To Download or Open PDF Click the link Below

 

  جمہوریت کے عدل و انصاف کے ادارے اعتدال و مساوا ت کوکچل دیں ۔ اور اقوام عالم کی یو این او کی عدالت بھی دنیا میںعدل کچلتی جائے ۔معاشرہ کو پاکیزہ ماحول اور عمدہ صفات ہی مہیا نہ کی جائیں تو دنیا میں امن قائم کیسے ہو سکتا ہے۔
عنایت اللہ
نمبر۱۔کیا دنیا میں بسنے والے انسان ایک ہی آدم کی اولاد نہیں ہیں۔ کیا وہ ایک ہی خدا کی مخلوق اور اسکے کنبہ کے افراد نہیںہیں۔ کیا انسان مختلف اقوا م، مختلف عقیدوں ، مختلف مذاہب اور مختلف نظریات سے منسلک نہیں ہیں۔کیا ظالم اور مظلوم، کالے اور گور ے برہمن اور شودر،امیر اور غریب،مالک اور نوکر حاکم اور محکوم انسانوںکے پیدا کردہ روپ نہیں ہیں، کیا ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک میں بسنے والے انسانوںمیں بطور انسان کوئی فرق ہے، کیادنیا کے کسی ملک کی عدالتیں اعتدال و مساوا ت کو کچل دیں، عدل و انصاف کو روند دیں ، انسانی حقوق کو پامال کر دیں،تو کیا ایسے ممالک میں امن و سکون بحال رہ سکتا ہے اور حکمرانوں کی حکومتیں قائم رہ سکتا ہے۔
نمبر۲۔کیا اسی طرح اقوام عالم ان میں ترقی یافتہ مما لک ،ترقی پذیر مما لک اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی سب سے بڑی عظیم عدالت یو این او، کا منشور دنیا میں اعتدال و مساوات کوبروئے کار لانے یا کچلنے کیلئے ہے۔
الف۔ کیا یہ بین الا قو ا می عدالت ،چند آمروں کی یا چندترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوںکی بالا دستی کو قائم کرنے اور دنیا میں امن و سکون کرش کرنے اورعدل و انصا ف کومسخ کر نے ، کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کا معاشی اور معاشرتی قتال کرنے اور دنیا پر ظلم و جبر کے ذریعہ اپنی غنڈہ گردی ٹھونسنے یاا پنی برتری اور حاکمیت قائم کرنے کیلئے معرض وجود میں لائی گئی ہے ۔
ب۔کیا دنیا میں اس عدالت نے عدل و انصاف کو قائم کیا ہے یا اسکا گلہ سختی سے گھونٹ رکھاہے۔ کیا یہ عدالت غیر ترقی یافتہ ممالک پر جنگیں مسلط کرنے اور انکے وسائل پر قبضہ کرنے کے اجازت نامے انکو جاری کرتی چلی نہیں آرہی۔
پ۔کیا ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے والوں،ان شہروں کو بھسم اور خاکستر کر نے والوں اور ان میں بسنے والے معصوم اور بیگناہ لاکھوں انسانو ں کی جانوں اور ہر قسم کی مخلوق خدا کو نیست و نابود کرنے اور انکی آنیوالی نسلوں کو مختلف مہلک بیماریوں میں مبتلا کرنے والے انسانی قاتلوں کے خلاف اس بین الا قوامی عدالت نے کیا کاروا ئی آج تک عمل میں لائی ہے۔یو این او کی عدالت تو ان ترقی یافتہ غاصب ممالک کی داشتہ بن چکی ہے۔انکی دہشت گردی اور کمزور ممالک کے معصوم اور بے گناہ عوام کے قتال کو جائز قرار دینے اور انکی غنڈہ گردی کو مسلط کرنے کیلئے قائم کی گئی ہے۔
ت۔کیا جرمن قوم اور انکے ملک پر اس قسم کے بموں کے گرانے سے قبل ان کے حکمرانوں نے ہار مان نہیں لی تھی۔کیا انہوں نے اس مفتوحہ ملک کے آٹھ سا ل کے بچے سے لیکر اسی سال کے مردوں تک کا قتال کر کے انکی نسل کشی نہیں کی تھی۔ ان بیگناہ انسانی نسلوں کے قاتلوں کے خلا ف یو این او کی عدالت نے کوئی کاروا ئی عمل میں لائی ہے
ث۔کیا جرمن قوم کو فتح کرنے کے بعد انہوں نے انکی مستورات اور معصوم بچیوں کی بے حرمتی، انکی چھاتیوں کو کاٹنے اور پیشاب گاہوں کو چیرنے کے عمل، انکی عصمتو ں کو سنگینوں کی نوک پر لو ٹنے کے انسانیت سوز جرائم اور انکے لواحقین کا انکی آنکھوں کے سامنے قتال کا عمل جو تاریخ کے اوراق میںدرج ہیں،کیا ان ممالک اور حکمرانو ں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
ج۔کیا کوسوا،بوسنیا کے مسلمانوں پر حملے،انکے قتال،انکے بچوں کے قتال ، انکی مستورات کی بے حرمتی،انکی دوشیزاؤںکی عصمتوں کو لوٹنے اور انکی نسل کشی کرنے کے جرائم کن کی ایما پر ہوئے اور انکو مہلک اسلحہ کن ملکوں اور حکومتوں نے سپلائی کیا اور انکے خلاف کیا کاروائی عمل میں لائی گئی۔
چ۔ کیا امریکہ اور اسکے ترقی یافتہ ممالک نے افغانستان جیسے کمزور اور غیر ترقی یا فتہ ملک پر۱ ۱!۹ کے امریکی ٹاوروں کو تباہ کرنے کے واقعہ کی ذمہ داری اسامہ بن لادن اور افغانی حکمرانوں اور انکی بے گناہ عوام الناس کے سر تھونپ دی ۔اس میں کس حد تک صداقت تھی۔ انسانیت سوز منصوبہ کو کس نے ترتیب دیا تھا۔یو این او کی عدالت نے اس پر کیا کاروائی عمل میں لائی۔
ح۔اس یو این او کی عدالت کے ممبران نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات اسا مہ بن لادن اور افغانی حکمرانوں اور عوام کے خلاف عائد کئے۔انکو خود ہی مورد الزا م ٹھہر ایا۔ان جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی روشنی میں انہوں نے اسی یو این او کی عدالت میں افغانستان کے خلاف کیس پیش کیا۔کیس کی سماعت کی۔جسکی لاٹھی اس کی بھینس کا قصہ دہرایا گیا۔اس عدالت کی آفادیت صرف ان غاصبوں کو میسر ہے۔
خ۔ اس جھوٹی ، غاصب یو این او کی عدالت جو تمام مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کے با اثر ممبران پر مشتمل اس عدالت کی جیوری کے فرائض ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ انہوں نے یہ جھوٹا کیس از خود ہی دائر کیا۔ خود ہی اس کیس کے گواہ بنے، خود ہی منصف ٹھہر ے، خود ہی اپنا فیصلہ افغانستا ن کے عوام کے خلاف سنایا ۔ اس کمزور اور بے بس ملک اور اسکی بے گناہ عوام کو ایک خاص مشن کے تحت صفحہ ہستی سے مٹانے۔انکے ملک پر قبضہ کرنے کیلئے، اکٹھے ہو کر جدید جہازوں ،ڈیز ی کٹر بموں، جدیدنائٹروجن بموں، جدید گیس بمو ں ، جدید میزائلوں اور ہر قسم کے جدید اسلحہ سے لیس ہو کرتمام ممالک کی افواج نے ملکر افغانستا ن پر حملہ کر دیا۔کیا یہ ممالک افغانستان میں دہشت گردی کے مجرم نہیں ہیں۔
د۔ اسکے شہروں،اسکے قصبوں، اسکے دیہاتوں، اسکی بستیوں،اسکی عبادت گاہوں، اسکے تعلیمی اداروں ، اسکے ہسپتالوں،اسکے خوراک کے ذخائروں ،اس کے قریہ قریہ،بستی بستی،نگر نگر میں بسنے والی معصوم اور بیگناہ مخلوق خدا، اسکے بچوں، نوجوانوں، بوڑھوں ، بچیوں ،مستورات کے اعضا فضا میں بکھیرتے رہے،انکا بڑی بے رحمی سے قتال کرتے اور انکی لاشوں کو مسخ کرتے رہے ۔ان کے عوام کو قیدی بنا کر پنجروں میں بند کر کے انسانیت کی تضحیک اور طرح طرح کی اذیتوں دے کر انکا قتال کرتے،انکے اعضااذیتیں دے کر کاٹتے رہے،اسکے علاوہ انکی خورا ک ، انکے جانوروںاور انکی فصلو ں کو تباہ کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ آج بھی انہوں نے اس ظلم کو جوں کا توں جاری کرر کھا ہے۔یہ کتنا بڑا المیہ ہے ۔ کہ انہوں نے کمزور ملک افغانستان اور اسکی معصوم ،بے گناہ عوام پر ملکی دہشت گردی کرنے والے اوران پر حملہ کرکے انکی لاکھوں جانوں کے قتال کرنے کے مجرم،انکے اعضاؤں کو فضا ؤں میں بکھیرنے والے بے رحم انسانی روپ میں خون خوار درندے الٹا ان بے بس مظلوموں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت جو ان مغربی ممالک کے حملہ آور دہشت گردوں نے فاتحین بن کر مسلط کی۔جدید اسلحہ کے استعمال کے باوجود افغانیوں نے افغانستان کو ان مغربی ممالک کی افواج کا قبرستان بنا دیا ہے اور انکے ممالک انکے ماتم کدے بن چکے ہیں۔ مغربی ممالک کے سیاستدانوں کو اس ظلم کا حساب چکانا ہوگا۔ ان مغربی ممالک کا ہر فرد ان خود کش حملہ آوروں کی رینج میں ہے۔ یو این او کے سیکٹری جنرل کوفی عنان صاحب کو اس بات کی سمجھ کیوں نہیں آرہی تھی کہ دہشت گرد کون ہیں!۔فطرتی طور پر تمام مظلوم ممالک کے عوام ان سے انتقام لینے کیلئے کوشاں ہیں اور رہیں گے۔ ہزاروں ایٹمی پلانٹ انکی زد میں ہیں۔محبت فاتح عالم ہو سکتی ہے ایٹم بم یا انکا جدید اسلحہ فاتح عالم ہر گز نہیں ہوسکتا۔ مغربی ممالک کی عوام اپنے غاصب سیاستدانوں کی وجہ سے مغرب کی حدود میں سمٹنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ تھوڑا سا وقت گذرنے دو انکے جان و مال کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک کے عوام کو ایسے بد نصیب سیاسی رہنماؤں سے نجات حاصل کرنا ہوگا۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امتی یا کوئی مہذب اقوام ایسا کیا کرتی ہیں ،ہر گزنہیں !۔ یہ تو انکے نظریات اور تعلیمات کو کچلنے کے مجرم ہیں،انکی رسوائی اور شہرت کو نیست ونابود کرنے کے مجرم بھی۔یہ وقت کے دجال ہیں۔
ڈ۔کیا انہوں نے اسی طرح عراق کے حکمرانوں پر بے بنیاد ، جھوٹے الزامات لگا کر کہ وہ ملک میں ایٹم بم ، نائٹرو جن بم تیار کر رہے ہیں ۔ان کے الزامات کی روشنی میںاسی یو این او کی عدالت نے اپنے عملہ کو ان الزامات کی تحقیق کے لئے بھیجا۔ انکی رپور ٹ نے و اضح کر دیا کہ عراق کے پاس ایسا کوئی مواد موجود نہیں اور نہ ہی اور کوئی ایسا ثبوت موجود ہے کہ جس سے پتہ چل سکے کہ وہ اس قسم کا اسلحہ تیار کر رہے ہیں ۔ اسکے باوجود اسی عدالت کے جیوری کے ممبران اور امریکی صدر مسٹر بش،برطانیہ کے مسٹر ٹونی بلئیر اور تمام مغربی ترقی یافتہ ممالک کو جب یہ پتہ چل گیا کہ عراق کے پاس کوئی مہلک اسلحہ نہیں، انہوں نے مل کر عراق پرجدید اسلحہ نائٹروجن اورڈیزی کٹر بموں،گیس اور جرا ثیمی بموں ،جدید تباہ کن میزائلوں، سے تباہی اور قیامت مچا کر رکھ دی ۔ انکے شہروں، پہاڑوں،میدانوں، بستیوں پر بم گرائے اور پبلک پلیسوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔نسلِ انسانی کو کچل اور مسخ کر رکھ دیا اور ابھی یہ عمل جاری ہے۔یہ بین الاقوامی بز دل دہشت گرد اپنی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعہ عراق کی عوام کو دہشت گرد قرار دیتے چلے جا رہے ہیں۔انکی آپنی بیگناہ افواج جنکو انہوں نے عراق کی جنگ میں دھکیل رکھا ہے ان کا بھی قتال جاری ہے۔ یہ کب تک اپنی افواج کی قبریں عراق میں کھدواتے رہیں گے او ر انکے ممالک ماتم کدہ بنے رہیں گے۔ ان تمام ممالک کے سر براہ عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے ہیں۔انکو سوچنا ہوگا کہ کیا یہ تمام اعمال انکے نظریات اور کردار کا حصہ ہیں یا نمرود اور فرعون کے کلچر کا۔انکی عوام اور مذہبی رہنما ان ظالم حکمرانو ں سے کیوں پوچھتے نہیں! کہ انہوں نے انکو ووٹ بیگناہ مخلوق خدا کے قتال کیلئے یا عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو کچلنے اور انکے نظریات کو مسخ کرنے کیلئے دئیے تھے۔کیا مسٹر بش،مسٹر ٹونی بلےئر، کوفی عنان صاحبان افغانستان اور عراق کی معصوم ،بیگناہ،بے بس،ہر قسم کے اسلحہ سے محروم عوام کے قتال کا کوئی جواز پیش کر سکتے ہیں۔ڈرو اس وقت سے جب کوئی جاپانی، جرمنی، کورین،افغانی ، عراقی یا کوئی اور مظلوم تمہارے ایٹمی پلانٹوں سے شعلے نکالنے کا عمل کرنے میں کہیں کامیا ب نہ ہو جائے۔اپنی جانوں کی حفاظت کیلئے اتنے انتظامات ، اپنی افواج کو خود کش حملہ آوروں کا دیار غیر میںلقمہ اجل بنانا یہ کہاں کا انصاف ہے! تمام مقتولین کے وار ثان کا ایک ہی سوال ہے کہ ظالمو اسکا جواب دو۔کہ ہمارے بھائی،ہمارے بیٹے ،ہمارے باپ،ہمارے سر کے تاج کہاںہیں۔کیا تیل پر قبضہ کرتے کرتے تم اپنا تیل تو نکال نہیں چکے۔ مغربی ممالک اور خاص کرامریکہ کے حکمرانوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی کہ روس اور اسکی بارہ آزاد ریاستیںاور چین ان جیسے دشمنوں کو اپنی سرحدوں تک پہنچنے دیں گے۔تمہاری عقل مات کھا چکی ہے۔تمہاری افواج یہاںسے ہر گز بچ کر جا نہیں سکتیں۔امن و سکون کی دولت فطرت نے تم سے چھین لی ہے۔
ذ۔کیا اسرائیل کا وجود عربوں کی سر زمین پر انہی مغربی ترقی یافتہ ممالک نے اسلحہ کی نوک پرقائم نہیں کیا۔کیا یہودیوں نے فلسطینیوں کو بے وطن اور انکا بے پناہ قتال انکی ایما پر جاری نہیں کر رکھا۔اسرائیل ایٹم بم اور جدید ترین اسلحہ تیار کرتا رہے تو کوئی بات نہیںِلیکن اگر کوئی اور ملک یا ایران یورینیم افسودہ کرے تو اسکو تباہ کر دینے کی دھکمیاں اور انکو زندہ رہنے کیلئے انکی ضروریات حیات بند کرنے کی وارننگیں اور احکام جاری کرنے کا عمل شروع ۔یہ یو این او کی عدالت در اصل دہشت گردوں کو ملکی دہشت گردی کے اجازت نامے جاری کرتی ہے اور جو ممالک اور اقوام اپنی مال و جان اور ملک کا دفاع کریں انکو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
۳۔کیا مغربی جمہوریت کے ایسے باطل نظام سے دنیا میں امن و سکون قائم رہ سکتا ہے۔ کیا ویٹو پاور کے مالک یا ترقی یافتہ ایسے ممالک دنیا میں عدل قائم کرتے ہیں یا کچلتے ہیں۔ کیا تمام پیغمبران کی امتیںِ انکے نظریات، انکے ضابطہ حیات، انکے طرز حیا ت ،انکی تعلیمات اور ضابطہ حیات کو ترک کر دیں تو وہ انکی امتیں کہلا سکتی ہیں۔ کیا تمام پیغمبران کی امتوں کے حکمران جب اپنے اپنے ممالک میں مغربی جمہوریت کے ضابطہ حیات اور اسکی تعلیمات کی سرکاری بالا دستی مسلط کر دیں۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر ان ملتوں کے فرزندان انکے نظام کی پیروی کرنے کے پابند بنا دئیے جائیں تو ان امتوں کا پیغمبران کے سا تھ کیا تعلق باقی رہ جاتا ہے۔ کیا مغربی جمہوریت کی بالا دستی ان تمام پیغمبران کی امتوں کے ضابطہ حیات اور تعلیما ت کو نگلتی نہیں جارہی۔کیا اس طریقہ کار سے تمام پیغمبران کی امتیں اپنے اپنے پیغمبران کی نافرمانی ،بے ادبی اور منافقت میں مبتلا نہیں ہوتی جارہی ہیں۔ کیا اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکے پیروکار تما م پیغمبران کے تیار کردہ کلچر اور تہذیب و تمدن کے جسد پر ایک کینسر بن نہیں چکے۔
نمبر۴۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے حکومتی پلیٹ فارم پردنیا کے تمام ممالک کے ظا لمو ں، غا صبوں آمروں کا ایک ایسا معاشی ٹولہ رسائی حاصل کرتا جا رہاہے جو پہلے ملکوں میں انفرادی طور پر ملکی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کرتا ہے۔ اورملکی دولت کو ہر جائز و ناجائز طریقہ سے اکٹھی کر لیتا ہے۔یہ چند افراد پر مشتمل معاشی ظا لم اور غا صب ٹولہ کے افراد اکٹھے ہو کر ملک کے تما م اسباب اور ہر قسم کی تجارت ، تمام ملوں ، فیکٹریو ں،کارخانوں کو قبضے میں لیکر معاشیات اور وسائل کی برتری حاصل کرتا ہے۔جس سے ملک میں مالک اور نوکر ، آقا اور غلام، برہمن اور شودر ، حاکم اور محکوم کے طبقات تیار کر لیتا ہے۔ یہ مادہ پرست اور اقتدار پرست ٹولہ اسی دولت اور وسائل کو ذریعہ حکومت بناتا ہے۔ جمہوریت کی سیڑھی چڑھ کر ملک کے اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے۔ حکومتی پنڈال سنبھالنے کے بعد یہ سیاسی دانشور اسمبلیوں کے ذریعہ قانون سازی کر کے پیغمبران کے ضابطہ حیات اور تعلیمات کی جگہ مغربی جمہوریت کے تیار کردہ ضابطہ حیات اور اسکی تعلیمات کو نافذ العمل اور قوانین کو مسلط کر دیتے ہیں ۔ یہ کتنا بڑا سانحہ اور کتنی بڑی ٹیریجڈی ہے کہ ملتوں کے نام پیغمبران سے منسوب رہتے ہیں اورتمام امتوں کے فرزندان سرکاری اطاعت دین کے ضابطہ حیات کے خلاف ان اسمبلیوں کے سیاسی پیغمبران کے تیار کردہ ذاتی منفعت اور مادہ پرستی پر مشتمل قوانین اور ضوابط کی کرتے ہیں۔ جو اعتدا ل و مساوات اور عدل و انصاف کو کچلتے ہیں۔جسکی وجہ سے دنیا کا امن و سکو ن جمہوریت کے جنگ و جدل کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔
نمبر۵۔ کیا پیغمبران خدا نے بنی نوع انسان کوخالق کی مخلوق کا تصور اور مخلوق خدا کو کنبہ خدا کا درس نہیں دیا۔جس سے پوری دنیا کی مخلوق ایک دھرتی، ایک بستی اور ایک گھر کی وسنیک،ایک خاندا ن کے افراد بن جاتی ہے۔
کیا پیغمبران خدا نے بنی نوع انسان کو انسانی نسل کی آفرینش کیلئے ایک پاکیزہ اور طیب ازدواجی زندگی کے نظام سے آگاہی نہیں بخشی۔
کیا پیغمبران خدا نے بنی نوع انسان کوانسانی رشتوں میاں بیوی،ماں باپ،بیٹی بیٹا،بہن بھائی،دادی دادا،نانی نانا سے آگاہی نہیںبخشی۔
کیا پیغمبران خدا نے بنی نوع انسان کے رشتوں کا تقدس،انکے دلوں میں آسمانی الہامی روحانی پاکیزہ اور طیب آسمانی تحفہ ء محبت ، عطا نہیں کیا ، اسی طرح ہر رشتہ کے الگ الگ فطرتی نسبت سے ادب و احترام اور خدمت کے الگ الگ مقدس جذبے ودیعت نہیں کےئے۔
کیا پیغمبران خدا نے بنی نوع انسان کو اس جہان فانی کی حقیقت سے آشنا نہیں فر ما یااور خاندان کے روپ میںمحبت کا ازلی اور ابدی نظام کی آگاہی نہیں بخشی ۔
نمبر۶۔کیا۔اس جہاں رنگ و بو میں محبت کے جذبے ،گھر کی چار دیواری میں انفراد ی طور پر نشو نما اور پرورش پاتے، پروان چڑھتے اور بین الاقوامی سطح پر کنبہ خدا میں شامل ہو کر عمل کی زندگی سے محبت کی پاکیزہ خوشبو بن کر انسانو ں کے دلوں میں اترتے جاتے نہیں ہیں ۔جس سے بنی نوع انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کتنا جامع محبت کا رشتہ معرض وجود میں آجاتا ہے۔
نمبر۷۔کیا پیغمبران خدا نے بنی نوع انسان کوالہا می ضابطہ حیا ت ،الہامی تعلیمات سے نہیں نوازا جس سے انسان انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی تک اورگھر سے لیکر بین الاقوامی سطح تک اخوت و محبت،عزت و احترام اورخد مت خلق کی عباد ت اور انسانی رشتہ کے تعلق سے آشنائی اور اسکی آفا د یت سے آگاہی حاصل نہیں کرتا۔
الف۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے ممتاز اور ترقی یافتہ ممالک امریکہ ، برطانیہ،انکے علاوہ تمام ترقی یافتہ مغربی ممالک اور پاکستان جیسے ترقی پذیر اسلامی ممالک کے عوام کے رو برو حالا ت بالا کو پیش کر دیا ہے تاکہ وہ ان پر غور کریں۔ انکو پیغمبران کے نظریات اور مغربی جمہو ر یت کے نظریات کی بالا دستی کے مضمرات سے آگاہی ہو سکے، مذہبی ازدوا جی زندگی کے نظام کو مغربی جمہوریت کا مخلوط معاشرہ کا نظام دنیائے عالم میں پیغمبران کے نظام حیات کو کیسے نگلتا جا رہا ہے۔ اور خاندان کے آسمانی رشتوں کا تقدس کیسے ختم کیا جا رہا ہے۔ مذہبی خاندانی نظام حیات اور جذبہ ء محبت کومخلوط معاشرہ ، جنسی آزادی اور بے حیائی کے نظام حیات سے کیسے روندتا جا رہاہے، دنیا میں مذہبی ضابطہ حیات کی ازدواجی زندگی ، خاندانی زندگی، ماں کی روحانی اور الہامی آغوش،جذبہ ء باہمی کا فطرتی نظام ، میاں بیوی اور خاندا ن کے قافلہ کو جمہوریت کا آزادی ء نسواں کا قافلہ،معاشی ترقی اور مخلوط معا شر ہ کے ضابطہ حیات کا تیار کیا ہوا کاروانِپیغمبراں،ان کی تعلیمات اور ضابطہ حیات کا کیا حشر کر رہا ہے کسی سے چھپا نہیں، پیغمبران کی امتوں کے پاس انکا مذہبی ازدواجی زندگی کا نظام موجود ہے۔لیکن حکمران مذہب کے اس نظام حیات کو کچلنا چاہتے ہیں۔ وہ تو پیغمبران کی تعلیمات اور ضابطہ حیات کو صفحہ ء ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ وہ تو اسمبلیوں کے ممبران کا منشور یعنی اینٹی کرسچن جمہوریت کو دنیاپر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ مغربی جمہوریت کا دجالی نظام، تمام پیغمبران کی امتوں کے نظریات کو ایک غلط حرف کی طرح مٹاتا جا رہا ہے۔اقوام عالم اور پیغمبران کی امتوں پر بڑی کٹھن گھڑی ہے ۔ یہ آئینہ، یہ صدا،یہ ندا،یہ آواز،یہ ناد،یہ چراغ ،سبھی انقلاب وقت کی بات ہیں۔ اقوام عالم، بنی نوع انسان، پیغمبران کی امتوں، اور خاص کر مسلم امہ کے پاسبانوں کیلئے رحیل صحرا بن کر سنائی دے رہی ہے۔ جمہوریت کے شاہی ایوانوں اور عشرت کدوں میں انہوں نے ہلچل مچا کر رکھ دی ہے۔ پیام پیغمبر ا ں ، ساز سرود، بے نوا کی طرح انکے ایوانوںمیں گونج رہی ہیںاورسراپا سوال بنی کھڑی ہیں۔
ب۔جمہوریت کی سرکاری بالا دستی نے دنیا میں اخوت و محبت اور بھائی چارہ کے مذہبی ضابطہ حیات کی تعلیمات اور عمل کو کیسے الگ کر دیا ہے
پ۔جمہوریت نے حضرت عیسیٰ علیہالسلام کی امت سے خدمت خلق کا جذبہ ، عمل اور کردار کیسے چھین لیا ہے۔
ت۔جمہوریت کے نظریات کی پیروی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت سے رہبانیت اور فقر کا جبہ چھین کر مادیت کی خود غرضی،نفس پرستی کی سلگتی چادر میں کیسے لپیٹ دیا ہے۔وہ انسانیت کے رہنما کیسے حیوان ناطق بن کر رہ گئے ہیں۔اسکے کیا اسباب ہیں۔
ٹ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات آفاقی ہیں۔انکے معجزات تو مردہ انسانوں کو زندہ کرنے،کوڑھوں کو تندرست کرنے، بیماروں کو شفا عطا کرنے ، زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے، دکھیاروں کے دکھ دور کرنے، بھوکوں کو خوراک ، ننگوںکو لباس مہیا کرنے، بچوں سے شفقت،بڑوں کا ادب، مستورات کی عزت و تحریم کرنے کے سلیقے، انکا دنیا کی بے ثباتی کا درس،انکی سچائی کی قندیلیں روشن کرنے کے ا عمال، انکا ادب جہاں کا منشور،انکے دلوں کو مسخر کرنے کے آداب،ان کا محسن انسانیت کا رول،انکا جنگ و جدل سے مکمل اجتناب کرنے کی تعلیم، انکا ترک دنیا کا عمل اور فقر کی چادر کا دلکش حسن ،انکی اختصار ی زندگی کی داستاں، حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کے آفاقی درس سے متعارف کرواتی ر ہیں ۔ مخلوق خدا پر رحم و شفقت،انکی اعلیٰ صفات، انکی فطرتی خوبیاں، انکی صداقتوں کا نور دنیا میں اس طرح برنگ بہار بن کرچھا گیا ۔جنکی مثال دنیا میں نہ تھی۔ انکے حسن عمل اور حسن اخلاق اور خدمت خلق کے کردار نے بنی نوع انسان کی روحوںکو تسخیر کر لیا۔جنکی وجہ سے آج دو ارب سے بھی زائد ابن مریم پاک کے نام لیوا دنیا میں موجود ہیں۔ انکی آبرو ملت کس نے لوٹی،ابن مریم کی شان کو روندنے والے کون ہیں۔انکی تعلیمات کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے ظلمات میں گم کرنے والے کون ہیں۔انکے گداز دلوں کوپتھر بنانے والے کون ہیں۔ دنیا کے امن کو تباہ کرنے والے کون ہیں۔دنیا میں اسلحہ سازی سے تباہی مچانے والے کون ہیں۔