To Download or Open PDF Click the link Below

 

  مغربی پاکستان پلس مشرقی پاکستان مساوی موجودہ پاکستا ن
عنایت اللہ
۱۔ پہلے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان ملک کے دو صوبے تھے۔ ہر صوبے میں دس پندرہ وزیر و مشیراور ایک گورنر ہوتا تھا۔ دونوں صوبوں کا وزیر اعظم اور صدر ایک ہوتا تھا ۔سیاستدان اقتدار کی جنگ میں ایک صوبے کے عوام کو دوسرے صوبے کے عوام کے خلاف استعمال کرتے رہے۔ حالانکہ کسی بنگالی نے کسی مغر بی پاکستانی بھائی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی یا حق تلفی کبھی نہ کی۔اسی طرح کسی مغر بی پاکستانی نے کبھی کسی مشرقی پاکستانی سے کوئی ظلم اور زیادتی نہ کی۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے پروردہ بے رحم خود غرض اقتدار پرست ،ملی مجرم سیاستدانوں کی ذاتی اقتدار اور مال و دولت کے حصول کی جنگ اور چپقلش نے ملک کو دو لخت کر دیا ۔ملت اس المیہ پر خون کے آنسو روتی اور بہاتی رہی اور آج تک بہا رہی ہے۔
۲۔ ان بد نصیب سیاستدانوں،حکمرانوںنے آپس میں اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کا ملکی اور صوبائی سطح پر فقدان پیدا کیا،ایک دوسرے کے حقوق کا پاس اور تحفظ نہ کیا،مرکز ی حکومت میںصدر پاکستان،وزیر اعظم اور وزیروںکی نسبت تناسب کو برقرار نہ رکھا۔اعلیٰ اور مؤثر وزارتوں اور کمائی والی وزارتوں کے جھگڑے بڑھتے گئے،اسمبلیوں کے اختلا فا ت اسمبلیوں میں ختم کرنے کی بجائے، انہوں نے اپنے اپنے صوبوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت و نفاق اور تعصب کی آگ ایسی جلائی۔ الیکشن ہوا۔مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن صاحب کی عوامی لیگ کامیاب ہوکر سامنے آئیں۔عوامی لیگ کا مینڈیٹ زیادہ تھا۔اسکو حکومت بنانے کا موقع نہ دیا گیا۔ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ادھر ہم ، ادھر تم کا نعرہ لگایا۔ اس سیاسی اقتدا ر کے اختلافات نے مشرقی پاکستان کے حالات بگا ڑدئیے۔ مشرقی پاکستان کی عوام کو کنٹرول کرنے کیلئے مشرقی پاکستان فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ ان صوبہ پرست سیاسی غا صبوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی ،فوج نے اس بغاوت کو کچلنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا ہندوستا ن نے مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں اور عوام کے ایما پر انکا ساتھ دیا اور پاکستانی افواج پر حملہ کر دیا۔ ہندوستان اور مشرقی پاکستان کی مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میںنوے ہزار فوج سے ہتھیار ڈلوا لئے،انکو قیدی بنا لیا۔ایک المیہ رو پذیر ہوا۔جسکے خالق اس وقت کے بد نصیب مشرقی اور مغربی پاکستان کے اقتدار پسند سیاستدان اورمارشل لا کے جرنیل حکمران تھے۔یہ المیہ مسلم امہ کی تاریخ میںایک بد ترین سیاہ دھبہ بن چکا ہے۔اس طرح ان بد قماش،اقتدار پسند سیاستدانوں اور حکمرانوں نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کو الگ الگ ملک بنا دیا ۔عوام ان ملکی رہزنوں اور ملی مجرموں کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
۳۔ مغربی پاکستان کا نام پاکستان اور مشرقی پاکستان کا نام بنگلہ دیش رکھ دیا گیا۔ اس علیحدگی پر ملت خون کے آنسو روئی۔ اور دردناک صدمہ سے گذر گئی ۔ جسکے رنج ، دکھ اور اذیت کو، الفاظ احاطہ کرنے سے آج بھی قاصر ہیں۔
۴۔ ملت اس صدمہ کی اذیت میں بری طرح مبتلا تھی۔ اس دوران ان سیاست دانوں،حکمرانوں اور انکے اعلیٰ عہدوں پر فائز افسر شاہی کے کارندوں نے ایک اور ایسا کمال کر دکھایا۔ کہ انہوں نے مغربی پاکستان کے چار اور مشرقی پاکستان بنا دیئے۔ انہوں نے اقتدار کی نوک پر ملک و ملت کی جمیعت اور وحدت کو مزیدچار صوبوں پنجاب، سرحد،بلوچستان،سندھ میں منقسم کر دیا۔
۵۔ کسی کو احساس تک نہ ہونے دیا۔ کہ اس طریقہ کار سے ملک کی معیشت پر کتنا بو جھ پڑے گا۔ اور اس کے معاشی اور معاشرتی دور رس نتائج کیا ہوں گے۔ غریب عوام،مفلس عوام، بیروز گار عوام،تنگ دست اور خوراک و لباس سے محروم عوام، خود کشیاں اور خود سوزیاں کرنے والی عوام ان چار اسمبلیوں کے ممبران وزیر وں مشیر وں،وزیر اعلیٰ،گورنر انکے سیکٹریوں، ایڈیشنل سیکٹریوں، جائنٹ سیکٹریوں،ڈپٹی سیکٹریوں، سیکشن آفیسروں اور دوسری سرکاری عملہ،انکی شاہی رہائشوں،شاہی تنخواہوں،شاہی سامان تعیش ،شاہی گاڑیوں، پٹرول اور بیشمار شاہی سرکاری سہولتوں کے اخراجات اور بجٹ کیسے مہیا کریگی۔ وہ تو صرف اقتدار حکمرانی اور ملکی وسائل،مال و دولت، اور خزانے کی بندر بانٹ پر ہر جائز و ناجائز حربہ سے اپنے ُاپنے صوبے پر اپنی گرفت مضبوط رکھ کر اسے لوٹنا چاہتے تھے۔یہ بد نصیب سیاسی حکمران ٹولہ اور انکے اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسر شاہی اور منصف شاہی کے اہلکار اپنے اپنے صوبوں پر اپنی تعداد بڑھانے اور اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس طرح سیاسی رہزنوں نے ملک و ملت کی عوام کو لوٹنے کا ایک لا متناہی جرائم پر مشتمل حکومتی نظام کا کالا قانون بنا لیا،جسکی سزا عوام، انکی نسلیں برداشت کرنے پر آج تک مجبور ہیں۔
