To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پاکستان دو بنیادی نظریات کی روشنی میںمعرض وجود میں آیا
عنایت اللہ
۱۔مسلمانوں کو اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات عطا کرتا ہے۔ جس میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے،وہ ازلی اور ابدی ہے، دستور مقدس کسی انسان ،کسی فلسفی ، کسی دانشور یا کسی قومی اسمبلی کے ممبران کی اختراع نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک ا یسا جامع الہامی ضابطہ حیات پر مشتمل نظام حیا ت ہے۔ جو انفرادی زند گی سے لے کر اجتماعی زندگی تک احاطہ کئے ہوئے ہے۔یہ آفا قیت کا مظہر ہے ۔
۲۔ اس دستور کے مطابق ریاست کے حاکم اعلیٰ اللہ تبارک تعالیٰ ہوتے ہیں، اس نظام کی روشنی میں ایک مجلس شوریٰ چنی جاتی ہے، اس کے بعد یہ مجلس شوریٰ اپنا ایک امیر نامزد کرتی یا چن لیتی ہے، جس کو امیر المومنین کہتے ہیں، امیر ہو یا مجلس شوریٰ کا کوئی رکن وہ خود بھی اس دستور مقدس کی من و عن اطاعت کرتا ہے۔
۳۔ اسی طرح وہ عوام یارعایا سے بھی اسلام کے اصولوں کی اطاعت کروانے کا پابند ہوتا ہے۔ اس دستور مقدس کے ضابطہ حیات کی روشنی میں حکومتی نظام چلایا جاتا ہے۔ مجلس شوریٰ کا ممبر ہو یا امیر المومنین اس کی بنیادی خوبیاں اور اہلیت اس کا دیندار اور پرہیزگار ، متقی ، صالح، منصف مزاج، امین، ایثار و نثار،امانت و دیانت کا محافظ اور احسان کے جذبہ سے سرشار ہونا لازم ہوتا ہے۔
۴۔ وہ دنیاوی غرض اور لالچ سے پاک، سادہ زندگی اور ضروریات قلیل رکھتا ہے،وہ اخوت و محبت کا پیکر،ادب انسانیت، خدمت انسانیت کی عبادت سے آشنا، یعنی جتنا کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی کے قریب ہو گاوہ اتنا ہی دین کے قریب ہو گا۔
۵۔ کوئی بھی شخص شورائی جمہوری نظام کے مطابق اپنا نام سیلیکشن یا الیکشن کے لئے از خود پیش نہیں کر سکتا۔ بلکہ لوگ اس کی ذاتی اہلیت، شرافت،اعلیٰ،عمدہ صلاحیت اور دینداری کو مدنظر رکھ کر اس کا نا م تجویز کرتے ہیں۔ اور خفیہ رائے عامہ کی منظوری سے منتخب کر لیتے یا چن لیتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے شورائی جمہوری نظام کے نمائندے کا چناؤ عمل میں ؒٓ؁ٓ لایا جاتا ہے۔
۶۔ ان نمائندوں کا چناؤ صرف اور صرف انہی دینی بنیاد دں پر کرنا ہوتا ہے۔ مجلس شوریٰ کے نمائندے ہوں یا امیر المومنین جب ان کے چناؤ کے بعد ملکی ذمہ داریاں ان کو سونپی جاتی ہیں۔ تو ان کے عمل کو ملک کا ہر فرد دستور مقدس کے ضابطہ حیات کے مطابق پرکھنے کا حق رکھتا ہے۔
۷۔ وہ خلیفہ ء وقت سے پوچھ سکتے ہیں، کہ کرتہ ایک چادر سے تو بن نہیں سکتا، آپ نے کیسے بنایا ہے۔ خلیفہ وقت اس کا جواب وہ ہوتا ہے۔
۸۔ جہاں معاشی نظام عدل پر قائم ہوتا ہے، وہاں معاشرتی نظام بھی انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ اگر غلام آدھا سفر اونٹ کی مہار پکڑ کر پیدل سفر طے کرتا ہے تو آدھا سفر میر کاروں بھی اونٹ کی مہار پکڑ کر پیدل طے کرتا ہے۔ عدل انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زمدگی تک کے بنیادی حقوق کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔
۹۔ اگر خلیفہ وقت کا بیٹا حدود کا مرتکب ہوتا ہے۔ تو اس کو بھی اسی دستور کی روشنی میں دروں کی سزا دی جا تی ہے۔ غرض یہ کہ وہ عدل و انصاف قائم رکھنے کے پابند ہوتے ہیں۔عدل معاشرے میں خیر اور شر کی حد بندی قائم کرتا اورخیر کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
۱۰۔ دستور مقدس ایک ایسا ضابطہ حیات ہے۔ جس میں معاشی معاشرتی اور اخلا قی، قدروں کے پنپنے کے لئے پوری انسانیت کو ایک جیسا ماحول ایک جیسے واقعات اعلیٰ ترین فطرتی صفات ہر ادنیٰ اعلیٰ کے لئے یکساں مواقع مہیا کرتا ہے۔
۱۱۔ پورے معاشرے کی تشکیل اس انداز سے کرتا ہے۔ جہاں انسانوں کے حقوق اور فرائض کاپوراتحفظ میسر ہوتا ہے۔ اخلاقی اور روحانی رویوں میں اخوت و محبت ، ایثار و نثار، عفو و درگذر ، صبرو تحمل، برد باری و برداشت، عدل و انصاف ، انسانیت کے لئے بے ضرراور پھر منفعت بخش کرداروں کی تشکیل اس دلکش دینی تعلیمی نصاب کی روشنی میںایک خوبصورت انداز سے کی جاتی ہے۔
۱۲۔اس دستور مقدس کے علاوہ کوئی دوسرا نظام اس جیسا کارکن یانمائندہ تیار کر نہیں سکتا، صرف دین ہی یہ منازل طے کرواتا اور جلا بخشتا ہے اور معاشرہ عدل و انصاف اور حسن خلق کی درس گاہ بن جاتا ہے۔آقا اور غلام ایک جیسا لباس پہنتے اور ایک ہی برتن میں اکٹھے مل کر کھانا کھاتے ہیں۔دین ہی مخلوق خدا کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا درس دیتا ہے۔
۱۳۔ عدل معاشی اور معاشرتی اقدار کو پنپنے کے لئے مکمل اور ایک جیسا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک دستور مقدس کو پاکستان میں رائج نہ ہونے دیا گیا ۔ وہ نصب العین، وہ تصور،وہ دستور حیات،وہ ضابطہ حیات ،وہ نظریات ،وہ اخوت و محبت ، وہ امانت و دیانت وہ حسن خلق،وہ ادب انسانیت وہ خدمت انسانیت وہ الہامی درس و تدریس جس کی خاطر یہ سب قربانیاں دی گئیں۔ایک الگ ملک حاصل کیاگیاتھا۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے بے دین حکمرانوں نے عملی طور پر ملت کو دین محمدیﷺ سے الگ کررکھاہے۔َ
۱۴۔ دین محمدی ﷺ کے دستور مقدس اور ضابطہ حیات کو صرف پڑھنے اور سننے تک محدود کر دیا گیا۔ اسلامی نظریات، اسلامی تعلیمات ، اسلامی ادارے جن سے اسلامی سماج اور ملی تشخص تیار ہوتا ہے اس کو عملی طور پر سماج سے الگ کر کے صرف کتابی چیز بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریا ت اور تعلیمات اور اسکے تعلیمی اداروںکی بالا دستی نے تمام پیغمبران کی امتوں کا نظریاتی راستہ روک دیا ہے، تمام پیغمبران کی امتوں کا نظریاتی ارتقا اور بقائے حیات انکے نظریات ،انکے تعلیمی نصاب ا ور طرز حیات کی سرکاری بالا دستی میں مضمر ہے ۔ اینٹی کرسچن جمہوریت میں نہیں!ہر گز نہیں!
