To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پاکستان کا سیاسی اور معاشی نظام۔
عنایت اللہ
پاکستان دنیا کے نقشہ پر ایک مذہبی نظریاتی اسلامی ملک بن کر ابھرا۔مسلم امہ کا ایک اپنا مکمل دستور مقدس اورضابطہ حیات موجود ہے۔انکے لئے دین کش جمہوریت اور جمہوریت کا ضابطہ حیات ایک زہر قاتل کی حثیت رکھتا ہے۔ جمہوریت کے نظام اور نظریات کی سرکاری بالا دستی اور انکے سرکاری احکام کی اطاعت نے مسلم ا مہ کا تشخص مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔
۱۔پاکستان میں جمہوریت نے چود ہ کروڑ مسلم امہ کو جو ملکی سطح پر معاشی اور معاشرتی ماحول مہیا کر رکھا ہے۔اس کا اسلام کی تہذیب و تمدن کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ملک میں نمازپڑھی جا سکتی ہے۔قرآن پاک کو بھی سنا جا سکتا ہے۔اسلام کا نام لیا جا سکتا ہے۔لیکن اسلام کو،اسلام کے نظریات کو،اسلام کے ضابطہ حیات کو،اسلام کے نظام کو ، اسلا م کے قوانین و ضوابط کو،اسلام کی طرز حیات کو نہ ہم نے سرکاری طور پر تسلیم کیاہے ۔اور نہ ہی سرکاری طور پر اسلامی نظام ملک میں رائج کیاہے ۔اس وجہ سے ہم سرکاری طور پر اس نظام کی پیروی یا اطاعت کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ ان حا لات میں مسلم امہ اور اسکی نسلوں کی دین کی روشنی میں کردار سازی ممکن ہی نہیں۔ لہذا جمہوریت کی بالا دستی ملک میں نافذالعمل اور رائج ہونے کی وجہ سے جو تہذیب اور جو معاشرہ تیار ہورہا ہے۔اس کا دین محمدیﷺ کے ساتھ کوئی تعلق نہیںہے۔لہذا اس وقت ملک میں جومعاشرتی اور معاشی نظام اور اقدارنا فذ العمل ہیں وہ جمہوریت کو فروغ دینے کے فرائض ادا کر رہی ہیں ۔
ملک میں سیاستدانوںنے جمہوریت کا جومعاشرتی نظام رائج کر رکھا ہے۔
ملک میں جو معاشرتی اعتدال و مساوات کا ضابطہ مسلط کر رکھا ہے۔
ملک میںجو معاشرتی عدل کا طریقہ رائج کر رکھا ہے۔
ملک میں جو معاشرتی انصاف مہیا کیا جا رہا ہے۔
ملک میں جن معاشرتی اصول و ضوابط کی پیروی کی جا رہی ہے۔
ملک میں جو مخلوط معاشرتی طرز حیات اپنارکھا ہے۔
ملک میںجو مخلوط حکومتیں بنائی اور چلائی جا رہی ہیں۔
ملک میںجومخلوط تعلیمی نظام چلایا جا رہا ہے۔
ملک میںجو طبقاتی نظام حیات قائم ہے۔
ملک میں جو طبقاتی تعلیمی ادارے مسلم امہ کی نسلوں کی تربیت کر رہے ہیں۔
ملک میں جو طبقاتی تعلیمی نصاب رائج پذیر ہے۔
ملک میں جو معاشی نظام چلایا جا رہا ہے۔
ملک میںجو اور جیسے ملکی خزانہ کی بندر بانٹ ہورہی ہے۔
ملک میںجو اور جیسے ملکی وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔
ملک میں جو اور جیسے ملی دولت کا استعمال ہو رہا ہے۔
ملک میں جو اور جیسے حکومتیں بنانے اور قائم کرنے کیلئے جو حشر خزانہ کا کیا جارہاہے۔وہ
کسی سے چھپا نہیں۔
۲۔ان تمام بالا رئج الوقت ضابطہ حیات کا اسلام کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کا تما م طرز حیات جمہوریت کے ابلیسی ارباب سیاست کے باطل ،غاصب بے دین نظریہ حیات پر مشتمل ہے۔ملک کے تما م اصول و ضوابط،عدل و انصاف اور امانت ودیانت کے پیمانے،اعتدال و مساوات کے قوانین،ملک کے نظم و ضبط کے ضابطے اسلام کے نظر یا ت ، اسلام کے ضابطہ حیات اور اسلام کے طرز حیات کو کچلنے اوراسکی روح کو مسخ کرنے کیلئے ارباب سیاست پر مشتمل جاگیر داروں اور سرمایہ داروںنے ملک میں نافذا لعمل کر کے چودہ کروڑ مسلمانوں کے کردار کا جو تشخص دنیائے عالم کے سامنے پیش کیا ہوا ہے۔ نہ وہ دین اسلام کا مظہر ہے اور نہ ہی اسکا کسی اور مذہب کے ساتھ دور کا کوئی تعلق یا واسطہ ہے۔ جمہوریت کے ابلیسی نظریات پر مشتمل ان سرکاری ضابطوں سے جو معاشرہ تیار ہو رہا ہے۔ وہ ہر گز مذہبی معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔
۳۔جمہوریت کے مذہب کی مخلوط تعلیم،مخلوط سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتیں،مخلوط
اسمبلیاں،مخلوط وزارتیں ، مخلو ط سرکاری ایوانوں میں مخلوط حکومتیں اور مخلوط معاشرہ مسلم امہ کے چودہ کروڑ مرد و زن کے دین کے نظریات اور تعلیمات اور ضابطہ حیات اور طرز حیات کے منافی ہی نہیں بلکہ مہلک ہے۔
ب۔جمہوریت کے مذہب کا طبقاتی تعلیمی نظام، طبقاتی تعلیم،طبقاتی تعلیمی ادارے ،طبقاتی تعلیمی نصاب ،طبقاتی سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتیں۔طبقاتی تنخواہیں،طبقاتی سرکاری سہولتیں،طبقاتی افسر شاہی، طبقاتی نوکر شاہی،طبقاتی برہمن اور طبقاتی شودر،طبقاتی سیاستدان، طبقاتی حکمران، طبقاتی رعایا ، طبقاتی آقا اور طبقاتی غلام، طبقاتی طرز حیات، طبقاتی ضابطہ حیاتطبقاتی معاشی نظام اور طبقاتی معاشرتی نظام ۔یہ تمام جمہوریت کا طرز حکومت مغرب کے ا بلیسی ارباب سیاست کے دانشوروںکے ذہنوں کی تخلیق ہے۔جس سے مسلم امہ کی نسلوں کی تربیت جمہوریت کے مذہب کے قوانین کے تحت کردار سازی اور آبیاری ہوتی جا رہی ہے۔
