To Download or Open PDF Click the link Below

 

  پاکستان میں مسلم امہ کی نسلوںکو جمہوریت کا کینسر،دین محمدیﷺ ملت کو وحدت خیال عطا کرتا ہے،دین کوایک ایسے عادل کی ضرورت ہے جو ملت کو وحدت کا لباس عطا کر ے اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے جمعیت کش نظام حیات سے ملت کو نجات دلائے
عنایت اللہ
۱۔ اب یہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے پروردہ سیاستدان اور حکمران اقتدار کی چپقلش میں ہمیشہ کی طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔ مشرقی پاکستان والا عمل پھر سے دہرانے کی کوشش و کاوش میں مصروف ہیں۔ اپنی اپنی سیاسی جماعتوںکے غدار،بے ضمیر سیاستدا ن فوج کے سائے تلے نئی حکومتی پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں ، فوجی حا کم وقت کو اپنی نئی حکومت بنانے کیلئے ایسے بے ضمیر سیاستدانوں کی ضرورت اور اسکی مجبوری ہوتی ہے،یہ کون لوگ ہوتے ہیں ، ان میں اکثر و بیشتر اقتدار کے بھو کے اور ملکی خزانہ کو لوٹنے والے وہ گندے سیاستدان ہوتے ہیں جو پہلی حکومتو ں میں کرپشن کے مرتکب ہوتے ہیں ، سرکاری خزانہ لوٹنے، قرضوں کو ہضم کر نے ، حکومتی سطح پر غبن کے کیسو ں میں ملوث ہونے اور ان جرائم سے بچنے اور نئے جرائم پر عمل پیرا ہونے کیلئے حکومتی پنڈال میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد پھر سے حکومتی بالا دستی ، اختیارات، شاہا نہ سرکار ی اخراجات ، شاہی سہولتوں اور تصرفانہ زندگی گذارنے کا ایک نیا دلفریب،عیش و عشرت پر مشتمل سفر جاری ہو جاتا ہے۔ اسکے علاوہ ان کے تمام جرائم دھل جاتے اور ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ پھر سے معاشی ،معاشرتی برتری اور اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے میدان عمل میں وارد ہو جاتے ہیں،اس طر ح انکا جمہوریت کی سیاست کا کھیل اقتدار کی منزل سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔
۲۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا طرز حکومت ملک و ملت کی وحدت کو سیاسی جماعتو ں میں منقسم اور بکھیر دیتا ہے، اعتدال و مساوا ت کو نگل جاتا ہے،تصرفانہ زندگی کو عرو ج بخشتا ہے، طبقا ت کو تیا ر کرتا ہے، ملک اور ملکی خزانہ کو نگلتا جاتا ہے،کرپشن ، رشوت ہر قسم کے جرا ئم کو جنم دیتا ہے۔ عوام ایک تماشائی کی طرح انکو دیکھنے اور مغربی جمہوریت کے ٹیکسوںکو ادا کرنے پر مجبور کر دئیے جاتے ہیں ۔ضروریات حیات کی کشمکش اور زندگی کے لوازمات کے حصول کی خواہشات کی تکمیل کی چتا عوام الناس کے دلوں میں زندہ رہنے کیلئے جلائی جاتی ہے۔ اس طرح مال و زر کی طلب انکو دل و دماغ میں بیدارہو جاتی ہے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے دیکھا دیکھی ملت اسکی نسلیںجو نان و نفقہ سے تنگ، ضروریات حیات کے حصول اور پیٹ کی آگ کو بجھانے کی خاطرمال و زر اوراقتدار پر مسلط معاشی کرپشن اور ہر قسم کی معاشرتی برائی کے تیار کئے ہوئے جہنم کی آگ میں جلنا شروع ہو جاتی ہے۔ ملت کی بیٹیوںکومخلوط معاشرے کی چتا میں جھونک دیا جاتا ہے، حکومتی بالا دستی اور معاشی برتری کی بنا پر وہ غریب و مفلس اور مجبور و مظلوم طبقہ کی بیٹیوںکو سرکاری ملازمتوں یا ذاتی پرسنل سیکٹری یعنی داشتہ مہیا کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے جبکہ انکے مردوں کو بیروز گاری کے ہاتھوں خود کشیوں کے عمل سے گذارا جاتا ہے۔ یہ غاصب سیاسی ٹولہ اقتدار کی جنگ میں پہلے ہی ۵۱ فیصد اپنی مستورات کو ایم پی اے،ایم این اے سینٹرز، وزیر و مشیر بنا کر اپنے اقتدار اور ملکی خزانہ پر ہمیشہ کیلئے قابض ہو چکا ہے۔یہ شاہی طبقہ اسی چپقلش میں آدھا ملک نگل چکا ہے ،ان بدبختوں، بدنصیبوں سے ملک و ملت کو بچا نا ایک طیب فریضہ ہے۔ ملک و ملت کے جسد پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشوروں کی مسلط کی ہوئی معاشی ، معاشرتی تمام بیمار یو ں کا علاج صر ف اور صرف شریعت محمدی ﷺ کے نفاذ میں مضمر ہے
ملت کو دین محمدی ﷺ نے شورائی نظام حیات عطا کیا ہوا ہے۔ جس سے شورائی ممبران کودینی نظریات اور صفات کے مطابق سیلیکٹ کیا جاتا ہے۔ ان ممبران پر مشتمل ایک اعلیٰ اوصاف کی مجلس شوریٰ وجود میں آتی ہے، دین میں کوئی سیا سی جماعت نہیں ہوتی۔اسکی بنیاد خیر پر قائم ہوتی ہے۔ یہ دین کا کما ل ہے کہ وہ ملت کو خیر کا ایک مرکز عطا کرتا ہے ۔ دینی ضابطہ حیات ملت کو جلا بخشتا ہے۔ خیر و شر کی پہچان کرواتا ہے ۔ شر کا قلع قمع کرتا ہے۔ اعتدا ل و مساوات ، اخوت و محبت اور حسن خلق کے چراغ روشن کرتا ہے۔ حاکم و محکوم اور ان کی زندہ رہنے کی بنیادی ضروریات حیات کا فرق ختم کرتا ہے۔ ملت ایک مرکز پر اکٹھی ہو جاتی ہے ۔ان غاصبوں کا ملک میں نشان تک نہیں ملتا۔
