To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پاکستان اسلامی نظریات کی بجائے مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کی تربیت گاہ بن چکا ہے۔
عنایت اللہ
۱۔ کیا ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو مانتے ہیں،کیا مسلم امہ کے فرزندان حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی الزماںمانتے ہیں، کیا ملت اسلامیہ کے پیروکار قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ کی الہا می اور مقدس کتاب مانتے ہیں۔ کیا مسلم امہ اس مقدس کتاب کو رشد و ہدایت کا مخزن تسلیم کرتی ہے ۔ کیا مسلم امہ خالق کی تمام تخلیق پر خالق کی حاکمیت کے نظریہ پر ایمان رکھتی ہے۔کیا امت رسولﷺاللہ تعالیٰ کی حاکمیت کر ترک کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلیوں کے ممبران کی حاکمیت قبول کر سکتی ہے۔کیا دین میں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
۲۔ غور سے سنیں اور پرکھیں! اگر ہم اللہ تعالیٰ کی توحید پر،اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ پر ، ان پر نازل ہونے والی کتاب پر،اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر، اسکے خالق ہونے پر اور اسکی حاکمیت پر ایمان رکھتے ہیں۔تو پھر یہ سیاستدان ،حکمران اللہ تعالیٰ کے ضابطہ حیات کو اسکی تخلیق پر ، اسکے نام پر حاصل کئے ہوئے ملک پر اس کی حاکمیت کو نافذ کرنے سے گریزاں کیوں ہیں!
۳۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کی اکیڈمی میں ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک ایک ایسا سیاسی نصاب مسلط ہے ، جس میں جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار،تاجر،رشوت خور،بد قماش،سمگلر، یا بے دین سیاسی دینی جماعتیں اس ادارے کے معزز ارکان ہیں، یہی لوگ دین محمدیﷺ کے دستور مقدس کے خلاف اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیا سی نظام حکومت کے الیکشنوں میںحصہ لیتے اور تمام ایوانوں کے ممبران منتخب ہوتے ہیں ۔ اسمبلیاں معرض وجود میں آتی ہیں۔ ان پرقابض ہو کر یہ ممبران وزارتوں، مشاورتوں، سفارتوں کی سودا بازی کرتے ہیں۔ حکومتی مشینری کے مشیر، وزیر،وزیر اعلیٰ۔ گورنر ، وزیر اعظم ، چیئرمین سینیٹ اور صدر کے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بقیہ ممبران کو الگ مختلف عہدے بانٹ دئے جاتے ہیں۔ ملک سے لے کر بین الاقوامی سطح تک ان کے شکنجے کی حکومتی گرفت نہایت مضبوط ہوتی ہے۔ ملک کے تمام وسائل اور سرکاری خزانہ ان کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔کوئی انکو پوچھ نہیں سکتا، یہ سیاہ و سفید کے کلی مالک ہوتے ہیں۔ یہ کب تک اس عبرتکدے میں من مانی کرتے رہینگے۔
۴۔ انتظامیہ اور عدلیہ کے ذریعے پندرہ کروڑ انسانوں کو قیدیوں جیسا نہیں باغیوں جیسے دردناک ، اذیت ناک سلوک سے دوچار کرکے ان کو معاشی اور معاشرتی طور پر اپاہج اور معذور بنا دیا جاتا ہے۔ ملک میں اتنی بڑی معاشی ناہمواری اور تفاوت کے جرائم کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے،کیونکہ یہ خود اسکے مجرم ہیں۔انکے خلاف کسی قسم کے جرائم کا کوئی کیس چلایا نہیں جا سکے۔یہ غاصب سیاستدان اور حکمران کیسے ایک مزدور، محنت کش اور ہنر مند سے زائد سرکاری خزانہ سے اتنی بڑی بڑی تنخواہیں اور ا ن گنت سرکاری سہولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملیں، کارخا نے ، فیکٹریاں،اندرون بیرون ممالک کاروبار انکی ملکیت بن سکتے ہیں۔کتنی بد قسمتی کی بات ہے۔کہ انکے اس ظلم اور زیادتی کے خلاف انتظامیہ اور عدالتیں انکے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ لا سکیں نہ ہی پوچھ سکیں کہ یہ دولت اور وسائل انکے پاس کہاں سے آئے ہیں۔ ملک کے تمام محکمے یا ادارے ان کے حکم کے سامنے چوں چراں نہ کر سکیں۔کیا یہ آمر ہیں،غاصب ہیں یا ملت کے خادم!ملت انکے سامنے احتجاج کا جھنڈااٹھائے کھڑی ہے کہ وہ بتائیںکہ کیا یہ دین محمدﷺ کا راستہ ہے!