۶۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا طرز حکومت بھی کیسا طرز حکومت ہے کہ لوٹ مار میں برابر کا حصہ نہ ملنے پر انہی سیاستدانوں نے پھر سے صوبوں کی علیحدگی کے بگل دوبارہ بجانے شروع کر دئیے ہیں۔ سرحد میں نیپ ، پونم کی شکل میں علیحدگی پسندوں نے ڈیم کا ایشو بنا کراپنے مورچے سنبھال لئے ہیں۔ سندھی پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ بلوچی سردار گیس کی دولت پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ پنجاب والے گندم، چاول اور کپاس کو اپنی ملکیت اور وجہ عناد بنائے بیٹھے ہیں۔ تمام سیاسی لیڈران لوٹ مار اور ملی جمعیت کو ختم کرنے کے اس کارخیر میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔وقت کے انتظار میں کھڑے ہیں کہ کب مشرقی پاکستان والے حا لا ت دہرائے جا سکیں۔ پھر جنرل پرو یز مشرف اور اسکے سیاسی حکمرانوںنے ان حالات پر قابو پانے کیلئے بلوچستان میں فوج کشی کا عمل جاری کر دیا ہے۔ پھر سرحد کے علاقہ میں امریکہ کے کہنے پر دہشت گردوں کے نام پر عوام سے جنگ جاری کر لی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم نے حکومت کی ایما پر بارہ مئی ۲۰۰۷ کو لاشوں کا ڈھیر لگا دیا،جسکا اظہار جنرل پرویز مشرف صاحب نے ٹی وی پر اپنی سیاسی فوقیت سے منسوب کیا ۔ پھرپاکستان کے دل اسلام آباد کی لال مسجد اور انکے دینی مدرسہ حفصہ کے معصوم،بیگناہ اخبارات کے مطابق ہزاروں طلبا اور طالبات پر اپنے ہی ملک میں فوج کشی کر کے جدید اسلحہ سے انکی لاشیں جلا اور مسخ کر کے رکھ دی ہیں۔ انکی لاشیں اور جسموں کے ا عضا ملبے سے برآمد ہوتے جا رہے ہیں۔ ا س ظلم و بربریت کی بنا پر عوام جنرل پرویز مشرف ،افواج پاکستان اور ان حکمران سیاستدانوں کو دلی نفرت اور حقارت سے دیکھ رہے ہیں۔انکی اس بد عملی اور اقتدار پسندی کیوجہ سے پولیس اہلکاروں اور افواج پاکستان کی سپاہ پر حملے اور انکا قتال شروع ہو چکا ہے۔جس کے ذمہ دارجنرل پرویز مشرف اور انکے مجرم سیاسی حکومتی رفقا ہیں۔جنہوں نے اس ایک جرنیل کی غلط پالیسیوںکی بنا پرافواج پاکستان کی عوام کے دلوں میں عظمت و عزت ختم کر دی، ملک کے اس انمول اور قیمتی سرمائے کونا قابل تلافی نقصان پہنچایا،افواج پاکستان اور عوام کو آپس میںجنگ میں الجھا دیا۔ یہ ملی مجرم بن چکے ہیں، اس وجہ سے انکی، انکے لواحقین کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔ نیک دل،محب وطن، اعلیٰ اہلیت کے وارث کور کمانڈ ر اس سانحہ سے ملک و ملت کو نجات دلا سکتے ہیں۔ عوام اور افواج پاکستان کی دوری ،نفرت ،نفاق کی آگ کو بجھا کر امن وسکون کی فضا قائم کر سکتے ہیں۔ورنہ یہ ملک خانہ جنگی کی طرف تیزی سے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ان حکومتی دہشت گردوں نے خود کش حملہ آوروں کو جنم دیدیا ہے۔
۷۔ ہر صوبہ میں مشرقی پاکستان والی فضا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مرکزی حکومت کمزور اور اپنی اہمیت اور آفادیت ضائع کئے جا رہی ہے۔ صوبوں اور مرکز میںوسائل،مال و دولت کی تفاوتی تقسیم سے کچھاؤ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ تمام صوبوں کے ایم پی اے،ایم این اے اور سینٹ کے ممبروںکی تعداد تقریبا بارہ چودہ سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ملکی بجٹ کو لوٹنے کیلئے اسمبلی ممبران کی تعداد بڑھانا، وزیروں، مشیروں کی تعداد بڑھانا،انکے ساتھ انکے سرکاری عملہ کی فوج بڑھانا اور افسر شاہی ،منصف شاہی کی فوج ظفر موج بڑھانے کیلئے ضلعوں کی تعداد بڑھانے کا گھناؤنا کھیل جاری ہے۔ انکی آفیسر اور بیٹ مین کی طبقاتی اعلیٰ تنخواہوںاور تفاوتی سرکاری مراعات میں بے پناہ اضافہ ملکی معاشیات کا کینسر بن چکا ہے، اس کرپٹ نظام میں جتنی انکی تعداد بڑھتی جائیگی اتنے ملکی ا خراجا ت، اتنی کرپشن اور انارکی کی آگ ملک میں پھیلتی جائیگی۔ خدا را،ملک و ملت کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت اور ان غاصبوں اور ظالموں سے بچا لو۔
۸۔چاروں صوبوں میں سیاستدانوں ، حکمرانوں کی شاہی رہائشیں، عالی شان دفاتر کی بلڈنگیں، قیمتی گاڑیاں، ٹیلی فون، ہیلی کاپٹر، جہاز، ملکی خزانہ،وسائل اور ہر قسم کی سرکاری سہولتیں ان کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ان کے سرکاری محل اورذاتی عشرت کدے ملک کے اندر اور بیرونی ممالک میں قائم ہیں،جو انکی معاشی لوٹ مار کے بگل بجا رہے ہیں ۔اہل وطن عوام الناس کو جاگنا ہوگا۔یہ ملک ستر فیصد کسانوں،انتیس فیصد مزدوروں،محنت کشوںہنر مندوں ، معماروں، مفلس اور بے بس مفلوک الحال عوام الناس کا ہے۔ وہ انکے اس نظام حکومت اور طبقاتی معاشی نظام کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ ملک کی تمام ملکیتیں جو انکے پاس موجود ہیںوہ اسی مغربی جمہوریت کے نظام کی پیداوار ہیں اور سب کی سانجھی ہیں۔یہ ملک چند سیاستدا نو ں، آمروں، مارشل لا کے حکمرانوں اورچند جرنیلوں کا نہیں،وہ ۹۹۰۹ فیصدکسانوں، مزدوروں، محنت کشوں،ہنر مندوں، عوام الناس اور نچلے درجے کے ملازمین، غریب سپاہ اور انکے لواحقین کا ہے۔ ملک میں دین محمدیﷺ کے معاشی عدل کو قائم کرنا ہے۔تاکہ ملک میں تصرفانہ،طبقاتی نظام حیات کا خاتمہ ہو سکے۔
