To Download or Open PDF Click the link Below

 

  مسلم امہ کی نسلوں کو جمہوریت کا کینسر
عنایت اللہ
ہندوستان کئی اقوام، مذاہب ، نظریات کا مجموعہ تھا، ہندوؤ ں اور مسلمانوں نے انگریز سے دو قومی نظریات کی روشنی میں آزادی حاصل کی ، مسلمان ہندوستان میں کیسے آئے اس دھرتی کے ہندؤں نے اسلامی نظریات کو کیسے قبول کیا ، مسلم بادشاہت کے زوال کے اسباب کیاتھے انگر یز نے نان کرسچن جمہوریت سے اسلا می تعلیمات،کردار،تشخص کو کیسے ختم کیا ، اب مسلم امہ کا دینی تشخص کیسے بحال کیا جا سکتا ہے۔
اہل ہند کے ہندی عوام اور انکے سیاست دانوں کو بڑے ادب، محبت اور خلوص سے آگاہ کرنا نہائت ضروری ہے کہ ان کے نظریہ یا عقیدہ ہندو ازم کا بنیادی تصور چار قومیتوں پر مبنی ہے۔ یہ نظریہ ان کو برابری یا مساوات کا شعور نہیں دیتا۔ طبقاتی طریقہ کار، ذات پات، اونچ نیچ،برہمن وشودر،حاکم و محکوم اور درجہ بندی ان کے دھرم اور نظریات کا بنیادی مقدس ستون اورحصہ ہے۔ اگر وہ اس درجہ بندی یا نظام کو ختم کردیں تو ان کا دھرم، نظریہ یا عقیدہ باقی نہیں بچتا۔ ان کی تربیت انکے نظریات کی روشنی میں صدیوں سے ان اصول وضوابط کے تحت ہو تی چلی آ رہی ہے جس سے وہ الگ نہیں ہو سکتے، ان کے پاس وحدت و مرکزیت قا ئم کرنے کی کوئی گنجائش یا مستند طریقہ کارنہیں،اس درجہ بندی کی بنا پر ہندوستا ن کئی اقوام، کئی نظریات، کئی عقیدوں، کئی مذاہب اور کئی صوبوں پر مشتمل اور منقسم عوام کا مجموعہ ہے، ہر کوئی اپنی اپنی آئیڈیا لوجی یعنی نظریئے پر مبنی سرشت کا مالک ہے ۔ ہندو ازم تو اپنے ہی نظریات کے مطابق اپنے ہی عوام یا افرادسے برابری پر مشتمل انصاف کا مساوات کا راستہ اختیار نہیں کر سکتا۔ ہندو اس نظام کے تحت دوسرے اتنے کثیر التعداد مذاہب ، نظریات، عقیدوں پر مشتمل عوام اور صوبو ں کو کس بنیاد پراکٹھا رکھ سکتے ہیں، جبکہ وہ خود چار طبقوں میں منقسم ہیںاور ذات پا ت کے پجاری ہیں، برہمن اور شودر کا نظام جب تک ان میں قائم ہے اس وقت تک اعلیٰ و ادنیٰ، پاک و پلید، اچھے وبرے ، ادب و بے ادب، نفرت و محبت، عزت و تذلیل کاطبقاتی جہنم سلگتا رہے گا۔
جب چار قومیتوں کا دھرم ان کے نظریات کا حصہ ہے تو وہ کیسے دوسرے عقیدے کے عوام یا انسانوں کو مساوی انصاف یا برابری کے حقوق دے سکتے ہیں ۔ یہی بنیادی وجہ تھی کہ مسلمانوں نے دو قومی نظریہ کی بنا پر ۱۹۴۷ ء میں ایک الگ ملک پاکستان حاصل کیا، اِسوقت بھی بھارت میں مسلمانوں کی تعداد تقر یبا بیس پچیس کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے یعنی اس پاکستان سے ڈبل پاکستان ہندوستا ن کی سرزمین میں عملی طور پر موجود ہے۔
براہمن اور شودر کی تفریق اور ہندو ازم کے طبقاتی نظام کی نفرت کیوجہ سے سکھ علیحدہ ملک اور حکومت کامطالبہ کر رہے ہیں۔ صوبے خود مختار ی کی طرف سفر کر رہے ہیں، براہمن اور شودر کا نظریہ بنی نوع انسان کومساوات اور برابری کے حقوق مہیا نہیں کرتا۔ اسوقت بھارت کا ظاہری الحاق غیرفطرتی بنیادوں پر قائم ہے جو کسی وقت بھی ریت کی دیوار ثابت ہو سکتاہے۔
بھارت کی عوام یا جنتا جو ہندو ازم کے نظریات، براہمن و شودر کے طبقات، بت پرستی، رسم ستی اور انسانی حقوق کو کرش کرنے جیسی رسومات میں جکڑی پڑی تھی ۔ ملکی دولت اور وسائل اعلیٰ نسل کی ملکیت بن چکے تھے۔ذات پات کی تمیزنے عزت و احترام،مال و دولت اور سو سائٹی میں اعلیٰ مقام براہمن کا نصیب اور انسانیت سوز تذلیل شودر کا نصیب ۔ادب انسانیتِنایاب،حقوقِ انسانی کے ادا کرنے کا تصور مفقود، اونچ نیچ کے طبقاتی نظام کی حکمرانی۔بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ پاکستانی عوام بھی اسی طبقاتی نظام حکومت کی اذیتوں کی شکار ہے۔
ہندوستان کی عوام کو مسلم امہ کے بزر گانِ دین،درویشوں،فقیروںاورولی اللہ نے دین محمدی ﷺ کے نظریات ، اسکے ضابطہ حیات،اسکی طرز حیات، اسکی تعلیمات اور اسکی کردار سازی کی الہامی اور روحانی روشنیوں کے نور سے متعارف کرایا۔ توحید پرستی کا درس دیا،انسانوں میں اونچ و نیچ،برہمن و شودر کے طبقات کا خاتمہ کیا۔ انسانی حقوق کو برابری کا درجہ دیا۔ازدواجی زندگی کا نظام دیکر مستورات کو ستی کی رسم سے نجات دلا ئی ۔ توحید کا درس دیا بت پرستی سے نجات دلائی ۔ مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا سبق سکھایا۔ دین محمدیﷺ کی روشنی ایسی پھیلائی کہ آج اس دھرتی پر تین ممالک پاکستان،بنگلہ دیش ، بھار ت موجود ہیں۔جن میںچالیس پچاس کروڑ انسانوں پر مشتمل مسلم امہ کے فرزندان زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جو ذکرِ رب جلیل اور حمد باری تعالیٰ کی تسبیح دل و زبان سے گنگناتے رہتے ہیں۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ، اورحضرت ابرا ہیم علیہ السلام اورآل ابراہیم علیہ السلام پر درود و صلوٰت بھیجتے رہتے ہیں۔ ان بزرگان دین نے بنی نوع انسان کو اخوت و محبت ، عز ت و ادب اور خدمت خلق اور مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کے ایسے جام پلائے کہ اسلام کی روح کابیج ہندوستان کی سر زمین میں بویا جو پھلتا پھولتا اور اپنی خوشبوئیں پھیلاتا چلاجا رہا ہے۔نفرت و نفاق اور انسانی طبقات کے نظریات کو انہوں نے کچل کر رکھ دیا ۔ اولاد کو ماں کی نگاہ اور مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا شعور عطا کیا۔ اونچ و نیچ،برہمن وشودر،آقا و غلام،آفیسر و اردلی ،حاکم و محکوم کے نظام اور تصور کو معاشرے سے ختم کیا۔ اسلام نے بنی نوع انسان کو برابری و مساوات کا سبق سکھایا اور عمل پیرا کیا۔ انگریز نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد مسلم امہ کے ضابطہ حیات، نظریا ت ،تعلیمات اور طرز حیات کوختم کرنے کیلئے نان کرسچن جمہوریت کا ایک ایسا نظام ہندوستان پر مسلط کیا، جس سے اسلام کی سلامتی کی روح ، اسلام کے نظریات اسکی تعلیمات،اسکے تعلیمی نصاب اسکے اعتدال و مساوات ،اسکے حسن خلق اور اسکے کردار سازی کے تمام دینی تعلیمی اداروں کو سرکاری سطح پر منسوخ کردیا، اسکی جگہ نان کرسچین جمہوریت کے نظریات، ضابطہ حیات پر مشتمل نظام حکومت ، اسکے اسمبلیوں کے پاس کردہ قوانین،انکا تعلیمی نصاب ، تعلیمی ادارے سکول، کالجز، یونیورسٹیاں، قائم کئے اورانگریزی زبان کی سرکاری بالا دستی مفتوحہ قوم پر مسلط کر دی۔نان کرسچن جمہوریت کے طبقاتی زندگی کے نظام کو سرکاری سطح پر نافذ کیا۔جس نے مسلم امہ کو ہندو ازم کے طبقاتی نظام برا ہمن ، کھتری، کھشتری اور شودر یعنی کلاس ون،ٹو،تھری اور فور ،کو مسلط کردیا ، ملت کا دین، دین محمدی ﷺ ہی رہا لیکن کمال یہ ہے کہ ہر فرد دین کے ضابطہ حیات کے خلاف نان کرسچن جمہوری نظام حکومت کا سرکاری طور پر پابند بنا دیا گیا ۔ انگریز کے الوداع ہونے اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ہمارے انگریز کے پالتو جاگیر دار اور سرمایہ دار جو سیاستدانوں اورحکمرانوں کی شکل میں ملک و ملت پر مسلط تھے ۔ انہوںنے انگریز کی تیار کردہ نان کرسچن جمہوریت کی طرز حکومت کی تقلید جاری رکھی۔وہی افسر شاہی،وہی منصف شاہی ،وہی نوکر شاہی،وہی طبقاتی تعلیم،وہی طبقاتی نظام،وہی طبقاتی معاشرہ،وہی طبقاتی برہمن اور شودر کا کلچر، وہی دولت ،وسائل اور ملکی خزانہ کی طبقاتی معاشی تقسیم کے نظریات کو جوں کا توں نظام حکومت کا حصہ بنا لیا۔اس طبقاتی طرز حیات طبقاتی معاشی تقسیم اور طبقاتی نظام حکومت کی اطاعت اہل اسلام کیلئے کفر کی اطاعت بن چکی ہے ۔ ملت معاشی اور معاشرتی طبقاتی تقسیم کے عذاب میں مبتلا کر دی گئی ہے۔ مسلم امہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ اور نان کرسچین جمہوریت کے نظریات کے تضاد کا شکار ہو چکی ہے، جمہوریت کے اس طریقہ کار سے مسلم امہ کا دین و دنیا لٹا جا رہا ہے ، اس ملت کی وحدت پارہ پارہ ہو چکی ہے۔ دین کے اعتدال و مساوات کے نظام کی دوری کی سزا کی وجہ سے اور اس معاشی اور معاشرتی تفریق اور نا انصافی کی بنا پرمشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔لیکن مسلم امہ کے یہ بد نصیب جاگیر دار اور سرمایہ دار حکمران بھول گئے کہ یہ ملک دو قومی نظریات کی بنا پر معرض وجود میں آیا تھا۔تا کہ مسلم امہ اپنے دینی نظریات کی روشنی میں اس نان کرسچین جمہوریت کے نظریات اور طرزحیات سے نجات حاصل کر سکے اور دین محمدی ﷺ کے الہامی ضابطہ حیات اور تعلیمات کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی کردار اور تشخص تیار کر سکے اور اس کے مطابق آپنی زندگی گذار سکے۔لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہوسکا اور ملت ایک غیر اسلامی نان کرسچن جمہوریت کے کلچر کا شکار ہو گئی۔
ہندوستان اور پاکستان کے عوام ایک خون ،ایک رنگ، ایک نسل اور ایک دھرتی کے باشندے ہیں۔ ہندو ازم یہاں کا صدیوں پرانا دھرم، یا نظریہ یا عقیدہ ہے۔ چالیس پچاس کروڑ عوام انہی میںسے حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ان کو کسی نے ظلم یا جبر کے ساتھ اسلام قبول نہیں کروایا۔ہندو تو نہائیت زیرک، سمجھدار لطیف فطرت ،زرخیز ذہن کے لوگ ہیں، ذہن ہندی دنیاتسلیم کرتی ہے۔ گیت سنگیت اور بھجن ان کی عبادت کا حصہ اور روح کی غذا ہے۔حسن و عشق کے جذبوں کی ودیعت، اس دھرتی کی مستی کے سرور،دل و دماغ انکے لاثانی روشن مینار ہیں۔یہ خوبیاں اللہ تعالیٰ نے انکے خمیر میں گوندھ رکھی ہیں۔وہ دیوی اور دیوتا کے پوجا پات کے نظام سے آشنا ہیں۔انکی فطرت کی لکڑ سوکھی اورجلوہ حقیقت کی آگ پکڑتے دیر نہیں کرتی۔کاش آج بھی کوئی مرد حق انکو میسر آسکے۔ ہمارے درویشوں، فقیروں اور ولی للہ نے انکو دین محمدی ﷺ سے متعارف کروایا۔ ان میں سے جو اسلام کے قریب آئے ان کا دل، دماغ اور روح اسی نور سے منور ہوتا گیا۔ مقناطیسی طاقت اسلام کی تعلیمات ، کردار اور حسن خلق میں مضمر ہے جو انسانی دل و دماغ اور روح کے جذبوں کی خوراک اور پرورش انسانی فطرت کے اصولوں کے عین مطابق مہیا کرتی ہے ۔
