To Download or Open PDF Click the link Below

 

  اینٹی کرسچن جمہوریت نے ادب آد میت اور احترام آدمیت کے بنیادی حقوق کو مسخ کر دیا ہے۔
عنایت اللہ
پیغمبران خدا نے بے سرو سامانی کی حالت میں صداقت کے ایسے چراغ رو شن کئے جوبنی نوع انسان کیلئے ازل سے لیکر ابد تک الہامی رو حانی فلاحی ضابطہ حیات کی رہنمائی فرماتے رہیں گے۔ بنی نوع انسان کو ازدواجی زندگی کے نظام کی تعلیمات دیکر انسانی دنیا میں میاں بیوی کے رشتہ سے ایک گھریلو وحدت قائم کر دی،آفرینش نسل کے ساتھ بیٹی بیٹا کے رشتوںپر مشتمل کنبہ کی تشکیل کا راستہ بتایا،گھرسے انسانوں کو ایک خاندان کے روپ میں مرکز یت عطا کردی ، خاندانوں کے اجتماعی ہجوم سے معاشرہ تیار کرنے کا عمل سکھایا ، نظریات،عقیدے،مذاہب معاشرے کو ایک خوبصورت ماحول عطا کرتے ہیں!۔ کیمونزم ، سوشلزم، ہندو ازم،بدھ ازم، بت پرست ،آتش پرست،مذہب پرست، نظریات کے رنگا رنگ کے پھولوں پر مشتمل یہ جہان رنگ و بو کا حسین و جمیل گلستان مہکا ہوا ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران اللہ تعالیٰ نے اس جہان رنگ وبو کے تہذیب و تمدن کو سنوارنے کیلئے یکے بعد دیگرے بھیجے ۔چار پیغمبران اس دنیا میں ایسے تشریف لائے جن پر اللہ تعالیٰ نے الہامی ،روحانی،آسمانی مقدس کتابوںکا نزول فرما یا، حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور شریف، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت شریف،حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل مقدس اور آخری نبی الزماں حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر قرآن مقدس کا نزول ہوا۔ان تمام پیغمبران کی امتوں اور تمام مخلوق خدا کو ان پیغمبران کی مقدس کتابوں، انکی تعلیمات سے الگ کر کے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں،حکومتی سکالر وں کے تیار کردہ حکومتی نظام اور تعلیمی نصاب کے حوالے کر دیا گیا،یہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشور اور سکالر جمہوریت کے الیکشنوں کے طریقہ کار کے ذریعہ دوسری جماعتوں کے امیدواروں سے عوامی رائے کی برتری حاصل کر کے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور اپنے اپنے ممالک پر قابض ہو جاتے ہیں۔نہ یہ لوگ مذہبی سکالر ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی مذہبی پیشوا ہوتے ہیں،نہ وہ ان مقدس الہامی کتابوںکو مانتے ہیں اور نہ ہی پیغمبران کو تسلیم کرتے ہیں،نہ وہ انکے الہامی ضابطہ حیات کو مانتے ہیں اور نہ وہ انکے نظام حیات کو تسلیم کرتے ہیں،نہ وہ انکے حسن خلق کو مانتے ہیں اور نہ وہ انکے خدمت کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں،نہ وہ انکے ادب انسانیت کے پاکیزہ اصولوں سے آشنا ہوتے ہیں اور نہ وہ انکے خدمت انسانیت کے عمل کو اپناتے ہیں،نہ وہ انکی طرح عادل ہوتے ہیں اور نہ وہ ان کے عدل و انصاف کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں،نہ وہ بھوکوں کو خوراک،نہ پیاسوں کو پانی،نہ بیماروں کو دوا نہ ہی شفا کا فریضہ ادا کرتے ہیں، بلکہ وہ تو خوراک اور پانی کے ذخائر کو تباہ اور بیماریاں پھیلانے،انسانی جسموں کوزخم لگانے،انسانی شکلوںکو مسخ کرنے ، انکے اعضا کو فضا میں بکھیرنے کو تسلیم کرتے ہیں،وہ تو مذہب کے بین الاقوامی اصول ضوابط سے نہ آشنا ہیںاور نہ ہی وہ بنی نوع انسان کے اجتماعی حقوق کو بین الاقوامی سطح پر ادا کرنے کے عمل کو بروئے کار لانے کو تسلیم کرتے ہیں،وہ تو خود غرضی،نفس پرستی،مادہ پرستی،خوشحالی اور عیش و عشرت پر مبنی گھریلو زندگی اور ملک پرستی تک محدود ہوتے ہیں،وہ تو مذہب کی اجتماعی اقدار،مخلوق خدا کے حقوق اور فرائض بین الاقوامی سطح پر ادا کرنے کو تسلیم ہی نہیں کرتے،وہ تو مخلوق خدا کو خالق کی مخلوق سمجھنے سے گریزاںہی نہیں وہ تو مخلوق خدا کے بنیادی حقوق غصب کرنے،انکے گھروںکو تباہ کرنے،انکے ممالک کو برباد کرنے اور انکے وسائل پر قبضہ کرنے،انکے مال و اسباب لوٹنے،انکے قتال کرنے کو اپنا حق تسلیم کرتے ہیں۔وہ مخلوق خدا میں فرعون کی زندگی گذارتے ہیں اور عاقبت موسیٰ علیہ السلام کی مانگتے ہیں،عملی طور پر وہ پیغمبران خدا کے دستور مقدس،انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات،انکے اسوہ حسنہ،انکے الہامی نظریات،انکے تعلیمی نصاب،انکی مذہبی درسگاہوں، معبد، کلیسا، گرجا،مسجد کو ختم کرنے ۔ انکے ازدواجی زندگی کے نظام، انکے ماں باپ ،بیٹا بیٹی کے خاندان کے نظام، انکے گھر اور گرہستی لائف کے نظام،انکے چادر اور چار دیواری کے نظام، انکے اخوت و محبت کے نظام،انکے خلق عظیم کے نظام،انکے انسانی زندگی کے تحفظ کے نظام، انکے فحاشی ،بے حیائی، بدکاری، زنا کاری سے بچنے کے نظام،انکے انسانی فلاح اور بہبود کے نظام پر مشتمل تہذیب کو نیست و نابود کرنے کا عمل جاری کئے ہوئے ہیں۔
پیغمبران نے انسانی کردار کو اعتدا ل و مساوات کے عمل سے گذار دیا۔
انسان کو مخلوق خدا کے بنیادی حقوق کوادا کرنے کا علم اور عمل سکھا یا۔
امانت اور دیانت کا سبق عام کیا۔
خلق خدا کی خدمت کو عبادت کا حصہ بنایا۔
خلق عظیم کا راستہ بتایا۔ بنیادی فطرتی حقوق خوراک و لباس کو ادا کرنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔
ادبِ آدمیت اوراحترامِ آدمیت کے فلسفہ سے آگاہی بخشی ۔
تسخیر جہان رنگ و بو اور دل و روح کا عرفان سمجھایا۔
مخلوق خدا کے دلوں پر حکمرانی اور جسموں پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کی حکمرانی کا فرق سمجھایا۔
حمدِباری تعالیٰ کے ذکر و اذکار کے دیپ روشن کئے۔
غور وفکر کی عبادت کی گرہ کھولی۔
تنہا ئیوں میں حقائق اور سچائی کو تلاش کرنے کی رہنمائی فرمائی۔
انسانی زندگی کو راحت و سکون مہیا کرنے کی افادیت سمجھائی۔
انسانی دلوں کو تسخیر کرنے کے ازلی اور ابدی راز افشاں کئے۔
صبر و برداشت ،عفو و در گذر کے جذبوں کو انسانی زندگی میں بیدار کیا۔
دنیائے عالم میں انسانی زندگی میں اخوت و محبت کے پرسوز گیت کے ساز بجا ئے ۔
بنی نوع انسان کی اصلاح اور فلاح کے کائناتی نظام اور رموز سے آشنائی کروائی۔
فناہ اور بقا کی داستانیں سنا ئیں ۔
معاشرے کے جسد کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کو شفا عطا کی۔
اس کائنات کے انسانوں کو کائناتی ضابطہ حیات کا فطرتی علم سکھایا۔
نہ جنوں سے الجھاؤ نہ خرد سے جھگڑا،زندگی کو ادبِ جہاں کے فیض سے آشنائی بخشی۔
دلوں کو تسخیر کرنے اور ان پر حکومت کرنے کی رہنمائی فرمائی۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظریات اور ضابطہ حیات کی حسین و جمیل اور دلکش تہذیبی عمارت کو سنوارا اور تیار کیا۔
