To Download or Open PDF Click the link Below

 

  دین کے نظریات کی دیوار کو توڑنے والے کون ہیں۔
۔۔۔۔ عنایت اللہ
۱۔پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔جو اسلام کے نظریات پر ۱۹۴۷ میں معرض وجود میں آئی۔ لاکھوں مرد و زن کا انسانی خون،لاکھوں معصوم و بیگناہ بچے بچیوں کا خون، لاکھوں بیٹیوں کو زبردستی یرغمال بنانے اور چھن جانے کے صدمات، بیشمار مستورات کی عصمتوں کے لٹنے کے زخم اس ملک کی عمارت کی بنیادوں میں دفن ہیں۔
۲۔ماں باپ کی قبریں،کھیت کھلیان،گھر باہر،کارو بار،مال و دولت،عزیز و اقارب سے بچھڑنے کا دکھ۔ ہجرت کی اذیتیں،قافلوں پر حملے،بھوک پیاس کی تکلیفیں ، وطن سے بے وطن ہونے کے رنج،راستوں کی مسافتوں کی تھکن،بیماریوں اور وباؤں سے عزیز و اقارب کی اموات اور انکے دکھ ،بے گور و کفن لاشوں کو دبانے کے صدمات، کے اینٹ گارے سے اس مملکت پاکستا ن کی عمارت کی تعمیر اور تکمیل ہوئی۔
۳۔یا اللہ یہ تیرے محبوب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت کے نام لیوا تھے۔جو تیرے اور تیرے محبوب حضور نبی کریم ﷺ کے نام گرامی پر مر مٹے۔یا اللہ تو نے تو یہ پر سوز منظر دیکھا تھا کہ وہ سب کچھ لٹا کر اس پاک دھرتی کی حدود میں داخل ہوتے ہی تیری بار گاہ میں،تیرے رو برو، تیرا شکر بجا لانے کیلئے سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔انہوں نے یہ ملک تیرے نام پر حاصل کیا تھا۔
۴۔یا اللہ ان تیرے بندوں اور تیرے محبوبﷺ کی پیاری امت کے فرزندان نے اس پاک دھرتی کو اس لئے حاصل کیا تھا۔کہ اس دھرتی میں اللہ تعالیٰ کے دستور مقدس ، اسکے نظریات،اسکے ضابطہ حیات،اسکے طرز حیات،اسکی تعلیمات،اسکے حسن اخلاق ،اسکے حسن کردار،اسکی اعلیٰ صفات،اسکے اما نت و دیانت کے اصول،اسکے اعتدال و مساوات کے طریقے،اسکے ایثا ر و نثار کے آداب،اسکے مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کے اطوار کی شمعیں روشن و منور ہوں گی۔وہ اس ملک میں دین کی تعلیمات سے انسانی نسلوں کو سنواریں گے۔
وہ انسانی نسلوں کو اور مخلوق خدا کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کی تعلیمات۔
صبر و تحمل،برد باری اور قوت برداشت کی تعلیمات۔
عفو در گذر سے کام لینے کی تعلیمات۔
انسانوں اور مخلوق خدا کی مصیبتوںاور دکھوں کا مداوا کرنے کی تعلیمات۔
بھوکے ننگوں کی ضروریات مہیا کرنے کی تعلیمات۔
اپنے پرائے کو گلے لگانے کی تعلیمات۔
بھولے بھٹکوں کی رہنمائی کرنے کی تعلیمات۔
غریبوں کی مدد اور بیماروں کو شفا عطا کرنے کی تعلیمات۔
خدمت و ادب کو بروئے کار لانے کی تعلیمات۔
اخوت و محبت سے پیش آنے کی تعلیمات۔
ازدواجی زندگی کے قوانین کی تعلیمات۔
ماں باپ اور اولاد کے حقوق و فرائض کی تعلیمات۔
دوسرے عقائد،دوسرے نظریات،دوسرے مذاہب اور انکے ماننے والوں کو
عزت و احترا م دینے کی تعلیمات ۔
دنیا کی بے ثباتی کی تعلیمات،دنیا میں محنت یوں کرو جیسے ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور
زندگی یوں بسر کرو کہ جیسے اگلا لمحہ موت کا ہے کی تعلیمات۔
طبقات کو ختم کرنے،کالے اور گورے کے امتیاز کے فرق کو مٹانے کی تعلیما ت ۔
آقا اور غلام کے تضاد کوختم کرنے کی تعلیمات،زندگی کی بنیادی ضروریات کے
حصول میں اعتدال کی تعلیمات۔
الہامی اور روحانی قوتوں کو بروئے کار لانے کی تعلیمات۔
انسانیت کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش ہونے کی تعلیمات
خوف خدا کی زرہ پہننے کی تعلیمات۔
شرم و حیا کی دیواراورچادر اور چار دیواری کے تقدس کی تعلیمات۔
دین کی حدود قیود کی پابندی کرنے کی تعلیمات کی قندیلیں روشن کرنے کیلئے
ملک حاصل کیا گیا تھا۔تا کہ یہ جہان رنگ و بو انسانیت کیلئے امن و آشتی کا گہوارا
بن سکے۔ یا اللہ ! اس امت کے ساتھ کیا ہوا ۔اسکے ساتھ کیا بیت گئی ۔
اسکے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔
ہم نے تو حکومتی ایوانوں کا تقدس قائم رکھنا تھا۔
ہم نے تو عدل و انصاف کے پیمانے کو برقرار رکھنا تھا۔
ہم نے تو اعتدال و مساوات کا نظام رائج کرنا تھا۔
ہم نے تو خدمت خلق کا عہد نبھانا تھا۔
ہم نے تو دین کی ذمہ داری کو پورا کرنا تھا۔
ہم نے تو اخوت و محبت کے چراغ جلانے تھے۔
ہم نے تو صراط مستقیم کا سفر اختیار کرنا تھا۔
ہم نے تو رشد و ہدائیت کے ہدی خواں تیار کرنے تھے۔
ہم نے تو بھولے بھٹکوں کو اس فناہ کے دیس کی حقیقت سے آگاہ کرنا
اور دنیا کی بے ثباتی کا درس دینا تھا۔
ہم نے تو حضور نبی کریمﷺ کے کردار کی نماز کو ادا کرنا تھا۔
ہم نے تو دین کو سمجھنا اوراسکی تعلیمات پر غور و فکر کرنا تھا۔
ہم نے تو خلیفہ ء وقت اور ملک کے نظام کو چلانے والی سرکاری مشینری اور
رعایا کے معاشی اور معاشرتی فرق کومٹانا تھا۔
پاکستان میں یہ کون لوگ ہیں جو چودہ کروڑ مسلم امہ کے دین کی ملکیت اوران کی
دولت ، خزانہ اور وسائل کی ملکیت پر ڈاکہ زن ہیں۔
یہ کون ہیں جو حکومتی ایوانوں کا تقدس پامال کررہے ہیں۔
یہ کون ہیں جو ملکی دولت کی حفاظت پر معمور ہیں۔
یہ کون ہیں جو عیش و عشرت کی بے حیائی کی زندگی گذار رہے ہیں۔
یہ کون ہیںجوملکی وسائل پر قابض ہیں۔
یہ کون ہیں جو ملکی خزانہ کی لو ٹ ما ر میں مصروف ہیں۔
یہ کون ہیں جو دین کی عمارت کو ریزہ ریزہ کر رہے ہیں۔
یہ کون ہیںجو دین کے اعتدال و مساوات کے اصولوں کو روند رہے ہیں۔
یہ کون ہیں جو برہمن اور شودر کے طبقات تیار کر رہے ہیں۔
یہ کون ہیں جو انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنے باطل،غاصب اور جرائم پر مشتمل
طرز حیات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ کون ہیںجو دین کے عدل و انصاف کے ضابطوں کو مسخ کر رہے ہیں۔
یہ کون ہیں جو اخوت و محبت کے جذبوں کو روند رہے ہیں۔
آؤ !۔۔۔ انہیں مل کر تلاش کریں!آؤ ان کو ڈھونڈ نکالیں!
آؤ اس طریقہ کار کا کھوج لگائیں جس کے ذریعہ یہ حکومتی ایوانوں
تک رسائی حاصل کر تے ہیں!
آؤ انکی تعداد کو گن لیں!آؤ انکا تاریخی پس منظر ایک نظر دیکھ لیں!