محمود غزنوی جتنے جی چاہے ہندوستان پر حملے کرتا رہے۔جب تک کوئی ا سلام کے ضابطہ حیات کو سمجھانے والا، خلق عظیم کی درس گا ہ کا آشنا اور اخوت و محبت کا سفیرنہیں آتا ۔ اس وقت تک اسلام قبول کرنے والے اس دنیا میں میسر نہیں آسکتے۔ دین اسلام ،اسکے نظریات، اسکی تعلیمات ،اسکا ادب انسانی کا شعور اور اسکے حسن خلق کی خوشبو کو پھیلانے کے لئے جناب حضر ت ابوالفضلؒ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت داتا گنج بخشؒ کو ہندوستان کی سرز مین میں اسلام کا سفیر اور دین کامبلغ بنا کر بھیجا اور انہوں نے یہاں آ کر اسلام کی تبلیغ جاری کی۔ حسن خلق کے چراغ جلائے، مہر و محبت کی قندیلیں روشن کیں،ہندو ازم کے طبقاتی نظام براہمن اور شودر کا تصور ختم کیا۔ دین محمدی ﷺ کے درس و تدریس کا نظام قائم کیا۔انہوں نے کئی کتابیں دین محمدیﷺ کو پھیلانے کیلئے لکھیں، کشف المحجوب انکی شہرہ آفاق کتاب ہے ۔ انکے حسن خلق اور روحانی تصرف سے مسلمانوں کی خاصی تعدا وجود میں آئی انکی تعداد دن بدن بڑھتی گئی، اس دین محمدی ﷺ کی دلکش خوشبو باد نسیم اور باد شمیم کی طرح پورے ملک میں پھیلتی گئی۔ ان کے بعد یہ سلسلہ طریقت خواجہ غریب نوازؒ کے پاس پہنچا۔انہوں نے آپ کے مزار سے استفادہ کیا او ر ہندو ؤں کے گڑھ اجمیر شریف میں جا کر ڈیرہ لگا لیا۔ دین محمدی ﷺ کے اسوہ حسنہ اور اخوت و محبت کی قندیلیںکی قندیلیں روشن کیں۔ لاکھوں کی تعداد میں انہوں نے ہندوؤں کو کلمہ شریف پڑھایا۔ انکے بعد انکا فیض حضرت بختار کاکیؒ کا مقدر بنا۔ ،پھر یہ فیض بابا فرید شکر گنج رحمتہ اللہ علیہ زہد الانبیا کے پاس پہنچا،پھر انہوں نے اس روحانی درسگاہ کا فیض حضرت نظام الدین اولیاؒ اور علاؤالدین صابرپیا ؒ کے نصیب کا حصہ بنا دیا۔ امیر خسرو ؒ نے نظام طریقت کے ایسے چراغ روشن کئے ، عشق رسولﷺ ؔمیں ڈوبا ہوا ایسا کلام کہا، سازوں کو نئی سریں عطا کیں۔ ایسا رنگ تیار کیا کہ آج بھی انکاکلام سننے والوں کے روح مستی میں جھوم جاتے ہیں۔ اس کے بعد چشتیہ سلسلہ کے تمام بزرگان دین، مہار شریف ،تونسہ شریف،جلالپور شریف،گولڑہ شریف،کلیام شریف اور پورے ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ کے مبلغ کے فرائض ادا کرتے رہے ۔ اس دین محمدی ﷺ کی شمع کو انہوں نے قریہ قریہ،بستی بستی ،نگر نگرروشن کیا۔
حضرت داتا گنج بخشؒ کے بعد ہندوستان کی دھرتی پر دوسرے عظیم اور نامور دین محمدیﷺ کے سپوت جن کا تعلق اعلیٰ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رحمت اللہ علیہ سلسلہ قادریہ سے ہے۔ جنکا نام نامی جناب حضرت سید بہاول شیر قلندر المعروف دم میراں لعل پاک بہاو ل شیرؒ ہے۔جن کا دربار حجرہ شاہ مقیم میں بھولے بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی اور رشد و ہدایت کامیخانہ بنا ہوا ہے۔ انکو بر صغیر ہند و پاک کے اولیا کرام میں اولیٰ و ارفعٰ مقام حاصل ہے۔ آپکے اخلاق حمیدہ،عمدہ کردار بہترین اوصاف اور دلکش صداقتیں کفر کی تاریکیوںمیں شمع رسالت کی کرنیں بن کر انسانی قلوب و اذہان کو روشن و منور کر نے کا عمل جاری کئے ہوئے ہیں۔ انکی کتاب درالعجائب سالک کو راہ سلوک کی منزلیں طے کروا تی اور انسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچاتی چلی جاتی ہے۔ اس سلسلہ قادریہ کے خانوادہ کے عظیم روحانی پیشوا جن کا نام نامی حضرت سیدعلی امیر بالا پیر رحمت اللہ علیہ ہے، آسمان کے ستاروں میں کہکشاں کی طرح نمایاں نظر آتے ہیں۔ جن کے فیض سے سلطان العارفین حق باہوؒ،شاہ عنایت قادریؒ مرشد بابا بلھے شاہ صاحب ؒ،حضرت پیر شاہ غازی دمڑی والی سرکارؒ اور حضرت عبد ا لطیف قادری عرف بری پاک ؒ جیسے ولی اللہ نے ان سے استفادہ کیا۔ایسی تمام شخصیات جو سلسلہ چشتیہ اور قادریہ کے اولیا اللہ اورفقرا کے روپ میں نمایا ں ہوئیں وہ تمام ہندوستان میںپھیل گئیں۔ پورا ہندو پاک دین کے اسرار رموز اور علم و حکمت کے فیض کا منبع بن کر ابھرا۔ انہوں نے ہندوستان کی تہذیب و تمدن کو بدل کر رکھ دیا۔ دین اسلام تلوار سے نہیں! پیار، ادب، محبت، شفقت،خدمت اور دلگیری کی صفات اور صداقتوں سے پھیلا اور ہندوستان کی عوام کا نصیب بن کر ابھرا۔ہند و پاک کی دھرتی کے ان تمام بزرگان دین اور اس میں بسنے والے مسلم امہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔جنہوں نے سلطان العارفین جناب حق باہوؒ، بابا بلھے شاہ صاحب ؒ،وارث شاہ صاحبؒ،شاہ حسین پاکؒ،بابا فرید شکر گنج ؒ ،بابا غلام فرید مٹھن کوٹی ؒ،شہباز قلندرؒ، میاں محمد بخش صاحبؒ اور علامہ محمد اقبالؒ جیسے سپوتوں کو جنم دیا۔جنہوں نے اسلام کی اصل روح کی تشہیر اور بوئے محمدﷺ پوری کائنات میں پھیلانے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔اسی قافلے کے دور حاضر کے ہدی خواں جناب واصف علی واصفؒ کی تصنیفوں، تحریروںِ ، گفتگوؤں اور لحد اقدس سے بوئے محمدی ﷺ کی خوشبوئیں ہمہ وقت پھوٹتی رہتی ہیں۔یہ سدا بہار قافلہ ،بھولے بھٹکے انسانوں اور راہ سلوک کے مسافروں کی ہر دور میںرہنمائی کا فریضہ ادا کرتا چلا آرہا ہے۔
اسلام، دین فطرت کے اصولوں کے مطابق ہے ، اس کی بنیادی خوبی ہے کہ وہ ہر انسان اور دوسرے عقیدے کے فرد کو ادب، محبت ،خدمت ،درگزر، بردا شت، صبر ، تحمل بردباری، احترام ، عزت ، تحفظ اور حسن سلوک،خلق عظیم سے پیش آنے کا سلیقہ اور طریقہ عطا فرماتا ہے۔بنی نوع انسان میں اعتدال و مساوا ت قائم کرتا ہے۔ یہ اعمال دین کا صرف حصہ ہی نہیں بلکہ ایسے عمل نہ کرنا ، ان سے گریز کرنا اور کسی قسم کی کوتاہی کرنا حکم خداوندی کی خلاف ورزی اور گناہ عظیم کاتصور اپنے پیروکاروں کو روشناس کرواتا ہے۔ انسان تو کجا، مسلمان تو ہر ذی جان کے حقوق تک کی نگہداشت اور خدمت بجا لانے کی کوشش وکاوش میں مصروف رہتا ہے۔ اگر وہ ان فرائض سے چشم پوشی کرتا ہے تو اس کی تمام عبادت و ریاضت، بندگی و نیک عمل، برباد اور ناکارہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مسلمان حضرت محمد مصطفی ﷺ رحمتہ اللعٰمین کے درس و تدر یس ، علم و حکمت ،غور و فکر،محنت و تجسس،امانت و دیانت،سادہ و سلیس، پاکیزہ و طیب ،خدمت و ادب، شرم و حیا،مختصراور قلیل ضروریات حیات کا وارث اور سفیر ہوتا ہے۔ آقائے دو جہاں کی تعلیمات کی روشنی میں ہر کس و نا کس اعلیٰ و ادنیٰ، آقاو غلام ، مسلم یا غیر مسلم کی تفریق یا تشخیص کے بغیر برابر کے انسانی حقوق ،اعلیٰ حسن سلوک ، عمدہ حسن خلق، بہترین ادب و محبت، لا جواب خدمت و احترام اعلیٰ اخلاقیات، در گذر، اختصاری زندگی کا وارث،اعتدال و مساوات کا عارف ، خوف خدا کے سائے تلے عدل و انصاف انسانی ضروریا ت کے تقاضوں میں یکسانیت کی جامع تفسیر اور تاثیر ہوتا ہے۔
مسلمان مخلوق خدا کو موثر اور متا ثرکردار کی خوشبو پیش کرتا ہے۔ بنی نوع انسان کی معراج کاحسین اور دلکش امتزاج انسانوں کے دلوں کو سکون و راحت، لطف و قرار کی مقناطیسی قوتوں سے مالا مال کرتا ہے، اسلام کے دائرے میں آنے کی پر کشش الہامی صدائیں ابر رحمت بن کر روح انسانی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں ۔ دینی نظریات ، دینی ضابطہ حیات ،دینی تعلیمات،دینی طرز حیات سے جن سے اسلامی تشخص تیار ہوتا ہے، اسکا عمل و کردار دلوں میں اترتا ،دلوں کو تسخیرکرتاجاتاہے۔وہ نان کرسچین جمہوریت کی اسمبلیوں،وزارتوں ، مشاور تو ں کینوینشن ہالو ں ، صدر ہاؤس،وزیر اعظم ہاؤس اور سرکاری شاہی محلوں میں نہیں پلتا۔وہ سولہ کروڑ انسانوں کے حقوق کو سلب کر کے اسلام کا مبلغ یا حکمران نہیں بنتا۔اسکی ضروریات قلیل،ایک عام آدمی سے بھی کم، نان کرسچن جمہوریت کی نیچ عمل جیسی زندگی کی طرح اسلام کے روح کو مسخ نہیں کرتا۔
نو سو سال تک اسلام کے جسد کو ہندوستان کے مسلم بادشاہ چمٹے اور نوچتے رہے، انگریز ۹۰ سال تک اسلام کی روح کونان کرسچین جمہوریت کے نظام حکومت کی اذیتوں سے مسخ کرتا رہا۔ساٹھ سالوں سے انگریز کے پروردہ نان کرسچین جمہو ریت کے نظام کے دانشور اور وارث جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقہ اس امت کے نظریات،اسکی دین و دنیا کی دولت نوچتے چلے آرہا ہے۔ انہوں نے تو دین کی شکل ہی مسخ کر کے رکھ دی ہے۔جس سے صرف مسلم امہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت اس سے استفادہ کرنے سے محروم ہو چکی ہے۔
کاش پاکستان میں دستور مقدس کا نفاذ ۱۹۴۷ ء میں ہو جاتاتو دنیا پر اسلا می کلچر کی گہری چھاپ ہوتی،انسانیت اس سے استفادہ کرتی تو آج دنیا کا نقشہ اور سے اور ہوتا۔ پاکستان میں مسلمانوں کو ان کی دینی تعلیم اور عمل کی وراثت سے نان کرسچین جمہوریت کی سرکاری بالا دستی نے محروم کر دیاہے، نان کرسچن جمہوریت نے مذہب پرست امتوں سے انکے پیغمبران کی تعلیمات کو سلب کر لیا ہے۔ اسکی جگہ نان کرسچین جمہوریت کے اسمبلیوں کے ممبران کی بالا دستی میں پیغمبران اور انکی امتوں کو سرکاری طور پر مقید اور پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ جمہوریت کے نظریات ،اسکا ضابطہ حیات اور اسکی تعلیمات کو نافذالعمل کر کے مذہبی نظریات اور تعلیمات کو سرکاری سطح پر منسوخ ،بے اثراور ختم کر دیا گیا ، جس سے مذہب کی روشنیاں مفقود اور دنیا کی سلامتی و فلاح مخدوش ہو چکی ہے۔ کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ نان کرسچین جمہوریت کے اس ناٹک میں وقت کے علما اور صاحب مزار ہستیوں کے گدی نشین اور مشائخ کرام بھی انکی حکومتوں میں شامل ہو چکے ہیں،انکے دینی کردار، انکی عظمتوں اور انکے اسلامی تشخص کو انہوں نے روند کر رکھ دیا ہے،یہ دینی رہبر بھی رہزن بن چکے ہیں۔ اہل دل، اہل بصیرت،دانش برہانی اور دور حاضر کے شب بیداروں سے ملتجی ہوں کہ وہ اپنے فرائض منصبی کی طرف رجوع فرماویں اور صاحب اقتدار سیاست دانوں میں سے صاحب دل، اور حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کرنے والوں کو، درویشوں، فقیروں کے ماننے والوں ، بزرگان دین کا کلام سننے والوں کے دلوں پر دستک دینا مناسب سمجھتا ہوںکہ وہ اسلام کے نفاذ کے عمل کیلئے آگے بڑھیں۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کا فریضہ اداکریں۔
مسلم امہ کا اولین فرض بنتا ہے کہ وہ حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ اسلامائزیشن کا وعدہ پورا کریں جسکی بنا پر پاکستان معرض وجود میںآیا تھا وقت ضائع نہ کریں،اس کے انعاما ت اور اسباب کا روانِ ملت کے ہدی خواںکو دوران سفرہی میسر آ سکتے ہیں۔ اسلامی ماحول انسانیت کو میسراور مہیا کرنے کا عمل جاری کرو۔ دینی تعلیم اور دستور مقدس کا قانون رائج کرو۔شریعت محمدیﷺ کانفاذ کرو۔زندگی کا ہر عمل اس کے زیر اثر کرو، اعتدال و مساوات اور عدل و انصا ف کو دین کی روشنی میں عام کرو۔ سرکاری تصرفانہ زندگی کے اخراجات اور ملک میں رائج اعتدال کشی کے مادی طریقہ کار کاخاتمہ کرو۔عالیشان محلوں اور ان پر ڈیکوریشنز کا فرعونی کلچر ختم کرو۔شاہی قیمتی گا ڑیوں اور انکے ایندھن کے اخراجا ت بند کرو۔ ملک کا زر مبادلہ ان پر ضائع نہ کرو ۔ فضول اخراجات کو سختی سے کنٹرول کرو۔محنت اور تجسس کا شعور بیدار کرو، اسی طریقہ کار سے ملت اپنا کھویاہوا معاشی اور معاشرتی مقام حاصل کر سکتی ہے۔یا اللہ ہمیں اس کار خیر کی توفیق دے۔امین
