To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پاکستان کے معرض وجود میں آنے کی وجوہ اور محرکات
عنایت اللہ
۱۔ اہل ہند کے مسلمانوں نے۲۳ مارچ ۱۹۴۰ ء کو قرار دا د پاکستان منظور کی۔ ۲۳ مارچ کا دن پاکستان کے مقدر سے وابستہ ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے اسی دن ایک ملک پاکستان کا تصور پیش کیا، جس کی بنیاد ی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نظریات، ان کا ضابطہ حیات، ان کاطرز حیات ، انکی عبادات کا طریقہ ،انکی ازدواجی زندگی کا نظام ،انکے اسوہ حسنہ کی روشنی میں تیار کئے ہوئے اخلاقیا ت ، انکا گور وکفن کا سلیقہ ،ہندوؤں کے نظریات انکے ضابطہ حیات اور طرز حیات سے مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد ہے۔ ہندوؤں کانظریہ حیات ان کے پیرو کاروں کو اپنا طرز حیات یعنی بت پرستی ، برہمن اور شودر کے طبقات کا علم و شعوراور کردار سکھاتا ہے،وہ گائے کی پوجا کرتے ہیںوہ اسکا گوشت نہیں کھاتے ہیں،جبکہ مسلمانوں کا مذہب جس میںتوحید ، نماز، روزہ ،حج، اور زکوۃ شامل ہیں، ایک مختلف ضابطہ حیات، طرز حیات کی تربیت کرتا ہے۔ دین اسلام مسلمانوں کو اپنے مخصوص قوانین اور ضوابط کی روشنی میں انفرادی زندگی سے لیکراجتماعی زندگی گزارنے تک کے تمام آداب سکھاتا ہے۔ مسلم امہ کا مذہب اور اسکے نظریات اور ہندو ازم کے بنیادی اصولوں کا اختصاری موازنہ درج ذیل ہے :۔
۲۔مسلمانوں کے مذہب اور ہندوؤں کے نظریات اور طرز عبادت میں بھی بہت بڑا بنیادی فرق ہے۔ اس لئے دو مختلف نظریات کی بنا پر مسلمانوں نے ایک الگ ریاست (پاکستان) کا نظریہ پیش کیا۔ جہاں مسلمان اپنی دینی کتاب قرآ ن پاک کی روشنی میں تعلیمی نصاب کا تعین کریں گے، اسلامی ضابطہ حیات کے مطابق شورا ئی جمہوری نظام حکومت قائم کریں گے،اسی کے تحت تعلیمی نصاب اور قانون سازی کر ینگے ۔ ان دینی اصول و ضوابط اور قوانین کے مطابق مسلمانوں کے کردار کی تشکیل ہو گی۔ ان کی تربیت گاہیں انکی آنیوالی نسلو ں کے طرز حیات اور کردار کو دین کی روشنی میں سنوار یں گی۔ اس طرح مسلم امہ اقوام عالم کے سا منے اپنے ملی تشخص کا ایک حسین و جمیل اسلامی نمونہ پیش کر سکے گی جو انسانیت کیلئے باعث کشش ہوگا۔ اور ہندو اپنے دھر م ، نظریہ اور عقیدے کی روشنی میں اپنا نظام حیات چلا کر اپنا تشخص تیار کر کے زندگی گذارسکیں گے۔ اس طرح دو قومی نظریات کی بنیاد اور دلائل پر مسلمانوں نے ایک الگ ملک پاکستان کو حاصل کر نے کی دل و جان سے کوشش کی۔ انگریز نے مسلمانوں کے دو قومی نظریات کو تسلیم کر لیا۔ بالآخر ۱۹۴۷ ء کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔
۳۔ہندوستان کے مسلمان اس نظریاتی ریاست (پاکستان) کو حاصل کرنے کے لئے ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ ء کی قرار داد کی روشنی میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے۔ بالآخر ۱۹۴۷ ء کو مسلمانوں نے ایک الگ اسلامی ریاست یعنی پاکستان حاصل کر لیا۔ جس کے لئے مسلمانان ہند ایک ایسے دردناک، اذیت ناک المیہ سے گذر گئے،جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہندوستان میں ہندوؤں ، سکھوں نے ملکر مسلمانوں کا قتال شروع کر دیا۔ان کو ترک وطن اور ہجرت کر نے پر مجبور کیا اور ان کوپاکستان آنا پڑا۔