یہ وہ لوگ ہیں جو مادیت اور اقتدار کے حصول کی جنگ میں مصروف ہیں۔
انکی پہچان جاگیر دار اور سر ما یہ دار طبقہ کے ناموں سے کی جاتی ہے۔
جمہوریت ا نکا ذریعہ اقتدار ہے۔
انکی تعدادچودہ کروڑ میں سے ساڑھے سات ہزار کے قریب ہے
جوجمہوریت کے الیکشنوں میں حصہ لیتے ہیں۔
چاروں صوبوں،وفاق اور سینٹ کے نظام حکومت چلانے کیلئے ممبروں
کی کل تعدادبارہ اور چودہ سو کے درمیان پہنچ چکی ہے۔
جو اسمبلیوںاور سینٹ کے ذریعہ دستور مقدس کے نفاذ کو منسوخ،معطل
اور ختم کرتے چلے آرہے ہیں۔انکوکوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔
جمہوریت کے دین کش نظریات کے ذریعہ جمہوریت کے ضابطہ حیات،طرز حیات ، سودی معاشی نظام ، طبقاتی نظام۔۱۸۵۷ کے ایکٹ کے مطابق انتظامیہ اور عدلیہ کا نظام ، طبقاتی تعلیمی ادارے،طبقاتی تعلیمی نصاب،طبقاتی منصف شاہی،طبقاتی افسر شاہی، طبقاتی نوکر شاہی،طبقاتی تنخواہیں،طبقاتی رہائشیں،طبقاتی سرکاری سہولتیں،طبقاتی دفاتر، طبقاتی شودر اور برہمن کا نظام۔ملک میں نافذالعمل ہے۔
نچلے طبقہ سے لیکر وزارتوں تک کی طبقاتی رشوتوں کا نظام، طبقاتی نظام حیات کی
سرکاری بالادستی ملکی سطح پر جمہوریت کے سائے تلے چودہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان پر مسلط
ہو چکی ہے۔
جمہوریت کے حکمرانوں نے دین کا دستور مقدس اور ضابطہ حیات مسجد کی حدود کے
اندر پابند سلاسل کر دیاہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ اور اسکے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیما ت ، عبادات اور
احکامات کومسجد میں پڑھنے تک محدود اور مسدود کر دیاہوا ہے۔
سرکاری تعلیمی نصاب جمہوریت کا !عدلیہ اور انتظامیہ کا تعلیمی نصاب جمہوریت کا!
سرکاری اطاعت جمہوریت کے مسلط کئے ہوئے اسمبلی ممبران پر مشتمل
وقت کے پیغمبران کی۔
جمہوریت کے اس ظالم نظام اور غاصب سسٹم نے ملت کے چودہ کروڑ افراد سے
دین کے دستور مقدس،دین کے نظریات،دین کے ضابطہ حیات،دین کے طرز حیات ،دین کے تعلیمی نصاب ، دین کی تعلیمی درسگاہیں، دین کے اعتدال و مساوات، دین کے عدل و انصاف،دین کے شورائی جمہوری نظام کو ان چند سیاستدانوں سے واگذار کروانا، دین کی بقا اور مسلم امہ کی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔چودہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کی دینی ملکیت اورانکی رات دن کی محنت سے کمائی ہوئی دولت۔ انکا ملکی خزانہ اور تمام ملکی وسائل کی ملکیت کو جمہوریت کے ان چند لا متناہی ملی وسائل اور ملکی خزانہ لوٹنے والے غاصب سیاستدانوں سے وا گذار کروا نا ہزار سال کی عبادت سے کہیں بہتر اور افضل ہے۔
جمہوریت کے اس نظام اور سسٹم نے پاکستان میں قرآن پاک کے دستور مقدس کے نظریات کی تعلیمات ۔حضور نبی کریمﷺ کے ضابطہ حیات اور طرز حیات کے اصول و ضوابط کی بالادستی کو سرکاری طور پر ملکی سطح پر ختم کر کے مسلم امہ کے چودہ کروڑ فرزندان اور انکی آنے والی نسلوں کو دین کی الہامی ،روحانی اور دنیاوی افادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ہم دین کے اموری نظام سے سرکاری طور پر محروم کر دئیے گئے ہیں۔ہم دین کے عدل و انصاف کے پیمانے کو سرکاری طورپر منسوخ کر چکے ہیں۔