To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جمہوریت کے منہ زور،طاقتو ر استحصالی طبقہ نے مسلم امہ کو کرسچن جمہوریت کی تقلید کا پابنداور قیدی بنا رکھا ہے۔
عنایت اللہ
جمہوریت کایہ استحصالی طبقہ کتنا منہ زور، منظم اور طاقت ور ہے۔ کہ انہوں نے مغربی اور مشرقی پاکستان کو پہلے الگ کر دیا۔پھر مغربی پاکستان کو چار صوبوںمیں تقسیم کر دیا۔مغربی پاکستان کا نام پاکستان رکھ دیا ۔ ملک کی ایک اسمبلی سے پانچ اسمبلیاں قائم کر لیں ۔انکے علاوہ سینیٹروں کی اعلیٰ فوج ملک میں جتنی چاہی ، جیسی چاہی بھرتی کر لی۔ عوام ملک کے ٹوٹنے کے گھناؤنے زخم ، اسکی اذیت ، اسکے دردسے سسکتے ، بلبلاتے اور کراہتے رہے۔ادھر ان بے ضمیر سیاست کے کھیل کے فاتح سیاستدانو ں اور حکمرانوں نے اس نئے پاکستان کی بندر بانٹ کر لی۔ پاکستان کی وراثت کو تقسیم کر کے صوبوںکے اقتدار اور وسائل پر قابض ہو بیٹھے۔انکی اولادیں ان صوبوں کی انتظامیہ ، عدلیہ کو چمٹ گئیں۔ ملک کے تمام وسائل ، دولت ،تجارت،خزانہ انکی ملکیتیں بن گئیں ۔ سرکاری عہدے انکی عیاشی اور معاشی لو ٹ ما ر کے گھناؤنے جرائم بن گئے جبکہ پوری ملت کے فرزندان اس عبرتناک سانحہ کے دلسوز صدمہ کو جان کا روگ بنا بیٹھے۔جسکی کسک آج تک جوں کی توں ہے۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کا یہ غاصب طبقہ ملک کے اقتدار اور ملکی وسائل پر گرفت مضبوط سے مضبوط کرتے چلے گئے۔ ہوس زر اور اقتدار کی جنگ میں ملک کودو لخت کرنے سے بھی باز نہ آئے، اس سانحہ کے مجرموں کو عبر تناک سزائیں دینے کیلئے انتظامیہ ، عدلیہ کے اعلیٰ دانشوروں پر مشتمل کمیٹیاں،احتساب کمیشن مقرر کئے ۔ حمود الرحمان؂ کمیشن رپورٹ کئی سالوں کے بعد منظر عام پر لائی گئی، اس طرح ا ن سیاسی مجرمو ں نے اپنی اس سازش اور اپنے عیبوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اس ملک کو دو لخت کرنے کے کیس کو التوا کی بھٹی میں ڈالے رکھا۔
ملک کو صوبوں اور ملت کو سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر دیا۔ ملی وحدت اور مرکزیت کو پارہ پارہ کر دیا۔ عوام کو زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں میں مبتلا کر دیا،اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاسی جنگ کا شعور دے کر انکو آپس میں الجھا دیا۔ خود ہارس ٹریڈنگ کی سیا ست اور اقتدار کی جنگیں لڑتے اور جیت ہار کا کھیل کھیلتے رہے۔ مجرموں کو انکے جرائم کی معافیاں وزارتیں ،مشاورتیں،سفارتیں تقسیم کر کے ملکی اسمبلیوں میں ممبران کی عددی برتری حاصل کرتے، اقتدار کے ایوا نو ں میں پہنچ کر پھر سے ملک کے وسا ئل لوٹتے، خزانہ خالی اور آئی ایم ایف کے قرضے ہضم کرنے کے جرائم کرتے اور اپنی ملکیتیں تیار کرتے چلے آرہے ہیں۔ملک کے وسائل اورٹیکسوں کے کلچر سے اکٹھا کیا ہوا ملکی خزانہ لوٹنے ، قرضے حاصل کرنے، ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں کے اجازت نامے آپس میں تقسیم کرنے ، انکے بعد انکو پلاٹ الاٹ کرنے، زمین مافیا کے ساتھ مل کر لوٹ مار مچانے، امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کے لائسسنس جاری کرنے، ملک کے تمام وسائل دولت اور ہر قسم کی تجارت پر قابو پا نے کیلئے ایسے جرائم پر مشتمل قوانین مرتب کرتے چلے آرہے ہیں،جنکے ذریعے ان تمام وسائل اور ملی خزانہ کا حصول ملک کے عوام کیلئے نہیں بلکہ مغربی جمہوریت کے ان مجرم سیاسی گھرانوں کیلئے مختص ہوتا ہے، اقتدار میں آنے کے بعد سرکاری خزانہ کو صرف یہی چند آمر تصرفانہ شاہانہ زندگی گذارتے اور استفا دہ کرتے چلے آرہے ہیں، انہو ں نے ملت کی نسلوں کو دین کی دوری ا ور ملکی وسائل ، دولت اورخزانہ کی دوری کے غاصبانہ قوانین مرتب کر رکھے ہیں۔ ۹۹۰۹ فیصد کسان،محنت کش،ہنر مند اور عوام الناس ملکی وسائل،دولت اور خزانہ کو خرچ کرنا تو کجا وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ لوٹ مار کے جرائم کی تفصیل کے انکشافات یہ از خود ایک دوسرے کے خلا ف حکومتی سطح پر اخبارو ں اور ٹی وی کے ذریعہ معہ دستاویزات کے ثبوت کے پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔
حال ہی میںاس حکومت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف پاکستان سٹیل مل کی نجکار ی کی کرپشن کا کیس پریس کے ذریعے منظر عام پر آیا ہے۔ اسکی نجکاری روک دی گئی۔ ملک کے تمام وسائل کو بڑی بڑی رشوتوں ، کمیشنو ں کے ذریعے اونے پونے داموں فروخت کرنے کا عمل آج بھی ملک میں جار ی ہے ۔ کمیشنوں اور رشوتوں اور مختلف ناموں سے حصہ داری کے ذریعہ آج بھی وسائل اور مال و دولت کو اپنی ملکیتوں میں بدلہ جا رہا ہے۔ ملک میں ملی خزانہ ،وسائل،مال و دولت ،تجارت اور تمام معاشی اداروں میں امانت و دیانت کافقدان آج بھی اسی طرح موجود ہے۔حکمران آج بھی پہلے حکمرانوں کی طر ح لوٹ کھسوٹ کی بد عملی کا شکار ہیں۔ ملک کے تمام سیاستدان یا فوجی حکمران مسلم معاشرے کو طبقات میں تقسیم کرنے، طبقاتی تعلیمی نظام نافذ کرنے، طبقاتی معاشرہ کا ضابطہ حیات مسلط کرنے، طبقاتی معاشی تقسیم سے حکمرانوں کاپندرہ سولہ کروڑ انسانوں کے حقوق سلب کرنے، ایم پی اے، ایم این اے ،سینیٹرز ، وزیر و مشیر، وزیر اعلیٰ،گونررز، کی عددی نفری خود کار نظام کے تحت بڑھانے ،اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کے ذریعے،ایک ملک کے چار صوبے بنانے ،ایم پی اے، ایم این اے ،سینیٹرز کی تعداد میں سیاستدانوں حکمرانوں کا بے پناہ اضافہ کرنے،اس طرح ان کی ماہانہ اجرت یا معاوضہ یا تنخواہو ںاور اسکے ساتھ انگنت سرکاری سہولتو ں،شاہی رہائیشوں،سرکاری عمدہ گاڑیوں،انکے پٹرول اور سرکاری لا تعداد خدمت گذار عملہ کے ذریعہ ملکی خزانہ کو لوٹنا انکی سیاست کا حصہ ہے،مغربی پاکستان کے وقت صرف ستر، اسی کے قریب ایم این اے اورآٹھ نو وزیر و مشیر کی تعداد تھی ملکی زر مباد لہ کو سر عام قیمتی گاڑیوں اور پٹرول کے ذریعہ جلایا جا رہا ہے ملت کا کردار طبقا تی ضابطہ حیات اور مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت،مخلوط معاشرہ کے بے حیائی فحا شی بدکاری، زنا کاری ،عیش و عشرت اور تصرفانہ زندگی کی چتا میں جھونک دیا ہے، اینٹی کرسچن جمہوریت کا کیا خوب طرز حکومت ہے ایک طرف تو پندرہ،سولہ کروڑ افرا د دن رات محنت کر کے ملکی، وسا ئل ، دولت اور خزانہ جمع کرتے رہیں اور بنیادی ضروریات حیات سے محروم خود کشیاں کرتے پھریں، دوسری طرف ایک قلیل ساسیاستدا نوںاور حکمرانوں کا ٹولہ ملک کے تمام وسائل،دولت ، خزانہ اور زر مبادلہ حکومتی بالا دستی کے ذریعہ اپنی ملکیتوں ن بدلتا چلا جائے،اسکے علاوہ دوسری طر ف کرسچن جمہوریت کی اسمبلیوں کے ممبران قانون سازی کر کے مسلم امہ کا دینی ضابطہ حیات ،انتظا میہ ، عدلیہ کی قوت سے روندتے اور ختم کرتے چلے جائیں ،انگریز کا تیار کیا ہوا مغربی جمہور یت کا ضابطہ حیات ،ملت پر مسلط کر کے اسکے پندرہ،سولہ کروڑ فرزندان کو اینٹی کرسچین جمہوریت کی تقلید جبری طور پر کرواتے چلے جائیں۔ان حقائق کو پیش کرنے والا،انکی عدلیہ اور انتظامیہ کا اصل روپ بیان کرنے والا،انکے باطل نظام کے بارے میں بات کرنے والا،ملک و ملت کو تبا ہی سے بچانے والا، انکے جرائم کی نشاندہی کرنے والا، انکا اور انکی بے دین کرسچن جمہوریت کی طرز حکومت کے حواریوں کا،انکے نظام حکومت کو چلانے والی محکوم انتظامیہ عدلیہ کا مجرم بن کر رہ جاتا ہے ۔اسلام کے نفاذ کا نام لینے والے دینی علما اور انکی درسگاہوں کے معصوم و بیگناہ طلبا اور طالبات کا بے دریغ قتال کر دینا اور انکو دہشت گرد ڈیکلیر کرنا ،انکے کردار کو مسخ کر کے پیش کرنا، پوری دنیا میں اسلام اور اسکے دینی علما کی توہین کرناانکی شہرت کو نقصان پہنچانا انکی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کا ضابطہ حیات مسلمانوںکے معاشی اور معاشرتی دینی قدروں کی مقتل گاہ اور انکے تحفظ کا سبب بن چکا ہے۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کے یہ سیاستدان ایک طرف تو یہ ایک دوسرے کے جرائم کے انکشافات کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف ثبوت اور حقائق عوام الناس کو پیش کرتے ہیں۔ انکے جرائم کے قصے بیان کرتے ہیں، دوسری طرف یہ اپنے اتحاد اور سیاسی ممبران کی تعداد بڑھانے اور حکومت کو مضبوط بنانے کیلئے ان مجرموں سے سودا بازی کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ یہ طبقہ ملک میں ہر قسم کی سرکاری مراعات، شاہی سہولتیں، ملکی وسائل ،دولت اور سرکاری خزانہ لوٹنے کے جرائم پر مشتمل قوانین اور غاصب تصرفانہ حکومتی نظام کی حکمرانی کے مزے لوٹیں، دوسری طرف ملک میں بیروزگاری اتنی پھیلاتے جائیں کہ پڑھا لکھا اور محنت کش طبقہ خود کشیاں، خود سوزیاںکرنے پر مجبور ہو تا جائے ۔ اس تفاوتی اور طبقاتی معاشی طرز حیات سے تنگ آکر لوگ قتل و غارت اور ڈاکہ زنی پر اتر آ ئیں۔ انکو ختم کرنے کیلئے عدلیہ اور انتظامیہ کی تعداد بڑھاتے جائیں۔ ملک انارکی کی آگ میں جلتا رہے۔ عدل و انصاف سے محروم لوگ خود سوزی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ ملک میں انارکی کی مہلک وباء کینسر کی طرح پھیل جائے، ملک تباہی کے د ہانے تک پہنچ جائے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے پروردہ سیاستدان اور حکمران عیش و عشرت کی زندگی میںگم ہوتے جائیں ۔تواس ملک اور اسکے پندرہ،سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا کون وارث ہوگا۔انکی ملکیتیں تو دنیا کے ہر ملک میں موجود ہیں۔اس وقت بھی ملک کے تین بڑے سیاسی رہنما ملک سے باہر ایک دوسرے کیساتھ سودا بازی میں ؓ بری طرح مصروف ہیں۔یہ غاصب سیاستدان اور حکمران اہل وطن کا دین ا ور دنیا لوٹتے چلے جا رہے ہیں۔
ابن الوقت ناکام سیاستد ان، ہوس زر اور اقتدار کی جنگ جیتنے کیلئے بر سر اقتدار پارٹی کو ہٹانے اورا فوا ج پاکستان کو اقتدار سنبھالنے کے لئے اکساتے رہتے ہیں۔۔ جبکہ انکے جرائم کو ختم کرنے کیلئے قبل ازیں ملک میںتین مارشل لا نافذ ہو چکے ہیں۔سیاستدانوں کی اقتدار کی چپقلش نے مشرقی پاکستان کی عوام اور افواج پاکستان کا آمنا سامنا کروا د یا۔مشرقی پاکستان ا نارکی کی آگ کا ایندھن بن گیا۔ مشرقی پاکستا ن کی عوام نے افواج پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے، عوام کے کہنے پرہندوستان کی افواج مشرقی پاکستان میں عوام کی مدد کیلئے داخل ہو گئیں، نوے ہزار سپاہ ہندوستان کے قیدی بن گئے۔اسکے بعد چوتھے مارشل لا کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے۔اب پھر وہی حالات پیدا ہو چکے ہیں ۔ مسلم لیگ ق نے افواج پاکستان کے جرنل پرویزمشرف کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ اس عمل سے مسلم لیگ نون،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوںکے دلوں میں افواج پاکستان کے خلاف نفرت اور حقارت پیدا ہو چکی ہے۔ جرنل پرویز مشرف نے ہارس ٹر یڈ نگ کے ذریعہ تمام سیاسی جماعتوںکے ملی مجرموں، معاشی رہزنوں اور اپنی اپنی جماعتوں کے غداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ایک نئی غداروں کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ق کی تشکیل نو کی۔اس کو ملک کا اقتدار اورتمام نظام اور سسٹم پر قابض بنا دیا۔اسمبلیوں میں اسی عددی برتری کی بنا پر دین محمدی ﷺ کے نظریات کو کچلتے جا رہے ہیں۔ملک پر یہ غیر آئینی حکومت مسلط ہو چکی ہے۔ فوجی جر نیل پاکستان کا جھندا چھوڑ کر مسلم لیگ ق کے جھندے تلے جمع ہوچکے ہیں ۔ افواج پاکستان کی جمعیت کو ریزہ ریزہ کر دیا گیا ہے۔ ملک میں اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو کچل کر رکھ دیا ہے۔اسکے ذمہ دار مسلم لیگ ق اور جرنل پرویز مشرف ہیں۔جنکا بچنا اب ممکن نہیں رہا۔