بد قسمتی سے نا ن کرسچن جمہوریت کے غاصب طرز حیات باطل ضابطہ حیات پر مشتمل نظریات کے سیاسی قائدین نے ایک ایسے نظام اور سسٹم کا خوفناک جال بنی نو انسان کے گرد بن لیا،جس سے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے الہامی نظریات اور آسمانی تعلیمات کی رائج کی ہوئی طرزحیات کی بالا دستی کو ختم کردیا گیا۔ اور ان کی امتوں کے گرد اینٹی کرسچن جمہوریت کا ایسا گھیرا ڈال لیا گیا۔ جس سے تمام پیغمبران کی امتیں مذہب کے نظام حیات اور جمہوریت کے نظام حیات کے تضاد کا شکار ہو گئیں۔اس مغربی جمہوریت کے باطل ضابطہ حیات کی تعلیمات نے مذہب کی الہامی، روحانی اور آسمانی تعلیمات کی شمع کو گل کر دیا۔ مذہب کی تعلیمات کی لطیف کار گذاری اور ان کے تیار کردہ دلکش تہذ یب و تمدن کے دلربا ساز کو چپکے سے خاموش کر دیا، دنیائے عالم میں انہوں نے سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات، ضابطہ حیات ، طرز حیات، تعلیمی نصاب کی سرکاری بالا دستی کو تمام ممالک میں رائج کر دیا۔ مذا ہب کے نظریات ، ضابطہ حیات، طرز حیات اور اسکے تعلیمی نصاب کو سرکاری سطح پر منسوخ اور ختم کر کے انکی بین لاقوامی حاکمیت اور افادیت ختم کر دی گئی ہے۔ مادہ پرست مغربی سیاسی دانشوروں نے اینٹی کرسچن جمہوریت کی طرز حکومت کو پوری دنیا پر مسلط کر نے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔اس طرز حکومت کے قلیل سے سیاسی اور اقتدار پسند پیروکاروں اور اسمبلیوں کے ممبران نے انسانی نسلوں کو اور تمام پیغمبران کی امتوں کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کے نظام میں دبوچ لیا ہے۔
۱۔ مغربی سیاستدانوں اور اقتدار پر مسلط تمام ممالک کے اینٹی کرسچن جمہوریت پسند سیاسی دانشوروں ، سکالر اسمبلی ممبران اور انکے چنے ہوئے حکمرانوں نے پیغمبران کے الہامی منشور حیات کے تمام اصول و ضوابط، انسانی وحدت کے تصور اور بھائی چار ہ ، اعتدال و مساوات، عدل و انصاف، اخوت و محبت ،ادب و احترام ،عفو و در گذر،شرم و حیا،ازدواجی زندگی کی پاکیزہ فضا یعنی مرد و زن میں پردہ کی دیواراور خدمت خلق کے جذبوں کو بیدار کرنے والے تمام تعلیمی نصاب اور تعلیمی اداروں کو ختم کر کے نہ صرف اینٹی کرسچن جمہوریت کے مذہب کش تعلیمی نصاب ،سودی معاشی نظام،مغربی سیاسی نظام،۱۸۵۷ کے ایکٹ کے مطابق برٹش لا، امریکن لا،انڈین لا،جیوری پروڈینس کے قوانین ضوابط کا تیار شدہ انتظامیہ اورعدلیہ کا نظام،طبقاتی تعلیمی نظام، مخلوط تعلیمی نظام کو سرکاری طور پر تمام پیغمبران کی امتوں پر مسلط کر دیا، جسکی وجہ سے وہ عملی طور پر مذہب سے دور ہوتی چلی جا رہی ہیں، اینٹی کرسچن جمہوریت کے تعلیمی نصاب کی روشنی میں حکومتی نظام چلایا جاتا ہے۔ اس طرح سرکاری سطح پر تمام پیغمبران اور انکے مذاہب کی پذیرائی ختم کر دی گئی اور سیاسی ممبران پر مشتمل اسمبلیوں کا تیار کردہ سرکاری مذہبب اینٹی کرسچن جمہوریت معرض وجود میں آتاچلا جا رہا ہے،اسمبلیوں کے ممبران نے پیغمبران کا رول ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے پیغمبرا ن کی تعلیمات اور انکی تہذیب کو کچل کر رکھ دیا ہے، جسکی سزا میں تمام امتیں اور پوری انسانیت ایک دلسوز نظریاتی سانحہ کی عبرتناک اذیتوں سے گذر رہی ہے۔
۲۔مذہب کی نظریاتی ریاست اور ملی جمعیت کو تباہ کر دیا ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشور سیاستدانوں اور حکمرانوں نے تمام پیغمبران کی امتوں کی جمعیت کو ختم کر کے سیاسی جماعتوں میں بکھیر اور منقسم کر کے رکھ دیا ہے۔
۳۔مغرب کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے مخلوط معاشرے اور جنسی آزادی کے ناسور کا نظام قائم کر کے پیغمبران کے نظام حیات اور انکے ازدواجی زندگی کے نظام کو منسوخ کر دیا ہے۔ میاں بیوی، اولاد اور ان سے منسلک تمام رشتوں کی اخوت و محبت،عزت و احترام کے انمول جذبوں کو مسخ اور نا پید کر تے جا رہے ہیں۔
۴۔ مغرب کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں اور حکمرانوںنے بین الاقوامی سطح پر انفرادی ،ملکی اور بین الاقوامی اجتماعی زندگی کے مذہبی اعتدال و مساوات کے نظام کو کچل کر رکھ دیا ہے۔
۵۔ مغرب کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کی ترجماں یو این او کی عدالت نے تمام پیغمبران کے عدل و انصاف کے اصول و ضوابط کو مسخ کر رکھ دیا ہے۔دنیا کی تمام دولت وسائل پر چند ترقی یافتہ ممالک کے معاشی دجال قابض ہوچکے ہیں اور انہوں نے مخلوق خدا کو غربت ، تنگدستی،بیروز گاری اور بنیادی ضروریات حیات سے محروم کر رکھا ہے کی۔ یو این او کے پلیٹ فارم سے ترقی یافتہ ممالک نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور دنیا میں عدل و انصاف کو کچلنے کا عمل جاری کر رکھاہے۔ترقی یافتہ ممالک دنیا کے کمزور ممالک پر جنگیں مسلط کرتے ،ایک دہشت گرد کی طرح تباہ کن ہتھیاروں سے بے گناہ اورمعصوم عوام کا قتال کرتے اور دنیا کا امن و امان تباہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔
۶۔ اینٹی کرسچن جمہوریت نے ! ساری خدائی ہے کنبہ خدا کا تصور ! پیغمبران کی تعلیمات سے تیار کرنے والے ادارے اور انسانی رشتوں کے عالمگیر نظام کو نا یاب بنا دیا ہے۔مذہب آفاقی بھلائی کا رہنما ہے اور جمہوریت آفاقی بھلائی کی رہزن۔پیغمبران کی امتوں کو اس بارے سوچنا اور غور کرنا ہوگا اور پیغمبران کی تعلیمات اور ضابطہ حیات کا آفاقی نظام بحال کرنا ہوگا۔
۷۔ پیغمبران کی امتوں کے سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے ممالک میں اینٹی کرسچن جمہوریت کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر اورتما م مذاہب کے نظریات اور ضابطہ حیات پر مغربی جمہوریت کے نظام کی سرکاری بالا دستی مسلط کر کے ان کا قتال کر کے رکھ دیا ہے۔
۸۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے اسمبلیوں کے مذہبی منافق جمہوریت پرست سیاسی ممبران نے اسمبلیوں میں بیٹھ کر سلسلہ ء پیغمبران کے الہامی دستور کو ختم کر کے اس پر فوقیت کے بگل بجاتے ہیں ۔ مذہب کے نظریات انکی تعلیمات اور پیغمبران کی عظیم شان کو اور انکی امتوں کوان کے دستور حیات سے الگ کر کرتے جا رہے ہیں۔
۹۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشور حکمرانوں نے تمام امتوں سے انکے پیغمبران کے الہامی نظریات، روحانی تعلیمات ،انکے عمدہ اخلاق،اعلیٰ کردار ، اسوہ حسنہ کی فطرتی صفات اور حقیقی صداقتوں پر مشتمل تمام رشد و ہدایت کے تعلیمی نصا ب کو سرکاری سطح پر منسوخ اور ختم کر دیا۔اسکی سرکاری بالا دستی کوختم کر کے مذاہب کے کلچر اور اسکی تہذیب کی پرورش کرنے والے تعلیمی اداروں اور تعلیمی نصاب کو سرکاری سطح پریک قلم منسوخ کر دیا۔ اس طریقہ کار سے بنی نوع انسان کا پیغمبران کے نظریات کی آگاہی اور آشنائی تک کا رشتہ ختم کر دیا ہے ۔ انہوں نے روحانی اور الہامی نظام حیات کی آ فادیت سے تمام پیغمبران کی امتوں کومحروم کر دیا ہے۔