۵۔ یہ کیسی مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکا ضابطہ حیات ہے کہ ظلم، زیادتی، حق تلفی، دہشت گردی، ملکی دولت پر ڈاکہ زنی،سرکاری خزانہ کی لوٹ کھسوٹ،اعتدال کشی، شاہی تصرفانہ سرکاری اخراجات، تفاوتی معاشی تقسیم، طبقاتی معاشرتی ملکی قانونی جرائم سے دولت اور ملکی وسائل لوٹنا اور پندرہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا معاشی اور معاشرتی قتا ل کر نا جمہوریت کے نظام حکومت کے ان سیاسی ممبران اور رہزن لیڈران کا حق بنتا ہے۔
۶۔ انہوں نے ہی عوام الناس کو ملک میں بے روزگاری، بھوک، افلاس، غربت کی بھٹی کا ایندھن بنایا ہوا ہے۔ سب سے پہلے ان سے انکے روزگار کے ذرائع چھین کر انکو معاشی قتل کی بھیانک چتا میں جھونک دیا جاتا ہے۔ وہ سسک سسک کر زیست کے دن کسمپرسی کی حالت میں بے یارومددگار گذارنے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں۔بیروز گاری اور تنگدستی انکا نصیب بنا دیا جاتا ہے۔
۷۔ان کی اولادوں پر سالہا سال ادنیٰ اور اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ ان کی ذاتی فیکٹریوں اور کارخانوں اور زمینوں میں مزدوروں، ہنرمندوں اور کارکنوں سے جانوروں سے بد ترین سلوک اور وحشیوں کی طرح کام لیا جاتا ہے۔ اور معاوضہ اتنا قلیل کہ زندہ رہنا ممکن نہ ہو۔ یہ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں۔ تاکہ عوام الناس روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہیں۔ اور ان خرکاروں کے خلاف کسی قسم کی آواز نہ اٹھا سکیں۔
۸۔ اس کے علاوہ بجلی، سوئی گیس، پانی، ٹیلی فون کے بل مکان کا ٹیکس ، سیلز ٹیکس، پرچیز ٹیکس، انکم ٹیکس، پل ٹیکس، روڈ ٹیکس، موٹر وے ٹیکس، چونگی ٹیکس، ضلع ٹیکس، پیدائش ٹیکس، موت ٹیکس،جوتے پر ٹیکس،کپڑے پر ٹیکس، کھانے پر ٹیکس،پینے پر ٹیکس، ہر چیز پر ٹیکس، ان بیشمار ٹیکسوں کی سرنجوں سے عوام الناس کے بدن سے معاشی خون اس طرح کھینچ لیتے ہیں۔ کہ وہ سسک سسک کر اس معاشی لاعلاج کینسر میں دم توڑ دیتے ہیں۔ اور یہ اس ملکی دولت اور وسائل سے گل چھڑے اڑاتے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتے رہتے ہیں۔انکے نظام اور سسٹم کے ظالمانہ طور طریقوں پر لب کشائی کرنے والا ملکی مجرم اور بغاوت کا ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔
ان صاحب اقتدار بدنصیبوں ، بد کرداروں، اور بد اعمالوں نے ٹیکسوں کالامتناہی عذاب مغربی ملکوں کے حکومتی طرز نظام سے اخذ کرکے پاکستان میں نافذ العمل کر رکھا ہے۔ یہ دردناک ، اذیت ناک، سنگدلی اور ستم ظریفی کی انتہا ہے۔ کہ کسی فرد یا کنبہ کا کوئی کاروبار، کفالت کا سبب، محنت مزدوری ، یا ملازمت ہو نہ ہو۔ یہ بل اور ہر قسم کے مروجہ ٹیکس کی رقوم کی ادائیگی ان کے زندہ رہنے کی بدترین سزا ہے۔ کسی بیوہ ، کسی یتیم، بوڑھے، نادار، بیمار، بے کس، ناتواں، پنشنر کو ان بلوں، یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں کسی قسم کی گنجائش، رعایت یا معافی نہیں ہے۔ ان کے تما م سرکاری محکمے خرکاروں، اور دہشت گردوں اور جلادوں کا رول ان بلوں، اور ٹیکسوں کو وصول کرنے کے لئے بروئے کار لاتے ہیں۔
۱۰۔ان عشرت کدوں میں پلنے والے فرعونوں ، بد اعمالوں کو اتنی بات کون سمجھائے ۔ کہ مغربی ممالک تو پہلے فرد اور کنبہ کو ذرائع معاش مہیا کرتے ہیں۔ ہر کس و ناکس کی آمدنی کا منصفانہ تناسب مقرر اور متعین کرتے ہیں۔ انکے سرکاری ادارے اس کے مطابق ایک جیسے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت وقت اپنے لوگوں کو روزگار مہیا نہیں کرتی۔ تو عوام کو باعزت زندہ رہنے کے لئے بنیادی ضروریات حیات کیلئے معقول الاونس اس وقت تک ادا کرتی ہے۔ جب تک ان کو روزگار مہیا نہیں ہوجاتا۔لیکن انکا کمال یہ ہے کہ یہ کسی بھی بیروز گار کوٹیکس معاف نہیں کرتے بلکہ ہر کسی سے ہر قسم کے ٹیکس وصول کرنے میںانکی افسر شاہی اور منصف شاہی قوانین کی تلوار سے تمام ٹیکس وصول کرتی ہے ورنہ غریب اور مفلس ڈیفالٹرز کو کرش کر دیتی ہے۔