غدار سیاستدان مارشل لا کے جرنیلوں کو ساتھ ملالیتے ہیں۔ان کو بھی سیاستدان اینٹی کرسچن جمہوریت کی طرز حکومت کی تقلید کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ مارشل لا کے سائے تلے مارشل لا کی حکومت کو طول دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ دین سے دور،دین کے ضابطہ حیات سے دور مغربی جمہوریت کے اسی نظام اور سسٹم کی چتا میں یہ تمام جرنیل خاکستر ہوتے چلے آرہے ہیں۔ آج تک مارشل لا کے یہ حکمران شرعی نظام ملک میں نافذ نہ کرسکے۔ اور وہ مغربی جمہوریت کے نظام اور سسٹم میں ملت کی بہتری کے لئے کوشاں رہ کر اپنا دور سیاہ حروف کے ساتھ لکھ کر فارغ اور ختم ہوتے جاتے ہیں۔یہ بچے کھانی اینٹی کرسچن جمہوریت اس دھرتی پر دین محمدیﷺ کے نظریات کو کچلتی جا رہی ہے۔
کسی جرنیل کا بھی شرعی نظام لانااسکے نصیب کا حصہ نہ بن سکا ، اس اینٹی کرسچن جموریت کے طریقہ کاراور ملکی سسٹم نے ملک کے تمام عدلیہ اور انتظامیہ کے اداروں کو اپنی بد اعمالی کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کسی حکمران نے بھی کنوئیں سے کتا نکالنے کی کوشش نہیں کی، پانی کے ڈول نکالتے رہے،کنواں ناپاک کا ناپاک رہا ۔
ان خود غرض سیاستدانوں نے چوتھے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے اور اقتدارحاصل کرنے کے خواب پورے کرنے کیلئے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا ۔ انکے پیدا کردہ حالات اور انکے تعاون سے چوٹھے مارشل لا کا نفاذ بھی عمل میں لایاجا چکا ہے۔مارشل لا کی چھتری تلے اقتدار کے بھوکے وسائل اور سرکاری خزانہ کو لوٹنے والے، اپنے خلاف کیسوں کو ختم کروانے والے، ا پنی غرض و غائط کی خاطر ملک میں نفاق و نفرت کی آ گ جلانے والے ،ملک میں حکو متیں توڑنے اور ملک توڑنے کے ماہرین دھیرے دھیرے اپنی اپنی جماعتوں سے وفا کے بندھن توڑ کر اقتدار کی خاطر مارشل لا کی غداروں پر مشتمل فوجی سیاسی حکومتی پارٹی میں پہنچ چکے ہیں۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کو مارشل لاکی بالا دستی مسلط کر کے اسکو ملک بدر کروا کر خود حکومتی پنڈال میں پہنچ چکے ہیں۔
جمہوریت کی سیاست بھی کیا چیز ہے۔اپنی اپنی جماعتوں کے غدار وں کو ایک نئی غداروں کی جماعت بنا لینے اور اقتدار اور وسائل پر قابض ہونے کا راستہ دکھاتی اور ہر قسم کے جرائم کوقانونی تحفظ ٖ فراہم کرتی ہے۔ انکامقصدِحیات اقتدار کا حصول اور حکومتی ایوانوں تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔جمہوریت کی اکیڈمی کے سکالرتمام ملی،ملکی،سیاسی آمر اور غاصب اپنے قرضے معا ف کروانے ،اپنے خلاف کیسوں سے نجات حاصل کرنے ،اپنے وسائل کو ترقی دینے،اپنی اپنی وزارتوں کا حصول، مشیروں، وزیروں،سفیر وں کی بندر بانٹ کرنے کا عمل جاری کر لیتے ہیں۔اس وقت بھی ملک کے تین بڑے رہنما الطاف حسین،نواز شریف اور بے نظیر ملک سے باہر بیٹھے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کر رہے ہیں ، حال ہی میں الطاف حسین کی جماعت نے حکمرانوں سے الگ ہونے کا اعلان کیا،انکی وزارتوں اور انکے اختیارات اور انکو تمام ملکی وسائل کو انکی مرضی کے مطابق مہیا کر کے حکمرانوں نے اپنی حکومت کو بچا لیا ۔ ملک میں اینٹی کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں نے حکومت کو ایک تجارتی ادارہ بنا رکھا ہے،جہاں وزارتوں ، ملکی وسائل ،ملکی خزانہ اور ملکی ذرائع کی خرید و فرخت ہوتی رہتی ہے۔
۱۹۴۷ سے انگریزوں کا تیار کیا ہوا مفتوحہ ملک کی عوام پر مسلط کیا ہوا اینٹی کرسچن جمہوریت کا طرز حکومت،اسکا انسانیت سوز معاشی اور معاشرتی ضابطہ حیات ، اسکاسودی معاشی نظام، اسکا انتظامیہ اور عدلیہ کے تھانے ،کچہریوں کاغاصب فرسودہ نظام،طبقاتی تعلیم اور طبقاتی برہمن اور شودر کا معاشی اور معاشرتی نظام، جاگیردا روں، سرمائے داروں کو وزارتوں،مشاورتوں ، سفارتوں کی سرکاری خزانہ کی بڑی بڑی تنخواہوں،شاہانہ شاہی سہولتوںکی آپس میں تقسیم اور مفتوحہ ملک و ملت پر انکی حکمرانی کا گھناؤنا کلچر۔ مسلم امہ کی وحدت کی عمارت کو سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر کے اسکو ریزہ ریزہ کرنے اور حاکم و محکوم کے دو طبقے تیار کرنے کا لا متناہی عمل جاری کر رکھا ہے، اینٹی کرسچن جمہوریت انسانوں کا تیار کیا ہوافرعونی،نمرودی ضابطہ حیات ہے جو انسانیت کی ظاہری اور باطنی پستی کا باعث بنتا چلا جا رہا ہے۔ مخلوط تعلیم،مخلوط حکومتیں اور مخلوط معاشرہ دین کے چادر اور چار دیواری کے تحفظ کو روندتا چلا جا رہا ہے،اینٹی کرسچن جمہوریت کے آمر ملت کو فحاشی ،بے حیائی، بدکاری ،بد کردا ر ی زنا کاری کے عمل میں مبتلا کرچکے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی ازدواجی زندگی اور انکی تیار کی ہوئی تہذیب کو مخلوط معاشرے کی طرز حیات سے روندتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں ان حکمرانوں نے پندرہ ،سولہ کروڑمسلم امہ کے فرزندان کو مغربی جمہوریت اور اسکے نظریات کی تقلید پر مجبور کررکھا ہے۔ملت کا دین اور دنیا دونوں تباہ کئے جا رہے ہیں۔
اسلامی شورائی نظام،کسی جماعت یا کسی حاکم وقت کا منشور نہیں۔اس نظام کا تعلق اللہ تعالیٰ،قرآن حکیم اور رسول پاکﷺ سے وابستہ ہے۔مجلس شوریٰ کا انتخاب ایک خدائی بلند ترین تصور کے مطابق معرض وجود میں آتا ہے۔ جس سے خدا خوفی اور اسلام کے شعور کی تشکیل اور تکمیل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرتا ہے۔اسکے بتائے ہوئے ضابطہ حیات کی پیروی کرتا ہے۔اعتدال و مساوات پر معاشرے کی بنیادیںرکھتا ہے۔ امانت و دیانت کا نظام قائم کرتا ہے،چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ازدواجی زندگی کا نظام عطا کرتا ہے۔ طبقات کی زندگی جرنیل اور بیٹمین،وزیر اعظم اور گن مین،وزیر اعلیٰ اور اردلی کی سرکاری اجرتوں،تنخوایوں، سہولتوں کا فرق مٹا تا اور معاشرے کو جام عدل پلاتا ہے۔طبقات کو ختم کرتا ہے۔ انسانی قدروں کی نمائندگی کرتا اور انکو تحفظ مہیا کرتا ہے۔
موجودہ فوجی حکمران کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ر ہیں۔ مسلم امہ کو اسلامی نظریات اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کے تضاد کی زندگی سے نجات دلائیں۔ان سیاستدانوں سے بچ نکلیں،اس سے قبل یہ تین مارشل لا حکومتیں اور مشرقی پاکستان نگل چکے ہیں۔ پاکستان کے دو ٹکڑے کر چکے ہیں۔عوام اور فوج کا آمنا سامنا کروا کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا چکے ہیں۔مغربی پاکستان کو چار صوبوں یعنی اسکے چار پاکستان بنا چکے ہیں،ایک بار پھر عوام اور فوج کو نفرت کی آگ اور جنگ کا ایندھن بنانے کا عمل جاری کئے ہوئے ہیں۔افواج پاکستان پندرہ سولہ کروڑ اہل پاکستان اور پوری مسلم امہ کا انمول سرمایہ ہے۔افواج چند جرنیلوں کا نام نہیں ایک پوری سپاہ کا نام ہے۔جرنل نیازی صرف ایک جرنیل تھاَ۔ نوے ہزار اسکے سا تھ سپاہ تھے جو ہندوستان کے قیدی بنا دئیے گئے۔ان بد کردار سیاستدانوں کی اقتدار کی چپقلش نے عوام اور فوج کو نفرت اور نفاق کی آگ میں دھکیل دیا اور آپس میںجنگ کی آگ کا ایندھن بنادیا۔ ان بد اعمالیوں کی سزا پوری ملت کو برداشت کرنا پڑی۔ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔انہوں نے مغربی پاکستان کا نام پاکستان رکھ دیا،اسکے چار نئے صوبے یعنی نئے چار ملک بنا لئے۔ا ن کیلئے ایم پی اے کی ایک نئی اسمبلی،وزیر و مشیر،وزیر اعلیٰ گو رنر کی ایک بہت بڑی سیاستدانوں، حکمرانوں کی فوج ہر صوبے پر مسلط کر دی۔یہ چاروں صوبوں پر حکمرانی کے مزے لوٹتے رہتے ہیں اور عوام انکے سرکاری شاہی اخراجات کا بجٹ مہیا کرنے کے پابند ہیں۔کمائے گی دنیا اور کھائیں گے ہمآج بھی ملک و ملت انکے غاصبانہ ہارس ٹریڈنگ کے غاصب نظام اور سسٹم کی تقلید اور اس کے کلچر کا ایندھن بنتے چلے جارہے ہیں۔ ملک کی تمام دولت اور وسائل کی امانتوں کو یہ غاصب اعتدال و مساوات کو کچل کر آپس میں تقسیم کرتے چلے آرہے ہیں۔، اقتدار پر مسلط یہ چند عیاش ملک کا سرکاری خزانہ اپنے شاہانہ طرز حیات کی زینت بنا تے آرہے ہیں۔ ملک کے پندرہ،سولہ کروڑ انسانوں کے تمام وسائل، تمام دولت ، تمام ذرائع، تما م زر مبادلہ، تمام ملکی خزانہ اقتدار کی نوک پر ذاتی شاہانہ تصرف میں لاتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں اینٹی کرسچن جمہوریت کا عدل کش نظام ان سیاستدانو ں کے جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اندرون ملک اور بیرون ممالک تمام کارخانے،ملیں ، فیکٹریاں، کاروبار،،بنکوں میں مخفی ڈالر انکے۔ ، تمام ملکی خزانہ،تمام ملکی وسائل، تمام ملکی اور غیر ملکی قرضے قانونی جرائم کے ذریعے انکی ملکیت بن جاتے ہیں ۔ انکے علاوہ ۹۸ ارب ڈالر انکے سوک بنکوں میں بیرون ممالک پڑے ہیں۔ عوام الناس بیروز گاری، تنگ دستی،غربت،افلاس اور خود کشیوں اور خود سوزیوں کی چتا میں جلتے رہیں۔ جبکہ ملک کی تمام دولت اور وسائل پاکستانی عوام کی ملکیت ہیں۔ غور سے سن لو! یہ اقتدار کی نوک پرملک کی دولت،وسائل اور خزانہ لوٹنے والے اور ملت اسلامیہ میں برہمن اور شودر کے طبقات تیار کرنے والے،اعتدال و مساوات کو کچلنے والے، سب ظالم ، غاصب ملت کا دین اور دنیا لوٹنے والے رہزن ہیں۔ملت کا خزانہ اپنے شاہی محلوں اور تصرف کی زندگی کا ایندھن بنائے جا رہے ہیں۔مخلوط تعلیم،مخلوط حکومتیں،مخلوط معاشرہ اینٹی کرسچن جمہوریت کی پیداور ہیں جو دین محمدی ﷺ کے چادر اور چار دیواری کے نظام کو پاش پاش کر تے ہیں جو اسلامی نظام حیات کو روندتے ہیں جو مرد و زن کو فحاشی بے حیائی بد کرداری اور زنا کاری میں ملوث کر دیتے ہیں ، جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی ازدواجی زندگی کی تہذیب کو ایک دجال کی طرح نگلتے جاتے ہیں۔عوام انکی بد اعمالیوں،بد قماشیوں کو پوچھنے اور اسکا تدارک کرنے کی صلاحیت سے محروم کر رکھی ہے۔
یہ کیسے عالم دین اور مشائخ کرائم ہیں، جومخلوط حکومت میں اپنی بہو بیٹیوں کو انگلی لگا کر حکومتی پنڈال میں پہنچ جاتے ہیں اورحدود آرڈنینس کے تحفظ کی جنگ لڑتے ہیں۔جب اینٹی کرسچن جمہوریت کے تحت مخلوط معاشرہ قائم ہو جائے تو اسلام کے مطابق حدود آرڈیننس کی سزا کیسے!۔اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ پہلے معاشرے کو تعلیم و تربیت سے نوازتا ہے،بنی نوع انسان کو اسکے مطابق ماحول مہیا کرتا ہے جب کوئی شخص اس حدود قیود کو توڑتا ہے تب اسکو دین کے قوانین کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔یاد رکھو وہ تمام سیاستدا ن ،حکمران جو ان جرائم میں ملوث ہیں اور دین محمدیﷺ کو ختم کر رہے ہیں یہ سب ملی مجرم ہیں، مسلم امہ کے پندرہ،سولہ کروڑ فرزندان کا مقدمہ بنام کرسچن جمہور یت کے سیاستدانوں،حکمرانوں کے خلاف حضور نبی کریم ﷺ کی کچہری میں آج مورخہ ۲۰۰۵۔۱۲۔۲۱ بوقت دو بجکر بارہ منٹ پر پیش کر دیا ہے۔
انہوں نے پندرہ ،سولہ کروڑ عوام کا دین بھی لوٹ لیا ہے اور دنیا بھی۔ یہ مکافات عمل سے بچ نہیں سکتے،ملک میں مارشل لا کی حکومت ہو یا اینٹی کرسچن جمہوریت کا حکومتی پنڈال انکی چاروں گھی میں ہوتی ہیں۔یہ تمام خرابیاں اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم کی پیداور ہیں ۔ اس نظام کا تدارک ایک دینی فریضہ ہے۔
حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اے حکومت وقت کے سر براہان آپ اپنے آپ پر اور بے بس محکوم عوام پر رحم فرماویں۔ ملت کو اس نظام
اور سسٹم سے نجات دلائیں۔اہل وطن کی آپ سے یہی ایک طلب اور درخواست ہے کہ ملک میں اسلامی دستور نافذالعمل کر دو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی سلامتی کی تعلیمات اور نظریات کو بحال کر دو۔ اللہ نہ کرے کہ آپ دوسرے حکمرانوں کی طرح اپنی دین و دنیا اپنی آنکھوں کے سامنے لٹتے دیکھیں۔ غور اور خوف کا وقت ہے ، اپنے احباب،اپنے رفقاو سے مشاورت کریں،ملت کے ساتھ ۱۹۴۷ کا کیا ہوا وعدہ پورا کریں، اپنے ضمیر کے دروازے پر دستک دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی فرماویں۔کیا آپ دیکھتے چلے نہیں آرہے کہ بہترین لکھاری اور ملک کے تمام نشرو اشاعت کے ادارے اورہر قسم کے وسائل ،مشیر، وزیر اور یہ سبھی اقسام کے دستگیر ہر حکومت وقت کے پاس موجود رہے لیکن فطرت کے عمل کو یہ قوتیں نہ روک سکیں۔ شریعت محمدیﷺ کے نظام کا نفاذ کرو اور اپنی آخرت کو شاداب کرو۔ ہر ظالم کا احتساب کرو۔ تاکہ کوئی کمزو ر ، ناتواں کسی قسم کااعتراض نہ کرسکے۔ مزید انتظار مت کرو حکمرانو! آپ اس کشتی کے سوار لگتے ہو۔ جب وہ بھنور میں پھنسی ہوتی ہے۔ تو دعا کرتے ہیں۔ یا اللہ ہمیں اس بھنور سے نکال۔ اور ہماری زندگی محفوظ کر۔ ہم اس کے عوض تمام مال و متاع تیری راہ میں تقسیم کردیںگے، تھوڑے سے طوفان سے باہرنکلے تو پھر سوچ آئی، کہ سب کچھ راہ خدا میں لٹا دیا گیا ۔ تو زندگی کیسے گزا ر یں گے۔ وعدہ کیا کہ آدھا ما ل ومتاع تقسیم کر دیں گے۔ جب خیرو عافیت سے کشتی کنارے لگ جاتی ہے۔ تو پھر سوچ آتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کون سی کمی ہے۔ جیسے جیسے وقت ملا۔ اپنی کمائی میں سے کچھ مال غریبوں، مسکینوں میں بانٹتے رہیں گے۔ اس کے بعد وہ جہان و رنگ و بو میں محو ہو جاتے ہیں۔ اور اس مصروفیت میں وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں، اس کے بعد جو اس قبیلہ پر بیت گئی، ضروری نہیں کہ اس کا انکشا ف وقت سے پہلے آپ کو کیا جائے،یہ آگاہ کرنا نہائت ضروری ہے، ملک میں دستو ر مقدس کا نظام نافذ کریں، اس بدبخت ملاح جیسارول ادا نہ کریں ، کب تک اپنی حکومت کو قائم رکھنے کیلئے منسٹریوں کی رشوتیں اور ملی خزانہ ان بد بخت،بد کردار سیاستدانو ں کو پیش کرتے رہیںگے،اللہ تعالیٰ آپکو مکافات عمل کی عاقبت کا عبرتناک چہرہ نہ دکھائے۔ آمین۔یہ مال و متاع، یہ شان و شوکت،یہ حاکمیت، یہ سب عارضی اور بے مقصد ہیں،بنی نوع انسان کیلئے ایسا کام کر جاؤ کہ ہمیشہ زندہ رہو۔
رائج الوقت اینٹی کرسچن جمہوریت ایک ایسا طرزحکومت ہے۔ جس میں ایمانداری اور دیانت داری سے نظام حکومت چلانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ جہاں حکومت بنانے کے لئے اتحادی جماعتوں کو وزارتوں کی رشوتیں دینی پڑیں۔ اور اپنی جماعت کے ممبروں کو بھی خوش رکھنے کے لئے وزارتیں دینے کا عمل مجبوری ہو۔ چھوٹی سیاسی جماعتوں کو بھی تعاون کے عوض سرکار ی بھتہ دینا لازمی ہو۔ اسی طرح لینے دینے کا یہ بد ترین کرپٹ سیاسی کلچر نچلے درجے کے سیاسی ورکروں تک پورے ملک میںپھیلا ہوا ہو۔تو یہ نظام معاشرے کو انصاف اور فلاح کیسے دے سکتا ہے۔غور تو کرو !۔کہ مسلم امہ کے اخلاق و کردار کی تکمیل کن اصولوں پر کی جا رہی ہے۔
جہاں اپوزیشن کے ممبر ہر وقت اس آڑ میں بیٹھے ہوں۔ کہ کیسے اور کب کسی جماعت یا فوج کو ساتھ ملا کر حکومت ختم کرکے اقتدار حاصل کیا جائے۔ ہر قسم کے جرائم میں ملوث اور دہشت گرد لٹیرے اور اپنی اپنی جماعتوں کے غدار مارشل لا کی نگرانی میں پھر کوئی نئی جماعت اور نئی حکومت بنا بیٹھتے ہیں۔جو پہلے مختلف لوٹ مار کے الزامات اور مختلف جرائم یعنی معاشی اور معاشرتی قتل و غارت کی وجہ سے بدنام ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں سوائے اس نظام کی پیروی میں ہرقسم کے جائزاور ناجائزطریقہ کار سے جوڑ توڑ کرکے حکومت کو قائم رکھنا،وزیر و
ںمشیر وں کی تعداد بڑھانا،ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ ذکواۃ کے فنڈ ہضم کر جانا،رشوت والی وزارتیں الگ مہیا کرنا، ہر گھناؤنے کھیل کو کھیلنا، ہر ایک بداعمالی کو در گذر کرنا صاحب اقتدار کی مجبوری بن جاتی ہے۔ لوٹ کھسوٹ ، سفارش، حق تلفی، رشوت، کمیشن، چور بازاری، سمگلنگ، ڈاکہ زنی، دہشت گردی، قتل و غٓارت ،طبقاتی معاشی سسٹم کے شعبے ان کی نگرانی میں خوب پھلتے پھولتے ہیں۔اس بد ترین نظام اور سسٹم کی تقلید ملک میں جاری ساری رہتی ہے۔ زندگی کے تحفظ کے تمام محافظ اور ذ ر ائع کسی کو بھی موت سے بچا نہیں سکتے، غرضیکہ یہ تمام برائیاں اس نظام میں عدل و انصاف کو کچلنے اور اعتدال و مساوات اور عدل کے توازن کو بگاڑنے کا باعث اور موجب بنتی چلی آرہی ہیں ، خاص کر اس وقت جب کسی حکومت کے ختم ہونے کا خطرہ یا خدشہ لاحق ہو چکا ہو ، پھر حکومتی جماعتیں اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر ممبروں کو خریدتی اور زبرد ستی اٹھا کر کسی محفوظ جگہ پر پہنچا دیتی ہیں۔ اور ہوٹلوں میں ہر قسم کی عیاشی کی سہولتیں بہم پہنچائی جاتی ہیں۔ ملکی خزانہ اوروسائل کی بندر بانٹ کی جاتی ہے ۔ ممبروں کی خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔ذکٰوۃ کا بجٹ بھی یہ نگل جاتے ہیں۔اسکے علاوہ ایک دوسرے کے خلاف کیس ختم کرنے کے وچن دئیے اور لئے جاتے ہیں۔ پھر جب کوئی لین دین کا اختلاف پیدا ہو تو یہی سیاستدان پہلے رشوت میں دی ہوئی کروڑوں روپے کی رقموں کا انکشاف کرتے ہیں۔ اس رازداری کے انکشاف سے وہ ایک دوسرے کے خلاف پھر بیان بازی کا عمل جاری کر دیتے ہیں۔ عوام اس گھناؤنے کھیل کود یکھنے پر مجبور اور بے بس ہوتے ہیں۔اور یہ بد اعمالیں ملکی استحکام کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔یہ کیسے آمر اور غاصب کرسچن جمہوریت کے داعی ہیں کہ ملک کا کوئی نظام، کوئی عدالت، کوئی نیک او ر صالح جماعت یا کوئی عالم دین یا مشائخ کرام ان کے اس گھناؤنے عمل کو نہ روک سکتا ہے اور نہ ہی مداخلت کر سکتاہے ۔
۲۹۔ ان سیاست دانوں کی اقتدار کی جنگ نے مشرقی اور مغربی پاکستان کو ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ عوام میں سے کسی ایک کا دوسریصوبے کے عوام کے ساتھ نہ تو کسی قسم کا جھگڑا تھا۔ او رنہ کوئی رنجش۔ اتنا گھناؤنا کھیل کھیلنے والی جماعتیں اب بھی ملک میں اسی طرح دندناتی پھر رہی ہیں۔ اس کے بعد ان ہی رہبر و ں، رہنماؤں نے چپکے سے ملک کے مزید چار ٹکڑے کر دیئے۔ یعنی صوبہ پنجاب، سرحد، سندھ، اور بلوچستان۔ ان کی اسمبلیاں قائم کر دی گئیں۔ اور حسب خواہش ایم پی اے کی تعداد ہر صوبے میں مقرر کر دی گئی۔وہاں تمام ایم پی اے، منسٹر، ڈپٹی منسٹر، مشیر، احتساب کمیشن کمیٹیوں اور دوسری اہم پوسٹوں پر متعین کر دیئے گئے۔ انکے ساتھ ان کی ذاتی پسندیدہ سر کاری فوج افسر شاہی ،منصف شاہی کوان کیساتھ ان کے جرائم کو فروغ دینے،اور تحفظ کے لئے مہیا کر دیا جاتا ہے،جو کسانوں،محنت کشو ں ، مزدوروں اور عوام الناس سے مختلف نوعیت کے غاصب ٹیکسوں اور قوانین مسلط کر کے انکے جسموں سے معاشیات کا آخری خون کا قطرہ بھی کھینچ لینے میں مصروف رہتے ہیں۔ دوسری طرف صوبوں کا تمام بجٹ اینٹی کرسچن جمہوریت کے ممبران،انکے وزیروں، مشیروں اور انکی یہ شاہی سرکاری فوج بڑی بے رحمی اور سنگدلی سے چاٹنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ خود تو یہ ہارس ٹریڈنگ کی سیاست کی یونیورسٹی سے ضروری سند حاصل کرکے ایوان اقتدار میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان افسر شاہی اور منصف شاہی کے مخصوص طبقہ کے تعاون سے ہر قسم کا جائز و ناجائز کاروبار اپنی منسٹریوں اور دوسرے اداروں سے لیتے دیتے رہتے ہیں۔ ملیں ،فیکٹریاں، کارخانے اور تجارتی اداروں اور تمام ذرائع آمدن انکی ملکیتیں بنتی چلی جا تی ہیں۔یہ سیاسی دہشت گرد ملک کے تمام وسائل پر قابض ہوتے جا تے ہیں۔ اور ملکی معیشت کو دیمک کی
طرح چاٹے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ نظام ہر صوبے میں رائج الوقت ہے۔ ان کی وہی ہوس اقتدار اور ہوس زر کی جنگ اب صوبوں میں جاری ہو چکی ہے۔ پانی کی تقسیم اور ڈیموں کی تعمیر کا مسئلہ صوبوں کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے درمیان چل پڑا ہے۔ دوسری طرف بلوچستان کا مسئلہ ایک گھناؤنی شکل اختیار کئے جا رہا ہے۔کہیں پانی ،کہیں بجلی اور کہیںگیس کی آمدن اور اسکے حصول کے صوبائی مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔عدلیہ اور انتظامیہ کے ادارے مفلوج کر دئے گئے ہیں۔انکو ایسے قوانین اور سسٹم دے رکھا جس سے وہ انصاف مہیا کرنے کے قابل ہی نہیں ہوتے،جھوٹے کیس دائر کرنے والوں کو نہ کوئی جرمانہ اور نہ ہی کوئی سزا،کیسوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے اور ججوںکی تعداد بھی اسی لحاظ سے بڑھتی رہتی ہے عمریں بیت جاتی ہیں۔ جائیدادیں زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ عدلیہ معاشرے کیلئے کینسر کا مرض بن چکی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ان مشکلات کو حل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، ہمیں دین محمدیﷺ کے ضابطہ حیات کی بالا دتی عطا فرما۔ امین