۴۔مغرب آزادیء نسواں اور مخلوط معاشرے کے کینسر میں مبتلا ہو کر اپنے مذہبی
اور ازدواجی زندگی کی عمارت کو ریزہ ریزہ کر چکا ہے۔جب جمہوریت کے سیاستدا نو ںاور حکمرانوں نے مغرب میںقانو ن سا زی کرکے عیسائیت کے ازدواجی زندگی اورخوانگی زندگی کے مذہبی نظام کو توڑ دیا۔ تو اسکی جگہ مخلوط معاشرہ تیار کرنے اور قائم کرنے کیلئے سرکاری طور پر قانون کا تحفظ فراہم کیا ۔ عورت نے چادر اور چار دیواری کے مذہبی نظام کو ترک کیا۔ تو عیسوی ملت کے نو جوان مرد و زن کو جمہوریت کے نظریات کے مطابق مادیت
کے حصول کی خاطر مخلوط معاشرے میں آپس میں کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ اس طرح
نوجوان طبقہ کو جنسی آزادی کا موقع بھی فراہم ہوا۔بدکاری، بے حیائی اور زنا کاری
کے عمل کو پذیرائی بھی ملی۔ سرکاری قانونی تحفظ ان شہوت پرستوں، جنس پرستوں
اور عیاشوں کو میسر ہوا ۔ وکٹورین چائلڈ پیدا ہونے اور چائلڈ ہوسز میں پرورش پانا شروع ہوگئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج مذہبی معاشرتی تہذیب جمہوریت کی معاشرتی تہذیب میں ڈھلنا شروع ہو گئی ۔ خانگی زندگی اور ازدواجی زندگی بدکاری ،بے حیائی اور زناکار ی میں بدل گئی۔گھریلو زندگی دم توڑتی گئی۔ خاندان کی عمارت ریزہ ریزہ ہوتی گئی اور اسکے رشتوں کا تقدس روند دیا گیا جو انکے معاشرے میں گوہر نایاب بن کر رہ گیا۔مغرب نے مخلوط معاشرہ اور مرد و زن کو جنسی آزادی دے کرجیون ساتھی کا تصور مفقود اورنا یاب کر دیا ہے۔ کلیسا میں شادیوں کا مذہبی رحجان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب وہ اس معاشرے کا رخ مذہب کی طرف واپس موڑنا چاہتے ہیں جو انکے لئے ممکن ہی نہیں رہا۔
۱۔ میاں بیوی کے خدائی رشتہ کی ازدواجی زندگی نا پید اورماں باپ اولاد کی پرورش کے جذبہ سے محروم اور فارغ ہوتے جا رہے ہیں۔
۲۔ عورت کا شباب چند درہموں اور چند میٹھے بولوں کے عوض مارکیٹ میں فروخت ہونا
شروع ہو گیا۔زندگی بھر اسکے جیون ساتھی بدلتے چلے جاتے ہیں۔
۳۔عورت بچے جننے کی مشین بن کر رہ گئی۔ اسکے پاس نہ گھر رہا اور نہ ہی اسکو ماں
کے میٹھے اور پاکیزہ نام سے کوئی پکارنے والا رہا۔
۴۔انسان میاں بیوی، ماں باپ، بیٹی بیٹا اور بہن بھائی کے خونی اور آسمانی رشتوں اور انکی الہامی محبتوں کے دلربا پرلطف روحانی لطائف کے نور سے محروم ہوتا گیا ۔
اب وہ اس معاشرے کو مذہب کی طرف موڑنا چاہتے ہیںاور ازدواجی زندگی کے مذہبی نظام کو اپنانا چاہتے ہیں جو انکے لئے ممکن ہی نہیں رہا
۵ر اصل آج جمہوریت اس دور کا ایک ایسا عبرت ناک دجالی نظریہ اورمذہب
بن کرسا منے آیا ہے۔ جو مادیت اور اقتدار کی آگ کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔جو خدا وند
قدوس کے مذاہب کے نور کو اور پیغمبران کی امتوں اور ملتوں کو اسآگ کی چتا میں
جلاتااوربھسم کرتا جا رہا ہے۔ ملت عیسوی مذہب کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکی ہے ۔ کیا پاکستا ن اور اسکی مسلم امہ اس نظام کو اپنانے کے بعد اسکے مضمرات سے بچ سکے گی۔
پ۔پاکستان کا سودی معاشی نظام اور ٹیکس کلچر مغرب کے زیر سایہ پروان چڑھ رہا ہے۔اس معاشی نظام سے سرمایہ داروں ،سیاستدانوں اور حکمرانوں کا ملکی دولت اور ملکی وسائل پر پورا کنٹرول حاصل ہو چکا ہے۔عوام سے ملک کی تمام دولت ٹیکسوں کے ذریعہ چھین لی جاتی ہے۔عوام سے گدھوں کی طرح صبح شام سخت محنت اور خرکاروں کی طرح معاشی اور معاشرتی ضابطوں کی اذیتناک چھڑی سے پٹائی کر کے ایک غلام اور ایک قیدی کی زندگی گذارنے پر مجبور اور بے بس بنا دیاگیا ہے۔اس عدل کش جمہوریت کے غاصب نظام کو رائج کرنے کے بعداسلامی معاشرہ کیسے تیار ہو سکتا ہے۔
