To Download or Open PDF Click the link Below

 

  حکمرانوں،سیاستدانوں اور انکے اعلیٰ عہدیداروں کے سرکاری سفر اور انکے اخراجات اور اصل محرکات
عنایت اللہ
۱۔ اینٹی کرسچن جمہوریت مادہ پرست اور اقتدار پرست سیاسی دانشورں کاتیار کیا ہوا مغربی ممالک کا ایک ایسا ضابطہ حیات ہے، جس کے ممبران کا چناؤ الیکشن کے ذریعہ ہوتا ہے، الیکشن ایک ایسے طبقہ کا کھیل ہے جسکے پاس الیکشن لڑنے کے شاہی اخراجات، اعلیٰ وسائل ،دولت، معاشرے میں اعلیٰ مقام،تھانے ،کچہریں اور سرکاری محکموں میں رسائی اور اثر و رسوخ ہوتا ہے۔معاشرے میں اس طبقہ کی پہپچان جاگیر دار اور سرمایہ دار کے ناموں سے ہوتی ہے،اسطرح وہ اپنے حلقہ انتخاب میں ضلعی،صوبائی اور مرکزی سطح پر الیکشن جیت کر اپنے اپنے علاقہ کے نمائندگان،یونین کونسل کے ممبران سے لیکر ضلعی ناظموںتک،ایم پی اے سے لیکر ایم این اے کے اسمبلی ممبران تک اور سینٹ کے اعلیٰ ادارے تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں،الیکشن ذریعہ اقتدار اور حکومت ہے،جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے حصہ لیتے ہیں، جنکے ووٹ تعداد میںسب سے زیادہ ہوتے ہیںوہ الیکش جیت کر ممبر بن جاتے ہیں، جس سیاسی جماعت کے ممبران کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہ سیاسی جماعت ملک میں ضلعی ،صوبائی اور مرکزی سطح پر حکومت بناتی ہے۔ حکومت بنانے کیلئے ضلعی،صوبائی اور وفاقی اسمبلیوںکے ممبران آپس میں بیٹھ کر ناظم،وزیر و مشیر،سفیر ،وزیر اعلیٰ ،گورنر،وزیر اعظم اور صدر پاکستان کا چناؤ کر لیتے ہیں۔ملک کے یہ خادم،ملت کے یہ کرسچن جمہوریت کی مغربی سیاست کے رہنما!مسلم امہ کے یہ میر کارواں!محکوم اور مقید ملت کے یہ ہدی خواں!ملک کے سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کے حقوق کے محافظ، ملکی وسائل،ملکی دولت،اور ملکی امانتوں کے یہ امین بن جاتے ہیں،وہ ملک و ملت کی امانتوں اور انکے حقوق کے تحفظ کا طیب فریضہ ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔اس اینٹی کرسچن جمہوریت الیکشن جیتنے اور منتخب ہونے کے بعد انکے یہ فرائض بنتے ہیں کہ دین محمدی ﷺ کے مطابق وہ ملک میں امانت و دیانت، اعتدال و مساوات قائم کریں،ایسا نظام اور سسٹم رائج کریں جس سے فرد سے لیکر افراد تک کے حقوق کا تحفظ ہو سکے، عوام الناس عدل و انصاف کا جام پی سکیں۔!
اینٹی کرسچن جمہوریت میں جو لوگ معاشی استطاعت اور معاشرتی اعلیٰ مقام، تھانے، کچہریوں اور سرکاری محکموں میںرسائی اور اثرو رسوخ رکھتے ہیں وہی لوگ اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ معاشرے میں اس طبقہ کی پچان تاجر،صنعت کار،سمگلر، زمین مافیہ ،جاگیر دار اور سرمایہ دار کے ناموں سے ہوتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں ضلعی ، صوبائی اور مرکزی سطح پر الیکشن جیت کر اپنے اپنے علاقہ کے نمائندگا ن، ضلعی ناظموں سے لیکر اسمبلیوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ الیکشن ذریعہ اقتدار اور حکومت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے حصہ لیتے ہیں جنکے ووٹ تعداد میں سب سے زیادہ ہوتے ہیںوہ الیکشن جیت کر ممبر بن جاتے ہیں۔ جس سیاسی جماعت کے ممبران کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہ سیاسی جماعت ملک میں ضلعی،صوبائی اور مرکزی سطح پر حکومت بناتی ہے۔ حکومت بنانے کیلئے ضلعی ،صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں کے ممبران آپس میں بیٹھ کر ناظم،وزیر،مشیر، سفیر ،وزیر اعلیٰ،گورنر ،وزیر اعظم اور صدر کا چناؤبذریعہ ہارس ٹریڈنگ کرلیتے ہیں۔ ملک کے یہ خادم،ملت کے اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاست کے رہنما!مسلم امہ کے یہ میرِ کارو ا ں! محکوم اور بھٹکائی ہوئی، مجبور ومظلوم ملت کے یہ ہدی خواں! ملک کے سو لہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کے حقوق کے محافظ،ملکی وسائل،ملکی دولت ، ملکی خزانہ اور دینی نظریات کی امانتوں کے یہ امین بن جاتے ہیں۔ وہ ملک و ملت کی مادی اور مذہبی امانتوں اور انکے کے حقوق کے تحفظ کا طیب فریضہ ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ا لیکشن جیتنے اور منتخب ہونے کے بعد:۔
الف ۔انکا یہ بنیادی فرض بنتا ہے کہ وہ ملت کو سادہ ،سلیس ،مختصر دینی زندگی کے نظام حیات سے متعارف کرائیں ۔انہی بنیادوں پر اسکی تربیت کریں، خود بھی اسکی پابندی کریں اور ملت کو بھی اسکا پابند بنائیں ۔ تا کہ ملک و ملت میں طبقاتی تصرفانہ زندگی کا نظام متعارف نہ ہو اورکسی قسم کا معاشی فساد یا ہیجان پیدا نہ ہو سکے۔
ب۔انکا فرض بنتا ہے کہ وزیروں ،مشیروں،سفیروں اور افسر شاہی،منصف شاہی اور نوکر شاہی کی تعدا د کم سے کم مقرر کریں اور ضروریات حیات ایک کسان ایک مزدور،ایک ہنر مند کے مطابق اور مساوی ہوں جو ملی خزانہ پر بوجھ نہ ہو،زیادہ تر افراد کو زراعت ، ٹیکنیکل فیلڈ اور صنعتی ترقی کے ٹیکنیکل علوم،تجارت کی تعلیما ت سے آراستہ کریں،محنت و کوشش کا شعور عطا کریں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ ان سرکاری اہلکاروں کے طبقاتی شاہانہ بود و باش اور تصرفانہ اخراجات کو ختم کرنا اور ایک عام کسان، مزدور ،محنت کش، ہنر منداور عوام الناس کے بنیادی لوازمات حیات کے مطابق ایک جیسی ضروریات مہیا کرنا اور ملک میںاعتدال و مساوات کے نظام کوقائم کرنا انکا فرض بنتا ہے۔
پ۔ انکا فرض بنتا ہے کہ وہ ملی خزانہ سے سرکاری شاہی محلوں اور ذاتی تاج محلوں کو سنگ مر مر اور قیمتی پتھروں کے نگینوں کے جڑنے کے کلچر کو ختم کریں۔ ملی دولت ،وسائل اور خزانہ کو مٹی اور گاڑے میںنہ چنوائیں اور نہ غرق کریں۔ ان ملکی وسائل کو انڈسٹری اور زراعت پر خرچ کریں،صنعت اور زراعت کے فیلڈ کو چلانے والے بہترین ہنر مند تیار کریں اور ملکی مصنوعات کو بڑھائیں،ذرائع آمدن کو بہتر بنائیں، سرکار ی ملازمین اور انکے کرپٹ نظام، انکی طبقاتی معاشی اور معاشرتی اجارہ داری اور شاہانہ بود و باش اور کرپشن کے سسٹم کو ختم کریں۔ ملک کے ذرائع آمدن کو بڑھائیں،کفایت شعاری سے کام لیں اور ملت کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ۔