ہم دین کے اخلاقیات کو سرکاری طور پر ختم کر چکے ہیں۔ہم دین کی صداقتوں کو سرکاری طور پرمسجد میں پابندِسلاسل کر چکے ہیں۔ہم دین کی صفات کو مسلم امہ سے الگ کر چکے ہیں۔ ہم چادر اور چار دیواری کا تقدس تار تار کر چکے ہیں۔ ہم دین کے کردار کو تیار کرنے والے ادارے روند چکے ہیں۔ہم مسلم امہ کا ملی تشخص پا مال کر چکے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کے ابلیسی نظام کی سرکاری بالا دستی نے عملی طور پر دین کی متاع حیات کو ایک رہزن کی طرح لوٹ لیا ہے۔
اسکے علاوہ دوسری طرف چودہ کروڑ مسلم امہ کی رات دن کی محنت سے کمائی ہوئی دولت۔ غنڈہ ٹیکسوں سے چھینا ہوا مال۔ مہنگائی سے چوسا ہوا معاشی خون۔ ملک کے پیدا کردہ تمام وسائل اور ملک کا بھرا ہوا تمام خزانہ جمہوریت کے ابلیس کے چند ارباب سیاست کے ڈاکوؤں نے جمہوریت کے ابلیسی نظام کی نوک پر آپس میں تقسیم کر رکھا ہے۔عوام الناس سے ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعہ قانون کی بے رحم، عدل کش تلوار سے چھینی ہوئی دولت۔ انکو غربت،تنگ دستی،خود کشیوںاور خود سوزیوں کی اذیتوں میں مبتلا کرتی جائے۔ ارباب سیاست اور انکی سرکاری مشینری یہ سرکاری دولت اورشاہی خزانہ اپنی عیاشانہ زندگی اور شاہانہ سرکاری اخراجات پر خرچ کرتے جائیں۔ عوام الناس کے وسائل اور خزانہ اقتدار کی بالا دستی سے انکی ملکیتوں میں بدلتا جائے۔یہ غاصب اور باطل طریقہ کار انکی جمہوریت کے نظام کا حصہ بن جائے۔ ملک میں مال و دولت اور وسائل کی تقسیم کا نظام بری طرح عدم توازن کا شکار ہوتا جائے۔ اعتدال و مساوات کے سسٹم کو روندا جا ئے۔ملکی دولت،وسائل اور خزانہ چند لوگوں کی میراث بنتا جائے۔ ملک کے سیاسی جماعتوں کے غداروں کے ٹولے جمہوریت کے سائے تلے وزارتوں اور کمائی والی وزارتوں کی رشوتوں سے حکومتیں قائم کرتے اور ختم کرتے چلے جا ئیں۔انتظامیہ اور عدلیہ ان سیاستدانوں کے اشاروں پر ناچنے کی پابند بنا دی جائے۔رشوت ،کمیشن اور کرپشن ملک میں قانونی حثیت اختیار کرتی جائے۔ اس میںشک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ کہ اس طریقہ کار سے مسلم امہ کے چودہ کروڑ فرزندان کا دین بھی لٹ گیا اور دنیا کا مال و متاع بھی۔جمہوریت کے نظام اور سسٹم اور ان کی جمہوریت کے ا بلیسی طریقہ کار کا تدارک دین کی فلاح کا راستہ ہے۔
آؤ مل کر غور کریں! آؤ مل کر فکر سے کام لیں!
آؤ جمہوریت کے کینسر کا علا ج تلاش کریں!
آؤ ملت کے جسد کو جمہوریت کے کینسر سے نجات دلائیں!
ملت کے جسد کے تمام اعضا ایک ہی مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔
پوری ملت اس ہولناک مرض میں مبتلا ہو چکی ہے۔
اس مرض کی اذیت کے درد میں ہر کوئی چیخ و پکار کر رہا ہے۔
ہم اس جمہوریت کے مرض کے انجام سے واقف ہو چکے ہیں۔
ہمیںدین کے نظریات سے جمہوریت کے نظریات میں کنورٹ کیا جا رہا ہے۔
ہم جمہوریت کے جرم و گناہ کے سب مجرم اور گناہگار بنا دئیے گئے ہیں۔
ہم سب اپنے اعمال اور کردار پر نادم ہیں۔
ہم جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔
ہم سبھی حضور نبی کریمﷺ کے ماننے والے ہیں۔ہم فطرتی طور پر مسلمان ہیں۔ ہم اپنے حالات پر ،ہم اپنے واقعات پر اور ہم اپنے اعمال پر،اپنی بے بسی پر نادم اور شرمندہ ہیں۔ہم سب گنہگار ہیں لیکن تیرے محبوب کی امت میںسے ہیں۔ہم سے دھوکہ ہو ا۔