۹۔یہ سیاستدان،یہ مارشل لا کے حکمران نہ یہ مزدور ہیںنہ محنت کش،نہ یہ ہنر مندوں کا کام کرتے ہیں اور نہ ہی معمار کا کام جانتے ہیں،نہ یہ بٹھوں پر اینٹ تیار کرتے ہیںِ نہ فیکٹریوں میں لوہا، نہ سیمنٹ تیار کرتے ہیں،نہ بلڈنگ کی تعمیر کا کام جانتے ہیں۔نہ یہ کسان ہیںاور نہ یہ کسی اور کام سے آشنا ہیں۔نہ انہوں نے کبھی ہاتھ سے کام کیا ہے اور نہ یہ کوئی کام کرناجانتے ہیں،وہ تو صرف جاگیردار ،سرمایہ دار، جرنیل ، اعلیٰ عہدوں پر فائز حکمران طبقہ ہے جو سولہ کروڑ اہل وطن کے فر زندان اور انکی نسلوںکے وسائل،مال و دولت،خزانہ اور اسباب پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کے ذریعے قابض ہونے کا فن جانتے ہیں اور اسکی بندر بانٹ کرتے ہیں۔تصرفانہ زندگی،عیش و عشرت کا طریقہ،پندرہ سولہ کروڑ اہل وطن کے فرزندان کی امانتوں کو نگلنے کا فن، اینٹی کرسچن جمہوریت کو ذریعہ اقتدار کے تحفظ اور عوام کو کچلنے کیلئے اعلیٰ تنخواہوں اور شاہی سہولتوں پر بھرتی کی ہوئی افسر شاہی، منصف شاہی کی سرکاری افواج جو ملک میں دین محمدی ﷺ کے نظریات،ضابطہ حیات،تعلیمات،معاشی اعتدال و مساوات کو انکے اسمبلیوں کے پاس کردہ قوانین کے مطابق کچلنے کے فرائض ادا کرتے ہیں۔سیاستدان انکی اعلیٰ سرکاری مشینری کے ارکان کب تک ایسا کرتے جائیں گے۔جمہوریت کے الیکشن اب اس ملک میںنہیں ہوسکتے۔
۱۰۔ مغربی دانشوروں کی تیار کردہ اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلیوں کے سیاسی پیغمبران جو اسمبلیوں کے ذریعہ قوانین و ضوابط تیار کرتے ہیں،انکے اعلیٰ سرکاری مشینری کے ارکان تو مسلم امہ کے سولہ کروڑافراد سے انکی اطاعت کروا نے کے فرائض کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں ، وہ تو دین کے خلاف ملک پر مسلط اینٹی کرسچن جمہوریت کا تعلیمی نصاب،سودی معاشی نظام ، جمہوریت کا ۱۸۵۷کا ایکٹ،اسکے ضابطے ،اسکے قوانین،اسکا ٹیکس کلچر،اسکی مخلوط تعلیم،اسکا طبقاتی معاشرہ،اسکا طبقاتی معاشی کلچر،اسکا انتظامی کلچر ،اسکا انتظامیہ اور تھانوں میں حکومتی اثرو رسوخ،سفارش،رشوت کا کلچر ،مجرم ہر جرم سے مبرا اور بیگناہ انسانوں کا پھانسی کے پھندوں پر لٹکنے کا کلچر،اس پر طرہ یہ کہ کرسچن جمہوریت کی عدلیہ ان حقائق کی آشنائی کے باوجود آنکھوں،کانوں، دل و دماغ سے معذور،وہ ایف آئی آر کی روشنی میں حکومتی پالیسیوں کے مطابق کیس نپٹانے کے پابند، وہ بھی حکومتی اثر و رسوخ ، سفارش ، رشوت کے کلچر کے قانونی پابند ۔ سولہ کروڑ اہل وطن کے فرزندان میں سے کوئی بھی فرد انکے نظام اور سسٹم کو توڑنے کی سکت نہیں رکھتا۔ انتظامیہ اور عدلیہ کے افسران کی کیا مجال کہ وہ انکے احکام کی حکم عدولی کر سکیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان حالا ت اور اس مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم کی سرکاری اطاعت کے بعد کوئی فرد یہ کلیم کر سکے کہ پاکستان ایک آزاد اسلامی نظریاتی ریاست ہے تو اس سے بڑا سچ اس دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔جب ملت کے فرزندان اینٹی کرسچن جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کی تقلید میں انگریزی زبان کی نرسری سے پی ایچ ڈی تک کی تعلیمات، اسی کاسودی معاشی نظام اور اسکی تعلیمات کے سکالر،انگریز کا مسلط کیا ہوا۱۸۵۷ کا ایکٹ اور اسکی روشنی میںانتظامیہ اور عدلیہ کی قانون سازی ، اسی کیمطابق تعلیمی نصاب کے بار ایٹ لا کے انتظامی اور قانونی دانشور،مخلوط تعلیمی نظام کے مادر پدر آزاد جنسی آزادی کے شاہکار ارکان،طبقاتی تعلیمی اداروں کے برہمن اور شودر حاکم اور محکوم،آقااور غلام کی تہذیب پر مشتمل معاشرے کی بنیاد قائم ہو۔ اے اسلامی جماعتوں کے رہنماؤ اپنے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملکر اس مسئلہ کی عقدہ کشائی تو فرماؤ! جب ہم نے سرکاری اطاعت کرسچن جمہور یت کے ان بالا ضابطوں کی کرنی ہے تو اسکے بعد مسلم امہ کا دین کیساتھ کیا تعلق رہ جاتا ہے! جب دامن دین ہی ہاتھ میںنہیں تو اسلام کیسا اور مسلم امہ کیسی!کیا تم سب مل کر حضور نبی کریم ﷺ کی امت کو مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کے مذہب میں کنورٹ کئے نہیں جا رہے!اے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تہذیب اور کلچر کے قاتلو بات کو سمجھو! وقت ہے کہ ملک میں دین محمدیﷺ کا نفاذ کرو اور ملت اسلامیہ کو دین کی منزل پر گامزن کرو! گو، یہ بیماری اتنی پرانی ہے جتنا یزید ،علاج آج بھی تازہ اور موجود ہے جتنے قافلہ کربلا کے سفیر حضرت امام حسین عالی مقام ، اللہ تعالیٰ ہمیں انکے مشن کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرماویں ۔ آمین
۱۱۔کسی بھی ملک میں معاشی عد ل، معاشی اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف قا ئم نہ ہو تو اس ملک کی ننانوے فیصد معاشرتی برائیاں اس معاشی بد عملی سے جنم لیتی ہیں، ملک،حکمران اور عوام الناس ابتری کا شکار اور ملک فساد کے کینسر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔معاشرہ خود کار نظام کے تحت اخلاقی برائیوں ،چوری، ڈاکہ، قتل و غارت، رشوت، کرپشن، لوٹ مار،ظلم و جبر، فتنہ فساد اور تباہی کی منزل کی طرف چل پڑتا ہے۔ کرسچن جمہوریت کے معاشی ضابطہ اور معاشی ڈھانچہ کی طرف ایک نظر تو کر دیکھو! پاکستان چندجاگیرداروں،سرمایہ دار و ں ، بلیکیوں، سمگلروں،نارکاٹکس،زمین مافیہ،ان پر مشتمل سیاستدانوںاور مارشل لاکے حکمرانوں کی ملکیت بن چکا ہے۔انہوںنے ملکی دولت، وسائل، خزانہ اور ملکی اقتدار پر انگریز وں کے تیار کئے ہوئے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام ،سسٹم اور قوانین کی تقلید سے ملک و ملت پر مغربی جمہوریت کی حکمرانی جاری کر رکھی ہے جو انہوں نے ایک مفتوحہ ملک کی عوام کومحکوم رکھنے، انکی دولت ،وسائل اورخزانہ چھیننے کیلئے ایسے قوانین مسلط کر رکھے تھے۔اسی نظام و سسٹم کو چلانے کیلئے انکی طبقاتی اکیڈمیوں اور اعلیٰ طبقاتی تعلیمی اداروں کی اعلیٰ قسم کے انتظا میہ اور عدلیہ کے ارکان کی سرکاری شاہی افواج تیارہوتی رہتی ہے، جنکو وہ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اعلیٰ طبقاتی سرکاری مقام اور عہدوں سے نوازتے ہیں، اعلیٰ تنخواہیں ،بیشمار شاہی سہولتیں اور لا متناہی اختیارات دیکر عوام الناس کے حقوق کو کچلنے کا سنگین کام انکے سپرد کردیتے ہیں،اس طرح طبقاتی معاشی اور معاشرتی نظام کی زنجیروں میں سولہ کروڑ عوام کو محبوس و مجبور اور مقید کئے ہوئے ہیں۔ملک کا ہر جرم معاشی اور معاشرتی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔
۱۲۔ انہی کے زیر سایہ ان آمروں کے ایم این اے ہاؤس، اسمبلی ہاؤس، کنونشن سنٹر، سپریم کورٹ ہاؤس، پریذیڈنسی اور وزیر اعظم ہاؤس ، اسلامی تہذیب و تمدن اور تعلیم کے منافی ہی نہیں بلکہ نمرود، شداد اور فرعون کو شرمندہ کرتے ہیں۔ و ہ تو ان کی عظمت کو جھک کر سلام کرتے ہیں۔ یہ بلڈنگیں، یہ عالی شان محل، یہ گھوڑدوڑ میدان ان بدنصیب دہشتگرد سیاستدانوں بدکردار آمروں، بدقماش،عدل کش مغربی جمہوریت کے حکمرانو ں پر دن رات لعنت بھیجتے ہیں۔ دوسری طرف ستر فیصد کسانوں اور انتیس فیصد مزدو رو ں ، محنت کشوں ،ہنر مندوںاور عوام الناس کو ان چندغا صبوں نے معاشی طور پر کرش کر کے رکھ دیا ہوا ہے۔انکو بد ترین شودر،بد ترین قیدی اور بد ترین محکومی کی زندگی میں جکڑ رکھاہے۔نہ انکو ملیں،فیکٹریاں ،کارخانے لگانے کیلئے قرضوں کا اجرا، نہ انکی کوئی معافی۔حالانکہ ملی خزانہ انکی ملکیت ہے۔نہ کوئی انکی تنخواہ نہ کوئی بے روز گاری الاؤنس،نہ انکے بچوں کیلئے کوئی انگلش میڈیم سکول نہ کالج۔نہ کوئی یونیورسٹی نہ کوئی اعلیٰ اکیڈمی،نہ کوئی انکی بیماری کیلئے دوا نہ کوئی ہسپتال۔انکے حقوق سلب کر کے انکو مفلسی ،غربت،تنگدستی اور بیروز گاری کی چتا میں ڈھکیلتے چلے آرہے ہیں۔ ا ب یہ زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں انکا زوال اینٹی کرسچن جمہوریت کے اقتدار کے ایوانوں اور ذاتی محلوں پر دستک دے رہا ہے۔دین محمدیﷺ اور اسکے ضابطہ حیات کا نفاذ ملت کا مقدر بن چکا ہے۔
۱۳۔ اس عدل کش اینٹی کرسچن جمہوریت کے رائج الوقت طرز حیات اور استحصالی ضابطہ حیات کے جرائم پر مشتمل حقائق کی روشنی میں مسلمانی کا دعویٰ کرنا اسلام کی روح کے ساتھ زیادتی ہی نہیں بلکہ اسلام اور اسلامی مملکت کے وسنیکوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔اس نظام نے ان سے انکی معاشی طاقت چھین لی ہے اور دین لوٹ لیا ہے، ملک ٹوٹ گیا،لیکن اتنے بڑے سانحہ اور اتنے بڑے المیہ سے گذرنے کے بعد بھی یہ سیاسی رہزن اپنی حرکات و سکنات سے باز نہیں آئے۔انہوں نے ملک کو ہر قسم کے جرائم کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے شکنجے سے عوام الناس کے معاشی حقوق سلب کر لئے ہیں۔اس نظام کا انجام انکا مقدر بن چکا ہے۔خبردار! اب ملک میں ان میں سے کسی نے بھی اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں کا نام لیا۔ ملک و ملت کو دین محمدی ﷺ کے نظام کی بالا دستی اور اس نظام کو چلانے والی صالح قیادت درکار ہے۔ تا کہ ملک میں اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف قائم کیا جا سکے۔
۱۴۔ یہ کیسا اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام حیات ہے کہ کروڑوں عوام الناس کو ایک طرف تو بجلی، گیس، پانی کے بل، مکان کے ٹیکس ، بینکوں ًًکے قرضوں کی اقساط ، وقت پر جمع نہ کروا نے کی سزائیں اتنی سخت کہ محکمے فوری کاروائی عمل میں لے آتے ہیں۔بجلی ،پانی،گیس بند اور کنکشن منقطع کر دیئے جاتے ہیں۔انکی بحالی کا نظام اس سے بھی بد تر اور اسکی اذیتیں اور بھیانک۔ہر سیٹ پر فرعون بیٹھا ہوا ہے۔ایسے ڈیفا لٹروں کی جائیدادیں ضبط کرکے رقوم سرکاری خزانوں میں جمع کرادی جاتی ہیں۔ دوسری طرف ان اعلیٰ برسراقتدار ممبروں، نمائندوں اور بڑے بڑے کارخانوں کے مالکوں، فیکٹریوں ، ملوں، ٹیوب ویلوں، اور گھروں کے لاکھوں روپوں کے بل، انہیں محکموں کے تعاون سے بجلی، گیس اور ٹیکس چوری کرکے ہر ماہ ہضم کر لئے جاتے ہیں۔یہ ملکی قوانین سے بالا قوانین رائج الوقت ہیں، ان چوروں کی چوری کے ثبوت اور گواہی انکی جائیدادیں چیخ چیخ کر دیتی ہیں ۔ اور ان کے جرائم کی واضح نشان دہی کر رہی ہیں۔ چور اور چوکیدار مل کر چوری کرتے ہیں۔ اور اس کے تمام نشانات جرم کے ساتھ ہی مٹا دیتے ہیں۔ ان کے اور انکے عملے کے ساتھ اگر کوئی سرکاری ملازم ان کی اس بدعملی کے تعاون میں رکاوٹ بنے۔تو ان کو ملازمتی پریشانیوں اور اذیتوں میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔انکی ملازمتیں ،پینشنیں ختم کر دی جاتی ہیں۔