۲۔ شورائی نظامِ حکومت کی خوبی یہ ہے کہ خلیفہ وقت سے لے کر شوریٰ کے ممبروں تک عوام الناس کی طرح سادہ ،سلیس، مختصر بود و باش، ایک جیسی قلیل ضروریات کے ضابطے کے پابند ہوتے ہیں۔ ملی خزانہ پر انکا بوجھ نہ ہونے کے برابر ہوتاہے۔ تمام بجٹ ملت کی ترقی اور رفائے عامہ پر خرچ ہوتا ہے۔ ملی خزانہ سے تفاوت اور تصرف کی زندگی گذارنے والے کو نظام عدل کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے بروقت احتساب سے جزا و سزا کا فیصلہ فور ی اور اسی وقت ہو جاتاہے۔ سب کے لئے ایک ساقانون اور ایک ساعدالتی نظام رائج ہوتا ہے۔ مسجد شریف اسکی جائے عدالت ہوتی ہے۔ نہ خلیفہ وقت کی اور نہ ہی کسی مجلس شوریٰ کے ممبر کی جراء ت ہوتی ہے۔ کہ وہ کسی قسم کی معاشی، معاشرتی بداعمالی کا مرتکب ہو ۔ اور نہ ہی کسی سرکاری منصب پرفائزفرد کی کہ وہ کسی قسم کا غلط عمل یا بد دیانتی کرسکے۔ اگر انتظامیہ یا عدلیہ کا کوئی فرد، عدل کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔توانکو بھی کیفر کردار تک پہنچا نے کیلئے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاتا ہے۔عدل معاشرے کے جسد کی ہر بیماری کا علاج اور عدل ہی معاشرے کی صحت کا محافظ بن کرابھر تا ہے۔ملک کا خزانہ صرف ملک و ملت کی فلاح وبہبود کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ملک میں زکٰوۃ لینے والا کوئی نہیں رہتا،اقتدار کی بالا دستی سے ملکی خزانہ کو نجی ملکیتوں میں بدلا نہیں جا سکتا۔
۳۔ جب اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کی جاتی ہے تو ملک میں دین کی روشنی میں ایک جدید تعلیمی نصاب،اسلامی اخلاقیات کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں وقت کی ضرورت کے مطابق جدید سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، بہترین بین الاقوامی معیار کا تعلیمی نصاب رائج کیا جاتا ہے۔ دنیا میں محنت وہمت اور غور فکر اور ریسرچ کے شعبوں کی عبادات کے دروازے ہر کس و ناکس کیلئے کھول دئیے جاتے ہیں۔ محنت و ہمت ، غور و فکر کو سرمایہ حیات اور کامیابی کی چابی تصور کیا جاتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر فیلڈ کی طرف توجہ دی جاتی ہے، زیادہ سے زیادہ ہنر مند افراد کو تیار کیا جاتا ہے،اعلیٰ صلا حیتوں اور اعلیٰ اہلیت کے سائنسدان تیار کئے جاتے ہیں۔ ذات پات اعلیٰ و ادنیٰ،بیٹمین اور جرنیل برہمن وشودر، حاکم و محکوم کے طبقات کو تیار کرنے وا لے طبقاتی تعلیمی اداروں کو بند کردیا جاتا ہے۔ ملک میں پھیلے ہوئے میخانہ مغر ب کی آ ہنی سلاخوں سے ملت کو رہائی دلا نا ضروری بن چکاہے، طبقاتی زندگی کے نظا م کا خاتمہ، مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرے کا قلع قمع، مغربی جمہوریت کے نظام کو چلانے والے اعلیٰ طبقہ کے چند آمروں، جاگیرداروں، سرمایہ دار وں ، سیاستدانوں کا خاتمہ، انکے نظام حکومت کو چلانے والی اعلیٰ طبقاتی انتظامیہ اور اعلیٰ طبقاتی عدلیہ کے ممبران جنکے ذریعہ انہوں نے ملک کو لونڈی اور مسلم امہ کے،سولہ کروڑ افراد کو غلام، محکوم اور انکا دین دنیا چھین رکھا ہے۔ جبکہ انتظامیہ، عدلیہ کا فریضہ تو ایسے بد قماشوں ، غاصبوں کوملکی مال و متاع اور وسائل کو چھیننے کے ظالمانہ عمل کا تدارک کرنا ہوتا ہے۔اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم اور طرز حیات کو ختم کرنا اور اسکو واصل جہنم کرنا ملت کے ہر فرد کا فرض بن چکاہے۔
۴۔ اس کرسچن جمہوریت کا نظام بدلنے اور دینی ضابطہ حیات کے نفاذ سے ملت کی دولت ، وسائل،خزانہ اور تجارت پر یک طرفہ قبضہ کرنے کا عمل خود بخود ختم ہو جائیگا۔ امت کے خزانہ کو اپنی ملکیتو ں ، کارخانوں،ملوں فیکٹریوں اور تجارتی اداروں میں بدلنے کا عمل فوری طور پر رک جائیگا۔ ملک کی دولت وسائل اور خزانہ ان چند بد قماشوں کے سرے محلوں، رائے ونڈ ہاؤسوں، پیلسو ں ، کلبوں اور سرکاری اور ذاتی تاج محلوں کے نقش و نگار میں چنا نہیں جا ئیگا۔ ملک کے بجٹ کو چاٹنے والی وزیر و مشیر،وزیر اعلیٰ و گورنر،وزیر اعظم اورصدر پاکستان اور انکی اولادوں پر مشتمل شاہی سرکاری مشینری کے اعلیٰ عہدیداروں،شاہی محلوں ، شاہانہ تنخواہوں، انگنت شاہی سہولتوں،شاہی اخراجات اور شاہانہ تصرفانہ زندگی کے رک جانے سے ملک کفالت کی منزل کا سفر بڑی آسانی اور جلدی سے طے کرلے گا۔انکی بد دیانتی سے تیار کی ہوئی ملکیتیں بحق سرکار ضبط ہو نگی ایک مزدور کی طرح انکا بھی حق ایک جیسا ہوگا۔ ملک کا کا رو بار اسی طرح نہیںبلکہ بہترین طریقہ کار سے اپنے سفر کو جاری کر لے گا۔ ملت اللہ تعالیٰ اور سلطان عربی ﷺ کی تعلیمات کے مخزن اور خلق عظیم سے استفادہ کرے گی۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کیا جائیگا۔بنی نوع انسان کو راہ ہدایت کی منزل سے آگاہی نصیب ہوگی۔