ت۔ حکمران اپنے کردار کی صفات کو ملت کے سامنے ایسا پیش کریںکہ ان سے صداقت کی قندیلیں روشن ہو سکیں۔لیکن بد قسمتی سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والے ان ملکی سیاستدانوں، دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور حکمرانوں نے تو ملک میں اَت مچا دی ہے جن سے دین محمدی ﷺاور دینی صداقتوں کے چراغ گل ہو چکے ہیں۔انہوں نے ملت کے سولہ کروڑ مسلمانوں کے فرزندان پر مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکے ضابطہ حیات کی دین اور دینی ضابطہ حیات پر سرکاری بالادستی قائم کر کے اینٹی کرسچن جمہور یت کے ضابطہ حیات کی حکمرانی مسلط کر رکھی ہے ۔ مسلمانوں کو انکے دین کے ضابطہ حیات،تعلیمات اور اسکی حدود قیودسے سرکاری طور پر الگ اورمحروم کر چکے ہیں جو ایک بہت بڑا المیہ ہے، جس سے ملت کا دینی کردارو تشخص نایاب ہو چکا ہے۔
ٹ۔ ان مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کے کرپٹ نظام اور سسٹم کے جرائم پیشہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی زمین دوز دنیا ہر قانون سے بالا اور محفوظ ہوتی چلی جا تی ہے۔ یہ جب چاہیں ان کی فیملیاں اور خود بیمار ہو جائیں۔ ڈاکٹروں کے مشورے اور ہدایات جب چاہیں۔ اور جن ڈاکٹروں سے چاہیں ضروری سرٹیفیکیٹ حاصل کرکے بیرون ملک علاج معالجے یعنی سیرو و تفریح ، خرید و فروخت اور کاروبار کیلئے سرکاری اخراجات پر لندن، پیرس، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں چیک اپ کروانے اور علاج کروانے کے بہانے لوٹا ہوا مال انکے بینکوں میں جمع کروانے ، محل نما ریذیڈنس خریدنے اور ذاتی کارخا نے اور کاروباری ادارے قائم کرنے چلے جائیں۔ اس طریقہ کار سے کروڑ و ں ، اربوں روپے حکومت کے خزانے سے لوٹ کر اس طرح ہضم کرتے جا رہے ہیں، جیسے شیر مادر۔۱۹۴۷ سے لے کر آج تک انکے بیرون ممالک سیرو تفریح اور میڈیکل کے اخراجات،بنکوں کے حسابات،کارخانوں کی تعداد، محلوں کی گنتی، کاروباروں کی فہرست تو اہل پاکستان کے عوام کو بتا دو۔ اسکے علاوہ سرکاری اخراجات پر بیرون ممالک آنے جانے کے حسابات جو انکے نجی کاموں کو سرکاری فرائض کا حصہ سمجھا جاتا ہے وہ تو ملت کو بتا دو۔یہ کیسے بتائیں !۔اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں۔
ث۔ یہ کون سی مخلوق ہے جس پر غریبوں بے کسوں، یتیموں بیواؤں، محتاجوں نادارو ں کی ذکوٰۃ اور خیرات کی رقمیں واجب الاستعمال ہیں۔ کیا حکومت وقت یہ مناسب سمجھے گی کہ وہ ان تمام حکمرانوں اورتمام سیاستدانوں کی لسٹ شائع کردے۔ جنہوں نے گورنمنٹ کے فنڈ سے علاج معالجے کروائے ، اپنی ملیں، فیکٹریاں ،کارخانے اور بڑے بڑے تجارتی ادارے بیرون ممالک قائم کئیے، وہ اپنی سرکاری حثیت سے مختلف نوعیت کے دورے بنا کر بیرون ممالک آتے جاتے رہے ۔ ان کے اخراجات کی تفصیلی رپورٹ شائع کر یں۔ تاکہ ان بیماروں، ناداروں اور محتاجوں ، عیاشوں اور ملکی اور ملی رہزنوں کا پتہ چل سکے۔ کہ انکی ملیں ، فیکٹریاں ، کارخانے ، کارو بار ،شاہی محل کہاں کہاں ہیں۔ہر قسم کے وسائل اور شاہانہ تصرفانہ زندگی کے لوازمات اور یہ تمام قیمتی ملکیتیں اندرون اور بیرون ممالک انہوں نے کیسے حاصل کیں۔
ج۔ یہ کتنی حیران کن بات ہے کہ ملک میں گورنمنٹ کے نچلے درجے کے شودر ملازمین اور مستحق ۹۹ فیصدملکی عوام کو تو ہسپتالوں میں ضروری ادویات تک میسر نہ ہوں۔ اور دوسر ی طرف ان کروڑ اور ارب پتیوں کو ملک کے اندر اور بیرون مما لک انکی عیاشیوں کے لئے غیر اخلاقی، استحصالی سہولتیں میسر ہوتی آرہی ہوں۔
چ۔ یہ کیسا مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کا ضابطہ انصاف ہے جو ملک و ملت پر مسلط ہے کہ ملک کے سولہ کروڑ عوام تو کسمپرسی کی حالت میں سسک سسک کر زندگی گذاریں۔ ضروریات حیات کی نایابی کی بنا پر خود کشیاں کرنے پر مجبور او ر یہ اندرون اور بیرون مما لک بینکوں میں بے حساب ڈالر جمع کرواتے جائیں۔ کارخانے، ملیں، فیکٹریاں، کوٹھیاں، محل، کاریں، کاروبار پھیلاتے جائیں۔ یہ معاشی دہشت گرد کون ہیں!۔ جنہوں نے جمہوریت کی آڑ میں ملت کی معاشی طاقت چھین رکھی ہے اور ملی وحدت کو ختم کر کے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ان کو زندہ باد، مردہ باد کے نعروں میں پھنسا رکھا ہے۔اس غا صب نظام اور سسٹم کی محکومی سے نجات حاصل کرنا تمام اہل وطن کا حق بنتا ہے۔
مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکا الیکشن کا نظام کتنا غاصبانہ، آمرانہ اور ظالمانہ ہے۔کہ ایک حلقہ انتخاب میں ایک لاکھ ووٹر ہیں تو دس جماعتوں کے امیدوار برائے الیکشن کھڑے ہوتے ہیں۔ ووٹ تمام جماعتوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک جاگیر دار،ایک سرمایہ دار،ایک آمر، دولت،وسائل اور حکومتی نظام میں ذاتی تعلق اور طاقت کی بنا پر ہر قسم کی دھاندلی کرنے پر فوقیت رکھتا ہے اور بارہ ہزار ووٹ لیکر جیت جاتا ہے تو وہ اس انتخابی حلقہ کا منتخب نمائندہ کیسے بن سکتا ہے جبکہ اٹھاسی ہزار ووٹر اسکے خلاف مختلف جماعتوں سے منسلک ہیں۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے ایسے طریقہ انتخاب میں ان جاگیر داروں اور سرمایہ داروں اور بدترین آمروں کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت نمرود،فرعون،یزید کے مکتبہ فکر کے دانشمندوں کا طریقہ حکمرانی ہے۔جسکو ختم کرنا اور دین محمدیﷺ کا شورائی جمہوری نظام جو پیغمبر خدا ﷺ کے الہامی ،روحانی نظریات،ضابطہ حیات،نظام حیات اور طرز حیات کا بنی نوع انسان کیلئے ایک فلاحی راستہ ہے اسکو رائج کرنا مسلم امہ کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
چ۔ملک میں رائج ا لوقت مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاسی جماعتوں پر یہی ملکی، ملی، معاشی رہزن جاگیرد ا ر ، معاشی قاتل سرمایہ دار، اور ظالم،غاصب وڈیرے اور دین کش دینی جماعتوں کے دینی منافق قابض ہیں ۔ اب ورکروںاور سیاست میں دلچسپی رکھنے والے نیک دل ، پاکیزہ دامن، طیب فطرت ، پرہیز گاروں، صاحب شعور لوگوں اور دینی اہلیت کے وارثوں کو اس پر غور کر لینا چاہئے۔ کہ ملک میں اتنی بڑی تفاوت ، عدم مساوات اور طبقات تیار کرنے کا یہ گھناؤنا کھیل ملک میں رائج رکھنا ہے یا اس دل سوز دردناک تباہ کن غیر اسلامی عدل کش جمہوریت کے طریقہ کار کو ہمیشہ کے لئے الوداع کرنا ہے۔