۶۔جمہوریت کے اس دور میں دنیا میں پھیلے ہوئے انسانوں کی اکثرو بیشتر معاشرتی زندگی عدم توازن کا شکار ہو چکی ہے۔ اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کے عمل سے مفقودمعاشرہ زندگی کی بنیاد ی ضروریات سے محروم ہو چکا ہے۔مذاہب کی تعلیما ت کا نصاب، زندگی کی بنیادی ضروریا ت سے محروم انسانوں کوتلاش کر نے کا راستہ دکھاتا ہے۔ بھوکے انسان کو کھانا کھلانا ، پیاسے کو پانی پلانا اور ننگے کو لباس پہنانے کا عمل مذہب کے نزدیک ایک اعلیٰ اور افضل عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ مذہب انسانوں کو انکی بنیادی ضرور یا ت مہیا کرنے کا درس دیتا ہے۔ اوران تک پہنچانے کا علم اور عمل سکھاتا ہے۔ جبکہ جمہوریت کا نظام دنیا میں چند معاشی اور معاشرتی دہشت گردوں کا نظام حکومت ہے جو بنی نوع انسان سے انکی ضروریات چھیننے اور انکے معاشرتی قتال کے گر سکھاتاہے۔ ملکی سطح پر سیاستدان اور حکمران اور بین الاقوامی سطح پر ترقی یافتہ اورطاقتور ممالک کے سیاستدان اور حکمران اعتدال و مساوات کے اصول کو ترک کرتے اور عدل و انصاف کو کچلتے ہیں۔ دنیائے عالم میں بنی نوع انسان مذہب اور جمہو ر یت کے معاشی اور معاشرتی علم اور عمل کے کردار کے تضاد کا شکار ہو چکا ہے۔ جمہوریت کے نظام کا دجال پیغمبران کی تعلیمات اور نظریات کو نگلتا جا رہا ہے۔
۷۔ جمہوریت کی بنا حصول مادیت اور حصول اقتدار کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ پاکستان
میں بھی معاشیات کا جو نظام اور جو سسٹم پروان چڑ ھ رہا ہے۔وہ بھی مغرب کی
جمہوریت کی تقلید پر مشتمل ہے۔
۱۔ ہمارے معاشی نظام کا طریقہ کار اور پالیسی مغرب کی طر ح سو دی معا شی نظام کے
زیر سایہ نشو و نما پارہا ہے۔ملک کے تمام بنک اور سرکاری اور نیم سرکاری ادارے
اور پورا معاشرہ جمہوریت کی روشنی میں سودی معاشیات کے سرکاری قوانین اور
ضوابط کے زیر قیادت اپنی منازل طے کرتا چلا آرہا ہے۔
۲۔جمہوریت کے مذہب کے خالقوں نے دنیا کی معاشیات پر قبضہ اور کنٹرول کرنے
کیلئے ایسے قوانین اور ضوابط دنیا پر نافذالعمل کر رکھے ہیں۔جس سے دنیا کے تمام
ممالک کی دولت ،وسائل اور معاشیات تجارت کے خود کار نظام اور ٹیکس کلچر کے تحت انکے
پاس خود بخود پہنچ جاتے ہیں۔
۳۔ معاشی برتری کی بنا پر وہ دنیا کی ہر قسم کی تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔ اسطرح دنیا
کے تمام ممالک کا معاشی کنٹرول انکے قبضہ میں پہنچ چکا ہے ۔وہ بڑی بے دردی سے
بنی نوع انسان کا معاشرتی اور معاشی قتال کرتے چلے آرہے ہیں۔ ا س طرح دنیا کی دولت، دنیا کی تجارت، دنیا کے وسائل اور دنیا کے ممالک کے خزانے انکی ملکیت بن چکے ہیں۔
۴۔ پاکستان کے اندر انکے سیاسی پیروکار مادیت اور اقتدار کی جنگ جمہوریت کے نظام
اور سسٹم کے ذریعہ جیت کر ملک کی دولت ،ملک کے وسائل اور ملک کے خزانہ اورملک کی تجارت پر قابض ہو کر چودہ کروڑ انسانوں کا معاشی اورمعاشرتی قتال جاری کئے ہوئے ہیں ۔ اور یہ عمل دنیاکے تمام غیر ترقی یافتہ ممالک کے اندر انکے جمہوریت کے کارندوں کی زیر قیادت جاری ہے۔
ب۔جمہوریت کے ضابطہ حیات کی روشنی میں پاکستان کے چودہ کروڑ مسلم امہ کے
فرزندان ٹیکسوں کی سرنجوں سے اپنا معاشی خون ،اپنی روز مرہ بنیادی ضروریات کا خو ن ، اپنی دولت کا خون،اپنے وسائل کا خون،اپنے کاروبار کا خون ہر کوئی ملکی خزانہ میں جمع کرواتا چلا آرہا ہے۔ ان ظالمانہ ٹیکسوں کے عذاب اور اس دولت کی لوٹ مار نے ملک کو معاشی اور معاشرتی قتل گاہ بنا رکھا ہے۔ انتظامیہ اور عدلیہ کی طاقت سے ہر مجبور کو قانون کی پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ اس زندگی سے تنگ آکر اہل وطن خود کشیاں اور خود سوزیاں کرنے پر مجبور کر دئیے جاتے ہیں۔جبکہ ان با وقارسرمایہ دار شرفا کو بڑے بڑے سرکاری قرضوں کو کھلے عام معاف کر دیاجاتا ہے۔ ملک کی تمام دولت،،تمام وسائل اور ملکی خزانہ ان چند غاصب سیاستدانوں اورقلیل سے ظالم،بے رحم حکمرانوں اور انکی اعلیٰ سرکاری مشینری کی ملکیت اور شاہانہ تصرف میں چلاآرہا ہے۔
پ۔پاکستان سمیت اس وقت چھپن اسلامی ممالک دنیا میں موجود ہیں۔انکی آبادی ایک ارب بیالیس کروڑ انسانوں پر مشتمل ہے۔ان ممالک کو بنیادی ضرویات بیرون ممالک خرید کرنے کی ضرورت نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ بڑی حد تک خود کفیل ہیں۔ ان ممالک کے امرا، راؤسا ، سیاستدان ،حکمران مکمل طور پرملکی وسائل،ملکی خزانہ،ملکی بجٹ اور تمام اخراجات آپس میں جنگیں لڑنے کیلئے اسلحہ خریدنے، اسکے علاوہ اعلیٰ قسم کی مہنگی گاڑیاں، گاڑیوں کیلئے پٹرول ہر قسم کا سامان تعیش ،تمام قسم کے مشروبات اور لا تعداد غیر ضروی اشیا جو انسان کی بنیادی ضروریات نہیں ہیں، کی خرید و فرخت ان ممالک سے کر رہے ہیں۔ جو انکو انکی ان غیر ضروری اشیا کی خرید و فرخت کی آمدن کی وجہ سے ان سے سب کچھ لوٹ لیتے ہے ۔اس مادی لوٹ مار سے وہ ان ممالک کو کمزور، بے بس اور نادار بناتے چلے آرہے ہیں۔اگر تمام اسلامی ممالک کی عوام اپنے ان رہزنوں کو کنٹرول کر لیں تو وہ بڑے ممالک چند یوم میں مالی طور پر زمین بوس ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ملک ایک گھر کی طرح ہوتا ہے۔