۵۔ ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک تمام سیاسی جماعتیں اور تمام مذہبی سیاسی جماعتیںسولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں میں اسلام کے نام پر ووٹ مانگتی اور حاصل کرتی چلی آرہی ہیں۔ کہ وہ ملک میں اسلام نافذ کریں گی۔ کبھی کسی جماعت نے یہ بتا کر عوام سے ووٹ حاصل نہیں کیاکہ وہ ملک میں کیمونیزم،سوشلزم،ہندو ازم ،آمریت یا اسلام کیخلاف کسی اور نظریات کے لئے ووٹ طلب کر رہی ہیں۔اسکے علاوہ نہ کسی جماعت نے کبھی مذہب کے خلاف ووٹ طلب کیا ہے اور نہ ہی کبھی کسی مسلم امہ کے فرد نے دیا ہے۔ ملت کے سولہ کروڑ افراد کو اسلام کے نام پر،اسلام کے نفاذ کیلئے ، اسلام کے ضابطہ حیات، اسلام کی طرزحیات،اسلام کی تعلیمات کو رائج کرنے کیلئے ووٹ ان سیاسی لیڈران کو ۱۹۴۷ سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔کیونکہ یہ ملک ،مسلم امہ نے مذہب کے نام پر حاصل کیا تھا۔جب یہ تمام ملکی سیاسی جماعتیں اور تمام دینی سیاسی جماعتیں مذہب کی بالادستی کیلئے ووٹ حاصل کر کے اسمبلیوں کے پنڈال میں پہنچ جاتی ہیں۔ تو انکا رویہ بدل جاتا ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کی تقلید جاری رکھتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اور خاص کر دین کے نام پر سیاست کا کھیل کھیلنے والی اسلامی جماعتیں ملت کے ساتھ منافقت، دھوکہ دہی کے جرم کی مرتکب ہوتی چلی آرہی ہیں اور قابل گرفت ہیں۔
۶۔ تمام سیاستدان اور حکمران جمہوریت کے بے دین باطل نظام حکومت کی طرز حیات اور اسکی پیروی میں مستغرق ہوتے جاتے ہیں۔وہ اسکی شاہانہ زندگی، سرکاری بے پناہ سہولتوں، تفاوتی تنخواہوں، اعلیٰ عمدہ سرکاری رہائشوں،سرکاری شاہی گاڑیوں،ٹیلیفونوں اور تصرفانہ زندگی کے لواز مات میں گم ہو جاتے ہیں ۔ ملک و ملت کے وسائل، دولت اور خزانہ تک رسائی اور انکے سرکاری ایوانوںمیں سرکاری شاہی ما حول، شاہانہ تصرف کی آزادی کے نظام کی لذتوں سے ایک جنگل کے وحشی کی طرح پورا پورا فائدہ اٹھائے چلے جاتے ہیں۔ انکو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ انکا اسلام کے سا تھ کیا تعلق باقی رہ جاتا ہے۔ نہ وہ امین ہیںاور نہ ہی عادل ۔وہ تو اینٹی کرسچن جمہو ر یت کے مادہ پرستی کے نظام کا ایندھن بن کر رہ جاتے ہیں۔اس طرح یہ ملک کے سیاستدان، حکمرا ن ملک کے وسائل ، دولت اور خزانہ کو نگلتے جاتے ہیں۔انکی تمام ملکیتیںعوام کی وراثت ہیں،انکو واپس لینا، انکی عیاشانہ طبقاتی طرز حیات کو ختم کرنا ایک افضل ترین عبادت اورسولہ کروڑ عوام کا فرض ہے
۷۔ ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک ان طبقاتی منافق سیاستدانوں، غاصب حکمرا نو ں او ر اینٹی کرسچن جمہو ریت کے شیدائیوں نے، جمہوریت کا طرز حکومت اور ضابطہ حیات جس کو انگریز نے ایک مفتو حہ ملک کی عوام کو قوانین کی ایسی جابرانہ زنجیروں پہنا رکھی تھیں۔ کہ جن کو عوام نہ توڑ سکیںنہ بھاگ سکیں۔انکی عدلیہ اور انتظامیہ مغربی جمہوریت کے ضابطو ں اور نظام کو اس طرح نافذالعمل کرتی کہ عوام الناس کو اپاہج اور بے بس بنا کر رکھ دیتی ۔ وقت کی نزاکت اور حالات کے مطابق ایسے قوانین لاگو کر تے کہ سر اٹھانے والے باغیوں کا سر قلم کر دیتے ۔ انکے خاندانوں کا حشر نشر کر دیتے۔ انہوں نے اس ظالمانہ طرز حیات سے ہندوستان پر نوے سال تک حکومت کی ۔ ہندوستان کو انگریز سونے کی چڑیا کہا کرتے تھے۔ ہندوستان کے تما م وسائل ، دولت اور ٹیکسوں سے اکٹھا کیا ہوا خزانہ برطانیہ پہنچا دیتے۔ اب وہ تمام وسائل ،دولت اور خزانہ یہ ملی رہزن اسی طرز حکومت اور اسی طریقہ کار سے لوٹتے چلے آرہے ہیں۔انکا تدارک ایک افضل عبادت ہے۔
۸۔ ۱۹۴۷ کی جنگ آزادی کے بعد انگریز نے پاکستان کی حکومت کا نظم و نسق اپنے مقبول و محبوب وفادار جاگیرداروں،سرمایہ داروں کے حوالہ کر دیا ۔ملک کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے انتظامیہ اور عدلیہ کے تمام ادارے اور انکو چلانے والی تمام سرکاری مشینری کی افسر شاہی ، منصف شاہی اور نوکر شاہی انکے سپرد کر دی گئی۔ اسطرح انہوں نے مفتوحہ ملک کا چارج اپنے پروردہ جاگیر داروںاور سرمایہ د اروں کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے انگریز کی تیار کی ہوئی مغربی جمہوریت کی طرز حکومت کو اسی طرح رائج رکھا۔ طبقاتی انگلش میڈیم ادارے، انگریزی زبان کی سرکاری بالا دستی، ۱۸۵۷ کے ایکٹ کے مطابق انتظامیہ اور عدلیہ کا تعلیمی نصاب،سودی معاشیات کی تعلیم،ٹیکس کلچر کا نظام اور تعلیم و تربیت ، افسر و ماتحت کا نظام، براہمن و شودر کا نظام،حاکم و محکوم کا نظام اور انکی تعلیم و تربیت ، مغربی جمہوریت،اسکے الیکشن،اسکے ممبران،اسکی صوبائی اسمبلیاں،اسکی وفاقی اسمبلی ،اسکا سینیٹروں کا سپریم ادارہ، اسی طرح قائم و دائم چلے آرہے ہیں۔اسکے علاوہ مغربی جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کی تلوار سے انہوں نے مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ ، مخلوط اسمبلی کے قانون اوربدترین طبقاتی غاصب معاشی تقسیم کے طریقہ کار کو ملک میں نافذ کر کے دین کی روح کو مسخ کر دیا ہے۔