To Download or Open PDF Click the link Below

 

  اینٹی کرسچن جمہوریت کے پجاریوں کے نام ایک اہم پیغام
عنایت اللہ
۱۔اے اینٹی کرسچن جمہوریت کے پجاریو! یہ سیاسی دہشت گردی ،یہ معاشی اور معاشرتی قتال اور یہ مذہب کشی کی جنگ بند کرو۔
۲۔ تمہاری صوبائی اسمبلیاں، وفاقی حکومت، سینیٹ کا ایوان صرف بارہ چودہ سو ممبران پر مشتمل ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے عبرت کدے کے کل پجاریوں کی تعداد ملک میں صرف سات آ ٹھ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ ملک کا اقتدار ملک کی حکومت ،ملک کے وسائل ،ملک کی مال و دولت ،ملک کا خزانہ ،جاگیر دار، سرمایہ دار ،سمگلر، لینڈ مافیہ ،کمیشن خور،منافع خور تاجر اور معاشی رہزن سیاسی طبقہ اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی میرا ث اور ملکیت ہے۔ صرف یہی طبقہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن کے شاہی اخراجات برداشت کر سکتا ہے ۔ پندرہ کروڑ عوام ان کے ووٹر کی حثیت رکھتے ہیں۔ انکی تاریخ مختصر اور دل سوز ہے، یہ انگریز کا پالتو جاگیر دار ، سرمایہ دار، اعلیٰ عہدیدار پر مشتمل ایک طبقہ ہے جو اس ملک کا حاکم اور پندرہ کروڑ عوام انکے محکوم،غلام،نوکر،قیدی بن چکے ہیں۔ ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک اس طبقہ کی حاکمیت پاکستان پر مسلط ہوتی جا رہی ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاست کا نظام انکا ذریعہ اقتداراور الیکشن ان کا سیاسی پیشہ بن چکا ہے ۔ جمہوریت کا ضابطہ حیات،اسکی صوبائی اسمبلی کے ممبران، قومی اسمبلی کے ممبران اور سینٹ کے ممبران کا پنڈال ،اسکا تعلیمی نصاب اور تعلیمی ادارے،اسکے انتظامیہ، عدلیہ کے ادارے ،یہ تمام ادارے ایک آہنی سلاخونوں پر مشتمل ایسا قانونی پنجرہ ہے جس میں پندرہ کروڑ مسلم امہ اور اسکی نسلیں مقید ہیں۔ جسکے ذریعہ پندرہ کروڑ عوام دین محمدی ﷺ کی سرکاری سرفرازی جسکی خاطر یہ ملک بنایا گیا تھا اس سے محروم کر دی گئی ہے۔مسلم امہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کی قیدی اوربے دینی کی زندگی کے کینسر میں مبتلا ہو چکی ہے۔
۳۔اسی معاشی اور معاشرتی حکومتی طبقہ کا ملک کے اقتدار تک رسائی نصیب بن چکا ہے۔ملکی وسائل ، ملکی دولت اور ملکی خزانہ کسانو ں، مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام کی محنت و مشقت کا ثمرہے، جو وہ تیار کرتے رہتے ہیں،جو اینٹی کرسچن جمہوریت کے ان سیاستدانوں کے شاہانہ ،تصرفانہ نظام حیات اور انکی آپس کی بندر بانٹ کی نظر ہوتا جاتا ہے، ملک انکی ملکیت اور عوام انکی قیدی بن چکی ہے، اینٹی کرسچن جمہوریت کے ان عظیم دانشوروں نے ملکی سیاست ، الیکشن ، اسمبلیاں، اقتدار، حکومتوں پر مشتمل یہ تمام شعبے اپنے مخصوص فنکشن کے ذریعے چلا کر مذہب کے بنیادی نظریات کیخلاف اعتدال و مساوات کا توازن ختم کر دیا ہے اور عدل و انصاف کو کچلتے جا رہے ہیں۔ ملت اپنے دین کے نظریات،اس کی تعلیمات سے محروم اسکے اخلاق و کردار سے محروم،اسکے عدل و انصاف سے محروم، اسکے امانت و دیانت کے ضابطہ سے محروم، اسکے اخوت و محبت کے جذبوں سے محروم،اسکے ایثار و نثار کے وقار سے محروم ، اسکی آفادیت سے محروم ،اسکی چادر اور چار دیواری کے نظام سے محروم،اسکے معاشی اور معاشرتی نظام حیات سے محروم اور بد نصیبی کی انتہا یہ ہے کہ پوری امہ اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات،ضابطہ حیات اور تعلیمات کی تباہی کے لا متناہی صحرا میں گم ہوتی جا رہی ہے۔اسکا کوئی پرسان حال نہیں۔ملت اپنے ملی تشخص سے محروم ہو چکی ہے۔
۴۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں اور حکمرانوں کے ایسے بھیانک کردار ہیں۔ جنہوں نے ملک میں معاشی ، معاشرتی ، انتظا می،عدالتی،مذہبی شعبوں کو اس طرح کرش کر دیا ہے کہ ہر شعبہ اپنے اپنے زخموں کی اذیتوں سے سسکتا ،تڑپتا،دم توڑتا اور بے بسی سے کراہتاچلا جا رہا ہے۔اسکا علاج حکیم الامت اور شب بیداروں اور حضور نبی کریمﷺ کے ادب کرنے والوں کیعلاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔یا اللہ ان طیب اور اہلیت کے وارثوں کو مل بیٹھنے اور غور فکر سے کام لینے کی توفیق عطا فرما کہ وہ اس نیم جاں امت کو دین کے نور سے پھر نئی زندگی عطا کرسکیںاور ملت ظلمات کے صحرا سے نکل سکے۔ آمین۔