۱۔ انہوں نے اپنے گھر، اپنے کاروبار، اپنے مال و جان، اپنی زمینیں اور اپنے کھیت کھلیان ، حتیٰ کہ اپنے وطن کو بھی خیر باد کہا۔
۲۔ اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں اور عصمتوں کی قربانیاں دیں، قافلوں کی شکل میںہجرت کے دوران لاتعداد مرد و زن قتل ہوئے۔
۳۔ انہوں نے ہر قسم کے دکھ، طرح طرح کی اذیتیں، بھوک اور فاقے، سفر کی طویل صعوبتیں، جانی اور مالی تکلیفیں عزیز واقارب کے قتال کے صدمات برداشت کئے۔وہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے اور بارگاہ الہی میں سجد ہ ریز ہو جاتے۔
۴۔ انہوں نے یہ سب کچھ اسلام کے نام پر قربان کیا،کہ پاکستان میں دین محمدی ﷺ کے دستور کی بالادستی اور سرفرازی قائم ہوگی۔
۵۔ دین کی روشنی میں ایک تعلیمی نصاب رائج ہو گا۔اعتدال و مساوات ا خوت ومحبت ،عدل و انصاف کا راج ہوگا۔ اسلامی تعلیمات اور طرز حیات سے ملی تشخص تیار ہو گا۔ رحمت اللعالمین ﷺکا اعلیٰ وافضل اخلاق و کردار کا علم اور عمل جاری ہو گا۔
۶۔معاشرے کی معاشی عمارت دینی اصول و ضوابط اور ضابطہ حیات کے مطابق پروان چڑھے گی۔اعتدال و مساوات اسکا بنیادی عنصر ہو گا۔
۷۔ لیکن بد قسمتی سے ملک میں انگریز کا رائج کیا ہوا نان کرسچن جمہوریت کا سامراجی ظالم اور غاصب نظامِ حکومت اور اسکو چلانے والے تما م اعلیٰ سے ادنیٰ سرکاری مشینری کے اہل کار جن کو انہوں نے ایک مفتوحہ قوم کو محکوم اور غلام بنانے کیلئے ایک مخصوص تعلیمی نصاب اور اسکی تعلیم و تربیت کے بعد اپنے مقاصد کے حصول کیلئے سرکاری عہدوں پر متعین کرتے، آپنے احکام کی پیروی کرواتے۔ وہ تمام نظام و سسٹم اور حکومتی مشینری جوں کی توں حکمران طبقہ کے حوالے کر گئے۔ اپنا اقتدار،اپنا نظام حکومت،اپنے طبقاتی تعلیمی ادارے، اور ان اداروں کے فارغ ا لتحصیل انتظامیہ ،عدلیہ کے اعلیٰ سرکاری سکالر، انکا عملہ جو انگریزی زبان سے آشنا تھا اورکار سرکار چلاتا تھے انکے حوالے کر گئے، اسکے علاوہ اپنے طبقاتی تعلیمی ادارے ، طبقاتی تعلیمی نصا ب ، سرکاری انگریزی زبان، سودی معاشی نظام ، طبقاتی معاشرتی نظام ، طبقاتی طرز حیات کو تیار کرنے والے تمام ادارے انکے سپرد ہو گئے ، انکاغاصب انتظامی سسٹم اور باطل نظام عدل بھی انکے حوالے کر گئے، انکے احکام کو بجا لانے والی مجبور و محبوس انتظا میہ اور عدلیہ کا چارج انگریز کے نان کرسچن جمہوریت کے حکومتی شاہی طبقہ کے حوالے کر گئے،انگریز چلا گیا،نو زائیدہ پاکستان اور اسکی محکوم اور غلام عوام کے تمام وسائل،دولت، خزانہ ، انتظامیہ اور عدلیہ کے تمام بے دین ادارے اور ملک کا اقتدار ، اپنے اسی حکومتی طبقہ اور سرکاری مشینری کے حوالے کر گیا،اس طرح ملک و ملت ایک عبرتناک المیہ میں مبتلا ہو گئی۔