مغربی جمہوریت کے ممبران نے مسلم ملک او ر اس میں بسنے والے سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا نام مسلمان تو قائم رہنے دیا، لیکن بد قسمتی سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے مذہب کے سیاسی پیغمبران کے تیار کردہ باطل نظریات ، باطل معاشی تقسیم، باطل طرز حیا ت ، اسکی باطل تعلیم و تربیت کو ملک و ملت پر مسلط کر کے انکا اسلامی تشخص مسخ کر کے رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے۶۰ سال سے انگریز کے تیار کردہ مغربی جمہوریت کے نظریات کے آمروں کی گرفت میں ہے، ان آمروں نے مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزند ا ن کومحکومیت کی سزا میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس باطل معاشی اور معاشرتی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے المیہ نے ملت کے کردار اور تشخص کو تباہ کر دیا ہے۔
۹۔ مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان اپنے دین کے مطابق ذکر رب جلیل اور درود حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ اور تلاوت قرآن پاک کی کرتے ہیں۔ دل و زبان کو ذکر حمد باری تعالیٰ سے معطر کرتے ہیں۔گھروں اور مساجد میں قرآ ن پاک کی تعلیمات حاصل کرتے ہیں ۔اس کے بر عکس سرکاری طور پر سکولوں،کالجوںِ یونیور سٹیو ں میں تعلیم و تربیت مغربی جمہوریت کے تعلیمی نصاب ۱۸۵۷ کے ایکٹ کی ، عدلیہ کی تعلیم اسکی، انتظامیہ کی تعلیم اسکی،سودی معاشیات کی تعلیم اسکی، مغربی سیاسیات کی تعلیم اسکی ،مخلوط تعلیمی نظام اسکا،طبقاتی تعلیمی نصاب اسکا ، طبقاتی تعلیمی ادارے اسکے، حکومتی سطح پر بالا دستی مغربی جمہوریت کے نظام، اسکے سیاستد انوں کی، اس جمہوریت کے نظام حکومت کو چلا نے والی افسر شاہی ،منصف شاہی،نوکر شاہی مغربی جمہوریت کے تعلیمی اداروں کے تربیت یافتہ سکالروںکی۔ ہم کیسے مسلمان ہیں! کہ ہم ذکر تو رب جلیل کا کرتے ہیں اور درود پاک حضور نبی کریمﷺ پر بھیجتے ہیں۔ہم مانتے خدا اور پیغمبرخدا ﷺکو ہیں اور ہم سرکاری طور پر اطاعت و عبادت اینٹی کرسچن جمہوریت کے اسمبلیوں کے پیغمبران کی ، انکی تعلیمات کی،انکے قوانین کی اور انکے ضابطہ حیات کی ، انکی انتظامیہ کی،انکی عدلیہ کی کرتے ہیں۔کیا تمام مسلم امہ منافقت کی زندگی کے عذاب میں مبتلا نہیں ہو چکی ،کیا ہمارے سیا ستد ا ن اور خا ص کرہمارے دینی جماعتوں کے ملی راہنما اس بارے میں کوئی وضا حت پیش کریں گے۔انکی عاقبت تو ہے ہی ایسی۔انہوں نے ملت کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے ۔
اے اینٹی کرسچن جمہوریت کے پروانو!اے مذہبی جماعتوں کے رہنماؤ! تم تو اپنی بہو ،بیٹیوں کو انگلی لگا کر اسمبلیو ں میں لے پہنچے ہو۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایک اسمبلی ممبر کا ملی خزانہ پر کتنا بوجھ پڑ تا ہے۔ تم تو۶۸ مستورات قومی اسمبلی کے ممبران کی فوج اپنے اسمبلی ہال میں لے پہنچے ہو۔ان میں منسٹریاں بھی بانٹی گئی ہیں۔ایک منسٹرنی کی تنخواہ،شاہی دفاتر،شاہی سرکاری ریذیڈنٹ،ٹیلیفون،انکے سیکٹریوں اور عملہ کی افواج اور انکے اخراجات اور بے پناہ سرکاری سہولتوں کی تفصیل کون بتائے گا۔یادہے آپکو! کہ یہ ملی خزانہ ایک بیوہ ،ایک یتیم،ایک معذور،ایک اپاہج،ایک بوڑھے،ایک بے روزگار،ایک کسان ایک مزدور،ایک محنت کش ،ایک ہنر مند اور عوام الناس کی ملکیت ہے۔کیا وہ ملک چلانے کیلئے ہر قسم کا ٹیکس،گھر کا ٹیکس،بجلی کا ٹیکس،پانی کا ٹیکس،گیس کا ٹیکس،دالوں کا ٹیکس،سبزیوں کا ٹیکس،گوشت کا ٹیکس،آٹے کا ٹیکس، کپڑے کا ٹیکس، جوتے کا ٹیکس گھر سے نکلنے کا ٹیکس،سڑک پر چڑھنے کا ٹیکس،کرایوں کاٹیکس،قدم قدم پر ٹیکس،کروٹ کروٹ پر ٹیکس، ہر چیز پر ٹیکس ،ہر وقت ٹیکس، جینے پر ٹیکس،مرنے پر ٹیکس،ان ٹیکسوںسے اکٹھا کیا ہوا خزانہ،ملک کے تمام وسائل،ملک کی تمام دولت سولہ کروڑ مرد و زن کی ملکیت نہیں ہے۔کیا سیاستدان، حکمران ملت کے مال و دولت،وسائل اور خزانہ کے امین نہیں ہیں۔ کیا ان آمینو !نے انکی حفاظت کی ہے یا انہوں نے طبقاتی زندگی اور تفاوتی معاشی تقسیم کے جرائم مسلط اورجاری کےئے ہوئے ہیں۔کیا ملت نے انکو تصرفانہ اخراجات اور ملی دولت کا بے جا استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔کیا ملت نے انکو انکی براہمانہ زندگی اور ملت کی شودرانہ زندگی کے طریقہ کار کی اجازت دے رکھی ہے۔ کیا ملت نے انکو ملی مال و دولت،وسائل اور خزانہ کو شاہی محلوں،شاہی پیلسوں،شاہی رہائشوں،شاہی ہوٹلو ں، رائیونڈ ہاؤسو ں ، سرے محلوںمیں چنو ا نے اور خاک میں ملانے کے کلچر سے لوٹ مار مچانے کی اجازت دے رکھی ہے ۔ کیاملکی زر مبادلہ جو کسی ملک یا ملت کی معاشیات کی جان ہوتی ہے، کیا ملت نے انکو سرکاری اور نجی شاہی گاڑیوں کی خریداری پر ہر سال اربوں،کھربوں اور اسی طرح اربوں ،کھربوں کا پٹرول ،ڈیزل جلا کر ملی خزانہ کو آگ لگا نے کی اجازت دے رکھی ہے،کیا ملت انکو پوچھنے کا اختیار نہیں رکھتی کہ انہوں نے لوکل گاڑیوں کو چلا کر ملک و ملت کا آمد و رفت کا مسئلہ حل کیوں نہیں کیا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک کے ان چند جاگیرداروں،سرمایہ داروں، سیاستدا نوں، حکمرانوں اور ان سے منسلک چند عیاشوں فوج کے ایک جرنیل کی گن پوائنٹ پر ملکی مال و دولت،وسائل اور خزانہ اینٹ گارے کی چنوائی ، اور قیمتی گاڑیوںکے لوئے کو ماٹی بنانے اور تیل کو جلا کر خاکستر کرنے کا گھناؤنا عمل جاری نہیں کر رکھا۔ یہ تو بتاؤ! اقتدار پر مسلط غاصبوںاور انکی شاہی مشینری سے ان ا ما نتوں کو کس نے بچانا ہے۔ ہمارے دینی رہنماؤ! تم تو دین اور دنیا کے رہزن ہی نکلے ہو۔ یہ دینی رہنما، قافلہ نمرود،فرعون اور یزید کے حکومتی پیروکاروں میںشامل ہو چکے ہیں۔انہوں نے توخدا اور رسول ﷺ کے نظام شریعت کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے انہوں سیاستدانوں کیساتھ مل کر اسکو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔انہوں نے تو بیعت مغربی جمہوریت کے یزیدی ضابطہ حیات کی کر رکھی ہے اور اسکی حکمرانی میں شامل ہو کر حکومتوں کے مزے لوٹنے میں شامل ہو چکے ہیں ۔یاد رکھو ! تم سخت غلطی پر ہو۔دین کی خاطر،دین کی بالا دستی کی خاطر مغربی جمہوریت کی حکو مت کو خیر باد کہ دو۔ الیکشن کا بائی کاٹ کر دو، آپکی شمولیت کے بغیر جمہوریت کا باطل نظام ایک د ن بھی نہیں چل سکتا۔ دین نافذ ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ ذرا غور تو کرو! کیا تم ہی دین محمدیﷺ کے نظام کے نفاذ میں پہلی اور آخری روکاوٹ تو نہیں ہو! ۔ ملت کے مال و دولت،وسائل ،خزانہ اور دین کے امین ملت کے دین و دولت کے رہزن بن چکے ہیں۔ ملت غربت ، تنگدستی ، بیروزگاری ،افلاس کی پریشانیوں اور ضرور یا ت حیات کے حصول کی اذیتوں میں مبتلا خود کشیاں، خود سوزیاں کرتی پھرے اور یہ غاصب طبقہ انکی امانتوں سے عیاشیاں کرتا پھرے۔یہ تو دین کا سبق نہیں ہے۔اے مغربی جمہوریت کے پروانوں تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ بھٹے میں اینٹ تیار کرنے والا مزدور،کار خانوں میں لوہا تیار کرنے والا مزدور، سیمنٹ تیار کرنے والا مزدور،تمہارے کارخانوں ،ملوں فیکٹریوں ،شاہی محلوں، رائیونڈ ہاؤسز ، سرے محلوں کی تعمیر کرنے والے مزدور، محنت کش، ہنر مند۔یہ تمام مال و دولت ،وسائل ،خزانہ مزدوروں، محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کی ملکیت ہیں۔تم نے تو ملت سے قومی زبان اردو چھین رکھی ہے۔ان حکمرانوں نے مغربی جمہوریت اور اسکی مغربی انگریزی زبان کی حاکمیت ملک و ملت پر مسلط اور سرکاری بالا دستی نافذ العمل کر رکھی ہے۔ ملک میں انگریز کی مفتوحہ قوم پرانگریزی زبان اور محکوم قوم پر جمہو ر یت کا نظام اور اس نظام حکومت کو چلانے والے انکے پروردہ جاگیر دار اور سرمایہ دار حکمران جوں کے توں مسلط ہیں۔ انہوں نے سولہ کروڑ اہل وطن انسانوں کو انکی سماعت ، بینائی ،گویائی جیسی فطرتی قوتوں کو اور ذہنی طورپرمفلوج بنا رکھا ہے،کتنے بد نصیب رہزن حکمران ہیں،وہ یہ تو بتائیں!۔ کہ ستر فیصد دیہاتوں میںکتنے انگلش میڈیم تعلیمی ادارے ، سکول،کالجز، اور یونیورسٹیاںہیں۔کیاشہروںمیںانتیس فیصد مزدو رو ں ، محنت کشوں اور ہنر مندوں کی اولادیں ایچی سن جیسے سکولوں، کالجوں کی فیسیں ادا کرنے کے قابل ہیں۔کیا ان طبقاتی اداروں سے جرنیل،سرکاری سیاسی عہدیدار،ایم پی اے،ایم این اے ،سینٹرز،وزیرو مشیر،سفیر، افسر، وزیر اعلیٰ گورنر،وزیر اعظم اور صدر پاکستان،نوکر شاہی،منصف شاہی کے طبقاتی اعلیٰ نسل کے ارکان، حکمران،بادشاہ اور عامر معاشرے کے ہر شعبہ حیات کو کنٹرول کرنے کیلئے تیار ہوتے چلے نہیں آرہے۔یہ کن کی اولادیں ہیں۔بتا سکیں گے!۔شرم کرو،عدل کش بد بختو!۔خدا کے عذاب سے بچ جاؤ۔دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات کا نفاذ از بس ضروری ہے۔
۱۰۔ ملک کے نشرواشاعت کے تمام ادارے ٹی وی ریڈیو، رسائل ، اخبار ا ت میں ان تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات ایک دوسرے کے خلا ف ایک دوسرے کی بدکرداری کی تشہیر، کروڑوں کے غبن، اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں ایک دوسرے کے خلاف حقائق پر مبنی جرموں کی بوچھاڑ ، ممبران کی آپس میں ہاتھا پائی، اسمبلیوں میں ایک دوسرے کو قتل کی دھمکیاں، نت نئے سیا ست دانوں کے بیرون ملک ڈالروں کے اکاؤنٹس کے انکشافات، زمین مافیہ کی گھناؤنی داستانیں، جگے ٹیکسوں کے کلچر اورقتل و غارت کی وارداتیں، پولیس مقابلے، ملک میں انارکی کی فضا، پٹرول اور گندم کی قیمتوں میں اضافوں کی خبریں، ہر روز منی بجٹوں کی اور ٹیکسوں کی بھرمار ، عوام کے پیٹ بھرنے اور تن ڈھانپنے کے اپنے اپنے مسائل اور لامتناہی گھناؤنے حالات و واقعات کی عبرت ناک وارداتیں اور داستانیں۔ حکومت وقت کو بدلنے کے لئے سیاسی جماعتوں کے اتحاد۔ وزارتوں میں شمولیت کے خواب، وزارتوں اور جماعتوں کی خرید و فروخت ۔سیاست دانوں نے ملک میں ( Hurly Burly Affairs) پیدا کرکے سولہ کروڑ عوام کو ہیپٹنائز کررکھا ہے۔ ان سیاہ کاریوں کے کالے جادو نے ملت کے جسد کومفلوج اور ناکارہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے اس طلسم کو توڑنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس اینٹی کرسچن جمہوری نظام اور سسٹم کے خلافاسکے سیاستدانوں اور فوجی جرنیل کے خلاف ملت کے دلوں میں نفرت، حقارت، اور بیزاری کی آندھی اور طوفان اٹھ کھڑاہو ا ہے۔ اسلامائیزیشن کاجذبہ اور ولولہ ملت میں بیدار ہو چکا ہے۔ اور شدت کے ساتھ پروان چڑھنے کے لئے اپنی منزل کیطرف رواں دواں ہے۔سیاسی رہنما،مذہبی رہنما اور یہ ملے جلے حکمران وقت کے فیصلے کو پڑھ لیں۔ جلد از جلد دستور مقدس کو ملک میں رائج کرکے ملت کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کی پاسداری کریں۔ ورنہ سولہ کروڑ عوام کے ساتھ ان کی طویل بدعہدی، بدکرداری تاریخ کے سیاہ اوراق کا حصہ بنتی چلی جارہی ہے مسلم امہ اس بد بخت ٹولہ کی عاقبت دیکھنے کیلئے منتظر کھڑی ہے۔ کب تک سیاستدان اقتدار کے جھمیلوں میں الجھتے اور حکمران ملی خزانہ کی امانتوں کو نگلتے اور جرائم پر مشتمل مغربی جمہوریت کے اقتدار کے حصول کی موت مرتے رہیں گے۔انکے لئے انا للہ و انا علیہ راجعون پڑھ دیا گیا ہے۔دین کے نفاذ اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
پاکستان میں نہ وسائل کی کمی ہے نہ دولت کی۔نہ زمین کی کمی ہے اور نہ ہی پیداوار کی،نہ کسانوں کی کمی ہے اور نہ ہی محنت کشوں کی۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے معاشی نظام کے ذریعہ کسانوں،محنت کشوں اور عوام الناس سے انکے وسائل ، پیداوار، دولت اور خام مال اور انکی محنت و مشقت سے کمائی ہوئی دولت کو ٹیکس کلچر ، زکٰوۃ اور عشر کے ذریعہ چھین کر خزانہ بھر لیا جاتا ہے۔ حکومتیں بناتے وقت کروڑوں کی رشوتیں ، وزارتوں کی رشوتیں، لینا دینا انکا روز مرہ کا شغل بن چکا ہے۔ کیا یہ تمام خام مال،وسائل،دولت اور ٹیکس کلچر سے اکٹھا کیا ہواملکی خزانہ سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کی ملکیت نہیں ہے۔ کیا ہر فرد اس ملکیت میںبرابر کا حصہ دار نہیں ہے۔کیا ان ذرائع،وسائل،دولت اور خزانہ کا استعمال عادلانہ طریقہ سے کیا جاتا ہے ۔کیایہ ملی خزانہ، یہ ملی دولت،یہ ملی وسائل،یہ ملی امانتیں،یہ ٹیکس کلچر سے اکٹھا کیا ہوا خزانہ، امین یا بد دیانت ہاتھوں کے کنٹرول میںہے۔ یہ خزانہ کیسے استعمال میں لایا جاتا ہے۔اس کا طریقہ کار کیا ہے۔اس پر اجارہ داری کن کی ہے۔ کیا ان امانتوں کا استعمال ملت کی فلاح و بہبوداور ملک کی ترقی کے لئے کیا جاتا ہے یا ذاتی تصرفانہ ،تعیش کی زندگی گذارنے ملوں فیکٹریوں ، کارخانو ں ، تجارتو ں اور کاروباروں کو بنانے، چلانے اور ترقی دینے کیلئے۔کیا ان امانتوں کے امین ان کی حفاظت کرتے ہیں یا اقتدار کے حصول کی خاطر یا حکومتیں بنانے کیلئے ممبران کو خریدنے پر خرچ کرتے ہیں۔ کیا اقتدار حاصل کرنے اور حکومتیں قائم کرنے کے بعد اس خزا نہ کو اپنی ملکیتوں میں بدلتے رہتے ہیں یا ملک و ملت کے فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔
کیا مزدور ،محنت کش ،ہنر مندبٹھوںپر اینٹیں تیار نہیں کرتے، سیمنٹ فیکٹریوں میں سیمنٹ یہی لوگ تیار نہیں کرتے،کیا ملک کی تمام
فیکٹریاں،ملیں، کارخانوں کی تعمیر یہی محنت کش نہیں کرتے۔ کیا انکی تمام مشینری یہی ہنر مند تیار نہیںکرتے اور انسٹال بھی یہی نہیں کرتے۔ کیا ملک کے عظیم کسان،انمول ہنر مند،لا جواب مزدور اور با ہمت محنت کش حسب ضرورت زیادہ سے زیادہ پیداوار اورسٹاک مہیا نہیں کرتے چلے آرہے۔کیا ملک کی ہر قسم کی ضروریات یہی محنت کش مہیا نہیں کرتے۔کیا ملک کا تمام زر مبادلہ انکی محنت کا ثمر نہیں ہوتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تمام ملیں،فیکٹریاں،کارخانے اور تما م تجارتی ادارے بناتے اور چلاتے تو یہی لوگ ہیں۔ لیکن یہ تمام ملکیتیںان آ مرو ں ، سرمایہ داروں، سیاستدانوں ،حکمرانوں کی کیسے بن گئیں ہیں۔ نہ یہ کسان ہیں۔نہ یہ مزدور ہیں،نہ ہی محنت کش، نہ یہ ہنر مند ہیں اور نہ ہی اس فن سے آشنا۔ انکے اربوں ڈالر سوکس بنکوں میںکیسے جمع ہوئے، یہ مغربی جمہوریت کے غاصب نظام اور سسٹم کی پیداوار ہیں۔جنہوں نے ملک میں امانت و دیانت کا قتال کررکھا ہے۔اعتدال و مساوات کو کچل رکھا ہے۔عدل و انصاف کو مسخ کر رکھا ہے۔بے حیائی ، بدکاری ، رشوت ،کمیشن، ڈاکے،سمگلنگ،بلیک مار کیٹنگ ، نارکاٹیکس اور ہر جائز و ناجائز کو جائز کر رکھا ہے۔منافع خوری اور چور بازاری کو ذریعہ آمدن بنا رکھا ہے۔اقتدار کی نوک پر کارخانوں اور کاروباروں کے لائسنس،امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لائسنس،ملکی خزانہ سے قرضہ جات،اعلیٰ سرکاری سٹیٹس سے رشوت کمیشن اور ہر قسم کے جرائم سے انہوںنے دولت،شہرت،اقتدار اور حکومتیں حا صل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حکومتیںقائم کرتے وقت ممبروںکی بولیاں لگتی ہیں۔زکوٰۃ کے فنڈ تک یہ ہضم کرتے جا رہے ہیں۔ یہ اسمبلیو ں کے ممبر ہوں یا مشیر ،وزیر ہوں یا سفیر،وزیر اعلیٰ ہوں یاگورنر،وزیر اعظم ہوں یا صدر مملکت۔