To Download or Open PDF Click the link Below

 

  انسان،اقوام،عقائد،نظریات اور مذاہب ایک دوسرے کے گلے مل چکے ہیں۔
عنایت اللہ
۱اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ یہودی اور عیسائی امتیں سائنس کے علوم اور ایجادات کی ترقی میں دنیائے عالم میں سر فہرست ہیں۔انہوں نے مذہب کی بنیادی خوبیوں اور اصولوں کو اپنایا اور ان پر عمل پیرا ہوئے۔ انہوں نے علم سیکھنے کی عبادت کواپناشعار بنایا۔ غورو فکر کی عبادت کو بروئے کار لائے۔محنت اور ہمت کے فیضان سے دنیا میں سبقت اور سرفرازی کا مقام حاصل کیا۔ ڈسپلن کو قائم کیا۔علم کو حاصل کرنے، ،غور و فکر کے سمندر میں غو طہ زن رہنے ،محنت کا سنہری عمل جاری رکھنےوقت کی پابندی کرنے اور ڈسپلن کے اصو ل کو بروئے کار لا کر نئی سے نئی ایجادات کے معجزوں سے دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔
جن شعبوں میں انہوں نے مذہب کی تعلیمات پر عمل کیا۔ ان شعبوں میں انہیں
دوسری اقوام پر فوقیت اور برتری حاصل رہی۔ اس فیلڈ کی عظمت و فضیلت کی دستار
انکے پاس چلی گئی۔
۳۔انہوں نے فزکس، کیمسٹری، ریاضی ، زراعت اور مختلف سائنسی علوم کی دنیا
میں انقلاب برپا کر دیا۔نئی سے نئی ایجادات کے معجزات کو دنیا میں عام کیا۔
۴انسانی زندگی کو وباؤں اور بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے، سائنسد انوں
نے انکی تشخیص ،انکی ادویات،انکے علاج ، انکے سرجری کے جدیدآلات کے ساز و
سامان کی ایجادات سے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کردیا ہے۔
۵۔انسانی زندگی کے تحفظ اور مہلک امراض کا علاج معالجہ عام کردیا ہے۔جو انسانی
زندگی کو مہلک اور جان لیوا بیماریوں سے نجات کا سبب بن چکے ہیں۔
۶۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امتیوں نے جنہوں نے
دنیا میں انسانیت کی بیماریوں کی تشخیص کے لئے،وباؤں پر قابو پانے کیلئے ، انسانی
بیماریوں اور انکے دکھوں کو دور کرنے کیلئے، انکے علاج و معالجہ کیلئے، ایسے آلات یسی ادویات ایجادکرکے انسانیت کی خدمت کا عمل جاری کردیا۔
۷۔ان ایجادات کے خاموش ورکروں کو، ان غور و فکر کی عبادت کرنے
والوں کو، ان انسانیت کے محسنوں کو، ان ایجادات کے موجدوں کو،ان سے
استفادہ کرنے والوں کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ انسانی نسلیں
ان کی عظمتوں کو سلام اورانکے احترام کا فریضہ ادا کرتی رہیں گی۔
۸۔ایجادات کے علم کے متلاشیوں نے فاصلوںکو تسخیر کیا۔سائیکل،کار یں
گاڑیاں ،بحری جہاز اور ہوائی جہاز اس مقصد کے حصول کیلئے تیار کئے۔
۹۔ہر قسم کے علوم کو عام کرنے اور انکوشائع کرنے کیلئے پرنٹنگ پریس،کتابت کیلئے
ٹائپ رائٹر،کمپیوٹراور پرنٹر کی ایجادات اور زبانوںکی ٹرانسلیشن جیسے عجوبوں سے
انسانیت کو متعارف کروایا۔
۱۰۔انہوں نے چاند اور ستاروں کی دنیا تک رسائی حاصل کی۔انہوں نے ارض و
سماوات کو تسخیر کرنے کی ایجادات اور انکے علوم سے انسانیت کو متعارف کروایا۔