تمام ڈائینگ روم کی قیمتی اشیا، تمام کچن کے عمدہ برتن،تمام ڈرائنگ روم کے عمدہ صوفے،تمام قیمتی درو دیوار،تمام قیمتی سازو سامان نہ یہ از خود کھانا پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی روز مرہ کی دوسری بنیادی ضروریات مہیا کر سکتے ہیں۔ جب تک اس صاحب خانہ کے ذرائع آمدن موجود نہ ہوں۔ ورنہ اس گھر کا تمام نظام درہم برہم ہو جا تا ہے۔ آج کی معاشی جنگ جیتنے کیلئے بڑے سے بڑا ملک وسائل کا محتاج ہوتا ہے۔ان وسائل اور واقعات پر قابو پا کرمسلم امہ ہر دشمن کو زیر کر سکتی ہے۔ انکی ترقی اور طاقت کا راز افشاں کر دیا گیاہے۔اب مسلم امہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اب ان ملکی سرمایہ داروں،سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرز حیات کو کنٹرول کریں۔
۸۔ مسلم ممالک میں مسلم امہ کو دین کے فلسفہ حیات،نظریہ حیات،طرز حیات ، ضابطہ حیات اور دستورحیات کی تعلیمات کی روشنی میں معاشرہ تیار کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کیا جاتا ہے ۔ شورائی جمہوری نظام کی روشنی میں امیر المومنین یا خلیفہ وقت کا چناؤ کیاجاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے ضابطہ حیات کی خود بھی پابندی کرتا ہے اور مسلم امہ کے ہر فرد کو بھی اسکا پابند بناتا ہے۔
الف۔حکومت کے نظام کو چلانے اور اسکے سرکاری اخراجات کو برداشت کرنے کیلئے شورائی نظام کے تحت زکوۃ، عشر اور خمس کا نظام رائج کیا جا تا ہے۔ جس کے تحت ملک کا خزانہ اکٹھا کیا جاتاہے۔ اس خزانہ سے ملک کے فلاحی کام اور دوسرے عوام الناس کے بنیادی حقوق ادا کئے جاتے ہیں۔
ب ۔ا گر ملی خزانہ ملک کے اخراجات برداشت کرنے کا متحمل نہ ہو اور مزید اخراجات کی ضرورت پڑ جائے تو بقایا رقم ان اخراجات کو پورا کرنے کیلئے صاحب حثیت یعنی امرا اور رؤسا سے وصول کی جاتی ہے۔
۹۔یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ معاشرے میں اعتدال و مساوات
کے دینی ضابطہ کی من و عن ہر کس و ناقص پر پیروی لازم ہوتی ہے۔خلیفہ وقت،اس کے سرکاری اہلکاروں کا بود و باش،روز مرہ زندگی کے ا خراجات ، انکی خوراک،انکا لباس ،انکی رہائش ایک عام آدمی،ایک عام شہری،ایک عام فرد کے برابر ہوتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں عدل و انصاف کا ترازو قائم ہوتا ہے۔
ملکی وسائل، ملکی دولت،ملکی خزانہ کی حفاظت سربراہ مملکت کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔
عام شہری ملکی خزانہ کے غلط استعمال کو چیک کر سکتا ہے۔ ملکی خزانہ،ملکی دولت اور ملکی وسائل کی امانتوں کی مکمل حفاظت کی جاتی ہے۔
۱۰۔آج دین محمدیﷺ ملک میں نافذالعمل کر لو۔ اعتدال ومساوات اور عدل و
انصاف کی تاثیریں دنیا کے کونے کونے میں اپنی خوشبوؤں سے انسانیت کو معطرکریں گی۔
۱۔جس ملک میں طبقاتی تعلیم، طبقاتی نظام چلانے کیلئے رائج کر رکھی ہو۔
۲۔جہاں اعلیٰ تعلیمی ادارے برہمن اور شودر تیار کرنے کے فرائض ادا کر رہے ہوں۔
۳۔ جہاں سرکاری سطح پر ملکی معاشیات کو اونچ نیچ کے طبقوں میں بانٹ رکھا ہو۔
۴۔ جہاں سیاسی نظام وزارتوں کی رشوتوں پر قائم کر رکھا ہو۔
۵۔ جہاں ملت کی وحدت کو ۷۸ سیاسی جماعتوں میںتقسیم کر رکھا ہو۔
۶۔ جہاں سیاستدان اپنی جماعتوں سے غداری کر کے، نئی سیاسی جماعتیں تشکیل کر کے ، وزارتیں تقسیم کرنے اور بانٹنے اور حکومتیں قائم کرنے کا شرمناک ابلیسی جمہوری
طریقہ جاری کر رکھا ہو۔
۷۔ جہاں وزارتوں کی رشوتوں پر حکومتیں قائم ہو تی ہوں۔
۸۔ جہاں سیاستدان اربوں کی سرکاری املاک ہضم کر جا تے ہوں۔
۹۔ جہاں سیاستدان اور حکمران کروڑوںاور اربوں کے قرضے نگل جاتے ہوں۔
۱۰۔جس ملک کی سیاست اور حکومت کے وارث جاگیر دار اور سرمایہ دار بن چکے ہو ں۔
۱۱۔ جس ملک میں سرکاری محکموں میں برہمن اورشودر اور نجی کارخانوں ،فیکٹریوں
اور کاروباری اداروں میں آقا اور غلام کا بد ترین نظام قائم ہو چکا ہو۔
۱۲۔ جس ملک کا قلیل سا طبقہ تجارت اور حکومت پر قابض ہو جائے۔ملک کا خزانہ اور
وسائل انکے قبضہ میں آجائیںتو اس ملک کی عوام خود کشیاںنہ کرے تو اور کیا
کرے گی۔
۱۳۔ جب ملک میں اس طرح کے حالات پیدا ہو جائیں تو ملک کی سلامتی کی گرنٹی کون
دے سکتا ہے۔
۱۴۔ جس ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ ان غاصب سیاستدانوں اور ظالم حکمرانوں نے
اپنے تحفظ کے لئے قائم کر رکھی ہو۔
۱۵۔ جہاںٹیکس کلچر سے عوام کا خون چوسا جا رہا ہو۔
۱۶۔ جہاں جب چاہئیں سرمایہ دار اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا لیں ۔ُٓں؁ اڑجٰ ص؁ ڑ؁ت