۱۵۔جن دو قومی نظریات کی بنا پر پاکستان حاصل کیا گیا۔ان الہامی نظریا ت، اس دستور حیات،اس تعلیمی نصاب کے منافی ،متضاد مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے طریقہ کار کے تحت حکومتیں قائم اور ختم ہوتی چلی آ ر ہی ہیں۔ ملکی سیاستدان اور حکمران اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل ضابطہ حیات کی باطل تہذیب تیار کرتے جا رہے ہیں۔دینی ریاست کو کفر نگری بنا کر رکھ دیا ہے۔
۱۶۔ صاحبان اقتدار، مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کی آڑ میں ملکی خزانے اور وسائل پر شب خون مارتے چلے آرہے ہیں۔ شاہی اخراجات اور تصرفانہ زندگی سے ملی خزانہ بڑی بیدردی سے چباتے اور ہڑپ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ اور عدلیہ کو عوامی حقوق غصب کرنے، ذاتی اقتدار اورروسائل پر قبضہ قائم رکھنے کے لئے ، سیاسی سطح پر اپوزیشن کو کرش کرنے کیلئے بری طرح استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔اس طرح عدل کی ان دونوں ایجنسیوں انتظامیہ اور عدلیہ کو اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کا اصل فریضہ ادا کرنے سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے ۔مارشل لا کے چند جرنیلوں نے۱۹۵۸ کے مارشل لا سے لیکر آج تک مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کی اینٹی کرسچن جمہوریت کی ملکی سرپرستی اور بالا دستی کی آڑ میںسیاستدانوں سے مل کر انکی دنیا بھی لوٹ لی اور دین بھی۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاست ساڑھے سات ہزارجاگیر دار سرمایہ دار ٹولہ کا نصیب بن چکا ہے ۔مغربی پاکستان کے ایم این اے کی تعداد صرف اسی ،پچاسی کے قریب تھی،دس ،پندر وزیر و مشیر، دو گورنر، ایک وزیر اعظم،ایک صدر پاکستان ہوتا تھا، ملت پر انکے شاہی اخراجات کا بجٹ بھی سخت ناگوار تھا۔ افواج پاکستان کے جرنیلوں اور سیاستدانوں کی عدل کشیوں،خود غرضیوں اور اقتدار کے حصول کی بنا پر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا ، سیاستدانوںکی اقتدار کی چپقلش نے مشرقی پاکستان کو نگل لیا،ان بد نصیب نا اہل،خود غرض سیاستدانوں اور نا اپل جرنیلوں نے نوے ہزار سپاہ کو ہندوستان کا قیدی بنا دیا، مسلمانوں کی عسکری تاریخ کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ ان بد بخت اور ذمہ دار سیاستدانوں اور جرنیلوں کو کسی قسم کی سزا نہ دی گئی۔انکے حوصلے بڑھ گئے کیونکہ کوئی انکو پوچھنے والا نہیں تھا۔ اس المیہ کے بعد ان سیاستدانوں اور جرنیلوں کی ملی بھگت سے مغربی پاکستان کے چار صوبے الگ بنا دئے گئے اور ایک مرکزی حکومتی ادارہ انکے علاوہ ایک سینٹ کا ادارہ معرض وجود میں لے آئے، ان صوبوں میں بیشمار ایم پی اے، چار گورنر،چار وزیر اعلیٰ،بیشمار وزیر و مشیر،بیشمار انکے نظام حکومت کو چلانے والی افسر شاہی، انکا انتظامیہ اورعدلیہ کا عملہ ۔وفاقی حکومت کا شاہی حکومتی ٹولہ، سینٹ کے شہنشاہوں کا بادشاہ گر ٹولہ، بیشمار وزیر و مشیروزیر اعظم ، صدر پاکستان ،انکا شاہی انتظامیہ کا سرکاری عہد یداروں کا عملہ،انکا اقتدار پر قبضہ انکے لئے انکی ترقی کے اسباب بنتے چلے آرہے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی انکو راس آگئی۔ بیشمار محکمہ جات ، بیشمار اعلیٰ سرکاری عہدوں کی آسامیاں اور بیشمار سرکاری ملازمتیں،انکی اعلیٰ تنخواہیں ،سرکار ی رہائشیں،شاہی سرکاری سہولتیں،شاہی سرکاری گاڑیاں اور پٹرول کے اخراجات، تصرفانہ زندگی کا نظام حکومت ان اینٹی کرسچن جمہوریت کے اس ٹولہ کے افراد کا روز گار بن چکا ہے اوران کیلئے وقف ہو چکا ہے۔ جرنل پرویز مشرف کے سامنے پوری ملت ہاتھ جوڑے کھڑی ہے خدا را حقوق نسواںکے نام پر ہماری دینی زندگی کے حیا کے نظام کو چند اسمبلیوں کے غدارممبران کی عددی برتری سے نہ کچلو۔ملت پر،انکے نظریات پر،انکی طیب تہذیب پر رحم کرو!۔لیکن وہ اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی حکمران روشن خیال اسلام کا اکبری نظام اہل پاکستان پر مسلط کئے جا رہے ہیں۔
حقوق نسواں کے نام پر موجودہ اسمبلیوں کی تعداد سے ڈبل اور اس سے بھی ایک فیصدزیادہ کو صوبائی،وفاقی اور سینیٹ کے ممبران کی تعداد بڑھا کرملک کی معیشت اور دین کی شرم و حیا کی مقدس دیوار کو روندا اور لوٹ لیا ہے!اینٹی کرسچن جمہوریت کا کتنا ظالم اور غاصب نظام حکومت ہے کہ سولہ کروڑ عوام کو حکومتی نظام کے پنجرے میںبند کر کے ان کی نمائندگی صوبائی، وفاقی،اور سینٹ کے ممبران کے غاصب آمروں کی ملکیت بن جاتی ہے، اس سے قبل مارشل لا کے جرنیلوں اور سیاستدانوں نے پاکستان کا ایک حصہ مشرقی پاکستان اقتدار کے حصول کی نظر کر دیا۔قوم اس صدمہ سے دو چار اور خون کے آنسو بہا رہی تھی۔سیاستدان اور انکے اعلیٰ سرکاری عہدیدار مغربی پاکستان کو چار صوبوں میں تقسیم کر کے ملکی معیثت کو لوٹنے،خزانہ پر شب خون مارنے،ایم پی اے،وزیر و مشیر،وزیر اعلیٰ،گورنر اور انکے ساتھ انکے سرکاری اعلیٰ و ادنیٰ عہدیداروں کی افواج اور انکے بے پناہ اخراجات کا بجٹ تیار کرنے اور خوشیاں میں مصروف تھے۔