۱۱۔ ان رہزنوں کا باطل ٹیکسوں کا نظام اور غاصبانہ بلوںکی وصولی کا طریقہ کار صرف اور صرف پاکستان کی سولہ کروڑ محکوم عوام الناس پرمسلط ہے۔ ان کے عشرت کدے بہت بڑے اور شان وشوکت میں انتہائی عظیم اور ان کے روز مرہ کے اخراجات بے پناہ ۔ انکی عیاشیوں کا یہ کھیل صرف کرسچن جمہوریت میں ہی کھیلا جا سکتا ہے۔ اسلام ایسے تفاوت عمل کو اور ایسی تفاوتی زندگی کے نظام کو کسی حالت میں بھی قبول نہیں کرتا۔ اسکا تدارک دین محمدی ﷺ میں ہی ہے۔
۱۲۔ملک کی سولہ کروڑ آبادی میں سے ۷۰فی صد آبادی جودیہاتوں میں رہنے والے کسانوں پر مشتمل ہے، کھیتی باڑی کے فرائض بڑی محنت اور جانفشانی سے ادا کرتے ہیں۔ ملکی پیداوار حاصل کرنے والا یہی طبقہ معاشیات کی ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔ وہ پورے ملک کو خوراک ، لباس مہیا کرنے کی بنیادی ضرورت پوری کرتا،خام مال پیدا کرتا ، اور ملک کو معاشی طاقت مہیا کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
۱۳۔ یہی طبقہ گندم، مکئی ، باجرہ، جو ، چنے، دالیں، چاول، گڑ، شکر، چینی اور ہر قسم کے پھل آم، انار، سیب ، کیلے، ناشپاتی ، مسمی ، مالٹا ، فروٹر، لیموں، انگور، لوکاٹ،خوبانی وغیرہ وغیرہ۔انکے علاوہ ہر قسم کے میوہ جات بادام، پستہ، اخروٹ،گری،سونگی،کشمش وغیرہ بھی فراہم کرتا ہے۔
۱۴۔ علاوہ ازیں ہر قسم کی سبزیاں، پیاز، لہسن، مرچ، ہلدی، کدو، ٹینڈے، بھنڈی ، کالی توری، گھیا، پیٹھا، کریلا، مٹر، ٹماٹر، آلو، گوبھی، دھنیا ، شلغم، مولی وغیرہ ۔اسکے علاوہ دودھ، گھی ،دہی، مرغی، انڈہ، پھر خوراک میں بکری، گائے، بھینس کا گوشت تک مہیا کرتا ہے۔
۱۵۔ پہننے کے لئے روئی ، اون، کپڑا مہیا کرتا چلا آ رہا ہے۔ ملک کے تمام کارخانوں اور ملوں کاخام مال ( Raw Material ) یہی ۷۰ فی صد آبادی مہیا کرتی چلی آ رہی ہے۔ ملک نے ان عظیم ایماندار محنتی جفاکش، محب وطن، کسانوں کو جنہوں نے ہر قسم کی ضرورت کا ذمہ ملک کے سولہ کروڑ انسانوں کے لئے ایمانداری اور دیانت داری سے اٹھا رکھا ہے۔ اب تک سیاست دانوں اور حکمرانوں نے انکے ساتھ کیا سلوک روا کر رکھاہے وہ کسی سے چھپا نہیں!۔اب جب یہ عظیم کسان اپنے حقوق طلب کریگا تو یہ دہشت گرد بن جائیگا۔
۱۶۔ کیا ان کا اپنے ان محسنوں کے ساتھ ان کا معاشی اور معاشرتی رویہ غاصبانہ اور تذلیل آمیز نہیں ہے۔کیا انہی سیاسی وڈیروںنے ان کو ہندو ازم کے آخری درجے کی گوت یعنی شودر نہیں بنا رکھا ہے۔ کیا اینٹی کرسچن جمہوریت کے طبقاتی تعلیمی اداروںکے معاشی سکالر ، معاشر تی دانشور ان کو دیہاتی،پینڈو اور بے وقوف کہہ کر تذلیل کرتے چلے نہیں آ رہے ۔انکی تذلیل کے مرتکب کون ہیں۔ ان کی محنت و کاوش سے تیار شدہ فصلیں ، مصنوعی کھاد، ادویات، بجلی کے بلوں اور دوسرے ٹیکسوں اورمہنگائی کے ذریعہ معاشیات کے غاصب ، عدل کش سرکاری سکالر ، سیاستدان،مارشل لا کے حکمران ان سے انکے وسائل چھینتے چلے نہیں آرہے۔کیا یہ سبھی انکے ملازم اور مجرم نہیںہیں!۔
۱۷۔ کیا حکمران اور انکے انتظامیہ اور عدلیہ کے سر کاری افسران ان کو جاہل اور غیر مہذب کہ کر انکی توہین نہیں کرتے۔ان سے انکا رویہ تذلیل آمیز نہیں چلا آ رہا۔ کیا اسلام یا مہذب اقوام ایسا عمل کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
۱۸۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم کا کچلا ہوا کسان، پاؤں سے ننگا، جسم سے ننگا، تعلیم سے محروم، دیہاتی پسماندہ زندگی گذارنے والا فطرت کا شاہکار ، جس کی مسجد، اس کے کھیت۔جسکی نماز اسکی ہمہ وقت کھیتوں میں محنت و مشقت۔جس کا رزق طیب، جو کھیتی باڑی کے نظام کا عارف، جو فصلوں کے موسم سے آشنا، جو بیجوں کی اقسام، اور خوبیوں سے واقف، جو فصلوں ، بیماریوں اور انکے علاج کا محرم۔
۱۹۔ جو باغوں، پھلوں اور جانوروں کی آفرینش کا ذمہ دار اور محافظ ، جو زمین کی تیاری، بیج کی مقدار اور وقت پر پانی دینے، جڑی بوٹیاں، تلف کرنے اور گوڈی کرنے کے فن کا بہترین فنکار۔ درخت ، پودے اور ہر قسم کے باغات لگانے اور ان سے لکڑی ، پھل، پھول حاصل کرنے کا رازداں۔یہ محنت و دیانت کا بہترین شاہکار،یہ سادگی اور شرافت کا مجسمہ،یہ ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کا پیکر۔