۱۰۔ تمام امتیں پیغمبران کے رشد و ہدایت اور فلا ح کے تعلیمی نصاب کے متضاد اینٹی کرسچن جمہور یت کے مادہ پرست اور اقتدار پرست نظام حیات پر مشتمل تعلیمات کو مسلط کر رکھا ہے۔ مغربی جمہوریت کی اسمبلیوں کے دانشور ممبران جمہوریت کے نظام حیات کے مطابق تیار کردہ انتظامیہ و عدلیہ کے قوانین و ضوابط اوران کی تعلیمات سرکاری سطح پر نافذ کر تے جاتے ہیں۔
الف ۔سیاسی طور پرحقوق غصب کرنے کے اخلاقیات کی تعلیم،
ب۔دنیا کے غریب ممالک اور عوام الناس سے دولت اور انکے وسائل چھیننے کے سیاسی معاشیات کے نظام کی تعلیم،
پ۔کمزور ممالک اور اقوام پربے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی الزامات کی تشہیر کی تعلیم،انہی بنیادوں پر جدید ڈیزی کٹر بموں ،نائٹروجن بموں ،جراثیمی بموں اور تباہ کن جدید مزائلوں،ایٹمی مزائلوںسے حملوں کی تعلیم۔
ت۔ بنی نوع انسان اور اس جہان رنگ و بو کو نیست و نابو د کرنے والے جدید ہتھیاروں کے تیار کرنے کی تعلیم،
ٹ۔ مغربی جمہوریت کے نظام حکومت میں انسانیت کے حقوق غصب کرنے کی تعلیم،
ث۔ چند جمہوریت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا دنیا بھر کے تمام ممالک کی دولت،وسائل اور پوری معاشیات پر قبضہ کرنے کی تعلیم، اعتدال و مساوات کو کچلنے کی تعلیم۔
ج۔ بنی نوع انسان کے حقوق اور معصوم و بے گناہ انسانوں کے قتال کی تعلیم،عدل و انصاف کو روندنے کی تعلیم،
چ۔انسانی ضمیر کو بے حس اور ظالم بنانے کی تعلیم،
ح۔ ازدواجی زندگی کے مذہبی نظام کو ختم کرنے کی تعلیم،جنسی آزادی کی تعلیم، شرم و حیا کو نگلنے کی تعلیم،انسانی رشتوں کو ختم کرنے اوران میں اخوت و محبت کو ناپید کرنے کی تعلیم،
خ ۔نان کرسچن جمہوریت ایک دجالی نظام حکومت اور غاصب سسٹم ہے،اسکے سیاسی دانشور اس نظام کے دجال ہیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظریات اور تعلیمات کو پوری دنیا سے نگلتے جا رہے ہیں۔
د۔تما م پیغمبران کی امتوں کا کردار اور تشخص مغربی جمہوریت کے فلسفہ ء حیات میں گم ہو گیا ہے۔ تمام امتیں منافقت کے عذاب اور المیہ سے دو چار ہو چکی ہیں
ڈ۔ ملت کے افرادکی ملک میں آپس کی فرقہ پرستی کی مذہبی چپقلش نان کرسچن جمہوریت کے غاصبوں کے ہاتھ مضبوط کرتی ہے ۔
ذ۔اسی طرح بین الاقوامی سطح پر مذاہب پرست امتوں کی آپس کی جنگیں، جھگڑے، نفاق و نفر ت کے پیدا کردہ حالات و واقعات اور اعمال نان کر سچن جمہوریت کے نظام کی کامیابی کے ا سباب بنتے ہیں۔در اصل جمہوریت کے حکومتی دانشور ہی اپنی سرکاری حثیت اور سرکار ایجنسیوں کے ذریعہ اس آگ کو جلاتے اور بھڑکاتے رہتے ہیں ۔
ر۔ اس نان کرسچن جمہوریت کے دجالی نظام اور سسٹم اور اسکے چلانے والے دانائے وقت سیاسی دانشوروں کے دن گنے جا چکے ہیں۔انہیں بنی نوع انسان کی اجتماعی فلاح و بہبود کیلئے، اس جہان رنگ و بو کوزندہ ء پائندہ رکھنے کیلئے خدا و بزرگ و بر تر کے الہامی ، آسمانی اور روحا نی دینی شورائی نظام حیات کاا بدی جام پینا ہوگا۔ مغربی جمہوریت کے سیاستدان اپنے مذہب کش نظریات اور انکے اذیت ناک انجام کا چہرہ دیکھنے والے ہیں۔
ڑ۔ نان کرسچن جمہوریت کی بین الاقوامی عدالت یو این او کا معیار انصاف کیا ہے، وہ عدالت کیسے فیصلے کرتی ہے۔ وہ کیسوں کو التوا کا ایندھن کیسے بنا تی ہے۔ وہ کن کے اشاروں اور شفارش پر عمل پیرا ہوتی ہے۔وہ سچے کیسوں کو کیسے الجھاتی اور ختم کرتی ہے۔وہ دنیا کے ممالک کو کسطرح جنگوں میں الجھاتی ہے۔انکے پیچھے ہاتھ کن کے ہوتے ہیں۔جنگوں کے نقصان اور فوائد کن کن ممالک کو ہوتے ہیں۔کن ممالک کی معیثت برباد ہوتی ہے۔ کن کی معیثت ان جنگوں سے مضبوط ہوتی ہے۔کن کے ممالک خوشحال ہوتے ہیں۔کون سے ممالک غربت کی اذیتوں سے گذرتے ہیں۔ جنگ کو لڑنے کیلئے اسلحہ کن ممالک کا فروخت ہوتا ہے۔ کون سے ممالک ان کو خرید کرتے ہیں۔
س۔ معصوم بچوں،بے ضرر مستورات بے گناہ نوجوانوں،بوڑھوں اورتما م مخلوق خدا کے قتال کے ذمہ دار کون ہیں۔ ان ممالک پر جنگیں مسلط کروانے والے کون ہیں۔وہ جنگیں کن کے اشاروں پر لڑی جاتی ہیں۔کون سے ممالک ان جنگوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان جنگوں میں افرادی قوت اور معاشی طاقت کن کی تباہ ہوتی ہے۔ان جنگوں سے معاشی خوشحالی کن ممالک کی ہوتی ہے
نمبر ۱۔ عربوں پر اسرائیل نے حملہ کن کے اشاروں پر کیا۔
نمبر۲۔اسرائیل کو جدید اسلحہ کن ممالک نے مہیا کیا۔
نمبر۳ ۔فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کس نے کیا ہوا ہے۔ وہاںانسانیت کی بے حرمتی اور انکا قتال کون کر رہا ہے۔
نمبر ۴۔اس ریاستی دہشت گردی کا مجرم کون ہے۔
نمبر۵۔کیا جس ملک پر بائی فورس قبضہ کر لیا جائے۔وہ حملہ آور دہشت گرد ہوتے ہیںیااس ملک کے باشندے جو اپنے ملک کی حفاظت ، اپنے معصوم بچے بچیوں کی جانوںکی حفاظت،اپنے ماں باپ کی حفا ظت،اپنے مال و جان کی حفاظت کیلئے مجبورا لڑتے اور مرتے ہیں وہ دہشت گرد ہوتے ہیں۔
نمبر۶۔ کیا کشمیر میں ہندوستان نے سات لاکھ فوج زبردستی داخل کر نہیں رکھی۔ کیا ہندوستان کی فوج پچاسی لاکھ کشمیریوں کا قتال کر نہیں چکی ۔کیا کشمیری بھارت کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑنہیں رہے۔کیا کشمیر میںمسلمانوں کی اکثریت نہیں ۔ کیا کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں۔کیا پاکستان اپنے ان مسلم بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتا۔ کیا ہندوستان دہشت گرد ہے یا کشمیری۔
نمبر ۷۔بھارت پاکستا ن کو مورد الزام ٹھہراتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کرتا ہے۔اس سے قبل بھارت دو جنگیں پاکستان پر مسلط کر چکا ہے۔
نمبر۸۔کیا کشمیر کے استصواب رائے کا کیس بھارت ۱۹۴۸ میں از خود دنیا کی یو این او کی عدالت میں لے کر نہیں گیا تھا۔کیا یہ درست ہے کہ ہندوستان نے استصواب رائے کروانے کی بجائے مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج داخل کر دی جو آج تک کشمیری مسلمانوں کا قتال کر تی چلی آرہی ہے۔کیا کشمیری ۱۹۴۸ سے لیکر آج تک اس عدالت سے انصاف کی بھیک مانگتے چلے نہیںآرہے۔
نمبر۹۔کیا مسلم امہ کے چھپن ممالک میں سے کسی ایک ملک کے پاس بھی کوئی جدید اسلحہ سازی کا ادارہ یا کار خانہ موجود ہے،کیا یہ تمام ممالک ہر قسم کے اسلحہ کی خرید اری ان ترقی یافتہ ممالک سے نہیں کرتے۔کیا یہ تمام ممالک انکی اسلحہ فروخت کرنے کی مارکیٹیں نہیں ہیں۔کیا یہ ان مسلم ممالک کے بے شعور اور احمق حکمرانوں کو ایک دوسرے ملک کے خلاف جنگوں میں مبتلا کرتے چلے نہیں آ رہے کیا اس عمل سے انکے جدید اسلحہ کی خرید و فروخت شروع نہیں ہو جاتی ۔ کیا یہ ممالک ان ممالک سے ا ربوں،کھربوں کی دولت اور انکے تمام وسائل ا س اسلحہ کی خر یداری کے طریقہ کار سے چھین نہیں لیتے۔کیا جنگ کی صورت میں یہ مما لک اپنی افرادی قوت ،معاشی قوت کو ختم کر نہیں دیتے۔کیا یہ ہنستی کھیلتی بستیوں کو کھنڈرات میں نہیں بدل دیتے۔