۱۷۔ جہاںملکی وسائل اور قومی خزانہ انکی بندر بانٹ کی نظر ہو تا جا رہاہو۔
۱۸۔ جہاں چند معاشی دجال ملک کی گوشت جیسی بنیادی خوراک کو بیرون ممالک سپلائی
کر کے اربوں ڈالر اکٹھے کر لیں اور چودہ کروڑ عوام الناس کیلئے گوشت کی خرید انکی
دسترس سے باہر ہو جائے ۔ سیمنٹ کا ریٹ راتوں رات بڑھ جائے۔ اشیائے
خوردنی نایاب ہو جائیں تو ایسے حکمران اور ایسے تاجر کب تک عوام کا خون چوستے
رہیں گے۔یہ پالیسیاں کب تک جاری رہیں گی۔
۱۹۔ جہاں انتظامیہ اورعدلیہ انکی وزارتوں کو تحفظ،انکی جاگیروں کو تحفظ، انکے کارخانوں
کو تحفظ،انکی جائیدادوں کو تحفظ،انکے کاروباروں کو تحفظ اور انکی لو ٹ مار کوتحفظ
فراہم کرنے کیلئے ا نکی بنیادی ضرورت بن چکی ہو۔
۲۰۔ جہاںانتظامیہ اور عدلیہ کی نگرانی میںملکی خزانہ ،ملکی وسائل اور چودہ کروڑ انسانوںکا
مال و متاع لوٹا جائے اور انکے شاہانہ تعیش کی نظر ہوتا جا رہا ہو۔
۲۱۔ جہاں سیاستدانوںکی کل تعداد ساڑھے سات ہزار خاندانوں پر مشتمل ہو،جن
میں بارہ سے چودہ سو تک چاروں صوبائی اسمبلیوں،وفاقی اسمبلی اور سینٹ کے
ممبران پر مشتمل ہو ۔
۲۲۔ جہاںجمہوریت کے ذریعہ مشاورت،وزارت،وزیر اعلیٰ،وزیر اعظم،گورنر اور
صدارت کے عہدے آپس میں بانٹ لئے جاتے ہوں۔
۲۳۔ جہاں اس طریقہ کار سے یہ طبقہ عیش و عشرت اور شاہی سہولتوں،ملکی خزانہ اور ملکی
وسائل کو بڑی بے دردی سے نوچتا چلا جارہا ہو۔
۲۴۔ جہاں چودہ کروڑ انسانوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہو۔
ا ۲۵۔ جہاں چودہ کروڑ انسانوں کی دولت،خزانہ اور وسائل یہ غاصب سیاستدان اپنی
انتظامیہ اور عدلیہ کی تلوار کی نوک پر قابض ہو کر لوٹے جا رہا ہو۔
۲۶۔ جہاں اس نظام اور سسٹم کے ذریعہ عوام کو ملکی سطح پر قید کر لیا جاتا ہو۔
۲۷۔ جہاں ٹیکسوںاورمہنگائی کے ذریعہ چودہ کروڑ انسانوںکا لقمہ ان کے منہ سے
چھین لیا ہو ۔
۲۸۔ جہاں بنکوں سے زکوۃ کے ذریعہ غریبوں کی دولت چھین لی جاتی ہو۔اس دولت
کے ذریعہ وزیروں اور سیاسی جماعتوں کو حکومتیں قائم رکھنے کیلئے خریدا جاتا ہو۔
عوام بجلی کا ٹیکس،گیس کا ٹیکس،پانی کا ٹیکس،مکان کا ٹیکس اور بیشمار اور لا تعداد
ٹیکسوں کو جمع کرانے کیلئے محنت مزدوری کو ترک کر کے بنکوں کی قطاروں کی اذیتیں
اور حصول ضروریات کے اوقات کے ضائع ہونے کی اذیتیں ان کی روز مرہ زندگی
کا جان لیوا روگ بن چکا ہو۔
۲۹۔ جہاں یتیم ، بیوہ ، مسکین،اپاہج، بیمار، بوڑھے اور بیروز گار بھی ان ٹیکسوں کے
عذاب کا ایندھن بنتے جا رہے ہو ں۔یہ لوگ بھوک اور ننگ سے تنگ آکر خود
کشیاں اور خودسوزیاں کرتے پھریں۔
۳۰۔ یہ ظالم اور غاصب سرمایہ دار سیاستدان اور حکمران عوام کی پیدا کردہ دولت، وسائل
اور ٹیکسوں سے چھینے ہو ئے ملکی خزانے کو بڑی بے رحمی سے نوچتے پھریں۔ وہ
اس مال و متاع سے عیش وعشرت اورشاہی سرکاری سہولتوںکو اپنا سرکاری حق سمجھیں۔
۳۱۔ یہ تمام معاشی اور معاشرتی بیماریاں ملت کے جسد کو ایک کینسر کی طرح چمٹ چکی
ہیں۔ یہ سیاستدان اور حکمران اور انکی اعلیٰ سرکاری مشینری آپس میں ملکر ملت کی
معاشی عمارت کو نوچتے اور ختم کئے جا رہے ہیں۔
۳۲۔ہم مسلمان کی حثیت سے مسجد میں نماز عبادت کے طور پر پڑھتے ہیں، دلوں میں ذکر
رب جلیل کا اور درود پاک کا ورد زبانوں پرجا ری رکھتے ہیں۔زندگی جمہوریت
کے باطل اور غاصب نظام رشوت،کمیشن اورکرپشن کے کفر اور منافقت کے اعمال
اور کردار کی گذارنے پر سرکاری طور پر پابند بنا دئیے جاتے ہیں۔
۳۳۔ ان سیاستدانوںنے ملت کا مال و متاع بھی چھین رکھا ہے اور ملت سے دین کی
انمول دولت بھی لوٹے جا رہے ہیں۔ملت کو جمہوریت کی نمرودی، فرعونی اور
یزیدی آگ سے بچانا بھی ہوگا اور اس آگ کو بجھانا بھی ہو گا۔
۳۴۔ جس ملک کے بر سر اقتدار سیاستدان اور حکمران اپنے مخالفین کو قتل کرواتے،انکے
خلاف بے بنیاد،جھوٹے اورمختلف نوعیت کے بوگس مقدمات درج کرواتے چلے
آرہے ہوں۔ بے اصولی،دھوکہ اورغداری سیاست کے بنیادی ذریعہ حصولِ
اقتدار کے اصول بن چکے ہوں۔ انکے کردار کے خلاف آواز اٹھانے والوں اور انکی
غلط پالیسیوں کو بے نقاب کرنے والوں کو کچلنے اور کرش کرنے کیلئے انتظامیہ اور عدلیہ
کے اداروں کے اہلکاران کو بروئے کار لاتے چلے آرہے ہوں۔
۳۵۔جہاںانتظامیہ اور تھانوں کو نارکاٹکس،سمگلنگ،چوری ،ڈاکے،قتل اور دہشت
گردی کے عمل کو جاری رکھنے اور مخالفین اور عوا م الناس پر مقدمات تیار کروانے پر
مامور کر رکھا ہو۔
۳۶۔ جہاں یہ تمام بد اعمالیاں وزیر و ں مشیروں کے ذرائع آمدن بن چکے ہوں۔
۳۷۔ جہاں ملک کو دو لخت کرنے والوں کو قومی ہیرو بنا دیا جائے،جہاں شراب و زنا کے
