To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جب دامن دین ہی ہاتھ میںنہ ہو تو اسلام کیسا اور مسلمان کیسے
بابا جی عنایت اللہ
الفاظ کی حرمت اور انکی پاسداری خالق کونین کاعطیہ ہے۔الفاظ خیال کا لباس ہے ۔ خیال کی دلہن کو انہی سے سجایا اور سنوارا جاتا ہے۔ دلنوازی کا پیغام انہی الفاظ سے انسانی قلب و روح تک پہنچایا جاتا ہے۔خیر کی دنیا انہی سے تابندہ اور پائندہ ہوتی ہے۔خیر اور شر،نیکی اور بدی کی پہچان الفاظ کے دم سے ہی قائم ہے۔گلستان حیات کا حسن ،الفاظ سے ہی جلوہ آرا ہوتا ہے۔ الفاظ جمال کی روشنی اور نوع انسانی کے روح کا خامہ ء دلنواز ہوتے ہیں۔دلنوازی،دلسوزی اور دلربائی کے میخانے کا مست،مستی کے جام ہمہ دم اور دما دم جاری کرنے والا کسی صحراؤ بیاباں میں تنہائی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ الفاظ کے میخانے میں مستی ء کردار کی ستار خاموش کسی صاحب اعجاز کی منتظر بیٹھی ہے کہ وہ آئے اور خوابیدہ ملت کو جگائے۔ وہ عظیم ملت بے بس،غمگین،اداس، پریشان حال اذیتوں سے لاچار،تڑپتی ، سسکتی،دم توڑتی، دین محمدی  کی دوری کی سزا میں مبتلا کر دی گئی ہے، ملت جمہوریت ،بادشاہت اور آمریت اور دین محمدی  کے نظریاتی تضاد کا شکار ہو چکی ہے۔ کاروان ملت کو حرم سے بد گماں کیا جا رہا ہے، پاکستان میں سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو نان کرسچن جمہوریت کے پنجرے میں بند، اسکے نظام حیات اور ضابطہ حیات کا قیدی بنارکھا ہے۔ملت ایک دردناک المیہ کی شکار ہو چکی ہے۔وہ حیات و ممات کی کشمکش کی اذیتوں میں دم توڑے جا رہی ہے۔جب دین محمدی  کا دامن ہی ہاتھ میں نہ ہو گا تو ملت کہاںسے تیار ہوگی۔دین محمدی  کی سرفرازی اور بالا دستی ہی ملت کی فلاح اور نجات کا ذریعہ ہے۔اس وقت ملت درد سے چور، سانس لینے پر مجبور، حیات و ممات کی کشمکش میںبیجان ہوئی پڑی ہے۔اسکی حالت دگر گوںہوتی جا رہی ہے،اسکی حیات جاوداں جمہوریت ، بادشاہت آ مریت کی نجات اور دین محمدی کی اطاعت میں مضمر ہے۔ چشم ملت اس منظر کو دیکھنے کیلئے بڑی دیر سے منتظر کھڑی ہے۔
بابا جی عنایت اللہ