۲۰۔ یہ ربوبیت کا آشناء اپنے شعبے کا بہترین انجینئر، اور ڈاکٹر مگر یہ فصلوں ، درختوں ، جانوروں، پھلوں سے نہ سرکاری عہدے داروں کی طرح رشوت لیتاہے۔ نہ ظالم ،بے حس ڈاکٹروں کی طرح فیس۔نہ ان سے ٹیکس طلب کرتا ہے اور نہ ہی انکی خوراک کو چھینتا ہے،وہ صبح سے شام تک انکی آبیاری کرتا ہے،وہ بن مانگے انکے حقوق ادا کرتا ہے۔
۲۱۔ اس لئے نہ اس کے پاس رشوت کے تعفن سے تیار کئے ہوئے محل،نہ ایئر کنڈیشنڈ ،کا ریں،نہ ٹیلی فون ، نہ دفاتر ، نہ وہ ان جیسی طبقاتی تعلیم کی آفادیت سے آشنا ۔وہ پاکیزگی اور طہارت کا حسین شاہکار اور فطرت کا انوکھا راز دار ہے،جو ربوبیت کے عمل سے آشنا اور خدمت کے عمل کے انوکھے کردار کا وارث ہے۔
۲۲۔ نہ سودی معاشیات کی خدا اور رسولﷺ کے نظریات کے خلاف پی ایچ ڈی کی ڈگری۔ نہ جمہوریت کے دین کش نظام کی وکالت اور بار ایٹ لا کی کوئی ڈگری حاصل کرتا ہے ۔نہ ضمیر فروش وکیل بنتا ہے اور نہ ہی رشوت خور جج اور نہ ہی اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو کچلتا ہے۔نہ ہی پندر ہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو حصول انصاف کی تند تیز عدالتی چتا کی اذیتوں سے ہمکنار کرتا ہے ۔ نہ اسلامی ضابطہ حیات کے خلاف اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصب طرز حیات کو چلانے والی عدلیہ یا انتظامیہ کا کوئی عہدہ قبول کرتا ہے۔ نہ جھوٹی ایف آئی آر درج کرتا ہے اور نہ اس کے مطابق معصوم و بے گناہ مخلوق خدا کے خلاف سماعت کے اختیارات رکھتا ہے۔نہ انگریز کی مفتوحہ محکوم قوم کو عدالت میں جھوٹی قسمیں اٹھوانے والا کردار ادا کرتا ہے۔وہ فطرت کے نظام کی پیروی کرتا ہے،تنگ دستی اسکا لباس،وہ حیوانات،نباتات ،پندرہ کروڑ انسانوں کو بلا تمیز ہر قسم کی خوراک مہیا کرنا اسکا پاکیزہ کردار اور طیب عبادت ہوتی ہے،وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی،انسان اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا اور خالی ہاتھ واپس چلا جاتا ہے،وہ اس راز کا محرم ہوتا ہے کہ انسان صرف اس جہان رنگ و بو میںآتا اور واپس چلا جاتا ہے۔
۲۳۔ نہ سفارش،نہ رشوت،نہ کرپشن،نہ عدل کش سرکاری سہولتیں،نہ عالیشان سرکاری رہائشیں ، نہ سرکاری قیمتی گاڑیاں،نہ ڈی اے،نہ ٹی اے۔نہ تفاوتی اعتدال کش تنخواہیں۔ وہ ہر لرزش سے بچ کر زندگی گذارتا ہے۔ نہ جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے سے آشنا،نہ جھوٹے کیس دائر کرنے کاعادی ، نہ جھوٹے کیس تیار کرنے والے بے ضمیر وکیل،نہ جھوٹی گواہی دینے والے جھوٹے گواہ، نہ ہی ان کیسوں کو سننے والے کرسچن جمہوریت کے قوانین کے تعلیمی نصاب کے تعلیم یافتہ سکالر جج اور نہ ہی عدلیہ کے نظام کو چلانے والے بے دین منصف ہوتا ہے ۔
۲۴۔ ان کا تو ایک مختصر سوال ہے! کیا ہمارے حکمران ہماری عدلیہ کے۱۹۴۷ سے لیکر آج تک ان بنیادی جرائم کو دور کر سکے ہیں۔معاشی، معاشرتی مساوات اور اعتدال کو نبھانے کی ذمہ داری عدلیہ کے شعبہ کی ہوتی ہے یا کسی اور رہزن طبقہ کی۔کیا وہ آپنا فریضہ ادا کر رہی ہے۔
۲۵۔ نہ وہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے استحصالی نظریات کا پیروکارنہ طبقاتی تعلیمی اداروں کا تربیت یافتہ نہ وہ کوٹھیوں محلوں دفترو ں کی عالیشان بلڈنگوں سے وابسطہ۔ وہ گرمی ، سردی سے بے نیاز،وہ کھلے آسمان تلے اللہ میاں کے ایئر کنڈیشنوں سے قدرتی گرم و سرد فضاؤں میں زندگی بسر کرنے والا۔ محنت یوں کرتا ہے، کہ جیسے اس دنیا میں سب کچھ اس کا ہے۔ اور زندگی یوں سادہ بسر کرتا ہے۔ جیسے اگلا لمحہ موت کا ہو۔
۲۶۔جب یہ محنت کش کسان اور مزارع، نوابوں، سرداروں، جاگیرداروں کی اذیتوں ، بجلی کے بلوں، کھادوں، اور ادویات کی ادائیگیوں، مفلسی، تنگ دستی کے عذاب سے بغاوت کرکے شہروں کیطرف رجوع کرتا ہے۔ تو یہاں فیکٹریوں، ملوں، کارخا نو ں میں مزدوری کے لئے سرمایہ داروں، بے رحم مالکوں، اور خرکاروں کے شکنجے میں پھنس جاتاہے۔ وہ فیکٹریوں ، ملوں میں سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل مشقت کا کام سرانجام دیتا ہے۔ یہ تمام ملیں ، فیکٹریاں، اس کے دم سے آباد ہیں۔