مرتکب سیاستدانوں کو مسلم امہ کا را ہ نما تسلیم کر لیا جائے۔
۳۸۔ جہاں لٹیروں کورہبر مان لیاجائے ۔
۳۹۔ جہاں ظالم ،غاصب حکمرانوں کا حکومتیں نصیب بنتا چلا جائے ۔

۴۰۔ جس ملک میں بے گناہ انسانوں پر قتل ،سمگلنگ ، اور دہشت گردی کے مقدمات تیار
ہوتے رہیں۔جہاں جعلی پولیس مقابلوں میں انسانوں کا قتال جاری ہو۔
۴۱۔ جہاں تشدد کے ذریعہ ہرقسم کااقبالِ جرم کروا لیا جائے۔جہاں اپنی مقبو لیت کیلئے
فرقہ پرستی کو ہوا دی جاتی ہو۔جہاں مذہبی رہنماؤں کو حکومتیں قتل کرواتی چلی آرہی
ہوں۔جہاں جھوٹے مقدمات انکے حکم اورفرمان پر تھانے تیار کرنے کے مجاز بن
جائیں۔
۴۲۔ جہاں انکے کہنے پربے گناہ انسانوں کوجھوٹے مقدمات کا ایند ھن بنا دیا جائے۔
۴۳۔ بتاؤ یہ کیسے سیاستدان ہیں اور یہ کیسا نظام حکومت ہے۔
۴۴۔ جہاںعدلیہ ان جھوٹے اور بوگس مقدمات کے مطابق معصوم اور بے گناہ افراد کو
پھانسی اور سزائیں دیتی جائیں۔
۴۵۔ جہاںان معصوم،بیگناہ فریادیوں کی کوئی فریاد سننے والا نہ ہو۔
اصل حقائق کو کوئی تلاش کرنے والا نہ ہو۔
۴۶۔ جہاں سیاستدانوں اور حکمرانوں اور انکے حواریوں کا جھوٹے مقدمات بنانا تھانہ
کلچربن چکا ہو۔ ان معاشی اور معاشرتی دہشت گردوں کا کوئی ہاتھ روک نہ سکے ۔
مظلوم جیلوں اور پھانسی پر لٹکتے پھریں۔یہ کیسی جمہوریت ہے۔عوام کس جرم کی
سزا بھگت رہے ہیں۔
۴۷۔ ان جھوٹے مقدمات تیارکروانے والوں کا کوئی احتساب نہ کر سکے۔
۴۸۔ ہر قسم کے جرائم انکی زیرنگرانی جنم لیتے اور پرورش پاتے جا رہے ہوں۔
۴۹۔ جہاں تھانے ایسی جھوٹی سچی ایف آئی آر کاٹنے کے مجاز بن چکے ہوں۔
۵۰۔ جہاں پولیس کے اہلکار ڈاکوں اور قتل میں ملوث ہو جائیں۔
۵۱۔ جہاں ڈا کے ، قتل ، سمگلنگ ، منشیات اور ہر قسم کے دھندے انکے زیر نگرانی چل
رہے ہوں۔
۵۲۔ جہاں ملک میں جان و مال غیر محفوظ ہو چکا ہو۔
۳ ۵۔ جہاں قانون کے محافظ ان کے کہنے پر جرائم کی آبیاری کرتے ہوں۔ قانون کا ان پر

کوئی چیک نہ ہو اور نہ ہی انکا کوئی تدارک ہو۔جمہوریت کے مذہب کے پجاریو یہ تو
بتاؤ کہ کیاوہاں کی عوام مظلوم اور بے بس بن کر رہ نہیں جاتی ہے
۱۳۔ اس نظام اور سسٹم سے کیسے عدل اور امن قائم ہو سکتا ہے۔اسی تھانہ اور عدالتی کلچر کی تلوار سے جاگیردار اور سرمایہ داراور سیاستدان طبقہ چودہ کروڑ عوام کے مال و متاع، عزت و آبرو،ملکی دولت،سرکاری خزانہ اور ملکی وسائل پر ڈاکہ ڈالتے اور لوٹتے چلے آرہے ہوں۔ ملک میں قتل و غارت کروانا، فساد پھیلانا،اپوزیشن کو زیر کرنا حکومت کا حصہ بن چکا ہو۔ یہ ساڑھے سات ہزار افراد پر مشتمل سیاستدان باری باری ملک میں جمہوریت کے نظام کے تحت حکومتیں بناتے اور حکمرانی کرتے چلے آرہے ہوں۔
۱۔ جو ملک بھر میں معذو ر و ں ، محتاجوںبیروز گاروں،بوڑھوں،یتیموں ،مسکینوں اور
بیواؤں سے ٹیکسوں کے ذریعہ انکی گذر اوقات رہزنوں کی طرح چھین لیتے ہوں۔
۲۔ جس ملک میں جاگیر داروںاور سرمایہ داروں نے ان تما م مسکینوں سے جن کے پاس کچھ کھانے ،پینے اور پہننے کو نہ ہو،اور انکے پاس کوئی ذریعہ معاش نہ ہو، ان سے بجلی ،سوئی گیس،پانی، مکانوں اور بیشمار دوسرے ٹیکسوں اور اشیائے خورد و نوش کی اضافی قیمتوں کو ایک جیسا وصول کرنا قرین انصاف ٹھہرا یا ہو۔
۳۔ بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ ظلم اور جبر کی تلوارسے یہ اکٹھا کیا ہوا خزانہ اور تمام وسائل ان
اسمبلیوں کے ممبران کے شاہی محلوں،شاہانہ سہولتوں،شاہانہ بود و باش اور شاہی سرکاری
اخراجات کی نظرہو تا جا رہا ہو۔
۴۔ جہاں سرکاری خزانہ اور ملکی وسائل انکی ملوں،فیکٹریوں،کار خانو ں ، تجارتوں اور ملکیتوں میں بدلتا چلا جائے۔وہاں ملک میں غربت،افلاس اور بیروز گاری کیسے ختم ہو و سکتی ہے۔اعتدال و مساوات کیسے قائم ہو سکتی ہے۔اس جمہوریت کے نظام اور سسٹم سے نجات ملک و ملت کی فلاح کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے۔
۵۔مسلم امہ اور دنیا کے تمام مذاہب جمہوریت کے ارباب سیاست کے نظام اور
سسٹم کے کینسر میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
۱۴۔وہ مذاہب کے نظریات یعنی ازدواجی زندگی کے نظام،وہ مذاہب کے ضابطہ
حیات یعنی آزادی ء نسواں کا طریقہ کار، وہ مذاہب کی تعلیمات انسانیت کو شرم و حیا
کا تحفظ فراہم کرنا، وہ مذاہب کی روح یعنی مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنا،بھوکوں کو کھانا
کھلانا،ننگوںکو لباس پہنانا،بیماروں کو شفا عطا کرنا،زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا،دکھی