۲۔ یہ رئیس زادوں، نواب زادوں، اور خان بہادروں کی بگڑی ہوئی اولاد یں یا دینی جماعتوں کے دین کش اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاست کے دینی رہزن فضول خرچیوں ، شاہ خرچیوں،بے پناہ سہولتوں اور شاہی محلوں اور سرکاری عشرت کدوں کی ٹھاٹھ اور بادشاہی نظام میں پلنے اور ابھر نے والا مذہبی طبقہ جب حکومت کے پینل میں شامل ہوتا ہے۔ ان کے پاس غریب عوام یا غریب انسانوں اور دین کی سرکاری بالا دستی کاتصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔وہ اسی نظام کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔
۳۔ سیاستدان اور حکمران ملکی خزانہ اور وسائل کو بیدردی اور بے رحمی سے روزمرہ کے غیر ضروری اور نامناسب وافر اور فضول اخراجات کے ذر یعے مقروض ملک کی معیشت کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ ان کے سرکاری فنکشن ( Function ) ان کے پروٹوکول یعنی با ادب با ملاحظہ ہوشیار کے اربوں کے اخراجات ان کے ان ناجائز فنکشنوں پر مدعوئین کی فوج اور انتظامیہ کی حاضری ۔یہ تمام عمل، وقت کا ضیاع، سرکاری گاڑیوںانکے پٹرول اور ملی دولت کے ناقابل تلافی نقصان کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ آتش بازیاں، یہ ناچ گانے، یہ محفلیں، یہ سیاسی اداکاریاں، یہ شہرت اور عزت حاصل کرنے کے طریقے ، یہ یوم تکبیر منا نے کا رواج اور اس کی تشہیر پر بے پناہ اخراجات ، ملک میں آئے دن ایسے فنکشنوں کی بھرمار ، ہر حکومت وقت کے منچلوں کا دستور بن چکا ہے۔
۴۔ وزیروں، مشیروں کی غیر ضروری تعداد اور انکے ساتھ منسلک سرکاری اعلیٰ عہدیداروں کی افواج ملکی معیثت کو کینسر کی طرح چمٹ چکے ہیں۔ انکی مصروفیات وقت اور دولت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس قسم کے کلچر اور روایات پرسالانہ کیا اخراجات آتے ہیں۔ اورا ن اخراجات کا تمام بوجھ ملک اورسولہ کروڑعوام کے کندھوں پرہوتا ہے نہ کہ ان حکمرانوں پر۔ ملک کی ترقی ایم پی اے،ایم این اے، سینیٹروں، وزیروں ،مشیروں ، سفیروں کے پھیلاؤ کا نام نہیں۔ اس قسم کے غیر ضروری اخراجات کاذمہ دار کون ہے۔۔ وقت کے حکمرانوںکو ملکی خزانہ کی امانتوںکو ایسے تمام فضول اخراجات کا فوری طور پر خاتمہ کرناہوگا۔ انکے اخراجات ایک کسان ایک محنت کش سے زائد کیوں! انکا معاشی حصہ سولہ کروڑ عوام کے تناسب سے جاری ہونا ضروری ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا کلچر مذہب کے ضابطہ حیات اعتدال و مساوات، عدل و انصاف کے قانون و نظام کو کچلتا ہے، عدل کو قائم رکھنا معاشرے کی ایک افضل ترین عبادت ہے جسکو یہ روندتے جا رہے ہیں۔
ٌ۶۔ وزیروں، مشیروں، کو یہ یاد رکھنا چائیے۔ کہ یہ ملکی خزانہ یتیموں، بیواؤں، مسکینوں، محتاجوں، ناداروں، ضعیفوں اور سولہ کروڑ غریب اور مفلوک الحال عوام کی امانت ہے۔ ناکہ ان کی خاندانی وراثت۔ملت نے انکو ملی خزانہ کی چابیاں اس لئے تو نہیں دی تھیں کہ وہ ایسے غیر ضروری اخراجات کی بھینٹ چڑھا دیں۔یہ کیسے جمہوریت کے نظام حکومت کے نمائندے اور حکمران ہیںجو ملکی وسائل،دولت اور خزانہ کی امانتوں کو بڑی بے رحمی سے جلاتے جا رہے ہیں۔یہ کس قانون اور ضابطے کے مطابق اسمبلیوں میںبیٹھ کر یہ غیر عادلانہ اخراجا ت،یہ غاصبانہ تفاوتی شاہ خرچیوں کی دہشت گردی کا عمل جاری کئے ہوئے ہیں۔آئی ایم ایف کے قرضے اسلئے حاصل کئے جاتے ہیں۔کہ پہلے قرضوں کی قسطیں ادا کی جا سکیں۔ اور ملک ڈیفالٹر کی لسٹ میںنہ آجائے۔ کیا یہ تمام قرضے ملک و ملت کیلئے سود در سود کا بے پناہ اضافہ اور ملت پر عذاب نہیں بنے جاتے۔ اس وقت بھی اہل وطن چایس ارب ڈالرز کے مقروض ہیں۔ ساڑھے نو ارب کی کثیررقم پچھلے تین سالوں میں اسکاسود ادا کیا گیا ہے۔ عوام الناس پر منگائی کا اژدہا، بجلی ،پانی،گیس،ٹیلیفون کے بلوں اور ٹیکسوں کے اضافی بوجھ کے شکنجوں کی گرفت خطرناک حد تک جان لیوا عذاب ہے یا ریلیف ہے ۔ موجودہ حکومت کو بھی اپنے حاصل کئے ہوئے قرضوں کی لسٹ شائع کرنی چاہئے تا کہ صحیح صورت حال سامنے آ سکے اس قسم کے حالات میں ایسی عیاشیوں، شاہ خرچیوں، فضول خرچیوں اور تفاوتی، طبقاتی معاشی تباہی کا کون ذمہ دار ہے۔ انکی ان پالیسیوں کی بنا پر مہنگا ئی کا خوف ناک اژدہا دن بد ن بڑھتا ، طاقت ور، جان لیوا، عوام الناس کی معاشی ہڈیاں، پسلیاں چبائے اوران کو نگلنے کے قریب ترین پہنچ چکا ہے۔ان عقل کے اندھوںاور معاشی قاتلوں کے نظام اور سسٹم کے عذاب سے ملک و ملت کو نجات دلانا ۔اور ان کی گرفت سے چھڑانے کا صرف ایک اور ا یک ہی راستہ ہے۔
۷۔ وہ دین اسلام کا راستہ ہے۔ جس میں نہ امیرالمومنین نہ مجلس شوریٰ کا کوئی رکن ایسی شاہ خرچیوں، بے ضابطگیوں، اور بد قماشیوں کا تصور بھی کر سکتا ہے۔ یہ سب قرضے ملک کو نہیں بلکہ اپنی سیاسی پوزیشن اور حکومت کو مضبوط بنانے، نجی لوٹ مار کرنے اور عیش و عشرت کے نظام کو قائم رکھنے کے لئے حاصل کئے جا تے ہیں۔ جب ایک حکومت چلی جاتی ہے۔ تو آنے والی حکومت ان کی طرح یہی کہتی ہے کہ ملک کی معاشی حالت بڑی نازک اور خراب ہے۔ ملک قرضوں میں جکڑا پڑا ہے۔اسکی معاشی صحت دم توڑ رہی ہے۔ وہ بھی پہلی حکومتوں کی طرح عوام الناس پر مزید ٹیکسوںکا بوجھ ڈال کر ملکی حالات کو سنوارتی ہوئی اور اپنی اپنی نجی زندگی کو سرکار ی خزانے اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی لوٹ کھسوٹ سے اپنی معاشی طاقت محفوظ کر کے آگے چلتی بنتی ہے