۱۵۔ دوسری طرف غریب عوام کے گھروں پرمارشل لا کے سپاہی اور میٹر ریڈر یونٹ چیک کرنے والے آلات سے میٹر چیک کرتے اور اگر کوئی بجلی کے میٹرکی خرابی یا کسی اور معمولی سے جرم کا مرتکب پایا جاتا ہے۔ تو اس کے خلاف فور ی طور پر مقدمہ درج اور بقایا جات جمع کروا لئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اخباروں میں بھی ان مجرموں کو مشتہر کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ عوام الناس ان ادائیگیوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کر سکیں اور نہ چوں چراں کر سکیں۔ دوسری طرف ملک کے سیاسی لٹیروں،ڈاکوؤں ،قرضہ خوروں اور مختلف نوعیت کے مجرموںکو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ تمام واجبات معاف اور حکومت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔کوئی محتسب،کوئی جج ،کوئی انتظامیہ یاعدلیہ کا کوئی اعلیٰ عہدیدار انکے احکام کے خلاف کوئی کام کر نہیں سکتا۔تمام سرکاری ملازمین اور عوام مارشل لا کے جرنیل کے قیدی بن جاتے ہیں۔لب کشائی کرنے والوں کو انکی ایجنسیاں اور مختلف اداروں کے افراد اٹھا کر لے جاتے ہیںانکا کوئی اتہ پتہ نہیںچلتا۔ سول سروس کے تمام اعلیٰ عہدوں پر فوج کے تمام میجر،کرنل،برگیڈئیر اور جرنیلوں کی تقرریاں ہو جاتی ہیں اور ملک انکا محکوم بن کر رہ جاتا ہے۔ملک میں چار مارشل لا لگ چکے ہیں۔آدھا ملک ختم ہو چکا ہے۔لیکن ان مجرموں کو کبھی کسی عدالت نے کوئی سزا نہیں دی۔
۱۶۔ اس کے برعکس بڑے بڑوں کیلئے ان بڑے بڑے جرائم میں ملوث پائے جانے کے بعد بھی احتساب کمیشن کی کیمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ تاکہ وہ ان کے خلاف انکوائری کرکے اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کریں۔ اور اس کے بعد ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ایسے احکام عوام کو وقتی طور پر بیوقوف بنانے اور دھوکہ دینے کے مترادف ہوتے ہیں۔
۱۷۔ عدل و انصاف میں اتنا بڑا تضاد ، نا انصافی کی ایک بدترین مثال میں اضافہ ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ایسی کیمیٹیاں اور احتساب کمیشن اور عدالتیں ان کو ثبوت نہ مہیا کرنے کی بنا پران جرائم سے بری قرار دیتی چلی آ رہی ہیں۔رشوت لینے والے رشوت دیکر ایماندار ی کی سند حاصل کر لیتے ہیں۔ زمین مافیہ کے ہیرو،اکثر ہاؤسنگ سکیمیں اخبارت کے ذریعہ مشتہر کرتے رہتے ہیں، کوئی متعلقہ سرکاری محکمہ انکے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کرتا، حکمران انکو کھلی چھٹی دئیے رکھتے ہیں، وہ عوام سے انکی پونجی لوٹتے رہتے ہیں،آخر میں سرکاری محکموں سے اعتراضات لگوا کر کیس عدالتوں میں لے جاتے ہیں ، عدالتیں اور احتساب کمیشن زمین مافیہ سے مل کر عوام الناس کی اربوںکھربوں کی رقمیں آپس میںمل کر ہضم کرنے کا رول ادا کرتے رہتے ہیں۔ مجرم اور انکے لواحقین اندرون اور بیرون ممالک عشرت کدوں میں زندگی بسر کرتے رہتے ہیں،اس تمام کھیل میں ملک کے حکمران شامل ہوتے ہیں۔کئی کواپریٹو کیسوں کے ذریعہ عوام الناس کی دولت ہضم کر چکے ہیں ، آج بھی اقتدار انکی وراثت ہے۔انکی تمام جائدادیں انہی جرائم کی پیداوار ہیںجو عوام الناس کی ملکیت ہیں ۔
۱۸۔ اصل میں یہ تمام نظام اور سسٹم عوام الناس سے انکے وسائل اور دولت لوٹنے اور اپنے ناپسندیدہ لوگوں اور مخالف عنصر کو اپنے راستہ سے ہٹانے اور نشانہ بنانے اور ملکی وسائل لوٹنے اور اپنی حاکمیت مسلط کرنے کیلئے نافذ کئے جاتے ہیں ۔ ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک یہ لوٹ کھسوٹ کی پالیسیاں ملک میں رائج ہیں ۔ انتظامیہ، عدلیہ کے ارکان ایسے کیسوں میں ا ن حکمرانوںکے احکام کے سامنے بے بس اور مجبور بن کر رہ جاتے ہیں۔ ورنہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو کان سے پکڑ کر عدالت سے باہر پھینک دیا جاتا ہے،کون عیش و عشرت اور حکمرانی کی زندگی بھی چھوڑے اور تا حیات مقدمات کا سامنا بھی کرے۔ مالی بدنی اذیتیں بھی برداشت کرے اور معاشرے میں اپنا جینا بھی دشوار کر لے مغربی جمہوریت کے اس نظام اور سسٹم کو ختم کرنا ان غاصبوں کی موت ہے۔
۱۹۔ یہ جمہوری نظام ان سیاست دانوں کو مکمل تحفظ مہیا کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ اصل میں یہ نظام انہی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں ، مارشل لا کے جرنیلوں، بلیکیوں،سمگلروں نے اپنے تحفظ اور اقتدار کوقائم رکھنے کے لئے ملک میں نافذ کر رکھا ہے۔ کوئی آدمی انکے سامنے چوں چراں تک نہیں کر سکتا۔
۲۰۔ سولہ کروڑ کی آبادی میں صرف یہی سات آٹھ ہزار جاگیردار، سرمایہ دار ، مارشل لا کے جرنیل، بلیکےئے اور سمگلر، ہارس ٹر یڈر ز اور رہزن ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک مغربی جمہوریت کی اس سیاسی یونیورسٹی کے مخصوص نصاب کی ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری عوام سے بذریعہ الیکشن حاصل کرکے ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی ایم پی اے، ایم این اے، اور سینیٹر کے الیکشن اپنے اپنے مخصوص علاقو ں میں لڑتے ہیں۔ جو ان میں زیادہ معاشی اور معاشرتی طاقت کے وارث ہوتے ہیں۔ جن کے پاس مضبوط افرادی قوت ہوتی ہے۔جو جدید دور کے تھانوں اور کچہریوں کے تقاضوں کوپورا کرتے ہیں اور اثر ورسوخ کے مالک ہوتے ہیں۔ فوجی حکومت کی آ شیر باد کو حاصل کر پاتے ہیں۔ وہی سیاسی جماعت، وہی معاشی اور معاشرتی دہشت گرد ان بارہ،چودہ سو صاحب اقتدار اور اپوزیشن کے ممبران کی حیثیت سے کامیاب ہو کر اقتدار اعلیٰ کی ان سیٹوں پر قابض اور فائز ہو جاتے ہیں۔
۲۱۔ اس سیاسی یونیورسٹی کے زیر تربیت یہ ممبران ، جہالت، ظلم، تشدد، بے رحمی، بد کرداری، بد قماشی،بے حیائی، لوٹ کھسوٹ ، حق تلفی، سنگدلی ، درندگی، ناانصا فی ، عدل کشی، ہارس ٹریڈنگ، کمیشن، رشوت، سمگلنگ، غرضیکہ ہر قسم کے سیکنڈلوںکے رائج الوقت نصاب سے خوب فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