ایٹم بم،نائٹروجن بم،گیس بم،جراثیمی بم،ایٹمی میزائل، ایٹمی پلانٹوں کو بنانے اور پھیلانے والے کون ہیں، جنگی جہاز،ڈیزی کٹر بم اور دنیا میں ہر قسم کے مہلک ہتھیار تیار کرنے والے کون ہیں۔ ان ہتھیاروں سے بنی نوع انسان کی تباہی مچانے والے کون ہیں۔ان ہتھیاروں کو فروخت کرنے والے کون ہیں۔ ان ہتھیاروں کی خرید و فرخت سے دنیا کے تمام ممالک کی دولت لوٹنے والے کون ہیں۔دنیا میں جنگیں کروانے والے کون ہیں۔دنیا کے امن کو تباہ کرنے والے دجال کون ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات انکے ضابطہ حیات۔،انکے مذہب کی تمام الہامی اقدار کو روندنے والے کون ہیں۔ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے والے کون ہیں۔ کمزور،غیر ترقی یافتہ ممالک پر حملے اور انکے عوام کے جسدوں کو مسخ کرنے والے کون ہیں۔،ان بموں اور مہلک اسلحہ سازی سے محروم ملکوں اور ان میں بسنے والے عوام پر جنگیں مسلط کرنے والے اور ا نکا حشر نشر اور انکے ممالک میں قیامت بپا کرنے والے کون ہیں۔ انکی دولت ، وسائل اور ضروریات حیات اسلحہ کی برتری سے چھین کرخوشحالی کا راستہ اختیار کرنے والے کون ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ اور مغربی ممالک کے ترقہ یافتہ عوام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے ہیں۔ ان نام نہاد عیسائیوں نے دنیا کے تمام انسانوں کی بھلائی ، بہبود اور آفادیت کے نظام کو روند کر رکھ دیا ہے۔ ساری خدائی اور سارے جہانوں کیلئے وہ رحمت کی بجائے عذاب بن کر ابھر چکے ہیں ۔ ا ن چند معاشی اور معاشرتی اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصبوں نے عیسائیوں کی الہامی تعلیمات ،انکے نظام حیات اور طرزحیات کی سرکاری بالا دستی کو ترک کر کے فطرت کے عظیم الہامی روحانی عطیہ کو روند کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے نمرود، فرعون کے ضابطوں پر مشتمل اینٹی کرسچن جمہوریت کی عیار، مکار مذاہب کش ،اعتدال و مساوات کو کچلنے والی ،انسانی حقوق غصب کرنے والی،عدل و انصاف کو روندنے والی آمرانہ طرز حیا ت اور ضابطہ حیات کو تمام انبیا کی امتوںاور خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت پر مسلط کر کے انکے مذ ہب کی انمول دولت کو ان سے چھین کر نیست نابود کر کے رکھ دیا ہے۔انہوں نے جمہوریت کا کلچر تمام پیغمبران کی امتوں اور اقوام عالم پر مسلط کر کے انکو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ وہ ایک دجال کی طرح تمام امتوں کے مذہبی کلچر کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی حکومتی بالا دستی سے نگلتے جا رہے ہیں۔ ان حالات سے نجات پانا اور پیغمبران کی طرف رجوع کروانا اس وقت کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔دنیا میں امن و سلامتی کو بحال کرنے کیلئے انقلاب وقت کا سنہری عمل ناگزیر ہو چکا ہے۔
نمبر۹ کیا پیغمبران خدا نے بنی نوع انسان کو انسانی فلاح کے وہ تمام راستے جو انسان کو بھلائی اور خیر کی منزل کا مسافر بنا دیتے ہیں اور انسان کو باعث رحمت بناتے ہیں ان سے آگاہی عطا نہیں کی۔
نمبر۱۰۔کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تیار کی ہوئی تہذیبی عمارت کو انکی امتوں نے انکی تعلیمات کی روشنی سے نہیںسینچا۔
نمبر۱۱۔ پاکستان ہو یا امریکہ یا کوئی اور دنیا کا ملک اس وقت یہ آمر، غاصب اور بے رحم حکمران طبقہ انفرادی،ملکی اور بین اقوامی سطح پر اینٹی کرسچن جمہوریت کی تلوار سے دنیا کی تمام معاشی، معاشرتی اور اقتدار کی جنگ جیت کر دنیا ء عالم کے ممالک پر قابض ہو چکا ہے۔یہ دنیا میں یہودی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ان کو یہودی کہنا ایک گناہ عظیم ہے۔یہ تو دنیا کی ایک عظیم پیغمبر کی عظیم امت کا نام ہے۔
نمبر۱۲۔ بد قسمتی سے یہ فرعونی نسل کے عدل کش ذہنیت اور غاصب فطرت کے لوگ فرعون کے پیروکار ایک منافق کی حثیت سے تمام مذاہب میں داخل ہوتے چلے آرہے ہیں۔ یہ قلیل سا طبقہ ملکوں کے وسائل اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد پیغمبران اور انکے نظریات ، انکی تعلیمات اور انکی امتوں کے اخلاقیات اور کردار کو کچلتے چلے آرہے ہیں ۔
نمبر۱۳۔ یہ دنیا کے تمام ممالک کا قلیل سا غاصب طبقہ تمام پیغمبران کی امتو ں کو، پیغمبرا ن کے نظریات ، تعلیمات ، صفات اور ا ن کی صداقتو ں کو، پیغمبران کے ازدواجی نظام کو،خاندا ن کے ضوابط کو، انسانی رشتوں کے تقدس کے نظام کو، میاں بیوی، ماں باپ، بیٹی بیٹا، بہن بھائی کے آسمانی محبت و اخوت کے رشتوں اور جذبوں کو، مستورات کے احترام و تقدس کو، پیغمبران کی طیب طرز حیات کے نظام کوایک لاکھ چو بیس ہزار پیغمبران کی تیار کی ہوئی خاندانی تہذیبی عمارت کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصبوں کے تہذیبی کلچر ، آزادی ء نسواں کے نام پر مخلوط معاشرہ،جنسی آزادی،روشن خیالی ،بے حیائی، بدکاری، فحاشی ،زنا کاری نے ریز ہ ریزہ اور نیست و نابود کر دیا ہے۔
نمبر۱۴۔ تمام پیغمبران کی امتوں کو اور خاص کر مسلم امہ کے فر زندان کو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظریات کی عمارت کو، انکی تعلیمات کو،انکے خلق عظیم کو ،انکے اعتدال و عدل کو،انکے انصاف و مساوات کو، انکے ضابطہ حیات کو،ان کے ازدوجی زندگی کے نظام کو،انکے رشتوں کے تقدس کو، انکے رشتوں کے دلکش اخو ت و محبت کے فطرتی جذبوں کو، انکے حسن کردار کو،انکی عمدہ صفات کو ،انکی اعلیٰ و ارفعٰ صداقتوں کو، انکے امانت و دیانت کے ضوابط کو،انکے عفو و درگذر کے عظیم طریقہ کار کو،انکے احترام آدمیت کے عمدہ اصولوں کو،انکے تمام بنی نوع انسان کو کنبہ خدا سمجھنے کے لاجواب درس کو، انکے سنہری طرز حیات کے ضابطو ں کو ،انکے مخلوق خداکیلئے بے ضرر ہونے کے فطرتی آداب کو،انکے مخلوق خدا کیلئے منفعت بخش ہونے کے لا جواب عمل کی قندیلوں کواینٹی کرسچن جمہوریت کے اس ظلمت کدہ میں روشن کرنا انکی مقدس عبادت کا ایک پاکیزہ فریضہ ہے۔
نمبر۱۵۔ سائنسدانوں نے فاصلہ کو تسخیر کر کے دنیا کے تمام ممالک ،اقوام عالم ، اور تمام انسانوںکو، ایک گا ؤں، ایک بستی اورایک شہر کا وسنیک اور رہائشی بنا دیا ہے۔ تمام دنیا کے ممالک ایک ملک کی حثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دور میں انسان کو آفاقیت بخشی ہے۔ اس جہان رنگ و بو میں بسنے والی تمام نسل انسانی سمٹ کر ایک محور ایک نقطہ اور ایک مرکز پراکٹھی ہو چکی ہے۔