نمبر ۱۰ کیا ایران ،عراق جنگ ،عراق کویت جنگ ان بد بخت حکمرانوں کی اسی پالیسی کی بد ترین داستانیں نہیںہیں۔کیا عراق کو ایران کیخلاف جدید اسلحہ اور نیپام بم ان طاقتوں نے مہیا نہیں کےئے تھے۔ جس سے انہوں نے ایران اور عراق کی فوجی طاقت اورا فرادی قوت خاکستر کر کے رکھ دی ۔ ان مغربی ممالک نے اسرائیل کو جدید اسلحہ اور نیپا م بموں سے لیس نہیں کیا تھا جس نے عربوں کی فوجی طاقت کوخاکستر کر دیا، عربو ں کی سر زمین پر اسرائیل کا وجود قائم کر دیا گیا ہے، اسرائیل ابھی تک عربوں کو نیست و نابود کرتا چلا آرہا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کی دو جنگیں کروائیں اور انکی دولت اور وسائل کو خوب لوٹا۔بو سینیا میں مسلم امہ کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ انکی نسل کشی اور انکی مستورات کی بے حرمتی کی انتہا کر دی۔
نمبر ۱۱۔ روس اور افغا نستان کی جنگ میں افغانستان کو اسلحہ مہیا کیا۔یہ جنگ افغانستان کے ملک میں لڑی گئی۔ انکا ملک نیست و نابود ہو گیا۔ انکی پانچ لاکھ جا نیں اس جنگ میں کام آئیں،افغا نستان کھنڈرات کی شکل اختیار کر گیا، روس یہ جنگ ہار گیا۔ وہ اپنے مقاصد حل نہ کر سکا۔
نمبر ۱۲۔ اسکے بعد امریکہ نے اپنی فوجیں افغانستان میں اتار دیں اور افغانستان پر قابض ہو گیا۔ افغانستان پر قبضہ کرنے کی دو وجوحات موجود ہیں۔ ایک تو وہ اس ملک کے وسائل اور قدرتی ذخائر کو قابو کرنا چا ہتا ہے ۔ دوسرا وہ بارہ روسی ریاستوں ،روس اور چائنا کی شاہ رگ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں ان مقاصد کے حصول کے لئے امریکہ اور اسکے اتحاد ی ممالک ملکی دہشت گردی کے مرتکب ہوئے۔ افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے اور آپنی گرپ مضبوط کرنے کیلئے امریکہ اپنی کٹ پتلی حکومت کے ذریعہ ا پنی کاوش میں مصروف ہے۔ افغانی اسکی فوج کے خلاف گوریلا جنگ میں مصروف ہیں۔اصل میںیہ افغانی حریت پسند ان بارہ روسی آزاد ریاستوں،روس اور چائنا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ امریکہ سے افغانستان خالی کروانے کیلئے دیکھئے اب یہ تمام ممالک کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔اسکے بعد بھی افغانی دہشت گرد ہیں جو اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبو ر ہیں۔یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے فرزندان ہیں یا نان کرسچن جمہوریت کے نظریات اور نظام کے سیاسی پیروکار ہیں ۔انکو کس نام سے پکارا جائے ۔انکی پہچان کیا ہے۔انکا تشخص کیا ہے۔کیا یہ عیسائی ہیں۔کیا یہ کافر ہیں۔ کیا یہ منافق ہیں۔ ان سے انکا نام پوچھ لینا مناسب ہوگا!
نمبر۱۳۔افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعدامریکہ اور مغربی ممالک کے اتحادیوں نے ملکر عراق کے قدرتی وسائل اور تیل پر قابض ہونے کیلئے عراق پر حملہ اور اس پر قبضہ کر لیا ہے۔وہاں بھی عراقی بری طرح مزاہمت کر رہے ہیں۔یہی امریکہ اس سے قبل عربوں کے ملک پر اسرائیل کے روپ میںقابض ہو چکا ہے۔ وہاں بھی فلسطینی آزادی کی جنگ میں مصروف ہیں۔ امریکہ اور اسکے اتحاد ی بین الا قوامی سطح پر ملکی دہشت گردی اور دنیا میں بد امنی پھیلانے کے مرتکب ہوتے چلے آرہے ہیں۔جب سے عیسائیت نے مغربی جمہوریت کی سیاست کا مذہب قبول کیا ہے اس وقت سے انہوں نے اپنے نئے نان کرسچن جمہوریت کے مذہب کے مطابق مظلومو ں، مقتولوں ، کمزورو ں اور بیگناہ انسانوں کو عبرت ناک سزا دینے کیلئے ان مظلوموں کو دہشت گرد قرار دینا شروع کر رکھا ہے۔انکے اس ظالمانہ فعل سے پیغمبر خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیا گذر رہی ہوگی۔انکے مذہبی رہنما ؤں ،نکے صاحب بصیرت،انکے شب بیدار، انکے خدمت خلق کے داعی،انکے انسانی رشتہ کے تقدس سے آشنا دیدہ وروں،انکے خدمت خلق کے راز داروں،انکے ترکِ دنیا کرنے والے راہبوں،فقیروں سے ملتجی ہوں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی نورانی تعلیمات کی روشنیوں سے اس ظلم کدہ کو پھر سے منور کریں ورنہ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو فطرت خود عمل میں آ جاتی ہے۔ یا د رکھو! انکے تیار کردہ دہشت گرد، ان سے ختم نہیں ہو سکتے۔ یہ فطرت کا عمل ہے۔ وہ دہشت گرد پھیلتے جائیں گے اور یہ حیرت سے دیکھتے جائیں گے ۔ انکے پاس ایٹم بموں اور دوسرے اسی طرح کے مہلک بموں کے انبار انکے مما لک میں ایک بہت بڑے دشمن کی شکل میں تیار پڑے ہیں۔ انکے ایٹمی پلانٹوں کی گنتی مشکل ہو چکی ہے۔ ان مظلوم دہشت گردوں یا فطرت کے کسی عمل کا ان تک رسائی کرنا نا ممکن نہیں رہا ۔ اسکے بعد اسکا منظر اور اس منظر کی منظر کشی کرنے والا کون ہوگا۔ان سے پوچھ لیں۔یہ بہتر جانتے ہونگے۔یہ تمام اتحادی ممالک کی افواج کیلئے افغانستان اور عراق کے یہ ممالک گورستان بنتے جائیں گے اور انکے ممالک ماتم کدوں میںبدل کر رہ جائیں گے ۔ یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ سر زد ہونے والا ہے۔
نمبر۱۴۔ اس سے قبل جاپان کے شہروں ہیرو شیما،ناگا ساکی پر انہی اتحادی ممالک نے ایٹم بم گرا کر لاکھوںجانوں کو خاکستر اور آبادیوں کو غلط حرف کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا تھا۔آج تک وہاں انسانی نسلیںمختلف مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوتی چلی آ رہی ہیں۔مغربی اقوام اور دنیا کے تمام مذہبی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر سوچنا ہو گا۔اس کا تدارک کرنا ہوگا۔اس جہان رنگ و بو کو مکمل تباہی سے بچانا ہو گا۔یہ اہل بصیرت مذہبی رہنماؤں کا مقدس فریضہ ہے۔
نمبر۱۔کیا تمام پیغمبران کی امتوں کا تعلق حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام،حضرت اسما عیل علیہ السلام،حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ رحمت اللعالمین سے نہیںہے۔
نمبر ۲۔کیا تمام امتیں ان طیب پیغمبران سے تعلق نہیںرکھتیں۔
نمبر۳۔کیا یہ تمام اہل کتاب پیغمبران اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے اس دنیا میں نہیں بھیجے۔کیا تمام الہامی کتابیں زبور شریف، توریت شریف، انجیل شریف ،اور قران شریف رشد و ہدایت کی الہامی کتابیں نہیںہیں۔ کیا تمام امتوں کی نسلیںاینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کا ایندھن بن نہیں چکیں،
نمبر ۴۔کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران علیہ السلام یکے بعد دیگرے اس جہان رنگ و بو کو سنوارنے، بنی نوع انسان کو راہ راست دیکھا نے کیلئے اللہ تعالیٰ نے نہیں بھیجے۔