یہ ظالم اور غاصب جو جی چاہے کرتے جائیں، جہاں عوام کا اظہار خیال جرم بن جائے،انکو بلا جواز دہشت گرد بنا دیا جائے، انکو خفیہ ایجنسیاں اٹھا کر لے جائیں، انکا قتل عام کر دیا جائے،جہاں دین محمدی ﷺ کے نفاذ کا نام لینے والے دینی علما اور انکی درسگاہوں کے معصوم،بیگناہ،بچے بچیوں ، طالبات اور طالبعلموں اور انکی اساتذہ مرد و زن کو دہشت گرد کا نام دے کر ایک عرصہ تک ٹی وی،اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے جھوٹے،بے بنیاد ،بوگس اور غیر مصدقہ الزامات سے پوری دنیا کے سامنے اسلام کے نام لیواؤں اوراسلام کے نفاذکیلئے سراٹھانے والوں اور انکے دینی جذبوں ، انکی دینی شہرت کو دہشت گرد کا نام دیکر مسخ اور رسوائے زمانہ کر دیا جائے۔ ملکی، افغانی اور انکے دینی مدارس اور مساجد کو امریکہ کے مطلوب دہشت گردوں کا ہیڈکواٹر ثابت کرنے کیلئے ملک کے تمام ابلاغ کے ادارے دنیائے عالم کو واقعات سے متضاد حقائق بتا رہے ہوں کہ لال مسجداورحفصہ کا دینی ادارہ اسلام آباد کے بین الاقوامی شہر میں دہشت گردوں کا ٹریننگ سنٹر کھلا ہوا ہے،کئی ماہ تک مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ انکی دین محمدی ﷺ کے نفاذ کی تحریک کو کچلنے کیلئے جرنیل اور سیاستدان حکمران جھوٹے الزامات اور مختلف نوعیت کا مہلک پراپیگنڈا کرتے رہے ۔اسطرح جیسے امریکہ نے عراق کو بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ایٹم اور نائٹروجن بموں کو تیار کرنے کا مجرم بنا دیا تھا ،انہوں نے اخبارات ، ٹی وی اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ لال مسجد اور حفصہ کی درسگاہ کو دہشت گردوں کا قلعہ بنا دیا، ملک کے اس قلعہ کو فتح کرنے کیلئے فوج بلا لی اور فوجی اپریشن کے احکام جاری کر دئیے۔فوجی کاروائی نو دن تک جاری رکھی، ہزاروں معصوم طالبعلموں،طالبات،بچے بچیوں اور انکے اساتذہ کرام کو جدید اسلحہ سے بڑی بے دردی سے قتل کرتے اور انکی مسخ شدہ لاشوں کو ٹھکانے لگاتے رہے ۔حیرت کن بات یہ ہے کہ ایک دہشت گرد بھی اس ادارے اور مسجد سے حکمرا نوں نے نہ قتل کیا اور نہ پکڑ سکے۔ایک طالبعلم کا کٹا ہو ا سر حکو مت کو ملا جسکو وہ بیرون ملک کے دہشت گرد کا سر کہتے رہے جو اٹک ضلع کا رہائشی نکلا اور اسکے لواحقین اسکو پہچان کر لے گئے۔یہ ایک کربلا سے بڑ ا سانحہ تھا جس میں معصوم بچے بچیوں ، طالبعلموں طالبات اور انکی اساتذہ پر مشتمل کثیر مستورات کا قتل عام کر دیا،جسکی مثال کربلا میںنہیں ملتی۔ان شہیدوںکا معصوم خون اور روحیں دین محمدیﷺ کے نفاذ کی آبیاری کیلئے ایک نئی کربلا کا منظر پیش کر گئی ہیں۔ نمرود،فرعون،یزید اور روشن خیال اسلام کے نظریات اور اسکے ضابطہ حیات کی سرکاری بالا دستی کے خلاف ایک راستہ متعین کر گئی ہیں۔جرنل پرویز مشرف انکے کور کمانڈروں اور حکومتی سیاسی جماعت مسلم لیگ ق کے تمام ایم پی اے،ایم این اے سینٹرز،وزیروں مشیروں،وزیر اعلیٰ گورنروں،وزیر اعظم کے خلاف ان معصوم ،بیگناہ بچے بچیوں کے والدین اور عوام الناس انکو دلی نفرت سے دیکھنا شروع کر چکے ہیں۔افواج پاکستا ن کی سپاہ کے افراد اورپولیس اہلکاروں پر حملے جاری کر چکے ہیں۔اس حکومت نے عوام اور افواج پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کے جرم کا ارتکاب کر دیا ہے۔افواج پاکستان تمام سیاسی جماعتوں اور عوام الناس کا اجتماعی قیمتی اور انمول اثاثہ ہیں۔قوم نے افواج پاکستان کو پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں دیا تھا ، لیکن جرنل مشرف نے مسلم لیگ ق سے منسلک ہو کر افواج پاکستان کو ق لیگ کا حصہ بنا دیا ہے۔ ملت اور فوج کو سیاسی جماعتوں میںتقسیم کر کے رکھ دیا ہے ،افواج پاکستان اور پوری قوم کیساتھ ظلم کیا ہے۔کیا مسلم لیگ نون،پاکستان پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی اور دوسری سیاسی جماعتوںسے منسلک لوگ افو اج پاکستان میں نہیں ہیں۔ اس جرنیل نے افواج پاکستان کی جمعیت کو روند کر رکھ دیا ہے،جسکے دور رس نتائج سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔
ملک میںسیاستدان اور حکمران معاشی ،معاشرتی اور دینی ضابطہ حیات کو تباہ کرنے کیلئے اس بے دین حکومتی طبقہ نے حقوق نسواں کے نام پر اپنی ۶۸ بہو بیٹیوں کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلی ممبران بنا دیا،انکو وزارتیں ، مشاورتیں انکو سیاسی جہیز میں دے دی گئیں۔عوام الناس پر ایک نسوانی اسمبلیوں،انکی ممبران، وزیر و مشیر ،ا نکی سفارتوں،ا نکی وزیر اعلیٰ ، انکی گورنر شپوں ،انکے سرکاری عملہ کا بوجھ بھی موجودہ اسمبلیو ںکے اخراجات کے بجٹ سے ایک فیصد زیادہ ہوگا۔کیا یہ روشن خیال اسلام اور حقوق نسواں کے نام پر ملکی معیثت کو ہمیشہ کیلئے سولہ کروڑ افراد پر ایک معاشی عذاب بنا نہیں دیا گیا۔ کیا یہ فیصلہ عوام سے پوچھ کر کیا گیا ہے۔کیا یہ ملکی خزانہ جرنل پرویز مشرف،اسکے کور کمانڈروں یا مسلم لیگ ق کے ہارس ٹریڈنگ سے اکٹھے کئے ہوئے ممبران کا ہے۔ کیا کسان ،مزدور،محنت کش ،ہنر مند اور عوام کا استحصال شدہ طبقہ اس اضافی معاشی بوجھ کا متحمل ہے۔ کیا یہ ملکی آئین اور دین محمدیﷺ کے خلاف روشن خیال اسلام کا نفاذ ملک و ملت پرجائز ہے! ہر گز نہیں۔یہ ملکی معیشت پر ان بد قماشوں کا دوسرا حملہ ہے۔اس جرنیل اوروزیر اعظم کے ماضی کی معلومات تو حاصل کر لو،یہ کون لوگ ہیں،انکا دین کونسا تھا،یہ کیسے حکومت تک پہنچے،یہ کن کے ایجنٹ ہیں،انکا مشن کیا ہے،ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ جاری کیسے کیا، سیاسی رشوتیں،وزارتیں ، مشاورتیں تقسیم کیسے کیں۔ تمام جماعتوں کے مجرموں اور غداروں کو حکومت میں شامل کیسے کیا، قرضے معاف کیسے کئے،کیا یہ ملی امانتوں کو معاف کرنے کے مجاز ہیں، اسمبلیوں کے مجرم ممبران کی عددی برتری کیسے قائم کی، اس عددی برتری سے دین کو بدل کر رکھ دیا،ملکی معاشیات کو اسمبلی ممبروں اور انکی اولادوںمیں تقسیم کرلیا !۔انقلاب وقت انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔کوئی پولیس مین،کوئی فوجی سپاہی،کوئی رینجر کا اہلکار اب کسی معصوم ،بیگناہ،عوام پر گولی نہیں چلائیگا۔عوام کے غیض و غضب سے بچ نکلیںتو انکی خوش قسمتی ہوگی ۔اب اگر انہوں نے ظلم کا ہاتھ اٹھایاتو یہ نہ بچیں گے،نہ انکی اولادیں بچیں گیِ نہ انکے محل،نہ انکے کارخانے،نہ انکی عیش و عشرت کی زندگی کا نام و نشان بچے گا۔ مسلمان کے روپ میں کتنے ظالم اور غاصب اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصب حکمران ہیں کہ۹۹۰۹ فیصد کسانوں، مزدوروں،محنت کشوں اور عوام الناس کے پاس پورے پاکستان میں یعنی سولہ کروڑ اہل پاکستان کی نسلوں کے پاس نہ کوئی انگلش میڈیم سکول، نہ کوئی ایچی سن کالج ،نہ کوئی یونیورسٹی اور نہ ہی کوئی ان میں سے ڈی سی،ایس پی ،جج،جرنیل کا کوئی عہدہ،نہ ہی ان کے پاس کوئی جمہوریت کے بی ڈی سسٹم کے ممبر کا عہدہ ،نہ ہی کوئی ناظم،نہ ہی کوئی ایم پی اے،نہ ہی کوئی ایم این اے،نہ ہی کوئی سنیٹر،نہ ہی کوئی وزیر ،نہ ہی کوئی مشیر،نہ ہی کوئی وزیر اعلیٰ، نہ ہی کوئی گورنر ، نہ ہی کوئی وزیر اعظم اور نہ ہی کوئی صدر پاکستان ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک اس ملک میں بنا ہے تو بتا دو۔ آج تک ۹۹۰۹ فیصد عوام الناس میں کسی ایک کو بھی پورے ملک میںسے کسی طبقہ کے کسی فرد کو کوئی چانس دیا گیا ہے تو ان غاصب سیاستدانوں ،جرنیلوں ، حکمرانوں کو اجازت ہے کہ وہ ملت کو اصل حقائق سے آگاہ کریں، ستر فیصد کسانوں،انتیس فیصد مزدورں ،محنت کشوںور عوام الناس کے پیدا کردہ وسائل ، مال و دولت اور خزانہ کو ان سرکاری عہدوں کے باطل نظام حکومت کے ذریعے ملکی بجٹ لوٹنے والے کون ہیں! سولہ کروڑ مسلمانوں کا دین اور انکی معاشیات کے رہزن کون ہیں!۔ یہی قوم کے مجرم سیاستدان اور حکمران! اب ان پر لازم ہو چکا ہے کہ وہ عوام کے جلسوں میں اپنی سیاہ کاریوںکو پیش کرنے کی مزید کوشش نہ کریں، اب حالات انکے لئے مناسب نہیں ہیں، حکمران ملت کو اپنی پارسائی اور انکے معاشی جسد کے نا حق خون کے قتل کا پہلے جواب دیں! ملک و ملت دین محمدیﷺ کا ضابطہ حیات ،اسکی تعلیمات اسکی طرز حیات کے نظام کونافذ کرنے کیلئے بیتاب منتظر کھڑی ہے!۔
۱۷۔ ملک میں اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصبانہ نظام کو مزید مضبوط سے مضبوط کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مسلم امہ کا کردار اس جمہوریت کی بھینٹ چڑھتا جا رہا ہے۔ عوام الناس اخلاقی طور پر نہایت پست اور عملی طور پر بد ترین کرپٹ نظام اور سسٹم میں پرورش پاتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ رائج الوقت کرپشن اور دین کش ماحول ملک و ملت پر نافذالعمل کر دیا گیا ہے۔ جس سے مسلم امہ کی نسلیںصداقت کے چراغوں سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔
۱۸۔ مغربی نا ن کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والے ان گنتی کے چند بدقماش حکمرانوں،چند غاصب معاشی رہزنوںنے مسلم امہ کو جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے شکنجے میں قابو کر لیا ہے۔ ملک کے پندرہ کروڑ انسانوں کو ان کے بنیادی عقیدے ،نظریات اور دین محمدیﷺکی تعلیمات سے متضاد اور متصادم تعلیمی،انتظامی، عدالتی ، معاشی، معاشرتی نظام کا سرکاری طور پر پابند بنا لیاہے۔مسلم امہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے کینسر میں مبتلا کر دی گئی ہے۔
۱۹۔ ملک کے یہ تمام سرکاری ادارے آج تک اپنی شب و روز کی بھرپور محنت سے، انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک، ملی کریکٹرکو ان جمہوریت کے سانچوںمیں ڈھالتے چلے آرہے ہیں۔ اس طرح اسلامی نظریات کو اسمبلیوں کے ذریعہ کچلتے اور اسلامی کلچر کو ختم کرتے چلے آرہے ہیں۔ ملک میں اینٹی کرسچن جمہوریت کی بالا دستی،اسکے کلچر کو تیار کرنے والا تعلیمی نصاب، تعلیمی ادارے جو اس نظام کو چلا نے کیلئے انتظامیہ عدلیہ کے دانشور تیار کرتے رہیں گے اسوقت تک فوجی مارشل لا آجائے،سیاسی مارشل لا آجائے یا سیاسی انقلاب آجائے حالات دن بدن بگڑیں گے،درست نہیں ہو سکیں گے جب تک مسلم امہ پر دین محمدیﷺ کا دستور مقدس کا نفاذ عمل میں نہیں ؒٓ؁ٓ لایا جاتا۔
۲۰۔ کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں نشر و اشاعت کے تمام ادارے اخبارات، رسائل، ریڈیو، ٹی وی ، اینٹی کرسچن جمہوریت کی افادیت کے گیت گاتے چلے آ رہے ہیں۔ ملک کے یہ تمام ذرائع ابلاغ کے ادارے جمہوریت کی مغربی تہذیب کی تربیت گاہ کے مبلغ بن چکے ہیں۔ مسلم امہ کے نظریات کا قتال کرتے چلے آرہے ہیں۔
۲۱۔ سودی معاشی نظام فرعون کا اپنا لیا گیا۔ چار قومیتی نظام یعنی برہمن، کھتری، کھشتری، شودر کا انسانیت سوز دھرم ہندو ازم سے حاصل کرکے سرکاری نظام کا حصہ بنا لیا۔یعنی ہندو ازم کے ان چار درجات کو قانونی تحفظ دے کر مسلم امہ پر مسلط کر دیا گیا۔ ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کا نظام اسکے عملی ورد کا حصہ بن چکا ہے۔ اسلام کی روح کے برعکس پاکستان کو فرعون نگر، یہود نگر اور ہنود نگر کے نظریات کا مجموعہ بنا دیا گیا ہے۔