سن لو !۔ملک میں دولت اور وسائل کی کمی نہیں۔ان کے تقسیم اور انکے حصول کے طریقہ کار میں اعتدال کی بے پناہ کمی ہے،یہ عمل سیاستدان اور حکمران اقتدار کی نوک پر ملت پر مسلط کئے ہوئے ہیں، جو ملک و ملت کی تباہی کا سبب بنتے چلے جا رہے ہیں۔ مسلم امہ کی نسل کی مذہبی اور روحانی تربیت کر نے اور دستور مقدس کے نفاذ سے ہی یہ بیماری ختم ہو سکتی ہے۔ انشا اللہ پاکستان دین محمدی ﷺ اورملت اسلامیہ کی درس گاہ بن کر دنیا میںابھرے گا،اسکا نظام بادشا ہوں اور مغربی جمہوریت کے آمروں کے ہاتھوں میں نہیں ہوگا۔
آج کایہ اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو کچلنے والا نان کرسچن جمہوریت کا حکومتی عبرت کدہ،معا شی ابتری اور ظلم و جبر کی آگ میںدھکیلے جا رہا ہے۔انکا دور ختم ہو چکا ہے، یہی ملک خیر کدے میں بدلے گا۔ اسلام کی چودہ سو سالہ پرانی تاریخ پھر سے اسی ملک میں زندہ و پائندہ ہو گی۔ سرائے فانی سے گذرا کرتے ہیں۔ قلیل ضروریات او ر بے سرو سامانی کی زندگی گذارنے والے لوگ عظیم لوگ ہوتے ہیں۔ تصرفانہ زندگی اور اسکے لوازمات کا حصول ترک کر دیتے ہیں۔ دنیاوی ضروریا تِ زندگی کی وافر خواہشات کا بوجھ یا وزن نہیں اٹھایا کرتے، زندگی کا سفر، آرام، سکون اور سہولت سے گزر جاتا ہے۔وہ خالق کی منشا کی پیروی کرتے ہیں۔کہ دنیا میں محنت یوں کرو جیسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور زندگی یوں بسر کرو کہ جیسے اگلا لمحہ موت کا ہے۔جب قوم ،ملت یا عوام اس عمل اور کردار کی عبادت میں ڈھل جاتی ہے تو وہ قوم یا ملت اعتدال و مساوات کا ایک خوبصورت مرقع بن کر ابھرتی ہے۔ ملک و ملت میں بظاہر تفاوتی زندگی گذارنے والوں سے مادیت کی فراوانی کی خوشیاںبھاگ جاتی ہیں اور ساتھ ہی ایسی خو شیوںکی کمی بیشی کے غم بھی بھاگ جاتے ہیں۔ کھیل لطف و کرم کاشروع ہو جا تا ہے ۔ پھر وہی وسائل، دولت،مال و متاع، دنیا بھر میںمحروم انسانوں تک پہنچانے کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ اس عمل،کردار اور عظیم خلق کی خوشبو دنیا میں بسنے والے محروم انسانوں کے دلوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ اعتدال و مساوا ت اور عدل و انصاف کی شمع کی روشنی دنیا میں بنی نوع انسان کی توجو کا مرکز بن جاتی ہے۔ لوگ اس نگری ، اس بستی،اس شہر ،اس ریاست ،اس ملک کی طرف رجوع کر لیتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا دستو رحیات اور اسوہ حسنہ کے اعمال سے سینچی ہوئی ملت دنیا میں ایک عظیم مبلغ کا فریضہ ادا کر تی ہے۔مسلم امہ جمہوریت کے غاصب نظام حیات کی گرفت اور اسکے بے دین رہنماؤں کے شکنجے میں جکڑی پڑی ہے ۔ جنہوں نے اس ملت کا دین و دنیا سلب کر رکھا ہے۔
آج بے سرو سامانی اور قلیل ضروریات کے وارثوں کو کہاں سے تلا ش کروںجنہوں نے ہندوستان کی سر زمین میں شمع رسالت کی قندیلیں روشن کیں ۔آج حضرت بابا فرید شکر گنج ؒاور علی امیر بالا پیر ؒ کو کیسے آواز دوں!ْحضور نظام الدین ؒ،علاؤالدینؒ،چراغ الدینؒ اور امیر خسروؒ جیسے دینی مغنیوں کو کہاں سے تلاش کروں ۔ حضرت علی امیر بالا پیر حضورؒ تمہارے گوڈریوں کے لعل حضور سلطان العارفین حق باہوؒ، شاہ عنایت قادریؒ،پیر شاہ غازی ؒ اور عبدالطیف امام بری لطیفؒ جیسے دلنواز خطیبوں کو کہاں سے ڈھونڈوں! اے عشمان مروندی شہباز قلندر جیؒ، اے بابا بلھے شاہ جیؒ،اے وارث شاہ جیؒ،اے شاہ حسین جیؒ،اے مہر علی شاہ جیؒ، اے میاں محمد بخش صاحب جیؒ، اے سائیں کرم الہی کانواں والی سرکار جیؒ۔تمہارے نسبت ناموں کو سلام،تمہاری عظمتوں کو سلام،تمہارے کرداروں کو سلام،تمہاری بے سرو سامانی کی زندگی کو سلام،تمہارے سخنوں اور سخنوں کی تاثیروں کو سلام،تمہاری روح سوزی ،روح سازی اور روح پروری کی توفیقوں کو سلام،اے حسنےی سپاہ کے شاہسوارو آج دین پر نان کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت اور نظام حیات غالب آچکا ہے ، اسکے حکمران دین محمدیﷺ کے گلستان کو ویرانوں میں بدل رہے ہیں، ان سے کیسے نجات حاصل کی جا سکتی ہے ،ہماری رہنمائی فرماویں۔
آج کا دور بھی کیا خوب دور ہے!چند نمرود ،فرعون اور یزید کے پیروکار مذہب کے نام پر پیغمبران کی امتوں میں شامل ہوکر، پیغمبرا ن کی آسمانی کتابوں زبور شریف،توریت شریف،انجیل مقدس، اور قرآن پاک اور انکے نظریا ت ، دستور حیات، مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا شعور، دنیا کی بے ثباتی کا درس، عبادت و ریاضت کا سلیقہ، خدمت خلق کی عظمت کا تعارف،ازدواجی اور معاشی طرزحیا ت کا منشور، حسن خلق کی آفادیت، اخوت و محبت کے لطائف،عفو و درگذر کے انعامات،حقوق انسانی اور انکے ادا کرنے کے فرائض،بیماروں کودوا ، مریضو ں کو شفا ، خیر کے طالب، بھلائی کے ساقی، امن و سکون اور راحت و سرور کے میخانوں کو،تمام پیغمبران کی امتوں کو دنیا بھر میں نان کرسچن جمہور یت کے بے دین نظام کی گرفت میں ایک دجال کی طرح لے لیا ہے۔ نان کرسچین جمہوریت کے نظریات ، تعلیمات،ضابطہ حیات، طرزحیا ت ، مخلوط معاشرہ ، بد کاری بے حیائی ،زنا کاری ،مادہ پرستی، ہوس پرستی، طبقاتی طرز حیات، نفرت و نفاق، دہشت گردی، قتل وغارت دنیا کے تمام ممالک میں تمام پیغمبران کی امتوں کو نان کرسچن جمہوریت کے پنجرے میں گرفتار کر دیا گیا ہے ۔ اس نظام حیات کی روشنی میں زندگی گذارنا ان امتوں کی مجبوری بن چکا ہے۔ جمہوریت کا نظام حکومت مغرب کے دانشوروں نے تیار کیا ہے۔ آج تمام امتوں کو یعنی ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی امت کی سربراہی نمرود کے طبقہ کے پاس ہے ، موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کی امت کی رہنمائی فرعون کے ٹولہ کے پاس ہے، عیسیٰ روح القدس علیہ السلام کی رہنمائی نمرود،فرعون کے نان کرسچن جمہوریت کے سیاسی سکا لرو ں اور دانشوروں کے پاس ہے۔ اور محمد الرسو ل اللہﷺ رحمت اللعالمین کی امت پر حکمرانی یزید کے چند بادشاہوں اور نان کرسچین جمہوریت کے آمروں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح تمام پیغمبران کی امتوں،انکے نظریات،انکی تعلیمات،انکے کردار،انکے حسن خلق کو نان کرسچین جمہوریت کا دجال نگل رہا ہے۔ اسکا تدارک اصرف مسلم امہ کے پاس ہے ۔
یاد رکھو اور کان کھول کر سن لو!یہ ملت دولت اور وسائل کی کمی کا شکار ہر گز نہیں ، یہ ملت تو دنیا کی بے ثباتی کا سبق بھول چکی ہے،یہ تو دین کے بنیادی فلسفہ ء حیات و ممات کو بھول چکی ہے،یہ تو دینی ضابطہ اعتدا ل و مساوات کو روند چکی ہے، یہ تو احترامِآدمیت اور خدمتِآدمیت کے عمل سے الگ کر دی گئی ہے، یہ تو اخوت و محبت کے الہامی درس اور اسکے عمل سے بے نیاز ہو چکی ہے، یہ تو مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کے فلسفہ سے فارغ ہو چکی ہے ،یہ تو اس سرائے فانی کی حقیقت کی آشنائی سے منہ موڑ چکی ہے ۔یہ تو امانت و دیانت کے سنہری باب کا خاتمہ کر چکی ہے، یہ تو دین کی اعلیٰ اور الہامی صفات کو ترک کر چکی ہے، یہ تو دین کی انمو ل صداقتوں کی منزل سے بھٹک چکی ہے، یہ تو عفو و در گذر اور ایثار و نثار کی تعلیم و تربیت سے الگ کر دی گئی ہے۔یہ تو صبر و تحمل اور بردباری کی حسین و جمیل وادیوں کا راستہ ترک کر چکی ہے۔ یہ تو عدل و انصاف کے باغ وبہار اور اسکے جلوؤں کی منزلوں سے جدا کر دی گئی ہے،یہ تو نان کرسچین جمہوریت کے نظریات،ضابطہ حیات اور اسکی تعلیما ت کی سرکاری بالا دستی کے کینسر میں مبتلا کر دی گئی ہے،یہ تو جمہوریت کے طبقاتی نظام حیات کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے،یہ تو جمہوریت کے مخلوط معاشرے کی بے حیائی کی چتا میں جھونک دی گئی ہے،یہ تو مغرب کے سودی معاشی نظام کے سکالر پیدا کرتی جا رہی ہے،یہ تو دین کے خلاف نظام عدل کے بار ایٹ لا کے وکلا اور ججز پیدا کرتی جا رہی ہے۔یہ تو نان کرسچین تہذیب کے ججوں کی بہتات اور انصاف کو نایاب اور عدل کا چہرہ مسخ کئے جا رہی ہے۔ یہ تو انتظامیہ کی طبقاتی افسر شاہی تیار کرتی جا رہی ہے۔ یہ تو ملکی،ملی، وسائل، دولت، خزانہ،تجارت اور مکمل معاشیات کو اعلیٰ طبقات کی ملکیت بنائے جا رہی ہے۔مسلم تہذیب تواعلیٰ طبقات کی سرکاری گرفت میں پھنس چکی ہے،انکی تصرفانہ اور عیش و عشرت کی زندگی ملکی وسائل اور خزانہ کو چا ٹتی چلی جا رہی ہے، یہ تو عدل کی وادی سے دور،حق تلفی،خود غرضی اور نفس پرستی کے جلتے صحرا میں گم ہو چکی ہے۔ یہ تو مزدورمحنت کش کسان ہنر مند اور عوام الناس کو غربت تنگدستی بیروزگاری اور خود کشیوں کا ایندھن بنائے جا رہی ہے ، یہ تو ملت کو اسلام سے دور اور نان کرسچین جمہوریت کے ممبران ، انکی اسمبلیوںکے پاس کردہ قوانین کی سرکاری اطا عت پر مجبوراورپابندبنا دی گئی ہے۔ جمہوریت کا قلیل سا سیاسی اور حکومتی طبقہ ملک و ملت کی دولت ،وسائل،خزانہ اور تجارت پر قابض ہوتا جا رہا ہے۔نان کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت سے ہر قسم کے مادی اور روحانی خزانہ کو محفوظ کرنا اور ان دین کے منافقوں اور نبی کریم ﷺکے گستاخوں سے مسلم امہ اور اسکی آنیوالی نسلوں کو مغربی جمہوریت کے نظام سے نجات دلانا ملت کی بقا کیلئے نہایت ضروری ہے۔ ان حقائق کو جاننے کے بعد انکا تدارک کرنا از بس لازم ہو چکا ہے۔ دین کی بنیادی اور اہم ذمہ داری ادا کرنے والو اور دین اسلام کو ملک میں نافذ کرنے والو ! دین کے نفاذ کی خاطر جان قربان کرنے والو تمہاری قربانیاں اس اندھیری شب میں قندیلیں بن کر روشن و منور ہورہی ہیں۔ اے دین محمدیﷺ کے پروانو ۔آپ کی خیر ہو۔دین محمدی ﷺ کے شورائی نظام سے آگائی بخشنا اور اللہ تعالیٰ کی حا کمیت کو قائم کرنا مسلم امہ کا ایک اہم بنیادی فریضہ ہے، اللہ تعالیٰ آپکی توفیق میں اضافہ فرماویں ۔ آمین۔
۳۶۔ دنیا کی نان کرسچن جمہوریت پسندمغربی اقوام اورانکی بڑی طاقتوںکا بنایا ہوابین الاقوامی عدل و انصاف کا ادارہ جو یو این او یعنی جو اقوام متحدہ کے نام سے منسوب ہے۔ جس کا بین الاقوامی سطح پر جو تا ثر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ادارہ قوموں، ملکو ں کے جھگڑوں کو ایمانداری ، دیانت داری اور انصاف پر مبنی اصولوں کے تحت فیصلے کرتاہے۔ وہ کسی قوم کو کسی دوسری قوم پر ظلم ، زیادتی، دہشت گردی یاغنڈہ گردی نہیں کرنے دیتا۔ کسی ملک کو کسی دوسرے ملک پرحملہ یا قبضہ بھی نہیں کرنے دیتا۔ اس ادار ے کا بنیادی اصول اور منشور یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے ظلم ، زیادتی، ناانصافی، حق تلفی کا فوری تدارک کرتا ہے۔ کمزوروغریب ،آفت زدہ ،غیر ترقی یافتہ ممالک، یا کسی بھی قسم کی ناگہانی آفات میںمبتلا قوموں اور ملکوں کی فوری مدد اور معاونت اس کا فریضہ سمجھا یا تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی قوم یا ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ یا قبضہ کرنے کی جسارت کرے تو اس کو سبق سکھانے کے لئے ہر قسم کی فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس حملہ آور ملک کے ساتھ ہر قسم کی قطع تعلقی، تجار ت، لین دین اور ہر قسم کی مدد و معاونت ختم کردی جاتی ہے ، جب تک اسکا رویہ درست نہیں ہوجاتا۔،اس وقت تک یہ عمل اسکے ساتھ جاری رہتا ہے۔ اس ادار ے کی کارکردگی کی مختصر کاوشیں جو انہوں نے پچھلے پچاس سالوں میں سر انجام دیں۔ پوری دنیا میں وہ روز روشن کی طرح واضح اور رات کی تاریکی کی طرح عیاں اور نمایاں نظر آتی ہیں۔انکا کردار ، انکے اعمال،انکا عدل ، انکا انصاف،انکے اعلیٰ بین الاقوامی تشخص کے تمام پہلو دنیا کی تمام اقوام کے سامنے عیاں ہیں۔ اب کوئی بات دنیا کی کسی قوم سے چھپی ہوئی نہیں سوائے!۔