انسانوں کو راحت بخشنا،بیروز گاروں کو روز گار مہیا کرنا، انسانیت کو آفات سے بچانا ،بنی نوع انسان کا ادب و خدمت کرنا،دنیا کی بے ثباتی
کا درس دینا،مخلوق خدا میں اعتدال و مساوات قائم کرنا۔بے بسوں ، بے کسوں،محتاجوں،غریبوں ، بیروز گاروں اور ناداروں کے بنیادی حقوق بجا لانا۔انکی نگہداشت کرنا۔مذاہب کی تعلیمات کے انمول ضابطے ہیں۔
۱۵۔ مذہب کے بر عکس مخلوق خدا سے انکے وسائل چھیننا،انکی دولت چھیننا،ان سے انکی روز مرہ زندگی کی ضروریات چھیننا،ان سے انکے بنیادی حقوق چھیننا،کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی عوام پر جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگا کر مہلک ہتھیاروں سے حملے کرنا، انکی بستیوںکو نائٹروجن بموں سے خاکستر کرنا،ڈیزی کٹر بموں سے انکے شہر نیست و نابود کرنا،جراثیمی بموں سے مخلوق خدا میں بیماریاں پھیلانا، ایٹم بموں سے انکے ملک ختم کرنا، جدید سے جدید مہلک ہتھیار تیار کرنا،انکو مخلوق خدا پر استعمال کرنا جمہوریت کے نظریات کا حصہ اور اس کا نصب العین ہے۔
ب۔ اس ملک میں جمہوریت معصوم ،بے گناہ ،بے ضرر انسانوں کو بغیر کسی جواز کے انکا معاشی اور معاشرتی قتال کرنے تکلیفوں،اذیتوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرنے کے نظام اور سسٹم کا نام ہے۔ جمہوریت پیغمبران کی بے سرو سامانی،سادہ اور مختصر لوازمات کی زندگی کے عظیم عمل کی بجائے ٖفراوانی اور سامان تعیش والی زندگی کی دلدادہ طریقہ کار سے متعارف کرواتی ہے۔
پ۔ جمہوریت خدمت خلق کے جذبوں کو مسمار کرتی، ادب انسانی کے شعور کو ختم کرتی، انسانیت کے ساتھ ادب و محبت کے عمل کو ترک کرتی،اعتدال و مساوات کو ختم کرتی،اخوت و محبت کے تقدس کو پامال کرتی،ایثارو نثار کے عمل کو روکتی،رحم و کرم کے راستے بند کرتی،عدل و انصاف کے اصولوں کو روندتی چلی جاتی ہے۔
۱۶۔ جمہوریت ایک ایسا مادہ پرستی اور اقتدار پرستی پر مشتمل نظریہ حیات، ضابطہ حیات اور طرز حیات ہے جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے الہامی ،روحانی اور سلامتی کے نظریہ حیات،ضا بطہ حیات اور طرز حیات کو ایک دجال کی طرح نگلتا جا رہا ہے۔
ب ۔ انبیائے علیہ السلام کی زندگی بے سرو سامانی اور مختصرخورد و نوش پر مشتمل ہوتی۔ سادہ بود و باش اور عام آدمی جیسی سادہ و سلیس مثالی زندگی گذارتے۔اعلیٰ ،عمدہ اقدار کو جلا بخشتے ۔سچائی کی روشنی کو پھیلاتے۔اعتدال کا عمل جاری کرتے۔مساوات کے نور کو پھیلاتے ۔ اخوت و محبت کے جذبوں کو بیدار کرتے۔ایثار و نثار کا سبق سکھاتے ۔مخلوق خدا کو خیر اور شر کا فرق سمجھاتے۔عفو ودر گذر کی شمع جلاتے ۔ادب و احترام کا سبق یاد کراتے۔حسین و جمیل کردار سے معاشرہ کی تشکیل فرماتے ۔معاشرے میںامن و امان کا ماحول پیدا کرتے ۔ الہامی اور روحانی صفات کو عام کرتے۔فطرتی صداقتوںکو رائج کرتے۔معاشرے کی عمارت کو عدل و انصاف سے سینچتے ۔انسان سکھ اور چین سے زندگی بسر کرتے۔اونچ نیچ کا تضاد ختم کرتے ۔ایک جیسی تعلیم و تربیت سے انسانی کردار کو سنوارتے ۔ خلیفہ وقت اور عوام الناس کی زندگی کا ایک معیار قائم کرتے ۔وزیر اعظم ہاؤس اور غریب کی کٹیا کا فرق مٹاتے ۔محمود اور ایاز کو ایک صف میں بیٹھاتے ۔برہمن اور شودر کے نظام کا خاتمہ کرتے ۔
ملک میںصدرہاؤس،وزیراعظم ہاؤس، منصف شاہی ہاؤسز،،افسر شاہی ہاؤسز ، اردلی ہاؤسز،بیٹمین ہاؤسز کی سرکاری املاک کے تضاد کے نمرودی ،فرعونی اور یزیدی نظام کا خاتمہ کر کے ایک عادلانہ نظام قائم کرتے۔

۱۶۔ب سرکاری شاہی دفاتر اور انکی ڈیکوریشن کا خاتمہ کرتے۔ تنخواہوں کا تضاد ختم کرتے۔ سرکاری اخراجات سمٹ کر نہ ہونے کے برابررہ جاتے ۔ اما نت و دیانت کا ترازو بحال کرتے۔ سرکاری بجٹ ،سرکاری خزانہ اور ملکی وسائل کا رخ ملکی ترقی کی طرف موڑ تے۔اس طرح ملک میں پاکیزہ اور طیب ما حول جنم لیتا۔حیا کی دیوار چادر اور چار دیواری کا نظام قائم کرتے۔ازدواجی زندگی اور خانگی زندگی کا مذہبی ضابطہ ترتیب دیتے۔معاشرے میں معاشی اور معاشرتی باطل اور غاصب برتری کے نظام کا خاتمہ کرتے۔اسلام میں پہلے پاکیزہ اور طیب ماحول مہیا کیا جاتا۔اسکے بعد اگر کوئی فرد معاشرے میں ان مذہبی اقدار اور ضابطوںکو توڑتا اسکو مذہبی قوانین کے مطابق سزا دے کر ملک میںعدل قائم کیا جاتا اور معاشرے کے توازن کا حسن قائم کیا جاتا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مسلم امہ کے چودہ کروڑ انسان دین محمدی ﷺ کی روشن شمع دیکھنے کیلئے منتظر ہیں۔
۱۔ اے جمہوریت کے پرستارو۔اے جمہوریت کے سیاستدانوں۔
اے جمہوریت کے حکمرانوں ان حقائق کی روشنی میں یہ تو بتاؤ!