۲۲۔ مخلوط تعلیم ، مخلوط حکومت اور مخلوط معاشرہ کے نظام سے دین کی روح کو مسخ کر دیا گیا ہے، پاکستا ن میں بسنے والی مسلم امہ کو مغرب کی طرح مخلوط معاشر ے کی فحاشی بے حیائی ،بدکاری اور زنا کاری کا ماحول سرکاری طور پر مہیا کر دیا گیا ہے۔
۲۳۔ طبقاتی تعلیم ملک میں جاری کر رکھی ہے۔ ستر فیصد کسانوں کیلئے تمام ملک میں ایک کالج یا کوئی یونیورسٹی آج تک کسی دیہات میں قائم نہیں کی۔انتیس فیصد مزدور ،محنت کش،ہنر مند اور عو ام الناس کی اولادیں اعلیٰ اداروں کے اخرا جا ت برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ملت کو جرنیل و بیٹ مین ،وزیر اعظم و اردلی ، افسر و ما تحت ، آقا اور غلام، حاکم و محکوم کے معاشی اور معاشرتی کینسر میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔
۲۴۔ انتظامیہ اور عدلیہ ان آٹھ دس ہزار جاگیرداروں، اور سرمایہ داروں،کو انگریز کے ورثہ میں ملے ہوئے اقتدار کو تحفظ فراہم کر نے کی پابند بنا دی گئی ہے اوریہ اقتدار پرست رہزن اس مسلط کردہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے منافقانہ، فاجرانہ، ظالمانہ، نظام کو قائم رکھنے کے لئے سرکاری مشینری کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کے ذریعہ ہانکتے اور استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔
۲۵۔ بڑی بد نصیبی کی با ت یہ ہے۔ کہ پاکستان میں کسی ایک سیاسی یا دینی جماعت نے بھی اینٹی کرسچن جمہوریت ،فرعونیت، مغربیت اور ہندو ازم کو مسترد نہ کیا ہے اور اس کے تحت چلنے والی حکومتوں یا انتخابات کا بائیکاٹ تک نہ کیا۔خاص کر اسلامی سیاسی جماعتوں کے دینی رہنماؤں کو کس طرح سمجھایا جائے کہ وو یزیدی نظام کی پیروی میںہمہ تن گوش اپنی آخرت اور ملت کی تباہی کے ذمہ دار بنتے جا رہے ہیں۔ ان کو کیسے باز کیا جائے۔یا اللہ تو انکی رہنمائی فرما آمین۔
۲۶۔ اے سیاستدانو،اے حکمرانو،اے جرنیلو کتنے ظلم کی بات ہے!۔ کہ تم نے ملت سے اسکا دین،اسکے نظریات،اسکے ضابطہ حیات،اسکی تعلیمات،اسکا ماحول،اسکا کلچر اسکی تہذیب ،انکا مال و متاع مارشل لا کی تیار کردہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے اقتدار کی تلوار سے روندتے چلے آرہے ہو اور ان سے الفت نبی کریمﷺ کا تمام عملی نظام حیات سرکاری طور پرالگ اور چھین رکھاہے۔
۲۷۔ اے سیاسی رہنماؤ مسلم امہ کو ہمیشہ تم یہ تصور پیش کرتے چلے آرہے ہو ۔ کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام اسلام کے شورائی نظام کے قریب ترین ہے۔ملت کو یہ بھی باور کراتے چلے آرہے ہو کہ روشن خیال اسلام مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت اور مخلوط معاشرہ سے جنم لیتا ہے۔حقوق نسواں کے نام پر مسلم معاشرے کے جنسی تقدس کو روند کر امریکی صدر کی پیروی کرنا چاہتے ہو،غریبوں کی بیٹیوں کو اچھی تنخواہوں اور شاہی سہولتوں کے عوض انکو داشتہ بنانا چاہتے ہو، لیکن یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہے کہ تم اور تمہارے ہارس ٹریڈنگ سے اکٹھے کئے ہوئے سیاسی حکمران اتنی سی بات کو سمجھ نہیں پائے۔ کہ اسلام اور کفر کی حدیں بھی بالکل اسی طرح قریب ترین ہیں۔لیکن کفر کفرہے۔ اور اسلام اسلام ہے۔
۲۸۔سیاسی اسلامی جماعتوں کے رہنما اس بات کی وضاحت فرماویں کہ ملک میں تمام دینی مدارس، مسجدیں، اور عوام صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پڑھنے اور سننے کی حد تک محدود نہیں ہوچکے ہیں۔ اور دوسری طر ف اینٹی کرسچن جمہوریت کے زیر قیادت غیر اسلامی ، انتظامی اور عدالتی، معاشی، معاشرتی ، تعلیمی، فاجرانہ ، فاسقانہ،منافقانہ باطل قوانین اور ضوابط کی تعلیمات کو ملکی سطح پررائج رکھنے، اسکی پیروی کرنے کے بعد مسلمان کہلانا کہاں تک جائز ہے! ملت کو مطلع فرماویں کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کی اطاعت کے بعد مسلم امہ کو کس نام سے پکارا جا سکتا ہے۔
۱۔کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے ، کہ کسی بد کردار،بد بخت ملت کے کردار کو سرکاری سطح پر قانون سازی کے ذریعہ تباہ اور دین کے خلاف ضابطہ حیات مسلط کرنے والے مارشل لا کے جرنیلوں اور سیاستدانوں کے خلاف دین محمدی ﷺ کی ملکی سطح پر بالا دستی کی بات نہیں کر سکتے۔
۲۔کیا افواج پاکستان ایک ایسے جرنیل اور سیاستدانوں کا نام ہے،جو حکومتی اہلیت سے نا بلد اور شراب میں دھت مشرقی پاکستان کو نگل چکا ہو۔کیا ایسی سچائی بیان کرنا اور ایسے غاصب بے دین جرنیلوں سے نجات کا راستہ بتانا افواج پاکستان کی توہین ہے یا افواج پاکستان کے انمول ادارے کا تحفظ ہے۔
۳۔کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں افسر شاہی ، منصف شاہی،جرنیل شاہی، سیاستدانوں ، حکمرانوں کیلئے کلبوں اور انکے عیش و عشرت کے میکدے آباد کرنا اور انکے لوازمات کو مہیا کرنے کی اجازت ہے۔ کیا اس طبقاتی معاشی نظام اور سسٹم کو ختم کر کے ملک سے غربت،مفلسی،تنگ دستی،بیروز گاری کو ختم کرنا اور مغرب کی طرح انسانی بنیادی حقوق ،بیروز گاری الاؤنس ،علاج معالجہ کی سہولت، کو ادا کرنا ضروری ہے۔
۴۔کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ملک میں سودی معاشی نظام جائز ہے،کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ ہندو ازم کا طبقاتی نظام حیات کلاس ون،ٹو،تھری،فور،یعنی براہمن ،کھتری،کھشتری اور شودر مسلم امہ کی نسلوں پر یہ معاشی اور معاشرتی نظام مسلط رکھنا جائز ہے ۔