یہ تمام نظام،یہ تمام سسٹم،یہ تمام ضابط حیات،یہ تمام طرز حیات باطل اور یہ تمام حاکم وقت اور انکے اعلیٰ ملکی عہدیداران غاصب ،معاشی اور معاشرتی قاتل ہیں۔سیاستدان اور حکمران اور انکی اعلیٰ مشینری کس طرح خزانہ استعمال کرتی ہے۔ انکے سرکاری تاج محل، انکے شاہی اخراجات،انکے پروٹوکول کے اخراجات جمہوریت کے نظام کے یہ سب جرائم ہیں۔ جنکو صرف وقت کا ایک دین محمدیﷺکا عادل ایک ضرب سے اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصب نظام حکومت کو پاش پاش سکتا ہے۔یہ ملک سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا ہے۔یہ تمام ملکیتیںان سب کی ہیں۔یہ ملکیتیں انکو، انکے وارثو ں کو واپس لوٹانی ہونگی ۔ شورائی نظام کی ایک ہی جماعت ہوگی۔خیرکی داعی ہوگی اور شر کا خاتمہ کرنے کی پابند ہوگی۔ملت کی وحدت قائم ہوگی ۔ یتیموں، بیواؤں، اپاہجوں، مسکینوں،بوڑھوں اور حاجت مندوں کی ذمہ داری حکومتی سطح پر ادا کرنے کی پابند ہوگی ۔ بے روزگاروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ملک کا نظم و نسق ، امین اور اہلیت کے وارثوں کو سونپنا ہوگا۔
ایٹمی دھماکہ کرنا ملک کیلئے ایک مشکل کام بن گیا تھا۔ ہندوستان کے ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد پاکستان کادھماکہ نہ کرنے کاکوئی جواز نہیں تھا۔ اگر پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرتا تو اس خطہ میں جنگی طاقت کا توازن بگڑ جاتا اور پاکستان کی بقا مخدوش ہو جاتی۔ ان وجوہات کی بنا پر پاکستان کا ہرفرد، تمام افواج کے سربراہان، ملک کے تمام اہل قلم، اخبار نویس، کالم نویس، اہل شعور، اہل دل، ا ہل درد، عالم دین، اہل بصیرت یعنی ہر طبقہ خیال نے حکومت وقت کو مجبور ہی نہیں کیا۔بلکہ اسکادائرہ اس قدر تنگ کردیا گیا تھا۔کہ اس کے پاس ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ حکرانوںکے پاس صرف دو راستے تھے ۔یا تو یہ حکومت سے فارغ ہو جاتے۔ یادھماکہ کرتے ۔ یہی فیصلے کا وقت تھا۔ جہاں عروج اور زوال کے نقطہ نے آغاز اور انجام کی منزل کارخ اختیار کر ناتھا۔ یہ سہرا قدرت نے اس وقت کی قیادت کو عطا کر نا تھا
کردیا۔ یہ حقائق آنکھوں سے کبھی اوجھل نہیں ہونے چاہیئں ۔ کہ اس ایٹمی دھماکہ کو ۲۸ مئی ۱۹۹۸ ء کو ہمارے سائنس دانوں نے کر دکھایا۔ اہل وطن ان تمام سائنس دانوں اور ان تمام ورکروں کو جنہوں نے ملک کے ڈیفنس میں قابل قدر فرائض سرانجام دیئے۔ اور اس عمل کی طرف بھرپور توجہ دی۔ مبارک باد، صد بار مبارک باد، پیش کرتے ہیں۔
لیکن ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیئے کہ جب ملت خواب غفلت میں سو رہی تھی۔ پاکستان کی ایٹمی طاقت کا یہ خالق اور عظیم سپوت ریگزار حیات میں تن تنہا چپکے چپکے ایٹمی صلاحیتوں کے علم کو مغرب کی لیبارٹریوں اور تجربہ گاہوں میں اس علم کے بنیادی اصولوں کے حصول کے لئے کوشاں رہا۔ تمام کلیے اپنے ذہن کے کمپیوٹر میں اکھٹے کئے اور اس علم سے آراستہ ہوا۔ یہاں تک اس عظیم جوہری صلاحیت پر مکمل عبور اور یقین حاصل کر لیا۔ تو پھر اس نے ملک کے وقت کے حاکموںکے نام ایک موثر اور مدلل چھٹی تحریر کی۔ جس میں اس نے اس شاہکار ایٹمی طاقت کی تکمیل کے لئے حکومت وقت سے معاونت کی اپیل کی ۔ اور اس کی اہمیت اور طاقت سے پوری طرح روشناس کرایا۔ مغرب کی طرف سے ہر قسم کی مادی سہولت کو ٹھکرا دیا۔ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اپنے ملک میں واپس لوٹا۔ یہ ایک درویش منش فقیر، اہل دل، اہل درد، اور پاکستان کے عظیم فرزند کی یہ ایک دعا، ندا، اور صدا تھی۔ یہ ایک خاموش، دل سوز کے حامل، غور و فکر کے باعمل مسلمان کی آہ اور تڑپ تھی۔ جوآسمان کی طرف اٹھی اور چیرتی ہوئی بارگاہ الہی میں ایسی ملتجی ہوئی۔ جہاں سے اسباب و وسائل،ہمت، کوشش، کاوش، شجاعت اور استقامت کے خزانوں کی منظوری لے آئی۔ یہ تھے جنا ب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب جن کو رب العزت نے ان کے نام کی تمام صفات اور قدرتیں عطا کر دیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عطا کردہ توفیق میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین۔ گو یہ ایک نامور عظیم شخصیت دشمنوں کیلئے ایک نا قابل برداشت ہستی بن گئی۔ لیکن مسلمانوں میں اس سائنسی فن کے امام نے اپنے احباب سے مل کر اپنی ذمہ داری ، ایمانداری، نیک نیتی، محبت، ادب، اور عبادت سمجھ کر بڑے ذوق و شوق سے سرانجام دی ہے ۔ اس ملت کے عظیم فرزند نے اہل پاکستان اور ملت اسلامیہ کو اقوام عالم کی ایٹمی طاقتوں کی لسٹ میں لا کھڑا کیا ہے۔ اے قدیرتیری عظمت کو سلام، تو نے پاکستان کے مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کو دشمن کی زد سے بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اس وطن اور اس کے اس عظیم سپوت پراپنی عنایات میں اضافہ فرمائے۔ آمین لیکن مغربی طاقتوں کے کہنے پر ہم اس عظیم سپوت کیساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ہمارے بزدل سیاستدانوں اور حکمرانوں کا نہیں پاکستان میں بسنے والی مسلم امہ کے فرزندان کا فرض ہے کہ وہ اسکا سختی سے نوٹس لیں اورجناب عبدالقدیر صاحب کی قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کروا ئیں۔ انکی ضعیف العمری اور گرتی ہوئی صحت کا تقاضہ اور تحفظ پورا کریں۔ملت کبھی احسان فراموش اور ضمیر فروش نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ ملت کو اسکی توفیق عطا فرماوے۔آمین۔