۲۷۔ کسان جہاں پندرہ، سولہ کروڑ انسانوں کو خوراک ، لباس، اور فیکٹریوں کیلئے خام مال اور دیگر ضروریات مہیا کرتاہے۔ وہاں شہروں میں محنت کش،ِ مزدور ،ہنر مند،طبقہ ملوںِ،فیکٹریوں، کارخانوں میں مصنوعات تیار کر کے ملک کا زر مبادلہ کمانے اور حاصل کرنے کا بنیادی عنصر اور وسیلہ بھی ہے۔ اس کے برعکس اس کی محنت کا ہرجانہ یعنی تنخواہ اتنی قلیل کہ نہ وہ زندہ رہ سکے۔ اور نہ وہ مر سکے۔ وہ سسک سسک کر اس جابر و ظالم اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصب نظام کی اذیتوں میں دم توڑ جا تا ہے۔دیہاتوں میں جاگیرداروں، سرداروں، نوابوں، اور شہروں میں سرمایہ داروں اور تا جروں کے معاشی اور معاشرتی قتل گاہوں کی اذیتوں کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ یہ کیسے بد نصیب ،سنگدل حکمران ہو چکے ہوئے ہیں جو جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی اسکا کوئی تدارک کرتے ہیں ۔
ٌ۲۸۔ اس نظام میں سیاسی وڈیرے اینٹی کرسچن جمہوریت کی ڈگڈگی بجا کر الیکشنوں کے ذریعہ ایم پی اے ،ایم ایم اے سینٹر،وزیر و مشیر،وزیر اعلیٰ،گورنر۔وزیر اعظم،صدر پاکستان بن کر انکے پیدا کئے ہوئے ملکی وسائل،ملکی دولت اور سرکاری خزانہ پر قابض ہو جاتے ہیں۔ اور کروڑوں انسانوں کو معاشی ، معاشرتی، انتظامی اور عدالتی بھٹھیوں کا ایندھن بناتے چلے آ رہے ہیں۔ اس طرح ملت کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاست میں تقسیم کرکے الیکشن میں صرف ان سے ووٹ حاصل کرنے تک کا کام لیا جاتا ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے خلاف زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگوانے تک محدود اور مسدود رکھا جاتا ہے۔اسکے بعد اقتدار اور مال و متاع انکی ملکیت بن جاتا ہے۔
۲۹۔ یہی مغربی جمہوری طرز سیاست جب تک اس ملک میں نافذ العمل اور قائم رہے گا۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا الیکشن کا نظام اور سسٹم ملت اسلامیہ پر مسلط رہے گا تب تک یہی جاگیردار اور سرمایہ دار نسل در نسل صوبائی اسمبلی اور وفاقی اسمبلی ۱ور سینیٹ پر قابض ہوتے رہیںگے۔ مشیر، وزیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم ، چیئرمین سینیٹ، صدر، اور سفیر ملک کے اندر اور ملک کے باہر، یہی سب دندناتے پھریں گے۔
۳۰۔ اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم کی بالا دستی سے ملک کے تمام وسائل اور سرکاری خزانہ یہی بد نصیب دیمک کیطرح چاٹتے اور دینی نظریات کو روندتے رہیںگے۔ان چند غاصب سیاستدانوں اور حکمرانوں کا شاہانہ تصرفانہ زندگی کا عمل انکا مقدر اور عوام معاشرتی اور معاشی اذیتوں کے وبال میں پھنسے خود کشیاں،خود سوزیاں کرتے رہیں گے۔
۳۱۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کا سیاسی مراعات یافتہ اور عیاش طبقہ ، کبھی شرعی نظام ملک میں نافذ کرنے کے حق میں نہیں ہو سکتاکہ پندرہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو یہ سیاستدان اور دینی سیاسی جماعتیں اپنے اس سیاسی نظام اور سسٹم میں یوں گرفتار کر لیتے ہیں۔ کہ ان کے پاس ان سے بچنے کا کوئی متبادل راستہ اور شعور نہیں ہوتا۔ وہ جماعتوں کی عقیدتوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ یہ سبھی جماعتیں یک دوسرے کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے عوام کو گمراہ کرتی ہیں۔ اشتعال دلا کران سے جلوس نکالنے اور ملک میں سرکاری املاک کو توڑنے پھوڑ نے ، پولیس کی گولیاں اور ڈنڈے کھانے، مقدموں میں ملوث اور سزائیں دلوانے تک کے کام لیتے رہتے ہیں۔اسطرح نہ وہ ان سے اور نہ انکے نظام اور سسٹم سے نجات پا سکتے ہیں،اس لےئے ان سیاستدانوں یا انکی جماعتوںکو بدلنے کی بجائے اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکے طبقاتی نظام حکومت ،اسکے سودی معاشی نظام اور اسکے غاصب انتظامیہ اور عدلیہ کے نظام حکومت کو بدلنا اور دین محمدی ﷺ کا شورائی جمہوری نظام اور اسکے ضابطہ حیات ، تعلیمات،طرز حیات سے معاشی مساوات اور معاشرتی اعتدال اور عدل و انصاف کو نافذ کر کے ملک و ملت کو فلاح کے راستہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ جب یہ سیاستدان حکومت اور اقتدار حاصل کر لیتے ہیں۔ تو ان ورکروں اور عوام کاوہی حشر کرتے ہیں،جو پہلے حکمران کرچکے ہوتے ہیں۔