۵۔ جمہوریت کی سیاست اور اسکے دانشور! یہ طبقہ سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔جو ملک کے سیاہ سفید کا مالک ہے۔ حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے ارکان، ایک دوسرے کے خلاف مختلف جرا ئم کے مواد اسمبلی ہالوں اور سینٹ ہالوں کے ریگزار میدانوں میں شعلہ بیانیوں سے پیش کرتے رہتے ہیں۔حکومتیں اپوزیشن کے سیاستدانوں کے خلاف ثبوت رسائل اور اخبارات میں شائع کرتی رہتی ہیں۔ اسکے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی پر انکو اور انکے کردار کو مشتہر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسے قوانین اورسسٹم ملک و ملت پر مسلط کر رکھے ہیں جس سے جمہوریت کے ایم پی اے،ایم این اے،سینیٹر،وزیر و مشیر ،وزیر اعلیٰ ،وزیر اعظم ، گورنر و صدر مملکت ملک کے تمام وسائل، دولت ، خزانہ اور عوام الناس کی محنت کی کمائی کا ثمر انکے شاہی اخراجات ،شاہی تنخواہوں،شاہی سرکاری سہولتوں اور عیاشانہ فرعونی نظام حیات کا ایندھن بنا جاتا ہے ۔ عوام کے وسائل،دولت اور خزانہ اقتدار کی نوک پر چھیننا ،شاہانہ اور تصرفانہ زندگی گذارنا ایک بد ترین فرعونی عمل ہے،فرعون کے اس عمل پر اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے،ایسا نظام مسلط کرنے والے اللہ تعالیٰ کی اس لعنت کے وارث اور مستحق ہیں۔عوام کو اپنے حقوق کا ملکی سطح پر تحفظ کرنا ایک اعلیٰ عبادت کا حصہ ہے۔
۶۔ ہارس ٹر یڈنگ!
سیاستد انوں کا ایک سیاسی سلوگن ہے جس سے حکومتوں کو تشکیل دینے کیلئے سرکاری دولت،وسائل اور خزانہ کا منہ کھول دیا جاتا ہے۔ حکو متیں اپوزیشن کے سیاسی ممبران کو اپنے ساتھ ملانے اور حکومتیں بنانے، قائم رکھنے کیلئے کروڑوں، اربوں کی رقمیں بطور رشوت ادا کرتی چلی آرہی ہیں۔اسکے علاوہ وزیر اعلیٰ،گورنروں، اعلیٰ ، قیمتی اور رشوت والی وزارتوں کے الگ سودے طے ہوتے ہیں ۔ملوں،کارخانوںکے فنڈ علیحدہ بانٹ لئے جاتے ہیں۔ انکے تمام جرائم، تمام حقائق و واقعات،تمام مشتہر جرائم حکومت میں شامل ہونے کے بعد واش ہو جاتے ہیں۔ پھر سے یہ تمام بد ترین جرائم پر مشتمل کردار حکومت اور اپوزیشن کے کارندے اور نمائندے ملکی وسائل،مال ودولت،خزانہ کی لوٹ مار کا عمل شروع کر لیتے ہیں، اسمبلیوں میں بیٹھ کر حکومتی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اندرون ،بیرون ممالک اچھالتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کیخلاف کیس مختلف ملکی اور بین الا قوامی سطح پر اچھالتے رہتے ہیں۔سرے محل ہوں یا رائیونڈ ہاؤسز،شاہی پیلس ہوں یا کارخانے،ملیں ہوں یا فیکٹریاں،ملکی بنکوں میںانکی رقمیںجمع ہوں یادنیا بھر کے سوکس بنکوں میں یہ سب پندرہ کروڑ اہل وطن کی میراث اور ملکیت ہیں۔ یہ سب غاصب ملک کی دولت،خزانہ اور وسائل مل کر لو ٹتے چلے آرہے ہیں جو ان سے واپس لینا ملت کے ہر فرد کا حق ہے۔انکے معاشی اور معاشرتی جرائم کے مواد ، رسائل، اخبارات، ریڈیو، ٹی وی، اسمبلی ہالوں اور سینیٹ کے ایوانوں میں بطور بلٹن پڑھ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ تقریروں، خبروں میں تفصیلا مع تحریری ثبوتوں کے ایک دوسرے کے خلاف ملت کو آگاہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ احتساب بینچوں میں اس سے پہلے بھی اور ا ب بھی ایک دوسرے کے خلاف کیس زیر سماعت چلے آ رہے ہیں۔ یہ کیس سیاسی چیک ہوتے ہیں،جو سیاستدان اور حکمران سیاسی گٹھ جوڑ کے وقت کیش کرواتے چلے آرہے ہیں۔ ملکی خزانہ اور وسائل ہی نہیں۔ انہوں نے تو آئی ایم ایف اور دوسرے دوست ممالک کو بھی کنگال کر دیا ۔ ملک اور عوام چالیس ارب ڈالر کے مقروض ہیں مگر ان کے پیٹ ہوس کی آگ سے پھر بھی نہیں بھرے۔ بلکہ انکی تشنگی اور بڑھتی جا رہی ہے۔انکے اور انکی تجارت کے پاؤں تمام ترقی یافتہ ممالک تک پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ان غاصب چند آمروں نے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم سے ایک شاہی حکومتی قبیلہ بنا رکھا ہے۔ جن کے پاس ملک و ملت کی تمام دولت،وسائل ،تجارت اور خزانہ کی چابیاںخود کار سسٹم کے تحت پہنچ جاتی ہیں اور انکی ملکیتوں میںبدلتی جاتی ہیں جو در اصل عوام الناس کی ملکیت ہیں۔ جس ملک کی دولت اور وسائل اور غیر ملکی قرضے چند گنتی کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل بطن سے پیدا ہونے والے امیر زادے، پیر زادے، خان زادے، نواب زادے، ملاں زادے لوٹ کھسوٹ، رشوت، سمگلنگ ، ہارس ٹریڈنگ جیسے بھیانک جرائم کو جائز اور حق سمجھ کر اور اقتدار کو حاصل کرنے اور قائم رکھنے کے لئے یہ بدمست ہاتھی کی طرح ملک کے ہر قانون اور عدل کے نظام اور دینی ضابطہ حیات کو روندتے پھریں۔ کسی منصف کی جر ات نہیں کہ وہ آج تک انکا ہاتھ روک سکے۔ کیا یہ سیاستدان حکومتیں بناتے وقت ایسے تمام لوٹ مار کے کیس ایک دوسرے کو معاف کرتے چلے نہیں آرہے،کیا یہ سیاستدان اپنی حکومتیں بناتے وقت ایک دوسرے کے لوٹ مار اور سرکاری خزانہ کے غبن کے کیس اور قید و بند کی سزائیں معاف کرتے چلے نہیں آ رہے،کیا وہ ملکی ملی مجرم پھر سے حکومت میںشامل ہوتے اور اس ملک اور اسی ملت پر حکمران بن کر مسلط نہیں ہو جاتے، حال ہی میں پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر صاحبہ کے خلاف ایسے تمام کیس حکومت نے معاف اور فارغ کر نہیں دئیے،کیا انکے بنکوں میں جمع اربوں ڈالر ان حکمرانوںنے انکو واگذارکر نہیں دئیے،کیا احتساب کمیشن یا ملک کا کوئی قانون انکے آڑے آیا ہے۔کیا احتساب کمیشن ، اسکے محتسب اور اسکے عملہ کے شاہی سرکاری اخراجات حکومت پاکستان کی غریب عوام نے برداشت نہیں کئے،کیا ملک میں ایسے کالے قوانین اور غاصب حکمران ایسے کرتے چلے نہیںآرہے، محلوں کی سازشوں سے اپنی اپنی جماعتوںکے غدار عددی برتری حاصل کر کے ملک میں سیاسی غداروں کی ایک نئی سیاسی جماعت بنا کر اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں میں کامیابی حاصل کر کے ملکی اقتدار پر قابض ہو کر اسی عددی برتری سے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنتے چلے نہیں آرہے،اسمبلیوں میں بیٹھ کر دین محمدیﷺ کے ضابطہ حیات کو روندتے ،ٹیکسوں کے ذریعے عوام سے انکی مالی تنگدستی کے باوجود انکی متاع حیات چھینتے ، منگائی کے ذریعہ انکو ضروریات حیات سے محروم کرتے ، پندرہ کروڑ انسانوں کو غربت، تنگدستی اور مفلسی کے ایک عبرتناک المیہ میں مبتلا کرتے چلے جا نہیں رہے ۔
۵۔ حکومتیں بنانے کے بعدکسانوں، مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کے پیدا کردہ وسائل،دولت،خزانہ کی ملی اور ملکی امانتوں کو بے دریغ شاہی تصرفانہ طریقے سے استعمال کرنا شروع کرتے جائیں۔انکو کوئیروکنے والا ہی نہیں ہوتا۔ انکے خلاف لب کشائی کرنا جہاں جرم ہو،ملک پولیس سٹیٹ بنا لیا گیا ہو۔ملک کی خوشحالی کا ناپ تول کا پیمانہ انکے کارخانوں،انکے کاروباروں انکی بڑی بڑی لا جواب کاروں،انکے شاہی محلوں،انکی جاگیروں ،انکے بچوں کی شاہی اداروں میں تعلیم و تربیت اور ان کے شاہانہ روز مرہ کے اخراجات ،انکے صدر ہاؤس،وزیر اعظم ہاؤس ،گورنر ہاؤسز،وزیر اعلیٰ ہاؤسز ،وزیر ہاؤسز،مشیر ہاؤسز، سفیر ہاؤسزانکی کلبوں ،انکے ہوٹلوں،انکے اسمبلی ہالوں کے اربوں،کھربوں کے اخراجات اور انکے بنک اکاؤنٹس سے ناپا تولا جائے تو دنیا کا کوئی ملک خوشحالی میں انکا مقابلہ نہیں کر سکتا،ستر فیصد کسانوں، انتیس فیصد مزدوروں،محنت کشوں ، ہنر مندوںاور عوام الناس کی حالت زار کا ذکر نہ کرو انہیں بھول جاؤ۔پورے ملک میںکسی ایک گاؤں میں کوئی ایک انگلش میڈیم تعلیمی ادارہ، کوئی ایک کالج،کوئی ایک یونیورسٹی ہے تو ان سے پوچھ لو،شہروں میں بسنے والے انتیس فیصد مزدورو ں ، ہنر مندوں ، محنت کشوں اور عوام الناس سے بھی پوچھ لو کہ وہ شہروں میں انکے ان طبقاتی شاہی اداروں کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔ ان سے تو ٹیکسوں اور مہنگائی کی تلوار سے سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا پھندا، انکی زبوں حالی کا سبب ہے۔اس نظام سے نجات حاصل کرنا از بس ضروری ہے۔
۶۔ آمریت،بادشاہت یا اینٹی کرسچن جموریت کے پروردہ سیاستدان!