۸۔ آج تک ملک کے ان اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل قوانین اور بد کردار حکمرانوںکو نہ کوئی روکنے والا اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا اور نہ ہی اسکا تدارک کرنے والانصیب ہوا ہے۔ محکوم اور بے بس عوام الناس کو مہنگائی ، بلوں اور ٹیکسوں کے جان لیوا ناسور میں اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل نظریات کے غاصب سیاسی کھلاڑی مبتلا کرتے چلے جارہے ہیں۔ اہل دل، اہل قلم، اہل درد، لکھاریو! اخبار نویسو اور عزیز طالب علموں !۔ تم ملک و ملت کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہو۔جو ملک میں حکومتیں ختم کرنے اور قائم کرنے کا رول ادا کرتے چلے آرہے ہو۔ آپ خود تو ذاتی طور پر اقتدار حاصل کرنے کے لئے کوشاں نہیں ہوتے۔ لیکن آپ ان بدمعاش ، بدقماش، سیاست دانوں کے زوال اور اقتدار کا سبب ضرور بنتے چلے آ رہے ہو۔ آپ نے آج تک ملکی سیاستدانوں کے لئے بڑی بڑی جنگیں لڑیں۔ میری دعا ہے کہ اب آپ لوگ اس حقیقت سے پوری طرح واقف اور آشنا ہو چکے ہیں۔ کہ یہ جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ ملک میں صرف آٹھ دس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ جنہوں نے اس ملک ، اس دھرتی ، ملت کو معاشیات کے عبرت ناک حالات و واقعات سے دوچار کر رکھا ہے۔ملک کی حاکمیت انکے پاس ہے اور اہل وطن انکی محکومی انکے نظام اور سسٹم کے شکنجے میں تڑپتے اور بے جان ہوتے جا رہے ہیں۔
۹۔ ا ب اگر آپ لوگ اس بیماری کا علاج کرنا چاہتے ہیں توحکومت نہ بدلوائیں، بلکہ ان سے اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکا نظام اور سسٹم بدلوائیں۔مسلم امہ کے فرزندان کو کرسچن جمہوریت اور شورائی جمہوری نظام کی آگاہی اورعوام الناس کی رہنمائی فرمائیں۔ اور ان کوان کی حرکات و سکنات ، انکے عدل کش معاشی اور معاشرتی نظام اور سسٹم اور ان سیاستدانوں کی بالا دستی کی تباہ کاریوںسے آگاہ کریں اور انکے احتساب کا عمل جاری کریں۔یہ بچ کر نکل نہ سکیں۔ آپ جماعتوں میں تقسیم نہ ہوں، یہ تمام سیاستدان ایک ہی کڑوے، بدمزہ، اور مہلک جان لیوا اینٹی کرسچن جمہوریت کے درخت کے پھل ہیں۔ آ پ کی سوچ اور عمل اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا رول بڑے احسن طریقے سے ادا کر سکتا ہے۔اہل وطن مسلمانوں اور انکی نسلوں کی نجات اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے میں مضمر ہے۔نہ کہ اللہ تعالیٰ کے ضابطہ حیات کی بغاوت میں۔اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔ امین
۱۰۔پاکستان میںچار مرتبہ مارشل لا نافذہو چکا ہے۔چاروں فوجی سر براہوں کو اسی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کے سائے تلے اپنی زندگی کے سانس بڑی اذیت سے پورے کرنے پڑے۔ فوج کسی بھی ملک کا ایک بہترین انمول سرمایہ اور منظم ادارہ ہوتا ہے۔ جنرل ایوب صاحب نے اپنے ساتھ ملک کے تمام نوا ب کالے با غ،سفید باغ،جاگیرد ا ر ، سرمایہ دارملا کر اپنا وقت گذارا ۔جرنل یحےیٰ خان نے اسی اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن کروائے اور مشرقی پاکستان الگ کروا دیا، جنرل ضیا الحق صاحب نے بھی اسی حکمت عملی سے کام لیا۔انکو اسلام کی اتنی سمجھ آئی کہ انہوں نے مسجدیں بنوائیں اور اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلیوں کے ممبران کے پاس کردہ غاصب قوانین کے سجدے کروائے۔ جنرل پرویز مشرف صاحب بھی اسی دلدل کا شکار ہوچکے ہیں۔لیکن انکو کیسے سمجھایا جائے کہ بات اعلیٰ قابلیت ، حاکمیت کی طاقت،سنجیدگی یا اہلیت کی نہیں وہ تو دین سے آگاہی کی ہے۔ان کا واسطہ رائج الوقت اینٹی کرسچن جمہوریت کے فاجر باطل غاصب منافق سیاستدانوں سے ہے۔ جنہوں نے اہل وطن کے سولہ کروڑ فرزندان کا جرنیلوںکے زیر سایہ دین و دنیا کوایک رہزن کی طرح لوٹ لیا ہے۔وہ ملک کی دولت،وسائل،خزانہ اور تجارت پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کے تحت قابض ہو چکے ہیں ۔ اس طرح وہ اسلامی ضابطہ حیات اور اسکی تعلیمات پر اینٹی کرسچن جمہوریت کا ضابطہ حیات اور اسکی تعلیمات کی سرکاری بالا دستی مسلم امہ پر مسلط کرتے چلے آرہے ہیں ، جو مسلم امہ کے جسد کو ایک کینسر کی طرح ختم کئے جا رہی ہے۔یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ پوری امت ذکر رب جلیل میں مصروف ہو اور درود نبی کریمﷺ پر بھیجے۔ عملی طور پر عبادت کرسچن جمہوریت کے نظام اور اسکے اسمبلی کے بد قماش ممبران اور دین کے منافق باطل حکمرانوں کے تیار کردہ قوانین کی کرے،پوری ملت منافقت کے عذاب میں مبتلا کر دی گئی ہے۔یہ سیاسی شاطر پہلے بھی افواج اور عوام کو مشرقی پاکستان میں آمنا سامنا کروا کر اس کی تذلیل کرواچکے ہیں،اب پھر اسی ڈگر پر چل رہے ہیں،اب فوجی سربراہ کو بلوچستان کی چتا میں دھکیل دیا ہے۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۷ کو ایم کیو ایم نے چیف جسٹس کے جلوس کو روکنے کیلئے کراچی میں لاشوں کا دھیر لگا دیا۔ شمالی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے نام پر فوج کے ہاتھوںعوام کا قتال جاری کر رکھا ہے۔ایک خود ساختہ بین الاقوامی سازش کے تحت کسی شخص یا جماعت کو دہشت گرد قرار دینا ،انکی خاطر پوری بستی کو تباہ کر دینا کہاں تک مناسب ہے۔ دینی جماعتوںکو کرش کرنے کیلئے لال مسجد کے اندر فوج کے ہا تھوںہزاروں معصوم،بیگناہ طالبعلموں اور طالبات کا بری طرح قتال کروا کر رکھ دیا ہے۔ افواج پاکستان کے خلاف نفرت اور نفاق کی آگ بھڑکا دی گئی ہے۔جرنیل صاحب آپ نے ق لیگ کیساتھ الحاق کر کے تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔ بلوچستان،کراچی ،شمالی علاقہ جات اور لال مسجد اور دینی مدرسہ حفصہ کے ہزاروں طالبعلموں کا قتال کر کے فوج کی عظمت و عزت خاک میں ملا دی ہے۔ عوام اور فوج کو خانہ جنگی کے طرف دھکیلتے جا رہے ہو۔ خدا را اصل حقائق اور ملت کے مزاج کو سمجھو اپنی جان چھڑاؤ ، حکومت سے جا ن چھڑاؤ !۔اس ظلم سے باز آؤ !۔
۱۱۔ ان حکمرانوں پر احسان اور شفقت یہی ہے ۔کہ ان کا ظلم والاہاتھ رو ک لیا جائے۔انہیں اس نظام اورسسٹم اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے عذاب سے نجات دلوانے کا راستہ بتا دیا جائے، ان کو بھی خیرالامت کے سائے تلے لانے کی سعی کی جائے۔ دین سے بھٹکتے ہوئے فوجی رہنماؤں کو صراط مستقیم دکھایا جائے، دین کی طرف بلانا،دین کی اہمیت بتانا،دین کا نفاذ کرنافوج کے شعبہ اور پیشہ اور منظم ادارے کی اہم ذمہ داری ہے۔ ورنہ یہ کرسچن جمہوریت کے رہنماؤں کا کینسرملت کے جسد اور فوج کے انمول ادارے کو نیست و نابود کر دیگا۔یہ استحصالی جمہوری نظام اور یہ آمر طبقہ اور اسکے حکمران فوج کی چھتری تلے ملک میں اس قدر منظم اور موثر ہیں۔ کہ پولیس کا سربراہ ہو، یا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ، جو ان کے حسب منشا کام نہ کرے۔ ان کو فارغ کر دینا یا کھڈے لائن لگادینا یا کسی کیس میں ملوث کر دینا مغربی جمہوریت کے نظام کے اور مارشل لا کے کسی بھی حکمران کے لئے کوئی مشکل کام نہیںہوتا۔ ان سرکاری سربراہوں کا یہ حال ہے تو چھوٹے سرکاری ملازمین کی کیا مجال، چاہے وہ انتظامیہ میں ہوں یا عدلیہ میں اور ان کے کسی کام میں رکاوٹ بن سکیں۔ ان مجبوریوں کی بنا پر انتظامیہ اور عدلیہ تو ان کے اشارے پر ناچتی ہے۔ ان کے معاشی اور معاشرتی جرائم کو تحفظ کے فرائض سر انجام دینے پر مجبور ہوتی ہیں۔