۸۔ اس طرح آج تک ملک کا اقتدار ،ملک کی دولت،ملک کے وسائل اور ملکی خزانہ ان کے کنٹرول اور تصرف میں چلا آرہاہے۔اسلامی ضابطہ حیات ، اسلامی تعلیمی نصاب، اسلامی تعلیمی ادارے،اسلامی تعلیمات ،اسلامی نظریات ،اسلامی معاشی نظام ، اسلامی معاشرتی نظام اور طرز حیات کی بجائے انہوں نے وہی مغربی نان کرسچن جمہوریت کا ضابطہ حیات ، طرز حیات ، سودی معاشی نظام،وہی طبقاتی معاشی تقسیم ، وہی طبقاتی تعلیمی نظام اور تعلیمی ادارے ، وہی تھانے کچہریا ں ،وہی انتظامیہ اور عدلیہ،وہی نظام وسسٹم ، وہی انگریزی زبان کی سرکاری بالا دستی کا نظام مسلم امہ کے پندرہ کروڑ نفوس پر مسلط کر رکھا ہے۔جسکی وجہ سے پاکستان میں بسنے والی مسلم امہ دین کی دوری کے عذاب اور نان کرسچن جمہوریت کے کینسرمیںتڑپتی،سسکتی،د م توڑتی اور تضاد کی زندگی کے دوزخ میں جلتی،سلگتی بے بسی کا ایندھن بنتی چلی جا رہی ہے۔ ملت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعلیم و تربیت،علم و عمل ۔کردار و تشخص تابع فرمان نان کرسچن جمہوریت پنپتا چلاجا رہا ہے۔ پاکستان میں نان کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں، اسمبلیوں کے ممبران نے دینی قدریں ، دینی ضابطہ حیات اور مسلم امہ کے دینی تہذیبی ورثہ کو جمہوریت کے باطل نظام و سسٹم کے ذریعہ ختم اور روند کر رکھ دیا ہے،جسکی خاطر یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا۔ ان حالات و واقعات کی روشنی میں نظریاتی ریاست اور مسلم امہ کی تباہی کے اسباب کو کیسے روکا اور ختم کیا جا سکتا ہے ۔اہل بصیرت اہل وطن کو غور کرنا اور سوچنا ہو گا۔
۹۔(۱) یہ دنیا ایک سرائے فانی ہے۔
(ب) ۔ جس میں مختلف اقوام اور نسلوں کے لوگ بستے ہیں۔
پ۔دنیا میں تقریبا ۱۸۷ ممالک موجود ہیں۔ ان میں مختلف عقیدوں ،مختلف نظریات اورمختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔
ت۔ ہر ملک اپنے مخصوص انداز فکر کی روشنی میں ملک کا نظم و نسق چلاتا ہے۔
ث۔ ہر ملک، ہر قوم، ہر عقیدے اور نظریات کے لوگوں کی یہ تمنا ، خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کواقوام عالم کے مقابلے میں اعلیٰ ، بہترین، پر کشش معاشی معاشرتی نظام اور بہترین انتظامیہ، عدلیہ مہیا کریں جو عدل قائم کر سکے، جس سے اہل وطن پر سکون اور با عزت طریقہ سے زندگی بسر کر سکیں۔
ج۔ انتظامیہ اور عدلیہ کے ادارے ایسے ہو ں جو انتظامی امور اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہ ہو۔
چ۔ تاکہ اس کے عوام پر سکون زندگی گذار سکیں اور اقوام عالم میں عدل و انصاف،عمدہ اخلاق کی اچھی شہرت اور اعلیٰ معیار پیش کرسکیں۔
ح۔ بڑے بڑے نظریات جو اس وقت دنیا میں رائج ہیں۔ ان میں کیمو نز م ، سوشلز م ، ہندو ازم بدھ از م،مذہب پرست امتیںموجود ہیں لیکن سب کا حکومتی طریقہ انتخاب نان کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات اور اصولوں کے مطابق ہے جوسرکاری سطح پر اپنے اپنے ممالک میں انکو ذریعہ حکمرانی بنا چکے ہیں ، جبکہ مسلم امہ کا اسلامی دستور مقدس کا شورائی جمہوری نظام ازلی اور ابدی ہے۔ جس کا طریقہ انتخاب اور الہامی ضابطہ حیات موجود ہے ۔ یہ نظام حیات ابھی تک کسیبھی اسلامی ملک میں سرکاری سطح پر نافذالعمل نہیں ہے ۔مسلم امہ جمہوریت ،آمریت ، بادشاہت کے حکمرانو ں کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے اور پوری ملت دین کی دوری کی سزا میں مبتلا اور رسوائے زمانہ ہو چکی ہے ۔