۲۔کیا تم طبقاتی طرز حیات ختم نہیں کر سکتے۔
۳۔کیا تم طبقاتی تعلیم کا سلسلہ بند نہیں کر سکتے۔
۴۔ کیا تم ایچی سن کالج اور دیہات کے پرائمری سکول کے تعلیمی طبقاتی
فرقے بند نہیں کر سکتے۔
۵۔کیا تم سیاست شاہی، حکمران شاہی، افسر شاہی،منصف شاہی،نوکر شاہی،محنت کش،
اردلی اور بیٹ مین کا معاشی اور معاشرتی تضاد ختم کر نہیں سکتے۔
۶۔ کیا تم مخلوط تعلیم ختم نہیں کر سکتے۔
۷۔کیا تم مخلوط معاشرہ کے عمل کو روک نہیں سکتے۔
۸۔کیا تم ملک میں اعتدال اور مساوات قائم نہیں کر سکتے۔
۹۔کیا تم ۱۸۵۷ کے ایکٹ اور انتظامیہ کا نظام اور سسٹم ختم نہیں سکتے۔
۱۰۔کیا تم سودی معاشی نظام کو بدل نہیں سکتے۔
۱۱۔ کیا تم تفاوت کے اصول و ضوابط کو ترک نہیں کر سکتے۔
۱۲۔کیا تم براہمن اور شودر کا سرکاری نظریہ کلاس ون،ٹو، تھری،فور یعنی شودر،
کھتری،کھشتری اور برہمن کی گوتیں ختم نہیں کر سکتے۔
۱۳۔ کیا تم ملک کے کرپٹ سیاسی ڈھانچہ کو منسوخ اور ختم نہیں کر سکتے۔

۱۴۔کیا تم ملک کی ایسی عدلیہ جو ملک کی کرپٹ سیاست ،کرپٹ معاشی اور معاشرتی
نظام اور سسٹم کو روک نہ سکے۔اسکو ختم کر نہیںسکتے۔
۱۵۔کیا تم دین کے خلاف بغاوت اور جمہوریت کے ابلیسی نظریات کو ترک نہیں کر سکتے
۱۶۔کیا تم مسلم امہ اور انکی آنیوالی نسلوں کو دین اور جمہوریت کے تضاد کے عذاب
سے نجات نہیںدلا سکتے۔
۱۷۔کیا تم مسلم امہ کے کفر اور منافقت کے کردار سازی کے عمل سے باز نہیں آسکتے۔
۱۸۔کیا تم ذکر رب جلیل ،ذکر ھو اور درود پاک کے ورد میںمصروف قلوب کو جمہوریت
کے باطل،غاصب بے دین علمی عملی کفر اور منافقت کا کردار ادا کرنے سے نجات
دلا نہیں سکتے۔
۱۹۔کیا تم مسلم امہ کو دین کا طیب اور پاکیزہ ما حول مہیا نہیں کر سکتے۔
۲۰۔ کیا تم دین کے علم اور عمل کے خزانہ کی امانت کو مسلم امہ کو واپس نہیں لٹا سکتے۔
۲۱۔کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے آبا نے ہندوستان میںمسلم امہ کو اسلام کے نام پر ایک
آزاد مملکت مہیاکر دی۔تم اسکی حفاظت کاحق ادا نہیں کر سکے اور اسکو دوٹکروں میں
تقسیم کردیا۔اس کے بعد آج اس آزاد مسلمان مملکت میں اسلام کا نفاذ کرنے کا حق
اور فریضہ بھی ادا کرنے سے قاصر ہو چکے ہو۔کیا تم اس مملکت کے وارث رہنے کے
حقدارہو۔

۱۷۔ یا اللہ تمام انبیا کی امتوں کو نمرود،فرعون اور یزید کے ابلیسینظریات پر مشتمل ضابطہ حیا ت کی طرز حیات سے نجات عطا فرما۔امین یا اللہ انبیاء علیہ السلام کی تمام امتوں
کوان کے سلامتی کے الہامی نظریات پر مشتمل روحانی ضابطہ حیات اور نورانی طرز حیات #کو منورکرنے کی تو فیق عطا فرما ۔امین۔ یا اللہ! ہمیں جمہوریت کے ابلیسی نظام اور سسٹم کی گرفت سے نجات کا کوئی راستہ دکھا۔ امین۔
یا اللہ! ہمیں جمہوریت کے چند ابلیس کے ارباب سیاست کے مادہ پرستوں اور

اقتدار پرستوں کی حاکمیت کے عذاب سے بچا۔ امین
یا اللہ! ہمیں عقل سلیم اور سلامتی کی راہ کا مسافر بنا۔امین۔
یا اللہ ہمیں انبیاء علیہ السلام کے نظریات کی بے ادبی،گستاخی اور بغاوت کے عمل
اور اس کی سزا سے بچا۔امین۔