نمبر ۵۔کیا تمام پیغمبران نے انسانوں کو توحید پرستی کی تعلیمات اور مخلوق خدا کی خدمت کا نظریہ پیش نہیں کیا۔
نمبر ۶۔ کیا انہوں نے بنی نوع انسان کو نیکی اور بدی ،خیر اور شر کا تصور پیش نہیں کیا ۔
نمبر۷۔ کیا انہوں نے آدم علیہ السلام کی تخلیق ، فرشتوں اور شیطان کے نظام حیات سے آگاہی نہیں بخشی۔کیا انہوں نے نسلِ انسانی کو عبادات کے طریقے نہیں بتائے۔کیا انہوں نے ادبِ انسانیت کا درس نہیں دیا۔
نمبر۸۔ کیا انہوں نے گناہ اور ثواب کے فلسفہ سے انسا نیت کو روشنی عطا نہیں کی۔
نمبر۹۔ کیا اللہ تعالیٰ کو قادر مطلق ماننے کا درس انہوں نے آدم کی اولاد کو نہیں دیا
نمبر۱۰۔ کیا انہوں نے انسان کو اس حسین و جمیل کائنات کو دیکھنے،سمجھنے ، غور و فکراور تدبر کرنے کی تلقین نہیں فرمائی۔
نمبر۱۱۔ کیا انہوں نے ساری خدائی کو کنبہ خدا سمجھنے کی آگائی نہیں بخشی۔
نمبر۱۲۔ کیا انہوں نے دنیا کی بے ثباتی کی تعلیمات سے انسا نیت کو نہیں نوازا۔
نمبر۱۳۔ کیا انہوں نے اس دنیا کے نیک اعمال کے پھل اور برے اعمال کی سزا یعنی جنت اور دوزخ کی تعلیمات سے آشنائی نہیں بخشی۔
نمبر۱۴۔ کیاپیغمبران نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے معجزات نہیں دکھائے۔
نمبر۱۵۔ کیا ابراہیم خلیل اللہ پر نمرود کی جلائی اور بھڑکائی ہوئی آگ اللہ تعالیٰ نے بے اثر اور گلزار نہیں بنا دی تھی۔
نمبر۱۶۔ کیاموسیٰ کلیم اللہ کا عاصہ سامریوں کے تما م سانپوں کو نگل نہ گیا تھا۔
نمبر۱۷۔ کیا موسیٰ علیہ السلا م کے عاصہ نے دریائے نیل کو دو ٹکڑے نہ کر دیا تھا۔
نمبر۱۸۔ کیا موسیٰ علیہ السلام کے تمام امتی بحفاظت دریا کو پار اور فرعون اور اسکی تمام سپاہ غرق دریا نہ ہو گئی تھی ۔
۱۹۔ کیا فرعون کی ممی آج تک لندن کے عجائب خانہ میں محفوظ نہیں۔
۲۰۔ کیا عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام نے اپنی پیاری امت کے سامنے معجزات کی بارش نہ برسائی۔ کیا وہ پیدائشی اندھوں کو روشنیاں عطا نہ کرتے رہے،کیا انہوں نے کوڑھے انسانوں کے لا علاج مرض کو شفا عطا نہ کی۔ کیا انہوں نے مریضوں کو شفا ،بھوکوں کو غذا،ننگوں کو لباس، معذورو ں کے حقوق کو ادا کرنے کا سبق نہ سکھایا۔ کیا انہوں نے مردہ انسانوں کودوبارہ زندہ کرنے کے معجزات اپنی امت کو نہ دکھائے۔کیا انہوں نے مخلوق خدا کی خدمت کا درس نہ دیا۔کیا خدا وندقدوس کے تمام پیغمبران کا فریضہ اسی نسب ا لعین کو ادا نہ کرتا رہا۔
نمبر۲۱۔ کیا اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبران اور انبیا علیہ السلام کے بعد آخر ی نبی حضرت محمد الرسول ا للہﷺ کو پوری انسانیت اور تمام مخلوق خدا کیلئے رحمت اللعالمین بنا کر نہیں بھیجا۔
نمبر۲۲۔ تما م پیغمبران کی امتوں کو ایک مرکز پر اکٹھا ہونا ہوگا۔ٍاپنے اپنے پیغمبران کی الہامی کتابوں کے رشد و ہدایت کے انوار کو الگ الگ اکٹھا کرنا ہوگا۔ انکے نظریات اور انکی طرزحیات کی روشنیوں کا نور قلمبند کرنا ہوگا،انکی تعلیمات کو ترتیب دینا ہوگا،انکی زندگی کے آداب کو اکٹھا کرنا ہوگا،انکے اعتدال و مساوات کے اصولوں کو،انکے اخوت و محبت کے آداب کو،انکے عفو در گذر کے طریقوں کو، انکے صبر و تحمل اور برد باری کے راستو ں کو،انکی خدمت خلق کی عبادات کو،انکے رحم اور شفقت کے آداب کو،انکے حسن خلق اور انکے عمدہ کردار کو،انکے رحمت و بخشش کے طریقہ کار کو،انکی بیمار پرسی اور تیمار داری کے سلیقہ شعار کو،انکے بھوکوں کو خوراک اور ننگوں کو لباس کے حقوق نبھانے کے فرائض کو،انکے خدمت خلق کے جذبوں کو،انکے مخلوق خدا کیلئے بے ضرر اور اسکے بعد منفعت بخش ہونے کے کردا کو ،مذہب کے ازلی ابدی ،آفاقی نظام حیات کو، انکی عمدہ صفات کو، انکے حسین و جمیل کردار کو، انکی بتائی ہوئی فطرتی صداقتوں کو یکجا کرنا ہو گا۔انکے عدل و انصاف کے نظام کو پھر سے متعارف اور دنیا بھر کے ممالک میں رائج کروانا ہو گا۔جن کومادہ پرستوں اور اقتدار پرستوں کے دانشوروں نے مغربی جمہور یت کے نظریات اور تعلیمات کو دنیا بھر کے ممالک میں سرکاری بالا دستی قائم کر کے پیغمبران کے الہامی نظریات،روحانی تعلیمات اور مقدس طرز حیات کو بری طرح مفلوج ،اپاہج اور بے اثر بنا کر رکھ دیا ہے۔
نمبر ۲۳۔کیا پیغمبران کی تعلیمات صرف ان کیلئے ہیں جو مذہب کو تسلیم کر چکے ہیں یا یہ تعلیمات دنیا کی تمام نسلِ انسانی کی وراثت ہے۔
نمبر۲۴۔ کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظریا ت، آئیڈ یا لوجی یا تعلیمات کا محور ایک ہی نہیں۔کیا تمام پیغمبران سلامتی کا ایک ہی پیغام لیکر اس دنیا میں تشریف نہیں لائے۔کیا کسی پیغمبر یا اسکی آل پر درود بھیجنے پر کسی پیغمبر نے روکا ہے ایسا ہر گز نہیں ہوا۔!مسلمانوں کی تو نماز جیسی افضل ترین عبادت اس وقت تک منظور نہیں ہو سکتی جب تک ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور ان کی آل پر درود ابراہیمی نہ بھیجا جائے۔
نمبر۲۵۔ کیا کسی ایک پیغمبر کی امت نے بھی سرکاری طور پر اپنے ملک میں ان کے نظریات ،تعلیمات اور طرز حیات کی انفرادی یااجتماعی سطح پر پیروی کی ہے۔ کیا تمام پیغمبران نے اپنی امتوں کو فلاحی راستے ، فلاحی طرز حیات ، فلاحی صفا ت ، فطرت کی حقیقی صداقتیں جو ان پر وحی کے ذریعہ نازل ہوئیں ، ان کے مطابق فلاحی ما حول یہودیوںعیسائیوں یا مسلمانوں نے دنیا کے کسی ملک میں اپنی نسلوں کو مہیا کیا ہے۔
نمبر۲۶۔ کیا یہودیوں ،عیسائیوں یا مسلمانوںنے اپنے اپنے پیغمبران کے حسب و نسب کی نسبت سے آپس میں اخوت و محبت کے رشتوں کو فروغ دیا ہے یا نفرت و نفاق کے عمل سے دوری کا راستہ اختیار کیا ہے۔کیا ان امتوں پر مذہب کی نظریاتی حقیقتوں کو پوری انسانیت تک پہنچانے کا فرض عائد نہیں ہوتا۔
نمبر۲۷۔ کیا وہ تمام امتیں اپنا سبق بھول نہیں چکیں۔ کیا وہ مذہب کے نظریات کوختم نہیں کر بیٹھیں۔کیا تمام امتیں اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں کے نظریات اور انکے تعلیمی نصاب کو اپنے اپنے ملک میں رائج نہیں کر چکیں۔
نمبر۲۸۔ کیا اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدان اور حکمران یعنی مغربی جمہوریت کے اخلاقی دانشو ر اور سیاسی رہبر پیغمبران کے نظریات کے رہزن نہیں بن چکے۔
نمبر۲۹۔ ان حالات میں پیغمبران کے مقدس الہامی صحیفوں کے نظریات کا دستک انسانی دلوں پر کیسے دیا جا سکتا ہے۔
نمبر۳۰۔ یہ تو بتاؤ! کہ جب دنیا کے تمام ممالک کے تعلیمی سرکاری اداروں میں اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کے مطابق تعلیمی نصاب کی تعلیم و تربیت جاری ہو ، سرکار ی ضابطہ حیات اور روز مرہ زندگی کا نظام جمہوریت کے ان تعلیمی اداروں کے فارغ البال سکالر اور دانشور چلا رہے ہوں ۔ تو پیغمبران کے نظریات اور تعلیما ت کا قتال کیسے روکا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پیغمبرا ن کے الہامی نظریات اور روحانی تعلیمات