۶۔کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ جرنیل اور بیٹ مین،وزیر اعظم اور گن مین،سیکر ٹری اور اردلی ، افسر و ماتحت ،برہمن اور شودر آقا اور غلام کا طبقاتی معاشی نظام مسلط کر کے ملت کے اجتماعی حقوق اعتدال و مساوات کو ایک رہزن کی طرح لوٹ لیا جائے۔
۷۔کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میںدرج ہے کہ انگریز کا تیار کیا ہوا اینٹی کرسچن جمہوریت کے عدلیہ اور انتظامیہ کا بے دین نظام حکومت پاکستان میں جاری رہیگا۔
۸۔کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ انگریز کے سسٹم کے مطابق انتظا میہ قاتلوںکو ایف آئی آر سے نکال کر بیگناہ، معصوم اور بے ضرر انسانوں کوقانون کا پھندہ انکے گلے میں ڈال کر عدلیہ کو کیس برائے سماعت بھیج دے اور عدلیہ انکے کیسوں کے مطابق۱۹۴۷ سے لیکر آج تک ایسے معصوم و بیگناہ افراد کو پھانسی پر لٹکاتی چلی جائے،جبکہ انتظامیہ ،عدلیہ اور وکلا ہر چند کہ وہ حقائق سے اچھی طرح واقف ہوں۔یہ کیسا کالا نظام ہے جسکا کوئی علاج نہیں۔
۹۔کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ سول کورٹ میں درج ہونے والے۹۰ فیصد کیس جھوٹے اور بوگس عدالتوںمیں دائر ہوتے رہیں، انکے متعلق نتظامیہ، عدلیہ، سیاستدان، حکمران اور مارشل لا کے جرنیل اچھی طرح جانتے بھی ہوں،بیگناہ اور بے ضرر انسانوں کو ان کیسوں میں ملوث کر کے انکی زندگی اجیرن،صبح سے شام تک ایک بد ترین مجرم کی طرح عدالتوں کے سامنے کھڑے رہنے کی سزا برداشت کرتے رہیں۔سو ،سوا سو کی لسٹ،پہلے عدالت کا ا ہلمد گیارے بجے تک حاضری لگائے،پھر تین چار بجے تک جج صاحب کے روبرو حاضر ہونا لازم ہو،دور دراز کے علاقوں سے عدالت تک پہنچنے کے اخراجات،وکیلوں کی فیسوں کی سزا، منشیوںکے طلبانے اور کاپیاں لینے کے اخراجات ،ریڈروں سے لمبی اور چھوٹے عرصہ کی تاریخیں لینے کی مالی سزا،دوتین کیسوں کی سماعت اور بقایا کو سالہا سال تک عدالتوں کا اس طریقہ کار اور سرکاری سسٹم کا ایندھن بنانے کی سزا،کیس کا فیصلہ ہو جائے تو نئے اپیل کے کیسوں اور اخراجات کی سزا،اسکے بعد ہائی کورٹس میں اپیلوں اور اعلیٰ وکیلوں کی فیسوں کی سزا،عمریں بیت جاتی ہیں، کیس دوسری نسلوں کو ٹرانسفر ہو جاتے ہیں۔یہ عدالتی نظام کا
ایک ایسا بیہودہ عبرتناک عدلیہ کا طریقہ کار ہے ،یہ ادارہ اپنی آفادیت کھو چکا ہے ، جج بھی بڑھتے رہتے ہیں،کیس ان سے کئی گناہ زیادہ دائر ہوتے رہتے ہیں،عوام کرپشن ، رشوت،ججوں ،اہلمدوں وکیلوں انکے عملہ کی اذیتوں کے کینسر کا شکار ہو کر دم توڑ تی جاتی ہے ۔لائق وکلا ،اعلیٰ فیس والے وکلا ،ہر روز ججوں، عدالتو ں کے قوانین کا رخ بدلتے اور نئے قوانین جنم دیتے ر ہیں،کمزور مدعی کب سرمائے دار کا مقابلہ کر سکتا ہے، ا نصاف عدالتوں کے ذریعہ بکتا ہے،کسی جھوٹے کیس دائر کرنے والے مجرم کو کوئی سزا نہیں دی جاتی،کوئی ہرجانہ یا جرمانہ تک نہیںکیا جاتا ، اگر ایسا کیا جائے تو عدلیہ ایسے جرائم اور مجرموں کا دروازہ بند کر سکتی ہیں۔ ورنہ عدالتیں،سیاسی اور مارشل لا کے حکمران ملک کے سولہ کروڑ افراد کو ایک کینسر بن کر چمٹ چکے ہیں ا ورملی مجرم بن چکے ہیں ۔ یہی عدلیہ چار مارشل لا کے جرنیلوں کو ملکی عوام کو فتح کرنے، ماشل لا نافذ کرنے اور انکی غیر آئینی حکومتوں کو تحفظ دینے کی مجرم ہے۔ یہ ایک فرسودہ اور انسانیت سوز عدلیہ کا ادارہ بن چکا ہے۔ ۶۰ سال کے طویل عرصہ میں یہ پہلے جج آئے ہیں جنہو ں نے اس برائی کا تدارک کرنے کی جرات کیساتھ مقابلہ کیا ہے اور وکلا نے ایسے جرائم کو ختم کرنے اور عدلیہ کو جرنیلوں کی گرفت سے آزاد کرانے میں بھرپور رول ادا کیا ہے۔ورنہ یہ ادارہ تو فوجی غاصبوں اور ہارس ٹریڈنگ کے مجرم سیاستدانوں اور حکمرانوں کا پرسنل سرونٹ بن کر ان کے جرائم کو تحفظ فراہم کرتا اور ملت کے حقوق کو روندتا چلا آرہا تھا،یہ نظام اورحکمران اپنا غاصبانہ دور ختم کر چکے ہیں۔
ًَ ۲۹۔ سیاستدانوںِ حکمرانوں کا یہ صریحا دین محمدیﷺ اور مسلم امہ کی نسلوں کے ساتھ زیادتی ، ظلم ، دغابازی، دھوکا اور فریب ہے۔ مسلمانوں کے نظریات کے قتال کا کھیل ایک تباہ کن سازش کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ اس طرح ملت ایک المیہ سے دو چار ہو چکی ہے۔مسلم امہ کو ان سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
۳۰۔ جمہوریت کے ضابطہ حیات کے سیاسی جماعتوںکے جاگیردار، خان بہادر ، وڈیرے،سرمایہ دار اور دینی سیاسی جماعتوں کے رہبر وں، راہنماؤ ں کے لئے اقتدار کی جنگ جیتنے کے اصول و ضوابط وہی ہیں جن پر یہ چل رہے ہیں ان کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ وہ تودین کو چھوڑ کر اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشورو ں کی بیعت کر چکے ہیں۔اور انکے دانشوروںکی سیاست کی وزارتوں کے مجاور بن چکے ہیں
۳۱۔ دین کو ملکی سطح پر رائج کرنے کا طریقہ بالکل جدا اور متضاد ہے۔ ضرورتوں، خواہشوں، اقتدار، اور حکومتوں کے طالب اس منزل کے راہی نہیں ہو سکتے۔ سومنات کی پوجا کرنے والے کلمہ حق کی ضرب کے وارث نہیں ہو سکتے۔
۳۲۔ اصحاب صفہ ،انکا دینی ادارہ جو مذہب کی تعلیمات کے حصول کا محور ہے اور یہ دینی اصحاب وہ طیب ہستیاں ہوتی ہیں جو مغربی جمہوریت کے تعلیمی اداروں یا ان کی اسمبلیوں میں نہیں پلا کرتیں۔ حق اور سچ کا پہرہ اینٹی کرسچن جمہوریت کی اکیڈمی کے فارغ البال افراد کامقدر نہیں ہوتا۔ یہ طیب فریضہ حق سچ کے عالم دین ، درویش، فقیر اور بوریا نشین ہی ادا کر سکتے ہیں۔ یہ علم انہی کے دینی اداروں میں پلتا ہے۔