یہ نسلِ انسانی کے وہ روپ ہیں۔ جو ملکی وسائل دولت تجارت ،خزانہ اور عوام الناس کو گورنمنٹ کے انتظامیہ اور عدلیہ کے اداروں کی وساطت سے قابوکرلیتے ہیں،اعلیٰ سرکاری عہدیداروں افسر شاہی اور منصف شاہی کے طبقہ کو مال و دولت اور سرکاری سہولتوں سے نوازتے،انکو عوام کو کرش کرنے کیلئے اسمبلیوں کے ذریعہ ایسے غاصب قوانین تیار کرتے اور انکی بجا آوری کیلئے انکو ہر قسم کے اختیارات دیتے ہیںجن کے ذریعہ وہ متاع ارضی کی تمام دولت اور وسائل کو چھینتے اور اکٹھا کرتے ہیں اور یہ سیاستدان اور حکمران آپس میں ایک آمر ، ایک جابر، ایک غاصب کی طرح طبقاتی نظام حکومت اور طریقہ کار سے تقسیم کرتے رہتے ہیں۔کسان ، محنت کش اور عوام الناس غربت اور تنگدستی سے دو چار رہتے ہیں اور یہ چند غاصب ایک خوشحالی اور حکمرانی کی بد ترین ظالمانہ زندگی گذارتے چلے جاتے ہیں، دنیا کا لو بھ ، لالچ انکا مقصد حیات اور دنیا کی عیش و عشرت،اقتدار اور حکومت ا نکی زندگی کے سہانے سپنے ہوتے ہیں ۔ وہ اقتدار کے نشہ میں ڈھٹ ملکی دولت، وسائل اور خزانہ لوٹتے جاتے ہیں، عیش و عشرت پر مشتمل تصرفانہ، شاہانہ نظام حیات انکی پہچان بن چکاہے۔
۷۔ بد دیا نتی،کرپشن،رشوت، لوٹ مار،حق تلفی انکے ذرائع آمد ن ہیں۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن انکا وسیلہ اقتدار ہیں۔اسمبلیاں انکے کالے قوانین تیار کرنے کے ادارے ہیں۔ حکومتیں، وزارتیں ، مشاورتیں ، سفار تیں اینٹی کرسچن جمہوریت کے آمرو ں اور حکمرانوں کے نام ہیں ۔ شاہی محل اور تاج محل انکے قلعے ہیں۔ سرے محل،راے ونڈہا ؤ سز ، شاہی پیلسز،اور قیمتی کوٹھیاں، سرکاری محل،یہ شاہی سرکاری اور ذاتی قیمتی گاڑیاں ان کے کلچرکا نمائیاںبد ترین حصہ ہیں۔یہ قلعے ،یہ شاہی محل،یہ حصار انکی مادیت پر فوقیت اور انکی شان و شوکت اور عظمت کے نشان ہیں، اینٹی کرسچن جمہوریت کیسیاستدان، جاگیر دار ، سرمایہ دار، سمگلر، حکمران اور انکی اعلیٰ عہدوں پر فائزسرکاری مشینری قومی ، ملی دولت ،خزانہ اور وسائل کی امانتوں کو خوب لوٹتے اور نوچتے چلے جا رہے ہیں۔یہ ملک میں پھیلے ہوئے یہ سب عالیشان محل،یہ سب ڈیکو ریشنز ، یہ لینڈ کروزریں،یہ مرسڈیز، یہ پٹرول کے اخراجات ،یہ شاہانہ اخراجات ، یہ تصرفانہ زندگی کا فرعونی تمام نظام ،یہ زر مبادلہ اور خزانہ کا حشر نشر، انکے خلاف انکے جرائم کی منہ بولتی شہادتیں ہیں۔ انہوں نے ملک میں اعتدال و مساوت کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے ملکی وسائل،ملکی دولت ملکی خزانہ اور قیمتی زر مبادلہ کو ملکی زرعی ،صنعتی ترقی کی بجائے انکو شاہی محلوں کے اینٹ گاڑے، انگنت شاہی گاڑیو ں اور پٹرول کے قیمتی زر مبادلہ کے اخراجات کا ایندھن بنا رکھا ہے ۔ یہ ظالم اور غاصب ہی نہیں،یہ کمینے اور بزدل بھی ہیں۔
۸۔ یاد رکھو ! یہ لوگ جتنے بد دیانت ،ظالم،غاصب ہیں اتنے ہی ڈرپوک ، بزدل، اور اتنے ہی غیر محفوظ ہیں۔ انکے محلوں کے تمام محافظ اور تمام ملازمین گن مین، چوکیدار ، مالی، بھنگی،کک،خانصامہ اور تمام ملازمہ،انکی ملوں،فیکٹریوں، کارخانوں، انکے کاروباروں کو چلانے والی تمام ورکروں کی فوج جو ان محلوں اور ان تمام ملکیتوں جو اندرون ملک اور دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں، وہ انکے حقیقی مالک اور وارث ہیں ۔ان غاصبوں اور معاشی اور معاشرتی قاتلوں کو اس مال و دولت اور اقتدار کے چھن جانے کا خوف خطرہ ایک جان لیوا کینسر کی طرح ان کے شعور میں ہر وقت موجود رہتا ہے۔ انہوں نے مجبورو ں ، بے کسوں ، بے بسوں، اپاہجوںغریبوں، یتیموں، بیواؤ ں ، مظلومو ں اور عوام الناس کا خون ، اقتدار کی نوک پرانگنت ٹیکسوں اور مہنگائی کی سرنجوں کے ذریعہکھینچ کر بڑے مزے سے پےئے جا رہے ہیں ۔ انکو کوئی روکنے والا ہی نہیں۔انقلاب وقت انکے معاشی،معاشرتی اور دینی اقدار کو روندنے اور مخلوق خدا کو ان سے نجات دلانے کیلئے انکے سامنے آن کھڑا ہو ا ہے،یہ اب بچ نہیں سکتے۔انشا اللہ مخلوق خدا،انکے رائج الوقت اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اورسسٹم کے عذاب کی محکومی سے آزاد ہو گی۔