نمبر۱۶۔ مذہب کے نظریات اور اس کی تعلیمات اور طرز حیات بنی نوع انسان کو فرد سے لیکر افراد تک ایک جیسا فلاح کار استہ دکھاتا ہے۔ مذہب آفاقی صلاحیتوں سے مالا مال ہوتا ہے۔ مذہب انسان کو انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی تک کی خدمت بجا لانے کا تصور اور سلیقہ پیش کرتا ہے۔ مذہب معاشی اور معاشرتی اعتدال و مساوات کے اجتماعی اصولوں سے انسانیت کو نوازتا ہے۔ مذہب ہی انسان کو امانت و دیانت کا سبق سکھاتا ہے۔ مذہب انسان کو خدمت اور ادب کا راستہ دکھاتا ہے۔ مذہب بدنی اور روحانی عبادات کے نور سے آگاہی بخشتا ہے ۔ مذہب نیکی اور بدی،خیر اورشر کی پہچان کرواتا ہے۔ مذہب بنی نوع انسان کو دنیا کی بے ثباتی کے عرفان سے مطلع کرتا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب مخلوق خدا اور پوری انسانیت کو خدمت و ادب اور سلامتی کی تعلیمات سے نوازتے چلے آرہے ہیں۔انکے بنیادی اصول و ضوابط انسان کے انفرادی اور اجتماعی حقوق و فرائض کے راستوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ مذہب انسان کو کنبہ خدا اور اجتماعیت کا شعور عطا کرتا ہے ۔ مذہب اس دنیا کے بازار کی رونق کو،اس فناہ کے دیس کو ،ایک سرائے فانی سے تشبیہ دیتا ہے۔مذہب انسان کو اسکی اصل سے روشناس کرواتا ہے۔مذہب انسان کو قربت خدا وندی کے راستے بتاتا ہے۔پیغمبران کی تعلیمات کی پیروی کرنا اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی ہے۔ جو حکمران اللہ تعا لیٰ کے احکام کی بالادستی قائم کرتا ہے، خود بھی انکے اصولوں کی پیری کرتا ہے، عوام الناس سے بھی انکی اطاعت کروا تا ہے ۔ و ہی حکمران اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت قائم کرتا ہے۔
نمبر۱۷۔ جو ملت اپنے پیغمبر کی ،اس پر نازل ہونے والی کتاب کی عزت و حرمت بحال رکھتی ہے۔اسکے نظریات کی اطاعت کرتی ہے اور اس کی تعلیمات کی ملکی اور حکومتی سطح پر بالادستی قائم کرتی ہے۔ اسکی الہامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے اخلاق و کردار کو سنوارتی ہے ۔ انکے بتائے ہوئے ازدواجی زندگی کے قو ا نین کی اطاعت کرتی ہے۔ جو خاندان کے آسمانی رشتوں کے سسٹم کے احترا م کو بجا لاتی ہے۔ جو انکے امانت و دیانت کے اصولوں پر گامزن رہتی ہے۔ جوانکے صداقتو ں کے چراغ جلاتی ہے۔ جو مخلوق خدا کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش بن جاتی ہے ۔اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیری کرتی ہے۔وہی ملت دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرتی ہے، وہی ملت دنیا میں انکی عزت اور سرفرا ز ی کی وارث اور صاحب نصیب ہوتی ہے۔
نمبر۱۸۔اینٹی کرسچن جمہوریت میںمعاشرے کے ہر طبقہ کے فرعون صفات،دولت اور وسائل کی طاقت سے الیکشن جیت کر جمہوریت کی نچلی سطح سے لیکر اسمبلی ممبران تک تما م اعلیٰ فرعونی طرز حکومت کے ممبران کا چناؤ جمہوریت کے خود کار نظام اورسسٹم کے تحت ہوتا جاتا ہے۔
نمبر۱۹۔ اسمبلیوں کے ذریعہ یہ آ مر اور غاصب ممبران حکومتوں میں شامل ہو کر ملکی دولت اور وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں ۔اسمبلیوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، اپنے تحفظ کیلئے اسمبلیوں میں بیٹھ کراپنے معاشی ، معاشرتی جرائم کو قانون میں بدل لیتے ہیں۔ اعتدال و مساوا ت کا اجتماعی، فلاحی نسخہ، انکی اسمبلیوں سے کوڑے کرکٹ کی طرح باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ عدل و انصاف کے اصولوں کو کرش کر دیا جاتا ہے۔ نفس پرستی اور عیش پرستی اور مخلوق خدا کو تنگ دستی،غربت افلاس،بیروز گاری،بھوک ننگ کی اذیتوں میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔وہ زندہ رہنے کیلئے ضروریات حیات کی کشمکش میں خود سوزیاں،خود کشیاں کرنے پر مجبور،دوسری طرف انکی تعیش اور تصرف کی زندگی ملکی خزانہ اور وسائل کو نگل جاتی ہے۔ ملک کا تمام سرمایہ اور تمام وسائل انکے کارخانوں،انکے سرکاری شاہی محلوں،ذاتی رائے ونڈہاؤسوں، سرے محلوں اور شاہی پیلسوں اور بنکوں میں منتقل اور محفوظ ہوتے جاتے ہیں۔ اب انکی بدنصیبی کے بدنصیب آنسوؤں کو جار ی کرنے والی چنگاری ان ظالموں، معاشی اور معاشرتی قاتلوں کے گھروں اوردلوں میں گھس چکی ہے۔ان آمروں اور غاصبوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔فطرت کی طرف سے انکا احتساب جاری ہو چکا ہے۔ اب انقلاب وقت انکے گرد گھیرا تنگ کئے جا رہا ہے۔
نمبر۲۰۔ دنیا بھر کے ممالک میں بسنے والے بنی نوع انسان اللہ تعالیٰ کی پیاری مخلوق ہے،یہ ایک ہی قبیلہ حضرت آدم کے افراد ہیں۔ انسان ایک قطرہ کی مانند ہیں۔ دنیا بھر کے قطروں کو جمع کر لیا جائے تو وہ انسانی قلزم کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔دنیا میں بسنے والی انسانی نسلیں، مختلف اقوام ،مختلف نظریات،کیمونزم،شوشلزم، ہندو ازم،بدھ ازم کے نظام حیات سے منسلک ہیں۔ اسی طرح مختلف مذاہب اور انکے پیروکار یہودی ،عیسائی اور مسلمانوں کے روپ میں اور مختلف ممالک میں اپنے پیغمبران کی رشد و ہدایت کے مطابق اپنی زندگیاںگذارتے چلے آرہے ہیں۔ ان تمام مختلف نظریات اور مذاہب سے منسلک عوام، انسانوں کے حسین و جمیل اور دلربا ، انمول گلدستے ہیں۔جن کی نشو نمااور تعلیم و تربیت اپنے اپنے نظریات کے تعلیمی نصاب کی روشنی میں مختلف ممالک میں جاری ہے۔
نظریات اور مذاہب سے نفرت انسانوں سے نفرت کا سبب بنتی ہے ۔ یہودی،عیسائی اور مسلمان امتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ انسانو ں سے نفرت قربت خدا وندی سے دورکردیتی ہے۔ ان نظریات اور مذاہب کے اپنے اپنے ضابطہ حیات ،طرز حیات ہیں ، انکے اپنے اپنے قوانین و ضوا بط ،اصول اور طریقہ کار ہیں۔ انکا اپنا اپناتعلیمی نصاب ہے جنکی روشنی میں نظریات ، عقائد اور مذہب کی اخلاقی،روحانی، انسانی اقدار کی قندیلیں تیار ہوتی ہیں، جو اپنی اپنی افادیت سے بنی نوع انسان کو آگاہ کرتی ہیں۔ اس وقت تمام نظریات،عقائد اور مذاہب کے ساتھ منسلک انسان ایک نا گہانی کشمکش حیات کی آفات میں مبتلا ہو چکے ہیں۔دنیا میں مادہ پرست اور اقتدار پرست انسانوں کا ایک قلیل سا گمراہ طبقہ جو سیاستدانوں کے روپ میں نمود پذیر ہے۔جنکا نظریہ ، عقیدہ ،مذہب اینٹی کرسچن جمہوریت ہے،جنکا اقتدار دنیا کے تمام ممالک پر ایک ٹر یجڈی،ایک المیہ،ایک سانحہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
نمبر۲۱۔ مذہب پرست امتیں اپنے اپنے پیغمبران کی الہامی مقدس کتابوں ، انکے نظریات،انکے عقائد،انکے ضابطہ حیات،انکے طرزحیات ، انکے ازدو ا جی زندگی کے ضابطے،انکے اولاد اور ماں باپ کے الہامی مقدس رشتے،انسانی مقدس رشتوں کے اخوت و محبت کے لا متناہی چشمے،انکے حسن اخلاق و کردار کے نمونے، ساری خدائی ہے کنبہ خدا کے آفاقی جذبوں کی تعلیم، انکے اعتدال و مساوات کے ابدی اصول، انکی خدمت خلق کی تعلیمات،انکے انسانوںسے ادب و احترام، اخو ت و محبت کے سنہری آداب ، انکے عدل و انصاف کے ضابطے،انکے حقوق فرائض کے آداب،انکے عفو درگذر کے آداب،حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اسباق، کو اپنے اپنے ممالک میں سرکاری بالا دستی سے محرو م کر دیا ہے اور تمام پیغمبران اور انکی امتوں اور انکی آنیوالی نسلوں کو انکے الہامی نظریا ت ، انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات،انکی تعلیمات ، انکا اعتدال و مساوات کا نظام، انکا چادر اور چار دیواری کا نظام ا نکی درسگاہوںکی قندیلوں کو بجھا کر جمہوریت کے مادہ پرستی کے ظلمات کے نظریات ،اسکے باطل ضابطہ حیات،اسکاغاصب طبقاتی طرز حیات، اسکا مادہ پرستی کا فرعونی نظام،اسکے مخلوط تعلیمی نظام کے اندھیروں کا ایندھن بنا کر ر کھ دیا ہے۔