محنت اور غور و فکر کی عبادت کے فیض کو عام کیا۔
۱۱۔انہوں نے سمندروں کے سفروں کو خشکی کے سفروں کی طرح سہل بنا دیا۔ان
انسانیت دوست عظیم ہستیوں کے نام انسانی تاریخ میں روز روشن کی طرح در خشاں
ستاروں کی ما نند ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چمکتے رہیں گے۔
۱۲۔انہوں نے ٹیلیفون اور موبل لنک اور کمپیوٹر کے ذریعہ ہر انسان کو ایک دوسرے
کیساتھ منسلک کر دیا۔انہوں نے نشر و اشاعت اور میڈیا کے ذریعہ تمام دنیا کو ایک
گھر، ایک گاؤں، ایک شہر اورایک ملک بنا کر رکھ دیا ہے۔
۱۳۔یہ تمام علوم،یہ تمام ایجادات،یہ تما م انسانی سہولیات،یہ تمام معجز ات اور یہ
تمام تگ و دو،یہ تمام کاوشیں، یہ تمام محنتیں،یہ تمام جستجوئیں فرد سے لیکر افراد تک اور
آدم سے لیکر آدمیت تک کے سلامتی کے سفر کا ایک سنہری باب ہے۔
۱۴۔یہ تمام ایجادات اور یہ تما م وسائل،یہ تمام رونقیں اس جہان رنگ و بو اور اقوام
عالم کی تہذیب و تمدن پر سلامتی کا ایک گہرا اثر ڈال رہی ہیں۔
۱۵۔ تسخیر کائنات کا عمل جاری ہے۔ فاصلے تسخیر ہونے کے بعد دنیا کے تمام ممالک
اور تمام انسان جومختلف شکلوں ، مختلف رنگوں،مختلف نسلوں،مختلف اقوامِ ،مختلف
عقائد ، مختلف مذاہب ، مختلف نظریات پر مشتمل ہیں ایک گھر،ایک بستی اور ایک
ملک کے باسی بن چکے ہیں۔
۱۶۔اور اسکے علاوہ دنیا کی مختلف زبانیں اور ان زبانوں میں لکھی گئی کتابیں اور ان
میں درج تمام علوم اور تمام تہذیبیں بھی اس بستی کا سرمایہ بن چکی ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک، ان میں بسنے والے انسانوں اور زبانوں کی دوری ختم ہوچکی ہے۔
انکومرکزیت مل چکی ہے۔ دنیا ایک بستی اور ایک وجودبن کر ابھری ہے۔ آدم سے آدمیت او ر وحدت سے کثرت کا سفرمکمل ہو چکا ہے ۔
۱۷۔دنیا کے تما م نظریات اور تمام مذاہب کے دستورحیات ضابطہ حیات،طرز
حیات، حسن اخلاق،حسن کردار،حسن صفات اور فطرتی صداقتوں پر مشتمل تعلیمی
نصاب جو انسانوں کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کو گذارنے کی رہنمائی کرتے ہیں۔
ان کو پڑھنے،سمجھنے ،پرکھنے اور انکا تقابلی جائزہ لینے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی
مکمل آزادی ہے۔
۱۸۔ نظریات اور مذاہب پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ مذہب پرست امتوں کو
پیغمبران کی نورانی طرز حیات اورسیاستدانوں کے تیار کردہ جمہوریت کے ظلمات
کے ضابطہ حیات کے تضاد کو سمجھنا اور شر کو ختم کرنا ہوگا۔
۱۹۔خیر کی منزل کی رہنمائی کرنے والے اصول و ضوابط اور ضابطہ حیات اور طرز
حیات کو بروئے کار لانا ہوگا۔ سچائی اور صداقت کے ضابطوں کو اپنانا ہوگا۔
انسانیت کی رہنمائی کیلئے مذاہب کے ضابطہ حیات کے تقدس کو بحال کرنا ہوگا۔
۲۰۔امتوں کے کردار کو منافقت کے عذاب سے نجات دلانی ہو گی۔پیغمبران کی
شان عظیم اور انکی امتوں کو جمہوریت کے مذہب کش باطل غاصب بدکرداری،