اور مقدس فلسفہ حیات کو انکی امتوں کے فرزندان تک کیسے پہنچایا جا سکتا ہے اور کیسے انکی تربیت کی جا سکتی ہے اور کیسے انکا مذہبی تشخص تیار کیا جا سکتا ہے۔ان سیاسی دانشوروں نے تمام انبیا علیہ السلام کی امتوں کو اینٹی کرسچن جمہوریت اور مذیب کے نظریات کے تضاد کی اذیتوں میں بری طرح مبتلا کر رکھا ہے۔
نمبر ۳۱۔ کیا پیغمبران اوراینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشوروں کے بنیادی نظریات، تعلیمات ، مقدس طرز حیات کے تضاد کے عمل سے پوری انسانیت اور آنیوالی انسانی نسلیں اس حسین و جمیل کائنات اور اسکے شاہکار انسان کی تخلیق اور تمام مخلوق خدا کو نیست و نابود اور خاکستر کرنے کی منازل کا سفر بڑی تیزی سے طے نہیں کر رہی ہیں۔کیا اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے فتنہ کو روکا جا سکتا ہے۔
نمبر۳۲۔ اس وقت دنیا میں بسنے والی پیغمبران علیہ السلام کی تمام امتیں اورانکی آنیوالی نسلیں ان سے دوری کا راستہ اختیار کرتی جا رہی ہیں۔وہ اپنے اپنے پیغمبران علیہ السلام کی گستاخ، ان کے الہامی نظریات،روحانی تعلیمات اور مقدس طرز حیات سے منقطع اور بے ادب ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر کے انسانوں میں انکی بد عملی معاشی اور معاشرتی نا انصافی،ناجائز قتل و غارت انکی تذلیل اور رسوائی کا باعث بن چکی ہیں۔ آج کی تمام امتوں کے فرزندان زندگی نمرود، شداد ، فرعون ،ہامان اور یزید کی گزار رہے ہیں اور عاقبت پیغمبران علیہ السلام کی چاہتے ہیں۔ جس شخص کی زندگی اوراسکے نظام حیات کی عاقبت کو پسند نہ کرو۔اسکی بالا دستی اور حاکمیت کو بھی قبول نہ کرو۔اینٹی کرسچن جمہوریت ایک دجال کی طرح تمام پیغمبران علیہ السلام کے نظریات، تعلیمات، طرز حیات کو روندچکی ہے ، انکے پیروکاروںکو عملی طور پر نگل چکی ہے۔
نمبر۳۳۔ پیغمبران علیہ السلام کی امتیں اپنے دلوں میں ذکر رب جلیل کا کرتی ہیں،عبادات اپنی عبادت گاہوں میںاپنے پیغمبران علیہ السلام کے الہامی نظریات کے مطابق کرتی ہیں، الہامی، روحانی اور مقدس آسمانی صحیفوں کو پڑھتی اور سنتی ہیں انکے مقدس ضابطہ حیات کو تسلیم کرتی ہیں۔لیکن عملی زندگی اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشور حکمرانوں کے باطل نظریات، غاصب تعلیمات اور مذہب کش طرز حیات کی سرکاری بالا دستی کی گذارنے پر مجبور ہیں ۔
نمبر۳۴۔کیا تمام پیغمبران علیہ السلام کی امتوں کے فرزندان مذہب کے خلاف مغربی جمہوریت کے نظام حیات کے کافرانہ ، منافقانہ قوانین کی زندگی نہیں گذار رہے۔
نمبر۳۵۔ کیا پیغمبران علیہ الاسلام کی امتیں یہودی، عیسائی اور مسلمان اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کو اپنا الہامی ،روحانی رہنما تسلیم کرتی ہیں۔
نمبر۳۶۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں مذہب کے مطابق اعتدال و مساوات کو دنیا بھر میں قائم کرتی جا رہی ہیں یا کچلتی جا رہی ہیں۔
نمبر۳۷۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں انسانوں کیساتھ عفو و در گذر سے کام لیتی ہیں یا ظلم وزیادتی کے عمل کو روا رکھتی ہیں۔
نمبر۳۸۔ کیا پیغمبران علیہ السلا م کی امتیں اخوت و محبت کے عمل کو بروئے کار لاتی اور پھیلا تی ہیں یا ختم کر تی جاتی ہیں۔
نمبر۳۹۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھتی اور انکی خدمت بجا لاتی ہیں یا انکو روندتی اور کرش کر دیتی ہیں۔
نمبر۴۰۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں بنی نوع انسان کے لئے باعث رحمت عمل کرتی ہیں یا باعث زحمت۔

نمبر۴۱۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں بنی نوع انسان کے زخموں کی مرہم پٹی کرتی ہیں یا ان کوگھناؤنے زخم لگاتی ہیں۔
نمبر۴۲۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں انسانی بستیوں کو تباہ کرنے والے ڈیزی کٹر بم تیار کرتی اور انسانوں پر مشتمل بستیاں تباہ کیا کرتی ہیں یا ایسی آفات سے نجات دلانے کا رول ادا کرتی ہیں۔
نمبر۴۳۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں انسانوں کو اور انکے ہنستے ،بستے شہروںکو آگ لگانے والے نائٹروجن بم تیار کرتی انکو استعمال کرتی اور شہروں کو خاکستر کیا کرتی ہیں یا انکو ایسی آگ سے محفوط کیا کرتی ہیں۔
نمبر۴۴۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں صحت مند انسانوں کو بیماریوں میں مبتلا کرنے والے جراثیمی بم بناتی اور انسانوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کیا کرتی ہیں یاانکاتدارک اور علاج کیا کرتی ہیں۔۔
نمبر۴۵۔کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں انسانی جسموں اور ذہنوں کو ماعوف کرنے والے گیس بموں کو تیار کرتی اور انکو استعمال کیا کرتی ہیں یا ان سے انسانیت کو نجات دلایا کرتی ہیں۔
نمبر۴۶۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں بچوں کے سکولوں ، ہسپتالو ں، انسانی اور حیوانی ضروریات کو پورا کرنے والے پانی کے ذخائر، خوراک کے ذخائر، تیل ،گیس کے ذخائر اور انکی ہر قسم کی اہم تنصیبات کو تباہ کرنے والے مختلف نوعیت کے ہر قسم کے تباہ کن بموںکو تیار کرتی اور استعمال کیا کرتی ہیں یا انکو ختم کرنے کا رول ادا کیا کرتی ہیں۔
نمبر۴۷۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں جو اس جہان رنگ و بو کو پوری طرح خا کستر کرنے والے نائٹروجن بموں کو تیار کرتی اور مخلوق خدا پر استعمال کیا کرتی ہیں یا ختم کیا کرتی ہیں یا انکی نجات کا سبب بنتی ہیں۔
نمبر۴۸۔ کیا پیغمبران علیہ السلام کی امتیں مخلوق خدا کو صفحہ ہستی سے مٹانے والے جدید نائٹروجن بموں،ڈیزی کٹر بموں، گیس بموں، ایٹم بموں کی ایجادات کیا کرتی اور انکو استعمال کیا کرتی ہیں۔وہ ہر گز ایسے نہیں کیا کرتیں بلکہ انکا تدارک کیا کرتی ہیں۔
نمبر۴۹۔ ان بموں کو صحیح اور درست ٹارگٹ اور درست نشانہ پر پہنچانے والے کمپیوٹرائزڈ سسٹم پر مشتمل میزائلوں کی ایجادا ت سے تمام کمزور اورغیر ترقی یافتہ ممالک کو نیست و نابود اور خاکستر کیا کرتی ہیںیامذہب پرست امتیں ایسا کرنے والوں پر لعنت بھیجا کرتی ہیں۔