نمبر۲۲۔نمرود، فرعون، یزید کے کردار کے ایجنٹ پیغمبران کی امتوں میںایک مذہب پرست کی حثیت سے داخل ہوئے۔ دنیا کے تمام ممالک میں پہلے یہ ان طیب امتوں کے فرزندان کے وسائل اور دولت پر ہر جائز و ناجائز طریقہ سے قابض ہوتے ہیں۔ پھر انکے مذہب کے نظریات کے خلاف باطل ضا بطہ حیات، غاصب طرزحیا ت پر مشتمل نئے جمہوریت کے نظریات کو نافذ کرتے ہیں۔ جمہوریت کے اسمبلیوں کے ممبران مذ ہب کے خلاف قا نون سازی کر کے مذہب کے نظریات کو کچلتے چلے آرہے ہیں۔یہ طبقہ دولت،وسائل کے ذریعہ جمہوریت کے نظام اور سسٹم کی روشنی میں الیکشن کا ایک ایسا مہنگاطریقہ کار ترتیب دیتے ہیں۔جسکے اخراجات اور وسائل انکے سوا کوئی اور شخص برداشت نہیں کر سکتا۔اس طرح یہ دنیا کے تمام ممالک پر اور تمام پیغمبران کے نظریات پر،انکی تعلیمات پر انکے اسوۂ حسنہ پر اینٹی کرسچن جمہوریت کی سرکاری بالا دستی قائم کر کے انکو کچلتے چلے آرہے ہیں۔
نمبر۲۳۔پاکستان میں انکی تعداد تقریبا سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ یہ دولت اور وسائل کی طاقت سے الیکشن لڑتے ہیں۔ اور اقتدار پر کبھی ایک فیملی کبھی دوسری فیملی الیکشن میںکامیاب ہو کر ملک پر قابض ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ملک کے تمام طبقوں کے یہ معاشی اور معاشرتی و سائل اور طاقت کے ما لک اور معاشرے کی نچلی سطح سے لیکر اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو جاتے ہیں۔ صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں کے ممبران ملک کی تمام دولت ،وسائل اور اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔اسکے بعد انکو ملک پر ہر قسم کی فوقیت اور برتری حاصل ہو جاتی ہے ۔ بعد ازاں چھوٹے طبقہ کے سیاسی کار کنوں،نچلے درجے کے ممبروں اور کروڑوں عوام الناس کوبے بس،بے سکت اور بے یارو مدد گار اور مفلوج بناکر رکھ دیتے ہیں۔ صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں کے سیاستدان صوبائی اور مرکزی حکومت پر قابض ہوجاتے ہیں ۔وہ خدا اور رسول ﷺ کے خلاف تھانے ،کچہریوںکے قوانین ۱۸۵۷ کے ایکٹ کے تحت مرتب کرتے ہیں۔انتظامیہ اور عدلیہ پر اپنی گرفت مضبوط رکھتے
ہیں ۔ مغرب کا دیا ہوا سودی معاشی نظام اپنی افادیت کے مطابق تیار کرتے ہیں۔ ٹیکس کلچر سے غریب، مسکین ،اپاہج۔ بوڑھے،یتیم،بیوہ اور بیروز گاروں سے انکا معاشی خون چوس لیتے اور پی جاتے ہیں۔ مغربی جمہوریت کے نظام اور سسٹم کو چلانے کیلئے ایسا تعلیمی نصاب نافذ کرتے ہیں ۔جو طبقاتی معاشرہ تیار کرنے کیلئے طبقاتی تعلیم اور طبقاتی تعلیمی ادارے ملک میں ترتیب دیتے ہیں ۔جن سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشور تیار ہوتے ہیں جو جمہوریت کا نظام حکومت چلاتے ہیں ۔
نمبر۲۴۔ انگریز نے یہ اینٹی کرسچن جمہوریت کا یہ غاصب نظامِ حکومت ایک مفتوحہ قوم کو محکوم اور غلام بنانے کیلئے مسلط کیا تھا۔ایسے افراد جو انکے ظلم و تشدد،معاشی اور معاشرتی حق تلفیوں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے یا انکے غاصبانہ قوانین کے متعلق بات کرتے تو انہوں نے ایسے لوگوں کو کرش کرنے کیلئے تھانوں میں جھوٹی ایف آئی آر تیار یا درج کرنے کا نظام بنایا تھا اور اس جھوٹی ایف آئی آر کے مطابق کیسوں کی سماعت اور سخت سزائیں دینے کا عبرتناک سسٹم نافذ کیا تھا۔ اس ملک کے انگریز کے پروردہ سیاستدانوں اور غاصب حکمرانوں نے یہ نظام اور سسٹم جوں کا توں مسلم امہ کے سولہ کروڑ افراد پر مسلط کر رکھا ہے۔جو انکے پیدا کردہ وسا ئل ، دولت اور خزانہ کو اسمبلیوں کے تیار کردہ، انگریزوں سے بد ترین ٹیکس کلچر کے قوانین اور مختلف طریقہ کار سے چھینتے چلے آ رہے ہیں۔انہوں نے ملک کا انتظامیہ اور عدلیہ کا نظام چلانے کیلئے ایسے قوانین مرتب کئے اور اس نظام حکومت کو چلانے کیلئے ایک ایساتعلیمی نصاب مسلط کیا جس سے وہ عدلیہ اور انتظامیہ کے عہدیدار تیارکرتے چلے جا رہے ہیں جنکو اس نظام حکومت کو چلانے کا پابند بنا دیا جاتا ہے۔اسمبلیاں قانون سازی کرتی جاتی ہیںیہ سرکاری اعلیٰ عہدیدار حکمرانوں کے ان قوانین اور احکام کی بجا آوری کیلئے ایک غلام کی طرح پابند ہوتے ہیں اور وہ چوں چراں نہیں کرپاتے۔ ان سیاستدانوں، حکمرانوں کو ظالم، غاصب کہنا ان الفاظ کی تو ہین ہے ۔ اس نظام حکومت کو چلانے والوں کوپو چھو کہ انکو کس نام سے پکاریں!۔ ان کو کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ان طبقاتی تعلیمی اداروں جو برہمن اور شودر،افسر اور بیٹمین،حاکم اور محکوم اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے ایسے طریقہ کارجس سے ایم پی اے،ایم این اے،سینیٹر،وزیر ومشیر،گورنر،وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم اور صدر کے سرکاری عہدوں کے ،اعلیٰ اور ادنیٰ، طبقاتی بنیادوں پرملت کے وسائل اورخزانہ کو شاہانہ اخراجات میں استعمال میں لانے والوں اور ملکی وسائل،مال و دولت ،خزانہ پر شب خون مارنے والے نظام پر لعنت بھیجنا اورانکوختم کرنا وقت کی ضرورت بن چکاہے۔جن کے ذریعہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے یہ سیاسی سکالر اور انکی مشینری کے تیار کردہ انتظامیہ اور عدلیہ کے یہ دانشور تیار ہوتے اور اس نظام کو چلاتے چلے آرہے ہیں۔جنہوں نے سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو ۱۹۴۷ سے تھانے اور کچہریوں کی چتا میں جھونک رکھا ہے۔انکے ذریعے وہ ملک میں اعتدال مساوات اور عدل و انصاف کو کچلتے اور انکے حقوق کو روندتے اور ملکی دولت کو اپنے تصرف میں لاتے اور ملکیتوں میں بدلتے چلے آرہے ہیں۔
نمبر۲۵۔ ملک کی دولت،وسائل،خزانہ اور معیثت کا کیا حال ہے۔ ایم پی اے ،ایم این اے،سینیٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انکی تنخواہوں کا اندازہ لگا لو۔انکے اعلیٰ اسمبلی ہالوں کی ڈیکوریشن کی طرف دھیان دے لو۔انکے مشیروں وزیروں اورسفیروں کی تعداد کی گنتی کر لو۔انکے وزیر اعلیٰ اور گورنروں کی طرف نظر کرلو۔انکے وزیر اعظم اور صدر ہاؤس کی طرف کم از کم نفرت کی نگاہ سے تو دیکھ لو۔انکی بلٹ پروف کاروں ،ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کے بہترین جدید ٹیکنالوجی سے لیس تصرفانہ سلسلہ حیات کی طرف تو نگاہ کر لو۔انکے پروٹو کول کے اخراجات بھی