۳۳۔ آزادی کے بعد ملک اینٹی کرسچن جمہوریت کے ایک فتنہ اور المیہ میں مبتلا ہو گیا۔ اور پوری ملت کو دردناک واقعات اذیتناک مصا ئب، اندوہناک اور خوفناک حالات میں مبتلا کر دیا گیا۔ ملک میں بد عملی ، بدعہدی ، اخلاق سوزی، ظلم و تشدد، لوٹ کھسوٹ، نا انصافی ، حق
تلفی، اعتدال و مساوات کو کچلنے کی اینٹی کرسچن جمہوریت کے مذہپب کی درس گاہ بنا دیا گیا ہے،مسلم امہ نفرت ،نفاق اور مغربی دانشوروں کی مغربی جمہوریت کی سیاست میںبکھر تی چلی جا رہی ہے ۔
۳۴۔ انتظامیہ اور عدلیہ کا غیر اسلامی،اینٹی کرسچن جمہوریت کا فرسودہ نظام حکومت، رشوت، سفارش، کرپشن دہشت گردی کے طریقہ کار سے منسلک ہے، ملت کو برسراقتدار طبقہ کے گھناؤنے جرائم سے واسطہ پڑچکا ہے۔ جس کا پاکستان بناتے وقت اور ہندوستان سے ہجرت کرتے وقت کوئی ایسا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس وطن میں مسلم امہ مغربی جمہوریت کی ایک نا گہانی آفات میں مبتلا اور دین محمدیﷺ کے ضابطہ حیات،تعلیمات سے دور ہو چکی ہے۔
۳۵۔نوے سال کی غلامی کے بعد مسلمانان ہند کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات اور آزادی نصیب ہوئی۔ تو ملک کا نظام انگریز کے پروردہ ان غدار غاصب ہاتھوں میں چلا گیا۔ جو اسلامی دستور ملک میں نافذ العمل کرنے کے حق میں نہ تھے۔ ان کو تو صرف معاشی وسائل اور اقتدار حاصل کرنا ہی مقصود تھا۔ وہ تو پہلے ہی اپنے ہم وطنوں کے ساتھ غداری ،ظلم ،زیادتی اور انگریزوں سے معاونت کر کے جاگیریں،وسائل اور مال ودولت حاصل کرنے جیسے جرائم کے مرتکب ہو چکے تھے۔ جس کا حساب اب تک ان کے ذمہ واجب الادا چلا آرہا ہے۔
۳۶۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ تعاون کیا۔ اور ان کی حکومت قائم کرنے میں پوری پوری معاونت کی۔ اس عظیم تعاون کے عوض ان لوگوں کو سر، خان بہادر، نواب، سردار اور دیگر خطابات سے نوازا گیا۔ اور انہی کارناموں کی وجہ سے ان کو جاگیریں، اور وظیفے عطا کئے گئے۔ انگریز کے دور میںبھی اور آج بھی انگریزوںکے اینٹی کرسچن جمہوریت کی بالا دستی سے انکو اور انکی اولادوں کو اہم حکومتی سیاسی اور سرکاری عہدے ، عیش و عشرت کی بھرپور آسائشیں اور شاہی سہولتیں میسر ہو تی چلی آرہی ہیں۔ملت آج انگریز کے زمانے سے بھی زیادہ بد ترین واقعات اور سخت ترین اینٹی کرسچن جمہوریت کے شکنجوں میں جکڑی پڑی ہے۔ اپنے نجات دہندہ عادل کی متلاشی منتظر کھڑی ہے۔
۳۷۔ ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مغلیہ خاندان کی حکومت ہندوستان سے مکمل ختم کی۔ ہندو تو پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف تھے۔ انہوں نے اس وقت انگریزوں کا پورا پورا ساتھ دیا۔ اس کے عوض انہوں نے معاشی فوائد، اور سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔ ہندوستان سے مسلمانوں کے اچھے گھرانوں کا چن چن کر خاتمہ کیا گیا۔ یہاں تک مغلیہ خاندان کے افراد اور ایسے تمام مسلمان جنہوں نے انگریزوں کا ساتھ نہ دیا۔ ان کوبڑی بے رحمی سے قتل کر تے رہےِ باقی جو بچے وہ دور دراز کے دیہاتوں کی طرف جان بچانے کے لئے بھاگ گئے اور گمنامی اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گذارنے لگے۔
۳۸۔ بہادر شاہ ظفر مغلیہ خاندان کی آخری نشانی تھے۔ انگریزوں نے اسے رنگون کی جیل میںقید کیا۔ اس کے بیٹوں کے سر کھانے کی میز پر چنے گئے۔ ان تکلیفوں اور اذیتوں نے اس کی زندگی کا چراغ گل کیا۔ وہ حالت قید میں دم توڑ گئے۔اس کی قبر رنگون میں ہے۔ خود اسی نے کبھی کہا تھا۔
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

اس وقت کے ملکی غدار جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ہندوؤں کے تعاون سے انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے قدم جما ئے۔ اور مسلمانوں کی حکومت کو ختم کیا۔ اور ایک پوری صدی تک ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔
۴۰۔ انہوں نے اس ملک پر قبضہ قائم رکھنے کے لئے مغربی دانشوروں کا اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت مسلط کیا، انتظامیہ اور عدلیہ کا جابرانہ اور ظالمانہ نظام رائج کیا۔ مسلمانوں کو سخت اذیتیں اور سزائیں دیں۔ تاکہ اتنے بڑے ملک میں ان کے خلاف کوئی بھی چوں چراں نہ کر سکے۔ انگریز ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہتا اور یہاں سے مال و دولت سمیٹ کر انگلستان لے جاتا۔ لوگ غربت وا فلاس، بے بسی و بے کسی کی عبرت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ، انگریز کے وقت میں بھی یہ غدار مال و دولت اور اقتدار سے کھیلتے تھے ، آج بھی انہوں نے ملت کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی نکیل ڈالی ہوئی ہے، ملک کا اقتدار ا ور حکومت انگریز کے پروردہ لوگوںکے ہاتھوں میں ہے ، انہی کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والی انتظامیہ اور عدلیہ کے دانشور اسی طرح اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔اس مغربی جمہوریت کے نظام حکومت اور اسکے پیروکاروں سے نجات وقت کی اہم ضرورت ہے،ورنہ مسلم امہ کے سولہ کروڑافراد اینٹی کرسچن جمہوریت کے ظلمات کے صحرا میں گم ہو جائیں گے۔