ہم ہائی جیک کر لئے گئے ہیں۔ہم منافقت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں
ہمارے ارباب سیاست اور حکمران اس ملک و ملت کے مجرم ہیں ۔
ہم مسجدیں خدا اور رسولﷺ کی عبادت سے آباد کرتے ہیں۔
ہم دلوں میں ذکر رب جلیل کرتے اور زبانوں سے درود شریف کے ورد میں مصروف
رہتے ہیں۔ ہم سرکاری طور پر اطاعت جمہوریت کے کفر کے نظریات اور کردار کی
کرتے ہیں۔
ہمارے تمام سیاستدان اور سیاسی دینی جماعتوں کے رہنما دین محمدیﷺکے منکر اور
منافق نکلے ۔جو مسلم امہ کے چودہ کروڑ فرزندان اور انکی نسلوں کو جمہوریت کے نظریات
میں کنورٹ کئے جا رہے ہیں۔
ہمارے سیاسی اسلامی جماعتوں کے دینی رہنما حضرت امام حسینؓ علیہ السلام کے
دینی قافلے کے نہیں جمہوریت کے ابلیسی، نمرودی، فرعونی اور یزیدی نظام حیات کے ساتھی اور ہمنوا نکلے۔ اسکے بعد ان کا دین کے ساتھ دور کا تعلق نہیں رہا ۔انہوں نے دوسری سیاسی جماعتوں سے مل کر مادیت اور اقتدار کے حصول کے عوض دین محمدی ﷺ کو جمہوریت کے ہاتھوں اس نظام حکومت میں شمولیت کر کے فروخت کر دیا ہے۔
ہمارے دینی رہبر ہی ہمارے دینی رہز ن ہیں۔
انہوں نے سیاستدانوں سے مل کردین کو ختم کر کے ملک میں جمہوریت کے لا دینی
نظام کا سرکاری سطح پرنفاذ کر نا اور اس پر عمل پیرا ہونا شروع کر رکھا ہے۔
دین کے خلاف مخلوط تعلیمی نظام کا قانون پاس ہونے کے بعد بھی یہ اقتدار سے چمٹے
رہے۔جبکہ یہ نظام دینی معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے۔
قومی اسمبلی میں دین کے خلاف مخلوط حکومت قائم کرنے کیلئے ۸۰ مستورات کو بطور
وفا قی ممبر بمع اپنی مستورات کے شامل ہوئے۔ کیایہ دینی جماعتوں کے رہنما ہیں ۔
دین کی حدود و قیود توڑنے کیلئے سرکاری اور نیم سرکاری ملازمتوں میں مخلوط معاشرہ
تیار کرنے کیلئے مردوں کی جگہ مستورات کو لے آئے۔
ایسے قوانین جب پاس کرنے ہوں جن سے ا نکی بہو بیٹیوں کو اسمبلی کی ممبر شپ
اور وزارتیں ملنی ہوں۔
انکے اخراجات برداشت کرنے کیلئے بے بسوں ،ناداروں،بوڑھوں، یتیموں،
اپاہجوںاور بیروز گاروں پر ٹیکسوں کا عذاب نازل کرنا ہو۔
ا پنی تنخواہوں اور شاہی سرکاری سہولتوں میں اضافہ کرنا ہو۔
اپنی افادیت کی پالیسیاں رائج کرنی ہوں۔
اپنے کارخانوں کی مصنوعات کو بیرونی ممالک بھیج کر ڈالر کمانے ہوں۔
چند بچڑوں کو ڈالر کمانے کیلئے گوشت جیسی خوراک کو بیرون ممالک بھیجنے اور چودہ
کروڑ عوام کی بنیادی ضرورت کو کچلنا ہو۔
مہنگائی کی اذیتناک سرنجیں چودہ کروڑ عوام کو چبھونی ہوں۔
سیمنٹ اور لوہے کو بیرون ممالک بھیج کران سرمایہ داروں کو ارب پتی بنانا ہو۔
زندگی کی بنیادی ضروریات کا ریٹ اور اسی طرح کی ظلم کی داستا نیں رقم کرنی ہو ں
تو انکی اسمبلیوں کا کورم پورا ہو جاتا ہے۔
جمہوریت سیاستدانوں، سرمایہ داروں کی ایک ایسی لونڈی ہے جو انکو دولت اور
حکومت عطا کرتی ہے۔ اور چودہ کروڑعوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر بے بس
قیدی بنا دیتی ہے۔
نمرودی ،فرعونی اور یزیدی نسل کے مادہ پرست اور اقتدار پرست ایجنٹ مذاہب میں داخل ہو تے ہیں۔ پیغمبران کی امتوں کے