نمبر ۵۰۔ کیا پیغمبران کی امتوں کے پیروکار مذہب کی تعلیمات اور اسکے ضابطہ حیات کے مطابق دنیا بھر کے بھوکوں، ننگوں، اپاہجوں، مسکینوں، حاجتمندوں کو قریہ قریہ،بستی بستی،گاؤں گاؤں، شہر شہر، ملک ملک تلاش کر کے انکی حاجت روا ئی کیا کرتے ہیں یا انکے زندہ رہنے کے یہ تما م فطرتی لوازمات او رضرویات کو اقتدار اور طاقت کی نوک پر چھین لیتے ہیں۔اینٹی کرسچن جمہوریت کی خود غرضی ،نفس پرستی ،لوٹ کھسوٹ کے نظریہ نے بنی نوع انسان کو جدیدیت،مادیت اور ترقی کے حصول کی چتا میں بھسم او ر دنیا کی محبت، مرتبہ اور دولت کے حجابات میں گم کر دیا ہے۔امانت و دیانت اور صداقت کے چراغ بجھ چکے ہیں۔اخوت و محبت اور خلق عظیم کی وادیاں صحراؤں اور بیا بانوں میں بدل چکی ہیں۔حسن صفات ،حسن کردار کے الفاط اپنی تاثیریں ختم کر چکے ہیں۔پیغمبران ، انکے نظریات ،انکی تعلیمات،انکی عبادات،انکی عبادت
گاہیں ،انکا طرز حیات، انکا منشور دنیا کے تمام ممالک اور تمام امتیں منسوخ کر چکی ہیں اور جمہوریت کے باطل نظام حیات کو دنیائے عالم پر مسلط کر چکی ہیں۔ تمام مذ اہب اور تمام امتیں معبد ،کلیسا اور مسجد میں پابندِ سلاسل ہو چکی ہیں ۔ تمام ممالک کے اہل مذاہبِ،اہل عرفان، رہبانیت پرست فقیروں،بے سرو سامانی کے وارثوں اور اپنے اپنے پیغمبران کے با ادب صاحب نصیب انسانو ں سے ملتجی ہوں کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے اس ظلمت کدہ میں پیغمبران علیہ السلام کی بات کریں۔
نمبر ۵۱۔ تمام امتوں نے یہ کس جرم کی سزا پائی ہے۔ یاد نہیں! آؤ ذرا غور کر لیں ، وہ گناہ کیا ہے ،وہ خطا کیا ہے،وہ بھول کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے انسا نی جسد اور روح، اجتماعی طور پراس اذیت ناک کینسر کا شکار ہو چکے ہیں۔ تمام مذاہب میں مادیت اور اقتدارکے نمرودی ،فرعونی اور یزیدی نظریا ت کے پیروکار ،ان میں داخل ہوتے رہے۔امتوں،ملکوں کی معاشیات اور اقتدار پر قابض ہوتے چلے گئے۔ نمرود ،فرعون اور یزید کے داناؤں اور دانشوروں کے قلیل ٹولہ نے اینٹی کرسچن جمہور یت کے نظریات پر مشتمل ایسے قوانین اور ضوابط تیار کئے جن کے ذریع یہی مذہب کا منافق طبقہ معاشیات کی طاقت سے اسمبلیوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اسطرح تمام پیغمبران کی امتوں کی قیادت اور اقتدار ان غاصب اور باطل قوتوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے اورر یہ ا ن امتوں پر قابو پاتے چلے آرہے ہیں۔مذہب پرست امتوںنے ا نکے حقائق اور واقعات اور نتائج پر غور نہ کیا۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل ٹولہ اور بد بخت، غاصب قائدین اور مذہبی منا فقین کی سیاست کے نظام حکومت کی طرف کسی مذہب کے دیدہ ور نے توجو نہ دی بلکہ عدم دلچسپی سے کام لیا۔ وہ دنیا کی بے ثباتی کے عارف مذہب کے نظریات ، اسکی تعلیمات، اسکی عبادات میں ہمہ تن محو اور مصروف رہے۔ مذہب پرست، خدا پرست،طیب فطرت لوگ مذہب کی پاکیزہ وادیوں میں یاد الہی اور تابع فرمان الہی کے مطابق زندگی گذارنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ جس کی وجہ سے یہ مذہب پرست ملتیں ان اینٹی کرسچن جمہوریت پسند مذہبی منافق قائدین اور انکے اس گھناؤنے جمہوریت کے باطل اور غاصب نظام اور اسکے مضمرات کی طرف دھیان نہ د ے سکیں اور نہ ہی وہ اس کو روکنے کی طرف متوجو ہو سکیں۔جو تمام مذہب کے کلچر کی تباہی کا باعث بنیں۔
ویسے بھی مسلم امہ کو آخری نبی الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعہ ازل سے لیکر ابد تک کی رہنمائی کیلئے دستور مقدس عطا ہوا ۔جسکے ذریعہ انسانی زندگی کو ایک نظام حیات،ایک ضابطہ حیات،ایک تعلیمی نصاب عطا ہوا۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کا نظریہ اور نظام سکھایا گیا۔شورائی نظام حکومت کا شعور عطا ہوا۔یہ مسلم امہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس طرز حیات سے پوری انسانیت کو متعارف کرواتی لیکن بد قسمتی سے ہمارے عالم دین اور مشائخ کرام از خود اس دین کش اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت میں شامل ہو چکے ہیں۔جب رہبر رہزن بن جائیں !۔۔۔۔۔۔ تو
نمبر۵۲۔ اس باطل غاصب اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام میں حصہ نہ لینا اور اسکی تقلید نہ کرنا ایک طیب اور مقدس سوچ اورعمل ہے۔لیکن پیغمبران علیہ السلام کی امتوں اور انکی نسلوں کو اور پوری انسانیت کو انکے مغربی جمہوریت کے فساد اور فتنہ کی گرفت میں دے دینا ایک عظیم مذہبی سانحہ سے کم نہیں۔ اس جمہوریت کے عمل کو روکنا اس سے کہیں زیادہ ضروری تھا۔ اب اس پاکیزہ فریضہ کو ادا کرنے کیلئے تمام امتوں کو آگاہ کر نا اور انکو اینٹی کرسچن جمہوریت اور مذہب کے نظریاتی تضاد اور منافقت کے عذاب سے نجات دلانا مذہب کی بحالی کیلئے نہایت اہم
پاکیزہ فرض ہے جو مسلم امہ کو ادا کرنا ہوگا۔
نمبر ۵۳۔ مسلم ا مہ میں بیداری کی روح پھونکنا، چھپن ممالک کو جمہوریت اور بادشاہت کے عذاب سے نجات دلانا، مذہب کے بارے میں بے حسی اور بے عملی کو ختم کرنا ، مذہب کے مطابق قول و فعل کے تضاد کو دور کرنا،عملی زندگی میں اخوت و محبت کو اجاگر کرنا،اعتدال و مساوات کے عمل کو متعارف کروانا،شرافت اور صداقت کے دینی معیار کو بر قرار رکھنا،مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنا،انسان کی عزت و تعظیم، احترام آد میت کی شمع کو دلوں میں روشن کرنا،مذہب کی آفادیت کو پھر سے ملت کے دل و دماغ میں اجاگر کرنا، معاشی اور معاشرتی طبقاتی نظام کوختم کرنا، ملت کے تشخص کو دین کی روشنی میں منور کرنا،ایک جدیدتعلیمی نصاب دین کی روشنی میں تیار کرنا اور اسکا نفاذ کرنا،ملت اسلامیہ کو دین و دنیا کے رہزنوں سے نجات دلانا اس دور کے صاحب بصیرت شب بیداروں کا فریضہ ہے۔طلبا انکے ہراول دستہ کے فرائض ادا کریں گے۔ مغربی جمہوریت اور بادشاہت کے باطل نظام اور غاصب غیر مذہبی سیاسی قیادت کو ختم کرنا ہوگا ۔
نمبر ۵۴۔ انکے ساتھ اینٹی کرسچن جمہوریت کی طبقاتی تعلیم،طبقاتی تعلیمی ادارے، طبقاتی تعلیمی نصاب پر مشتمل آقا اور غلام، نوکر اور ملازم، افسر اور بیٹ مین ،برہمن اور شودر ،حاکم اور محکوم تیار کرنے والے ان تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے یہ تما م مغربی جمہوریت کے دانشور اور سکالر اور حکمران اور یہ بے دین نظام حکومت از خود ختم ہو جائیں گے۔اعتدال و مساوات قائم کرنا ہوگی۔
نمبر۵۵۔مغربی جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والے سودی معاشیات اور اسکی غیر دینی تعلیمات اور اس سے تیار کیا ہوا غاصب ٹیکس کلچر جس کے متولی پندرہ سولہ کروڑ مسلم امہ کا خون پی جاتے ہیں۔اسکا خاتمہ بالخیر ہوگا۔