۴۱۔ ۱۹۴۷ ء میں ہندوستان کو طویل کوششوں اور قربانیوں کے بعد آزادی ملی اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ دنیا کی تاریخ میںیہ پہلی نظریاتی ریاست پاکستان کے نام پر قائم ہوئی، لیکن بد قسمتی سے ان سیاستدانوں نے ملک میں اسلامی دستور مقدس اور اسکا ضابطہ حیات نافذالعمل نہ کیا۔ ملت اینٹی کرسچن جمہوریت کی ناگہانی آفات میں بری طرح پھنستی اور مختلف اذیتوں میں مبتلا ہوتی گئی۔
۴۲۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی سیاسی بصیرت اور اعلیٰ صلاحیتوں کی انتھک کاوشوں سے یہ ملک قائم تو ہو گیا۔ لیکن ان کی صحت گرتی گئی۔ آخر ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ ء میں اس سرائے فانی کو الوداع کہہ گئے۔ ان کی وفات کے بعد ملک و ملت یتیم ہو گئے۔ اور لا وارثوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے۔وہ سلوک اس جاگیردار اور سرمایہ داراور دینی سیاسی رہنماؤں نے مل کراس مسلم امہ کے سولہ کروڑ انسانوں کے ساتھ کیا۔ اور ملک کی سیاست ،وسائل ،مال و دولت ،اقتدار اور حکومت پر قابض ہو گئے۔
۴۳۔ ان کے پاس نہ کوئی بصیرت نام کی چیز تھی نہ ہے۔ نہ ملک و ملت کی رہنمائی کے لئے اہلیت۔ انہوں نے ملک پر اپناقبضہ مستحکم رکھنے کے لئے اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کو ہی اپنا منشور بنا لیا۔ ملک پر اسلامی دستور کو دیدہ دانستہ نافذ العمل نہ ہونے دیا۔مسلم امہ دین کے نظریات اور مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کے تضاد کا شکار ہوتی گئی۔ مسلم امہ کا اجتماعی جسد ظاہر ی اور باطنی اخلاقی، روحانی بیماریوں کی زد میں آگیا۔اس بے دین جمہوریت کے نظام حکومت نے ملک میں اعتدال و مساوات کو کچل دیا۔حکمران سرکاری اور ذاتی محلوں کی تعمیرات میں گم ، عیش و عشرت اور شاہی تصرفانہ زندگی کے عذاب میںڈوبتے گئے۔ملت تنگدستی،غربت اور بیروز گاری کے ہاتھوں تنگ آکر خود سوزیاں اور خود کشیوں کر تی چلی جا رہی ہے۔
۴۴۔ انگریزوں کے مروجہ نظام کو جو انہوں نے ایک محکوم قوم کو بری طرح کچلنے کے لئے مسلط کررکھا تھا۔ اس کو اپنایا۔ ملک میں انہی کا
جمہوری نظام حکومت قائم کیا۔ اس کو اس طرح ترتیب اور ترکیب دیا تاکہ اس استحصالی طبقہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص حکومتی مشینری میں شمولیت کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔وہ اس مشن میں پوری طرح کامیاب رہے،اور ۹۹۰۹ فیصد عوام انکے قیدی، غلام اور انکے نظام حکومت کے پنجرے میںمحکوم بن کر رہ گئے۔
۴۵۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اپنے اپنے علاقوں کی نشاندہی کر لی،ِ اسی علاقے میں یہ لوگ الیکشن میں کھڑے ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ ایم پی اے اور ایم این اے کا الیکشن لڑتے ہیں۔ اور انہی میں سے کامیاب ہو کر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی اسمبلی میں پہنچتے جاتے ہیں۔ باقی اسی ٹولہ میں سے ہی سینیٹر چن لئے جاتے ہیں۔اس طرح حکومتی پنڈال تیار ہو جاتا ہے۔
۴۶۔ جو الیکشن میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ان کو یہی ممبران سینیٹر چن کر اس ایوان اعلیٰ کارکن منتخب کر لیتے ہیں۔اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاست میں صرف اور صرف یہی آٹھ دس ہزار نفوس پر مشتمل استحصالی طبقہ ملک کی سیاست کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا ہے۔ اپنے اپنے علاقوں میں اس ظالم استحصالی طبقہ کا پورا کنٹرول ہوتا ہے۔تھانے کچہریاں انکے ظلم کی داستاں رقم کئے جا رہے ہیں۔
۴۷۔ تھانے،کچہریاں، انتظامیہ، عدلیہ، ان کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ اور ان کے غنڈے ورکر الیکشنوں میں ہرقسم کی بداعمالی،ہر قسم کی کرپشن اور ہر طرح کا گھناؤنا کردار ادا کرتے ہیں۔جس کے صلہ میں وہ ان سے تھانوں، عدالتوں اور تمام دوسرے محکموں سے ہرقسم کا جائز و ناجائز کام ان کی وساطت سے لیتے رہتے ہیں ۔ اشتہاری مجرم انکے محلوںمیں پلتے رہتے اور انکے اشاروں پر گھناؤنے جرائم سر انجام دیتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ الیکشنوں کے کثیر اخراجات یہی لوگ برداشت کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے معاشی اور معاشرتی وسائل اور اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر ، ایم پی اے، ایم این اے منتخب ہو کر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی اسمبلی تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
۴۸۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدان،مارشل لا کے جرنیل اور حکمران اس نظام کیوجہ سے ایک سے ایک بڑھ کر قابل مذمت کردارادا کرتے چلے آرہے ہیں۔حکومتوں کو بدلنا یا حکمرانوں کو بدلنا کوئی عقلمندی نہیں۔ان سیا ستدانوں اور جرنیلوں کوابھی موقع میسر ہے۔کہ وہ از خود اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے بے دین نظام کو بدل کر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے دینی نظام کو نافذ کر کے ملت کو اسکی کھوئی ہوئی دینی اور دنیاوی دولت واپس لوٹا دیں۔یہ عمل ان کیلئے خسارے کا سبب نہیں بنے گا۔بلکہ اس سے انکی دنیا اور آ خرت سنور جائے گی۔ اللہ تعا لیٰ اس فریضہ کو ادا کرنے والوںکو توفیق عطا فرماویں۔آمین
اس فقیر بے نوا کی دعا ہے کہ یا اللہ ہمیں یہ دن دکھا آمین۔
بابا جی عنایت اللہ