وسائل اور دولت پر قابض ہو کر جمہوریت کے باطل، غاصب،دین کش ذریعہ سے ایوان اقتدار پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔پھر مذہب کے نظریات،تعلیمات ،کرداراور اسکی تہذیب کی عمارت کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔
پاکستان کے عوام بھی ان چند سرمایہ داروں، سیاستدا نوں اور حکمرانوں کی زد میں ہیں جو چودہ کروڑ عوام کو گدھوں کی طرح معاشیات کی چھڑی سے ہانکتے ہیں۔ خرکاروں کی طرح ٹیکسوں کی لاٹھی سے پیٹتے ہیں۔بھوک اور ننگ کی اذیتوں سے دو چار کرتے چلے آ رہے ہیں مذہب کو جمہوریت کی تلوار سے مسجد میں پابند سلاسل کر چکے ہیں۔ سرکاری طور پردین کی کردار سازی اور اسکی افادیت ختم کی جا چکی ہے۔ جمہوریت کے نظام کو چلانے کیلئے ممبران کا چناؤ بذریعہ الیکشن ہوتا ہے۔الیکشن صرف غاصب سرمایہ داروں کی وراثت ہوتا ہے۔ جمہوریت پر مشتمل اسمبلیوں کے ممبران کے ذریعہ مذہب کے نظریات کے خلاف قانون سازی کر کے مسلم امہ کے فرزندان کوجمہوریت کے نظریات کا سرکاری طور پر پابند بنا کر انکو مذہب سے محروم اور دور کیا جا چکا ہے۔ان سے دین اور دنیا دونوں رہزنوں کی طرح چھینے جا رہے ہیں ۔ جمہوریت کی طرز حکومت سرمایہ داروں اور معاشی آمروں کے کرداروں کی تربیت گاہ اور انکے تحفظ کی آماجگاہ بن چکی ہے۔اسکا تدارک مسلم امہ، بنی نوع انسان اور اسکی نسلوں کی فلاح کیلئے از حد ضروری ہے۔
اسکے برعکس دین محمد ی ﷺ کا الہامی اور روحانی شورائی جمہوری منشور کسی حاکم،کسی جماعت،کسی فلسفی یا کسی دانشور کا تیار کیا ہوا نظام نہیں۔اسکا تعلق الہامی کتاب قرآن حکیم، رسول خدا ﷺ اور خدا سے وابسطہ ہے۔ شورائی جمہوری منشور ایک جامع حقائق،بے نظیر معیار اور ممتاز مرتبہ انسانی فلاح پر مشتمل الہامی نظریات کا مجموعہ ہے جو بنی نوع انسان کے ضابطہ حیات کی ازل سے لیکر ابد تک رہنمائی کرتا ہے۔ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حا کمیت قائم کی جاتی ہے۔ جوجمہوریت کے حکمرانوں کو حکومتی ایوانوں سے اتار کر ایک عام انسان کی زندگی کی سہولیات تک محدود کر دیتا ہے۔ معاشی اور معاشرتی رہزنی اور ڈاکہ کا سسٹم کچل دیتا ہے۔ شورائی ممبران کی سلیکشن کا فریضہ عوام پر ہوتا ہے کہ وہ ا یک ایسے شخص کا چناؤ اپنے علاقہ سے کر تے ہیں۔ جس کے پاس دین کی خوبیاں حضور نبی کریمﷺ کے ضابطہ حیات۔ امانت و دیانت، اعتدا ل و مساوا ت ، اخوت و محبت، عفو و در گذر،صبر و تحمل ، سادگی و حلیمی، عزت و شرافت،عدل و انصاف کے کردار کے قریب ترین ہو اور فرائض منصبی کی اہلیت کا مالک ہو۔نہ وہ اس دور کا ملاں ہوتا ہے اور نہ ہی پیر۔ بلکہ وہ ایک فقیر فطرت انسان کی سلیکشن ہوتی ہے ۔ وہ مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اسکے حقوق نبھانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ مجلس شوریٰ کے ممبران کا انتخاب اس بلند ترین تصور کے مطابق کیا جاتا ہے۔جس سے خدا خوفی، دنیا کی بے ثباتی،بلند و بالا صلاحیت اور بالغ شعوری کی تشکیل ہوتی ہے۔عالم بقا کیلئے انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔ اس طرح جو مجلس شوریٰ تیار ہوتی ہے وہ ہر قسم کے حادثات اور واقعات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔۔وہ اللہ تعالیٰ کے دستور مقدس کے نفاذ کی پابند ہوتی ہے۔ مجلس شوریٰ اس دستور کی خود بھی من و عن پیروی کرتی ہے اور تما م عوام کو بھی اس کا پابند بناتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہوتی ہے۔ اس نظام کو سمجھنا ،اسکو بروئے کار لانا اور تما م امتوں اور بنی نوع انسان کو سمجھانا اور اسکی افادیت سے آگاہ کرنا مسلم امہ کا فریضہ ہے۔ یاد رکھو! جب سربراہ وقت باغ سے سیب نہیں توڑتا تو رعیت باغ کو ویران نہیں کیا کرتی۔
شورائی طریقہ کار سے دیندار اور عمدہ اخلاق کے ممبران کی سیلیکشن ہوتی ہے۔ اسکے برعکس جمہوریت کے الیکشن کے طریقہ کار سے
دین کش سرمایہ داروں کے ممبران کا چناؤ ہوتا ہے۔
اب ان حکمرانوں نے ا نتظامیہ اور عدلیہ بھی مخلوط بنا دی ہے جو پہلے ہی جمہوریت کے باطل نظام کے جرائم کی محافظ اورانکے زیر سایہ جرائم پروان چڑھتے ہیں۔
مخلوط سسٹم سے بے حیائی، بدکاری اور ازدواجی زندگی کو ختم کرنے کا ایک نیا سفرہے
ملک میں دین کے خلاف سودی معاشی نظام پہلے ہی رائج ہے۔
دین کے خلاف ملک میں طبقاتی تعلیم، طبقاتی معاشرہ تیار کرنے میں حکمران اور
دینی جماعتیں پہلے ہی مصروف عمل ہیں۔
ملک جمہوریت کی حق تلفیوں اور بد کاریوں کی کفر نگری میں ڈ ھل چکا ہے۔ہم جمہوریت
کے نظام اور سسٹم کی اطاعت کے جرم کے مرتکب ہوتے چلے آرہے ہیں۔
ہم عبادت اللہ اور اسکے رسولﷺ کی کرتے ہیں اور عمل جمہوریت کے قوانین کا۔
ہمارا کردار دین اور جمہوریت کے نظریات کے تضاد کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
مسلم امہ کے فرزندان کو مجبور،بے بس اور منافقت کی زندگی کا ایندھن بنا رکھا ہے۔
جمہوریت کے نظام نے مسلم امہ کو ایک قیدی کی زندگی گذارنے پر مجبور اور محبوس کر رکھا
ہے ہم نے چادر اور چار دیواری کے دینی نظام کو ختم کیا۔
ہم دین کے خلاف بے حیائی اور بدکاری کی مخلوط زندگی کا آغاز کر چکے ہیں۔
ہم اپنی بیٹیوںکو حکمرانوںکے دفتروں کی زینت بنانے کا عمل بھی جاری کر چکے ہیں۔
ہم اپنی بہنوں کوانکے کلبوں اورد فاترمیں انکی سیکر یٹری بنانے کے عمل سے دو
چارہوچکے ہیں۔
ہم اپنی ماؤں کو بے حیا مخلوط معاشرے کے عذاب سے دو چار کر چکے ہیں۔
مغرب کے مرد و زن جمہوریت کے مخلوط معاشرے کے دھوکہ میں اپنی خانگی
اورازدواجی زندگی کو تباہ کر بیٹھے۔
وہ ماں بہن ،بیٹی کے رشتوں کے تقدس کو روند چکے ہیں۔
وہ ان آسمانی رشتوں کی محبت کی پاکیزہ خوشبو سے محروم ہو چکے ہیں۔
جمہوریت کے پروردہ تو مخلوط معاشرہ چاہتے ہیں۔ انکا مقصد مستورات کو جاب مہیا
کرناتو نہیں۔وہ عیاش تو مالی طاقت کی بنا پر جاب کے دھوکہ میں مستورات کے

جسموں کی نمائش میں اپنی پسند کا انتخاب کرتے ہیں۔
ملت اسلامیہ مخلوط معاشرے کی اونچ نیچ اور اسکے منطقی انجام سے آشنا ہو چکی ہے۔
ان مادہ پرستوں ،شہوت پرستوں،زانیوں اور بے حیائی پھیلانے والوں
کو روکنا ہو گا۔
خدا اور رسول ﷺ کے ضابطوں کی پابندی کرتے ہوئے۔ مستورات کو ملازمتیں ا
اور روزگار تو ان سے بہتر مہیا کیا جا سکتا ہے۔
مستورات کے لئے تعلیم کاشعبہ جس سے وہ قوم کی معماری کے فرائض ادا کر سکتی
ہیں۔ صحت کا شعبہ جسمیںوہ بچوںاور مستورات کی صحت بہتر بنانے کے فرائض ادا