۹۔ پاکستان کو تو اسلامی تہذیب کا گہوارہ بنانا تھا۔
ان سیاستدانوں ،حکمرانوں نے تو ان تمام معصوم بچوں اور بچیوں کی آہوں، نیک اور پاک دامن بہنوں، بیٹیوں، اور ماؤں کی عصمتوں اور بزرگوں کی بے حرمتی کے زخم جو ۱۹۴۷ ء میں ہندوؤں اور سکھوں نے لگائے تھے منہدم کرنے تھے ۔ انہوں نے تو اس ملک کواسلامی تہذیب کامرکز تیار کرنا اور فلاحی مملکت کا نمونہ اقوام عالم کو پیش کرنا تھا۔رحمت اللعالمینﷺ کی تعلیمات کو عام کرنا تھا۔شرم و حیا کا تقدس قائم کرنا تھا۔امانت و دیانت کے چراغ روشن کرنے تھے۔ اسلام کی بالا دستی کو زندگی کے ہر شعبہ میں عام کرنا تھا۔ لیکن انہوں نے تو غیروں اور انگریزوں سے بڑھ کر بد عملی ، بدکرداری، بد قماشی، ظلم و زیادتی، قتل و غارت ، نا انصافی ، بدمعاشی ،بے حیائی، عصمت دری، زنا کاری، عدل کشی اور دین کشی کے گھناؤنے اور بھیانک کھیل اپنے اپنے دور حکومت میں جاری اور ساری رکھے ۔ وہ اس طرح متاع دین لوٹے جا رہے ہیں۔
۱۰۔ دین کے خلاف مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرے کا افتتاح۔
انہوں نے تو اینٹی کرسچن جمہوریت کی روشنی میں دین محمدیﷺکے خلاف مخلوط تعلیم، مخلوط حکومت اورمخلوط معاشرہ کی قانون سازی کر کے چادر اور چاردیواری اور شرم و حیا کی دیوار کو ختم کیاَ۔ فحاشی ،بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کی راہ ہموار کی۔اب حکمرانوں اور اسلامی سیاسی جماعتوں نے حدود آرڈیننس کو وجہ اختلاف بنا کر ملک میں شور مچا رکھا ہے ۔ جب انہی اسمبلیوںنے مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت اور مخلوط معاشرہ کا قانون اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دین محمدی ﷺ کے خلاف پاس کیا اور نافذالعمل کیا،اس وقت تو تمام اسلامی سیاسی جماعتوں نے اسکی پیروی قبول کر لی اور اپنی بیٹیوںکو لیکر اسمبلیوں میں پہنچ گئے ، جب اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کے مطابق معاشرہ تیار ہوٹا شروع ہوگیا،مسلم امہ کی نسلوں کو مخلوط زندگی گذارنے کی سرکاری اجازت حاصل ہو گئی ،اسکے بعد ایسے معاشرے میں فحاشی،بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کو کون روک سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اینٹی کرسچن جمہوریت کا دین قبول کرنا پڑا، ملک کو کنجر خانہ بنا دیا گیا ،انگریز کے بنائے ہوئے ریڈلائٹ ایریا جہاں مرد و زن ا یک دوسرے کیساتھ آزادی کیساتھ ملتے جلتے، فحاشی بے حیائی بدکاری اور زنا کاری کے مرتکب ہوتے تھے ،ا ن کے بازاروں کو رات گیارہ بجے قانونی طور پر بند کردیا جاتا تھا،لیکن ان مسلم امہ کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں نے تو کمال کر دی ہے۔انہوں نے مسلم امہ کو صرف کنجر خانے کا ماحول اور نظام حیات ہی نہیں دیا بلکہ مخلوط معاشرے کے ذریعہ مرد و زن کو ملنے جلنے،فحاشی ،بے حیائی،بد کاری اور جنسی آزادی کا ہمہ وقت کا لائسنس جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے اسلامی روح کو مسخ کر کے دینی نظام حیات کو روند دیا۔ ملک میں تفاوتی نظام قائم کیا۔طبقات کے ذریعہ حاکم اور محکوم ، براہمن اور شودر کو ذریعۂ حکمرانی بنایا۔غیر دینی تعلیمی نصا ب اور ان کیلئے اعلیٰ شاہی تعلیمی ادارے قائم کئے،مخلوط تعلیم کا عمل جاری کیا۔ان شاہی اداروں سے انتظامیہ اور عدلیہ کے ارکان تیار کئے۔ ہر قسم کے جرائم کی سر پرستی حکمران خود کرتے رہے اور ملک کے تمام شعبۂ حیات کو انکے سپرد کر کے انکا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھا۔ جو کوئی سرکاری عہدیدار، افسر شاہی یا منصف شاہی کا افسر انکے احکام بجا نہ لائے اسکی ترقی اور نوکری خطرے میں پڑی رہتی ہے۔ ملک میںہر قسم کا معاشی اور معاشرتی ظلم انکے فرائض کی ذمہ داری بنا دیا گیا ۔ سیاستدان اورحکمران از خو د دین کے خلاف اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل نظام کو ذریعہ اقتدار بنا کر ملک وملت پر مسلط ہو چکے ہیں۔ اس بد ترین نظام حکومت کو چلانے کی ہر قسم کی نگرانی سرکاری عہدیداروں، افسر شاہی اور منصف شاہی کے سپرد کر رکھی ہے۔جسکے عوض وہ انکو بڑی بڑی تنخواہیں،بیشمار سرکاری سہولتیں،بے پناہ اختیارات دیکر ۹۹۰۹ فیصدکسانوں، مزدوروں، محنت کشوںہنر مندوں اور عوام الناس سے انکے ہر قسم کے وسائل،مال و دولت،انکی محنت کا ثمر ان سے چھین کر انکو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کئے جا رہے ہیں۔اب انکا یوم حساب انکے قریب پہنچ چکا ہے۔اب وہ فطرت کے عمل سے بچ نہیں سکتے۔
۱۱۔ دین محمدیﷺ کے خلاف اینٹی کرسچن جمہوریت کی عدل کش،غیر دینی حکومتی بالا دستی۔
اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے انتظامی عدل و انصاف کے ڈھانچے کو اسلام کے سانچے میں بدلنا اورڈھالنا نہائت اہم اور ضروری ہے،مسلم امہ کیساتھ اسلامی دستور نافذ کرنے کا ۱۹۴۷ کا وعدہ ،ایک طویل عرصہ سے التوا میں پڑا ہوا ہے۔ اسکے متعلق ایک بل قومی اسمبلی نے تو پاس کر دیاتھا۔ اور کیس سینیٹ کو برائے ضروری منظوری بھیج دیا گیا تھا۔ وہ کہاں چلا گیا ۔اسکی تلاش کہاں سے کی جائے۔ملک کا ڈھانچہ اسلامی قدروں میں ڈھالنے کا عمل کب اور کیسے جاری ہوگا۔ اس سنہرے خواب کی نوید کب پوری ہوگی۔ وقت ان غافل اقتدار کے نشے میں دھت سیاستدانوں اور حکمرانوں کو کیسے نگلتا جا رہا ہے۔انکو، انکے زوال کی نوید دینا مناسب نہیں۔ وہ بہتر جانتے ہیں۔ اے دینی جماعتوں کے رہنماؤ غور سے سن لو تمہارے لئے یہ نامہ عبرت ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کو ترک کر دو اور علیحدگی اختیار کر لو، دین از خود نافذ ہو جائیگا۔مسلم امہ کو سیاسی مذہبی جماعتیں دھوکہ دئیے جا رہی ہیں۔دین کو سیاسی ٹکروں میں تقسیم مت کرو۔ملت کواس دھوکہ اور ظلم کے بعد تم کونسا چہرہ لیکر حضور نبی کریم ﷺ کے حضور پیش ہوگے۔ مسلم امہ کے فرزندان اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہلے یہ حکمران طبقہ انگریز کے ساتھ ملکراہل وطن سے غداری کرتا رہا۔ اب وہی ملکی غدار حسب روائیت اپنی سیاسی جماعتوں کے ساتھ غدار ی کر کے ایک نئی غداروں کی جماعت تیار کر کے مارشل لا کی حکومت میں شمولیت کرکے اپنے تمام جرائم کو واش کر چکے ہیں۔ہارس ٹریڈنگ کے طریقہ کار سے تمام سیاسی جماعتوں کے غدار مل کر ایک نئی حکومتی پارٹی بنا کر ملکی اقتدار پر قابض ہو بیٹھے ہیں،انہوں نے وزارتوں ، مشاورتوں ، سفارتوں اور سرکاری عہدوں کی تعداد بڑھائی اور مارشل لا کی چھتری تلے انکی ہارس ٹریڈنگ کی،اسکے علاوہ ملکی خزانہ سے دوسری سیاسی جماعتوں کے اقتدار پسند ممبران کو خریدا،ایسے سیاستدان جو مختلف کرپشن کے کیسوں میں ملوث تھے،انکو معافی نامے جاری کئے اور حکومت میں شامل کیا،اسمبلیوں میں عددی برتری حاصل کر لی۔ اسمبلیوں میں اسی عددی برتریسے ہر قسم کا باطل،غاصب قانون پاس اور نافذ کیا ۔افواج پاکستان ملک کا انمول اثاثہ ہیں ۔وہ پاکستان کے جھنڈے کی وارث ،نگہبان اور محافظ ہیں۔ سیاستدانوں نے انکو گمراہ کیا، ان سے پاکستان کا جھنڈا چھین کر مسلم لیگ ق کا جھنڈا ،انکے ہاتھ میں دیدیا۔ملک کا جھنڈا ان سے چھین لیا گیا۔