خ۔ ہر ملک میں اسمبلی ممبران اپنی ذات کی ضرورت اور خواہش کے مطابق قانون سازی کرکے حکومتی کاروبار چلاتے ہیں۔
د۔ عوامی رائے صرف ممبران کے انتخاب کے وقت عوام سے حاصل کی جاتی ہے،اس کے بعد وہ اسمبلیوں میں پہنچ کر انکے نظریات اور مذہب کے نظریات، ضابطہ حیات کے خلاف قانون سازی کرتے۔جمہوریت،آمریت اور بادشاہت کے آئین کے سانچے میں ڈھالتے ،ملکی سطح پر عوام کی مرضی کے خلاف اعتدال و مساوات کو کچلتے،متاع ارضی کو اپنی ملکیتوں میں بدلتے اور بین الاقوامی سطح پر کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کا معاشی اور معاشرتی استحصال کرتے اور اسکی بیگناہ ،معصوم عوام پرجنگیں مسلط کرتے ،انسانی قتال کرتے ، انکے وسائل اور ممالک پر قبضہ کرتے اور ایک غاصب آمرکی طرح حکمرانی کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی مسلم امہ کے یہ نان کرسچن جمہوریت کے حکمران دین محمدی ﷺ کی افادیت سے خود بھی محروم ہیں اور سولہ کروڑ مسلمانوں کی نسلوں کو بھی محروم کئے جا رہے ہیں۔پورے ملک کا خزانہ،وسائل ،تجارت اور ہر قسم کے ذرائع آمدن جو سولہ کروڑ اہل وطن کی میراث ہے وہ نان کرسچن جمہوریت کے صدرپاکستان، وزیراعظم، چاروں صوبوں کے گورنر وں ، وزیراعلیٰ، وزیروں، سفیروں، مشیروں، سینیٹروں، ایم این اے،ایم پی اے، ناظموں کے سرکاری شاہی محلوں،ذاتی سرے محلوں، رائیونڈ ہاؤسوں،شاہی پیلسوں،میںتبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔
ڈ۔ مغرب میں اینٹی کرسچن جمہوریت، چین میں سوشلزم، روس میں کیمونزم اور اسلامی ممالک میںدین محمدی ﷺ کے شورائی نظام کے خلاف بادشاہت ، آمریت، جمہوریت کانظام اور سسٹم قائم ہے۔ہر ممالک میںان نظریات کی روشنی میں معاشرتی اور معاشی نظام کی تشکیل اور تکمیل کرتے ہیں۔
ذ۔ کہیں ماں کے نام سے اولاد کی پہچان ہے، باپ کی نشاندہی ضروری نہیں۔
ر ۔ کسی ملک میں نوجوان اور بوڑھے جوڑے بغیر شادی کے دوستی کی زندگی بسر کرتے اور بچے پیدا کرتے رہتے ہیں۔
ڑ۔ کہیں ہم جنس سے جنسی فعل کی آزادی ہے۔کہیں کتے ،کتیا سے جنسی فعل کی پابندی ختم۔
س۔ اسلام ازدواجی زندگی کا راستہ بتاتا ہے۔آفرینش نسل اور جنسی تعلق کی حیا پرور راہ دکھاتا ہے۔ رشتوں کی لڑی اور انکے تقدس کا درس دیتا ہے ، پاکیزہ اور مطہرزندگی کے ادب وآداب سکھاتا ہے۔
ش۔ رشتوں کا احترام، اخوت و محبت اور ادب کے چراغ دلوں میں روشن کرتا ہے۔
ص۔ اسی طرح دنیا کے تمام نظریات پر مشتمل معاشرتی اور معاشی نظامِ عدل و انصاف کے تقاضے حسب ضرورت قانونی حیثیت دے کر اپنے اپنے ملک کو چلا رہے ہیں۔
ض۔ اسلام ایک مکمل معاشی اور معاشرتی ضابطہ حیات اپنے پیروکاروں کو مہیا کرتا ہے۔اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کے ضابطے بتاتاہے،جس کے مطابق حکمران اور ملت کے فرزندان معاشرے کی عمارت کو تیار کرتے ہیں۔