ان سے سن لو ۔انکے سیکٹریوں ،ایڈیشنل سیکٹریوںجائنٹ سیکٹریوںڈپٹی سیکٹریوںاور سیکشن آفیسروں کی تعداد،انکی رہائش گا ہوں کی گنتی انکے شاہانہ اخراجات کے حساب کرنا نا ممکن ہو چکا ہے،انکے ملک میں پھیلے ہوئے کمشنر اور ہاؤسز، ڈی سی آفیسز اور ہاؤسز ،ایڈیشنل کمشنر اور ہاؤسز ، آئی جی اور ہاؤسز،ڈی آئی جی اور ہاؤسز،ایس ایس پی اور ہاؤسز کی تعمیرات اور انکے ڈیکوریشن کے اخراجات اور انکی بڑھتی ہوئی تعداد کا اندازہ تو کرلو۔ انکے اعلیٰ ادنیٰ افسران کے پا س گاڑیوں اور پٹرول کا حساب تو مانگ لو، یہ طبقات کا برہمن اور شودر کا نظام اور طبقاتی سیلریوں اور سہولتوں کے فرق کا اندازہ تو کر لو،ملک کی دولت ، ملک کے وسا ئل ، ملک کا خزانہ انکی تصرفانہ زندگی کی نظر۔انکی ملکی دولت سے تیار کی ہوئی تمام فیکٹریاں، ملیں،کارخانے اور کاروبار،کوٹھیوں،محلوں اور شاہی پیلسوں کے روپ میں مختلف کرپشن کی یہ بد ترین نمایاں داستانیں بنتی چلی آرہی ہیں۔جو انکی ملکیتو ں کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ انکی حفاظت پر معمور ہیں۔یہ سرے محل، یہ رائے ونڈ ہاؤسز،یہ شاہی پیلسز،یہ ہارس ٹریڈنگ کا نظام وہ کیسے ایک دوسرے کا احتساب کرسکتے ہیں،یہ انکے لئے اور انکی حکومتوں کیلئے ممکن نہیں،یہ سولہ کروڑ عوام کا فرض بنتا ہے وہی ان سے اپنی ملکیتیں واپس لے سکتے ہیں۔انقلاب وقت انکے روبرو ہے۔عوام کے قہر و غضب سے بچنا انکے اختیار میں نہیں۔ پاکستان کی سولہ کروڑمسلم امہ کے فرزندان جب تک اپنے معاشی اور معاشرتی نظام کو اعتدال و مساوات کو دینی ضابطہ حیات کا غسل نہیں دیتے وہ کبھی بھی ان سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ۔انکی تصرفانہ زندگی ملک و ملت پر عذاب بن کر نازل ہو چکی ہے۔ درویش اور فقیر کا ماننے والا نہ کسی کا دوست ہوتا ہے اور نہ کسی کا دشمن ۔وہ تو صرف کلمہ حق کا پیامی ہوتا ہے۔خدمت خلق اسکا ماٹو ہوتا ہے۔ دور حاضر کے حکمران اس بدکاری کو از خودختم کر دیںتو گھوڑا بھی بچ سکتا ہے اور سوار بھی ورنہ انقلاب کی عبرتناک گھڑی انکے سر پر کھڑی ہے۔
نمبر ۲۶۔ اس ملک کے ستر فیصد کسان اور انتیس فیصد مزدور ،محنت کش،ہنر مند اور عوام الناس اپنے یہ ملکی وسائل،دولت اور اپناقطرہ قطرہ اکٹھا کیا ہوا ملکی خزانہ کہاں سے تلاش کریں۔یہ سب کچھ جو ا ن غاصبوںآمروں کی ملکیتوں کی میں انکے پاس موجود ہے،وہ سب کچھ ان کسانوں ،مزدوروں،محنت کشو ں اور عوام الناس کی ملکیت ہے ۔ یہ بات اچھی طرح سے کان کھول کر سن لو! عوام ا لناس، محنت کش، کسان انگریز کے مسلط کےئے ہوئے اینٹی کرسچن جمہور یت کے اس طبقاتی طرز حیات،اسکی طبقاتی تعلیمات ، اسکی طبقاتی معاشی اور معاشرتی بندر بانٹ کے باطل نظام اور سسٹم کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔اب ملکی وسائل ، ملکی خزانہ سے تیار کی ہوئی انکی ہر قسم کی ملکیتیں واپس لینے اور ملکی وسائل کے غلط استعمال، انکی شاہانہ زندگی، شاہانہ اخراجات اور تصرفانہ لائف سٹائل کو روکنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اب انکے ملکیتی اور حکومتی حقوق بدل چکے ہیں۔اب دور دین محمدی ﷺ کے انقلاب کا ہے۔ملک و ملت کی دھرتی کے مال و متاع کے مالک اور وارث کسان،
محنت کش، ہنر مند اور عوام الناس ہیں۔ انکا یہ حق بنتا ہے کہ وہ ایک نظرغورسے دیکھ تو لیں کہ ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک کا اکٹھا کیا ہوا خزانہ،انکے پیدا کئے ہوئے وسا ئل ، انکا اکٹھا کیا ہوا زر مبادلہ اور ہر قسم کی دولت جو انکے خون پسینے کی کمائی ہے۔ یہ تمام امانتیں کہاں ہیں اور کن کے پا س اور کن کے کنٹرول میں چلی آرہی ہیں،انکا استعمال کیسے ہو رہا ہے۔ کیا وہ خزانہ ملک و ملت کی فلاح کیلئے خرچ ہو رہا ہے۔ کیا ا س اجتماعی ملکیت کا استعمال غیر ضروری تو نہیں ہو رہا۔ کیا سولہ کروڑ انسانوں کے معاشی حقوق کو مساوات کے مطا بق ادا کیا جا رہا ہے۔ کیا ملک میں
حکمرانوں نے دینی نظا م کے ضابطہ اعتدال و مساوات کو قائم کر رکھا ہے ۔ کیا ملک میں عدل و انصاف کا راج ہے ، یہ سب سوالات تشنہ لب ملک و ملت اور حکمرانوں کے سا منے ایک تلخ اور اذیتنا ک سوا ل بنے کھڑے ہیں۔کیا یہ مسلم امہ کا کردار ہے ۔
انگریز کے مسلط کردہ اینٹی کرسچن جمہوریت کی طرز حکومت کو چلانے والا ملک میں ایک ایسا ٹولہ موجود ہے۔جو اس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن چکا ہے ،جو مغربی جمہور یت کے عوامی نما ئندو ں کی شکل میں اسمبلیوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، اسمبلیو ں میں بیٹھ کر ایسی قانون سازی کرتے ہیں۔ جس سے ملک کی دولت، وسائل،ملکی خزانہ اور تجارت پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی لوگ تاجر بھی ہیں اور حکمران بھی۔ وہ مانگ ، سپلائی، مہنگائی اور ٹیکسوں کے ضابطو ں سے خوب آشنا ہیں۔ وہ سیاہ سفید کے مالک بن جاتے ہیں۔اختیا رات کی نوک پرکسانوں کی پیداو ا ر ، خام مال اورملوں فیکٹریوں،کارخانوں کی تیار کی ہوئی محنت کشوں کی تمام پروڈ یکشن کو قانونی جرائم سے اپنے قبضہ میں لیکر وہ اپنی ملکیتیں بنا لیتے ہیں۔کسان،محنت کش اور عوام الناس اپنے وسائل ، دولت اور خزانہ اور اپنے خون پسینے کی کمائی ان رہزنوں کو لوٹتے دیکھ سکتے ہیں،نہ وہ روک سکتے ہیں اور نہ مداخلت کر سکتے ہیں۔
یا د رکھو! ملک کا عمدہ قسم کا چاول، بہترین قسم کی کپاس،تر و تازہ سبزیاں، خوبصورت اور لذیز پھل،طاقت سے بھرپور میوہ جات،لا جواب جانوروں کا چھوٹا بڑا گوشت ،کسانوں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کا پیٹ کاٹ کر ایک ایک پائی کا زر مبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔ بیرون ممالک بھیجنے سے یہ اشیا ملک سے غائب ہو جاتی ہیں۔ ان اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔یہ اشیا، کسانوں، مزدورو ں ، محنت کشوں ،ہنر مندوں اورعوام الناس کی قوت خرید سے باہر ہو جاتی ہیں۔ سولہ کروڑ عوام کو مہنگائی کے عذاب کا ایندھن بنا دیا جاتا ہے۔ یہ تمام زر مبادلہ ان چند با اثر معاشی دجال تاجروں اور حکمرانوں کے پاس پہنچ جاتا ہے جو بڑی بے دردی سے ذاتی تصرف میں لاتے اور فضول خرچی کا ایندھن بناتے اور اپنی ملکیتیں بناتے جارہے ہیں۔ انکو روکنا وقت کی ضرورت ہے۔
اسی طرح ملک لینڈ مافیہ کے اسی ٹولہ کی زد میں بری طرح پھنس چکا ہے۔سی ڈی ا ے ہو یا آر ڈی اے،ایل ڈی اے ہو یاکے ڈی اے،بحریہ ٹاؤن ہو یا ڈیفنس یا اسی طرح کی بیشمار مختلف ناموں کی پراےؤیٹ سوسائٹیوں، کواپریٹو ۔سوسا ئٹیوں کے ختم کرنے کے گھناؤنے جرائمی ہاتھ کن پردہ نشینوں کے ہیں، کتنی سو سائٹیاں عوام سے پلاٹوں کی شکل میں اربوں کھربوںکی رقوم لیکرغائب ہو چکی ہیں ان سب جرائم میں سیاستدان، اعلیٰ حکمران اور انکی شاہی سرکاری مشینری انکے وزیر ،مشیر ملوث ہوتے ہیں۔یہ کیسا ظلم و جبر ہے کہ ہزاروں روپوں کنال کے حسا ب سے غریب کسانوں سے انکی ملکیتیں چھین لی جائیں۔اور کروڑوں روپوں کے حساب سے یہ فروخت کرتے پھریں ۔ ان جرائم پر مشتمل ان گھناؤ نے کاروبارکو کون چلا رہے ہیں۔ سرکار ی زمین کو اونے پونے داموں میں ۹ ۹ سال کی لیز پر کون دیتے ہیں اور کون لیتے ہیں۔ یہ ملکی وسا ئل دولت،خزانہ ان چند معاشی دہشت گردوں کے ہاتھوں میںپہنچتا چلا جاتا ہے۔ پھر وہ اس ملکی دولت کو سرکاری محلوں،اپنے ذاتی تاج محلوں کو سنگ و خشت کے لاجواب نگینوں سے تیار کرواتے اور حسین و جمیل رنگوں سے پینٹ کروا تے ، خوبصورت گلوبوں،عمدہ شاوروں اور قیمتی ساز و سامان سے سجاتے،لطف اندوز ہوتے اور ایک دوسرے کو داد دیتے چلے آرہے ہیں۔ ملک کی اربوں، کھربوں کی دولت کو اینٹ گارے میں چنوا کر انہوں نے ملت کے سرمائے کو ناکارہ بنا نے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔ہے کوئی جو ،ان فرعونو