انکی وہی داستان،وہی دیپک راگ کہ پہلی حکومت خزانہ خالی کر گئی ہے۔انکی کوٹھیاں ، انکے پیلس،انکے محلات ،انکے کارخانے، ملیں، فیکٹریاں، کاریں،انکے حاصل کئے ہوئے قرضے، انکے بنک،انکے اندرون ملک اور بیرون ممالک خفیہ اکاؤنٹ موجود، انکے یہ تمام جرائم ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کو گالیاں دیتے ہیں۔لیکن نہ حکمران ، نہ انتظامیہ اور نہ ہی عدلیہ انکی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتی ہے۔ یاد رکھو! یہ تمام ملکیتیںستر فیصد کسانوں اور انتیس فیصد مزدوروں ، محنت کشوں اور عوام الناس کی ہیں۔جو ان سے اقتدار کی نوک پر چھینی گئی ہیں۔ا ن غاصبوں کی تمام دولت اور وسائل ان سے واپس لینے کے حقوق ان کسانوں،محنت کشوں اور عوام الناس کے پاس موجود اور محفوظ ہیں،وہ کسی وقت بھی انکو عبرتناک سبق سکھا سکتے ہیں۔
۳۳۔ پھر ان حکمرانوں کو حکومت چلانے کے لئے نئے ٹیکسوں کے بوجھ مزید بڑھانے پڑتے ہیں۔ باری باری ہر آنے والی حکومت اسی ورد اور وظیفہ کو الاپنا شروع کر دیتی ہے۔یہ طبقاتی حکومتی ٹولہ نے ایسا عدل کش معاشی نظام ملک و ملت پر مسلط کر رکھا ہے جس سے وہ ملکی خزانہ سے سرکاری تصرفانہ اخراجات اور طبقا تی سرکاری مراعات اور شاہانہ سرکاری سہولتوں کے ذریعہ وہ سرکاری خزانے کو نگلتے جاتے ہیں۔جب چاہیں ملک کی ایک اسمبلی کو چار اسمبلیوں تک بڑھا لیں،جب چاہیں ۵۱ فیصد مستورات کے حقوق ادا کرنے کیلئے اپنی بہو بیٹیوں کو ایم پی اے،ایم این اے،سینیٹر،وزیر و مشیر بنا کرملی خزانہ کی لوٹ سیل لگا لیں،جب چاہیں اپنی مراعات میں اضافہ کر لیں۔ان دہشت گردوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
۳۴۔ عوام سے ٹیکس اور آئی ایم ایف اوربیرونی ممالک سے قرضے، ان کی عیاشیوں، شاہ خرچیوں اور ذاتی ملکیتوں کی چتا میں بھسم ہو جاتے ہیں۔ ملت کے خزانے کومال غنیمت سمجھ کر بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ اور لوٹنے کے عمل کو جاری رکھنے میں اب تک کامیاب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔انکی ملکیتیں لا تعداد،وہ پاکستان میں اپنا اپنا الگ پاکستان بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں،پندرہ ،سولہ کروڑ عوام مقروض ،جو قرضوں کا سود ،ادا کرنے کے پابند۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا کیسا ظالمانہ نظام حکومت ہے۔ ان کے کر دار بھیانک تعفن سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ سیاسی گدھیں ملک و ملت کی بے جان،نیم جان لاش کو جھوٹی آس، امید ، امنگوں، طفل تسلیوں، تشفیوں کی آکسیجن کے مصنوعی سانس سے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
۳۵۔ ان حقائق کی روشنی میں وہ ملک میں اسلام کیوں نافذ کریں۔ کیونکہ اس میں اس قسم کی کسی بھی انسان کے لئے ایسی مراعات اور ناانصافی کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ملت کے معاشی قاتل ہیں، وہ بھول چکے ہیں یہ سارا نظام ،یہ محفلیں، یہ سرکاری عہدے ،یہ بیوی بچے ،یہ عزیز و اقارب، یہ تمام مال و اسباب اور یہ تمام رشتے اسی جہان فانی سے ہی میسر آ ئے تھے۔ اور یہیں ان کو الواداع کہہ کر اس جہاں سے رخصت ہو نا لازم ہے۔
۳۶۔ انسان کے ساتھ اس کے اچھے اور برے اعمال قیامت تک اس کا ساتھ دیں گے۔ شاید یہ بات اینٹی کرسچن جمہوریت کے اقتدار پرست قافلے میں سے کسی کی سمجھ میں آ جائے اور اس کے نصیب کی یاوری کر جائے۔ ایسے انسان کی دنیاودین اور آخرت روشن، منور ، قا ئم و دائم رہے گی۔ملک میں سیاسی لیڈر ان اقتدار کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ملت کو جماعتوں میں تقسیم کر کے اسکی جمعیت کو ریزہ ریزہ کر رکھا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن سیاسی جماعتیں اسمبلیوں کے اندر اور باہر جوڑ توڑ کا عمل جاری رکھتی ہیں، ہر قسم کی مراعات ، لاکھوں کروڑوں کی بولیاں لگتی رہتی ہیں۔ہارس ٹریڈنگ کا عمل جاری رہتا ہے، اقتدار میں شمولیت اور وزارتیں پیش کی جاتی ہیں۔ وزارتوں اور مشاورتوںکا کوٹہ بڑھا دیا جاتا ہے، پھر اچھی اور زیادہ منفعت بخش اور رشوت والی وزارتوں کے جھگڑے علیحدہ حل کئے جاتے ہیں ۔ جمہوریت اور مارشل لا کے غاصبوں کا سرکاری پارٹی کے ممبران کے حکومتی پنڈال کی اسمبلیوں میں انکی تعداد اتنی بڑھا لی جاتی ہے کہ کوئی دوسری اپو زیشن سیاسی پارٹی انکے سامنے سر نہ اٹھا سکے۔اسی اسمبلی کے ممبران کی عددی برتری سے وہ حقوق نسواں کا بل پاس کر لیتے ہیں ،ملک کا زر مبادلہ کا تمام خزانہ اربوں ڈالر کی گاڑیوں ، پٹرول کی خریداری کر کے ماٹی میں ملا دیا جاتا ہے،جس سے ایک پائی تک بھی ملت کے کام نہیں آ سکتی ، ملت ایک معاشی المیہ میں مبتلا اورعمر بھر ان گاڑیوں کی اقساط زر مبادلہ کی شکل میں ادا کرواتی رہتی ہے،ملکی زر مبادلہ کا سرکاری خزانہ یہ عیاش لوٹتے رہتے ہیں۔ حکمران اس ڈاکہ میں برابرحصہ دار،کمیشنیں اور رشوتیں الگ ہوتی ہیں،ملکی وسائل فروخت کر دیں تو کوئی بات نہیں،سٹیل مل کو اونے پونے داموںاپنے ہمجولیوںکو فروخت کر دیںتو کوئی پوچھنے والا نہیں،انکی کمیشنیں، حصے ہر خرید و فروخت میں تو موجو ہوتے ہیں۔تمام ملک کو فروخت کر دو تو ملک خوشحال ہو جائیگا،ہر گز نہیں!۔انکا نام دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو جائیگا ۔ کسی بھی انڈسٹری کا مالک مالک ہوتا ہے اور ورکر ایک غلام،نوکر،خاد م کی حیثیت رکھتا ہے،آقا اور غلام کا عمل جاری ہو جاتا ہے،ان ایسٹ انڈیا کمپننیوں کے مالکان کی برتری ملک میں قائم ہو تی جاتی ہے۔اسی طرح جیسے یہودی نہیں ایک فرعونی طبقہ امریکہ میں ایک تاجر کی حیثیت سے داخل ہو چکاہے،اب وہ اس ملک کے آقا اور اس ملک کے عوام انکی فیکٹریوں میں ملازم،نوکر اور خادم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنکی وجہ سے امریکی عوام انکے غلام اور حکمران انکے ہاتھوں مجبور، ملک کی سیاست اور حکومتی مشینری پر انکا کنٹرول،اس طرح انہوں نے امریکہ اور دنیا میں اپنی من مانی کرنے کا عمل جاری کررکھا ہے۔امریکہ میں تباہی پھیلائی،چار جہاز ٹاوروں سے ٹکرائے،ہزاروںجانیں خاکستر کیں،افغانستان کو مجرم گردانا اور اس پر حملہ کروایا،عراق کی تلاشی لی گئی،اس پر حملہ کیا،فلسطین کی عوام کاقتال جاری کیا،یہ فرعونی تاجر دنیا کے امن کو تباہ کرنے کا باعث بن چکے ہیں۔ آگے دیکھےئے کیا بنتا ہے۔ اس طبقہ کا ہر جگہ یہی رول ہوتا ہے۔پاکستان میں بھی انہوں نے ملک کو سر عام فروخت کرنے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔انکے بھاگنے کا وقت انکے سر پر آن پہنچا ہے۔انکا خیال رکھنا ہوگا کہ وہ بھاگ نہ سکیں۔
۳۷۔جب بھی کسی حکومت کو اقتدار کے چھن جانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو حکومت قائم رکھنے کیلئے وزیروں کی تعداد بڑھا کر موئثر بلیک میلروں کو حکومت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ابھی ایم کیو ایم والوں نے حکمرانوں کو آنکھیں دکھلائیں، انکی مرضی کی وزارتیں بھی ملیں اور شاہ صاحب کو لندن میں نقد سلامی بھی دی گئی۔ تاکہ حکمرانوں کا اقتدار قائم رہے۔جتنے وزیروں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ ملکی معیشت پر اتنا ہی بوجھ بڑھتا چلا جائے گا۔ جتنے زیادہ یہ لوگ حکومت میں شامل ہوتے جائیں گے۔ اتنی ہی کرپشن، رشوت، کمیشن، ہر قسم کی لوٹ کھسوٹ، کے دروازے کھلتے جائیں گے۔ انکے اخراجات بھی عوام کو برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ عوام ٹیکسوںکی چکی میںپستے چلے جاتے ہیں ۔
۳۸۔ پندرہ سولہ کروڑ انسان اس گھناؤنے کھیل کو بے بسی ،بے کسی اور مجبوری کے عالم میں دیکھ تو سکتے ہیں ۔ مگر مداخلت کرنے کی جرات نہیں کر سکتے ۔ وہ بے بس اور بے اختیار اور جمہوریت کے نظام اور سسٹم کی زنجیروں میںمقیدہو چکے ہوتے ہیں ۔ یعنی ان کی حیثیت ایک مجبور و محبوس قیدی کی ہوتی ہے۔ ایک وزیر کے سرکاری عملے کی تعداد جو ایک وزارت کوچلانے کے لئے درکار ہوتی ہے۔
اس کی تفصیل مختصر مندرجہ ذیل ہے :۔
وزیر، پارلیمانی سیکرٹری، مشیر، ان کے پرائیویٹ سیکرٹریز
عملہ کی تفصیل

۱ سیکرٹری
۲۲ گریڈ
ُپرائیویٹ سیکرٹری
۱۸ گریڈ


۲ایڈیشنل سیکرٹری
۲۱ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۷ گریڈ


۳جوائنٹ سیکرٹری
۲۰ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۶ گریڈ


۴ڈپٹی سیکرٹری