کر سکتی ہیں۔
گارمنٹس کا شعبہ،انکے علاوہ زندگی کے ہر شعبہ میں انکی خدمات کو بروئے کار لایا جا
سکتا ہے۔جس سے پردہ اور حیا قائم رہ سکتا ہے۔اور دین کی اطاعت بھی کی جا سکتی
ہے۔
چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے بیشمار راستے ہمارے پاس کھلے ہیں۔وہ تو صرف
ملک کو بے حیائی اور بدکاری کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔وہ تو اپنی مادی برتری سے
غریب طبقہ کی بچیوں کی عصمت و عزت سے کھیلنا چاہتے ہیں۔
وہ تو اچھی تنخواہوں سے اپنی پسند کی داشتہ خریدنے اور بدلنے کا عمل جاری کرنا
چاہتے ہیں۔
انہوںنے ایک لاکھ بیس ہزار پیغمبران اور انکی تمام سلامتی کی تعلیمات،انکے مذاہب،انکے نظریات اور ضابطہ حیا ت کو سرکاری طور پر انکی امتوں کیلئے منسوخ کر رکھا ہے۔ انکے متضاد اور خلاف جمہوریت کے نظریات اور ضابطہ حیات کے مطابق انکی امتوں کے فرزندان پر جمہوریت کی باطل حکومتیں قائم کر رکھی ہیں۔تما م امتوں کا سرکاری مذہب جمہوریت رائج ہو چکا ہے۔مذاہب پر جمہوریت کی سرکاری بالا دستی قائم ہو چکی ہے ۔ جمہوریت کافتنہ ملتوں میں انتشار اور فساد کا سبب اور مذاہب کی تعلیمات کو کچلتا جا رہا ہے۔
حکومتیں جمہوریت کی اسمبلیوں کے ممبران کے ذریعہ کثرت رائے سے مذاہب کے بنیادی ضابطوں کو ختم کر کے انکو بدلتی جا رہی ہیں۔ تمام امتیں اپنے پیغمبران کی فرمانبرداری اور انکی الہامی کتابوں کی اطاعت کو سرکاری طور پر ختم کر چکی ہیں۔ جمہوریت کے ضابطوں کی ایک گناہ عظیم کی زندگی گذارنے کے قوانین کی پابند بنا دی گئی ہیں۔در اصل جمہوریت کے سربراہوں نے تما م امتوں کے فرزندان کو اللہ
تعالیٰ اور انکے پیغمبران اور انکی تعلیمات کی بغاوت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہم پیغمبران کے بے ادب، باغی اور سرکش بنا دئیے گئے ہیں۔
اے اللہ ہم تیرے در پر اپنی کوتاہیوں ،غلطیوں،نادانیوں،بے بسیوں اور گناہ کے اعمال کی ندامت کا بوجھ اتارنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں۔ہمیں معاف فرما۔ہمیں جمہوریت سے نجات اور دین کی آغوش عطا فرما ۔امین۔
ہم تیرے سامنے توبہ کرتے ہیں۔ہم اجتماعی توبہ سے اجتماعی معصومیت کے سا تھ
حا ضر ہوئے ہیں۔ہمیں جمہوریت کی باطل ۔غاصب اور دین کش حکمرانی سے نجات دلا ۔
دجال جمہوریت کی شکل میں دنیا میں آچکا ہے۔ جو تما م پیغمبران کی تعلیمات اور انکی امتوں اور بنی نوع انسان کو نگلتاجا رہا ہے ۔
ہمیں دین اسلام کے ضابطہ حیات کے نفاذکی توفیق عطا فرما۔ جسکی آغوش میں
پوری مخلوق خدا جمہوریت کے دجال سے نجات حاصل کر سکے۔ امین
اگر اے اللہ !تو ان الفاظ کو شرف قبولیت سے نواز دے۔تو تمام پیغمبران کی امتیں اپنے اپنے ملک میں دجال کی جمہوریت کو ختم کر کے سلامتی کے نور کو دنیا میں عام کر کے ایک عظیم روحانی انقلاب برپا کر سکیں۔یا اللہ تو ایسا کرنے پر قادر ہے۔
یا اللہ تو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرما۔تمام پیغمبران کی امتوں پرجمہوریت کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سرفرازی اور با لا دستی نے مذاہب کے نور کی شمع کو بجھا رکھا ہےیا اللہ ہمیں اس نور کو منور کرنے کی توفیق عطا فرما۔امین