امریکہ جیسی بین الاقوامی طاقت اور اسکے مغربی ممالک کے حواریوں نے امن کے نام پر یو این او کا پلیٹ فارم استعمال کر کے اور دوسرے اتحادی ممالک سے مل کر دنیا کا امن تباہ کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے عربوں کے سینے پر اسرائیل کا وجود قائم کیاِ،اسرائیل کو جدید اسلحہ اور سامان حرب سے لیس کیا،اور عرب ممالک کی جنگی طاقت کا توازن ختم کیا۔پھر اسرا ئیل نے انکی پالیسی کے مطابق انکے زیر سایہ عربوں پر حملہ کر دیا۔ جنگ ہوئی اور اسرائیل نے اسی جدید اسلحہ کا استعمال کیا، عربوں کی افواج کو نائٹروجن بموں سے خاکستر کر دیا ۔ انکی افرادی اور مادی قوت ملیا میٹ اورنیست و نابود کر دی گئی۔ ان کے علاقوں پر اسرائیل قابض ہوتا گیا۔ نیپام بموں اور دوسرے جدید اسلحہ سے معصوم و بیگناہ عربوں کا بڑی بے دردی سے قتال کرنے کا عمل جاری رکھا ، انکی بستیوں کو خاکستر کےئے جا رہا ہے ۔ عرب ممالک کے علاقہ پر نائٹروجن بموں اور دوسرے جدید سامان حرب سے حملے ابھی تک جار ی ہیں اور دنیا میں اسرائیل کا وجود قائم کیا۔ آج تک وہ عربوں کا قتال کئے جا رہا ہے۔ عرب اس ناسور کے زخم کو چاٹے جا رہے ہیں ۔ اسی اسلحہ کی برتری سے اسرائیل جب چاہتا ہے فلسطینیوں اور عرب ممالک پر حملے کر کے ان کا قتال شروع کر دیتا ہے۔ حال ہی میں اسرائل نے لبنان پر حملہ کیا، اسکی بستیوں کو تباہ کیا، معصوم ،بیگناہ مرد و زن اور بچوں کے اعضا فضا میں بکھیرے ،انکا قتال بڑی بے رحمی سے جاری رکھا ۔ لبنان ایک کمزور اور غیر ترقی یافتہ ملک ہے، وہاں کے عوام کے پاس کوئی راستہ نہیں سوائے انکے خلاف لڑنے ،مرنے کے۔وہ جدید سامان حرب سے لبنانی بیگناہ عوام کا قتال جاری کئے ہوئے ہے۔ وہ انکے زخموں کی اذیتوں سے سسک سسک کرایک المیہ کی زندگی گذار رہے ہیں۔
امریکہ کے نان کرسچن جمہوریت کے سیاسی اور حکومتی دجالوں نے عراق کو پہلے اپنااتحادی ملک بنا لیا۔ اس کو جدید اسلحہ سے لیس کیا، ایران اور عراق کی جنگ کرائی گئی۔ مسلمانوں کی دونوں بڑی طاقتوں کو نفرت اور نفاق کی آگ اور جنگ میں بری طرح الجھا دیا گیا۔ ملت اسلامیہ کی طاقت کو کمزوراور اپاہج کیااور یہ عبرتناک منظر دنیا دیکھتی رہی، امریکی حکمرانوں اور انکے اتحاد یو ں نے یہ سلسلہ اپنی پالیسی کا حصہ بنالیا ہے۔ یہ نان کرسچن جمہوریت کے دجال اس مشن کی تکمیل کیلئے اربوں ،کھربوں ڈالر کے اخراجات کرتے چلے آرہے ہیں۔یہ عیسیٰ علیہ السلام کی امت اور محمدالرسول اللہ ﷺ کی امت میں نفرت،نفاق اور بین الاقوامی جنگ کی شکل اختیار کئے جا رہی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولادوں کو غور کرنا ہوگا کہ نمرود فرعون، شداد اور یزید کے نظریات کے نان کرسچن جمہوریت کے روپ میں ایک دجال کی شکل میں ان پر کیسے غالب آچکے ہیں۔پیغمبران کو ماننے والی داؤد علیہ السلام،موسیٰ علیہ السلام،عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد الرسول اللہﷺ کی تمام امتوں کی نسلوں کو دوسرے نظریات کیمو نسٹ ، شو شلسٹ،بدھ ازم، ہندو ازم اور دوسرے دنیا بھر کے نظریات پر مشتمل اربوں مخلوق خدا اور انکی نسلوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنا تھا۔توحید کا درس دینا تھا،اخوت و محبت کا عمل جاری کرنا تھا،مخلوق خدا کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا سبق سکھانا تھا، نفرت و نفاق کی بد عملی کو ختم کرنا تھا، امانت و دیانت کا راہ دکھانا تھا،دنیا کی بے ثباتی کا درس جاری کرنا تھا،خوف خدا کی زرہ پہنانا تھا، اعتدال و مساوات کے عمل کو پھیلانا تھا، ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کے جذبوںکو بیدار کرنا تھا، تصرفانہ زندگی کو سادگی کا جام پلانا تھا، حقوق و فرائض کی گرہ کھولنا تھا، سچائی اور بھلائی کے چراغ روش کرنا تھا، بھوکوں ، پیاسوں اور حاجتمندوں کی حاجت روائی کا فریضہ بین الاقو ا می سطح پر ادا کرنا تھا،معذوروں کی تیمارداری،بیماروں کی دوا اور مریضوں کی شفا کا عمل جاری کرنا تھا۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی روشنیاں منور کرنی تھیں۔ہم ان مذہبی آداب اور مذہبی ضابطہ حیات سے دور ہٹتے جا رہے ہیں، ہم مذہبی الہامی مقدس کتابوںانکی تعلیمات ،انکی ازدواجی زندگی کے نظام،انکے رشتوںکے تقدس اور انکے مذہبی تعلیمی اداروں کو ختم کر کے ،نان کرسچن جمہوریت کے دانشوروں ، سیاستدانوں نے ایک جدید ضابطہ حیات،اسکا تعلیمی نصاب، اسکا مخلوط معاشرتی نظام، اسکا مخلوط تعلیمی نظام،اسکا معاشی نظام ،اسکے خانگی نظام پر مشتمل ایک نیا مذہب ایک نیا نظریہ ایک نئی تہذیب جنم دینے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ اس نئی تہذیب کی تعلیم و تربیت کے تعلیمی ادارے سکول، کالجز، یونیورسٹیوں معرض وجود میں آچکے ہیں۔نان کرسچن جمہوریت کی سرکاری بالا دستی نے تمام پیغمبران اور انکی امتوں کو انکے پیغمبران اور انکی تعلیمات اور انکی تہذیب سے محروم کر دیا ہے۔
امریکہ نے ہی عراق کو اکسایا اور اس سے عربوں پر حملہ کروایا۔ اس دفعہ عربوں کا ساتھ دیا اور عربوں کی معاونت کی۔ کروڑوں ڈالروں کا ناکارہ ( ٹائم بارڈ) اسلحہ عراق کے خلاف استعما ل کیا۔دونوں کی معیشت تباہ کر دی جو دولت عربوں کی ان کے بینکوں میںتھی وہ اس اسلحہ کی ادائیگی میں وصول کر لی گئی۔ عرب ممالک میں ان کی فوجیں اتریں۔ تیل کی دولت قبضے میں کرلی۔ اسی آڑ میں آج وہ سعودی عرب کے سیا ہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔کسی قوم ، ملک یا ملت کو زیادہ دیر بیوقوف بنایا نہیں جا سکتا۔ انکے ظلم نے مسلم امہ میں آسامہ بن لادن جیسے کردار پیدا کئے، انکو خود کش حملہ آوروں کا عبرتناک اور تباہ کن گھناؤنا راستہ دکھایا۔بد قسمتی سے یہ انکے کسی راڈار میں نہیں آتے۔انکی تباہی اور انکا خوف انکے دلوں میں سکتہ اورلرزاں پیداکر چکا ہے۔
بوسنیا اور کوسوا میں مسلمانوں پر کیا گذری ۔ قتل عام ہوتا رہا۔ بچے، بوڑھے جوان بیدردی سے قتل ہوتے رہے۔ بچیوں اور عورتوں کی عصمتیں اور عزتیں لٹتی رہیں۔ظلم کے تمام طور طریقوں سے انہیں روندا گیا۔ دس لاکھ انسانوں کا قتال ہوتا رہا، جب ظلم کی انتہا ہو گئی ۔تو لوگ گھر بار چھوڑ کر ملک سے جان بچانے کیلئے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ دس بیس ہزار نہیں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ملک چھوڑا۔ ان کی مکمل تباہی تک یو این او کے یہ سب مہذب نمائندے اس ظلم و بربریت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے کہ وہ کیاکر رہے ہیں۔یہ نمرودی اورفرعونی نسل کے نان کرسچن جمہوریت کے حکمران حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں ایک منافق اور دجال کی حثیت میں داخل ہو کر انکے نظریات اور تعلیمات کو کچلتے جا رہے ہیں۔انکا ظالمانہ کردار انکی امت پر بھی واضح ہوتا جا رہا ہے۔وہ اس جنگ اور ظلم کے خلاف از خود آواز اٹھا رہے ہیں۔
دیکھتے چلیں۔امریکی نان کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں نے اپنے بین الاقوامی مفادات کے لئے افغانستا ن کو روس کے خلاف استعمال کیا۔ افغانیوں نے اہل کتاب ہونے کے ناطے سے انکا ساتھ دیا اور دنیا کی ایک عظیم طاقت کو ریزہ ریزہ کردیا۔ یہ جنگ کئی سال تک جاری رہی۔ اس میں افغانستان کے عوام نے بے شمار جانی اور مالی قربانیاں دیں۔ پاکستان بھی اس جنگ میں اتحادی رہا۔ جب امریکہ کا مشن پورا ہو گیا تو اس نے حسب عادت اپنے رویئے میں فوری تبدیلی پیدا کر لی ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کی بجائے یہ نان کرسچن جمہوریت کا حکمران ٹولہ نمروداور فرعون کے بد ترین روپ میںافغانیوں کے سامنے آئے۔انکے ساتھ ایسا ہولناک رویہ اختیار کیا کہ تاریخ امریکہ اور اسکے مغربی اتحادیوں کے اس سیاہ کردار کے صفات تاریخ انسانی میں سے کبھی واش نہیں کر سکے گی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ امریکہ اور اسکے مغربی اتحادی افغانستان کے جنگی نقصانات کی تلافی کرتے۔ ہر قسم کی معاونت کرتے لیکن انہوں نے تو افغانستان میں دوگروپوں کو آمنے سامنے کر دیا اور اس خانہ جنگی کو جاری رکھنے کے لئے اس نے ہر قسم کے حربے استعمال کئے اور یہ سلسلہ جاری رکھا۔اس مشن کی تکمیل کیلئے ہر قسم کے مادی وسائل کو بروئے کار لائے۔
اسی دوران ۱۱!۹ کا امریکہ کے چار ٹاوروں کا تباہ کن واقع پیش آیا۔اسامہ بن لادن اور افغانستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ جبکہ ان کے پاس اس جدید ملک کے جدید دفاعی نظام کو توڑنا یا دنیا کے کسی بھی غیر ترقی یافتہ ملک کے بس کا روگ نہ تھا۔اس غیر ترقی یافتہ ملک افغانستان کے ساتھ اتنا بڑا واقع منسوب کرنا اس واقع سے زیادہ اذیتناک ہے۔ پہلے میڈیا کی جنگ انکے خلاف جاری کر رکھی تھی۔ اس میڈیا کی جنگ جیتنے اور رائے عامہ میں کھلبلی مچانے کے بعدامریکہ اور اسکے تمام مغربی اتحادی ممالک جدید اسلحہ لیکر افغانستان کی طرف بھاگ نکلے۔یو این او کی بین الاقوامی عدالت،اسکے مغربی ممالک کے ممبران،اسکے کوفی عنان سیکٹری جنرل اور امریکہ کی بین الاقوامی طاقت کے سیاستدانوں، حکمرانوں اور بین الا قوامی ممالک کے بے ضمیر نمائندوں، نان کرسچن جمہوریت کے ان عالمی کرداروں کو اقوام عالم نفرت کی نگاہ سے دیکھتی اور لعنت بھیجتی چلی آرہی ہے۔ اس عالمی عدل و انصاف کے اس ادارے کو تاریخ دان اس واقع کی نسبت سے کیسے یاد کریں گے،وہ کردار وقت کی کتاب میں درج ہو چکے ہیں۔ یہ واقعات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آنیوالی نسلوں کیلئے شرمندگی، ندامت، اخلاقی پستی،مذہب کی تباہی اور اذیت کا سبب بن کر ابھریں گے ، انہوں نے افغانستان پر قبضہ تو کر لیا۔ایک نان کرسچن جمہوریت کی ڈمی حکومت بھی قائم کر لی۔ لیکن یہ ملک انکی افواج کیلئے قبرستان اور انکے ممالک انکے ماتم کدے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا یہ کردار حضرت عیسیٰ عیہ السلام کی امت کا ہے یا نمرود،فرعون کے پیرو کاروں کا !۔