۱۹ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۵ گریڈ


۵سیکشن آفیسر
۱۸ گریڈ
پرائیویٹ سیکرٹری
۱۴ گریڈ


۶اکاؤنٹس آفیسر
۱۸ گریڈ
پر ائیویٹ سیکرٹری
۱۲ گریڈ


۷عدلیہ کے منصف
انکے گریڈ
پوچھنے کی ضرورت
نہیں

۳۹۔ علاوہ ازیں لیگل ایڈوائزر، سپرنٹنڈٹ ، ہیڈ کلرک، اسسٹنٹ، سینئر کلرک، جونیئر کلرک، نائب قاصد، چوکیدار ، ڈرائیور، گن مین، جمعدار، مالی یعنی عملہ کی سرکاری فوج ظفر موج کے اخراجات۔ ان کے لئے اور ان کے عملہ کیلئے حسب مراتب دفاتر ،فرنیچر، ٹیلی فون، ایئر کنڈیشنڈ،گھر، پردے، قالین، بجلی، پانی، سوئی گیس، وغیرہ وغیرہ۔یہ عملہ چاروں صوبوں کے مشیروں،وزیروں، وزیر اعلیٰ، گورنروں ، وفاقی حکومت کے مشیروں،وزیروں ،وزیر اعظم،صدر پاکستان کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ان ملکی ،ملی پندرہ کروڑ مسلم امہ کے ملازموں، نوکروں اور خادموں کا معیار حیات اور انکے ستر فیصد کسانوںاور انتیس فیصد مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں،معماروں، عوام الناس پر مشتمل ملک و ملت کے مالکا ن کا معیار حیات کا موازنہ ان مغربی جمہوریت کے سیاستدانوںاور مارشل لا کے حکمرانوں سے ہی فیصلہ کروا لو، کہ اسکے بعد انکوڈاکو کہنا،غاصب کہنا،رہزن کہنا،بے دین کہنا،منافق کہنا اور ایک باطل اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کا یزیدی ٹولہ کہنا، مسلمان کہنا، انکو کو ن سے نام سے انہیں پکارا جائے یہ ملت کو خود مطلع فرماویں گے۔ملت انکے فیصلے کی منتظر ہے۔
۴۰۔ اس کے علاوہ محل نما رہائشیں،ٹیلی فون، لاتعداد گاڑیاں،بے شمار مراعات اور شاہی سہولتیں ان کو سرکاری خزانہ سے مہیا کی جاتی ہیں پھر کئی خفیہ فنڈ بھی ان کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک وزیر اور اس کے سرکاری عملہ کا بجٹ اور تمام اخراجات لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں نہیں اربوں میں گورنمنٹ کے خزانہ سے ادا ہوتے چلے آرہے ہیں۔ کیا انکو دین محمدی ﷺ کے نظام عدل کا جام پلا نا اور ان سے تمام ملکی ملکیتیں واپس لینا اہل وطن کا حق بنتا ہے یا نہیں۔
۴۱) ایک وزارت میں کئی ونگ اور شعبے ہوتے ہیں، ہرونگ اور شعبے کا انچارج ایڈیشنل سیکرٹری ہوتاہے، وزارتوں کی کمیشن اور کرپشن، حسب مراتب سرکاری ملازمین کا رائج الوقت نظام رشوت ، کرپشن اور کمیشن جو اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظا م حکومت کا حصہ ہے ،ملت اسلامیہ کے تہذیبی جسد پر ایک بہت بڑا ناسور بن چکا ہے۔ ملت کی اجتماعی معاشی حالت دگر گوں اور چند ہاتھو ں میں مقید ہو چکی ہے، جس کا مداوا صرف اور صرف شریعت محمدی ﷺ میں مضمر ہے۔عشر ذکوٰۃاور صدقات کے فنڈوںکواگر مغرب والے انکا نا م سو شل سیکورٹی فنڈ ، چیریٹی فنڈ کا نام رکھ کر اپنے ممالک میں بیروزگاروں کو بیروز گاری الاؤنس ادا کر کے بیروزگاری پر قابو پا سکتے ہیں تو مسلم امہ ان چند حکومتی غاصبوں اور انکے ہارس ٹریڈنگ کے نظام حکومت سے نجات حاصل کر کے ایسا کیوں نہیں کر سکتی۔اگر چیرٹی فنڈ سے ہسپتالوں میں طبی امداد مہیا کر سکتے ہیں تو پاکستان میں ایسا کرنا ناممکن کیوں!یہ فنڈ تو انکی طبقاتی اعلیٰ تنخواہوں،شاہی سرکاری سہولتوں،شاہی سرکاری محلوں،شاہی سرکاری رہائشوں اور انکی ڈیکوریشن پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔قیمتی زر مبادلہ سے خریدی ہوئی لا تعداد گاڑیوں ،تصرفانہ زندگی،انکی کمیشنوں،انکی رشوتوں اور لوٹ مار کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔یہ تہذیب ،یہ کلچر ،یہ جمہوریت کا نظام اور سسٹم اور اسکے غاصب حکمران اپنا دم توڑ چکے ہیں۔یہ دین محمدی ﷺ سے دوری، اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کی سرکاری بالا دستی، اعتدال ومساوات اور عدل و انصاف کے فقدان کی سزا ہے۔
فقیر مسکین کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملت کو اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصب نظام اور اسکے مقتدیوں سے نجات عطا فرماویں اور ملک میں دین محمدیﷺ کے ضابطہ حیات کی قندیلیں روشن کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔

بابا جی عنایت اللہ