ں !کو روک سکے۔ ملک کے چند جاگیردار،سرمایہ دار، سمگلر،کمیشن ایجنٹ،رشوت خور ، کمیشن خور،زمین مافیہ کے چند بے رحم عیاشوں پر مشتمل اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدان ، حکمران اور انکی اعلیٰ نسل کی حکومتی مشینری کے سرکاری احباب ملک کے زر مبادلہ کے ذخیرہ کو غیر ضروری سرکاری گاڑیوں،ذاتی گاڑیوں پر اربوں کھربوں ڈالرز، ہر سال خرچ کرتے چلے آ رہے ہیں۔اس طبقہ نے پہلے گاڑیوں پر پابندی ختم کر کے بیرون ممالک کی فیکٹریوں سے بڑی بڑی کمشنیں ،رشوتیں وصول کیں، ان سے قبل ایسی پالسیوں سے بے نظیر صا حبہ نے اربوں ڈالرز کمیشنوںسے سوکس بنک بھرے اور اب موجودہ حکمران اسی طرح تباہ کن ملکی تجارتی پالسیوں سے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹے جا رہے ہیں۔ ان گاڑیوں کو چلانے کیلئے پٹرول کے لا متناہی اخراجات اسکی کمیشنوں اور رشوتوں کا حساب الگ ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ انکی اس بد عملی کی وجہ بن چکا ہے۔ یہ کون ہیں جو سولہ کروڑ عوام کا زر مبادلہ کا قیمتی اثاثہ بڑی بے رحمی سے جلائے جا رہے ہیں۔ انکے یہ جرائم سڑکوں پر کھلے عام ہارن بجاتے اور عوام حیرت سے انکو دیکھے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف عوام الناس کو ذرائع آمد و رفت کی مشکلا ت اور اخراجات کا ایک لا متناہی عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انقلاب وقت نہ انہیںچھوڑے گا اور نہ انکے اس غاصب نظام کو۔نہ ان شاہی محلوں پر ڈیکو ریشن کے سامان تعیش کا ملکی بجٹ خرچ ہوگا،نہ ان قیمتی گاڑیوں پر بے پناہ زر مبادلہ کی خریداری ہو گی ،نہ اربوں ڈالرزپٹرول جلانے کی کوئی خبر ہوگی۔ ملک کا یہ قیمتی سرمایہ عملی ترقی کے حصول کیلئے بروئے کار لایا جائیگا۔عوام کی مشکلات کے حل کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کا بین الاقوامی سسٹم متعارف کروایا جائیگا۔ملی سرمائے کا ضیائع سختی سے روکا جائیگا۔ یہی ملکی تاجر ملک کا قیمتی اثاثہ یعنی زر مبادلہ کو بیرون ممالک کے ،مختلف مشروبات ، مختلف توٹھ پیسٹیں ، مختلف قسم کے صابن،مختلف قسم کے شیمپو اور بیشمار غیر ضروری سازو سامان کی خریداری کی چتا میں جھونکتے چلے آرہے ہیں۔انکو کوئی روکنے والا ہی نہیں۔ذرا غور تو کرو کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے تعلیمی اداروں کے یہ کیسے اکنامکس اور سودی معاشیات کے ماہرین،سکالر اور دانشور ہیں جو ملک کے تمام قیمتی اثاثہ زر مبادلہ کو!۔ بڑی بے رحمی سے جلائے جا رہے ہیں۔
نمبر۱ ملک کا شاہی طبقہ،جاگیردار،سرمایہ دار،سیاستدان،اسمبلی ممبران،وزیر و مشیر،نظام حکومت چلانے والی شاہی سرکاری مشینری کے ارکان ، تاجر و حکمران کا شاہی ٹولہ ملک کی دولت،وسائل،خزانہ اور قیمتی زر مبادلہ کے ذ خائر کا بیشتر حصہ اینٹ گارے،سنگ و خشت،رنگین ودلکش طرح طرح کے رنگوں کی پینٹنگ، گلوبوں ،شاوروں اور قیمتی سازو سامان سے ڈیکو ریٹ کئے ہوئے شاہی محلوں، پیلسوں،تاج محلوں ،کنوینشن ہالوں،ریسٹ ہاؤسوں، شاہی کلبوں ، شا ہی ہوٹلو ںاسمبلی ہالوں،وزیر ومشیر ہاؤسوں، گورنر ہاؤسوں،وزیر اعلیٰ ہاؤسو ں ، وزیر اعظم ہاؤس ،صدر ہاؤس میں بسنے والی سپر نیچرل مخلوق کس بے دردی سے یہ کسانو ں ،محنت کشوں کی دولت وسائل،خزانہ اور زر مبادلہ کو اس امتیازی نظام حیات کی چتا میں بھسم کئے جا رہے ہیں۔
نمبر۲۔چند جاگیر دار،سرمایہ دار۔چند سمگلر اورکمیشن خور۔چند راشی اور مرتشی۔ چند انتظامیہ و عدلیہ کے اعلیٰ بددیانت ممبران ،چند اسمبلی ممبران، وزیر ،چند معاشی ماہرین اور سکالر، چند تاجر اور حکمران ملک کی دولت،وسائل،خزانہ اور قیمتی زر مبادلہ کا بہت بڑا حصہ بڑی بے رحمی سے بڑی بڑی شاہی لا تعداد قیمتی سرکاری اور ذاتی گاڑیوں کی خریداری پر اربوں کے روزانہ پٹرول وغیرہ کے اخراجات ملک کے معاشیات کے جسد کو
ایک کینسر کی طرح چمٹ چکے ہیں۔ یہ عیاش ٹولہ ستر فیصد کسانوں انتیس فیصد محنت کشوں اور عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی کو عیاشی کی چتا میں جھونکے چلے جا رہے ہیں۔ یہ ملکی دہشت گرد ایک طوفان بھرپا کئے جا رہے ہیں۔ انکے یہ معاشی جرائم گاڑیوں کی شکل میں چیختے چلاتے اور ہارن بجا تے اور سولہ کروڑ انسانوں کا پیدل چلنا بھی محال کئے جا رہے ہیں، ا س کا علاج انکے کسی ماہر معاشیات کے پاس نہیں ایک عادل رہنما اور میر کارواں کے پاس ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کی تہذیب کا یہ گھناؤنا چہرہ انقلاب وقت کی ضرب کا منتظر ہے۔
نمبر۳۔ ملک کے تمام بیرون مشروبات، شیمپوو صابن،میک اپ کا سامان اور اس طرح غیر ضروری اشیا کی خریداری ملک کے زر مبادلہ کی تباہی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ملک کی عوام تو صاف پانی کی بوند بوند کو ترسیں اور یہ غاصب،یہ ظالم تاجر اور حکمران ملک کے وسائل کو اس طرح روندتے پھریں،انکو کون روک سکتا ہے، اس اینٹی کرسچن جمہوریت کی اکیڈمی کے سکالروں کو راہ ہدایت کون دکھا سکتا ہے ۔ ایسے تباہ کن نظام تجارت کا فوری طور پر خاتمہ کون کر سکتاہے۔اس سے ملک کا تمام خزانہ سرمایہ، دولت، وسائل اور زر مبادلہ تباہی سے کون بچا سکتا ہے ۔ملک کے تمام مشیر و وزیر،وزیر اعلیٰ و گورنر،وزیر اعظم و صدر پاکستان اور انکے ملک میں پھیلے ہوئے تمام سرکاری اعلیٰ عہدیداروںجنکے پاس سرکاری گاڑیاں موجود ہیں،انکا حساب مانگ لو، انکے پٹرول کے اخراجات پوچھ لو!۔ اس کا تدارک کر لو!۔ سرکاری تمام عہدیداروںکو گاڑیوں کی سرکار ی سپلائی کو فوری طور پر منسوخ کر کے اسکی جگہ پبلک ٹرانسپورٹ ان کو مہیا کر دو۔ ملک و ملت کی تفاوتی زندگی کو ختم کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔اسطرح بیشمار معاشی اور معاشر تی بیماریوں کا خاتمہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس میں کسی قسم کی قباحت نہیں ۔ جبکہ یہ نظام دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میںقائم ہے۔چند سالوں میں ملک ہر فیلڈمیں خود کفیل ہو سکتا ہے۔ محلوں کی بجائے ہر قسم کی انڈسٹریز اور عوام کی رہائیش کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، زرا عت اور اس سے حاصل کیا ہوا خام مال اپنی انڈسٹریوں میں استعمال ہوسکتا ہے۔ ملک ان چند غاصبوں کی ملکیت بن کر رہ گیا ہے۔ اس ملک کے قیمتی اثا ثے زر مبادلہ کے ذخائر ان غیر ضروری اشیا کی خریداری کے جرائم کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ اعتدال و مساوات،عدل و انصاف کو کچلنے والے مجرم اور تصرفانہ زندگی گذ ارنے والے جمہوریت کے اسمبلی ممبران ،حکمران ، انکی اعلیٰ سرکاری مشینر ی کے طبقاتی ارکان ،جو ایسی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں مسلم امہ پر مسلط ہو چکے ہیں ۔ انکے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس نظام سے نجات وقت کا اہم تقاضا ہے۔
یا اللہ یہ امت تیرے پیارے آ خری نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ کی امت ہے۔اس پر رحم فرما،اس پر کرم فرما،اسکو خلق عظیم کی دولت سے مالا مال فرما،اس کو امانت و دیانت کا امین بنا، اسکو اعتدال و مساوات کی زندگی عطا فرما، ادب انسانیت کا شعور عطا فرما،اسکو خدمت انسانیت کی توفیق عطا فرما، اس کو عدل و انصاف کی صلاحیتوں کا نور بخش اسکو رحمت اللعالمین ﷺکے اوصاف حمیدہ عطا فرما۔ یا اللہ تو اس امت پر رحم فرما اور رحم تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرما۔ امین بابا جی عنایت اللہ