اس دنیا میں اور اس دنیا کے بعد یہ نام نہاد نان کرسچین جمہوریت کے کردار، کونسا چہرہ لیکر پیغمبر خداحضرت عیسیٰ روح القدس علیہ السلام کے سامنے پیش ہونگے۔کیا یہ اذیتناک وحشی کردار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ضابطہ حیات، نظریات اور تعلیمات کے ہیں۔ غور سے سن لو !۔یہ بھیانک کردار ہر گز انکی امت کے نہیں ہیں ۔ یہ اس طیب اور روح القدس جیسی عظیم ہستی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظام حیات اور کردار کو رسوا کرنیو ا لے ہیں۔ عیسائیت کے ماننے والوں کو سوچنا ہو گاکہ یہ مذہبی منافق کون ہیں ، معصوم، بیگناہ مرد و زن کا قتال کرنے والے کون ہیں ، یہ دنیا کا امن تباہ کرنے والے کون ہیں ،یہ مذہب کے پیروکاروں کو رسوائے زمانہ کرنے والے کون ہیں۔ ان سے نجات کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔افغانستان جیسے ملک کا کوئی بچہ ، کوئی نوجوان یا بوڑھاانسان پنجروں میں بند ہونے اور انکی غیر انسانی اذیتوں کو برداشت کرنے اور سسک سسک کر مرنے کی بجائے وہ خود کش حملہ آور وں کی فوج میں شامل ہونا انکے پرخچے اڑانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ انکی لغت کے دہشت گرد ، دور حاضر کے عظیم مجاہد انکا ڈٹ کر مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔انسانی سوچ فطرت کے اصولوں کو بدل نہیں سکتی۔افغانستان انکا قبرستان اور امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک انکے ماتم کدہ بن چکے ہیں۔وہاں کی عوام کو سوچنا ہوگا کہ وہ اپنی نسلوں کا قتال کس مقصد کیلئے کروا رہے ہیں۔کیا وہ اس انسانی سانحہ کے وحشی کرداروں کو حکومت سے الگ کر کے،نیک دل اور مذہب پرست اہل بصیرت انسانوں کے سپرد نظام حکومت کر کے اپنے مذہبی راستہ پر چل سکتے ہیں۔تا کہ یہ دنیا دار لا من بن سکے۔
اسی طرح امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کے حکمرانوں اور یو این او کے ممبران نے عراق پر الزامات عائد کئے کہ وہ ملک ایٹم بم،نائٹروجن بم تیار کر رہا ہے۔ جن کی وجہ سے انہیں خطرہ لا حق ہے۔ اسکے لئے یو این او کی عدالت نے فیصلہ کیا اور اسلحہ سازی کے انسپکٹروں کی جماعت اسکی انسپکشن کے لئے عراق بھیجی۔عراق کے خلاف ان الزامات کو مغربی میڈیا نے جنگ کی شکل دے دی۔انسپکٹروں کی ٹیم نے چیکنگ کے بعد اپنی رپورٹ شائع کر دی کہ عراق میں نہ تو کوئی اس قسم کا مواد پایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی اس قسم کا مہلک اسلحہ تیار کرنے والی کوئی مشینری پائی گئی ہے اور نہ ہی کسی کارخانے یا ادارے کا وجود پایا گیا ہے۔ جب وہ تما م الزامات بے بنیاد اور غلط ثابت ہوئے جنکی وجہ سے انہوں نے عراق پر سالہا سال سے انکی بنیادی ضروریات حیات اور ادویات تک کی تمام اشیا پر پابندی لگا رکھی تھی۔ انکا نان نفقہ بند کر رکھا تھا، جب ان بر سر اقتدار ممالک کے حکمرانوںکو پتہ چل گیا کہ انکے پاس کوئی مہلک اسلحہ نہیں، توان تمام حقائق کو پس پشت ڈال کر انہوں نے اس ملک کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ ان ترقی یافتہ ممالک نے ہر قسم کا جدید اسلحہ اور اپنی اپنی افواج اسکے گرد جمع کر لیں۔ اس ملک کے بے گناہ، معصوم ، بچوں، بچیوں ، مستورات، مرد و زن پر حملہ کر دیا۔ ان بین الاقوامی رہزنوں اور قاتلوں نے جدید ،مہلک ڈیزی کٹر بموں اور میزائلوں کی بارش کر دی۔انگنت انمول انسانی جانیں خاکستر اور مسخ کر کے رکھ دیں،انسانی اعضا فضاؤں میں بکھرتے رہے۔ انکے سکولوں ، کالجوں ، ہسپتالوں ،عبادت گاہوں،پبلک پلیسو ں خوراک کے گوداموں کو نیست و نابود کر دیا۔ انکی طاقت کو مفلوج کرنے کے بعداس ملک پر قبضہ کرنے کیلئے اپنی فو جیں اتار دیں۔ عراقی عوام ڈٹ گئے اور انکا بڑی جرات سے مقابلہ کرنا اور ان پر خود کش حملے کرنا شروع کر دئیے،امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک اس جنگ کے جانی نقصان اور نتائج کے بارے میں ورطہ ء حیرت میں گم ہو چکے ہیں۔ خود کش حملہ آور کسی راڈار میں نہیں آ سکتے، دیکھتے جاؤ عراق کو فتح کرنے اور اس کا تیل پر قبضہ کرنے کی جنگ نے انکا اپنا تیل نکال دیا ہے۔ امریکہ اور ان اتحادی ممالک کی عوام کو سوچنا ہوگا،کہ یہ جنگی مجرم ہیں،یہ اس جنگ میں دونوں طرف سے انسانوں کے قتال کے جرم کا ارتکاب کر چکے ہیں۔اگر ایک امریکی انسان اور سو عراقی انسان قتل ہوتا ہے اور جنگ لا متناہی عرصہ کیلئے جاری ہو چکی ہو تو فتح کس کی ہو سکتی ہے،اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور مغربی اتحادی افواج کا جانی نقصان ہوتا جا رہا ہے اور مغرب کے بیگناہ انسانوں کا قتال اور ایشیا کے تمام ممالک میں انکا کاروبار سمٹتا جا رہا ہے، تمام دنیا میں انکی آمد و رفت بند ہوتی جارہی ہے، انکے لئے ایک انسانی جانی خطرہ بن چکا ہے۔کب تک انکی عوام حالت جنگ میں رہی گی اور اپنی معاشی قوت تباہ کرتی رہے گی۔یہ تمام عالمی قوتیں روس کی طرح بکھر کر رہ جائیں گی۔ مسلم امہ، روس ، روسی بارہ ریاستیں ، چین،جاپان ،ہندوستان کو سوچنا انکی مجبوری بن چکا ہے۔ یہ تمام ممالک کبھی بھی یہ نہیںچاہتے کہ امریکہ انکے سر پر آبیٹھے،امریکہ اور جنگ میں ملوث مغربی ممالک کیلئے یہ بین لا قوامی دہشت گردی بڑی مہنگی پڑیگی۔یہ اقوام اور حکمران ایک لا متناہی سزا میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ عراقی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ وہی نمرودی،فرعونی ظالم دجال ہیں، جنہوں نے جرمن قوم کو فتح کرنے کے بعدانکے آٹھ سال کے بچے سے لیکر ۸۰ سال کے بوڑھے تک انسانوں کا قتال کر دیا تھا۔ انکی مستورات کی بے حرمتی کی انتہا یہاں تک کر دی تھی کہ انکی چھاتیاں کاٹ دیں،انکی پیشاب گاہوں کو چیرتے رہے اور انکی عصمتوں کو لوٹتے رہے۔ یہ بد بخت وحشی درندے ہیں۔ عراقی انکی ظالمانہ فطرت سے اچھی آشنا ہیں وہ انکے اس ظلم کو برداشت کرنے کی بجائے انکا مجاہدانہ مقابلہ کرنا بہت ہی بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں۔انکے لئے یہ جنگ ایک اتم عبادت سے کم نہیں۔عراق کی عوام عراق کو انکا قبرستان بنانے میں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑیںگے۔ مجاہدین کے خود کش حملہ آوروں کا یہ مقابلہ نہیں کر سکتے یہ انکے بس کا روگ نہیں۔در حقیقت یہ کرسچن عوام اور افواج بھی تو عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے افراد ہیں،وہ بیجا انسانی قتال کا عمل پسند نہیں کرتے ہیں، یہ دجال نسل کے لوگ پیغمبران کی امتوں کا ظالمانہ قتال جاری کئے ہوئے ہیں۔ فطرت کا عمل جاری ہو چکا ہے ، امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی افواج اور حکمران اس جنگ سے بچ نہیں سکتے۔
امریکی اور انکے اتحادی حملہ آور دجال ،نہ یہ افغانستان سے بھاگ سکتے ہیں اور نہ ہی عراق سے، یہ یہاں بری طرح پھنس چکے ہیں، انکی معیثت تباہی کی منازل بڑی تیزی سے طے کر رہی ہے۔ امریکی اور دوسرے اتحادی ممالک کے عوام ان سے پوچھنے کے حقدار ہیں کہ انہوں نے یہ دونوں جنگیں کیوںشروع کیں،انہوں نے اپنی افواج کی قیمتی جانوں اور معیشت کی تباہی کا نقصان کن وجوہات کی بنا پر کیا۔ جویہ دونوں جنگیں بری طرح ہار چکے ہیں۔ اسرائیل لبنان کی جنگ میں الجھ چکا ہے۔ کیا وہ کمزور اقوام اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے یورینیم اور تیل کے ذخائر پر قابض ہو چکے ہیں۔ یہ اپنے بے گناہ اور بے ضرر انسانوں کو وطن سے دور انکا قتال بھی کروا رہے ہیں اور انکی ضمیر کو بے گناہ ،معصوم مرد و زن کے قتال کی ہولناک سزا میں مبتلا بھی کئے جا رہے ہیں۔ اے ترقی یافتہ ممالک کے ظالم،بے رحم حکمرانوں!یہ تو بتاؤ کہ تم دونوں طرف سے مخلوق خدا اور پیغمبران خدا کی امتوں کوکس جرم کی سزا میںانکاقتال کرواتے جا رہے ہو ، امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کے عوام ان سے پوچھنے کے حقدار ہیں کہ وہ ایسا ظا لمانہ کردار کیوں ادا کر رہے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے انکی امت کے فرزند اور ان ملکوں میں بسنے والے عوام بھی یہ پوچھ سکتے ہیں۔کیا یہ باطل ، غاصب اور بیگناہ بنی نوع انسان کے قتال کا کردار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور تعلیمات کا حصہ ہیں۔ ان بے سوجھت کرسچین جمہوریت کے سیاسی دانشوروں، مادہ پرست فرعونوں اور اقتدار پرست نمرودوں پر مشتمل چندحکمرانو ں نے مشرق و مغرب کا امن تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ انکی ان غاصب ،ظالم اور
انسانیت کش پالیسیوں کی بنا پر مغربی ممالک کا کوئی فرد نہ مشرق میںنہ مغرب میں، نہ امریکہ میںنہ برطانیہ میںمحفوظ رہ سکتا ہے۔یہ آگ پھیلتی اور انکے گھروں تک پہنچتی چلی جا رہی ہئے۔انکے پاس انکا کوئی تدارک نہیں۔ انہوں نے دنیا کے امن کوآگ لگا دی ہے۔انکی ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی مواد ،ان مظلوم دہشت گردوں سے بچ نہیں سکتے۔وہ بھی ایسے میزائل تیارکرنے پر مجبور کر دئے گئے ہیںکہ وہ انکے ایٹمی پلا نٹو ں کو سلگا دیں۔جسکی تلافی ممکن ہو ہی نہیں سکتی۔ یاد رکھو اسکے بعد دنیا کی تاریخ لکھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔
پاکستان کے ساتھ کیا بیت گئی۔ مت بھولئے۔ امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ مشرقی پاکستان کوبچانے کے لئے روانہ ہوا۔ وہ ابھی تک نہیں پہنچا۔ انہیں کی شہ اور خواہش کے مطابق مشرقی پاکستان ہندوستان کی فوجوں کی سنگینوں کی نوک پر الگ کیا گیا۔بھارت اور پاکستان کی عوام نان کرسچین جمہوریت کی آئیڈیالوجی کی زد میں ہے۔جوٹڈی ڈل کی طرح آمرانہ ،غلامانہ،محکومانہ، مجرمانہ طبقاتی کلچر، صدر ، وزیر اعظم ، گورنر،وزیر اعلیٰ، سینئر وزیر،جو نےئر وزیر، مشیر، افسر شاہی ،نوکر شاہی، منصف شاہی کی درجہ بندیوں کی اذیتوں کا شکار ہیں۔برہمن اور شودر، آقا اور غلام،افسر اورما تحت ،جرنیل اور بیٹ مین کا جابرانہ ،ظالمانہ اور انسانیت کش توہین سوزی کا آمرانہ طبقاتی نظام اور سسٹم مسلط ہے۔ معاشی اور معاشرتی اونچ نیچ کی تقسیم، شاہی تنخواہوں، بے پناہ سرکاری سہولتوں کا فرق،اختیارات کی زنجیریں ایک دوسرے پر آمروں،بد ترین غاصبوں کی تقرریاں پوری ملت کیلئے المیہ بن چکا ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے میں یہی طاقتیں بر ی طرح حائل ہوتی رہیں۔ جب کہ ایسا کرنے کا ان کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ کیونکہ ہندوستان نے ایٹمی دھماکہ کر لیا تھا۔ پاکستان کا اپنی بقا کیلئے ایٹمی دھماکہ کرنا از بس ضروری ہو چکا تھا ایف ۱۶ کی سپلائی کی رقم وصول کرنے کے باوجود امریکہ نے انکی سپلائی مہیا نہ کی ، حکو مت وقت کو ان حالات کی روشنی میں اپنے دوست دشمن کی پہچان کر لینی چا ہیئے تھی۔لیکن حکمران نان کرسچین جمہوریت اور امریکہ کے حکمرانوں کے ایجنٹ کی حثیت اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان ایف ۱۶ کی بہت بڑی سیاسی قیمت ادا کر چکاہے۔ یہ اس آڑ میں مسلم امہ کو تباہ و برباد کئے جا رہے ہیں۔ کشمیر کا کیس ۱۹۴۸ ء سے اسی یو این او کے ادارے میں التوا میں پڑا ہے۔ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے رائے شماری اور دوسر ی قرار دا دوں کی منظوری یو این او کے نمائندوں نے ہی منظور کی تھی۔ کشمیر کا مسئلہ نپٹانے یا حل کرنے کی بجائے اتنی دیریا اندھیر انہی کی منشا اور سیاست کا حصہ ہے۔ ہندوستان نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ مضبوط اور قائم رکھنے کے لئے اور استصواب رائے کوکچلنے کے لئے سات لاکھ فوج اس مشن کی تکمیل کے لئے کشمیر میں جھونک رکھی ہے۔جو پچھلے اٹھاون سال سے ہر قسم کا ظلم ، زیادتی اور بھیانک وارداتوں کی مرتکب ہوتی چلی آ رہی ہے۔ کشمیری بچوں، بوڑھوں، طالب علموں، جوانوں کا قتل عام، بچوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتی اور ظلم کی خوفناک وارداتیں، گھروں کو مع اہل و عیال جلانے کے واقعات، گھروں، جیلوں،تھانوں،عقوبت خانوں میں کشمیریوں کو اذیتیں تکلیفیں دے کر بے پناہ تشدد سے گذار کر قتل کر نے کا عمل جاری ہے۔ اگر کوئی کشمیری مجاہد ان غاصبوں کی فوج کو نقصان پہنچائے تویہ شوروغل و اویلا مچاناشروع کر دیتے ہیں ۔ انکو دہشت گرد کا نام دیتے ہیں۔ اسی دہشت گردی کی آڑ میں ہندوستانی فوج کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کشی کرتی چلی آ رہی ہے۔دنیا کی یہ مہذب قومیں چپ سادہ کر بیٹھ گئیں۔ ہندوستان کا یہ غیر قانونی ، غیر اخلاقی، غیر فطرتی جواز اور پروپیگنڈا دنیا کی کوئی مہذب قوم یا عوام ماننے کیلئے تیار نہیں، حق استصواب رائے کشمیریوں کا قانونی اور فطرتی حق ہے۔ اور یو این او کی قراردادیں موجود ہیں۔ دنیا کی کوئی مہذب
قوم ان کے غیر منطقی موقف کو ماننے کو تیار نہیں۔ ہندوستان کسی فورم، کورٹ اور ٹیبل پر بیٹھ کر اس جھوٹے ، غلط باطل اور بے بنیاد موقف کا سامنانہیں کر سکتا۔اسکی عوام کو انکا احتساب ازخود کرنا ہوگا، اب پاکستان اور بھارت دو ایٹمی قوتیں ہیں،اگر جنگ چھڑ گئی تو اس دھرتی کی تار یخ لکھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔کشمیر کشمیری مسلمانوں کا ملک ہے۔ دینی لحاظ سے یہ پاکستان کے بھائی ہیں اور پاکستان کی جان ہے۔ ہندوستان کے سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہے۔کہ کشمیریوں پرجبر، ظلم،قتال اور جنگ اس کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اس سلسلہ میں دو جنگیں لڑیں۔ کشمیری مجاہدین آج بھی آزادی کی جنگ بڑی جرات ،حوصلہ، اور دین کی روشنی میں لڑ رہے ہیں۔یہی جنگ انکی معاشی اور معاشرتی تباہی کا ذریعہ بن چکی ہے۔حکمران اور عوام اس جنگ کوجاری رکھنے کیلئے متفق نہیںہیں ۔ بھارت کے حکمران اب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ جنگ جاری رکھنے سے روس کی طرح انکی معیثت جنگ کی نظر ہوتی جائیگی اور تمام صوبے آزاد ہو جائیں گے۔وہ خود کش حملوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اب کشمیر کی آگ خود کش حملہ آوروں کی شکل میں پورے بھارت میں پھیلنا انکے ظالمانہ عمل کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ اس قتل و غارت کو روکنا اور اس مسئلہ کو حل کرنا دونوں ملکوں کی عوام کیلئے بہتر ہوگا،ورنہ افرادی قوت،معاشی طاقت متواتر و مسلسل تباہ ہوتی جائیگی۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم اور مژدہ سنا کر شان جلالی اور جمالی میں عملی طورپر گزرنے کی سعادت عطا فرما رکھی ہے۔ بھارت کی فوج ان مجاہد ین سے اس علاقے سے بچ کر نکل ہی نہیں سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے۔ کہ بھارت اور پاکستان کے لیڈران ہوش سے کام لیں۔اب دونوںملک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں ۔ اب فوج کی برتری اور اسلحہ کی برتری ختم ہو چکی ہے۔ دونوں ملکوںکے حکمرانوں کیلئے یہی بہتر ہے کہ دونوں ممالک یو این او کی قرار داد کے مطابق اس مسئلہ کا مناسب حل تلاش کر لیں۔ ورنہ ایٹمی جنگ یہ روک نہیں سکتے۔
ہندوٗں کا بنیادی نظریہ براہمن اور شودر کی بنیاد پر مشتمل ہے۔انکی اپنی گوتیں خاص کر شودر انکے علاوہ سکھ،عیسائی ،پارسی اور مسلمانوں پر مشتمل کئی اقوام اس میں بستی ہیں۔ہر قوم براہمن ازم کا شکار اور انکے رویہ سے نالاں ہے۔کئی اقوام خاص کر سکھ قوم آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انکے ممالک میں براہمنی نظام کی بالا دستی قائم ہے۔یہ تمام واقعات اور حالات اس بات کے شواہد ہیں کہ بھارت کی جنتا نظریاتی طور پر مختلف نظریات کا مجموعہ ہے۔یہ نظریاتی اختلافات ان کے مقدر کا حصہ ہیں جو انکی بقا کی تباہی کا باعث ہیں۔ بھارت کے عوام،اقوام، سیاستدان، حکمران ان حالات اور حقائق سے دو چار ہیں اور اسکے علاوہ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح آشنا ہے کہ بھارت کشمیر پر جارحیت کا مرتکب ہے۔کشمیر کے مسئلہ پرمزید ہٹ دھرمی اور جنگ مسلط رکھنا ان دونوں ممالک میں کسی بھی ملک یا قوم کیلئے بہتر نہیں ہوگا۔تیسری جنگ آخری جنگ ہوگی۔ایٹم بموں کا ٹکراؤ ہوگا۔اس جنگ کے بعد اسکی تاریخ لکھنے والا کوئی نہیں بچے گا۔پاکستان اور بھارت کے عوام،سیاستدان ، حکمران اچھی طرح جانتے ہیں۔کہ اب حقائق کو مزید الجھایا یا جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
ویسے بھی وہ کشمیریوں کے جذبۂ حریت سے اچھی طرح واقف اور آگاہ ہیں ۔ ہندو سیاستد انوں،حکمرانوں، اور رعوام کے قواء اس طویل جنگ کی وجہ سے بری طرح مضمحل ہو چکے ہیں۔ وہ بہتر جانتے ہیں کہ مسلمان ختم نہیں ہو سکتے۔ پاکستان سے دو گنا بڑا پاکستان
ہندوستان کے اندر موجود ہے۔ اس کے علاوہ ڈوگرہ، سکھ، عیسائی، پارسی، بدھ مت وغیرہ اور ان کے تمام صوبے اور تمام اقوام ہندوؤں کی تنگ نظری ، ذات پات کی تقسیم، خود غرضی ، نا انصافی ، نفرت، حقارت جیسی اذیت ناک زیادتیوں،براہمن اور شودر کی تقسیم اور براہمنوں کی بھارت پر سرکاری بالا دستی جس سے ڈوگرہ، سکھ،عیسائی،پارسی بدھی، جینی اور مسلمان شودر کی زندگی گذارنے سے پہلے ہی تنگ آ چکے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی دو جنگیںکشمیر کے مسئلہ کے حل کیلئے پہلے ہی لڑی جا چکی ہیں، دونوں ممالک اور کشمیری عوام کیلئے یہ مسئلہ عبرت کدہ بنتا چلا جا رہا ہے ۔ بھارت کے متواتر و مسلسل ظلم، زیادتی،نا انصافی ، قتل و غارت، دہشت گردی نے انکی ، رسوائی، اور ندامت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ ذی شعور اہل ہند بھی اپنے سیاست دانوں کی اس ہٹ دھرمی سے نالاں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر نہ تو ان کا موقف درست ہے نہ کوئی جواز۔ پچھلے ساٹھ سالوں کے طویل عرصہ میں نہ وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کی آگ کو بجھا سکے۔ اور نہ ہی دبا سکے ہیں۔ بھارت کے سیاستدان و حکمران ان ممالک میں بسنے والے انسانو ں کے درمیان نفرت و نفاق کی چتا جلاتے اور جنگ کا ایندھن بنائے جا رہے ہیں،اب دونوں ملک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں اور طاقت کا توازن ایک جیسا ہو چکا ہے۔ اگر اب بھی یہ حکمران اس مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی کوتاہی کرتے یا روکاوٹ بنتے ہیں، تو کشمیری عوام اپنی بقا کی جنگ لڑنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ خود کش حملہ آوروں کی تعداد بڑھے گی۔ پہلے کی طرح اگر بھارت کوئی اور محاذ کھولتا ہے تو ان کیلئے اسکے رد عمل کی ذمہ داری اٹھانے کی سکت نہیں ہے۔استصواب رائے کا حق انکو یواین او نے دے رکھا ہے۔اور یہی اس مسئلہ کا حل ہے۔دنیا میں امن کا راستہ اختیار کرو،انسانی نسل کو مکمل تباہی سے بچاؤ۔اس میںسب کا بھلا ہوگا۔
اے مغربی تہذیب کے دانشورو اور پاکستان کے سیاستدانوں حکمرانوں اب بھی وقت ہے کہ سنبھل جاؤ ! ۔اس نان کرسچین جمہوریت کے نظریات جنہوں نے تمام انبیاء علیہ السلام کے نظریات اور انکی تعلیمات کو ایک دجال کی طرح نگل لیا ہے،امن چاہتے ہو تو پیغمبران کے نظریات،انکی تعلیمات،انکے کردار کی خوشبو میں ڈھل جاؤ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس تمہاری طرح تو یہ افوا ج، جدید اسلحہ ، قارون کا خزانہ، ایٹم بم،نائٹروجن بم، تمہاری تمام جدید ترقی ، تمہارے تمام مال و اسبا ب ، تمہارے تمام عشرت کدے،تمہاری بین الاقوامی یو این او کی انصا ف مہیا کرنے والی عظیم عدالت تو انکے پاس نہ تھی، ان تمام اسبا ب و واقعات کے نہ ہونے کے باوجود انہوں نے دو ارب سے زائد انسانو ں کے دلوں میں مذہب کے نظریات اور تعلیمات کی روحانی قندیلیں روشن کیں جو آج بھی بنی نوع انسان کو اپنی طرف کیھنچتی چلی آرہی ہیں۔ لیکن یہ کیسے پیروکار اور انکے امتی ہیں جنہوں نے عظیم پیغمبر خدا کا تشخص اقوام عالم میں ایسا پیش کیا ہے،جس سے غیرمذہبی اقوام،غیرمذہبی نظریات سے منسلک عوام، سو شلسٹ ، کیمونسٹ بلاک کے لوگ،ہندو ازم ، بدھ ازم اور دوسرے مختلف نظریات سے منسلک عوام انکے ظالمانہ کردار،انکے غاصبانہ طور طریقے،انکے باطل نظام حیات ،انکے انسانیت سوز اعمال، انکے ازدواجی زندگی کے پاکیزہ ، طیب اور منزہ ضابطہ حیات کو پاش پاش کرنے،ناجائزبچے پیدا کرنے،روح القدس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے جسد کو کوڑھ،ناسور اور کینسر بن کر چمٹ چکے ہیں۔انہوں نے ایک دجال کی طرح پیغمبر خدا کی الہامی تعلیمات کو سرکار ی سر فرازی سے محروم کر رکھا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ انکے سیاستدانوں نے خود ساختہ نان کرسچن جمہوریت کی بالا دستی انکی امت پر سرکاری سطح پر مسلط کر کے مذہب کی تعلیمات اور طرز