۲۲۔ یہ سیاستدان مارشل لا کے جرنیل کی مرضی سے ا لیکشن اور سیلیکشن کے مخصوص طریقہ کار سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہر قسم کی اجارہ داری کی وجہ سے تمام انتظامیہ ، عدلیہ ان کے مکمل زیر اثر ہوتی ہے۔ سرکاری عہدیداروںکی حثیت ایک محکوم سی ہوتی
ہے۔ انکے اشاروں پر ناچنا انکی مجبوری بن جاتی ہے۔وہ انکے ہر جائز نا جائز کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔عوام الناس جو انکے ووٹر ہوتے ہیں بالکل بے جان، بے بس اور مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔
۲۳۔ اینٹی کرسچن جمہوریت ،اسکا نظام اور سسٹم ملک کا المیہ بن کرایک جان لیوا کینسر کی طرح سولہ کروڑ عوام کو چمٹ چکا ہے۔ بنکوں کے ملازمین ان کو بینکوں سے کم ریٹ پرقرضے جاری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ملوں، کارخانوں، فیکٹریوں کے اجازت نامے، ان کے حسب خواہش احکام یا منظوری دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کر سکتے۔یہ تمام جرائم حکومتی سطح پرمسلط ہیں۔
۲۴۔ ملک کے اندر اور باہر ہر قسم کے ٹھیکہ جات اور سپلائی پر پورا پورا کنٹرول اور حسب منشا ریٹوں پر کام لینا اور دینا ان کے روزمرہ جرائم کا حصہ ہیں۔اس کے علاوہ ، وہ جب اور جس وقت ان کا جی چاہے۔ یہ قرضے ایک دوسرے کو لاکھوں، کروڑوں ،اربوںمیں بطور سیاسی رشوت معاف کر دیں،انکے نزدیک کوئی بات نہیں۔اس طرح یہ سیاسی وابستگیاں خریدتے رہتے ہیں۔
۲۵۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک جتنی لوٹ مار ملکی وسائل ، سرکاری خزانہ، سرکاری خرید و فروخت میں کمیشنیں، رشوتیں، جائیدادیں، ملیں، فیکٹریاں، کارخا نے، بوگس کمپنیاں، بینکوں سے قرضے اور رقمیں ہضم، بینکوںکے نام و نشان ختم، تاج کمپنی کا فراڈ، کواپریٹو کے قرضے، بلیک منی کا غسل، ہارس ٹریڈنگ کا کھیل یہ سب بداعمالیاں،مارشل لا اورمغربی جمہوریت کی پیداوار ہیں، ان کی سیاسی زندگی کا حصہ ہیں۔
۲۶۔ قانون ساز اسمبلیاں ان کی ،قانون د ان انکے، عدالتیں ان کی تابع فرمان ، انتظامیہ ان کے حکم کی پابند، کسی کی کیا مجال کہ ان کے کسی کام میں کوئی عنصر رکاوٹ بن سکے۔ انہوں نے ملازمتیں نہیں کرنی۔انکو معطل کرنا،انکو ملازمت سے فارغ کرنا،انکو کیسوں میںملوث کرنا،انکو بیروزگاری میں مبتلا کرنا،انکو خائف رکھنا۔ کسی کی زبان کھینچ لینے سے کم نہیں۔وہ کیوں عیش و عشرت کی زندگی بھی ترک کریں اور اذیتیں بھی برداشت کریں۔
۱لف ۔یہی اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدان اور مارشل لا کے حکمران تو ہر قسم کے جرم سے پاک اور معصوم لو گ ہوتے ہیں شاہ جی باہر ۔بی بی باہر،بابو باہر اور بقایا کی ملیں ، فیکٹر یا ں ، کارخانے باہر ، کاروبار باہر،بنکوں کے اکاؤنٹ باہر،یہ سیاستدان ،یہ حکمران انسانی شکل میںکونسی نسل ،عقیدہ اور نظریات سے تعلق رکھتے ہیں۔
ب۔ قوم کے لیڈران باہر ،ملک میں مارشل لا کے زیر سایہ اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ خرید کئے ہوئے سیاسی حکمران اور انکی اپوزیشن جماعتیں اسی طرح ملک کی عوام کو مغربی جمہوریت کی گن پوائنٹ پر زنجیروں میںجکڑے کھڑے ہیں۔
پ۔روشن خیال اسلام کے وارثوں نے دین محمدیﷺ کے نظام کو حقوق نسواں کے نام پر ر وند کر رکھ دیا ہے، مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت کے زیر سا یہ ۶۸ ایم این اے پر مشتمل انکی ہی مستورات کو حقوق نسواں کے حقوق ادا کر دئیے گئے ہیں،کسی کسان کسی مزدور کی ان میں ایک بیٹی نہیں۔
ت۔ ملک کی خوشحالی کی خاطر ملکی ملکیتوں کو اونے پونے داموں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ سٹیل مل کی دوبارہ بولی لگنے والی ہے۔ملک کو ٹھیکے پر دیا جا رہا ہے۔ ملک خودکفیل ہو رہا ہے۔یہ ملی رہزن کوئی نیا گل کھلانے والے ہیں۔

ث ۔اہل وطن ذرا سوچو تو!۔یہ سیاستدان،یہ اپنی اپنی جماعتوں کے غدار،یہ ہارس ٹریڈنگ کی پیداوار،یہ حاکم وقت حکمران مارشل لا کی چھتری تلے ملکی ترقی کی خاطر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو اربوں کھربوں کی قیمتی گاڑیوں اور پٹرول کی خریداری کی چتا میںراکھ بنا ئے جا رہے ہیں۔ان خرید و فروخت میں بھاری رقمیں بطور کمیشن انکی، اس کاروبار میںحصہ داری انکی،ایجنسیاں انکی،سوکس بنکوں میں تمام کالا دھن پہنچانے کا کنٹرول ان کا،ہے کوئی انکو پوچھنے والا کہ ملی زر مبادلہ کی دولت کو مٹی میں کیوںملا رہے ہو!۔ترقی تو وہ ملک کریںگے جو پانچ من لوہے کو پندرہ لاکھ کا بیچیں گے۔ا سی طرح ا سکے علاوہ پٹرول کی خرید سے بھی ہر روز بیشمار زر مبادلہ کو جلاتے جائیں ۔ملک میں کرپٹ مافیہ اتنی گاڑیاں سڑکوں پر لے آئے ، عوام کا پیدل چلنا دشوار ہو جائے ، کیا یہ ملکی سرمایہ کی امانتوںکو لوٹنے اور ملک کے چند رہزنوں کو گاڑیاں اور پٹرول مہیا کرکے ملکی زر مبادلہ کا ضیاع نہیں کر رہے۔ایک کلو گوشت کی کمیشن، رشوت کی خاطر ملک کی پوری گائے ذبح کرا دی گئی ہے۔ عیش و عشرت کی تفاوتی زندگی گذارنے والا کرپٹ مافیہ اور حکمران ملی مجرم بن چکے ہیں۔جبکہ اس خزانہ کے مالک ستر فیصد کسان،انتیس فیصد مزدور محنت کش اور عوام الناس ہیںجو غربت،مفلسی ، بیروز گاری کے ہاتھوں سسک سسک کر اور بالاخر تنگ آکر خود سوزیاں،خود کشیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔یہ حکمران،یہ سیاستدان،یہ کرپٹ مافیہ اس ملک اور عوام کے مجرم ہیں۔انکا ہاتھ روک لو ، ورنہ گاڑیوں کی قیمتوں کی اقساط،انکا سود اور سات سال تک انکی ادائیگیاں یہ جاتے ہوئے اپنے ساتھ بطور ایڈوانس سب کچھ لے جائیں گے۔