۱۲۔انگریز کے مفتوحہ ملک پاکستان کی محکوم عوام کو انگریز سے تو آزادی مل گئی لیکن یہ ملک و ملت انگریز اپنے ہی پالتو جاگیر داروں،سرما یہ داروں کی سپرداری میں دے گئے۔وہ ملک کے سیاہ سفید کے مالک بن گئے،جس سے انگریز کے تیار کردہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظامِ سیاست کے سیاستدانوں ، حکمرانوں کی حکومتی بالا دستی اور اجارہ داری قائم اور مضبوط ہوتی گئی،انکے تیار کرنے والے اعلیٰ سرکاری عہدیدار ، افسر شاہی ،منصف شاہی ، نوکر شاہی کے طبقاتی نظام اور طبقاتی تعلیمی اداروں اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کا تعلیمی نصاب جوں کا توںپاکستان میں بسنے والی مسلم امہ پر مسلط رکھا گیا،جسکی وجہ سے یہ امت دین محمدی ﷺ کی تعلیم و تربیت اور ضابطہ حیات اور نظریات سے متواتر و مسلسل محروم ہوتی گئی، جسکی خاطر یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا۔ پاکستان کی اسمبلیوں کے ممبران کو پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات،انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات کو مسخ کرنے ، روندنے اور ختم کرنے کا کلی اختیار حاصل ہوتا گیا۔انگریز کے انتظامیہ،عدلیہ اور تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروںکو چلانے والی مشینری اور انکو تیار کرنیوالے تعلیمی ادارے ویسے ہی جاری رہے۔مغربی دانشوروںکی تیار کی ہوئی کرسچن جمہوریت ملک و ملت پر مسلط ہوتی گئی، وہ دین کے خلاف قانون سازی کرتے رہے۔انہوں نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی الہامی تعلیمات،ضابطہ حیات،نظریات اور تہذیب کو کچلنے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔
یہ کیسی اینٹی کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں کی انتظامیہ ہے جہاں جھوٹی ایف آئی آر درج ہو تی رہتی ہیں،جہاں قاتل باہر اور بیگناہ پھانسی کے پھندے سے لٹکتے رہتے ہیں۔جہاں تھانوں میں سیاسی، حکومتی وڈیروں کی سفارشوں اور رشوتوں سے جھوٹے پرچے درج ہو تے ہیں۔ جہاں اینٹی کرسچن جمہوریت کے قانو نی عقل و دانش کے شاطر وکلا صاحبان دین کے خلاف کیس کو جیتنے کیلئے جھوٹے واقعات ، جھوٹی تحریری اور زبانی قسمیں ججوں اور منصفوںکے سامنے کیس کو جیتنے کیلئے دلواتے رہتے ہیں۔
جہاںاعلیٰ اہلیت کا وکیل اور کم اہلیت کا وکیل پیش ہوں یعنی جہاں ایس ایم ظفر جیسا وکیل ہو،وہاں دوسرے کمزور وکیل کا کیا مقابلہ۔کیس اعلیٰ فیس وصول کرنے والا اعلیٰ اہلیت کا وکیل ہی جیت سکتا ہے۔اعلیٰ وکلا اینٹی کرسچن جمہوریت کے قوانین کو بدلتے رہتے ہیں،ہر ماہ نئی پی ایل دٰی،نئے قوانین،نئی ترامیم شائع ہوتی رہتی ہیں۔
جہاںعدالتیں پچاس سے لیکر ایک سو پچاس تک کیسوں کی لسٹیں روزانہ سماعت کیلئے دیوارو ں پر پیوست کرتی ہوں ،ان میں سے صرف چند کی سماعت ہو نی ہو اور بقایا لوگ صبح سے شام تک اس عدالت کے دروازے پر کھڑے ہو کر اپنے کیسوں کیلئے سرکاری ہلکارے کی آواز سننے اور نئی تاریخ حاصل کرنے کیلئے کھڑے ہونے کا عذاب برداشت کرتے رہیں اور یہ عمل سالوں پر محیط ہو۔عدالتوں سے نئی تاریخ لینے کا کیا طریقہ کار ہے۔لمبی تاریخ اور چھوٹی تاریخ حسب خواہش کیسے لی جاتی ہے کوئی ملک میں ایسا منصف ہے جو اس کی اصل حقیقت سے آشنا نہیں!۔ملک میں انصاف کیسے حاصل کیا جاتا ہے، اعلیٰ اہلیت کا وکیل، اعلیٰ سفارش کا انتظام،بڑی رشوت کے اسباب جس کے پاس موجود ہوں پاکستان میں انکے تمام کام سلیقے سے ہوتے جاتے ہیں۔عوام الناس کیلئے انصاف قسم کی اس دھرتی میںکوئی شے موجود نہیں۔
پٹوار خانے کی بات نہ کرو!اسی مارشل لا کے دور میں ایک پٹواری کو رشوت سے حاصل کی ہوئی کروڑوں،اربوں روپوں کی زمین و بینک بیلنسوں کے مجرم کو سزا ہوئی اور اسکی جائیداد ضبط ہوئی،اس پٹواری کے علاوہ باقی تمام ملک کے پٹواری اور ان سے منسلک تمام اعلیٰ سرکاری مشینری کے افسران ولی اللہ ثابت ہو چکے ہیں۔ کسی پٹواری کے خلاف کوئی شکایت نہیں۔جبکہ ہر پٹواری اور اس سے متعلقہ افسران کی عملی زندگی اسی نظام کا حصہ ہے ۔عوام کو اپنی زمین کی ملکیت کا فرد ہی ان پٹواریوں سے لینا ہو تو اس پر کیا گذر جاتی ہے اور اسکی زمین کی ملکیت کا فرد اگر کسی پرا پرٹی ڈیلر کے ذریعہ حاصل کیا جائے تو اسکا طریقہ کار کیا ہے اسکی بھی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس تمام نظام اور سسٹم کے وارث اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدان اور مارشل لا کے حکمران ہیں۔ جب انکا کوئی زمینوں ،جائدادوں کا کام ہوتا ہے وہ تو حلقہ کے پٹواریوںکو پاس بلوا تے ا ور ہر قسم کا جائز و ناجائز کام کروانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ملک میںکوئی ایسا پٹواری نہیںجسکا اپنا ذاتی دفتر اور ملکیت کا فرد تیار کرنے کیلئے اپنے ذاتی ورکر نہ ہوں۔لینڈ مافیہ ہی علاقہ میں رقبہ اور اسکی قیمت کو مد نظر رکھتے ہوئے فرد ملکیت کی رشوت کی فیس مقرر کرتا ہے۔ تما م ریوینیو افسران اسکے حصہ دار ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین مافیہ والے ہی اپنے حلقہ کے پٹواری کے تمام اخراجات برداشت کرتے ہیں۔یہ تمام کرپشن کار سرکار کا حصہ بن چکی ہے۔عوام اپنی ملکیتوں کے فرد حاصل کرنے کیلئے کن کن اذیتوں سے دو چار ہیں وہ کسی سے چھپا نہیں۔ ان میں سے بیشتر کروڑ پتی ہیں۔ بڑے بڑے ٹاؤن بنانے والے اور انکی سوسائٹیوں اور ملک میں پھیلے ہوئے زمین مافیہ کے مالکان کا ذکر نہ کرو!۔اس لینڈ مافیہ کا نام نہ لو!