حیات کو اسمبلیوں کے ذریعے کچل کر رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے ہتھیاروں کی فروخت کے ذریعہ تمام غیر ترقی یافتہ ملکوں کی عوام کے وسائل، دولت اور خزانے لوٹتے اور خالی کرتے رہتے ہیں۔ دولت کے انبار انکی زر پرستی کی خواہشات کی چتا کو بجھا نہ سکے۔ انہوں نے انسانوں کو نفرتیں تقسیم کی ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو بے سرو سامانی کی ملکیت کے مالک تھے۔ انکے پاس الہامی ، روحانی اور آسمانی تعلیمات کا خزانہ تھا۔وہ تو مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھتے تھے۔وہ تو اعتدال و مساوات کا سبق دیتے تھے۔وہ تو اخوت و محبت کی شمع دلوں میںمنور کرتے تھے۔وہ تو مخلوق خدا میں ادب و خدمت کے دیپ جلاتے تھے۔ وہ تو عفو در گذر کے وارث تھے وہ تو بے سرو سامان کی زندگی کو رب جہاں کا ایک حسین تحفہ تسلیم کرتے تھے،وہ ایمان اور یقین کے راستہ بتاتے تھے۔وہ تو خیر اور بھلائی کی خیرات تقسیم کر تے تھے،وہ تو بھولے بھٹکوںکو راہ راست دکھاتے تھے وہ تو بنی نوع انسا ن کو ازدواجی زندگی کا طیب راہ دکھاتے تھے۔وہ تو انسانو ں کو شرم وحیا کی روشنیاں عطا کرتے تھے۔وہ تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے۔وہ تو بیماروں کا علاج کرتے تھے۔وہ تو انسانی زخموں پر مرہم لگاتے تھے ، وہ تو عدل و انصاف کو قائم کرتے تھے۔وہ تو دنیا میں فقر اور رہبانیت کے گلستان تیار کرتے تھے،وہ تو مردہ کو زندہ کرتے تھے۔ وہ تو انسانوں کو دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتے تھے۔ وہ تو انسانیت کے پرستار اور امن کے دیوتا تھے، انکی تعلیمات آفاقی ،انکاکردار آفاقی،انکے نظریات آفاقی،وہ تو امریکہ یا برطا نیہ کے پیغمبر ہی نہ تھے۔مادی خو شحالی اور دنیاوی سہولتیں ، اس جہان کی ہر چیز ہر محروم کی امانتیں ہیں۔اس مذہب کے نظام کو ترک کرنے والا اور دنیا بھر کے انسانوں کے حقو ق کو غصب کرنے والا،ان امانتوں کو نگلنے والا ، دنیا کے امن کو تباہ کرنے والا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یا محمد الرسول اللہ ﷺ کا امتی یا پیروکار کیسے بن سکتا ہے ، یہ تمام مال و اسباب دنیا میں بسنے والے ان غریب انسانوں ، غریب ممالک کی پاکیزہ امانتیںہیں ۔ کسی فرد، کسی طبقہ کسی ملک کو انکو جمع کرنے، دوسروں سے انکے وسائل ، دولت، ضروریات حیات چھیننے کا حق حاصل نہیں ہے۔
اے اہل مغرب سوچو تو!ذرا غور تو کر لو! کیا تمہارے چند سیاستدانوں اور حکمرانوں نے روح القدس کی تعلیمات،انکے نظریات، انکے کردار کی سرکار ی سطح پر بالا دستی ختم کر کے عیسائیت کو فروغ دے ر ہے ہیں یا اپنی تیار کردہ نان کرسچین جمہوریت کی باطل تعلیمات ، انکے غاصب نظریات اور ان سے تیار کئے ہوئے ظالم کرداروں کو فروغ دیکر دنیا میں پیغمبر خداکی الہامی تعلیمات اور نظریات سے منور کی ہوئی شمع فروزاں کو بجھاتے جا رہے ہیں،کیا وہ مریم پاک کی شرم و حیا جیسے پاکیزہ کردار ، عفت و عصمت جیسی مطہرہ صفات کے تقدس کی زندگی کو مخلو ط معاشرے کے ذریعے مسخ کرتے نہیں جا رہے۔ کیا تمہارے حکمرانوں کا نان کرسچین جمہوریت کا نظام حکومت ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران اور خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ازدواجی زندگی کے کلچر کو نگل نہیں چکا ۔ کیا نان کرسچین جمہوریت کے ضابطہ حیات نے بین الاقوامی سطح پر پیغمبران کے عدل و انصاف ،اخوت و محبت ،خدمت خلق اور اعتدال و مساوات کے الہامی اصولوں کو کچل کر رکھ نہیں دیا۔کیا جمہوریت نے مذہبی نظریا ت کے فطرتی ضابطہ حیات کو دنیا میں نایاب نہیں بنا دیا۔کیا مغربی حکمرانوںنے بنی نوع انسان سے ادب انسانیت ا ور خدمت انسانیت کا الہامی ،روحانی کردار اسی نان کرسچن جمہوریت کی سرکاری بالا دستی سے تمام پیغمبران کی امتوں سے الگ نہیں کر دیا ۔ فیصلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو کرنا ہوگا۔ انکے بشپ اور پادری اسکا جواب دیں۔ یا اللہ ان پر رحم فرما،انکو بی بی مریم پاک کی عصمت و عفت کی چادر اور ازدواجی زندگی کے نظام حیات کو تحفظ فراہم کرنے کی توفیق عطا فرما۔ انکو اور تمام پیغمبران خدا کی امتوںکو سیدھا راستہ دکھا
اورحضرت محمد مصطفیٰﷺ کی امت کو پوری انسانیت کیلئے باعث رحمت بنا ۔ انکو انسانیت کیلئے بے ضرر اور منفعت بنا۔امین۔
آخری نبی الزماںکی امت کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ تمام اہل کتاب امتو ں، تمام بنی نوع انسان کو قرآن حکیم کی تعلیمات سے آگاہ کریں ۔ اسکے نظریا ت ، اسکے ضابطہ حیات ، اسکے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کی روشنی کو عام کر یں ، انکو اسلامی،الہامی شورائی طرز جمہوریت اور سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ نان کرسچین جمہو ر یت کے تضاد سے آگاہ کریں۔ پیغمبران خدا کی تمام امتوں کو نمرود، فرعو ن ، یزید کی طرز حیات اور حضرت ابرہیم خلیل اللہ حضرت داؤد علیہ السلام حضر ت موسیٰ کلیم اللہ حضرت عیسیٰ روح اللہ اور حضر ت محمد ا لرسو ل للہ رحمت اللعالمین ﷺ کی طرز حیات کے نظام حیات سے روشناس کروائیں،اللہ تعالیٰ کے کلام کو زبور شریف،توریت شریف، انجیل شریف قرآن شریف ، پیغمبران کے کلام کو حدیث شریف،بزرگان مذاہب کے کلام کو ملفوظات اور عوامی دانشوروں کے کلام کو اقوال، مذہب پرست امتو ں پر دانشوروں کے کلام کی بالا دستی مسلط کرنا،سیاسی دانشوروں کے ضابطوں کو اللہ تعالیٰ کے ضابطوں پر فوقیت دینا انکوسرکاری سطح پر منسوخ کرنا، نان کرسچین جمہو ر یت کو شورائی طرز جمہور یت پر نافذالعمل کرنا ، مذاہب کے نظریات کو بتدریج ختم کرنا تمام امتوں اور انکی آنیوالی نسلو ں کو مذہب کی تعلیمات اور طرز حیات سے محرومی اوردوری کے اسباب ہیں۔مسلم امہ کو دین محمدیﷺ کی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنا،اسکے شورائی جمہوری نظام، طریقہ کار سے تمام پیغمبران کی امتوں اور تمام نظریات ، عقائد پر مشتمل دنیا بھر کے عوام کو آگاہ کرنا اور اسکے اصول و ضوابط سے آشنا کرنا اور اسکی بنی نوع انسان کیلئے آفادیت کی وضاحت کرنا مسلم امہ کی بنیادی ذمہ داری تھی اور ہے۔
۱۔ نان کرسچین ڈیمو کریسی سیاسی دانشوروں کا تیار کردہ نظام حکومت ہے جس کے تحت چند ملکی غاصب ،مال و زر،جاگیروں، کارخانوں ملکی وسائل لوٹنے والے اور سیاسی گٹھ جوڑ کے وارث ہی حصہ لے سکتے ہیں باقی تمام عوام انکے ووٹر کی حثیت رکھتے ہیں،یہ طبقاتی نظام انہوں نے تمام دنیا کے مما لک پر مسلط کر رکھا ہے۔ ہر حلقہ سے سیاسی جما عتو ں کے ورکر یا آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیتے اور ان میں سے ہی کسی ایک کا بذریعہ الیکشن جس کے ووٹ سب سے زیادہ ہوتے ہیں، اسکو ممبر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔جبکہ دوسری تمام جماعتوں کے ووٹ اس جیتنے والے امیدوار سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں،وہ کیسے اس حلقہ کا نمائندہ بن سکتا یا کہلا سکتا ہے۔ شورائی جمہوری نظام کے مطابق کوئی فرد سلیکشن کیلئے اپنا نام پیش نہیں کر سکتا۔ عوام از خود کسی بھی دینی خوبیوں کے وارث امانت و دیانت،اخوت و محبت ، اعتدال و مساوات،خدمت و ادب ، عدل و انصاف اور حسن خلق کے پیکر اور حکومتی منصب کے اہل فرد کو اپنے حلقہ سے مجلس شوریٰ کے ممبران کا چناؤ کرتے ہیں۔ اس میںکوئی سیاسی جماعت نہیں ہوتی۔اس نظام حکومت میں خدائی احکام کے مطابق صرف نیک ، صالح، با کردار فرد کو حلقہ انتخاب سے منتخب کیا جاتا ہے
۲۔ کرسچین جمہوری نظام کے مطابق سیاسی جماعتیں اپنا اپنا منشور عوام کے سا منے پیش کرتی ہیں ، اسکے مطابق اپنے ہم خیال افراد کو کرسچین جمہوریت کے اسمبلیو ں کے الیکشن کیلئے کھڑا کرتی ہیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوخدا وند قدوس نے آسمانو ں کی بادشاہت کی نوید دی۔ انکے پاس اپنی شریعت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰﷺ آخری نبی الزمان کو جب اس دنیا میں بھیجا تو انکے ذریعہ بنی نوع انسان کو اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت قائم کرنے اور شورائی نظام جمہور کو رائج کرنے کا ضابطہ عطا کیا۔ جو پوری انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ اسکے تحت ہر
حلقہ کے عوام دین کی روشنی میں اعلیٰ کردا ر عمدہ اخلاق بہترین اوصاف ،ادب انسانیت اور خدمت انسانیت سے سرشار مجلس شوریٰ کے ممبران کا انتخاب اپنے اپنے حلقہ سے کرتے ہیںجوفریضہ منصبی کے اہل ہو تے ہیں،جن کے ذریعہ بنی نوع انسان کو بے ضرر منفعت بخش افراد پر مشتمل شورائی قیادت ملت کو میسر آتی ہے ، جنکے سپردکاروبارِ مملکت کیا جاتا ہے، یہ خیر کو پھیلانے شر کو ختم، عدل و انصاف کو قا ئم کرنے اور دنیا کو امن کا گہوارا بنانے کی منزل پر ملت کو گامزن کر دیتے ہیں، وہ ملی خزانہ سے ایک عام فردکے مطابق ضروریات حیات کو حاصل کرتے ہیں۔
۳۔ کرسچین جمہوریت کے سیاسی لیڈران اپنے حلقہ میں ایسے سیاسی ممبران کھڑا کرتے ہیں جنکی مالی پوزیشن مضبوط وہ لاکھوں ،کروڑ وں روپوں کے الیکشن کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں ۔ اس طرح الیکشنوں میںحصہ لینے والے دنیا بھر کے ممالک کا ایک مخصوص مال و زر کے مالک فرعونی طبقہ کے لوگ اس سیاسی کھیل میں شامل ہوتے ہیں، پاکستان میں انکی تعداد تقریبا سات ہزار افراد پر مشتمل ہے،وہ حکمران اورملت انکی غلام،قیدی بن جاتی ہے۔ یہ طبقہ جاگیر دار،ر سرمایہ دار،سمگلر،راشی،کمیشن خور،زمین مافیہ اور کرپٹ افراد پر مشتمل ہے۔انکے دانش و برہان کے اوصاف انکی بڑی بڑی جاگیریںشوگر ملیںفلور ملیںرائس ملیں سیمنٹ فیکٹریا ں لوہے کے کارخا نے کپڑے کے کارخانے ملکی تجارت،امپورٹ اینڈ ایکسپو ر ٹ ، بنکوں کی ملکیت ، ملک کے اندر پھیلے ہوئے تمام رائے ونڈ ہاؤ سز ، شاہی پیلسز، بیرون ممالک سرے محلوں کے علاوہ جدید ماڈلوں کی قیمتی گاڑیاں ،پندرہ ،سولہ کروڑ عوام کے ملکی وسائل،دولت اور خزانہ انکی ملکیتیں ۔ان چند جاگیر داروں، سرمایہ داروں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے والا، اعتدال و مساوات کو کچلنے اورعدل و انصاف کو روندنے والا، انکا انتظامیہ اور عدلیہ کا نظام انکی حکمرانی کا راز اور پندرہ ، سولہ کروڑ عوام کو مجبور اور محکوم بنانے کا عمل ملک و ملت پر مسلط ہے جو ملت کے افراد کا نصیب بن چکا ہے۔انہوں نے دین کے شورائی نظام حکومت کو ترک کر کے نان کرسچین جمہوریت کے بے دین نظام کو مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان پر مسلط کر کے انکا دین اور دنیا لوٹے جا رہے ہیں۔ ملک کے تمام ایچی سن کالج انکے اور دنیا کی تمام آکسفورڈ یونیورسٹیاں اور اکیڈمیاں انکی ، تمام اعلیٰ ملکی ،غیر ملکی طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی ادارے انکے جو انگریزی زبان کے دانشور،سکالر،حکمران اور حکومتی مشینری کو چلانے والی اعلیٰ نسل کی افسر شاہی ،منصف شاہی کا حکمران طبقہ تیار کرتے ہیں۔اردو میڈیم تعلیمی اداروں کے فارغ ا لبال جو نہ انکی طرح انگلش زبان بول سکتے ہیں،نہ لکھ سکتے ہیں،نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ستر فیصد دیہاتی آبادی کے پاس نہ کوئی انگلش میڈیم ادارہ،نہ کوئی کالج، نہ کوئی سروس اکیڈمی اور نہ ہی کوئی زرعی یونیورسٹی، ملک میں انگریزی زبان کی سرکاری بالا دستی نے تمام اہل وطن کو آنکھوں، کانوں، زبان اور دل و دماغ سے محروم کر رکھا ہے۔ ان کسانوں کے پاس آبا و اجداد سے ورثہ میں ملا ہوا،زرعی تعلیمی نظام، جسکے ذریعہ انکے کسب زراعت کے ماہرسپوت تیار ہوتے ہیں، جنکا تعلق کسی انگلش میڈ یم تعلیمی ادارے یا کسی ایچی سن کالج اور نہ ہی کسی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ہوتا ہے۔ نظام زراعت کو فطرت کے اصولوں کے مطابق بڑے احسن طریقہ سے چلاتے چلے آ رہے ہیں۔ زراعت کے وزیروںاور انکے تعلیم یافتہ سیکٹریوںکو نہ بیجوں کی پہچان ،نہ انکے ناموں سے آشنائی،نہ زمین کی تیاری کا پتہ،نہ یہ پتہ کہ بیج نمی والی زمین میںبونا ہے یا بیج ڈال کر پانی لگانا ہے۔نہ انکو کسان کی محنت ا ور مشقت سے آشنائی نہ اسکی اہمیت سے آگاہی،کھانے کیلئے گندم چاول مکئی باجرہ ، ہر قسم کی دالیں چنے،مرچ
