیآْگاہی بخشتا ہے۔ہم نے تو مذاہب کے الہامی نور کی قندیلوں کو روشن کرنا تھا۔ہم نے تو مخلوق خدا کو سچائی کا راستہ دکھانا تھا۔ہم نے تو دوسرے نظریات سے منسلک مخلوق خدا کو راہ راست دکھانا تھا۔ہم نے تو مخلوق خدا کو سلسلہ انبیاء علیہ السلام سے متعارف کروانا تھا۔ہم نے تو انکے کردار کی روشنیاں پھیلانی تھیں۔ہم نے تو مخلوق خدا کے دلوں اور روحوں میں مذہبی تعلیمات کے چراغ روشن کرنے تھے۔ہم نے تو انسانیت کی خدمت کے آداب بجا لانے تھے۔ہم نے تو انسانیت کو دکھوں اور اذیتوں سے نجات دلانی تھی۔ہم نے تو دنیا کی بے ثباتی کا سبق مخلوق خدا کو یاد کروانا تھا۔ہم نے تو خالق کی خدائی اور کنبہ خدا کی عزت و توقیر کرنی تھی۔ہم نے تو اخوت و محبت کے نور کو عام کرنا تھا۔ہم نے تو زخمیوں کی مرہم پٹی ، بیماروں کو دوا اور شفا مہیا کرنی تھی۔ہم نے تو دوسرے نظریات سے منسلک عوام الناس کواپنے کردار کی خوشبو سے معطر کرنا تھا۔ انکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا تھا۔لیکن ہم نے تو انبیاء علیہ السلام کی نافرمانی کا عمل جاری کرلیا۔ اور انکی تعلیمات ،ضابطہ حیات اور طرز حیات کوسرکاری طور پر ختم کر دیا۔
جمہوریت کے مذہب کش نظام حیات کو سرکاری طور پر نا فذ کر کے دنیا میں مذہب کے خلاف جمہوریت کا ایک خوفناک تباہ کن فتنہ پیدا کر دیا۔مذاہب کے قوانین اور ضابطوں کو جمہوریت پرست سیاستدانوں اور حکمرانوں نے کثرت رائے کی تلوار سے نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ مادیت اور حصول اقتدار کے عالمی دہشت گردوں نے جمہوریت کی عالمی قیادت قائم کر لی۔امتوں کا نام پیغمبران کے ناموں تک محدود رکھا۔ انبیا کی صداقتیں اور صفات جمہوریت کے رہبر نگل گئے۔ امتیں پیغمبران کیلئے باعث ندامت بن کر رہ گئیں۔
۳۱۔ وقت کے تما م، مذہبی دانشوروں،اہل علم مذہبی رہنماؤں اور اہل بصیرت روحانی پیشواؤںکی توجہ جمہوریت کی سیاہ اندھیری کی طرف مبذول کروانا نہائیت ضروری سمجھتا ہوں۔ دنیا مختلف نظریات کے پھولوں سے آراستہ ہے۔ جیسے کمیونیزم،سوشلزم،ہندو ازم،بدھ ازم اور مذہب پرستی کے نظریات کے مختلف پھول۔نظریات سے نفرت کرنا انسانوں سے نفرت کرنے کے مترادف ہے۔ انسانوں سے نفرت خالق کے عمل سے نفرت کرنے کے مترادف ہے۔مذاہب خدا اور اسکے انبیا ء علیہ السلام کے نظام سے متعارف کرواتے ہیں ۔خیر اور شر کی تمیز سکھاتے ہیں۔اچھائی اور برائی کی پہچان کرواتے ہیں۔نیکی اور بدی کا شعور عطا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت سے آشنائی کرواتے ہیں۔ اس دار الفناہ کی حقیقت سے آگاہی بخشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کیلئے چار الہامی صحیفے چار پیغمبران پر یکے بعد دیگرے نازل فرمائے۔ یہ صحیفے پوری انسانیت کی ملکیت ہیں۔ انکی امتوں نے تو بنی نوع انسان کی رہنمائی کا طیب فریضہ تو انبیاء علیہ السلام کے ان صحیفوںکی روشنی میں فروزاں اور ادا کرنا تھا
۳۲۔ لیکن سیاستدانوں اور حکمر ا نوں نے دنیا کے تمام مذاہب اور نظریات پر جمہوریت کی بالادستی اور حکمرانی کا طرز حکومت قائم کر لیا ہے۔جس نے دنیائے عالم میںتمام مذاہب اور نظریات کی تہذیب و تمدن کو دبوچ اور ختم کر رکھا ہے۔ مذاہب کی تمام امتیں ایک ہی نظریات اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں۔ آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک کی تمام امتیں ایک ہی نظریات کی آبیاری کرتی چلی آرہی ہیں۔جمہوریت نے تمام مذاہب کے نظریات ،ضابطہ حیات ، ضابطہ اخلاق، طرز حیات ،تعلیمات اور ان کا تہذیب و تمدن ، معاشی اور معاشرتی اقدار کو نگل کر رکھ دیا ہے۔ مخلوق خدا مادیت اور اقتدار کی دلدل میں پھنس چکی ہے۔ آج کے جمہوریت پسند حکمران نفرت،نفاق اور جنگ و جدل میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اور دنیا کو نیست و نابود کرنے کے مہلک ہتھیاروں کی دوڑ میں پھنس چکے ہیں۔اس نفرت و نفاق اور جنگ و جدل اور قتل و غارت کی آگ کو صرف اور صرف انبیا کرام کی اخوت و محبت اور خدمت و ادب کی تعلیمات اور کردار کی رحمتیں ہی بجھا سکتی ہیں۔ان تمام صاحب بصیرت مذہبی پیشواؤں سے استدعا کرتا ہوں۔کہ وہ اپنا مذہبی فریضہ بین الاقوامی فورم پر مل کر پورا کریں۔دنیا میںانبیا علیہ السلام کا امن اور سلامتی کا راستہ انسانیت کو دکھائیں۔تاکہ دنیا امن کا گہوارا بن سکے۔آمین