ج۔ہر سرکاری افسرکے پاس گاڑی،ہر بلیکئے ،سمگلر کمیشن خور ،منافع خور،رشوت خور اورسیاستدانوں کے پاس گاڑیاں ہی گاڑیا ں ،ملکی زر مبادلہ کا ملی قیمتی اثاثہ کو یہ مجرم بڑی بے رحمی سے عیاشی کی چتا میں جھونکے جا رہے ہیں۔
چ۔حکمران اس کاروبار کے برابر کے حصہ دار،انکے عزیز و اقارب ان امپورٹیڈ گاڑیوںکی ایجنسیوں کے مالک، کمیشنوں، کرپشنوں اور رشوتوں اور مال بنانے میں مست الست۔
ح ۔ کسانوں ،محنت کشوں پر مشتمل عوام الناس کو ز ر مبادلہ کے اکٹھے کئے ہوئے ذخائر میں سے اگلے سات سالوں تک ان گاڑیوںکی اقساط اورسود در سود قرضے ادا کرنے کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ آج ملکی زر مبادلہ منفی زیرو پر پہنچ جاتا ہے اگر یہ تمام اقساط سات سال کی بجائے آج ہی ادا کر دی جائیں۔
خ۔ انکی گاڑیاں سڑکوں پرانکے جرائم کے ہارن بجا رہی ہیں،انہوں نے سڑکیں تنگ کر دی ہیں۔پیدل چلنے والوں کیلئے راستے بند کر دئے ہیں۔گاڑیوں اور پٹرول کی خریداری کے ذریعہ ملی زر مبادلہ کی امانت کو یہ عیاش آگ لگانے، جلانے اور خاکستر کرنے میں مصروف ہیں۔ اس نظام کو چلانے کیلئے کتنے قرضے حاصل کئے گئے ہیں اور ملک و ملت کس حد تک مقروض ہوتے جا رہے ہیں،یہ رہزن حکمران بتانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔اب تک چالیس ہزار ڈالر تک قرضے پہنچ چکے ہیں ،جنکو اس ملک کی عوام نے ادا کرنا ہے۔ پچھلے چار سالوں میں نو ارب ڈالر اس قرضے کی رقم کا سود ادا کیا گیا ہے۔یہ قرضے کی ادئیگی ۹۹۰۹ فیصدکسانوں،مزدورں،محنت کشوں، بیروزگاروں نے ادا کی ہے ان گاڑیوں کے مالکوں نے ،یا وزیر اعظم یا صدر پاکستان یا کسی سیاستدان نے تو نہیں کی۔انہوں نے تو رشوت اورکمیشن کھائی ہے۔

د۔کیا یہ حکمران جانتے ہیں کہ یہ ملک کن کا ہے،سن لو یہ ملک ستر فیصد کسانوں کا ہے جو ملک کو گندم،چاول،مکئی ،باجرہ،ہرقسم کی دالیں،ہر قسم کا گوشت،ہر قسم کی سبزی،ہر قسم کے پھل، ہر قسم کے میوہ جات، دودھ کی نہریں،ہر قسم کی لکڑی،ملک کی تمام انڈسٹری کا خام مال اور انتیس فیصد مزدور ،محنت کش، ہنر مند، معمار، اینٹیںتیار کرنے والے انجینئر،لوہا تیار کرنے والے انجینئر،سیمنٹ تیار کرنے والے عظیم انجینئر،گھر، گھروندے،عالیشان بلڈنگیں، بہترین پیلس اور لاجوا ب پریذیڈنٹ ہاؤس، وزیر اعظم ہاؤس،سپریم کورٹ کا عدالتی محل، کنوینشن ہال ، سڑکیں،ملیں،فیکٹریاں،کارخانے اور ان میں تیار ہونے والی مصنوعات، ملک میں پھیلے ہوئے تمام عجوبے انکے خون جگر کی روشنیوں سے منور ہیں۔ ہر قسم کے ٹیکس ہر فرد ادا کرتا ہے، وہ انکے حقیقی مالک ہیں۔
ذ۔کسانوں،مزدوروں،محنت کشوں اور عوام الناس کے ۹۹۰۹ فیصدمسلم امہ کے کسی فرد یا ان کے کسی فرزند یا بیٹی کے پاس ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک کوئی ایم ،پی ،اے یا ایم ،این،ے یا سینیٹریا وزیر و مشیر یا وزیر اعلیٰ و گورنر یا وزیر اعظم یا صدر پاکستان کی کوئی ایک سیٹ انکو مہیا کی گئی ہے تو ملت کو مطلع کریں۔ملک و ملت چند استحصالی افراد پر مشتمل سیاستدانوں،مارشل لا کے جرنیلوں کے ہاتھوں میں مقید ہو چکی ہے۔
ر۔اسی طرح مسلم امہ کے سولہ کروڑ افرادیاانکے کسی فرزندیا انکی کسی بیٹی کو۱۹۴۷ سے لے کر آج تک کوئی اسسٹنٹ کمشنر،ڈپٹی کمشنر ، کمشنر یا ایس پی،آئی جی یا کیپٹن، میجر،کرنل ،جنرل یا جج، سیشن جج، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کا کوئی ایک عہدہ پچھلے ساٹھ سالوں سے دیا گیا ہے تو ملت کو مطلع کریں۔جنکے پاس مال و دولت ہے یہ تعلیمی ادارے انکے ہیں،و ہی اقتدار،حکومتی نظام، انتظامیہ اور عدلیہ کے مالک ہیں۔
ڑ۔کیا ستر فیصد کسانوں کے کسی دیہات میں ایک اعلیٰ انگلش میڈیم ادارہ ہے،کوئی کالج ،کوئی زرعی یونیورسٹی پورے ملک میں ہے،کیا وہ شہروں کے اخراجات ،آمد و رفت کے اخراجات،انکے تعلیمی اداروں کے اخراجات بردا شت کر سکتے ہیں۔کیا انتیس فیصد مزدور اور عوام الناس شہروںمیں ان شاہی ادروں کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔
س۔ اے ! ۔ صدر پاکستان صاحب،وزیر اعظم صاحب،وزرائے اعلیٰ صاحبان اے ! ۔وزیر و مشیر صاحبو، اے ! ۔ دینی جماعتوں کے سیاسی رہنماؤ ، اے ! ۔ ایم پی اے،ایم این اے ،سینٹ کے ممبران صاحبان اے ! ۔ فوجی جرنیلو اورکو ر کمانڈرصاحبو ،اے !۔ ملک کے جرنلسٹو، اے ! ۔ اساتذہ کرام اے سکولوں، کالجوں،یونیورسٹیوں کے طالبعلموں،اے! ۔ دینی درسگاہوں کے عظیم طالبعلموں اور دینی رہنماؤ مغربی جمہوریت کے باطل نظام،غاصب سسٹم،عدل کش نظام حیات،اعتدال و مساوات کچلنے والا طریقہ کار،امانت و دیانت کو لوٹنے والا طرز حیات،معاشی اور معاشرتی دہشت گرد تیار کرنے والا طبقاتی نظام، مخلوط تعلیم، مخلوط حکومت اور مخلوط معاشرہ تیار کرنے اور ازدواجی زندگی کے دینی نظام کو کچلنے والا دین کش نظام حیات،دین محمدیﷺ کے خلاف سودی معاشی نظام،حکمرانوںکی زیر قیادت مغربی جمہوریت کی عدلیہ اور انتظامیہ کا بھیانک کردار، اعتدال و مساوات کے کچلنے کے طر یقہ کار،۹۹۰۹ فیصد عوام الناس کے حقوق سلب کرنے کے جرائم۔ دین محمدیﷺ کی دوری کی سزا کے متعلق غور و فکر، ا ن حا لات و واقعات کی روشنی میں ایک مدبرانہ افراد کا اجتماع کر کے ان حالات کو سدھار نے کا عمل جاری کرنا ہوگا۔نہ یہ تحریک ہے اور نہ یہ تاریک یہ تو دین محمدی ﷺ کے دین کی قندیلوں کا روشن الاؤ ہے۔جس نے دنیامیں ظلمات کو