مصالحے ، دودھ کی نہریں،ہر قسم کا جا نور ، گو شت ،ان کے چمڑے کے جو تے ، ہر قسم کی سبزی،ہر قسم کا پھل،ہر قسم کے میوہ جات،ہر قسم کی لکڑی،افواج پاکستان میںننانوے فیصد سپاہی جس میں کسی اعلیٰ طبقہ کا کوئی فرد نہیں ہوتا ، جنگ کی اگلی صفوں پر ملک کی پاسبانی اور سرحدوں کے محافظ کے فرائض ادا کرتے ہیں، پولیس میں سپاہی سرکاری دفاتر میں اردلی بیٹ مین مالی چوکیدار سڑکوں پر بیلدار،گن مین،کک، دھوبی ، خانسامے، لائن مین، ڈرائیو ر اور زمین سے پیداوار حاصل کرنے والے ملک کے ستر فیصد دیہاتوںمیںبسنے والے ، محنت کش،ملک کی معیثت کی ریڑھ کی ہڈی اور فطرت کا شاہکار عظیم کسان۔
۷۔ شہروں میںبسنے والے انتیس فیصد مزدور،محنت کش،ہنر مند اور عوام الناس ملک کے تما م شعبوں کے بہترین دانشور اور سکالر جو بھٹوں میں ایک انجینئر کی طرح مٹی سے اینٹیں تیار کرتے بھٹو ں میں ایک خاص ترتیب سے بڑی ہنر مند ی سے لگاتے، انکو آگ سے پکاتے،انکا بٹھوں سے نکاس کرتے،انکو کارخانوں اور شاہی محلوں تک پہنچانے کا فرض ادا کرتے چلے آ رہے ہیں، وہ نہ تو کسی انگلش میڈیم سکول ، کالج ، یونیورسٹی یا مغربی جمہوریت کے کسی دانش کد ہ یا کسی سروس اکیڈمی سے انکا کوئی تعلق ہوتا ہے۔ نہ وہ افسر شاہی یا منصف شاہی کے ممبر ہو تے ہیں اور نہ ہی انکے کسی عہدے کی شاہی تنخواہوں اور انکی سرکاری سہولتوں سے انکا کوئی تعلق ہوتا ہے۔وہ تو اپنے فن کے لا جوا ب شاہکار، محنت و مشقت کے بہترین گوہر،ملک و ملت کا بہترین سرمایہ،اعتدال و مساوات کے نظام کے مجروح، عدل و انصاف کے حقوق سے محروم ، قلیل ضروریات کے وارث ،غربت تنگ دستی اور بیماری کی حالت میں بے بسی اور انسانیت سوزی کا مجسمہ بنے ہوتے ہیں۔ان عظیم سپوتوں کو سلام۔ اسی طرح مزدور،محنت کش،ہنر مند جو لوہے کو تیار کرنے کے لا جواب عملی بنیادی انجینئر ہوتے ہیں،وہ لوہے کے کارخانوں میں لوہا پگھلا تے، وہ آگ اگلتی بٹھیوں کا سامنا کرتے ،سریا تیار کرتے ، کٹائی کرتے،لوڈان لوڈ کرتے اور منزل مقصود تک پہنچانے کا فرض ادا کرتے چلے آرہے ہیں،وہ صنعت کے وزیروںاور سیکٹریوں کے عہدوں پر فائز تو نہیں ہوتے،وہ نان کرسچن جمہوریت کے طبقاتی تعلیمی نظام کے کسی سکول ،کالج،یونیورسٹی کے فارغ البال تو نہیں ہوتے لیکن نظام صنعت کی ریڑھ کی ہڈ ی اور اپنے فن کے شاہکار ہوتے ہیں۔وہ آگ سے کھیلتے ہیں،آگ کی تپش کی اذیتوں کو برداشت کرکے خام لوہے کو ایک خاص ڈگری تک پگھلاتے اور لوہے کو سریا کی شکل دیتے ہیں۔یہ نان کرسچین جمہوریت کے نظام کا کیسا شکنجہ ہے کہ جو جاگیر دار اور سرمایہ دار،سمگلر،راشی،کمیشن خور،زمین مافیہ کے غاصب اسمبلیوں میں پہنچ کر وزارتو ں ، سیکٹریوں اور کارخانوں کے مالکان کے تین روپ بن کر ابھرتے ہیں ۔یہ ملک کا خزانہ وسائل اور سرکاری سہولتوں سے عیش و عشرت لوٹتے اور ملکی دولت کو اپنی ملکیتوں میں بدلنے کا عمل جاری کرلیتے ہیں۔ پندرہ،سولہ کروڑ انسانوں کے حقوق غصب کرتے ، انکی محنت کی کمائی کو چھینتے اور انکو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب آئیے سیمنٹ کے کارخانوں کے مزدوروں ، محنت کشوں،ہنر مندوں کے کردار کا اختصاری جائزہ لیں،سیمنٹ کے کارخانوں کیلئے پتھر کاٹنا،کرش بنانا، انکو پیس کرسیمنٹ کا پاؤڈر تیار کرنا، کیمیکل سے گذارنا،سیمنٹ کے بیگ بھرنے کا فریضہ ادا کرنا ان عظیم مزدورں،محنت کشوں،ہنر مندوں کا عملی کردار ہے، انگریز ی زبان کے نا بلد ،انکے تعلیمی اداروں سے بے نیاز،نہ وزیر،نہ مشیر،نہ وزیر اعلیٰ نہ گورنر ،نہ وزیر اعظم نہ صدر پاکستان ،نہ سیکٹر ی ، نہ سی ایس پی ، نہ جج نہ بار ایٹ لا،نہ غاصب مالک، وہ عملی زندگی کے مثالی پختہ انجینےئر جو چٹانوں کو پھاڑتے او ر سیمنٹ تیار کرنے کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔
ملوں ،فیکٹریوں، کارخانوں،پلوں،ائیر پورٹوں،بندر گاہوں ، سڑکوں، پریذیڈ نٹ ہاؤس،وزیر اعظم ہاؤس،گورنر ہاؤسز،وزیر اعلیٰ ہاؤسز، وزیر ہاؤسز ، مشیر ہاؤسز،سندھ ہاؤسز،بلوچستان ہوسز،فرنٹےئرہاؤسز،پنجاب ہاؤسز،کشمیر ہاؤسز، چیف سیکٹری ہاؤسز،سیکٹری ہاؤسز،اسمبلی ہالز ہاؤسز کینوینشن ہالز،اعلیٰ سرکاری عمارتوں کے علاوہ انکے ملک میں پھیلے ہوئے رائے ونڈ ہاؤسز،شاہیپیلسز اور بیرون ممالک سرے محلوں کی تعداداکون گن سکتا ہے۔جن میں ان مزدوروں،محنت کشوں اور ہنر مندوں کا خون جگر شامل ہوتا ہے ۔
لیکن بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ ستر فیصد کسان ضروریات حیات مہیا کرتے، کارخانوں،ملوں،فیکٹریوںکو خام مال مہیا کرتے اور انتیس فیصد مزدور ،محنت کش ہنر مند اور عوام ان فیکٹریوںملوں کارخانوں کو تیار کرتے، جو اینٹیں بنا تے ، سنگ مرمر کو کاٹتے تراشتے ،ٹیلیں بناتے، بجری بناتے، سریا تیار کرتے،ایلمونیم بناتے ،شیشہ تیار کرتے،سیمنٹ مہیا کر تے ، بلڈنگیں بناتے،محل تیار کرتے ملک بھر میں سڑکیں بچھا تے ،ائیر پورٹ بناتے، بندرگاہیں تیار کرتے،ملک کے تمام ترقی کے دروازے یہی محروم طبقہ کھولتا اور انکو احسن طریقہ سے چلاتا اور اعلیٰ ا قسام کی پروڈرکشن مہیا کرتا چلا آرہا ہے۔کسان مزدور،محنت کش ،ہنر مند طبقے ان غاصب مالکان کے ایک بد ترین غلامِ ایک قیدی کی طرح مجبور،ایک محکوم کی طرح مظلوم اور سرکاری محکموں میں ان جاگیرداروں ، سرمایہ داروں پر مشتمل سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ہر جائز و ناجائز احکام کو بجا لانے کے پابند،انکی مسلط کی ہوئی نان کرسچین جمہوریت کے غیر دینی نظام کی اطاعت کے پابند، ان آمروں،بادشاہوںکے طبقاتی نظام حکومت کے پابند ، انکی فرما ںبرداری اور اطاعت کے پابند،یہ کیسا نظام حکومت ہے جس کی حکمرانی ان چند جاگیر دار اور سرمایہ دار،سرکاری عہدیدار آمروں کے قبضہ میں ہے اورسولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو یرغمال بنائے بیٹھے ہیں۔ملک کی ملکیت کو عوام الناس سے چھین چکے ہیں۔پاکستان سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا سانجھا گھرہے۔تما م جاگیریں،ملیںفیکٹریاںکارخانے،ملکی وسائل،ملکی دو لت، ملکی خزانہ اور ملکی زرمبادلہ ان سب کی سانجھی ملکیت ہیں۔اگر یہ نہیں مانتے تو ایک دن بجلی بند کردو ، گیس بند کردو،ٹیلیفون بند کر دو،پٹرول پمپ بند کردو،ٹریفک جام کر دو،ملیں بند کر دو،کارخانہ حیات ایک دن کیلئے روک دو، کھانا پکانا بند کر دو، ملک کے تمام ذرائع آمدو رفت کا نظام جام کر دو۔ان کا کنٹرول خود سنبھال لو، انکو اعتدال و مساوات کا سبق سکھاؤ،انکو عدل و انصاف کا راستہ دکھاؤ،سولہ کروڑ مسلم امہ کو برابری او ر مساوات کا نظام مہیا کردو،انکے مطابق انکا حصہ مہیا کر دو، ایک اہل ایمان کی طرح انکے حقوق اور انکی زندگی کا پورا پوراتحفظ فراہم کر دو، انکو ہر خطا معاف کردو،مکہ کی فتح کی طرح ہر کس و ناقص کو عام معافی دیکر ان کا حق ادا کر دو،ایک طرف تو نان کرسچین جمہوریت کے نظام حکومت میں انہوں نے ملک و ملت کے وسائل دولت مال و زر اور خزانہ لوٹنے کا گھناؤنا عمل جاری کر رکھا ہے ۔ دوسری طرف انہوں نے ملک وملت پر نان کرسچین جمہوریت کی روشنی میں اپنی انتظا میہ اور عدلیہ کو تیار کرنے والے شاہی اخراجات پر مشتمل طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی نصاب، شاہی فیسوں، شاہی لوازمات والے طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی ادار ے جن کے ذریعے وہ اپنی نسلوںکی تعلیم و تربیت کرتے حکمران پیدا کر تے نظام حکومت چلاتے اور دین محمدیﷺ کے خلاف اسکے نظریات ، اسکی تعلیمات ،اسکی تہذیب و تمدن کو ختم کرتے چلے آرہے ہیں،انکو فوری طور پر بند کر دو ۔ ایک تعلیمی نظام،ایک تعلیمی نصاب دین کی روشنی میںنافذالعمل کر دو، مستورات ماں باپ بہن بیٹی،بیوی کا ادب اور تقدس کا راستہ اختیار کرو،ایک لاکھ چوبیس ہزا ر پیغمبران کی ازدواجی زندگی کے معاشرتی رشتوں کی عمارت کو تحفظ فراہم کردو، مخلوط
تعلیم اور روزگار کے روپ میں مخلوط معاشرہ جو فحاشی بے حیائی بد کاری زناری کا موجب بنتا ہے اسکو فوری طور پر بند کر نا دین کی روشنی میں انکو بہترین تعلیم سے آراستہ کرنا، چاد ر اور چار دیواری کا طیب عمل جاری رکھنا انکو جاب مہیا کرنا، پرائمر ی تک بچے بچیوں کی تعلیم کا فریضہ اور پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی تک لڑکیوں کی تعلیم کا فریضہ انکے سپرد کر نا،بچے بچیوں اور باون فیصد مستو را ت کے علاج معالجہ کی ہسپتالوں کی ذمہ داری انکو سونپنا،انکی جسمانی صلاحیتت کے مطابق ان سے کام لینا، انکی چادر چار دیوار ی ، انکی عزت و عصمت کے تحفظکا فریضہ ادا کرنا اور انکے حقوق کو بجا لانا انکو طیب و پاکیز ہ ماحو ل مہیا کرنا، انکی عزت و ناموس کا تحفظ کرنا ایک دینی فریضہ ہے۔ اسکے متضاد ماںبہن بیٹی کو مخلوط معاشرے کا ایندھن بنانا،معاشی درندوں کو بطور ملاز مہ پیش کرنا،انکو علیحدگی اور انکی طویل میں دینا، ایک داشتہ مہیا کرنے کے مترادف ہے جو خانگی اور ازدواجی زندگی کے پاکیزہ نظام کو ختم کر کے فحاشی ،بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کی منزل کے راستے پر گامزن ہونے کے مترادف ہے۔پاکستان میں اس مخلوط معاشرے کے ذریعہ یہ مغرب پرست حکمران نان کر سچن جمہوریت کے زیرِ سایہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تہذیب کو کچلنے پر تلے ہوئے ہیں۔یہ سیاسی پنڈال اور حکمران مسلم امہ کے پندرہ کروڑ مرد و زن سے دین ودنیا چھیننے آرہے ہیںانکو روکنا،انکی رائج ا لوقت نان کرسچن جمہوریت کو ختم کرنا ملت کے طیب فطرت صاحب بصیرت دینی رہنماؤں اور شمع رسالت ﷺ کے پروانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اینٹی کرسچین جمہوریت کی شر سے محفوظ اور دین کی فلاح سے بنی نوع انسان کا دامن خیر سے بھر دیں ۔ امین۔