ع۔دین کی صداقت کا تیار کیا ہوا ملی تشخص ، دنیا میں ملت اسلامیہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ انسانیت کیلئے بے ضرر اور مخلوق خدا کیلئے منفعت بخش ہوتا ہے، وہ اخوت و محبت کی داستاں ،وہ حسن خلق کا پاسباں،وہ امانت و دیانت کا نگہباں ، وہ اعتدال و مساوات کی کہکشاں،وہ عدل و انصاف کا بیکراں،وہ عفو و درگذر کا ترجماں، وہ ایثار و نثار کا ہدی خواں،وہ دنیا کی بے ثباتی کا راز داں،وہ ہمت و جرات کاروشن نشاں،وہ خلوتوں میں محو فغاں، وہ قصہ ء جاوداں، وہ خوف خدا کا پاسباں، وہ ذکر حبیب ﷺ کی کہکشاں،وہ اسی کے نور کی روشنیاں،وہ دلوں کی راحت کا سا ماں،کیاپاکستان پر مسلط کی ہوئی اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات،تعلیمی نصاب،مخلوط تعلیم اور مخلوط تعلیمی اداروں کے پاس ایسی صداقتوں کے چراغ ہیں جو اس جہان فانی کو روشن و منور کر سکیں ۔
غ۔ ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک سولہ کروڑ مسلمانوں پر مشتمل ملت کا تشخص بے دین بنیادوں پر استوار ہوتا چلا آرہا ہے، پاکستان میں چند مغربی تہذیب کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے میخانہ کے جان نشین حکمرانوں کے مسلط کئے ہوئے طبقاتی تعلیمی اداروں ،طبقاتی تعلیمی نصاب، طبقاتی معاشی نظام،طبقاتی معاشرتی نظام،طبقاتی سیاسی نظام،طبقاتی حکمرانی نظام کے باطل کدہ کے دین کش نظریات میں ڈھالتے چلے جا ر ہے ہیں۔ اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے نفاذ اور اسکی سرکاری بالا دستی نے مسلم امہ کی نسلوں کا دین ،ملی کردار اور ملی تشخص روند کر رکھ دیا ہے ۔
ف۔کیا دینی جماعتیںجو سیاست میں حصہ لے رہی ہیں، اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام ، سسٹم کو فالو کر تی چلی نہیں آ رہی ہیں۔ایم پی اے ،ایم این اے، سینٹر ،وزیرو مشیر،وزیر اعلیٰ ،گورنر بھی بنتی ہیں ۔ اسمبلیوں میں دین کے خلاف قانون سازی میںبھی حصہ لیتی ہیں ۔ دین کے خلاف مخلوط معاشرہ تیار کرنے کو قبول کرتی ہیں۔ سودی معاشی نظام کی قانون سازی میں شریک ہوتی ہیں۔ جمہوریت کے نظام حکومت میں حصہ لینے ،اعلیٰ سرکاری عہدے حاصل کرنے اور ہر قسم کی باطل سہولتوں ، غیر عادلانہ تنخواہوں، سرکاری رہائشوں ،سرکاری شاہی آسائشو ں جیسی افادیت اور رائج الوقت تما م مراعات حاصل کرنے کے بعد انکو کس نام سے پکارا جائے ۔ کیا وہ دینی اسلامی جماعتیں ہیں، کیا وہ مسلمان ہیں۔کیا وہ ملت اور دین محمدیﷺ کے ساتھ ایک منافق کا رول ادا کر ر ہی یا ملت و دین کی خدمت کر ر ہی ہیں !کیا وہ دین محمدی ﷺ کی منکر ہیں یا منافق!سیاسی دینی جماعتوں کے رہنما اپنے فیصلہ سے ملت کو آگاہ فرماویں۔ان کا اور ا ن کے ورکروں کا اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم کی پیروی کرنے کے بعد دین کے ساتھ کیا تعلق اور رشتہ باقی رہ جاتا ہے۔