بے ادبی،گستاخی اور بغاوت پر مشتمل ضابطہ حیات کو ختم کرنا ہوگا ۔
۲۱۔ پیغمبران کی امتوں کو انکی الہامی کتابوں کی تعلیمات کو منسوخ اور مسخ کرنے سے
روکنا ہو گا۔مذہبی روحانی پیشواؤں کو امتوں کی رہنمائی کے فر ا ئض ادا کرنا وقت
کی ضرورت بن چکا ہے۔
انبیا کے وارثوں کو روحانی اور الہامی قوتوںکو اجاگر کرنا ہوگا۔
آسمانی صفات اور صداقتوں کی بجھی قندیلوں کو پھر سے روشن کرنا ہوگا۔
اخوت و محبت کے چراغوں کو پھر سے منور کرنا ہوگا ۔
اعتدال و مساوات کی منزلوں پر پھر گامزن ہونا ہوگا۔
عدل و انصاف کے ترازو کو پھر قائم کرنا ہوگا۔

ایثا رو نثار کے جذبوںکو پھر سے بیدار کرنا ہوگا۔
مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے،اسکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی اہمیت کا درس پھر جاری کرنا ہو گا۔
بھولے بھٹکوں کو راہِ ہدائیت کی منزل کا مسافر بنانا ہو گا۔
پیغمبران کی تعلیمات اورنظریات سے دوری کا سفر ختم کرنا ہوگا۔
دنیا کو امن و آشتی کا گہوارہ پھر بنانا ہوگا۔
دنیا میں اما نت و دیانت کا سبق پھر سے تیار کرا نا ہو گا۔
الہامی روحانی روشنیوں کو پھر سے منور کرنا ہوگا۔
تمام پیغمبران کی امتوں کو مذاہب کے روحانی نظریات ،مذاہب کے الہامی ضابطہ
حیات اورمذاہب کے نورانی طرز حیات اور جمہوریت کے ابلیسی سیاست کے
باطل ،غاصب طرز حیات کے فرق اور تضادات سے آشنا کرنا ہو گا۔
مذاہب کی عبادات اور جمہوریت کی ابلیسی طرز حیات کی پوجا سے آخرت کے روز
ہم کن کی قربت میں ہونگے۔آیا ہم! حضرت ابرہیم علیہ السلام ،حضرت داؤد علیہ
السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام،حضرت محمد مصطفیٰﷺ
یانمرودیا فرعون یا شداد یا ہامان یا یزیدکے ٹولہ میں ہونگے۔
۲۲۔مذاہب پرست امتوں پر مشتمل ممالک کے جمہوریت پسند وقت کے دنیا بھر کے ان تمام عظیم حکمرانوں،سیاسی دانشوروں،اہل بصیرت مذہبی رہنماؤں ،معبد،کلیسا اور مسجد سے منسلک دنیا بھر کے تمام مذہبی پیشواؤں اور عاشقان پیغمبران اور انکی امتوںکے حضور التماس گذار ہوں۔ کہ وہ حقائق کی روشنی میں تمام پیغمبران کی امتوں کی رہنمائی فرماویں۔ جمہوریت کے اذیتناک دجالی عذاب سے عالمی مذاہب کو نجات دلائیں۔ اور وہ خیر اور بھلائی کی منزل کی نشاندہی فرماویں۔زندگی میں ہی توبہ کا راستہ بتائیں۔تا کہ انکی امتیں انکے دستور حیات کی روشنی میں مذاہب اور جمہوریت کے تضاد کی زندگی کے اذیتناک عذاب سے بھی نجات حاصل کر سکیں ۔
۲۳۔جمہوریت پسند سیاستدانوں کو مذاہب کے نور کی قندیلوں کو اسمبلیوں کے ذریعہ بجھانے سے روکا جا سکے۔ ورنہ جمہوریت کا ابلیسی اژدہا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے ضابطہ حیات، الہامی نظریات، روحانی تعلیمات ،حسن اخلاق،حسن کردار، حسن صفات اور آسمانی صداقتوں کو نگلتا جائیگا۔ یا اللہ تو پیغمبران کی امتوں کو جمہوریت کے ارباب سیاست اور انکے باطل،غاصب نظام سے نجات دلا۔ان کے دلوں میں نفرتوں اور نفاق کی آگ کو بجھا۔ امین۔