نمبر۵۶۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کی عدلیہ کے منصفوں اور وکلا کی عدل کش غیر دینی تعلیمات جس کے ذریعہ عدلیہ کے یہ سکالر تیار ہوتے ہیں۔جنکی وساطت سے یہ غاصب سیاستدان اور حکمران ملک میں اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو کچلتے ہیں جنکے ذریعہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے معاشی ، معاشرتی اس غاصب کلچر کی حفاظت کرتے ہیں ۔ جن کے زیر سایہ ملک کے وسائل اور ملکی خزانہ ملک کے چند غاصبوں کی ملکیت بنتا جا رہا ہے۔جن کی شاہانہ زندگیاں اور بے جا تصرفانہ اخراجات سولہ کروڑ اہل وطن، ستر فیصد کسان اور انتیس فیصدمحنت کش اور عوام الناس کی ملکیت کو نوچنے کا عمل جاری کےئے ہوئے ہے۔وہ نظام اور سسٹم جس سے ملت کی تمام دولت اور وسائل چھینے جاتے ہیں۔ ملت کے فرزندان جو دو وقت کا کھانا میسر نہ آنے کی وجہ سے خود کشیاں اور خود سوزیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔وہ نظا م اور اسکے خالق اور حکمران ا پنے انجام سے واصل ہونگے۔
نمبنر۵۷۔ انگریز کا ۱۸۵۷ کا ایکٹ جو ایک محکوم قوم کیلئے تیار کیا گیا تھا آج تک نافذ العمل ہے یعنی انتظامیہ کا اذیت ناک تھانے کلچر اور دوسرے تما م ملک کے محکمہ جات کو چلانے والی انتظامیہ کو تیار کرنے والی تعلیمات،جس کے ذریعہ انتظامیہ کی افسر شاہی اور نوکر شاہی کے دانشور تیار ہوتے ہیں۔جو جمہوریت کے باطل اور غاصب کلچر کی حفاظت کرتے اور اس کو فروغ دیتے ہیں۔
نمبر۵۸۔ انگریز کا تیار کیا ہوا ۱۸۵۷ کا ایکٹ جسکے تعلیمی نصاب کے مطابق لا گر یجو ایٹس ،بار ا یٹ لا، کی تعلیمات کے فارغ البال نامور دانشور اور لا جواب منصف جو ملک میں عدل و انصاف کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔جو پولیس کی بے بنیا د ایف آئی آر اور جھوٹے کیسوںکی
سماعت اور ان کیسوںکی بڑی بڑی فیسیں لینے والے عظیم جھوٹے وکلا کی بحث جن کی بنا پر ملک میں کرسچن جمہوریت کے انصاف کی شمع روشن ہوتی چلی آرہی ہے۔یہ عظیم منصف اور قانونی سکالر اس غاصب اور باطل طریقہ کار کے مطابق پچھلے ساٹھ سالوں سے حکومتوں کی پالیسی کے مطابق ایسے تمام بوگس ، جعلی، جھوٹے کیسو ں کی سماعت کرتے اور سزائیں دیتے چلے آرہے ہیں۔بوگس رقبہ فروخت کرنے والوں،ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف عدالتیں ایک عمر تک سائل کو انصاف دینے میں لگا دیتی ہیں۔ ایسے مالکوں،پرا پرٹی ڈیلروں اور مجرموں کوکسی قسم کی کوئی سزا نہیں۔عدالتیں زمین مافیہ اور ایسے مجرموں کوتحفظ فراہم کرتی ہیں، جھوٹے کیس دائر کرنے والے وکیل، غلط فیصلے دینے والے جج ،سرکاری اہلکارو ں اور منشیوں کے اخراجات،ہر قسم کی رشوت عدالتوں کے نظام کا حصہ ہیں۔ہر جج کے دروازے پر سو پچاس کیسوں کی لسٹ، دو چار کی سماعت،باقی بیگناہ انسا نو ں کو صبح سے لیکر شام تک عدالتوں کے باہر کھڑا ہونے کی اذیتیں، عدالتوں میں پہنچنے کی مالی اوربدنی سزا ؤں کی اذیتیں اسی جمہوریت اور انہی منصفوں کے عدل کش نظا م کا حصہ ہیں۔یہ قوانین ،یہ طریقہ کار انگریز نے ایک مفتوحہ ملک کی عوام کو محکوم اور غلامی کی زنجیریں پہنانے کیلئے ترتیب دیا تھا۔ اب ہمارے عظیم حکمران ان منصفو ںکو بڑی بڑی تنخواہیں، شاہی سرکاری سہولتیں،شاہی سرکاری رہائشیں، شاہی سرکاری سپریم کورٹ جیسی قیمتی ساز و سامان سے سجائی ہوئی عمار تیں،شاہی گاڑیا ں،شاہی تصرفانہ زندگی کے لوازمات انکو سرکاری طور پر مہیا کئے جارہے ہیں۔ اس ظالمانہ طریقہ کار اور نظام کے خلاف کسی مظلوم کو،کسی فریادی کو،کسی بے گناہ انسان کو، کسی محکوم کو آواز اٹھانے ہی نہیں دیتے ۔ اس سے قبل ہی انکا سر کچل دیا جاتا ہے۔ وکلا صاحبان کا کردار انصاف کے شعبے کا ایک اہم ستون ہے۔جھوٹے اورسچے کیس سے اچھی طرح آشنا ہوتے ہیں ۔ جھوٹے کیس دائر کرنے میں انکی مہار ت کا جواب نہیں۔عوام سے جھوٹے حلفی بیان دلواتے اور عدالتوں میں جھوٹی قسمیںاٹھوانے کا عمل جاری رکھتے ہیں، اگر انکے بھی حلفیہ بیان عدالتوں میں لئے جائیں کہ اگر ان کو یہ معلوم ہے کہ کیس جھوٹا ہے تو انکے بچے مریں اور انکا خانہ خراب ہو۔اللہ کی لعنت ان پر ہو۔اسی طرح ہر جج فیصلہ سنانے سے قبل اسی قسم کا اوتھ عدالت میں تمام پارٹیوں کے رو برو پیش کریں توبہت سے بوگس کیس عدالتو ں میں دائر ہی نہیں ہونگے۔ جھوٹے کیس ،جھوٹی گواہی اور جھوٹے بیان ، جھو ٹے فیصلے کافی حد تک ختم ہو جائیں گے۔ اگر جھوٹے کیسوں کو دائر کرنے والوں کی سزائیں بھی مقرر کر دی جائیںتوعدالتیں خالی ہو جائیں گی۔ یہ تھانے یہ کچہریاں،یہ انتظامیہ اور عدلیہ،یہ عالی مرتبہ منصف ،ملک میں معاشی اور معاشرتی انارکی پھیلانیوالی اینٹی کرسچن جمہوریت اور اسکی بد اعمالیو ں کو مسلط رکھنے، اسی نظام کو جاری رکھنے، تمام جابر ظالم حکمرانوں کی مدد و معاونت کرنے، انکے خلاف ہر قسم کی مداخلت کو روکنے کا فرض ادا کرتی ہیں۔ اس راشی کرپٹ اور ظالم نظام ، ان سے تیار ہونے والے غاصب باطل منصفو ں کے خلاف کسی قسم کی لب کشائی توہین عدالت بن چکا ہے ۔ اس غاصب تعلیم اور غاصب تعلیمی ادار ے اور ان میں تیار ہونے والے باطل منصف اور بے ضمیر وکلا ملت کا مقدر بن چکے ہیں۔یہ اعلیٰ طبقاتی منصف شاہی ٹولہ ملک کے اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کچلنے اور بد امنی پھیلانے اور ملی کردار تباہ کرنے کے مجرم ہے۔
نمبر۵۹۔ فحاشی ، بد کاری اور جنسی آگ کو بھڑکانے اور پھیلانے والا مخلوط ثقافتی معاشرہ،مخلوط تعلیمی نظام،مخلوط حکومتی نظام جس کے ذریعے اس بے حیائی پھیلا نے والے نظام کو مقام عروج دینے والے دانشور حکمرانوں کی پالیسی کے مطابق تیار کئے جاتے ہیں۔ جو ملت کا بے دین
تشخص تیار کرتے ہیں اور اس کلچر کو فروغ دیتے ہیں۔ اس نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
۶۰۔ اس دھرتی پر کئی نسلیں کئی زمانے بیت گئے۔ اب پاکستان بنے بھی ساٹھ سال ہونے کو ہیں لیکن یہ بات کتنی بد نصیبی کی ہے کہ مذہب پرست امت اور اسکے تبلیغی مبلغ ، تبلیغ تو پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی تعلیمات کی کرتی ہے اورعملی زندگی اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل سودی معاشی نظام،طبقاتی نظام، مخلوط تعلیمی نظام،عدل کش غا صب اور ظالم نظام،اعتدال و مساوات کو کچلنے والا نظام، عدل و انصاف کو روندنے والے نظام ، اسمبلی کے ممبران کے پاس کردہ قوانین سے دین کو مسخ کرنے والا نظام،ملکی دولت ،وسائل،تجارت اور خزانہ چند غاصب حکمرانوں کی ملکیت بنانے والا نظام،ملک کی معیثت کو شاہی محلوں پر کروڑوں روپوں کو چنوانے والا نظام،بے سوجھت حکمرانوں کا اربوں ڈالر کا زر مبادلہ کو گاڑیوں کی خریداری کرنے کا نظام،ان گاڑیوں میں کروڑوں ڈالر ز کا پٹرول جلانے کا نظام، رشوت ،کرپشن،کمیشن کا نظام۔ملت اس ظلم و تشدد کی چتا میں جھونک دی گئی ہے۔
یا اللہ ہمیں کیا ہو گیا ہے،یا اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما،ہماری نسلوں کو اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے عذاب سے بچا،ہمیں پیغمبران علیہ السلام کا رشدو ہدایت کا راستہ دکھا اور اس پر چلنے کی توفیق بھی عطا کر۔ آمین۔
۲۰۰۶۔۶۔