افواج پاکستان کو سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر دیا گیا چند ابن الوقت سیاستدانوں نے ملک کے انمول اور قیمتی اثاثہ کو جماعتوں میں تقسیم کرکے اسکی وحدت اور جمیعت کو روند کر رکھ دیا ہے۔اسکے دور رس نتائج عنقریب سامنے آنے والے ہیں۔اس عمل سے ملک خانہ جنگی کی طرف بڑی تیزی سے اپنی مسافتیں طے کر رہا ہے۔فوج کے کور کمانڈروں کو اسکا تدارک کرنا ہو گا۔اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت مسلم امہ کیلئے ایک بد ترین جرم بن چکا ہے۔
۱۲۔اے کرسچن جمہوریت کے مذہب کے والیو!اے دین محمدیﷺ کے باغیو !
غور سے سن لو تم ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تہذیب ازدواجی زندگی ، چادر اور چار دیواری کے نظام،انکے اخوت و محبت کے درس،انکے امانت و دیانت کے اصول ، انکے مہر و محبت کے سبق،انکے حسن خلق کے ضابطے،انکے عفو و در گذر کے سلیقے،ا ن کی ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کی عبادت کو،انکے حسن خلق کے عمل کو،اعتدال و مساوات کی تعلیمات کو، عدل و انصاف کے ضابطہ کو ایک دجال کی طرح نگلتے جا رہے ہو۔تم خدا اور رسولﷺ کے نظریات،تعلیمات اور احکام کو بروئے کار لانے کی بجائے اینٹی کرسچن جمہور یت کے نظریات،تعلیمات اور احکامات مسلم امہ پر مسلط کئے جا رہے ہو۔تم کیسیبد نصیب اسمبلیوں کے ممبران اور حاکم وقت ہو،جو رسول عربیﷺ کی امت پر باطل ، غاصب نظام حیات سرکاری طور پراینٹی کرسچن جمہوریت کے ہارس ٹریڈنگ کے طریقہ کار سے خریدے ہوئے اسمبلی ممبران کے پاس کردہ فرعونی قوانین نافذالعمل کئے جا رہے ہو۔اللہ تعالیٰ کی لعنت سے بچ جاؤ۔کیوں مسلم امہ کے ساتھ دھوکہ کئے جا رہے ہو ۔ مسلم امہ کے فرزندان پر جب اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات ،نظریات،تعلیمات، احکا مات کی پابندی سرکاری طور پرمسلط ہو گی،تو انکا دین کیساتھ تعلق کیا رہ جائیگا ۔ مسلم امہ اسوقت منافقت کی زندگی گذارنے کی پابند اینٹی کرسچن جمہوریت کی غلام بن چکی ہے۔خبر دار اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن کا نظام ختم ہو چکا ہے، اب ہارس ٹریڈنگ اور اینٹی کرسچن جمہوریت کا دور ختم ہو چکا ہے انکانام لینا ایک گناہ عظیم بن چکا ہے۔
۱۳۔ کیمونزم،سوشلزم،ہندو ازم،بدھ ازم،آتش پرست مخلوق خدا اپنے اپنے ممالک میں اپنے اپنے نظریات پر مشتمل اپنے اپنے نظام حیات اور ضابطہ حیات کے مطابق اپنی اپنی زندگی گذارتے چلے آ رہے ہیں۔انکے نظریات اور عقیدے کے برعکس مذہب پرست امتیںپیغمبران کو تسلیم کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی وحدت،اسکے خالق و مالک ہونے کو مانتی ہیں ، پیغمبران کی الہامی روحانی کتابوں کوتسلیم کرتی ہیں۔ انکے نظریات، تعلیمات پر ایمان رکھتی اور عمل پیرا ہوتی ہیں،اللہ تعالیٰ کی توحید کو مانتی اور اسکی عبادت کرتی ہیں۔ پیغمبران کے ضابطہ حیات اور اخلاق و کردار کی پیروی کرتی ہیں ۔ تمام ممالک ، اقوام اورانسانی نسلوں پر مشتمل مخلوق کو مخلوق خدا سمجھتی ہیں۔بنی نوع انسان کے ساتھ حسن خلق اور حسن ادب سے پیش آتی ہیں،مخلوق خدا کی خدمت کو بجا لاتی ہیں،حترام آدمیت کا خاص خیال رکھتی ہیں ۔ اعتدال و مساوت کو قائم کرتی ہیں، امانت و دیانت کے عمل کو اپناتی ہیں۔ اخوت و محبت کے جام بنی نوع انسان کو پلاتی ہیں۔ تصرفانہ زندگی سے نفرت کرتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے تمام پیغمبران کی امتیں انکے عطا کئے ہوئے روحانی نظریات ،تعلیمات ، ضابطہ حیات سے دور، مختلف اور متضاد اینٹی کرسچن جمہوریت کے اسمبلیوں کے سیاسی ممبران اور انکے تیار کئے ہوئے فرعونی ضابطہ حیات،تعلیمات اور نظریات کے قوانین کو سرکاری طور پر ملکی سطح پر مسلط کرتی اور اسکی اطاعت اور پیروی کرنے کی پابند بنا لی جاتی ہیں۔ کتنے ظلم کی بات ہے کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی پیروکارو ں نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تعلیمات اور تہذیب کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ ، ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کی عبادت سے الگ کر کے رکھ دیا ہے،حق تلفی اور قتل و غارت انسانیت پر مسلط کر رکھی ہے بیمارو ںکو شفا عطا کرنے والی امتوں نے بنی نوع انسان میں مختلف جراثیمی بموں سے مہلک بیماریاں پھیلا نے کا عمل جاری کر رکھا ہے بھوکوں کو کھانا کھلا نے والوں نے معصوم بیگناہ بے بس انسانوں کے ممالک کی خوراک اور انکے آبی ذخائر کو تباہ کرنے کا عمل جاری کر ر کھا ہے۔ انکی امتوں نے مردوں کو زندہ کرنے والے معجزات کو بھلا کر انہوں نے ایٹم بموں اور جدید اسلحہ سے زندہ انسانوں کو مردوں میں بدلنے کا گھناؤناعمل جاری کر رکھا ہے۔پیغمبران کے تیار کئے ہوئے انسانی تشخص کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے نمرود،فرعون اور یزید کے تشخص میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ روحوں کو تسخیر کرنے والوں نے جسموں کو فتح کرنے کے بگل بجانے کا عبرتناک گھناؤنا کھیل جاری کر رکھا ہے، پیغمبران کے ہدی خوانوںنے انکی منزل کینشان ہی مٹا کر رکھ دئے ہیں۔ انہوں نے تو بنی نوع انسان کو توحید کا سبق سکھانا تھا ، پیغمبران کا تعارف کروانا تھا، انکی تعلیمات سے آشنا کروانا تھا۔انکے اخوت و محبت کے جام پلانے تھے۔ انہوں نے تو انکے کردار کی شمع روشن کرنی تھیں،انہوں نے توپیغمبران کی تہذیب کی آبیاری کرنی تھی،یہ تمام امتیں ایک المیہ سے دو چار ہو چکی ہیں، پیغمبران کے باغیوںانکے نظریات تعلیمات کے قاتلوں،انکے کردار اور تشخص کو کچلنے والوں ، انکے مذہب کے منکر اور منافق رہنماؤ ں نے اینٹی کرسچن جمہوریت کے روپ میں سیاسی دانشور تیار کئے، اسمبلیوں کے ذریعے قانون سازی کر کے ، انہوں نے پیغمبران کی تعلیمات ،ضابطہ حیات ، ادب انسانیت اور خدمت انسا نیت کی طرز حیات،انکی عبادات، انکی الہامی ،روحانی مقدس کتابو ں اور انکی روشنی میںتیار کی ہوئی ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تہذیب کو مغرب کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں نے کچل کر رکھ دیا ہے، مسلم امہ بھی اس بین ا لاقوا می اینٹی کرسچن جمہوریت کے مذہب کش المیہ کا شکار ہو چکی ہے۔ اس مذہبی سانحہ کو روکنے کیلئے تمام مسلم امہ کو ایک مرکز پراکٹھا کرنا ہوگا۔نمرود،فرعون اور یزید کے معاشی ، معاشرتی اینٹی کرسچن جمہوریت کے ظلم و قتال کے ضابطہ حیات کو روکنے کا صرف دین محمدی ﷺ کے پاس شورائی جمہوری نظام حکومت موجود ہے جو بنی نوع انسان کو اس المیہ سے نجات دلا سکتا ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے شرما دینے والے انسانیت سوز، ان تمام حالات و واقعات کا پس منظر مسلم امہ کے سیاسی رہنماؤں اورحاکموںکی دین سے دوری،انکی غفلت ، کوتاہی،لا پرواہی ہی اسکا سبب ہے جنہوں نے مسلم امہ کو دین محمدی
کے ضابطہ حیات،نظریات، تعلیماتاور شورائی جمہوری نظام حکومت سے آگاہ نہ کیا اور نہ اسکے مطابق کوئی حکومت قائم کی۔اہل اسلام کا یہ دینی فریضہ تھا اور ہے کہ وہ بنی نوع انسان کو آخری نبی الزماں حضرت محمد مسطفیٰ ﷺ کے دینی ضابطہ حیات، نظریات اور اسکی تعلیمات اور اسکے نظام حکومت کا عملی نفاذ کر کے بنی نوع انسان کی رہنمائی کا فریضہ ادا کریں۔یا اللہ اس امت کو اپنا دینی فریضہ ادا کرنے اور بنی نوع انسان کو راہ ہدایت کی منزل پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرما ۔امین