ختم کرنا اور نور کی روشنیوں کو منور کرنا ہے۔ َ یہ سیاستدان ، اینٹی کرسچن جمہوریت کی لاڈلی اولاد ہیں۔ ان کے خلاف کوئی ادارہ میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ کوئی با ضمیر خدا خوف ،منصف اگر چاہے بھی تو ان کے خلاف کاروائی کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ جب بھی انہوں نے کسی کو باعزت ، باوقار معاشر ے میں پاک دامنی ، پرہیز گاری، متقی، اور ایماندار ہونے کی سند جاری کرنی ہو۔ تو انکے خلاف کیس احتساب کمیشن، کمیٹیوں اور عدالتوں میں بھیج دیئے جاتے ہیں جہاں ملزمان کے کیس التوا میں رکھ لئے جاتے ہیں۔ جہاںغاصبوں اوررشوت خوروں سے رشوت لیکر شواہد غائب کر کے انکو بری الذمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ اصل حقائق اور ہر قسم کے ثبوت اپنے اپنے دور حکومت میں ایک دوسرے کے خلاف تحریر ی اور زبانی طور پر مہیا کرتے رہتے ہیں۔ اور کیس پراسیکیوٹنگ کی منظوری کے بعد دائر کرتے ہیں۔یعنی کیس ختم کرتے ہیں۔اسکے علاوہ سیاستدانوں اور حکمرانوںکے ہارس ٹریڈنگ کے جرائم کا کھیل شروع ہوتا ہے۔ حکمران اپنے جرائم کو تحفظ دینے کیلئے، دوسرے مجرم لیڈران کے تمام غبن اور لوٹ مار کے کیس ختم کر دیتے ہیں۔انکے بنکوں میں پڑے ہوئے اربوں ڈالر واپس کر دئے جاتے ہیں۔کیا ملکی خزانہ کی یہ تمام دولت فوجی صدر ہو یا سیاسی وزیر اعظم یا اسمبلیوں کے ممبران ایسے مجرموں کو معاف کرنے کے مجاز ہیں۔ اب تو عدلیہ آزاد ہے کیا وہ ایسے دونوں مجرموں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی مجاز نہیں ہے۔کیا یہ دونوں بد دیانت پارٹیاں الیکشن میں حصہ لینے کی مجاز ہیں۔ احتساب کمیشن اور انکے عملہ اور انکی شاہانہ تنخواہوں اور مراعا ت اور انکے اخراجات جو احتساب کے حکومتی دائر کردہ کیسوں پر آئے انکا حسا ب پوچھنا،ان کیسوںکی طوالت کے متعلق پوچھنا، اس قید و بند اور ملک بدری سے سیاسی فوائد کا تذکرہ کرنا، اس ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ سودا بازی کر کے ان احتساب کمیشنوں کے تمام کیسوں کو ختم کرنا،، ان مجرموںاور حکمران دونوں مجرموںکا مک مکا کرنا، بار بار حکمرانوں کے خلاف تمام رشوت اور کرپشن کی داستانیں رقم کرنا، ان محتسب اداروں کا جمہوری فریضہ بن چکا ہے۔ اسکے علاوہ سیاستدان اور حکمران ہارس ٹریڈنگ کے جرائم کا کھیل شروع کرتے ہیں ۔نئی حکومتوں کو قائم کرنے کا عمل جاری کرتے ہیں، تو یہ ایک دوسرے کیخلاف اربوں کے لوٹ مار کے کیس،سوکس بنکوں میں پڑی ہوئی تمام رقمیں بحال کرنے کے احکام جاری کرتے رہتے ہیں۔یہ کیسے مجرم حکمران ہیں۔
اگر آج ابراہیم لنکن جو مغربی جمہوریت کے نظام کے خالق تھے۔جو اس وقت پوری دنیا پرمسلط ہے۔جس نے دنیا کو باطل کدہ بنا کر رکھ دیا ہے۔وہ ایک عظیم دانشور تھے۔وہ انسانیت دوست انسان تھے۔آج انکی روح تڑپ جاتی۔کہ انکے پیروکاروںنے انکی جمہوریت کا کیا حال کر رکھا ہے۔جمہوریت کے سیاستدانوں نے تو پیغمبران خدا کے درس و تدریس اور ضابطہ حیات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اگر وہ دین محمدی ﷺ کے الہامی نظریات اور انکی تعلیمات اور شورائی جمہوری نظام سے آگاہی پاتے۔ اپنی عقل پر توبہ کرتے، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے میں دیر نہ کرتے، وہ اس بات کو آسانی سے سمجھ پاتے ۔ زبور شریف ، توریت شریف،انجیل مقدس اور قرآن پاک ہو تو، خدا کا کلام۔پیغمبر خدا کاکلام ہو تو، حدیث مبارک ۔بزرگان دین کا کلام ہو تو، ملفوظات اور اگر کسی دانشور کا کلام ہوتو اقوال۔یہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کے حکمران کیسے ظالم اور غاصب ہیں۔کہ انہوں نے تمام پیغمبران کی آسمانی کتب اور انکی تعلیمات کو پابند سلاسل اور سرکاری طور پرمنسوخ کر دیا اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے اقوال اور نظریات اور تعلیمات اور قوانین کو سرکاری بالادستی
دے کر پیغمبران کی تعلیمات کومنسوخ اور کچل کر رکھ دیا ہے۔
تمام مذاہب پرست امتوں کو سوچنا اور غور کرنا ہوگا۔کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا شورائی جمہوری نظام اور مغرب کے کرسچن جمہوریت کے نظریات میں کیا فرق ہے اللہ تعالیٰ کے احکام کی حاکمیت قائم کرنا بہترہے یا اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشوروں کی ۔ جمہوریت کے طریقہ کار سے نمرودفرعون شداد، یزید اور بش کے نظریات کے سر برا ہ اور اسکے نما ئندوں کے ہاتھ حکومت کا ،کاروبار چلا جاتا ہے۔جو فتنہ اور فساد اور ظلم و جبر کی داستاں رقم کرتے ہیں۔اسی طرح شورائی جمہوری نظام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرنے کیلئے،انکے نظریہ اور طریقہ کار کو اپنانا ہوگا۔جس سے معاشرے سے صالح،نیک،متقی اور پاکیزہ اہلیت کے سر براہ اور اسکے نمائندو ں کی سلیکشن ہو تی ہے۔وہ ملک و ملت پر اللہ تعالیٰ کے ضابطہ حیات کے اصول و ضوا بط کونافذ کرتے ہیں ۔اسکی اطاعت خود بھی کرتے ہیںاور مسلمانوں اور انکی نسلوں کو بھی اسکا پابند بناتے ہیں۔ اس سے اعتدال و مساوات،عدل و انصاف اور اخوت و محبت کے چراغ روشن ہوتے ہیں جو بنی نوع انسان کیلئے باعث کشش اور ظلمات کو روشنیوں میں بدلنے کا سبب بنتے ہیں۔یا اللہ اسلام کو سرفرازی عطا فرما۔ اس فقیر بے نواکی دعا قبو ل فرما اور دین محمدی کی بالا دستی کی شمع روشن فرما۔امین۔
بابا جی عنایت اللہ