ق۔ کیا اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن کا طریقہ کار اور اسلام کے شورائی نظام کے طریقہ کار میں کوئی فرق ہے۔ملت اسکی وضاحت چاہتی ہے۔کیا اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم سے قائم کی جا سکتی ہے۔ اسلامی جماعتوں کے رہبر ملت کو آگاہ کریں ۔
ک۔ کیا رہبر اور رہزن کا ووٹ،کیا غاصب اور مظلوم کا ووٹ، کیا جھوٹے اور سچے کا ووٹ،کیا زانی، شرابی اور صالح اور نیک کا ووٹ ، جاہل اور دانشور کا ووٹ،خیر اور شر کا ووٹ، دیندار اور بے دین کا ووٹ برابر ہو سکتے ہیں،فرض کرو ایک حلقہ انتخاب میں ایک لاکھ ووٹ کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے دس امیدوار کھڑے ہوتے ہیں،ان میں سے ایک بارہ ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہو جاتا ہے،کیا وہ بقایا اٹھاسی ہزار مختلف جماعتوں کے ووٹر کا نمائندہ تسلیم کیا جا سکتا ہے،نا ن کرسچن جمہوریت ایک غاصب آ مروںکا طبقہ ہے جو دین و دنیا کا رہزن ہے۔
گ۔دین کے نام پر اسلامی سیاسی جماعتیں بنانا،جمہوریت کے د ین کش نظریا ت پر مشتمل ضابطہ حیات میں شمولیت کرنا،جمہوریت کے نظام نو کے مذہب کی سیاستوں ، وزارتوں ، مشاورتوں میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا، جمہوریت کے باطل نظریات اور غاصب نظامِ حیات کی نشو نما کرنا،اسمبلیوں کے ذریعہ دین کے نظر یات کے خلاف روشن خیال اسلام کی قانون سازی میںشمولیت کرنا،اینٹی کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں سے ملکر مادہ پرستی،اقتدار پرستی کے بتوں کی پوجا کرنا،حکومتوںسے ہر قسم کا تعاون اور سودا بازی کرنا، ہارس ٹریڈنگ سے حکومتیں تیار کرنا، اسکے عوض مادیت اور اقتدار میں برابر کا حصہ لینا، دینی مدرسے بھی قائم کرنا،کبھی ان طالبعلموں کو امریکہ کے کہنے پر جہاد کا راستہ دکھا کر روس کے خلاف جنگ کا ایندھن بنانا،کبھی امریکہ سے انکو دہشت گرد قرار دلوا کر ان کا حشر نشر اور قتل عام کروانا،خوداینٹی کرسچن جمہور یت کی سیاست کی ممبر شپ، وزارت،مشاورت ،حکومت جیسی نمرودی ، فرعونی اور یزیدی نظام حکومت اور اسکی شاہی طرز حیات سے لطف اندوز ہونا،دین کے نظام کے خلاف قانون سازی اور بغاوت کر کے دولت اور اقتدار کی ہو س بجھانے کی خا طر بہو، بیٹیوں کو انگلی لگا کراسمبلیوں میں پہنچ جانا، ہارس ٹریڈنگ سے لوٹ مار میں حصہ لینا، ان تمام عالم دین کا نبی کریمﷺ ، انکے دین اور انکی امت کے ساتھ ایک بد ترین منافقت کے گھناؤنے ا عمال نہیں ہیں ۔ اہل وطن گواہ رہیں۔انکو اس جہان فانی سے کوچ کرنے سے قبل مطلع کیا جا رہا ہے،کہ انسانی فلاح احکام خدا وندی کی بالا دستی اور پیروی میں مضمرہے۔ اینٹی کرسچن جمہور یت کے نظام کی پیروی میں نہیں۔
ل۔مسلم امہ کی وساطت سے انکو عاجزانہ سلام پیش کرتا ہوں!انکو یاد دلانا چاہتاہوںعالم دین ،دین کے سپاہی اور مجاہد ہوتے ہیں۔وہ دین محمدیﷺ کیساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ انکے پاس دین کے نظریات کی پاکیزہ لائبریری موجود ہوتی ہے۔وہ خیال اور عمل کی غیر پاکیزہ کتاب اپنی لائبریری میں نہیں رکھتے۔ وہ بھولے بھٹکوں کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ وہ عدل قائم کرتے ہیں۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے عدل نے پیغمبر خدا کی امت کا نظریاتی راستہ روک رکھا ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام عدل نے دین محمدیﷺ کے الہامی اعتدال و مساوات کے نظام کو کچل کر رکھ دیا ، عدل مذہب کا نور ہے جو جمہوریت کے ظلمات میںڈوبتا چلا جا رہا ہے ۔ عدل فطرت کے طیب اصولوں کی نگہبانی اور دین کے ضابطوںکی حفاظت کرتا ہے،عدل معاشر ے میں اعتدال قائم کرتا ہے ۔ اعتدال سے ایک فلاحی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔عدل ایک جیسی زندگی کو عروج بخشتا ہے۔عدل صداقت کے چراغوںکو منور کرتا ہے۔ عدل انسانی زندگی اور معاشرے میں توازن قائم رکھتا ہے، عدل کش، غاصب انسان عالیشان سرکاری اور ذاتی محلوں میں عذا ب کی تصرفانہ زندگی بسر کرتا ہے۔ یاد رکھو! عادل اور منصف ایسا نہیں کیا کرتے اپنے ہم پیشہ سیاستدانوں سے مشورہ کریں۔انکو سمجھائیں،انکی رہنمائی فرمائیں ،انکو راہ راست کی منزل کی نشان دہی فرمائیں۔ بنی نوع انسان دین کے شورائی جمہوری نظام اور اسکی افادیت سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔
م۔ انکو شورائی جمہوری نظام کی افادیت سے آگاہی بخشیں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری کائنات کیلئے رحمت اللعا لمین ہیں۔ان کا دین، انکے نظریات ، انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات،انکے اعتدال و مساوات،انکے عدل و انصاف، انکے خوف خدا،انکا اس دنیا کی بے ثباتی
اور فانی ہونے کا شعور،انکی خدمت خلق کی عبادت سے آشنائی،انکی اخوت و محبت کے سلیقہ سے آگاہی پر مشتمل تعلیمی نصا ب سے تیار کیا ہوا اسلامی تشخص،اسکا حسن خلق،اسکا حسن کردار بنی نوع انسان کیلئے باعث رحمت اور انسانی دکھوں کا مداوا،انسانی زخموںکا علاج۔انسانی وباؤں،آفات اور بلاؤں کا تدارک،انسانی حقوق کا محافظ ، دنیا ئے عالم میں انسانی روح کی لطافتوں کا مخزن بن کر ابھرتا اور انسانی زندگی کو راحت و سکون کی روحانی دولت مہیا کرتا ہے۔
ن۔ ایسی صفات اور صداقتوں سے سینچے ہوئے کرداروں پر مشتمل مجلس شوریٰ کے ممبران۔ان ممبران میں سے حکومتی نظام کو چلانے والے اعلیٰ صلاحیتوں اور عمدہ اہلیت کے وارث خلیفۂ وقت کا چناؤ،جو عدل قائم کر سکے۔جسکو ایک عام انسان ، ایک عام شہری،ایک عام امتی کی بنیادی ضروریات کے مطابق اسکو اور اسکے لواحقین کو ضروریات حیات میسر ہوں۔وہی اس دین اور ملت کے کردار کا ترجماں،وہی اس ملت اور پوری انسانیت کے حقوق کا محافظ،وہی کردار خلیفہ ء وقت کے فرائض ادا کرنے کا وارث ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت انکے ان ضابطہ حیات کی صداقتوںکو رائج الوقت کر کے قائم کرتا ہے۔وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ضابطہ حیات کی اطاعت کرتا ہے۔مخلوق خدااور ملک و ملت پر اسکی بالا دستی قائم کرتا ہے۔
فقیرِ باب العلم اور مدینہ ۃ العلم کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو یہ دن دکھائے ۔ آمین۔
بابا جی عنایت اللہ