ان میں کون کون شامل ہیں اور انکے کون کون حصے دار ہیں ان پردہ نشینوں کا بھی نام نہ لو!ان زمینوں کو غریب مالکان سے اونے پونے داموں حاصل کرنے کیلئے سرکاری طور پر کونسے کالے قوا نین مرتب کئے جاتے ہیں انکا بھی نام لینا مناسب نہیں!خبر دار ان مجرموں کانام بھی نہ لینا جواس لینڈمافیہ کے چند رہزنوں اور انکے ساتھ منسلک محکموںکے کرپٹ مافیہ کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ایسے حکمرانوں کے پاس ملک کا بیشترسرمایہ اور قیمتی ملکیتیں موجود ہیں، یہ حسب ضرورت من مرضی کی پالیسیاں بناتے اور ملک میںلوٹ کھسوٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انکو کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ گورنمنٹ کی زمینوں کی لیز بھی حاصل کرنا اسی مافیہ کا نصیب ہے ،ریلوے کی زمین ہو یا اوقاف کی، کسی محکمہ کی ملکیت ہو یا گورنمنٹ کے کسی ادارے کی،جب بھی کسی سیاسی بھڑئیے کو پتہ چل جاتا ہے تو وہ انکا نصیب بن جاتا ہے۔ بڑے بڑے بحر یہ ٹاؤنوں میں انکی حصہ داریاں۔ اندرونی بیرونی تجارت کا بھی نہ پوچھو ! مین پاور باہر بھیجنی ہو، کپاس کی گانٹھیں باہر بھیجنی ہوں،چاول باہر بھیجنا ہو،گوشت باہر بھیجنا ہو، چینی باہر سے منگوانی ہو، یہ تاجر بھی ہیں اور حکمران بھی، تجارت انکی لونڈی اور حکومت انکی داشتہ، جیسے اور جس طرح اور جس وقت انکا جی چاہے اپنے لئے منفعت بخش بنا لیں،گوشت جب جی چاہے باہر بھیج کر ملک میں نا یاب بنا دیں ۔ ریٹ ستر روپے سے دو سو پچاس روپے کر دیں۔ عوام چیخ وپکار کرتے رہیں انکی کوئی شنید نہیں۔اس حکمرا ن ٹولہ کے یہ چند کرندے زر مبادلہ کی شکل میںایک سو اسی روپے فی کلو پندرہ کروڑ عوام سے زیادہ کماتے رہیںیہ ان غاصبوں کا حق ہے۔لا قانونیت انکاقانون بنتا چلا جاتا ہے۔ عوام میںکوئی انکا تدارک نہیں کر سکتا۔ جب انکا جی چاہے گندم اور آٹا کا بحران پیدا کر دیں،جب انکا جی چاہے چینی مارکیٹ سے غائب کروا دیں۔ جب انکا جی چاہے وہ ہر قسم کی اشیا کی قیمتوں میںاضافہ کرنے کیلئے مانگ اور سپلائی کا توازن بگاڑ دیں۔وہ لوہے کی ۸ا ہزار فی ٹن کی قیمت کوپچاس ہزار فی ٹن کر دیں۔وہ جب چاہیں۱۵۰ روپے سیمنٹ کی بوری کی قیمت ۳۵۰ روپے کر دیں۔جب عوام چیخ مارنا شروع کر دیتی ہے تو مالکان کچھ ریٹ کم کر کے عوام کا دھیان پلٹ دیتے ہیں۔وہ اکثر و بیشتر عوام کو موت دکھا کر بخار پر راضی کرتے چلے آرہے ہیں۔لیکن اب اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کا وقت گذر چکا ہے۔ بڑی دیر ہو چکی ہے اب اس باطل نظام اور اسکے غاصب حکمرانوں کو انکی موت نے آن دبوچا ہے۔یہ دھرتی انتیس فیصدمزدوروں، محنت کشوں ،ہنر مندوں،معماروں،مکینکوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کو چلانے والے عوام پر مشتمل مسلم امہ کے فرزندان کی ہے۔ مختلف شعبوں سے منسلک افراد یعنی جوبٹھہ میں اینٹیں تیار کرتے ہیں ، کانوںسے لوہا نکالتے،کارخانوں میں آگ کی تپش سے پگلا تے اور ضرورت کے مطابق ڈھالتے چلے آرہے ہیں۔کان کن پہاڑوں کے پتھر کو کاٹتے،بجری بناتے ،کارخانوں میں پیستے اور کیمیکل سے گذارتے اور سیمنٹ تیار کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہی مزدور طبقہ فیکٹریوں سے سٹاک اٹھاتے،منزل مقصود تک پہنچاتے،گھر، گھروند ے ، اعلیٰ بلڈنگیں ، شاہی محل تیار کرتے،یہ سڑکیں،یہ ائیر پورٹس،یہ تمام تعمیرات، یہ تمام عالیشان بلڈنگیں،یہ تمام رائیونڈ ہاؤسز،یہ تمام سرے محل،یہ تمام شاہی پیلسز،یہ تمام کلبیں،یہ تمام اعلیٰ ہوٹلز،یہ پریذیڈنٹ ہاؤس ،یہ وزیر اعظم ہاؤس،یہ وزرائے اعلیٰ ہاؤسز،یہ گورنر ہاؤسز،یہ کشمیر،پنجاب،بلوچستان،سرحد اور سندھ ہاؤسز،ملک کے تمام ریسٹ ہاؤسز،ملک کے تما م کنوینشن ہالز،غرضیکہ گھروندے سے لیکرگھر تک،گھر وں سے لیکر شیش محلوں تک، ملک کی تمام تعمیرات کے سنگ و خشت کے معجزات انہی کے خون جگر سے سینچے ہوئے ہیں۔ یہ تمام بزم رونق کا سازو سامان انکے دل و جان کے حسن و جمال کی عکاسی کے بیل بوٹے اور جلوے ہیں۔یہ ملک کھیتی باڑی کرنے والے مسلم امہ کے ستر فیصد کسانوں کا ہے۔جو ہر قسم کی خوراک ، گندم ،مکئی، چاول ، دالیں،ہرقسم کے لباس کیلئے روئی اور اون،ہر قسم کے پھل،ہر قسم کے میوہ جات،ہر قسم کا خام مال، چھوٹے بڑے جانوروں کا ہرقسم کا گوشت، تمام ملک میں دودھ کی نہریں جاری، انسانی زندگی کی ہر قسم کی بنیادی ضروریات مہیا کرنے والاانتھک ، محنتی ، جفا کش،ایماندار ، پاکیزہ فطرت ،سادگی کا پیکر،خدمت خلق کا خاموش ورکر، انسا نیت کیلئے بے ضرراورمنفعت بخش،حسن کردار کا منور آفتاب، فطرت کا خوبصورت اور خوب سیرت شاہکار جواہل وطن کیلئے ضروریات حیات پیدا کرتا اور مہیا کرتا چلا آرہا ہے۔
پاکستا ن سولہ کروڑ مسلم امہ کا ملک ہے۔یہ ملک دین کے نام پرانگنت قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا تاکہ دین محمدی ﷺ کے نظریات ، تعلیمات،ضابطہ حیات کی روشنی میں مسلم امہ کی نسلیں اس کائنات میں ایسا تشخص پیش کریںجس میںاخوت و محبت، اد ب و خدمت ،ایثار و نثار،سادگی و شر ا فت، حسن خلق، صبر و تحمل،امانت و دیانت عجز و انکساری ، اعتدا ل و مساوا ت،مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا سلیقہ،ادب انسانیت، خدمت انسانیت کی عبادت سے سر شار،اعتدال و مساوات کے روشن کردار،فطرت کے اصولوں کے نگہبان ، عدل و انصاف کی روشن و منور قندیلوں جیسی حسین و جمیل خوبیوں کی خوشبوؤں سے مالا مال انسانی پیکر تیار ہوں گے ،ایک عطار کی طر ح گذرگاہ حیات میں جہاں سے گذریں گے نیکی ،بھلائی اور خیر کی خوشبوئیں پھیلاتے جائیں ۔ ان کاوجود اس جہان رنگ و بو میں باد نسیم اور باد شمیم کیطرح رحمتوںکی لطافتوں کی ہوائیں بن کر پھیلتے ہیں۔