اب اس کارخیر میں ملک کے نامور دوسرے سائنسدانوں کا ایک ہجوم اور بے بہا قیمتی اثاثہ ہماری دفاعی پوزیشن کو نئی نئی ایجادات سے روشناس کروا کر ملک کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی لسٹ میں شمولیت کا اعزازبخشتا ہے۔ انکی تخلیقی قوتوں نے اب غوری اور شاہین جیسے میزائل تیار کرلئے ہیں۔ ملک کی دفاعی پوزیشن کو بہتر سے بہتر بناتے چلے آ رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں کا پاس ہونا ایک ملک کی بنیادی اہم ضرورت ہے۔ ملک کی سائنسی اکیڈمی سے جتنے بھی عظیم سپوت اب ابھریں گے۔ ان کا کریڈٹ جناب ڈاکٹر عبدالقد یر خان صاحب کو ہی جائے گا ۔
االلہ تعالیٰ اس ادارے کے ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ سائنسدانوںاور ورکروں کو ہر آزمائش پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
یا د رکھو! مسلمان جنگ میں پہل نہیں کرتا۔ وہ مخلوق خدا یعنی فطرت کے شاہکار (انسان) کی عزت واحترام، ادب و محبت سے ہی صرف پیش نہیں آتا۔ بلکہ ہر ذی جان کی تکلیف ، دکھ، درد، پریشانی، بیماری، اذیت اور ناگہانی آفات یامصیبت میں مبتلا کی تیمارداری اور مرہم پٹی کے فر ائض سرانجام دیتاہے۔ وہ ر نگ و نسل اور عقیدوں سے بے نیاز ہو کر اور ابر رحمت بن کر رحمتہ العٰلمین ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں بڑے احسن طریقہ سے اپنے فرائض خدمت وادب کو عبادت کا حصہ سمجھ کرسرانجام دیتا ہے۔
لیکن یہ بات کھل کر بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک مسلم امہ کے فرزندان کو اسلامی ماحول، دینی تعلیم، اخلاقی تربیت ، کردار سازی، اس کے آداب زندگی،اسکے خدوخال کو شریعت محمدیﷺ کے اسوہ حسنہ کی تعلیمات کی روشنی کے سانچے میں نہیں ڈھالا جاتا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں بسنے والی مسلم امہ کے پندرہ کروڑ فرزندان کا ملی تشخص ، اینٹی کر سچن جمہوریت کے بے دین نظام سے تیار کیا گیا ہے۔ اس سے جو سماج تیار ہوا ہے اس سے اٹھنے والی بد کرداری کی آندھی، ظلم و ستم کی فضا ، قتل و غار ت کا طوفان، چند سیاسی دہشت گردوں کا معاشی اور معاشرتی تشدد،اسمبلی ممبران کی خرید و فرخت،رشوت و کمیشن، لوٹ کھسوٹ کا شورو غل، عدل کشی کی چیخو ں کا گھناؤنا شور، یہ خوفناک طوفان ملک و ملت کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ پوری ملت اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام اور سسٹم سے تنگ اور عاجز آ چکی ہے ۔ سیاستدانوں، حکمرانوں پراللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ کی امت سے پاکستا ن میں دین محمدی ﷺ کے نفاذ کا وعدہ جسکی بنیاد پر پاکستان ۱۹۴۷ میں وجود میں آیا تھا اسکوپورا کرنے کا وقت انکے سر پر آن پہنچا ہے۔کب تک پاکستان کے صاحب اقتدار مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کو اللہ تعا لیٰ اور اسکے نبی آخر الزماںﷺ کی گستاخی ،بے ادبی اور انکی رسوائی کا باعث بناتے رہیں گے۔
سربراہ حکومت کوفوری طور پر ایک ایسی کانفرنس کو بلانا ہو گا،جس میںتینوں افواج کے دین پرست افراد، سپریم کورٹ ،ہائی کورٹس کے جج، سینیٹ اور دینی قیادت کے ممبران اس کے علاوہ دوسرے رفقاء، اہل قلم، اہل دل، اہل محبت، اور اہل درد لکھاریوں، دانش مندوں کی اجتماعی میٹنگ کال کریں۔ اورسولہ کروڑعوام سے ۱۹۴۷ میں جو وعدہ کیا تھا ، ان سب کو یاد کرائیں۔ اور اس وعدہ کو پورا کرکے ملت کواس جہالت اور ظلم کی اندھیر نگری سے انکی جان چھڑائیں۔ملکی ملی ذمہ داری سے فرار کاراستہ تلاش نہ کریں، مزید وقت ضائع نہ کریں ، اپنی قسمت کے سنہر ی الفاظ لکھنے میں دیر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دور حاضر کے دینی نمائندوں کو فیصلے کا یہ مبارک لمحہ عطا فرمائے ۔آمین۔ اگر کوئی ایسی مشکل سیاستدان یا کوئی اور طبقہ پیدا کریں۔ تو یہ مسئلہ پاکستان کی عوام کے سپرد کر دیں۔ اسلامائزیشن کے مسئلہ پر ریفرنڈ م کروا لیں۔ اور اس وعدہ اور کارخیر کو ایک سچے مسلمان کی طرح نبھائیں۔ وعدہ جلد از جلد پورا کریں، ایسا نہ ہو کہ اقتدار یا زندگی کا سانس اپنے انجام سے ہمکنار ہو جائے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑے۔ تمام فتوحات اور کامیابیاں دھری کی دھری رہ جائیں۔ اپنے حال کو کلمہ شریف پڑھا لیں۔ ماضی خود بخود مومن ہو جائے گا اور مستقبل روشن ودرخشاں۔اللہ تعالیٰ آپکو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔ امین
عنایت اللہ