ملک کے کرسچن جمہوریت کے تیار کردہ سرکاری طبقاتی نظام حیات میںکسان مزدور محنت کشوں کی ا ولادیں، ہنرمند معمار، چپڑاسی چوکیدار ،مالی،بھنگی،گن مین،ڈرائیور، کک، بہرہ،پولیس میں سپاہی،افواج پاکستان میں بیٹ مین،سپاہی،کلرک اور اسی طرح کا نیچ ذات کا شودر طبقہ،غلام طبقہ،محکوم طبقہ جب بھی ان جان نثاروں کو جہاں کہیں پکارا،انہوں نے ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔کشمیر ہو یا بنگلہ دیش، کرگل کی برفانی پہاڑیاں ہوں یا چوندہ کا محاذ،دشمن کے چھ سو ٹینکوں کا سامنا ہو تو نو سو نوجوان بارود باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹنے اور انکو خاکستر کرنے کیلئے تیار، لیکن بد قسمتی سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانش کدہ کے لینڈ لارڈ سکالروں،دانشور سرمایہ دار وں، نے بھی جو کام ،جو محنت، جو جان نثاری،جو ہنر مندی جو فریضہ اس ملک کے لئے سر انجام دیا ہے اسکا ذکر تو کریں۔انکا اعمال نامہ انکے ہاتھ میں ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے مسلم امہ اور اسکی آنیوالی نسلوں کے ساتھ ایک بھیا نک اور عبرتاک اینٹی کرسچن جمہوریت کا حکومتی کھیل جاری کررکھا ہے، جومسلم امہ اور دین محمدیﷺ کے ضابطہ حیات کے خلاف ایک کھلا دھوکہ اور ایک بد ترین فراڈ ہے جس کے ذریعے انکا دین و دنیا چھینے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اہل وطن کا معاشی اور معاشرتی قتال جاری کررکھا ہے۔ ایک وحشی کی طرح مسلم امہ کا آسمانی نظریہ حیات، انکی الہامی اور روحانی تعلیمات ،انکا فطرتی اصولوں پرمشتمل ضابطہ حیات ، انکی درس و تدریس کی درسگاہیں،انکا تعلیمی نصاب،انکا معاشی نظام،انکا معاشرتی نظام ، انکا ازدواجی زندگی کا نظام، انکے معاشی اور معاشرتی بنیادی حقوق ایک رہزن کی طرح چھینتے جا رہے ہیں۔ کتنے ظلم کی بات ہے کہ مسلم امہ اور انکی نسلوں کو کرسچن جمہوریت کے اسمبلیوں کے سیاسی ممبران پر مشتمل دانشوروں کا تیار کیا ہوا نظریہ حیات انکی تعلیمات انکا ضابطہ حیات انکا معاشی اور معاشرتی نظام حیات،انکا طبقاتی طریقہ کار،انکا اجتماعی ظلم و جبر،انکا معاشی و معاشرتی طریقہ قتال انکا تصرفانہ طرز حیات کا نظام،انکا ملکی مال و دولت وسائل اور خزانہ کی امانتو ں کو لوٹنے کا حکومتی طبقاتی طریقہ کار، انکا دین محمدیﷺ کی چا د ر اور چار دیواری کی شرم و حیا جیسی مرد و زن کی دینی دیوار کو مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت اور مخلوط معاشرہ کے ذریعہ اس الہامی نظام کو توڑنے، روندنے کا گھناؤنا عمل جاری ہے ، کرسچن جمہوریت کے نظریات کی روشنی میں اس دیوار کو توڑ کر ، فحا شی ، بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کا گھناؤنا کھیل سرکار ی طور پر ملک میں نافذ کر دیا ہے،ان سے قبل انگریز نے پہلے شہروں اور بستیوں سے الگ تھلگ مرد و زن کو آزادی سے ملنے،فحاشی،بے حیائی،بدکاری اور زناہ کاری کیلئے ریڈلائیٹ ایریا بنائے ہوئے تھے۔ وہ تو رات گیارہ بجے کے بعد بند کر دئے جاتے تھے، لیکن مسلم امہ کے ان سیاستدانوں نے تو کمال کر دی ہے۔انہوں نے تو مخلوط معاشرے کا قانون نافذالعمل کر کے تمام ملک کو ریڈ لائیٹ ایریا بنا کر مغربی ممالک کی طرز کا pr0stitute یعنی چکلہ بنا کر رکھ دیا ہے۔کرسچن جمہوریت کے نظام اور اسکے حکمرانوں نے اہل وطن سے ان کا شرم و حیا کا پاکیزہ ما حول اور دینی نظام چھین لیا ہے، فکر انسانی یہ کبھی قبول نہیںکریگی کہ مسلم امہ کو دینی ضابطہ حیات اسکی تعلیما ت ، اسکی طرز حیات،اسکی کردار ساز ی ، اسکے تشخص کو سینچے بغیر اور اسلامی ماحول مہیا کئے بغیر اس پر حدود آرڈینینس کا نفاذ مسلط کر کے انکو اسلام کی سزائیںدی جائیں، انکا مخلوط طبقاتی تعلیمی نظام ، حکمرانی کا سسٹم، افسر شاہی،منصف شاہی، نوکر شاہی، آقا اور غلام،حاکم اور محکوم،افسر اور بیٹمین،برہمن اور شودر کے بد ترین اندوہناک نظام سے دو چار کر رکھا ہے۔ دنیا اس وقت کرسچن جمہوریت کا دانشکدہ یعنی آتش کدہ بن چکا ہے۔اس دانش کدہ کے دانشور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی الہامی روحانی تعلیمات کو روند کر انکے کلچر،انکی تیار کی ہوئی تہذیب کو نیست نابود کئے جا رہے ہیں۔دنیا میں مذاہب پرست امتوں میں یہ نمرودی، فرعونی ،یزیدی ٹولہ ایک منافق کی حثیت میں داخل ہو چکا ہے۔دنیا عالم میں پاکستان پہلا ملک ہے جو اس مغربی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور اسکے دانشوروں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے یہ دانشور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تعلیمات،انکے اخلاقیات،انکے کردار،انکے شرم و حیا اور ازدواجی زندگی کے الہامی نظام اور انکے تہذیب و تمدن کو روندتے جا رہے ہیں۔
یہ نظام حکومت اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوںحکمرانوں کی بنیادی ضرورت ہے۔جس سے وہ حکومت قائم رکھنے کیلئے اپنے مخالفین پر بھینسوں کے پرچے درج کروا سکیں،قتل میں ملوث کروا سکیں، اپنے مخالفین کے ساتھ جیلوں میں بد کاری کروا سکیں، اپنے مخالفین کا قتال کروا سکیں، غریب غربے کی بیٹیوں کو اٹھو اسکیں، انکی اونے پونے داموں جائیدادیں چھین سکیں، ملک میں ہر قسم کا ظلم اور جبر مسلط کر سکیں،تمام جماعتوں کے غدار،باغی،مجرم مل کر ایک نئی غداروں اور مجرموں کی جماعت بنا کرایک بہت بڑی تعداد میں مشاو ر تیں،وزارتیں اور تمام حکومتی عہدے آپس میں تقسیم کر لیں،ملک کے تمام وسائل، دولت، خزانہ اور ہر قسم کے کاروبار پر قابض ہو بیٹھیں۔انکے شاہی اخراجات عوام برداشت کریں۔ انکی،انکی جمہوریت کی سیاست اور انکی اسمبلیوں کے ممبران کے کردار کی بد ترین مختلف بھیانک تصویر یں ہیں۔ان حقائق کو نہ یہ جھٹلا سکتے ہیں اور نہ ہی انکا کوئی سیاسی ورکرجھٹلا سکتا ہے۔ پاکستان میں اینٹی کرسچن جمہوریت کی سرکاری سرفرازی اور بالادستی ملک پر مسلط ہے۔ انگریز کے مفتوحہ ملک اور محکوم عوام پر انگریزوں کے پروردہ حکمرانوںکی مکمل ا جارہ داری قائم ہے۔ اندرون ملک تمام پالیسیاں اور قانون انکے ،لوٹ مار جیسے غاصب سسٹم انکے ،انکے تحفظ کے تمام قوانین انکے ، اندرونی اور بیرونی ممالک کی تجارت پر گرفت انکی، غریب ومفلس عوام کی بیٹیوں کو بطور ملازم یعنی ایک داشتہ کی حثیت سے ملازمت مہیا کرنا،مخلوط نظام قائم کرنا،ہارس ٹریڈنگ سے لوٹ مار مچانا، ہر بدعملی ، بداعمالی ،بدقماشی ،معاشی اور معاشرتی ظالمانہ ملکی قانون اور جرائم کی دنیا پر قبضہ انکا، ان کا ہرعمل، ہرکام حکم خداوندی کے خلاف،لیکن کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ ان تمام معاشی اور معاشر تی جرائم کو جمہوریت کے نظام حکومت کی بالا دستی کے ذریعے مسلم امہ پر مسلط کر رکھے ہیں۔ اس ظالمانہ نظام اور انکے مسلط کئے ہوئے جبر کو پاش پاش کرنا ایک دینی فرض ہے۔
۱۳۔ اسمبلی کے دروازے پر کلمہ شریف اور اسمبلی ہال میں اسلام کے باغیوں، جابروں، ظالموں، فاسقوں، فاجروں ، ڈاکوؤں ، لٹیروں ،دہشتگردوں، نوابوں، سرداروں، جاگیردا ر وں، خان بہادروں، سمگلروں، سرمائے داروں پر مشتمل سیاسی جماعتوں۔ اسلامی دینی جماعتو ں کے دین کش علما اور مشائخ کرام کا ہجوم۔ جن کا ماٹو اقتدار کو حاصل کرنے اور اسکو قائم رکھنے کے لئے حکومت وقت اور اپوزیشن ممبران کو توڑنے جوڑنے کا عمل جاری رکھنا ہوتا ہے ، ہارس ٹریڈنگ کا جرم انکا جمہوری ورثہ ہے حکومت کو قائم رکھنے کیلئے ہر قسم کی مراعات اور وزارتوں کی پیشکش اور لاکھوں، اربو ں کی بولیاں ان کا روز مرہ کاعمل بن چکا ہے، ملک میںذکوٰۃ کے فنڈ، ملکی خزانہ اور وسا ئل ہضم جو ان کے اقتدار کی جنگ میں آپس میں تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔ جب حکومتیں کمزور پڑتی ہیں تو وزرا کی تعداد اور انکے عملہ کی تعداد بڑھا لی جاتی ہے۔ ملکی خزانہ لٹا دیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کے تمام قرضے بھی انہوں نے اسی طرح چاٹ لئے ہیں۔ ان سیاستدانوں ، حکمرانوں کا نادر شاہی ظالمانہ طرز حیات کیوں!۔ یہ تمام مال و متاع ،یہ تمام ملکیتیںجو ان کے پاس ہیں وہ سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کی ہیں۔ یہ سب ملت کے مجرم ہیں۔!انکی تمام جائیدادیں ضبط کرنا، انکی شاہانہ زندگی کا غاصب رائج الوقت جمہوریت کا نظام ختم کرنا اہل وطن کی ذمہ داری ہے۔
۱۴۔ سولہ کروڑ عوام کو بلوں ، ٹیکسوں اور مہنگائی میں جکڑ کر ان کو نیم جان بنا کر مفلوج کر رکھا ہے ۔ ان سربراہان،انکے وزیروں مشیروں ، انکے سرکاری اعلیٰ عہدیداروں، انکی افسر شاہی اور منصف شاہی کے تفاوتی ،طبقاتی، تصرفانہ اخراجات اس قدر وافر ، ناجائز اور شاہانہ طرز حیات پر مشتمل ہیں۔کہ جن کی مثال اسلامی تاریخ میں نایاب ہے۔ ان کے ہر قسم کے سیکنڈل ایک دوسر ے کو مات دیتے ہیں۔ جمہوریت کے اس کرپٹ رائج الوقت نظام کے داعی اور خالق ہر قسم کی بدقماشی ، بدکرداری کے ولن بن کر مسلم امہ پر مسلط ہو چکے ہیں۔ اسلام کا نفاذ ان کے لئے صرف ناقابل عمل ہی نہیں۔ بلکہ زہر قاتل ہے،وہ کیسے اس کو قبول کریں۔انکے سکینڈلوں کا حساب نہ پوچھو۔یہ تو ہرجرم کے بعد پارسا بن کر باپ بیٹے حکومتوں میں داخل خارج ہوتے رہتے ہیں ۔اے اہل وطن ان کے سکینڈلوں کی طرف تو ذرادیکھ لو ۔ سربراہ سیکنڈل ، رضی فارم سیکنڈل ہیلی کاپٹر سیکنڈل پرہیزگار سیکنڈل سرے محل سیکنڈل، رائے ونڈ ہاؤ سکینڈل، شاہی پیلس سکینڈل سٹیل ملیں سیکنڈل، مردانہ سیکنڈل، نسوانی سیکنڈل ، وزیروں کے سیکنڈ ل ،مشیروں کے سیکنڈل کمیشنوں کے سیکنڈل بے حساب سیکنڈ ل بیرون ملک سیکنڈل اندرون ملک سیکنڈل، رشو تو ں کے سیکنڈل، کمیشنوں کے سکینڈل ،ملکی ملکیتوں کے فروخت کرنے کے سکینڈل، سونے کے سیکنڈل، ہیروئن کے سیکنڈل،سمگلنگ کے سیکنڈل، ڈالروں کے سیکنڈل ۔ قتل لیاقت سیکنڈل ، قتل ضیاء سیکنڈل، قتل مرتضیٰ سیکنڈل، قتل بگتی سکینڈل، زرداری سیکنڈل ، ہر قسم کے سکینڈل ،ان کے محلو ں کے سیکنڈل ۔ ان کی زمینوں کے سیکنڈل، ملیں سیکنڈل، کارخانے سیکنڈل، بنکوں کے سکینڈل عدالتوں کے سیکنڈل ، نظاموں کے سیکنڈل ، جاگیرداروں کے سیکنڈل، بی بی سیکنڈل ، میاں سیکنڈل، شاہ جی سکیڈل ،گرو سیکنڈل ،چیلے سیکنڈل، احتساب سیکنڈل، طوالت سیکنڈل، سزا سیکنڈل، جیل سیکنڈل، سیاسی سکینڈل،دینی سکینڈل، مجرموں کی سزاؤںکو معاف کرنے کے سکینڈل،اربوں ڈالرز کے معافی کے سکینڈل۔یہ جمہوریت کے بھیڑئیے ہیں ہے کوئی انکا احتساب کرنے والا!۔
۱۵۔ اے مرد حق !اے رہبر ملت !اے میر کاواں!یہ سکینڈل تجھے اور تیرے رفقا کو اپنے ،ملک کے جرائم کی داستاں سنائے جا رہے ہیں۔انکی طرف بھی رجوع فرمائیں۔یہ ملت کے جسد پر ناسور ہیںانکا بھی کوئی علاج کی جئے۔یہ سیاسی معاشی دجال ہیںان سے مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کو نجا ت دلا دیجئے۔یہ ملکی خزانہ اپنے محلوںمیں چنوائے جا رہے ہیںان کا ہاتھ بھی ذرا روک لی جئے۔ انکی شاہانہ تصرفانہ حیات پر بھی ایک نگاہ ڈال لی جئے۔ مسلم امہ کا دین و دنیا لوٹنے والوں کا بھی کوئی علاج تو کر دیجئے۔اعتدال و مساوات کو کچلنے والوں کا کوئی تدار ک تو کیجئے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے طبقاتی تعلیمی نصاب ، طبقاتی تعلیمی اداروں اور مخلوط تعلیمی نظام کا رخ تو دین محمدیﷺ کی طرف تو موڑ دیجئے۔ملت کو اسکی بینائی، اسکے کان، اسکی سماعت،اسکا شعور تو واپس دلا دیجئے۔ملت کو اسکی قومی زبان اردو تو بحال فرما دیجئے۔ملت کو ان کرسچن جمہوریت کے آمروں سے تو نجات دلا دیجئے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے ظلمت کدے سے نکلنے کا دینی راستہ تو کھول دیجئے۔ مسلمانوں کے سولہ کروڑ فرزندان کو انکا دین اور دین کی روشنی میں معاشیات کا نظام تو واپس کروا دیجئے، ملک میں معاشی عدل تو قائم کر دیجئے، انکو مخلوط تعلیمی نظام کی تباہی سے تو بچا لیجئے ، خدا را ملت کے ازدواجی رشتہ کے مذہبی کلچر کو تو بچا لے جئے، مسلم امہ کی نسلوں سے ماں کی مامتا اور باپ کی شفقت کی فطرتی دولت تو نہ چھین لی جئے۔ اے قادر مطلق تو مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کو دینی عمارت کے تحفظ کی صلاحیت اور راہِ ہدائت عطا فرما۔انکو تو فیق عطا فرما۔توبھولے بھٹکوں کی رہنمائی فرما۔ رحم فرما،کرم فرما۔تو دین محمدی ﷺ کی نگہبانی اور نگرانی میں ملت کا تشخص تیار کرنے کا فریضہ ادا کرنے کی ہمت عطا فرما۔امین
فقیر بے نوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابا جی عنائیت اللہ